Ayah 7:54آیت نمبر 54
قولہ تعالیٰ : ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ قدرت ایجاد میں منفرد اور یکتا ہے، پس وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔
ستۃ کی اصل سدسۃ ہے، پس انہوں نے دال کو سین میں ادغام کرنے کا ارادہ کیا اور وہ دونوں تا کے مخرج کے قریب مل گئے لہٰذا تا ان دونوں پر غالب آگئی۔ اور اگر چاہے تو کہے : دو سینوں میں سے ایک کو توا سے بدل دیا جائے اور پھر اسے دال میں ادغامکر دیا جائے، کیونکہ تو اس کی تصغیر میں کہتا ہے : سدیسۃ اور اس کی جمع اسد اس آتی ہے اور جمع اوع تصغیر دونوں اسماء کو اپنی اصل کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں : جاء فلان سادساد سادتا ساتا پس جن نے سادتا کہا ہے اس نے سین کو تاء سے بدل دیا ہے۔ اور الیوم سے مراد سورج کے طلوع ہونے سے لے کر اس کے غروب ہونے تک ہے۔ پس اگر سورج نہ ہو تو پھر یوم بھی نہ ہو۔ یہ قشیری نے کہا ہے۔
اور فرمایا : آیت : فی ستۃ ایام کا معنی ہے آخرت کے ایام میں سے چھ دنوں میں، ان میں سے ہر دن ہزار برس کا ہوگا۔ اور یہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی تعظیم بیان کرنے کے لیے ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ چھ دن ایام دنیا میں سے تھے۔ حضرت مجاہد (رح) وغیرہ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 408) نے کہا ہے : ان میں سے پہلا دن اتوار کا دن تھا اور آخر جمعہ کا دن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مدت ذکر فرمائی ہے اگر وہ ایک لحظہ میں ان کی تخلیق کرنا چاہتا تو یقینا ایسا کردیتا۔ کیونکہ وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کے لیے کہتا : کونی ( تو ہوجا) تو وہ ہوجاتا۔ لیکن اس نے یہ ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں کو امور میں نرمی اور تثبت کی تعلیم دے اور تاکہ ملائکہ کے لیے یکے بعد دیگرے اس کی قدرت کا اظہار ہو۔
اور یہ ان کے نزدیک ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ملائکہ کو پیدا فرمایا۔ اور دوسری حکمت یہ ہے کہ اس نے انہیں چھ دنوں میں پیدا فرمایا، کیونکہ اس کے نزدیک ہر شے کی ایک مدت مقرر ہے اور اس نے اس کے ذریعے گنہگاروں کو سزد دینے میں جلدی کرنے کو بھی بیان کیا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک ہر شے کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور یہ اس کے اس قول کی طرح ہے : آیت : آیت : ولقد خلقنا السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب فاصبر علی ما یقولون (ق) ( اور ہم نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کھچ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں۔ اور ہمیں تھکن نے چھواتک نہیں، پس آپ صبر فرمائیے ان ( کی دل کھانے والی) باتوں پر)
اس کے بعد فرمایا : آیت : وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا ( ق : 36) ( اور قریش مکہ سے پہلے ہم نے برباد کردیا بہت سی قوموں کو جو شوکت وقوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں)
قولہ تعالیٰ : آیت : ثم استوی علی العرض یہ استواء کا مسئلہ ہے، اس بارے میں علماء کا بہت سا کلام اور جرأت کا اظہار ہے۔
ہم نے اس بارے میں علماء کے اقوال الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی وصفاتہ العلی میں بیان کردیئے ہیں اور وہاں ہم نے چودہ اقوال ذکر کیے ہیں۔ اکثر متقدمین اور متاخرین کی جانب سے یہ ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات جہت اور تحیز سے منزہ اور پاک ہے تو پھر اس کی ضرورت اور اس کے لواحق لازم میں سے یہ بھی ہے کہ عام علماء متقدمین کے نزدیک اور متاکرین میں سے محققین اور قائدین کے نزدیک اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات جہت سے پاک اور منزہ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے اوپر کوئی جہت نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جب اسے جہت کے ساتھ خاص کردیا جائے تو پھر وہ کسی مکان اور حیز میں ہو اور مکان اور حیز تسلیم کرنے پر متحیز کے لیے حرکت، سکون، تغیر اور حدوث ماننا لازم آتا ہے ( اور رب کریم کی ذات ان تمام سے مبرا اور منزہ ہے)
یہ متکلمین کا قول ہے اور دور اول کے اسلاف ؓ جہت کی نفی کے بارے کوئی کلام نہیں کرتے تھے اور نہ اس کے بارے وہ بولتے تھے، بلکہ انہوں نے یہی بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے اثبات میں وہی کافی ہے جو اس نے اپنی کتاب میں بیان فرمادیا ہے اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور سلف صالح میں سے کسی نے بھی اس انکار نہیں کیا ہے کہ وہ اپنے عرش پر حقیقۃ متمکن ہوا ہے اور اس نے عرش کو اس لیے خاص کیا ہے، کیونکہ وہ اس کی مخلوقات میں سے بہت عظیم ہے، لیکن وہ اس استوا اور تمکن کی کیفیت سے ناواقف ہیں، کیونکہ اس کی حقیقت معلوم نہیں۔
امام مالک (رح) نے فرمایا ہے : لغت میں استوا معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت مجہول ہے، لہٰذا اس کے بارے سوال کرتا بدعت ہے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا ہے۔ اور اتنی مقدار کافی ہے اور جو اس سے زیادہ کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ علماء کی کتب سے اس مقام کو مطالعہ کرے۔ اور کلام عرب میں استوا کا معنی بلندی اور استقرار ہے۔ جوہری نے کہا ہے : استوی من اعوجاج ( وہ ٹیڑھا ہونے سے بچ گیا، سیدھا ہوگیا) استوی ظھر دابتہ ( وہ اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گیا) استوی الی السماء اس نے آسمان کا قصد کیا۔ اور استوی بمعنی استولی وظھر ( والی بننا اور غالب آنا) ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے :
قد استوی بشر علی العراق من غیر سیف ودم مھراق (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 229 )
تحقیق بشر نے عراق پر قبضہ جما لیا تلوار چلائے اور خون بہائے بغیر۔
اور استوی الرجل کا معنی ہے آدمی کی جوانی انتہا کو پہنچ گئی۔ استوی الشی کا معنی ہے شے معتدل اور سیدھی ہوگئی۔ ابو عمر بن عبدالبر نے ابو عبیدہ سے قول باری تعالیٰ : آیت : الرحمن علی العرش استوی (طہ) کے بارے نقل کیا ہے کہ اس کا معنی ہے ور عرش پر بلند ہوا۔ اور شاعر نے کہا ہے :
فاوردتھم ماء بفیفاء قفرۃ وقد حلق النجم الیمانی فاستوی
