Ayah 7:199خذ العفوا وامر بالعرف واعرض عن الجہلین : سرسری برتاؤ قبول کرلیا کیجئے اور نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئے اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کیجئے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ اور مجاہد ؓ : کا بیان ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ لوگوں کی طرف سے سرسری برتاؤ اور سہل ترین اعمال کو قبول کریں مثلاً کوئی عذر کرے تو عذر قبول کرلیں عفو اور سہولت سے کام لیں چھان بین اور احوال کا تجسس نہ کریں ایسی بات کے لوگوں سے طلبگار نہ ہوں جس کو پیش کرنا ان کے لئے دشوار اور ناگوار ہو۔ اس تفسیر پر عفو کا معنی ہوگا سرسری برتاؤ۔ کوشش اور جہد کی ضد۔
بعض علماء کے نزدیک عفو سے مراد ہے مجرموں اور گناہگاروں کو معاف کردینا۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عیینہ بن حصین بن حذیفہ اپنے بھتیجے حر بن تعییس کے پاس آکر ٹھہرا ‘ جو حضرت عمر ؓ کے مقربین میں سے تھے ‘ حضرت عمر ؓ کے اہل مجلس اور مشیر قراء ہوتے تھے۔ جوان ہوں یا بوڑھے عیینہ نے حر سے کہا بھتیجے کسی تدبیر سے تم ان سے (یعنی حضرت عمر ؓ سے) اجازت لے سکتے ہو کہ وہ مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دے دیں ‘ حر نے وعدہ کرلیا اور حضرت عمر ؓ سے عیینہ کے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی عیینہ حاضر ہوا اور کہنے لگا ابن خطاب ؓ خدا کی قسم تم ہم کو کچھ زیادہ مال نہیں دیتے نہ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کرتے ہو۔ (گویا تقسیم مال میں جابر اور فصل مقدمات میں ظالم ہو) حضرت عمر ؓ : کو یہ سن کر اتنا غصہ آیا کہ قریب تھا عیینہ پر حملہ کردیں (یا کوئی سخت حکم دے دیں) حسن نے کہا امیر المؤمنین اللہ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاہلین اور یہ شخص جاہل ہے حضرت عمر آیت سنتے ہی حکم آیت کے مطابق فوراً رک جاتے تھے آپ کی یہ عادت ہی تھی جب یہ آیت سنی تو پھر اس آیت کے حکم سے آگے نہیں بڑھے۔
حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندے حساب کے لئے رکے کھڑے ہوں گے اس حدیث میں ہے پھر ایک منادی ندا کر دے گا جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے لوگ کہیں گے اللہ کے ذمہ کس کا اجر ہوسکتا ہے منادی کہے گا لوگوں کو معاف کردینے والوں کا اجر اللہ کے ذمہ ہے یہ سن کر اتنے اتنے ہزار لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور بلاحساب کے جنت میں چلے جائیں گے۔ رواہ الطبرانی باسناد حسن۔
روایت میں آیا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا جبرئیل ( علیہ السلام) اس کا مطلب کیا ہے جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا مجھے نہیں معلوم اللہ سے دریافت کر کے بتاؤں گا کچھ دیر کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) لوٹ کر آئے اور کہا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جو تم سے (قرابت) کاٹے تم اس سے جوڑو ‘ جو تم کو محروم رکھے تم اس کو دو جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کرو۔ رواہ ابن مردویہ عن جابر وابن ابی الدنیا وابن جریر و ابن ابی حاتم عن الشعبی مرسلاً ۔
حضرت ابی بن کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص (جنت کے اندر) اپنے مکان کا بلند ہونا اور درجات کا اونچا ہونا پسند کرتا ہو اس کو چاہئے کہ جو شخص اس کی حق تلفی کرے اس سے درگزر کرے اور جو اس سے قرابت منقطع کرے وہ اس سے قرابت جوڑے رکھے۔ رواہ الحاکم وقال صحیح الاسناد۔ مگر اس حدیث کی سند منقطع ہے۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برابر دینے والا واصل (قرابت) نہیں۔ قرابت جوڑنے والا وہ ہے کہ اگر اس کی رشتہ داری توڑی جائے تو وہ جوڑے رکھے۔ (رواہ البخاری)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے کچھ قرابت دار ہیں کہ میں ان سے جوڑتا ہوں تو وہ کاٹتے ہیں۔ میں ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں میں ان کی طرف سے برداشت کرتا ہوں اور وہ میرے خلاف جہالت کرتے ہیں (برداشت سے کام نہیں لیتے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو ایسا ہی ہے جیسا تو کہہ رہا ہے تو تو ان کو بھوبھل (گرم راکھ) پھنکا رہا ہے اور جب تک تو اس سلوک پر قائم رہے گا برابر اللہ کی طرف سے ایک مددگار تیرے ساتھ رہے گا۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابن عباس ؓ : ضحاک اور کلبی نے آیت کا معنی اس طرح بیان کیا ہے وہ مال لے لو جو عفو ہو یعنی جو مال اہل و عیال کی ضرورت سے فاضل ہو وہ لے لو۔ آیت یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو میں بھی عفو کا یہی معنی ہے (یعنی وہ پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا دیں آپ کہہ دیجئے کہ جو مال اہل و عیال کی ضرورت سے بچا ہوا ہو (وہ سب دے دو ) آئندہ زکوٰۃ فرض کردی گئی تو یہ حکم منسوخ کردیا گیا۔
وامر بالعرف یعنی جو فعل شرعاً اور عقلاً اچھا ہے اس کا حکم دیجئے۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص کسی بری بات کو دیکھے اس کو اپنے ہاتھ سے بدل ڈالے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان ہی سے روکے اگر ایسا بھی نہ کرسکتا ہو تو دل سے ہی (اس سے نفرت کرے) اور یہ ضعیف ترین ایمان (کا درجہ) ہے۔ رواہ مسلم۔ حضرت حذیفہ (رح) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (یا تو) تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روک گے ورنہ اغلب ہے کہ اللہ اپنی طرف سے تم پر عذاب بھیج دے گا اس وقت تم دعا کرو گے مگر تمہاری دعا قبول نہ ہوگی۔ رواہ الترمذی۔
واعرض عن الجاھلین یعنی اگر کوئی جاہل تمہارے خلاف حماقت کرے تو تم بیوقوفی اور سبک سری سے اس کا مقابلہ نہ کرو اور اس کے برتاؤ کی طرح خود برتاؤ نہ کرو اسی مفہوم کو بیان کیا ہے آیت (واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاماً ) ۔ حضرت امام جعفر ؓ صادق نے فرمایا اللہ نے اپنے پیغمبر کو برگزیدہ اخلاق اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور قرآن میں کوئی اور آیت اس آیت سے بڑھ کر مکارم اخلاق کی جامع نہیں ہے۔
