7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 7:63–64

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

آیت نمبر : 63۔ 64 قولہ تعالیٰ : آیت : اوعجبتم اس میں واو کو فتحہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ واو عاطفہ ہے ( زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 169 ) ، اس پر الف استفہام تقریر کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ اور واو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ حروف استفہام پر داخل ہوتی ہے سوائے الف کے اس کی قوت کے سبب ( یعنی الف پر یہ داخل نہیں ہو سکتی) ان جآء کم ذکر یعنی تمہارے پاس تمہاریرب کی طرف سے نصیحت آئی۔ آیت : علی رجل منکم، یعنی علی لسان رجل ( ایک آدمی کی زبان پر) اور یہ بھی کہا گیا ہے : علی بمعنی مع ہے یعنی مع رجل ( ایک آدمی کے ذریعہ) اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے تمہارے اس رب کی طرف سے نصیحت آئی جو تم میں سے ایک آدمی پر نازل کی گئی ہے، یعنی تم اس آدمی کے نسب کو جانتے ہو، یعنی ایسے آدمی پر جو تمہاری جنس میں ہے۔ اگر وہ فرشتہ ہوتا تو بسا اوقات اختلاف جنس میں مزاجوں میں باہم منافرت اور تضاد ہوتا۔ اور الفلک واحد بھی ہو سکتا ہے اور جمع بھی۔ سورة البقرہ میں اس کے بارے گزر چکا ہے۔ عمین یعنی وہ لوگ حق ( کی پہچان) سے اندھے ہیں۔ یہ حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کی پہچان اور معرفت سے اندھے ہیں، کہا جاتا ہے : رجل عم بکذا یعنی آدمی اس سے جاہل ہے۔
Ayahs 7:65–70

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قولہ تعالیٰ : آیت : والی عاد اخاھم ھودا یعنی اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ ان کے باپ کے بیٹے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ قبیلہ میں ان کے بھائی تھے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آۃ پ ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ایک بشر ( اور انسان) تھے۔ اور مصنف ابی داؤد میں ہے کہ اخاھم ھودا کا معنی ہے ان کے ساتھ ہودعلیہ السلام ( کو ان کی طرف بھیجا) اور عاد سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ابن اسحاق نے نسب اس طرح بیان کیا ہے : عاد ھو ابن عوص بن ارم بن شالغ بن ارفخشد بن سام بن نوح (علیہ السلام) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحۃ 489) اور حضرت ہود (علیہ السلام) کا نسب اس طرح ہے : ھود ھو ھود بن عبداللہ بن رباح بن الجلود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 489) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپ نسب کے اعتبار سے ان میں سے اعلیٰ اور حسب کے اعتبار سے ان سے افضل تھے۔ اور عاد کو جس نے منصرف نہیں بنایا اس نے اسے قبیلہ کا نام قرار دیا اور جس نے اسے منصرف قرار دیا ہے اس نے اسے محلے کا نام قرار دیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ کے الفاظ میں ہے : عاد الاولی یہ بغیر الف کے ہے۔ اور ہود عجمی لفظ ہے اور یہ اپنے خفیف ہونے کی وجہ سے منصرف ہے، کیونکہ اس کے حروف تین ہیں۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ عربی ہو اور ھاد یھود سے مشتق ہو۔ اور اس پر نصب ( زبر) بدل ہونے کی وجہ سے ہو۔ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان سات آباء کا فاصلہ تھا۔ اور روایت ہے کہ عاد کے تیرہ قبیلے تھے، وہ ٹیلوں پر اترتے تھے، ان میں سے ایک عالج کا ٹیلہ تھا۔ ان کے پاس باغات، کھیتیاں اور بڑی بڑی عمارتیں تھی اور ان کے شہر بڑے سر سبز و شادات تھے، پھر اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوگیا تو اس نے اس پر سر زمین کو جنگل بنا دیا اور یہ حضرموت کے نواح سے یمن تک تھی اور وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کو ہلاک کردیا تو حضرت ہود (علیہ السلام) ان لوگوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں تشریف لائے جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اور پھر وہ وہیں رہے یہاں تک کو وصال فرماگئے۔ آیت : انا لنرٰک فی سفاھۃ یعنی بلاشبہ ہم آپ کو نادان اور کم عقل دیکھ رہے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے : مشین کما اھتزت رماح تسفھت اعالیھا مر الریاح النواسم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 417) یہ معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں رویت سے مراد رویۃ البصر ( آنکھ کی بصارت ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد وہ رائے ہے جو ظن غالب ہوتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : واذکروا اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح اس میں خلفآء مذکر اور معنی کی بنا پر خلیفہ کی جمع ہے اور لفظ کی بنا پر خلائف کی جمع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان یہ فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد انہیں زمین کا باسی بنا دیا۔ آیت : وزاد کم فی الخلق بسطۃ اور یہ بھی جائز ہے کہ بصطۃ صاد کے ساتھ ہو، کیونکہ اس کے بعد طا ہے، یعنی قدوقامت کے اعتبار سے طویل اور جسم کے اعتبار سے بھاری کم اور عظیم الجثہ تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کے ( قدوں کی) زیادہ طوالت سوذراع تھی (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 170) ۔ اور ان میں سے جو چھوٹے قد کے تھے ان کی طوالت ساٹھ ذراع تھی۔ اور یہ زیادتی ان کے آبا کی تخلیق اور قد وقامت پر تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زیادتی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے قدوقامت پر تھی۔ وہب نے کہا ہے : ان میں سے کئی ایک کا سر عظیم اور بڑے قبہ کی مثل تھا۔ اور آدمی کی آنکھیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں درندہ بچے دے سکتا تھا اور اسی طرح ان کی ناک کے نتھنے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 491) ۔ شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ قوم عاد کا ایک آدمی پتھر سے ( دروازے کے) دو کو اڑ بناتا تھا کہ اگر اس امت کے پچاس آدمی اس پر جمع ہوجائیں تو وہ اسے اٹھانے کی طاقت نہ رکھیں اور یہ کہ اگر کوئی اپنے پاؤں کے ساتھ زمین کو زور سے دباتا تو وہ اس میں گھس جاتا۔ آیت : فازکروا الآء اللہ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ الاء کی واحد الی، الی، الو اور الی ہے، جیسا کہ آنا کی واحد انی، ان، انو اور انی ہے۔ لعلکم تفلحون یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 7:71–72

