7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجا لاؤ

آیت نمبر : 144 قولہ تعالیٰ : آیت : قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسٰلتی وبکلامی، الاصطفاء بعنی الاجتباء ہے۔ یعنی میں نے تجھے فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور پھر آیت میں علی الخلق ( مخلوق پر) نہیں فرمایا۔ کیونکہ اس اصطفاء اور سرفرازی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شر ہمکلامی عطا فرمایا اور تحقیق اس نے ملائکہ سے بھی کلام فرمایا ہے اور اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے جب کہ آپ کے علاوہ بھی اس نے رسول مبعوث فرمائے ہیں، پس علی الناس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت نافع اور ابن کثیر نے صیغہ مفرد کے ساتھ برسالتی پڑھا ہے (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 452 ) ۔ اور باقیوں نے اسے جمع کی صورت میں پڑھا ہے اور الرسالۃ مصدر ہے، پس اسے مفرد لانا جائز ہے۔ اور جو جمع لائے ہیں وہ اس بنا پر ہے کہ آپ کو رسالت کی انواع و اقسام کے ساتھ بھیجا یا اس کی انواع مختلف ہیں، نتیجہ مصدر کی جمع اس کی انواع کے اختلاف کی وجہ سے ہے، جیسے فرمایا : آیت : ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (لقمان) اصوات ( آوازیں) کی اجناس کے اختلاف اور آواز نکالنے والوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اسے جمع لایا گیا ہے۔ اور لصوت الحمیر میں اسے واحد ذکر کیا، کیونکہ اس میں آوازوں میں سے ایک جنس کا ارادہ کیا ہے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ آپ کی قوم وصف تکلم میں آپ کے ساتھ شریک نہیں اور نہ ہی ستر افراد میں سے کوئی ایک آپ کے ساتھ شریک ہے، جیسے ہم نے اسے سورة البقرہ میں بیان کردیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فخذما اتیتک یہ قناعت کرنے کی طرف اشارہ ہے، یعنی آپ اس پر قناعت کریں جو میں نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔ آیت : وکن من الشکرین یعنی میں نے جو احسانات تم پر کیے ہیں اور جو میرا افضل تم پر ہے اس کا اظہار کرنے والوں میں ہوجائیں گے۔ کہا جاتا ہے : دابۃ شکوریہ کہا جاتا ہے جب جانور کا موٹاپا اس سے زیادہ ظاہر ہوجائے جتنا اسے چارہ ڈالا جاتا ہے۔ اور شاکر (شکر گزار) کو مزید کی پیشکش کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : آیت : لئن شکرتم لازیدنکم ( ابراہیم : 7) ( کہ اگر تم پہلے احسانات پر شکرادا کرو تو میں مزیداضافہ کر دوں گا) ۔ اور روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کے بعد چالیس راتیں ٹھہرے رہے جس نے بھی آپ کو دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کے نور کی تاب نہ لا کر مرگیا۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔

آیت نمبر : 145 قولہ تعالیٰ : آیت : وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء اس میں الواح سے مراد تورات ہے۔ اور خبر میں روایت ہے کہ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے آپ کو اپنے پر کے ساتھ اٹھایا اور بلندی میں لے گئے حتی کہ آپ کو اتنا قریب کیا کہ آپ نے قلم چلنے کی آواز سنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے تختیاں لکھیں۔ اسے حکیم ترمذی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ تختیاں سبز رنگ کے زمرد کی تھیں۔ ابن جبیر نے کہا ہے : وہ سرخ یاقوت کی تھیں۔ ابو العالیہ نے کہا ہے : وہ زبر جد کی تھیں۔ اور حسن نے کہا ہے : ول لکڑی کی بنی ہوئی تھیں (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحۃ 452 ) ۔ اور وہ آسمان سے نازل ہوئیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ٹھوس پتھر سے بنی ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے نرم وملائم کردیا تو آپ نے اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ کاٹ دیا پھر اسے اپنی انگلیوں کے ساتھ شق کیا، تو اس پتھر نے آپ کی اسی طرح اطاعت کی جیسے لوہے نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی۔ حضرت مقاتل (رح) نے کہا ہے : یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تختیوں میں اس طرح لکھ دیا ہے جیسے انگوٹھی کا نقش ہوتا ہے۔ ( یعنی سب ان میں کندا کردیا ہے) حضرت ربیع بن انس نے کہا ہے : تورات نازل ہوئی تو وہ ستر اونٹوں کا بوجھ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے کتابت کی نسبت اپنی ذات کی طرف تشریف کے لیے کی ہے، حالانکہ یہ تختیاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھی گئیں اور انہیں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قلم کے ساتھ لکھا جس کے ساتھ ذکر ( قرآن کریم) لکھا۔ اور نہر نور سے سیاہی لی گئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ تحریر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا اور اسے تختیوں میں تکلیق کردیا۔ اور اللوح کی اصل لوح لام کے فتحہ کے ساتھ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : بل ھو قران مجید فی لوح محفوظ (البروج) تو گویا تختی وہ ہے جس معانی ظاہر ہوتے ہیں۔ اور روایت ہے کہ وہ دو تختیاں تھیں اور جمع ( الواح) اس لیے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ دو بھی جمع ہے۔ اور کہا جاتا ہے : رجل عظیم الالواح یہ تب کہا جاتا ہے جب کسی آدمی کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی ہڈی بڑی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : تختیاں اس وقت ٹوٹ گئیں جب آپ نے انہیں پھینکا پس سوائے چھٹی تختی کے وہ سب اٹھا لی گئیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ساتویں تختی باقی رہی اور بقیہ چھ اٹھا لی گئیں پس وہ جو اٹھا لی گئی اس میں ہر شے کی تفصیل درج تھی اور جو باقی رہی ہیں اس میں ہدایت اور رحمت کا ذکر تھا۔ حافظ ابو نعیم نے عمر وبن دینار سے مسند روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے نبی تھے انہوں نے چالیس راتیں روزہ رکھا اور جب تختیوں کو پھینکا اور وہ ٹوٹ گئیں تو آپ نے پھر اسی طرح روزے رکھے تو وہ پھر آپ کی طرف واپس لوٹا دی گئیں۔ اور آیت : من کل شئی سے مراد حلال و حرام کی وضاحت اور آپ کے دین کے احکام میں سے ہر وہ شے ہے جس کی آپ کو احتیاج اور ضرورت تھی۔ یہ معنی ثوری (رح) وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : من کل شی ایسا لفظ ہے جو تفحیم کے لیے ذکر کیا جاتا ہے اس سے تعمیم مراد نہیں ہوتی، مثلا آپ کہتے ہیں : دخلت السوق فاشتریت کل شی ( میں بازار میں داخل ہوا اور میں نے ہر شے خرید لی) عند فلان کل شی ( فلاں کے پاس ہر شے ہے) اور آیت : تدمر کل شی (الاحقاف : 25) ( تہس نہس کر کے رکھ دے گی ہر چیز کو) واوتیت من کل شی (النمل : 23) ( اور اسے دی گئی ہے ہر قسم کی چیز سے) اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : موعظۃ وتفصیلا لکل شی یعنی احکام میں سے ہر اس شے کی تفصیل جس کا انہیں حکم دیا گیا، کیونکہ ان میں اجتہاد نہیں تھا، بلکہ یہ صرف امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ مختص ہے۔ آیت : فخذھا بقوۃ اس کلام میں حذف ہے، یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا ( ای فقلنا لہ) : اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو، یعنی پوری کوشش اور نشاط کے ساتھ۔ اس کی نظیر یہ ارشاد ہے : آیت : خذوا ما اتینکم بقوۃ ( البقرہ : 63) ( پکڑلو جو ہم نے تمہیں دیا مضبوطی سے) اور اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : وامر قومک یاخذوا باحسنھا یعنی اپنی قوم کو حکم دو وہ اوامر پر عمل کریں اور نواہی کو چھوڑ دیں اور ضرب الامثال اور نصائح و مواعظ میں تدبر اور غور وفکر کریں۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے : آیت : واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم (الزمر : 55) (اور پیروی کرو عمدہ کلام کی جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے) اور فرمایا : آیت : فیتبعون احسنہ (زمر : 18) ( کہ وہ اتباع اور پیروی کریں اس کی اچھی باتوں کی) پس معاف کردینا قصاص لینے سے اچھا ہے۔ اور صبر کرنا انتقام لینے سے احسن ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی اچھی چیزیں فرائض اور نوافل ہیں اور گھٹیا مباح ہے۔ آیت : ساوریکم دار الفٰسقین حضرت کلبی (رح) نے کہا ہے : دار الفسقین سے مراد وہ ہے جس پر سے وہ گزرے جب انہوں نے سفر کیا یعنی قوم عاد وثمود کے گھر اور بستیاں جو برباد کردی گئیں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 543 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جہنم ہے۔ یہ حسن اور مجاہد ؓ سے مروی ہے، یعنی چاہیے کہ تم انہیں یاد رکھو اور اس سے بچو کہ تم ان میں سے ہو جاو، اور یہ قول بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے مصر کا ارادہ کیا ہے، یعنی میں عنقریب تمہیں قبطیوں کے گھر اور فرعون کے وہ مسکن دکھاؤں گا جو اب ان سے خالی پڑھ ہیں۔ یہ حضرت ابن جبیر (رح) سے مروی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں عنقریب تمہیں کفار کے وہ گھر دکھاؤں گا جن میں تم سے پہلے جبابرہ اور عمالقہ سکونت پذیر رہے تاکہ ان سے عبرت حاصل کرو، مراد شام ہے۔ یہ دونوں قول ان دونوں پر دلالت کرتے ہیں آیت : واورثنا القوم الایہ (الاعراف : 137) ( اور ہم نے وارث بنا دیا اس قوم کو جسے ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا ( انہیں وارث بنا دیا) اس زمین کے شرق و غرب کا جس میں ہم نے برکت رکھ دی تھی) آیت : ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض الایہ ( القصص : 5) ( اور ہم نے چاہا کہ احسان کی ریں ان لوگون پر جنہیں کمزور بنا دیا گیا تھا ملک ( مصر) میں) اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس اور قسامہ بن زہیر ؓ نے ساورثکم پڑھا ہے۔ یہ ورث سے ہے۔ اور یہ ظاہر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الدار سے مراد الھلاک ( ہلاک کرنا) ہے اور اس کی جمع ادوار ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے جس فرعون کو غرق کیا تو سمندر کو حکم ارشاد فرمایا کہ ان کے جسموں کو ساحل پر پھینک دے، فرمایا : پس اس نے ایسے ہی کیا، تو بنی اسرائیل نے انہیں دیکھا پس اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک ہونے والے فاسق دکھا دئیے۔
Ayahs 7:146–147

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔

آیت نمبر : 146۔ 147 قولہ تعالیٰ : آیت : ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں انہیں اپنی کتاب کی فہم اور سمجھ سے روک دوں گا۔ اور حضرت سفیان بن عیینہ نے بھی یہی کہا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 544 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میں اس کے سبب انہیں ایمان سے پھیر دوں گا۔ بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں انہیں آیات کے نفع سے پھیر دوں گا۔ اور یہ ان کے تکبر اور غرور کی جزا ( اور بدلہ) ہے۔ اس کی نظیر یہ ارشاد ہے : آیت : فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھیم ( الصف : 5) (پس جب انہوں نے کجروی اختیار کی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا) اس معنی کی بناء پر آیات سے مراد معجزات ہیں یا نزل کردہ کتب ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد زمین و آسمان کی تخلیق ہے یعنی میں انہیں ان کا اعتبار کرنے ( مراد عبرت حاصل کرنے) سے پھیر دوں گا۔ یتکبرون یعنی وہ اپنے آپ کو افضل الخلق گمان کرتے ہیں۔ اور یہ گمان باطل ہے، پس اسی لیے فرمایا : آیت : بغیر الحق، یعنی نہ وہ اپنے نبی (علیہ السلام) کی اتباع و پیروی کرتے تھے اور نہ ہی اپنے غرور اور تکبر کی وجہ سے ان کی توجہ کرتے تھے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بھا وان یروا سبیل الرشد لا یتغذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا یعنی یہ ان تکبر کرنے والوں کا انداز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے خبر دی ہے کہ وہ چھوڑ دیں راہ رشد وہدایت کو اور وہ راہ ضلالت و گمراہی کی پیروی کریں، یعنی کفر کو دین بنا لیں۔ پھر ان کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا : آیت : ذلک بانھم کذبوا بایتنا یعنی یہ وہ فعل ہے جو میں نے ان کے ساتھ ان کی تکذیب اور جھٹلانے کی وجہ سے کیا ہے۔ آیت : وکانو عنھا غفلین یعنی وہ حق میں تدبر اور غور وفکر کرنے کے اعتبار سے غافلوں کی مثل ہیں۔ اور معنی میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے غافل ہوں جو اس کے سبب انہیں بدلہ اور سزا دی جائے گی، جیسے کہا جاتا ہے : ما اغفل فلان عما یرادبہ ؟ ( فلاں اس سے کتنا غافل ہے جس کا اس کے بارے ارادہ کیا جا رہا ہے ؟ ) حضرت مالک بن دینار نے دونوں حرفوں میں یا کے ضمہ کے ساتھ وان یروا پڑھا ہے یعنی یہ ان کے ساتھ کیا جائے گا۔ اہل مدینہ اور اہل بصرہ نے سبیل الرشد راء کو ضمہ اور شین کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور حضرت عاصم کے سوا اہل کوفہ نے را اور شین کے فتحہ کے ساتھ الرشد پڑھا ہے۔ ابو عبید نے کہا ہے : ابو عمرو نے رشد اور رشد کے درمیان فرق کیا ہے۔ فرمایا : رشد اصلاح میں ہوتا ہے اور رشددین میں ہوتا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : سیبویہ اس طرف گئے ہیں کہ رشد اور رشد سخط اور سخط کی مثل ہیں اور اسی طرح کسائی نے بھی کہا ہے۔ اور ابو عمرو سے صحیح اس کے سوا ہے جو ابو عبید نے کہا ہے۔ اسماعیل بن اسحاق نے کہا ہے : نصر بن علی نے اپنے باپ کے واسطہ سے ابو عمرو بن علاء سے یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب رشد آیت کے درمیان میں ہو تو اس میں شین ساکن ہوگی اور جب آیت کے سرے پر ہو تو ہو متحرک ہوگئی۔ نحاس نے کہا ہے : راس الایہ سے مراد یہ ہے جیسے یہ آیت : وھی لنا امرنا رشدا (الکہف) پس آپ کے نزدیک یہ دونوں لغتیں ایک معنی میں ہیں، مگر آپ نے یہ فتحہ اس لیے دیا ہے تاکہ آیات متفق ہو جائیں کہا جاتا ہے : رشد یرشد، رشد یرشد اور سیبویہ نے بیان کیا ہے رشد یرشد، رشد اور رشد کا لغت میں حقیقی معنی ہے کہ انسان اس میں کامیاب ہو جس کا وہ ارادہ کرے اور یہ نقصان اور خسارے کی ضرورت ہے ( یعنی رشد کی ضد الخیبۃ ہے)
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

آیت نمبر : 148 قولہ تعالیٰ : آیت : واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے طور پر جانے کے بعد بنا لیا۔ آیت : من حلیھم ( اپنے زیورات سے ) ۔ یہ اہل مدینہ اور اہل بصرہ کی قراءت ہے۔ حضرت عاصم (رح) کے سوا اہل کوفہ نے اسے من حلیھم حا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یعقوب نے من حلیھم حا کے فتحہ اور تخفیف کے ساتھ قراءت کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ حلی، حلی اور حلی کی جمع ہے، جیسے ثدی، ثدی اور ثدی ہیں۔ اس کی حلوی ہے، پھر واو کو یا میں مدغم کیا گیا اور لام یا کی مجاورت کے سبب مکسور ہوگئی اور لام کے کسرہ کی وجہ سے حا کو کسرہ دیا جاتا ہے۔ اور حا کا ضمہ اصل کی بنا پر ہے۔ عجلا یہ مفعول ہے ( بچھڑا) جسدا یہ نعت یا بدل ہے۔ لہ خوار یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ کہا جاتا ہے : خار یخور خوارا جب گائے آواز نکالے ( یعنی وہ محض ڈھانچہ تھا اور اس سے گائے کی آواز آتی تھی) اس طرح جار یجار جوارا بھی ہے۔ جب کوئی بزدل اور کمزور ہوجائے تو کہا جاتا ہے۔ خور یخور خورا۔ بچھڑے کے قصص میں مروی ہے کہ سامری جس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا، اس کی نسبت سامرہ نامی گاؤں کی طرف کی جاتی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 455 ) ۔ وہ قتل الابناء کے سال پیدا ہوا ( یعنی اس سال جس میں فرعون نے بچوں کو قتل کروا دیا تھا) ۔ اس کی ماں نے اسے پہاڑ کی ایک غار میں چھپا دیا۔ تو حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے اسے غذا پہنچائی ( اور اس کی پرورش کی) پس اس وجہ سے اس نے آپ کو پہچان لیا۔ اور جب انہوں نے نر کی خواہشمند گھوڑی پر فرعون کو سمندر میں دھکیلنے کے لیے سمندر کو عبور کیا تو اس ( سامر) نے گھوڑی کے گھر کے نشان سے ایک مشت مٹی اٹھا لی۔ اور یہی معنی اس ارشاد کا ہے : آیت : فقبضت قبضۃ من اثر الرسول ( طہ : 96) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے تیس دن کا وعدہ کیا تھا اور پھر جب مزید دس دن کی آپ نے تاخیر کردی اور تیس راتیں گزر گئیں، تو آپ نے بنی اسرائیل کو کہا اور ان میں اس کی اطاعت و پیروی کی جاتی تھی۔ بلاشبہ تمہارے پاس آل فرعون کے زیورات میں سے زیورات ہیں۔ ان کی عید تھی جس میں زیب وزینت کرتے تھے اور قبطیوں سے زیورات عاریۃ لیتے تھے پس آج بھی اسی لیے انہوں نے عاریۃ لیے ہوئے تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر سے نکالا اور قبطیوں کو غرق کردیا تو وہ زیورات انہیں کے قبضے میں رہ گئے، تو سامری نے انہیں کہا : بلاشبہ یہ تم پر حرام ہیں، پس جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ ہم انہیں جلا دیں دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زیورات وہ ہیں جو بنی اسرائیل نے قوم فرعون کے غرق ہونے کے بعد لیے تھے۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے انہیں کیا : بیشک یہ زیورات مال غنیمت ہے اور یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے، پس آپ نے ایک گڑھا کھدوا کر انہیں اس میں جمع کردیا تو سامری نے انہیں اٹھا لیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس رات زیورات ادھار لیے جس رات انہوں نے مصر سے نکلنے کا رادہ کیا اور انہوں نے قبطیوں کو یہ وہم دلایا کہ ان کی شادی یا کوئی اجتماع ہے۔ اور سامری نے ان کا یہ قول سنا ہوا تھا آیت : اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ ( الاعراف : 138) اور وہ الہ گائے کی شکل پر تھے تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا بنایا جو محض ڈھانچہ تھا، مگر وہ اس سے گائے کی آواز سنتے تھے۔ یہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت اور خون میں بدل دیا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ جب اس نے وہ مٹی کی مشت آگ میں ان زیورات پر ڈالی تو وہ بچھڑا بن گیا جس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ پس اس نے ایک بار گائے کی آواز نکالی اور دوسری بار نہیں پھر اس نے قوم کو کہا : آیت : ھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی (طہ : 88) ( یہ ہے تمہارا خدا اور موسیٰ بھول گئے) وہ کہہ رہا ہے : وہ اسے بھول گیا اور اس کی تلاش میں چلے گئے اور اس سے بھٹک گئے، تو تم آو ہم اس بچھڑے کی عبادت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس حال میں بتایا کہ وہ مناجات میں مشغول تھے : آیت : فانا قد فتنا قومک من بعدک واضلھم السامری ( طہ) ( کہ ہم نے تو آزمائش میں مبتلا کردیا ہے تمہاری قوم کو تمہارے ( چلے آنے کے) بعد اور گمراہ کردیا ہے انہیں سامری نے) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اس سامری نے ان کے زیور سے ان کے لیے بچھڑا بنایا ہے، پس اس کا جسم کس نے بنایا ہے ؟۔ آپ کی مراد گوشت اور خون ہے۔ اور اس کے لیے گائے کی آواز کس نے بنائی ہے ؟ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : میں نے۔ تو آپ نے عرض کی : تیری عزت و جلال کی قسم تیرے سوا انہیں کسی نے گمراہ نہیں کیا۔ رب کریم نے فرمایا : صدقت یا حکیم الحکماء ( اے حکیم الحکماء تو نے سچ کہا ہے) اور یہی معنی اس ارشاد کا ہے آیت : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) ( نہیں ہے یہ مگر تیری آزمائش) اور قفال نے کہا ہے : سامری نے بچھڑے کا پیٹ خالی رکھنے کی کوشش کی تھی اور اس میں ہوا بھر دی تھی، یہاں تک کہ اس سے گائے کی آواز آنے لگی اور اس نے انہیں وہم دلایا کہ بلاشبہ وہ اس طرح ہوگیا ہے جب اس نے اس ڈھانچے میں وہ مٹی ڈالی جو اس نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑوں کے قدموں سے اٹھائی تھی۔ اس کلام میں بہت کمزوری اور ضعف ہے۔ یہ قشیری نے کہا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الم یروا انہ لا یکلمھم یہ بیان فرمایا ہے کہ معبود کے لیے واجب اور ضروری ہوتا ہے کہ وہ کلام کرسکے۔ آیت : ولا یھدیھم سبیلا اور نہ وہ ان کی دلیل کی طرف کسی راستے کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اتخذوہ انہوں نے اسے خدا بنا لیا ہے۔ آیت : وکانوا ظلمین یعنی وہ اس بچھڑے کو خدا بنانے میں اپنے نفسوں کے ساتھ ظلم کرنے والے تھے۔ اور یہ کبھی کہا گیا ہے : وہ ظلم کرنے والے وہ گئے یعنی بچھڑے کو خدا بنانے کے سبب مشر ہوگئے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

قولہ تعالیٰ : آیت : ولما سقط فی ایدیھم یعنی وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقررہ وقت پر واپس آنے کے بعد سکت پشیمان ہوئے۔ حٰرت زدہ شرمندہ آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : آیت : قد سقط فی یدہ (تحقیق وہ سخت نادم اور پشیمان ہے) ۔ اخفش نے کہا ہے : اسے کہا جاتا ہے : سقط فی یدہ واسقط اور جنہوں نے علی بناء الفاعل سقط فی ایدیھم کہا ہے : ان کے نزدیک اس کا معنی ہے : سقط الندم ( پشیمانی اور ندامت کا آنا ) ۔ ازہری اور نحاس وغیرہما نے یہی کہا ہے : ندامت دل میں ہوتی ہے، لیکن ذکر ید (ہاتھ) کا کیا ہے، کیونکہ جو کسی شے پر قابض ہوجائے اس کے لیے کہا جاتا ہے : قد حصل فی یدہ امرکذا ( تحقیق اس طرح کا معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ غالب اشیاء کے معاملات ہاتھ کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ذلک بما قدمت یدک ( الحج : 10) (اس روز اسے بتایا جائے گا کہ یہ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا) اور یہ بھی کہ اگرچہ ندامت دل میں ہوتی ہے لیکن اس کا اثر بدن میں ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ نادم آدمی اپنا ہاتھ کاٹنے لگتا ہے اور اپنا ایک ہاتھا دوسرے پر مارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فاصبح یقلب کفیہ علی ما الفق فیھا ( کہف : 42) ( پس وہ کف افسوس ملنے لگا اس مال کے نقصان پر جو اس نے باغ پر خرچ کیا تھا) یعنی وہ نادم ہوا۔ آیت : ویوم یعض الظالم علی یدیہ ( لفرقان : 27) یعنی ندامت کے سبب اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا۔ اور نادم انسان اپنی ٹھوڑی اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی اصل استسار سے ہے اور اس سے مراد ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو مارنا ہے یا اسے بچھاڑ دینا ہے پس وہ اسے ہاتھوں کے بل زمین پر پھینکتا ہے تاکہ وہ اسے باندھ لے یا اس کی مشکیں کس لے، پس جسے گرایا گیا ہے وہ گرانے والے کے ہاتھ میں مسقوط بہ ہوتا ہے۔ آیت : وراو انھم قد ضلوا اور انہیں نظر آگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف پلٹ گئے ہیں۔ آیت : قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفرلنا لکنونن من الخسرین یعنی وہ عبودیت کا اقرار اور استفغار کرنے لگے۔ حمزہ اور کسائی نے تا خطاب کے ساتھ ولئن لم ترحمنا ربنا وتغفرلان پڑھا ہے۔ اس میں استغاثہ، تضرع، عجز و انکساری اور سوال ودعا میں خوب اصرار کرنے کا معنی ہے۔ ربنا حرف ندا کے حذف کے سبب منصوب ہے۔ اور دعا اور خشوع و خضوع میں یہی زیادہ بلیغ ہے۔ پس ان دونوں کی قراءت میں عجز و انکساری اور تضرع زیادہ ہے، لہذا یہی اولیٰ ہے۔
Ayahs 7:150–151

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

قولہ تعالیٰ : آیت : ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا اس میں غضبان غیر منصرف ہے، کیونکہ اس کی مونث غضبی ہے اور اس لیے کہ اس میں الف نون اس الف تانیث کی مثہ ہے جو تیرے قول حمراء میں ہے اور یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور اسفا سے مراد شدید الغضب (سخت غصہ) ہے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 77) نے فرمایا : اسف کا درجہ غضب کے بعد ہے یعنی جب غصہ غضب سے زیادہ شدید ہو تو اسف کہلاتا ہے (اور وہ آدمی) اسف واسیف اوسفان اور اسوف کہلاتا ہے۔ اور الاسیف کا معنی حزین ( غمگین) بھی ہے،۔ حضرت ابن عباس اور سدی ؓ (تفسیر طبری، جلد 2، صفحہ 78) نے بیان کیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے عمل کی وجہ سے غمگین و پشیمان واپس لوٹے۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ عزوجل نے آپ کو واپسی سے پہلے یہ بتا دیا تھا کہ انہیں بچھڑے کے سبب فتنہ وآزمائش میں ڈال دیا گیا ہے، پس اسی لیے آپ غصے کی حالت میں واپس لوٹے۔ حضرت ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 793) نے بیان کیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں غصہ لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ تھا، لیکن وہ بہت جلد اتر جاتا تھا، پس وہ جتنا زیادہ تھا تنا جلدی اترتا تھا۔ ابن القاسم نے کہا ہے : میں نے حضرت امام مالک (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب غصے میں ہوتے تو آپ کی ٹوپی سے دھواں ظاہر ہوتا تھا اور آپ کے بدن کے بال آپ کے جبے کو اٹھا دیتے تھے اور یہ اس لیے ہے کہ غصہ ایک انگارہ ہے جو دل میں جلنے لگتا ہے۔ اسی لیے حضور نبی مکرم ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا ہے کہ جسے غصہ آئے وہ چت لیٹ جائے اور اگر اس کا غصہ ختم نہ ہو تو پھر وہ غسل کرے، پس اس کا لیٹنا اس کے غصے کو ٹھنڈا کر دے گا اور اس کا غسل کرنا اسے زئل کر دے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تیز غصہ ہی اس کا سبب بنا تھا کہ آپ نے حضرت ملک الموت (علیہ السلام) کو تھپڑ دے مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ دی۔ اس بارے علماء نے جو کچھ کہا ہے اس کا ذکر سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ اور حضرت حکیم ترمذی نے کہا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس لیے اجازت طلب کی کیونکہ وہ کلیم اللہ تھے۔ گویا کہ انہوں نے یہ جانا کہ جس کسی نے آپ پر جرات کی یا آپ کی طرف اذیت کا ہاتھ بڑھایا تو یہ انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ جب انہوں نے آپ پر حجت پیس کی تو آپ نے فرمایا : تو میری روح کہاں سے نکالے گا ؟ کیا میرے منہ سے، حالانکہ میں نے اس سے اپنے رب سے کلام کی ہے یا میرے کان سے، حالانکہ میں نے اس سے اپنے رب کا کلام سنا ہے یا میرے ہاتھ سے، حالانکہ میں نے ان کے ساتھ تختیوں کو پکڑا ہے یا میرے پاؤں سے، حالانکہ میں طور پر رب کریم سے ہم کلام ہونے کے لیے ان پر کھڑا ہوا یا میرے آنکھوں سے، حالانکہ اس کے نور سے میرا چہرہ چمک اٹھا، پس وہ لاجواب ہو کر اپنے رب کی طرف واپس لوٹ گیا۔ مصنف ابی داؤد میں حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : بیشک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے تو اگر اس سے غصہ زائل ہوجائے ( تو بہتر) ورنہ اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے “ (سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 303) ۔ ابو وائل القاص سے بھی مروی ہے انہوں نے بیان کیا : ہم عروہ بن محمد سعدی کے پا گئے تو ایک آدمی نے ان سے گفتگو کی اور انہیں غصہ دلادیا، تو آپ ( مجلس سے) اٹھ گئے، پھر آپ اس حال میں واپس آئے کہ آپ نے وضو کیا ہوا تھا، انہوں نے فرمایا : میرے باپ نے میرے جد امجد عطیہ سے مجھے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور بلاشبہ شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور بلاشبہ آگ پانی کے ساتھ بجھائی جاتی ہے پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے وضو کرنا چاہیے “ (سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 304) (حدیث نمبر 4151، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ قولہ تعالیٰ : آیت : بئسما خلفتمونی من بعدی یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کی مذمت ہے، یعنی بہت برا عمل ہے جو تم نے میرے بعد کیا ہے۔ جو عمل مکروہ اور ناپسندیدہ ہو اس کے لیے خلفہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ خیر اور بھلائی میں بھی بولا جاتا ہے۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے : خلفہ بخیرا وبشر فی اھلہ وقومہ بعد شخوصہ (یعنی اس نے اپنے گھر والوں اور اپنی قوم میں اپنی بلندی کے بعد خیر یا شر کو اپنا خلیفہ بنایا ) آیت : اعجلتم امرربکم یعنی کیا تم اپنے رب کے فرمان سے سبقت لے گئے ؟ اور العجلۃ سے مراد کسی شی کے ساتھ اس کے وقت سے پہلے آگے بڑھنا ہے اور یہ مذموم ہے۔ اور السرعۃ کا معنی ہے : عمل الشی فی اول اواتہ ( کسی شی پر اس کے وقت سے پہلے آگے بڑھنا ہے اور یہ مذموم ہے۔ اور السرعۃ کا معنی ہے : عمل الشی فی اول اوقاتہ ( کسی شی پر اس کے اول وقت میں عمل کرنا) اور یہ قابل تعریف ہے۔ یعقوب نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : عجلت الشی ( یعنی) میں اس شے کی طرف سبقت لے گیا۔ اور اعجلت الرجل میں نے آدمی کو جلدی میں ڈالا، یعنی میں نے اسے عجلت پر ابھارا۔ اور امرربکم کا معنی ہے معیاد ربکم، یعنی تمہارے رب نے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی تم نے اپنے رب کی ناراضگی لینے میں جلدی کی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم نے بچھڑے کی عبادت کرنے میں جلدی کی ہے اس سے پہلے کہ تمہارے رب کی طرف سے کوئی حکم تمہارے پاس آتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : والقی الا لواح اس میں دو مسئلے ہیں ؛ مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : والقی الالواھ اور آپ نے تختیاں پھینک دیں شدید غصے کی وجہ سے جو آپ پر اس وقت طاری ہوا جب آپ اپنی قوم کے پاس آئے اور وہ بچھڑے کی عبادت میں لگے ہوئے تھے، تو آپ ان کے معاملہ کو مہمل چھوڑنے اور اس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اپنے بھائی پر غصے ہوئے۔ یہ حضرت سعید بن جبیر (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 457) نے کہا ہے۔ اور اسی لیے کہا گیا ہے : لیس الخبز کالمعاینۃ ( سنی ہوئی خبر دیکھی ہوئی شے کی مثل نہیں ہوتی) ۔ اور وہ قابل التفات نہیں جو حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے اگر وہ آپ سے صحیح ہے اور وہ صحیح نہیں ہے کہ آپ نے تختیوں کو اس وقت پھینکا جب آپ نے ان میں حضور نبی کریم ﷺ کی امت کی فضیلت دیکھی اور آپ کی امت کے لیے نہیں تھی۔ یہ ردی قول ہے اور قطعا مناسب نہیں کہ اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا جائے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ تختیاں ٹوٹ گئیں اور ان سے تفصیل اٹھا لی گئی اور ہدایت اور رحمت ان میں باق رہی۔ مسئلہ نمبر 2 تحقیق بعض جاہل متصوفہ نے اس سے کپڑے پھینکنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جب غنا پر ان کی خوشی انتہائی بڑھ جائے ( اور وہ جھومنے لگیں) پھر ان میں سے بعض صحیح کپڑے پھینکتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو پہلے انہیں پھاڑ دالتے ہیں اور پھر پھینکتے ہیں۔ فرمایا : یہ لوگ ایک غیبی اور مخفی حالت میں ہوتے ہیں پس انہیں ملامت نہیں کی جائے گی، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی قوم کے بچھڑے کی عبادت کرنے کے سبب جب غم غالب آگیا، تو آپ نے تختیاں پھینک دیں اور انہیں توڑ دیا اور آپ کو اس کا ادراک نہ ہوا جو آپ نے کیا۔ علامہ ابو الفرج جوزی (رح) نے بیان کیا ہے : کون جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صحیح قرار دے سکتا ہے کہ آپ نے تختیاں توڑنے کے لیے انہیں پھینک دیا ؟ جو قرآن کریم میں مذکور ہے وہ ہے کہ آپ نے انہیں پھینکا، تو ہمیں یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ ٹوٹ گئیں ؟ پھر اگر کہا جائے کہ وہ ٹوٹ گئیں تو ہمیں یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آپ نے انہیں توڑنے کا قصد اور ارادہ کیا ؟ پھر اگر اہم اسے آپ سے صحیح قرار دیں تو ہم کہیں گے : آپ حالت غضب میں تھے، یہاں تک کہ اگر آپ کے سامنے آگ کا سمندر ہوتا تو آپ اس میں کود جاتے۔ اور کون ہے جو ان ( متصوفہ) کہ حالت غیبیہ کو صحیح قرار دے سکتا ہے حالانکہ وہ دوسرے سے غنا کو سمجھ ہوتا تو آپ اس میں کود جاتے۔ اور کون ہے جو ان ( متصوفہ) کی حالت غیبہ کو صحیح قرار دے سکتا ہے حالانکہ وہ دوسرے سے غنا کو سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اگر ان کے پاس کنواں ہو تو اس سے بچتے اور ڈرتے بھی ہیں۔ پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کے احوال کو ان سفہا کے احوال پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ ابن عقیل سے ان کے وجد کرنے اورع اپنے کپڑے پھاڑنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : یہ خطا ہے اور حرام ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تو ایک کہنے والے نے آپ سے کہا : بلاشبہ وہ اسے نہیں جانتے ہوتے جو وہ کر رہے ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا : اگر وہ یہ جانتے ہوئے ایسی جگہوں پر حاضر ہوئے کہ ان پر خوشی غالب آجائے گی اور وہ ان کی عقلوں کو زائل کر دے گی تو وہ اس وجہ سے گنہگار ہوئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ایسی جگہ داخل کیا جہاں انہوں نے کپڑے پھاڑنے وغیر جیسے فاسد کام کیا ہے اور ان سے شریعت کا خطاب ساقط نہیں ہوگا، کیونکہ وہاں حاضر ہونے سے پہلے انہیں یہ خطاب کیا جا چکا ہے کہ وہ ایسی جگہ سے اجتناب کریں جو انہیں اس حال تک پہنچا سکتی ہے، جیسا کہ انہیں کوئی نشہ آور مشروف پینے سے منع کیا گیا ہے، اسی طرح یہ وہ شدید خوشی ہے جسے اہل تصوف وجد کا نام دیتے ہیں اگر وہ سچے ہیں کہ اس میں طبعی نشہ ہے اور اگر وہ جھوٹے ہیں تو انہوں نے صحو کے باوجود فاسد کام کیا، پس اس میں دونوں حالتوں (صحو اور سکر) میں سلامتی نہیں ہے۔ اور شک کے مقامات سے اجتناب کرنا واجب ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ یعنی آپ نے اپنے بھائی کی ریش اور زلفیں کھینچیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور آپ بنی اسرائیل کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ محبوب تھے، کیونکہ آپ میں غصہ بہت کم ( اور مزاج نرم) تھا۔ علماء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اپنے بھائی کا سر پکڑ نے کی چارتاویلیں کی ہیں : (1) یہ انداز ان کے عرف اور عادت میں عام تھا، جیسا کہ عرب اپنے بھائی اور ساتھی کی تعظیم و تکریم کے لیے اس کی ڈاڑھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں، تو یہ عمل بطریق تذلیل ورسوائی نہ ہوا۔ (2) آپ پر تختیوں کے نزول نے آپ کو بہت خوش کر رکھا تھا، کیونکہ یہ اسی مناجات میں آپ پر نازل ہوئی تھیں اور آپ نے چاہا کہ آپ انہیں تورات سے پہلے بنی اسرائیل سے مخفی رکھیں۔ تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے آپ کو کہا : میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑو، تاکہ اس تذلیل کی وجہ سے بنی اسرائیل پر آپ کی خوشی مشتبہ نہ ہوجائے۔ (3) آپ نے یہ عمل اس لیے کہا کیونکہ آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی بنی اسرائیل کے ساتھ بچھڑے کی پرستش کے عمل کی طرف مائل ہیں۔ اور اس طرح کا عمل انبیاء علیھم السلام کے لیے جائز نہیں ہوتا۔ (4) آپ نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملایا تاکہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ اسے جان لے، تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اسے ناپسند کیا تاکہ بنی اسرائیل یہ گمان نہ کریں کہ آپ نے ان کی اہانت کی ہے۔ پھر آپ کے بھائی نے آپ کو بتایا کہ بنی اسرائیل نے اسے کمزور سمجھا، یعنی بچھڑے کی عبادت کرنے والوں نے اور قریب تھا کہ وہ اسے قتل کردیتے۔ پس جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھائی کا عذر سنا تو کہا : اے میرے رب ! میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرما (رب اغفرلی ولاخٰی) یعنی میں نے جس غصے کے سبب تختیاں پھینکیں ہیٰں میرا وہ عمل معاف فرما دے اور میرے بھائی کی مغفرت فرما، کیونکہ میں نے انہیں بنی اسرائیل کو روکنے میں کوتاہی کرنے والا گمان کیا ہے اگرچہ ان سے کو تائی واقع نہیں ہوئی۔ یعنی تو میرے بھائی کی مغفرت فرما اگر اس سے کوتاہی ہے۔ حسن نے کہا ہے : حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سوا ان تمام کے بچھڑے کی پرستش کی، کیونکہ اگر وہاں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے سوا کوئی مومن ہوتا تو آپ اپنے قول میں صرف اس پر اکتفا نہ کرتے : رب اغفرلی ولاخی، آپ یقینا اس مومن کے لیے بھی دعا کرتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے لیے اس فعل سے استغفار کیا جو آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ کیا۔ آپ نے انہیں اس پر پانے کی وجہ سے ایسا کیا۔ جب کہ وہ اس عمل کے ساتھ ملحق نہ تھے تو انہوں نے جو کچھ ہوا اس کے بارے آپ کو آگاہ کیا تاکہ آپ رجوع کرلیں پھر دونوں نے بنی اسرائیل کے عمل کا تدارک کیا۔ اسی لیے کہا : آیت : یھرون ما منعک اذ رایتھم ضلوا الا تتبعن الایہ (طہ) (موسی نے آکر غصہ سے) کہا : اے ہارون ! کس چیز نے تجھے روکا کہ جب تو نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تو (انہیں چھوڑا کر) میرے پیچھے نہ چلا آیا ) ۔ تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے وضاحت کی کہ انہیں تو اپنے قتل کا خوف پیدا ہوگیا تھا پس یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ جسے برائی سے روکتے وقت اپنی جان پر قتل کا خوف ہوا اس کے لیے سکوت اختیار کرنا جائز ہے۔ اس کا بیان پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 793) نے کہا ہے : اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ غضب احکام کو تبدیل نہیں کرتا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غصہ نے آپ کے افعال میں سے کسی شی کو تبدیل نہیں کیا، بلکہ یہ صرف تختیوں کو پھینکنے، بھائی کو عتاب کرنے اور حضرت ملک الموت (علیہ السلام) کو تھپڑ مارنے کا سبب بنا۔ مہدوی (رح) نے کہا ہے : چونکہ آپ کا غصہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے تھا اور بنی اسرائیل سے آپ کا سکوت ان کے باہم لڑنے اور متفرق ہونے کے خوف سے تھا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قال ابن ام آپ ان کی ماں اور باپ دونوں کے بیٹے تھے ( یعنی سگے بھائی تھے) البتہ یہ کلمہ انتہائی نری اور شفقت و مہربانی کا کلمہ ہے۔ زجاج نے کہ ہے : کہا گیا ہے حضرت ہارون (علیہ السلام) صرف ماں کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے باپ کی طرف سے نہیں۔ لفظ ام کو میم کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ پس جنہوں نے فتحہ دیا ہے انہوں نے ابن ام کو ایک اسم قرار دیا ہے جیسے خمسۃ عشر۔ پس یہ تیرے اس قول کی طرح ہوگیا : یا خمسۃ عشر اقبلوا اور جنہوں نے کسرہ پڑھا ہے انہوں نے اسے ضمیر متکلم کی طرف مضاف کیا ہے پھر یا اضافت کو حذف کر یا ہے، کیونکہ نداء کا دارو مدار حذف پر ہے اور انہوں نے میم میں کسرہ کو باقی رکھا ہے تاکہ وہ اضافت پر دلیل ہوجائے، جیسا کہ یہ قول یاعمادہ اس پر ابن السمیقع کی قراءت یا بن امی دلالت کرتی ہے کہ اس میں یا اپنے اصل پر ثابت ہے۔ کسائی، فراء اور ابو عبید نے کہا ہے : یہ یا بن ام فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس کی تقدیر یا بن اماہ ہے۔ اور بصریوں نے کہا : یہ قول غلط ہے، کیونکہ الف خفیف حرف ہے حذف نہیں ہو سکتا، البتہ اس نے دو اسموں کو ایک اسم بنا دیا ہے۔ اخفش اور ابو حاتم نے کہا ہے : یا بن ام یعنی کسرہ کے ساتھ جیسا کہ آپ کہتے ہیں : یا غلام غلام اقبل، یہ لغت شاذ ہے اور اس کے ساتھ قراءت کرنا بعید ہے۔ بلاشبہ یہ اس میں ہوتا ہے جو تیری طرف مضاف ہو۔ اور رہا وہ مضاف جو اس کی طرف مضاف ہو جو تیری طرف مضاف ہے تو اس میں وجہ یہ ہے کہ تو کہے : یا غلام غلامی، اور یا بن اخی۔ اور یا بن ام اور یا بن عم بھی کلام میں اس کی کثرت کی وجہ سے اسے جائز قرار دیا ہے۔ زجاج اور نحاس نے کہا ہے : لیکن اس کی حسین اور جید وجہ یہ ہے کہ الابن کو ام اور عم کے ساتھ ملا کر ایک اسم بنا دیا جائے۔ یہ تیرے اس قول کے قائم مقام ہے : یا خمسۃ عشر اقبلوا پس یا کو حذف کردیا گیا جیسے یا غلام سے اسے حذف کیا گیا۔ آیت : ان القوم استضفونی یعنی قوم نے مجھے ذلیل ورسوا کیا اور مجھے کمزور وبے بس بنا دیا۔ وکادوا یعنی یہ قریب ہوگئے۔ یقتلوننی یہ لفظ دونونوں کے ساتھ ہے، کیونکہ یہ فعل مضارع ہے۔ اور غیر قرآن میں اس میں ادغام جائز ہوتا ہے۔ آیت : فلاتشمت بی الاعدآء یعنی آپ دشمنوں کو خوش کیجئے۔ اور الشماتہ کا معنی ہے : السرور وربما یصیب اخاک من المصائب فی الدین والدنیا ( یعنی تیرے کسی بھائی کو دین ودنیا میں مصائب وآلام میں سے جو پہنچے اس پر اظہار مسرت کرنا، شماتت کہلاتا ہے) اور یہ حرام ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث میں حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے : لا تظھرالشماتۃ باخیک فیعافیہ اللہ ویبلیک ( تو اپنے بھائی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار نہ کر ( کہیں ایسا نہ ہو کہ) اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما دے اور تجھے اس میں مبتلا کر دے۔ رسول اللہ ﷺ اس سے پناہ مانگتے تھے اور یہ عرض کرتے تھے : اللھم انی اعوذبک من سوء القضاء ودرک الشقاء وشماتۃ الاعداء (صحیح بخاری، کتاب القدر، جلد 2، صفحہ 979) ( اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بری تقدیر سے، بدبختی پانے سے اور دشمنوں کی تکلیف پر خوش ہونے سے) اسے بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے : اذا ما الدھر جر علی اناس کلاکلہ اناخ بآخرینا فقل للشامتین بنا افیقوا سیلقی الشامتون کما لقینا حضرت مجاہد اور مالک بن دینار (رح) نے تا کے نصب اور میم کے فتحہ کے ساتھ تشمت اور الاعداء کور رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور معنی یہ ہے : تو میرے ساتھ وہ سلوک نہ کر جس کے سبب دشمن خوش اور مسرور ہوں ( لا تفعل بی ماتشمت من اجلہ الاعداء) یعنی ان کی طرف سے ایسا کوئی فعل نہیں ہوا جو آپ مجھ سے کر رہے ہیں۔ حضرت مجاہد (رح) سے بھی تشمت دونوں ہی فتحہ مروی ہے اور الاعداء نصب کے ساتھ ہے۔ ابن جنی نے کہا : اس کا معنی ہے اے میرے رب ! تو مجھ پر خوش نہ ہو۔ اور یہ جائز ہے جیسا کہ یہ قول ہے : آیت : اللہ یستھزی بھم (البقرہ : 15) وغیرہ۔ پھر مقصود اور مراد کی طرف رجوع فرمایا اور وہ فعل مضمر کردیا جس کے ساتھ الاعدآء کو نصب دی، گویا کہ اس طرح فرمایا : ولاتشمت بی الاعدائ۔ ابو عبید نے کہا ہے : میں نے حمید سے بیان کیا ہے کہ یہ فلا تشمت میم کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس قراءت کی کوئی وجہ اور دلیل نہیں، کیونکہ اگر یہ سمت سے ہو تو پھر تشمت کہنا واجب ہے۔ اور اگر یہ اشمت سے ہے تو پھر تشمت کہنا واجب ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ : آیت : ولاتجعلنی مع القوم الظلمین حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : (ظالمین سے) مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی آیت : قال رب اغفرلی ولاخی وادخلنا فی رحمتک وانت ارحم الرحمین بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 7:152–153

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین اتخذوا لعجل سینالھم غضب من ربھم اللہ تعالیٰ کی طرف سے غضب ہونے کا معنی سزا ہے۔ آیت : وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا کیونکہ انہیں آپ میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذلت سے مراد جزیہ ہے۔ لیکن یہ معنی بعید ہے، کیونکہ جزیہ ان سے نہیں لیا گیا تھا بلکہ ان کی اولاد سے لیا گیا تھا۔ پھر یہ کہا گیا ہے : یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام مکمل ہو رہا ہے، جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے دی ہے اور کلام مکمل ہوگئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وکذلک نجزی المفترین یہ قول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے اس سے پہلے کہ آپ کی قوم اپنے آپ کو قتل کرنے کے ساتھ توبہ کرے، کیونکہ جب انہوں نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے اس قتل عظیم کے بعد انہیں معاف فرمادیا، جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے خبر دی ہے کہ ان میں سے جو مقتول ہوا وہ شہید ہے اور جو زندہ باقی رہا تو اس کی بخشش کردی گئی ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : ہاں ایک گروہ تھا ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ڈال دی گئی، انہوں نے توبہ نہیں کی، پس ارشاد باری تعالیٰ آیت : ان الذین اتخذو العجل سے مراد وہی لوگ ہیں۔ اور بعض نے کیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے میقات سے واپس لوٹنے سے پہلے ہی فوت ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد ان کی اولاد ہے۔ اور وہ وہ ہے جو بنی قریظہ اور بنی نظیر پر وقوع پذیر ہوا، یعنی عنقریب ان کی اولاد کو (غضب الہٰی) پہنچے گا۔ واللہ اعلم آیت : وکذلک نجزی المفترین یعنی جس طرح کا سلوک ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے اسی طرح ہم بہتان باندھنے والوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ حضرت امام مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے : کوئی بدعت کا ارتکاب کرنے والا نہیں ہے مگر وہ اپنے سر پر ذلت ورسوائی کو پاتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : آیت : ان الذین اتخذو العجل سینالھم غضب من ربھم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا وکذلک نجزی المفترین یعنی مبتدعین ( بدعت کا ارتکاب کرنے والے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچھڑے کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور اس سے خون بہنے لگا اور آپ نے اسے مبرد کے ساتھ ٹھنڈا کیا اور اسے خون سمیت سمندر میں پھینک دیا اور انہیں اس سے اپنی پینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ پس جس کسی نے اس بچھڑنے کی عبادت کی تھی اور اسے وہ پانی پلایا گیا تو وہ اس کے منہ کی اطراف پر ظاہر ہوگیا۔ پس اس سے بچھڑنے کی عبادت کرنے والے پہچان لیے گئے۔ اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی بیشک اللہ تعالیٰ شرک وغیرہ سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ یہ بھی کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ آیت : والذین عملوا السیات یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ آیت : ثم تابوا من بعدھا ایسا کرنے کے بعد پھر انہوں نے توبہ کرلے۔ آیت : وامنوا ان ربک من بعدھا یعنی بلاشبہ آپ کا رب توبہ کے بعد لغفور رحیم مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

آیت نمبر : 154 قولہ تعالیٰ : آیت : ولما سکت عن موسیٰ الغضب اس میں سکت بمعنی سکن ( ساکن ہونا، فرو ہونا) ہے۔ اسی طرح معاویہ ابن قرہ نے سکن نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ سکوت میں اصل سکون اور امساک ( رک جانا) ہے۔ کہا جاتا ہے جری الوادی ثلاثا ثم سکن، یعنی پھر وادی چلنے سے رک گئی۔ حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : سکت موسیٰ عن الغضب تو اس میں قلب کیا گیا ہے۔ جیسے تیرا یہ قول ہے : ادخلت الاصبع فی الخاتم ( میں نے انگلی انگوٹھی میں داخل کی) اور ادخلت الخاتم فی الاصبع ( میں نے انگوٹھی انگلی میں داخل کی) ادخلت القلنسوہ فی راسی ( میں نے ٹوپی اپنے سر میں داخل کی) اور ادخلت راسی فی القلنسوۃ ( میں نے اپنا سر ٹوپی میں داخل کیا) اخذالالواح یعنی آپ نے ان تختیوں کو اٹھا لیا جنہیں آپ نے پھینکا تھا۔ آیت : وفی نسختھا ھدی ورحمۃ یعنی ان کی تحریر میں ضلالت وگمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت تھی۔ اور نسخ کا معنی ہے : نقل ماضی کتاب الی کتاب آخر ( یعنی جو کچھ ایک کتاب میں تحریر ہے اسے دوسری کتاب میں منتقل کرنا) جس اصل سے تون نے لکھا اسے نسخہ اور فرع کو بھی نسخہ کہا جاتا ہے۔ کہا گیا ہے : جب تختیاں ٹوٹ گئیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن روزے رکھے، پھر وہ آپہ واپس کردی گئیں اور آپ کو وہ تختیاں دو تختیوں میں لوٹا دیں گئیں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحۃ 549) اور ان سے کوئی شے مفقود نہ کی تھی۔ اسے حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر کیا ہے۔ امام قشیری (رح) نے کہا ہے : پس اس بنا پر وفی نسختھا کا مفہوم یہ ہوگا کہ جو کچھ ٹوٹی ہوئی تختیوں میں تحریر تھا اور وہ نئی تخیوں میں منتقل کیا گیا وہ ہدایت اور رحمت ہے۔ اور حضرت عطا نے بیان کیا ہے : اور اس میں جو ان میں سے باقی بچا اس میں ہدایت اور رحمت ہے۔ اور ان میں سے ساتویں تختی کے سوا کوئی باقی نہ رہی اور ان میں سے چھ ختم ہوگئیں۔ لیکن حدود اور احکام میں سے کوئی شے ختم نہیں ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وفی نسختھا کا معنی ہے : آپ کے لیے ان تختیوں میں جو کچھ لوح محفوظ سے نقل کیا گیا ہے اس میں ہدایت ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اور جو کچھ ان میں لکھا گیا ہے اس میں ہدایت اور رحمت ہے، پس وہ اس اصل کے محتاج نہیں ہیں جس سے یہ منقول ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے : النسخ ما یقول فلان، یعنی اپنی کتاب میں وہی کچھ لکھ دے جو فلاں کہتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : للذین ھم لربھم یرھبون یہ بمعنی یخافون ہے ( یعنی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ لربھم کے لام میں تین اقوال ہیں کو فیوں نے کہا ہے یہ لام زائدہ ہے۔ کسائی نے کہا ہے : مجھے اس نے بتایا ہے جس نے فرزدق کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : نقدت لھا مائۃ درھم بمعنی نقد تھا ( میں نے سو درہم گنے) اور بعض نے کہا ہے : یہ لام اجل ہے، معنی یہ ہے : وہ لوگ جو اپنے رب کی وجہ سے ڈڑتے ہیں نہ ان میں ریا کاری ہے اور نہ شہرت، یہ اخفش سے منقول ہے۔ اور محمد بن یزید نے کہا ہے : یہ لام مصدر کے متعلق ہے معنی یہ ہے : للذین ھم رھبتھم لربھم ( ان لوگوں کے لیے جن کا خوف اور ڈر اپنے رب کے لیے ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب مفعول مقدم ہو تو لام داخل کرنا اچھا اور حسین ہوتا ہے جیسے اس ارشاد میں ہے : آیت : ان کنتم للرء یا تعبرون (یوسف) پس جب معمول مقدم ہو اور وہ مفعول ہو تو فعل کا عمل کمزور اور ضعیف ہوجاتا ہے پس یہ اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے جو متعدی نہیں ہوتا۔