Ayah 7:169آیت نمبر : 169
قولہ تعالیٰ : آیت : فخلف من بعدھم خلف یعنی ان کی اولاد جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں تقسیم کردیا تھا۔ ابو حاتم نے کہا ہے : الخلف لام کے سکون کے ساتھ ہے۔ مراد اولاد ہے اس میں واحد اور جمع دونوں برابر ہیں ( یعنی واحد اور جمع کے لیے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے) اور الخلف لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو واو بدل ہے چاہے وہ بچہ ہو یا کوئی اجنبی ہو۔ ابن اعرابی نے کہا ہے : الخلف لام کے فتحہ کے ساتھ ہو تو مراد صالح اور نیک ہے اور اگر لام کے سکون کے ساتھ ہو تو مراد شیریر اور بد ہے۔ لبید نے کہا ہے :
ذھب الذین یعاش فی اکنافھم وبقیت فی خلف کجلد الاجرب (المحرر الوجیز۔ جلد 2، صفحہ 472)
اور اسی سے یہ بھی ہے کہ ردی کلام کو خلف کہا گیا ہے۔ اور اسی سے یہ مشہور مثال بھی ہے سکت الفا ونطق خلفا ہزار لحظہ کاموش رہا، بولا تو غلط بولا۔
پس لام ساکن کے ساتھ خلف ذم میں لام مفتوح کے ساتھ خلف مدح میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی اس کا مشہور استعمال ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ( اس علم کو ہر نیک آدمی سے اس کا عادل جانشین روایت کرلے گا اوکمال قال) اور کبھی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتا رہتا ہے جیسے حضرت حسان بن ثابت ؓ نے کہا :
لنا القدم الاولی الیک وخلفنا لاولنا فی طاعۃ اللہ تابع (المحرر الوجیز۔ جلد 2، صفحہ 472)
اور دوسرے شاعر نے کہا ہے :
انا وجدنا خلفا بئس الخلف اغلق عنا بابہ ثم حلف
لا یدخل البواب الا من عرف عبدا اذا ما ناء بالحمل وقف
شعر میں وقف کی جگہ خضف بھی منقول ہے اور اس کا معنی ہے گوز کرنا۔ آیت سے مقصود مذمت بیان کرنا ہے۔
آیت : ورثوا الکتب مفسرین نے کہا ہے : اس سے مراد یہودی ہیں، وہ کتاب اللہ کے وارث بنے انہوں نے اسے پڑھا اور اسمجھا، لیکن اس کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اسے پڑھنے کے باوجود اس کے حرام کردہ امور کا ارتکاب کیا۔ پس یہ ان کے لیے زجر و توبیخ اور اور ڈانٹ ڈپٹ ہے۔ آیت : یاخذون عرض ھذا الادنی پھر ان کے بارے یہ خبر دی کہ وہ اپنی شدت حرص و طمع کے سبب سامان دنیا میں سے جو بھی انہیں ملے اسے وہ لے لیتے ہیں۔ آیت : ویقولون سیغفرلنا اور کہتے ہیں : ہم بخش دیئے جائیں گے حالانکہ وہ توبہ نہیں کرتے۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ توبہ نہیں کریں گے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : وان یاتھم عرض مثلہ یاخذوہ اس میں عرض بمعنی سامان دنیا ہے، یہ را کے فتحہ کے ساتھ ہے اور جب را کے سکون کے ساتھ ہو تو پھر اس سے مراد دراہم ودنانیر کے سوا ہر قسم کا مال ہوتا ہے۔ اس آیت میں اشارہ رشوت اور خبیث ( حرام) کمائی کی طرف ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان کی کہ وہ اپنے اس قول سیغفرلنا کے ساتھ دھوکہ کھا رہے ہیں اور یہ کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب دوسری بار ان کے لیے اس کا امکان ہو تو وہ اس کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ تو ان کا مغفرت کے ساتھ دھوکہ کھانا قطعی ہے، حالانکہ وہ ( اپنے اعمال پر) مصر ہیں، بلاشبہ سیغفرلنا وہ کہہ سکتا ہے جو ( ایسے اعمال کو) چھوڑ دے اور نادم ہوجائے۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ وہ وصف ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان کی ہے اور یہ ہم میں بھی موجود ہے۔ دارمی ابو محمد نے بیان کیا ہے کہ ہمیں محمد بن مبارک نے بیان کیا ( انہوں نے کہا) ہمیں صدقہ بن خالد نے ابن جابر سے انہوں نے شیخ سے جن کی کنیت ابو عمر تھی انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے بیان کیا انہوں نے فرمایا : عنقریب قرآن قوموں کے سینوں میں بوسیدہ ہوجائے گا جیسے کپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے اور وہ گر جاتا ہے، وہ اسے پڑھیں گے لیکن اس کا کیف اور لذت نہیں پائیں گے، وہ بھیڑیوں کے دلوں ( جسموں) پر پہن لیں گے، ان کے اعمال میں ایسی حرص ہوگی جس میں خوف کی آمیزش نہ ہوگی، اگو وہ کوتاہی کریں گے تو کہیں گے : ہم عنقریب پہنچ جائیں گے، اور اگر گناہ کریں گے تو کہیں گے : ہم بخش دیئے جائیں گے، بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کشی شے کو شریک نہیں ٹھہراتے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یاتھم میں ضمیر مدینہ طیبہ کے یہودوں کے لیے ہے، یعنی یثرب کے وہ یہودی جنہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ معاہدہ کیا اگر ان کے پاس بھی اس طرح کا سامان دنیا آجائے تو وہ اسے لے لیں جس طرح ان کے اسلاف نے اسے لیا تھا۔
قولہ تعالیٰ : آیت نمبر 169۔۔۔ الم یوخذ علیھم میثاق الکتب ان۔۔۔۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : الم یوخذ علیھم میثاق الکتب اس میں کتاب سے مراد تورات ہے۔ یہ شریعت اور احکام میں قول حق کو لازم پکڑنے میں شدید تاکید کا اظہار ہے اور یہ کہ حکام رشوت کے سبب باطل کی طرف مائل نہ ہوں۔
میں کہتا ہوں : یہ وہ ہے جو ان پر لازم تھا اور اسی کے ساتھ قول حق کے بارے میں اس سے میثاق لیا گیا اور یہ ہمارے لیے لازم ہے اس کا ذکر ہمارے نبی مکرم ﷺ کی زبان سے بھی ہوا اور ہمارے رب کی کتاب میں بھی، جیسا کہ اس کا بینا سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ اور تمام شریعتوں میں اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ والحمد للہ
مسئلہ نمبر 2
قولہ تعالیٰ : آیت : ودرسوا ما فیہ یعنی انہوں نے اسے پڑھا اور وہ ان کے قریب العہد ہیں۔ ابو عبدالرحمن نے واذا رسوا ما فیہ پڑھا ہے یعنی انہوں نے تا کو دال میں ادغام کیا ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : حق حاصل کرنے والا رشوت لے کر ان کے پاس آتا تھا تو وہ اس کے لیے کتاب اللہ نکلا کرلے آتے اور اس کے ساتھ اس کا فیصلہ کرتے۔ اور جب کوئی مبطل ( باطل کرنے والا ( آتا تو وہ اس سے رشوت لے لیتے اور اس کے لیے اپنی وہ کتاب نکال لاتے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ لکھی ہوتی اور اس کا فیصلہ کرتے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : آیت : لا یقولوا علی اللہ الا الحق تحقیق انہوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کے بارے میں وہ باطل کیا جسے وہ ثابت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ یقین رکھتے ہیں۔