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

تو آپ نے انہیں فرمایا : آیت : قد وقع علیکم تحقیق تم پر واجب ہوگیا، اس میں وقع بمعنی وجب ہے۔ کہا جاتا ہے : وقع القول والحکم یعنی قول اور حکم واجب ہوگیا اور اسی کی مثل یہ آیت ہے : آیت : ولما وقع علیم الرجز (الاعراف : 134) یعنی جب ان پر عذاب نازل ہوا۔ آیت : واذا وقع القول علیھم اخرجنا لھم دابۃ من الارض ( النمل : 82) ( اس میں بھی وقع بمعنی وجب ہے) اور الرجس کا معنی عذاب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجس سے مراد وہ زنگ ہے جو کفر کی زیادتی کے سبب دل پرجم جاتا ہے۔ آیت : اتجادلوننی فی اسمآء ( الاعراف : 71) اس میں اسماء سے مراد وہ بت ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے اور ان کے نام مختلف تھے۔ آیت : مانزل اللہ بھا من سلطن یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے بارے میں تمہارے لیے کوئی حجت اور دلیل نازل نہیں کی۔ یہاں اسم بمعنی مسمی ہے۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے : آیت : ما تعبدون من دونہ الا اسمآء سمیتموھا ( یوسف : 40) اور یہ اسما مثلا عزی یہ الیز اور الاعز سے بنا ہے اور اللات وغیر ہیں۔ ان کے لیے عزت اور الوہیت میں سے کوئی شے نہیں۔ دابر اس سے مراد آخر ( یعنی جڑ) ہے یہ پہلے گز چکا ہے یعنی ان کے لیے کوئی شے باقی نہ رہی۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے یعنی یہی خدا کی اونٹی تمہارے لئے معجزہ ہے۔ تو اسے آزاد چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ عذاب الیم تم کو پکڑلے گا۔

آیت نمبر : 73 ثمود سے مراد ثمود بن عاد بن ارم بن سام بن نوح ہے۔ اور یہ جدیس کا بھائی تھا، معاشی طور پر یہ لوگ خوشحال تھے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف عمل کیا اور غیر اللہ کی عبادت اور پوجا کی اور زمین میں فساد برپا کیا۔ توا للہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا۔ اور آپ کا نسب اس طرح تھا صالح بن عبید بن آسف بن کاشح بن عبید بن حاذر بن ثمود۔ اور یہ عرب قوم تھے، آپ ان میں نسب کے اعتبار سے اعلی اور حسب کے اعتبار سے افضل تھے۔ پس آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہوگئے اور ان میں سے سوائے کمزور لوگوں کی قلیل تعداد کے انہوں نے آپ کی اتباع نہ کی۔ ثمود کا لفظ غیر منصرف ہے، کیونکہ اسے قبیلے کا نام بنایا گیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ یہ عجمی اسم ہے۔ نحاس نے کہا : یہ غلط ہے، کیونکہ یہ الثمد سے مشتق ہے اور اس کا معنی ہے قلیل پانی۔ تحقیق قراء نے اس طرح پڑھا : آیت : الاان ثمود کفروا ربھم (ہود : 68) کیونکہ یہ چھوٹے قبیلہ ( یا محلہ) کا نام ہے۔ اور قوم ثمود کی رہائش گاہیں حجاز اور شام کے درمیان وادی القری کی جانب مقام حجر پر تھیں اور وہ سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ان کا پانی کم ہونے کی وجہ سے ان کا نام ثمود رکھا گیا۔ اس کا بیان سورة الحجر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آیت : ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ جب انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا تو آپ نے سخت پتھر سے ان کے لیے اونٹنی نکالی۔ تو ایک دن اس کے لیے تھا جس میں وہ وادی کا سارا پانی پی جاتی تھی اور انہیں اسی کی مثل دودھ دیتی تھی کہ اس سے زیادہ لذید اور شیریں دودھ کبھی بھی کسی نے نہیں پیا۔ اور وہ ان کی کثرت کے باوجود ان کی حاجت اور ضرورت کے مطابق ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : لما شرب ولکم شرب یوم معلوم ( الشعرائ : 155) اس میں ناقۃ کی اضافت اور نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس بنا پر کہ خلق ( مخلوق) کی نسبت خالق کی طرف ہے۔ اور اس میں تشریف اور تخصیص کا معنی پایا جاتا ہے۔ آیت : فذروھا تاکل فی ارض اللہ یعنی تم پر نہ اس کا رزق ( خوراک) ہے اور نہ اس کی کوئی مشقت اور بوجھ۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنایا۔ اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے مٹی لے کر محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

آیت نمبر : 74 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : وبواکم فی الارض اس میں کلام محذوف ہے، اصل عبارت ہے وبواکم فی الارض منازل ( اور اس نے تمہیں زمین میں گھروں کا ٹھکانا دیا) آیت : تتخذون من سھولھا قصورا یعنی تم ہر جگہ عالیشا محل بناتے ہو۔ آیت : وتنحتون الجبال بیوتا انہوں نے پہاڑوں میں اپنی طویل اور لمبی عمروں کے لیے مکانات بنائے، کیونکہ چھت اور بنیادیں ان کی عمریں ختم ہونے سے پہلے بوسیدہ ہوچکی تھیں۔ حسن نے حاکو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی ایک لغت ہے اور اس میں حروف حلقیہ میں سے ایک ہے، پس اسی لیے یہ باب فعل یفعل کے وزن پر آیا ہے۔ مسئلہ نمبر : 2 جنہوں نے عالی شان اور بلند وبالا محلات بنانے کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی : آیت : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق ( الاعراف : 32) ( آپ فرمائیے : کس نے حرام کیا للہ کی زینت کو جو پیدا کیا اس نے اپنے بندوں کے لیے اور ( کس نے حرام کیے) لذیذ پاکیزہ کھانے ) بیان کیا گیا ہے کہ حضرت محمد بن سیرین (رح) کے صاحبزادے نے گھر تعمیر کیا اور اس پر مال کثیر خرچ کیا، جب اس کا ذکر حضرت محمد بن سیرین (رح) سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا کہ کوئی آدمی ایسا مکان بنائے جو اس کے لے نفع بخش ہو۔ اور روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : اذا انعم اللہ علی عبد احب ان یری اثر النعمۃ علیہ (جامع ترمذی، کتاب الاستیذان والادب، جلد 2، صفحہ 105۔ ایضا، حدیث نمبر 2744، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ( جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر احسان وانعام فرمائے تو پسندیدہ یہ ہے کہ اس پر اس نعمت و احسان کا اثر دکھائی دے) اور نعمت و احسان کے آثار میں سے خوبصورت مکان اور اچھا لباس ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ اگر کوئی مال کثیر کے عوض حسین و جمیل کنیز خریدے تو اس کے لیے جائز ہے، حالانکہ اس سے کمتر بھی اس کے لیے کافی ہو سکتی ہے، تو یہ مکان اور محل بھی اسی طرح ہیں۔ لیکن بعض دوسروں نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ ان میں امام بصری (رح) وغیرہ ہیں اور انہوں نے اس ارشاد نبوی سے استدلال کیا ہے : اذا اراد اللہ بعبد شرا اھلک مالہ فی الطین واللبن ( جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے شرکا ارادہ فرمائے تو وہ اپنا مال مٹی اور اینٹوں میں ضائع کردیتا ہے) اور دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : من بنی فوق ما یکفیہ جاء بہ یوم القیامۃ یحملہ علی عنقہ (مجمع الزوائد، کتاب البیوع، جلد 1، صفحہ 121، حدیث نمبر 6281) ( جس نے اپنی حاجت اور ضرورت سے زیادہ عمارت بنائی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہوگا) ۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس کے بارے اسی طرح میں کہتا ہوں، کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : وما انفق المومن من نفقۃ فان خلفھا علی اللہ عزوجل الا ما کان فی بنیان او معصیۃ (سنن دار قطنی، کتاب البیوع، جلد 3، صفحہ 28) ( بندہ مومن جو مال بھی خرچ کرے تو اس کی جگہ اور عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہوتا ہے سوائے اس کے جو عمارت یا معصیت ( برائی) میں خرچ ہو) اسے حضرت جابربن عبداللہ ؓ نے روایت کیا ہے اور دارقطنی نے اسے نقل کیا ہے۔ اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے : لیس لابن آدم حق فی سوی ھذہ الخصال بیت یسکنہ وثوب یواری عورتہ وجلف الخبز والمائ، اخرجہ الترمذی (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 57) ( آدمی کا ان چیزوں کا سوا میں کوئی حق نہیں گھر جو اسے رہائش کافی ہو، کپڑا جو اس کے لیے ستر عورت کا کام دے، خشک روٹی اور پانی ( اسے ترمذی نے نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر : 3 قولہ تعالیٰ : آیت : فاذکروا الاء اللہ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ کفار بھی منعم علیہم ہیں۔ اس کے بارے بحث سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ آیت : ولاتعثوا فی الارض مفسدین سورة البقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ اس میں العثی اور العثو دو لغتیں ہیں۔ اور اعمش نے تا کے کشرہ کے ساتھ لتعثوا پڑھا ہے انہوں نے اسے عثی یعثی سے لیا ہے نہ کہ عثا یعثو سے۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور تھے غریب لوگوں جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یہ یقین کرتے ہو صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز وہ دے کر بھجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو سرداران مغرور کہنے لگے جس چیز پر ایمان لائے ہو اہم اس کو نہیں مانتے۔