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اخلاق برگزیدہ اور محاسن افعال کی تکمیل کے لئے بھیجا ہے۔ (رواہ البغوی)
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ : فحش گو نہ تھے نہ فحش پسند۔ نہ بازاروں میں چیخ و پکار کرنے والے تھے نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیتے اور درگزر کرتے تھے۔ رواہ الترمذی والبغوی۔
Ayah 7:200واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ انہ سمیع علیم : اور اگر شیطان کی طرف سے وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔
واما ینزغنک۔ اِمَّا میں ما زائد ہے اِنْشرطیہ ہے نَزْغٌکا معنی ہے انگلیوں کے پوروں سے کچو کا دینا ٹھوکا دینا۔ اس جگہ مراد ہے شر پر برانگیختہ کرنا ‘ ابھارنا ‘ وسوسہ ڈالنا۔
عبدالرحمن بن زید کا بیان ہے جب آیت خذ العفونازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا میرے رب سخت غصہ (کی حالت) ہو تو عفو کی کیا صورت ہوگی اس پر آیت (وما ینزغنک من الشیطن نزغ۔۔ ) نازل ہوئی۔
فاستعذ باللّٰہتو اللہ سے بچاؤ کی طلب کرو اللہ کی پناہ مانگو۔ امر کا جواب محذوف ہے یعنی اللہ شیطان کے اغوا اور وسوسہ کو رفع کر دے گا۔
انہ سمیع علیموہ بلاشبہ آپ کی بات کو سنتا اور آپ کی پناہ جوئی کو جانتا ہے اور جس بات میں آپ کے کام کی درستی ہو اس سے واقف ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والوں کی باتوں کو اللہ سنتا اور ان کے اعمال کو جانتا ہے وہ خود ان کو بدلہ دے دے گا آپ کو انتقام لینے اور شیطان کا اتباع کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 7:201ان الذین اتقوا اذا مسہم طئف من الشیطن تذکروا فا ا ہم مبصرون : بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کو شیطانی وسوسہ جاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
طائفیہ لفظ یاطافَ یَطُوْفُسے اسم فاعل کا صیغہ ہے اس سے مراد ایک شیطانی وسوسہ ہے گویا یہ وسوسہ اور شیطانی خیال اہل تقویٰ کے چہار سمت گھومتا ہے مگر متقیوں پر اثر انداز ہونے پر اس کا قابو نہیں چلتا۔ یاطاف بہ الخیال سے ماخوذ ہے اس کے اندر ایک تصویر خیالی آگئی (اس وقت طائف کا مادہ طیفٌ ہوگا طوفٌنہیں ہوگا)
من الشیطن اس سے مراد جنس شیطان ہے خواہ ایک ہو یا چند اسی لئے اخوَانُہُمْمیں جمع مذکر کی ضمیر الشیطان کی طرف راجع کی ہے۔ تذکرواوہ یاد میں لگ جاتے ہیں یعنی اللہ کے امر و نہی اور ثواب و عذاب کو یاد کرتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں کہ یہ شیطانی خیال ہے۔ فاذا ہم مبصرونتو یکایک وہ متقی روشن نظر ہوجاتے ہیں وہ گناہ کے مقام اور شیطان کے جال کو دیکھ لیتے ہیں اور اس سے بچ جاتے ہیں۔ شیطانی خیال کے پیچھے نہیں لگ جاتے۔
سدی نے کہا متقی پھسلتے ہی لوٹ پڑتا ہے۔ مقاتل نے کہا متقی کو اگر کوئی شیطانی کچوکا لگتا ہے تو وہ فوراً یاد کرتا اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ گناہ ہے یہ جانتے ہی اس کی (دل کی) آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے نکل آتا ہے۔ یہ آیت سابق کلام کی معنوی تاکید ہے۔
Ayah 7:202واخوانہم یمدونہم فی الغی ثم لا یقصرون : اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر وہ باز نہیں آتے۔
واخوانہم یعنی شیطانوں کے بھائی۔ مراد فاسق بدکار لوگ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخوان سے مراد شیاطین ہوں اور اخوانہم کی ضمیر الجاہلین کی طرف راجع کی جائے جاہلوں کے بھائی یعنی شیطان۔ یمدونہم یعنی شیاطین ان کی مدد کرتے ہیں ابھارتے ہیں۔ برانگیختہ کرتے ہیں۔ سہولت پیدا کرتے ہیں یا وہ شیطانوں کو مدد دیتے ہیں شیاطین کے کہنے پر چلتے ہیں ان کے احکام کا اتباع کرتے ہیں۔
ثم لا یقصرون پھر اہل فسق گمراہی سے باز نہیں آتے ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ‘ برخلاف اہل تقویٰ کے کہ شیطانی خیال آتے ہی وہ اللہ کے احکام کو یاد کرتے ہیں اور آنکھیں کھول لیتے ہیں ضحاک اور مقاتل نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ شیاطین کو اغوا کرنے سے نہیں روکتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا نہ تو انسان اپنی بدکاری سے باز آتے ہیں نہ شیاطین ان سے رکتے اور باز رہتے ہیں۔
Ayah 7:203واذا لم تاتہم بایۃ قالوا لو لا اجتبیتہا قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی ہذا بصآئر من ربکم وہدی ورحمۃ لقوم یومنون۔ اور اگر آپ کوئی معجزہ ان پر پیش نہیں کرتے تو کہتے ہیں آپ معجزہ کیوں نہیں لائے آپ کہہ دیجئے کہ میں اس حکم کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچتا ہے یہ حکمتوں کا مجموعہ ہے تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔
بٰایٰۃٍآیت سے مراد قرآن مجید کی آیات۔ یا کافروں کا طلب کیا ہوا معجزہ۔
لو لا اجتبیتہا آپ از خود تراش کیوں نہیں لائے۔ عرب کہتے ہیں اجتبیت الکلام میں نے بات خود گڑھ لی۔ کلبی کا بیان ہے کہ مکہ والے محض ضد اور دشمنی کے زیر اثر رسول اللہ ﷺ سے آیات کے طلب گار ہوتے تھے اور جب آیات (کے ظہور یا نزول) میں دیر ہوجاتی تو کہتے آپ نے (حسب سابق) خود اپنی طرف سے آیات کیوں نہ بنا لیں اس کی تردید میں اللہ نے یہ کہنے کا حکم دیا کہ آپ کہہ دیجئے کہ انما اتبع میں از خود آیات نہیں بناتا یا اپنی طرف سے آیات طلب نہیں کرتا۔ جو رب کی طرف سے بھیج دی جاتی ہیں ان کا اتباع کرتا ہوں۔
ہٰذایہ قرآن۔ بصائر بصیرتوں کا مجموعہ ہے دل اس کے ذریعہ سے حق کا باطل سے اور صحیح کا غلط سے امتیاز کرلیتے ہیں یا یہ قرآن دلائل اور براہین کا مجموعہ ہے جن سے میرے دعوے کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔
Ayah 7:204واذا قری القرآن فاستعموا لہ وانصنتو لعلکم ترحمون۔ . اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو اس امید پر کہ تم پر رحمت ہوگی۔
