7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں

فخلف من بعدہم خلف ورثوا الکتب یاخذون عرض ہذا الادنی ویقولون سیغفرلنا وان یاتہم عرض مثلہ یاخذوہ الم یوخذ علیہم میثاق الکتب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق ودرسوا مافیہ والدار الاخرۃ خیر للذین یتقون افلا تعقلون۔ پھر ان کے بعد ان کے جانشین ایسے لوگ ہوئے جنہوں نے ان سے کتاب (توریت) کو حاصل کیا یہ لوگ دنیاء دنی کے حقیر متاع کو (حکم کتاب کے عوض) لے لیتے ہیں اور (اس گناہ کو حقیر سمجھ کر) کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہوجائے گی حالانکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال و متاع پھر آجائے تو اس کو بھی لے لیتے ہیں کیا ان سے توریت کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا تھا کہ خدا کی طرف بجز سچی بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں (یعنی خودتراشیدہ بات کی نسبت اللہ کی طرف نہ کریں بلکہ جو اللہ کا حکم ہے اسی کی نسبت اللہ کی طرف کریں) اور کتاب میں جو کچھ تھا اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا اور آخرت والا گھر (اس دنیا سے) ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو (نافرمانی سے) بچتے ہیں پھر (اے یہودیو) تم یہ بات کیوں نہیں سمجھتے۔ من بعدہم یعنی جن لوگوں کا ذکر پہلے کردیا گیا ان کے بعد جانشین ہوئے۔ خَلْفٌایک دور کے بعد دوسرا آنے والا دور کذا فی القاموس۔ ابو حاتم نے کہا خَلْفٌ بسکون لام۔ اولاد اس میں واحد و جمع برابر ہیں اور خلف کے معنی ہیں قائم مقام خواہ اولاد ہو یا غیر۔ ابن اعرابی کا قول ہے خَلَفبفتح لام اچھا جانشین اور بسکون لام برا جانشین۔ نصر بن شمیل کا قول ہے کہ برے جانشین کے لئے خلف بفتح لام بھی آتا ہے اور بسکون لام بھی اور اچھے جانشین کے لئے صرف لام کے فتح کے ساتھ آتا ہے محمد بن جریر کا قول ہے کہ مدح کے لئے اکثر بفتح لام آتا ہے اور ذم کے لئے بسکون لام لیکن کبھی قلت کے ساتھ اس کے برعکس بھی استعمال ہوا ہے۔ بیضاوی نے لکھا خلف مصدر ہے اور صفت (اسم فاعل یا اسم مفعول) کے معنی میں مستعمل ہے مصدر ہونے کی وجہ سے ہی اس کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی بعض اہل علم اس کو جمع کہتے ہیں۔ یہاں خلف سے وہ یہودی مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ ورثوا الکتاب یعنی باپ دادا سے توریت ان کو ملی اسلاف سے منتقل ہو کر ان کے پاس پہنچی جس کو وہ خود پڑھتے اور اس کا مطلب سمجھتے ہیں۔ عرض ہذا العالم یعنی اس ادنیٰ عالم کا حقیر سامان۔ عالم ادنیٰ سے مراد ہے دنیا۔ لفظ ادنیٰ دنو (قرب) سے مشتق ہے یا دناءت (حقارت سے) ہر سامان کو سوائے سونے چاندی (یعنی روپیہ پیسہ کرنسی سکہ) کے متاع کہا جاتا ہے یا ہر مال کو متاع کہتے ہیں خواہ کم ہو یا زیادہ سامان ہو یا روپیہ کرنسی۔ اس جگہ یہی معنی مراد ہے بعض علماء کا قول ہے عرض کا معنی ہے ناپائیدار۔ باقی نہ رہنے کی چیز جس چیز کا بذات خود (بغیر کسی جوہر کے) قیام نہ ہو متکلمین کے نزدیک اس کو عرض اسی لغوی مناسبت کی وجہ سے کہا جاتا ہے جیسے رنگ کسی طرح کا ہو بو اچھی ہو یا بری وغیرہ اسی لئے دنیا کو عرض حاضر کہا جاتا ہے یعنی ناپائیدار۔ یہاں عرض سے مراد ہے وہ مال جو یہودی عالم۔ جاہل لوگوں سے لے کر کھاتے اور شرعی فیصلہ کو توڑنے موڑنے کی رشوتیں لیا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے وہ اوصاف امتیازی جو توریت میں مذکور تھے یہودی عالموں نے اسی ڈر سے چھپا دیئے تھے اور اللہ کے کلام میں (لفظی اور معنوی) تحریف اسی خوف سے کردی تھی کہ کہیں ان کی روٹی میں فرق نہ آجائے اور سیادت قومی نہ جاتی رہے۔ ویقولون سیغفرلنا یعنی توبہ نہیں کرتے گناہ پر جمے رہتے ہیں اور اس کے باوجود مغفرت کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بہت بری حرکت ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے دانشمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو مطیع رکھا اور مرنے کے بعد کے لئے کام کئے اور بیوقوف وہ ہے جس نے نفس کی خواہشات کی اطاعت کی اور اللہ سے (بےبنیاد جھوٹی) تمنائیں رکھیں۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم والبغوی عن شداد بن اوس۔ وَاِنْ یَاتہم عَرَضْ مِثْلَہٗ یہ یقولون کی ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ پر اصرار کرتے ہوئے دوسری مرتبہ گناہ کا ارادہ رکھتے ہوئے بغیر توبہ کئے مغفرت کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ سدی کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل میں جب کوئی قاضی ہوتا تھا اور اہل معاملہ اس سے کسی مقدمہ کا فیصلہ طلب کرتے تھے تو وہ بغیر رشوت لئے فیصلہ نہیں دیتا تھا جب اس سے رشوت لینے کی وجہ دریافت کی جاتی تو کہتا یہ (حقیر بات ہے اس کو) اللہ معاف کر دے گا فریق مخالف اس پر نکتہ چینی کرتا تھا پھر جب وہ قاضی مرجاتا یا معزول کردیا جاتا تھا اور نکتہ چیں جماعت میں سے کوئی فرد قاضی بنا دیا جاتا تھا تو وہ بھی رشوت لیتا تھا آیت وان یاتہم عرض مثلہ یا خذوہ کا یہی مطلب ہے یعنی نکتہ چیں فریق مخالف کو اگر رشوت کا مال ہاتھ لگ جاتا تھا تو وہ بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ میثاق الکتاب یعنی وہ عہد جو توریت میں مذکور ہے کہ اللہ کی طرف کسی غلط بات کی نسبت نہیں کریں گے اور یہ بات غلط ہے توریت میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ گناہ پر جما رہنے کے باوجود مغفرت کردی جائے گی۔ ودرسوا مافیہ اس کا عطف الم یؤخذ پر ہے یا ورثوا پر۔ درس کتاب سے مراد ہے پڑھنا اور بار بار غور کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ گناہ ہے۔ یتقون یعنی جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے آخرت دنیا کے اس حقیر مال سے بہتر ہے۔ افلا تعقلون اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے اصل کلام اس طرح تھا کیا تم برائی کو پسند کرتے ہو اور بھلائی کو چھوڑتے ہو اور سمجھتے نہیں (کہ شر کو اختیار کرنا اور خیر کو ترک کرنا برا ہے) یعنی تمہارے پاس عقل ہی نہیں ہے (ہم سمجھتے نہیں کہ بعد قوسین کے درمیان کچھ عبارت بڑھا دی ہے جو سمجھتے نہیں۔ کا مفعول ہے لیکن حضرت مؤلف نے جو یعنی کے بعد۔ تمہارے پاس عقل ہی نہیں ہے۔ عبارت لکھی ہے اس سے اشارہ اس طرف ہے کہ افلا تعقلونکا کوئی خاص مفعول محذوف نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ تم اہل عقل ہی نہیں ہو) کیونکہ عقل کا تقاضا تو یہ ہے شر کو ترک اور خیر کو اختیار کیا جائے بلکہ دو خیروں میں بھی جو بہترین ہو اس کو لیا جائے اور تم ادنیٰ کو اعلیٰ کے مقابلہ میں لیتے ہو وہ زوال پذیر فائدہ جس کا نتیجہ دوامی عذاب ہے اختیار کرتے ہو اور لازوال ابدی نعمت کو ترک کرتے ہو۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے

