7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے۔ یعنی اس کا ذکر کرو ‘ اس کی عبادت کرو ‘ اس سے دعا کرو۔ تَضَرُّعًامصدر بمعنی اسم فاعل ہے اس کا مجرد ضَرْعٌہے۔ ضَرَعَ الرَّجَلَ ضَرَاعۃَوًہ آدمی کمزور اور عاجز ہوگیا۔ ضَارِعٌاور ضرِعٌ کمزور عاجز تَفْرَعَاس نے کمزوری اور عاجزی ظاہر کی (زاری کی گڑگڑایا) قاموس میں ضَرَعِ اِلَیْہِ ضّرَعًا وَضَّرَاعَۃً اس کے سامنے خضوع کیا عاجزی کی اور مسکنت کا اظہار کیا۔ خُفْیَۃً پوشیدہ عبادت اور دعا خلوص کی دلیل ہے اور ریاکاری کے شائبہ سے پاک ہے اس لئے خفیہ دعا کا حکم دیا۔ اگر ذکر سری ہو یا جہری ہو مگر ریاکاری کی اس میں آمیزش نہ ہو تو عبادت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے بندہ کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اگر وہ میری یاد دل میں کرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر اپنے باطن میں کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر جماعت میں کرتا ہے تو میں اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے برتر ہوتی ہے (یعنی ملائکہ کی جماعت) متفق علیہ۔ اس حدیث سے ذکر جہری و خفی دونوں کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس حدیث سے جہری ذکر کی سری ذکر سے برتری ثابت ہوتی ہے مگر یہ استدلال غلط ہے۔ اللہ کسی کا ذکر سری کرلے یا جماعت کے سامنے دونوں برابر ہیں بلکہ ذکر سری کو جہری پر فضیلت حاصل ہے ایک اور آیت ہے اللہ نے فرمایا ہے : (فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکِرْکُمْ اَبَآءَ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا) اس میں بھی جہری ذکر مراد نہیں ہے ‘ بلکہ کثرت ذکر کا حکم ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ سری ذکر افضل ہے اور جہری ذکر بدعت ہے ہاں چند مقامات میں جہری ذکر کی ضرورت ہے جیسے اذان ‘ اقامت ‘ تکبیرات ‘ تشریق ‘ امام کے لئے نماز میں تکبیرات انتقال (نیز تکبیر تحریمہ) اگر نماز کے اندر کوئی حادثہ ہوجائے تو مقتدی کا سبحان اللہ کہنا ‘ حج میں لبیک کہنا وغیرہ۔ ہدایہ کے حواشی میں ابن ہمام نے لکھا ہے کہ تکبیرات تشریق (کی حد بندی) میں امام ابوحنیفہ (رح) نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مسلک کو اختیار کیا ہے آپ عرفہ کے دن (یعنی نو ذی الحجہ) کی فجر سے یوم نحر کی نماز عصر تک تکبیر کہتے تھے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ ؓ اور صاحبین (رح) نے حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) کے مسلک کو اختیار کیا ہے آپ یوم عرفہ کی فجر کے بعد سے آخری ایام تشریق کی نماز عصر تک تکبیر کہتے تھے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔ وکذا روی محمد بن الحسن عن ابی حنیفۃ بسندہ۔ اس کے بعد ابن ہمام نے لکھا ہے جو شخص صاحبین کے قول پر فتویٰ دیتا ہے وہ تقاضاء ترجیح کے خلاف کرتا ہے کیونکہ امام اور صاحبین کا اختلاف محض تکبیر کہنے میں نہیں ہے بلکہ بلند آواز سے یعنی جہری تکبیر کہنے میں بھی ہے (صاحبین جہر کے اور امام صاحب سر کے قائل ہیں) اور ذکر میں اصل اخفاء ہے جہر سے ذکر کرنا بدعت ہے اور جب جہر اور اخفاء میں تعارض پڑجائے (دونوں کا روایتی ثبوت ملتا ہو) تو اخفاء قابل ترجیح ہے (لہٰذا صاحبین کے قول پر فتویٰ تقاضاء ترجیح کے خلاف ہے) سری ذکر افضل ہے صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کا اسی پر اتفاق رہا ہے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ سری دعا اور جہری دعا میں ستر ہزار درجہ کا فرق ہے۔ مسلمان بہت لگن سے دعائیں کرتے تھے مگر ان کی آواز قطعاً سنائی نہیں دیتی تھی صرف لبوں کی سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ادعوا ربکم تضرعًا وخفیۃ) اور عبد صالح کے تذکرہ میں فرمایا ہے اذ نادی ربہ نداءً خفیاحضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو بقدر کفایت ہو۔ رواہ احمد و ابن حبان فی صحیحہ والبیہقی فی شعب الایمان۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر جہاد کیا تو راستہ میں مسلمان ایک وادی سے گزرے اور انہوں نے چلا کر تکبیریں کہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے لئے سکون اختیار کرو۔ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا ہے اور قریب ہے۔ راوہ البغوی۔ میں کہتا ہوں اس حدیث سے اگرچہ ذکر خفی کی افضیلت ثابت ہوتی ہے مگر اپنے لئے سکون اختیار کرو کا لفظ بتارہا ہے کہ ذکر خفی کا حکم اور ذکر جہری کی ممانعت صرف تقاضائے شفقت کے زیر اثر تھی یہ وجہ نہ تھی کہ ذکر جہری جائز ہی نہ ہو۔ فصل ذکر کی تین اقسام ہیں (1) بلند آواز سے چیخ کر۔ یہ عام صورتوں میں باجماع علماء مکروہ ہے ہاں خاص صورتوں میں اگر مصلحت و دانش کا تقاضا ہو تو درست (بلکہ ضروری) ہے اور اخفاء سے افضل ہے۔ جیسے اذان کہنی اور حج میں لبیک پڑھنی ‘ شاید چشتی صوفیہ نے مبتدی کو جہری ذکر کی تلقین مصلحت ہی کے تحت کی ہے شیطان کو بھگانا ‘ غفلت دور کرنا ‘ نسیان کو زائل کرنا ‘ دل میں گرمی پیدا کرنا ‘ آتش محبت کو ریاضت کے ذریعہ سے تیز کرنا اور دوسرے فوائد اس سے وابستہ ہیں لیکن ریاکاری اور شہرت طلبی سے اجتناب ضروری ہے۔ (2) زبان سے چپکے چپکے ذکر کرنا ‘ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے ‘ ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تیری زبان ترو تازہ رہے۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ اس حدیث میں یہی مراد ہے۔ امام احمد اور ترمذی کی روایت ہے کہ عرض کیا گیا سب سے بڑھیا عمل کون سا ہے فرمایا (سب سے افضل عمل) یہ ہے کہ دنیا کو چھوڑتے وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تروتازہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے راستوں میں گھومتے اور اہل ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں اگر کچھ لوگوں کو ذکر خدا میں مشغول پاتے ہیں تو باہم ایک دوسرے کو پکارتا ہے ادھر آؤ مقصد مل گیا چناچہ سب آکر اہل ذکر کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں اور دنیوی آسمان تک یونہی سلسلہ جوڑ لیتے ہیں ان کا رب ان سے پوچھتا ہے باوجودیکہ وہ خود ان سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ میرے بندے کیا کہہ رہے تھے فرشتے عرض کرتے وہ تیری پاکی تیری بڑائی تیری حمد اور تیری بزرگی بیان کر رہے تھے (یعنی سبحان اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ الحمد للہ اور المجد للہ کہہ رہے تھے) اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں بخدا انہوں نے جھے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے پھر اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کی کیا حالت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ پاتے تو تیری عبادت اور قوت سے کرتے تیری بزرگی بہت زیادہ بیان کرتے اور تیری پاکی کا اظہار اور کثرت سے کرتے اللہ فرماتا ہے وہ کیا مانگتے تھے فرشتے عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے جنت کے خواستگار تھے اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں پروردگار انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا اللہ فرماتا ہے پھر اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا حالت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ جنت کو دیکھ پاتے تو ان کو جنت کی حرص ‘ رغبت اور طلب اور زیادہ ہوجاتی اللہ فرماتا ہے وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے فرشتے عرض کرتے ہیں دوزخ سے۔ اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے دوزخ کو دیکھا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں پروردگار بخدا انہوں نے دوزخ کو نہیں دیکھا اللہ فرماتا ہے پھر اگر وہ دیکھ پاتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی فرشتے عرض کرتے ہیں اگر دیکھ پاتے تو دوزخ سے فرار و خوف ان کا اور زیادہ ہوجاتا۔ اللہ فرماتا ہے تم گواہ رہو کہ میں نے ان کو بخش دیا۔ جماعت ملائکہ میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے۔ اہل ذکر میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو ذکر میں شریک نہ تھا اپنے کسی کام سے آیا تھا اللہ فرماتا ہے وہ سب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدنصیب نہیں ہوسکتا۔ رواہ البخاری۔ مسلم نے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ (3) بغیر زبان کے صرف قلبی اور روحی اور نفسی ذکر کرنا۔ یہی ذکر خفی ہے جس کو اعمالنامے لکھنے والے فرشتے بھی نہیں سن پاتے۔ ابو یعلی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ ذکر خفی جس کو اعمالناموں کے لکھنے والے فرشتے بھی نہیں سن پاتے وہ ذکر جلی سے ستر ہزار درجے فضیلت رکھتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ حساب کے لئے سب لوگوں کو جمع کرے گا اور فرشتے اعمال نامے اور تمسکات لے کر حاضر ہوں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا دیکھو (اس بندہ کی) کوئی چیز رہ تو نہیں گئی فرشتے عرض کریں گے ہم کو جو کچھ معلوم ہوا اور ہماری نگرانی میں جو کچھ ہوا ہم نے سب کا احاطہ کرلیا اور لکھ لیا کوئی بات نہیں چھوڑی اللہ فرماتا ہے اس کی ایک نیکی ایسی بھی ہے جس کا تم کو علم نہیں میں تم کو بتاتا ہوں وہ نیکی ذکر خفی ہے۔ میں کہتا ہوں اس ذکر کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا نہ اس میں کوئی سستی آتی ہے (یعنی ذکر قلبی ہمہ اوقات جاری رہ سکتا ہے) انہ لا یحب المعتدین اللہ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو (دعا میں) حد (ادب سے) نکل جاتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک معتدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایسی بیکار دعائیں کرتے ہیں جن کا ہونا نہ عقل میں آتا ہے نہ ضابطۂ قدرت میں جیسے منازل انبیاء کی طلب آسمان پر پہنچ جانے کی دعا مرنے سے پہلے جنت میں پہنچ جانے کا سوال۔ بغوی نے اپنی سند سے ابو داؤد و سجستانی کے سلسلہ سے حسب روایت ابو نعامہ بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یوں دعا مانگتے سنا اے اللہ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کے دائیں جانب سفید محل عطا فرمانا حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا بیٹے اللہ سے جنت کی دعا کر اور دوزخ سے اس کی پناہ طلب کر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے اس امت میں آئندہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت اور دعا حد (سنت) سے آگے بڑھ جائیں گے۔ کذا روی ابن ماجۃ و ابن حبان فی صحیحہ۔ ابو یعلی نے مسند میں حضرت سعد ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعا میں حدود (سنت) سے تجاوز کریں گے آدمی کے لئے اتنا کہنا کافی ہے اے اللہ میں تجھ سے جنت کا اور اس قول و عمل کا جو جنت سے قریب کر دے خواستگار ہوں اور دوزخ سے اور دوزخ کے قریب لے جانے والے قول و عمل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ابو یعلی نے کہا آدمی کے لئے اتنا کہنا کافی ہے۔ آخر کلام تک۔ معلوم نہیں یہ حضرت سعد کا قول ہے یا فرمان نبوی کا حصہ ہے۔ عطیہ نے کہا المعتدین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ناجائز طور پر مسلمان کے لئے بددعا کرتے ہیں۔ (مثلاً یوں کہتے ہیں اے اللہ ان پر لعنت بھیج۔ ایسی بددعائیں کرنے میں سب سے آگے رافضی ہیں جو صحابۂ کرام اور بعض اہل بیت پر لعنت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا اعتدائ سے مراد ہے چیخ چیخ کر دعا کرنا جس کی ممانعت اس فرمان رسول ﷺ میں آئی جو حضرت ابو موسیٰ ؓ کی روایت سے منقول ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اپنے اوپر نرمی اختیار کرو تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو۔ نہ کسی غیر حاضر کو۔ میں کہتا ہوں اعتدائ سے مراد ہے حد شریعت سے تجاوز کرنا اس کے اندر تمام مذکورۂ بالا صورتیں بھی آجاتی ہیں اور ایسی دعا کرنا بھی اس میں شامل ہے جس میں کوئی گناہ یا قطع رحم ہو رہا ہو اور یہ الفاظ بھی اعتداء ہی کے ذیل میں آتے ہیں۔ میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہ ہوئی۔ میں دعا کر رہا ہوں اور میری دعا ضرور قبول ہوگی۔ یا اللہ سے ایسے نام لے کر کرے جو شریعت (قرآن و حدیث) میں مذکور نہیں ہیں (مثلاً بھگوان ‘ پر ماتما ‘ ایشور وغیرہ) ۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے

ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا اور دنیا میں درستی کردینے کے بعد فساد (بگاڑ) نہ پیدا کرو۔ یعنی جب اللہ نے پیغمبروں کو بھیج دیا ‘ شریعت واضح کردی اللہ کی اطاعت کی دعوت دے دی اور احاد میں حدود سے تجاوز کرنے کی ممانعت کردی اور اس طرح زمین کی اصلاح کردی تو اس کے بعد کفر معصیت بغاوت اور غیر اللہ کی اطاعت کی دعوت دے کر اس میں بگاڑ نہ پید اکرو۔ بغوی نے حسن ضحاک ‘ سدی اور کلبی کے قول کے یہی معنی بیان کئے ہیں۔ عطیہ نے آیت کے مطلب کی توضیح اس طرح کی کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو ورنہ اللہ بارش روک لے گا اور تمہارے گناہوں کے سبب کھیتی کو تباہ کر دے گا (اور اس طرح زمین میں بگاڑ پیدا ہوجائے گا) اس توضیح پر بعد اصلاحہا کا مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ نے بارش اور سبزی سے زمین کی درستی کردی تو اس کے بعد اس کی تباہی نہ کرو۔ وادعوہ خوفا و طمعا ان رحمت اللہ قریب من المحسنین اور بیم وامید کی حالت میں اللہ کی عبادت کرو بیشک اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں سے قریب ہے۔ اس آیت میں امید کی بیم پر ترجیح کا اظہار ہے اور ذریعۂ اجابت دعا (یعنی حسن عمل) پر تنبیہ ہے اور اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ کریم و رحیم مالک کی طرف سے دعا کو رد کردینا محض تمہاری بداعمالی کی نحوست اور نیکوکاری کو ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے (ورنہ وہ رحیم اور داتا ہے کسی کی دعا رد نہیں کرتا) رسول اللہ ﷺ نے ایک بار کسی شخص کا (بطور تمثیل) ذکر فرمایا کہ طویل سفر کرتا ہے پراگندہ مو اور غبار آلود چہرہ والا ہے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے اے میرے رب اے میرے رب مگر اس کا کھانا حرام ہے اور اس کا پینا حرام کا ہے اس کا لباس حرام کا ہے اس کی پرورش ہی حرام سے ہے ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ رواہ مسلم والترمذی من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔ مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ کی دعا برابر قبول ہوتی ہے بشرطیکہ وہ گناہ کی اور قطع رحم کی دعا نہ کرے اور دعا میں جلد بازی سے بھی کام نہ لے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ جلد بازی سے کیا مراد ہے فرمایا (مثلاً ) کہنے لگے میرے خیال میں دعا قبول نہیں ہوگی یہ خیال کر کے تھک کر دعا کرنی چھوڑ دے۔ امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دل ظروف ہیں بعض بعض سے زیادہ سمائی والے ہیں لوگو ! اللہ سے دعا کرتے وقت یقین رکھا کرو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی اللہ اس بندہ کی دعا قبول نہیں کرتا جو بےتوجہ دل سطحی طور پر کرتا ہے ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ ایک شبہ اور اس کا ازالہ : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبول دعا کا یقین رکھتے ہوئے دعا کی جائے لیکن المعتدین کی تفسیر میں بیان کیا گیا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میری دعا قبول ہوجائے گی۔ یہ ایک شبہ کیا جاسکتا ہے جس کا ازالہ یہ ہے کہ قبول دعا کا یقین رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ کریم ہے سخی ہے بخل نہیں کرسکتا لیکن دعا کے قبول نہ ہونے کا سبب انسان کی معصیت اور خطاکاری ہے گویا اللہ کی رحمت وجود پر نظر رکھتے ہوئے تو دعا قبول ہونے کا یقین رکھا جائے اور اپنے اعمال کی نحوست کو دیکھتے ہوئے دعا کے رد ہونے کا اندیشہ دل گیر رہے۔ قریب کو بصیغۂ مذکر لانے کی وجہ یا یہ ہے کہ رحمت بمعنی رحم ہے یا موصوف مذکر محذوف ہے یعنی امر قریب۔ یا یوں کہا جائے کہ فعیل (صیغۂ صفت) فعیل مصدری کے (وزن میں) مشابہ ہے جیسے نقیض (اور فعیل) مصدری مذکر بھی ہے اور مؤنث بھی یا یہ کہا جائے کہ قربت نسبی سے جو لفظ قریب آتا ہے وہ مذکر ہے اور قرب مسافت سے جو لفظ قریب بنتا ہے وہ مذکر بھی ہے اور مؤنث بھی (اور یہاں قرب مکانی ہی مراد ہے) ابو عمرو بن العلاء نے کہا اگر قرابت نسب مقصود ہو تو عورت کے لئے قریبۃ کہا جاتا ہے اور قرب مسافت مراد ہو تو عورت کے لئے بھی قریب بولا جاتا ہے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو

وہو الذی یرسل الرسح بشرا بین یدی رحمتہ اور وہ اللہ ایسا ہے کہ باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے کے لئے ہواؤں کو بھیج دیتا ہے۔ بُشْراً یہ لفظ بُشُراً کا مخفف ہے اور بُشُراً بشیر کی جمع ہے۔ رحمت سے مراد بارش۔ باد مشرق (پُروا ہوا) ابر کو اٹھا کر لاتی ہے باد شمالی اب کو جمع کرتی ہے۔ باد جنوبی اب کو چکر دیتی ہے اور باد مغرب (پچھوا ہوا) بادل کو منتشہ کردیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ہوا ‘ اللہ کی بھیجی ہوئی راحت ہے یہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی (اس کو برا نہ کہو اور اللہ سے اس کی خیر کی طلب کرو اور اس کی خرابی سے اللہ کی پناہ کے خواستگار رہو۔ رواہ البخاری فی الادب و ابوداؤد والحاکم و رواہ البغوی من طریق الشافعی وعبدالرزاق۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حتی اذا اقلت سحابا ثقالا سقنہ لبلد میت فانزلنا بہ المآء فاخرجنا بہ من کل الثمرات : یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو کسی خشک سرزمین کی طرف ہم ان کو ہانک لے جاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اَقَلَّتہوائیں اٹھا کر لاتی ہیں یہ لفظ قلت سے ماخوذ ہے کسی چیز کو اٹھانے والا اس کو قلیل (اور آسان و حقیر) سمجھتا ہی ہے ثقالاً پانی کی وجہ سے بوجھل۔ یہ لفظ ثقیل کی جمع ہے چونکہ سحاب سحائب کے معنی میں ہے اس لئے ثقالاً بصیغۂ جمع ذکر کیا۔ سقناہ چونکہ لفظ سحاب مفرد ہے اس لئے واحد مذکر کی ضمیر ذکر کی۔ لبلدٍسرزمین کے لئے یا اس کو سر سبز کرنے کے لئے یا سیراب کرنے کے لئے۔ بعض کے نزدیک لبلدٍمیں لام بمعنی الیٰ ہے یعنی خشک زمین کی طرف۔ میتوہ زمین جس میں سبزی نہ ہو۔ فانزلنا بہ یعنی بالبلد اس وقت با سببیت کے لئے ہوگی۔ یا بہٖکی ضمیر سحاب یا روانگی سحاب یا ریح کیطرف راجع ہے اس وقت باء الصاق کی ہوگی یعنی بادل یا ہوا کے ساتھ ہم نے پانی اتارا۔ فاخرجنا بہیہ ضمیر اگر بلد کی طرف راجع قرار دی جائے تو باء ظرفیت کے لئے ہوگی یعنی خشک زمین میں اور اگر سحاب یا ریح یا روانگی سحاب کی طرف راجع ہو تو باء سببیت کے لئے ہوگی۔ کذلک نخرج الموتی لعلکم تذکرون یوں ہی ہم مردوں کو نکال کر کھڑا کردیں گے (یہ بیان اس لئے کیا) تاکہ تم سمجھو۔ کذلک یعنی پھلوں کو پیدا کرنے یا خشک زمین کو سرسبز بنانے کی طرح۔ نخرج الموتیٰیعنی قبروں سے مردوں کو نکالیں گے۔ تذکَّرُوْنَتاکہ تم سمجھو اور اس امر پر استدلال کرو کہ اللہ کو جب اس کائنات کو پیدا کرنے کی قدرت ہے تو آخرت میں دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت بھی ہونی چاہئے۔ (ثانوی تخلیق اول تخلیق سے مشکل نہیں) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب سب لوگ اول صور پھونکنے سے مرجائیں گے تو اللہ زیرین عرش سے پانی برسائے گا جس کا نام آب حیات ہوگا۔ جیسے مردوں کی منی۔ اس بارش سے لوگ قبروں کے اندر کھیتی کی طرح اگیں گے جب اجسام کی تکمیل ہوجائے گی تو ان کے اندر روح پھونک دے گا پھر ان پر ایک نیند طاری کردی جائے گی جس کی وجہ سے وہ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت سروں اور آنکھوں میں ان کو نیند کا اثر محسوس ہو رہا ہوگا اور کہیں گے ہائے افسوس ہم کو خواب گاہ سے (یا خواب سے) کس نے اٹھا دیا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دونوں مرتبہ صور پھونکنے کی درمیانی مدت چالیس ہوگی لوگوں نے پوچھا ابوہریرہ ؓ کیا چالیس دن کی مدت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مجھے اس سے انکار ہے لوگوں نے کہا تو کیا چالیس مہینے کی فرمایا مجھے اس سے بھی انکار ہے لوگوں نے کہا تو کیا چالیس سال کی۔ فرمایا میں یہ بھی نہیں کہتا (یعنی رسول اللہ ﷺ نے چالیس کا لفظ فرمایا دن مہینہ یا برس کی صراحت نہیں فرمائی) پھر اللہ آسمان سے پانی برسائے گا جس سے انسان سبزی کی طرح اگیں گے انسان کی ہر چیز فنا ہوجاتی ہے صرف ایک ہڈی رہ جاتی ہے دم گزے کی ہڈی اسی سے قیامت کے دن تمام (اعضاء اور اجزاء) جوڑے جائیں گے۔ ابن ابی داؤد نے بھی البعث میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ انس ؓ کی روایت میں اتنی صراحت ہے کہ دونوں مرتبہ صور پھونکنے کی درمیانی مدت چالیس سال کی ہوگی۔ اسی چلہ میں اللہ بارش کرے گا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ دونوں مرتبہ صور پھونکنے کی درمیانی مدت میں جو چالیس کی ہوگی زیرین عرش سے پانی کا ایک نالہ جاری ہوجائے گا (یعنی بارش ہوگی) جس سے انسان چوپایہ اور پرندے کا ہر فنا شدہ حصہ جسم اگ آئے گا اگر پہلے کسی نے ان کو دیکھا ہوگا تو اگنے کے بعد دیکھ کر پہچان لے گا پھر روحوں کو چھوڑ کر اجسام سے ان کا جوڑ لگایا جائے گا آیت ( واذا النفوس زوجت) کا یہی معنی ہے۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر کی روایت سے بھی یہ اثر نقل کیا ہے حلیمی نے کہا تمام روایات کا اتفاق ہے کہ دونوں مرتبہ صور پھونکنے کی درمیانی مدت چالیس سال ہوگی۔ ابن مبارک نے مرسلاً حسن کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں

والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا یخرج الا نکدا کذلک نصرف الایت لقوم یشکرون اور جو سر زمین ستھری ہوتی ہے اس کی پیداوار اس کے رب کے حکم سے (خوب) نکلتی ہے اور جو زمین خراب ہے اس کی سبزی نہیں نکلتی (اگر نکلی بھی) تو تھوڑی سی اسی طرح ہم دلائل کو طرح طرح سے ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو قدر کرتے ہیں۔ البلد الطیباچھی مٹی والی زمین باذن ربہ اللہ کی مشیت اور توفیق سے۔ اس لفظ سے یہ بتانا ہے کہ اس زمین کی پیداوار زیادہ اور اچھی اور فائدہ بخش ہوتی ہے اس کے مقابل جو الذی خبث فرمایا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ یخرج نباتہ باذن ربہ سے پیداوار کی کثرت اور خوبی بیان کرنا مقصود ہے۔ الذی خبث یعنی بری شور کلر زمین۔ نکدا قلیلغیر مفید۔ قاموس میں ہے نکدبالضم۔ قلت عطاء بالفتح بھی آیا ہے۔ عَطَاءٌ منکودقلیل عطا۔ نَکِدَ عَیْشہُمْان کی زندگی سخت اور تنگ ہوگئی نَکِدَ البئر کنوئیں کا پانی کم ہوگیا۔ نَکِدَ زَیْدٌ حَاجَتَہٌزید نے اس کی حاجت پوری نہیں کی اس کو منع کردیا نکد زید فلانازید نے اس کا سوال پورا نہیں کیا کچھ تھوڑا دیا۔ رَجلٌ نَکدٌبد نصیب ‘ منحو تنگدست یشکرونجو اللہ کی نعمت کا شکر کرتے ہیں۔ سابقہ آیات میں اللہ کی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ کا اظہار کیا گیا تھا اس آیت میں یہ بتایا کہ رب فیاض کی رحمت اگرچہ عمومی ہے لیکن قبول کرنے والوں میں قابلیت کا تفاوت ہی قبول فیض کی کمی قابلیت کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جیسے بارش کا فیضان ایک جیسا ہے لیکن زمین کی صلاحیت و قابلیت کے تفاوت کی وجہ سے پیداوار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح اظہار آیات بیان دلائل اور بعثت انبیاء اگرچہ سب انسانوں میں عمومی رحمت ہے مگر اس میں رحمت سے بہرہ اندوز ہونا صرف ان مؤمنوں کی خصوصیت ہے جو ان نعمتوں کے قدردان ہیں جن کی فطری صلاحیتیں اللہ کے اسم ہادی کے پر تو سے مستفاد ہیں اور انہی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے ذریعہ سے وہ ہدایت یاب ہوتے دلائل پر غور کرتے اور آیات سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے جو ہدایت و علم عطا فرما کر مجھے بھیجا ہے اس کی مثال کثیر بارش کی طرح جو زمین کے کسی اچھے ٹکڑے پر برستی ہے تو وہ خطہ اس کو قبول کرلیتا ہے جس سے سبزہ اور چارہ خوب پیدا ہوتا ہے اور کسی خشک بنجر خطے پر برستی ہے تو وہ بھی (اپنے احاطہ میں) پانی کو روک لیتا ہے (مگر پی نہیں سکتا اس لئے اس میں سبزہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ) آدمی اس کو پیتے جانوروں کو پلاتے اور کھیتوں کو سینچتے ہیں اور ایک تیسرے ٹکڑے پر برستی ہے جو چٹیل سخت ہموار میدان ہوتا ہے وہ نہ تو (اپنے احاطہ میں) پانی کو روکتا ہے (کہ دوسروں کو ہی فائدہ ہو) نہ خود پیتا ہے کہ سبزہ پیدا ہوجائے پس یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو دینی سمجھ رکھتے ہیں۔ میری لائی ہوئی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں خود سمجھتے ہیں دوسروں کو سکھاتے ہیں اور ان لوگوں کی جو میرے پیام کی طرف قطعاً التفات نہیں کرتے اور خدا کی عطا کی ہوئی ہدایت کو قبول نہیں کرتے۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے

لقد ارسلنا نوحا الی قومہ بلاشبہ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا۔ لقد ارسلنا محذوف قسم کا جواب ہے یہ لام تقریباً بغیر قد کے مستعمل نہیں کیونکہ اس قسم کا جملہ سننے کے بعد مخاطب کو مضمون جملہ کے وقوع کی توقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا قد کا آنا ضروری قرار پایا۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا نسب نامہ حسب ذیل ہے (نوح بن لامک یا لمک بن متشونح یا متوشخ بن خنوخ یا اخنوخ) ۔ ماں کا نام عوفہ یافینوس بنت برالیک بن قتشونح تھا۔ اخنوخ کا اسلامی نام ہی حضرت ادریس تھا آپ ہی سب سے پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم سے لکھنے کی ایجاد کی۔ اخنوخ بن مہلیل یا مہلائیل تھے مہلیل کا باپ قینن یا قینان یا قانن ‘ قانن کا باپ (نوش یا مانیش تھا اور مانیش کے باپ حضرت شیث ( علیہ السلام) بن حضرت آدم (علیہ السلام) تھے مستدرک میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ نوح ( علیہ السلام) سے آدم ( علیہ السلام) تک دس پشتیں تھیں۔ طبرانی نے حضرت ابوذر کی روایت سے مرفوعاً بھی یہی لکھا ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ حضرت ادریس حضرت نوح سے پہلے تھے اکثر صحابہ ؓ : کا یہی مسلمہ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت نوح کا نام سکن یا شاکر یا یشکر تھا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے بعد آپ ہی کی ذات کی طرف لوگوں کا رجوع ہوا آپ سب کے ماویٰ اور مسکن تھے اس لئے سکن نام ہوگیا۔ سیوطی نے اتقان میں مستدرک کے حوالے سے لکھا ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کا نام عبدالغفار تھا۔ چونکہ آپ نے اپنے اور اپنی قوم کے لئے کثرت سے گریہ کیا اس لئے نوح لقب ہوگیا۔ یا قیامت کے خوف سے آپ پر گریہ کی کیفیت بہت طاری رہتی تھی اس لئے نوح ( علیہ السلام) کہا گیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے ایک بدصورت کتے کو دیکھ کر فرمایا زنم اقلیما یعنی برا کتا ہے اللہ نے کتے کو گویا کردیا اور کتے نے کہا یہ عیب میرا خود ساختہ ہے یا خالق کی طرف سے ہے یہ کلام سنتے ہی حضرت نوح بےہوش ہوگئے اور پھر ہوش آنے کے بعد خوب روئے بغوی نے لکھا ہے کہ آپ نے کوئی جذامی کتا دیکھا اور فرمایا خبیث دور ہو اس پر وحی آئی کہ تو نے کتے پر عیب لگایا یا مجھ پر ‘ بعض نے کہا چونکہ آپ نے اپنی قوم کے لئے بددعا کی تھی (اور سب کو غرق کرا دیا تھا) اس لئے خوب روئے۔ یا اس بات پر گریہ کرتے تھے کہ میں نے اپنے بیٹے کنعان کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے اللہ سے گفتگو میں لوٹ بدل کیوں کی۔ چالیس سال کی عمر میں آپ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا مستدرک میں حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ چالیس سال کی عمر میں اللہ نے نوح کو نبی بنایا اور نو سو پچاس برس تک آپ اپنی قوم میں رہے اور اس کے لئے بددعا کرتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے۔ خلاصۃ السیر کی بعض روایات میں آیا ہے کہ پچاس برس کی عمر میں آپ کو نبوت ملی اور طوفان کے بعد 450 برس زندہ رہے کل عمر 1450 برس ہوئی بعض کا قول ہے چار سو پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں نبی ہوئے یا نبوت کے وقت 250 برس کے تھے اور طوفان کے بعد 250 برس رہے کل عمر 1450 کی ہوئی۔ مقاتل کا قول ہے کہ سو سال کی عمر میں نبوت ملی۔ ابن جریر کا بیان ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی پیدائش حضرت آدم ( علیہ السلام) کی وفات سے 826 سال بعد ہوئی۔ میں کہتا ہوں کہ اس حساب سے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی وفات حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے 2856 برس بعد ہوئی کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی عمر 960 برس ہوئی کیونکہ آپ نے اپنی ہزار سالہ عمر میں سے 40 برس حضرت داؤد کو دے دیئے تھے نووی نے تہذیب میں ذکر کیا ہے کہ تمام انبیاء سے آپ کی عمر زیادہ ہوئی۔ فقال یقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم پس نوح نے کہا اے میری قوم اللہ واحد کی عبادت کرو تمہارا اس کے سوا کوئی معبود نہیں (اگر اللہ واحد کی بلاشرکت پوجا نہ کرو گے تو) مجھے ایک بڑے سخت دن (یعنی روز قیامت یا روز طوفان) کا تمہارے متعلق خوف ہے۔
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں

فان الملا من قومہ انا لنرک فی ضلال مبین قوم کے سرداروں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ تم صریح گمراہی میں پڑگئے ہو۔ الملأ سرداران جماعت۔ جب ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں تو لوگوں کی آنکھوں میں ان کی ہیبت بھر جاتی ہے اسی لئے ان کو ملأ کہا جاتا ہے۔
Ayah 7:61

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں

قال یقوم لیس بی ضلالۃ ولکنی رسول من رب العلمین : نوح نے کہا اے میری قوم مجھے کوئی بہکاوا نہیں بلکہ میں اپنے پروردگار عالم کا پیامبر ہوں۔
Ayah 7:62

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو

ابلغکم رسلت ربی وانصح لکم واعلم من اللہ مالا تعلمون : تم کو اپنے رب کے احکام پہنچا رہا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور خدا کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہو جن کی تم کو خبر نہیں
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذر کم ولتتقوا لعلکم ترحمون : (تم مجھے جھوٹا کہتے ہو اور) اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے رب کی طرف سے تم میں سے ہی ایک آدمی کی معرفت تمہارے پاس ایک یادداشت آگئی تاکہ وہ تم کو (اللہ کی نافرمانی سے) ڈرائے اور تم پرہیزگار بن جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے۔ ضلالۃٌ کوئی ادنیٰ گمراہی۔ ضلالگمراہی۔ چونکہ قوم والوں نے زور دار الفاظ میں حضرت نوح کو گمراہ قرار دیا تھا اس لئے آپ نے بھی پرزور لہجہ میں گمراہی کی بالکل نفی کردی اور فرمایا مجھ میں ذرا سی بھی گمراہی نہیں گویا قوم والوں پر تعریض کی کہ گمراہ تم ہو۔ ولکنی رسولیہ نفی گمراہی کی پُر زور تاکید ہے اللہ کا رسول جو اللہ کے احکام کا پیام بر ہو لامحالہ ہدایت یافتہ اور صراط مستقیم پر گامزن ہوگا۔ (اس کا گمراہ ہونا ناممکن ہے) رِسٰلٰتِیہ رسالۃ کی جمع ہے۔ رسٰلٰتکو بصیغۂ جمع ذکر کرنے کی وجوہ یہ ہیں (1) اوقات رسالت مختلف تھے۔ (2) معانی رسالت میں تنوع تھا۔ کسی کا عقیدہ سے تعلق تھا کسی کا عمل سے کوئی وعظ تھا کوئی حکم۔ (3) یا مراد وہ تمام پیامات و ہدایات ہیں جو گزشتہ انبیاء کو دیئے گئے تھے مثلاً حضرت شیث ( علیہ السلام) اور حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے صحیفے وانصحنصح کا معنی ہے کسی کی خیرخواہی خواہ فعلی ہو یا قولی بغوی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ بہتری اور خیر ہوتی ہے جو آدمی اپنے لئے پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی اسی کا طلب گار ہوتا ہے۔ باب نصح بغیر لام کے بھی متعدی ہوتا ہے مگر لام کا اضافہ خلوص خیر خواہی پر دلالت کر رہا ہے۔ من اللّٰہسے مراد یا تو مِنْ جہۃِ اللّٰہ ہے یعنی اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ سے۔ یا یہ مراد ہے کہ میں اللہ کی ذات کو اور ثواب و عذاب پر اس کی قدرت کو اور ناقابل رہائی گرفت کو اتنا جاتنا ہوں کہ تم نہیں جانتے او عجبتم میں ہمزہ استفہام انکار کے لئے ہے اور واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے یعنی کیا تم مجھے جھوٹا قرار دیتے ہو اور تعجب کرتے ہو۔ ذکرٌحضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یعنی نصیحت بعض نے کہا بیان بعض نے کہا رسالتپیام۔ علی رجل منکمتمہاری جماعت میں سے یا تمہاری نوع میں سے یعنی ایک آدمی پر۔ کفار کو آدمی کے پیغمبر ہونے سے تعجب ہوتا تھا وہ کہتے تھے اگر اللہ چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا ایسی بات تو ہم نے پچھلے باپ دادا میں ہوتی نہیں سنی۔ لینذر کمتا کہ تم کو کفر و معصیت کے برے انجام سے ڈرائے۔ ولتتقوا اور تاکہ تم اس عذاب سے ڈرو جو کفر و معصیت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ وَلَعْلّکم ترحمون اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے جب کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ لَعَلَّحرف امید اس لئے ذکر کیا کہ تقویٰ موجب رحمت نہیں۔ رحمت تو اللہ کی ایک مہربانی ہے (جس کے حصول کا ذریعہ اللہ نے تقویٰ کو بنا دیا ہے ورنہ تقویٰ سے قطعی طور پر مستحق رحمت ہوجانا اور رحمت کا واجب ہوجانا ضروری نہیں) متقی کو اپنے تقویٰ پر کامل اعتماد کر کے بےغم نہ ہونا چاہئے بلکہ تقوے کے باوجود اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ابو نعیم نے حضرت علی ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری امت میں جو طاعت گزار لوگ ہوں ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرلیں۔ قیامت کے دن حساب کے وقت میں جس کو عذاب دینا چاہوں گا عذاب دوں گا اور تمہاری امت میں جو گناہ گار ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے کو خود ہلاکت میں نہ ڈالو (یعنی ہلاکت کا یقین کر کے رحمت سے مایوس نہ ہو) کیونکہ میں بڑے بڑے گناہ بخش دوں گا اور مجھے پروا نہ ہوگی۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے

فکذبوہ فانجینہ والذین معہ فی الفلک واغرقنا الذی کذبوا بایتنا انہم کانوا قوما عمین . پھر انہوں نے نوح کی تکذیب کی (تو ہم نے طوفان بھیج دیا) پس نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھوٹا قرار دیا تھا ان کو غرق کردیا بےشبہ وہ اندھے لوگ تھے۔ فانجینٰہہم نے نوح کو طوفان سے بچا لیا والذین معہیہ چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں یا آٹھ مرد یا دس مرد یا بہتر آدمی یا صرف تین بیٹے سام ‘ حام ‘ یافث اور ان کی تین بیویاں یا تین بیٹے اور چھ دوسرے مؤمن۔ یہ مختلف اقوال آئے ہیں۔ فی الفلک اس کا تعلق مَعَہٗسے ہے یعنی نوح کے ساتھ جو لوگ کشتی میں تھے یا اَنْجَیْنَاسے تعلق ہے یعنی ہم نے کشتی میں نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا۔ قومٗا عَمِیْنَیعنی کافر جن کے دل اللہ کی معرفت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے سے اندھے تھے۔ عمین (عمی کی جمع ہے) اصل میں عِمِیّین تھا تخفیفاً ایک یاء کو حذف کردیا۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟

والی عاد اخاہم ہودا . اور ہم نے بھیجا (قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو۔ عاد سے مراد قبیلۂ عاد ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ( علیہ السلام) کی ذریت عاد اولیٰ کہلاتی ہے۔ اخاہم ہودًا یعنی نسب (اور قومیت) کے اعتبار سے بھائی۔ دین کے لحاظ سے بھائی ہونا مراد نہیں ہے۔ حضرت ہود کا باپ عبداللہ بن ریاح بن خلود بن عاد بن عوص تھا ابن اسحاق نے ہود کو شالخ بن ارفخشذ بن سام بن نوح کا بیٹا کہا ہے۔ شیخ ابوبکر نے شرح خلاصۃ السیر میں لکھا ہے کہ ہود کا نام عابر یا عابر یا عبیر یا غبیر تھا اور آپ شالخ بن قینان بن ارفخشذ بن ہشام بن نوح کے بیٹے تھے۔ تمام کتب الانساب میں اسی طرح آیا ہے لیکن ایک شاذ روایت یہ بھی آئی ہے کہ ہود بن خالد بن خلود بن عیص بن عملیق بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ( علیہ السلام) تھے۔ ہود کی ماں کا نام مکعبہ بنت عویلم بن سام بن نوح تھا۔ حضرت ہود کی پیشانی میں رسول اللہ ﷺ کا نور چمکتا تھا جس کو دیکھ کر لوگ کہتے تھے یہ شخص وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرے گا بتوں کو توڑے گا ‘ اس خیال کے زیر اثر لوگ آپ کی تعظیم کرتے تھے آپ کے بعد سو برس تک کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا سو برس کے بعد حضرت صالح کی بعثت ہوئی اس درمیانی زمانہ میں راجا اور پر جا سب بت اور سورج کی پوجا کرتے تھے اور کچھ لوگ آتش پرست بھی تھے آخر اللہ نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کو ثمود کی ہدایت کے لئے بھیجا۔ حضرت ہود ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) کی شریعت پر تھے آپ کی عمر 400 برس یا 460 برس ہوئی تاریخ شامی میں ابن حبیب کا قول نقل کیا ہے کہ ہود ( علیہ السلام) کی عمر 134 سال ہوئی۔ ابن کلبی نے 462 برس کی عمر بتائی ہے اور ماں کا نام مرجانہ لکھا ہے آپ کی قبر حضرموت میں اور بعض کے نزدیک مکہ میں ہے۔ انتہی کلام الشیخ ابی بکر۔ بغوی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی روایت سے لکھا ہے کہ ہود کی قبر حضرموت میں سرخ ٹیلے پر واقع ہے عبدالرحمن بن سابط کا بیان ہے کہ رکن اور مقام اور زمزم کے درمیان ننانوے پیغمبروں کی قبریں ہیں انہی میں ہود ‘ صالح اور شعیب ( علیہ السلام) کی بھی قبریں ہیں یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ جب کسی پیغمبر کی امت (عذاب سے) تباہ ہوجاتی تو وہ پیغمبر مؤمنوں کی جماعت لے کر مکہ میں چلا آتا تھا اور اس جگہ مرتے دم تک سب لوگ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے اور یہیں مر کر دفن ہوجاتے تھے۔ بھائی ہونے سے مراد ابن اسحاق کے نزدیک تو نسبی بھائی ہے اور شیخ ابوبکر کے نزدیک قوم عاد کا ہم جنس ہونا۔ عاد میں سے ہی ایک شخص کو پیغمبر بنانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے آدمی کی بات کو خوب سمجھ سکتے تھے اس کے حال کو خوب جانتے تھے اور اسی کی پیروی کرنے کی ان کو رغبت ہوسکتی تھی (غیر کی بات نہ کوئی سمجھتا ہے نہ اس کے حال کو جانتا ہے نہ حمیت جاہلی کسی غیر کی پیروی کرنے دیتی ہے) قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ افلا تتقون : ہود نے کہا اے میری قوم (تنہا) اللہ کی پوجا کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی (واقعی) معبود نہیں کیا تم (دوسروں کی پوجا کرتے ہو اور اس کے عذاب سے) نہیں ڈرتے۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

قال الملا الذین کفروا من قومہ انا لنرک فی سفاہۃ وانا لنظنک من الکذبین : قوم ہود کے کافروں میں سے زوردار لوگوں نے جواب دیا کوئی شک نہیں کہ ہم تم کو حماقت میں مبتلا پاتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹوں کے گروہ میں سے ہو۔ قَالَ یٰقَوْمجملہ استینافیہ ہے اس لئے فَقَال نہیں فرمایا تتقون کا مفعول محذوف ہے یعنی کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ حضرت ہود کی قوم حضرت نوح کی قوم سے ملتی جلتی تھی۔ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا الْملاً کی صفت تقییدی ہے اس شرط کو بڑھانے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قوم کے کچھ سردار ایمان لے آئے تھے۔ جیسے مرثد بن سعد اور حضرت نوح کی قوم کا کوئی سردار ایمان نہیں لایا تھا (اس لئے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے قصہ میں الملأکے بعد کَفَرُوْاکی شرط لگانے کی ضرورت نہیں تھی) فی سَفَاہۃ سفاہت سبک سری۔ حماقت یعنی سرداروں نے کہا تم احمق ہو اپنی قوم کے دین کو تم نے چھوڑ دیا اور ایک ناممکن امر یعنی رسالت کا دعویٰ کر بیٹھے یہ سبک سری ہے فی سفاہۃ کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ سفاہت پر تم جم گئے یہ سبک سری تم سے کبھی دور نہیں ہوگی۔ من الکاذبین یعنی رسالت کا دعویٰ کرنے میں تم جھوٹے ہو۔
Ayah 7:67

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں

قال یقوم لیس بی سفاہۃ ولکنی رسول من رب العلمین : ہود نے کہا اے میری قوم مجھ میں کوئی حماقت نہیں بلکہ میں تو رب العلمین کا پیغامبر ہوں
Ayah 7:68