ابو عیاض کے طریق سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ لوگ نماز میں باتیں کرلیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ رواہ ابن جریر وا ابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ وابن ابی شیبۃ فی المنصف والبیہقی فی السنن۔ حضرت ابوہریرہ کی دوسری آیت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے آواز اونچی کرنے کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں مشغول تھے۔ میں نے جا کر سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا اس سے پہلے لوگ نماز میں کلام کرلیا کرتے تھے اور اپنے کام کے لئے کہہ دیا کرتے تھے نماز سے فارغ ہو کر حضور ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور آیت (واذا قرئ القرآن فاستعموا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون) نازل ہوئی۔ رواہ ابن ابی حاتم و ابن مردویہ۔
حضرت عبداللہ بن مغفل کی روایت ہے کہ لوگ نماز میں کلام کرلیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بولنے کی ممانعت فرما دی۔ اخرجہ ابن مردویہ والبیہقی فی السنن۔
قتادہ کی روایت ہے کہ شروع میں جب لوگوں کو نماز کا حکم دیا گیا تو وہ نماز میں بات کرلیا کرتے تھے آدمی آتا لوگ نماز میں مشغول ہوتے تو آنے والا پوچھ لیتا کہ تم کتنی نماز پڑھ چکے پڑھنے والے بتا دیتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کان لگا کر سننے اور خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ اخرجہ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابوالشیخ وابن جریر والبیہقی۔ ضحاک کا بیان ہے کہ لوگ نماز میں بولا کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اخرجہ عبد بن حمید۔ ان تمام روایات سے ثابت ہو رہا ہے کہ نماز میں بات کرنے کی ممانعت کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
امام اعظم (رح) : کا قول ہے اور ایک روایت میں امام احمد (رح) : کا بھی یہی قول آیا ہے کہ نماز میں کلام کرنا تھوڑا ہوا یا بہت قصداً ہو یا بھول کر یا سہو سے ہو یا جبراً یا حرمت کلام سے ناواقفیت کی حالت میں بہرحال نماز کو توڑ دیتا ہے ہاں اگر یہ خیال نہ رہے کہ نماز میں مشغول ہوں اور سلام کرلے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔ باقی تینوں اماموں کے نزدیک اگر بھول کر نماز میں بات کرلی یا سلام کرلیا یا حرمت کلام سے واقف نہیں ہے اور سلام کلام کرلیا یا بےساختہ منہ سے سلام کلام نکل گیا تو نماز نہیں ٹوٹتی۔ خواہ کلام کتنا ہی طویل ہو۔ امام شافعی (رح) : کا قول صحیح ترین روایت میں یہ آیا ہے کہ بھول کر یا ناواقفیت کی حالت میں اگر طویل کلام کرے گا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
امام مالک (رح) : کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ قصداً ایسا کلام کرنا جس کا تعلق نماز سے نہ ہو مثلاً نابینا کو راستہ سے آگاہ کرنا گمراہ کو راستہ بتانا وغیرہ نماز کو باطل نہیں کرتا۔ ائمہ ثلثہ کے اتفاقی قول کی دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی مندرجۂ ذیل روایت ہے جو ابن سیرین (رح) کے توسط سے آئی ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ہم کو مغرب یا عشاء کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھ کر آپ نے سلام پھیر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ ﷺ غصہ کی حالت میں ہیں۔ مسجد کے اندر ایک تختہ پڑا ہوا تھا آپ نے اس سے کچھ سہارا لگا لیا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر انگلیوں کا جال بنا لیا اور دایاں رخسار بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ لیا میں جلد جلد مسجد سے نکل گیا لوگ آپس میں کہنے لگے کیا نماز میں قصر ہوگیا لوگوں میں حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے۔ مگر حضور ﷺ کے ڈر سے وہ کچھ بول نہ سکے ایک آدمی اور تھا جس کے ہاتھ کسی قدر لمبے تھے اس لئے اس کو ذوالیدین کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا نماز میں قصر ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہ مجھے نسیان ہوا ہے نہ نماز میں قصر ہوا ہے (میں نے پوری نماز پڑھا دی) پھر حضور ﷺ نے (لوگوں سے خطاب کر کے) فرمایا کیا ایسا ہی ہوا ہے جیسا ذوالیدین کہہ رہا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں فوراً حضور ﷺ : آگے بڑھ گئے اور جتنی نماز رہ گئی تھی پوری کی پھر سلام پھیر کر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کو چلے گئے اور معمولی سجدہ کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کو چلے گئے اور معمولی سجدہ کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر اللہ اکبر کہا پھر سلام پھیر دیا۔
ابن سیرین سے لوگ اکثر پوچھتے تھے تو ابن سیرین جواب دیتے تھے مجھے اطلاع ملی ہے کہ عمران بن حصین نے کہا تھا پھر سلام پھیر دیا (یعنی یہ آخری لفظ ابوہریرہ ؓ کی روایت میں نہیں ہے) رواہ الشیخان فی الصحیحین۔ حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ ایک روز عصر کی تین رکعت پڑھ کر حضور ﷺ اندر گھر میں تشریف لے گئے ایک شخص نے جس کا نام خرباق تھا اور اس کے ہاتھ کسی قدر لمبے تھے اٹھ کر حضور ﷺ : کو یاد دہانی کی۔ حضور ﷺ چادر کھینچتے ہوئے باہر تشریف لائے معلوم ہوتا تھا سخت غصہ کی حالت میں ہیں اور فرمایا کیا یہ سچ کہتا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فوراً ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔ رواہ مسلم۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ ﷺ نے جس وقت کلام کیا اس وقت آپ کو یقین تھا کہ نماز پوری ہوئی ہے اور آپ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور ذوالیدین کی بھی یہی حالت تھی (ان کو بھی یقین تھا کہ نماز پوری ہوگئی اور اسی حالت میں انہوں نے کلام کیا تھا) کیونکہ منسوخ ہوجانے کا (ان کی نظر میں) امکان تھا اس حدیث کی روایت پر حسب ذیل اعتراضات کئے گئے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ 7 ھ میں مسلمان ہوئے اور حضرت ذوالیدین کی شہادت بدر کی جنگ 2 ھ میں ہوئی پھر یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی۔ (2) حدیث کے الفاظ میں اختلاف ہے کسی میں دو رکعت کسی میں تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرنا مذکور ہے۔ (3) اس حدیث میں اس وقت کا واقعہ مذکور ہے جب نماز میں بولنا جائز تھا اسی لئے حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور دوسرے لوگوں نے قصداً کلام کیا۔