آیت نمبر : 75۔ 76 قولہ تعالیٰ : قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اس میں دوسرا پہلے سے بدل ہے، کیونکہ وہ مستضعفین ( جنہیں وہ کمزور سمجھتے تھے) مومنین ہی تھے اور یہ بدل بعض من الکل ہے۔
Ayahs 7:77–79

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

قولہ تعالیٰ : فعقروالناقۃ، العقر کا معنی ہے زخمی کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عضو کو کاٹ دینا جو اس کی جان میں اثر انداز ہو۔ اور عقرت الفرس تب کہا جاتا ہے جب تو تلوار کے ساتھ اس کے پاؤں پر ضرب لگائے۔ وہ خیل عقری ہے۔ اور عقرت ظھرالدابۃ جب تو جانور کی پشت کو زخمی کر دے۔ امرؤ القیس نے کہا ہے : تقول وقد مال الغبیط بنا معا عقرت بعیری یا امرء القیس فانزل یعنی تو نے میرے اونٹ کو زخمی کردیا۔ قشیری نے کہا ہے : عقر سے مراد اونٹ کی کونچ کو کھولنا یعنی کاٹنا ہے۔ پھر نحر کو عقر کہا گیا ہے، کیونکہ عقر اکثر نحر ( جان سے مار دینا) کا سبب بن جاتا ہے۔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ان میں صحیح ترین وہ ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ کی حدیث سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور آپ ﷺ نے ناقہ کا ذکر بھی کیا اور اس کا بھی جس نے اس کی کونچیں کاٹی تھیں۔ پس آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تب ان میں سے بدبخت انسان اٹھا ناقہ کی طرف وہ آدمی اٹھا جو اپنے گروہ میں غالب، انتہائی خبیث اور شریر اور سب سے زیادہ طاقتور تھا جیسے ابو زمعہ “ (صحیح ملسم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا، جلد 2، صفحہ 383) ۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ اس کے نام کے بارے کہا گیا ہے کہ قدار بن سلف ہے۔ اور یہ قول بھی ہے : ان کی حکمرانی ایک عورت کے پاس تھی جسے ملکی کہا جاتا تھا، جب لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف مائل ہونے لگے تو اس کے دل میں آپ کے بارے حسد کی آگ بھڑک اٹھی، تو اس نے دو عورتوں کو بلا کر کہا۔ ان دونوں کے دو دوست تھے جو ان سے عشق کرتے تھے کہ تم دونوں ان کی بات تسلیم نہ کرو اور ان سے اونٹنی کو کونچیں کاٹنے کے بارے مطالبہ کرو، تو ان دونوں عورتوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ دونوں مرد نکلے اور انہوں نے اونٹنی کو ایک تنگ جگہ میں بند کیر دیا او ان میں سے ایک نے اسے تیر مارا او اسے قتل کردیا۔ اور اس ناقہ کا بچہ سقب اس چٹان کی طرف آیا جس سے وہ نکلی تھی اور تین دفعہ ڈکارا ( یعنی اپنی آواز نکالی) وہ چٹان پھٹ گئی او وہ اس میں داخل ہوگیا۔ کہا جاتا ہے : یہ وہی دابۃ (جانور) ہے جو آخری زمانہ میں لوگوں پر ظاہر ہوگا۔ اس کا بیان سورة النمل میں آئے گا۔ ابن اسحاق نے کہا ہے : جن لوگوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹی تھیں ان میں سے چار افراد نے سقب کا پیچھا کیا، ان میں سے ایک مصدع اور ایک اس کا بھائی ذواب تھا۔ تو مصدع نے اسے تیر مارا او وہ اس کے دل میں پیوست ہوگیا پھر اسے ٹانگ سے کھینچ لیا او اسے اپنی ماں کے ساتھ ملا دیا ( یعنی مار ڈالا) اور انہوں نے اسے اس ( ناقہ) کے ساتھ کھایا (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 501) ۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : بلا شبہ تمہاری عمر سے تین دن باقی ہیں، اسی وجہ سے وہ تین بارڈ کارا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ناقہ کی کونچیں کاٹنے والے نے ہی اسے مارا اور اس کے ساتھ آٹھ آدمی تھے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط ( النمل : 48) (اور اس شہر میں نو شخص تھے) اس کا بیان سورة النمل میں آئے گا۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا معنی ہے۔ آیت : فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقر (القمر) ( پس ثمودیوں نے بلایا اپنے ساتھی ( قدار) کو پس اس نے وار کیا اور ( اونٹنی کی) کونچیں کاٹ دیں) وہ شراب پی رہے تھے تو پانی ان کے لیے کم ہوگیا کہ وہ اسے اپنی شراب میں ملا سکیں اور وہ ناقہ کے دودھ کا دن تھا، پس ان میں سے ایک اٹھا اور لوگوں کی نگرانی کرنے لگا اور اس نے کہا : میں ضرور اس سے لوگوں کو راحت پہنچاؤں گا۔ تو اس نے اسے مار ڈالا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وعتوا عن امر ربھم یعنی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے تکبر کیا عتا یعتو عتوا کا معنی ہے تکبر کرنا، شرکشی کرنا، اور جب کوئی اطاعت اور پیروی نہ کرے تو کہا جاتا ہے : تعتی فلان اور اللیل العاتی کا معنی ہے : سخت تاریک رات۔ خلیل نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ آیت : وقالوا یصلح ائتنا بما تعدنا اور انہوں نے کہا : اے صالح ! لے آو وہ عذاب جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ آیت : فاخذتھم الرجفۃ پس شدید زلزلے نے انہیں آلیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ شدید چیخ تھی جس نے ان کے دلوں کو کاٹ دیا۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ثمود کے قصہ میں ہے۔ قصہ ثمود میں ہے کہ پھر چیخ نے انہیں آلیا۔ کہا جاتا ہے : آیت : رجف الشی یرجف رجفا رجفانا ( کسی شی کا کا نپنا، لررہ براندم ہونا) اور ارجفت الریح الشجر کا معنی ہے : ہوا نے درخت کو حرکت دی، ہلا دیا۔ اور اس میں اصل وہ حرکت ہے جس کے ساتھ آواز بھی ہو۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : آیت : یوم ترجف الراجفۃ ( النازعات) شاعر کا قول بھی ہے۔ ولما رایت الحج قد آن وقتہ وظلت مطایا القوم بالقوم ترجف آیت : فاصبحوا فی دارھم پس وہ اپنے گھروں میں ہوگئے۔ کہا گیا ہے کہ اس میں لفظ دار جنس کے طور پر واحد لایا گیا ہے، حالانکہ یہ فی دو رھم کے معنی میں ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا ہے : آیت : فی دیارھم ( ہود : 94) یعنی اپنے گھروں میں جثمین یعنی اپنے گھٹنوں اور مونہوں کے بل زمین کے ساتھ چپکنے والے ( گرنے والے) جیسا کہ پرندہ چپک جاتا ہے، یعنی وہ عذاب کی شدت سے مر گئے۔ جثوم کا اصل لفظ خرگوش اور اس کی مثل جانوروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چپکنے کی جگہ کو مجثم کہا جاتا ہے۔ زہیر نے کہا : بھا العین والآرام یمشین خلفۃ واطلاؤھا ینھضن من کل مجثم اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کی وہ کڑک کے ساتھ جل گئے اور ان تمام نے سوائے ایک آدمی کے صبح مردہ حالت میں کی وہ آدمی اللہ تعالیٰ کے حرم میں موجود تھا، پس جب وہ حرم پاک سے باہر نکلا تو اس پر بھی وہی آفت آئی جو اس کی قوم پر آئی (سنن ابی داؤہد، کتاب الخراج والامارۃ والفئی الخ، حدیث نمبر 2684، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ آیت : فتولی عنہم پس آپ نے ان سے مایوس ہو کر ان سے چہرہ پھیرلیا۔ آیت : وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی ونصحت لکم اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ آپ نے انہیں یہ قول ان کی موت سے پہلے کیا ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی موت کے بعد آپ نے یہ کہا ہو، جیسا کہ حضور ﷺ نے مقتولین بدر کو یہ کہا : ھل وجدتم ما وعد ربکم حقا (صحیح مسلم، الجنۃ وصفۃ لحیمھا واھلھا، جلد 2، صفحہ 387) ( کیا تم نے اسے سچا پا لیا ہے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا) تو آپ ﷺ سے عرض کی گئی : کیا آپ ان مردوں سے گفتگو فرما رہے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ما انتم باسمع منھم ولکنھم لا یقدرون علی الجواب (2) ( تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن وہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے) اس میں پہلا احتمال زیادہ واضح اور ظاہر ہے۔ اور اس پر یہ ارشاد دلالت کرتا ہے آیت : ولکن لا تحبون النصحین یعنی تم نے میری نصیحت قبول نہیں کی۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

