7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

آیت نمبر : 155 قولہ تعالیٰ ؛ آیت : واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اس میں قومہ اور سبعین رجلا دو مفعو ہیں اور ان میں سے ایک سے من کو حذف کیا گیا ہے۔ اور سیبویہ نے یہ شعر بیان کیا ہے : منا الذی اکتیر الرجال سماحۃ وبرا اذا ھب الریاح الزعازع (زاد المسیر) جلد 2، صفحہ 155 ) اور راعی نے ایک آدمی کی مدح کرتے ہوئے کہا ہے : اخترتک الناس اذ رثت خلائقھم واختل من کان یرجی عندہ السول اس میں مراد اخترتک من الناس ہے۔ اختار اصل میں اختیر ہے۔ پس جب یا متحرک ما قبل مفتوح ہے تو اسے الف سے بدل دیا گیا، جیسے قال اور باع۔ قولہ تعالیٰ ؛ آیت : فلما اخذتھم الرجفۃ یعنی جب وہ مر گئے۔ لغت میں الرجفۃ سے مراد شدید زلزلہ ہے۔ روایت ہے کہ ان پر زلزلہ آیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قال رب لو شئت اھلکتھم من قبل وایای اے میرے رب ! اگر تو چاہتا تو تو ان کو اس سے پہلے ہلاک کردیتا، جیسے اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا : ان مروا ھلک ( النسائ : 176) ( اگر کوئی آدمی فوت ہوجائے) اور وایای معطوف ہے۔ معنی یہ ہے : اگر تو چاہتا تو ہمیں موت دے دیتا ہم بنی اسرائیل کی موجودگی میں اس سے پہلے کہ ہم وعدہ ملاقات کے لیے نکلتے تاکہ وہ مجھے مہتم نہ کرتے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : یحییٰ بن سعید القطان نے سفیان سے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے عمارہ بن عبد سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے ہمیں روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) چلے اور ان کے ساتھ شبر اور شبیر بھی نکلے۔ یہ دونوں حضرت ہارون (علیہ السلام) کے صاحبزادے تھے۔ پس وہ سب ایک پہاڑ کے پاس رکے اس میں ایک چارپائی تھی، تو حضرت ہارون (علیہ السلام) اس پر آرام فرما ہوئے تو ان کی روح قبض کرلی گئی۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مراجعت فرما ہوئے، تو انہوں نے کہا : تم نے انہیں قتل کردیا ہے، تم نے ہمارے ساتھ ان کی نرمی اور خوش اخلاقی پر حسد کیا ہے یا انہوں نے اسی طرح کا کلام کیا۔ یہ شک سفیان کو ہے۔ تو آپ نے فرمایا : میں انہیں کیسے قتل کر دسکتا تھا حالانکہ ان کے دو بیٹے میرے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا : پس تم چن لو جسے تم چاہو۔ تو انہوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چل لیے۔ آپ ( حضرت علی ؓ نے فرمایا : پس اسی کے متعلق یہ ارشاد ہے : آیت : واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا وہ تمام آپ (ہارون (علیہ السلام) کے پاس جا کر رکے اور کہا : اے ہارون ! تمہیں کس نے قتل کیا ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا : ما قتلنی احد ولکن اللہ توفانی ( مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے موت دی ہے) وہ کہنے لگے : اے موسیٰ ( علیہ السلام) فیصلہ نہیں ہو رہا۔ تو زلزلے نے انہیں پکڑ لیا، پس وہ دائیں بائیں جھولنے لگے اور آپ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام) کہتے ہیں : آیت : لو سئت اھلکتھم من قبل وایای اتھلکنا بما فعل السفھاء منا ان ھی الا فتنتک فرمایا : پس آپ نے اللہ تعالیی سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا اور ان تمام کو انبیاء بنا دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے اس قول کی سجہ سے انہیں شدید زلزلے نے پکڑ لیا۔ آیت : ارنا اللہ جھرۃ ( النسائ : 153) ( تم ہمیں اللہ تعالیٰ کا ظاہر دیدار کراؤ) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : واذ قلتم یموسی لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصعقۃ ( البقرہ : 55) ( اور یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ ! ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے تجھ پر جب تک ہم نہ دیکھ لیں اللہ کو ظاہر۔ پس ( اس گستاخی پر) آ لیا تم کو بجلی کی کڑک نے) جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنما نے فرمایا : انہیں شدید زلزلے نے اس لیے پکڑ لیا، کیونکہ انہوں نے انہیں منع نہیں کیا تھا جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی، حالانکہ وہ اس کی عبادت پر راضی نہ تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ستر افراد ان کے سوا تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی زیارت ظاہرا کراؤ۔ اور وہب نے کہا (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 550) ہے : وہ مرے نہیں تھے، بلکہ انہیں شدید زلزلے نے پکڑا تو وہ ہیبت اور خوف کی وجہ سے اس طرح ہوگئے کہ جوڑ جوڑ جدا جدا ہوجائیں گے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی موت کا خوف لاحق ہوگیا۔ حالانکہ سورة البقرہ میں حضرت وہب (رح) سے یہ روایت گزر چکی ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات مردہ حالت میں رہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ انہیں زلزلہ کے پکڑنے کا سبب ان کے علاوہ ہے۔ صحیح سبب کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ قول باری تعالیٰ : آیت : اتھلکنا میں مقصود استفہام انکاری ہے یعنی تو اس طرح نہیں کر گا۔ اور عرب کلام میں اس کا استعمال کثیر ہے۔ اور جب کلام نفی ہو تو وہ بمعنی ایجاب ہوتا ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : الستم خیر من رکب المطایا واندری العالمین بطون راح اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی دعا اور طلب ہے، یعنی تو ہمیں ہلاک نہ کر اور اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے مراد وہ قوم ہے جو زلزلہ کے سبب مری۔ اور مبرد نے کہا ہے : استفہارم سے مراد استفہام براے استعظام ہے۔ گویا وہ کہہ رہے ہیں : تو ہمیں ہلاک نہ کر، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوسرے کے گناہ کے عوض ہلاک نہیں کرتا۔ لیکن آپ نے یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کی طرح کہا : آیت : ان تعذبھم فانھم عبادک ( المائدہ : 118) ( اگر تو عذاب دے انہیں تو وہ بندے ہیں تیرے) بعض نے کہا : سفہاء سے مراد یہی ستر افراد ہیں۔ اور معنی یہ ہے : کیا تو بنی اسرائیل کو اس عمل کے عوض ہلاک کر دے گا جو ان بیوقوفوں نے یہ قول کہہ کر کیا : آیت : ارنا اللہ جھرۃ ( النسائ : 153 ) آیت : ان ھی الا فتنتک یعنی یہ نہیں ہے مگر تیری آزمائش اور تیرا امتحان۔ اس میں آپ نے فتنہ کی نسبت اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف کہ ہے اپنی طرف اس کی نسبت نہیں کی، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : آیت : واذا مرضت فھو یشفین (الشعرا) اس میں انہوں نے مرض ( بیماری) کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے۔ اور حضرت یوشع نے کہا ہے تھا : آیت : آیت : وما انسنیہ الا الشیطن ( الکہف : 63) ( اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی مگر شیطان نے) بلا شبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا اسفادہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے کیا جو ان کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : فانا قد فتنا قومک من بعدک ( طہ : 85) پس جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹ کر آئے تو دیکھا بچھڑا عبادت کے لیے کھڑا کیا گیا ہے اور اس کی آواز گائے کی طرح ہے۔ تو آپ نے کہا : آیت : ان ھی الا فتنتک تضل بھا یعنی یہ نہیں ہے مگر تیری آزمائش تو فتنہ کے ساتھ گمراہ کرتا ہے۔ من تشاء وتھدی من تشاء ( جسے تو چاہتا ہے اور تو ہدایت دیتا ہے جسے تو چاہتا ہے) یہ قدر یہ کا رد ہے۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

آیت نمبر : 156 قولہ تعالیٰ : آیت : واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ یعنی تو ہمیں ایسے اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما جن کے عوض ہمارے لیے نیکیاں لکی جائیں۔ وفی الاخرۃ یعنی ( آخرت میں) ان پر جزا ہو۔ آیت : انا ھدنا الیک بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے۔ یہ حضرت مجاہد، ابو العالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے : اور الھود کا معنی توبہ ہے اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قال عذابی اصیب بہ من اشآء یعنی جو اس کے مستحق ہیں، یدنی یہ زلزلہ اور صاعقہ میری طرف سے عذاب ہے میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ من اشآء کا معنی ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ میں اسے گمراہ کر دوں۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ورحمتی وسعت کل شی اس میں عموم ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں، یعنی جو بھی اس میں داخل ہو یہ اس سے عاجز نہیں ( یعنی ہر شے اس عموم میں داخل ہے) اور بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میری رحمت مخلوق میں سے ہر شے پر کشادہ ہے یہاں تک کہ چوپائے بھی اپنی اولاد پر رحمت کناں اور مہربان ہیں۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے : اس آیت میں ہر شے حتی کہ ابلیس بھی شامل ہے، پس اس نے کہا : میں بھی شے ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فساکتبھا للذین یتقون ( سو میں اس کو لکھوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقوی اخیتار کرتے ہیں) پھر یہود ونصٓری نے کہا : نحن متقون ( ہم متقی ہیں) تب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : الذین یتبعون الرسول النبی الامی الآیہ (الاعراف : 157) ( یہ وہ ہیں) جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے) پس یہ آیت عموم سے نکل گئی، والحمد للہ۔ حماد بن سلمہ نے عطا بن سائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر ( المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 462) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے لکھا ہے۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

آیت نمبر : 157 اس میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : 1 یحییٰ بن ابی کثیر نے نوف بکالی حمیری (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 101) سے روایت بیان کی ہے : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی وعدہ ملاقات کے لیے اپنی قوم کے ستر افراد چن لیے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ میں تمہارے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنا دوں تم نماز پڑھ سکو گے جہاں تمہیں نماز کا وقت آپہنچے سوائے غسل خانہ یا حمام یا قبرستان کے اور یہ کہ میں تمہارے دلوں میں سکینہ رکھ دوں اور میں تمہیں اس طرح بنا دوں کہ تم تو رات حفظ اور ازبر پڑھنے لگو، تم میں سے مرد و عورت، آزاد و غلام اور صغیر وکبیر سبھی اسے پڑھ سکیں گے۔ تو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اسے کے بارے اپنی قوم کو بتایا، تو انہوں نے کہا : ہم نہیں چاہتے کہ ہم گرجا گھروں کے بغیر نماز پڑھیں اور نہ ہم اپنے دوں میں سکینہ اٹھانے کی استطاعت رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سکینہ اس طرح ہو جیسے پہلے اور تابوت میں تھی اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم تورات کو دیکھے بغیر پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فساکتبھا للذین یتقون ویوتون الزکوۃ والذین ھم بایتنا یومنون۔۔ تا اولئک ھم المفلحون۔۔ پاس اسے اس امت کے لیے بنا دیا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے پروردگار، تو مجھے ان کا نبی بنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان کا نبی ان میں سے ہو کا۔ پھر عرض کیا : اے میرے رب ! مجھے ان میں سے بنا دے۔ فرمایا : تم انہیں ہر گز نہ پا سکے گے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! میں تیرے پاس بنی اسرائیل کا وفد لے کر آیا ہوں، تو نے ہمارے وفد کا تحفہ ہمارے سوا دوسروں کو عطا فرما دیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : آیت : ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وربہ یعدلون ( اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے جو راہ بتاتا ہے حق کے ساتھ اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتا ہے) پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پر راضی ہوگئے۔ نوف نے کہا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 461) ہے : پس تم اس اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو جس نے بنی اسرائیل کا تحفہ تمہیں عطا فرمایا ہے۔ ابو نعیم نے بھی یہ قصہ امام اوزاعی (رح) کی حدیث سے ذکر کیا ہے انہوں نے فرمایا : ہمیں یحییٰ بن ابی عمرو شیبانی نے بتایا ہے انہوں نے کہا مجھے نوف بکالی نے بیان کیا ہے جب انہوں نے وعظ ونصیحت شروع کیا فرمایا : کیا تم اپنے اس رب کی حمد وثنا بیان نہیں کرو گے جس نے تمہاری حالت غیوبت میں تمہاری حفاظت کی اور اس نے تمہیں تمہارے نصیب کے بعد بھی مزید عطا کیا اور قوم بنی اسرائیل کو دیا جانے والا تحفہ تمہارے لیے رکھ چھوڑا۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کا وفد لے کر حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : بلاشبہ میں نے تمہارے لیے زمین کو مسجد بنا دیا ہے اس طرح کہ اس میں جہاں بھی تم نماز پڑھوگے میں تماہری نماز قبول کرلوں گا سوائے تین جگہوں کے جس نے ان میں نماز پڑھی میں اس کی نماز قبول نہیں کروں گا اور وہ قبرستان، حمام اور غسلخانہ ہے۔ تو انہوں نے کہا : نہیں مگر پانی کے ساتھ۔ فرمایا : اور میں نے تمہیں اس طرح بنا دیا ہے کہ جس نے اکیلے نماز پڑھی تو میں اس کی نماز قبول کرلوں گا۔ انہوں نے کہا : نہیں، مگر جماعت کے ساتھ۔ مسئلہ نمبر 2 قولہ تعالیٰ : آیت : الذین یتبعون الرسول النبی الامی ان الفاظ نے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 462) یہود ونصار کو اس اشتراک سے خارج کردیا ہے جو اس قول آیت : فساکتبھا للذین یتقون میں ظاہر ہوتا ہے اور یہ وعدہ حضور نبی مکرم ﷺ کی امت کے لیے خاص ہوگیا۔ یہ قول حضرت ابن عباس اور ابن جبیر ؓ وغیرہما نے کہا ہے۔ اور یتبعون کا مفہوم ہے یعنی وہ لوگ جو آپ ﷺ کی شریعت، آپ کی دین اور آپ کے لائے ہوئے احکام کی اتباع کرتے ہیں۔ رسول اور نبی دو اہم ہیں اور دو معنوں کے لیے ہیں، کیونکہ رسول بنی کی نسبت اخص ہوتا ہے اور لفظ رسول کی مونی رسالت کے اہتمام کے لیے مقدم کیا گیا ہے، ورنہ معنوی اعتبار سے نبوت مقدم ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت براء ؓ کا رد کیا جب انہوں نے یہ کہا : وبرسولک الذی ارسلت تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا : قل آمنت بنبیک الذین ارسلت یعنی کہو میں تیرے اس نبی کے ساتھ ایمان لایا جسے تو نے مبعوث فرمایا) یہ صحیح میں مذکور ہے۔ اور یہ بھی کہ ان کے قول : وبرسولک الذی ارسلت میں رسالت کا ذکر مکر رہے۔ اور اس کا معنی ایک ہے پس یہ ایسی زیادتی کی مثل ہوجائے گا جس میں کوئی فائدہ نہیں، بخلاف اس قول کے وبنبیک الذی ارسلت کیونکہ نبوت و رسالت میں کوئی تکرار نہیں ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 461 ) ۔ اس بنا پر ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں، کیونکہ رسول اور نبی دونوں امر عام میں مشرتک ہیں اور وہ ہے النباء ( خبر دینا مراد نبوت ہے) اور امر خاص میں دونوں علیحدہ علیحدہ ہیں اور وہ ہے رسالت۔ پس جب تو نے کہا : حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں تو یہ اس معنی کو بھی متضمن ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں۔ او اسی طرح آپ ﷺ کے سوا دیگر انبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم کے بارے میں بھی ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الامی یہ امۃ امیۃ کی طرف منسوب ہے، وہ جو اپنی ولادت کی اصل حالت پر ہو، نہ وہ لکھنا سیکھے اور نہ ہی پڑھنا۔ یہ ابن عزیز (رح) نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : تمہارے نبی ﷺ امی تھے نہ وہ لکھتے ہیں، نہ پڑھتے ہیںٰ اور نہ وہ حساب لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب و لا تخطہ بیمینک ( العنکبوت : 48) ( اور نہ آپ پڑھ سکتے تھے اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ ہی اسے لکھ سکتے تھے اپنے دائیں ہاتھ سے) اور صحیح میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : انا امۃ امیۃ لا نکتب ولا نحسب الحدیث (صحیح ملسم، کتاب القیام، جلد 1، صفحہ 347) ( بیشک ہم امی امت ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ شمار کرتے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کی مکہ ام القری کی طرف نسبت ہے ( اس وجہ سے آپ کو امی کہا گیا ہے) اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل امام بخاری (رح) نے روایت بیان کی ہے کہ ہمیں محمد بن سنان نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں فلیع نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ہلال نے عطا بن یسار سے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 462) سے ملاقات کی اور میں نے کہا : تورات میں رسول اللہ ﷺ کی صفت کے بارے میں مجھے بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا : ہاں قسم بکدا ! بیشک تورات میں آپ ﷺ کی بعض وہ صفات بیان کی گئی ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں : آیت : یایھا النبی انا ارسلنٰک شاھدا ومبشرا ونذیرا (الاحزاب) اے نبی ! بیشک ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا) اور امیوں کے لیے پناہ گاہ بنا کر بھیجا، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، آپ اکھڑ مزاج اور تند خو نہیں ہیں اور نہ آپ بازاروں میں شور مچانے والے ہیں، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ہیں بلکہ معاف فرما دیتے ہیں اور بخش دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر کز آپ کی روح قبض نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے سبب ٹیڑھی ملت کو سیدھا کر دے۔ اس طرح کہ وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں اور وہ اس کے ساتھ اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور بنددلوں کو کھول دے۔ ( بخاری کے علاوہ دوسری کتب میں ہے) حضرت عطا نے بیان کیا : پھر میں حضرت کعب ؓ جیسا جواب دیا) مگر یہ کہ حضرت کعب ؓ نے اپنی زبان میں فرمایا : قلوبا غلوفیا واذانا صمومیا واعینا عمومیا۔ ابن عطیہ (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 462) نے کہا ہے : میں یہ گمان کرتا ہوں کہ یہ وہم ہے یا عجمہ ہے۔ تحقیق حضرت کعب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ کہے : قلوبا غلوفا وآذانا صموما واعینا عمومیا۔ علامہ طبری نے کہا ہے : یہ قبیلہ حمیر کی لغت ہے۔ اور حضرت کعب ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ کی صفات میں میزدی یہ بیان کیں ؛ آپ کا مولد شریف مکہ مکرمہ ہے۔ اور آپ کی ہجرت گاہ طابہ ہے اور آپ کا ملک شام ہے۔ آپ کی امت حمد اور تعریف بیان کرنے والی ہے وہ ہر حال اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں گے، وہ اپنے اعضاء کو وضو میں دھوئیں گے اور اپنی پنڈلیوں کے نصف تک چادریں باندھیں گے، دھوپ کو پسند کرنے والے ہوں گے اور وہ وہیں نماز پڑھیں گے جہاں انہیں نماز نے آلیا اگرچہ جھاڑو مارتے ہوئے۔ میدان جہاد میں ان کی صف نماز میں ان کی صف کی مثل ہوگی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت : ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کا نھم بنیان مرصوص ( الصف) ( بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ان (مجاہدوں) سے جو اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پرا باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے) مسئلہ نمبر 5۔ قولہ تعالیٰ : آیت : یامرھم بالمعروف وینھھم عن المنکر حضرت عطا نے بیان کیا ہے : آیت : یامرھم بالمعروف یعنی وہ انہیں شرک چھوڑنے، مکارم اخلاق اپنانے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آیت : وینھھم عن المنکر اور وہ انہیں منکر یعنی بتوں کی عبادت کرنے اور قطع تعلقی سے منع کرتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : 6 قولہ تعالیٰ : آیت : ویحل لھم الطیبت امام مالک (رح) کا مذہب یہ ہے کہ طیبات سے مراد محللات ( حلال چیزیں) ہیں۔ تو گویا آپ نے محللات کو طیب کی صفت سے متصف کیا ہے، کیونکہ یہ ایسا لفظ ہے جو مدح و تشریف کو متضمن ہے۔ اور اس اعتبار سے خبائث کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ ان سے مراد محرمات ( حرام چیزیں) ہیں اسی وجہ سے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : خبائث سے مراد خنزیر کا گوشت اور سود وغیرہ ہے۔ اور اس بنا پر امام مالک (رح) نے متقذرات (ناپسندیدہ چیزیں) مثلا سانپ، بچھو، گبریلا وغیرہ کو حلال قرار دیا ہے۔ امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ طیبات وہ ہیں جو کھانے کے اعتبار سے طیب اور پاکیزہ ہوں مگر ان کے نزدیک یہ لفظ اپنے عموم پر نہیں ہے، کیونکہ کھانے اور ذائقے کے اعتبار سے اس کا عموم شراب اور خنزیر کو حلال کرنے کا تقاضا کرتا ہے، بلکہ آپ اسے ان چیزوں کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا ہے۔ اور آپ لفظ خبائث کو عام قرار دیتے ہیں اور یہ ان تمام چیزوں کو شامل ہے جو شرعا محرمات ہیں یا متقذرات ہیں۔ پس وہ بچھوؤں، گبریلوں اور چھپکلی اور ان جیسی دیگر چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ پس لوگوں کے یہی دونوں نظریے ہیں اور سورة البقرہ میں یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 7 قولہ تعالیٰ : آیت : ویضع عنھم اصرھم، الاصر کا معنی ثقل اور بوجھ ہے (جامع ترمذی، باب سورة التوبہ، حدیث نمبر 3010، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ حضرت مجاہد، قتادہ اور ابن جبیر نے یہی کہا ہے۔ اور اصر سے مراد عہد بھی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، ضحاک اور حسن ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ آیت دونوں معنوں کو جامع ہے، کیونکہ بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ بوجھل اور بھارئی اعمال کے ساتھ قائم رہیں، پس اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے سبب ان سے وہ عہد اور ان اعمال کا بوجھ اتار لیا، جیسا کہ پیشاب کو دھونا اور مال غنیمت کو حلال کردینا، حائضہ عورت کے ساتھ بیٹھنا، اس کے ساتھ مل کر کھانا اور اس کے ہمراہ لیٹنا وغیرہ، کیونکہ ان میں سے اگر کسی کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اسے کاٹ دیتا۔ اور یہ روایت بھی ہے کہ اگر ان کی جلد پر پیشاب لگ جاتا اور جب وہ مال غنیمت جمع کرتے تو آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی اور وہ اسے کھا جاتی (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 463) اور جب کوئی عورت حائضہ ہوتی تو وہ اس کے قریب نہ جاتے۔ علاوہ ازیں بھی اسی طرح احکام تھے جو حدیث صحیح وغیرہ میں ثابت ہیں۔ مسئلہ نمبر : قولہ تعالیٰ : آیت : والاغلل التی کا نت علیھم، پس اغلال ( زنجیریں) انہیں بوجھوں کے لیے مجازا ذکر کیا گیا ہے۔ اور ان بوجھوں میں سے ہفتے کے دن کاروبار چھوڑنا بھی ہے، کیونکہ یہ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہفتے کے دن ایک آدمی کو گھاس ( کا نے) اٹھائے ہوئے دیکھا تو اس کر گردن ماردی۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 463 ) ۔ اور ان میں دیت نہ تھی، البتہ قصاص تھا۔ اور ان کی توبہ کی علامت کے طور پر انہیں حکم دیا گیا کہ وہ آپس میں قتال کریں، علاوہ ازیں بھی احکام تھے۔ پس انہیں بھی اغلال کے ساتھ تشبیہ دی گئی، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : فلیس کھعد الدار ام مالک ولکن احاطت بالرقاب السلاسل (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 464 ) وعاد الفتی کالکھل لیس بقائل سوی العدل شیا فاستراح العواذل پس حدود اسلام اور ممنوعات کی طرف قدت بڑھانے کے موانع کو ایسی زنجیروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو گردنوں کو گھیرے ہوئے ہوں۔ اور اس معنی میں ابو احمد بن جحش کا ابو سفیان کے لیے قول ہے : اذھب بھا اذھب بھا طوق تھا طوق الحمامہ یعنی اس کی عار تجھے لازم ہے۔ کہا جاتا ہے : طوق فلان کذا جب وہ اسے لازم پکڑلے۔ مسئلہ نمبر : 9 اگر کہا جائے : اغلال جو کہ جمع ہے اس کا عطف اصر پر کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ یہ مفرد ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصر مصدر ہے اور اس کا اطلاق کثرت پر ہوتا ہے۔ اور ابن عامر نے تو آصارھم جمع کے ساتھ پڑھا ہے، جیسا اعمالھم ہے۔ اور اس کی جمع گناہوں کی اقسام ہونے کے اعتبار سے ہے۔ اور باقیوں نے اسے واحد پڑھا ہے، کیونکہ یہ مصدر ہے اور اس کا اطلاق اپنی جنس کے قلیل و کثیر افراد پر ہوتا ہے اس کے باوجود کہ یہ لفظ مفرد ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ : آیت : ولا تحمل علینا اصرا ( البقرہ : 7) آیت : لا یرتد الیھم طرفھم ( ابراہیم : 43) اور آیت : من طرف خفی ( الشوری : 45) یہ تمام الفاظ جمع کے معنی میں ہیں۔ مسئلہ نمبر : 10 قولہ تعالیٰ : آیت : فالذین امنوا بہ وعزروہ یعنی انہوں نے آپ کی عزت و توقیر کی اور آپ کی مدد کی۔ اخفش نے کہا : جحدری اور عیسیٰ نے تخفیف کے ساتھ وعزروہ پڑھا ہے اور اسی طرح عزرتموھم میں بھی کہا جاتا ہے : عزروہ یعزرہ ویعزرہ اور النور سے قرآن کریم اور الفلاح سے مراد مطلوب کو پانے میں کامیاب ہونا ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

آیت نمبر : 158 ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بشارت دی اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بشارت دی، پھر آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے بارے میں یہ کہیں : آیت : انی رسول اللہ الیکم جمیعا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ قل یایھا الناس، جلد 2، صفحۃ 668) ( بیشک میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں) اور کلمتہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ کلمات ہیں جو اس نے تورات، انجیل اور قرآن کریم میں لکھے ہیں۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

