7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔

آیت نمبر :130 قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین سنین سے مراد قحط سالی ہے اور لغت میں یہ معنی معروف ہے۔ کہا جاتا ہے : اصابتھم سنہ، ای جدب ( انہیں قحط سالی آپہنچی) اور تقدیر ہے جدب سنۃ اور حدیث مبارکہ میں ہے : اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف (صحیح بخاری، الاستسقاء، جلد 1، صفحہ 136) ( اے اللہ ! ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کے قحط کی طرح قحط مسلط کر دے) عربوں میں سے کچھ ہیں جو سنین کے نون کو اعراب دیتے ہیں۔ فراء نے شعر بیان کیا ہے : اری مر السنین اخذن منی کما اخذ السرار من الھلال نحاس نے کہا ہے : سیبویہ نے یہ شعر نون کے فتحہ کے ساتھ بیان کیا ہے، لیکن اس بارے میں وہ کہا ہے جو کسی اور کے نزدیک جائز نہیں ہے اور وہ یہ قول ہے : وقد جاوزت راس الاربعین ( یعنی اس اربعین کی نون کو کسرہ دیا ہے) فراء نے بنی عامر سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : اقمت عندہ سنینا یا ھذا، اس میں سنین منصرف ہے۔ اور بنو تمیم اسے غیر منصرف پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں : مضت لہ سنین یا ھذا اور سنین سنۃ کی جمع ہے اور یہاں سنۃ بمعنی قحط سالی ہے بمعنی حول ( سال) نہیں۔ اور اسی سے اسنت القوم ہے یعنی وہ قحط میں مبتلا ہوگئے۔ عبداللہ بن زبعری نے کہا ہے : عمروا لعلا ھشم الژید لقومہ ورجال مکۃ مسنیتون عجاف آیت : لعلھم یذکرون تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ان کے دل نرم ہوجائیں۔
Ayah 7:131

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں (مقدر) ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔

آیت نمبر : 131 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : فاذا جآء تھم الحسنۃ یعنی جب ان پر خوشحالی اور وسعت آئی۔ آیت : قالوا لنا ھذہ یعنی ہم اس کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیں عطا کی گئی ہے۔ آیت : وان تصیبھم سیئۃ اور اگر انہیں قحط اور کوئی بیماری آپہنچتی۔ اور یہی دوسرا مسئلہ ہے۔ مسئلہ نمبر : 2 آیت : یطیروا بموسی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بد فالی پکڑتے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 443 ) ، اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : آیت : وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک ( النسائ : 78) یطیروا اصل میں یتطیروا ہے پھر تا کو طا میں مدغم کردیا گیا ہے۔ اور طلحہ (رح) نے فعل ماضی کی بنا پر تطیروا پڑھا ہے۔ اس میں اصل تو الطیرۃ اور زجر الطیر ( پرندے کو جھڑکنا) سے ہے۔ پھر ان کا استعمال زیادہ ہو یا یہاں تک کہ ہر بد فالی کو تطیر کہا گیا۔ عرب سانح سے برکت حاصل کرتے تھے اور سانح سر مراد وہ ہے جو دائیں طرف سے آتا ہے اور وہ بارح سے بدفالی پکڑتے تھے اور اس سے مراد وہ ہے جو بائیں طرف سے آتا ہے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 190) ۔ وہ کوے کی آواز سے بھی بد فالی پکڑتے تھے۔ اور وہ اس جدائی اور افتراق کی تاویل کرتے تھے۔ اور وہ پرندوں کے باہم ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے سے کئی امور پر استدلال کرتے تھے۔ اور اس طرح ان کے اپنے اوقات مقررہ کے علاوہ آوازیں نکالنے سے بھی۔ اور اسی طرح ہرن سے جب کہ وہ دائیں یا بائیں گزرتا اور جب وہ بائیں گزرتا تو کہتے : میرے لیے بائیں طرف سے آنے والے کے بعد دائیں طرف سے آنے والا کون ہے ؟ مگر جو چیز ان کے نزدیک زیادہ قوی تھی وہ تمام پرندوں میں واقع تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے ان تمام کا نام تطیر رکھا۔ اور عجمی لوگ فال پکڑتے تھے جب وہ کسی بچے کو دیکھتے کہ اسے صبحی کو وقت معلم کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ اور اس بچے کو دیکھ کر برکت حاصل کرتے تھے جو معلم کے پاس سے اپنے گھر کی طرف واپس لوٹ رہا ہوتا۔ اور وہ اس پانی بھرنے والے ( ماش کی) کو دیکھ کر بری فال پکڑتے تھے جس کی پیٹھ پر پانی سے بھرا ہوا منہ بند مشکیزہ ہوتا اور اسے دیکھ کر نیک فال پکڑتے تھے جس کا مشکیزہ فارغ اور اس کا منہ کھلا ہوتا۔ اور وہ اس کلی کو دیکھ کر جو بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا اور وہ جانور جس پر بوجھ لدا ہوتا اسے دیکھ کر بری فال پکڑتے تھے اور جس کلی نے اپنا بوجھ اتا دیا ہوتا اور وہ جانور جس سے بوجھ اتار لیا جاتا اسے دیکھ کر نیک فال پکڑتے تھے۔ پس دین اسلام آیا تو اس نے فال پکڑنے اور بدفالی سے منع کردیا جو پرندے کی آواز سن کر پکڑی جاتی تھی چاہے وہ آواز جو بھی ہو اور جس حال میں ہو۔ پس حضور ﷺ نے فرمایا : اقروا الطیر علی مکنا تھا (مسند امام احمد، جلد 6، صفحہ 381) (پرندے کو اپنے انڈوں بٹھائے رکھو) اور یہ اس لیے فرمایا کیونکہ بہت سے زمانہ جاہلیت کے لوگ تھے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتے تو وہ پرندے کے پاس اس کے گھونسلے میں آتے اور اسے وہاں اڑاتے۔ پس جب وہ اپنی اڑان میں دائیں سمت اختیار کرتا تو وہ اپنے کام کو چلے جاتے اور یہی ان کے نزدیک سانح ( دائیں جانب سے آنے والا) ہے اور اگر وہ بائیں سمت اڑتا تو وہ واپس لوٹ جاتے اور یہی ان کے نزدیک بارح ( بائیں جانب سے آنے والا) ہے چناچہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس سے اپنے اس ارشاد کے ساتھ منع فرمادیا : اقروا الطیر علی مکنا تھا (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب العققۃ، حدیث نمبر 2452، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حدیث میں اسی طرح ہے۔ اور اہل عرب کہتے ہیں : وکنا تھا امراء القیس نے کہا ہے : وقد اغتدی والطیرفی وکناتھا الوکنۃ ہر گھونسلے کا نام ہے اور الوکن سے مراد پرندے کی وہ جگہ ہے جہاں وہ انڈے دیتا ہے اور بچے جنتا ہے۔ اور وہ کسی دیو اور اور درخت میں کوئی سوراخ یابل ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے : وکن الطائر یکن وکونا جب پرندہ اپنے انڈوں کو سی رہا ہو۔ اور عربوں میں سے ایسے بھی تھے جو فال کچھ نہ جانتے تھے۔ اور اسے جھٹلانے والوں کی تعریف کرتے تھے۔ مرقش نے کہا ہے : ولقد غدوت وکنت لا اغدوا علی واق وحاتم فاذا الاشائم کالایا من ولایامن کالاشام اور عکرمہ (رح) نے کہا ہے : میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس تھا تو ایک پرندہ چیختے چلاتے گزرا، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا : خیر، خیر ( بہت اچھا، بہت اچھا) تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ما عندھذالاخیر ولاشر ( اس کے پاس نہ خیر ہے اور نہ شر) ہمارے علماء نے کہا ہے : جہاں تک پرندوں کی گفتگو ہے تو اس کے اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا جس پر بطور دلالت اسے محمول کیا جاتا ہے اور ان کے پاس کسی شے کے ہونے کا علم ہے چہ جائیکہ وہ مستقبل میں ہونے والی کسی شے کی خبر دیں اور نہ ہی لوگوں میں کوئی ہے جو پرندوں کی بولی جانتا ہو، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کے لیے خاص کیا، پس فال پکڑنا مکمل طور پر باطل ہے۔ واللہ اعلم اور حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لیس منا من تحلم او تکھن اور دہ عن سفرہ تطیر ( وہ ہم میں سے نہیں ہے جس خواب کے بارے جھوٹا دعوی کیا یا کہانت اختیار کی ( غیب کی بات بتانا) یا بد فالی نے اسے اپنے سفر سے واپس لوٹا دیا) ابو داؤد نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” فال پکڑنا شرک ہے، تین، اور وہ ہمیں پیش نہیں آتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے توکل کے سبب ختم کردیتا ہے “ (سنن ابی داؤد، کتاب الکھانۃ والتطیر، جلد 2، صفحہ 190، ایضا، حدیث نمبر 3411، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی ہے آپ نے فرمایا : ” جسے بد فالی نے اپنے کام سے واپس لوٹا دیا تحقیق اس نے شرک کیا “۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ! ﷺ اس کا کفارہ کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان یقول احدھم اللھم لا طیر الا طیرک ولا خیر الا خیرک ولا الہ غیرک ثم یمضی لحاجتہ (مجمع الزوائد، کتاب الطب، جلد 5، صفحہ 180، حدیث نمبر 8412) ( کہ ان میں سے کوئی یہ کہے : اے اللہ ! کوئی فال نہیں سوائے تیری فال کے اور کوئی خیر نہیں سوائے تیری خیر اور بھلائی کے اور تیرے سوا کوئی الہ نہیں یہ کہہ کہ پھر وہ اپنے کام کو چلا جائے) اور ایک دوسری روایت میں ہے : جب تم میں سے کوئی ایسا وہم پائے تو اسے یہ کہنا چاہیے : اللھم لا یاتی بالحسنات الا انت والا یذھب بالسیات الا انت لا حول ولا قوۃ الا بک (سنن ابی داؤد، کتاب الکھانۃ والتطیر، جلد 2، صفحہ 190، حدیث نمبر 3418، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اے اللہ ! تیرے سوا کوئی نیکیاں لانے والا نہیں اور تیرے سوا کوئی برائیوں کو مٹانے ولا نہیں اور تیرے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں) پھر وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنے کام کو چلا جائے تو جو بھی وہ اپنے دل میں اس بارے پائے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوگا اور جو شے اسے وہم ڈالے گی اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوگا۔ اور فال اور طیرہ میں فرق سورة مائدہ میں گزر چکا ہے۔ آیت : الا انما طئرھم عند اللہ حسن نے طیرھم پڑھا ہے اور یہ طائر کی جمع ہے یعنی جوان کے لیے اور ان کے خلاف مقدر کیا گیا ہے ( اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے) آیت : ولکن اکثرھم لا یعلمون یعنی انہیں جو قحط سالی اور مصائب لاحق ہوئے ہیں وہ بلاشبہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی طرف سے نہیں۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

قولہ تعالیٰ : آیت : وقالوا مھما تاتینا بہ من ایۃ یعنی فرعون کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا : مھما۔ خلیل نے کہا ہے : یہ اصل میں ما، ما ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 443 ) ۔ پہلا ما شرطیہ ہے اور دوسرا زائدلہ ہے جو جزا کے لیے بطور تاکید ہے، جیسا کہ تمام حروف میں زیادتی کی جاتی ہے، مثلا اما، حیثما، اینما اور کیفما پس علمائے نحو نے ایسے دو حرفوں کو ناپسند کیا جن کا لفظ ایک ہے، تو انہوں نے پہلے کے الف کو ہا سے بدل دیا اور کہا : مھما۔ کسائی نے کہا ہے : اس کی اصل مہ معنی اکفف ہے، رک جا جو بھی تو ہمارے پاس نشانی لے آئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یہ کلمہ مفردہ ہے۔ اس کے ساتھ جزا لائی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے مابعد کو برتقدیر ان جزم دے۔ آیت میں جواب شرط آیت : فما نحن لک بمومنین ہے۔ لتسحرنا تاکہ تو ہمیں اس نظریہ سے پھیر دے جس پر ہم ہیں۔ اس لفظ کی وضاحت سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں کے سجدہ میں گرنے کے بعد بیس برس تک قبط میں رہے اور انہیں معجزات ( نشانیاں) دکھاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا، پس یہ ان کا قول تھا۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں مگر تکبر ہی کرتے رہے۔ اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار۔

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : 1 اسرائیل نے سماک کے واسطہ سے نوف شای سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں پر غالب آنے کے بعد آل فرعون میں چالیس برس تک ٹھہرے رہے۔ اور محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے منجاب سے بیس سال کا عرصہ روایت کیا ہے، آپ انہیں نشانیاں یعنی ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون کے معجزات دکھاتے رہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ قولہ تعالیٰ : آیت : الطوفان اس سے مراد شدید بارش ہے (ایضا، جلد 2، صفحہ 444) یہاں تک کہ وہ اس میں تیرنے لگے۔ حضرت مجاہد اور حضرت عطاء (رح) نے بیان کیا ہے کہ طوفان سے مراد موت ہے (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 40 ) ۔ اخفش نے کہا ہے : اس کا واحد طوفانۃ ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 443 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مصدر ہے جیسا کہ رجحان اور نقصان مصدر ہیں، پس اس کے لیے واحد کا کوئی مطالبہ نہیں۔ نحاس نے کہا ہے : لغت میں طوفان وہ ہے جو ہلاک کرنے والا ہو چاہے وہ صوت ہو یا سیلاب، یعنی وہ ان پر چکر لگاتا رہا اور انہیں ہلاک کرتا رہا۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے : بنی اسرائیل کو اس پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پہنچا، بلکہ وہ قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ اپنی ہنسلیوں تک پانی میں کھڑے رہے۔ اور وہ پانی مسلسل سات دن تک ان پر رہا۔ اور یہ قول بھی ہے کہ چالیس دن تک رہا۔ تب انہوں نے کہا : ہمارے لیے رب سے دعا کیجئے وہ ہم سے اس عذاب کو دور فرمادے تو ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں گے، پس آپ نے رب کریم سے دعا کی تو اس نے ان سے طوفان کو اٹھا لیا لیکن وہ ایمان نہ لائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سال ان کے لیے گھاس اور فصلوں میں وہ کچھ اگایا جو اس سے پہلے نہ اگایا تھا، تو وہ کہنے لگے : وہ پانی تو نعمت تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈی کو بھیج دیا اور یہ ایک معروف حیوان ہے، جراد مذکر ومونث دونوں صورتوں میں جرادۃ کی جمع ہے پس اگر تو ان کے درمیان فرق کرنا چاہے تو پھر صفت لگانا پڑے گی اور تو یہ کہے گا رایت جرادۃ ذکرا) (میں نے نرٹڈی کو دیکھا ( پس وہ ان کے پھلوں اور کھیتیوں سبھی کو کھاگئی یہاں تک کہ وہ چھتوں دروازوں کو کھانے لگی اور ان کے گھر گرنے لگے، لیکن بنی اسرائیل کے گھروں میں اس میں سے کوئی شے داخل نہ ہوئی۔ مسئلہ نمبر 3۔ ٹڈی کو مارنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے جب وہ کسی زمین میں آئے اور اسے خراب کرنے لگے بعض نے کہا ہے : اسے نہیں مارا جائے گا۔ اور تمام علمائے فقہ نے کہا ہے : اسے مار دیا جائے گا۔ فریق اول کا استدلال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بہت بڑی مخلوق ہے وہ اللہ تعالیٰ کا رزق کھاتی ہے اور اس پر قلم نہیں چلتا۔ اور اس وجہ سے بھی کہ یہ روایت ہے ” تم ٹڈی کو قتل نہ کر رو کیونکہ یہ اللہ الاعظم کا لشکر ہے “ (شعب الایمان، لی محسنۃ الجراد والصبر علیھا، جلد 7، صفحہ 232، حدیث نمبر 10127 ) اور جمہور نے کہا اس سے استدلال کیا ہے کہ اسے چھوڑنے میں اموال کا فسا د ہے حالانکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے مسلمانوں کو قتل کرنے کی رخصت دی ہے جب وہ کسی کا مال لینا چاہے، پس ٹڈی جب اموال کو برباد کرنے کا ارادہ کرے تو بدرجہ اولی اسے قتل کرنا جائز ہوگا۔ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ تمام نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ سانپ اور بچھو کو مارنا جائز ہے ؟ کیونکہ وہ دونوں لوگوں کو اذیت دیتے ہیں پس اس طرح ٹڈی بھی ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت جابر اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ جب ٹڈی کے خلاف دعا کرتے تو اس طرح کہتے : اللھم اھلک کبارہ واقتل صغارہ وافسد ببضہ اقطع دابرہ وخذ بافواھہ عن معایشنا وارزقنا انک سمیع الدعاء ( اے اللہ ! اس کے بڑوں کو ہلاک کر دے اور اس کے چھوٹوں کو قتل کر دے اور اس کے انڈوں کو فاسد کر دے اور اس کے پیچھے آنے والوں کو قطع کر دے اور ان کے مونہوں سے ہماری معیشت اور ہمارے رزق لے لے بیشک تو دعا کو سننے والا ہے) ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کے خلاف اس کی دم کٹ جانے کی دعا کیسے کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” بیشک ٹڈی سمندر میں ایک مچھلی کی چھینک ( سے پیدا شدہ) ہے “ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 238۔ ایضا، حدیث نمبر 3211، ضیاء القرآ پبلی کیشنز) ۔ مسئلہ نمبر : 4 صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کی روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا : ہم سات غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے اور ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے رہے (صحیح مسلم، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، صفحہ 152 ) ۔ المختصر اس کے کھانے میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں۔ جب اسے کوئی زندہ پکڑ لے اور اس کا سر کاٹ دیا جائے تو یہ بالاتفاق حلال ہے۔ اور یہ اس کو ذبح کرنے کے قائم مقام ہوجاتا ہے، البتہ علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کیا آدمی اس کے سبب موت کو جاننے کا محتاج ہوتا ہے جب اسے شکار کیا جائے یا نہیں ؟۔ تو عام رائے یہی ہے کہ سبب موت جاننے کی ضرورت نہیں، اسے کھایا جائے گا جیسے بھی یہ مرے۔ ان کے نزدیک اس کا حکم مچھلی کے حکم کی مثل ہے۔ یہ نظریہ ابن نافع اور مطرف کا ہے۔ اور امام مالک (رح) کی رائے یہ ہے کہ سبب موت جاننا لازم اور ضروری ہے، مثلا اس کے سر کا کٹنا یا پاؤں کا یا اس کے پروں کا کٹ جانا، جب کہ اس کی موت اس سبب سے ہو یا اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، کیونکہ آپ کے نزدیک وہ خشکی کا جانور ہے اور اس کا مردار حرام ہے۔ حضرت لیث مردہ ٹڈی کھانا مکرہو جانتے تھے۔ مگر جب کوئی اسے زندہ پکڑے پھر وہ مرجائے تو بیشک اسے پکڑنا ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ یہی نظریہ حضرت سعید بن مسیب ؓ کا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ابن عمر ؓ (سنن دار قطنی، کتاب الصید والذبائح، جلد 4، صفحہ 272) سے روایت نقل کہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں مچھلی اور ٹڈی اور دو خون ( حلال کیے گئے ہیں) جگر اور تلی “۔ ابن نے بیان کیا ہے : احمد بن منیع، سفیان بن عیینہ نے ابو سعید سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ٹڈی بڑی طشتری میں رکھ کر ایک دوسرے کو بطور ہدیہ دیتی تھیں (سنن ابن ماجہ، کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 239، ایضا، حدیث نمبر 3210، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اسے ابن منذر نے بھی ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :” بیشک اللہ تعالیٰ نے ہزار پیدا فرمائی ہیں ان میں سے چھ سو سمندر میں ہیں اور چار سو خشکی میں ہیں۔ اور بلاشبہ ان امتوں میں سے سب سے پہلے ہلاک ہونے والی ٹڈی ہے پس جب ٹڈی ہلاک ہوجائے گی تو باقی امتیں موتیوں کی لڑی کی مثل اس کے پیچھے آئیں گی جب وہ کٹ جائے “۔ اسے حکیم ترمذی نے ” نوادر الاصول “ میں ذکر کیا ہے۔ اور فرمایا : بلاشبہ ان امتوں میں سب سے اول ہلاک ہونے والی ٹڈی ہے، کیونکہ اسے اس مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے فالتو بچی تھی۔ پھر آدمیوں کے ہلاک ہونے کی وجہ سے وہ امتیں ہلاک ہوجائیں گی کیونکہ یہ ان کے لیے مسخر ہے۔ ہم قبط کے قصہ کی طرف رجوع کرتے ہیں پس انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاہدہ کیا کہ اگر ان سے ٹڈی کو دور کردیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے، پس آپ (علیہ السلام) نے دعا فرمائی تو اسے دور کردیا گیا۔ اور ان کی کھیتوں میں سے ابھی کچھ چیزیں باقی تھیں، تو وہ کہنے لگے : جو باقی ہے وہ ہمارے لیے کافی ہوگا۔ اور وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جوئیں بھیج دیں۔ اور یہ چھوٹا سا کیڑا ہے۔ یہ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اور الدبی سے مراد اڑنے سے پہلے کی ٹڈی ہے۔ اس کی واحد دباۃ ہے۔ جب کوئی کیڑا زمین کی نباتات کھا جائے تو اس کے لیے کہا جاتا ہے : ارض مدبیۃ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قمل سے مراد وہ سوس (گھن) ہے جو گندم میں ہوتا ہے (المحرالوجیز، جلد 2، صفحہ 444 ) ۔ ابن زید نے کہا (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 191) ہے : اس سے مراد براغیث (مچھر) ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : یہ چھوٹے چھوٹے سیاہ رنگ کے کیڑے ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس سے مراد جمنان ہے اور یہ چچڑی کی ایک قسم ہے، اس کا واحد حمنانۃ ہے۔ پس یہ ان کے جانوروں اور ان کی کھیتیوں کو کھا گئی۔ اور ان کی جلد کے ساتھ چمٹ گئی، گویا کہ یہ ان پر چیچک ہے اور اس نے انہیں سونے اور قرار حاصل کرنے سے روک دیا۔ اور حبیب بن ابو ثابت نے کہا ہے : قبل سے مراد جعلان ہے ( یعنی سیاہ رنگ کا کپڑا) اور اہل لغت کے نزدیک قمل چیچڑیوں کی ایک قسم ہے۔ ابو الحسن اعرابی عدوی نے کہا ہے : قمل چچڑی کی جنس سے ایک چھوٹا سا کیڑ ا ہے، لیکن یہ اس سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کی واھد قملۃ ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ اس کے خلاف نہیں ہے جو اہل تفسیر نے کہا ہے، کیونکہ یہ مراد لینا جائز ہے کہ یہ تمام اشیاء ان پر بھیجی گئی ہوں اور یہ تمام انہیں اذیت پہنچانے کے اعتبار سے جمع ہو سکتی ہیں۔ بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ عین شمس ( اس وقت مصر کا دارالخلافہ) میں ریت کا ایک ٹیلہ تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پر اپنا عصا مارا تو وہ قمل (جوئیں) بن گیا۔ قمل کی واحد قملہ ہے۔ عطا خراسانی نے کہا ہے : اسے قمل اور قمل دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ اور حسن کی قرات میں ہے والقمل یعنی قاف مفتوح اور میم ساکن ہے۔ پس وہ عجز وزاری کرنے لگے لیکن جب ان سے اسے دور کردیا گیا تو وہ پھر ایمان نہ لائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈک مسلط کردیئے۔ ضفادع، ضفدع کی جمع ہے۔ اور یہ وہ معروف جانور ہے جو پانی میں ہوتا ہے (اور اس میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ ہے) کہ انہیں مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ ابو داؤد اور ابن ماجہ نے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ ابو داؤد نے امام احمد بن حنبل سے، انہوں نے عبدالرزاق سے اور ابن ماجہ نے محمد بن یحییٰ نیشاپوری ذبلی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے صرد ( موئے سر سفید پیٹ اور سبز پیٹھ کا ایک پرندہ جو چھوٹے پرندہ کو شکار کرتا ہے۔ لٹورا) مینڈک، چیونٹی اور ہد ہد کو مارنے سے منع فرمایا ہے (سنن ابن ماجہ، کتاب الصید، جلد 1، صفحہ 239، ایضا، حدیث نمبر 3213، 3214، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ سنن ابی داود، کتاب ابو اب السلام، باب فی قتل الذر، حدیث نمبر 4583، ضیاء القرآن پبلی کیشنز نسائی نے حضرت عبدالرحمن بن عثمان سے روایت کیا ہے کہ ایک حکیم نے حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس دوا میں مینڈک کا ذکر کیا، تو حضور نبی کریم ﷺ نے اسے اس کے مارنے سے منع فرمایا (سنن نسائی، کتاب الصید والذبائح، جلد 2، صفحۃ 201۔ سنن ابی داؤہد، کتاب ابواب النوم، باب قتل الضفدع، حدیث 4585، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اسے ابو محمد عبد الحق نے صحیح قراد دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے : صرد پہلا پرندہ ہے جس نے روزہ رکھا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ شریف بنانے کے لیے شام سے حرم پاک کی طرف نکلے تو آپ کے ساتھ سکینہ ( تیز رو ہوا) اور صرد تھے، پس صرد نے مخصوص جگہ کی طرف آپ کی رہنمائی کی اور سکینہ نے اس کی مقدار کی طرف، پس جب آپ اس خاص جگہ تک پہنچے تو سکینہ بیت اللہ شریف کی جگہ پر چلی اور پکار کر کہا : اے ابراہیم ! میرے سائے کی مقدار پر ( گھر) تعمیر کر دے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ نے صرد کو مارنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیت اللہ شریف پر راہنمائی کی اور مینڈک کو مارنے سے منع کیا، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی لے جلائی جانی والی آپ پر پانی ٹپکاتا تھا۔ اور جب یہ فرعون پر مسلط ہوئے تو یہ آئے اور تمام جگہوں پر چھا گئے۔ جب یہ تنور کی طرف گئے تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں وہاں بھی ڈیرہ ڈال لیا حالانکہ ان میں آگ بھڑک رہی تھی، پس اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز کو تسبیح بنا دیا۔ کہا جاتا ہے : تمام جانوروں سے زیادہ یہ تسبیح کرنے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا ہے : تم مینڈک کو نہ مارو، کیونکہ اس کی وہ آواز جو تم سنتے ہو وہ تسبیح ہے۔ پس روایت ہے کہ اس (مینڈک) نے ان کے بستروں، برتنوں اور کھانے پینے کی چیزوں کو بھر دیا تھا ایک آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں بیٹھتا تھا اور جب وہ بات کرتا تو مینڈک اچھل کر اس کے منہ میں داخل ہوجاتا، تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکوہ کیا اور کہنے لگے : ہم توبہ کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے انہیں دور کردیا لیکن وہ دوبارہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون بھیجا تو ان پر نیل خون بن کر بہنے لگا۔ اسرائیل اس سے پانی کے چلو بھرتے تھے اور قبطی خون کے۔ اسرائیلی قبطی کے منہ میں پانی انڈیلتا تھا تو وہ خون ہوجاتا تھا۔ اور قبطی اسرایلہ کے منہ میں خون انڈیلتا تھا تو وہ میٹھا او لذیذ پانی ہوجاتا تھا۔ آیت : ایت مفصلت یعنی ظاہر اور بین علامات، یہ مجاہد (رح) سے مروی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : آیت : ایت مفصلت، حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور یہ روایت بھی ہے کہ آپ نے ایک نشانی ظاہر کی تھی اور وہ ایک نشانی آٹھ دن تک رہی۔ بعض نے کہا ہے : چالیس دنوں تک رہی۔ اور بعض نے کہا ہے : ایک مہینہ تک رہی پس اسی لیے فرمایا : آیت : مفصلت، فاستکبروا پس وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان لانے سے تکبر کرتے رہے۔
Ayahs 7:134–136

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیئے اپنے پروردگار سے دعا کرو جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم ایک مدت کے لئے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کریتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ولما وقع علیھم الرجز اس میں رجز کا معنی عذاب ہے۔ اسے را کے ضمہ ساتھ رجز بھی پڑھا گیا ہے، اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابن جبیر (رح) (النکت والعیون للماوردی، جلد 2، صفحہ 253) نے کہا ہے : یہ عذاب طاعون تھا اس کے ساتھ ستر ہزار قبطی ایک دن میں مرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رجز سے مراد وہی آیات اور نشانیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ آیت : بما عھد عندک اس میں ما بمعنی الذی ہے، یعنی اس کے سبب جس کا علم اس نے آپ کو ودیعت فرمایا یا اس کے سبب، جس کے ساتھ اس نے آپ کو مخلص فرمایا ہے اور آپ کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ قسم ہے، یعنی اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے ساتھ ہے مگر تم نے ہمارے لیے دعا نہیں کی، پس ما صلہ ہے۔ آیت : لئن کشفت عنا الرجز یعنی اگر آپ اپنے اللہ سے دعا کریں یہاں تک کہ وہ ہم سے (عذاب کو) دور فرمادے۔ آیت : لنومنن لک تو ہم یقینا اس دین کے بارے آپ کی تصدیق کریں گے جو لے کر آپ تشریف لاے۔ آیت : ولنرسلن معک بنی اسرائیل ( اور ہم ضرور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ روانہ کردیں گے) وہ ان سے خدمت لیتے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : انی اجل ھم بٰلغوہ یعنی ان کی وہ مدت جو ان کے لیے غرق کرنے کے بارے مقرر کی گئی تھی۔ آیت : اذ ھم ینکثون تو فورا انہوں نے وہ عہد توڑ دیا جو انہوں نے اپنے بارے میں کیا تھا۔ آیت : فانتقمنا منھم فاغرقنھم فی الیم بانھم کذبوا بایتنا وکانوا عنھا غفلین اس میں یم کا معنی سمندر ہے۔ وکانوا عنھا اور اس عذاب سے غافل تھے ( یعنی ہا ضمیر سے مراد النقمۃ عذاب ہے) اور اس پر فانتمنا دلالت کرتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہا ضمیر سے مراد آیات ہیں یعنی انہوں نے ان کا اعتبار نہ کیا یہاں تک کہ وہ ان غافلوں کی طرح ہوگئے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔

قولہ تعالیٰ : آیت : واورثنا القوم اس میں قوم سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ آیت : الذین کانوا یستضعفون جنہیں خدمت لینے کے سبب ذلیل و حقیر سمجھا جاتا تھا۔ آیت : مشارق الارض ومغاربھا کسائی اور فراء نے گمان کیا ہے کہ یہ اصل میں فی مشارق الارض ومغاربھا تھا پھر اس سے فی کو حذف کردیا گیا اور انہیں نصب دے دی گئی۔ اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ سر زمین قبط کے وارث بنے اور یہ دونوں مفعول صریح کے طور پر منصوب ہیں۔ کہا جاتا ہے : ورثت المال ( میں مال کا وارث بنا) واورثتہ المال ( میں نے اسے مال کا وارث بنایا) پس یہ فعل ہمزہ کے ساتھ متعدی ہوگیا اور اس نے دو مفعولوں کو نصب دی۔ اور الارض سے مراد شام و مصر کی زمین ہے۔ اور مشارقھا ومغاربھا سے مراد اس کی شرق و غرب کی جہتیں ہیں۔ پس اس میں الارض مخصوص ہے۔ یہ حسن اور قتادہ وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ساری زمین ہے، کیونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اور یہ دونوں پوری زمین کے بادشاہ تھے۔ آیت : التی برکنا فیھا یعنی اس میں ہم نے کھیتیاں، پھل اور نہریں نکال کر برکت رکھ دی۔ آیت : وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل وہ یہ ارشاد ہے : آیت : ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم ائمۃ ونجعلھم الورثین (القصص) ( اور ہم نے چاہا کہ احسان کریں ان لوگوں پر جنہیں کمزور بنا دیا گیا تھا ملک ( مصر) میں اور بنا دیں انہیں پیشوا اور بنا دیں انہیں ( فرعون کے تاج و تخت کا) وارث) آیت : بما صبروا یعنی ان کے اس صبر کرنے کے عوض جو انہوں نے فرعون کی اذیت اور ستانے پر کیا اور اللہ تعالیٰ کے حلم پر صبر کرنے کے عوض جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لانے کے بعد کیا۔ آیت : ودمرنا ما کان یصنع فرعون وقومہ وما کانوا یعرشون کہا جاتا ہے : عرش یعرش (زاد المسیر، جلد 2، صفحۃ 194) جب وہ تعمیر کرے، بناے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد (رح) نے بیان کیا ہے : یعنی جو وہ محلات اور بلند مکان وغیرہ تعمیر کرتے تھے ہم نے انہیں برباد کردیا (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 55 ) ۔ اور حسن نے کہا ہے : اس سے مراد بیلوں کو بلندی پر چڑھانا ہے۔ ابن عامر اور ابوبکر نے عاصم سے را کے ضمہ کے ساتھ یعرشون پڑھا ہے (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 532) ۔ کسائی نے کہا ہے : یہ تمیم کی لغت ہے۔ ابراہیم بن ابی عبلہ نے یعرشون یعنی راکو مشدد اور یا کو مضموم پڑھا ہے۔
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار آتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچتے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لئے بیٹھے رہتے تھے (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی ایک معبود بنادو موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔

قولہ تعالیٰ : وجوزنا ببنی اسرائیل البحر فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لھم حمزہ اور کسائی نے کاف کو کسرہ کے ساتھ اور باقیوں نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہا جاتا ہے : عکف یعکف ویعکف اس کا معنی ہے کسی شے پر قائم رہنا اور اسے لازم پکڑنا۔ دونوں بابو سے اس کا مصدر مفعول کے وزن پر آتا ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : وہ قوم لخم تھی اور وہ رقہ میں اترے ہوئے تھے۔ اور بعض نے کہا ہے : ان کے بت گائے کے مجسمے تھے (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 194) ۔ اسی لیے سامری نے ان کے لیے بچھڑا نکالا تھا۔ آیت : قالوا یموسی اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ اسی کی مثل عرب جہلاء کا قول ہے درآنحالیکہ انہوں نے کفار کا ایک سبز درخت دیکھا تھا اس کا نام ذات انواط تھا وہ ہر سال میں ایک دن اس کی تعظیم کرتے تھے : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ہمارے لیے ایک ذات انواط بنا دیں جیسے ان کے لیے ذات انواط ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر۔ مجھے قسم ہے اسی ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے اسی طرح کہا جیسے قوم موسیٰ نے کہا تھا : آیت : اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ قال انکم قوم تجھلون (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 57) یقینا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقہ پر پورے پورے چلو گے حتی کہ اگر وہ گوہ کی بل میں داخل ہوئے تو یقینا تم بھی اس میں داخل ہوگیا “۔ اور یہ آپ ﷺ کے حنین کی طرف نکلنے کے دوران واقوہ پیش آیا۔ اس کا بیان سورة براۃ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 7:139–140

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے ؟

قولہ تعالیٰ ؛ آیت : ان ھولاء متبر ما ھم فیہ، متبر بمعنی مھلک ( ہلاک کیا گیا) ہے اور تبار بمعنی ہلاک) ہے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 448 ) ۔ ہر ٹوٹا ہوا برتن متبر کہلاتا ہے۔ اور امر متبر ( تباہ حال معاملہ) یعنی بلاشبہ عابد اور معبود ہلاک ہو کر رہیں گے۔ اور قولہ وبطل یعنی ختم ہوجانے والا اور اڑ اجانے والا ہے۔ آیت : ما کانوا یعملون اس میں کانوا صلہ زائدہ ہے۔ آیت : قال اغیر اللہ ابغیکم الھا یعنی آپ نے فرمایا : کیا میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خدا تلاش کروں ؟ کہا جاتا ہے : بغیتہ وبغیت لہ ( میں نے اسے چاہا اور اس کے لیے طلب کیا) آیت : وھو فضلکم علی العلمین یعنی حالانکہ اسی نے تمہیں تمہارے زمانے کے عالمین پر فضیلت دی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دشنموں کو ہلاک کرنے کے داتھ اور ان آیات اور نشانیوں کے ساتھ جن کے ساتھ انہیں خاص فرمایا انہیں فضیلت عطا فرمائی۔
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔

آیت نمبر : 141 اس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے احسانات یاد دلائے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے زماننہ کے یہودیوں کو خطاب ہے، یعنی تم وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہارے اسلاف کو نجات دی، جیسا کہ اس کی وضاحت سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے راستہ نہ چلنا۔