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں

ابلغکم رسلت ربی وانا لکم ناصح امین : اپنے رب کے احکام تم کو پہنچا رہا ہوں اور تمہارا بہی خواہ ہوں اور (پیام رسالت کا) امین ہوں۔ وانا لکم ناصح یعنی میں جس امر کی تم کو دعوت دے رہا ہوں اس میں تمہارا مخلص ‘ خیرخواہ ہوں۔ کافروں نے جملہ اسمیہ بولا تھا اور کہا تھا انا لنظنک اس کے مقابلہ میں حضرت ہود نے بھی ناصحٌ بصیغہ اسم فاعل فرمایا۔ کلبی نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں آج تک تمہارے اندر رہا اور امین رہا لہٰذا اب مجھ پر جھوٹے ہونے کی بدگمانی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرات انبیاء واقف تھے کہ کافر انتہائی گمراہ اور احمق ہیں لیکن انہوں نے تہذیب اور حلم سے کام لے کر مقابلہ سے پہلوتہی کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اپنی امتوں کے کتنے بہی خواہ کافروں پر کتنے مہربان ‘ قوت برداشت میں کتنے کامل اور حسن خطاب کے ذریعہ دلوں کو ہدایت کی طرف کس قدر کھینچنے والے تھے اس گفتگو کو نقل کر کے اللہ نے بندوں کو تعلیم دی ہے کہ بیوقوفوں سے کس طرح خطاب کیا جائے۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو

اوعجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذرکم واذکروا اذ جعلکم خلفآء من بعد قوم نوح و زاد کم فی الخلق بصطۃ فاذکروا الآء اللہ لعلکم تفلحون۔ کیا (تم نے تکذیب کی اور) اس بات سے تمہیں تعجب ہوا کہ تم میں سے ہی ایک آدمی پر تمہارے رب کی طرف سے ایک یادداشت آگئی تاکہ وہ تم کو (کفر و معصیت کے عذاب سے) ڈرائے یاد کرو کہ قوم نوح (کو ہلاک کرنے) کے بعد اس نے تم کو اس کا جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو لمبائی چوڑائی زیادہ عطا کی اللہ کے ان احسانات کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔ بصطۃً لمبائی اور قوت۔ کلبی اور سدی نے کہا قوم ثمود میں سب سے لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹا ستر ہاتھ کا ہوتا تھا۔ ابو حمزہ یمنی نے صرف ستر ہاتھ کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول میں اسی ہاتھ مروی ہے۔ مقاتل نے بارہ ہاتھ کی لمبائی بتائی ہے وہب نے کہا بعض آدمیوں کے سرگنبد معلوم ہوتے تھے اور آنکھیں اور ناک کان کے سوراخ اتنے بڑے تھے کہ بجو اس میں بچے دیں۔ الاء کا واحد اِلْیٌہے۔ لَعَلَّکُمْ تفلحون یعنی نعمت کو یاد کرو۔ نعمت کی یاد موجب شکر ہوگی اور شکر موجب فلاح۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قالوا اجئتنا لنعبد اللہ وحدہ ونذر ما کان یعبد ابآؤنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین۔ قوم والوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس (کہیں باہر سے یا آسمان سے) اس لئے آیا ہے کہ ہم صرف اللہ ہی کی پوجا کریں اور جن (بتوں وغیرہ) کی ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے ان کی پوجا چھوڑ دیں اگر تو سچا ہے تو جس (عذاب) کی تو ہم کو دھمکی دے رہا ہے اس کو ہم پر لے آ۔ ما کان سے مراد ہیں بت اور آنے سے مراد ہے کہیں دوسری جگہ سے آنا یا آسمان سے آنا۔ موخر الذکر معنی اس وقت مراد ہوگا جب یہ لفظ کافروں نے بطور استہزاء کہا ہو۔ یا قصد کرنا بطور مجاز ہو یعنی تیرا ارادہ یہ ہے کہ ہم بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی پوجا کریں۔ مَا تعدنا سے عذاب کی وہ دھمکی مراد ہے جو افلا تتقون سے مستنبط ہو رہی ہے یہ ممکن ہے حضرت ہود ( علیہ السلام) نے ان کو دھمکی صراحتاً دی ہو۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

قال قد وقع علیکم من ربکم رجس وغضب اتجادلوننی فی اسماء سمیتموہا انتم وابآو کم ما انزل اللہ بہا من سلطن فانتظروا انی معکم من المنتظرین۔ ہود نے کہا بس اب تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب آیاہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے (فرضی معبودوں) کے ناموں کے باب میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (خود ہی) رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کی (صداقت و حقانیت) کی کوئی دلیل نہیں اتاری سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔ قد وقع یعنی عذاب واجب ہوچکا یا استحقاق عذاب ہو چکایا عنقریب آنے والا ہے گویا آ ہی گیا۔ مستقبل میں یقینی ہونے والے فعل کی تعبیر ماضی سے کرلی جاتی ہے۔ رجس عذاب۔ یہ لفظ ارتجاس سے نکلا ہے جس کا معنی ہے اضطراب۔ بعض اہل لغت کے نزدیک رجسکا سین بجائے ز کے آیا ہے اصل لفظ رجزٌہے صحاح میں ہے رجسٌاور رجزٌ کا معنی ہے دھماکہ۔ چیخ۔ غضب یعنی انتقام کا ارادہ اَسْمَاءٌیعنی وہ بت جن کے نام رکھ لئے ہیں گویا اسم سے مراد مسمی ہے۔ یا اسماء سے مراد ایسے نام ہیں جن کے مسمی محض فرضی اور بےحقیقت ہیں جیسے یونانی فلاسفہ نے عقول عشرہ (دس عقلیں) یا ہندوؤں نے دیبی اور بھوانی جیسے نام خود گڑھ لئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ فرضی حقیقتیں ان بتوں کے اندر حلول کئے ہوئے ہیں۔ سلطندلیل اور برہان جو ان کا معبود ہونا یا مستحق عبادت ہونا ثابت کر رہی ہے اس قول کی بنیاد یہ ہے کہ وہ اللہ کو آسمان و زمین کا خالق تو مانتے تھے مگر الوہیت اور خالقیت یا استحقاق عبادت میں دوسروں کو بھی شریک سمجھتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں بعض مخلوق اللہ سے ان کی سفارش کرنے والی تھی لہٰذا پوجا کی بھی مستحق قرار پاتی تھی۔ حضرت ہود نے اس پر فرمایا تمہارے اس دعوے کی کوئی عقلی نقلی دلیل اللہ کی طرف سے نہیں یہ سب تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی من گھڑت ہے۔ پس جس عذاب کی میں نے تم کو دھمکی دی ہے اور جس کے آنے کی تم درخواست کر رہے ہو اس کے منتظر رہو۔