7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

آیت نمبر : 180 قولہ تعالیٰ : آیت : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : قولہ تعالیٰ : آیت : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا یہ امر اس بارے ہے کہ عبادت خالصۃ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو اور مشرکین وملحدین سے کلی اجتناب ہو۔ مفسرین میں سے مقاتل وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اپنی نماز میں کہ رہ اس تھا : یا رحمن یا رحیم۔ تو مشرکین مکہ میں سے ایک آدمی نے کہا : کیا محمد ﷺ اور ان کے اصحاب یہ گمان نہیں کرتے کہ وہ ایک رب کی عبادت کرتے ہیں، تو اسے کیا ہوا ہے کہ یہ دو ربوں کو پکار رہا ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا۔ مسئلہ نمبر 2، ترمذی اور سنن ابن ماجہ وغیرہما میں حدیث طیبہ موجود ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے اس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننا نوے اسماء ہیں (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب سماء اللہ عزوجل، حدیث نمبر 3850، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ دونوں میں سے ایک میں وہ کچھ ہے جو دوسرے میں نہیں ہے۔ ہم نے اسے ” کتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی “ میں وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے اور ترمذی کی حدیث ذکر کی ہے اور وہ حدیث متواتر نہیں ہے، اگرچہ اس میں ابو عیسیٰ نے کہا ہے : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صفوان بن صالح کی حدیث کے سوا نہیں جانتے، اور وہ محدثین کے زدیک ثقہ ہیں۔ اس بارے میں انہیں سے آپ ﷺ کا یہ قول متواترا منقول ہے :” بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء ہیں، ایک کم سو ہیں جس نے انہیں شمار کیا (پڑھا) وہ جنت میں داخل ہوگا “ (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 257 ) ۔ اس میں احصاھا کا معنی ہے جس نے انہیں گنا اور انہیں یاد کیا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا گیا ہے جسے ہے جسے ہم نے اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے۔ اور ہم نے وہاں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ امما ترمذی کی حدیث صحیح ہے۔ اور ہم نے اسماء میں سے وہ بھی ذکر کیے ہیں جن پر اجماع ہے اور وہ بھی جن میں اختلاف ہے جن پر ہم اپنے ائمہ کی کتب میں واقف ہوئے ہیں اور وہ تقریبا دو سو اسم ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعیین سے پہلے کتاب کے مقدمہ میں بتیس فصلیں ذکر کی ہیں جو ان کے احکام سے متعلق ہیں جو کوئی واقف ہونا چاہے وہ اس کتاب اور اس کے علاوہ دیگر کتب جو اس باے میں لکھی گئی ہیں ان کی طرف رجوع کرے۔ وللہ الموفق للصواب، لا رب سواہ۔ مسئلہ نمبر 3۔ علماء نے اس باب میں اسم اور مسمی میں اختاف کیا ہے، علماء نے اس بارے میں جو کہا ہے ہم نے اسے ” الکتاب الاسنی “ میں ذکر کیا ہے۔ ابن الحصار نے کہا ہے : اس آیت میں اسم کو وقوع مسمی پر بھی ہے اور تسمیہ پر بھی۔ پس قول باری تعالیٰ : وللہ یہ مسمی پر واقع ہے، اور قول باری تعالیٰ : الاسمآء یہ اسم کی جمع ہے اور تسمیات پر واقع ہے، جو کچھ ہم نے کہا ہے : فادعوہ بھا اس کے صحیح ہونے پر دلالت کرتا ہے، قول باری تعالیٰ فادعوہ میں ہا ضمیر مسمی سبحانہ وتعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وہی مدعو ہے اور بھا میں حا ضمیر اسماء کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہی وہ اسماء ہیں جن کے ساتھ پکارا جاتا ہے نہ کہ ان کے سوا کسی اور کے ساتھ۔ یہ وہ ہے جس کا تقاضا لسان العرب کرتی ہے۔ اسی کی مثل رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی بھی ہے : لی خمسۃ اسماء انا محمد واحمد الحدیث (میرے پانچ اسماء ہیں میں محمد اور احمد ﷺ ہوں) اس میں سے کچھ پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور وہ رائے جسے اہل حق اختیار کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسم ہی مسمی ہے، یا اس کی صفت ہے جو اس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ اور یہ کہ اسم تسمیہ کا غیر ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے قول باری تعالیٰ : وللہ الاسمآء الحسنی پر کلام کرتے ہوئے کہا ہے : اس میں تین اقول ہیں۔ ہمارے بعض علماء نے کہا ہے : اس میں اس پر دلیل ہے کہ اسم ہی مسمی ہے، کیونکہ اگر وہ اس کا غیر ہو تو پھر ضرور ہے کہ اسماء اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے ہوں۔ دوسرا قول یہ ہے دوسروں نے کہا ہے : اس سے مراد تسمیات ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو واحد ہے اور اسماء جمع ہیں۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں ؛ ابن عطیہ نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ آیت میں اسماء بمعنی تسمیات ہیں۔ اس پر تاویل کرنے والوں کا اجماع ہے اس کے سوا ( کوئی اور مراد لینا) جائز نہیں۔ قاضی ابوبکر نے کتاب ” التمہید “ میں کہا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کی تاویل یہ ہے ” کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسم ہیں جس نے انہیں پڑھا وہ جنت میں داخل ہوگا “ (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 314) ۔ یعنی بلا اختلاف اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے مختلف اور متفرق اوصاف پر ہونے سے عبارت ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جن کا وہ اپنی ذات کے لیے مستحق ہونا ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن کا وہ اس صفت کے لیے مستحق ہوتا ہے جو اس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اس کے وہ اسماء جو اس کی ذات کی طرف لوٹنے ہیں وہی ہیں اور جو اس کی صفت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہی اس کے اسماء ہیں۔ اور ان میں سے کچھ اس کی ذات کی صفات ہیں اور ان میں سے کچھ افعال کی صفات ہیں۔ اور قول باری تعالیٰ : وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا کی یہی تاویل ہے یعنی التمیات الحسنی۔ تیسرا قول یہ ہے ان میں سے بعض دوسروں نے کہا ہے : وللہ الصفات ( یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں) مسئلہ نمبر 4 اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے اسماء کو حسنی کا نام دیا ہے، کیونکہ وہ کانوں اور قلوب میں حسنہ اور خوبصورت لگتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے جودوکرم اور اس کی رحمت وفضل پر دلالت کرتے ہیں۔ اور الحسنی مصدر ہے اس کے ساتھ صفت لگائی گئی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ فعلی کے وزن پر الحسنی مقدر ہو، جو کہ احسن کی مونث ہے، جیسا کہ کبری، اکبر کی مونث ہے، اور جمع کبر اور حسن ہے۔ اور پہلے ( قول) پر اسے مفرد لایا گیا ہے جیسا کہ غیر ذوی العقول کا وصف مفرد دلایا جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : ما رب اخری (طہ) اور یجبال اوبی معہ (سبا : 10) مسئلہ نمبر : 5 قولہ تعالیٰ : آیت : فادعوہ بھا یعنی تم اس میں سے اس کے اسماء کے سبب طلب کرو، پس ہر اسم کے ساتھ وہی جیز طلب کی جائے گی جو اس کے لائق اور مناسب ہوگی۔ پس تو کہے گا : اے رحیم ! مجھ پر رحم فرما، اے حکیم ! مجھے حکمت و دانائی عطا فرما، اے رازاق عطا فرما، اے ہادی ! مجھے ہدایت عطا فرما، اے فتاح ! مجھے فتح اور کامیابی عطا فرما، اے رب ! میری توبہ قبول فرما۔ اسی طرح تمام اسماء ہیں۔ اور اگر تو عام اسم کے ساتھ دعا مانگے تو تو کہے گا : اے مالک ! مجھ پر رحم فرما، اے عزیز ! مجھے حکمت و دانائی عطا فرما، اے لطیف ! مجھے رزق عطا فرما اور ار اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگے اور کہے : اے اللہ ! تو یہ ہر اسم کو متضمن ہے۔ اور یہ نہیں کہے گا : اے رزاق ! مجھے ہدایت عطا فرما، مگر یہ کہ ارادہ یہ ہو اے رزاق مجے خیر اور بھلائی عطا فرما۔ عالمہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اسی طرح تو اپنی دعا کو مرتب کر تو تو مخلصین میں سے ہوجائے گا۔ دعا کی شرائط سے سورة البقرہ میں اور اس سورت میں بھی گزر چکی ہیں۔ والحمد للہ مسئلہ نمبر : 6 قاضی ابوبکر بن عربی (رح) نے متعدد اسماء اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اسماء میں داخل کیے ہیں۔ مثلا متم نورہ، خیر الوارثین، خیر الماکرین، رابع ثلاثۃ، سادس خمسۃ، الطیب اور المعلم اور انہیں کی مثل اور اسماء۔ ابن الحصار نے کہا ہے : انہوں نے اس میں ابی برجان کی اقتدا کی ہے، انہوں نے اسماء میں النظیف بھی ذکر کہا ہے اور علاوہ ازیں بھی جو کتاب و سنت میں وارد نہیں۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ جو ان کے قول میں سے ذکر کیا گیا ہے ممالم یرد فی کتاب ولا سنۃ تو تحقیق صحیح مسلم میں الطیب آیا ہے۔ اور ترمذی نے النظیف ذکر کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ اپنی دعا میں کہا کرتے تھے : رب اعنی ولا تعن علی وانصرنی ولا تنصر علی وامکر لی ولا تمکر علی الحدیث (جامع ترمذی، کتاب دعوات عن رسول اللہ، باب فی دعا النبی (علیہ السلام) ، حدیث نمبر 3474، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ( اے میرے پروردگار ! میرے مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، مجھے نصرت عطا فرما اور میرے خلاف کسی کی نصرت نہ کر اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کوئی تدبیر نہ کر) اور اس حدیث کے بارے کہا ہے : کہ حدیث حسن صحیح ہے۔ پس اس بنا پر جائز ہے کہ یہ کہا جائے : یا خیر الماکرین امکر لی ولا تمکر علی ( اے سب سے بہتر تدبیر فرمانے والے میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کوئی تدبیر نہ کر) ہم نے الطیب اور النظیف کا ذکر اپنی کتاب میں یا ہے اور علاوہ ازین بھی ہیں جن کا ذکر اخبار میں ہے اور وہ سلف صالحین سے منقول ہیں۔ اور وہ بھی ہیں جنہیں تسمیہ بنانا اور ان کے ساتھ دعا مانگنا جائز ہے اور وہ بھی ہیں جنہیں تسمیہ بنانا تو جائز ہے اور ان کے ساتھ دعا نہیں مانگی جائے، جیسا کہ انہیں شیخ ابو الحسن اشعری (رح) نے ذکر کیا ہے۔ وہاں تیرے لیے اس کی خوب وضاحت ہوجائے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وذروا الذین یلحدون فی اسمآئہ سیجزون ما کانو یعملون۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : یلحدون الحاد کا معنی ہے ایک طرف جھک جانا اور قصد ترک کردینا، کہا جاتا ہے : الحدالرجل فی الدین ( آدمی دین کے معاملہ میں کجرد ہوگیا یعنی اس نے دین کا اعتدال ترک کردیا) اور جب کوئی جھک جائے تو کہا جاتا ہے : الحد اور اسی سے قبر میں لحد بھی ہے، کیونکہ وہ بھی قبر کی ایک طرف میں ہوتی ہے۔ یلحدون بھی پڑھا گیا ہے اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور الحاد تین وجوہ سے ہو سکتا ہے : ان میں سے ایک کہ ہے کہ اس میں تغیر اور تبدیلی ہو جیسا کہ مشرکین نے کیا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے انہیں ( اسماء کو) اس معنی سے پھیر دیا جس پر یہ تھے اور انہوں نے ان کے ساتھ اپنے بتوں کے نام رکھ لیے۔ پس انہوں نے اللات کو لفظ اللہ سے، العزی کو العیزیز سے اور منات کو المنان سے مشتق کرلیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ نے یہی کہا ہے۔ دوسری وجہ ان میں زیادتی یے سبب ( الحاد ہو سکتا ہے) ۔ اور تیسری وجہ ان سے کچھ کم کر کے ( الحاد ہو سکتا ہے) جیسا کہ وہ جاہل لوگ ایسا کرتے ہیں جو دعائیں اختراع کرتے ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کا نام اس کے اسماء کے بغیر لیتے ہیں اور وہ اس کا ذکر اس کے بغیر کرتے ہیں اس کے افعال میں سے جن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ایسی چیزوں سے جو اس کے لائق اور مناسب نہیں۔ علامہ ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 810) نے کہا ہے : پس تو ان سے بچ اور پرہیز کر اور تم میں سے کوئی بھی اسے نہ پکارے مگر انہیں اسماء میں سے کسی کے ساتھ جو کتاب اللہ اور کتب خمسہ میں ہیں ( پانچ کتابوں سے مراد) بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی ہیں۔ پس یہی وہ کتابیں ہیں جن پر اسلام کا دارومدار ہے اور ان میں وہ سب کچھ شامل ہے جو اس موطا میں ہے جو اصل التصانیف ہے۔ اور تم اس کے سوا ( سب کو) چھوڑ دو اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں اس طرح کی دعا کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اختیار کرلیا ہے اور اسی وجہ سے مخلقو کی طرف اپنا رسول ﷺ بھیجا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اسماء میں زیادتی سے مراد تشبیہ ہے اور نقصان سے مراد تعطیل ہے، کیونکہ مشبہ نے ایسے ناموں کے ساتھ اسے متصف کیا ہے جن کے بارے میں اس نے اجازت نہیں دی اور معطلہ نے اس سے وہ اوصاف سلب کرلیے ہیں جن کے ساتھ وہ متصف ہے۔ اسی وجہ سے اہل حق نے کہا ہے : بیشک ہمارا دین دو راستوں کے درمیان ایک راستہ ہے، نہ اس کا تعلق تشبیہ کے ساتھ ہے اور نہ ہی تعطیل کے ساتھ ہے۔ شیخ ابو الحسن بو شیخی سے توحید کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : ایک ذات کو ثابت کرنا جس کی دیغر ذاتوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور نہ ہی ( اس کی) صفات میں سے کوئی معطل ہو۔ تحقیق قول باری تعالیٰ : آیت : وذروا الذین یلحدون میں کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : تم انہیں چھوڑ دو اور تم ان سے بحث مباحثہ نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ تعرض کرو۔ پس اس بنا پر یہ آیت قتال کے سبب منسوخ ہے۔ یہ ابن زید نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی وعید ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : آیت : ذرنی ومن خلقت وحیدا ( المدثر) ( آپ چھوڑ دیجئے مجھے اور جس کو میں نے تنہا پیدا کیا ہے) اور اس کا ارشاد ہے : آیت : ذرھم یاکلوا ویتمتعوا (الحجر : 3) ( انہیں رہنے دیجئے وہ کھائیں ( پیئں) اور عیش کریں) اور یہی آیت کا ظاہر معنی ہے، کیونکہ ارشاس باری تعالیٰ ہے : آیت : سیجزون ما کانوا یعملون
