Ayahs 7:40–41آیت نمبر 40۔ 41
قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء یعنی ان کی ارواح کے لے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسی لیے صحیح احادیث موجود ہیں جو ہم نے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کی ہیں۔
ان میں سے ایک حدیث حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے۔ اس میں کافر کی روح قبض کرنے کا ذکر ہے۔ فرمایا : اس سے ایسی ہوا (بو) خارج ہوتی ہے جو سطح زمین پر پائے جانے والے مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے، پس وہ اسے لے کر اوپر کی جانب چڑھتے ہیں اور ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں : یہ خبیث روح کس کی ہے ؟ تو یہ بتاتے ہیں : فلاں بن فلاں کی۔ اور یہ اس کا وہ قبیح ترین نام لیتے ہیں جس کے ساتھ اسے دنیا میں پکارا جاتا تھا،
یہاں تک کہ اس کے ساتھ آسمان دنیا تک پہنچ کر رک جاتے ہیں اور وہ اسے کھولنے کی درخواست کرتے ہیں لیکن اس کے دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : آیت : لا تفتح لھم ابواب السماء الایہ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے جب وہ دعا مانگیں گے۔ حضرت مجاہد اور نخعی رحمۃ اللہ علیہما نے یہی کہا ہے (تفسیر طبری زیر آیت) ۔ اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، کیونکہ جنت آسمانون میں ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلیل ہے : آیت : ولا یدخلون الجنۃ حتٰی یلج الجمل فی سم الخیاط اور اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہو سکتا پس وہ بھی بالیقین جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔ اور یہ اس پر قطعی دلیل ہے کہ ان کے لیے عفو و درگزر جائز نہیں ہے۔ اور اس پر ان مسلمانوں کا اجماع ہے تو ان پر خطا کا اطلاق کرنا جائز نہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کی۔
قاضی ابوبکر بن طیب نے کہا ہے : اگر کوئی کہنے والا کہے اس امت کا یہ اجماع کیے ہو سکتا ہے ؟ حالانکہ متکلمین کی ایک جماعت نے یہ گمان کیا ہے کہ کافروں میں سے یہود ونصاری اور دیگر کی تقلید کرنے والے دوزخ میں نہیں ہوں گے۔ تو جواب یہ ہے کہ یہ وہ جماعت ہے جنہوں نے اپنے اندر پیدا ہونے والے شبہ کی بنا پر مقلد کا کافر ہونے کا انکار کیا ہے اور ان کا یہ نظریہ ہی نہیں کہ مقلد کافر ہے اور اسی بنا پر کہا ہے کہ وہ جہنم میں نہیں ہوگا اور اس بارے علم کہ مقلد کافر ہے یا نہیں بطریق نظر حاصل ہوتا ہے نہ کہ اس کا انحصار تو قیف اور خبر پر ہے۔
حمزہ اور کسائی نے لا یفتح یا مضومہ کے ساتھ قراءت کی ہے۔ اور یہ جمع کے مذکر ہونے کی بنا پر ہے اور باقیوں نے جماعت کے مونث ہونے کی بنا پر تا کے ساتھ قراءت کی ہے جیسے فرمایا : آیت : مفتحۃ لھم الابواب (ص) پس اسے۔۔ لایا گیا ہے۔ اور ابو عمرو، حمزہ اور کسائی نے تخفیف کی ہے، اس معنی کی بنا پر کہ تخفیف قلیل و کثیر کے لیے ہوتی ہے اور تشدید تکبیر وتکریر کے لیے ہوتی ہے کسی اور کے لیے نہیں ( اور تکریر کا معنی ہوتا ہے یکے بعد دیگر بار بار کوئی کام کرنا) اور یہاں تشدید اولیٰ ہے، کیونکہ یہ کثیر پر زیادہ دلالت کرتی ہے۔ اور الجمل ابل (اونٹ) میں سے ہے۔ فراء نے کہا ہے : جمل زوج الناقۃ (تفسیر طبری، جلد 2، صفحہ 211) ( نراونٹ کو کہتے ہیں) ۔
اور اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا ہے (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 104) جب ان سے اونٹ ( جمل) کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ زوج الناقۃ ہے۔ گویا جس نے آپ سے اس کے بارے پوچھا اس نے ایسی چیز سے جہالت اور ناواقفی کا اظہار کیا جسے تمام لوگ جانتے ہیں۔ اور اس کی جمع جمال، اجمال، جمالات اور جمائل ہے۔ اور اسے جمل کا نام دیا جاتا ہے جب کہ یہ چوپایہ ہے۔ اور حضرت عبداللہ ؓ کی قراءت میں ہے : حتی یلج الجمل الاصفر فی سم الخیاط اسے ابوبکر انباری نے ذکر کیا ہے، سند اس طرح ہے حدثنا ابی حدثنا نصر بن داؤد حدثنا ابو عبید حدثنا حجاج عن ابن جریج عن ابن کثیر عن مجاھد قال فی قراۃ عبداللہ۔۔۔ اور آگے ذکر کیا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے الجمل جیم کو ضمہ کے ساتھ اور میم کو فتحہ اور شک کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس سے مراد کشتی کی وہ رسی ہے جسے قلس کہا جاتا ہے اور اس سے مراد وہ رسیاں ہیں جو اکٹھی ہوں، یہ جملہ کی جمع، یہ احمد بن یحییٰ ثعلب نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد وہ موٹی رسی ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 214) جو قنب کی چھال سے بنائی گئی ہو۔ اور یہ قول بھی ہے : وہ رسی جس کے ساتھ کھجور کے درخت پر چڑھا جاتا ہے وہ مراد ہے۔
اور ان سے بھی اور حضت سعید بن جبیر سے مروی ہے : الجمل جیم کے ضمہ اور میم کی تخفیف کے ساتھ اور اس کا معنی بھی کشتی کی موٹی رسی اور مطلق رسی ہے، جیسے ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ اور ان سے الجمل جیم اور میم دونوں کے ضمہ کے ساتھ بھی مروی ہے۔ یہ جمل کی جمع ہے، جیسے اسد اور اسد ہے۔ اور الجمل مثلا اسد اور اسد ہے۔ اور ابو السمال سے الجمل جیم کے فتحہ اور میم کے سکون کے ساتھ مروی ہے۔ یہ جمل کی تخفیف ہے۔