آیت نمبر : 159 یعنی وہ لوگوں کو ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اور یعدلون کا معنی ہے کہ وہ حکم اور فیصلہ میں عدل کرتے ہیں اور تفسیر میں ہے : یہ ایک قوم ہے جو چین سے پرے اور دریائے رمل سے پرے ہے۔ وہ حق اور عدل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، وہ حضور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور ہفتہ کو ( کاروبار) چھوڑ دیا، وہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں، ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہم میں سے کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔ پس یہ روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اختلاف رونما ہوا تو ان میں سے ایک گروہ تھا جو حق کے ساتھ راہ بتاتے تھے اور وہ اس پر قادر نہ تھے کہ وہ بنی اسرائیل کے درمیان رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زمین کے ایک کنارہ کی طرف مخلوق سے الگ تھلک کر کے نکال دیا، پس ان کے لیے زمین میں ایک راستہ بن گیا، وہ اس میں ڈیڑھ سال تک چلتے رہے یہاں تک کہ وہ چین سے پرے نکل گئے اور وہ اب تک حق پر ہیں۔ ان کے درمیان اور لوگوں کے درمیان ایک سمندرجس کی وجہ سے کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) شب معراج حضور نبی مکرم ﷺ کو لے کر ان کے پاس گئے۔ پس وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور آپ نے انہیں قرآن کریم کی سورتوں کی تعلیم دی اور پھر انہیں فرمایا : ” کیا تمہارا کیل اور وزن کا کوئی پیمانہ ہے “ ؟ انہوں نے بتایا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ” تمہارا ذریعہ معاش کیا ہے “ ؟ انہوں نے بتایا : ہم کھلی زمین کی طرف نکلتے ہیں اور فصل کاشت کرتے ہیں، پھر جب ہم اسے کاٹ لیں تو اسے وہیں رکھ دیتے ہیں اور جب ہم میں سے کسی کو اس کی حاجت اور ضرورت ہو تو وہ اپنی حاجت کے مطابق اس سے لے لیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ” تمہاری عورتیں کہاں ہیں “ ؟ تو انہوں نے بتایا : اگر ہم میں سے کوئی اس طرح کرے تو بھرکتی آگ اسے پکڑ لیتی ہے، بیشک آگ اترتی ہے اور اسے جلا دیتی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے تمہارے گھر ہموار اور برابر ہیں “ ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے بعض بعض سے بلند نہ ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے تمہاری قبریں تمہارے دروازوں پر ہیں “ ؟ تو انہوں نے بتایا : تاکہ ہم موت کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ شب معراج دنیا کی طر لوٹ کر آئے تو آپ پر یہ آیت نازل کی گئی : آیت : وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون (الاعراف) (تفسیر ابو لیث، جلد 2، صفحہ 270) مراد حضور بنی مکرم ﷺ کی امت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آگاہ فرما رہا ہے کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم میں عطا فرمایا میں نے وہ آپ کو آپ کی امت میں عطا فرمایا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے ہمارے نبی مکرم ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ بنی اسرائیل میں سے ایک قوم تھی جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کو منسوخ ہونے سے پہلے مضبوطی سے تھامے رکھا، نہ انہوں نے اس میں کوئی تبدیلی کی اور نہ ہی انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا۔
Ayahs 7:160–162

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

آیت نمبر : 160۔ 162 قولہ تعالیٰ : آیت : وقطعنٰھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتیں شمار کیں۔ اور انہیں قبیلوں میں تقسیم کردیا تاکہ ہر قبیلے کا معاملہ ان کے اپنے سردار کی طرف سے معروف ہو، تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر معاملہ آسان ہوجائے۔ اور قرآن کریم میں ہے : آیت : وبعثنا منھم اثنی عشر رنقیبا ( المائدہ : 12) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 557) ( اور ہم نے مقرر کیے ان میں سے بارہ سردار) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ : آیت : اثنتی عشرۃ حالانکہ لفظ السبط مذکر ہے کیونکہ اس کے بعد امما ہے پس تانیث امم کی وجہ سے ہوئی۔ اور اگر السبط کے مذکر ہونے کی وجہ سے اثنی عشر کہا جاتا تو جائز ہوتا، یہ فراء سے منقول ہے۔ بعض نے کہا ہے : اسباط سے مراد قبائل اور فرقے ہیں، اسی لیے عدد مونث لایا گیا ہے۔ شاعر نے کہا ہے۔ وان قریشا کلھا عشر ابطن وانت بری من قبائلھا العشر پس وہ بطن سے قبیلہ اور فصیلہ کی طرف گیا۔ پس اسی لیے اسے مونث ذکر کیا۔ اور بطن مذکر ہے، جیسا کہ اسباط مذکر کی جمع ہے۔ زجاج نے کہا (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 557) ہے : اس کا معنی ہے ہم نے ان دونوں فرقوں میں تقسیم کردیا۔ اسباطا یہ اثنتی عشرۃ سے بدل ہے۔ امما یہ اسباط کی سٖت ہے۔ مفضل نے عاصم سے وقطعنھم مخفف روایت کیا ہے۔ اسباط حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں اسباط حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں قبائل کے قائم مقام تھے۔ اسباط، السبط سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی وہ درخت ہے جسے اونٹ چرتے ہیں اس پر مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے قول باری تعالیٰ : آیت : فبدل الذین ظلموا منھم قولا غیر قیل لھم کے بارے میں روایت کہا ہے انہوں نے کہا : دانے ابھی چھلکے میں ہیں۔ ( یعنی یہ کام بہت مشکل ہے) اور انہیں کہا گیا : آیت : ادخلوا الباب سجدا پس وہ اپنی سرینوں پر سہارا لیتے ہوئے داخل ہوئے۔ آیت : بما کانوا یظلمون یہ مرفوع ہے، کیونکہ یہ فعل مضارع ہے اور یہ محل نصب میں ہے۔ اور ما مصدریہ ہے، یعنی بظلمھم اس آیت میں جو معنی اور احکام ہیں وہ سورة البقرہ میں گزر چکے ہیں۔ والحمد للہ
Ayahs 7:163–164

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