والذین یمسکون بالکتب واقاموا الصلوۃ انا لا نضیع اجر المصلحین اور (ان میں سے) جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں ہم ان اہل اصلاح کا ثواب ضائع نہیں کریں گے۔ مجاہد نے کہا ان سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی دوسرے مؤمنین اہل کتاب ہیں جو توریت پر بھی ایمان لائے تھے اور توریت میں انہوں نے کسی طرح کی تحریف نہیں کی تھی اور نہ اس کے احکام کو بگاڑ کر کمائی کا ذریعہ بنایا تھا بلکہ خالص حکم توریت پر عمل کرتے تھے پھر حضور اقدس ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ پر بھی ایمان لائے اور آپ کا اتباع کیا عطاء نے کہا ان سے مراد امت محمدیہ ہے۔ انا لا نضیع یعنی ان میں سے اہل اصلاح کا ثواب ہم ضائع نہیں کریں گے۔ یا یوں کہا جائے کہ انا لا نضیع اجرہم کی جگہ اجر المصلحین اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے کہا کہ ان کا مصلح ہونا اجر کو ضائع کرنے سے مانع ہے (گویا لفظ مصلحین علت حکم کی طرف اشارہ کر رہا ہے)
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ

واذا نتقنا الجبل فوقہم کانہ ظلۃ وظنوا انہ واقع بہم خذوا ما اتینکم بقوۃ واذکروا ما فیہ لعلم تتقون۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر چھت کی طرح ان کے اوپر معلق کردیا تھا اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ ان پر گرنے ہی والا ہے اور (ان سے کہہ دیا تھا کہ) مضبوطی کے ساتھ جلد قبول کرو اس کتاب کو جو ہم نے تم کو دی ہے اور جو احکام (اس میں ہیں ان کو یاد رکھو اس امید پر کہ تم متقی ہوجاؤ گے (گناہوں سے اور عذاب سے بچ جاؤ گے) واذانتقنا اذکروا محذوف ہے اذ کا اسی محذوف سے تعلق ہے۔ نَتْقٌ کا لغوی معنی ہے کھینچنا یہاں مراد ہے اکھاڑ کر اوپر کو اٹھانا۔ فوقہمبنی اسرائیل کے اوپر۔ بنی اسرائیل نے توریت کے احکام کو شدت و سختی کی وجہ سے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا تو اللہ نے پہاڑ کو زمین سے اکھاڑ کر ان کے سروں کے اوپر معلق کردیا (تا کہ ڈر کر قبول کرلیں) کَاَنَّہٗ ظلۃٌ۔ ظلۃٌچھت۔ سائبان۔ ظَنُّوا یعنی ان کو یقین ہوگیا تھا۔ یقین کو لفظ ظن سے تعبیر کیا کیونکہ اس یقین کا نتیجہ واقع نہ ہوا تھا (تو گویا یقین صرف گمان ہو کر رہ گیا) خذوا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ توریت کے احکام کو قبول کرو ورنہ پہاڑ تمہارے اوپر گرا دیا جائے گا۔ بقوۃ کوشش کے ساتھ اور احکام توریت کو برداشت کرنے کے پختہ ارادہ کے ساتھ۔ یہ خذوا کی ضمیر سے حال ہے۔ واذکروا اور یاد رکھو یعنی ان پر عمل کرو اور بھولی بسری چیز کی طرح ترک نہ کردو۔ لعلکم تتقون اس امید پر کہ برے اعمال ‘ بدعادات اور گناہوں سے تم بچ جاؤ گے۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی

واذا اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہد ہم علی انفسہم الست بربکم ‘ قالوا بلی شہدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ہذا غفلین : اور جب آپ کے رب نے (آدم ( علیہ السلام) اور) اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا اور ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اور سب نے جواب دیا کیوں نہیں ہم سب (اس واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں (یہ اس لئے کیا) تاکہ تم لوگ قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس (توحید) سے بیخبر تھے
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے

او تقولوا انما اشرک اباؤنا من قبل وکنا ذریۃ من بعدہم افتہلکنا بما فعل المبطلون : یا یوں کہنے لگو کہ (اصل) شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے تو کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈالے دیتا ہے۔ من بنی ادم کلام میں اختصا رہے اصل کلام یوں تھا۔ من اٰدم وبنی اٰدمآدم اور اولاد آدم ہے بمن ظہورہمیہ بنی آدم سے بدل ہے یعنی ہم نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ واشہدہم یعنی بعض کو بعض کا شاہد بنایا ایک پر دوسرے کو گواہ بنا دیا اور ان سے کہا الست بربکم قالوا بلی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو جو انسان ان کی نسل سے قیامت تک پیدا ہونے والا تھا وہ برآمد ہوگیا اور اللہ نے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک پیدا کردی پھر سب کو آدم ( علیہ السلام) کے روبرو کیا آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب یہ کون ہیں اللہ نے فرمایا یہ تیری اولاد ہیں۔ آدم ( علیہ السلام) نے ان میں سے ایک شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان چمک دیکھی تو یہ ان کو بہت اچھی معلوم ہوئی اور عرض کیا پروردگار یہ کون ہے اللہ نے فرمایا یہ داؤد ہے آدم نے عرض کیا پروردگار تو نے اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے فرمایا ساٹھ سال عرض کیا پروردگار میری عمر میں سے اس کو چالیس برس اور عطا فرما دے چناچہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی عمر جب پوری ہوگئی صرف وہی چالیس برس رہ گئے جو انہوں نے حضرت داؤد کو دے دیئے تھے تو موت کا فرشتہ آگیا آدم ( علیہ السلام) نے کہا ابھی تو میری عمر کے چالیس برس باقی ہیں ملک الموت نے کہا کیا آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو چالیس برس نہیں دے دیئے تھے آدم نے انکار کیا اسی لئے ان کی اولاد بھی (کئے ہوئے وعدہ کا) انکار کرتی ہے اور آدم ( علیہ السلام) نے (اللہ کے حکم کو) بھول کر (ممنوعہ) درخت کا پھل کھالیا تھا اسی لئے ان کی اولاد بھولتی ہے اور آدم ( علیہ السلام) نے خطا کی تھی اسی لئے ان کی اولاد خطا کرتی ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حضرت ابو درداء ؓ کی روایت سے اس طرح نقل کیا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو جس وقت پیدا کیا تو ان کے دائیں شانہ پر ہاتھ مارا جس سے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی طرح ان کی (ساری) گوری نسل نکل پڑی اور بائیں شانہ پر ہاتھ مارا تو کوئلہ کی طرح سیاہ نسل نکل پڑی۔ دائیں طرف والوں کے متعلق اللہ نے فرمایا یہ جنت کے طرف (جانے والے) ہیں اور مجھے (ان کی اطاعت کی) پروا نہیں اور بائیں شانہ والوں کے متعلق فرمایا یہ دوزخ کی طرف (جانے والے) ہیں اور مجھے (ان کی نافرمانی کی) پروا نہیں۔ رواہ احمد۔ مقاتل اور دوسرے اہل تفسیر نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے مقاتل کی روایت کے آخر میں اتنا زائد بھی ہے کہ اللہ نے پھر سب کو آدم کی پشت میں لوٹا دیا جب تک تمام میثاق ازل والے باپوں کی پشت اور ماؤں کے پیٹ سے برآمد نہ ہوجائیں گے قبروں والے قبروں کے اندر بند رہیں گے (قیامت نہ آئے گی اور حشر نہ ہوگا) اسی میثاق ازل کو توڑنے والوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (وَمَا وَجَدْنَا لاکثرہم من عہد) ۔ مسلم بن یسار کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے آیت (واذا اخذ ربک من بنی ادم الخ) کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا میں نے خود سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ سے اس کا مفہوم دریافت کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ نے آدم کو پیدا کرنے کے بعد اپنا دایاں ہاتھ ان کی پشت پر پھیرا تو اس سے ان کی (کچھ) اولاد نکل پڑی اور اللہ نے فرمایا ان کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت کے عمل کریں گے پھر آدم کی پشت پر بایاں ہاتھ پھیرا تو (کچھ اور) ان کی اولاد برآمد ہوگئی اور اللہ نے فرمایا ان کو میں نے دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں کے عمل کریں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کی کیا ضرورت ہے فرمایا للہ نے جس بندہ کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اس سے جنتیوں کے اعمال کراتا ہے یہاں تک کہ وہ مرنے کے وقت بھی اہل جنت کا کوئی عمل کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے اور جب کسی بندہ کو دزخ کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے دوزخیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ مرنے کے وقت بھی دوزخیوں کا کوئی کام کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کو دوزخ میں لے جاتا ہے۔ رواہ مالک و ابو داؤد والترمذی وا حمد فی مسندہ والبخاری فی التاریخ وابن احبان والحاکم والبیہقی۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ چونکہ مسلم بن یسار نے یہ حدیث خود حضرت عمر ؓ سے نہیں سنی اس لئے بغوی نے لکھا ہے کہ بعض اہل حدیث نے حضرت عمر اور مسلم بن یسار کے درمیان ایک اور راوی کا ذکر کیا ہے (جس کا نام نہیں بیان کیا) حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے اولاد کو نکال کر ان سے میثاق نعمان یعنی عرفات میں لیا تھا جتنی نسل اس کو آئندہ پیدا کرنی تھی سب کو آدم کی پشت سے برآمد کیا اور اپنے سامنے چھوٹی چیونٹیوں کی طرح ان کو بکھیر کر رو در رو ان سے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے جواب دیا کیوں نہیں ہم اس کے شاہد ہیں الی آخر الایت۔ رواہ احمد والنسائی والحاکم۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ابن جریر نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی آیت کے بیان میں فرمایا آدم کی پشت سے اللہ نے (آدم ( علیہ السلام) کی نسل کو) اس طرح لے لیا جیسے کنگھی سے سر کی جوئیں لے لی جاتی ہیں۔ پھر فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے جواب دیا کیوں نہیں۔ فرشتے بولے ہم (اس اقرار کے) شاہد ہیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ملک ہند میں دہنا کے مقام پر جہاں حضرت آدم ( علیہ السلام) اترے تھے اللہ نے اولاد آدم کو برآمد کیا اور ان سے (ربوبیت کا) اقرار لیا تھا۔ کلبی کا قول ہے کہ مقام میثاق مکہ اور طائف کے درمیان تھا۔ سدی کا بیان ہے کہ پیدا ہونے کے بعد حضرت آدم ( علیہ السلام) آسمان سے اترے بھی نہیں تھے کہ اللہ نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی نسل کو برآمد کیا تھا۔ حضرت ابی بن کعب کا بیان ہے اللہ نے سب اولاد آدم کو جمع کیا پھر ان کی قسمیں جدا جدا چھانٹیں پھر ان کو صورتیں عطا کیں پھر ان کو گویا کیا چناچہ سب نے کلام کیا پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور ان سے خود انہی پر اقرار طلب کیا اور فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں (سب نے کہا کیوں نہیں) اللہ نے فرمایا میں (تمہارے اس اقرار پر) ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو شاہد بناتا ہو اور تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کو بھی گواہ بناتا ہوں تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس (توحید) کا علم بھی نہ تھا خوب سمجھ لو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں میرا کسی کو شریک نہ بنانا میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو میرے اس عہد و میثاق کی یاد دہانی کریں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا سب نے جواب دیا ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو ہی بلاشک ہمارا رب ہے ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ ہمارا کوئی رب ہے نہ کوئی معبود۔ اس کے بعد ان کو حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سامنے لایا گیا حضرت آدم نے اوپر سے ان کا معائنہ کیا۔ مالدار ‘ نادار ‘ خوبصورت ‘ بدصورت سب ہی دکھائی دیئے عرض کیا پروردگار تو نے اپنے بندوں کو یکساں کیوں نہیں کردیا اللہ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے (امیر فقیر کو دیکھ کر شکر ادا کرے اور خوبصورت بدصورت کو دیکھ کر) حضرت آدم ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں انبیاء کو چراغوں کی طرح نورانی دیکھا انبیاء سے خاص طور پر رسالت و نبوت کے متعلق ایک میثاق علیحدہ لیا گیا۔ اسی میثاق کی بابت اللہ نے فرمایا ہے (واذ اخذنا من النبیین میثاقہم۔۔ وعیسٰی بن مریم) تک۔ عیسیٰ بن مریم بھی انہی ارواح میں شامل تھے جن کو اللہ نے مریم (علیہما السلام) کی طرف بھیجا تھا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ : کا قول روایت میں آیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم کے منہ سے ان کے اندر داخل ہوئے۔ رواہ احمد بعض روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں کسی چیز کو میرا شریک نہ بنایا جو میرا شریک قرار دے گا اور مجھ پر ایمان نہیں لائے گا میں اس سے انتقام لوں گا اور سب نے اس کا اقرار لیا۔ اس جملہ کے بعد اتنا اور بھی آیا ہے کہ اللہ نے ان کی عمریں ‘ رزق اور مصائب لکھ دیئے اور میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے اس کے بعد اس روایت میں یہ الفاظ بھی آئے کہ اللہ نے جب ان سے توحید کا اقرار لے لیا اور بعض کو بعض پر گواہ بنا لیا تو سب کو آدم ( علیہ السلام) کی پشت کی طرف لوٹا دیا اب اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی جب تک وہ تمام آدمی نہ پیدا ہوجائیں جن سے میثاق لیا گیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جب اللہ نے اولاد آدم ( علیہ السلام) کو آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے برآمد کیا تو پھر واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظہورہمکا کیا معنی ہے (کیونکہ اس آیت میں اولاد آدم کی پشت سے برآمد کرنے کا ذکر کیا ہے آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے نکالنے کا ذکر نہیں ہے) میں کہتا ہوں کہ آدم کی پشت سے برآمد کرنے کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ بعض علماء نے مذکورۂ بالاشبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ نے اولاد آدم ( علیہ السلام) میں سے ایک کو دوسرے کی پشت سے برآمد کیا جیسا کہ دنیا میں ان کی پیدائش ہوتی ہے تو اب آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے برآمد کرنے کے ذکر کی کوئی ضرورت نہ رہی کیونکہ سب آدم ہی کی اولاد تھی لہٰذا سب کا خروج آدم ( علیہ السلام) ہی کی پشت سے کیا گیا۔ اسی لئے آیت میں آدم کی پشت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ میں کہتا ہوں حدیث میں سب کا خروج آدم کی پشت سے بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب بعض لوگ بعض کی پشت میں تھے اور سب کے اصول آدم کی پشت میں تھے تو سب آدم کی پشت میں ہوئے لہٰذا آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے سب کا برآمد ہونا صحیح ہوگیا یا یوں کہا جائے کہ حدیث میں جو لفظ آدم ( علیہ السلام) آیا ہے اس سے مراد آدم ( علیہ السلام) مع اولاد ہیں۔ اصل کو ذکر کرنے کے بعد شاخوں کے ذکر کی ضرورت نہیں اس لئے صرف آدم کا نام آگیا۔ میں کہتا ہوں کہ حدیث میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کے دائیں بائیں شانہ پر ہاتھ مارنے اور گوری کالی نسل کے برآمد ہونے کا ذکر آیا ہے اس حدیث میں مراد یہ ہے کہ اللہ نے آدم کے شانہ پر یا ان کی اولاد میں سے بعض کے شانہ پر ہاتھ مارا۔ بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر کا قول ہے کہ اہل سعادت نے تو برضائے قلبی ربوبیت کا اقرار کیا تھا اور اہل شقاوت نے بکراہت خاطر منافقت کے ساتھ۔ آیت (وَلَہٗ اَسْلَمَ من فی السمٰوٰات والارض طوعًا وکَرْہًا) کا یہی مطلب ہے۔ شہِدنَاہم گواہی دیتے ہیں۔ سدی نے لکھا ہے یہ اللہ کا قول ہے (بندوں کا جواب بلیٰ پر ختم ہوگیا) اللہ نے اپنی طرف سے اور اپنے ملائکہ کی طرف سے فرمایا کہ ہم اس میثاق ازل کے شاہد ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ فقرہ بھی بندوں کے کلام کا جز ہے (اور بلی کے بعد شہدنا بھی بندوں نے ہی کہا تھا) جب اللہ نے الست بربکم فرمایا تو بندوں نے بلی کہا اور جب ایک کو دوسرے کے اقرار کا شاہد بنایا تو سب نے شہدناکہا۔ کلبی کا بیان ہے کہ یہ ملائکہ کا قول ہے کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا اولاد آدم نے جب بلیٰ کہا تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا اس اقرار کے شاہد رہو فرشتوں نے عرض کیا ہم شاہد ہیں۔ ان تقولوا یوم القیٰمۃ یہ جملہ کلام سابق کی علت ہے گویا مفعول لہ ہے یعنی تم کو الست بربکمکہہ کر خطاب اس لئے کیا کہ قیامت کے دن تم کہیں یہ نہ کہنے لگو۔ انّا کُنَّا عن ہذا غفلینہم اس اقرار یا اس میثاق سے بیخبر تھے۔ وکنا ذریۃ من بعدہم یعنی ہم ان کے بعد آئے تھے اور ان کے تابع تھے ہم نے تو ان کی پیروی کی تھی (مجرم تو ہمارے بڑے تھے) افتہلکنا کیا تو ہم کو عذاب دے گا سزا دے گا۔ المبطلون یعنی مشرک اسلاف۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کہیں تم اپنی بیخبر ی کو یا تقلید اسلاف کو عذر میں نہ پیش کرنے لگو۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں

وکذلک نفصل الایت ولعلہم یرجعون۔ اور ہم آیات کو اسی طور پر صاف صاف بیان کیا کرتے ہیں (تاکہ وہ غور کریں) اور تاکہ وہ باز آجائیں۔ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُیعنی ہم یونہی آیات کو واضح طور پر کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ بندے ان پر غور کریں اور بھولے ہوئے عہد کو یاد رکھیں اور کفر سے توحید کی طرف لوٹ آئیں اس مطلب پر لعلہم یرجعونکا عطف ایک محذوف جملہ پر ہوگا یعنی لعلہم یتدبرون ویتذکرون مانسوا ویرجعون۔ جمہور مفسرین اور علمائے سلف نے احادیث کی روشنی میں آیات مذکورہ کا مطلب حسب تفسیر مندرجہ بالا بیان کیا ہے۔ بیضاوی اور بیضاوی کے مقلدوں نے (جمہور سلف کے خلاف) آیات مذکورہ کی تفسیر اس طرح کی ہے۔ واذا اخذ ربک اور جب آپ کے رب نے لیا یعنی آدم اور نسل آدم کی پشت سے مختلف زمانوں میں انسانوں کو ایک کے بعد ایک کو پیدا کیا۔ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰی انفسہم یعنی دلائل ربوبیت قائم کردیں اور لوگوں کے دماغوں کے اندر وہ قوت فہم پیدا کردی جو اقرار توحید کی دعوت دے رہی ہے گویا وہ اس درجہ پر پہنچ گئے (اور تقاضائے فطرت یہ ہوگیا کہ جب ان سے الست بربکم کہا گیا تو انہوں نے بلٰیکہہ دیا (یعنی یہ سوال و جواب اگرچہ واقع میں نہیں ہوئے لیکن جب اللہ نے ان کو علم عطا کردیا اور دلائل ربوبیت کی فطرت تخلیق کردی تو یہی تخلیق اور عطاء قوت بطور تشبیہ گواہ بنانا اور اقرار کرنا ہوگیا۔ بیضاوی نے اس مطلب کی تائید میں لکھا ہے کہ آیت کے الفاظ خود اسی مطلب پر دلالت کر رہے ہیں اناکنا عن ہذا غفلین یعنی کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم اس سے غافل تھے تو نے کسی دلیل سے ہم کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ شرک تو ہمارے اسلاف نے کیا تھا وہی شرک کے مؤسس تھے ہم تو ان کے مقلد و پیرو تھے ہم نے ان کی اقتدا کی۔ قیامت کے دن یہ عذر اس وجہ سے نہیں پیش کیا جاسکتا کہ جب دلائل موجود ہیں اور دلائلِ توحید کا علم حاصل کرنے کی قدرت ہے تو پھر کو را نہ اتباع سلاف ناقابل معذرت ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کلام کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک تو توریت کے اندر یہودیوں سے میثاق خاص طور پر لیا گیا تھا دوسرے فطری عمومی میثاق توحید بھی موجود ہے اس طرح نقلی دلیل کی بھی تکمیل ہوگئی اور عقلی شہادت بھی کافی ہوگئی لہٰذا خود نظر اور استدلال سے کام لینے کی ضرورت ہے اور تقلید اسلاف کے بندھن کاٹ دینے لازم ہیں (گویا ان آیات کے مخاطب خاص طور پر یہودی ہیں جن کو فطرت سلیمہ قوت عقلیہ اور فہم و دانش کی تمام طاقتیں عطا کی گئی تھیں جیسے دوسرے لوگوں کو عطا کی گئی ہیں پھر توریت میں بھی ان سے میثاق لے لیا گیا تھا) اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے آخری آیت (وکذلک نفصل الایات ولعلہم یرجعون) ۔ میثاق الست کے متعلق جو احادیث آئی ہیں بیضاوی اور ان کے متبعین ان احادیث کی اسی نہج پر تاویل کرتے ہیں۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا

واتل علیہم نبا الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منہا فاتبعہ الشیطن فکان من الغوین : اور آپ ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا کیں پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وہ گمراہ لوگوں میں سے ہوگیا
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں

ولو شئنا لرفعنہ بہا ولکنہ اخلد الی الارض واتبع ہوہ : اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے ہو لیا۔ علیہم یعنی یہودیوں کو۔ فَانسَلخ منہاپس وہ آیتوں سے نکل گیا یعنی آیات سے روگرداں ہوگیا اور انکار کردیا۔ یہ قصہ بقول حضرت ابن عباس ؓ : بلعم بن باعور کا اور بقول مجاہد بلعام بن باعور کا ہے عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ بلعم اسرائیلی تھا۔ ابو طلحہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کنعانی تھا اور حبارون (یعنی عمالقہ) کے شہر کا رہنے والا تھا۔ مقاتل نے کہا وہ شہر بلقاء کا باشندہ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ :‘ محمد بن اسحاق اور سدی وغیرہ نے اس کا قصہ حسب تفصیل ذیل بیان کیا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جب عمالقہ سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا اور ملک شام میں علاقۂ کنعان میں جا کر قیام کیا تو کچھ (کنعان کے) آدمی بلعام کے پاس گئے کیونکہ بلعم کو اسم اعظم معلوم تھا اور اس سے کہا موسیٰ تیز مزاج کے آدمی ہیں ان کے پاس لشکر بھی بہت ہے وہ اس لئے ہمارے ملک میں آئے ہیں کہ ہم کو ہماری بستیوں سے نکال دیں اور ہم کو قتل کردیں اور ہماری جگہ بنی اسرائیل کو آباد کردیں آپ کی دعا قبول ہوتی ہے ہمارے لئے آپ دعا کر دیجئے کہ اللہ بنی اسرائیل کو ہماری طرف سے پھیر دے بلعم نے جواب دیا ارے کم بختو موسیٰ نبی ہیں ان کے ساتھ فرشتے اور مؤمن ہیں میں ان کے خلاف کس طرح بددعا کرسکتا ہوں اللہ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اگر میں تمہارے کہنے کے موافق کروں گا تو دنیا اور آخرت دونوں میری تباہ ہوجائیں گی۔ لوگوں نے پھر اصرار کیا بہت زاری کی تو بلعم نے کہا اچھا میں اپنے رب سے استخارہ کرلوں بلعم کا قاعدہ تھا کہ جب تک خواب میں کسی بات کی اجازت اس کو نہیں مل جاتی تھی وہ دعا نہیں کرتا تھا چناچہ بنی اسرائیل کے خلاف بددعا کرنے کے معاملہ میں بھی اس نے استخارہ کیا۔ مگر خواب میں اس کو بددعا نہ کرنے کی ہدایت کردی گئی بیدار ہو کر اس نے قوم والوں سے کہہ دیا کہ میں نے استخارہ کیا تھا۔ مجھے بددعا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے یہ انکاری جواب سن کر لوگوں نے اس کو کچھ تحفے ہدیہ پیش کئے اس نے قبول کر لئے تو لوگوں نے پھر بددعا کرنے کی مکرر درخواست کی اور بلعم نے حسب سابق جواب دیا کہ میں اپنے رب سے استخارہ کرلوں چناچہ اس نے استخارہ کیا مگر اس مرتبہ اس کو کوئی جواب نہیں ملا بیدار ہو کر اس نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ میں نے استخارہ کیا تھا مگر مجھے کوئی جواب نہیں ملا لوگوں نے کہا اگر آپ کا بددعا کرنا اللہ کو پسند نہ ہوتا تو وہ ضرور اول مرتبہ کی طرح ممانعت فرما دیتا (اور اس مرتبہ اس نے ممانعت نہیں فرمائی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو بددعا کرنا ناپسند نہیں ہے لہٰذا آپ بنی اسرائیل کے لئے بددعا کر دیجئے) لوگ اپنی درخواست پر برابر اصرار کرتے رہے اور اتنی زاری اور عاجزی کی کہ بلعم فریب کھا گیا اور قوم والے بہکانے میں کامیاب ہوگئے چناچہ بلعم ایک خچر پر سوار ہو کر کوہ جبتان کی طرف گیا تاکہ اوپر چڑھ کر بنی اسرائیل کے لشکر کا معائنہ کرلے مگر پہاڑ پر کچھ ہی چڑھا تھا کہ خچر بیٹھ گیا بلعم نے اتر کر خچر کو مارا ‘ خچر اٹھ کھڑا ہوا ‘ بلعم پھر سوار ہوگیا مگر زیادہ نہ چلا تھا کہ پھر بیٹھ گیا بلعم نے پھر اسے مارا اب اللہ نے خچر کو بات کرنے کی طاقت عنایت کردی اور خچر نے (اللہ کی طرف سے) حجت تمام کرتے ہوئے کہا کم بخت بلعم تو کہاں جا رہا ہے کیا تجھے میرے سامنے ملائکہ نظر نہیں آتے جو مجھے لوٹا رہے ہیں تو اللہ کے نبی اور مؤمنوں کے خلاف بددعا کرنے جا رہا ہے بلعم نے پھر بھی خچر کو نہیں چھوڑا اور اس پر سوار ہو کر ہی کوہ حیتان کے اوپر بددعا کرنے کے لئے پہنچ گیا لیکن بددعا کا جو کلمہ زبان سے نکلتا تھا وہ قوم کے لئے نکلتا تھا اور خیر کی دعا جو اپنی قوم کے لئے مانگنے کا ارادہ کرتا تھا اس وقت زبان بنی اسرائیل کی طرف پھرجاتی تھی۔ (گویا بنی اسرائیل کا لفظ زبان سے نکلتا تھا مگر اپنی قوم کا نام زبان سے نکلتا تھا اور اپنی قوم کا زبان سے لیتا تھا تو بنی اسرائیل کا لفظ زبان پر آجاتا تھا) قوم والوں نے کہا بلعم آپ کو معلوم بھی ہے آپ کیا کر رہے ہیں ‘ بنی اسرائیل کے لئے دعا اور ہمارے لئے بددعا کر رہے ہیں بلعم نے جواب دیا اس پر میرا کچھ اختیار نہیں یہ تو اللہ ہی کی طرف سے کرا دیا جاتا ہے میں مجبور ہوں (بددعا کرنے کے وبال میں) بلعم کی زبان سینہ پر لٹک آئی کہنے لگا لوگو اب میری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوگئیں اب سوائے چالبازی اور مکاری کے تمہارے کام کا اور کوئی راستہ نہیں رہا اب مجھے تمہارے لئے مکاری سے کام لینا پڑے گا جاؤ کچھ عورتوں کو بناؤ سنگھار کرا کے کچھ تجارتی سامان ان کے ہاتھوں میں دے کر بنی اسرائیل کے لشکر میں بیچنے کے لئے بھیج دو اور حکم دے دو کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص اگر تمہاری طرف دست درازی کرے تو وہ انکار نہ کریں کیونکہ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی زنا کرلیا تو پھر سب لشکر کے مقابلہ میں تم کو میابی ہوجائے گی لوگوں نے اس مشورہ کو مان لیا جب عورتیں لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت جس کا نام کشتی بنت صور تھا ایک اسرائیلی سردار کی طرف سے گزری اس سردار کا نام زمری بن شلوم تھا یہ سبط شمعون کا سرگروہ تھا زمری عورت کے حسن پر ریجھ گیا اور اٹھ کر اس نے عورت کا ہاتھ پکڑ لیا اور عورت کو لے جا کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا میرا خیال ہے کہ آپ یہی کہیں گے کہ یہ عورت تیرے لئے حرام ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا ہاں یہ تیرے لئے حرام ہے تو اس کے قریب بھی نہ جا۔ زمری بولا خدا کی قسم اس کے معاملہ میں میں آپ کی بات نہیں مانوں گا چناچہ عورت کو لے کرخیمہ کے اندر چلا گیا اور اس سے قربت کی۔ زنا کرنا تھا کہ فوراً اللہ نے طاعون کو بنی اسرائیل پر مسلط کردیا جس سے ستّر ہزار آدمی ایک گھنٹہ میں مرگئے۔ فیحاص بن عیزار بن مرون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقررہ کردہ ایک سردار تھا جو حاکم لشکر تھا۔ یہ شخص قوی الجثہ اور طاقتور بھی تھا۔ زمری نے جس وقت یہ حرکت کی تھی اس وقت فیحاص لشکر میں موجود نہ تھا جب لشکر میں لوٹ کر آیا اور فوج میں طاعون پھیلا ہوا دیکھا اور زمری کی حرکت معلوم ہوئی تو فوراً اپنا چھوٹا برچھا جو پورے لوہا کا تھا لے کر زمری کے خیمہ میں گھس گیا زمری اور وہ عورت دونوں ہم خواب تھے فیحاص نے نیزہ چبھو کر دونوں کو ایک ہی نیزہ میں پرو لیا اور دونوں کو اسی حالت میں اٹھائے ہوئے باہر آیا ہاتھ میں نیزہ پکڑے ہوئے تھا ہاتھ اوپر کو تھا اور کہنی پہلو سے ٹکی ہوئی تھی اور دونوں لاشیں فیحاص کے جبڑوں سے لگی ہوئی تھیں اسی حالت میں رو کر دعا کرنے لگا الٰہی جو تیری نافرمانی کرتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے اس پر (اللہ کو رحم آگیا اور اس نے) بنی اسرائیل سے طاعون اٹھا لیا یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل جو ذبیحہ ذبح کرتے ہیں اس کا دست جبڑا اور پہلو فیحاص کی اولاد کو دیتے ہیں کیونکہ فیحاص نے زمری اور عورت کو نیزہ میں پرو کر نیزہ ہاتھ میں اٹھا کر کہنی کو اپنے پہلو سے ٹیکا تھا اور لاشوں کو اپنے جبڑوں سے لگا کر روک رکھا تھا اور بنی اسرائیل اپنے اونٹوں میں سے ایک نوجوان اونٹنی بھی فیحاص کی اولاد کو دیتے ہیں کیونکہ فیحاص عیزار کا جیٹھا بیٹھا تھا۔ بلعم ہی کے متعلق اللہ نے آیت (واتل علیہم نبَا الذی اٰتینٰہ اٰیتٰناالخ) نازل فرمائی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ شاہ بلقاء نے بلعم سے کہا کہ موسیٰ کے لئے بددعا کرو بلعم نے کہا وہ میرے ہم مذہب ہیں میں ان کے لئے بددعا نہیں کروں گا۔ بادشاہ نے صلب کے تختے نصب کرائے (اور حکم دیا کہ بددعا کرو ورنہ تم کو صلیب پر لٹکا دوں گا) بلعم نے یہ حالت دیکھی تو خچر پر سوار ہو کر بددعا کرنے کے لئے بستی سے باہر نکلا بنی اسرائیل کے لشکر کے سامنے پہنچا تو خچر رک گیا۔ بلعم نے خچر کو مارا خچر نے کہا تو مجھے کیوں مارتا ہے۔ مجھے تو حکم ہی یہ ملا ہے میرے آگے یہ آگ ہے جو مجھے چلنے سے روک رہی ہے۔ بلعم لوٹ آیا اور بادشاہ سے واقعہ بیان کردیا۔ بادشاہ نے کہا تم کو بددعا تو کرنی ہوگی ورنہ میں صلیب پر لٹکا دوں گا۔ آخر بلعم نے اسم اعظم پڑھ کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے بددعا کی کہ وہ اس شہر میں داخل نہ ہوں بددعا قبول ہوگئی اور اس کی بددعا کی وجہ سے بنی اسرائیل تیہ میں پھنس گئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار ہم کس جرم کی وجہ سے تیہ میں پھنس گئے۔ اللہ نے فرمایا بلعم کی بددعا کی وجہ سے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار جس طرح تو نے اس کی بددعا میرے متعلق قبول فرمائی میری بددعا اس کے متعلق بھی قبول فرما لے اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بددعا کی بلعم سے اسم اعظم اور ایمان چھین لیا جائے موسیٰ کی بددعا سے اس کی معرفت سلب کرلی اور ایمان اس طرح کھینچ لیا جیسے بکری کی کھال کھینچ لی جاتی ہے۔ سفید کبوتر کی شکل کی ایک صورت اس کے اندر سے نکل گئی آیت فانسلخ منہا سے یہی مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ ‘ سعید بن مسیب ‘ زید بن اسلم اور لیث بن سعد کا قول روایت میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول امیہ بن صلت ثقفی کے متعلق ہوا اس شخص نے (آسمانی) کتابیں پڑھی تھیں اور اس کو معلوم تھا کہ اللہ ایک پیغمبر ضرور بھیجے گا مگر اس کو امید لگی ہوئی تھی کہ وہ پیغمبر میں ہی ہوں گا جب محمد : ﷺ کو پیغمبر بنا دیا گیا تو امیہ کو حسد ہوگیا اور آپ کی بعثت کا اس نے انکار کردیا۔ تھا یہ بڑا دانشمند اور اچھا واعظ۔ ایک دفعہ بادشاہ کے پاس سے لوٹ رہا تھا تو مقام بدر کی طرف سے اس کا گزر ہوا اور بدر کے مقتولوں کو اس نے دیکھا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محمد ﷺ نے ان کو قتل کیا ہے کہنے لگا اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو اپنے قرابت داروں کو قتل نہ کرتے۔ امیہ کے مرنے کے بعد اس کی بہن فارعہ رسول اللہ : ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضور : ﷺ نے اس کے بھائی کے مرنے کے متعلق دریافت کیا فارعہ نے عرض کیا۔ امیہ نے سوتے میں دیکھا کہ دو آنے والے چھت پھاڑ کر نیچے اترے ‘ ایک اس کے بائیں بیٹھ گیا اور دوسرا سرہانے۔ پائیں والے نے سرہانے والے سے پوچھا کیا (اس کا دل) ہوشیار ہے اس نے کہا ہوشیار ہے بائیں والے نے کہا کیا (نفسانی جذبات سے) پاک ہے اس نے کہا مغرور ہے۔ فارعہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے امیہ سے اس کی تعبیر پوچھی تو اس نے جواب دیا کسی بھلائی کا میرے بارے میں ارادہ کیا گیا تھا مگر وہ بھلائی لوٹا دی گئی۔ اتنا کہنے کے بعد اس پر بےہوشی طاری ہوگئی جب ہوش آیا تو کہنے لگا۔ زندگی کتنی ہی مدت تک لمبی ہو اس کو کبھی زوال کی طرف جانا ہی ہے۔ جو حالت میرے سامنے آئی کاش اس سے پہلے ہی میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہاڑی بکرے چراتا (یعنی گوشہ گیر ہو کر سب انسانوں سے الگ جا رہتا) بلاشبہ حساب فہمی کا دن بڑا دن ہوگا ایسا بھاری دن ہوگا کہ (شدت ہول سے) بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اپنے بھائی کے (کچھ اور) شعر سناؤ۔ فارعہ نے بعض قصائد سنائے حضور ﷺ نے فرمایا اس کے شعر مؤمن ہیں مگر دل کافر تھا امیہ ہی کے بارے میں اللہ نے نازل فرمایا ( اتل علیہم نبأ الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منہا الخ) ۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی اسرائیل کے ایک شخص بسولس کے متعلق ہوا اس شخص کو تین دعائیں کرنے کا حق دیا گیا تھا (یعنی اطلاع دے دی گئی تھی) کہ تیری دعائیں قبول کرلی جائیں گی) اس کی بیوی بھی تھی اور بیوی سے کچھ اولاد بھی۔ بیوی نے ایک دن اس سے کہا اپنی ایک دعا میرے لئے کر دے بسولس نے پوچھا تو کیا چاہتی ہے بیوی نے کہا اللہ سے دعا کر دے کہ میں بنی اسرائیل کی سب عورتوں سے زیادہ حسین ہوجاؤں بسولس نے دعا کردی عورت سب سے زیادہ خوبصورت ہوگئی خوبصورت ہونے کے بعد عورت کو احساس ہونے لگا کہ میری طرح حسین بنی اسرائیل میں کوئی بھی نہیں ہے یہ احساس ہوتے ہی اس نے شوہر سے بےالتفاتی شروع کردی شوہر کو غصہ آیا اور اس نے بددعا کی عورت فوراً کتیا بنا دی گئی جو پڑی بھونکتی رہتی تھی۔ بسولس کی دو دعائیں ختم ہوگئیں۔ ماں کی یہ حالت دیکھ کر اس کے لڑکے آئے اور کہنے لگے ہم صبر نہیں کرسکتے ہم کو چین نہیں آسکتا کہ ہماری ماں کتیا بنی رہے اور لوگ ہمیں عار دلاتے رہیں آپ دعا کیجئے کہ اللہ ہماری ماں کو اصلی حالت پر کر دے۔ مجبوراً بسولس نے دعا کی اور بیوی اصلی حالت پر آگئی اس طرح اس کی تینوں دعائیں بیکار گئیں۔ بغوی نے لکھا ہے پہلے دونوں قول (یعنی بلعم یا امیہ کے متعلق آیت کا نزول) زیادہ ظاہر ہے۔ میں کہتا ہوں دوسرے قول کی تردید تو خود آیات کر رہی ہیں اللہ نے فرمایا ہے (قالوا یموسٰی انا لن لدخلہا بدًا ما داموا فیہا فاذہب انت وربک فقاتلا انا ہٰہُنَا قاعدون قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفاسقین قال فانہا محرمۃ علیہم اربعین سنۃ یتیہوں فی الارض الخ) یہ آیت صاف بتارہی ہے کہ بنی اسرائیل کا تیہ میں سرگرداں پھرنا بلعام کی بددعا کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خود انہی کے قول (وَاِنَّا لَنْ نَدْخُلَہَا) کی وجہ سے تھا۔ حسن اور ابن کیسان کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول منافقین اہل کتاب کے متعلق ہوا جو اپنے بیٹوں کی طرح بلاشبہ رسول اللہ : ﷺ کو پہچانتے تھے اور پھر بھی سچے دل سے ایمان نہیں لائے۔ قتادہ نے کہا (آیت میں کوئی خاص شخص یا گروہ مراد نہیں ہے بلکہ) اللہ نے بطور تمثیل اس شخص کی حالت بیان کی ہے جس کے سامنے ہدایت کو اللہ لے آیا لیکن وہ استقبال ہدایت کے لئے تیار نہ ہوا اور قبول کرنے سے انکار کردیا (گویا ایتنا سے مراد ہے ہدایت) حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کے نزدیک آیات سے مراد اسم اعظم ہے دوسری روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے اس کو اللہ کی کوئی کتاب دی گئی تھی مگر وہ کتاب (کے احکام) سے اس طرح نکل گیا جیسے سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے۔ ابن زید نے کہا وہ اللہ سے جو کچھ مانگتا وہ اللہ عطا فرما دیتا ہے (آیات سے مراد ہے) فَاَبْتَعَہٗ الشَّیْطَانُپھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا یا شیطان نے اس کو اپنے پیچھے لگا لیا۔ فکان من الغاوین پھر وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔ لَرَفَعْنَاہ بالْاٰیَتِیعنی آیات کے ذریعہ سے ہم چاہتے تو اس کا مرتبہ ابرار کے مرتبہ کے برابر کردیتے۔ مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا کہ اگر ہم چاہتے تو آیات کے ذریعہ سے ہم اس کو کفر سے اٹھا لیتے اور بچا لیتے۔ اخلد الی الارض مگر وہ دنیا اور پستی کی طرف مائل ہوگیا۔ زمین پست ہے دنیا بھی پست ہے پستی کی مناسبت سے بطور کنایہ دنیا کو ارض فرمایا۔ یا یوں کہا جائے کہ دنیا کا سارا مال متاع اسباب جائیداد زمین ہی کی پیداوار ہے اس لئے زمین بول کر دنیا مراد لی۔ زجاج نے کہا۔ خَلَدَ (مجرد) اور اَخْلَدَ (مزید) دونوں ہم معنی ہیں خلد کا اصل (لغوی) معنی ہے۔ دوام اور قیام۔ اخلد فلان بالمکان فلاں شخص نے فلاں جگہ قیام کیا۔ واتبع ہواہ اور وہ اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے لگ گیا یعنی دنیا کو اس نے اختیار کیا اور اپنی قوم کی رضامندی کا خواستگار رہا اور آیات کے تقاضوں سے اعراض کیا۔ انسان کے لئے امکان اور عدم ذاتی ہے اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ پستی کی طرف مائل ہو یعنی زمین پر رہنا اور دنیا کی طرف مائل ہونا اس کا ذاتی اقتضا ہے اور بلند درجات کی طرف اٹھایا جانا ایک امر وہبی ہے جو اللہ کی مہربانی سے حاصل ہوتا ہے اسی لئے اونچے مراتب کی طرف اٹھانے کی نسبت اللہ کی طرف کی اور زمین کی طرف مائل ہونے یعنی دنیا کی طرف راغب ہونے کی نسبت بندہ کی جانب کی گئی بیضاوی نے کہا رفع درجات کو اللہ نے اپنی مشیت سے وابستہ کیا (لیکن شبہ ہوسکتا تھا کہ بلندی حاصل کرنے یا پستی میں پڑے رہنے کے لئے (اعمال بےسود ہیں) تو اس وہم کو دفع کرنے کے لئے فعل عبد (اخلد اور اتبع) کا ذکر کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مشیت خداوندی انسان کے اس فعل کی سبب ہے جو موجب رفعت ہے اور جب انسان موجب رفعت فعل نہیں کرتا تو اس عدم فعل سے عدم مشیت خداوندی معلوم ہوتا ہے انتفاء مسبب انتفاء سبب پر دلالت کرتا ہے۔ سبب حقیقی تو اللہ کی مشیت ہے باقی جو ظاہری اسباب ہم دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں اسباب نہیں بلکہ درمیانی ذرائع ہیں جن سے مسبب (نتیجہ) کا وجود وابستہ ہے یعنی اللہ کی مشیت کے ساتھ جو نتائج کی وابستگی ہے وہ انہی ظاہری اسباب و ذرائع کی وساطت سے ہے۔ اصل کلام تو یوں ہونا چاہئے تھا وَلٰکِنَّہٗ اَعْرض عنہا لیکن اس کی جگہ اَخْلَدَ الی الاَرْضِ واتّبَع ہواہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعرض عن الآیات کا باعث کیا ہے اور اس بات پر بھی تنبیہ ہوجائے کہ دنیا کی محبت ہر گناہ کا سرچشمہ ہے۔ یہ حدیث مرفوع ہے جس کو بیہقی نے بروایت حسن مرسلاً بیان کیا ہے (صحابی کا نام ذکر نہیں کیا) ۔ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلہث او تتر کہ یلہث ذلک مثل القوم الذین کذبوا بایتنا فاقصص القصص لعلہم یتفکرون : سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے یہی حالت (عام طور پر) ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وہ لوگ کچھ سوچیں