ابن زید نے کہا ہے : یعنی ان احکام میں جن کے بارے وہ فیصلہ کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اور بعض علماء نے کہا ہے : بیشک آیت : ودرسوا ما فیہ کا معنی ہے انہوں نے اس کا مطابق عمل ترک کر کے اور اس کی فہم اور سمجھ کو چھوڑ کر اسے مٹا دیا۔ یہ معنی تیرے اس قول سے ہے : درست الریح الاثار یہ تب کہا جاتا ہے جب ہوا آثار کو مٹا دے۔ خط دارس وربع دارس، جب وہ اسے مٹا دے اور اس کا نشان ختم ہوجائے۔ اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے موافق ہے : آیت : نبذ فریق من الذین اوتو الکتب کتب اللہ ورآء طھورھم الایہ ( البقرہ : 101) اور اس قول کے : آیت : فنبذوہ ورآء ظھورھم ( آ ل عمران : 187) جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 7:170آیت نمبر : 170
قولہ تعالیٰ : آیت : والذین یمسکون بالکتب کتاب سے مراد تورات ہے، یعنی وہ جو اس کے ساتھ مضبوطی سے عمل کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے : مسک بہ وتمسک بہ یعنی وہ اس کے ساتھ چمٹ گیا، اس نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ ابو العالیہ اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں یمسکون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ امسک یمسک ہے ہے۔ پہلی قراءت اولی ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کے لیے تکریر و تکثیر کا معنی موجود ہے اور اسی کے سبب ان کی مدح اور تعریف کی جا رہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور دین کے ساتھ تمسک اور عمل ملازمت ( لازم پکڑنا) تکریر کا محتاج ہوتا ہے۔ کعب بن زہیر نے کہا ہے :
فما تمسک بالعھد الذی زعمت الا کما تمسک الماء الغرابیل (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 473)
اس نے کثرت کے ساتھ عہد توڑنے کی مذمت کرتے ہوئے طبعا یہ شعر کہا ہے۔
Ayah 7:171آیت نمبر : 171
قولہ تعالیٰ : آیت : واذ نتقان الجبل، نتقنا اس کا معنی ہے ہم نے اٹھایا۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ آیت : کا نہ ظلۃ یعنی گویا کہ وہ اپنے اٹھنے اور بلند ہونے کے سبب ایک بادل ہے جس کا سایہ کیا جارہا ہے۔ آیت : خذواما اتینکم بقوۃ یعنی جو ہم نے تمہیں دیا ہے تم اسے انتہائی قوت کے ساتھ پکڑ لو۔ سورة البقرہ میں آیت کے آکر تک کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayahs 7:172–174آیت نمبر : 172۔ 174
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : واذاخذ ربک یعنی تم انہیں یاد دلاو اس کے باوجود کہ معاہدوں کا ذکر ان کی کتابوں میں پہلے گزر چکا ہے وہ میثاق جو میں نے بندوں سے اس دن لیا جس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اولاد کو نکالا۔ یہ ایک مشکل آیت ہے اور علماء نے اس کی تاویل اور اس کے احکام کے بارے کافی گفتگو کی ہے، جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے ہم حسب توفیق اسے ذکر کریں گے۔ پس ایک گروہ نے کہا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بنی آدم کی پشتوں سے بعض کو نکالا۔ انہوں نے کہا : آیت : اشھدھم علی انفسھم الست بربکم کا معنی ہے کہ اللہ تعالٰٰ نے اپنی تخلیق کے ساتھ انہیں اپنی توحید پر دلیل بنایا، کیونکہ ہر بالغ بالضرور یہ جانتا ہے کہ اس کا رب واحد ویکتا ہے۔ آیت : الست بربکم یعنی فرمایا : ( کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ! ) پس یہ ان پر گواہ بنانے کے لیے قائم مقام اور ان کی طرف سے اقرار ہوگیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے بارے میں فرمایا : آیت : قانتا اتینا طائعین ( فصلت) ( دونوں نے عرض کی ہم خوشی خوشی ( دست بستہ) حاضر ہیں) قفال اور اطنب نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جسموں کو پیدا کرنے سے پہلے ارواح کو نکالا۔ اور ان میں معرفت رکھ دی جس کے سبب انہوں نے اس خطاب کو جان لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا۔
میں ( مفسر) کہتا ہوں : حدیث طیبہ میں حضور نبی مکرم ﷺ سے ان دونوں قولوں کے سوا اور مروی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے جسموں کو نکالا جن میں روحیں تھیں۔ حضرت امام مالک (رح) نے موطا میں روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے پوچھا گیا آیت : واذاخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی سھدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ھذا غفلین تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ سے اس کے بارے پوچھاق گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا (1) پھر اپنے دست قدرت کے ساتھ ان کی پشت کو مس کیا اور اس سے اولاد نکالی اور فرمایا میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت کے اعمال کریں گے پھر آپ کی پشت کو مس کیا اور اس سے اولاد نکالی اور فرمایا میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل نار کے اعمال کریں گے “۔ تو ایک آدمی نے عرض کی : تو پھر عمل کس لیے ہیں ؟ حضرت عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو وہ اس سے اہل جنت کے اعمال کی طرح عمل کراتا ہے یہاں تک کہ وہ اہل جنت کے اعمال کی مثل عمل کرتے ہوئے فوت ہوجاتا ہے پس وہ اسے جنت میں داخل فرما دے گا اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے اہل جہنم کے اعمال کی مثل عمل کراتا ہے یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال میں سے کوئی عمل کرتے ہوئے مر جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل فرما دے گا “۔