آیت نمبر : 80 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر۔ 1 قولہ تعالیٰ : آیت : ولوطا اذ قال لقومہ امام فراء نے کہا ہے : لوط ان کے اس قول سے مشتق ہے : ھذا الیط بقلبی، ای الصق یعنی یہ میرے دل کے ساتھ چمٹ گیا۔ نحاس نے کہا ہے : زجاج نے کہا ہے : بعض نحویوں یعنی فراء نے گمان کیا ہے کہ یہ جائز ہے کہ لوط لطت الحوض سے مشتق ہو اور یہ تب کہا جاتا ہے جب تو حوض کو مٹی کے ساتھ لیپ کرے۔ فرمایا : یہ غلط ہے کیونکہ عجمی اسماء مشتق نہیں ہوتے جیسے اسحاق وغیرہ، پس یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ سحق بمعنی بعد سے ہے۔ لوط کا لفظ خفیف ہونے کی وجہ سے منصرف ہے، کیونکہ اس کے حروف تین ہیں اور درمیان والا حرف ساکن ہے۔ نقاش نے کہا ہے : لوط عجمی اسماء میں سے ہے عربی میں سے نہیں ہے۔ اور رہے اس سے لطت الحوض اور ھذا ایط بقلبی تو یہ صحیح ہے، لیکن اس کے باوجود اسم عجمی ہے جیسا کہ ابراہیم اور اسحاق وغیرہ۔ سیبویہ نے کہا ہے : نوح اور لوط عجمی اسماء ہیں، مگر خفیف ہونے کی وجہ سے منصرف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک امت کی طرف بھیجا جس کا نام سودم تھا۔ اور آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی کے بیٹے تھے۔ اور اس کے آخر میں نصب یا تو سابقہ ارسلنا کی وجہ سے ہے اور یہ اس پر معطوف ہوگا۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ منصوب ہو اور اس سے پہلے اذکر فعل محذوف ہو۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : اتا تون الفاحشۃ اس میں فاحشہ سے مراد مذکروں کے ساتھ فعل بد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا زکر فاحشہ کے لفظ کے ساتھ کیا ہے تاکہ وہ یہ بیان کرے کی یہ زنا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : آیت : ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ (الاسرائ : 32) (تم زنا کے قریب نہ جاؤ بلاشبہ یہ بےحیائی ہے) علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے جو اس پر واجب ہوگا جس نے اس فعل بد کا ارتکاب کیا اس کے بعد کہ اس کے حرام ہونے پر تمام کا اجماع ہے۔ پس امام مالک (رح) نے فرمایا : اسے رجم (سنگسار) کیا جائے گا (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 786) چاہے محصن ہو یا غیر محصن (غیرشادی شدہ) ۔ اور اسی طرح اسے بھی رجم کیا جائے گا جس کے ساتھ یہ فعل کیا گیا بشرطیکہ وہ بالغ ہو۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے : اسے رجم کیا جائے گا اگر وہ محصن ہو اور اگر غیر محصن ہو تو اسے قید کیا جائے گا اور تادیبی سزا دی جائے گی۔ یہی مذہب حضرات عطا، ابراہیم نخعی اور ابن مسیب وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم کا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : محصن اور غیر محصن دونوں کو تعزیر لگائی جائے گی (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 786) ۔ اور یہ امام مالک (رح) سے بھی مروی ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : زنا پر قیاس کرتے ہوئے اسے حد زنا لگائی جائے گا (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 786) ۔ امام مالک (رح) نے اس ارشاد باری تعالیٰ سے استدلال کیا ہے : آیت : وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل (الحجر) ( اور ہم نے برسائے ان پر کھنگر کے پتھر) پس یہ ان کے لیے سزا اور ان کے فعل کا بدلہ ہے۔ اور اگر کہا جائے : اس میں دو وجہوں سے کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، ایک تو یہ کہ قوم لوط کو دیگر تمام امتوں کی طرح کفر اور تکذیب پر سزد دی گئی اور یہ کہ ان کے صغیر اور بڑھ سب ہی اس میں داخل ہیں۔ پس یہ باب الحدود سے اس کے خارج ہونے پر دلیل ہے۔ تو کہا جائے گا : جہاں تک پہلی وجہ ہے تو وہ غلط ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے معاصی کا ارتکاب کیا پس انکے بدلے اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔ ان معاصی میں سے یہ بھی ہے۔ اور رہی دوسری وجہ تو ان میں سے کچھ یہ فعل کرنے والے تھے اور ان میں سے کچھ راضی تھے، تو جمہور کے اس پر سکوت اختیار کرنے کی وجہ سے تمام کو سزا دی گئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اپنے بندوں کے بارے میں سنت ہے۔ اور فاعلین پر سزا کا امر مسلسل باقی رہے گا۔ واللہ اعلم ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور دارقطنی نے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جسے تم قول لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کر دو “ (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، جلد 2، صفحہ 257، حدیث نمبر 3869، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ یہ لفظ ابو داؤد اور ابن ماجہ کے ہیں۔ اور ترمذی میں ہے ” وہ دونوں محصن ہوں یا محصن نہ ہوں “ (جامع ترمذی، کتاب الحدود، جلد 1، صفحہ 176، حدیث نمبر 2550، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ ابو داؤد اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایسے غیر شادی شدہ جو ان کے بارے روایت کیا ہے جو عمل لواطت کی حالت میں پایا جائے۔ آپ نے فرمایا : اسے رجم کیا جائے گا (سنن ابن داؤد، کتاب الحدود، جلد 2، صفحہ 257، ایضا، حدیث نمبر 3780، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک آدمی کو جلا دیا اس کا نام فجائہ تھا، اس نے قوم لوط کا عمل کیا تھا اور یہی رائے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی تھی، کیونکہ جب حضرت خالد بن ولید ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف اس کے بارے لکھا تو آپ نے حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب کو جمع کیا اور اس بارے میں ان سے مشور طلب کیا۔ تو حضرت علی ؓ نے کہا : بلاشبہ یہ ایسا گناہ ہے جو سابقہ امتوں میں سے سوائے ایک امت کے کسی نے نہیں کیا اور اس کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے (بطور سزا معاملہ) کیا اس کے بارے تم جانتے ہو، میں یا رائے رکھتا ہوں کہ اسے آگ کے ساتھ جلا دیا جائے۔ تو اصحاب رسول اللہ ﷺ کی رائے اسی پر متفق ہوئی کہ اسے آگ کے ساتھ جلا دیا جائے۔ نتیجہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی طرف اسے آگ کے ساتھ جلا دینے کا حکم بھیجا تو انہوں نے اسے جلا دیا۔ پھر ایسے لوگوں کو ابن زبیرؓ نے اپنے زمانہ میں جلایا۔ پھر ہشام بن ولید نے انہیں جلانے کی سزا دی۔ پھر خالد قشیری نے عراق میں انہیں جلایا۔ روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ؓ کے زمانہ میں سات افراد لواطت کے جرم میں پکڑے گئے۔ تو آپ نے ان کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو آپ نے ان میں سے چار کو شادی شدہ پایا تو آپ نے ان کے بارے حکم صادر کیا پس انہیں حرم سے باہر نکال کر رجم کردیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے اور تین کو حد جاری کردی اور آپ کے پاس حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ تھے لیکن ان دونوں نے اس حکم پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اور یہی موقف امام شافعی (رح) کا ہے۔ حضرت ابن عربی نے کہا ہے : وہ موقف جسے امام مالک (رح) نے اپنایا ہے وہ حق کے زیادہ قریب ہے اور وہ سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور اعتماد کے لحاظ سے زیادہ قوی ہے۔ اور جہاں تک احناف کا قول ہے تو انہوں نے کہا : زنا کی سزا تو معلوم ہے، تو یہ گناہ جب اس کے سوا ہے تو پھر ضروری ہے کہ وہ اسکی حد میں اس کے ساتھ شریک نہ ہو۔ اور وہ اس بارے میں اس حدیث کو ترجیح دیتے ہیں۔ من وضع حدا فی غیر حد فقد تعدی وظلم ( جس نے غیر حد کی جگہ حد لگائی تو اس نے زیادتی اور ظلم کیا) اور یہ بھی کہ اس نے ایسی فرج میں وطی کی ہے جس کے ساتھ نہ حلت کا تعلق ہے اور نہ احصان کا، نہ مہر واجب ہوتا ہے اور نہ نسب ثابت ہوتا ہے، پس اس کے ساتھ حد کا کوئی تعلق نہیں (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 787) ۔ مسئلہ نمبر۔ 3 اگر کسی نے چوپائے کے ساتھ بدکاری کی تو اس کے بارے کہا گیا ہے کہ نہ اس آدمی کو قتل کیا جائے گا اور نہ ہو چوپائے کو۔ اور یہ قول بھی ہے : دونوں کو مار ڈالا جائے گا۔ اسے ابن منذر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے بیان کیا ہے۔ اور اس باب میں ایک اور حدیث ہے جسے ابو داؤد اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جس نے کسی جانور کے ساتھ بدکاری کی تو تم اسے قتل کردو اور اس کے ساتھ اس کے ساتھ اس چوپائے کو بھی قتل کردو “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الحدود، جلد 1، صفحہ 187) ۔ تو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : اس جانور کی حالت ( اور حکم) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں اس کے بارے جو رائے رکھتا ہوں وہ کہہ دیا، مگر یہ مروہ ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہے اس کا گوشت کھایا جائے (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود باب فیمن الی بھیمۃ، حدیث نمبر 3781، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ ابن منذر نے کہا ہے : اگر یہ حدیث ثابت ہے تو پھر اس کے مطابق قول کرنا واجب ہے اور اگر ثابت نہیں تو پھر چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کثرت سے استغفار کرے جس نے اس طرح کا فعل کیا اور اگر حاکم اسے تعزیر لگائے تو یہ اچھا اور حسن ہے۔ واللہ اعلم اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوپائے کا قتل اس لیے ہے تاکہ وہ کسی بدشکل شے کو جنم نہ دے۔ پس اس کا قتل اس معنی کے لیے مصلحت ہوتا ہے اس کے باوجود کہ یہ سنت سے ثابت ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : وہ آدمی جس نے کسی چوپائے سے بدکاری کی اس پر حد نہیں ہے۔ ابو داؤد نے کہا ہے : اسی طرح حضرت عطا (رح) نے بھی کہا ہے۔ اور حکم نے کہا ہے : میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ اسے کوڑے لگائے جائیں، لیکن وہ حد کی مقدار کو نہ پہنچیں۔ اور حسن نے کہا ہے : وہ زانی کے قائم مقام ہی ہے (ایضا۔ حدیث نمبر 3782، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور زہری نے کہا ہے : اسے سو کوڑے مارے جائیں گے چاہے وہ محصن ہو یا محصن نہ ہو۔ امام مالک، ثوری، احمد رحمۃ اللہ علیہم اور اصحاب رائے نے کہا ہے : اسے تعزیر لگائی جائے گی۔ یہ حضرت عطاء نخعی اور حکم (رح) سے مروی ہے۔ امام شافعی (رح) سے ایک روایت اس سے مختلف ہے۔ اور یہ اس باب میں آپ کے مذہب کے زیادہ مشابہ ہے۔ اور جابر بن زید نے کہا ہے : اس پر حد قائم کی جائے گی، مگر چوپایہ اس کا ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ما سبقکم بھا من احد من العلمین اس میں من استغراق جنس کے لیے ہے، یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے کسی امت میں کوئی لواطت کرنے والا نہ تھا اور ملحد گمان کرتے ہیں کہ وہ ان سے پہلے بھی تھے۔ لیکن سچ وہی ہے جو قرآن کریم میں آیا ہے۔ اور نقاش نے بیان کیا ہے کہ ابلیس ان کے عمل کی اصل تھا اس طرح کہ اس نے انہیں اپنی طرف بلایا اللہ اس پر لعنت کرے۔ پس وہ ان کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح کردیتا تھا۔ حسن نے کہا ہے : وہ یہ عمل غرباء ( اجنبیوں) سے کرتے تھے (تفسیر بصری، جلد 3، صفحہ 103) ، آپس میں ایک دوسرے سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ابن ماجہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ جس کے بارے میں اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف رکھتا ہوں وہ قوم لوط کا عمل ہے “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الحدود، جلد 1 صفحہ 187۔ ایضا، حدیث نمبر 2552، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور حضرت محمد بن سیرین نے کہا ہے : جانوروں میں سے خنزیر اور گدھے کے سوا کوئی نہیں ہے جو قوم لوط کے عمل کی مثل عمل کرتا ہو۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