اس میں استوی بلند ہونے کے معنی میں ہے بمعنی علاوارتفع۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : پس اللہ تعالیٰ کی بلندی اور ارتفاع اس کی عظمت و بزرگی، اس کی صفات اور بادشاہی کی بلندی اور فعت سے عبارت ہے، یعنی اس سے اوپر کوئی نہیں ہے جس کے لیے عظمت و جلال کے ان معانی میں سے کوئی ایک ثابت ہو اور نہ ہی کوئی اور اس کے ساتھ ہے کہ اس کے اور اس کے مابین یہ رفعت و بلندی مشرت کہو، بلکہ یہ عظمت و رفعت اور بلندی بالاطلاق اللہ تعالیٰ سبحانہ کی ذات کے لیے ہے ( اور کوئی دوسرا کسی اعتبار سے اس کے ساتھ شریک نہیں ہے) ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : علی العرش یہ لفظ مشترک ہے ایک سے زیادہ معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔ علامہ جوہری وغیرہ نے کہا ہے : عرس کا معنی سریر الملک ( بادشاہ کا تخت) ہے قرآن کریم میں ہے آیت : نکروا لھا عرشھا (النمل : 41) ( شکل بدل دو اس کے لیے اس کے تخت کی) آیت : ورفع ابویہ علی العرش (یوسف : 100) ( اور جب شاہی دربار میں پہنچے تو آپ نے اوپر بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر) اور عرش کا معنی سقف البیت ( مکان کی چھت) ہے۔ اور عرش القد مکامعنی ہے قدم کی پشت کا بلند حصہ اور اس میں انگلیاں بھی ہیں۔ عرش لسماک : چار چھوٹے ستاروں جو عواء ( چاند کی منازل میں سے ایک منزل ہے) کے نیچے ہیں، کہا جاتا ہے : انھا عجزا لاسد ( بیشک وہ اسد کی دم ہے) اور عرش البئر کا معنی ہے کنویں کو لکڑی کے ساتھ بنانا، اس کے بعد کہ اسے نیچے قد آدم کی مقدار پتھر سے بنا لیا جائے تو وہ لکڑی جس سے اوپر کا حصہ بنایا جاتا ہے وہ عرش کہلاتی ہے، اس کی جمع عروش آتی ہے اور عرش مکہ مکرمہ کا نام بھی ہے اور عرش کا معنی ملک اور سلطنت بھی ہے۔ کہا جاتا ہے مثل عرش فلان جب اس کا ملک، سلطنت اور اس کی عزت جاتی رہے ( چھن جائے) ۔
زہیر نے کہا :
تدارکتما عبسا عقد ثل عرشھا وذبیان اذ زلت باقد امھا النعل
اور کبھی آیت میں عرش کی تاویل ملک کے معنی سے کی جاتی ہے، یعنی کوئی بادشاہی اور ملک مستحکم اور مضبوط نہیں مگر وہ جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ وعزاسمہ کی ہے۔ اور یہ اچھا قول ہے اور اس میں بھی نظر ہے۔ ہم نے اس کے بارے جملہ اقوال اپنی کتاب میں بیان کردیئے ہیں۔ والحمد للہ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : یغشی الیل النھار یعنی وہ اسے ( رات کو) پردے کی طرح بنا دیتا ہے، یعنی دن کی روشنی ختم ہوجاتی ہے ( چلی جاتی ہے) تاکہ رات کے آنے سے دنیا میں زندگی کو قائم رکھنا مکمل ہوجائے، پس رات آرام اور سکون کے لیے ہے اور دن کاروبار حیات کے لیے۔ اور اسے یغشی تشدید کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور اس کی مثل سورة رعد میں ہے۔ اور یہ ابوبکر کی عاصم، حمزہ اور کسائی سے قراءت ہے۔ اور باقیوں نے تخفیف کی ہے۔ اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں اغشی اور غشی اور تمام نے فغشاھا ما غشی کے متشدد ہونے پر اجماع کیا ہے۔ اور فاغشینھم ( یسین : 9) پر بھی تمام کا اجماع ہے پس یہ دونوں قرائتیں مساوی ہیں اور تشدید میں تکریر اور تکثیر کا معنی پایا جاتا ہے اور تغشیۃ اور اغشاء کا معنی ہے : ایک شی کا دوسری شے کو ڈھانپ دینا، چھپا دینا اور اس آیت میں رات پر دن کے داخل ہونے کا ذکر نہیں کیا، بلکہ دو میں سے ایک پر اکتفا کیا گیا ہے، جیسے آیت : سرابیل تقیکم الحر ( النحل : 81) (ایسے لباس جو بچاتے ہیں تمہیں گرمی سے) اور آیت : بیدک الخیر ( آل عمران : 26) ( تیرے ہی ہاتھ میں ہے ساری بھلائی) میں ہے۔
اور حمید بن قیس نے آیت : یغشی الیل النھار پڑھا ہے اور اس کا معنی ہے بیشک دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ آیت : یطلبہ حثیثا یعنی وہ اسے ہمیشہ طلب کرتا ہے بغیر کسی فتور اور سکون کے۔ اور آیت : یغشی الیل النھار حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور تقدیر کلام ہے : استوی علی العرش مغشیا اللیل النھار ( وہ عرش پر اپنی شان کے مطابق متمکن ہوا درآنحالیکہ وہ رات سے دن کو ڈھانکتا ہے) اور اسی طرح آیت : یطلبہ حثیثا بھی اللیل سے حال ہے، یعنی یغشی اللیل النھار طالبالہ ( رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اسے تیزی سے طلب کرتے ہوئے)
اور یہ احتمال بھی ہے کہ جملہ مستانفہ ہو حال نہ ہو اور حثیثا طالب المقدر سے بدل ہو یا اس کی صفت ہو یا مصدر محذوف کی صفت ہو، یعنی یطلبہ طلبا سریعا اور الحث کا معنی ہوتا ہے : بہت جلدی کرنا اور تیزی کرنا۔ اور دلی حثیثا ای برعا ( یعنی وہ تیزی سے واپس بھاگا) ۔
آیت : والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ اخفش نے کہا ہے : اس کا عطف السموات پر ہے، یعنی وخلق الشمس ( اور اس نے سورج، چاند اور ستاروں کو تخلیق فرمایا وہ سب اس کے حکم کے پابند ہیں) اور حضرت عبداللہ بن عامر (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 482) سے ان تمام میں رفع مروی ہے اس بنا پر کہ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔
قولہ تعالیٰ : آیت : الا لہ الخلق والامر اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔
اللہ تعالیٰ اپنی خبر میں سچا ہے، پس اسی کے لیے خاص ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، اس نے انہیں تخلیق فرمایا ہے اور انہیں اس کے بارے حکم دیا جو پسند فرمایا۔ اور یہ امر نہیں کا تقاضا کرتا ہے۔ ابن عیینہ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 482) نے کہا ہے : اس نے خلق اور امر کے درمیان فرق کیا ہے، پس جس نے ان دونوں کو جمع کیا تو اس نے کفر کیا، پس خلق مخلوق ہے اور امر اس کا وہ کلام ہے۔ جو غیر مخلوق ہے اور وہ اس کا یہ قول ہے : کن (ہو جا)
ارشاد باری تعالیٰ ہے : آیت : انما امرہ اذا اراد شیا ان یقول لہ کن فیکون (یسٰین) ( اس کا حکم، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا ہی ہے کہ وہ فرماتا ہے اس کو ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے) اور خلق اور امر کے الگ الگ اور متفرق ہونے میں اس کے قول کے فاسد ہونے پر بین دلیل موجود ہے جس نے کہا ہے کہ قرآن مخلوق ہے، کیونکہ اگر اس کا وہ کلام جو امر ہے مخلوق ہو تو تحقیق اس نے پھر یہ کہا : الا لہ الخلق والخلق اور یہ کلام سے عاجز آنا، ناپسندیدہ اور ایسا کلام ہے جس میں مدد کی حاجت اور ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسی کلام کرنے سے بلندو برتر ہے جس میں کوئی فائدہ اور نفع نہیں۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : آیت : ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ (الروم : 25) ( اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ قائم ہے آسمان اور زمین اس کے حکم سے)
آیت : والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ پس اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ خبر دی ہے کہ مخلوقات اسی کے حکم کے ساتھ قائم ہیں، پس اگر امر بھی مخلوق ہو تو وہ یقینا ایک دوسرے امر کا محتاج ہوگا جس کے ساتھ وہ قائم ہوگا اور پھر وہ امر کا ایک مزید امر محتاج ہوگا یہاں تک کہ اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ اور یہ محال ہے، تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس کا وہ امر جو اس کا کلام ہے وہ قدیم ازلی اور غیر مخلوق ہے، تاکہ اس کے ساتھ مخلوقات کا قیام صحیح ہو سکے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے : آیت : وما خلقنا السموت والارض ومابینھما الا بالحق (الفجر : 85) ( اور نہیں پیدا فرمایا ہم نے آسمانوں اور زمین کو نیز جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ )
اور اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی قول کے ساتھ اور وہ اس کا وہ قول ہے جو اس نے چیزوں کے موجود ہونے کے لیے فرمایا ہے یعنی کن ( تو ہوجا) پس اگر حق بھی مخلوق ہو تو پھر یہ صحیح نہیں کہ وہ اس کے ساتھ مخلوقات کو پیدا کرے، کیونکہ خلق مخلوق کے ساتھ تخلیق نہیں ہو سکتی۔ اور اس پر یہ ارشادات دلالت کرتے ہیں : آیت : ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین ( الصافات) ( اور ہمارا وعدہ اپنے بندوں کے ساتھ جو رسول ہیں پہلے ہوچکا ہے)