ابو عمر نے کہا ہے : یہ حدیث منقطع الاسناد ہے، کیونکہ مسلم بن یسار نے حضرت عمر ؓ سے ملاقات نہیں کی۔ اور اس میں یحییٰ بن معین نے کہا ہے : مسلم بن یسار معروف نہیں، ان کے اور حضرت عمر ؓ کے درمیان نعیم بن ربیعہ ہیں، اسے نسائی نے ذکر کیا ہے، اور نعیم علمی اعتبار سے غیر معروف ہے، لیکن اس حدیث کا معنی کئی وجوہ سے حضور نبی مکرم ﷺ سے صحیح ہے جو ثابت بھی ہیں اور زیادہ بھی ہیں، حضرت عمر بن خطاب ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابوہریرہ ؓ اور دیگر سے مروی ہیں (جامع ترمذی کتاب القدر عن رسول اللہ، حدیث نمبر 2061، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔
ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے انہوں نے بیان کیا : بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا تو ان کی پشت کو مس کیا تو ان کی پشت سے ہر وہ روح گری جسے قیامت تک ان کی اولاد میں سے پیدا ہونا تھا اور ان میں سے ہر آدمی کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک رک دی اور پھر انہیں آدم (علیہ السلام) پر پیش فرمایا تو انہوں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ رب کریم نے فرمایا : یہ تمہاری اولاد ہے، پس آپ نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا تو اس کی آنکھوں کے درمیان پائی جانے والی چمک نے انہیں متعجب کردیا۔ تو انہوں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ تو رب کریم نے فرمایا : یہ تمہاری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے، اسے داؤد کہا جائے گا، تو آپ نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو نے اس کی عمر کتنی بنائی ہے ؟ رب کریم نے فرمایا : ساٹھ برس۔ تو انہوں نے عرض کی اے میرے پروردگا ! اس کی عمر میں میری عمر میں سے چالیس سال کا اجافہ کر دے پس جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر گزر چکی تو حضرت ملک الموت (علیہ السلام) ان کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : کیا ابھی میری عمر میں چالیس برس باقی نہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : کیا آپ نے وہ اپنے بیٹے حضرت داود (علیہ السلام) کو نہیں دے دیئے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کرد یا۔ پس آپ کی اولاد نے بھی انکار کردیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھولے تو آپ کی اولاد بھی بھولنے لگی “ (جامع ترمذی کتاب القدر عن رسول اللہ، سورة التوبۃ، حدیث نمبر 3002، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور ترمذی کے علاوہ میں ہے، ” پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے کتاب اور گواہوں کو حکم فرمایا “۔ ایک روایت میں ہیـ” پس آپ نے ان میں ضعیف، غنی، فقیر (ذلیل) بیماری اور تکلیف میں مبتلا اور صحت مند کو دیکھا، تو آدم (علیہ السلام) نے پوچھا : اے میرے پروردگار ! یہ کہا ہے ؟ تو نے ان کے درمیان مساوات قائم نہیں فرمائی ؟ تو رب کریم نے فرمایا : میں نے چاہا کہ میرا شکر ادا کیا جائے “۔
حضرت عبدا للہ بن عمرو ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” انہیں آپ کی پشت سے نکالا گیا جیسے کنگھی سر سے نکالی جاتی ہے “۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی چیونٹی کی طرح عقل عطا فرما دی اور ان سے وعدہ لیا اس بارے میں کہ وہ ان کا رب ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس انہوں نے اس کا اقرار کیا اور اسے لازم پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ وہ عنقریب ان کی طرف انبیاء روسل علیہم الصلوات والتسلیم مبعوث فرمائے گا، پس ان میں سے بعض بعض پر گواہ ہوگئے۔
حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان پر سات آسمانوں کو شاہد بنایا، پس اب قیامت تک جو بھی پیدا ہوگا اس سے وہ عہد لے لیا گیا ہے۔ اس جگہ اور مقام کے بارے اختلاف ہے جس میں اس وقت یہ میثاق لیا گیا اس بارے میں چار اقول ہیں :
پس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ جگہ بطن نعمان ہے، یہ عرفات کے پہلو میں ایک وادی ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کے تحت فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہند میں اتارا، پھر آپ کی پشت کو مس کیا اور اس سے ہر روح کو نکالا جسے یوم قیامت تک پیدا کرنا تھا، پھر فرمایا : آیت : الست بربکم قالوا بلی شھدنا یحییٰ نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسن نے کہا ہے : پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی صلب میں لوٹا دیا۔
اور کلبی (رح) نے کہا ہے : وہ جگہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے۔ اور سدی نے کہا ہے : وہ آسمان دنیا میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت سے اس کی طرف اتارا تو آپ کی پشت کو مس کیا تو آپ کی پشت کی دائیں جانب سے موتیوں کی مثل سفید اولاد کو ناکالا اور انہیں فرمایا : تم میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اور آپ کی پشت کی بائیں جانب سے سیاہ رنگ کی اولاد کو نکالا اور ان کے لیے فرمایا : تم جہنم میں داخل ہوجاؤ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ابن جریج نے کہا ہے : ہر نفس جو جنت کے لیے پیدا کیا گیا وہ سفید رنگ میں نکلا اور ہر نفس جو جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ سیاہ رنک میں نکلا۔
مسئلہ نمبر 2
علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ” اگر یہ کہا جائے اس کا مخلوق کو عذاب دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے (احکام القرآن لابنی العربی، جلد 2، صفحہ 801) حالانکہ انہوں نے گناہ نہیں کیے، یا وہ انہیں اس پر سزا دے جس کا اس نے ان سے ارادہ کیا ہے اور ان پر وہ لکھ دیا اور اس کی طرف انہیں چلایا ہے ؟ تو ہم کہیں گے : یہ کہاں سے ممتنع ہے، کیا عقلا یا شرعا ؟ پس اگر کہا جائے : کیونکہ ہم میں سے رحیم و حکیم کا اس طرح کرنا جائز نہیں ہوتا، تو ہم کہیں گے : اس لیے کہ اس سے اوپر تو ایک امر ( حکم دینے والا) ہوتا ہے جو اسے حکم دیتا ہے اور منع کرنے والاہوتاو ہے جو اسے منع کرتا ہے، روکتا ہے۔ اور ہمارا رب تعالیٰ وہ ہے کہ اس سے اس کے بارے نہیں پوچھا جاسکتا جو وہ کرتا ہے او ان لوگوں سے پوچھا جاسکتا ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ مخلوق کو خالق پر قیاس کیا جائے اور بندوں کے افعال کو معبود کے افعال پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