آیت نمبر : 81 قولہ تعالیٰ آیت : انکم حضرت نافع اور حفص نے خبر کی بنا پر اسے ایک ہمزہ مک سورة کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ مذکور فاحشہ کی تفسیر ہے، پس اس پر حرف استفہام داخل کرنا اچھا نہیں، کیونکہ یہ اپنے مابعد کو اپنے ماقبل سے قطع کردیتا ہے۔ لیکن باقیوں نے استفہام کی بنا پر اسے دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ استفہام تو بیخ (جھڑک) کے معنی میں ہے اور یہ حسین ہے، کیونکہ اس کا ماقبل اور مابعد مستقل کلام ہے۔ ابو عبید اور کسائی وغیرہ نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : آیت : افائم مت فھم الخلدون (الانبیائ) اس میں افھم نہیں فرمایا۔ اور مزید فرمایا : آیت : افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ( ال عمران : 144) اس میں انقلبتم نہیں فرمایا۔ اور یہ انتہائی قبیح غلطی ہے، کیونکہ ان دونوں نے دو چیزوں کوا یسی چیز کے ساتھ مشابہت دی ہے جس کے ساتھ وہ مشابہت نہیں رکھتیں، کیونکہ شرط اور جزا دونوں ایک شے کے قائم مقام ہیں جیسا کہ مبتدا اور خبر۔ لہٰذا یہ جائز نہیں ہے کہ ان دونوں میں اسفہام ہو۔ پس یہ کہنا جائز نہیں : افان مت افھم جیسے یہ کہنا جائز نہیں ازید امنطلق۔ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصہ میں دو جملے ہیں، پس آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ ان میں سے ہر ایک کے بارے سوال کریں ( یعنی ہر ایک کے ساتھ حرف اسفہام لگائیں) یہ خلیل اور سیبویہ کا قول ہے اور اسے نحاس اور مکی وغیرہما نے اختیار کیا ہے۔ شھوۃ یہ مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے، ای تشھونھم شھوتہ ( یعنی تم ان سے شہوت پرستی کرتے ہو) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال کے محل میں مصدر ہو۔ آیت : بل انتم قوم مسرفون اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : بل انتم قوم عدون ( الشعرائ) اس برائی کے سبب تم شرک کی طرف جمع ہونے میں حس سے بڑھنے والے ہو۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