اور سم الخیاط کا معنی سوئی کا سوراخ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور بدن میں ہر باریک سوراخ سما اور سما کہلاتا ہے۔ اور اس کی جمع سموم ہے۔ اور السم القاتل ( قتل کرنے والا زہر) کی جمع سمام آتی ہے۔ اور ابن سیرین نے فی سم سین کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور الخیاط وہ سوئی جس کے ساتھ کپڑا سیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : خیاط ومخیط جیسے ازار ومئزر اور قناع ومقنع اور مھاد، فراش ( بچھونا) کو کہتے ہیں۔ اور غواش، غاشیۃ کی جمع ہے، یعنی وہ آگ جو انہیں ڈھانپ لے گی۔ آیت : وکذلک نجزی الظلمین یعنی ہم کافروں کو اسی طرح کا بدلہ دیتے ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 7:42آیت نمبر۔ 42
قولہ تعالیٰ : لا نکلف نفسا الا وسعھا یہ کلام معترضہ ہے، یعنی والذین امنوا وعملوا الصالحات اولئک اصحاب الجنۃ فیھا خالدون (اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور آیت : لا نکلف نفسا الا وسعھا کا معنی یہ ہے کہ اس نے کسی کو بیویوں کے نفقہ کا مکلف نہیں بنایا مگر صرف اتنی مقدار کا جسے وہ پالے اور اس پر قدرت رکھتا ہو، نہ کہ اتنی مقدار کا جس تک اس کا ہاتھ پہنچ ہی نہ سکے۔ اور اس سے، فعل سے پہلے استطاعت ثابت کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ ابن الطیب نے کہا ہے۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے : لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا (الطلاق : 7) ( اور تکلیف نہیں دیتا اللہ تعالیٰ کسی کو مگر اس قدر جتنا اسے دیا ہے)
Ayah 7:43آیت نمبر : 43
اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے بارے میں ذکر فرمایا ہے جن کے ساتھ وہ اہل جنت پر انعام فرمائے گا ( اور وہ) ان کے سینوں سے کینہ کو نکال دینا ہے۔ اور النزع کا معنی الاستخراج ( نکالنا) ہے اور الغل کا معنی وہ کینہ ہے جو سینے میں مخفی اور پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور اس کی جمع غلال ہے، یعنی ہم جنت میں اس کینہ وغیرہ کو ختم کردیں گے جو دنیا میں ان کے دلوں میں مخفی تھا۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جنت کے دروازے پر کینہ بٹھائے ہوئے اونٹ کی طرح ہوگا تحقیق اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین کے دلوں سے ناکالا ہوگا “۔
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ میں، عثمان، طلحہ اور زبیر ؓ ان میں سے ہوں گے جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ونزعنا ما فی صدورھم من غل۔ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 401)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : جنت میں کینہ نکالنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان میں سے بعض بعض کے ساتھ ان کی قرابت اور درجات کی فضیلت کے سبب حسد نہیں کریں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ جنت کی شراب کے سبب ہوگا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وسقھم ربھم شرابا طھورا ( الدہر) یعنی وہ شراب سینوں سے تکلیف دہ چیزوں کو نکال کر انہیں پاک کر دے گی۔ اس کا بیان سورة الانسان اور زمر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
آیت : وقالوا الحمد للہ الذی ھدنا لھذا اور وہ کہیں گے سب تریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں راہ دکھائی اس ثواب ( اور ٹھکانے) کی، اس طرح کہ اس نے ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے لیے ہدایت کو تخلیق فرمایا ( یعنی ہدایت کو ہمارا مقدر بنا دیا۔ اور یہ قدریہ کا رد ہے۔ وماکنا ابن عامر کی قراءت بغیر واو کے ہے۔ اور باقیوں کی قراءت واو کے ساتھ ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 154 ) ۔ لنھتدی اس میں لام کی ہے۔
آیت : لولا ان ھدنا اللہ یہ محل رفع میں ہے۔ ونودوا یہ اصل میں نودیوا ہے۔ ان یہ محل نصب میں مخففہ عن المشقلہ، یعنی بانہ تلکم الجنۃ اور کبھی تفسیر اسی شے کی ہوتی ہے جس کے ساتھ ندا دی گئی، کیون کی ندا تو قل ہے، پس اس کا کوئی محل نہ ہوگا یعنی انہیں کہا جائے گا : آیت : فلکم الجنۃ ( یہی وہ حقیقت ہے) کیونکہ اس کے بارے دنیا میں اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا، یعنی انہیں کہا جائے گا : ھذی تلکم الجنۃ التی وعدتم بھا یہ وہی جنت ہے جس کے بارے تم سے وعدہ کیا گیا تھا یا انہیں یہ دخول سے پہلے کہا جائے گا جس وقت وہ اسے دور سے دیکھیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تلکم بمعنی ھذہ ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 154 ) ۔ اور اور ثتموھا بما کنتم تعلمون کا معنی ہے۔ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے محلات کے وارث بنا دیئے گئے ہو اور تمہارا اس میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کے ساتھ ہوا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : آیت : ذلک الفضل من اللہ ( النساء : 70) ( یہ ( محض) فضل ہے اللہ تعالیٰ کا) اور مزیدی فرمایا : آیت : فسیدکلھم فی رحمۃ منہ وفضل ( النسائ : 175) تو عنقریب داخل کرے گا انہیں اپنی رحمت اور فضل میں)
اور صحیح مسلم میں ہے :” تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہر گز جنت میں داخل نہیں کرے گا “۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کو بھی نہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ولا انا الا ان یتغمدنی اللہ برحمۃ منہ وفضل (صحیح مسلم، صفۃ المنافقین واحکامھم، جلد 2، صفحہ 377) ( مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت وفضل کے ساتھ ڈھانپ لے)