فی الحقیقت تمام کے تمام افعال اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے ہیں اور مخلوق ساری کی ساری اسی کی ہے، وہ ان میں تصرف کرتا ہے جیسے چاہے اور ان کے درمیان اسی کے بارے فیصلہ کرسکتا ہے جس کا وہ ارادہ کرے۔ اور یہی وہ شے ہے جسے آدمی پاتا ہے کہ فطری نرمی، جنسی شفقت اور ثنا ومدح کی محبت اس پر ابھارتی اور برانگیختہ کرتی ہے، ہر اس شے کے لیے جس میں اسے نفع کی توقع ہوتی ہے۔ اور رب کریم کی ذات ان تمام سے پاک ہے، لہٰذا اس میں اس کا اعتبار کرنا جائز نہیں “۔
مسئلہ نمبر 3۔
اس آیت کے بارے اختلاف ہے، کیا یہ خاص ہے یا عام ؟ بعض نے کہا ہے : یہ آیت کا ص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : من بنی ادم من ظھورھم پس اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اولاد آدم میں سے جو ہے وہ آپ کی صلب سے نکلا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : اوتقولوا انما اشرک ابآؤنا من قبل پس اس سے یہ نکلا کہ ہر وہ جو آپ کے آباء نہ تھے وہ مشرک تھے۔
اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت انکے بارے میں مخصوص ہے جن سے انبیاء (علیہم السلام) کی زبانوں پر عہد لیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ یہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے، کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ بچہ تھا پس اسے غذا دی گئی اور اس کی تربیت کی گئی اور بلاشبہ اس کا مدبر ( تدبیر کرنے والا) اور خالق ہے۔ اور یہی معنی آیت : واشھدھم علی انفسھم کا ہے۔ اور قالوا بلی کا معنی ہے بلاشبہ یہ ان پر واجب ہے۔ پس جب مخلوق نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا اعتراف کرلیا کہ وہ رب ہے پھر وہ اس سے غافل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے سبب انہیں یاد دلایا اور اس تذکیر کو اپنے منتخب اور اصفیاء میں سے افضل ترین کے ساتھ ختم کیا تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے حجت اور دلیل قائم ہوجائے پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فرمایا : آیت : فذکر انما انت مذکر لست علیھم بمصیطر (الغاشیہ) پس آپ انہیں سمجھاتے رہا کریں، آۃ پ کا کام تو سمجھا نا ہی ہے۔ آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جبر کرنے کی قدرت بھی عطا فرمائی اور آپ کو سلطنت اور قوت عطا فرمائی اور آپ کے لیے آپ کے دین کو زمین میں غالب کردیا۔ طرطوشی (رح) (1) نے کہا ہے : بیشک یہ عہد ہر بشر کو لازم ہے اگرچہ وہ اسے اس دنیا میں نہ یاد کرتے ہوں، جیسا کہ اس کی طلاق لازم ہوجاتی ہے جس پر اس کی شہادت دے دی جائے حالانکہ وہ اسے بھول چکا ہو۔
مسئلہ نمبر 4۔
اس آیت سے استدلال کیا ہے جنہوں نے کہا ہے : بیشک وہ جو صغر سنی میں ہی فوت ہوگیا تو وہ اپنے میثاق اول کے اقرار کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگا اور جو سن بلوغت کو پہنچ گیا تو میثاق اول اس کے لیے نفع مند نہیں۔ یہ کہنے والا یہ بھی کہتا ہے کہ مشرکین کے بچے جنت میں ہوں گے اور اس بارے میں صحیح ہے۔ البتہ اس مسئلہ میں آثار مختلف ہونے کی وجہ سے اختالف ہے اور صحیح وہی ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة الروم میں آئے گی انشاء اللہ اور ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں بھی کیا ہے۔ والحمد للہ
مسئلہ نمبر 5۔
قولہ تعالیٰ : آیت : من ظھورھم یہ قول باری تعالیٰ آیت : من بنی ادم سے بدل اشتمال ہے۔ اور آیت کے الفاظ یہ تقاجا کرتے ہیں کہ یہ عہد اولاد آدم سے لیا گیا ہے، لفظ کے اعتبار سے آیت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذکر نہیں ہے اس پر الفاظ کی توجیہ ہے : آیت : واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم ( اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا) ظہر آدم کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ یہ تو معلوم ہے کہ وہ سب کے سب آپ کی اولاد ہیں اور یہ کہ انہیں میثاق کے دن آپ کی پشت سے نکالا گیا۔ پس وہ اپنے ارشاد آیت : من بنی ادم کے سبب آپ کے ذکر سے مستغنی ہوگیا۔
ذریتھم کو فیوں اور ابن کثیر نے اسے واحد اور تا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ واحد اور جمع دونوں کے لیے آتا ہے ( جیسے) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ ( آل عمران : 38) یہ واحد کے لیے ہے، کیونکہ انہوں نے بچہ عطا کرنے کی التجا کی تو آپ کو یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی گئی اور قراء نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد آیت : من ذریۃ ادم ( مریم : 58) میں اس کے واحد ہونے پر اجماع کیا ہے اور ذریت آدم سے زیادہ اور کوئی شے نہیں۔ اور فرمایا : آیت : وکنا ذریۃ من بعدھم یہ جمع کے لیے ہے۔ اور باقیوں نے ذریاتھم صیغہ جمع کے ساتھ قراءت کی ہے، کیونکہ ذریت کا لفظ جب واھد کے لیے واقع ہوتا ہے تو یہ ایسے لفظ کے ساتھ آتا ہے جو واحد کے لیے واقع نہیں ہوتا تو یہ جمع ہوتا ہے، کیونکہ کلمہ اپنے معنی مقصود کے لیے خالص ہوتا ہے اور اس ( معنی) میں کوئی شے شریک نہیں ہوتی اور وہ معنی جمع ہے، کیونکہ بنی آدم کی پشتوں سے کثیر تعداد میں مناسب اولادوں کو ایک دوسرے کے پیچھے نکالا گیا، ان کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس جمع اس معنی کے لیے ہے۔
مسئلہ نمبر 6
قولہ تعالیٰ : بلی اس کے بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں ارشاد گرامی : آیت : بلی من کسب سیئۃ ( البقرہ : 81) کے تحت مکمل طور پر گرچ چکی ہے، پس وہیں غور کرلو اوتقولوق۔
او تقولوا ابو عمر نے دونوں مقام میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے ان دونوں کو اس سے قبل غیب متکرر کے لفظ پر لوٹایا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : آیت : من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور قول باری تعالیٰ : قالوا بلی بھی لفظ غیب ہے۔