آیت : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون (الانبیاء) ( بلاشبہ وہ لوگ جن کے لیے مقدر ہوچکی ہے ہماری طرف سے بھلائی تو وہی اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے) آیت : ولکن حق القول منی ( السجدہ : 13) ( لیکن یہ بات طے ہوچکی ہے میری طرف سے، یہ سب قدیم میں قول کے مقدم ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ وجود میں ازل کو ثابت کرنا ہے اور ان کے رد کے لیے یہی ایک نکتہ کافی ہے۔
اور ان کے لیے یہ آیات ہیں جن سے انہوں نے اپنے مذہب پر استدلال کیا ہے مثلا قول باری تعالیٰ ہے : آیت : ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث الایہ ( الانبیاء : 2) ( نہیں آتی ان کے پاس کوئی تازہ نصیحت ان کے رب کی طرف سے)
اور اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : وکان امر اللہ قدرا مقدورا (الاحزاب) اور مفعولا اور وہ آیات جو ان کی مثل ہیں ( اور اللہ کا حکم ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو طے پا چکا ہوتا ہے) ؎
قاضی ابوبکر نے کہا ہے : آیت : ما یاتیھم من ذکر ( الانبیاء : 2) کا معنی ہے : حضور نبی کریم ﷺ کی جانب سے جو وعظ و نصیحت اور جو وعدہ تخفیف انہیں ہوتا ہے۔ آیت : الا استمعوہ وھم یلعبون (الانیائ) ( مگر یہ کہ وہ سنتے ہیں اسے اس حال میں کہ وہ ( لہو و) لعب میں ( مگن) ہوتے ہیں، کیونکہ رسل علیہم الصلوٰات والتسلیمات کی نصیحت اور ان کا ڈرانا سبھی ذکر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فذکر انما انت مذکر (الغاشیہ) ( پس آپ انہیں سمجھاتے رہا کریں آپ کا کام تو سمجھانا ہی ہے) اور کہا جاتا ہے : فلان فی مجلس الذکر ( فلاں وعظ ونصیحت کی مجلس میں ہے) اور وکان امرا اللہ قدرا مقدورا (الاحزاب) اور مفعولا کا معنی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کافروں کے لیے اپنی سزا اور انتظام کا اور مومنین کے لیے اپنی مدد ونصرت کا اور جو اس کے بارے فیصلہ فرمایا ہے اور اپنے افعال میں سے جو اس کے لیے مقرر فرمائے ہیں ان کا ارادہ کیا ہے اور اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : حتی اذا جاء امرنا ( ہود : 40) (یہاں تک کہ جب آگیا اس کا حکم)
اور عزوجل نے ارشاد فرمایا : آیت : وما امر فرعون برشید ( ہود) ( اور فرعون کا حکم بالکل غلط تھا) یعنی اس کے مطابق اس کی شان، اس کے افعال اور اس کا طریقہ کار ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے :
لھا امرھا حتی اذا تبوات باخفافھا مرعی تبوا مضجعا
مسئلہ نمبر 2۔
اور جب یہ ثابت اور پختہ ہوگیا تو پھر یہ جان لو کہ امر کسی چے کے ارادہ میں سے نہیں ہے۔ اور معتزلہ کہتے ہیں : امر نفس ارادہ ہی ہے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ وہ کبھی ایسے شے کے بارے حکم دیتا ہے جس کا وہ ارادہ نہیں فرماتا اور اس سے منع فرما دیتا ہے جس کا وہ ارادہ فرماتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا ذبح کرنے کا حکم ارشاد فرمایا لیکن اس کا ارادہ نہیں فرمایا۔ اور اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اپنی امت کے ساتھ مل کر پچاس نمازیں پڑھیں گے، لیکن اللہ تعلیٰ نے اس میں پانچ سے زیادہ کا ارادہ نہیں فرمایا۔ اور کبھی حضرت حمزہ ؓ کی شہادت کا ارادہ فرمایا کہ وہ فرماتا ہے : آیت : ویتخذ منکم شھدآء ( ال عمران : 140) اور کافروں کو آپ قتل کرنے سے منع فرما دیا اور انہیں اس بارے حکم نہیں دیا۔ اس باب میں یہی صحیح اور نفس ہے، پاس اس میں غور کرلو۔
قولہ تعالیٰ : آیت : تبٰرک اللہ رب العلمین تبرک باب تفاعل ہے۔ یہ برکت سے ماخوذ ہے ( زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 164ٍ ) اور اس کا معنی کثرت اور وسعت ہے۔ کہا جاتا ہے : بورک الشی اور بورک فیہ ( شے میں کثرت اور وسعت رکھ دی گئی) یہ ابن عرفہ نے کہا ہے۔
اور ازہری نے کہا ہے : تبرک کا معنی ہے تعالیٰ وتعاظم وارتفع ( اور وہ بلند وبالا اور عظمت وشان والا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اس کے نام سے یمن و برکت حاصل کی جاتی ہے۔ اور آیت : رب العلمین کا معنی سورة الفاتحہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 7:55اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1
قولہ تعالیٰ : آیت : ادعوا ربکم یہ دعا اور اس میں عجز و انکساری کرنے کے بارے امر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ساتھ ایسی صفات کو ملا دیا ہے جو اس کے ساتھ حسین لگتی ہیں اور وہ خشوع اور عجزوانکساری کا اظہار کرنا ہے۔ اور خفیۃ کا معنی ہے وہ راز اور چھپی ہوئی بات جو دل میں ہوتا کہ وہ ریا کاری سے دور اور محفوظ رہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف کی ہے جب ان کے بارے خبر دیتے ہوئے فرمایا : آیت : اذ نادٰی ربہ ندآء خفیا (مریم) ( جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے)
اور اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : خیر الذکر الخفی وخیر الرزق ما یکفی (مسند امام احمد، جلد 1، صفحہ 180) (بہترین ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو (حاجات کے لیے) کافی ہو) ۔ اور یہ پختہ شرعی حکم ہے کہ نیکی کے اعمال میں وہ سر اور راز جس میں کوئی عیب اور نقص نہ ہو اجر کے اعتبار سے جہر سے اعظم اور افضل ہے۔ اور یہ معنی پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ حسن بن ابی الحسن نے کہا ہے : تحقیق ہم نے کئی اقوام کو پایا ہے کہ وہ زمین پر عمل کرنے پر قدرت رکھتے تھے لیکن ان کا وہ عمل ہمیشہ جہرا ہوتا تھا۔ اور مسلمان دعا میں انتہائی کوشش اور عجز و انکساری کرتے ہیں اور ان کی آواز تک نہیں سنی جاتی، بلاشبہ دعا ان کے درمیان اور ان کے رب کے درمیان ایک سرگوشی ہوتی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آیت : ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ۔ اور عبد صالح کا ذکر کیا ہے، اس کے عمل کو پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا : آیت : اذ نادی ربہ ندآء خفیا (مریم) اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے اصحاب نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آ میں کو آہستہ ( اور مخفی) کہنا اسے جہرا کہنے سے اولیٰ اور بہتر ہے، کیونکہ یہ بھی ایک دعا ہے۔ اور سورة الفاتحہ میں اس کے بارے بحث گزرچکی ہے۔
اور مسلم نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : ہم سفر میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ اور یک روایت ہے ایک غزوہ میں تھے۔ پس لوگ بلند آواز تکبیر کہنے لگے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی جب بھی کسی گھاٹی پر بلند ہوتا تو کہتا : لا الہ الا اللہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے نفسوں پر نرمی کرو بیشک تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ اسے جو غائب ہے، بلاشبہ تم اس سے دعا مانگ رہے ہو جو سننے والا ہے، قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے “ (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، جلد 2، صفحہ 364 ) ۔ الحدیث