اور صحیح کے علاوہ کسی اور میں ہے : کوئی کافر اور کوئی مومن نہیں (تفسیر المراغی، جلد 3، صفحہ 304) مگر اس کے لیے جنت اور جہنم میں ایک ٹھکانا ہے۔ جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو اہل جہنم کے لیے جنت بلند کی جائے گی اور وہ اس میں اپنے ٹھکانوں کی طرف دیکھ لیں گے اور انہیں کہا جائے گا : یہ تمہارے ٹھکانے تھے اگر تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کا عمل کرتے، پھر کہا جائے گا : اے اہل جنت ! تم ان کے وارث بن جاؤ ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے ہو، پس ان کے محلات اہل جنت کے درمیان تقسیم کردیئے جائیں گے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : صحیح مسلم میں ہے : ” کوئی مسلمان آدمی نہیں مرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ جہنم میں ایک یہودی یا عیسائی کو داخل کرتا ہے “ (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، جلد 2، صفحہ 360 ) ۔ پس یہ بھی میراث ہے۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل کے ساتھ انعام عطا فرمائے اور جسے چاہے اپنے عدل کے ساتھ عذاب میں ڈال دے۔ المختصر یہ کہ جنت اور اس کے محلات اس کی رحمت کے بغیر نہیں پائے جاسکتے، پس جب وہ اپنے اعمال کے سبب اس میں داخل ہوں گے تو تحقیق وہ اس کی رحمت کے ساتھ اس کے وارث بنیں گے اور اس کی رحمت کے ساتھ ہی اس میں داخل ہوں گے “۔ کیونکہ ان کے اعمال بھی ان کے لیے اس کی جانب سے رحمت اور ان پر اس کا فضل و احسان ہے۔ اور بغیر ادغام کے اور ثتموھا پڑھا گیا ہے اور تا کو ثا میں ادغام کر کے بھی پڑھا گیا ہے۔
Ayah 7:44آیت نمبر : 44
قولہ تعالیٰ : آیت : ونادٰٓی اصحب الجنۃ یہ سوال مزید اضطراب میں ڈالنے کے لیے اور عار دلانے کے لیے ہے۔ ان قد وجدنا مثلا ان تکلم الجنہ ( کہ یہی وہ جنت ہے یعنی ہم نے تو اسے پا لیا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نفس ندا ہے۔ آیت : فاذن موذن بینھم یعنی پھر ایک پکارنے اور آواز دینے والا آواز دے گا اور وہ ملائکہ میں سے ہوگا۔ بینھم یہ ظرف ہے، جیسے آپ کہتے ہیں : اعلم وسطھم ( میں ان کے وسط کو جانتا ہوں) ۔ اعمش اور کسائی نے نعم عین کلمہ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس لغت پر عین کو سکون کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے۔
مکی نے کہا ہے : جس نے عین کلمہ کو کسرہ کے ساتھ نعم پڑھا ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ نعم جو کہ حرف جواب ہے اور نعم جو کہ اونٹ، گائے اور بکری کا اہم ہے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے۔ اور حضرت عمر سے جواب میں نعم بفتح العین کا انکار بھی مروی ہے۔ اور انہوں نے کہا ہے کہ نعم کا استعمال قلیل ہے۔ اور نعم اور نعم یہ دونوں لغتیں ہیں بمعنی وعدہ کرنا اور تصدیق کرنا، پس وعدہ کا معنی تب پایا جاتا ہے جب تو جو جب کے بارے میں سوال کرے مثلا تیرا یہ قول : ایقوم زید ؟ ( کیا زید کھڑا ہے ؟ ) تو وہ جواب میں کہے : نعم ( ہاں) اور تصدیق کا معنی پایا جاتا ہے جب تو کسی وقوع پذیر ہونے ولاے والے واقعہ کے برے خبر دے، تو کہے : قد کان کذا وکذا ( واقعہ اس اس طرح ہوا، تو وہ کہے : نعم ( ہاں) اور جب تو منفی کے بارے میں سوال کرے تو پھر جواب میں بلی ہوگا، جیسے تیرا یہ قول الم اکرمک ( کیا میں نے تیری عزت و تکریم نہیں کی ؟ ) تو وہ کہے گا بلی ( کیوں نہیں) پس نعم، اس سوال کے جواب کے لیے جو ایجاب پر داخل ہوتا ہے جیسے اس آیت میں ہے۔ اور بلی۔ اس استفہام کے جواب کے لیے ہے جو نفی پر داخل ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : الست بربکم قالوا بلی (اعراف : 172)
بزی، ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے ان لعنۃ اللہ پڑھا ہے اور یہی اصل ہے۔ اور باقیوں نے ان کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور لفظ اللعنۃ کو مبتدا ہونے کی بنا پر رفع دیا ہے پس ان دونوں قراتوں کے مطابق حرف جر کو ساقط کرنے کی بنا پر محل نصب میں ہے۔ اور مخففہ میں جائز ہوتا ہیہ کہ اس کا اعراب میں کوئی محل نہ ہو اور وہ مفسرہ ہو جیسے پہلے گزر چکا ہے۔ اعمش سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے ہمزہ کو کسرہ کے ساتھ آیت : ان لعنۃ اللہ پڑھا ہے۔ اور یہ قول کہ مضمر ماننے کی بنا پر ہے جیسے کو فیوں نے قراءت کی ہے : آیت : مادتہ الملئکۃ وھو قآئم یصلی فی المحراب ان اللہ ( آل عمران : 39) اور روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت طاؤس ہشام بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے اور اسے کہا : تو اللہ تعالیٰ سے ڈر اور یوم الاذان ( کی شدت) سے بچ۔ تو اس نے کہا : یوم الذان کون سا دن ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : فاذن موزن بینھم ان لعنۃ اللہ علی الظلمین یہ سن کر ہشام بیہوش ہوگیا، اس پر حضرت طاؤس نے کہا : یہ ذلت ورسوائی تو فقط بیان کی ہے تو مشاہدہ اور معاینہ کی ذلت کیسی ہوگئی۔
Ayah 7:45آیت نمبر : 45