حدیث کے اوّل اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ائمہ حدیث کے نزدیک بالاتفاق یہ حدیث صحیح ہے حضرت ذوالشمالین کی شہادت جنگ بدر میں ہوئی تھی حضرت ذوالیدین تو رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی زندہ تھے۔ ذوالیدین کا نام حضرت عمران بن حصین کی روایت میں خرباق آیا ہے اور حضرت ذوالشمالین کا نام عمیر تھا درحقیقت یہ اعتراض زہری کی روایت میں پڑتا ہے جس میں آیا ہے کہ ذوالشمالین کھڑے ہوئے ابو داؤد سجستانی نے لکھا ہے کہ زہری کو نام میں دھوکہ ہوگیا انہوں نے خیال کرلیا کہ ذوالشمالین اور ذوالیدین دونوں ایک شخص کے نام تھے اس لئے روایت میں بجائے ذوالیدین کے انہوں نے ذوالشمالین کہہ دیا۔
دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرنے کی حدیث تو حضرت عمران ؓ بن حصین کی روایت سے آئی ہے جو مسلم کے راوی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ پھر اگر تعداد میں شک بھی ہو تب بھی کوئی ہرج نہیں۔ اہل حدیث کو حدیث تو محفوظ ہے اور بھول کر بات کرنے کا ثبوت موجود ہے۔ رہا کلام کا نماز میں حرام ہوجانا تو زید بن ارقم (جو مدنی تھے) کا قول ہے کہ ہم نماز میں بات کرلیا کرتے تھے یہاں تک کہ آیت (وقوموا اللّٰہ قائمین) نازل ہوئی (اور ہم کو خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ ابو سلیمان خطابی نے لکھا ہے کہ ہجرت سے کچھ مدت کے بعد ہی نماز میں کلام کرنے کی اجازت منسوخ کردی گئی۔ دونوں قولوں پر حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام سے پہلے یقیناً نماز کے اندر کلام کرنے کی ممانعت ہوگئی تھی باقی حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور دوسرے لوگوں کے کلام کرنے سے استدلال تو اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے۔
(1) حماد بن زید نے جو ایوب کی روایت بیان کی ہے اس میں آیا ہے کہ لوگوں نے اشارہ سے ہاں (کہنے) کا اظہار کیا تھا یعنی زبان سے ہاں نہیں کہا تھا لہٰذا جس روایت میں ہاں کہنے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد بھی اشارہ سے ہاں کا اظہار کرنا ہے۔
(2) رسول اللہ ﷺ کے سوال کا جواب دینا اس وقت تک منسوخ نہیں ہوا تھا کیونکہ حضرت ابو سعید ؓ بن معلی کا بیان ہے کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی۔ میں نے جواب نہیں دیا پھر (نماز ختم کرنے کے بعد) جب حاضر خدمت ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا اللہ نے نہیں فرما دیا ہے۔ (استجیبوا للّٰہ وللرسول اذا دعا کم) ۔ رواہ البخاری۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنے قول کے استدلال میں حضرت معاویہ ؓ بن حکم کی حدیث پیش کی ہے۔ حضرت معاویہ ؓ : کا بیان ہے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ مقتدیوں میں سے کسی کو چھینک آئی میں نے کہا یرحمک اللّٰہ لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے کہا ہائے ہائے تم کیوں مجھے گھور کر دیکھ رہے ہو لوگوں نے اپنے ہاتھ رانوں پر مارے۔ جب میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں چپ ہوگیا رسول اللہ ﷺ : نماز پڑھ چکے تو مجھے طلب کیا میرے ماں باپ حضور ﷺ نے پر قربان میں نے نہ آپ سے پہلے ایسا اچھی تعلیم دینے والا معلم دیکھا نہ حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ نے نہ میرے مکا مارا نہ برا کہا نہ ضرب رسید کی بلکہ فرمایا یہ نماز ہے اس میں لوگوں کی کسی طرح کی بات درست نہیں یہ تو صرب تسبیح تکبیر اور قرآن کی قرأت ہے۔ رواہ مسلم۔
حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کلام نماز کو توڑ دیتا ہے وضوء کو نہیں توڑتا۔ رواہ الدارقطنی۔
اوّل حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ تو امام اعظم ؓ کے قول کی تائید میں نہیں بلکہ خلاف جاری ہے اس حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاویہ ؓ کو نماز لوٹانے کا حکم دیا بلکہ ان کو نماز کے احکام کی تعلیم دی اور فرمایا بات کرنا درست نہیں نماز میں کلام ممنوع ہے۔ رہی دوسری حدیث تو اس میں ایک راوی ابو شیبہ ہے جس کا نام عبدالرحمن بن اسحاق ہے یحییٰ بن معین نے اس کو ضعیف کہا ہے اور امام احمد نے فرمایا ہے کہ اس کی روایت کچھ نہیں ہے یہ منکر الحدیث ہے اگر یہ منفرد ہو تو اس کی روایت سے استدلال صحیح نہیں ہے۔ ابن حبان کا بھی یہی بیان ہے۔ سعید بن جبیر عطاء اور مجاہد کا بیان ہے کہ آیت اذ قر القرآن کا نزول جمعہ کے خطبہ کے متعلق ہوا امام جمعہ کا خطبہ پڑھ رہا ہو تو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سیوطی نے اسی قول کو پسند کیا ہے ہم نے خطبہ کے دوران خاموش رہنے کا مسئلہ سورة جمعہ کی تفسیر میں بیان کردیا ہے۔
حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز نے فرمایا ہر واعظ کے وعظ کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ نماز میں جب لوگ جنت اور دوزخ کا تذکرہ سنتے تو چیخ پڑتے تھے۔ یعنی جنت کی دعا اور دوزخ سے پناہ مانگتے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز کے اندر امام کے پیچھے آواز سے قرأت نہ کرنے کی حکم اس آیت میں دیا گیا ہے بغوی نے بروایت زید بن اسلم ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (نماز کے اندر) لوگ اونچی آوازیں کرتے یعنی اونچی آواز سے قرأت کرتے تھے تو اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت مقداد نے لوگوں کو امام کے ساتھ (نماز پڑھتے وقت) قرأت کرتے سنا تو نماز ختم کرنے کے بعد فرمایا کیا ابھی تم کو اتنی سمجھ بھی نہیں ہوئی کہ جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حسن زہری اور نخعی کا قول بھی یہی ہے کہ اس آیت کا نزول امام کے پیچھے قرأت کرنے کے سلسلہ میں ہوا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ آیت کا نزول جمعہ کے خطبہ کے متعلق ہوا ان کے قول سے حسن و زہری کا قول زیادہ بہتر ہے کیونکہ آیت مکی ہے اور نماز جمعہ کا وجوب مدینہ میں ہوا تھا۔
بیہقی نے لکھا ہے کہ امام احمد نے فرمایا سب لوگوں کا اتفاق ہے کہ اس آیت کا نزول نماز کے متعلق ہوا۔ ہکذا قال ابن ہمام۔
