7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 7:194–196

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

آیت نمبر : 194۔ 196 قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم ( اللہ تعالیٰ نے) بتوں کی پوجا کے بارے میں ان سے جھگڑا کیا ہے۔ تدعون یہ تعبدون کے معنی میں ہے یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم انہیں ( بتوں کو) الٰہ پکارتے ہو۔ من دون اللہ یعنی من غیر اللہ، اللہ کے سوا کو۔ اور بتوں کو عباد کہا گیا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور مسخر ہیں۔ حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ بت تمہاری طرح مخلوق ہیں جب مشرکین نے یہ اعتقاد بنا لیا کہ بت نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے قائم مقام قرار دیا اور فرمایا : فادعوھم اور یہاں فادعوھن نہیں کہا ( یعنی ان کے لیے مونث ضمیر ذکر کرنے کی بجائے جمع مذکر ضمیر ذکر کی جو ذوی العقول کے لیے ذکر کی جاتی ہے) اور ان کے لیے فرمایا : عباد ( وہ بندے ہیں تمہاری طرح) اور میزید کہا : آیت : ان الذین اس کی جگہ ان التی ذکر نہیں لیا۔ اور فادعوھم کا معنی یہ ہے پس تم ان سے نفع اور نقصان کا مطالبہ کرو۔ فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین ( پس چاہیے کہ وہ قبول کریں تمہاری پکار کو) اور یہ کہ بتوں کی پرستش کرو) پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زجر وتوبیخ کی اور ان کی عقلوں کی سفاہت اور حماقت کو بیان فرمایا اور فرمایا : آیت : الھم ارجل یمشون بھا ام لھم ایدیبطشون بھا ام لھم اعین یبصرون بھا ام لھم اذان یسمعون بھا، الآیہ یعنی تم ان سے افضل ہو تو پھر تم ان کی پرستش کیونکہ کرتے ہو۔ مقصود ان کی جہالت کا بیان ہے۔ کیونکہ معبود جوارح سے متصف ہوتا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے آیت : ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم پڑھا ہے یعنی ان کو التقائے ساکنین کی وجہ سے تخفیف اور کسرہ کے ساتھ اور عباد کو نصب اور تنوین کے ساتھ اور امثالکم کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور معنی یہ ہے ما الذین تدیون۔۔۔ الخ۔ وہ جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو وہ تمہاری طرح بندے نہیں ہی، یعنی وہ تو پتھر اور لکڑی ہے پس تم جن کی پوجا کرتے ہو تم خود ان سے اشرف اور اعلیٰ ہو۔ نحاس نے کہا ہے : اس قراءت کے لیے مناسب نہیں کہ اسے اس طرح پڑھا جائے اس کی تین وجوہ ہیں : ایک یہ ہے کہ یہ سواد اور جمہور کی قراءت کے خلاف ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سیبویہ ان کی خبر پر فع مختار سمجھتے ہیں جب وہ ما کے معنی میں ہو، پس وہ کہتے ہیں : ان زید منطلق کیونکہ ما کا عمل ضعیف ہے اور ان اس کے معنی میں ہونے کے سبب اس سے بھی زیادہ ضعیف اور کمزور ہے۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ کسائی نے گمان کیا ہے عرب کلام میں ان بمعنی ما آتا ہی نہیں مگر یہ کہ اس کے بعد ایجاب ہو، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ان الکفرون الا فی غرور ( الملک) فلیستجیبوا لکم اس میں اصل تو یہ ہے کہ لام مکسور ہو، پھر ثقیل ہونے کی وجہ سے کسرہ کو حذف کردیا گیا۔ پھر کہا گیا ہے : کہ کلام میں حذف ہے، اس کا معنی ہے : فادعوھم الی ان یتبعوکم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صادقین انھم الھۃ پس تم انہیں پکارو یہاں تک کہ وہ تمہاری اتباع کریں اور چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہے کہ وہ معبود ہیں۔ ابو جعفر اور شیبہ نے ام لھم اید یبطشون بھا طا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ بھی ایک لغت ہے۔ الفاظ الید، الرجل اور الاذن سب مونث ہیں ہا کے ساتھ ان کی تصغیر لائی جاتی ہے۔ اور الید میں تصغیر کے وقت یاء کا اضافہ کیا جاتا ہے اور اسے اپنے اصل کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے پس کہا جاتا ہے : یدیۃ یعنی دو یا جمع ہونے کی وجہ سے اسے تشدید کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قل ادعوا شرکآء کم اس میں شرکاء سے مراد بت ہیں۔ ثم کیدون پھر تم اور وہ میرے خلاف سازش کرو۔ آیت : فلاتنظرون اور تم مجھے مہلت نہ دو ۔ اصل میں کیدونی تھا اس سے یا کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور اسی طرح فلا تنظرون کا معنی ہے۔ اور کید کا معنی مکر کرنا ہے۔ اور کید کا معنی جنگ بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : غزافلم یلق کیدا اس میں کید جنگ کے معنی میں ہے۔ آیت : ان ولی اللہ الذی نزل الکتب یعنی وہ جو میرے مدد اور حفاظت کا والی ہے وہ اللہ ہے۔ اور ولی الشی کا معنی ہے : وہ جو اس شے کی حفاظت کرتا ہے اور اس سے ضرور اور نقصان کو روکتا ہے۔ اور الکتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ آیت : وھو یتولی الصلحین اور وہی نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : الا ان آل اب یعنی فلانا۔۔۔ لیسوالی باولیاء انما ولی اللہ و صالح المومنین ( خبردار غور سے سنو ! بیشک آل فلان میرے اولیاء ( محافظ) نہیں ہیں بلکہ میرا محافظ اور مددگار اللہ تعالیٰ اور نیک مومنین ہیں) اخفش نے کہا ہے : اسے ان ولی اللہ الذی نزل الکتاب بھی پڑھا گیا ہے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : یہ عاصم جحدری کی قراءت ہے۔ اور پہلی قراءت زیادہ بین اور واضح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وھو یتولی الصلحین ( اور وہ نیک بندوں کی حمایت کیا کرتا ہے)
Ayahs 7:197–198

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

