Ayah 7:18قولہ تعالیٰ : آیت : قل اخرج منھا فرمایا : تو جنت سے نکل جا۔ آیت : مذء وما مدحورا، مذء وما بمعنی مذموما ( مذمت کیا ہوا، ذلیل وخورا) ہے اور الذام میم کی تخفیف کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عیب ہے۔
ابن زید نے کہے ہے : مذء وما اور مذموما معنی کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے : ذامتہ وذممتہ اور ذمتہ تمام کا معنی ایک ہے۔ اور اعمش نے مذوما پڑھا ہے۔ اور معنی ایک ہے، مگر انہوں نے ہمزہ میں تخفیف کی ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مذء وم کی نفی کی گئی ہے اور دونوں معنی ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ اور مدحور کا معنی دور کیا ہوا، بھگایا ہوا ہے۔ یہ حضرت مجاہد (رح) وغیرہ سے مروی ہے اور اس کا اصل معنی الدفع ( دفع کرنا) ہے۔ آیت : لمن تبعک منھم لا ملئن جہنم منکم اجمعین اس میں لام، لام قسم ہے اور جواب قسم لاملئن جھنم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : لاملئن جھنم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لمن تبعک میں لام توکید ہے۔ اور لاملئن میں لام قسم ہے۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ غیر قراءت میں پہلی لام کو حذف کرنا جائز ہے اور دوسری کو حذف کرنا جائز نہیں ہوتا۔ کلام میں شرط اور جزا کا معنی ہے۔
بمعنی من تبعک عذبتہ ( جس نے تیری اتباع کی میں اسے عذاب دوں گا) اور اگر تو کہے : من تبعک اعذبہ تو یہ جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ تو ارادہ یہ کرے لا عذبہ اور عاصم نے ابوبکر بن عیاش کی روایت سے لمن تبعک منھم کو لام مسکور کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور بعض نحویوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے من اجل من تبعک۔ واللہ اعلم۔
جیسے کہا جاتا ہے : اکرمت فلانا لک اور کبھی معنی ہوتا ہے : الدحر لمن تبعک ( دفع کرنا اور بھگایا جانا اس کے لیے ہے جو تیری اتباع کرے گا) اور منکم اجمعین کا معنی ہے یعنی تم میں سے اور اولاد آدم میں سے۔ کیونکہ اس کا ذکر ہی چل رہا ہے کیونکہ فرمایا : آیت : ولقد خلقنکم یہ اولاد آدم کو خطاب ہے۔
Ayah 7:19آیت نمبر۔ 19
ابلیس کو آسمان سے نکالنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرمایا : تم اور حواء دونوں جنت میں رہو۔ اور سورة البقرہ میں اسکان ( سکونت اختیار کرنے کے لیے کہنا) کا معنی گزر چکا ہے اور اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اور آیت : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ کا معنی وہاں گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔
Ayah 7:20آیت نمبر : 20
قولہ تعالیٰ : آیت : فوسوس لھما الشیطن یعنی ان دونوں کی طرف شیطان نے وسوسہ اندازی کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے : جنت کے اندر سے کہ اس نے سانپ کی صورت میں اپنے آپ کو جنت میں داخل کرلیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کے باہر سے، اس اختیار کے ساتھ جو اسے دیا گیا۔ اس کی وضاحت سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور وسوسہ کا معنی ہے : الصوت الخفی (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 137) ( مخفی اور پوشیدہ آواز) اور وسوسۃ کا معنی ہے : حدیث النفس ( اندر کی بات ( دل میں اٹھنے والا خیال) ۔ کہا جاتا ہے : وسوست الیہ نفسہ وسوسۃ ووسواسا ( اس کے نفس نے اس میں یہ بات ڈال دی) اور وسواس ( واؤ کے فتحہ کے ساتھ) اسم ہے، مثلا زلزال اور شکار کرنے والے اور کتے کی آہٹ اور آہستہ آواز اور زیورات کی آواز کو وسواس کہا جاتا ہے۔ اعشی نے کہا ہے :
تسمع للحلی وسواسا اذا انصرفت کما استعان بریح عشرق زجل
اور وسواس شیطان کا نام ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : من شر الوسواس الخناس ( الناس)
لیبدی لھما تاکہ ان دونوں کے لیے ظاہر کر دے۔ اس میں لام لام عاقبۃ ہے، جیسے اس ارشاد میں ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (تا کہ ( انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج والم بنے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام کی۔ اور وری کا معنی ہے اس سے جو چھپایا گیا ہے اور ڈھانپا گیا ہے۔ اور غیر قرآن میں اسے اوری پڑھنا بھی جائز ہے، جیسے اقتت۔ اور من سواتھما کا معنی ہے ان کی شرمگاہوں سے ( ای من عوراتھما) اور فرج ( شرمگاہ) کو عورت کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ اسے ظاہر کرنا اس کے صاحب کو برا لگتا ہے۔ اور یہ شرمگاہ کو ننگا کرنے کے قبیح اور برا ہونے پر دلیل ہے، سو یہ کہا گیا کہ ان کی شرمگاہیں ان دونوں کے لیے ظاہر ہیں ان کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ ان دونوں پر پتے اور کلیاں ہیں جن کے سبب ان کی شرمگاہوں کو دیکھا نہیں جاسکتا تھا پھر وہ کلیاں زائل ہوگئیں۔ اور یہ بھی کہا گہا ہے کہ ان پر کپڑا تھا اور پھر وہ ساقط ہوگیا ( گرگیا ) واللہ اعلم