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 181 حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” وہ یہیں امت ہے “ اور یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے ہے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی بھی اسی کی مثل عطا فرمائی “۔ اور آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : ” بیشک میرے امت میں سے ایک قوم حق پر رہے گی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوجائیں گے “۔ پس یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کسی وقت بھی دنیا کو ایسے داعی سے خالی نہیں کرے گا جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

آیت نمبر : 182 اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے خبر دی ہے جنہوں نے اس کی آیات کی تکذیب کی ہے کہ وہ انہیں آہستہ آہستہ پستی میں گرا دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اہل مکہ ہیں اور استدراج کا معنی ہے بالتدریج منز بمنزل کسی جیز کو پکڑنا اور درج کا معنی ہے کسی شے کو لپیٹنا۔ کہا جاتا ہے : ادرجتہ ودرجتہ ( میں نے اسے لپیٹ دیا) اور اسی سے ادرج المیت فی اکفانہ بھی ہے ( یعنی میت کو اپنے کفن میں لپیٹ دیا گیا) بعض نے کہا ہے : یہ الدرجہ سے ہے۔ پھر استدراج یہ ہوگا کہ کسی کو درجہ بدرجہ مقصود کی طرف گرایا جائے۔ ضحاک نے کہا کہ : جب بھی وہ ہمارے لیے نئی معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں ہم انہیں نئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں۔ حضرت ذوالنون (رح) کو کہا گیا : کونسی وہ انتہار ہے جس سے بندہ دھوکہ کھا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : الطاف و کرامات سے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : سنستدرجھم من حیث لا یعلمون ہم ان پر نعمتوں کی بوچھاڑ کردیں گے اور انہیں شکر بھلا دیں گے۔ اور انہوں نے یہ اشعار کہے ہیں : احسنت ظنک بالایام اذحسنت ولم تخف سوء مایاتی بہ القدر وسالمتک اللیالی فاغترزت بھا وعند صفو اللیالی یحدث الکدر
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

آیت نمبر : 183 قولہ تعالیٰ : آیت : یعنی میں ان کے لیے مدت طویل کردیتا ہوں اور انہیں مہلت دیتا ہوں اور ان کی سزا موخر کردیتا ہوں۔ آیت : ان کیدی یعنی بیشک میری خفیہ تدبیر متین انتہائی قوی اور مضبوط ہے۔ اس کی اصل المتن سے ہے، اور اس سے مراد وہ موٹا گوشت ہے جو صلب کی جانب سے ہو۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت استہزاء کرنے والے قریش کے بارے میں نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت دینے کے بعد پھر ایک ہی رات میں ہلاک کردیا۔ اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ (انعام : 44) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

آیت : 184 : قولہ تعالیٰ : اولم یتفکروا کیا اب تک انہوں نے اس میں غور وفکر نہیں کیا جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ لے کر ان کے پاس آئے۔ یتفکرو پر وقف کرنا اچھا ہ۔ پھر فرمایا : مابصاحبھم من جنۃ یہ ان کے اس قول کا رد ہے : یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون (الحجر) یہ بھی کہا گیا کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات قریش کو دعوت دینے کے لیے صفا پر کھڑے ہوئے، آپ علیحدہ علیحدہ قبیلہ کو بلاتے اور فرماتے : ” اے بنی فلاں “ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کی سزا سے ڈراتے رہے۔ تو ان میں سے بعض کہنے والوں نے کہا : بیشک ان کا یہ صاحب تو مجنون ہے، رات بھر آواز بلند ہوتی رہی یہاں تک کہ صبح ہوگئی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 483) ۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

آیت نمبر : 185 قولہ تعالیٰ : آیت : اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : اولم ینطروا یہ قرآن کریم کی آیات میں نظر وفکر کرنے سے ان کے اعراض کرنے پر اظہار تعجب ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کو پہچان سکتے، جیسا کہ ہم نے انہیں سورة البقرہ میں بیان کیا ہے۔ اور ملکوت مبالغہ میں سے ہے۔ اور اس کا معنی ہے وسیع مملکت، عظیم سلطنت۔ مسئلہ نمبر : 2 جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں نظر و فکر کرنا اور اس کی مخلوقات سے عبرت حاصل کرنا واجب ہے انہوں نے اس آیت اور اس کی مثل دیگر آیات سے استدلال کیا ہے مثلا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل انظروا ما فی السموت والارض (یونس : 101) ( فرمائیے غور سے دیکھو ! کیا کیا ( عجائبات) ہیں آسمانوں اور زمین میں) آیت : افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بنینٰھا (ق :: 6) کیا انہوں نے نہیں دیکھا آسمان کی طرف جو ان کے اوپر ہے ہن نے اسے کس طرح بنایا ہے۔ آیت : افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت الایہ (الغاشیہ) ( کیا یہ لوگ ( غور سے) اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے ( عجیب طرح) پیدا کیا گیا ہے) آیت : وفی انفسکم افلا تبصرون (الذاریات) ( اور تمہارے وجود میں بھی ( نشانیاں ہیں) کیا تمہیں نظر نہیں آتیں) انہوں نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے نظرو فکر نہ کرنے والوں کی مذمت بیان کی ہے اور ان کے اپنے حواس سے نفع اٹھانے کو سلب کرلیا ہے پس ارشاد ربانی ہے : آیت : لھم قلوب لا یفقھون بھا الاٰہ ( الاعراف : 179) ( ان کے دل ( تو) ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں ان سے) علماء نے اس بارے اختلاف کیا ہے کہ واجبات میں سے پہلا واجب کیا ہے، کیا وہ نظروفکر کرنا اور استدلال کرنا ہے یا وہ ایمان ہے جو دل میں حاصل ہونے والی تصدیق ہے اور اس کے صحیح ہونے کے لیے معرفت شرط نہیں ؟ تو قاضی وغیرہ نے یہ کہ ہے کہ اول الواجبات نظرو فکر اور استدلال کرنا ہے، کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو بداہۃ نہیں جانا جاسکتا، بلکہ اس کا علم نظروفکر کرنے اور ان دلائل سے استدلال کرنے سے ہوتا ہے جو اس نے اس نے اپنی معرفت اور پہچان کے لیے قائم کیے ہیں۔ یہی موقف امام بخاری (رح) نے اپنایا ہے اس طرح کہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ بات باندھا ہے ( باب العلم قبل القول والعمل لقول اللہ عزوجل : فاعلم انہ لا الہ الا اللہ) قاضی نے کہا ہے : جو کوئی اللہ تعالیٰ کے بارے نہیں جانتا تو وہ جاہل ہے اور جو اس کے بارے جاہل ہے وہ کافر ہے۔ ابن رشد نے اپنے مقدمات میں کہا ہے : یہ بین نہیں ہے، کیونکہ ایمان اس یقین کے ساتھ صحیح ہوتا ہے جو اسے حاصل ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تقلید کے سبب ہدایت عطا فرمائی اور پہلے مرحلہ میں اعتبار اس کا ہے جس کے اعتبار کی طرف اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی آیت کے رہنمائی فرمائی۔ فرمایا : جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اول الواجبات نظرواستدلال ہے ان کے خلاف علامہ الباجی (رح) نے اس سے استدلال کیا ہے کہ تمام زمانوں میں عوام الناس اور مقلدین کا نام مومنین رکھنے پر تمام مسلمانوں کا اجماع رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا : اگر وہ صحیح ہے جس کی طرف نظر و استدلال والے لوگ گئے ہیں تو پھر مومن صرف اسے ہی کہا جائے جس کے پاس نظر و استدلال کے سبب علم ہو۔ اور میزید یہ کہا ہے : اگر ایمان صحیح نہ مگر نظر و استدلال کے بعد تو پھر کفار کے لیے جائز ہے کہ جب مسلمان ان پر غالب آئیں تو وہ ان سے کہیں : تمہارے لیے ہمیں قتل کرنا حلال نہیں ہے، کیونکہ تمہارے دین میں سے یہ ہے کہ ایمان صحیح نہیں ہوتا مگر نظر وفکر اور استدلال کے بعد، پس تم ہمیں مہلت دو تاکہ ہم غور وفکر کریں اور دلائل حاصل کرسکیں۔ علامہ نے فرمایا : یہ شے انہیں ان کے کفر پر ہی چھوڑنے کی طرف پہنچانے والی ہے اور یہ کہ انہیں قتل نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ غوروفکر کرلیں اور استدلال کرلیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں یہی صحیح ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کا قتال کروں یہاں تک کہ وہ کہنے لگیں : لا الہ الا اللہ اور وہ ایمان لائیں میرے ساتھ اور اس دین کے ساتھ جو میں لے کر آیا ہوں، پس جب انہوں نے ایسا کرلیا توا نہوں نے اپنے خون اورا پنے اموال مجھ سے محفوظ کرلیے سوائے حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے “۔ ابن منذرنے ” کتاب الاشراف “ میں ایمان کامل کی صفات ذکر کی ہیں اہل علم میں سے جو کوئی اسے یاد رکھتا ہے ان تمام کا اس پر اجماع ہے کہ کافر جب کہے اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ اور یہ کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو لے کر آئے وہ حق ہے اور میں ہر اس دین سے اظہار برات کرتا ہوں جو دین اسلام کے مخالف ہے، درآنحالیکہ وہ بالغ اور صحیح العقل ہو بلاشبہ وہ مسلمان ہے۔ اور اگر اس کے بعد وہ رجوع کرلے اور کفر ظاہر کرے تو وہ مرتد ہوگا اور اس پر وہ سزا واجب ہوگی جو مرتد پر واجب ہوتی ہے۔ ابوحفص زنجانی نے کہا ہے : ہمارے شیخ قاضی ابو جعفر احمد بن محمد سمنانی (رح) کہتے ہیں : اول الواجبات اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ﷺ اور اس دین کے ساتھ ایمان لانا ہے جو آپ ﷺ لے کر آئے، بعد ازاں نظر و استدلال دونوں اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچانے والے ہیں، پس آپ کے نزدیک ایمان باللہ کا وجوب معرفت باللہ پر مقدم ہے۔ فرمایا : یہ صواب کے زیادہ قریب ہے اور مخلوق کے لیے زیادہ مفید ہے، کیونکہ ان میں سے اکثر معرفت اور نظرواستدلال کی حقیقت کو جانتے ہی نہیں پس اگر ہم کہیں : اول الوجبات اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے تو یہ یقینا ایک جم غفیر اور کثیر تعداد کی تکفیر تک پہنچا دے گا اور یہ کہ پھر اکا دکا لوگوں کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا اور یہ انتہائی بعید ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یقین دلایا ہے کہ اہل جنت میں سب سے زیادہ آپ کی امت ہوگی۔ اور یہ کہ تمام کے تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات کی امتیں ایک صف ہوں گی اور آپ ﷺ کی امت اسی صفیں ہوگی۔ اور یہ اتنا بین اور واضح ہے کہ اس میں کوئی اشکال نہیں۔ والحمد للہ مسئلہ نمبر 3۔ متکلمین میں سے بعض متاخرین اور متقدمین نے یہ کہا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو ان طرق سے نہ پہچانا جو انہوں نے معرفت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور ان ابحاث سے نہ پہچانا جو انہوں نے تحریر کیے ہیں تو اس کا ایمان صحیح نہیں اور وہ کافر ہے۔ تو اس بنا پر تو اکثر مسلمانوں کی تکفیر لازم آتی ہے اور سب سے اول جس سے تکفیر کی ابتدا کی جائے گی وہ اس کے اپنے آبائ، اسلاف اور پڑوسی ہوں گے۔ اور بعج کے بارے میں تو یہ کہا گیا ہے کہ اس نے کہا : مجھے اہل نار کی کثرت کے سبب برا بھلا نہ کہہ۔ اوکما قال میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ قول صادر نہیں ہو سکتا مگر اسی سے جو کتاب اللہ اور اپنے نبی ﷺ کی سنت سے جاہل ہو، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو متکلمین کی ایک قلیل سے جماعت پر محصور کردیا ہے اور انہوں نے عام مسلمانون کی تکفری کی مشقت کی ہے۔ یہ اس اعرابی کے قول سے کہاں ثابت ہے جس نے پیشاب کرنے کے لیے اپنی شرمگاہ کو کھولا۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب نے اسے جھڑکا : اللھم ارحمنی ومحمدا ولاترحم معنا احدا (اے اللہ ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر) تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لقد حجرت واسعا ( صحیح بخاری، کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 889) ( تحقیق تو نے وسیع (رحمت) کو محدود کردیا ہے) اسے امام بخاری، ترمذی اور دیگر آئمہ نے روایت کیا ہے۔ کیا آپ اس اعرابی کے بارے جانتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو دلیل وبرہان اور حجت وبیان کے ساتھ پہچان لیا تھا ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہر شے سے وسیع ہے اور اس کی مثل اور کتنے ہوں گے جن کے لیے ایمان کا حکم لگایا گیا، بلکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے تو اس بارے بہت سے لوگوں کے بارے صرف اس پر اکتفا کیا کہ وہ شہادتین پڑھنے کے سبب اسلام لائے، حتی کہ آپ نے اس میں اشارے پر بھی اکتفا کیا۔ کیا تم جانتے نہیں ہو جب آپ نے سوداء کو کہا تھا : ” اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ “۔ اس نے جواب دیا : آسمان میں۔ آپ ﷺ نے پوچھا : ” میں کون ہوں ؟ “۔ اس نے کہا : آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اعتقھافانھا مومنۃ ( تو اسے آزاد کر دے بلاشبہ یہ مومنہ ہے) یہاں نظرواستدلال تو نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے پہلے ہی مرحلہ میں ان کے ایمان کا حکم لگا دیا، اگرچہ وہاں نظر ومعرفت سے غفلت تھی۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 4 : امرد ( بےریش نابالغ بچہ) اور عورتوں میں سے حسینوں کے چہروں میں دیکھنا اور غور وفکر کرنا بھی جائز نہیں۔ علامہ ابو الفرج جوزی (رح) نے کہا ہے : ابو طیب طاہر بن عبداللہ طبری نے کہا ہے مجھے اس گروہ کی جانب سے یہ خبر پہنچی ہے جو سماع سنتا ہے کہ وہ امرد کے چہرے کی طرف کثرت سے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات اسے زیور اور رنگ دار کپڑوں کے ساتھ آراستہ اور مزین کرے ہیں اور وہ گمان یہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے ایمان میں زیادتی کا قصد کرتے ہیں نظروفکر کے ذریعے اور صنعت سے صانع پر استدلال کرتے ہیں۔ یہ خواہش نفس کی پیروی کرنے، عقل کو دھوکہ دینے اور علم کی مخالفت کرنے کی انتہا ہے۔ ابو الفرج نے کہا ہے : امام ابو الوفاء بن عقیل نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے دیکھنا حلال نہیں کیا مگر صرف اس صورت میں جس کی طرف نفس کا میلان نہ ہو، اس میں ہواء وہوس کا حصنہ نہ ہو، بلکہ اس میں ایسی عورت ہو جس میں شہوت کی آمیزش نہ ہو۔ اور نہ اس کے ساتھ لذات کی ملاوٹ ہو، یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کسی عورت کو رسول بنا کر مبعوث نہیں فرمایا اور نہ ہی کسی کو قاضی، امام اور موذن بنایا، یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ عورت شہوت اور فتنہ کا محل ہے۔ پس جس نے کہا : میں حسین و جمیل صورت سے نصیحت پکڑتا ہوں تو ہم اس کی تکذیب کریں گے۔ اور ہر وہ جس نے اپنے آپ کو ایسی فطرت اور طبیعت کے ساتھ ممتاز کیا جو اسے ہماری طبائع سے نکال دے تو ہم اس کی تکذیب کریں گے، بلاشبہ یہ ان کے لیے شیطان کے دھوکے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ اور بعض حکماء نے کہا ہے : عالم کبیر کی ہر شے کی نظیر عالم صغیر میں ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (التین) ( بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ( عقل وشکل کے اعتبار سے) بہترین اعتدال پر) اور میزدی یہ فرمایا : آیت : وفی انفسکم افلا تبصرون ( الذاریات) ( اور تمہارے وجود میں بھی ( نشانیاں ہیں) کیا تمہیں نظر نہیں آتیں) ہم نے وجہ تمثیل سورة الانعام کے اول میں بیان کردی ہے۔ پس صاحب عقل پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات کی طرف دیکھے اور اپنی خلقت میں اس وقت سے غور وفکر کرے جب کہ وہ ٹپکنے والے پانی سے لے کر خلقا سویا کے مقام تک پہنچا، اسے غذائیں مہیا کی جاتی ہیں، نرمی کے ساتھ اس کی تربیت کی جاتی ہے اور انتہائی ملائمت کے ساتھ اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ قوت اور طاقت حاصل کرلیتا ہے اور جوانی وبلوغت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اور جب وہ اس حال میں ہوتا ہے تو پھر کہتا ہے : میں ہی میں ہوں، اور اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ اس پر ایسا زمانہ بھی آیا ہے جب وہ قابل ذکر شے نہ تھا اور عنقریب وہ قبر میں لوٹ جائے گا۔ پس اس پر افسوس ہے اگر یہ تھکا ماندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین تا قولہ القیمۃ تبعثون ( اور بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے جوہر سے۔ پھر ہم نے رکھا اسے پانی کی بوند بنا کر ایک محفوظ مقام میں۔۔۔ پھر بلاشبہ تمہیں روز قیامت ( قبروں سے) اٹھایا جائے گا) پس وہ دیکھ رہا ہے کہ وہ بندہ ہے جسے پالا گیا ہے، احکام کا مکلف بنایا گیا ہے، اسے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اگر وہ کوتاہی کرے، اسے ثواب کی امید دلائی گئی ہے اگر وہ اطاعت و فرمانبرداری کرے، پس وہ اپنے مولی کی عبادت پر متوجہ رہے ( کیونکہ) اگر وہ اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ ( مولیٰ ) تو اسے دیکھ رہا ہے اور وہ لوگوں سے نہ ڈرے ( کیونکہ) اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ وہ اس سے ڈرے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی پر تکبر نہ کرے، کیونکہ وہ غلاظت اور میل کچیل سے مرکب ہے، وہ جنت کی طرف جانے والا ہے اگر اس نے اطاعت کی یا پھر آتش جہنم کی طرف جانے والا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ہمارے شیوخ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ان حکمت بھرے اشعار میں غوروفکر کرے جو ان علمی اوصاف کے جامع ہیں۔ کیف یزھو من رجیعہ ابد الدھر ضجیعہ فھو منہ والیہ واخوہ ورضیعہ وھو یدعوہ الیہ الحش بصغر فیطیعہ قولہ تعالیٰ : آیت : وما خلق اللہ من شیء یہ اپنے ماقبل پر معطوف ہے، یعنی ان اشیاء میں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں۔ آیت : وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم یعنی ان مقررہ مدتوں میں جن کے بارے امید ہے کہ وہ قریب آگئی ہوں۔ یہ کلام محل جر میں ہے اور اپنے ماقبل پر معطوف ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ اس میں اقترب اجل ( مقررہ میعاد کا قریب آنا) سے مراد غزورہ بدر اور غزوہ احد کے دن ہیں۔ آیت : فبای حدیث بعدہ یومنون یعنی وہ قرآن جو حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ لے کر آئے اس کے بغیر کون سا قرآن ہے جس کی وہ تصدیق کریں گے ؟ اور بعض نے کہا ہے : آیت میں ہا ضمیر کا مرجع اجل ہے، معنی یہ ہوگا مقررہ معیاد آنے کے بعد وہ کون سی بات کے ساتھ ایمان لائیں گے جس وقت ایمان کوئی فائدہ نہ دے گا، کیونکہ آخرت دارالتکلیف نہیں ہے۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

بیان فرمایا کہ ان کے اعراض کی وجہ یہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہ کردیا ہے۔ یہ قدریہ کا رد ہے۔ آیت : ویذرھم فی طغیانھم یہ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ فاء اور اس کے مابعد کے محل پر محمول کرے ہوئے اسے جزم کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ یعمھون یعنی وہ حیرت زدہ رہیں۔ اور بعض نے کہا ہے : وہ متردد ہیں۔ سورة البقرہ کی ابتداء میں پوری بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

آیت نمبر : 187 قولہ تعالیٰ : آیت : یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسٰھا، ایان یہ متی کے مثل زمانے اور وقت کے بارے سوال کے لیے آتا ہے راجز نے کہا ہے : ایان تقضی حاجتی ایان اما تری لنجحھا اوانا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 484) اس میں ایان وقت کے بارے سوال کے لیے ہی ہ۔ یہودی حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا کرتے تھے : اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں قیامت کے بارے بتائیے وہ کب قائم ہوگئی ؟ اور یہ روایت بھی ہے کہ مشرکین نے فرط انکار کی وجہ سے یہ کہا : مرسھا سیبویہ کے نزدیک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور خبر ایان ہے۔ اور یہ ظرف مبنی علی الفتح ہے۔ یہ مبنی ہے کیونکہ اس میں استفہام کا معنی ہے۔ اور مرسھا میم کے ضمہ کے ساتھ ہے، یہ ارساھا اللہ سے ہے یعنی اللہ نے اسے ثابت کردیا، گویا اس کا معنی ہوا متی مثب تھا یعنی اس کا وقوع کب ہوگا ؟ اور میم کے فتحہ کے ساتھ ہو تو یہ رست سے ہے۔ بمعنی ووقفت ( ثابت ہوگئی اور ٹھہر گئی) اور اسی سے وقدرر رسیٰت (سبا : 13) ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ بمعنی ثابتات ہے۔ آیت : قل انما علمھا عند ربی یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی کسی کے لیے اس نے اسے بیان نہیں کیا، تاکہ بندہ ہمیشہ محتاط اور خوفزدہ رہے۔ لا یجلیھا یعنی وہ اسے ظاہر نہیں کرے گا۔ لوقتھا بمعنی فی وقتھا ہے یعنی اپنے وقت میں الا ھو مگر وہی۔ الجلیۃ کا معنی ہے شے کو ظاہر کرنا۔ کہا جاتا ہے : جلالی فلاں الخبر یہ تب کہا جاتا ہے جب وہ خبر ظاہر کر دے اور اس کی وضاحت کر دے۔ اور آیت : ثقلت فی السموت والارض یعنی آسمانوں اور زمین کے باسیوں پر اس کا علم مخفی ہے۔ اور ہر وہ شے جس کا علم مخفی اور پوشیدہ ہو تو وہ دل پر ثقیل اور گراں ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اس کا آنا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں پر گراں ہے۔ یہ حسن وغیرہ سے مروہ ہے۔ ابن جریج اور سدی نے کہا ہے : اس کا واقع ہونا آسمانوں اور زمین کے مکینوں پر بھاری اور عظیم ہوگا۔ حضرت قتادہ (رح) وغیرہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اس کے عظیم اور بھاری ہونے کی وجہ سے آسمان اور زمین ( اسے برداشت کرنے کی) طاقت نہیں رکھیں گے، کیونکہ آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور سمندر بہہ جائیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اس کے بارے سوال کرنا ثقیل اور بھاری ہے۔ آیت : لا تاتیکم الا بغتۃ یعنی یہ تم پر اچانک آئے گی، بغتۃ مصدر ہے حال کے محل میں ہے۔ آیت : یسئلونک کا نک حفی عنھا یعنی وہ آپ سے اس کے بارے کثرت سے سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کے بارے جانتے ہیں۔ ابن فارس نے کہا ہے : الحفی کا معنی ہے کسی شے کے بارے جاننے والا۔ اور الحفی کا معنی ہے : سوال میں انتہا کو پہنچنے والا۔ اعشی نے کہا ہے : فان تسانی عنی فیا رب سائل حفی عن الاعشی بہ حیث اصعدا کہا جانتا ہے : احفی فی المسالۃ وفی الطلب ( یعنی اس نے سوال میں اور طلب میں انتہا کردی) فھو محف وحفی علی التکثیر وہ کثرت میں انتہاء کو پہنچنے والا ہے، مثلا مخصب اور خصیب۔ محمد بن یزید نے کہا ہے : وہ آپ سے پوچھتے ہیں گویا آپ اس کے بارے سوال سے متعلق اصرار کرنے والے ہیں۔ المعنی یسالونک کا نک حفی بالمسالۃ عنھا، ای ملح یہ اس طرف جاتا ہے کہ کلام میں تقدیم وتاخیر نہیں ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : اس میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی یہ ہے : وہ آپ سے اس کے بارے پوچھتے ہیں گویا آپ ان کے ساتھ سلوک کرنے پر مصر ہیں اور ان کے سوال سے خوش ہیں یسالونک عنھا کا نک حفی بھم ای حفی ببرھم وفرح بسوالھم اور یہ اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے : ہمارے اور آپ کے درمیان قرابت اور رشتہ داری ہے تو آپ ہم پر قیامت کے وقت کے بارے راز ظاہر فرما دیجیے۔ آیت : قل انما علمھا عندا للہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون یہ تکرار نہیں ہے، کیونکہ دو علموں میں سے ایک قیامت کے وقوع کے بارے ہے اور دوسرا اس کی حقیقت وماہیت کے بارے ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

آیت نمبر : 188 قولہ تعالیٰ : قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا یعنی میں مالک نہیں ہوں کہ میں اپنی ذات کی طرف خیر اور نفع لا سکوں اور نہ اس کا مالک ہوں کہ اپنے آپ سے شر اور ضرر دور کرسکوں، تو پھر میں قیامت کے علم کا مالک کیسے ہو سکتا ہوں۔ اور بعض نے کہا ہے : میں اپنے آپ کے لیے ہدایت اور ضلال کا مالک نہیں ہوں۔ آیت : الا ماشآء اللہ یہ استثنا کے سبب محل نصب میں ہے۔ اور معنی یہ ہے : مگر جو چاہے اللہ تعالیٰ کہ وہ مجھے اس کا مالک بنا دے اور مجھے قدرت عطا فرما دے۔ سیبویہ نے کہا ہے : مھما شاء بالناس یفعل وہ لوگوں کے بارے جو چاہے وہ کردیتا ہے۔ آیت : ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر اس کا معنی ہے اگر میں اسے جان لیتا جو مجھ سے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس سے پہلے کہ وہ مجھے اس کے بارے آگاہ فرمائے تو میں یقینا اسے کرتا۔ اور بعض نے کہا ہے : اگر میں جان لیتا کب جنگ میں میرے لیے مدد ونصرت آئے گی تو میں یقینا قتال کرتا اور میں مغلوب نہ ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 485) نے کہا ہے : اگر میں قحط سالی کے بارے جان لیتا تو میں یقینا خوشحالی کے زمانہ میں اس کی تیاری کرتا جو مجھے کافی ہو رہتی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر میں اس ( مال) تجارت کے بارے جان لیتا جو ختم ہوجاتا ہے تو میں یقینا اسے اس کی کساد بازاری کے وقت خرید لیتا۔ یہ حسن اور ابن جریج سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر میں ( تعلیم الہٰی کے بغیر) غیب جان لیتا تو میں یقینا ہر اس کے بارے جواب دیتا جس کے بارے مجھ سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہ سب ہی مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ آیت : وما مسنی السوء ان انا الا نذیر وبشیر لقوم یومنون یہ نیا کلام ہے، یعنی مجھے کوئی جنون نہیں ہے، کیونکہ انہوں (کفار مکہ) نے آپ کو مجنون کہا تھا۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ کلام ماقبل کے ساتھ متصل ہے اور معنی یہ ہے اگر میں غیب جان لیتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی اور میں محفوظ رہتا۔ اور اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : ان انا الا نذیر مبین ( الشعرا) ( نہیں ہوں میں مگر ( عذاب سے) صاف صاف ڈرانے والا)
Ayahs 7:189–190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

آیت نمبر : 189۔ 190 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبرا : قولہ تعالیٰ : آیت : ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ جمہور مفسرین نے کہا ہے : اس میں نفس واحد ( ایک نفس) سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ آیت : وجعل منھا زوجھا) اور بنایا اس نے جوڑا) یعنی حواء (علیہا السلام) سے۔ آیت : لیسکن الیھا تاکہ وہ اس سے انس حاصل کریں اور اطمینان پائیں اور یہ سب جنت میں ہوا۔ پھر دوسری حالت کا آغاز ہوا جو ان دونوں کے زمین پر اترنے کے بعد دنیا میں پیش آئی۔ پس فرمایا : آیت : فلما تغشھا یہ جماع سے کنایہ ہے۔ آیت : حملت حملا خفیفا ہر وہ شے ہے جو پیٹ میں ہو یا درخت کے اوپر ہو تو وہ حمل کہلاتی ہے ( یعنی اس میں حا مفتوح ہے) اور جب وہ (بوجھ) پیٹھ پر ہو یا سر پر تو وہ حمل کہلاتا ہے ( یعنی اس میں حا مکسور ہوتی ہے) یعقوب نے حمل النخلۃ بالکسر بیان کیا ہے۔ اور ابو سعید سیرافی نے کہا ہے : عورت کے حمل کے بارے میں حمل اور رحمل دونوں کہے جاتے ہیں، یہ ایک بار اپنے مخفی اور پوشیدہ ہونے کی وجہ سے عورت کے حمل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور ایک بار اپنے واضح اور ظاہر ہونے کی وجہ سے حمل الدابۃ ( چوپائے کا بوجھ) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اور حمل مصدر بھی ہے جب کوئی کسی پر حملہ کرے تو کہا جاتا ہے : حمل علیہ، یحمل حملا۔ فمرت بہ یعنی پھر وہ منی کے ساتھ چلتی پھرتی رہتی ہے، یعنی اس ہلکے سے حمل کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ وہ فرما رہا ہے : وہ کھڑی ہوتی ہے، بیٹھتی ہے اور ادھر ادھر رہتی ہے، کروٹ بدلتی رہتی ہے اور وہ اپنے حمل کے بوجھل اور بھاری ہونے تک کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ یہ معنی حسن اور مجاہد (رح) وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے فاستمر بھا الحمل (پس اس کے ساتھ حمل قائم رہتا ہے) پس اس میں قلب کیا گیا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ادخلت القلنسوۃ فی راسی ( میں نے ٹوپی سر میں داخل کی) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے فمارت بہ الف اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مار، یمور سے ہے جب کوئی آئے، جائے اور تصرف کرے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور یحییٰ بن یعمر ؓ نے فمرت بہ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ المریۃ سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس بارے میں شک میں پڑجاتی ہے جو اسے لاحق ہوتا ہے کہ کیا یہ حمل ہے یا بیماری ہے ؟ یا اسی طرح کے اور شکوک و شبہات۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فلما اثقلت پھر جب وہ بوجھل ہوجاتی ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : اثمر النخل ( درخت پھل دار ہوگیا) اور بعض نے کہا ہے : جب وہ بوجھ میں داخل ہوجاتی ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : اصبح وامسی ( اس نے صبح کی اور شام کی) دعواللہ ربھما، دعوا میں ضمیر حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء (علیہما السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور یہ اس قول کی بنا پر ہے جو اس آیت کے قصص میں روایت کیا گیا ہے کہ حضرت حواء (علیہما السلام) جب پہلی بار حاملہ ہوئیں تو آپ نے جانتی تھیں کی یہ کیا ہے ؟ اور یہ اس کی قراءت کو تقویت دیتا ہے جس نے فمرت بہ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تو آپ اس سے گھبرا گئیں۔ چناچہ ابلیس نے آپ کی طرف موقع پالیا۔ حضرت کلبی (رح) نے کہا ہے : بیشک ابلیس ایک آدمی کی صورت میں حضرت حواء (علیہما السلام) کے پاس آیا جب آپ پہلے حمل کے ساتھ بوجھل ہوئیں اور کہا : تمہارے پیٹ میں یہ کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نہیں جانتی۔ اس نے کہا : مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں یہ چوپایہ ہو۔ پس آپ نے یہ بات حضرت آدم (علیہ السلام) کو بتائی، تو وہ دونوں اس وجہ سے پریشان رہنے لگے۔ پس وہ (ابلیس) دوبارہ آپ کے پاس گیا اور کہنے گا : وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خاص مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔ پاس اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو تو انسان کو جنم دے گی کیا تو اس کا نام میری نسبت سے رکھے گی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ اس نے کہا : پس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ پس جب آپ نے بچے کو جنم دیا تو وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اس کا نام میرے نام پر رکھو۔ تو آپ نے پوچھا : تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : حارث۔ اگر وہ آپ کو اپنا نام بتاتا تو یقینا آپ اسے پہچان لیتی۔ پس آپ نے بچے کا نام عبد الحارث رکھا۔ اسی طرح ضعیف حدیث سے یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے، یہ ترمذی وغیرہ میں ہے اور اسرائلیات میں کثیر واقعات ہیں جو ثابت نہیں۔ اور کوئی بھی صاحب دل ان کی اعتماد نہیں کرتا۔ بلاشبہ حضرت آدم اور حضرت حواء (علیہما السلام) اگرچہ اس نے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکہ میں مبتلا کیا ہے لیکن مومن ایک بل سے دوبارہ دھوکہ دیا ایک جنت میں دھوکہ دیا اور ( ایک بار) زمین میں دھوکہ دیا “ (صحیح مسلم، کتاب المساجد، جلد 1، صفحہ 204) ۔ اور اس کی تائد سلمی کی قراءت اتشرکون تا کے ساتھ سے کی گئی ہے۔ اور صالحا کا معنی ہے کہ وہ صحت مند اور تندرست بچہ چاہتا ہے۔ آیت : فلما اتھما صالحا جعلا لہ شرکاء فیما اتھما وہ شرک جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہما السلام) کی طرف منسوب ہے اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے اور وہ یہ ہے : مسئلہ نمبر 3۔ مفسرین نے کہا ہے : یہ تسمیہ اور صفت میں شرک تھا، نہ کہ عبادت اور ربوبیت میں۔ اہل معانی نے کہا : بلاشبہ دونوں نے یہ نظریہ اختیار نہیں کیا کہ حار ان دونوں کا رب ہے اس وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحار رکھا ہے، بلکہ یہ قصد کیا کہ حارث بیٹے کی نجات کا سبب ہے اس لیے اس کا نام اس کے نام کے ساتھ رکھا جیسا کہ کوئی آدمی انتہائی عاجزی اور خضوع کی بنا پر اپنے آپ کو عبدضیفہ پکارنے لگے، نہ کہ اس بنا پر کہ ضعیف ( مہمان) اس کا رب ہے، جیسا کہ حاتم نے بھی کہا ہے : وانی لعبد الضیف مادام ثاویا وما فی الا تیک من شیبۃ العبد اور ایک قوم نے کہا ہے : بیشک یہ آدموں کی جنس کی طرف راجع ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے مشرکین کے حال کی وضاحت اور بیان ہے اور یہ وہ ( معنی) ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ پس قول باری تعالیٰ ؛ آیت : جعلا لہ میں مراد مذکر اور مونث کفار ہیں اور اس سے دونوں جنسیں مراد لی گئی ہے۔ اور اس پر لیل فتعلی اللہ عما یشرکون ہے۔ اس میں یشرکان نہیں کہا ہے۔ یہ قول حسن ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آیت : ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وہ ہے جس نے تمہیں ایک شکل سے پیدا کیا ہے۔ آیت : وجعل منھا زوجھا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنا دیا۔ آیت : فلما تغشھا یعنی دونوں جنسوں نے ( جب ایک دوسرے کو ڈھانپ لیا) اس قول کے مطابق آیت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء (علیہما السلام) کا ذکر نہیں ہوگا۔ پس جب اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سالم صحت مند لڑکا عطا فرما دیتا ہے جیسے وہ اس کی خواہش رکھتے ہیں تو پھر وہ دونوں اسے فطرت سے شرک کی طرف پھیر دیتے ہیں، یہ مشرکین کا فعل ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کوئی نومولود بچہ نہیں مگر وہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے “۔ اور ایک روایت میں ہے ” وہ اس ملت پر پیدا کیا جاتا ہے، ( پھر) اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں “۔ عکرمہ نے کہا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) اس کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد تمام مخلوق کے لیے عام قرار دیا ہے۔ حسین بن فضل نے کہا ہے : اہل فکر ونظر کے نزدیک یہ زیادہ عجیب ہے، کیونکہ پہلے قول میں عظائم کو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اہل مدینہ اور حضرت عاصم نے توحید اور مفرد کی بنا پر شرکا پڑھا ہے۔ اور ابو عمرو اور تمام اہل کوفہ نے صیغہ جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ فعلاء کے وزن پر ہے اور شریک کی جمع ہے۔ اخفش سعید نے پہلی قراءت کا انکار کیا ہے۔ اور یہ قراءت صحیح ہے اس سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی جعلا لہ ذا شرک جیسا کہ آیت : وسئل القریۃ ( یوسف : 82) میں ہے پس معنی اس طرف راجع ہوگا کہ انہوں نے اس کے شریک بنا لیے۔ مسئلہ نمبر 4۔ آیت اس پر دلیل ہے کہ حمل امراض میں سے ایک مرض ہے۔ ابن القاسم اور یحییٰ نے مالک سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہے : حمل کی ابتدا آسانی اور سرور ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 820) اور اس کا آخر بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے۔ یہ وہ ہے جو امام مالک (رح) نے کہا ہے : انہ مرض من الامراض قول باری تعالیٰ : آیت : دعواللہ ربھما کا ظاہر اس کی تائید کرتا ہے اور یہ وہ حالت ہے جس کا مشاہدہ حاملہ عورتوں میں کیا جاتا ہے۔ امر کے عظیم ہونے اور خطاب کے شدید ہونے کی وجہ سے ہی اس موت کو شہادت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث طیبہ میں موجود ہے (سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، باب فی فصل من مات فی الطاعون، حدیث نمبر 2704۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور جب یہ ظاہر آیت سے ثابت ہے، تو پھر حاملہ کی حالت افعال میں مریض کی حالت کی مثل ہے۔ علماء امصار کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ مریض کا فعل کسی کو ہبہ اور عطیہ دینے کے بارے اپنے ( مال کے) ثلث ( تہائی حصہ میں جاری ہوتا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : بلاشبہ یہ حاملہ میں آزادی آدمی کی حالت کی مثل جاری ہوگا اور ہا اس سے قبل تو وہ اس طرح نہیں ہوتا۔ اور انہوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حمل ایک عادت ہے اور اس میں غالب گمان سلامتی کا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا ہے : اس طرح اکثر بیماریوں میں غالب گمان سلامتی کا ہوتا ہے اور کبھی وہ مرجاتا ہے جو مریض نہیں ہوتا۔ مسئلہ نمبر 5۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : جس دن سے عورت حاملہ ہوئی اس دن سے جب اس کے چھ مہینے گزر جائیں تو پھر اس کا اپنے مال میں سوائے ثلث کے کوئی فیصلہ کرنا جائز نہیں۔ اور جس نے اپنی بیوی کو طلاق بائد دی درآنحالیکہ وہ حاملہ تھی تو جب اس پر چھ ماہ گزر گئے تو اس نے اس کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے لیے یہ صحیح نہیں، کیونکہ وہ عورت مریضہ ہے اور مریضہ کا نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ مسئلہ نمبر 6۔ یحییٰ نے کہا ہے : میں نے حضرت امام مالک (رح) کو ایسے آدمی کے بارے میں جو قتال میں حاضر ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب وہ جنگ کے لیے صف میں موجود ہو تو پھر اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مال کے تیسرے حصہ کے سوا میں کسی شے کا فیصلہ کرے، بلاشبہ وہ حاملہ عورت اور ایسے مریض کے قائم مقام ہے جس پر اس کی حالت کے سبب ( موت کا) خوف غالب ہوتا ہے۔ اور اسی حکم میں وہ بھی شامل ہے جسے قصاصا قتل کرنے کے لیے قید کیا گیا ہو۔ اس بارے میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی وغیرہ رحمۃ اللہ علیہما نے اختلاف کیا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 821) نے کہا ہے : جب تو بنظر غائر دیکھے تو تجھے اس بارے میں کوئی شک نہ ہوگا کہ قتل کے لیے محبوس آدمی کی حالت مریض کی نسبت زیادہ شدید اور پریشان کن ہوتی ہے اور اس کا انکار نظروفکر میں غفلت کی علامت ہے، کیونکہ دونوں کے نزدیک موت کا سبب موجود ہے۔ جیسا کہ مرض موت کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ فقد رایتموہ وانتم تنظرون ( ال عمران) ( اور تم تو آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو اور تم (آنکھوں سے) مشاہدہ کر رہے ہو) اور روشد طائی نے کہا ہے : یا ایھا الراکب المزجی مطیتہ سائل بنی اسد ما ھذہ الصوت وقل لھم بدروا بالعذر والتمسوا قولا یبرئکم ان انا الموت اور جو اس پر دلالت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آیت : اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر ( الاحزاب : 10) ( جب انہوں نے ہلہ بول دیا تھا تم پر اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی اور جب مارے دہشت کے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے) پس امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کیسے کہتے ہیں کہ شدید ترین حالت بلاشبہ یہ مبارزت ( اور مقابلہ) کہ حالت ہے، درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے مقابل ہونے اور دونوں فریقوں کے ایک دوسرے کے ساتھ قریب ہونے کی اس عظیم حالت کے ساتھ خبر دی ہے جس میں دل نر خروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور ( یہ) اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظن رکھتے اور دلوں کے متزلزل اور ان کے اضطراب میں سے ہے، کیا یہ حالت تو مریض پر دیکھتا ہے یا نہیں ؟ یہ وہ حالت ہے جس میں کوئی انصاف کرنے والا شک نہیں کرسکتا۔ اور یہ اس کے لیے جو اپنے اعتقاد میں ثابت اور پختہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس طرح جہاد کرے جیسے جہاد کا حق ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی آیات ومعجزات کی شہادت سے، پس یہ ہمارے بارے میں کیسے ہو سکتی ہے ؟ مسئلہ نمبر 7۔ ہمارے علماء نے سمندر میں سفر کرنے والے کے بارے میں خوف کے وقت حکم میں اختلاف کیا ہے کہ کہا اس کا حکم صحیح اور تندرست آدمی کے حکم میں ہوگا یا کہ حاملہ کے حکم میں ؟ تو ابن القاسم نے کہا ہے : اس کا حکم صحت مند آدمی کے حکم کی طرح ہے۔ ابن وہب اور اشہب نے کہا ہے : اس کا حکم اس حاملہ کے حکم کی طرح ہے جس کے حمل کی مدت چھ ماہ ہوجائے۔ قاضی ابو محمد نے کہا ہے : ان دونوں کا قول زیادہ عمدہ اور اچھا ہے، کیونکہ وہ اپنے نفس پر خوف کی حالت میں ہے جیسا کہ بوجھ اٹھانے والے ( حالت خوف میں ہوتے ہیں) ۔ ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 821) نے کہا ہے : اب القاسم نے سمندر کا سفر نہیں کیا اور نہ اس نے عود پر کوئی کپڑا دیکھا۔ اور جو چاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یقین رکھنے والے کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور توکل اور تفویض کرنا ثابت ہوتا ہے پس چاہیے کہ وہ سمندر کا سفر کرے۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

آیت نمبر : 191 قولہ تعالیٰ : آیت : ایشرکون مالا یخلق شیا یعنی کیا ہو اس کی عبادت کرتے ہیں جو کسی شے کو تخلیق کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ آیت : وھم یخلقون یعنی بت (خود) پیدا کیے گئے ہیں۔ اور فرمایا یخلقون یہ واو اور نون کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ یہ اعتقس رکھتے تھے کہ بت نقصان اور نفع پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا انہیں الناس ( لوگوں) کے قائم مقام قرار دیا گیا ( اس لیے جمع واو نون کے ساتھ لائی گئی) جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : کل فی فلک یسبحون (الانبیائ) ( سب ( اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں) اور یہ ارشاد ہے : آیت : یایھا النملادخلوا مسکنکم ( النمل : 18) ( اے چیونٹیو ! گھس جاؤ اپنی بلوں میں) آیت : ولا یستطیوون لھم نصرا ولا انفسھم ینصرون یعنی بلاشبہ بت نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ غالب آسکتے ہیں۔
Ayahs 7:192–193

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

آیت نمبر : 192 قولہ تعالیٰ : آیت : وان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم اخفش نے کہا ہے : اگر تم بتوں کو ہدایت کی طرف بلاو تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں گے۔ آیت : سواء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون احمد بن یحییٰ نے کہا ہے : کیونکہ یہ راس الآیہ ہے، مراد یہ ہے کہ فرمایا : ام انتم صامتون اور یہ نہیں فرمایا : ام صمتم اور صامتون اور صمتم سیبویہ کے نزدیک ای ہی معنی میں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اس سے مراد وہ ہیں جن کے بارے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت : لا یتبعوکم کو مشدد اور مخفف دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور بعض اہل لغت نے کہا ہے : اتبعہ جب مخفف ہو تو معنی ہوتا ہے جب کوئی کسی کے پیچھے چلے اور اسے نہ پا سکے۔ اور اتبعہ جب مشدد ہو تو معنی ہوتا ہے جب کوئی کسی کے پیچھے چلے اور اسے پا لے۔