قولہ تعالیٰ : آیت : الذین یصدون عن سبیل اللہ یہ الظلمین کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ اور اس سے پہلے ھم یا اعنی مضمر ماننے کی بنا پر اس کا محل رفع اور نصب میں ہونا بھی جائز ہے، یعنی جو دنیا میں لوگوں کو اسلام سے روکتے ہیں۔ اور یہ الصد سے ماخوذ ہے جس کا معنی منع کرنا اور روکنا ہے یا جو ذاتی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے راستے سے اعراض کرتے ہیں۔ اور یہ الصدود سے ماخوذ ہے۔
آیت : ویبغونھا عوجا وہ اسے ٹیڑھا کرنے کی خواہش اور طلب رکھتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں سو اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتے۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : وھم بالاخرۃ کفرون، ای وکانوا بھا کافرین ( اور وہ اس ( آخرت) کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں) پس اسے کلام سے حذف کیا گیا ہے اور یہ کلام میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔
Ayah 7:46آیت نمبر 46
قولہ تعالیٰ : آیت : وبینھما حجاب یعنی جہنم اور جنت کے درمیان پردہ ہے، کیونکہ انہیں دو کا ذکر جاری ہے۔ حجاب کا معنی حاجز ( رکاوٹ، پردہ) یعنی دیوار ہے اور یہ سورة ( دیوار) وہی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں فرمایا ہے : آیت : فضرب بینھم بسور ( الحدید : 13) ( پس کھڑی کردی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار)
آیت : وعلی الاعراف رجال یعنی علی اعراف السور یعنی دیوار کی بلندیوں پر کچھ مرد ہوں گے۔ اور اسی سے عرف الفرس ( گھوڑے کی گردن کے بال) اور عرف الدیک ( مرغ کی کلغی) ہیں۔ عبداللہ بن ابی یزید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اعراف سے مراد بلند اور اونچی شے ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اعراف سے مراد دیوار ہے جس کی بلندی مرغ کی کلغی کی طرح ہوگی۔ اور لغت میں اعراف بلند جگہ کو کہتے ہیں اور یہ عرف کی جمع ہے۔ یحییٰ بن آدم نے کہا ہے : میں نے کسائی سے اعراف کی واحد کے بارے پوچھا تو وہ خاموش ہرے۔ تو میں نے کہا : ہمیں اسرائیل نے جابر سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : الاعراف سوہ لہ عرف کعرف الدیک (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 244) تب انہوں نے کہا : ہاں قسم بخدا ! اس کی واحد یہی ہے اور جمع اعراف ہے، اے لڑکے کا غذ لاؤ، پھر آاپ نے اسے لکھ لیا اور یہ کلام محل مدح میں بیان ہوا ہے، جیسے اس بارے میں فرمایا : آیت : رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ (النور : 37) ( وہ ( جوان) مرد جنہیں ٖغافل نہیں کرتی تجارت اور نہ خریدو فروخت یاد الہی سے) ۔ اور اصحاب اعراف کے بارے میں علماء کے دس اقوال ہیں :
پس حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابن عباس، حضرت شعبی، حضرت ضحاک اور حضرت ابن جبیر ؓ نے بیان کیا ہے : یہ وہ جماعت ہے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر اور مساوی ہوں گی۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اور مسند خیثمہ بن سلیمان کے پندرہویں جز کے آخر میں ہے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا اور نیکیوں اور بدیوں کا وزن کیا جائے گا اور جس کی نیکیاں بدیوں پر جوں کے انڈے کے برابر بھاری ہوجائیں گی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس کے گناہ اس کی نیکیوں پر جوں کے انڈے کے برابر بھاری ہوجائیں گے وہ جہنم میں داخل ہوگا “۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ تو جس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوگئیں ؟ (وہ کہاں ہوگا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ اصحاب اعراف ہیں وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور اس میں داخل ہونے کے خواہشمند ہوں گے “ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 404)
حضرت مجاہد (رح) نے بیان کیا ہے : اصحاب اعراف سے مراد صالحین فقہار وعلما کی جماعت ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 228 ) ۔ اوعر یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شہدا ہیں۔ اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور قشیری نے کہا ہے : اور یہ بھی قول ہے کہ مومنین میں سے فضلاء اور شہداء ہیں، جو اپنی ذاتوں میں مشغول ہونے سے فارغ ہوئے اور لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنے میں مشغول ہوگئے۔ جب وہ اصحاب نار کو دیکھیں گے تو وہ جہنم کی طرف لوٹائے جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے، کیونکہ ہر شے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور معلوم کا خلاف بھی مقدور ہوتا ہے اور جب وہ اہل جنت کو دیکھیں گے اور وہ ابھی تک اس میں داخل نہیں ہوئے اس کے بعد وہ معلوم کا خلاف بھی مقدور ہوتا ہے اور جب وہ اہل جنت کو دیکھیں گے اور وہ ابھی تک اس میں داخل نہیں ہوئے اس کے بعد سوہ اپنے لیے اس میں داخل ہونے کے امیدوار ہوں گے۔ اور شرحبیل ابن سعد نے کہا ہے : اصحاب اعراف سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ شہید ہونے والے لوگ ہیں جو اپنے آباء کی نافرمانی کرتے ہوئے نکلے تھے۔