آیت : الا ان تکونا ملکین اس میں ان محل نصب میں ہے، بمعنی الا ہے، ان کو مکروہ قرار دیتے ہوئے پھر مضاف کو حذف کردیا گیا۔ یہ بصریوں کا قول ہے۔ اور کوفی کہتے ہیں : لئلا تکونا ( تاکہ تم دونوں نہ ہوجاؤ ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ای الا الا تکونا ملکین تعلمان الخیر والشر ( مگر یہ کہ تم دونوں نہ ہوجاؤ فرشتے جو خیر وشر کو جانتے ہیں) ۔ اور کہا گیا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہمیشہ رہنے کا طمع کیا، کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ ملائکہ یوم قیامت تک نہیں مریں گے۔
نحاس (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر ساری مخلوق پر فرشتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے : آیت : الا ان تکونا ملکین اور ایک یہ ہے آیت : ولا اقول لکم انی ملک ( الانعام : 50) ( اور نہ یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں) اور یہ بھی ہے : آیت : ولا الملئکۃ المقربون ( النساء : 172) ( اور نہ ہی مقرب فرستے ( اس کو عار سمجھیں گے) ۔ اور حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو شکل و صورت، پروں اور عزت و تکریم کے اعتبار سے فضیلت دی ہے (تفسیر حسن بصری، جلد 3، صفحہ 88) ۔ اور کسی اور نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے طاعت اور ترک معصیت کی وجہ سے انہیں فضیلت دی، پس اس وجہ سے ہر شی میں فضیلت واقع ہوتی ہے۔
اور ابن فورک (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 385) نے کہا ہے : اس آیت میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس معنی میں دو فرشتے مراد ہوں کہ ان دونوں کے لیے کھانے کی طلب نہیں ہوگی۔
حضرت ابن عباس ؓ، زجاج اور بہت سے علماء کی پسند یہ ہے کہ مومنین کی ملائکہ پر فضیلت حاصل ہے اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : انہیں تمام مخلوق پر فضیلت دی گئی ہے، سوائے فرشتوں کے ایک گروہ کے اور وہ ہیں حضرت جبریل (علیہ السلام) ، حضرت میکائیل (علیہ السلام) ، حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اور حضرت ملک الموت (علیہ السلام) ، کیونکہ یہ من جملہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ہیں۔ اور ہر فریق نے شریعت کے ظاہر سے استدلال کیا ہے اور فضیلت اللہ تعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے لام کے کسرہ کے ساتھ ملکین قراءت کی ہے اور یہی قراءت یحییٰ بن ابی کثیر اور ضحاک کی ہے۔ اور ابو عمرو بن علاء نے لام کے کسرہ کا انکار کیا ہے۔ اور کہا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے کوئی ملک نہ تھا کہ دو ملک ہوجائیں۔
حضرت نحاس (رح) نے کہا ہے : اس قراءت کی بنا پر لام کو ساکن پڑھنا بھی جائز ہے، لیکن پہلی قراءت میں فتحہ کے خفیف ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 167) نے فرمایا کہ یہ دونوں ملک کی جہت سے ملعون ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی (طہ) ( کیا میں آگاہ کروں تمہیں ہمیشگی کے درخت پر اور ایسی بادشاہی پر جو کبھی زائل نہ ہو) ۔ اور ابو عبید نے گمان کیا ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر کا استدلال اس قول کے ساتھ ہے۔ آیت : وملک لا یبلی اور یہ حجۃ بینہ ہے، لیکن لوگوں نے اسے ترک کردیا ہے اسی لیے ہم نے بھی اسے ترک کردیا ہے۔ نحاس نے کہا : آیت : الا ان تکونا ملکین شاذ قراءت ہے۔
ابو عبید کے اس کلام کا انکار کیا گیا ہے اور اسے فحش غلطی قرار دیا گیا ہے۔ کیا یہ جائز ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ وہم ہوا ہو کہ وہ جنت کی بادشاہی سے زیادہ تک پہنچ سکتے ہیں، حالانکہ جنت ہی طالبین کی انتہا اور غایت ہے۔ بلاشبہ آیت : وملک لا یبلی کا معنی جنت کی بادشاہی میں قائم رہنا، اور اس میں ہمیشہ رہنا ہے۔
Ayah 7:21آیت نمبر 21
قولہ تعالیٰ : آیت : وقاسمھما یعنی ان دونوں کے لیے قسم اٹھائی، کیا جاتا ہے : اقسم اقساما ! بمعنی حلف ( اس نے قسم اٹھائی) شاعر نے کہا ہے :
وقاسمھا باللہ جھدا لانتم الذ من السلوی اذا مانشورھا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 385)
اور اس میں ایک کی جانب سے باب مفاعلہ ذکر کیا ہے۔ اور اس سے اس کا رد ہوتا ہے جس نے کہا ہے کہ باب مفاعلہ دونوں ( فاعل اور مفعول) کی جانب سے استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ آیت : انی لکما لمن النصحین، لکما صلہ میں داخل نہیں ہے۔ اور تقدیر عبارت ہے : انی ناصح لکما لمن الناصحین ( بلا شبہ میں تم دونوں کو نصیحت کر رہا ہوں، کیونکہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں)
یہ ہشام نحوی نے کہا ہے۔ اور اس کی مثال سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور کلام کا معنی ہے : اتبعانی ارشد کا ما ( تم دونوں میری اتباع کرو میں تمہاری رہنمائی کروں گا) اسے قتادہ نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 7:22–24قولہ تعالیٰ : آیت : فدلھما بغرور یعنی شیطان نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے انہیں قسم کے ساتھ دھوکہ دیا۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) یہ گمان رکھتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا، پس شیطان نے انہیں اپنی وسوسہ اندازی اور قسم کے ساتھ دھوکہ ڈال دیا۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس نے ان دونوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی یہاں تک کہ انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ کھا جاتا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 459 ) ۔ بعض علماء کہتے ہیں : جس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا ہم وہ دھوکہ کھاگئے (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 959 ) ۔