بغوی نے مجاہد کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : نماز میں قرأت کر رہے تھے کہ ایک انصاری جو ان کو آپ قرأت کرتے سنا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ہم نے امام کے پیچھے قرأت کرنے کا مسئلہ سورة مزمل کی آیت فاقرء وا ما تیسر من القرآن کی تفسیر میں مفصل لکھ دیا ہے۔
ابن جریر نے زہری کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول ایک انصاری جوان کے حق میں ہوا رسول اللہ ﷺ جب قرأت کر رہے تھے تو وہ بھی اس کی قرأت کر رہا تھا میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد نماز سے باہر قرأت کرنا ہے۔ کیونکہ سعید بن منصور کا قول ہے کہ محمد بن کعب نے فرمایا لوگ رسول اللہ ﷺ سے سیکھتے تھے جب حضور ﷺ : کچھ پڑھتے تھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ پڑھتے تھے یہاں تک کہ سورة اعراف میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لباب النقول فی اسباب النزول کے مؤلف نے لکھا ہے اس روایت سے بظاہر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔
فصل
اگر کوئی شخص نماز سے باہر ہو اور نماز کے اندر یا نماز سے باہر کسی کو قرآن پڑھتے سنے تو کیا کان لگا کر سننا اور خاموش رہنا واجب ہے یہ اختلافی مسئلہ ہے علماء کا اس میں اختلاف ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ عام علماء کے نزدیک صورت مذکورہ میں قرآن کو کان لگا کر سننا مستحب ہے (واجب نہیں) ابن ہمام نے لکھا ہے ہمارے علماء کا کلام دلالت کر رہا ہے کہ اگر قرآن آواز سے پڑھا جا رہا ہو تو کوئی نماز کے اندر ہو یا نماز کے باہر بہرحال کان لگا کر سننا واجب ہے۔ خلاصہ میں لکھا ہے اگر کوئی شخص فقہ کی کوئی تحریر لکھ رہا ہو اور اس کے برابر کوئی شخص قرآن ایسی آواز سے پڑھ رہا ہو کہ لکھنے والے کو کان لگا کر سننا ممکن نہ ہو تو گناہ پڑھنے والے پر ہوگا اسی پر مبنی ہے یہ مسئلہ کہ اگر رات کے وقت چھت پر کوئی شخص چلا کر قرآن پڑھے جب کہ لوگ سو رہے ہوں تو گناہگار ہوگا اس میں کان لگا کر سننے کا وجوب صراحۃً مذکور ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سبب نزول خواہ خاص ہو مگر حکم اسی پر محدود نہ ہوگا الفاظ کے عموم کا اعتبار ہے۔
میں کہتا ہوں حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو بلند آواز سے قرآن اس طرح پڑھتے تھے کہ حجرہ سے باہر والے بھی سن لیتے تھے اور اکثر ہمسائے بھی سنتے تھے رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ام ہانی ؓ ۔
حضرت ام ہانی کا بیان ہے کہ میں اپنی چھت پر ہوتی تھی اور رسول اللہ ﷺ کے رات کو قرآن پڑھنے کی آواز سنتی تھی۔ اس حدیث میں لفظ عریش آیا ہے بغوی نے شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ عریش کا معنی ہے چھت ‘ مکہ کے گھروں کو عریش اس لئے کہتے تھے کہ وہ ٹانڈ کی طرح لکڑی کے ستونوں پر نصب کئے جاتے تھے (جن کے اوپر لوگ سوتے لیٹتے بیٹھتے تھے) اور ان کا سائبان ہوجاتا تھا۔ ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ گھر کے اندر رسول اللہ : ﷺ کی قرأت اس انداز پر ہوتی تھی کہ حجرہ سے باہر والے سن لیتے تھے اور حضور ﷺ کے گھروں کے اندر بیبیاں موجود ہوتی تھیں اور حضور ﷺ کے نماز میں مشغول ہونے کے وقت بعض بیبیاں سوتی بھی ہوتی تھیں۔ بخاری نے صحیح میں حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سوتی ہوتی تھی میرے دونوں پاؤں آپ ﷺ کے قبلہ کی طرف ہوتے تھے جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دبا دیتے میں ٹانگیں سمیٹ لیتی پھر جب آپ سجدہ سے کھڑے ہوجاتے تو میں ٹانگیں پھیلا لیتی اس وقت گھروں میں چراغ نہ ہوتے تھے۔ صحابہ ؓ رات دن بلند آواز سے قرآن پڑھا کرتے تھے اور کوئی مخالفت نہ کرتا تھا۔
مسلم نے حضرت ابو موسیٰ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا مجھے وہ منظر نظر آ رہا ہے کہ رات تم قرآن پڑھ رہے تھے اور میں تمہاری قرأت سن رہا تھا۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ ؓ کا بیان منقول ہے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے ہم سفر اشعری ؓ جب رات کو قرآن پڑھتے تھے تو دوران سفر میں میں ان کی آوازیں پہچان لیتا تھا اور آوازوں سے رات کو ان کی فردوگاہیں بھی پہچان لیتا تھا باوجودیکہ دن میں مجھے معلوم نہ ہوتا تھا کہ رات کو انہوں نے کہاں کہاں پڑاؤ کیا اور یہ حقیقت ہے کہ جب اشعری لوگوں قرآن پڑھتے ہوں گے تو کچھ لوگ لشکر میں سونے کی حالت میں بھی ہوں گے ابن ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نے مسجد میں کچھ لوگوں کے قرآن پڑھنے کی آوازیں سنیں اور فرمایا ان لوگوں کے لئے بشارت ہو یہ رسول اللہ ﷺ : کو بڑے پیارے تھے۔ یہ تمام احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ مصنف خلاصہ کا فتویٰ غلط ہے۔
ابن مردویہ نے ابو اسامہ از سفیان از ابی المقدام ہشام بن زید از معاویہ ؓ بن قرہ کی سند سے بیان کیا ہے کہ معاویہ ؓ نے کہا میں نے صحابہ کرام ؓ میں سے اپنے بعض مشائخ سے (غالباً معاویہ ؓ نے حضرت عبداللہ ؓ بن مغفل کا نام لیا تھا) دریافت کیا کہ جو شخص قرآن سنے کیا اس پر کان لگا کر سننا اور خاموش رہنا واجب ہے انہوں نے جواب دیا کہ آیت (واذا قرء القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا) امام کے پیچھے قرأت کرنے (کی ممانعت) کے لئے نازل ہوئی تھی۔
میں کہتا ہوں کہ اذ قرء القرآن میں القرآن میں الف لام عہد کے لئے ہے جنس کے لئے نہیں ہے اس سے مراد وہ قرآن ہے جو پڑھنے والا تمہارے سنانے کو پڑھ رہا ہو جیسے امام مقتدیوں کو سنانے کے لئے پڑھتا ہے یا خطیب اہل مجلس کو خطاب کرنے کے وقت پڑھتا ہے یا قاری شاگردوں کو سکھانے کے لئے پڑھتا ہے واللہ اعلم۔
فصل
اگر پڑھنے والا خود یا امام نماز میں قرأت کے اندر جنت اور دوزخ کا تذکرہ پڑھے تو (جنت میں داخل ہونے کی) دعا نہ مانگنا اور دوزخ میں داخل ہونے سے) پناہ نہ مانگنا واجب ہے دعا اور تعوذ جائز نہیں کلبی کا قول ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے ابن ہمام نے لکھا ہے کہ قرآن سننے کے وقت کان لگانے اور خاموش رہنے والے سے اللہ نے رحمت کا وعدہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا ہے (فاستمعوا انصتوا لعلکم ترحمون) اور اللہ کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا اور قرآن کی طرف سے غافل ہو کر دعا کرنا اور اس دعا کا قبول ہونا کوئی قطعی یقینی نہیں ہے۔