آیت نمبر : 197۔ 198 قولہ تعالیٰ : آیت : والذین تدعون من دونہ اسے مکرر ذکر فرمایا تاکہ وہ یہ بیان کرے کہ جن کی وہ پوجا کرتے ہیں وہ نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آیت : وان تدعوھم الی الھدی یہ شرط ہے اور جواب شرط لا یسمعوا ہے۔ وترھم یہ جملہ مستانفہ ہے۔ ینظرون الیک یہ حال کے محل میں واقع ہے مراد بت ہیں۔ اور نظر کا معنی ہے اس کی طرف دونوں آنکھوں کو کھول کر دیکھنا جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے، یعنی تو نہیں دیکھے گا جیسے وہ تیری طرف آنکھیں کھولے ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں خبر واو ( مراد جمع مذکر کا صیغہ ہے) کے ساتھ دی حالانکہ وہ جماد ہیں جو نہیں دیکھ سکتے، اس لیے کہ یہ خبر اس کے فعل کے قائم مقام ہے جو عقل رکھتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کی آنکھیں جواہر سے بنی ہوئی تھیں پس اس لیے فرمایا : آیت : وترھم ینظرون اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد مشرکین ہیں، ان کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ نہیں دیکھ رہے ہیں جب وہ اپنی آنکھوں سے نفع حاصل نہیں کر رہے۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

آیت نمبر : 199 اس میں تین مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 یہ آیت تین کلمات پر مشتم ہے، جو مامورات اور منہیات میں قواعد شریعت کو متضمن ہیں۔ پس قول باری تعالیٰ : خذ العفو میں قطع تعلقی کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، گنہگاروں سے معذرت قبول کر کے انہیں معاف کرنا، مومنین کے ساتھ نرمی کا برتاو کرنا اور علاوہ ازین اطاعت شعاروں کے اخلاق داخل ہیں۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : وامر بالعرف میں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، حلال و حرام کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، آنکھوں کو نیچا رکھنا اور دار آکرت کے لیے تیاری کرنا داخل ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : واعرض عن الجھلین میں علم کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر ابھارنا، ظلم کرنے والوں سے اعراض کرنا، احمقانہ جھگڑوں سے پرہیز کرنا، کند ذہن جہلاء کی مساوات سے بچنا اور دیگر اخلاق حمیدہ او افعال رشیدہ داخل ہیں۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ خصال شرح وبسیط کی محتاج ہیں، تحقیق رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن سلیم کے لیے ان تمام کو جمع کیا۔ حضرت جابر بن سلیم ابو جری (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 823) نے بیان کیا ہے : میں اپنی سواری پر سوار ہوا پھر مکہ مکرمہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو تلاش کیا، میں نے اپنی سواری مسجد کے دروازے پر بٹھائی۔ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میری رہنمائی کی، آپ ﷺ وہاں تشریف فرما تھے آپ اپنے اوپر سرخ دھاری دار اونی چادر لیے ہوئے تھے، میں نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ، تو آپ نے فرمایا : ” وعلیک السلام “۔ پھر میں نے عرض کی : بیشک ہم ( دیہاتی) جنگل میں رہنے والے لوگ ہیں، ایسی قوم ہیں کہ ہم میں جفا اور زیادتی وافر ہے، سو آپ مجھے ایسے کلمات سکھا دیں جن کے سبب اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے۔ آپ نے فرمایا : ” قریب آ “ ، آپ نے یہ تین بار فرمایا، چناچہ میں قریب ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری طرف توجہ کر “ میں آپ کی طرف متوجہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تو اللہ تعالیٰ سے ڈر اور کسی نیکی کو بھی حقیر نہ جان ( اگرچہ) وہ تیرا اپنے بھائی کو متبسم چہرے کے ساتھ ملنا ہی ہو اور یہ کہ تو پانی طلب کرنے والے کے برتن میں اپنا ڈول مکمل طور پر انڈیل دے اگر کوئی آدمی تجھے ایسے سبب سے گالیاں دیتا ہے جسے وہ تجھ میں نہیں جانتا تو تو اسے اس وجہ سے گالیاں نے دے جسے تو اس میں جانتا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے تیرے لیے اجر بنا دے گا اور اس پر اسے بوجھ بنا دے گا اور تو ان ( چیزوں) میں سے کسی شے کو بھی برا بھلا نہ کہہ جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا فرمائی ہیں “۔ ابو جری نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے اس کے بعد کسی بکری اور کسی اونٹ کو بھی گالیاں نہیں دیں۔ اس کو اس معنی کے ساتھ ابوبکر البزار نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد، باب ما جاء فی اسیال الذوار، حدیث نمبر 3562، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابو سعید مقبری نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ تم لوگوں کو اپنے مالوں کے ساتھ وسعت نہیں دے سکتے البتہ تمہاری طرف سے چہرے کی کشادگی اور حسن اخلاق انہیں وسعت عطا کرسکتا ہے “۔ اور حضرت ابن زبیر ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت محض لوگوں کے اخلاق کے بارے میں نازل فرمائی ہے۔ امام بخاری (رح) نے ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عبد اللہ بن زبیر ؓ (صحیح بخاری، سورة اعراف، جلد 2، صفحہ 669) کی حدیث سے قول باری تعالیٰ : آیت : خذالعفو وامر بالعرف کے بارے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت محض لوگوں کے اخلاق کے بارے نازل فرمائی ہے۔ حضرت سفیان بن عیینہ نے حضرت شعبی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 823) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : بیشک حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) حضور نبی مکرم ﷺ پر نازل ہوئے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا :” اے جبرائیل یہ کہا ہے ؟ “ تو انہوں نے عرض کی : میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں عالم ( جاننے والے) سے پوچھ لوں۔ ایک روایت میں ہے : ” میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھ لوں “۔ چناچہ وہ گئے اور تھوڑی ہی دیر گزری کہ وہ واپس لوٹ آئے اور بتایا : بیشک اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فرمارہا ہے کہ آپ اسے معاف فرما دیں جو کوئی آپ سے ظلم و زیادتی کرے اور اسے عطا فرمائیں جو آپ کو محروم رکھے او اس سے صلہ رحمی کریں جو آپ سے قطع تعلقی کرے “۔ کسی شاعر نے اسے نظم کیا ہے اور اس نے کہا ہے : مکارم الاخلاق فی ثلاثۃ من کملت فیہ فذالک الفتی اعطاء من تحرمہ ووصل من تقطعہ والعفو عمن اعتدی امام جعفر صادق ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی مکرم ﷺ کا مکارم اخلاق کے بارے حکم ارشاد فرمایا ہے، قرآن کریم میں اس آیت سے زیادہ مکارم اخلاق کی جامع کوئی آیت نہیں ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : آ ” میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں “۔ شاعر نے کہا ہے : کل الامور تزول عنک وتنقضی الا الثناء فانہ لک باقی ولو اننی خیرت کل فضیلۃ ما اخترت غیر مکارم الاخلاق اور سہل بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے طور سینا پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائی۔ آپ سے کہا گیا : کون سی شے کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نصیحت فرمائی ؟ تو آپ نے فرمایا : نو چیزوں کے بارے، سرا اور جہرا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، حالت رضا اور غضب میں کلمہ حق کہنا، حالت فقر اور غنا میں میانہ روی اختیار کرنا، اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس سے صلہ رحمہ کروں جو مجھ سے قطع تعلقی کرے اور اسے عطا کروں جو مجھے محروم رکھے اور اس سے درگزر کروں جو مجھے پر زیادتی کرے اور یہ کہ میرا ابو لنا ذکر ہو، میری خاموشی فکر ہو اور میرا دیکھنا عبرت ہو۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : تحقیق ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم ارشاد فرمایا ہے سرا اور علانیۃ، اخلاص اختیار کرنا، حالت رضا اور غضب میں عدل کرنا، غنی اور فقر کی حالت میں میانہ روی اپنانا اور یہ کہ میں اس سے درگزر کروں جو مجھ پر ظلم و زیادتی کرے اور اس سے صلہ رحمی کروں جو مجھ سے قطع تعلقی کرے اور اسے عطا کروں جو مجھے محروم رکھے اور یہ کہ میرا بولنا ذکر ہو، میری خاموشی ہو اور میری نظر عبرت ہو “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قول باری تعالیٰ : خذالعفو سے مراد زکوۃ ہے، کیونکہ زکوۃ کثیر مال میں سے تھوڑی سی ہوتی ہے۔ اور یہ معنی مراد لینے میں انتہائی بعد ہے، کیونکہ یہ عفا سے ہے جب وہ مٹ جائے ( یعنی نام ونشان ختم ہوجائے) تحقیق کہا جاتا ہے : خذالعفو منہ، یعنی تو اس پر تنقیص نہ کر اور اس سے درگزر کرلے۔ اور سبب نزول اس کی تردید کرتا ہے۔ واللہ اعلم کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مشرکین پر حجت قائم کرنے کے بارے حکم ارشاد فرمایا ہے تو اس نے مکارم اخلاق پر آپ کی رہنمائی فرمائی ہے، کیونکہ یہی مشرکین کو ایمان کی طرف کھینچ لانے کا سبب ہے، یعنی لوگوں کے اخلاق میں سے جو مٹ چکے ہیں آپ ان کیساتھ ان سے پیش آئیں اور انہیں آسان بنا دیں۔ تو کہتا ہے : اخذت حقی عفوا صفوا، ای سھلا یعنی میں نے اپنا حق آسانی سے لے لیا۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وامربالعرف یہ عرف بمعنی معروف ہے یعنی آپ نیکی کا حکم دیجئے۔ عیسیٰ بن عمر نے العرف دو ضموں کے ساتھ پڑھا ہے، جیسے حلم ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ العرف، المعروف اور العارفۃ سے مراد ہر وہ اچھی خصلت ہے جسے عقول پسند کرتی ہیں اور اس کے ساتھ دل اطمینان پاتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے : من یفعل الخیر لا یعدم جو زیہ لا یذھب العرف بین اللہ والناس اور حضرت عطا نے کہا ہے : وامر بالعرف سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ قولہ تعالیٰ : آیت : واعرج عن الجھلین یعنی جب آپ ان پر حجت قائم کردیں اور انہیں نیکی کا حکم دیں پھر وہ آپ پر جہالت اور نادانی کا اظہار کریں تو ان سے اعراض فرما لیں، ان کے خلاف اپنی حفاظت کے لیے اور ان کے جواب سے اپنے درجہ اور مقام کو بلند رکھتے ہوئے۔ یہ اگرچہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے لیکن مقصود اپنی تمام مخلوق کو ادب سکھانا ہے۔ ابن زید اور عطا رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : یہ آیت آیۃ السیف سے منسوخ ہے۔ حضرت مجاہد اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے : یہ محکم ہے۔ اور یہی صحیح ہے، کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر آیا اور وہ اپنے بھتیجے حربن قیس ابن حصن کے پاس آکر اترا اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں حضرت عمر ؓ قریب رکھتے تھے اور قراء حضرت عمر ؓ کی مجالس اور آپ کی مشاورت کے اصحاب تھے، وہ بوڑھے تھے یا جوان، تو عیینہ نے اپنے بھتیجے کو کہا : اے بھتیجے ! کیا تیرا اس امیر کے پاس کوئی تعلق اور ذریعہ ہے کہ تو میرے لیے اس کے پاس داخل ہونے کی اجازت لے لے۔ اس نے جواب دیا : میں عنقریب تمہارے لیے ان سے اجازت لے لوں گا۔ چناچہ اس نے عیینہ کے لیے اجازت طلب کی۔ پس جب وہ داخل ہوا تو کہا : اے ابن خطاب ! قسم بخدا ! تو ہمیں زیادہ نہیں عطا کرتا اور نہ تو ہمارے درمیان عدل سے فیصلے کرتا ہے۔ راوی نے بیان کیا : پس حضرت عمر ؓ غصے ہوگئے یہاں تک کہ آپ نے اسے سزا دینے کا قصد کرلیا۔ تو حر نے کہا : اے امیر المومنین ! بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو فرمایا : آیت : خذالعفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین بلاشبہ یہ جاہلوں میں سے ہے۔ تو قسم بخدا، حضرت عمر ؓ نے اسی وقت اس سے تجاوز کرلیا ( اور اعراض برت لیا) جونہی انہوں نے آپ پر یہ آیت تلاوت کی اور آپ اللہ عزوجل کی کتاب سے خوب واقف تھے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پس حضرت عمر ؓ کا اس آیت کے مطابق عمل کرنا اور حضرت حر کا اس سے استدلال کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں۔ اور اسی طرح اسے حضرت حسن بن علی بن ابو طالب ؓ نے بھی استعمال کیا، اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور جب جفا اور زیادتی سلطان کے خلاف عمدا اور اس کے حق کو حقیر جانتے ہوئے ہو تو اس کے لیے اس پر تعزیر ہے۔ اور جب اس کے سوا ہو تو پھر اعراض، درگزر اور عفو ہے، جیسا کہ خلیفہ عادل نے کیا۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