اور آپ ﷺ کی حدیث میں ہے : المومن غر کریم والفاجر کب لئیم (حلیۃ الاولیائ، جلد 3، صفحہ 110) ( مومن ناتجربہ کار دھوکہ کھانے والا اور سخی ہے اور فاجر دغاباز اور لعین ہے) اور نفظویہ نے کہا ہے :
ان الکریم اذا تشاء خدعتہ وتری اللئیم مجربا لا یخدع
بیشک کریم کو جب تو چاہے اسے دھوکے میں مبتلا کر دے اور تو لئیم کو تجربہ کار دیکھے گا اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا “۔
فدلھما کہا جاتا ہے : ادلی دلوہ اس نے اپنی ڈول نیجے لٹکایا۔ ودلاھا اور اسے نکالا۔ اور یہ بھی کہا گیا : دلاھما کا معنی ہے اس نے ان دونوں کو جرات دلائی۔ یہ الدالۃ سے ماکوذ ہے اور اس کا معنی ہے جرات کرنا یعنی اس نے انہیں معصیت پر جرات دلائی تو وہ جنت سے نکل گئے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سواتھما وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : آیت : فلما ذاقا الشجرۃ یعنی جب انہوں نے اس درخت سے کھایا۔ اور سورة البقرہ میں اس درخت کے بارے اختلاف گزر چکا ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس سے کیسے کھایا۔
آیت : بدت لھما سواتھما پہلے حضرت مائی حوا (علیہما السلام) نے کھایا تو انہیں کوئی شے نہ پہنچی ( یعنی کوئی تکلیف نہ پہنچی) پھر جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس سے کھایا تو سزا نافذ ہوگئی، کیونکہ اس کے قریب جانے کی نہیں دونوں کے لیے تھی، جیسا کہ سرہ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ کلیاں اور پتے جو ان کا لباس تھے وہ اتر گئے اور ہاتھوں اور پاؤں میں ناخن آگئے۔
مسئلہ نمبر 2۔ وطفقا اس میں فا کو ساکن پڑھنا جائز ہے اور اخفش نے طفق یطفق بیان کیا ہے، مثلا ضرب یضرب کہا جاتا ہے : طفق یعنی وہ کام میں شروع ہوا۔ یخصفن حسن نے اسے خا کے کسرہ اور صاد کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اصل میں یکتصفان تھا اس میں ادغام کیا گیا ( تا کو صاد سے بدلنے کے بعد صاد کو صاد میں) اور التقاء ساکنین کی وجہ سے خا کو کسرہ دیا گیا ہے۔ اور ابن بریدہ اور یعقوب نے خا کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے تا کی حرکت اس کو دی ہے اور یخصفان کو ضمہ کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے یہ خصف یخصف سے ماخوذ ہے۔
اور زہری نے یخصفان پڑھا ہے یہ اخصف سے ہے۔ اور یہ دونوں ہمزہ یا تضعیف سے منقول ہے اور معنی یہ ہے : وہ دونوں پتے کاٹنے لگے اور انہیں چپٹانے لگے تاکہ وہ ان کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھانپ سکیں۔ اور اسی سے خصف النعل ( اس نے جوتے کا چمڑا چپٹایا) ہے۔ اور خصاف وہ ہوتا ہے جو جوتے سیتا ہے۔ اور مخصف مثقب ( برما) کو کہتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد انجیر کے پتے ہیں ( تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 211) ۔ اور روایت کیا جاتا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی شرمگاہ ننگی اور ظاہر ہوگئی تو وہ جنت کے درختوں کا چکر لگانے لگے تاکہ وہ ان سے پتے لیں اور ان کے ساتھ اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ سکیں، تو جنت کے درختوں نے آپ کو روک دیا ( ڈانٹ دیا) یہاں تک کہ انجیر کے درخت نے آپ پر رحم کیا اور پتا آپ کو عطا کیا، تو حضرت آۃ دم (علیہ السلام) اور حضرت مائی حواہ (علیہما السلام) جنت کے پتے اپنے اوپر چپٹانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انجیر کو بدلا یہ دیا کہ حلاوت اور منفعت میں اس کے ظاہر اور باطن کو ایک جیسا کردیا اور اسے ایک سال میں دو بار پھل عطا فرمایا۔
مسئلہ نمبر 3۔ آیت میں کشف عورۃ کے قبیح ہونے پر دلیل ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر اسے ڈھانپنا واجب کردیا، اس لیے انہوں نے اسے ڈھانپنے میں جلدی اور تیزی کی، اور یہ اس کے مانع نہیں ہے کہ اس کے بارے انہیں یہ حکم جنت میں دیا گیا، جیسے انہیں یہ کہا گیا : آیت : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ ( الاعراف : 19)
اور صاحب البیان نے امام شافعی سے بیان کیا ہے کہ جو آدمی درخت کے پتوں کے سوا کوئی شی ایسی نہ پائے جس کے ساتھ وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ سکتا ہو، تو اس پر انہیں کے ساتھ ڈھانپنا لازم اور ضروری ہے، کیونکہ یہ ظاہری پردہ ہے جس کے ساتھ پردہ کرنا اس کے لیے ممکن ہو سکتا ہے، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) نے جنت میں کیا۔ واللہ اعلم