مسئلہ نمبر 2۔
دعا میں ہاتھ اٹھانے کے بارے علماء نے اختلاف کیا ہے۔ پس ایک گروہ نے اسے مکروہ قرار دیا ہے ان میں سے حضرت جبیر بن معطم، سعید بن مسیب اور حضرت سعید بن جبیر ہیں۔ اور حضرت شریح نے ایک آدمی کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کون انہیں پکڑے گا ؟ تیری ماں تو ہے نہیں ! اور حضرت مسروق نے ایک قوم کو کہا جنہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے : اللہ انہیں توڑ دے۔ اور انہوں نے یہ پسند کیا کہ جب آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کے بارے دعا مانگے تو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے۔ اور وہ کہتے : یہی اخلاص ہے۔ اور حضرت قتادہ اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ بلند نہ کرتے تھے۔ اور حضرت عطای طاؤس اور حضرت مجاہد (رح) وغیرہ نے ہاتھ اٹھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور صحابہ کرام اوت تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ ہاتھ اٹھانا جائز ہے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے بھی مروی ہے۔ اسے بخاری نے ذکر کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے دعا مانگی اور آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور میں نے آپ ﷺ کی بخلوں کی سفیدی دیکھ لی (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 938) ۔ اور اسی کی مثل حضرت انس ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے اور کہا : ” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس سے برات کا اظہار کرتا ہوں جو خالد نے کیا ہے “ (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 622 ) ۔
اور صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث ہے انہوں نے بیان کیا : جب غزوہ بدر کا دن تھا رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ کرام تین سو سترہ افراد تھے، تو اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے منہ قبلہ شریف کی طرف کیا اور اپنے رب سے گڑگڑ کر دعا مانگنے لگے (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، جلد 2، صفحہ 93) ۔ آگے پوری حدیث ذکر کی۔
اور امام ترمذی نے آپ سے روایت کیا ہے : کان رسول اللہ ﷺ اذا رفع یدیہ لم یحطھما حتی یمسح بھما وجھہ (جامع ترمذی، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 174) اما ترمذی نے کہا : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ اور ابن ماجہ نے حضرت سلیمان ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ان ربکم حی کریم یستحی من عبدہ ان یرفع یدیہ الیہ فیردھما صفرا (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعائ، جلد 1، صفحہ 284) (اوقال) خائبتین ( بیشک تمہارا رب بڑا حیادار اور سخی ہے وہ اپنے بندے سے حیا محسوس کرتا ہے جو اس کی بارگاہ میں اپنے ہاتھ بلند کرے اور وہ انہیں خالی واپس لوٹا دے ( یا فرمایا) وہ انہیں ناکام واپس کردے)
پہلے گروہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے مسلم نے عمارہ بن رویبہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ب شر بن مروان کو منبر پر اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کا برا کرے۔ تحقیق میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کے ساتھ اسی طرح زائد کہتے تھے۔ اور پھر انہوں نے اپنی مسبھ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا (صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 287) ۔ اور جو روایت سعید بن ابی عروبہ نے حضرت قتادہ سے روایت کی ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے انہیں حدیث بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سوائے بارش کی دعا کے کسی شے کے بارے دعا کرتے وقت اپنے ہاتھ بلند نہ کرتے تھے اور آپ بارش کی دعا کے وقت انہیں اتنا بلند کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگتی (صحیح مسلم، صلوٰۃ الاستقاء، جلد 1، صفحہ 293) ۔ پہلی حدیث سعید بن ابی عروبہ کی حدیث سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور زیادہ ثابت ہے، کیونکہ آخر عمر میں حضرت سعید کی عقل مختل ہوگئی تھی۔ تحقیق حضرت شعبہ نے جو روایت قتادہ عن انس بن مالک سے بیان کی ہے اس میں انہوں نے سعید کی مخالفت کی ہے او اس میں کہا ہے : رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی (سنن نسائی الاستقائ، جلد 1، صفحہ 244 ) ۔ اور تحقیق یہ بھی کہا گیا ہے : جب مسلمانوں پر کوئی آفت اور مصیبت نازل ہو تو اس وقت ہاتھ اٹھانا انتہائی جمیل اور حسین ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے طلب بارش کے وقت اور غزوہ بدر کے دن کیا۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : دعا مانگنا اچھا ہے جس حالت میں آسان اور میسر ہو، محل فقر کے اظہار کے لیے، رب کریم کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے کے لیے اور اس کی بارگاہ میں عجز و انکساری اور خشوع و خضوع کے اظہار کے لیے انسان سے یہی مطلوب ہے، پس اگر چاہے تو وہ منہ قبلہ شریف کی طرف کرے اور اپنے ہاتھ بلند کرے تو یہ بہت اچھا ہے اور اگر چاہے تو ایسانہ کرے۔ تحقیق حضور نبی کریم ﷺ نے اس طرح کیا ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ اور اس سے ہاتھ اٹھانے وغیرہ کی صفت اور حالت کا ارادہ نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا : آیت : الذین یذکرون اللہ قیٰما وقعودا ( آل عمران : 191) ( وہ عقلمند جو یاد کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے) پس اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح اور تعریف بیان فرمائی ہے اور مذکورہ حالت کے سوا کسی حالت کی شرط نہیں لگائی۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ نے جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں دعا فرمائی درآنحالیکہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک قبلہ سمت نہ تھا۔
مسئلہ نمبر 3
قولہ تعالیٰ : آیت : انہ لا یحب المعتدین مراد یہ ہے کہ دعا میں حد سے بڑھنے والوں کو اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا اگرچہ لفظ عام ہیں۔ ( اسی طرف یہ اشارہ ہے) اور معتدی وہ ہوتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا ہو اور ممنوع کا ارتکاب کرنے والا ہو۔ اور کبھی وہ اس شی کے اعتبار سے فضیلت کا دعوی کرنے لگتا ہے جس میں وہ حد سے تجاوز کرتا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صٖفحہ 410) ۔
اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : سیکون قوم یعتدون فی الدعائ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعائ، جلد 1، صفحہ 283) ( عنقریب ایک قوم ہوگی جو دعا میں حد سے بڑھ جائیں گے) اسے ابن ماجہ نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے۔