طبرانی نے اس بارے میں ایک حدیث ذکر کہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ان کی نافرمانی اور ان کی شہادت کو برابر قرار دیا جائے گا۔ اور ثعلبی نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے اس قول باری تعالیٰ آیت : وعلی الاعراف رجال کے بارے میں ذکر کیا ہے فرمایا : اعراف پل صراط پر بلند جگہ ہے، یہی نظریہ حضرت عباس، حضرت حمزہ، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت جعفر ذوالجناحین ؓ کا ہے، وہ اپنے محبت کرنے والوں کو چہروں کی سفیدی اور نور سے اور بغض رکھنے والوں کو چہروں کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ اور زہراوی نے بیان کیا ہے کہ یہ قیامت کے دن وہ عدل کرنے والے لوگ ہیں جو لوگوں پر ان کے اعمال کے بارے شہادت دیں گے اور یہ ہر امت میں ہوں گے۔ اس قول کو نحاس نے اختیار کیا ہے اور کہا ہے : جو کچھ اس بارے میں کہا گیا ہے یہ اس میں سے احسن ہے اور یہ اس دیوار پر ہوں گے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : وہ گروہ انبیاء (علیہم السلام) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ قوم ہے جن کے صغیرہ گنا تھے وہ ان سے دنیا میں مصائب وآلام کے ساتھ ختم نہیں ہوئے اور انہوں نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا پس انہیں جنت سے روک دیا جائے گا تاکہ اس کے سبب انہیں غم اور اضطراب لاحق ہو اور یہ ان کے صغیرہ گناہوں کے مقابلہ میں ہوجائے گا۔ اور سالم مولیٰ ابی حذیفہ ؓ نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اصحاب اعراف میں ہوں گے، کیونکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ وہ گنہگار لوگ ہیں۔
اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے مراد زنا سے پیدا ہونے والے لوگ ہیں۔ اسے قشیر ( زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 157) نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصحاب اعراف سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو اس دیوار کے ساتھ مقرر ہوں گے، وہ کافروں کو مومنین سے انہیں جنت اور دوزخ میں داخل سے پہلے الگ کریں گے۔ اسے ابو مجلز نے ذکر کیا ہے۔ تو ان کو کہا گیا : ملائکہ کو رجال نہیں کہا جاتا ؟ تو انہوں نے کہا : بلاشبہ وہ مذکر ہیں مونث نہیں ہیں، لہٰذا ان پر لفظ رجال کا اطلاق کرنا بعید نہیں ہے، جیسا کہ اس ارشاد باری تعالیٰ میں اسکا اطلاق جنوں پر کیا گیا ہے : آیت : وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن ( الجن : 6) ( اور یہ کہ انسانوں میں سے چند مرد پناہ لینے لگے جنات میں سے چند مردوں کی)
پس یہ ملائکہ مومنین کو ان کی علامات سے اور کفار کو ان کی علامات سے پہچان لیں گے۔ اور وہ مومنین کو ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے بشارت دیں گے درآنحالیکہ وہ ابھی تک اس میں داخل نہیں ہوئے لیکن وہ جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوں گے۔ اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو وہ اپنے آپ کے لیے عذاب سے سلامتی کی دعا کریں گے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ اعراف پر اہل جنت میں سے وہ لوگ ہوں گے جن کا جنت میں داخل ہونا موخر ہوگا اور ان کے لیے وہ وصف ہو سکتا ہے جس کا اعتبار دونوں فریقوں میں کیا گیا ہے۔ اور آیت : یعرفون کلا بسیمٰھم یعنی وہ سب کو ان کی علامات سے پہچانتے ہوں گے اور وہ اہل جنت میں چہروں کی سفیدی اور ان کا حسن ہے اور اہل جہنم میں چہروں کی سیاہی اور ان کا قبح ہے، علاوہ ازیں پہچان کے لیے ان کا محل ہوگا او ان کا اپنا محل اور مکان ہوگا (المحررالوجیز، جلد 2، صفحہ 404) ۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : تعیین کرے سے توقف کیا گیا ہے، کیونکہ اثر اور تفصیل میں اضطراب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی امور کے حقاق کو جاننے والا ہے۔
پھر یہ کہا گیا ہے کہ اعراف عرف کی جمع ہے اور اس سے مراد ہر بلند اور اونچا مقام ہے، کیونکہ وہ اپنے ظاہر ہونے کے اعتبار سے پست جگہ کے مقابلہ میں زیادہ واضح اور اعراف ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اعراف سے مراد پل صراط کی بلندیاں ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد جبل احد ہے اسے وہاں رکھا جائے گا۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اور زہراوی نے ایک حدیث ذکر کہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں قیامت کے دن جنت اور دوزخ کے درمیان اس کی تمثیل بنائی جائے گی اس پر کچھ قوموں کو روک لیا جائے گا ان کو ان کی علامات سے پہچان لیا جائے گا اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے ہوں گے “۔ اور دوسری حدیث حضرت صفوان بن سلیم سے ذکر کی ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بیشک احد جنت کے ارکان میں سے ایک رکن پر ہے “ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 404) ۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : ابو عمر نے حضرت انس بن مالک ؓ سے ذکر کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں بلاشبہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے “ (سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، جلد 1، صفحہ 232) ۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ونادوا اصحب الجنۃ یعنی اصحاب اعراف اصحاب جنت کو آواز دیں گے۔ آیت : ان سلم علیکم یعنی وہ انہیں کہیں گے : تم پر سلام ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم سزا سے سلامت ہو۔ آیت : لم یدخلوھا وھم یطمعون یعنی صحاب اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے، یعنی ابھی تک اس میں داخل نہیں ہوئے۔ آیت : وھم یعطمعون اس تاویل پر معنی یہ ہوگا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور لغت میں طمع بمعنی علم معروف ہے۔ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور یہی قول حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کا ہے کہ مراد اصحاب اعراف ہی ہیں۔