قولہ تعالیٰ : آیت : ونادھما ربھما الم انھکما عن۔۔ الی اخرہ۔ آیت نمبر 22۔ 23۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو فرمایا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا۔ اتو انہوں نے کہا ربنا ( اے ہمارے رب ! ) یہ ندا مضاف ہے۔ اصل میں یہ یا ربنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشک ” یا “ کو حذف کرنے میں تعظیم کا معنی ہے، پس انہوں نے اپنی خطا کا اعتراف کیا اور توبہ کرلی۔ اس کی بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے اور قول باری تعالیٰ : آیت : قال اھبطوا کا معنی آخر آیت تک پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 7:25آیت نمبر : 25
اس میں مذکورہ تمام ضمیریں الارض ( زمین) کے لیے ہیں۔ اور قال میں واو ذکر نہیں کی گئی۔ اور اگر وہ ذکر ہوتی تو بھی جائز ہوتا اور یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : قال زید لعمرو کذا قال لہ کذا ( اس میں قال لہ کذا سے پہلے واو ذکر کردی جائے تو وہ درست اور صحیح ہے)
Ayah 7:26آیت نمبر : 26۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : آیت : یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسایواری سواتکم بہت سے علماء نے کہا ہے : یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ شرمگاہ کو ڈھانپنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : یواری سواتکم اور ایک قوم ( گروہ) نے کہا ہے کہ اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے جو انہوں نے بیان کیا ہے، بلکہ اس میں فقط اس کے انعام ہونے پر دلیل ہے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور من جملہ نعمتوں میں سے ایک شرمگاہ کو ڈھانپنا بھی ہے۔ پس یہ بیان کہا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی اولاد کے لیے وہ کچھ پیدا فرمایا ہے جس کے ساتھ وہ اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپ سکتے ہیں اور یہ پردے کے امر پر دلیل ہے۔ اور لوگوں کی نگاہوں سے ستر عورت کے واجب ہونے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ اس بارے میں ان کا اختلاف ہے کہ شرمگاہ کیا ہے ؟ تو ابن ابی ذئب نے کہا ہے : یہ مرد میں سے صرف اس کی شرمگاہ ہے، یعنی قبل اور دبر اس کے سوا کوئی حصہ نہیں۔ اور داؤد اہل ظاہر، ابن ابی مسلمہ اور طبری کا یہی قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : لباسایواری سواتکم، بدت لھما سواتھما، لیریھما سواتھما۔
اور بخاری میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 53 ) ۔ کہ رسول اللہ ﷺ خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری پر چل رہے تھے۔ اور اس میں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے چادر اپنی رانوں سے اوپر چڑھالی یہاں تک میں نے نبی مکرم ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھ لی۔ اور امام مالک رحمہا للہ علیہ نے کہا ہے : ناف شرمگاہ نہیں ہے اور آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے سامنے اپنی ران کھول دے۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے : گھٹنا شرمگاہ ہے اور یہی حضرت عطا (رح) کا قول ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : صحیح روایت کے مطابق ناف اور دونوں گھٹنے شرمگاہ میں سے نہیں ہے۔
اور ابو حامد ترمذی نے بیان کیا ہے کہ ناف کے بارے میں امام شافعی (رح) کے دو قول ہیں۔ اور امام مالک (رح) کی دلیل حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو آپ نے جرہد کو فرمایا : (جامع ترمذی، کتاب الاستئذان والادب، جلد 2، صفحہ 103) غط فخذک فان الفخذ عورۃ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 53) ( اپنی ران کو ڈھانپ لے کیونکہ ران شرمگاہ ہے) اسے امام بخاری نے تعلیقا بیان کیا ہے۔ اور فرمایا : حضرت انس ؓ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے اور حضرت جرہد کی حدیث میں زیادہ احتیاط ہے یہاں تک کہ وہ ان ( علماء) کے اختلاف سے نکل جائے۔ اور جرہد کی یہ حدیث اس کے خلاف دلالت کرتی ہے جو کچھ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے۔
اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضرت امام حسن بن علی ؓ کی ناف پر بوسہ دیا اور کہا : میں تمہیں اسی جگہ بوسہ دے رہا ہوں جہاں رسول اللہ ﷺ تمہیں بوسہ دیتے تھے (مسند امام احمد، جلد 2، صفحہ 255 ) ۔ پس اگر ناف شرمگاہ ہوتی تو حضرت ابوہریرہ ؓ وہاں بوسہ نہ دیتے اور نہ ہی حضرت امام حسن ؓ انہیں ان کی اجازت دیتے۔ اور جہاں تک آزاد عورت کا تعلق ہے تو اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا اس کا سارابدن شرمگاہ ہے اور یہی نظریہ اکثر اہل علم کا ہے۔
تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : من اراد ان یتزوج امراۃ فلینظر الی وجھھا وکفیھا (مسند امام احمد، جلد 2، صفحہ 299) ( جو آدمی کسی عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے چہرے اور اس کے ہاتوں کو دیکھ لے) اور اس لیے بھی کہ احرام میں بھی چہرے کو ننگا کرنا واجب ہے۔ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے کہا ہے : عورت کے اعضاء میں سے ہر عضو شرمگاہ ہے، یہاں تک کہ اس کے ناخن بھی۔ اور امام احمد بن حنبل (رح) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اور رہی ام ولد ( ایسی کنیز جس سے آقا کی اولاد ہوجائے) تو اس کے بارے اثرم نے کہا ہے : میں نے امام احمد بن حنبل (رح) سے سنا ہے کہ ان سے ام ولد کے بارے پوچھا جار ہا تھا کہ وہ نماز کیسے پڑھے گی ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ اپنا سر اور اپنے پاؤں ڈھانپ لے گی، کیونکہ اسے بیچا نہیں جاسکتا اور وہ اسی طرح نماز پڑھے گی جیسے آزاد عورت پڑھتی ہے۔ اور جہاں تک لونڈی کا تعلق ہے تو اس کا وہ سارہ جسم شرمگاہ ہے جو پستانوں سے نیچے ہے اور اس کے لیے اپنے سر اور اپنی کلائیوں کو ننگا کرنا جائز ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا حکم مرد کے حکم کی مثل ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے لیے اپنے سر اور سینے کو ننگا کرنا مکروہ ہے۔ اور حضرت عمرؓ لونڈیوں کو اپنے سر ڈھانپنے پر سزا دیتے تھے اور فرماتے تھے : تم آزاد عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو۔ اور اصبغ نے کہا ہے : اگر اس کی ران ننگی ہوئی تو ہو وقت کے انر نماز کا اعادہ کرے۔ اور ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے کہا ہے کہ لونڈی کے اعضاء میں سے ہر عضو شرمگاہ ہے یہاں تک کہ اس کے ناخن بھی۔ اور یہ فقہاء کے اقوال سے خارج ہے، کیونکہ ان کا اس پر اجماع ہے کہ آزاد عورت کے لیے جائز ہے کہ فرض نماز پڑھے اور اس کے دونوں ہاتھ اور چہرہ مکمل طور پر ننگے ہوں اور وہ ان کے ساتھ زمین کو مس کر رہی ہو تو پھر لونڈی کے لیے بدرجہ اولی یہی حکم ہوگا اور ام ولد کی حالت لونڈی سے زیادہ گہری ہے۔ اور صغیر بچے کی شرمگاہ کی کوئی حرمت نہیں ہے۔ اور جب بچی اس حد کو پہنچ جائے کہ اسے آنکھ کا اشارہ ہو سکتا ہو اور اسے شہوت دلائی جاسکتی ہو تو پھر وہ اپنی شرمگاہ کو ڈھانپے۔
اور ابوبکر بن عبدالرحمن کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : یآیھا النبی قل لا زواجک وبنٰتک ونساء المومنین یدنین علیھن من جلابیبھن (الاحزاب : 59) (اے نبی مکرم ! آپ فرمائیے اپنی ازواج مطہرات کو، اپنی صاحبزادیوں کو اور جملہ اہل ایمان کی عورتوں کو کہ ( جب وہ باہر نکلیں) ڈال لیا کریں اپنے اوپر چادروں کے پلو) اور حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کون سے کپڑوں میں عورت نماز پڑھ سکتی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ قمیص اور ایسی اوٹھنی میں جو اس کے پاؤں کے ظاہر کو ڈھانپ سکتی ہو نماز پڑح سکتی ہے (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، جلد 1، صفحۃ 94) ۔ اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور جنہوں نے اسے حضرت ام سلمہ ؓ پر موقوف روایت کیا ہے وہ زیادہ ہیں اور زیادہ حافظ ہیں۔ ان میں مالک اور ابن اسحاق وغیرہ ہیں۔ ابو داؤد نے کہا ہے : عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے اسے محمد بن زید عن ام سلمہ ؓ کی سند سے مرفوع روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ ابو عمر نے کہا ہے : ان کے نزدیک یہ عبدالرحمن ضعیف راوی ہے، مگر امام بخاری (رح) نے اس کی بعض احادیث کو روایت کیا ہے۔ اور اس باب میں اجماع خبر سے زیادہ قوی ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : انزلنا علیکم لباسا یعنی ہم نے تم پر وہ بارش برسائی جو روئی اور کتان ( السی کا پودہ جس سے کپڑے بنائے جاتے ہیں) اگاتی ہے اور ان جانوروں کو قائم رکھتی ہے جن سے اون اور بال وغیرہ حاصل ہوتے ہیں اور یہ مجازی مفہوم ہے اور اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : وانزل لکم من الانعام ثمٰنیۃ ازواج ( الزمر : 6) جیسے اس کا بیان آگے آئے گا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس انزال سے مراد لباس میں اس شے کو اتارنا ہے جو حضرت آدم اور حضرت مائی حواء (علیہما السلام) کے ساتھ تھی، تاکہ وہ اپنے غیر کے لیے مثال بن جائے۔ اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے : آیت : انزلنا علیکم یعنی ہم نے تمہارے لیے پیدا کیا، جیسے اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ہم نے تمہیں اسے بنانے کی کیفیت کے بارے الہام کیا ( یعنی تمہارے ذہنوں میں اسے بنانے کا طریقہ ڈال دیا)
مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وریشا ابو عبدالرحمن، حسن اور عاصم نے مفضل ضبی کی روایت سے، ابو عمرو نے حسین بن علی جعفی کی روایت سے وریاشا پڑھا ہے اور ابو عبید نے اسے حسن کے سوا کسی سے بیان نہیں کیا اور اس کے معنی کی تفسیر بیان نہیں کی۔ یہ ریش کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ زینت ہے جو مال اور لباس کے سبب ہو۔ اور فرائ (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 139) نے کہا ہے : ریش وریاش جیسے کہا جاتا ہے : لبس و لباس اور ریش الطائر ( پرندے کے پر) وہ ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ دیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا کہ اس سے مراد زندگی کی فراخی اور خوشحالی ہے۔ اور وہ معنی جسے اکثر اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ ریش لباس یا معیشت میں سے وہ شی ہے جو ڈھانپ لے۔ اور سیبویہ نے کہا ہے :
