7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے بنی آدم ! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔ اور کھاو اور پیو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

آیت نمبر : 31 اس میں سات مسئلے ہیں مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : یبنی ادم یہ خطاب سارے عالم کو ہے، اگرچہ اس سے مقصود عرب کے وہ لوگ ہیں جو ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے، کیونکہ یہ حکم ہر مسجد میں نماز کے لیے عام ہے، کیونکہ اعتبار عموم کا ہوتا ہے نہ کہ سبب کا۔ اور بعض علماء نے اس سے طواف مراد ہونے کا انکار کیا ہے، کیونکہ طواف تو صرف اور صرف ایک مسجد میں ہوتا ہے اور وہ جو ہر مسجد کو شامل ہے وہ نماز ہے۔ یہ قول ان کا ہے جن پر مقاصد شریعت مخفی رہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ایک عورت بیت اللہ شریف کا طواف کر رہی تھی اس حال میں کہ وہ برہنہ تن تھی اور کہہ رہی تھی : کون ہے جو مجھے طواف کے کپڑے عاریۃ دے گا ؟ ( کہ) وہ اسے اپنی شرمگاہ پر رکھ لے گی۔ اور کہہ رہی تھی : الیوم یبدو بعضہ اوکلہ وما بدا منہ فلا احلہ (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 77) تب یہ آیت نازل ہوئی : آیت : خذوا زینتکم عند کل مسجد اور یہ عورت ضباعۃ بنت عامر بن قرط تھی۔ یہ حضرت قاضی عیاض (رح) نے کہا ہے۔ اور صحیح مسلم میں ہشام بن عروہ عن ابیہ کی سند سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : عرب لوگ بیت اللہ شریف کا طواف ننگے بدن کرتے تھے سوائے حمس کے اور حمس سے مراد قریش اور ان کی اولاد ہے، وہ ننگے بدن طواف کرتے رہتے تھے مگر یہ کہ قریش انہیں کپڑے عطا کردیں پس مرد مردوں کو دیتے تھے اور عورتیں عورتوں کو دیتی تھیں۔ اور قریش مزدلفہ سے نہیں نکلتے تھے اور سارے کے سارے لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے۔ اور مسلم کے سوا کسی اور میں ہے : وہ کہتے تھے ہم اہل حرم ہیں، پس عربوں میں سے کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ہمارے کپڑوں کے بغیر طواف کرے اور جب وہ ہماری سر زمین میں داخل ہوجائے تو پھر وہ ہمارے کھانے کے سوا کھانا نہ کھائے، پس عرب میں سے جس کا مکہ مکرمہ میں کوئی دوست نہ ہوتا تو اسے کپڑا عاریۃ دیتا اور نہ کوئی ایسا خوشحال ہوتا جو اسے اس کے عوض اجرت پر رکھ لیتا تو اس کے لیے دو میں سے ایک امر ضروری ہوتا کہ یہ تو وہ ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرے یا وہ اپنے کپڑوں میں طواف کرے اور جب وہ اپنے طواف سے فارغ ہو تو اپنے لباس اتار کر پھینک دے اور پھر اسے کوئی بھی مس نہ کرے۔ اور اس کپڑے کو اللقی ( پھینکا ہوا) کہا جاتا تھا۔ عرب کے کسی کہنے والے نے کہا ہے : کفی حزنا کری علیہ کا نہ لقی بین ایدی الطائفین حریم (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 77) چناچہ وہ اسی جہالت، بدعت اور گمراہی پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ کو مبعوث فرمایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : یبنی ادم خذوا زینتکم، الایہ اور رسول اللہ ﷺ کے منادی نے یہ اعلام کیا : الا لا یطوف بالبیت عریاں ( خبردار ! غور سے سنو ! کوئی بھی ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے) میں ( مفسر) کہتا ہوں : اور جنہوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد نماز ہے اور اس کی زینت جوتا ہے، کیونکہ کرز بن وبرہ نے اسے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ نے ایک دن فرمایا : خذوا زینۃ الصلوٰۃ ( تم نماز کی زینت کو اخیتار کرو) تو عرض کی گئی : نماز کی زینت کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : البسوا نعالکم فصلوا فیھا ( تم اپنے جوتے پہن لو اور ان میں نماز پڑھو) مسئلہ نمبر 2۔ یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ ستر عورت واجب ہے جیسے پہلے گزر چکا ہے اور جمہور اہل علم نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ نماز کے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ اور ابہری نے کہا ہے : یہ بھی من جملہ ایک فرض ہے اور آدمی پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپے رکھے چاہے وہ نماز میں ہو یا نہ ہو۔ اور یہی صحیح ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت مسور بن مخرمہ ؓ کو فرمایا : ” اپنے کپڑے کی طرف لوٹ جا اور اسے لے لو اور تم ننگے بدن نہ چلو “ (صحیح مسلم، کتاب الحیض، جلد 1، صفحہ 154 ) ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل قاضی نے یہ کہا ہے کہ ستر عورت نماز کی سنتوں میں سے ہے اور استدلال اس طرح کیا ہے کہ اگر ستر عورت نماز میں فرض ہوتا تو ننگے آدمی کے لیے نماز پڑھنا جائز نہ ہوتا، کیونکہ ہر وہ سے جو نماز میں فرض ہے اس پر قدرت ہوتے ہوئے اس پر عمل کرنے یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے بدل کو لانا واجب ہوتا ہے، یا پھر ساری کی ساری نماز ساقط ہوجائے گی، حالانکہ صورت حال اس طرح نہیں ہے۔ ابن عربی نے کہا ہے : جب ہم نے کہا ہے کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے اور امام کا تہبند گر جائے اور اس کی دبر ننگی ہوجائے اور وہ رکوع کی حالت میں ہو اور وہ اپنا سر اٹھائے اور اسے ڈھانپ لے تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے، یہ ابن قاسم نے کہا ہے۔ اور سحنون نے کہا ہے : مقتدیوں میں سے جس کی نظر اس پر پڑگئی تو وہ اپنی نماز کا اعادہ کرے۔ اور سحنون سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ (امام) بھی نماز کا اعادہ کرے گا اور مقتدی بھی اعادہ کریں گے، کیونکہ ستر عورت نماز کی شرائط میں سے ایک شرط ہے اور جب شرمگاہ ظاہر ہوجائے تو نماز باطل ہوجائے گی۔ اس کی اصل طہارت ( پاکیزگی) ہے۔ قاضی ابن عربی نے کہا ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 780) ؟ جنہوں نے کہا ہے کہ ان کی نماز باطل نہ ہوگی تو انہوں نے کسی شرط کو مفقود نہیں پایا۔ اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ (اس کپڑے کو) اپنی جگہ باندھ لے اس کی نماز صحیح ہوگی اور اس کی نماز باطل ہوگی جس نے اس کی طرف دیکھ لیا تو یہ ایسی غلطی ہے جسے مٹانا واجب ہوتا ہے اور اس میں مشغول ہونا جائز نہیں۔ اور بخاری اور نسائی میں حضرت عمرو بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب میرے قوم حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس سے واپس لوٹ کر آئی تو انہوں نے بتایا آپ ﷺ نے فرمایا : لیومکم اکثرکم قراۃ للقرآن (سنن نسائی، کتاب القبلہ، جلد، 1، صفحۃ 125) ( چاہیے کہ تم میں سے زیادہ قرآن کریم پڑھنے والا تمہاری امامت کرائے) اس نے بیان کیا : پس انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع و سجود کے بارے سکھایا۔ پس میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور مجھ پر پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ اور وہ میرے باپ کو کہتے تھے : کہا تو اپنے بیٹے کی دبر ہم سے ڈھانپ نہیں سکتا۔ یہ الفاظ نسائی کے ہیں۔ اور حضرت سہل بن سعد سے ثابت ہے کہ انہوں نے کہا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گردنوں میں باندھے ہوتے تھے جیسے بچے کرتے ہیں۔ تو کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کے گروہ ! تم اپنے سر (سجدوں سے) نہ اٹھاؤ یہاں تک کہ مرد (پہلے) اٹھالیں (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 92) ۔ اسے بخاری، نسائی اور ابو داؤد نے بیان کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ جب کوئی شرمگاہ کو دیکھے تو اس کے بارے ائمہ کے مابین اختلاف ہے۔ پس امام شافعی (رح) نے کہا ہے جب کپڑا تنگ ہو تو وہ اسے بٹن لگا لے یا اسے کسی شے کے ساتھ سی لے تاکہ قمیص دور نہ ہٹے کہ گریبان سے شرمگاہ دکھائی دے، اگر اس نے ایسا نہ کیا اور اپنی شرمگاہ دیکھ لی وہ اپنی نماز کا اعادہ کرلے۔ اور یہی امام احمد (رح) کا قول ہے۔ امام مالک نے حالت نماز میں قمیص کے بٹنوں کو کھلا رکھنے کی رخصت دی ہے اور وہ شلوار ( پائجامہ) پہنے ہوئے ہو۔ اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ اور ابو ثور رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی قول ہے۔ اور حضرت سالم کھلے بٹنوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ اور داؤد الطائی نے کہا ہے : جب ڈاڑھی بڑی ہو تو اس کے ساتھ کوئی حرج نہیںٰ ہے۔ اور اسی معنی کو اثرم نے امام احمد بن حنبل (رح) سے بیان کیا ہے۔ پس اگر وہ امام ہو تو وہ نماز نہیں پڑھائے گا مگر اپنی چادر اوٹھ کر، کیونکہ یہ زینت میں سے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : زینت میں سے نماز جوتوں میں پڑھنا بھی ہے۔ اسے حضرت انس ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : نماز کی زینت رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے : ہر شے کے لیے زینت ہوتی ہے اور نماز کی زینت تکبیر اور فع یدین ہے۔ اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ تم پر وسعت فرمائے تو بھی اپنے آپ کو وسعت دو (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 53 ) ، آدمی اپنے اوپر اپنے کپڑے جمع کرے، نماز پڑھے ازار (تہبند) اور ردا ( اوپر چڑھنے والی چادر) میں، ازار اور قمیص میں، ازار اور قبا ( میں) شلوار اور ردا میں، شلوار اور قمیص میں، شلوار اور قبا میں۔ اور میں تو گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے فرمایا : تبان ( اتنا قلیل کپڑا جس سے صرف شرمگاہ ڈھانپی جاسکے) اور قمیص میں، تبان اور ردا میں، اور تبان اور قبا میں۔ بخاری اور دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وکلواواشربوا ولا تسرفوا حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہر اس شی کا کھاناپینا حلال قرار دیا ہے جب تک وہ فضول خرچی یا تکبر و نخوت ہو (تفسیر ابن عباس، جلد 1، صفحہ 420 ) ۔ اور رہی وہ شی جس کی حاجت اور ضرورت ہوتی ہے وہ ہے جو بھوک کا ازالہ کر دے، پیاس میں سکون عطا کردے، پس اسے عقلا اور شرعا کھانا مستحب ہے، کیونکہ اس میں جان کی حفاظت اور حواس کی نگہداشت ہے، اسی لیے شریعت نے صوم وصال سے منع کیا ہے، کیونکہ وہ جسم کو کمزور کردیتا ہے اور نفس کو مار دیتا ہے اور عبادت سے کمزور کردیتا ہے اور اسی وجہ سے شریعت اس سے منع کرتی ہے اور عقل اس کا دفاع کرتی ہے، اور جس نے حاجت اور ضرورت کی مقدار سے بھی اپنے آپ کو روک کر رکھا تو اس کے لیے نہ کوئی نیکی میں سے حصہ اور نہ ہی زہد میں ہے، کیونکہ عجز اور ضعف کے سبب وہ طاعت و عبادت کے جس عمل سے محروم ہوا ہے وہ اجر وثواب کے اعتبار سے زیادہ اور عظیم ہے۔ اور حاجت و ضرورت کی مقدار سے زائد کے بارے میں دو مختلف قول ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حرام ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مکروہ ہے۔ ابن عربی نے کہا ہے : یہی صحیح ہے (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 781) ، کیونکہ سیر ہونے کی مقدار شہروں اور زمانوں کے اختلاف کے سبب مختلف ہوتی ہے اور اسی طرح دانت اور اشتہاء طعام بھی اس میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ کم کھانے میں کثیر فوائد ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ آدمی جسم کے اعتبار سے صحت مند ہوتا ہے، قوت حفظ کے اعتبار سے عمدہ واعلیٰ اور فہم کے اعتبار سے انتہائی ذکی اور ذہین ہوتا ہے، نیند کم ہوتی ہے اور جان ہلکی پھلکی رہتی ہے اور زیادہ کھانے میں معدہ بوجھل اور بدہضمی کی بو ہوتی ہے اور اسی سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اس کی نسبت زیادہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے جتنی کم کھانے کی صورت میں ہوتی ہے۔ اور بعض حکماء نے کہا ہے : اکبر الدواء تقدیر الغذاء (سب سے بڑھ کر دو اغذا کی ایک مقدار مقرر کرنا ہے) اور حضور نبی مکرم ﷺ نے اس معنی کو انتہائی شافی بیان کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور وہ اطباء کے کلام سے مستغنی کردیتا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ما ملاآدمی دعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم لقیمات یقمن صلبہ فان کان لا محالۃ فثلث لطعامہ وثلث لشرابہ وثلث لنفسہ (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 60) ( انسان ہونے کے اعتبار سے آدمی پیٹ کے برتن کو جس شی سے بھر سکتا ہے وہ چند لقمے ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھتے ہیں اور اگر ضروری بھی ہو تو پھر ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی مشروبات کے لیے اور ایک تہائی اس کے سانس کے لیے ہو) ترمذی نے حضرت مقدام بن معدیکرب کی حدیث سے اسے روایت کیا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اگر بقراط یہ تقسیم سن لیتا تو بالیقین اسے اس حکمت پر تعجب ہوتا۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ رشید کے پاس ایک عیسائی ماہر حکیم تھا تو اس نے حضرت علی ابن الحسین ؓ کو کہا : تماری کتاب میں علم طب کی کوئی شی نہیں ہے اور علم دو طرح کا ہے : ایک علم الادیان اور ایک علم الابدان۔ تو حضرت علی نے اسے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ساری طب کو ہماری کتاب کی نصف آیت میں جمع کردیا ہے۔ تو اس نے پوچھا : وہ کون سی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وکلو واشربوا ولا تسرفوا۔ پھر نصرانی نے کہا : تمہارے رسول ﷺ سے علم طب کی کوئی شی مروی نہیں ہے۔ تو حضرت علی نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے تھوڑے الفاظ میں ساری طب کو جمع کردیا ہے۔ اس نے پوچھا : وہ کہا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : المعدۃ بیت الآدواء والحمیۃ راس کل دواء واعط کل جسد ما عودتہ ( معدہ بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز دوا کی اسل ہے اور تو ہر جسم کو وہ دے جس کا تو نے اسے عادی بنایا ہے) تو نصرانی بولا : ما ترک کتابکم ولانبیکم لجالینوس طبا (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 100) ( تمہاری کتاب اور تمہارے نبی (علیہ السلام) نے جالینوس کی طب کی کوئی شے چھوڑی نہیں نہیں) میں (مفسر) کہتا ہوں : کہا جاتا ہے بیشک مریض کا علاج دو حصوں میں منقسم ہے : نصف دوا ہے اور نصف پرہیز ہے۔ پس اگر یہ دونوں جمع ہوں تو مریض تندرست اور صحت یاب ہوجائے گا، ورنہ اس میں پرہیز اولیٰ اور بہتر ہے، کیونکہ پرہیز ترک کرنے کے ساتھ دوا فائدہ نہیں دیتی، حالانکہ پرہیز دوا چھوڑ دینے کے باوجود فائدہ دیتی ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اصل کل دواء الحمیۃ ( ہر دوا کی اص پرہیز ہے) اس کا یہ معنی بیان کیا گیا ہے کہ پرہیز ہر دوا سے غنی کردیتا ہے۔ واللہ اعلم اور اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہند کا بڑا علاج پرہیز ہے، مریض کھانے، پینے کلام سے چند دن تک پرہیز کرتا ہے تو وہ تندرست اور صحت یاب ہوجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5، مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ (صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، جلد 2، صفحہ 186) ۔ اور یہ آپ ﷺ کی جانب سے دنیا میں سے انتہائی قلیل حاصل کرنے اور اس میں انتہائی زید و قناعت اختیار کرنے پر برانگیختہ کرتا ہے اور عرب کم کھانے کے سبب مدح و تعریف کرتے ہیں اور زیادہ کھانے کے سبب مذمت کرتے ہیں، جیسا کہ ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا ہے : تکفیہ فلذۃ کبد ان الم بھا من الشواء ویروی شربہ الغمر اسے جگر کا ایک ٹکڑا کافی ہوتا ہے اگر وہ روسٹ شدہ میں سے اس پر اصرار کرے اور ایک چھوٹا سا پیالہ اس کی پیاس کو بجھا دیتا ہے۔ اور ام زرع نے ابی زرع کے بارے کہا ہے : بھیڑ کے چار ماہ کے بچے کے بازو اسے سیر کرتے ہیں۔ اور حاتم طائی نے زیادہ کھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے : فانک ان اعطیت بطنک سؤلہ وفرجک نالا منتھی الذم اجمعا اگر تو پیٹ اور فرج کو اس کی خواہش کے مطابق دیتا رہے گا تو وہ دونوں مذمت کی انتہا کو پالیں گے۔ اور علام خطابی (رح) نے کہا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے ارشاد : المومن یا کل فی معی وحد (صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، جلد 2، صفحہ 186) کا معنی یہ ہے کہ پیٹ بھرنے سے کم کھاتا ہے اور وہ اپنے نفس پر دوسرے کو ترجیح دیتا ہے اور وہ اپنے کھانے میں دوسرے کے لیے باقی رکھتا ہے۔ اور جو کچھ وہ کھالے اسی پر وہ قناعت کرلیتا ہے۔ پہلی تاویل اولیٰ اور بہتر ہے۔ واللہ اعلم اور حضور ﷺ کے ارشاد : والکافر یا کل فی سبعۃ امعاء ( صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، جلد 2، صفحہ 186) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عموم پر نہیں ہے، کیونکہ مشاہدہ اس کی تائید نہیں کرتا، کیونکہ کبھی مومن کی نسبت کافر کم کھانے والاپایا جاتا ہے اور کبھی کافر اسلام قبول کرتا ہے لیکن اس کا کھانا کم وبیش نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا اشارہ ایک معین ( فرد) کی طرف ہے۔ ایک کافرحضور نبی مکرم ﷺ کے پاس مہمان ٹھہرا، کہا جاتا ہے کہ وہ جہجاہ غفاری تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمامہ بن اثال تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نضلہ بن عمرو غفاری تھا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ بصرہ بن ابی بصرہ غفاری تھا۔ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا، پھر صبح کے وقت اس نے اسلام قبول کرلیا تو پھر اس نے ایک بکری کا دودھ پیا اور اسے بھی مکمل طور پر نہ پی سکا۔ تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا (جامع ترمذی، باب ما جاء ان المومن یا کل فی معی واحد، حدیث نمبر 1741، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) گویا کہ آپ نے اس طرح فرمایا : ھذا الکافر ( یہ کافر) واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دل جب نور توحید کے ساتھ منور ہوجاتا ہے تو وہ طاعت و عبادت کے لیے تقوی کی آنکھ سے کھانے کی طرف دیکھتا ہے اور اس سے بقدر حاجت لے لیتا ہے اور جب وہ کفر کے ساتھ تاریک تھا اس کا کھانا ایسا تھا جیسے چوپایہ چرتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے پتلا پاخانہ کردیتا ہے۔ اور ان آنتوں میں اختلاف ہے، کیا یہ حقیقی مراد ہیں یا نہیں ؟ تو کہا گیا ہے کہ مراد حقیقی انتڑیاں ہیں اور طب و تشریح کے علماء کے نزدیک ان کے معروف نام ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ان سات اسباب میں سے کنایہ ہیں جن کے ساتھ پیٹو کھاتا ہے : وہ حاجت اور ضرورت کے لیے، کوئی خبر سننے کے لیے، چکھنے کے لیے، سونگھنے کے لیے، دیکھنے کے لیے، مس کرنے کے لیے کھاتا ہے اور فوائد و منافع میں اضافہ کرتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ وہ اس کے کھانے کی مثل کھاتا ہے جس کی سات انتڑیاں ہوں۔ اور مومن اپنے کم کھانے کے سبب اس کی مثل کھانا کھاتا ہے جس کی صرف ایک آنت ہوتی ہے، پس وہ کافر کے ساتھ اس کے کھانے کے اجزاء میں ایک جز کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور کافر اس پر سات گناہ زیادہ ہوتا ہے۔ اور معی کا لفظ اس حدیث میں معدہ کے معنی میں ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ ج ب یہ پختہ ہوگیا تو پھر جان لے کہ آدمی کے لیے کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھوں کو دھونا مستحب ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : الوضوء قبل الطعام وبعدہ برکۃ ( سنن ابی داؤد، کتاب الاطعمۃ، جلد 2، صفحہ 172) ( کھانے سے پہلے اور بعد وضو کرنا ( ہاتھ دھونا) باعث برکت ہے) اور اسی طرح تورات میں ہے۔ اسے زاذان نے سلمان سے روایت کی ا ہے۔ اور امام مالک پاک صاف ہاتھوں کو دھونا مکروہ قرار دیتے ہیں، لیکن حدیث طیبہ کی اقتداوپیروری کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔ اور کوئی ( آدمی) کھانا نہ کھائے یہاں تک کہ یہ جان لے کہ آۃ یا وہ گرم ہے یا ٹھنڈا ؟ کیونکہ اگر وہ گرم ہوگو تو اسے تکلیف اور اذیت ہوگی۔ اور رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ابردوا بالطعام فان الحار غیر ذی برکۃ (کنز العمال، جلد 15، صفحہ 249، حدیث نمبر 40802) ( کھانے کو ٹھنڈا کرلو کیونکہ گرم کھانا برکت والا نہیں ہوتا) یہ حدیث صحیح ہے۔ اور سورة البقرہ میں پہلے گزر چکی ہے۔ اور کھانے کو سونگھے نہیں کیونکہ یہ چوپاؤں کا عمل ہے، بلکہ اگر اسے پسند ہو تو اسے کھالے اور اگر پسند نہ ہو تو اسے چھوڑ دے۔ اور لقمہ چھوٹا بنائے اور اسے زیادہ دیر تک چبائے تاکہ پیٹو اور حریص شمار نہ ہو۔ اور شروع میں بسم اللہ شریف پڑھے اور آخر میں الحمد کہے۔ اور یہ مناسب نہیں کہ وہ الحمد للہ کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے مگر اس صورت میں کہ اس کے ساتھ کھانے میں شریک تمام ساتھی کھانے سے فارغ ہوجائیں، کیونکہ آواز بلند کرنے میں انہیں کھانے سے روکنے کی طرف اشارہ ہے۔ کھانے کے آداب بہت زیادہ ہیں، یہ تمام انہیں میں سے ہیں۔ اور ان میں سے بعض سورة ہود میں آئیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور پینے کے بھی معروف آداب ہیں۔ ان کے مشہور ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذا اکل احدکم فلیاکل بیمینہ واذا شرب فلیشرب بیمینہ فان الشیطان یا کل بشمالہ ویشرب بشمالہ (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، جلد 2، صفحہ 172) ( جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے دائیں ہاتھ سے کھانا چائیے اور جب کوئی مشروب پیے تو اسے دائیں ہاتھ سے پینا چاہیے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے) مسئلہ نمبر 7، قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تسرفوا یعنی کھانے کی کثرت میں ( تم فضول خرچی نہ کرو) اور اس میں سے کثرت شرب بھی ہو سکتا ہے، اس لیے کہ ( زیادہ کھانا یا پینا) معدے کو بوجھل کردیتا ہے اور یہ آدمی کو اپنے مالک کی خدمت سے روک لیتا ہے اور خیر اور نیکی کے اضافی کاموں میں حصہ لیے سے روک دیتا ہے۔ اور اگر اس نے اس حد سے انتہائی تجاوز کرلیا کہ فرض قیام سے اس نے روک دیا تو یہ اس پر حرام ہوجائے گا، حالانکہ اس نے اپنے کھانے اور پینے میں اسراف اور زیادتی کی ہے۔ اس بن موسیٰ نے عون بن ابی جحیفہ عن ابیہ کی حدیث روایت کی ہے اس نے بیان کیا : میں نے موٹے گوشت کے ساتھ ثرید بنا کر کھایا، پھر میں حضور نبی مکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں ( معدہ بھر جانے کے سبب) ڈکار لے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ” ابا جحیفہ ! اپنے ڈکار روک لے، کیونکہ دنیا میں اکثر لوگ پیٹ بھرے ہوتے ہیں قیامت کے دن ان کی بھوک طویل ہوجائے گی “ (کنز العمال، جلد 3، صفحہ 217، حدیث نمبر 6220 ) ۔ پس اس کے بعد ابو جحیفہ نے کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا یہاں تک کہ دنیا سے وصال فرمائے گئے، وہ جب صبح کا کھانا کھالیتے تھے تو شام کا نہ کھاتے تھے اور جب کہیں شام کا کھاتے تو پھر صبح کا کھانا نہ کھاتے تھے۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد : المومن یا کل فی معی واحد (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، جلد 2، صفحہ 186) کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے یعنی ایمان تام، کیونکہ آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے ایمان کا کمال یہ ہے کہ ابو جحیفہ کی طرح ایسے امور میں فکر کرتا ہے جو اسے موت اور اس کے بعد پیش آئیں گے اور ان اہوال میں سے خوف اور ڈر سے اپنی شہوت کو پورا کرنے سے مانع ہوتے ہیں۔ ( واللہ اعلم) اور ابن زید نے کہا ہے : آیت : ولا تسرفوا کا معنی ہے : تم حرام نہ کھاؤ (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 218) ۔ اوعر یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ السرف سے ماخوذ ہے ( اس کا معنی ہے) کہ تو ہر وہ شی کھائے جس کی تجھ میں طلب اور چاہت پیدا ہو (سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، جلد 1، صفحہ 248 ) ۔ اسے انس بن مالک ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اسراف سے ماخوذ ہے ( اس کا معنی ہے) پیٹ بھرنے کے بعد مزید کھانا۔ اور یہ سب ممنوع ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا : اے بیٹے ! (ایک بار) پیٹ بھرنے کے اوپر مزید پیٹ بھر کر نہ کھاج، کیونکہ تیرا اسے کتے کے لیے ڈال دینا اس میں سے بہتر ہے کہ تو اسے کھائے۔ اور حضرت سمرہ بن جندب ؓ نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا : اس نے کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا : اسے گزشتہ رات بدہضمی ہوگئی۔ آپ نے کہا : اسے بدہضمی ہوئی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ آپ نے فرمایا : بلاشبہ اگر وہ مر جاتا تو میں اس پر نماز نہ پڑھتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرب لوگ زمانہ جاہلیت میں اپنے ایام حج میں چکنائی نہ کھاتے تھے اور کھانے کی قلیل مقدار پر اکتفا کرتے تھے اور ننگے بدن طواف کرتے تھے۔ تو ان کو فرمایا گیا : آیت : خذوا زینتکم عند کل مسجد و کلوا واشربوا ولا تسرفوا یعنی تم اس شے کو حرام کرنے میں زیادتی اور اسراف نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام نہیں کیا۔
Ayahs 7:32–33

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا اس کو حرام کس نے کیا ہے کہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کیلئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھتے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔

آیت نمبر :32 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر۔ 1 قولہ تعالیٰ : آیت : قل من حرم زینۃ اللہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی طرف سے ایسی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام نہیں کیا۔ یہاں زینت کا لفظ خوبصورت اور حسین لباس کے لیے ہے، جب اسے پہننے والا اس پر قادر ہو۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : مراد تمام کپڑے ہیں، جیسے حضرت عمر ؓ سے مروی ہے : اذا سع اللہ علیکم فاوسعوا (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 52) ( جب اللہ تعالیٰ تمہیں وسعت اور خوشحالی عطا فرمائے تو تم بھی اپنے نفسوں کو راحت اور وسعت عطا کرو) یہ قول پہلے بھی گزر چکا ہے۔ حضرت علی بن حسین ابن ابی طالب ؓ جو حضرت امام مالک (رح) کے شیخ ہیں۔ ان کے بارے روایت ہے کہ وہ ریشم اور اون سے بنا ہوا کپڑا پچاس دینار کے عوض خرید کر موسم سرما میں وہ لباس پہنتے تھے اور جب گرمیوں کا موسم آتا تو اسے صدقہ کردیتے تھے یا اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کردیتے اور موسم گرما میں وہ مصری کپڑوں میں سے سرخ مٹی سے رنگے ہوئے دو کپڑے پہنتے تھے اور یہ کہتے تھے : آیت : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق۔ مسئلہ نمبر 2۔ اور جب صورت حال یہ ہے تو یہ آیت قیمتی اور عمدہ لباس پہننے اور جمعہ اور عید کے دنوں میں لباس کے ساتھ حسن و جمال کا اظہار کرنے پر دلیل ہے، ( اسی طرح) لوگوں سے ملاقات کرنے کے وقت اور بھائیوں کی زیارت و ملاقات کے وقت حسین لباس پہننے پر بھی دلیل ہے۔ ابو العالیہ نے کہا ہے : مسلمان جب آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں تو وہ حسن و جمال کا اہتمام کریں۔ اور صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، جلد 2، صفحہ 189) کہ انہوں نے ایک ریشمی حلہ دیکھا جو مسجد کے دروازے کے پاس بیچا جا رہا تھا، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ اگر آپ اسے جمعہ کے دن پہننے کے لیے اور وفود سے ملاقات کے وقت پہننے کے لیے خرید لیں جب وہ ( وفود) آپ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انما یلبس ھذا من لا خالق لہ فی الاخرۃ ( صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 122) ( اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو) تو اس میں آپ نے تجمل و خوبصورتی کے سبب اس کا انکار نہیں کیا، بلکہ اس کے ریشمی ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کیا، حالانکہ حضرت تمیم دارمی ؓ نے ایک ہزار درہم کے عوض ایک حلہ خریدا آپ اس میں نماز پڑھتے تھے۔ اور حضرت مالک بن دینار عدن کا بنا ہوا عمدہ کپڑا پہنتے تھے۔ اور امام احمد بن حنبل (رح) کا کپڑا تقریبا ایک دینار کے عوض خریدا جاتا تھا۔ یہ کہاں ان میں سے ہیں جن سے اعراض کیا جاتا ہے اور آپ کھدر کے لباس کو السی اور اون کے کپڑوں پر ترجیح دیتے تھے۔ اور فرماتے : آیت : و لباس التقوی ذلک خیر غور کرو ! جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کیا آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ انہوں نے تقوی کا لباس ترک کردیا ؟ نہیں۔ قسم بخدا ! بلکہ وہ تو اہل تقوی ہیں اور صاحب عقل وعرفان ہیں اور ان کے سوا صرف اہل دعوی ہیں، ان کے دل تقوی سے خالی نہیں۔ خالد بن شوذب نے کہا ہے : میں حسن کے پاس حاضر تھا اور ان کے پاس فرقد آیا اور حسن نے اسے اس کے کپڑوں سے پکڑا اور سے اپنی طرف کھینچ لیا اور فرمایا : اے فریقد، اے ام فریقد کے بیٹے ! بیشک نیکی اس لباس میں نہیں ہے، بلکہ نیکی وہ ہے جو سینے میں راسخ ہو اور عمل اس کی تصدیق کرے۔ اور میرے بھتیجے ابو محمد معروف بالکرخی ابو الحسن بن یسار کے پاس تشریف لے گئے اور وہ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے، تو ابو الحسن نے انہیں کہا : اے ابا محمد ! تو نے اپنے دل کو صوفی بنایا ہے یا اپنے جسم کو ؟ اپنے دل کو صوفی بنا اور اپنے بدن کو قہستانی کپڑا پہنا۔ ایک آدمی نے حضرت شبہ (رح) کو بتایا : آپ کے اصحاب ( ساتھیوں) کی ایک جماعت آئی ہے اور وہ جامع میں ہیں، پس آپ چلے اور آپ نے ان پر پیوند لگے ہوئے کپڑے اور پیٹیاں ( چھوٹے چھوٹے رومال) دیکھیں تو آپ یہ کہنے لگے : اما الخیام فانھا کخیامھم واری نساء الحی غیر نسائہ ” جہاں تک خیموں کا تعلق ہے تو یہ ان کے خیموں کی طرح ہیں اور میں محلے کی عورتوں کو اجنبی عورتیں دیکھ رہا ہوں “۔ ابو الفرج ابن جوزی (رح) نے کہا ہے : میں چار وجہ سے پٹیاں اور پیوند لگے کپڑے پہننا ناپسند کرتا ہوں : ایک تو اس لییے کہ یہ اسلاف کا لباس نہیں ہے، بلاشبہ وہ اہم ضرورت کے وقت پیوند لگاتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لباس فقر و افلاس کے دعوی کو متضمن ہوتا ہے، حالانکہ آدمی کو حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اثر کو ظاہر کرے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اس میں زہد کا اظہار ہے، حالانکہ ہمیں اسے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور چوتھی وجہ یہ ہے یہ ان لوگوں کے ساتھ مشابت ہے جو شریعت سے دور ہٹنے والے ہیں۔ اور جو کسی قوم کے ساتھ مشابتہ رکھتا ہے وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : اس نے خطا اور غلطی کی ہے جس نے بالوں اور اون کے لباس کو روئی اور کتان کے لباس پر ترجیح دی ہے، بشرطی کی وہ اس کا لباس پہننے کی قدرت رکھتا ہو۔ اور جس نے سبزی اور دال کھائی اور اسے گندم کی روٹی کی نسبت زیادہ پسند کیا۔ اور جس نے اس خوف سے گوشت کھانا چھوڑ دیا کہ اس سے اس میں عورتوں کی خواہش اور طلب پیدا ہوگئی۔ حضرت بشربن حارث سے اونی لباس کے بارے پوچھا گیا، تو ان پر یہ شاق گزرا اور ان کے چہرے میں کراہیت اور ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے، پھر فرمایا : شہروں میں میرے نزدیک خز ( ریشم) اور معصفر پہننا اون پہننے سے زیاد پسندیدہ ہے۔ ابو الفرج نے کہا ہے : اسلاف متوسط لباس پہنتے تھے، نہ زیادہ اعلیٰ اور نہ زیادہ گھٹیا اور وہ جمعہ، عید اور بھائیوں سے ملاقات کے لیے عمدہ اور خوبصورت لباس پسند کرتے تھے اور ان کے نزدیک عمدہ لباس پسند کرتا، قبیح نہیں تھا۔ اور رہا وہ لباس جو اپنے پہننے والے کے لیے عیب ہوتا ہے، چونکہ وہ اظہار زہد اور اظہار فقر کو متضمن ہوتا ہے، تو گویا وہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کی زبان ہے اور یہ پہننے والے کی حقارت اور ذلت کو ثابت کرتا ہے۔ اور یہ سب مکروہ ہے اس سے منع کیا گیا ہے۔ اور کوئی کہنے والا کہے : لباس کا عمدہ اور ارفع ہونا تو نفس کی خواہش ہے، حالانکہ ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر اس میں (اعلیٰ اور قیمتی لباس میں) مخلوق کے لیے تزیین و آرائش ہے، حالانکہ ہمیں حکم یہ دیا گیا ہے کہ ہمارے افعال اللہ تعالیٰ ( کی خوشنودی) کے لیے ہوں نہ کہ مخلوق کے لیے۔ تو جواب یہ ہے کہ وہ ہر شی ( یا عمل) جس کی خواہش نفس کرتا ہے وہ قابل مذمت نہیں ہوتی، لہٰذا لوگوں کے لیے جو بھی زیب وزینت کی جائے گی وہ مکروہ نہ ہوگی۔ البتہ اس سے ضورر روکا کا ئے گا جب شریعت نے اس سے منع کیا ہو یا دین کے معاملے میں ریا کی وجہ سے ( اس سے منع کیا جائے گا) کیونکہ انسان کے لیے واجب ہے کہ وہ خوبصورت دکھائی دے۔ یہ نفس کا وہ حصہ ہے جو قابل ملامت نہیں، اسی وجہ سے وہ اپنے بالوں میں کنگھی کرتا ہے اور شیشے میں دیکھتا اور اپنی دستار کو درست کرتا ہے اور وہ ایسا لباس پہنتا ہے جس کا کپڑا اندر کی جانب سے کھردرا ہوتا ہے اور باہر کی جانب سے اس کا ظاہر انتہائی حسین اور خوبصورت ہو تو ہے۔ اور اس میں کوئی ایسی شی نہیں ہے جو مکروہ ہو اور نہ ہی اس کی مذمت کی جاسکتی ہے۔ حضرت مکحول نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کا ایک گروہ دروازے پر آپ کا انتظار کر رہا تھا، تو آپ ﷺ ان کے ارادہ سے باہر تشریف لائے اور گھر میں ایک برتن تھا جس میں پانی تھا، تو آپ ﷺ پانی میں دیکھنے لگے اور اپنی ریش مبارک اور اپنے بال سیدھے اور درست فرمانے لگے۔ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ بھی یہ کر رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نعم اذا خرج الرجل الی اخوانہ فلیھی من نفسہ فان اللہ جمیل یحب الجمال ( ہاں جب آدمی اپنے بھائیوں کے پاس جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو تیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے) اور صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقل ذرۃ من کبر (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 65) ( جنت میں وہ داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا ( تو ایک آدمی نے عرض کی : بیشک آدمی تو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا حسین ہو اور اس کے جوتے حسین ہوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان اللہ جمیل یحب الجمال الکبر بطر الحق وغمط الناس (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 65) ( بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال ( خوبصورتی) کو پسند کرتا ہے اور تکبر حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے) اس معنی میں کثر احادیث ہیں، وہ تمام کی تمام نظافت اور حسن ہیت پر دلالت کرتی ہے۔ محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ فضل بن دکین نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں مندل نے ثور کے واسطہ سے خالب بن معدان سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ دوران سفر کنگھی، شیشہ، تیل، مسواک اور سرمہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور ابن جریج سے مروی ہے : کنگھی ہاتھی دانت کی تھی اس کے ساتھ آپ کنگی کرتے تھے۔ ابن سعد نے کہا ہے : ہمیں قبیصہ بن عقبہ نے بتایا ہے انہوں نے بیان کیا سفیان نے ربیع بن صبیح عن یزید رقاشی عن انس بن مالک ؓ کی سند سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اپنے سر مبارک کو تیل لگاتے تھے اور اپنی ریش مبارک کو پانی سے کا تھ کنگھی کرتے تے۔ یزید ابن ہارون نے ہمیں خبر دی ہے کہ عبادبن منصور نے عکرمہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کی سرمہ دانی تھی جس سے آپ سوتے وقت ہر آنکھ میں تین تین بار سرمہ ڈالتے تھے۔ مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : والطیبٰت من الرزق، طیبات کا اسم ہر اس شی کے لیے عام ہے جو کمائی اور کھانے کے اعتبار سے پاکیزہ اور طیب ہو۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ ؓ (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 194) نے بیان کیا ہے : مراد رزق میں سے وہ پاکیزہ اور حلال چیزیں ہیں جنہیں اہل جاہلیت نے حرام قرار دیا مثلا، بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ ( یہ سبھی جانور ہیں جنہیں انہوں نے اپنے لیے حرام کر رکھا تھا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت : الطیبٰۃ من الرزق سے مراد ہر لذیذ کھانا ہے، تحقیق طیبات کو ترک کرنے اور لذات سے اعراض برتنے میں اختلاف ہے، پس ایک قوم نے کہا ہے : اس کا تعلق قربات سے نہیں ہے اور مباحات میں عمل کرنا اور نہ کرنا برابر ہوتا ہے۔ اور دوسروں نے کہا ہے : اس میں فی ذاتہ کوئی قربت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو دنیا میں زہد اختیار کرنے، دنیا میں اپنی طویل امید کو کم کرنے اور اس کی وجہ سے تکلف ترک کرنے کا ایک ذریعہ اور راستہ ہے۔ اور یہ اس کے لیے مستحب امر ہے اور مستحب سبب قربت ہے۔ اور ایک اور فریق نے کہا ہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ سے یہ قول منقول ہے : اگر ہم چاہتے تو ہم صلاء، صلائق اور صناب بناتے، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کو کئی اقوام کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے اس نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : اذھبتم طیبٰتکم فی حیاتکم الدنیا (الاحقاف : 20) ( تم نے ختم کردیا تھا اپنی نعمتوں کا حصہ اپنی دنیوی زندگی میں) اور صرائق را کے ساتھ بھی مروی ہے۔ اور صلائق اور حرائق دونوں کا معنی روٹی ہے۔ اور صلائق ( لام کے ساتھ) سے مراد وہ ہے جو گوشت اور سبزی کے ساتھ لگائی جائے۔ اور صلاء ( صاد کے کسرہ اور مد کے ساتھ) سے مراد بھنا ہو اگوشت ہے۔ اور صناب سے مراد رائی اور کشمش سے بنائی ہوئی چٹنی ہے۔ اور دوسروں نے ان تمام کی موجودگی میں کلفت اور غیر کلفت کے ساتھ فرق کیا ہے۔ ابو الحسن علی بن مغفل جو ہمارے اشیاخ کے شیخ ہیں انہوں نے فرمایا ہے : یہی صحیح ہے انشاء اللہ تعالیٰ کیونکہ حضور نبی کرم ﷺ سے منقول نہیں کہ آپ ﷺ نے کسی چیز کو محض اس کے عمدہ اور طیب ہونے کی وجہ سے اسے کھانے سے منع فرمایا ہو، بلکہ آپ ﷺ حلوہ، شہد، تربوز اور پکی کھجوریں تناول فرماتے تھے البتہ ان کے لیے تکلف کرنا اس لیے مکروہ ہے کہ ان میں شہوات دنیا کے سبب امور آخرت سے غافل ہونا لازم آتا ہے۔ واللہ اعلم میں ( مفسر کہتا ہوں : بعض صوفیاء نے لذیذ کھانے کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور انہوں نے حضرت عمر ؓ کے اس طرح ہے تو پھر فواحش میں سے ظاہر زنا ہے۔ واللہ اعلم والاثم حسن نے کہا ہے : اس سے مراد خمر ( شراب) ہے، جیسے شاعر نے کہا ہے : شربت الاثم حتی ضل عقلی کذاک الاثم تذھب العقول میں نے شراب پی یہاں تک کہ میری عقل جاتی رہی اسی طرح گناہ عقلوں کو ختم کردیتے ہیں۔ اور دوسرے شاعر نے کہا ہے : نشرب الاثم بالصواع جھارا وتری المسک بیننا مستعارا (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 146 ) اس میں بھی اثم کا لفظ شراب کے معنی میں مذکور ہے۔ والبغی اس کا معنی ظلم کرنا اور اس میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ یہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اور ثعلب نے کہا ہے : البغی کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی کے بارے میں کچھ دعویٰ کرتا ہے اور اس بارے میں گفتگو کرتا ہے اور وہ بغیر حق کے اس سے مطالبہ کرتا ہے، مگر یہ کہ وہ حق کے ساتھ اس پر غالب آجائے۔ ( یعنی اگر دوسرا حق کے ساتھ اس پر غالب نہ آئے تو یہ اس سے ناحق چیز لے لیتا ہے) اور اثم اور بغی کو فواحش سے الگ ذکر کیا ہے، حالانکہ یہ دونوں بھی فواحش میں سے ہیں، تو یہ فحژ میں ان کے انتہائی برا ہونے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ پس ان دونوں کے امر کی تاکید کے لیے اور ان کے بارے زجروتوبیخ کا قصد کرتے ہوئے ان کا ذکر پر نص بیان فرمائی۔ اور اسی طرح آیت : وان تشرکوا اور وان تقولوا ہیں۔ یہ دونوں ما قبل پر معطوف ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں۔ اور ایک جماعت نے اثم بمعنی خمر ہونے کا انکار کیا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اثم سے مراد وہ گناہ ہے جو حد اور لوگوں پر لمبا ہونے (انتہائی شاق ہونے) سے کم ہو۔ نحاس نے کہا ہے : رہا یہ کہ اثم بمعنی خمر ہو تو یہ معروف نہیں۔ اور اثم کا حقیقی معنی تو یہ ہے کہ تمام گناہ اثم کہلاتے ہیں۔ جیسے شاعر نے کہا ہے : ان وجدت الامر ارشدہ تقوی الالہ وشرہ الاثم میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن عربی نے بھی اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے : شعر میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے “۔ کیونکہ اگر وہ کہتا : شربت الذنب یا شربت الوزر لکان کذالک ( میں نے گناہ کیا یا میں نے بوجھ ( گناہ کا) اٹھایا تو اس طرح ہوا) اس قوت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ذئب اور وزر دونوں شراب کے اسماء میں سے ہیں، اسی طرح لفظ اثم بھی ہے۔ اور جس نے اس قسم کی مثالوں کے ساتھ گفتگو اور تکلم کو ثابت کیا ہے جو لغت اور معانی میں طریقہ استدلال سے جہالت اور ناواقفی ہے۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : ہم نے اسے حسن سے ذکر کیا ہے اور جوہری نے صحاح میں کہا ہے : کبھی خمر کو اثم کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اور شعر کہا ہے : شربت الاثم۔۔۔۔ البیت (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 220 ) اور ہر وی نے اپنی غریب میں کہا ہے کہ خمر اثم ( گناہ) ہے پس یہ بعید نہیں ہے کہ اثم کا لغوی اطلاق تمام گناہوں پر ہوتا ہے اور خمر پر بھی اور اس میں کوئی تناقص نہیں ہے۔ اور بغی کا معنی ظلم میں تجاوز کرنا ( اور حد سے بڑھنا ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی فساد ہے۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر ایک فرقے کیلئے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرتا ہے اور نہ ایک گھڑی جلدی کرتا ہے۔