اور اسی طرح آیت : وکنا ذریۃ من بعدھم بھی ہے ولعلھم پس اسے اپنے ماقبل اور اپنے مابعد پر لفظ غیب کے ساتھ محمول کیا ہے۔ اور باقیوں نے دونوں میں تا پڑھی ہے۔ انہوں نے اسے سابقہ لفظ خطاب پر راجع کیا ہے جو اس قول باری تعالیٰ میں ہے : آیت : الست بربکم قالوا بلی اور شھدنا ملائکہ کے قول میں سے ہوگا۔ ( یعنی) جب انہوں نے کہا ہے : بلی ( تو) ملائکہ نے کہا : شھدنا ان تقولوا او تقولوا یعنی تاکہ تم نہ کہو۔ اور بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ جب انہوں نے بلی کہا، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا، اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو فرمایا : تم گواہ ہوجاؤ ( تو) انہوں نے کہا : ہم تمہارے اقرار پر گواہ ہیں تاکہ تم نہ کہو یا کہو۔ یہ حضرت مجاہد، ضحاک اور سدی رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔
اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا ہے کہ قول باری تعالیٰ شھدنا یہ بنی آدم کے قول میں سے ہے اور اس کا معنی ہے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور ہمارا معبود ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر گواہ بنایا، پس اس کے مطابق یہ ہوگا ” انہوں نے کہا : ہاں ( کیوں نہیں) ہم بعض بعض پر گواہ ہیں “۔
جب یہ ملائکہ کے قول میں سے ہو تو پھر وقف بلی پر کیا جائے گا اور اس پر وقف اچھا نہیں ہوگا جب یہ بنی آدم کے قول میں سے ہو کیونکہ ان، بلی سے ماقبل کے متعلق ہے۔ اور وہ یہ قول باری تعالیٰ ہے : آیت : واشھدھم علی انفسھم ( اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نفسوں پر گواہ بنا دیا) تاکہ وہ نہ کہیں۔
حضرت مجاہد (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” تیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولادوں کو اس طرح نکالا جیسے سر سے کگھی نکال لی جاتی ہے ( جامع ترمذی، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 133) اور ان سے فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا : بیشک تو ہی ہمارا رب ہے ( تو) ملائکہ نے کہا ہے : ہم تمہارے اس قول پر گواہ ہیں “۔ یعنی ہم تم پر ربوبیت کا اقرار کرنے پر گواہ ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو۔ پس یہ ( مفہوم) تا پر دلالت کرتا ہے۔ مکی نے کہا ہے : معنی کے صحیح ہونے کی وجہ سے یہی پسندیدہ ہے اور اس لیے بھی کہ جمہور کا نظیرہ یہی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قول باری تعالیٰ آیت : شھدنا اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کے قول میں سے ہے۔ اور معنی یہ ہے : پس ہم تمہارے اقرار پر گواہ ہیں۔ یہ ابو مالک نے کہا ہے۔ اور سدی (رح) سے بھی مروی ہے۔ آیت : وکنا ذریۃ من بعدھم یعنی ہم نے ان کی اقتدار کی۔ آیت : افتھلکنا بما فعل المبطلون یعنی معنی یہ ہے کہ تو یہ نہیں کرے گے ( کہ تو ہمیں اس شرک کی وجہ سے ہلاک کر دے جو باطل پرستوں نے کیا) اور توحید ( کے معاملہ) میں تقلید کرنے والوں کے لیے کوئی عذر نہیں۔
Ayah 7:175آیت نمبر : 175
اہل کتاب نے ایک قصہ ذکر کیا ہے جس کا علم انہیں تورات سے ہوا ہے۔ اور اس کی تعیین میں اختلاف ہے جس کے بارے یہ آیات نازل کی گئی ہیں۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 568) نے بیان کیا ہے : وہ بلعام بن باعوراء ہے، اسے ناعم کہا جاتا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا ہے، وہ اس حیثیت میں تھا کہ جب دیکھتا تو عرش کو دیکھتا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : آیت : واتل علیھم نبا الذی اتینٰہ سے مراد وہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیہ ( ایک آیت) نہیں کہا، اس کے مجلس میں بارہ ہزار پڑھنے والے علامء تھے جو اس سے پڑھتے لکھتے تھے۔ پھر وہ اس طرح ہوگیا کہ سب سے اول اس نے اس بارے میں کتاب لکھی کہ ” علم کو بنانے ولا کوئی نہیں “۔
حضرت مالک بن دینار نے کہا ہے : بلعام بن باعوراء کو بادشاہ مدین کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ اسے دعوت ایمان دے۔ پس اس نے اسے بہت کچھ عطا کیا اور اس خاموش کرا دیا نتیجۃ اس نے اس کے دین کی اتباع کرلی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین کو چھوڑ دیا، چناچہ اس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : بلعام کو نبوت عطا کی گئی تھی (1) ، اس کی دعاقبول کی جاتی تھی، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں آئے آپ جابروں ( اور ظالموں) کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تو ان جابروں نے بلعام بن باعوراء سے درخواست کی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بددعا کرے پس وہ دعا کرنے کے لیے اٹھا تو اس کی زبان اپنے ساتھیوں کی بددعا کی طرف پھر گئی۔ اس بارے میں اسے کہا گیا، تو اس نے کہا : میں اس سے زیادہ پر قادر نہیں ہوں جو تم سن رہے ہو۔ اور اس کی زبان اس کے سینے پر لٹک گئی۔ تو ان نے کہا : تحقیق اب مجھ سے دنیا اور آخرت دونوں چلی گئیں۔ مگر، دھوکہ اور حیلہ کے سوا کچھ باقی نہ رہا، میں عنقریب تمہیں ایک حیلہ اور مکر بتاؤں گا، میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی نوجون لڑکیوں کو ان کی طرف نکالون کیونکہ اللہ تعالیٰ زانیوں کو بہت مبغوض جانتا ہے، پس اگر وہ اس میں واقع ہوگئے تو وہ ہلاک ہوجائیں گے۔ تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور بنی اسرائیل فعل زنا کرنے لگے، نتیجہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیجا تو اس کے سبب ان میں سے ستر ہزار مر گئے۔ یہ خبر مکمل طور پر ثعلبی وغیرہ نے ذکر کی ہے۔ روایت ہے کہ بلعام بن باعوراء نے دعا (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 221) ( یہ قول کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔ اس کا رد آگے آ رہا ہے۔ کیونکہ نبی معصوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے عصمت سے نوازا جاتا ہے) کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جبارین کے شہر میں داخل نہ ہوں، تو اس کی دعا قبول ہوگئی اور آپ تیہ میں ہی رہے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! کون سے گناہ کے سبب ہم تیہ میں ہی باقی رہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلعام کی دعا کے سبب۔ تو آپ نے عرض کی : جس طرح تو نے اس کی دعا میرے خلاف سن لی ہے اسی طرح میری دعا بھی اس کے خلاف قبول فرما لے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے اسم اعظم سلب کرلیا اور اسے اس حالت سے بالک نکال دیا جس پر وہ تھا۔