فریشی منکم وھوای معکم وان کا نت زیارتکم لماما (تفسیر ماوری، جلد 2، صفحہ 214)
اور ابو حاتم نے ابو عبیدہ سے بیان کیا ہے : وھبت لہ دابۃ بریشھا اسے سواری لباس سمیت دی گئی، مراد وہ کپڑے ہیں جو اس پر تے ہیں۔
مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : و لباس التقوی ذلک خیر بیان فرمایا کہ تقوی بہترین اور اچھا لباس ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے :
اذا المرء لم یلبس ثیابا من التقی تقلب عریانا وان کان کا سیا
جب آدمی تقوی کالباس نہیں پہنتا تو وہ ننگا ہی لگتا ہے اگرچہ لباس پہنے ہوئے ہو۔
وخیر لباس المرء طاعۃ ربہ ولا خیر فیمن کان اللہ عاصیا
اور آدمی کا بہترین لباس اپنے رب کی اطاعت ہے اور اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ اور قاسم بن مالک نے عوف سے اور انہوں نے معبد جہنی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : لباس التقوی تقوی کا لباس حیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد عمل صالح ہے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرے پر حسین خاموشی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 389) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی اور اس کے بارے رہنمائی فرمائی۔ اور یہ قول بھی ہے : لباس التقوی سے مراد اون اور کھدر کے کپڑے پہننے ہیں۔
یہ ان میں سے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تواضع و انکساری کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے اور یہ دوسرے لباس سے بہتر ہے۔ اور زید بن علی نے کہا ہے : و لباس التقوی سے مراد زرہ اور خود، دو کائیاں اور دو پنڈلیاں ہیں، جن کے ساتھ جنگ میں اپنی حفاظت کی جاتی ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحۃ 463 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے خوف کا احساس کرنا ہے ان تمام امور میں جن کے بارے حکم دیا گیا ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہی صحیح ہے، اور اسی کی طرف حضرت ابن عباس اور حضرت عروہ ؓ کا قول راجع ہے۔ اور حضرت زید بن علی کا قول حسن اور اچھا ہے، کیونکہ انہوں نے جہاد پر ابھارا ہے۔
اور ابن زید نے کہا ہے : اس سے مراد شرمگاہ کو ڈھانپنا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 389) ۔ اور یہ اس میں تکرار ہے، کیونکہ پہلے ارشاد فرمایا : آیت : قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم اور جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد کھدر کا لباس پہننا ہے، کیونکہ یہ تواضع اور ترک رعونت کے زیادہ قریب ہے تو یہ ایک دعوی ہے، حالانکہ علماء میں سے فضلاء تقوی کے حصول کے ساتھ ساتھ انتہائی قیمتی اور اعلی لباس پہنتے ہیں، جیسا کہ اس کا تفصیلی بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اہل مدینہ اور کسائی نے لباس کو پہلے لباسا پر عطف کرتے ہوئے منصوب پڑھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فعل مضمر کے سبب منصوب ہے۔ یعنی وانزلنا لباس التقوی اور باقیوں نے مبتدا ہونے کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے۔ اور ذالک اس کی صفت ہے اور خیر مبتدا کی خبر ہے۔ اور اس کا معنی ہے : تقوی کا لباس جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ ہے جسے تم جانتے ہو، تمہارے لیے ان کپڑوں کے پہننے سے بہتر ہے جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتے ہیں اور یہ وہ زینت ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل فرمائی، پس تم اسے پہن لو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مرفوع ہے اور اس سے پہلے ھو ضمیر مضمر ہے، یعنی ھو لباس التقوی یعنی وہ ستر عورت ہے اور اسی کے مطابق ابن زید کا قول ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا معنی ہے و لباس التقوی ھو خیر یعنی ذالک بمعنی ہو ہے اور پہلی ترکیب ہی زیادہ احسن ہے جو کچھ اس کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اور اعمش نے و لباس التقوی خیر پڑھا ہے۔ انہوں نے ذالک نہیں پڑھا۔ اور یہ مصحف کے خلاف ہے۔ ذالک من آیت اللہ یعنی یہ ان علامات اور نشانیوں میں سے ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کا خالق ہے اور ذالک صفت یا بدل یا عطف بیان ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔
Ayah 7:27آیت نمبر : 27