عفان، حماد بن سلمہ اور سعید الجریری نے ابو نعامہ سے ہمیں خبر دی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کی دائیں جانب سے قصرا بیض کی التجا کرتا ہوں جب میں اس میں داخل ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا : اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور جہنم سے پناہ مانگ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’ عنقریب ایک قوم ہوگی جو دعا میں حد سے بڑھ جائیں گے “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعائ، جلد 1، صفحہ 283، ) ۔
اور دعا میں حد سے بڑھنا کئی اعتبار سے ہے : ان میں سے ایک ہے بہت زیادہ بلند آواز سے اور چیخ کر دعا مانگنا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 410) ، جیسے پہلے گزر چکا ہے۔ اور ایک یہ ہے کہ انسان اس بارے میں دعا مانگے کہ اس کے لیے نبی کا مقام و مرتبہ ہو یا کسی محال سے کے بارے دعا مانگے اور اسی طرح کی مبالغہ آمیز دعائیں اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ معصیت وغیر کی خواہش رکھتے کے بارے دعا مانگے اور اسی طرح کی مبالغہ آمیز دعائیں اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ معصیت وغیرہ کہ خواہش رکھتے ہوئے دعا مانگے اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ایسی شے کے بارے دعا مانگے جو کتاب و سنت میں نہیں ہے۔ پس وہ انتہائی فقر آمیز الفاظ چنتا ہے اور مسجع کلمات اختیار کرتا ہے درآنحالیکہ وہ انہیں رسالوں میں پاتا ہے ان کی کوئی اصل نہیں ہوتی اور نہ ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، پس وہ انہیں اپنا شعار اور عادت بنا لیتا ہے او وہ ان الفاظ کو چھوڑ دیتا ہے جن کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگی۔ یہ سب چیزیں دعا کی قبولیت کے مانع ہوتی ہیں، جیسے سورة البقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔
Ayah 7:56قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا اس میں ایک مسئلہ ہے :
وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اصلاح کے بعد چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہر فساد سے منع فرمایا ہے چاہے وہ قلیل ہو یا کثیر۔ صحیح اقوال کے مطابق یہ حکم عام ہے۔ اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم چشمے دار پانی بند نہ کرو اور نقصان پہنچانے کے لیے پھل دار درخت نہ کاٹو۔ اور یہ بھی وارد ہے : زمین میں فساد سے دنانیر ختم ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین میں فساد سے حکام کی تجارت منقطع ہوگئی۔ اور علامہ قشیری نے کہا ہے : اس سے مراد ہے اور تم شرک نہ کرو، پس یہ شرک، خون بہانے اور زمین میں ہرج اور فساد برپا کرنے سے نہی ہے اور زمین میں اصلاح کے بعد احکام شریعہ کو لازم پکڑنے کا حکم ہے، بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے رسول بھیج کر اس کی اصلاح فرما دی ہے، ( پس یہ) شرائع کو پختہ کرنا اور حضور نبی رحمت ﷺ کے دین کی وضاحت ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اس قول کے قائل نے عظیم اصلاح کے بعد بہت بڑے فساد کا قصد کیا ہے پس اس نے اسے خاص طور پر ذکر کیا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 411) ۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : رہا وہ جو حضرت ضحاک (رح) نے ذکر کیا ہے تو وہ اپنے عموم پر نہیں ہے، بلاشبہ وہ تب ہے جب اس میں ضرور اور نقصان مومن کا ہو۔ اور اگر اس کا ضرر اور نقصان مشرکین کو پہنچے تو پھر وہ جائز ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے بدر کے کنویں کا پانی بند کیا اور آپ نے کافروں کے درخت کاٹ دیئے۔ قطو الدنانیر کے بارے میں بحث سورة ہود میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔
آیت : وادعوہ خوفا وطمعا یہ اس بارے امر ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 411) کہ انسان انتظار، کواور اللہ تعالیٰ سے امید کی حالت میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ امید اور خوف انسان کے لیے پرندے کے دو پروں کی مثل ہوتے ہیں جو اسے صراط مستقیم میں اٹھائے رکھتے ہیں اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک منفرد ہوجائے تو انسان ہلاک ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم ( الحجر) ( بتا دو میرے بندوں کو کہ میں بلا شبہ بہت بخشنے والا از حد رحم کرنے والا ہوں اور ( یہ بھی بتا دو کہ) میرا عذاب بھی بہت درد ناک ہے۔
خوف کا معنی ہے : الانزعاج لما لا یومن من المضار ( اس شے کے لیے بےقرار اور بےچین ہونا جس کے ضرور اور نقصان سے وہ محفوظ نہ ہو) اور طمع کا معنی ہے : توقع المحبوب ( کسی محبوب اور پسندیدہ شی کی توقع رکھنا) یہ علامہ قشیری نے کہا ہے۔ اور بعض اہل علم نے کہا ہے : مناسب یہ ہے کہ طویل زندگی میں خوف امید پر غالب رہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 411) اور جب موت آجائے تو پھر امید غالب رہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لا یموتن احدکم الا وھو یحسن الظن باللہ (صحیح مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، جلد 2، صفحہ 387) ( تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہو) یہ حدیث صحیح ہے اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین اس میں قریمۃ نہیں کیا، سو اس میں سات وجوہ ہیں : ان میں سے پہلی یہ ہے کہ رحمت اور رحم ایک ہی شے ہے اور یہ عفو اور غفران کے معنی میں ہیں۔ یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور نحاس نے اسے ختیار کیا ہے۔ اور نضر بن شمیل نے کہا ہے : رحمت مصدر ہے اور مصدر کا حق یہ ہے کہ وہ مذکر ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : فمن جآء موعظۃ ( البقرہ : 175) یہ قول زجاج کے قول کے قریب ہے، کیونکہ موعظۃ بمعنی وعظ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت سے احسان کا ارادہ کیا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ جس کی تانیث حقیقی نہ ہو تو اسے مذکر لانا جائز ہوتا ہے، اسے جوہری نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہاں رحمت سے مراد بارش ہے۔ یہ اخفش نے کہا ہے۔ اور کہا : اسے مذکر لانا جائز ہے جیسے بعض مونث کو مذکر ذکر کیا جاتا ہے۔ اور یہ شعر بھی کہا ہے :
فلا مزنۃ ودقت ودقھا ولا ارض ابقل ابقالھا
اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : مکان کی تذکیر کی بنا پر قریب مذکر ذکر کیا گیا ہے، یعنی مکانا قریبا۔ علی بن سلیمان نے کہا ہے : یہ خطا ہے، اگر اس طرح ہوتا جیسے انہوں نے کہا تو پھر قرآن کریم میں قریب منصوب ہوتا، جیسے آپ کہتے ہیں : ان زیدا قریبا منک اور یہ بھی کہا گیا ہے : اسے نسبت کی بنا پر مذکر ذکر کیا گیا ہے، گویا کہ فرمایا : ان رحمۃ اللہ ذات قرب ( بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت قرب والی ہے) جیسے آپ کہتے ہیں : امراۃ طالق وحائض۔ اور فراء نے کہا ہے : جب قریب کا لفظ مسافت کے معنی میں ہو تو اسے مذکر اور مونث دونوں طرح لایا جاتا ہے اور اگر نسب کے معنی میں ہو تو پھر بلا اختلاف مونث لایا جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں : ھذہ المراۃ قریبتی، ای ذات قرابتی اسے جوہری نے ذکر کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ نے فراء سے ذکر کیا ہے : نسب میں کہا جائے گا قریبۃ فلان اور غیر نسب میں تذکیر وتانیث دونوں جائز ہیں۔ کہا جاتا ہے : دارک منا قریب ( تیرا گھر ہمارے قریب ہے) وفلانۃ منا قریب ( اور فلانہ ہمارے قریب ہے) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ومایدریک لعل الساعۃ تکون قریبا ( الاحزاب) ( اور ( اہل سائل) ! ) تو کیا جانے شاید وہ گھری قریب ہی ہو) اور جس نے اس کا استدلال کیا ہے اس نے کہا ہے : اسی طرح کلام عرب بھی ہے، جیسا کہ امرء القیس نے کا کہا ہے :