اس میں ایک مسئلہ ہے : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولکل امۃ اجل یعنی ہر امت کے لیے ایک وقت ہے جو مقرر کردیا گیا ہے۔ آیت : فاذا جآء اجلھم یعنی جب ان کا وقت آجائے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں معلوم اور معین ہے۔ ابن سیرین نے صیغہ جمع کے ساتھ جآء اجالھم پڑھا ہے۔ آیت : لا یستاخرون تو نہ وہ اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ایک لمحہ سے کم، مگر یہ خاص طور پر ساعت کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ اوقات کے اسماء میں سے اقل اور کم یہی ہے اور یہ ظرف زمان ہے۔ آیت : ولال یستقدمون ( اور نہ ہو آگے بڑھ سکتے ہیں) تو یہ اس پر دلیل ہے کہ مقتول اپنا مقرر وقت آنے پر ہی قتل کیا جاتا ہے۔ اور اجل الموت سے مراد موت کا مقررہ وقت ہے، جیسے اجل الدین قرض کی ادائیگی کا مقررہ وقت ہے۔ اور ہر وہ شی جس کے ساتھ کسی شی کو موقت کردیا جائے تو وہی اس کے لیے اجل ہوتی ہے۔ اور انسان کی اجل سے مراد وہ خاص وقت ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ لا محالہ اس وقت خاص میں زندہ آدمی مر جائے گا۔ اور یہ وقت ہے جس سے اس کی موت کا موخر ہونا جائز نہیں ہوتا، اس حیثیت سے نہیں کہ اس کی تاخیر مقدر نہیں۔ اور بہت سے معتزلہ نے کہا ہے سوائے اس کے جس نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی ہے : بیشک مقتول اپنے اس مقرر وقت سے پہلے مر جاتا ہے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور یہ کہ اگر وہ قتل نہ کیا جاتا تو وہ ابھی زندہ رہتا۔ یہ غلط ہے، کیونکہ مقتول اس وجہ سے نہیں مرا کہ دوسرے نے اسے قتل کیا ہے بلکہ اس وجہ سے موت آئی ہے) جو فعل اللہ تعالیٰ نے اس کی جان ختم کرنے کے بارے اس وقت کیا جب اسے ضرب لگی۔ پھر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر وہ اپنے مقررہ وقت پر مرا ہے تو پھر اس کے قاتل کو قتل کیوں کیا جاتا ہے اور اس سے قصاص کیوں لیا جاتا ہے ؟ تو جواب یہ دیا جائے گا : ہم اسے اس لیے قتل کرتے ہیں کہ اس نے حد سے تجاوز کیا ہے اور اس نے ایسا تصرف کیا ہے جس میں اسے تصرف کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا، اس کا سبب مقتول کی موت اور اس کے جسم سے روح کا نکلنا نہیں، کیونکہ یہ اس ( قاتل) کا فعل نہیں۔ اگر وہ لوگوں کو اور اس کی اس تعدی اور زیادتی کو بغیر قصاص کے چھوڑ دے تو بالیقین یہ فساد اور لوگوں کو ہلاکتوں تک پہنچا دے۔ یہ بالکل واضح اور بین ہے۔
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے بنی آدم ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کر رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔

آیت نمبر 35۔ 36 قولہ تعالیٰ : آیت : یٰبنی ٓ ادم اما یاتینکم رسل منکم یہ شرط ہے۔ ما کے دخول کی وجہ سے نون تاکید داخل ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما صلہ ہے، یعنی ان یاتکم ( اگر تمہارے پاس رسول آئیں) اس میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کی طرف ان میں سے رسول بھیجے گا تاکہ ان کا قبول کرنا ( آسان اور) اقرب ہو۔ اور قصص سے مراد لگاتار اور تسلسل کے ساتھ بات کرنا ہے۔ آیاتی یعنی میرے فرائض اور میرے احکام ( وہ تم پر میرے فرائض اور میرے احکام بیان کریں) ۔ آیت : فمن اتقی واصلح یہ شرط ہے اور اس کا مابعد اس کا جواب ہے اور پھر یہ پہلی شرط کا جواب ہے، یعنی جس نے اصلاح کرلی اس کی جو میرے اور اس کے درمیان ہے۔ واصلح منکم ما بینی وبینہ۔ آیت : فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون یہ اس پر دلیل ہے کہ قیامت کے دن مومنین نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ انہیں غم لاحق ہوگا اور نہ ان پر کوئی رعب اور ڈر طاری ہوگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن کے اہوال اور خوف تو نہیں لا حق ہو گا لیکن ان کا انجام امن اور سکون ہوگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہا آیت : امایاتینکم کا جواب وہ ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے، یعنی فاطیعوھم فمن اتقی واصلح ( پس تم ان کی اطاعت کرو اور جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنی اصلاح کرلی (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 102) پہلا قول زجاج کا ہے۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے۔

آیت نمبر : 37 قولہ تعالیٰ : آیت : فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور کذب بایٰتہ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے سے اور اس کی آیات کو جھٹلانے سے زیادہ برا اور شنیع ظلم کون سا ہے۔ پھر فرمایا : آیت : اولئک ینالھم نصیبھم من الکتٰب یعنی رزق، عمر اور عمل میں سے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے وہ انہیں مل جائے گا۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ اور ابن جبیر (رح) نے کہا ہے : شقاوت وسعادت میں سے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے وہ حصہ انہیں مل جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : خیر اور شر میں سے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے ( وہ انہیں مل جائے گا) حسن اور ابو صالح نے کہا ہے : ان کے کفر کی مقدار کے برابر عذاب انہیں مل جائے گا۔ اور علامہ طبری کی پسند یہ ہے کہ اس کا معنی ہے : ماکتب لھم، ای ما قدرلھم من خیر وشرو رزق عمل واجل (تفسیر طبری، جلد 2، صفحہ 203) ( جو ان کے لیے لکھا گیا ہے یعنی خیر اور شر، رزق، عمل اور اجل (عمر) میں سے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ سب انہیں مل جائے گا) ، جیسا کہ ابن زید، حضرت ابن عباس اور ابن جبیرؓ کے اقوال میں سے پہلے گزر چکے ہیں۔ فرمایا : کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس کے پیچھے یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : حتی اذا جآء تھم رسلنا یتوفونھم یعنی یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے موت کے فرشتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الکتٰب سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ کفار کا عذاب اس میں مذکور ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : کہ الکتٰب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ حسن بن علی حلوانی نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے : مجھے علی بن مدینی نے لکھوایا ہے اور کہا ہے، میں نے عبدالرحمن بن مہدی سے قدر کے بارے پوچھا، تو انہوں نے مجھے کہا : ہر شی تقدیر کے مطابق ہے، طاعت و معصیت بھی تقدیر کے ساتھ ہیں اور سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی یہ کہے : بیشک گناہ تقدیر کے ساتھ نہیں ہیں۔ علی نے بیان کیا اور عبدالرحمن بن مہدی نے مجھے کہا : علم، قدر اور کتاب سبھی ہم معنی اور برابر ہیں۔ اور جب میں نے عبدالرحمن بن مہدی کا کلام یحییٰ بن سعید پر پیش کیا تو انہوں نے کہا : اس کے بعد قلیل وکثیر کوئی شی باقی نہیں رہی۔ اور یحییٰ بن معین نے روایت بیان کی ہے کہ ہمیں مروان فزاری نے بیان کیا کہ ہمیں اسماعیل بن سمع نے بکیر الطویل سے، انہوں نے حضرت مجاہد (رح) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ ( تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 201) سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے آیت : اولئٓک ینالھم نصیبھم من الکتٰب کے بارے کہا کہ یہ وہ قوم ہے جو ایسے اعمال کریں گے جو اعمال کرنا ان کے لیے لازم اور ضروری ہیں۔ اور حتی غایت کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ان کے بارے ابتدائے خبر کے لیے ہے۔ خلیل اور سیبویہ نے کہا ہے : حتی، اما اور الا ان میں امالہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ حروف ہیں اور ان کے درمیان اور اسماء کے درمیان واضح فرق ہے، جیسے حبلی اور سکری۔ زجاج نے کہا ہے : حتی کی یا کے ساتھ لکھا جاتا ہے، کیونکہ یہ سکری کے مشابہ ہے اور اگر الا کو یا کے ساتھ لکھا جائے تو یہ الیٰ کے مشابہ ہوجائے گا۔ اور اما کو یا کے ساتھ نہیں لکھا گیا، کیونکہ یہ ان ہے اس کے ساتھ ماملایا گیا ہے۔ آیت : قالوا این ما کنتم تدعون من دون اللہ یہ سوال زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ اور تدعون کا معنی تعبدون ہے ( تو کہیں گے کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پر عبادت کرتے تھے) آیت : قالوا ضلوا عنا کہیں گے : وہ ہم سے گم ہوگئے یعنی وہ باطل ہیں اور وہ چلے گئے ہیں۔ یہ قول بھی ہے کہ یہ ( سب) آخرت میں ہوگا۔ آیت : وشھدوا علی انفسھم انھم کانوا کٰفرین یعنی وہ اپنے بارے میں کفر کا اقرار کرلیں گے۔
Ayahs 7:38–39

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

تو خدا فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی مذہبی بہن یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت کریں گے یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گیں تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار ! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو انکو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائیگا مگر تم نہیں جانتے

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضلیت حاصل نہ ہوئی تو جو تم عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے عذاب کے مزے چکھو۔

آیت نمبر : 38۔ 39 قولہ تعالیٰ : قال ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار، ای مع امم یعنی تم داخل ہوجاؤ ان امتوں کے ساتھ۔ تو اس میں فی بمعنی مع ہے۔ اور یہ ممتنع نہیں ہے، کیونکہ تیرا قول : زید فی القوم بمعنی زید مع القوم ہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فی اپنے معنی میں ہی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 398) ۔ ای ادخلوا فی جملتھم ( تم بھی ان کے اجتماع میں داخل ہوجاؤ) اور قائل ( کہنے والا) کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم داخل ہوجاؤ۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ دروغہ جہنم مالک ہے۔ (یعنی وہ انہیں کہے گا : تم داخل ہوجاؤ ) ۔ آیت : کلما دخلت امۃ لعنت اختھا جب بھی کوئی امت داخل ہوگی تو وہ اس پر لعنت بھیجے گی جو اس سے پہلے جہنم کی طرف جا چکی ہے اور یہ دین اور ملت کے اعتبار سے اسی کی طرح ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 149 ) ۔ آیت : حتی اذا ادارکوا فیھا جمیعا یہاں تک کہ جب سب امتیں اس میں جمع ہوجائیں گی۔ اعمش نے تدارکوا پڑھا ہے اور یہ اصل ہے، پھر اس میں ادغام ہوا اور اسے ہمزہ وصل کی ضرورت پڑی۔ اسے مہدوی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے بیان کیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت ہے۔ حتی اذا ادرکوا یعنی جب بعض بعج کو پالیں گے۔ اور عصمہ نے ابو عمرو سے حتی اذا ادارکوا نقل کیا ہے اس میں اجتماع ساکنین کی بنا پر الف کو ثابت رکھا ہے۔ اور بیان کیا ہے کہ یہ دونوں قرأتیں حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہیں۔ اور اس کے لیے مال کا دوتہائی ہے۔ اور ابو عمرو سے یہ بھی منقول ہے : اذا ادارکوا یعنی الف وصل کو قطع کے ساتھ پڑھا ہے، تو گویا انہوں نے تذکرکے لیے اذا پر سکوت کیا۔ اور جب ان کا سکوت طویل ہوا تو ہمزہ وصل قطعی ہوگیا جیسے اس سے ابتدا کی جائے۔ اور شعر میں الف وصل بطور قطع استعمال ہوا ہے جیسے شاعر کا قول ہے : یا نفس صبرا کل حی لاقی وکل اثنین الی افتراق حضرت مجاہد اور حمید بن قیس سے آیت : حتی اذا ادارکوا مروی ہے ( یعنی) اس میں التقاء ساکنین کی وجہ سے اذا کے الف کو حذف کردیا گیا ہے اور دال کے بعد والے الف کو بھی حذف کردیا گیا ہے اور جمیعا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ آیت : قالت اخرھم لاولٰھم یعنی بعد میں داخل ہونے والی امت اور یہ اتباع کرنے والے ہیں پہلی امتوں کے بارے کہے گی۔ اور وہ قیادت کرنے والے والیاں ہیں۔ آیت : ربنا ھٓولآء اضلونا فاتھم عذابا ضعفا من النار۔ لاولٰھم میں لام لام اجل ہے، کیونکہ انہوں نے پہلی امتوں کو خطاب نہیں کیا، بلکہ انہوں نے پہلی امتوں کے حق میں کہا : آیت : ربنا ھولآء اضلونا ( اے ہمارے رب ! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا) اور الضعف سے مراد ایک مقدار پر اسی کی مثل زائد مقدار چاہے ایک باریا کئی بار۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ یہاں الضعف سے مراد اثدھا اور سانپ ہیں۔ اور اس کی نظیر یہ آیت ہے۔ آیت : ربنا اتھم ضعفین من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (الاحزاب) ( اے ہمارے رب ! ان کو دو گناہ عذاب دے اور لعنت بھیج ان پر بہت بڑی لعنت) اور وہاں ضعف کا ذکر اس سے کثیر معنی اور جو احکام اس پر مترتب ہو رہے ہیں ان کے لیے آرہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آیت : قال لکل ضعف ( اللہ تعالیٰ فرمائے گا) تابع اور متبوع ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے۔ ولکن لا تعلمون یہ ان کی قراءت ہے جنہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہر فریق اس (عذاب) کے بارے نہیں جانتا جو دوسرے فریق کے لیے ہے، کیونکہ اہل جہنم میں سے بعض جب یہ جان لیں کہ کسی اور کا عذاب اس کے عذاب سے زیادہ ہے تو یہ بھی اس کے لیے راحت اور تسلی کی ایک قسم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے آیت : ولٰکن لا تعلمون یعنی لیکن تم نہیں جانتے اے مخاطبین ! جو عذاب وہ پا رہے ہیں۔ اور جائز ہے کہ معنی یہ ہو لیکن تم نہیں جانتے اے اہل دنیا ! اس عذاب کی مقدار جس میں وہ مبتلا ہیں۔ آیت : وقالت اولٰھم لاخرھم فما کان لکم علینا من فضل یعنی پہلی امتیں پچھلی امتوں کو کہیں گی : تحقیق تم نے کفر کیا اور تم نے وہی کیا جو ہم نے کیا، پس تم عذاب میں کسی تخفیف کے مستحق نہیں ہو۔ آیت : فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون۔