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : لا یفتننکم یعنی شیطان تمہیں دین سے پھیر نہ دے، جیسے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال کر فتنہ میں مبتلا کیا۔ اب مذکر کے لیے اور ابۃ مونث کے لیے آتا ہے۔ پس اسی بنا پر ابوان کہا گیا ہے۔ آیت : ینزع عنھما لباسھما یہ حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے ور جملہ مستانفہ بھی ہو سکتا ہے اور آیت : من الجنۃ پر وقف کیا جائے گا۔ لیریھما یہ لام کی کے سبب منصوب ہے۔ آیت : انہ یرکم ھو وقبیلہ، یراکم اصل میں یرء اکم تھا پھر ہمزہ کو تخفیفا حذف کردیا گیا۔ اور وقبیلہ اس کا عطف ضمیر پر ہے اور ھو برائے تاکید ہے تاکہ عطف احسن ہوجائے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : اسکن انت وزوجک الجنۃ ( البقرہ : 35) یہ اس پر دلالت کر رہا ہے کہ را یتک وعمرو کہنا قبیح ہے، ( یعنی ضمیر متصل پر عطف کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے ضمیر منفصل سے اس کی تائید لگائی جائے) ۔ اور اس پر کہ مضمر، مظہر کی طرح ہوتا ہے۔ اور اس میں ستر عورت کے واجب ہونے پر بھی دلیل ہے۔ کیونکہ ارشاد گرامی ہے : آیت : ینزع عنھما لباسھما اور دوسروں نے کہا ہے : بلاشبہ اس میں زوال نعمت سے تحذیر اور ڈرا وا ہے، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ ارشاد نازل ہوا۔ یہ تب ہے کہ اگر اس میں زوال نعمت سے تحذیر اور ڈراوا ہے، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ ارشاد نازل ہوا۔ یہ تب ہے کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت ہم پر لازم ہوتی ہے اور معاملہ اس کے خلاف ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : انہ یرکم ھو وقبیلہ اس میں قبیلہ سے مراد شیطان کا لشکر ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مراد جن اور شیاطین ہیں (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 141 ) ۔ ابن زید نے کہا ہے : قبیلہ سے مراد اس کی نسل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی قوم مراد ہے۔ آیت : من حیث لا ترونھم بعض علماء نے کہا ہے : اس میں اس پر دلیل ہے کہ جن دیکھے نہیں جاسکتے ( تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 98) ، کیونکہ ارشاد گرامی ہے : من حیث لا ترونھم (جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ہو) ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا دکھائی دینا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب انہیں دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کے جسموں سے پردہ ہٹا دیتا ہے یہاں تک کہ انہیں دیکھا جاسکتا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : آیت : من حیث لا ترونھم اس پر دلالت کرتا ہے کہ جن نہیں دکھائی دیتے مگر اس وقت کی نبی (علیہ السلام) کو (دکھائی دیتے ہیں) تاکہ یہ اس کی نبوت پر دلیل ہوجائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی خلقت میں تخلیق فرمایا ہے جس میں وہ دکھائی نہیں دیتے، ہاں جب وہ اپنی اصلی صورتوں سے کسی اور شکل میں منتقل ہوتے ہیں تو پھر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اور یہ ان معجزات میں سے ہے جو انبیاء وقت صلوات اللہ وسلامہ علیہم کے سوا ظاہر نہیں ہو سکتا۔
علامہ قشیری (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے عادت جاریہ بنا دی ہے کہ آج ( دنیا میں) اولاد آدم شیاطین کو نہیں دیکھ سکتی۔ اور حدیث طیبہ میں ہے : ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم (صحیح بخاری، کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 198) ( بیشک شیطان انسان کی رگ خون میں چلتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : الذی یوسوس فی صدور الناس (الناس) ( جو وسوسہ ڈالتا رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں) اور آپ ﷺ نے فرمایا : ان للملک لمۃ وللشیطان لمۃ (جامع ترمذی، کتاب التفسیر عن رسول اللہ، جلد 2، صفحہ 123) ( بیشک (دل میں) ایک خیال فرشتے کی جانب سے آتا ہے ور ایک شیطان کی جانب سے) پس جہاں تک فرشتے کے خیال کا تعلق ہے تو خیر اور بھلائی کا وعدہ اور حق کی تصدیق ہوتا ہے اور جہاں تک شیطان کے خیال کا تعلق ہے تو وہ شر کا وعدہ اور حق کی تکذیب کے بارے ہوتا ہے) اور یہ سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور شیاطین اور (جنات) کی رویت کے بارے میں اخبارصحیح موجود ہیں۔ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث نقل کی ہے (صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ، جلد 1، صفحہ 310) کہ انہوں نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کی زکوۃ (صدقہ فطر) کی حفاظت میرے سپرد فرمائی اور آگے انہوں نے طویل قصہ بیان کیا اور اس میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس جن کو پکڑ لیا جو کھجوریں اٹھاتا تھا اور حضور نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا : ما فعل اسیرک البارحۃ (صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ، جلد 1، صفحہ 310) گزشتہ رات تیرے قیدی نے کیا کیا) اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : واللہ لو لا دعوۃ اخی سلیمان لاصبح موثقا یلعب بہ ولدان اھل المدینۃ (صحیح مسلم، کتاب المساجد مواضع الصلوٰۃ، جلد 1، صفحہ 205) ( قسم بخدا ! اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو میں صبح کے وقت اسے بندھا ہوا چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے) اور اس عفریت کے بارے میں جو آپ پر اچانک حاضر ہوجاتا تھا سورة ص میں اس کا ذکر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آیت : انا جعلنا الشیطن اولیآء للذین لا یومنون یعنی ہم نے ان کی سزا میں اضافہ کرتے ہوئے شیاطین کو ان کا دوست بنا دیا اور ہم نے انہیں حق سے انحراف کرنے میں مساوی اور برابر قرار دیا۔