آیت نمبر : 142 قولہ تعالیٰ : آیت : ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلت واتممنھا بعشر فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : قولہ تعالیٰ : آیت : ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عزت و تکریم عطا فرمائی۔ پس اللہ تعالیٰ کا آپ کے ساتھ ہمکلام ہونے کا وعدہ فرمانا ان کے لیے باعث عزت و تکریم تھا۔ آیت : واتممنھا بعشر حضرت ابن عباس ( تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 59 ) ، حضرت مجاہد اور حضرت مسروق ؓ نے بیان فرمایا : یہ ذوالقعدہ اور ذوالحج کے دس دن تھے۔ آپ کو حکم ہوا کہ ایک مہینہ کے روزے رکھیں اور آپ اس میں اس عبادت کے ساتھ منفرد ہوں گے، پس جب آپ نے روزے رکھے تو آپ نے اپنے منہ کی بو کو ناپسند کیا اور مسواک کی۔ کہا گیا ہے کہ آپ نے خرنوب کی لکڑی سے مسواک کی، تو ملائکہ نے کہا : بلاشبہ ہم آۃ پ کے منہ سے کستوری کی خوشبو سونگھتے تھے تو آپ نے مسواک کے ساتھ اسے فاسد کردیا ہے۔ پس آپ پر ذوالحجہ کی دس راتیں اور بڑھا دی گئیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب آپ نے مسواک کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی : ” اے موسیٰ ! میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا یہاں تک کہ تیرا منہ اس حالت پر واپس لوٹ آئے جس پر پہلے تھا۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو میرے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے “ (زاد المسیر، جلد 2، صفحہ 195) ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مزید دس دن آپ کو روزے رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف یوم نحر ( دسویں ذوالحج) کی صبح کو حاصل ہوا جس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) قربانی کے عوض ذبح ہونے سے محفوظ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت ﷺ کے لیے حض مکمل کیا۔ عشر کے لفظ کے آخر سے ہا کو اس لیے حذف کردیا گیا، کیونکہ معدود مونث ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : آیت : فتم میقات ربہ اربعین لیلۃ کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ ثلاثین اور عشرۃ سے مراد چالیس ہے، تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ مراد یہ ہے کہ ہم نے تیس دن انہیں میں سے دنوں کے ساتھ مکمل کیے۔ پس یہ واضح کردیا کہ وہ دس تیس کے سوا ہیں۔ اور اگر کہا جائے کہ سورة بقرہ میں اربعین ( چالیس) کہا ہے اور یہاں ثلاثین ( تیس) فرمایا ہے، پس یہ نیا کلام ہوجائے گا۔ تو کہا گیا ہے : اس طرح نہیں ہے۔ تحقیق فرمایا : آیت : واتممنھا بعشر تو اربعون، اور ثلاثون وعشرۃ یہ ایک ہی قول ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ( کیونکہ دونوں کا معنی چالیس ہے) پس اللہ تعالیٰ نے تفصیل و تالیف کے طریقہ پر دو قول ارشاد فرمائے۔ پس قول مرکب میں اربعین فرمایا، اور پھر فرمایا ثلاثین، یعنی مسلسل ایک مہینہ اور دس دن۔ سب کا معنی چالیس ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : عشرواربع۔۔۔۔ یعنی چودہ، چاند کی رات۔ اور یہ کلام عرب میں جائز ہے۔۔۔ مسئلہ نمبر 2۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ کسی معاہدہ کی مدت مقرر کرنا سنت ماضیہ ہے اور قدیمہ معنی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قضایا ( فیصلوں) میں بنیاد ہے اور اس کے ساتھ امتوں کے فیصلے فرمائے ہیں اور اس کے ساتھ انہیں اعمال میں تاخیر کرنے کی مقدار پر آگاہ کیا ہے، پس پہلی مدت جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے وہ چھ دن ہے جن میں اس نے تمام مخلوقات کو تخلیق فرمایا ہے۔ آیت : ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب ( ق) ( اور ہم نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں۔ اور ہمیں تھکن نے چھوا تک نہیں) ہم اس کا منعی اس سے قبل اسی سورة میں آیت : ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام (الاعراف : 54) کے تحت بیان کرچکے ہیں۔ اب عربی (رح) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 790) نے بیان فرمایا ہے : جب کسی معنی ( مقصد) کے لیے مدت مقرر کردی جائے تو اس میں موجل کو حاصل کرنے کا قصد کیا جاتا ہے اور جب وہ مدت آجائے اور وہ شے میسر نہ ہو تو اس میں مزید غور وفکر کرنے کے لیے اور بطور عذر اضافہ کردیا جاتا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بیان فرمایا اور ان کے لیے تیس دن مقرر فرما دیے پر ان میں دس دن مزید بڑھا دیئے تاکہ چالیس مکمل ہوجائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دس دن اپنی قوم پر تاخیر کردی اور وہ اس تاخیر اور تاخر کے جواز کو نہ سمجھ سکے، یہاں تک کہ وہ کہنے لگے : بلاشبہ موسیٰ بہک گیا یا بھول گیا ( نعوذ باللہ من ذالک) اور انہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا۔ اور آپ کے بعد انہوں نے اپنا نظریہ بدل دیا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور الٰہ کی عبادت کرنے لگے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا : بلاشبہ میرے رب نے میرے ساتھ تیس راتوں کا وعدہ فرمایا کہ میں اس سے شرف ملاقات حاصل کروں اور میں تم میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نائب اور خلیفہ بنا رہا ہوں۔ پس جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر دس دنوں کا اضافہ کردیا۔ پس ان کا وہ فتنہ جس میں انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی انہی دس دنوں میں وقوع پذیر ہوا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر زائد کیے تھے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ پھر وہ زیادتی جو مقررہ مدت پر ہوتی ہے وہ اسی طرح مقدر ہوتی ہے جیسے وہ مقررہ مدت مقدر ہوتی ہے اور یہ نہیں ہو سکتی مگر حاکم کے ایسے اجتہاد کے ساتھ جو اس معاملہ سے متعلقہ معانی مثلا، حال اور عمل میں غور وفکر کرنے کے بعد ہو، پس یہ گزشتہ مدت کے ثلث ( تہائی) کے مثل ہو سکتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مقرر فرمائی۔ اگر حاکم مناسب خیال کرے کہ وہ اپنے لیے اصل کو اجل اور زیادتی کو ایک ہی مدت میں جمع کرلے تو یہ جائز ہے، لیکن اس کے بعد انتظار ضروری ہے تاکہ انسان پر عذر طاری ہوجائے، یہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور بنی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بندے کو معذور قرار دیا ہے اور اس کی مدت کو موخر کردیا ہے یہاں تک کو ہو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے “۔ میں ( مفسر) کہتا ہوں : یہ بھی حکام کے محکوم علیہ کو یکے بعد دیگر معذور قرار دینے کی اصل ہے اور یہ مخلوق کے ساتھ لطف و عنایت ہے اور چاہیے کہ طاقتور حکام ان پر حق نافذ کریں۔ کہا جاتا ہے : اعذر فی الامرای بالغ فیہ یعنی اس نے معاملہ میں حد درجہ کوشش کی اتنی کہ اس کے بعد کوئی کوشش نہیں ہو سکتی ( یعنی اس کے بعد کوئی عذر پیش نہیں کیا جاسکتا) اور بنی آدم کے لیے سب سے بڑی کوشش ان کی طرف رسولوں کو مبعوث فرمانا ہے تاکہ ان پر حجت مکمل ہوجائے۔ آیت : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا (الاسراء) ( اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم نہ بھیجیں کسی رسول کو) اور فرمایا : آیت : وجآئکم النذیر ( فاطر : 37) ( اور تشریف لے آیا تھا تمہارے پاس ڈرانے والا) کہا گیا ہے کہ یہ رسل (علیہ السلام) ہیں اور ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد بڑھاپا ہے، کیونکہ وہ کہولت کی عمر میں آجاتا ہے اور یہ بچپن کی عمر سے مفارقت اور جدائی کی علامت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ساٹھ برس کو عذر دور کرنے کی غایت اور انتہا قرار دیا ہے، کیونکہ ساٹھ برس بندوں کے اتنہائی تجربہ کار ہونے کے قریب ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات تاک میں ہوتی ہے۔ پس اس میں کوشش کے بعد کوشش ہے ( اور ڈراوے کے بعد ڈراوا ہے) پہلا ( ڈراوا) نبی مکرم ﷺ کے ساتھ اور دوسرا بڑھاپے کے ساتھ اور یہ چالیس برس مکمل ہونے کے وقت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : وبلغ اربعین سنۃ قال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک ( الاحقاف : 15) پس اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ جو آدمی چالیس برس کی عمر کو پہنچ جائے تو اب اس کے لیے وقت ہے کہ وہ اپنی ذات پر اور اپنے والدین پر اللہ تعالیٰ کے احکامات و احسانات کی مقدار کو جانے اور ان کا شکر ادا کرے۔ امام مالک (رح) نے بیان کیا : میں اپنے شہر کے اہل علم کو جانتا ہوں، وہ دنیا تلاش کرتے رہتے ہیں اور لوگوں میں مل جل کر رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے چالیس برس پورے ہوجاتے ہیں، پس جب ان پر یہ وقت آجائے تو وہ لوگوں سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ یہ آیت اس پر بھی دلیل ہے کہ تاریخ راتوں سے ( شمار) ہوتی ہے نہ کہ دنوں سے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ثلٰثین لیلۃ ( تیس راتیں) کیونکہ راتیں ہی مہینوں کی ابتدا ہیں۔ اور انہی کے ساتھ صحابہ کرام ؓ ایام کے بارے خبر دیتے تھے، یہاں تک کہ مروی ہے کہ وہ کہتے تھے : سمنا خمسا مع رسول اللہ ﷺ ( ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پانچ روزے رکھے) ۔ اور عجمی اس میں مخالفت کرتے ہیں اور وہ دنوں کے ساتھ حساب لگاتے ہیں، کیونکہ ان کا اعتماد سورج پر ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : سورج کا حساب منافع ( بیع، شرا اور اجارہ وغیرہ) کے لیے ہے اور چاند کا حساب مناسک ( احکام) کے لیے ہے، اسی لیے فرمایا : آیت : ووعدناموسی ثلثین لیلۃ کہا جاتا ہے : ارخت تاریخا اور ورخت توریخا ( میں نے تاریخ بیان کی) اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وقال موسیٰ لاں یہ ھرون اخلفنی فی قومی واصلح اس کا معنی ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی مناجات کے لیے جانے اور اسی میں اپنے آپ کو مشغول رکھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو فرمایا : تم میرے نائب اور خلیفہ ہو۔ پس یہی ارشاد اپنا نائب اور خلیفہ بنانے پر دلیل ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب آپ ﷺ نے انہیں ایک غزوہ کے وقت اپنا نائب بنایا : اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 278) ( کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نائب تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے) اس روایت سے روافض، امامیہ اور شیعہ کے تمام فرقوں نے اس پر استدلال کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو تمام امت پر خلیفہ اور نائب بنایا، یہاں تک کہ امامیہ نے صحابہ کرام کو کافر قرار دیا۔ قجہم اللہ ( اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے) نوٹ : اب ان کے مقتدر علماء اس قسم کے اقوال سے اجتناب کرتے ہیں اور خلفاء راشدین، امہات المومنین اور صحابہ کرام کے بارے میں تکریم کے الفاظ ذکر کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک انہوں نے اس عمل کو ترک کردیا ہے جو حضرت علی ؓ کی خلافت پر نص ہے۔ اور انہوں نے آپ کے سوا کسی اور کو اجتہاد کے ساتھ خلیفہ بنا لیا۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے حضرت علی ؓ کو کافر قرار دیا جب آپ اپنے حق کے مطالبہ کے لیے نہ اٹھے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے کفر میں اور ان کے کفر میں جو ان کے قول کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں کوئی شک نہیں۔ اور وہ یہ نہیں جانتے کہ زندگی میں کسی کو اپنا نائب اور خلیفہ بنانا اس وکالت کی طرح ہے جو موکل کے معزول کرنے یا اس کی موت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور یہ اس کی وفات کے بعد تک باقی رہنے کا تقاضا نہیں کرتی، پس اس سے وہ مسئلہ حل ہوجائے گا جس کے ساتھ امامیہ وغیرہ کا تعلق ہے۔ اور حضور بنی مکرم ﷺ نے مدینہ طیبہ پر حضرت ابن مکتوم ؓ اور کئی دوسروں کو نائب اور خلیفہ بنایا ہے اور اس سے بالاتفاق ان کی خلافت کا دائمہ ہونا لازم نہیں۔ اور اس بنا پر بھی کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اصل رسالت میں شریک کیا گیا تھا، پس ان کے لیے اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے جو قصد انہوں نے کیا ہے۔ واللہ الموفق للہدایۃ قولہ تعالیٰ : آیت : واصلح یہ اصلاح سے امر ہے۔ ابن جریج (رح) نے کہا ہے کہ اصلاح میں سے یہ تھا کہ آپ سامری کو زجر وتوبیخ کرتے اور اسے بدل دیتے (المحرر الوجیز۔ جلد 2، صفحہ 450 ) ۔ اور بعض نے یہ کہا ہے : ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں اور ان کے امور کی اصلاح کریں اور اپنے آپ کی اصلاح کریں، یعنی مصلح ہوجائیں۔ آیت : ولاتتبع سبیل المفسدین یعنی آپ گنہگاروں اور نافرمانوں کی راہ نہ چلیں۔ اور نہ ہی ظالموں کے معاون و مددگار بنیں۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر (کوہ طور پر) پہنچنے اور ان کے پروردگار نے ان کے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ (پروردگار نے) فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ جب انکا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انور ربانی نے) اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر پڑے جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانیوالے ہیں ان میں سب سے اول ہوں۔