مسئلہمنفرد آدمی فرض نماز میں قرأت کو چھوڑ کر کسی دعا یا تعوذ میں مشغول نہ ہو ہاں نفل نماز میں اگر تلاوت کے وقت جنت یا دوزخ کا ذکر آئے تو جنت کے لئے دعا کرے اور دوزخ سے پناہ مانگے اور آیت پر غور کرے۔ حضرت حذیفہ ؓ کا بیان ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات کی (یعنی تہجد کی) نماز پڑھی جب حضور ﷺ : کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں جنت کا ذکر ہوتا تھا تو رک کر اللہ سے جنت کے لئے درخواست کرتے اور اگر ایسی آیت پڑھتے جس میں دوزخ کا ذکر ہوتا تو ٹھہر جاتے اور دوزخ سے محفوظ رہنے کے لئے دعا کرتے۔
Ayah 7:205واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجہر من القول بالغدو والاصال ولا تکن من الغفلین اور آپ ہر شخص سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ اپنے رب کی یاد کرو اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسب کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور غفلت کرنے والوں میں شامل نہ ہوجاؤ۔
واذکر ربک فی نفسکحضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ذکر سے مراد نماز کی قرأت ہے مطلب یہ ہے کہ سری نماز میں چپکے چپکے اپنے دل میں قرأت کیا کرو۔
ودون الجہر من القول۔ الجہر سے مراد ہے جہری نماز۔ دون الجہر سے مراد ہے۔ جہر سے کم اور سر سے زیادہ۔ مطلب یہ ہے کہ سری نماز میں جہر سے کم آواز سے قرأت کرو اور جہری میں کھلی آواز سے کرو مگر بالکل چیخ کر نہ پڑھو بلکہ سکون اور پست آواز ہی سے پڑھو کہ پیچھے والا سن لے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے۔ اس صورت میں ودون الجہرکا عطف فی نفسک پر ہوگا۔ میں کہتا ہوں یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ قرآن متوسط آواز سے نہ پڑھو نہ بالکل ہی چپکے چپکے نہ بالکل چلا کر۔ یہی مضمون دوسری آیت میں آیا ہے (وَلاَ تَجْہَزْ بِصَلٰوتِکَ وَلاَ تَخَافِتْ بِہَا وَاتْبِغَ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ) ۔ حضرت ابو قتادہ ؓ کی حدیث اس مفہوم کی مؤید ہے۔
حضرت ابو قتادہ ؓ : کا بیان ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ : کاشانۂ نبوت سے باہر تشریف لے آئے اور ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابوبکر ؓ بہت ہی پست آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں ‘ پھر حضرت عمر ؓ : کی طرف سے گزرے تو ملاحظہ فرمایا کہ وہ اونچی آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں۔ جب صبح کو دونوں حضرات خدمت گرامی میں جمع ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا میں تمہاری طرف سے گزرا تھا تم نہایت پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : جس سے میں دعا کر رہا تھا اس کو سنا رہا تھا۔ حضرت عمر ؓ سے فرمایا میں تمہاری طرف سے بھی گزر تھا تم اونچی آواز سے نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اونگھتے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ابوبکر ؓ : تم اپنی آواز کچھ اٹھاؤ اور عمر تم اپنی آواز کچھ نیچی کرو رواہ ابو داؤد۔ ترمذی نے ایسی ہی حدیث حضرت عبداللہ بن رباح انصاری کی روایت سے بیان کی ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کو چپکے چپکے بھی پڑھو اور آواز سے بھی ‘ مگر آواز زیادہ زور سے نہ ہو۔ یعنی کبھی اس طرح پڑھو اور کبھی اس طرح دونوں طرح پڑھو۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رات کو رسول اللہ ﷺ کی قرأت اس طرح ہوتی تھی کہ آپ ﷺ کبھی آواز کو اٹھاتے تھے۔ کبھی پست کر کے پڑھتے تھے حضرت عبداللہ ؓ بن ابی قیس کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ : کی قرأت کی کیفیت دریافت کی کہ آپ چپکے چپکے پڑھتے یا آواز سے۔ ام المؤمنین نے فرمایا ہر طرح قرأت کرتے تھے چپکے چپکے بھی پڑھتے تھے اور آواز سے بھی۔ میں نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہر کام میں گنجائش رکھی ہے۔ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔
فصل
رات کو نماز میں اور نماز سے باہر قرآن کس طرح پڑھا جائے علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک چپکے چپکے پڑھنا مکروہ ہے آواز سے پڑھنا ضروری ہے۔ حضرت ام ؓ ہانی اور حضرت ابن عباس ؓ کی مندرجۂ سابق حدیثیں اسی پر دلالت کرتی ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ گھر کے اند رسول اللہ ﷺ اتنی آواز سے پڑھتے تھے کہ حجرہ سے باہر قرأت سنائی دیتی تھی اور حضرت ام ہانی ؓ نے اپنی چھت پر حضور ﷺ : کی قرأت کی آواز سنی تھی۔
جمہور کے نزدیک پڑھنے والے کو اختیار ہے آواز سے پڑھے یا چپکے چپکے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کبھی آواز اٹھا کر پڑھتے تھے کبھی پست آواز سے۔ طحاوی نے لکھا ہے کہ حضرت ام ہانی اور حضرت ابن عباس ؓ کی حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ : کی آواز سے قرأت کرنے کا اظہار (ضرور) ہے مگر یہ روایات اس بات کے منافی نہیں کہ حضور کبھی پست آواز سے قرأت کرتے تھے۔
(یعنی ان روایات میں ہمیشہ اونچی آواز سے پڑھنے کا اظہار نہیں ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ظاہر کر رہی ہے کہ نمازی کو اختیار ہے چپکے چپکے پڑھے یا آواز سے جس طرح چاہے پڑھے مؤخر الذکر صورت افضل ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابو یوسف (رح) اسی کے قائل ہیں۔ جو لوگ نمازی کو اخفاء و جہر کا اختیار دیتے ہیں ان میں پھر دو گروہ ہیں ایک گروہ اخفاء کو افضل کہتا ہے کیونکہ حضرت عقبہ ؓ بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے آواز سے قرآن پڑھنے والا سب کے سامنے صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور چپکے چپکے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ چھپا کر خیرات کرنی علانیہ خیرات کرنے سے افضل ہے اللہ نے فرمایا : (ان تبتوا الصدقات فنعماہی وان تخفوہا وتؤنوہا الفقراء فہو خیر لکم) سلف کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔
اعمش کا بیان ہے میں ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک شخص داخلہ کا خواستگار ہوا آپ نے فوراً قرآن مجید کو الگ رکھ دیا اور فرمایا یہ شخص دیکھنے نہ پائے کہ میں ہر وقت قرآن پڑھتا ہوں۔ ابوالعالیہ کا بیان ہے میں صحابہ کرام ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص نے کہا رات میں نے اتنا قرآن پڑھا صحابہ نے فرمایا قرآن سے تیرا نصیب یہی تھا۔
کثیر علماء کے نزدیک آواز سے پڑھنا افضل ہے اس قول کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں آواز سے پڑھنے کا ذکر ہے اس مضمون کی چند احادیث پہلے نقل کی جا چکی ہیں۔
ان کے علاوہ ایک حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیحین میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے اللہ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنا خوش آواز نبی کی آواز کو توجہ سے سنتا ہے جو آواز سے قرآن کو اچھی لے سے پڑھ رہا ہو۔ سننے سے اشارہ ہے رضا مندہونے اور قبول کرنے کی طرف۔
صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کا بیان منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تجھے داؤد کے سروں میں سے ایک سر دیا گیا ہے۔
ابن ماجہ نے حضرت فضالہ ؓ بن عبید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس قدر گانے والی عورت کے گانے کی آواز توجہ سے اس کا آقا سنتا ہے اس سے زیادہ توجہ سے اللہ اس خوش آواز شخص کی قرأت سنتا ہے جو آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔
ابو داؤد اور نسائی وغیرہ نے حضرت براء ؓ بن عازب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی آوازوں سے قرآن کی سجاوٹ کرو (یعنی خوش آواز سے پڑھو کہ سننے والے کو قرآن مکروہ نہ معلوم دے حسین محسوس ہو) مختلف احادیث میں مطابقت پیدا کرنے اور تضاد کو دور کرنے کے لئے امام غزالی اور کچھ دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ اگر پڑھنے والے کو خود اپنے متعلق ریاکار ہوجانے کا اندیشہ ہو اور وہ ڈرتا ہو کہ آواز سے قرآن پڑھنا میرے اندر عجب و غرور پیدا کر دے گا تو چپکے چپکے پڑھنا افضل ہے اگر ریا کا اندیشہ نہ ہو تو آواز سے پڑھنا اولیٰ ہے جہر کے ساتھ پڑھنے سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے پڑھنے والے کے دل میں بیداری بھی پیدا ہوتی ہے خیالات کی پراگندگی بھی زائل ہوجاتی ہے کان بھی قرآن کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں نیند بھاگ جاتی ہے چستی بڑھ جاتی ہے سونے والے اور غافل آدمی بھی اس کے پڑھنے سے بیدار اور ہوشیار ہوجاتے ہیں۔ ان تمام مقاصد کے پیش نظر آواز سے پڑھنا افضل ہے اور ثواب چند گناہو جاتا ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآن میں دیکھ کر پڑھنا اولیٰ ہے۔
میں کہتا ہوں کوئی شک نہیں کہ آواز سے قرآن پڑھنے کی احادیث بکثرت آئی ہیں اور صحابہ ؓ وتابعین کے آثار و اقوال بھی اس سلسلہ میں بیشمار ہیں لیکن یہ حکم اسی شخص کے لئے ہے جس کو اپنے اوپر ریا کا شبہ نہ ہو۔ غرور و عجب پیدا ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو کسی کو تکلیف بھی نہ ہو کسی کی نماز میں خلل بھی نہ پڑتا ہو اگر اس قسم کا کوئی اندیشہ ہو تو آواز سے پڑھنا درست نہیں۔ اندیشہ نہ ہو تو جہر سے قرأت مستحب ہے اگر ایک جماعت سننے کے لئے جمع ہو تب تو آواز سے پڑھنا اور بھی افضل ہے۔ مگر بہت چیخ کر پڑھنا اور اپنے کو تکلیف و مشقت میں ڈال کر جہر کے ساتھ پڑھنا جائز کسی طرح نہیں اللہ نے فرمایا ہے ( ودون الجہر من القول) امام محمد نے مؤطا میں امام مالک کی روایت سے ابو سہیل کے باپ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نماز میں اتنی آواز سے قرأت کرتے تھے کہ میں ابو جہیم کے گھر کے پاس ان کی قرأت سن لیتا تھا اسی لئے امام محمد (رح) نے فرمایا کہ جہری نماز میں آواز سے قرآن پڑھنا چاہئے لیکن پڑھتے وقت (زور لگا کر) اپنے کو دکھ میں نہ ڈالنا چاہئے۔
ایک شبہ : اللہ کے ذکر اور دعاء میں جہر کرنا بدعت ہے چپکے چپکے ذکر اور دعا کرنا سنت ہے آیت (وادعوا ربکم تضرعاً و خفیفۃً ) کی تفسیر میں یہ مسئلہ آچکا ہے پھر قرأت اور ذکر میں کیا فرق ہے قرأت بھی ذکر ہی ہے۔
جواب : قرآن میں نصیحتیں بھی موجود ہیں۔ عبرت انگیز سبق آموز قصے بھی ہیں اور احکام بھی ہیں۔ اس کی عبارت معجز میٹھی اور دلکش بھی ہے یہ چیزیں ذکر سے زائد ہیں ذکر سے تو دل سے غفلت دور ہوجاتی ہے بجائے خود یہ عبادت ہے لیکن دوسرے کو سنانا اور اس میں بیداری پیدا کرنا مزید عبادت ہے دعا کی غرض صرف قبولیت ہے اور ذکر کا مقصد ازالۂ غفلت اور اتنا انہماک ہے کہ خود ذاکر کو اپنا بھی ہوش نہ رہے وہ اپنے کو بھول جائے اور بصیرت کے اندر خدا ہی خدا رہ جائے قرأت میں یہ بات نہیں ہے۔
فائدہشعبہ کا بیان ہے مجھے ابو عبیدہ ؓ نے حدیث زَیِّنُوا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْبیان کرنے سے منع کردیا تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا ممانعت کی وجہ ہمارے خیال میں یہ ہوگی کہ اس حدیث کو سن کر لوگوں کو ان نو خیز بدعتی لہجوں کا جواز لگ جائے گا جو لوگوں نے ایجاد کر رکھے ہیں۔ اس کے بعد ابو عبیدہ نے قرآن کو خوش آوازی سے پڑھنے کے سلسلہ کی بکثرت احادیث نقل کیں اور فرمایا ان تمام احادیث کا مقصد یہ ہے کہ غم انگیز خوف آفریں اور شوق افزا طریق ادا اختیار کیا جائے۔ یہ تفریحی لہو آگیں لہجے اور لَے مراد نہیں ہیں۔ ابو عبیدہ نے اپنے اس قول کے ثبوت میں مرفوع اور غیر مرفوع متعدد احادیث بیان کیں جن میں اسی مفہوم کی تشریح تھی مثلاً طاؤس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا سب سے زیادہ اچھی آواز سے قرآن پڑھنے والا یا سب سے اچھی قرأت کرنے والا کون ہے فرمایا (سب سے اچھا پڑھنے والا) وہ شخص ہے کہ جب تم اس کی قرأت سنو تو سمجھ لو کہ یہ اللہ سے ڈر رہا ہے (یعنی اس پر اس وقت خشیت کی کیفیت طاری ہے)
دارمی نے طاؤس کا قول مرسلاً بیان کیا ہے کہ قرآن پڑھنے میں سب سے زیادہ خوش آواز وہ شخص ہے جو (پڑھتے وقت) سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہو۔
حضرت حذیفہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عرب کی لَے اور آوازوں میں قرآن پڑھو۔ اہل عشق کی لَے اور ان دونوں کتابوں والوں کے ترانوں سے پرہیز رکھو آئندہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گانے کی گٹکری سے اور نوحہ کے طرز سے قرآن پڑھیں گے۔ مگر قرآن ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا ‘ ان کے اور ان کی کیفیت کو پسند کرنے والوں کے دل فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان ورزین فی کتابہ۔