Ayah 7:28آیت نمبر : 28
اکثر مفسرین کے قول کے مطابق یہاں فاحشۃ سے مراد ان کے ننگے بدن بیت اللہ شریف کا طواف کرنا ہے (تفسیر کشاف، جلد 2، صفحہ 99) ۔ اور حسن نے کہا ہے : اس سے مراد شرک اور کفر ہے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 216) ۔ اور اس پر انہوں نے ان کی اپنے اسلاف کی تقلید کرنے سے استدلال کیا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بارے حکم دیا ہے۔
اور حسن نے کہا ہے : آیت : واللہ امرنا بھا (اور اللہ نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ہے) یہ انہوں نے ان کی اپنے اسلاف کی تقلید کرنے سے استدلال کیا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بارے حکم دیا ہے۔
اور حسن نے کہا ہے : آیت : واللہ امرنا بھا ( اور اللہ نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ہے) یہ انہوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ اس ( نظریہ) کو ناپسند کرتا جس پر ہم ہیں تو ہم یقینا اس سے منتقل ہوجاتے (تفسیر حسن بصری، جلد 3، صفحہ 91) ۔ آیت : قل ان اللہ لا یامر بالفحشآء بیان فرمایا کہ وہ اپنی رائے اور مرضی سے فیصلہ دے رہے ہیں اور انہوں نے جو یہ دعوی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کا حکم دیا ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور تقلید کی مذمت اور ان کی بہت سی جہالتوں کی مذمت گزر چکی ہے۔ اور یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔
Ayahs 7:29–30آیت نمبر : 29۔ 30
قولہ تعالیٰ : آیت : قل امر ربی بالقسط حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ کہنا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 464 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قسط کا معنی عدل ہے (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 183) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے پس تم اس کی اطاعت کرو اور کلام میں حذف ہے۔ آیت : واقیموا وجوھکم اور ہر نماز میں تم اپنی چہروں کو قبلہ شریف کی طرف متوجہ کرو۔ آیت : عند کل مسجد جس مسجد میں بھی تم ہو۔ آیت : وادعوہ مخلصین لہ الدین یعنی تم اسے وحدہ لا شریک مانو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آیت : کما بداکم تعودون اس کی مثل یہ آیت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنٰکم اول مرۃ ( الانعام : 94) ( اور بیشک آگئے ہو تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تمہیں پہلی دفعہ) اور کاف محل نصب میں ہے، یعنی تعودن کما بداکم جیسے اس نے تمہیں پہلہ بار پیدا فرمایا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ تمہیں لوٹائے گا۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ اپنے ما قبل کے متعلق ہے۔
یعنی ومنھا تخرجون کما بداکم تعودون ( اس سے تم نکالے جاؤ گے جیسے اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا ویسے ہی تم لوٹو گے۔ آیت : فریقا ھدی اس میں فریقا، تعودون کی ضمیر سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ای تعودون فریقین تم لوٹو گے اس حال میں کہ تم دو فریق ہو گے۔ ایک سعادت مند، خوش بخت لوگوں کا گروہ اور دوسرا اشقیا اور بدبخت لوگوں کا گروہ۔
حضرت ابی ؓ کی قراءت اسے تقویت دیتی ہے : تعودون فریقین فریقا ھدی وفریقا حق علھم الضلالۃ یہ کسائی سے منقول ہے۔ اور محمد بن کعب قرظی نے اس قول باری تعالیٰ : آیت : فریقا ھدی وفریقا حق علیھم الضللۃ کے ضمن میں کہا ہے : جس کی تخلیق ابتداء اللہ تعالیٰ نے گمرائی و ضلالت کے لیے کی وہ اسے گمراہی کی طرف منتقل کر دے گا، اگرچہ اس نے ہدایت یافتہ لوگوں کے اعمال جیسے اعمال کیے۔ اور جسے ابتداء اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر تخلیق فرمایا تو اسے ہدایت کی طرف منتقل کر دے گا، اگرچہ اس نے گمراہ لوگوں کے اعمال کی مثل عمل کیے۔
اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ابتداء ہی گمراہی پر پیدا کیا اور اس نے فرشتوں کے ساتھ مل کر سعادت و خوش بختی کے اعمال کیے، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اسی کی طرف لوٹا دیا جس پر اسے ابتداء پیدا فرمایا تھا۔ اور فرمایا : آیت : وکان من الکفرین (البقرہ) ( اور وہ کافروں میں سے ہوگیا) اس میں قدریہ اور ان کے متبعین کا واضح رد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقا، ھدی کے سبب منصوب ہے۔ اور دوسرا فریقا فعل مضمر کے ساتھ منصوب ہے، یعنی واضل فریا ( اور اس نے ایک گروہ کو گمراہ کردیا)
سیبویہ نے بھی کہا ہے :
اصحبت لا احمل السلاح ولا املک راس البعیران نفرا
والذئب اخشاہ ان مررت بہ وحدی واخشی الریاح والمطرا
فراء نے کہا ہے : اگر مرفوع ہوتا تو بھی جائز ہوتا۔ آیت : انھم اتخذوا الشیٰطین اولیآء من دون اللہ اور عیسیٰ ابن عمر نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ انھم پڑھا ہے۔ یعنی لانھم