آیت نمبر : 163 قولہ تعالیٰ : آیت : وسئلھم عن القریۃ یعنی ان سے اس بستی والوں کا حال پوچھیں ( یعنی یہ اصل میں عن اھل القریۃ ہے) انہیں اس ( قریہ) سے تعبیر کیا گیا ہے یا تو اس لیے کہ وہ ان کی جائے استقرار تھی یا اس لیے کہ وہ ان کے اجتماع کا سبب تھی۔ اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : وسئل القریۃ التی کنا فیھا ( یوسف : 82) ( اور ( اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو) دریافت کیجئے بستی والوں سے جس میں ہم رہے) اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے : اھتزالعرش لموت سعد بن معاد یعنی حضرت سعد ؓ کے آنے سے ملائکہ میں سے اہل عرش فرحت و انبساط کے ساتھ جھومنے لگے۔ آیت میں مراد یہ ہے جو یہود آپ کے پڑوس میں ہیں ان سے ان کے اسلاف کے حال کے بارے پوچھو اور اس کے بارے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بندروں اور خنزیروں میں بدل دیا تھا۔ یہ سوال برائے تقریر و توبیخ ہے۔ اور یہ حضور نبی مکرم ﷺ کی سچائی کی علامت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر تعلم کے ان امور پر مطلع فرما دیا تھا۔ اور وہ کہتے تھے : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتوں میں سے ہیں اور اسرائیل کے پوتوں میں سے ہیں اور وہ بکر اللہ تھے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے پوتوں میں سے ہیں اور ہم ان کے بیٹے عزیز کے پوتوں میں سے ہیں اور ہم ان کی اولاد میں سے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا : اے محمد ! ﷺ ان سے اس بستی والوں کے بارے میں پوچھو، کیا میں نے انہیں ان کے گناہوں کے بدلے عذاب نہیں دیا۔ اور وہ فروع شریعت میں سے ایک فرع کو تبدیل کرنے کے سبب ہوا۔ اور اس بستی کی تعیین کے بارے میں اختلاف ہے۔ پس حضرت ابن عباس، عکرمہ اور سدی رضی للہ عنہم نے کہا ہے : وہ ایلہ ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 467 ) ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ ایلہ اور طور کے درمیان مدین ہے۔ زہری نے کہا ہے : وہ طبریہ ہے۔ حضرت قتادہ اور زید بن اسلم ؓ نے کہا ہے : وہ شام کے سوا حل میں سے ایک ساحل ہے اور یہ مدین اور عینوں کے درمیان ہے، اسے مقناۃ کہا جاتا ہے۔ یہودی اس قصہ کو چھپاتے تھے، کیونکہ اس میں ان کی سبکی اور بےعزتی ہے۔ آیت : التی کا نت حاضرۃ البحر یعنی وہ سمندر کے قریب آباد تھے۔ تو کہتا ہے : کنت بحضرۃ الدار ای بقربھا یعنی میں گھر کے قریب ہوں۔ آیت : اذ یعدون فی السبت یعنی وہ مچھلیوں کا شکار کرتے تھے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے : سبت الیھود انہوں نے اپنے ہفتہ کے بارے حکم پر عمل ترک کردیا۔ اور سبت الرجل مفعول کو سباتا کہا جاتا ہے ( یعنی آدمی کو نیند آگئی) اس نے اسے گونگے کی مثل کر چھوڑا۔ اور اسبت وہ ساکن ہوگیا او اس نے حرکت نہ کی اور القوم صار وانی السبت قوم نیند اور آرام میں ہوگئی۔ اور یہودی ہفتہ کے دن میں داخل ہوئے الیھود دخلوا فی السبت اس میں السبت سے مراد معروف دن ( یعنی ہفتہ کا دن ہے) اور راحۃ ( آرام لینا) اور قطع ( کسی شے کو کاٹنا) کے معنی میں بھی ہے۔ اس کی جمع اسبت، سبوت اور اسبات آتی ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، ” جس کسی نے ہفتے کے دن پچھنے لگوائے تو اسے برص کی بیماری لگ جائے گی پھر اسے چاہیے کہ وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے “ ، ہمارے علماء نے کہا ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ ہفتہ کے دن خون جم جاتا ہے، پس جب تو اسے باہر نکالنے کے لیے کھینچے گا تو وہ جاری نہیں ہوگا اور وہ برص کی طرف لوٹ جائے گا۔ جمہور کی قراءت یعدون ہے اور ابو نہیک نے یعدون یاء کے ضمہ، عین کے کسرہ اور دال کی شد کے ساتھ قراءت کی ہے۔ پہلا لفظ الاعتداء سے ہے اور دوسرا الاعداد سے ہے، یعنی وہ انہیں پکڑنے کا آلہ تیار کرتے ہیں۔ اب السمیقع نے فی الاسبات، السبت کی جمع کے ساتھ قراءت کی ہے۔ آیت : اذ تاتیھم حیتانھم یوم سبتھم اور اسے اسباتھم بھی پڑھا گیا ہے۔ شرعا یعنی کثیر تعداد میں پانی پر ظاہرا تیرتے ہوئے۔ حضرت لیث (رح) نے کہا ہے : مچھلیاں اپنے سر اٹھائے ہوئے تیرتیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ سمندر کی مچھلیاں ہفتے کے دن سمندر سے تیرتے ہوئے آتیں اور ایلہ میں جمع ہوجاتیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں الہام کیا کہ انہیں ہفتہ کے دن شکار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ان کا شکار کرنے سے منع کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ ان کے دروازوں پر اپنے سر اٹھائے ہوئے تیرتی تھی، جیسا کہ سفید مینڈھے ہوتے ہیں۔ اسے بعض متاخرین نے بیان کیا ہے۔ پس وہ حد سے بڑھنے لگے اور انہوں نے انہیں ہفتے کے دن پکڑنا شروع کردیا۔ یہ حسن نے کہا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے دن پکڑنے لگے، یہی زیادہ صحیح قول ہے جیسا کہ اس کا بیان آگے آرہا ہے۔ آیت : ویوم لا یسبتون یعنی وہ ہفتہ کے دن ( ایسا) نہ کرتے۔ کہا جاتا ہے : سبت یسبت جب وہ ہفتے کے دن کی تعظیم کرے۔ حسن نے یاء کے ضمہ کے ساتھ یسبتون پڑھا ہے، یعنی وہ ہفتے کے دن میں داخل ہوتے ہیں، جیسے کہا جاتا ہے : اجمعنا واظھرنا واشھرنا یعنی ہم جمعہ، ظہر اور مہینے میں داخل ہوئے۔ لا تاتیھم یعنی ان کی مچھلیاں نہ آتیں۔ آیت : کذالک نبلوھم یعنی ہم عبادت میں ان پر سختی کرتے ہیں اور انہیں آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ اس میں کاف محل نصب میں ہے۔ آیت : بما کانوا یفسقون یعنی ان کے فسق کے سبب ( ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا) ۔ حسین بن فضل سے پوچھا گیا : کیا تم کتاب اللہ میں کوئی حلال پاتے ہو جو تمہارے پاس سوائے خوراک اور غذا کے نہ آتا ہو اور ایسا حرام جو بغیر ناپ تول کے آتا ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں، داؤد اور ایلہ کے قصہ میں ہے : آیت : اذتاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیھم اس آیت کے قصص میں مروی ہے کہ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا کہ ابلیس نے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی اور کہا : تمہیں ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا ہے پس تم حوض بنا لو، پھر وہ جمعہ کے دن مچھلیاں ان کی طرف ہانکتے تھے اور وہ ان ( حوضوں) میں باقی رہتی تھیں اور پھر پانی کم ہونے کی وجہ سے ان کے لیے وہاں سے نکلنا ممکن نہ ہوتا تھا، چناچہ اتوار کے دن وہ انہیں پکڑتے تھے۔ اشہب نے مالک سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : ابن رومان کا گمان ہے کہ ان میں سے ایک آدمی رسی پکڑتا تھا اور اس میں ایک پندھا سا رکھتا اور اسے مچھلی کی دم میں ڈال دیتا اور رسی کی دوسری طرف کیل کے ساتھ بندھی ہوتی، وہ اسے اتوار تک اسی طرح چھوڑے رکھتا، پھر جب لوگوں نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کرلیا اسے کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا یہاں تک کہ مچھلی کا شکا ربہت زیادہ ہوگیا اور اسے بازاروں میں لایا جانے لگا اور فاسقوں نے اس کا شکار کا اعلان کردیا، پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ اٹھا اور وہ روکنے لگا اور اس نے روکنے کی اعلانیہ خوب کوشش کی اور علیحدگی اختیار کرلی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ابے شک روکنے والوں نے کہا : ہم تمہارے ساتھ مل کر نہیں رہیں گے۔ چناچہ انہوں نے گاؤں کو دیوار کے ساتھ تقسیم کردیا۔ پس ایک دن منع کنرے والے اپنی مجالس میں آئے لیکن ان ظالموں اور حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ نکلا، تو انہوں نے کہا : بیشک ان لوگوں کو کچھ ہوگیا ہے، پھر انہوں نے دیو اور پر چڑھ کر دیکھاتو وہ بندر بن چکے تھے۔ پس انہوں نے دروازہ کھولا اور ان پر داخل ہوئے، تو بندروں نے انسانوں سے اپنے انساب کو پہچان لیا، لیکن انسان اپنے نسب بندروں سے نہ پہنچانتے تھے، پس بندر انسانوں میں سے اپنے نسب والے کے پاس آتا اور اس کے کپڑے سونگھنے لگتا اور پھر رونے لگتا۔ تو وہ اسے کہتا : کیا ہم نے تمہیں منع نہ کیا تھا ؟ تو وہ اپنا سر ہلا کر کہتا : ہاں۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : جو ان بندر ہوگئے اور بوڑھے خنزیر ہوگئے۔ پس اس سے صرف انہوں نے ہی نجات پائی جو اس سے باز رہے ( اور دوسروں کو منع کرتے رہے) اور وہ تمام کے تمام ہلاک ہوگئے۔ پس اس قول کی بنا پر بنی اسرائیل صرف دو گروہوں میں تقسیم ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت : واذ قالت امۃ منھم لم تعظون قوما اللہ مھلکھم او معذبھم عذابا شدیدا میں معنی ہوگا یونی شکار کرنے والوں نے نصیحت کرنے والوں کو اس وقت کہا جب انہوں نے انہیں نصیحت کی : جب تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہلاک کرنے والا ہے تو پھر تم ہمیں نصیحت کیوں کرتے ہو ؟ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بدروں میں بدل دیا۔ آیت : قالوا معذرۃ الی ربکم ولعلھم یتقون یعنی نصیحت کرنے والوں نے کہا : ہمارا تمہیں نصیحت کرنا تمہارے رب کی بارگاہ میں معذرت پیش کرتا ہے، یعنی بلاشبہ تمہیں نصیحت کرنا ہم پر واجب ہے شاید تم ڈرنے لگو۔ علامہ طبری نے یہ قول ابن کلبی سے بیان کیا ہے اور جمہور مفسرین نے کہا ہے : بیشک بنی اسرائیل تین گروہوں میں تقسیم ہوئے۔ اور آیت میں ضمائر سے یہی ظاہر ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے نافرمانی کی اور شکار کیا، وہ ستر ہزار کے قریب لوگ تھے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے منع کیا اور ان سے علیحدہ ہوگیا اور وہ بارہ ہزار تھے۔ اور ایک گروہ وہ ہے جو علیحدہ تو ہو گیا لیکن نہ اس نے انہیں روکا اور نہ خود نافرمانی کی۔ اور اسی گروہ نے منع کرنے والوں کو کہا : تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جو نافرمانی اور حکم عدولی کا ارادہ رکھتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں عذاب دینے والا ہے۔ انہوں نے یہ قول ظن غالب کی بنا پر کیا اور اس وقت نافرمان امتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل معبود نہ تھا، تو روکنے والوں نے کہا : ہمارا نصیحت کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگارہ میں معذرت پیش کرنا ہے شاید وہ ڈر جائیں، تقوی اختیار کرلیں۔ اور اگر دو گروہ ہوتے تو یقینا روکنے والے نافرمانوں کو کہتے : آیت : لعلکم تتقون، شاید تم ڈڑنے لگو۔ پھر اس کے بعد اختلاف ہوا ہے پس ایک گروہ نے کہا ہے : وہ گروہ جس نے نہ منع کیا اور نہ خود نافرمانی کی وہ نافرمانی کرنے والوں کے ستھ ہلاک ہوگیا اسے یہ سزا منع نہ کرنے پر دی گئی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے : میں اسے نہیں جانتا جو ان کے ساتھ کیا گیا۔ اور یہی آیت سے ظاہر ہے۔ اور عکرمہ (رح) نے کہا ہے : میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو اس وقت کہا جب انہوں نے یہ کہا میں اسے نہیں جانتا جو کچھ ان کے ساتھ کیا گیا : کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ انہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا جو وہ کر رہے تھے اور انہوں نے ان کی مخالفت کی تو انہوں نے کہا : تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے والا ہے ؟ پس میں اسی نظریہ پر رہا یہاں تک کہ میں نے انہیں پہچان کرادی کہ وہ نجات پا گئے، تو آپ نے مجھے حلی پہنایا۔ اور یہ حسن (رح) کا مذہب ہے۔ اور جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ صرف حدود سے تجاوز کرنے والا گروہ ہلاک ہوا کوئی اور نہیں وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : واخذنا الذین ظلموا ( اور ہم نے ان کو پکڑ لیا جنہوں نے ظلم کیا) اور یہ ارشاد ہے : آیت : ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت الایہ (البقرہ : 65) ( اور تم خوب جانتے ہو انہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی تم میں سے سبت کے قانون کی) عیسیٰ اور طلحہ نے معذرۃ کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور کسائی کے نزدیک اس کے نصب کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہے یہ ہے کہ یہ نصب مصدر ہونے کی بنا پر ہے۔ اور دوسری یہ ہے کہ تقدیر کلام ہے فعلنا ذالک معذرۃ۔ اور یہی حضرت حفص کی حضرت عاصم سے قراءت ہے۔ اور باقیوں نے اسے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور وہ پسندیدہ ہے، کیونکہ انہوں نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی نیا عذر پیش کریں جس پر انہیں ملامت کی گئی ہے، لیکن جب انہیں یہ کہا گیا : تم کیوں نصیحت کرتے ہو تو انہوں نے جوابا کہا : موعظتنا معذرہ ( ہماری نصیحت ایک معذرت ہے) اور اگر کوئی آدمی کسی آدمی کو کہے : معذرۃ الی اللہ والیک من کذا ( یعنی فلاں عمل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اور تیرے پاس معذرت ہے) تو اس سے مراد معذرت پیش کرنا ہوتا ہے، تو یہ یقینا منصوب ہوگا۔ یہ قول سیبویہ کا ہے۔ یہ آیت سد ذرائع کے قول پر دلیل ہے اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور تفصیلہ گفتگو اس باب میں بھی گزر چکی ہے کہ جنہیں مسخ کردیا گیا کیا ان کی آگے نسل چلی یا نہیں ؟ الحمد للہ۔ سورة آل عمران اور سورة المائدہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے کلام گزر چکا ہے اور سورة النساء میں فساد برپا کرنے والوں کے علیحدہ ہونے اور ان کے ایک طرف ہونے کا ذکر گزر چکا ہے اور یہ کہ جو ان کے پاس بیٹھا وہ ان کی مثل ہوگیا، پس دوبارہ ذکر کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