لہ الویل ان امسی ولا ام ہاشم قریب ولا البسباسۃ ابنۃ یشکرا
زجاج نے کہا ہے : یہ غلطی ہے، کیونکہ مذکر اور مونث کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دونوں اپنے افعال پر جاری ہوں۔
Ayah 7:57قولہ تعالیٰ : آیت : وھوالذی یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ کا عطف قول باری تعالیٰ یغشی الیل النھار پر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں میں سے ایک دوسری شے کا ذکر کیا ہے اور اپنی وحدانیت اور اپنے الہ ہونے کے ثبوت پر دلیل بیان کی ہے۔ اور ریح کے بارے سورة البقرہ میں کلام گزر چکی ہے۔ ریاح جمع کثرت ہے اور ارواح جمع قلت ہے۔
اور ریح کی اصل روح ہے اور جس نے جمع قلت میں اریاح کہا ہے اس نے خطا کی ہے۔ بشرا میں سات قرائتیں ہیں : اہل حرمین اور ابو عمرو نے نون اور شین کے ضمہ کے ساتھ نشرا پڑھا ہے اور یہ نسبت کے معنی کی بنا پر ناشر کی جمع ہے۔ یعنی ذات نشر ( خوشخبری سنانے والی) پس یہ شاھدا اور شھد کی مثل ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ نشور ا کی جمع ہو جیسے رسول کی جمع رسل ہے۔ کہا جاتا ہے : ریح النفور جب ہوا ادھر ادھر سے آئے اور نشور بمعنی منشور ہے، جیسے رکوب بمعنی مرکوب ہے، یعنی وہ وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اس حال میں کہ وہ پھیلی ہوئی ( اور بکھری ہوئی) ہوتی ہیں۔
حسن اور قتادہ نے نون کے ضمہ اور شین کے سکون کے ساتھ نشرا پڑھا ہے اور یہ نشرا سے مخفف کیا گیا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : کتب ورسل۔ اعمش اور حمزہ نے مصدر ہونے کی بنا پر نون کے فتحہ اور شین کے سکون کے ساتھ نشرا پڑھا ہے۔ اس میں اس کے ماقبل کے معنی کا عمل کیا گیا ہے۔ گویا یہ فرمایا : وھو الذی ینشر الریاح نشرا ( اور وہ وہی ہے جو ہواؤں کو اچھی طرح پھیلاتا ہے) نشرت الشی فانتشر ( میں نے شے کو پھیلایا پس وہ پھیل گئی)
گویا کہ ہو لپٹی ہوئی تھی تو اسے ہوا کے چلنے وقت پھیلا دیا گیا) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر ہو اور الریاح سے حال کے محل میں ہو۔ گویا کی فرمایا : یرسل الریاح منشرہ ای محییۃ ( وہ ہواوں کو بھیجتا ہے درآنحالیکہ وہ خوشخبری سنانے والی یعنی زندہ کرنے والی ہوتی ہے) اور یہ انشر اللہ المیت فنشر ( اللہ تعالیٰ نے مردہ کو زندہ کیا پس وہ زندہ ہوگیا) سے ماکوذ ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : اتانا رکضا، ای راکضا ( وہ ہمارے پاس دوڑتے ہوئے آیا) اور یہ بھی کہا گیا کہ نشرا (فتحہ کے ساتھ) اس نشر سے ماخوذ ہے جو طی ( لپیٹنا) کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، گویا کہ ہوا اپنے ساکن ہونے کی حالت میں لپٹی ہوئی شے کی مثل ہے پھر اسے اپنی حالت سے بھیجا جاتا ہے تو وہ کھلنے والی شے کی طرح ہوجاتی ہے اور ابو عبید نے متفرقۃ فی وجوھھا کے معنی کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی ہے، ( یعنی) معنی یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے ادھر ادھر پھیلا دیتا ہے۔
حضرت عاصم (رح) نے اسے با کے ساتھ شین کے سکون اور تنوین کے ساتھ بشرا پڑھا ہے اور یہ بشیر کی جمع ہے، یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی بشارت دیتی ہیں۔ اور اس پر شاہد رب العالمین کا یہ ارشاد ہے : آیت : ومن ایتۃٓ ان یرسل الریاح مبشرات ( الروم : 46) ہے ( اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو ( بارش کا) مژدہ سناتے ہوئے)
شین اصل میں مضموم ہے، لیکن اسے تخفیف کے لیے ساکن کیا گیا ہے جیسے رسل ورسل۔ اور آپ سے با کے فتحہ کے ساتھ بشرا بھی مروی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : بشرا بھی پڑھا جاتا ہے اور بشر، بشرہ یمشرہ بمعنی بشرہ کا مصدر ہے۔ یہ پانچ قرائتیں ہیں۔ محمد الیمانی نے حبلی کے وزن پر بشری پڑھا ہے اور ساتویں قراءت با اور شین کے ضمہ کے ساتھ بشری ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : حتی اذا اقلت سحابا ثقالا السحاب مذکر اور مونث دونوں طرح پڑھا جاتا ہے اور اسی طرح ہر وہ جمع بھی ہے جس کے واحد اور اس کے درمیان ہاہو۔ اس کی صفت واحد کے ساتھ لگانا جائز ہے پس آپ کہیں گے : سحاب ثقیل وثقیلۃ اور معنی یہ ہے : حملت الریح سحابا ثقالا بالماء ( یعنی ہوا نے پانی والے بھاری بادل کو اٹھایا) یعنی اسے اٹھانے کے سبب وہ بوجھل ہوگئی۔ کہا جاتا ہے : اقل فلان الشی یعنی فلاں نے شے اٹھائی۔ سقنہ یعنی ہم بادل کو لے جاتے ہیں۔ لبلد میت ایسے شہر کی طرف جس میں نباتات اور سبزہ وغیرہ نہیں ہوتا۔
کہا جاتا ہے : سقتہ لبلد کذا والی بلد کذا ( میں اسے فلاں فلاں شہر کی طرف لے گیا) اور یہ معنی بھی کیا گیا ہے : لاجل بلد میت ( یعنی ہم اسے ویران شہر کے لیے چلاتے ہیں) یعنی یہ لام اجلیہ ہے۔ اور البلد سے مراد زمین کی ہر جگہ ہے چاہے وہ آباد ہو یا غیر آباد، وہ سکونت س خالی ہو یا اس میں سکونت ہو۔ البلدۃ اور البلد، البلاد اور البلدان کی واحد ہے۔ اور البلد کا معنی الاثر ہے اور اس کی جمع ابلاد ہے۔ شاعر نے کہا ہے :
من بعد ما شمل البلی ابلادھا
اور البلد سے مراد ادحی النعام ( ریت سے شتر مرغ کے انڈے دینے کی جگہ) بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : ھو اذل من بیضۃ البلد، یعنی وہ شتر مرغ کے انڈے سے بھی زیادہ ذلیل ہے جسے وہ چھوڑ دیتا ہے) اور البلدۃ سے مراد زمین ہے۔ کہا جاتا ہے : ھذہ بلدتنا ( یہ ہماری زمین ہے) ۔
جیسے کہا جاتا ہے : بحرتنا اور البلدۃ چاند کی منازل میں سے ایک منزل بھی ہے اور وہ قوس کے چھ ستارے ہیں سال کے سب سے چھوٹے دن میں سورج اس میں اترتا ہے۔ اور البلدۃ کا معنی سینہ بھی ہے، جیسے کہا جاتا ہے : فلان واسع البلدۃ یعنی فلاں وسیع سینے والا ہے، جیسے شاعر نے کہا ہے :
انیخت فالقت بلدۃ فوق بلدہ قلیل بھا الاصوات الابغامھا
شاعر کہہ رہا ہے : اونٹنی بیٹھی تو اس نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا۔ اور البلدۃ ( با کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ) کا معنی دو بھو وں کے درمیان پایا جانا والا فاصلہ اور کشادگی بھی ہے۔ پس یہ دونوں الفاظ مشترکہ میں سے ہیں۔ فانزلنا بہ الماء پھر ہم اس شہر میں پانی اتارتے ہیں، ( یعنی بہ کہ ضمیر کا مرجع البلد ہے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پھر ہم بادل سے پانی اتارتے ہیں ( یعنی ضمیر کا مرجع السحاب ہے) کیونکہ سحاب ( بادل) پانی برسانے کا آلہ اور ذریعہ ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ معنی اس طرح ہو فانزلنا منہ الماء ( یعنی بابمعنی من ہو) جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : یشرب بھا عباد اللہ ( الدھر : 6) یعنی اس میں بھا بمعنی منھا ہے۔