آیت نمبر : 200 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 جب ارشاد باری تعالیٰ : آیت : خذ العفو نازل ہوا تو حضور ﷺ نے کہا : اے میرے رب ! کیسے غصہ سے بچ سکتا ہوں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی آیت : واما ینزغنک اور نزغ الشیطان سے مراد اس کے وساوس ہیں۔ اس میں دو لغتیں ہیں : نزغ اور نغز۔ کہا جاتا ہے : ایاک والنزاغ والنغاز وساوس سے بچ، درآنحالیکہ وہ ( فساد پر) بھڑکانے اور ابھارنے والے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے : النزغ سے مراد تھوڑی سی حرکت ہوتی ہے اور شیطان کی طرف سے ادنی سا وسوسہ ہوتا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ نے بیان فرمایا : میں حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کے پاس حاضر تھا اور ان کے درمیان شیطان کی جانب سے وسوسہ پیدا ہوگیا تو ان میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کیلیے کوئی شے باقی نہ رکھی، پھر وہ دونوں آپس میں جدا نہیں ہوئے یہاں تک کہ انمیں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کے لیے استغفار کیا اور مغفرت طلب کی۔ اور ینزغنک کا معنی ہے : غصے کے وقت تجھے ایسا وسوسہ پہنچے اور عارض آئے کہ اس کے سبب وہ غصہ نہ اترے۔ آیت : فاستعذ باللہ تو اس بارے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کر۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم ارشاد فرمایا کہ اس سے التجا کرنے اور اس کی پناہ طلب کرنے کے سبب وہ وسوسہ کو دور کرے اور اللہ تعالیٰ اعلی صفات کا مالک ہے۔ پس کتوں سے پناہ طلب نہیں کی جائے گی مگر کتوں کے رب کی پناہ طلب کی جائے گی۔ اسلاف میں سے کسی سے یہ حکایت منقول ہے کہ انہوں نے اپنے شاگرد کو کہا : تو شیطان کے بارے کیا کرے گا جب وہ تیرے لیے گناہوں کو مزین اور آراستہ کرے ؟ تو اس نے جواب دیا : میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ اس نے پھر پوچھا : پھر اگر وہ لوٹ آئے ؟ اس نے جواب دیا : میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ اس نے پوچھا : اگر وہ پھر آگیا ؟ اس نے جواب دیا : میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ اس نے کہا : یہ تو طویل ہوجائے گا، تیرا کیا خیال ہے اگر تو تیرا گزر کسی ریوڑ کے پاس سے ہو اور اس کا کتا تجھے بھونکنے لگے اور تجھے آگے بڑھنے سے روک دے تو تو کیا کرے گا ؟ اس نے جواب دیا : میں اس کی تکلیف کو برداشت کروں گا اور اپنی ہمت کے ساتھ اسے واپس لوٹا دوں گا۔ اس نے کہا : یہ تو معاملہ تجھ پر طویل ہوجائے گا، البتہ تو ریوڑ کے مالک سے مدد طلب کر تو وہ اسے تجھ سے روک لے گا۔ مسئلہ نمبر 2 : النغز والنزغ والھمز والوسوسۃ یہ تمام الفاظ معنی میں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : وقل رب اعوذ بک من ھمزت الشیٰطین ( المومنون) ( اور کہیے میرے رب ! میں پناہ طلب کرتا ہوں تیری شیطانوں کے وسوسوں سے) اور مزید فرمایا : آیت : من شرالوسواس الخناس ( الناس) ( بار بار وسوسہ ڈالنے والے، بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے) نزغ کا اصل معنی فساد برپا کرنا ہے، کہا جاتا ہے : نزغ بیننا یعنی اس نے ہمارے درمیان فساد برپا کردیا۔ اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی (یوسف : 100) یعنی میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے فساد برپا کردیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہا النزغ کا معنی الاغواء ( گمراہ کرنا) اور الاغراء ( بھڑکانا، ابھارنا) ہے اور یہ معنی میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں اس آیت کی نظیر وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 79) اور اسے کہتا ہے فلاں فلاں شے کو کس نے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ اسے یہ کہہ دیتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ پس جب وہ اس تک پہنچ جائے تو اسے (آدمی کو) چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اس ( میں فکر کرنے) سے رک جائے ( باز آجائے) “۔ اور اس بارے میں حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ سے وسوسہ کے بارے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ محض۔۔۔ ہے “ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے :” وہ صریح ایمان ہے “۔ اور صریح سے مراد خالص ہے ( یعنی وہ خالص ایمان ہے) اور یہ اپنے ظاہر ( معنی) پر نہیں، کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ وسوسہ بذات خود ایمان ہو، کیونکہ ایمان تو یقین ہے، بلاشبہ یہ اشارہ اس خوف الہٰی کی طرف ہے جو انہوں نے اپنے دلوں میں پایا کہ انہیں اس پر سزا دی جائے گی جو ان کے دلوں میں واقع ہوا ہے۔ تو گویا آپ نے یہ فرمایا : تمہارا اس ( وسوسہ) سے ڈرنا محض ایمان اور خالص ایمان ہے، کیونکہ تمہارا ایمان صحیح ہے اور تمہیں وسوسہ کے فساد کے بارے علم ہے۔ پس آپ ﷺ نے وسوسہ کو ایمان کا نام دیا، کیونکہ اس کا دفاع، اس سے اعراض کرنا، اس کو رد کرنا، اسے قبول نہ کرنا اور اس سے ڈرنا ایمان کے سبب ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اور رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پناہ طلب کرنے کا حکم فرمایا ہے تو یہ اس لیے کہ وہ وساوس شیطان کے آثار اور علامات میں سے ہوتے ہیں۔ اور رہی اس معاملہ کی انتہا تو وہ ان کی طرف مائل ہونا اور ان کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ پس جو صحیح الایمان ہو اور اس نے اس کے مطابق عمل کیا جس کے بارے اسے اس کے رب اور اس کے نبی ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا تو اس نے اسے نفع دیا اور اس نے اس سے نفع حاصل کیا۔ اور رہا وہ جسے شبہ لاحق ہوگیا اور اس پر احساس غالب آگیا اور وہ اس سے علیحدگی پر قادر نہ ہوسکا تو پھر اس کی تشفی کے لیے دلیل عقلی کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کو فرمایا جسے اجرب اونٹ کے بارے شبہ لاحق ہوگیا تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا : لا عدوی ( متعدی مرض نہیں ہے) اور اعرابی نے کہا : اونٹوں کو کیا ہوا جو صحرا میں ہوتے ہیں تو ہرن کی مثل ہوتے ہیں پس جب ان میں اجرب اونٹ داخل ہوا تو اس نے انہیں اجرب کردیا ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : فمن اعدی الاول تو پہلے کو بیماری کس نے لگائی ؟ تو آپ کے اس ارشاد نے شبہ کو جڑ سے نکال دیا۔ پس جب شیطان حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب کے بارے میں انہیں اکسانے اور گمراہ کرنے سے مایوس ہوگیا، تو وہ وقتا فوقتا ان وساوس کے ذریعے ان میں تشویش پیدا کرنے لگ گیا۔ وساوس سے مراد باطل احساسات ہیں۔ پس ان کے دل ان سے نفرت کرنے لگے اور ان کے نزدیک ان کا وقوع ان پر بڑھ گیا پس وہ حاضر خدمت ہوئے، جیسا کہ صحیح میں ہے۔ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ بلا شبہ ہم اپنے نفسوں میں وہ پاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی اسے اس سے بڑا سمجھ رہا ہے کہ وہ اس کے بارے کلام کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اسے پاتے ہو “ ؟ عرض کی : جی ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ذالک صریح الایمان رغما للشیطان حسب ما نطق بہ القرآن فی قولہ : ان عبادی لیس لک علیھم سلطن ( حجر : 42) ( وہ صریح ( خالص) ایمان ہے شیطان کے لیے ذلت اور خاک ہے جیسا کہ اس کے بارے قرآن نے فرمایا : بیشک میرے بندے ان پر تجھے کوئی غلبہ نہیں ہوگا) پس دل میں اٹھنے والے ایسے خیالات جو پختہ نہ ہوں اور نہ وہ کسی شبہ کے سبب پیدا ہوئے ہوں تو یہ وہ ہیں جن سے اعراض کرلینے کے سبب انہیں دور کیا جاسکتا ہے۔ اور انہی کی مثل پر اسم وسوسہ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ یہ معنی سورة البقرہ کے آخر میں گزر چکا ہے، والحمد للہ
Ayahs 7:201–202

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : ان الذین اتقوا (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 492) مراد شرک اور گناہ ہیں ( یعنی وہ لوگ جو شرک اور گناہوں کے ارتکاب سے مجتنب رہے ہیں) آیت : اذا مسھم طئف من الشیطن یہ اہل بصرہ اور اہل مکہ کی قراءت ہے۔ اور اہل مدینہ اور اہل کوفہ کی قراءت طائف ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر سے طیف یاء کی تشدید کے ساتھ مروی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس کے مثل میں کلام عرب طیف تخفیف کے ساتھ ہے، اس بنا پر کہ یہ طاف یطیف کا مصدر ہے۔ کسائی نے کہا ہے : یہ طیف سے مخفف ہے جیسا کہ میت اور میت ہے۔ نحاس نے کہا ہے : لغت میں طیف کا معنی وہ وہم اور خیال ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے یا نیند کی حالت میں دیکھا جاتا ہے اور اسی طرح طائف کا معنی بھی ہے۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے : میں نے اصمعی سے طیف کے بارے پوچھا، تو اس نے کہا : مصادر میں فیعل کا وزن نہیں ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ مصدر نہیں ہے، لیکن طائف کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور معنی یہ ہے : بیشک وہ لوگ جو گناہوں سے بچتے رہے جب انہیں کوئی شے لاحق ہو تو وہ اللہ عزوجل کی قدرت اور اپنے اوپر اس کے انعامات میں غوروفکر کرتے ہیں اور معصیت کو ترک کردیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الطیف اور الطائف دونوں مختلف المعنی ہیں۔ پس پہلے کا معنی تخیل ( خیال کا آنا) ہے اور دوسرے کا معنی نفس شیطان ہے۔ پس پہلا طاف الخیال یطوف طیفا کا مصدر ہے۔ اور انہوں نے اس سے اسم فاعل کا صیغہ طائف نہیں کیا۔ سہیلی نے کہا ہے : کیونکہ یہ ایک تخیل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ رہا قول باری تعالیٰ : آیت : فطاف علیھا طائف من ربک (القل : 19) تو اس میں طیف نہیں کہا جائے گا، کیونکہ وہ حقیقۃ اسم فاعل ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے : بیشک وہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ زجاج نے کہا ہے : طفت علیھم اطوف اور طاف الخیال یطیف ( یعنی پہلا باب نصر ینصر بمعنی چکر لگانا اور دوسرا باب ضرب یضرب بمعنی خیال آنا ہے) ۔ اور حسان نے کہا ہے : فدع ھذا ولکن من لطیف یورقنی اذا ذھب العشاء حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : الطیف بمعنی غضب ( غصہ) ہے اور جنون، غضب اور وسوسہ کو طیف کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ دل میں پیدا ہونے والا خطرہ اور کھٹکا ہے جسے خیال کے خطرہ کے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ آیت : فاذا ھم مبصرون یعنی وہ اس سے رک جاتے ہیں، باز رہتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : پس انہیں بصیرت حاصل ہوجاتی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے تذکروا ذال کو مشدد پڑھا ہے۔ لغت عربیہ میں اس کی کوئی وجہ ( دلیل) نہیں۔ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ عصام بن مصطلق نے بیان کیا ہے : میں مدینہ طیبہ میں حاضر ہوا اور حضرت حسن بن علی ؓ کو دیکھا، تو ان کی شہرت اور ان کے چہرے کے حسن و جمال نے مجھے بہت متعجب کیا۔ نتیجۃ مجھ میں اس حسد کی آگ بھڑکنے لگی جسے ان کے باپ کے ساتھ بغض کے سبب میرا سینہ چھپائے ہوئے تھا۔ سو میں نے کہا : آپ ابن ابی طالب ہیں انہوں نے فرمایا : ہاں۔ چناچہ میں نے انہیں اور ان کے باپ کو مبالغہ کی حد تک برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے میری طرف انتہائی شفقت و مہربانی کی نظر سے دیکھا، پھر فرمایا : آیت : اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم، خذالعفو وامر بالعرف واعرض عن الجھلین اور آپ نے اسے آیت : فاذا ھم مبصرون تک پڑھا۔ پھر مجھے ارشاد فرمایا : نری اور ملامت کا اظہار کر، اللہ تعالیٰ سے میرے لیے اور اپنے لیے استغفار کر، بلاشبہ اگر تو ہم سے مدد طلب کرے گا تو ہم تیری معاونت کریں گے اور اگر تو ہم سے عطیہ طلب کرے گا تو ہم تجھے عطیات سے نوازیں گے اور اگر تو ہم سے رہنمائی مانگے گا تو ہم تیری رہنمائی فرمائیں گے۔ پس جو مجھ سے زیادتی اور کوتاہی ہوئی اس پر مجھ میں ندامت اور شرمندگی ظاہر ہوگئی تو آپ نے فرمایا : آیت : لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الرحمین (یوسف) ( آپ نے فرمایا : نہیں کوئی گرفت تم پر آج کے دن معاف فرما دے اللہ تعالیٰ تمہارے ( قصوروں) کو اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے) کیا تو اہل شام میں سے ہے ؟ میں نے کہا : ہاں تو آپ نے فرمایا : شنشنۃ اعرفھا من اخزم (اس عادت اور خراج کو تو میں اخزم سے جانتا ہوں) اللہ تجھے سلامت رکھے اور تجھے سہارا عطا فرمائے، تجھے معاف فرمائے اور تیرے مدد فرمائے۔ تو اپنی حاجات اور پیش آنے والی عوارض ہمین پیش کر تو تو ہمیں اپنے گمان سے کہیں بڑھ کر پائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ عصام نے کہا : پش زمین اپنی وسعتوں کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی اور میں نے یہ چاہا کہ یہ ( زمین) میرے لیے نرم ہوجائے، پھر میں ان سے چھپتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا، اس حال میں کہ سطح زمین پر ان سے اور ان کے باپ سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی محبوب نہ تھا۔ قولہ تعالیٰ : آیت : واخوانھم یمدونھم فی الغی ثم لا یقصرون کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے شیاطین کے بھائی اور وہ گمراہ انسانوں میں سے فاجر لوگ ہیں شیاطین انہیں گمراہی میں کھینچ لاتے ہیں۔ اور فاجروں کو اخوان الشیاطین کہا گیا ہے، کیونکہ وہ ان کے وساوس کو قبول کرتے ہیں۔ تحقیق اس آیت میں شیطان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ جو کچھ اس کی وضاحت میں کہا گیا ہے یہ اس میں سے احسن ہے۔ اور یہی حضرت قتادہ، حضرت حسن اور حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔ اور لا یقصرون کا معنی ہے یعنی نہ وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ رجوع کرتے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے : کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی یہ ہے : اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی تم پوجا کرتے ہو وہ تمہارے لیے مدد ونصرت کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اپنے آپ کی مدد کرسکتے ہیں اور ان کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچ لاتے ہیں، کیونکہ کفار شیاطین کے بھائی ہیں۔ اور آیت کا معنی یہ ہے : بیشک مومن جب اسے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ اور خیال چھوتا ہے تو وہ قرب کے بارے آگاہ ہوجاتا ہے ( اور وہ خدا کو یاد کرنے لگ جاتا ہے) اور رہے مشرک تو شیطان انہیں کھینچ لاتا ہے۔ اور لا یقصرون کہا کیا ہے : دونوں قولوں کی بنا پر اس کی ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضمیر کا شیطان کی طرف لوٹنا بھی جائز ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے پھر وہ نہ ان سے باز آتے ہیں اور نہ ان پر رحم کرتے ہیں۔ الاقصار کا معنی ہے : کسی شے سے رک جانا، باز آجانا، یعنی شیاطین کفار کو گمراہی کی طرف کھینچنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ( اور اس سے باز نہیں آتے) اور قول باری تعالیٰ : آیت : فی الغی میں یہ بھی جائز ہے کہ وہ یمدونھم کے ساتھ متصل ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اخوان کے ساتھ متصل ہو۔ اور الغی کا معنی جہالت ہے۔ نافع نے یمدونھم (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 236) یا کے ضمہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے یا کے فتحہ اور میم کے ضمہ کے ساتھ۔ اور یہ دونوں لغتیں ہیں ( یعنی) مد اور امد، مد کا بغیر الف کے استعمال زیادہ ہے۔ یہ مکی نے کہا ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : اہل عرب کی ایک جماعت اہل مدینہ کی قراءت کا انکار کرتی ہے۔ ان میں سے ابو حاتم اور ابو عبید بھی ہیں، ابو حاتم نے کہا ہے : میں اس کی کوئی وجہ نہیں جانتا، مگر یہ کہ معنی یہ ہو وہ ان کے لیے گمراہی اور جہالت میں اضافہ کردیتے ہیں۔ اور اہل لغت میں سے ایک جماعت نے بیان کیا ہے ان میں سے ابوعبید بھی ہیں کہ جب کوئی شے کسی شے کی ذات میں کثرت اور زیادتی پیدا کر دے تو مدہ کہا جائے گا، اور جب کوئی اس میں کسی غیر کے سبب زیادتی کر دے تو امدہ کہا جائے گا، مثلا آیت : یمددکم ربکم بخمسۃ الٰف من الملئکۃ مسومین ( آل عمران) ( مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو نشان والے ہیں) اور محمد بن زید سے بیان ہے کہ انہوں نے اہل مدینہ کی قراءت کے لیے استدلال کیا ہے اور کہا ہے : کہا جاتا ہے : مددت لہ فی کذا یعنی میں نے اسے اس کے لیے مزین اور آراستہ کیا اور میں نے اسے ایسا کرنے کی استدعا کی۔ اور امددتہ فی کذا یعنی میں نے اپنی رائے یا کسی اور طریقے سے اس کی مدد کی۔ مکی نے کہا ہے : پسندیدہ فتحہ ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے : مددت فی الشر اور امددت فی الخیر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ویمدھم فی طغیانھم یعمھون ( البقرہ) ( ڈھیل دیتا ہے انہیں تاکہ اپنی سر کشی میں بھٹکتے رہیں) پس یہ اس حرف میں فتح کے قوی ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کا استعمال شر میں ہوا ہے اور گمراہی (غی) بھی شر ہے۔ اور اس لیے بھی کہ جمہور اسی موقف پر ہیں۔ اور عاصم جحدری نے یمادونھم فی الغی پڑھا ہے۔ اور عیسیٰ بن عمر نے یقصرون یا کو فتحہ، صاد کو ضمہ اور قاف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے یقصرون اس کی ضد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ امراء القیس نے کہا ہے : سمالک شوق بعد ما کان اقصرا
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

آیت نمبر : 203 قولہ تعالیٰ : آیت : واذالم تاتیھم بایۃ یعنی جب آپ ان پر کوئی آیت نہیں پڑھتے۔ آیت : قالوا لولا اجتبیتھا اس میں لولا بمعنی ھلا ( کیوں نہیں) ہے، اور اس معنی پر اس کے متصل بعد صرف فعل آسکتا ہے چاہے وہ ظاہر ہو یا مضمر ہو، اس بارے میں مکمل گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور اجتبیتھا کا معنی ہے تو نے اسے گھڑ لیا اپنی طرف سے۔ پس آپ انہیں آگاہ کر دیجئے کہ آیات اللہ عزوجل کی جانب سے آتی ہیں اور یہ کہ آپ ان پر نہیں پڑھتے مگر وہی جو اللہ تعالیٰ آپ پر نازل فرماتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اجتبیت الکلام ای ارتجلتہ واختلقتہ واخترعتہ جب تو اپنی طرف سے کوئی کلام لائے ( تو تب مذکورہ جملہ کہتا ہے) آیت : قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی فرمائیے : میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کی جاتی ہے نہ کہ اپنی طرف سے۔ ھذا بصائر من ربکم مراد قرآن کریم، بصآئر، بصیرۃ کی جمع ہے، اور اس کا معنی رہنمائی اور نصیحت ہے، یعنی یہ وہ بصائر ( دلائل) ہیں جن کے ساتھ میں نے تمہاری اس پر رہنمائی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے، یعنی ان سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ زجاج نے کہا ہے : بصائر سے مراد طرق ( راستے) ہیں اور البصائر سے مراد دین کے طرق ہیں۔ جعفی نے کہا ہے : راحوا بصائرھم علی اکتافھم وبصیرتی یعدوبھا عتد وای ھدی سے مراد رشد وبیان ہے۔ اور رحمۃ سے مراد نعمت ہے۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

آیت نمبر : 204 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : 1 قولہ تعالیٰ : آیت : واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا کہا گیا ہے : بیشک یہ نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابوہریرہ ، حضرت جابر، زہری، عیبداللہ بن عمیر، عطابن ابی رباح اور حضرت سعید بن مسیب ؓ عنہھم سے مروی ہے۔ حضرت سعید نے کہا ہے : رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے تو مشرکین آپ کے پاس آتے تھے اور مکہ میں وہ آپس میں ایک دوسرے کو کہتے تھے : آیت : لاتسمعوا لھذا القران والغوا فیہ (فصلت : 26) ( مت سنا کرو اس قرآن کو اور شور وغل مچا دیا کرو اس کی تلاوت کے درمیان) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب کے لیے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا آلایہ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت خطبہ کے بارے نازل ہوئی ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 238) ۔ حضرت سعید بن جبیر، مجاہد، عطا، عمروبن دینار، زید بن اسلم، قاسم بن مخیمرہ، مسلم بن یسار، شہر بن حوشب اور عبداللہ بن مبارک ؓ نے یہی کہا ہے۔ اور یہ قول ضعیف ہے، کیونکہ اس میں قرآن تھوڑا ہے۔ اور پورے خطبہ میں خاموش رہنا واجب ہوتا ہے۔ یہ ابن عربی نے کہا ہے : نقاش نے کہا ہے : یہ آیت مکی ہے اور مکہ مکرمہ میں نہ خطبہ تھا اور نہ ہی جمعہ۔ علامہ طبری نے حضرت سعید بن جبیر (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 494) سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ یہ عید الاضحی، عید الفطر اور جمعہ کے دن کی نمازوں اور ان نمازوں میں خاموش رہنے کے بارے ہے جن میں امام بالجہر قراءت کرتا ہے پس یہ عام ہے۔ اور یہ قول صحیح ہے، کیونکہ یہ ان تمام کو جامع ہے جن میں اس آیت اور علاوہ ازیں سنت کے مطابق خاموش رہنا واجب ہے۔ نقاش نے کہا ہے : اہل تفسیر نے اس پر اجماع کیا ہے کہ اس میں استماع سے مراد نماز میں قرآن کریم کا سننا ہے چاہے وہ نماز فرض ہو یا غیر فرض۔ نحاس نے کہا ہے : لغوی طور پر تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاموشی ہر شے (یعنی ہر حال) میں واجب ہوتی ہے، مگر یہ کہ کوئی دلیل کسی شے کے اختصاص پر دلالت کرے۔ اور زجاج نے کہا ہے : آیت : فاستمعوا لہ وانصتوا میں یہ مراد لینا بھی جائز ہے کہ تم اس کے مطابق عمل کرو جو اس میں ہے اور تم اس سے تجاوز نہ کرو۔ اور الانصات سے مراد ( قرآن کریم) سننے کے لیے، غوروفکر کے لیے اور پھر ( اس کے معنی کی) رعایت کے لیے خاموش رہنا ہے۔ اس کا باب انصت ینصت انصاتا ہے اور نصت بھی ( اسی معنی میں ہے) شاعر نے کہا ہے : قال الامام علیکم امر سیدکم فلم نخالف وانصتنا کما قالا اور کہا جاتا ہے : انصتوہ وانصتوا لہ ( تم اسے خاموش کرا دو ، اور تم اس کے لیے خاموش ہوجاؤ ) شاعر نے کہا ہے : اذا قالت حذام فانصتوھا فان القول ما قالت حذام آیت : فاستمعوا لہ وانصتوا کے بارے میں بعض نے کہا ہے : یہ حکم صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھا تاکہ آپ کے صحابہ کرام ؓ آپ سے اسے یاد کرسکیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس میں بہت بعد ہے، صحیح قول وہی ہے جس میں عوموم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لعلکم ترحمون اور تخصیص دلیل کی محتاج ہوتی ہے۔ عبدالجبار بن احمد نے فوائد القرآن میں اس کے بارے کہا ہے : بیشک مشرکین عناد اور سرکشی کی وجہ سے بہت زیادہ شعور وشغب کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں بطور حکایت بیان کیا ہے : آیت : وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القران والغوا فیہ لعلکم تعلمون ( فصلت) تو اللہ تعالیٰ نے اداء وحی کی حالت میں مسلمانوں کو اس حالت کے خلاف رہنے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ غور سے سنیں اور اسی بنا پر جنون کی مدح اور تعریف بیان کی پس فرمایا : آیت : واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران الآیہ (الاحقاف : 29) ( اور جس وقت ہم نے متوجہ کیا آپ کی طرف جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سنیں) اور محمد کعب قرظی ؓ نے بیان کیا ہے : رسول اللہ ﷺ جب نماز میں قرآن پڑھتے تو آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہونے والے اس کا جواب دیتے، جب آپ ﷺ پڑھتے : بسم اللہ الرحمن الرحیم تو وہ بھی آپ کے قول کی طرح کہتے۔ یہاں تک کہ آپ سورة الفاتحہ اور سوت پوری کردیتے۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا، پھر یہ آیت نازل ہوئی : آیت : واذاقریء القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون بعد ازاں وہ خاموش ہوگئے۔ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ انصات ( خاموش رہنا) سے مراد اس جہر ( آواز بلند کرنا) کو ترک کرنا ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ کے جواب میں آواز بلند کرتے تھے۔ اور حضرت قتادہ نے اس آیت میں کہا ہے : ایک آدمی آتا تھا اس حال میں کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو وہ ان سے پوچھتا : تم نے کتنی نماز پڑھ لی ہے ؟ کتنی ابھی باقی ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : واذاقریء القران فاستمعوا لہ وانصتوا اور حضرت مجاہد (رح) سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ نماز میں اپنی حاجات و ضروریات کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ کی یہ ارشاد نازل ہوا۔ آیت : لعلکم ترحمون سورة الفاتحہ میں قراءت خلف الامام کے بارے اختلاف گزر چکا ہے اور خطبہ کا حکم سورة الجمعہ میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔

آیت نمبر : 205 قولہ تعالیٰ : آیت : واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ اسی کی مثل یہ ارشاد پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ ( الاعراف : 55) ابو جعفر نحاس نے کہا ہے : آیت : واذکر ربک فی نفسک کے معنی میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ دعا کے بارے میں ہے۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : تحقیق حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہاں ذکر سے مراد نماز میں قراءت کرنا ہے۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے پورے غوروفکر اور تدبر کے ساتھ قرآن کریم پڑھو۔ تضرعا مصدر ہے، اور کبھی یہ حال کے محل میں ہوتا ہے۔ اور وخیفۃ اس پر معطوف ہے۔ خیفۃ کی جمع خوف ہے، کیونکہ یہ خوف کے معنی میں ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور خیفۃ کی اصل خوفۃ ہے، اس میں واو کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یا سے بدل دیا گیا ہے۔ ( کہا جاتا ہے) خاف الرجل یخاف خوفا وخیفۃ ومخافۃ فھو خائف اور قوم خوف اپنے اصل کی بنا پر ہے۔ اور خیف لفظ کی بنا پر ہے۔ اور فراء نے بیان کیا ہے کہ خیفۃ کی جمع میں خیف بھی کہا جاتا ہے۔ جوہری نے کہا ہے : الخیفۃ ( کا معنی) الخوف ہے اور جمع خیف ہے اور اس کی اصل واو ہے۔ آیت : ودون الجھر یعنی آواز بلند کیے بغیر، یعنی اسمع نفسک ( تو اپنے آپ کو سنا) جیسا کہ ارشاد گرامی ہے : آیت : وابتغ بین ذلک سبیلا ( الاسرائ) یعنی اتنی آواز جو جھر) چیخ و پکار) اور مخافتۃ ( انتہائی دہیمی) کے درمیان ہو اور یہ اس پر دلیل ہے کہ ذکر کے ساتھ آواز کو انتہائی بلند کرنا ممنوع ہے، جیسا کہ پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ آیت : بالغدو والاصال حضرت قتادہ اور ابن زید ؓ نے کہا ہے : الاصال سے مراد شامیں ہیں اور الغدو غدوۃ کی جمع ہے۔ اور ابو مجلز نے بالغدو والایصال پڑھا ہے اور یہ آصلنا کا مصدر ہے، یعنی ہم شام کے وقت داخل ہوئے ( دخلنا فی العشی) اور الآصال اصل کی جمع ہے، جیسے طنب کی جمع اطناب ہے اور جمع الجمع ہے اور اس کی واحد اصیل ہے اور اس کی جمع اصل ہے۔ یہ زجاج سے منقول ہے۔۔ اخفش نے کہا ہے : الآصال، اصیل کی جمع ہے۔ جیسے یمین اورا یمان ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اصل، اصیل کی جمع ہے، اور کبھی اصل واحد بھی ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : ولا باحسن منھا اذ دنا الاصل جوہری نے کہا ہے : اصیل عصر کے بعد سے لے کر مغرب تک کا وقت ہوتا ہے اور اس کی جمع اصل وآصال واصائل ہے، گویا کہ یہ اصلیۃ کی جمع ہے۔ شاعر نے کہا ہے : لعمری لانت البیت اکرم اھلہ واقعد فی افیائہ بالاصائل اور اس کی جمع اصلان بھی بنائی جاتی ہے جیسے بعیر کی جمع بعران ہے۔ پھر انہوں نے جمع کی تصغیر بنائی اور کہا : اصیلان، بعد ازاں انہوں نے نون کو لام سے بدل دیا اور کہا : اصیل اور اسی کے مطابق نابغہ کا قول ہے : وقفت فیھا اصیلالا اسائلھا عیت جوابا وما بالریع من احد اور لحیانی نے بیان کیا ہے : لقیتہ اصیلالا، آیت : ولا تکن من الغفلین اور ذکر سے غافل رہنے والوں سے نہ ہوجاؤ۔