آیت نمبر : 165 نسیان کا اطلاق بھولنے والاے پر ہوتا ہے۔ اور عامد کا اطلاق ترک کرنے والے پر، کیونک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلما نسوا ما ذکروا بہ یعنی انہوں نے اسے بالا رادہ ترک کر یا۔ اور اس معنی میں یہ ارشاد گرامی ہے : نسو اللہ فنسیھم (التوبہ : 67) ( انہوں نے بھلا دیا اللہ کو تو ان نے بھی فراموش کردیا ہے انہیں) اور بعذاب بئیس کا معنی ہے شدید عذاب۔ اور اس میں گیارہ قرائتیں ہیں : (1) ابو عمرو، حمزہ اور کسائی کی قراءت فعیل کے وزن پر بئیس ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 213) (2) اہل مکہ کی قراءت بئیس با کے کسرہ کے ساتھ ہے اور وزن ایک ہی ہے ( 3) اہل مدینہ کی قراءت بیس ہے یعنی با مسکور ہے اس کے بعد یاء ساکن ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 869) اور اس کے بعد سین تنوین مکسور کے ساتھ ہے اور اس میں دو قول ہیں : کسائی نے کہا ہے : اس میں اصل بییس ہے ہمزہ میں تخفیف کی گئی ہے دو یا جمع ہوئی ہیں ان میں سے ایک کو حذف کردیا گیا ہے اور پہلے حرف کو کسرہ دیا گیا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : رغیف اور شھید۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد بئس فعل کے وزن پر ہے، پھر پہلے حرف کو کسرہ سے دیا گیا، ہمزہ میں تخفیف کی گئی اور کسرہ کو حذف کردیا گیا، جیسے کہا جاتا ہے : رحم ورحم (4) حسن کی قراءت میں با مکسور اس کے بعد ہمزہ ساکن اور اس کے بعد سین مفتوح ہے (5) ابو عبدالرحمن مقری نے بئیس با کو مفتوح، ہمزہ کو مکسور اور سین کو تنوین مکسور کے ساتھ پڑھا ہے (6) یعقوب القاری نے کہا ہے کہ بعض قراء سے بعذاب بئیس بھی مروی ہے یعنی با مفتوح، ہمزہ مکسور اور سین مفتوح ہے (7) اعمش کی قراءت فیعل کے وزن پر بیئس ہے اور ان سے بیائس، فیعل کے وزن پر بھی مروی ہے۔ اور آپ سے بئیس با مفتوح، ہمزہ مشدد مکسور اور سین تمام میں تنوین مکسور کے ساتھ مروی ہے۔ مراد اعمش کی قراءت ہے۔ (10) نصر بن عاصم کی قراءت بعذاب بئیس ہے یعنی با مفتوح اور یا مشدد بغیر ہمزہ کے ہے۔ یعقوب القاری نے کہا ہے کہ بعض قراء سے بئیس مروی ہے یعنی ب مکسور ہے اس کے بعد ہمزہ ساکن ہے اور اس کے بعد یا مفتوح ہے۔ پس یہ گیارہ قرائتیں ہیں جنہیں نحاس نے ذکر کیا ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا ہے : عرب کہتے ہیںٰ : جاء ببنات بیس یعنی وہ ردی شے لے کر آیا، پس بعذاب بئس کا معنی ہواب عذاب ردی۔ اور رہی حسن کی قراءت تو ابو حاتم کا گمان ہے کہ اس کی کوئی وجہ نہیں، انہوں نے کہا : کیونکہ یہ نہیں کہا جاتامررت برجل بئس، بلکہ کہا جاتا ہے : بئس الرجل یابئس رجلا۔ نحاس نے کہا ہے : یہ ابو حاتم کے کلام سے مرود ہے، نحویوں نے بیان کیا ہے : ان فعلت کذا او کذا فبھا ونتمت ( اگر تو نے اس طرح کیا تو بہتر ہے اور اچھا ہے) وہ مراد یہ لیتے ہیں فبھا و نعمت الخصلۃ ( یعنی خصلت اچھی ہے) اور حسن کی قراءت پر تقدیر کلام یہ ہوگی : بعذاب بئس العذاب۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

آیت نمبر : 166 قولہ تعالیٰ : آیت : فلما عتوا عن مانھو عنہ یعنی جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت میں حدود سے تجاوز کیا۔ قلنا لھم کونوا قردۃ خاسئین کہا جاتا ہے : خسأتہ فخسا یعنی میں نے اسے دور کردیا اور میں اسے بھگا دیا۔ سورة البقرہ میں پہلے اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ معافی اور گناہ عذاب کا سبب ہیں۔ اور اس میں کوئی خفا اور ابہام نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ سنائی دینے والے کلام کے ساتھ فرمایا، تو وہ اس طرح ہوگئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں بندر بنا دیا۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

آیت نمبر : 167 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اسلاف کو آگاہ کیا کہ وہ اگر تبدیل نہ ہوئے اور وہ نبی امی ﷺ کے ساتھ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسے شخص کو بھیج دے گا جو انہیں عذاب میں ڈال دے گا۔ او ابو علی نے کہا ہے : اذن مد کے ساتھ ہو تو بمعنی اعلم ( بنانا اور آگاہ کرنا) ہے اور اذن تشدید کے ساتھ ہو گو معنی نادی ( پکارنا، ندا دینا) ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ آزن اور اذن دونوں بمعنی اعلم ہیں، جیسے ایقن اور تیقن کہا جاتا ہے۔ زہری نے کہا ہے : فقلت تعلم ان للصید غرۃ فالاتضیعھا فانک قاتلہ اور ایک دوسرے نے کہا ہے : تعلم ان شر الناس حی ینادی فی شعارھم یسار یعنی یہ بمعنی علم ہے اور یسومھم کا معنی ہے وہ انہیں چکھائے گا۔ اور یہ پہلے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ کہا گیا ہے : اس سے مراد بخت نصر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرب مراد ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کی امت مراد ہے۔ اور یہی اظہر ہے، کیونکہ یہ یوم قیامت تک باقی رہنے والے ہیں۔ واللہ اعلم حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : آیت : سوء العذاب یہاں ان سے جزیہ لینا مراد ہے۔ اور اگر کہا جائے : ان کی شکلیں تو مسخ کردی گئیں، تو پھر ان سے جزیہ کیسے لیا جاسکتا ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ ان کے بیٹوں اور ان کی اولاد سے لیا جئاے گا۔ اور وہ ذلیل ترین قوم ہیں اور وہ یہودی ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 168) کہ انہوں نے کہا : آیت : سوء العذاب سے مراد خراج ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارے نبی مکرم ﷺ کے سوا کسی نبی (علیہ السلام) نے کبھی خراج لازم نہیں کیا، سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہی خراج وضع کیا اور اسے تیرہ برس تک لاگو رکھا اور پھر روک دیا۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

آیت نمبر : 168 قولہ تعالیٰ : آیت : وقطعنھم فی الارض امما یعنی ہم نے انہیں شہروں میں تقسیم کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کے معاملہ کو بکھیرنے اور پھیلانے کا ارادہ کیا ہے، پس کوئی کلمہ انہیں جمع نہیں کرسکا۔ مھم الصلحون یہ مبتدا ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ مراد وہ لوگ ہیں جو حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے ان میں سے کوئی تبدیلی نہیں کی اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے یا وہ لوگ مراد ہیں جو چین سے پرے ہیں، جیسا کہ ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : ومنھم دون ذلک یہ ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ نحاس نے کہا ہے : ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے رفع دیا ہو۔ مراد ان میں سے کافر لوگ ہیں۔ وبلونھم یعنی ہم نے انہیں آزمایا۔ بالحسنت یعنی کو شحالی اور عافیت کے ساتھ۔ والسیات یعنی خشک سالی اور سختیوں کے ساتھ۔ آیت : لعلھم یرجعون تاکہ وہ اپنے کفر سے لوٹ آئیں۔