آیت : فاخرجنا بہ من کل الثمرٰت کذلک نخرج الموتیٰ لعلکم تذکرون اس میں کاف محل نصب میں ہے۔ ای مثل ذالک الاخراج نحیی الموتی یعنی ان پھلوں کو نکالنے کی مثل ہم مردوں کو زندہ کریں گے۔ امام بیہقی وغیرہ نے ابو رزین العقیلی (رح) سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ کیسے اٹھائے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی علامت اور نشانی کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” کیا تو اپنی قوم کی وادی سے اس حال میں نہیں گزرا کہ وہ خشک اور قحط زدہ تھی اور پھر تو اس کے پاس سے اس حال میں گزرا کہ وہ سبزے لہر ارہی ہو ؟ “۔ عرض کی : جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : فتلک آیۃ اللہ فی خلقہ پس یہی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کی علامت اور نشانی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ تشبیہ یہ ہے کہ ان کا اپنی قبروں میں احیاء اس بارش کے سبب ہوگا جسے اللہ تعالیٰ ان کی قبور پر برسائے گا تو ان کی قبریں شق ہوجائیں گی، پھر ان کی طرف ارواح لوٹ آئیں گے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث مروی ہے جسے انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے : ” پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا “۔ یا فرمایا :” اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا وہ شبنم کی طرح ہوگی اور اس کے سبب لوگوں کے جسم ظاہر ہوجائیں گے، پھر کہا جائے گا : اے لوگو ! اپنے رب کی طر آؤ۔ وہ ہاں ٹھہر جائیں گے اور اس سے باز پرس کی جائے “۔ آگے حدیث ذکر کی۔ اور ہم نے اسے اپنی کتاب ” التذکرہ “ میں مکمل ذکر کیا ہے۔ والحمد للہ۔ پس یہ بعث ونشور پر دلیل ہے (صحیح مسلم، الفتن والشرط الساعۃ، جلد 2، صفحہ 403) اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی امور لوٹائے جائیں گے۔
Ayah 7:58قولہ تعالیٰ : آیت : والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا یخرج الا نکدا اس میں البلد الطیب سے مراد عمدہ اور زرخیز سر زمین ہے۔ اور خبیث وہ زمین ہے جس کی مٹی میں پتھر یا کانٹے ہوں۔ یہ حسن سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد تشبیہ دینا ہے ( یعنی) اللہ تعالیٰ نے تیز فہم کو عمدہ اور زرخیز سر زمین سے تشبیہ دی ہے اور کند ذہن ( اور کمزور فہم) کو خبیث سے، یہ نحاس سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دلوں کی مثال ہے، پس ایک دل وہ ہے جو وعظ ونصیحت کو قبول کرتا ہے ( وہ طیب اور پاکیزہ ہے) اور ایک فاسق دل ہوتا ہے جو اسے قبول نہیں کرتا ( وہ خبیث ہوتا ہے) یہ قول بھی حسن (رح) نے بیان کیا ہے۔
اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ مومن کی مثال ہے جو اخلاص اور اطاعت شعاری کے ساتھ عمل کرتا ہے اور منافق کی مثال ہے جس میں اخلاص نہیں ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان (صحیح بخاری، کتاب الاذان، جلد 1، صفحہ 89) ہے ! اگر ان میں سے کوئی جان لے کہ وہ موٹی ہڈی یا دو خوبصورت سینگ پائے گا تو وہ یقینا عشاء میں حاضر ہو “۔ نکدا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس سے مراد وہ تنگی ہے جو خیر (خوشحالی) لانے سے مانع اور رکاوٹ ہو، اور یہ ایک تمثیل ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مراد یہ ہے کہ اولاد آدم میں طیب بھی ہیں اور خبیث بھی۔ اور طلحہ (رح) نے اسے الا نکدا پڑھا ہے اور ثقل کی وجہ سے کسرہ کو حذف کردیا ہے۔ ابن القعقاع نے نکدا کاف کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بمعنی ذانکد مصدر ہے۔ جیسے کسی کا قول ہے :
فانما ھی اقبال وادبار
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکدا کا لفظ کاف کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ایک ہی معنی میں ہے جیسا کہ دنف اور دنف اور یہ دو لغتیں ہیں۔ کذلک نصرف الایت یعنی جیسا کہ ہم نے کئی طریقوں سے بیان کیا ہے اور یہی شرک کے بطلان میں جیح اور دلائل ہیں۔ اسی طرح ہم پر اس شے میں علامات اور نشانیاں بیان کرتے ہیں جن کے لوگ محتاج اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔
لقوم یشکرون یہاں شکر کرنے والے کی تخصیص فرمائی کیونکہ اس سے نفع وہی حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 7:59قولہ تعالیٰ : آیت : لقد ارسلنا نوحا الی قومہ فقال یقوم اعبدوا للہ جب یہ بیان کیا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) خالق بھی ہے اور کمال پر قادر بھی تو اس نے کئی امتوں کے قصص اور واقعات بیان کیے اور ان میں کفار کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے والی چیزوں کا ذکر کیا۔ لقد میں لام تاکید کے لیے ہے جو قسم پر متبنہ کرتی ہے۔ اور فا اس معنی پر دلالت کرتی ہے کہ دوسری ( شے) اول کے بعد ہے۔
یٰقوم اس میں منادی مضاف ہے۔ اور اسے اپنے اصل پر رکھتے ہوئے یا قومی پڑھنا بھی جائز ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جو بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خلاؤں کی حرمت کا حکم لے کر زمین پر مبعوث ہوئے نحاس نے کہا ہے : لفظ نوح منصرف ہے، کیونکہ اس میں حروف تین ہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اسے ناح ینوح سے مشتق مان لیا جائے۔ یہ معنی اس کے علاوہ دوسرا مفہوم سورة آل عمران میں گزر چکا ہے لہٰذا اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
حضرت ابن عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 785) نے کہا ہے : مورخین میں سے حسن نے یہ کہا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) آپ سے پہلے تھے۔ اسے وہم ہوا ہے اور اس کے وہم کی صحت پر دلیل صحیح حدیث ہے کہ جب شب معراج حضور نبی رحمت ﷺ کی ملاقات حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) سے ہوئی تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان الفاظ کے ساتھ استقبال کیا : مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح ( خوش آمدید اے صالح بنی اور صالح بیٹے) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کہا : مرحبا بالنبی الصالح الاخ الصالح ( خوش آمدید اے صالح نبی اور صالح بھائی) تو اگر حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے باپ ہوتے تو یقینا اس طرح کہتے : مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح مگر جب انہوں نے الاخ الصالح کہا تو یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) میں جمع اور اکھٹے ہیں، صلوات اللہ علیہم اجمعین۔ اور اس کے بعد کسی منصف کے کلام کی کوئی ضرورت نہیں۔
حضرت قاضی عیاض (رح) نے بیان کیا ہے : اس مقام پر آباء جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی جانب سے جواب ان الفاظ میں آیا ہے : مرحبا بالابن الصالح اور حضرت ادریس (علیہ السلام) نے کہا : بالاخ الصالح جیسا کہ حضرات موسیٰ ، عیسیٰ ، یوسف، ہارون اور حضرت یحییٰ (علیہم السلام) کی جانب سے ذکر کیا گیا ہے اور بالاتفاق ان میں سے کوئی بھی حضور نبی مکرم ﷺ کا باپ نہیں ہے۔ اور مازری نے بیان کیا ہے : تحقیق مورخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ادریش (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد امجد تھے، پس اگر اس پر دلیل قائم بھی ہوجائے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) بھی مبعوث کیے گئے تو پھر بھی ان کا قول صحیح نہیں ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے ہونے کی طرف آپ کی نسبت کرتے ہیں، کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے اس قول کی خبر دی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں جو مبعوث فرمائے گئے اور اگر دلیل قائم نہ ہو تو پہھر وہ جائز ہے جو انہوں نے کہا ہے۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس معنی پر محمول کیا جائے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) نبی غیر مرسل تھے۔