قولہ تعالیٰ : آیت : وما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوھم یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی اتباع کرنے والوں کو بستی سے باہر نکال دو ۔ اور یتطھرون کا معنی ہے کہ لوگ تو اس قسم کا کام کرنے سے بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : تطھر الرجل یعنی وہ گناہ سے پاک رہا۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : قسم بخدا ! انہوں نے انہیں بغیر عیب کے عیب لگا دیا ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 425 ) ۔ آیت : من الغٰبرین یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں باقی رہنے والے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : غبرا لشی تب کہا جاتا ہے جب کوئی شے گزر جائے ( ختم ہوجائے) اور جب کوئی شے باقی رہے تب بھی غبر کہا جاتا ہے۔ پس یہ الفاظ اضداد میں سے ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا ہے : گزرنے والے کے لیے عابر عین کے ساتھ اور باقی رہنے والے کے لیے غابر غین کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ اسے ابن فارس نے ” الجمل “ میں بیان کیا ہے۔ اور زجاج (رح) نے کہا ہے : آیت : من الغبرین یعنی وہ نجات سے غائب ہونے والوں میں سے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی عمر کے طویل ہونے کے سبب پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ نحاس نے کہا ہے : اور ابو عبیدہ اس طرف جاتے ہیں کہ اس کا معنی من المعمرین ہے یعنی وہ بوڑھی ہوگئی۔ اور لغت میں اکثر یہ ہے کہ غابر باقی رہنے والا ہوتا ہے۔ راجز نے کہا ہے : فما ونی محمد مذ ان غفر لہ الالہ ما مضی وما غبر اس میں غبر باقی وہنے والا کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے
Ayahs 7:83–84