ابو حامد نے کتاب ” منہاج العارفین “ کے آخر میں اس کے بارے کہا ہے : میں نے بعض عارفین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بعض انبیاء نے اللہ تعالیٰ سے بلعام اور اس کے ان آیات و کرامات کے بعد مطر ود ہونے کے بارے پوچھا، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جو کچھ میں نے اسے عطا کیا تھا اس پر ایک دن بھی اس نے شکر ادا نہ کیا تھا، اگر وہ اس پر ایک بار بھی میرا شکر ادا کرتا تو میں اس سے سلب نہ کرتا۔
حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : بلعام نبی تھا اور اسے کتاب دی گئی تھی۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بلاشبہ اسے نبوت عطا کی گئی تھی، پس اس کی قوم نے اسے اس پر رشوت دی کہ وہ خاموش رہے چناچہ اس نے وہی کیا اور قوم کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ ماوردی نے کہا (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 279) ہے : یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی نبوت کے لیے منتخب نہیں فرماتا مگر اسے ہی جس کے بارے وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت کو چھوڑ کر معصیت و گناہ کی طرف نہیں نکلے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص اور حضرت زید بن اسلم ؓ نے بیان کیا ہے : یہ آیت امیہ بن ابی صلت ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، تحقیق اس نے کتابیں پڑھی تھیں اور یہ جان لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت رسول بھیجنے والا ہے اور اس نے یہ تمنا کی کہ وہی وہ رسول ہے، پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت محمد ﷺ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اس کا شعور ایمان لے آیا اور اس کے دل نے کفر کیا “ (کنز العمال، جلد 6، صفحہ 171، حدیث نمبر 15241 ) ۔
حضرت سعید بن مسیب نے کہا ہے : یہ آیت ابو عامر بن صیفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ دور جاہلیت میں ٹاٹ پہنتا تھا، پس اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ کفر کیا، اس لیے کہ وہ مدینہ طیبہ میں حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے محمد ! ﷺ یہ کیا ہے جو تم لے کر آئے ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” میں حنفیہ دین ابراہیم لے کر آیا ہوں “۔ اس نے کہا : بلاشبہ میں اسی پر ہوں۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تو اس پر نہیں ہے کیونکہ تو نے اس میں وہ کچھ داخل کردیا ہے جو اس میں سے نہیں ہے “۔ تو ابو عامر نے کہا : اللہ تعالیٰ ہم میں سے جھوٹے کو مار دے اس حال میں کہ وہ مطرود اور اکیلا ہو۔ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” ہاں اللہ تعالیٰ ہم میں سے جھوٹے کو اسی طرح مار دے “۔ بیشک اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعریض کرتے ہوئے کہا جب آپ مکہ مکرمہ سے نکلے۔ پھر ابو عامر شام کی طرف نکلا اور قیصر کے پاس رہنے لگا اس نے منافقین کی طرف لکھا : تم تیار رہو کیونکہ میں قیصر کے پاس سے ایک لشکر لے کر تمہارے پاس آ رہا ہوں تاکہ ہم محمد ﷺ کو مدینہ طیبہ سے نکلا سکیں، پھر وہ شام میں ہی تنہا مرگیا۔ اور اس کے بارے میں یہ ارشاد نازل ہوا : آیت : وارصادل لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل ( التوبۃ؛ 107) ( اور ( اسے) کمین گاہ بنایا ہے اس کے لیے جو لڑتا رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے اب تک) اس کا بیان سورة برات میں آئے گا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے ایک روایت میں کہا ہے کہ یہ آیت ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی اس کے لیے تین دعائیں تھیں جو اس کے لیے قبول کی جاتی تھیں، اس کی ایک بیون تھی اسے بسوس کہا جاتا اور اس سے اس کا ایک بیٹا بھی تھا۔ تو اس نے کہا : تو ان میں سے ایک دعا میرے لیے کر دے۔ تو اس نے کہا : ایک تیرے لیے ہے، بتا تو کیا حکم دیتی ہے ؟ اس نے کہا : تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر کہ وہ مجھے بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ خوبصورت اور حسین عورت بنا دے۔ پس جب اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خلاف یہ دعا کی کہ وہ اسے بھونکنے والی کتیا بنا دے۔ تو اس میں دو دعائیں ختم ہوگئیں، پھر اس کے بیٹے آئے اور کہنے لگے : ہم اس پر صبر نہیں کرسکتے کہ ہماری ماں کتیا رہے لوگ ہمیں اس پر عار دلاتے ہیں، پس تو اللہ تعالیٰ سے دعا کر کہ وہ اسے اس حالت پر لوٹا دیے جس پر وہ پہلے تھی۔ چناچہ اس نے دعا کی اور وہ اپنی پہلے والی حالت پر لوٹ آئی اور اس میں اس کی دعائیں ختم ہوگئیں۔ پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور اکثر اسی پر ہیں۔
حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے کہا ہے : یہ آیت قریش کے بارے نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی وہ نشانیاں اور آیات عطا کیں جو اس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائیں پس وہ ان سے کترا کر نکل گئے اور انہیں قبول نہ کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بلعام جبارین کے شہر میں سے تھا۔ بعض نے کہا ہے : وہ یمن کا تھا۔ آیت : فانسلخ منھا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت سن نکل گیا، یعنی اس سے وہ علم چھین لیا گیا جو وہ جانتا تھا۔