آیت نمبر : 143 قولہ تعالیٰ : آیت : ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے۔ وکلمہ ربہ اور ان کے رب نے انہیں بلا واسطہ اپنا کلام سنایا۔ آیت : قال رب ارنی انظر الیل تو آپ نے رب کریم کا دیدار کرنے کی التجا کی، اور جب اس نے آپ کو اپنا کلام سنایا تو آپ دیدار الہٰی کے مشاق ہوئے۔ آیت : قال لن ترنی تو رب کریم نے فرمایا : تم دنیا میں مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس معنی پر محمول کرنا جائز نہیں ہے کہ آپ نے یہ ارادہ کیا۔ مجھے ایک عظیم نشانی دکھاتا کہ میں تیری قدرت کا نظارہ کرسکوں۔ کیونکہ آپ نے عرض کی الیک ( تیری طرف) اور رب کریم نے فرمایا : آیت : قال لن ترنی اگر آپ کسی آیت اور نشانی کا سوال کرتے تو یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو وہ عطا فرما دیتا جو آپ مانگتے، جیسا کہ اس نے آپ کو دیگر تمام آیات اور نشانیاں عطا فرمائی تھیں، حالانکہ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے کسی دوسری آیت اور نشانی کی طلب سے اظہار عجز ہے، پس یہ تاویل باطل ہے۔ آیت : ولکن انظر الی الجبل فان الستقر مکانہ فسوف ترنی آپ کے لیے اس شے سے مثال بیان کی گئی جو اپنی بناء کے اعتبار سے زیادہ قوی اور زیادہ مضبوط ہے، یعنی اگر پہاڑ اپنی جگہ پر ثابت رہا اور ساکن رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکوگے اور اگر وہ ساکن نہ رہا تو پھر بلاشبہ تم میری زویت کی طاقت نہیں رکھ سکتے، جیسا کہ پہاڑ مجھے دیکھے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت قاضی عیاض (رح) نے قاضی ابوبکر بن طیب سے جو ذکر کیا ہے اس کا مفہوم ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو اسی لیے بےہوش ہر کر گر پڑے اور یہ کہ پہاڑ نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ یہ جان کر پاش پاش ہوگیا کہ اللہ کریم نے اسے اس کے لیے تخلیق فرمایا ہے۔ اور انہوں نے اس کا استنباط اس ارشاد گرامی سے کیا ہے : آیت : الکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترنی پھر فرمایا : فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا وخر موسیٰ صعقا، تجلی کا معنی ہے ظھر ( ظاہر ہونا) یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : جلوت العروس ای ابرز تھا ( میں نے دلہن کو ظاہر کیا) اور جلوت السیف ( میں نے تلوار کو زنگ سے صاف کیا) ان دونوں میں جلا کا معنی موجود ہے اور تجلی الشی کا معنی ہوتا ہے انکشف (ظاہر ہونا، منکشف ہونا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : تجلی امرہ وقدرتہ ( یعنی اس نے اپنا امر اور اپنی قدرت کا اظہار کیا) یہ قطرب وغیرہ نے کہا ہے۔ اہل مدینہ اور اہل بصرہ کی قراءت دکا ہے۔ اور اس کی صحت پر دکت الارض دکا دلالت کرتا ہے۔ اور بلاشبہ پہاڑ ( جبل) مذکر ہے اور اہل کوفہ نے دکاء پڑھا ہے یعنی اسے ارض دکاء کی مثل قرار دیا ہے۔ اور اس سے مراد ہموار زمین ہے جہاں پہاڑ نہ ہوں۔ اور اس کا مذکر ادک ہے۔ اور دکاء کی جمع دکاوات اور دک ہے جیسا کہ حمراوات اور حمر ہیں۔ کسائی نے کہا ہے : الدک من الجبال کا معنی ہے پہاڑ کا چوڑا ہوجانا، اس کی واحد ادک ہے۔ ان کے سوا کسی اور نے کہا ہے : دکاء کی جمع دکاوات ہے۔ اس سے مراد مٹی کی وہ راب ( اور کیچڑ) ہے جس میں شدت اور سختی نہ ہو۔ اور اسی طرح الد کداک من الرمل کا معنی ہے : وہ ریت جو زمین کی کوہان نہ ہو۔ اور ایک تفسیر میں ہے : پہاڑ زمین میں دھنس گیا اور وہ اب بھی اس میں دھنستا جا رہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ عنہانے فرمایا : اس نے اسے مٹی بنا دیا۔ عطیہ عوفی (رح) نے کہا ہے : مراد اڑنے والی ریت ہے۔ آیت : وخر موسیٰ صعقا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ آپ مردہ ہو کر گر پڑے۔ کہا جاتا ہے : صعق الرجل فھو صعق وصعق فھو مصعوق حضرت قتادہ اور حضرت کلبی رحمۃ اللہ علیہما نے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نویں ذی الحجہ جمعرات کے دن بیہوس ہو کر گر پڑے اور اللہ تعالیٰ نے دسویں ذوالحجہ جمعہ کے دن آپ کو تورات عطا فرمائی (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 539) ۔ آیت : فلما افاق قال سبحٰنک تبت الیک حضرت مجاہدرحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے : یہ دنیا میں رویت باری تعالیٰ کی التجا کرنے سے توبہ ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : آپ نے یہ عرض بغیر اجازت لیے کی، پس اسی لیے آپ نے توبہ کی۔ اور بعض نے کہا ہے : آیات و علامات کے ظہور کے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور خشوع و خضوع کے اطہار کے لیے یہ کلمات کہے۔ اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ توبہ کسی معصیت سے نہ تھی، کیونکہ انبیاء معصوم ہیں اور اہل السنۃ والجماعت کے نزدیک بھی رویت باری تعالیٰ جائز ہے۔ مبتدعہ کے نزدیک یہ ہے کہ آپ نے یہ التجا ایک قوم کے لیے کی تاکہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ یہ جائز نہیٰں ہے اور یہ توبہ کا تقاضہ نہیں کرتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : میں تیری بارگاہ میں قبطی کے قتل سے توبہ کرتا ہوں۔ یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔ اور سورة الانعام میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ رویت جائز ہے۔ علی بن مہدی طبری نے بیان کیا ہے کہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ سوال محال ہوتا تو آپ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے کے باوجود اس کا اقدام نہ کرتے، جیسا کہ رب کریم کو یہ کہنا جائز نہیں ہے : اے رب ! کیا تیری کوئی بیوی اور بیٹا ہے۔ عنقریب سورة القیامہ میں معتزلہ کا مذہب اور ان کا رد آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ قولہ تعالیٰ : آیت : وانا اول المومنین بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے میں اپنی قوم میں سے پہلا مومن ہوں۔ بعض نے کہا ہے : اس زمانے میں بنی اسرائیل میں سے پہلا مومن ہوں۔ اور بعض نے کہا ہے : یقینا اس بارے میں تیرا پہلے وعدہ ہے کہ دنیا میں تجھے نہیں دیکھا جاسکتا۔ حدیث صحیح میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم انبیاء علیہم الصلوٰات والتسلیمات کے درمیان ( ترجیح کا) چناو نہ کرو، کیونکہ لوگ قیامت کے دن صعقہ کے سبب گرے پڑے ہوں گے تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا پس میں اچانک موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھوں گا کہ عرش کے پائیوں میں سے ایک کو پکڑے ہوئے ہیں، سو میں نہیں جانتا کہ کیا ان پر بھی صعقہ طاری ہوا ان لوگوں میں جن پر صعقہ طاری ہوا اور پھر انہوں نے مجھ سے افاقہ پالیا یا پہلے صاعقہ کے ساتھ ہی ان کا حساب لیا گیا “ (صحیح بخاری، سورة اعراف، جلد 2، صفحہ 668) یا فرمایا ” یا ان کے لیے پہلا صعقہ ہی کافی ہوا “۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت کعب (رح) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کلام اور رؤیت کو حضور نبی مکرم ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دو مرتبہ شرف ہمکلامی عطا فرمایا۔ اور حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دو بار شرف دیدار حاصل کیا۔