مجاہد (رح) نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ دلوں کے اندر ذکر کریں یعنی دعا میں عاجزی اور تضرع کریں آوازیں نہ اٹھائیں چیخ پکار نہ مچائیں چپکے چپکے دعا کرنے سے خلوص قلبی میں اضافہ ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں اس تفسیر پر ودون الجہر من القول کافی نفسک پر عطف تفسیری ہوگی (جو مطلب فی نفسککا ہوگا یہی مطلب دون الجہرکا) ذکر خفی و جہری کا مسئلہ آیت ادعوا ربکم تضرعاً و خفیفۃً کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ یا یہ مقتدی کو حکم ہے کہ جب امام قرأت سے فارغ ہوجائے تو مقتدی چپکے چپکے پڑھ لے جس طرح امام شافعی (رح) : کا قول ہے مگر بیضاوی کا یہ قول غلط ہے کیونکہ آیت میں رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہے آپ ﷺ امام تھے مقتدی نہ تھے اور اگر مقتدیوں کو خطاب ہوتا تو جمع کا صیغہ استعمال کرلیا جاتا جیسے فستمعوالہ انصتوا لعلکم ترحمون میں ہے۔ پھر یہ بھی ایک بات ہے کہ قرأت جہری ہو یا سری کان لگا کر سننے اور خاموش رہنے کے تو بہرحال منافی ہے اور امام کی فراغت کے بعد مقتدی کا پڑھنا آیت سے مستفاد نہیں ہے لہٰذا آیت فاستعموا اور آیت دون الجہر میں تضاد لازم آئے گا (دونوں پر عمل ایک وقت میں نہیں ہوسکتا) اس کے علاوہ امام قرأت سے فارغ ہو کر رکوع کو چلا جائے گا اتناموقع ہی کہاں ہوسکتا ہے کہ مقتدی بھی قرأت کرلے اور امام کے رکوع کی حالت میں مقتدی کا قرأت کرنا باجماع علماء درست نہیں ہے اور اگر امام مقتدی کی قرأت کے انتظار میں کھڑا رہے گا تو امام نہ رہے گا مقتدی کا تابع ہوجائے گا۔
بالغدوغدو مصدر ہے تڑکے میں داخل ہوجانا۔ غدا یغدوا اس کا فعل آتا ہے یہاں مراد ہے دن کا ابتدائی وقت۔ قاموس میں ہے الغدوۃ بالضم تڑکا یا دن کی پو پھٹنے سے طلوع آفتاب تک کا وقت۔
وَالاصال یعنی دن کا آخری وقت۔ یہ اصل کی جمع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اصیل کا وقت عصر سے مغرب تک ہوتا ہے ان دونوں وقتوں کو فضیلت حاصل ہے اس لئے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا ورنہ مراد ہے دوام ذکر ہر وقت اللہ کا ذکر کرنا۔ آیت ولا تکن من الغفلین دوام ذکر پر ہی دلالت کر رہی ہے۔
وَلا تکن من الغفلین یعنی کسی وقت اللہ سے غافل نہ ہو۔ میں کہتا ہوں آیت واذکر ربک فی نفسک کے بعد بالغدو والاصال ولا تکن من الغفلین فرمانا اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ذکر سے مراد عام مفہوم ہے خواہ قرأت قرآن ہو یا کوئی اور ذکر۔ مقصد یہ ہے کہ غفلت دور ہوجائے جس طرح بھی ممکن ہو۔
Ayah 7:206ان الذین عند ربک لا یستکبرون عن عبادتہ ویسبحونہ ولہ یسجدون : بیشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں (یعنی مقرب ہیں) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ ۔ اَلَّذِیْنَسے ماد ہیں ملائکہ انبیاء اور نیک بندے۔ اللہ کا قرب جسمانی طور پر محال ہے۔ اللہ جسم نہیں ہے اس کے پاس ہونے اور مقرب ہونے کے معنی ہیں معزز ‘ مکرم ہونا۔ لا یستکبرون عن عبادتہ اللہ کی عبادت سے اپنے کو بڑا نہیں سمجھتے غرور نہیں کرتے بلکہ عبادت کی وجہ سے بڑے بنتے ہیں۔ ویسبحونہ اور نازیبا غیر مناسب صفات سے اس کو پاک سمجھتے ہیں اور پاک قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں سبحان ربی الاعلٰی۔ ولہ یسجدون اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں اسی کی عبادت کرتے ہیں کسی دوسرے کو سجدہ میں شریک نہیں کرتے۔
معدان بن طلحہ کا بیان ہے میں حضرت ثوبان ؓ سے ملا جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ تھے اور عرض کیا مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ جس کی وجہ سے میں جنت میں پہنچ جاؤں آپ خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ درخواست کی آپ پھر بھی خاموش رہے میں نے تیسری بار سوال کیا تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا حضور ﷺ نے فرمایا تھا اللہ کو بکثرت سجدہ کرنے کا التزام کرو تم جو سجدہ بھی اللہ کو کرو گے اللہ اس سے تمہارا ایک درجہ اونچا کر دے گا اور ایک گناہ ساقط کر دے گا۔ معدان کا بیان ہے پھر میں حضرت ابو درداء ؓ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا جو حضرت ثوبان ؓ نے فرمایا تھا۔ رواہ مسلم۔ دوسری روایت میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے جو بندہ بھی اللہ کو کوئی سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس سجدہ کے سبب سے ضرور اس کا ایک درجہ اونچا کرتا اور ایک گناہ گراتا ہے۔ رواہ احمد وا لترمذی والنسائی وابن حبان والبغوی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہٰذا (سجدہ کی حالت میں) زیادہ دعا کیا کرو۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ابن آدم سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا الگ ہوجاتا ہے اور کہتا ہے ہائے ابن آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور اس کے لئے جنت ہوگئی اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے سجدہ سے انکار کردیا میرے لئے دوزخ ہوگئی۔ رواہ مسلم۔
حضرت ربیعہ ؓ : بن کعب ؓ : کا بیان ہے میں رات کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ حضور ﷺ کے لئے وضو کا پانی اور دوسری ضروریات کی چیزیں فراہم کردیتا تھا (ایک روز) حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا مانگ (کیا مانگتا ہے) میں نے عرض کیا میں حضور ﷺ : کی رفاقت جنت میں چاہتا ہوں فرمایا اس کے لئے کچھ سوال کرو ‘ میں نے عرض کیا میرا سوال تو یہی ہے فرمایا تو سجود کی کثرت سے اپنے لئے میری مدد کرو (یعنی سجودہ کی کثرت کرو تاکہ جنت میں میں تم کو اپنے ساتھ رکھ سکوں) رواہ مسلم۔
ہم نے سجدۂ تلاوت کے مسائل سورة انشقت کی تفسیر میں بیان
کر دیئے ہیں واللہ اعلم۔ 16 محرم 1200 کو سورة اعراف ختم ہوئی اور
3 رمضان 1384 ھ کو فجر کے وقت بحمداللہ ترجمہ کی تکمیل ہوئی۔