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

آیت نمبر : 83 حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کے وقت نکلے جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے : آیت : بقطع من الیل (ہود : 81) پھر حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنا پر ان بستیوں کے نیچے داخل کیا اور ان تمام کو نیچے سے اکھیڑ ڈالا اور انہیں اوپر اٹھا لیا یہاں تک کہ اہل آسمان نے مرغوں کی پکار اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سن لی، پھر ان کے اوپر والے حصہ کو نیچے کردیا ( یعنی الٹا کر کے زمین پردے مارا) اور ان پر کنکر کی پتھریاں برسائیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پر جو ان میں سے غائب تھا۔ اور آپ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کو پالیا، آپ کے پاس ایک پتھر تھا پس اسے قتل کردیا۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ چار بستیاں تھیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ پانچ تھیں۔ اور ان میں چار لاکھ افراد تھے۔ اس کا بیان سورة ہود میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصہ میں ذرا تفصیل کے ساتھ آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر۔ 1 قولہ تعالیٰ : آیت : والی مدین مدین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بلد اور رقطر کا نام ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 426 ) ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قبیلہ کا نام ہے جیسے بکر اور تمیم قبیلوں کے نام ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ پس جن کی رائے ہے کہ مدین آدمی کا نام ہے ان کے نزدیک یہ غیر منصرف ہے، کیونکہ اس میں معرفہ اور عجمہ پائے جاتے ہیں۔ اور جن کی رائے ہے کہ یہ قبیلہ یا زمین کا نام ہے تو یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ اسے منصرف قرار نہ دیں۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ روایت ہے کہ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی کا بیٹا تھا۔ اور مکی نے کہا ہے : وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی کا خاوند تھا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 426 ) ۔ اور اس کے نسب میں اختلاف ہے۔ حضرت عطا اور ابن اسحاق وغیرہما نے کہا ہے : شعیب ھو ابن میکیل بن یشجرا بن مدین بن ابراھیم (علیہ السلام) سرایانی زبان میں ان کا نام بیروت تھا اور ان کی ماں میکائیل بنت لوط تھی (معالم التنزیل، جلد 5، صفحہ 507) ۔ اور شرقی بن قطامی نے یہ گمان کیا ہے کہ شعیب بن عیفاء بن یوبب بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) نسب ہے۔ اور ابن سمعان کا خیال ہے کہ شعیب بن جزی بن یشجر بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراھیم نسب ہے۔ اور شعیب شعب یا شعب کی تصغیر ہے۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے کہ وہ شعیب بن یوبب ہے اور یہ قول بھی ہے : شعیب بن صفوان بن عیفاء بن ثابت بن مدین بن ابراہیم نسب ہے۔ واللہ اعلم آپ نابینا تھے، اسی لیے آپ کی قوم نے کہا : آیت : وانا لنرٰک فینا ضعیفا (ہود : 91) ( اور بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے کہ تو ہم میں بہت کمزور ہے) اور آپ کو اپنی قوم کی طرف حسن مراجعت کی وجہ سے خطیب الانیاء کہا جاتا ہے۔ اور آپ کی قوم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والی اور ناپ تول میں کمی کرنے والی تھی (معالم التنزیل، جلد 5، صفحہ 507) ۔ آیت : قد جاء تکم بینۃ من ربکم یعنی تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بیان آگیا اور اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کا رسول بن کر تشریف لانا ہے۔ اور آپ کی کسی معجزہ کا ذکر قرآن کریم میں نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس بارے میں آپ کا معجزہ امام کسائی نے قصص الانبیاء میں ذکر کہا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تبخسوا الناس اشیائھم، البخس کا معنی ہے کمی کرنا، گھٹا کردینا اور یہ سامان تجارت میں عیب لگانے اور اس میں رغبت کم ہونے کے سبب ہوتی ہے یا قیمت میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے سبب اور ماپ میں زیادتی اور کمی کرنے کا حیلہ کرنے کے سبب ہوتی ہے۔ اور یہ سب مال کو باطل طریقے سے کھانا ہے، سابقہ اور گزشتہ تمام امتوں میں تمام رسل علیہم الصلوٰات والتسلیمات کی زبانوں سے اس سے منع کیا گیا ہے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا اس کا عطف آیت : ولاتبخسوا پر ہے یہ لفظ چھوٹھے اور بڑھ ہر فساد کو شامل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ کے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر مبعوث فرمانے سے پہلے اس زمین میں معاصی اور گناہوں کے اعمال کیے جا رہے تھے، محارم کو حلال سمجھا جا رہا تھا اور اسمیں خون بہایا جا رہا تھا۔ فرمایا : پس یہی اس کا فساد ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور آپ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تو زمین کی اصلاح ہوگئی۔ اور ہر نبی جسے اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اس نے ان کی اصلاح کی، ( اور فسا کو جڑ سے اکھیڑنے کی سر توڑ کوشش فرمائی ) مسئلہ نمبر 4۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تقعدوا بکل صراط اللہ تعالیٰ نے انہیں راستوں پر بیٹھنے سے اور اس راستے کو بند کرنے سے منع فرمایا ہے جو راستہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف لے جانے والا ہے۔ وہ اس آدمی کو عذاب اور اذیت سے ڈراتے دھمکاتے تھے جو ایمان لے آتا۔ علماء نے راستوں پر بیٹھنے کے معنی میں اختلاف کہا ہے اور تین معنی بیان کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور رسی ؓ نے کہا ہے : وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی طرف جانے والے راستوں پر بیٹھ جاتے تھے اور جو بھی آپ کے پاس آنے کی کوشش اور ارادہ کرتا وہ اس کو خوفزدہ کرتے تھے اور روکتے تھے اور یہ کہتے تھے : وہ تو کذاب ہے تو اس کی طرف مت جا، جیسا کہ قریش مکہ حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ کرتے تھے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 427 ) ۔ یہی آیت کا ظاہر معنی ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا ہے : یہ ڈاکہ ڈالنے اور مال چھیننے سے نہی ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 427 ) ۔ اور یہ فعل ان کے افعال میں سے تھا۔ حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :” میں نے شب معراج راستے میں ایک لکڑی دیکھی جو کپڑا بھی اس کے پاس سے گزرتا وہ اسے پھاڑ دیتی اور اس نے ہر شی کو پھاڑ دیا، تو میں نے پوچھا : اے جبریل ! یہ کہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یہ آپ کی امت میں سے اس گروہ کی مثال ہے جو راستے پر بیٹھتے ہیں اور ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : آیت : ولا تقعدوا بکل صراط توعدون الایہ (تفسیر طبری، جلد 8، صفحہ 280) اور چوروں اور حملہ آوروں کے بارے کلام پہلے گزر چکی ہے۔ والحمد للہ اور سدی (رح) نے بھی کہا ہے : وہ دسواں حصہ ( عشرا) وصول کرتے تھے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 508) ۔ اور آج کے دور میں ان کی مثل وہ لوگ ہیں جو لوگوں سے وہ مال قہر و جبر کے ساتھ وصول کرتے ہیں جو ان پر وظائف مالیہ میں سے شرعا لازم ہوتا ہے۔ اور اس مال کا جامن بنا دیتے ہیں جس کی ضمانت اصلا جائز ہوتی ہے مثلا زکوۃ، مال میراث اور ملاہی وغیرہ ( کھیل کود کا سامان وغیرہ) اور وہ مختلف راستوں پر ڈیرہ لگا کر بیٹھتے ہیں۔ اس کا وجود کثرت سے ہے اور تمام شہروں میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔ اور یہ عظیم کبیرہ اور فحش ترین گناہوں میں سے ہے، کیونکہ یہ ظلم، غصب اور لوگوں پر بےجا زیادتی ہے اور یہ منکر کو پھیلانا، اس کے مطابق عمل کرنا، اس پر دوام اختیار کرنا اور اسے مزید پختہ کرنا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شریعت اور قضاء کے حکم کو اپنے ذمے میں شامل کرنا ہے۔ آیت : انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسلام میں سے سوائے رسم کے کچھ باقی نہ رہا اور دین میں سے سوائے نام کے کچھ نہیں رہا۔ اس تاویل کے لیے وہ نہیں باعث تقویت ہے جو اس سے قبل مال کے ناپ تول او اس میں کمی کرنے کے بارے گزر چکی ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : من امن بہ اس میں بہ کی ضمیر یہ احتمال بھی رکھتی ہے کہ اسم جلالت کی طرف لوٹ رہی ہو اور یہ بھی کہ شعیب کی طرف لوٹ رہی ہو۔ یہ ان کے قول کے مطابق ہے جن کی رائے یہ ہے کہ مراد راستہ بند کرنے کے لیے راستے پر بیٹھنا ہے اور یہ بھی کہ وہ السبیل کی طرف لوٹ رہی ہو۔ عوجا ابو عبید اور زجاج نے کہا ہے : یہ معانی میں عین کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ اور اجرام میں عین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : واذکروا اذ کنتم قلیلا فکثرکم یعنی اس نے تمہاری تعداد بڑھا دی یا فقر و افلاس کے بعد دولت و ثروت کے ساتھ تمہیں بڑھا دیا، یعنی تم فقراء تھے تو اس نے تمہیں دولت مند بنا دیا۔ فاصبروا یہ کفر پر قائم رہنے کا امر نہیں ہے بلکہ یہ وعید اور جھڑک ہے۔ اور فرمایا : آیت : وان کان طآئفۃ منکم معنی کے اعتبار سے کان مذکور ہے اگرچہ لفظ کا تقاجا تو یہ ہے کہ کا نت ہوتا۔
Ayahs 7:88–89