اور ابو مجلز نے کہا ہے : وہ اہل جنت ہیں (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 233) ، انہیں اصحاب اعراف کہیں گے : تم پر سلام ہو اور ابھی تک اہل جنت جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور وہ مومنین کے لیے جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوں گے جو اصحاب اعراف کے پاس سے گزریں گے۔ اور وقف اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے : آیت : سلم علیکم اور اس قول پر آیت : لم یدخلوھا پھر ابتدا آیت : وھم یطمعون سے ہوئی ہے۔ اس معنی پر کہ وھم یطمعون فی دخولھا اور وہ جنت میں داخل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ آیت : وھم یطمعون حال ہو اور معنی یہ ہو : اصھاب اعراف کے پاس سے گزرنے والے مومنین جنت میں داخل نہیں ہوئے، حالانکہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہیں اور بلاشبہ وہ اس میں داخل ہوئے ہیں اس میں داخلے کی خواہش رکھے بغیر۔ تو اس طرح آیت : لم یدخلوھا پر وقف نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 7:47آیت نمبر : 47
قولہ تعالیٰ : آیت : واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحٰب النار اور جب ان کی نگائیں اس جہت پھیری جائیں گی جس میں سامنے اہل جہنم ہوں گے۔ دو لفظوں کے بغیر تفعال کے وزن پر کوئی مصدر نہیں آیا اور وہ دو تلقاء اور تبیان ہیں اور باقی تمام فتحہ کے ساتھ آتے ہیں، مثلا تسیار، تھمام اور تذکار۔ اور رہا اسم تو وہ اس میں کسرہ کے ساتھ کثیر آتا ہے، مثلا تقصار اور تمثال۔ قالوا یعنی اصحاب اعراف کہیں گے۔ آیت : ربنا لا تجعلنا مع القوم الظٰلمین یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ وہ ان کے ساتھ (ظلم پیشہ لوگوں کے ساتھ) نہ کردے، حالانکہ وہ یہ جانتے ہوں گے کہ وہ ان میں ان کے ساتھ نہیں کرے گا۔ تو یہ علی سبیل التذلل اور عجز کی بنا پر ہے، جیسے اہل جنت کہیں گے : آیت : ربنا اتمم لنا نورنا ( التحریم : 8) ( اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارا نور مکمل فرما) اور کہیں گے : الحمد للہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بنا پر کہیں گے اور ان کے لیے اس میں لذت ہوگی۔
Ayahs 7:48–49آیت نمبر : 48۔ 49
قولہ تعالیٰ : آیت : ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونھم بسیمھم یعنی اعراف والے اہل نار میں سے ان لوگوں کو کہیں گے جنہیں وہ ان کی علامتوں سے پہنچانتے ہوں گے۔ آیت : قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون وہ انہیں کہیں گے : تمہیںٰ دنیا کے لیے جمع کیے گئے مال نے اور ایمان سے تمہارے غرور اور تکبر کرنے نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
آیت : اھولاء الذین یہ اشارہ مومنین فقراء کے گروہ کی طرف ہے، جیسے حضرت بلال، حضرت سلمان اور حضرت خباب وغیرہ ؓ اقسمتم کیا یہ وہی نہیں ہیں جن کے متعلق تم دنیا میں قسمیں اٹھایا کرتے تھے ؟ آیت : لا ینالھم اللہ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں عطا نہیں فرمائے گا۔ برحمۃ اپنی رحمت میں سے۔ اس کے ساتھ وہ انہیں جھڑکیں گے۔ اور وہ ان کے غم اور حسرت میں یہ کہہ کر اضافہ کریں گے۔ آیت : ادخلو الجنۃ ( کہ انہیں حکم مل چکا ہے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اور عکرمہ نے دخلوا الجنۃ قراءت کی ہے یعنی الف کے بغیر اور دال مفتوح کے ساتھ۔ ( وہ جنت میں داخل ہوچکے ہیں) اور طلحہ بن مصرف نے خاء کے کسرہ کے ساتھ آیت : ادخلوا الجنۃ پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ فعل ماضی ہے ( یعنی وہ جنت میں داخل کر دئیے گئے ہیں)
اور یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ اصحاب اعراف ملائکہ یا انبیاء (علیہم السلام) ہیں، کیونکہ ان کا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جانب سے اخبار ہے۔ اور جنہوں نے اصھاب اعراف گنہگاروں کو بنایا ہے تو اصحاب نار کے لیے ان کے قول کا آخر ومام کنتم تستکبرون ہے۔ اور اھولاء الذین آخر آیت تک اہل جہنم کو اس پر زجر و توبیخ کے لیے اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور پہلا حسن سے مروی ہے کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کہ ان ملائکہ کے کلام میں سے ہے جو اصحاب اعراف کے ساتھ مقرر ہوں گے، کیونکہ اہل جہنم قسمیں اٹھاتے تھے کہ اصحاب اعراف ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے تو ملائکہ اصحاب اعراف کو کہیں گے : آیت : ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون ( تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو گے)
Ayah 7:50آیت نمبر 50
قولہ تعالیٰ : ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر۔ 1