حضرت قاضی عیاض (رح) نے کہا ہے : اس کے درمیان تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ یہ کہا جائے : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت تمام اہل زمین کے لیے مختص تھی، جیسا کہ حدیث میں ہے، جیسا کہ ہمارے نبی مکرم ﷺ ۔ اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی نبوت فقط اپنی قوم کے لیے تھی جیسا کہ حضرت موسیٰ ٰ ، حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت لوط وغیرہم علیہم الصلوات والتسلیمات کی تھی۔ اور بعض نے اس پر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : آیت : وان الیاس لمن المرسلین اذ قال لقومہ الا تتقون ( الصافات) ( اور بیشک الیاس ( علیہ السلام) بھی پیغمبر ون میں سے ہیں ( یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم ڈرتے نہیں ؟
اور یہ قول بھی ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ اور اس طرح بھی پڑھا گیا ہے : سلام علی ادراسین حضرت قاضی عیاض (رح) نے بیان کیا ہے : میں نے ابو الحسن بن بطال کو دیکھا ہے کہ وہ اس طرف گئے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) رسول نہیں تھے کہ وہ اس اعتراض سے محفوظ رہیں۔
اور حضرت ابو ذر الطویل کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) دونوں رسول ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : انہیں اس طرح اکٹھا اور جمع کیا جاسکتا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 416) کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت لوگوں کی اصلاح کے لیے مشہور ہے اور آپ نے انہیں عذاب اور ہلاکت کے خوف سے ایمان پر ابھارا اور برانگیختہ کیا، پس مراد یہ ہے کہ آپ وہ پہلے نبی ہیں جو اس صفت پر مبعوث کیے گئے۔ واللہ اعلم
اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کے وقت ان کی عمر چالیس برس تھی۔ حضرت کلبی (رح) نے کہا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) کے آٹھ سو برس بعد آپ کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : آپ ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو دعوت حق دیتے رہے، جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ پھر آپ طوفان کے بعد ساٹھ برس تک زندہ رہے یہاں تک کہ لوگ زیادہ ہوگئے اوعر ادھر ادھر پھیل گئے۔
وہب نے کہا ہے : حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی اس وقت آپ کی عمر پچاس برس تھی۔ عون بن شداد نے کہا ہے : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اس وقت آپ کی عمر ساڑھے تین سو برس تھی۔ ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں ہے کہ اب تمام مخلوق حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے۔ نقاش نے سلیمان بن ارقم سے انہوں نے زہری سے بیان کیا ہے کہ عرب، فارس، روم، اہل شام اور اہل یمن سام بن نوح کی اولاد سے ہیں۔ سندھ، ہند، زنج، حبشہ، زط، نوبہ اور سیاہ جلدوالے تمام حام بن نوح کی اولاد سے ہیں۔ ترک، بربر، چین سے آگے کے لوگ، یاجوج ماجوج اور صقالیہ تمام کے تمام یافث بن نوح کی اولاد ہیں۔ اس طرح تمام مخلوق حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہے (جامع ترمذی، باب ومن سورة الصافات، حدیث نمبر 3154، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، المحرر والوجیز) ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : مالکم من الہ غیرہ، غیرہ کی قراءت رفع کے ساتھ حضرت نافع، ابو عمرو، عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی قراءت ہے یعنی مالکم الہ غیرہ یہ محلا صفت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر بمعنی الال ہے، یعنی مالکم من الہ الا اللہ۔ ابو عمرو نے کہا ہے : میں نہ خبر کو پہچانتا ہوں اور نہ نصب کو۔ کسائی نے محل کا اعتبار کرتے ہوئے اسے جر کے ساتھ پڑھا ہے اور استثنا کی بنا پر نصب بھی جائز ہے اور یہ زیادہ نہیں ہے، مگر امام کسائی اور فراء نے ہر اس جگہ میں جائز قرار دی ہے جس میں الا اچھا اور حسین لگتا ہے چاہے کلام مکمل ہو یا مکمل نہ ہو، پس ان دونوں نے ما جائنی غیرک کو جائز قرار دیا ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ بعض بنی اسد اور قضاعہ کی لغت ہے۔ اور یہ شعر بیان کی ہے :
لم یمنع الشرب منھا غیر ان ھتفت حمامۃ فی سحوق ذات او قال
امام کسائی نے کہا ہے : جاءنی غیرک حالت ایجاب میں کہنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہاں الا واقع نہیں ہو سکتا۔ اور نحاس نے کہا ہے : بصریوں کے نزدیک غیر پر نصب جائز نہیں ہوتی جب تک کلام مکمل نہ ہو۔ اور یہ ان کے نزدیک قبیح ترین غلطی ہے۔
Ayahs 7:60–62آیت نمبر : 60۔ 61۔ 62
الملا سے مراد قوم کے اشراف اور ان کے رؤساء ہیں۔ اس کا بیان پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور الضلا اور الضلالۃ کا معنی ہے راہ حق سے پھرجانا اور اس سے ہٹ جانا، یعنی بلاشبہ ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمیں ایک خدا کی طرف دعوت دینے میں راہ حق سے پھرے ہوئے ہو۔ ابلغکم یہ تشدید کے ساتھ ہو تو التبلیغ سے ماخوذ ہے۔ اور تخفیف کے ساتھ ہو تو الا بلاغ سے ماخوذ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ہم معنی ہیں اور دو لغتیں ہیں، جیسا کہ کرمہ اور اکرمہ ہیں۔ وانصح لکم یہ النصح سے ہے اور اس کا معنی ہے : معاملات میں نیت کا فساد کی آمیزش سے خالص اور پاک ہونا، بخلاف غش ( ملاوٹ) کے۔
کہا جاتا ہے : نصحتہ ونصحت لہ نصیحۃ ونصاحۃ ونصھا اور یہ لام کے ساتھ زیادہ فصیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وانصح لکم اس کا اسم النصیحۃ ہے۔ النصیح کا معنی ہے الناصح ( نصیحت کرنے والا) اور قوم نصحاء ( نصیت) کرنے والی قوم) اور رجل ناصح الحبیب اس کا معنی ہے صاف دل آدمی۔ اصمعی نے کہا ہے : الناصح کا معنی خالص چاہے شہد ہو یا کوئی اور شے ہو، جیسا کہ الناصع ہے اور ہر شی جو خالص ہو وہ نصح ہے۔ اور انتصح فلان کا معنی ہے فلاں نصیحت کی طرف متوجہ ہوا ( یعنی اس نے نصیحت قبول کی ) ۔ کہا جاتا ہے : انتصحنی اننی لک ناصح ( تو میری نصیحت کی طرف توجہ کر بلاشبہ میں تجھے نصیحت کر رہا ہوں) اور الناصح، خیاط ( درزی) کو بھی کہتے ہیں۔ اور النصاح سے مراد وہ دھاگہ ہے جس کے ساتھ سیا جاتا ہے۔ اور النصاحات سے مراد جلود ( جلدین اور چمڑے) بھی ہیں۔ اعشی نے کہا ہے :
فتری الشرب نشاوی کلھم مثل ما مدت نصاھات الریح
الریح لغوی طور پر الریع کے معنی میں ہے اور یہ اونٹ کا بچہ ہوتا ہے اور الریح پرندہ بھی ہے، اس کے مزید معنی سورة برات میں آئیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