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

آیت نمبر۔ 88۔ 89 قولہ تعالیٰ : آیت : قال الملا الذین استکبروا من قومہ لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اور لتعودن فی ملتنا اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے اور آیت : اولتعودن فی ملتنا کا معنی ہے تم لوٹ آو گے ہماری ملت کی طرف۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے متبعین آپ کے ساتھ ایمان لانے سے پہلے کفر پر تھے، یعنی تم ضرور ہماری طرف لوٹ آو گے جیسے تم پہلے تھے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ عود بمعنی ابتدا ہو۔ کہا جاتا ہے : عاد الی من فلان مکروہ یعنی فلاں سے میری طرف آنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے، اگرچہ اس سے پہلے اس کا آنا مکروہ نہین، یعنی وہ اس سے میرے ساتھ مل گیا۔ تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : آیت : اولوکنا کر ھین یعنی اگر ہم ناپسند کریں تو تم ہمیں وطن سے نکلنے پر یا پنی ملت کی طرف لوٹنے پر مجبور کرو گے، یعنی اگر تم نے ایسا کیا تو تم نے بہت بڑا کام کرلیا۔ آیت : قدافترینا علی اللہ کذبا ان عدنا فی ملتکم بعد اذ نجنا اللہ منھا یہ ان کی ملت کی طرف لوٹنے سے مایوسی اور نا امیدی کا اظہار ہے۔ آیت : وما یکون لنا ان نعود فیھا الا ان یشاء اللہ ربنا۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا ہے : یعنی ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر اس کی طرف لوٹنے کو کوئی وجہ نہیں ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 509) ۔ فرمایا : یہ اہل السنت کا قول ہے۔ یعنی وما یقع منا العود الی الکفر الا ان یشاء اللہ ذالک ( ہم سے کفر کی طرف لوٹنے کا وقوع نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے چاہے) پس یہ استثنا منقط ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہاں استثنا اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرنے کی جہت پر ہے جیسے یہ کہا : آیت : وما توفیقی الا باللہ (ہود : 88) اور اس پر دلیل اس کا مابعد آیت : وسع ربنا کل شی علما علی اللہ توکلنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : لا اکلمک حتی یبض الغراب، وحتی یلج الجمل فی سم الخیاط ( میں تیرے ساتھ کلام نہیں کروں گا یہاں تک کہ کوا سفید ہوجائے اور یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے) اور کوا کبھی سفید نہ ہوگا اور اونٹ سوئی کے ناکے میں کبھی داخل نہ ہوگا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وسع ربنا کل شی علما ہمارا رب ما کان اور مایکون کے علم کو گھیرے ہوئے ہے۔ علما تمیز کی بنا پر منصوب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ ہمارے لیے کوئی وجہ نہیں کہ ہم بستی میں لوٹ آئیں اس کے بعد کے تم نے ہمارے پڑوس کو ناپسند کیا ہے، بلکہ ہم تمہارے گاؤں سے کسی اور کی طرف ہجرت کر کے نکل جائیں گے۔ الا ان یشاء اللہ مگر یہ کہ اللہ ہمیں اس کی طرف لوٹادے۔ اور اس معنی میں بعد ہے۔ کیونکہ عاد للقریۃ کہا جاتا ہے، عاد فی القریۃ نہیں کہا جاتا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : علی اللہ توکلنا یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کہا۔ کئی مقام پر یہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق۔ حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو امتوں کی طرف بھیجا ایک اہل مدین، اور دوسرے اصھاب الایکہ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 511) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : حضرت شعیب (علیہ السلام) کثرت سے نماز پڑھتے تھے۔ ہپس جب طویل وقت گزر گیا آپ کی قوم اپنے کفر اور اپنی گمراہی میں سرکش ہوگئی اور آپ ان کی اصلاح سے مایوس ہوگئے تو ان کے لیے بدعا کی اور کہا : ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں زلزلہ کے ساتھ ہلاک اور تباہ کردیا۔