اور حدیث طیبہ میں حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت ہے : العلم علمان علم فی القلب فذالک العلم النافع وعلم علی اللسان فذالک حجۃ اللہ تعالیٰ علی ابن آدم ( علم دو قسم کے ہیں ایک علم دل میں ہے وہی نفع بخش علم ہے اور ایک علم زبان کا ہے اور وہی ابن آدم پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہے) پس یہ بلعام اور اس جیسے لوگوں کے علم کی مثال ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہم اس سے توفیق اور حق پر موت کی التجا کرتے ہیں۔
اورا لانسلاخ کا معنی نکلنا ہے، کہا جاتا ہے : انسلخت الحیۃ من جلدھا یعنی سانپ اپنی جلد سے نکل گیا ( یعنی اس کے کھال اتر گئی) آیت : فاتبعہ الشیطٰن یعنی شیطان کے ساتھ مل گیا۔ کہا جاتا ہے : اتبعت القوم یعنی میں قوم سے مل گیا۔ بعض نے کہا ہے : یہ آیت یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کا انتظار کرتے رہے پھر انہوں نے آپ کے ساتھ کفر کیا۔
Ayahs 7:176–177آیت نمبر : 176۔ 177
قولہ تعالیٰ : آیت : ولو شئنا لرفعنہ اس سے مراد بلعام ہے۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو اسے اس کے نافرمان اور گنہگار ہونے سے پہلے موت دے دیتے پھر اسے جنت کی طرف بلند کردیتے۔ بھا یعنی ان آیتوں کے ساتھ عمل کرنے کے سبب۔ ولکنہ اخلد الی الارج یعنی لیکن وہ تو پستی کی طرف جھلک گیا۔ یہ معنی حضرت ابن جبیر اور سدی رحمۃ اللہ علیہما سے مروی ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : سکن الیھا یعنی وہ تو پستی کی لذتوں میں کھو گیا۔ الاخلاء کا اصل معنی لزوم ہے۔ کہا جاتا ہے : اخلد فلان بالمکان جب کوئی کسی جگہ مقیم ہو اور اسے لازم پکڑے ہوئے ہو۔ زہیر نے کہا ہے :
لمن الدیار عشی تھا بالغاقد کالوحی فی حضر المسیل المخلد (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحۃ 478)
اس میں مخلد بمعنی مقیم ہے، تو گویا معنی یہ ہوا اس نے زمین کی لذتوں کو لازم پکڑ لیا۔ اور انہیں الارض سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ سامان دنیا ( اور اس کی لذات) زمین پر ہی ہیں۔
واتبع ھوہ یعنی اس نے اس کی پیروی کی جو کچھ شیطان نے اس کے لیے آراستہ کیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کی خواہشات کفار کے ساتھ تھیں۔ بعض نے کہا ہے : وہ اپنی بیوی کی رضا اور خوشنودی کی پیروی کرنے لگا، وہ اموال میں رغبت رکھتی تھی یہاں تکل کہ اس نے اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف دعا پر ابھارا۔ آیت : فمثلہ کمثل الکلب یہ مبتدا اور خبر ہے۔
آیت : ان تحمل علیہ یلھث یہ شرط اور جواب شرط ہے۔ اور یہ حال کے محل میں ہے، یعنی اس کی مثال ہانپنے والے کتے کی مثال کی طرح ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ وہ ایک ایسی شے اور حالت پر ہے جس میں وہ معصیت اور گناہ سے نہیں ڈرتا۔ تو وہ اس کتے کی مثل ہے جس کی یہ حالت ہو پس معنی یہ ہوا کہ وہ ہر حال میں ہانپنے والا ہے، تو اسے بھگائے یا اسے نہ بھگائے۔
ابن جریج نے کہا ہے : کتا منقطع الفواہد ہے اس کا دل نہیں ہوتا، اگر تو اس پر حملہ کرے تو وہ ہانپتا ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی ہانپتا ہے۔ اسی طرح وہ ہے جو ہدایت کو ترک کردیتا ہے اس کا دل نہیں ہوتا، بلاشبہ اس کا دل کٹ جاتا ہے۔ قتیبی نے کہا ہے : ہر شے ہانپتی ہے چاہے تھکاوٹ کی حالت ہو یا آرام و راحت کی حالت، بیماری کی حالت ہو یا صحت کی حالت، سیرابی کی حالت ہو یا پیاس کی حالت۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی مثل قرار دیا ہے جس نے اس کی آیات کو جھٹلایا اور فرمایا : اگر تو اسے وعظ ونصیحت کرے تب بھی وہ گمراہ ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی وہ گمراہ ہے تو پس وہ اس کتے کی مثل ہے کہ اگر تو اسے چھوڑے تب بھی وہ ہانپے اور اگر توا سے دھتکارے اور بھگائے تب بھی وہ ہانپے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وان تدعوھم الی الھدی لا یتبعوکم سواء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون ( الاعراف) ( اور اگر توبلائے انہیں ہدایت کی طرف تو نہ پیروی کریں گے تمہاری، یکساں ہے تمہارے لیے خواہ تم بلاؤ انہیں یا خاموش رہو)
جوہری نے کہا ہے : لھث الکلب یلھث لھثا ولھاثا تب کہا جاتا ہے جب کتا تھکاوٹ یا پیاس کے سبب اپنی زبان باہر نکالے اور اسی طرح وہ آدمی ہوتا ہے جب وہ خوب تھک جائے۔ اور ارشاد گرامی : آیت : ان تحمل علیہ یلھث کا مفہوم ہے کہ جب تو کتے پر حملہ کرے تو وہ بھونکتا ہے اور بھاگتے ہوئے واپس مڑ جاتا ہے اور جب تو اسے چھوڑ دے تو وہ تجھ پر زور دیتا ہے اور بھونکتا ہے، پس وہ تیری طرف بڑھنے اور تجھ سے پیچھے ہٹنے میں اپنے آپ کو تھکا تا رہتا ہے تو اس وقت اس پر وہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جو شدت پیاس کے وقت طاری ہوتی ہے یعنی وہ زبان نکال لیتا ہے۔ ترمذی حکیم نے ” نوادر الاصول “ میں کہا ہے : بیشک للہ تعالیٰ نے اسے درندوں میں سے کتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اس لیے کہ کتے کا دل مردہ ہے اور بلاشبہ اس کا ہانپنا اس کے دل کی موت کی وجہ سے ہی ہے، چونکہ تمام درندے اس طرح نہیں ہیں اس لیے وہ ہانپتے نہیں۔ اور کتا اس لیے اس طرح ہوگیا، کیونکہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) زمین پر اترے تو آپ کا دشمن بہت خوش ہوا اور وہ درندوں کی طرف گیا اور انہیں حضرت آدم کے خلاف انگیخت دلائی۔ پس کتے میں ان تمام سے زیادہ اس کی طلب ہوئی۔ تو حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) وہ عصال کر نازل ہوئے جو مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دے دیا گیا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں آپ کے لیے اسے ایک نشانی اور معجزہ بنا دیا اور اس میں بہت بڑی طاقت رکھ دی اور وہ آس الجنۃ میں سے تھا، پس آپ (جبرائیل امین (علیہ السلام) نے وہ اس دن حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیا تاکہ آپ ان کے ساتھ درندوں کو اپنے آپ سے دوربھگائیں۔ اور ایک روایت کے مطابق آپ کو اس بارے حکم دیا کہ آپ کتے کے قریب ہوں اور اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھیں۔ پس اس وجہ سے کتا آپ کے ساتھ مانوس ہوگیا۔ اور اس کا دل ڈنڈے کی طاقت سے مرگیا اور وہ ہمارے آج دن تک آپ سے اور آپ کی اولاد سے محبت کرتا ہے، جب بھی کوئی اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دے اور وہ اولاد آدم کے پہرے داروں میں سے ایک پہرے دار ( محافظ) بن گیا۔ اور جب اسے ادب سکھایا جائے اور شکار کی تعلیم دی جائے تو وہ ادب سیکھ جاتا ہے اور تعلیم کو قبول کرلیتا ہے۔ اور اسی کے بارے یہ ارشاد ہے : آیت : تعلمونھن مما علمکم اللہ ( المائدہ : 4) ( تم سکھاتے ہو انہیں ( وہ طریقہ ( جو سکھایا ہے تمہیں اللہ نے ) ۔ حضرت سدی (رح) نے کہا کہ : اس کے بعد بلعام اسی طرح ہانپتا رہا جیسے کتا ہانپتا ہے۔ کثیر اہل علم کے قول کے مطابق یہ مثال تاویل کے ساتھ ہر اس کے لیے عام ہے جسے قرآن ( کا علم) عطا کیا گیا اور اس نے اس کے مطابق عمل نہ کہا، بعض نے کہا ہے : یہ ہر منافق کے بارے میں ہے، پہلا قول اصح ہے۔