قولہ تعالیٰ : ونادی کہا گیا ہے : جب اہل اعراف جنت تک پہنچ جائیں گے تو اہل جہنم خواہش کریں گے اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! بیشک جنت میں ہمارے رشتہ دار اور قرابت دار ہیں پس ہمیں اجازت عطا فرمائی جائے کہ ہم انہیں دیکھیں اور ان سے بات کریں۔ اور اہل جنت ان کے چہرے سیاہ ہونے کی وجہ سے انہیں نہ پہنچان سکیں گے، تو وہ ( اہل جن ہم) انہیں کہیں گے : آیت : افیضوا علینا من الماء اومما رزقکم اللہ ( کہ انڈیلو ہم پر کچھ پانی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے) تو اس سے یہ ظاہر ہوا کہ انسان کھانے پینے سے مستغنی نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ عذاب میں ہو۔ آیت : قالوا ان اللہ حرمھما علی الکفرین تو اہل جنت کہیں گے : بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت کا طعام وشراب دونوں کافروں پر حرام کردیئے ہیں۔ افاضہ کا معنی التوسعۃ ( وسعت دینا، کشادگی پیدا کرنا) کہا جاتا ہے : افاض علیہ نعمہ ( اس نے اس پر اپنی نعتیں انڈیل دیں یعنی ان میں توسیع کردی (
مسئلہ نمبر 2
اس آیت میں اس پر بھی دلیل ہے کہ کسی کو پانی پلانا افضل ترین اعمال میں سے ہے۔ تحقیق حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : پانی، کیا تم اہل جہنم کی طرف دیکھتے نہیں کی جس وقت وہ اہل جنت سے مدد طلب کریں گے تو وہ کہیں گے : آیت : ان افیضوا علینا من الماء اومما رزقکم اللہ ( کہ ہم پر پانی انڈیلو یا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے)
اور ابو داؤد نے بیان کی ہے کہ حضرت سعد ؓ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ صدقہ کون سا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : پانی۔ اور ایک روایت میں ہے : پس انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : ھذہ لام سعد (سنن ابی داود، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحۃ 236، ایضا، حدیث 1431، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ( یہ کنوان سعد کی ماں کے نام ہے) ۔ اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بیشک سعد کی ماں صدقہ پسند کرتی تھی کیا میرا اس کی طرف سے صدقہ دینا اسے نفع دے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اور تجھ پر پانی صدقہ کرنا لازم ہے)
اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت سعد بند عبادہ ؓ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اس کی طرف سے لوگوں کو پانی پلائے۔ تو یہ اس پر دلیل ہے کہ پانی پلانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین سبب قربت ہے۔ اور بعض تابعین نے کہا ہے : من کثرت ذنوبہ فعلیہ بسقی الماء ( جس کے گناہ زیادہو جائیں تو اس پر (لوگوں کو) پانی پلانا واجب ہے) اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دی جس نے کتے کو پانی پلایا، تو پھر اس کی کیفیت کیا ہوگی جس نے ایک مومن موحد انسان کو پانی پلایا اور اسے زندگی بخش دی ؟۔ امام بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے (صحیح مسلم، قتل الحیاۃ وغیرھا، جلد 2، صفحہ 237) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہم میں سے ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے شدید پیاس نے آ لیا چناچہ وہ کنویں میں اترا اور اس سے پانی پی لیا پھر جب وہ باہر نکلا تو اچانک ایک کتے کو پیاس کی وجہ سے مٹی چاٹتے ہوئے دیکھ تو اس نے ( دل میں) کہا اس کتے کو اسی طرح پیاس کے سبب ( تکلیف) ہے جیسے مجھے پہنچی ہے چناچہ اس نے اپنی خف ( موزہ) پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ ( دانتوں) سے پکڑا، پھر اوپر چڑھا اور اس کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر افزائی فرمائی اور اس کی مغفرت فرما دی “۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ( کیا) ہمارے لیے چوپایوں میں بھی اجر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر تر ( زندہ) جگر رکھنے والی شے میں اجر ہے “ (صحیح بخاری، المظالم والقصاص، جلد 1، صفحہ 333) ۔ اور اس کے برعکس وہ روایت ہے جسے مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایک عورت (صحیح مسلم، قتل الحیاۃ وغیرھا، جلد 2، صفحہ 236) کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اسے قدید کر رکھا تھا یہاں تک کہ وہ مر گئی پس اس میں آگ داخل ہوگئی نہ اس نے اسے کچھ کھلایا اور نہ اسے پانی پلایا، کیونکہ اس نے اسے قیدکر رکھا تھا اور نہ ہی اس نے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکورے کھا لیتی “۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جن نے کسی مسلمان کو ایک بار ایسی جگہ پانی پلایا جہاں پانی پایا جاتا ہو تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کردیا ( یعنی اسے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب دیا جائے گا) اور جن نے کسی مسلمان کو کسی ایسی جگہ ایک بار پانی پلایا جہاں پانی نہ پایا جاتا ہو تو گویا اس نے اسے زندہ کردیا “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الرہون، جلد 1، صفحہ 180) ۔ اسے ابن ماجہ نے سنن میں روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 3۔
اور اس آیت سے استدلال کیا ہے جنہوں نے یہ کہا ہے : بیشک حوض اور مشکیزے کا مالک اس کے پانی کا زیادہ حق رکھتا ہے اور اس کے لیے اسے روکنا جائز ہے جو اس سے پانی لینا چاہے، کیونکہ اہل جنت کے اس قول : آیت : ان اللہ حرمھما علیہ الکفرین کا معنی ہے کہ تمہارے لیے اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