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا

سآء مثلا ان القوم الذین کذبوا بایتنا وانفسہم کانوا یظلمون : ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور (اس سے) وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

من یہد اللہ فہو المہتدی ومن یضلل فاولئک ہم الخسرون . جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو ایسے ہی لوگ خسارہ میں رہتے ہیں۔ فمثلہ یعنی اس کی ذلت کی حالت ایسی ہے۔ کمثل الکلبجی سے کتے کی ذلیل ترین حالت یلہث کہ وہ ہر حال میں زبان باہر نکال دیتا ہے ہانپتا ہے پیاس ہو تھکان ہو اس کو ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور دھتکار کر باہر نکالا جائے یا ایسا نہ کیا جائے بہرحال وہ ذلت کے ساتھ زبان باہر نکالے رہتا ہے دوسرے جانوروں کی حالت ایسی نہیں ہے وہ اسی وقت ہانپتے اور زبان باہر نکالتے ہیں جب کوئی خاص سبب ہو تھک جائیں پیاس لگی ہو یا کوئی اور محرک ہو تب وہ زبان باہر نکال دیتے ہیں۔ مجاہد نے کہا یہ حالت اس شخص کی ہوتی ہے جو قرآن پڑھتا تو ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا مطلب یہ کہ کافر کو تم تنبیہ کرو نصیحت کرو یا کچھ کرو وہ کفر سے باز نہیں آتا کچھ نہ کرو تب بھی ہدایت نہیں حاصل کرتا ہمیشہ ہر حال میں گمراہ اور ذلیل رہتا ہے وہ ذلت میں ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کتا جو ہمیشہ زبان باہر لٹکائے رہتا ہے۔ اسی کی ہم معنی ایک اور آیت آئی ہے فرمایا ہے : (وَاِنْ تَدْعُوْہُمْ اِلَی الْہُدٰی لاَ یَتَّبِعُوْکُمْ سَوَاءٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْتُمُوْہُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ) ۔ ذٰلکَ مَثل القوم الذین کذبوا بٰایٰتِنَا یعنی یہ حالت ہے ان یہودیوں کی جنہوں نے آیات کی تکذیب کی۔ رسول اللہ ﷺ کے احوال وصفات کو خود توریت میں پڑھا اور لوگوں کو پیغمبر آخر الزماں کی بعثت قریب ہونے کی بشارت دیتے رہے لیکن جب آپ مبعوث ہوگئے اور ان کے سامنے آگئے اور معجزات ظاہر کردیئے اور قرآن پیش کیا جو عظیم الشان معجزہ ہے اور یہودیوں نے آپ کو یقینی طور پر بغیر کسی شبہ کے پہچان بھی لیا جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں تو توریت کی آیات سے صاف نکل گئے اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا اور زبان لٹکائے ہوئے کتے کی طرح ذلیل ہوگئے توریت کی تنبیہات اور نصیحتوں نے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ تمثیل مذکور کے حکم میں عام طور پر وہ تمام لوگ داخل ہیں جو آیات الٰہیہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ فاقصص القصص پس یہودیوں کے سامنے آپ وہی حال بیان کیجئے جو اوپر ذکر کردیا گیا تاکہ وہ سوچیں اور غور کر کے نصیحت پذیر ہوجائیں اور شخص مذکور کی بدانجامی سے عبرت اندوز ہو کر اس کی رفتار پر نہ چلیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ تمثیل مذکور میں کفار مکہ مراد ہیں ان کو پہلے آرزو تھی کہ کوئی ہادی ہوتا جو ان کو سیدھا راستہ دکھاتا اور کوئی داعی اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیتا لیکن جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوگئے تو باوجودیکہ کافروں کو آپ کی صداقت میں پہلے کبھی شک نہ تھا لیکن رسالت کے دعوے کی تکذیب کرنے لگے اور ہدایت یاب نہ ہوئے دعوت دینا نہ دینا دونوں ان کے لئے یکساں ہوگیا۔ وانفسہم کانوا اس کا عطف کذبوا پر ہے یا سابق کلام سے یہ بالکل جدا ہے (اور تقدیم مفعول حصر کے لئے ہے) مطلب اس طرح ہوگا وہ نہیں ظلم کرتے مگر اپنے ہی اوپر وبال تکذیب انہی پر پڑے گا۔ فہو المہتدی چونکہ منکا لفظ مذکر تھا اس رعایت سے مذکر غائب کی ضمیر ذکر کی لیکن من یضللمعنی کے اعتبار سے جمع ہے اس لئے اولئک ہم الخاسرون بصیغۂ جمع فرمایا۔ چونکہ تمام ہدایات پانے والوں کا طریقہ ایک ہی ہے۔ (توحید نبوت اور قیامت کا اقرار اور ایمان بالقدر وغیرہ) اس لئے فہوی المہتدی فرمایا گویا اس بات پر تنبیہ کی کہ جتنے ہدایت پانے والے افراد ہیں وہ ایک شخص کی طرح ہیں اور چونکہ گمراہی کے راستہ جدا جدا متعدد ہیں اس لئے الخاسرون بصیغۂ جمع فرمایا۔ آیات میں صراحت ہے کہ ہدایت ہو یا گمراہی دونوں اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ کی ہدایت کرنے کا معنی ہے ہدایت یاب بنا دینا۔ خالی راہ ہدایت بنا دینا اور بیان کرنا نہیں ہے جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ معتزلہ کے نزدیک ہدایت الٰہی کا معنی ہے بتادینا۔ بیان کردینا۔ مگر آیات کی صراحت اس کے خلاف ہے۔ فہو المہتدی کا لفظ اس امر کو بھی بتارہا ہے کہ ہدایت یاب ہوجانا ہی درحقیقت بہت بڑا کمال اور عظیم الشان نفع ہے کیونکہ اس سے آئندہ عظیم الشان نعمتوں کا حصول لازمی ہے پس آئندہ زندگی کی کامرانی اور کامیابی کا ذکر کرنے کے بجائے اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے وہی ہدایت یاب ہوتا ہے۔ مقام جابیہ میں حضرت عمر ؓ بن خطاب نے ایک روز خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا من یہدہ للّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ہادی لَہٗکوئی عیسائی یا یہودی یا مجوسی مذہبی عالم سامنے بیٹھا تھا اس نے آخری لفظ سن کر فارسی زبان میں کچھ کہا حضرت عمر ؓ نے مترجم سے پوچھا یہ کیا کہتا ہے مترجم نے کہا یہ کہہ رہا ہے کہ خدا کسی کو گمراہی نہیں کرتا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے دشمن خدا تو جھوٹا ہے۔ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا اور تجھے گمراہ کردیا اور وہی انشاء اللہ تجھے دوزخ میں داخل کرے گا اگر ہمارا معاہدہ نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ اس بیان کے بعد لوگ اٹھ گئے اور تقدیر کی بابت کسی کو اختلاف نہ رہا۔