قول باری تعالیٰ ؛ آیت : فمصلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث اوتتر کہ یلھث کے بارے میں حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یعنی اگر تو اس پر اپنے جانور ( سواری) یا اپنے پاؤں کے ساتھ حملہ کرے تو وہ ہانپنے لگتا ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی وہ ہانپتا ہے۔ اور اسی طرح وہ آدمی ہے جو کتاب پڑھتا ہے لیکن جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل نہیں کرتا۔ اور کسی اور نے کہا ہے : یہ انتہائی بری تمثیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمثیل اس بارے میں دی ہے کہ اس پر اس کی خواہش اتنی غالب آگئی یہاں تک کہ وہ اس طرح ہوگیا کہ اپنے نفس کے بھی نفع اور نقصان کا مالک نہ رہا جیسا کہ ہمیشہ ہانپنے والا کتا ہوتا ہے، اس پر حملہ کیا جائے یا حملہ نہ کیا جائے، وہ ہانپنے کو چھوڑ نے میں اپنے آپ کا مالک نہیں ہوتا۔
اور یہ بھی کہا گیا کہ کتے کی عادات میں سے یہ ہے کہ وہ اس پر واقع ہوجاتا ہے جو اسے ابتدا میں سختی اور شدت کے خوفزدہ نہ کرے، پھر حقیر سا عوض پانے کے ساتھ ہی اس کی طیش پر سکون ہوجاتی ہے ( یعنی اس کا غصہ اتر جاتا ہے اور وہ مانوس ہونے لگتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے بطور تمثیل بیان فرمایا ہے جو دین کے معاملہ میں رشوت لیتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب کی آیات سے باہر نکل جاتا ہے۔ پس یہ آیت اس کی دلیل ہے جس نے اس میں اس اعتبار سے تدبر اور غوروفکر کی کہ کوئی نہ اپنے عمل کے ساتھ دھوکہ کھائے اور نہ اپنے علم کے ساتھ، کیونکہ وہ اس کے بارے نہیں جانتا جس پر اس کا خاتمہ ہوگا۔ اور یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ حق کو باطل کرنے یا اسے تبدیل کرنے کے لیے رشوت لینا ممنوع ہے۔ اس کا بیان سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ اور یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ بغیر ایسی حجت اور دلیل کے کسی عالم کی تقلید منع ہے جسے وہ بیان کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے اسے اپنے یہ آیات عطا فرمائیں لیکن وہ ان سے نکل گیا پس واجب ہے کہ وہ کسی دوسرے کے بارے اس کی مثل سے ڈرتا رہے اور یہ کہ وہ اس سے بغیر حجت کے کوئی شے قبول نہ کرے۔
قولہ تعالیٰ : آیت : ذلک مثل القوم الذین کذبو بایتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرون سآء مثلا القوم الذین کذبوا بایتنا وانفسھم کانوا یظلمون یعنی یہ تمام کفار کی مثال ہے۔ اور قولہ : اور قولہ : سآء مثلا القوم۔ کہا جاتا ہے : ساء الشی، یعنی شی قبیح اور بری ہے۔ یہ فعل لازم ہے اور ساء یسوء مسائۃ یہ متعدی ہے : ای قبح مثلھم ( ان کی مثال قبیح ہے) اور تقدیر کلام ہے ساء مثل القوم ( قوم کی مثال انتہائی قبیح مثال ہے) پھر مضاف کو حذف کردیا گیا، اور تمیز کی بنا پر مثلا کو نصب دی گئی ہے۔ اخفش نے کہا ہے : مجاز المثل القوم بنا دیا گیا اور القوم مبتدا ہونے یا مبتدا مضمر ہونے کے سبب مرفوع ہے۔ تقدیر کلام ہے : ساء المثل مثلا ھو مثل القوم۔ ابو علی نے تقدیر کلام یہ بیان کیا ہے : ساء مثلا مثل القوم۔ عاصم جحدری اور اعمش نے ساء مثل القوم پڑھا ہے یعنی مثل ساء کے سبب مرفوع ہے۔
Ayah 7:178آیت نمبر : 178
اس کا معنی اور مفہوم کئی مقامات پر پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ آیت قدریہ کا رد کرتی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ ان کا رد بھی کرتی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام مکلفین کو ہدایت دی ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو گمراہ کرلے۔
Ayah 7:179آیت نمبر : 179
اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے اپنے عدل کے ساتھ جہنم کے لیے کئی اہل پیدا کیے ہیں، پھر ان کے اوصاف بیان کیے اور فرمایا : آیت : لھم قلوب لا یفقھون بھا یعنی یہ اس کی طرح ہوتے ہیں جو سمجھتا نہیں، کیونکہ وہ دلوں سے کوئی نفع نہیں اٹھاتے، نہ وہ ثواب کی عقل و سمجھ رکھتے ہیں اور نہ سزا اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔ آیت : اعین لا یبصرون بھا اور ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ ہدایت کو نہیں دیکھتے اور اذان لا یسمعون بھا ان کے کان تو ہیں لیکن ان کے ساتھ نصائح کو نہیں سنتے۔ یہاں کلی طور پر ان کے حواس سے ادراک کی نفی مقصود نہیں ہے جیسا کہ ہم نے سورة البقرہ میں اسے بیان کیا ہے۔
آیت : اولئک کالانعام بل ھم اضل کیونکہ وہ ( اہل جہنم) ثواب کی طرف ہدایت اور رہنمائی نہیں پا سکتے، پس وہ حیوانوں کی طرح ہیں، یعنی ان کا مقصد کھانا اور پینا ہے اور وہ ان سے زیادہ گمراہ ہیں، کیونکہ حیوان اپنے منافع اور نقصان کو دیکھ لیتے ہیں اور اپنے مالک کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں اور یہ اس کے خلاف ہیں۔
حضرت عطا نے کہا ہے : حیوان اللہ تعالیٰ کو پہنچانتے ہیں، لیکن کافر اسے نہیں پہچانتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حیوان اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں اور کافر مطیع نہیں ہیں۔ آیت : اولئک ھم الغفلون یعنی انہوں نے تدبر اور غور و فکر چھوڑ دیا ہے اور جنت اور جہنم سے اعراض کرلیا ہے۔