اور امام بخاری (رح) نے اس بارے میں ایک باب ذکر کیا ہے : باب من رای ان صاحب الحوض والقربۃ احق بمائہ ( یہ باب اس کے بیان میں ہے جس کی رائے ہے کہ حوض اور مشکیزے کا مالک اپنے پانی کا زیادہ حق دار ہوتا ہے) اور انہوں نے اس باب میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں کچھ لوگوں کو اپنے حوض سے اس طرح دھتکاردوں گا جیسے اجنبی اونٹ کو حوض سے بھگا دیا جاتا ہے “ (صحیح بخاری، کتاب المساقات، جلد 2، صفحہ 318) ۔ مہلب نے کہا ہے : اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حوض کا مالک اس کے پانی کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : لا ذودن رجالا عن حوضی (صحیح بخاری، کتاب المساقات، جلد 1، صفحہ 318) ۔
Ayah 7:51آیت نمبر 51
اس میں الذین کافرین کی صفت ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ اور اضمار کے سبب محل رفع اور محل نصب میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اہل جنت کے قول میں سے ہے : آیت : فالیوم ننسٰھم یعنی آج ہم انہیں جہنم میں چھوڑ دیں گے۔ آیت : کما نسوا لقاء یومھم ھذا یعنی جیسے انہوں نے ( اس دن کی ملاقات کے مطابق) عمل ترک کردیا تھا اور اسے جھٹلادیا تھا۔ اور اس میں ما مصدر یہ ہے یعنی ان کے بھلا دینے کی طرح۔ آیت : وما کانوا بایتنا یجحدون یہ اس پر معطوف ہے، یعنی وجحدھ ان کے ہماری آیتوں کا انکار کرنے کی طرح ( آج ہم بھی انہیں فراموش کردیں گے)
Ayah 7:52آیت نمبر : 52
قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد جئنھم بکتٰب اس میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ فصلنہ ہم نے اسے واضح کردیا ہے یہاں تک کہ جس نے اس میں تدبر اور غور وفکر کیا اس نے اسے پہچان لیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فصلنہ کا معنی ہے ہم نے اسے متفرق طور پر نازل کیا۔ علی علم اپنی طرف سے علم کامل کے ساتھ، لہٰذا اس میں کوئی سہو اور غلطی واقع نہیں ہوئی۔ آیت : ھدی ورحمۃ زجاج نے کہا ہے : یعنی ھادیا و ذارحمۃ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 480) ( درآنحالیکہ وہ ہدایت دینے والی اور سراپار حمت ہے) انہوں نے اسے فصلنہ کی ہا ضمیر سے حال بنایا ہے۔ زجاج نے کہا ہے : ھدی ورحمۃ پڑھنا بھی جائز ہے : بمعنی ھو ھدی ورحمۃ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کتاب سے بدل بناتے ہوئے جر کے ساتھ ھدی ورحمۃ پر ھنا بھی جائز ہے۔ امام کسائی اور فراء نے کہا ہے : کتاب کی صفت وہنے کی بنا پر ھدی ور حمۃ جر کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ آیت : وھذا کتٰب انزلنٰہ مبراک ( الانعام : 155) کی مثل ہے۔ آیت : لقوم یومنون مومنین کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ وہی اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔
Ayah 7:53آیت نمبر : 53
قولہ تعالیٰ : آیت : ھل ینظرون الا تاویلہ یہ ہمزہ کے ساتھ ہے اور آل سے ماخوز ہے اور اہل مدینہ ہمزے کی تخفیف کرتے ہیں۔ اور النظر کا معنی ہے انتظار کرنا، یعنی کیا وہ انتظار نہیں کر رہے مگر عقاب و حساب میں سے اس کے بارے جس کا قرآن کریم میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ینظرون، النظر الی یوم القیامہ ( یوم قیامت کی طرف دیکھنے) سے ماخوذ ہے۔ اور تاویلہ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور عاقبۃ الکتاب ( کتاب کا انجام) وہ بعث و حساب ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس میں وعدہ فرمایا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : تاویلہ کا معنی جزاوہ ہے یعنی ان کا کتاب کا جھٹلانے کا انجام اور جزا۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : تاویلہ کا معنی ہے عاقبت یعنی اس کا انجام، یہ دونوں معنی اہم متقارب ہیں۔
آیت : یوم یاتی تاویلہ، یعنی قیامت کے دن اس کا انجام ظاہر ہوگا۔ اور یوم یقول کے سبب منصوب ہے، یعنی یقول الذین سوہ من قبل یوم یاتی تاویلہ۔ آیت : قد جائت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شفعاء اس میں استفہام، تمنی اور آرزو کے معنی میں ہے۔ فیشفعوا یہ جواب استفہام ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لنا اونرد فراء نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اوھل نرد (تفسیر طبری، جلد 8، صفحۃ 240) (یا کیا ہم لوٹا دیئے جائیں گے) آیت : فنعمل غیرا لذین کنا نعمل زجاج نے کہا ہے : نرد کا عطف معنی پر کہا گیا ہے، یعنی ھل یشفع لنا احد او نرد ( کیا کوئی ہماری سفارش کرے گا یا ہم واپس لوٹائے جائیں گے) اور ابن اسحاق نے اونرد فنعمل دونوں میں نصب پڑھی ہے اور معنی ہے الا ان نرد ( ورنہ ہمیں واپس لوٹا دیا جائے) جیسے کسی نے کہا ہے :
فقلت لہ لا تبک عینک انما نحاول ملکا او نموت فتعذرا
( اس میں او نموت، الا ان نموت کے معنی میں ہے)
اور حسن نے اور نرد فنعمل دونوں کو مرفوع پڑھا ہے۔ آیت : قد خسروا انفسھم یعنی انہوں نے اس سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا، اور ہر وہ جو اپنے آپ کو نفع نہ پہنچائے تحقیق انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے اس سے نعمتوں کو اور اپنے لطف و راحت کو نقصان پہنچایا۔