7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں

فانجینہ والذین معہ برحمۃ منا وقطعنا دابر الذین کذبوا بایتنا وما کانوا مؤمنین۔ غرض (عذاب آیا) اور ہم نے ہود ( علیہ السلام) کو اور ہود کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے (عذاب سے) بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ایماندار نہ تھے۔ دابرجڑ یا پیچھے آنے والی (نسل) جڑ کاٹ دینے سے مراد ہے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا اور سب کو ہلاک کردینا کہ کوئی بھی باقی نہ رہا۔ وما کانوا مؤمنیناس سے درپردہ ان لوگوں کی حالت کا بیان ہوگیا۔ جو ایمان لے آئے تھے اور اس بات پر تنبیہ بھی ہوگئی کہ ایمان ہی نجات و ہلاکت کے درمیان فارق تھا (مؤمن کو بچا لیا گیا اور غیر مؤمن کو ہلاک کردیا گیا) قوم عاد کا قصہ محمد بن اسحاق وغیرہ نے لکھا ہے کہ احقاف یعنی عمان و حضرموت کے درمیان ریگستان میں قوم عاد رہتی تھی اللہ نے اس کو ڈیل ڈول اور جسمانی طاقت بہت زیادہ عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے خداداد طاقت سے ملک میں تباہی مچا رکھی تھی اور چاروں طرف کے لوگوں کو روند ڈالا تھا یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کے تین بت تھے صدا۔ سمود۔ ہبا اللہ نے ان کے ایک درمیانی خاندان کے ایک شخص ہود ( علیہ السلام) کو ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) اگرچہ متوسط النسب تھے مگر اخلاق و فضائل ذاتی میں سب سے برتر تھے حضرت ہود ( علیہ السلام) نے قوم کو توحید کی دعوت دی اور حکم دیا کہ کسی پر ظلم نہ کرو اس سے زیادہ اور کسی بات کا حکم نہیں دیا۔ قوم نے آپ کی تکذیب کی اور بولے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ان لوگوں نے عظیم الشان عمارتیں اور کارخانے بنائے تھے اور جابرانہ اقتدار پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اس سرکشی کی پاداش میں اللہ نے تین برس تک ان سے بارش روک لی جس کی وجہ سے لوگ سخت دکھ اور بےچینی میں مبتلا ہوگئے اس زمانہ کا دستور تھا کہ جب کوئی لاینحل مصیبت آتی تو (مشرک بھی) اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کعبہ کو جا کر مسلم اور مشرک سب مختلف المذاہب سب لوگ حرم میں جمع ہو کر دعا کرتے تھے مکہ میں اس زمانہ میں عمالقہ یعنی عملیق بن لادر بن سام بن نوح کی اولاد رہتی تھی جن کا سردار معاویہ بن بکر تھا معاویہ کی ماں کلہدہ بنت الخیر تھی الخیر قوم عاد ہی کا ایک فرد تھا گویا معاویہ بن بکر کی ننھیال قوم عاد میں کی تھی اسی ناطہ سے قیل بن عنز اور یقیم بن ہزال بن ہزیل اور عتیل بن ضد بن عاد اکبر اور مرثد بن سعد بن عفیر (یہ شخص درپردہ مؤمن تھا) اور معاویہ بن بکر کا ماموں حثیمہ بن جثیر ہر ایک اپنے اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کو لے کر مکہ کو چل دیا پھر لقمان بن عاد اصغر بن عاد اکبر کو عاد والوں نے بھیج دیا غرض مجموعی تعداد ستّر ہوگئی سب لوگ مکہ پہنچ کر معاویہ بن بکر کے پاس ٹھہرے اور ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے روز شرابیں پیتے اور معاویہ بن بکر کی دو خوش آواز گانے والی باندیاں جن کو جراد تین کہا جاتا تھا ان کو گانا سناتی تھیں۔ اسی طرح دو مہینے گزر گئے ایک مہینہ میں تو پہنچے ہی تھے اور ایک مہینہ قیام میں گزرا معاویہ بن بکر نے کہا یہ لوگ آئے تو فریاد اور دعا کرنے مگر غفلت میں پڑے ہوئے ہیں وہاں میرے ننھیال والے تباہ ہو رہے ہیں لیکن کیا کیا جائے یہ مہمان ہیں ان کو نکالتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے اگر میں ان سے کہتا ہوں کہ جس کام کے لئے آئے تھے اس کی تکمیل کے لئے جاؤ تو یہ خیال کریں گے کہ میں ان کی مہمانی سے تنگ آگیا ہوں ادھر لوگ بھوکے پیاسے مر رہے ہوں گے اسی شش و پنج میں تھا کہ اپنی باندیوں سے مشورہ طلب کیا باندیوں نے کہا آپ کچھ شعر کہہ دیں۔ ہم وہ شعر یاد کر کے ان کے سامنے گائیں گی۔ گانا سن کر ضرور ان میں حرکت پیدا ہوگی اور معلوم بھی نہ ہو کہ ان شعروں کا تصنیف کرنے والا کون ہے معاویہ نے اس رائے کو پسند کیا اور حسب ذیل شعر کہے۔ اے قیل اور ہیثم اٹھ شاید اللہ بارش سے ہم کو سیراب فرما دے جس سے قوم عاد سیراب ہو ان لوگوں کی تو ایسی حالت ہوگئی کہ سخت پیاس کی وجہ سے بات بھی نہیں کرسکتے نہ بوڑھے کی امید ہے نہ بچے کی۔ پہلے عورتیں عافیت سے تھیں مگر اب عورتیں بھی سخت پیاسی ہوگئیں۔ قوم عاد کو کھانے کے لئے علی الاعلان درندے گشت کر رہے ہیں اور کسی عاد والے کے تیروں کا ان کو اندیشہ نہیں اور تم لوگ یہاں مزے میں سارے دن رات گزار رہے ہو اے وفد والو تمہارا برا ہو تم کو سلامتی اور خوش آمدید نصیب نہ ہو۔ باندیوں نے یہ اشعار گائے تو وفد والے آپس میں کہنے لگے تم کو قوم نے آئی ہوئی مصیبت کو ٹالنے کی دعا کرنے بھیجا تھا اور تم نے یہاں تاخیر کردی اب حرم میں چلو اور قوم کے لئے بارش کی دعا کرو۔ مرثد بن مسعود بن عفیر جو درپردہ مؤمن ہوگیا تھا بولا خدا کی قسم تمہاری دعاؤں سے بارش نہیں ہوگی ہاں اگر اپنے نبی کا حکم مانو گے اور اپنے رب سے توبہ کرو گے تو بارش ہوگی۔ اس وقت مرثد نے اپنا اسلام ظاہر کردیا اور مندرجہ ذیل شعر کہے۔ عاد نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے پیاسے ہوگئے آسمان پر ایک قطرہ نہیں برساتا ان کا ایک بت ہے جس کو صمود کہا جاتا ہے اور اس کے سامنے صدا اور ہبا بھی ہیں۔ اللہ نے رسول کے ذریعہ سے ہم کو راہ ہدایت دکھائی ہم نے سیدھا راستہ دیکھ لیا اور نابینائی جاتی رہی جو معبود ہود کا ہے وہی میرا معبود ہے اللہ ہی پر بھروسہ ہے اور اسی سے آس ہے۔ اہل وفد نے معاویہ بن بکر سے کہا مرثد کو روک لو یہ ہمارے ساتھ مکہ کو نہ جائے لیکن مرثد بن سعدمعاویہ کے گھر سے نکل گیا اور وفد والوں کو دعا کرنے سے پہلے ہی جا پکڑا جس مصیبت کو دور کرنے کی دعا کرنے کے لئے نکلے تھے اگر دعا کر چکتے تو اس سے سنگین مصیبت میں سب گرفتار ہوجاتے۔ مگر دعا کرنے سے پہلے ہی مرثد آپہنچا ادھر اہل وفد دعا کرنے کھڑے ہوئے اور ادھر مرثد نے علیحدہ دعا کرنی شروع کی اے اللہ تنہا میرا سوال میرے لئے پورا کر دے اور وفد والے جو دعا کر رہے ہیں اس میں مجھے شامل نہ فرما۔ قیل بن عنز وفد کا سردار تھا اس لئے وفد والوں نے دعا کی اے اللہ قیل کی دعا قبول فرما اور ہماری درخواست کو اس کی دعا کے ساتھ شامل کر دے۔ اس دعا کے وقت لقمان بن عاد جو قوم عاد کا ایک سردار تھا الگ رہا جب وفد والے دعا کرچکے تو لقمان نے دعا کی الٰہی میں تیرے سامنے تنہا اپنی گزارش لے کر آیا ہوں میری دعا قبول فرما یہ کہہ کر لقمان نے اپنے لئے درازی عمر کی دعا کی چناچہ اس کی عمر سات گدوں کی برابر ہوئی۔ قیل بن عنز نے دعا کی تھی الٰہی اگر ہود ( علیہ السلام) سچے ہیں تو ہم کو سیراب فرما ہم مرے جا رہے ہیں دعا کے نتیجہ میں اللہ نے تین رنگ کے بادل نمودار فرمائے سفید ‘ سرخ ‘ سیاہ اور ابر میں سے ایک منادی نے ندا دی اے قیل اپنے اور اپنی قوم کے لئے ان بادلوں میں سے ایک کا انتخاب کرلے۔ قیل نے کہا میں کالے بادل کا انتخاب کرتا ہوں کالی گھٹا سے خوب بارش ہوتی ہے۔ منادی نے ندا دی تو نے راکھ پسند کی ‘ قوم عاد میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ کالا بادل جس کا انتخاب قیل نے کیا تھا۔ اپنے سارے عذاب کو لے کر عاد کی طرف روانہ ہوگیا اور قوم کی بستیوں پر پہنچ کر کالی گھٹا بن گیا لوگ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اس ابر سے ہم پر ضرور بارش ہوگی۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کے جلد آجانے کے تم خواستگار تھے یہ ایک آندھی ہے جس کے اندر دردناک عذاب ہے یہ آندھی اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دے گی بادل کے اندر سب سے پہلے ایک عورت کو جس کا نام مہدر تھا تباہ کن طوفان دکھائی دیا اور طوفان کو دیکھ کر وہ بےہوش ہوگئی کچھ دیر کے بعد ہوش میں آئی اور لوگوں نے پوچھا تجھے کیا نظر آیا تو کہنے لگی میں نے آگے کے شعلوں کی طرح ایک آندھی دیکھی جس کو کچھ لوگ (جانور کی طرح) کھینچ کر لا رہے تھے اللہ نے یہ طوفان قوم عاد پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رکھا جس نے ہر چیز کو تباہ کردیا۔ قوم عاد میں سے کوئی زندہ نہ بچا۔ البتہ حضرت ہود اور آپ کے مؤمن ساتھی ایک باڑہ بنا کر اس کے اندر بیٹھ کر امن سے رہے طوفانی ہوا اندر آتی تو نرم نرم ہوا بن کر بدن پر لگتی اور پُر نشاط تنفس کا سبب بن جاتی تھی اور لدی ہوئی اونٹنیوں کو لگتی تو اٹھا کر اوپر لے جاتی اور کہیں پتھروں سے جا پٹکتی تھی دعا کرنے کے بعد مکہ سے لوٹ کر عاد کا وفد پھر معاویہ بن بکر کے پاس جا کر ٹھہر گیا عاد کی مصیبت کو تیسرا روز تھا کہ ایک اونٹنی سوار چاندنی رات میں وفد کے پاس آپہنچا اور واقعہ کی اطلاع دی۔ اہل وفد نے پوچھا جب تم روانہ ہوئے تھے تو ہود اور ان کے ساتھی کہاں تھے مخبر نے کہا میں نے ان کو سمندر کے ساحل پر چھوڑا تھا لوگوں کو اس کے بیان میں شک ہوا لیکن ہر ملہ بنت بکر نے کہا رب مکہ کی قسم اس نے سچ کہا ہے۔ اہل روایت نے لکھا ہے کہ مرثد بن سعد لقمان بن عاد اور قیل بن عنز کی دعائیں مکہ میں قبول ہوگئی تھیں اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ تمہاری درخواستیں منظور ہیں تم اپنے لئے سوال کا انتخاب کرلو ہاں موت ضرور آئے گی دوامی زندگی حاصل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔ چناچہ مرثد نے دعا کی الٰہی مجھے سچائی اور نیکی عطا کر اس کی دعا قبول ہوگئی۔ لقمان نے دعا کی الٰہی مجھے عمر عطا کر دریافت کیا گیا جتنی پسند کرو۔ لقمان نے سات گدوں کی عمر پسند کی دعا قبول ہوئی لقمان نے یہ دستور بنا لیا کہ گدھ کا نر بچہ انڈے سے نکلا ہوا پکڑ لیتا تھا اور اس کو اپنے پاس رکھتا تھا جب اپنی عمر پر وہ مرجاتا تو دوسرا بچہ پکڑ لیتا تھا اس طرح جب سات بچے اس نے ایک کے بعد ایک پکڑ کر پالے ہر گدھ کی عمر اسی سال ہوئی آخری گدھ لبد تھا جب لبد بھی مرگیا تو لقمان کا بھی اس کے ساتھ انتقال ہوگیا۔ قیل نے کہا جو حال میری قوم کا ہو وہی میرا ہو۔ ندا آئی ان کیلئے تو ہلاکت مقدر ہے قیل نے کہا مجھے پروا نہیں ان کے بعد مجھے زندہ رہنے کی ضرورت نہیں چناچہ جو عذاب قوم پر آیا تھا وہی اس پر آیا اور یہ بھی ہلاک ہوگیا۔ سدی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بغیر بارش کا ایک طوفان مسلط کیا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ اونٹوں کو ان کے بار سمیت طوفان اٹھا کر آسمان اور زمین کے درمیان لے جا رہا ہے تو بھاگ کر گھروں میں گھس گئے اور دروازے بند کر لئے مگر طوفان نے وہاں بھی نہ چھوڑا دروازے اکھاڑ کر اندر گھس کر سب کو ہلاک کردیا اور لاشوں کو باہر لا کر پھینک دیا اس کے بعد اللہ نے سیاہ رنگ کے کچھ پرندے بھیج دیئے اور پرندوں نے لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں جا پھینکا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ طوفان نے ان پر ریت پاٹ دیا سات رات اور آٹھ دن وہ ریت میں دبے رہے ریت کے اندر سے ان کے کر اہنے کی آواز آتی تھی پھر ہوا نے ان کے اوپر سے ریت اڑا دیا اور اٹھا کر ان کو سمندر میں جا گرایا ہمیشہ ہوا ایک خاص اندازہ سے چلتی ہے مگر اس روز اس کی رفتار کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اندازہ کرنے والے بھی اندازہ کرنے سے عاجز ہوگئے۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا

والی ثمود اخاہم صالحا اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے (نسبی) برادر صالح کو بھیجا۔ دینی بھائی مراد نہیں ہے۔ ثمود بن عاثر بن ارم بن سام کی اولاد قبائل ثمود کے نام سے موسوم ہے پانی کی کمی کی وجہ سے اس قبیلہ کا نام ثمود ہوا کیونکہ ثمد الماؤ کا معنی ہے پانی کم ہوگیا۔ ثمود کی بستیاں حجاز اور شام کے درمیان حجر میں وادی قری تک تھیں۔ حضرت صالح بن عبید بن آسف بن ماسح یا رباح بن عبید بن حاذر بن ثمود کے بیٹے تھے۔ قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ صالح نے کہا اے میری قوم (تنہا) اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ قد جآء تکم بینۃ من ربکم ہذہ ناقۃ اللہ الیکم ایۃ فذروہا ناکل فی ارض اللہ ولا تمسوہا بسوء فیاخذکم عذاب الیم تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی ہے یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا کبھی تم کو دردناک عذاب آپکڑے۔ بینَۃٌواضح دلیل جو معجزہ ہونے کی وجہ سے سچائی پر دلالت کر رہی ہے۔ ہَذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِجملہ استینافیہ ہے ناقۃ اللہ میں اضافت اونٹنی کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے یا اللہ کی اونٹنی ہونے کا یہ معنی ہے کہ بغیر معمولی اسباب اور مقررہ ذرائع کے براہ راست اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی بنا پر وہ اللہ کی قدرت کی خاص نشانی ہے۔ اٰیَۃً حال ہے۔ تاکل فی ارض اللّٰہ (مفعول محذوف ہے) یعنی اللہ کی زمین میں چارہ کھاتی رہے۔ لا تمسوہا بسوئ کسی قسم کا دکھ پہنچانے سے پہلے ہاتھ لگانا ضروری ہے اور جب برائی کے ساتھ چھونے کی ممانعت کردی تو ہر قسم کا دکھ دینے کی پُر زور کامل ممانعت ہوگئی۔ فیاخذکمیہ نہی کا جواب ہے (ورنہ تم کو آپکڑے گا)
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو

واذکروا اذ جعلکم خلفآء من بعد عاد وبوأکم فی الارض تتخذون من سہولہا قصورا وتنحتون الجبال بیوتا فاذکروا الآء اللہ ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ اور تم یہ حالت یاد رکھو کہ اللہ نے تم کو عاد کے بعد آباد کیا اور تم کو زمین پر رہنے کو ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو سو اللہ کے ان احسانوں کو یاد کرو اور زمین میں تباہی پھیلاتے مت پھرو۔ بَوَّاَ کُمْتم کو جگہ دی تم کو بسایا۔ فی الارض یعنی حجر کی سرزمین میں۔ تتخذون تم بناتے ہو تعمیر کرتے ہو۔ من سہولہنا یعنی میدانی زمین میں (من بمعنی فی ہے) یا نرم زمین سے یعنی نرم زمین کی اینٹیں کچی یا پکی بنا کر ینحتون پہاڑوں کے اندر سوراخ اور غار بناتے ہو بیوتًا یعنی پہاڑوں کے اندر کھود کر کمرے بنا لیتے ہو۔ تنحتون کے اندر چونکہ تجعلون کا معنی موجود ہے اس لئے بیوتًا مفعول بہ ہوجائے گا یا بیوتًاحال مقدرہ ہے جیسے خطت ہذا الثوب قمیصًاقوم ثمود والے گرمی کے زمانہ میں مٹی (کچی پکی اینٹوں) کے مکانوں میں رہتے تھے اور سردی میں پہاڑوں کے اندر غار کھود کر ان کو کمروں کی طرح بنا کر رہتے تھے۔ ولا تعثوا عثوا (مصدر) سخت ترین فساد۔
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں

قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منہم اتعلمون ان صلحا مرسل من ربہ قالوا انا بما ارسل بہ مؤمنون : صالح کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہا کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کے فرستادہ ہیں غریب مؤمنوں نے کہا بیشک ہم تو اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے
Ayah 7:76

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے

قال الذین استکبروا انا بالذی امنتم بہ کفرون : متکبر لوگ کہنے لگے تم کو جس بات کا یقین ہوگیا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْاسے بڑے سردار اور لیڈر مراد ہیں جو حضرت صالح ( علیہ السلام) پر ایمان لانے کو اپنی ذلت سمجھتے تھے اور اس سے ناک بھوں چڑھاتے تھے۔ اَلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا سے کمزور غریب طبقہ مراد ہے جن کو مغرور لوگ حقیر اور ضعیف سمجھتے تھے۔ لمَنْ اٰمَنَ یا الّذین استضعفوا سے بدل کل ہے یعنی اَلَّذین استضعفوا وہی مؤمن لوگ تھے یا بدل بعض ہے یا کمزور اور غریبوں میں سے صرف مؤمنوں سے کہتے تھے۔ اتعلمون ان صالحایہ بات انہوں نے صرف استہزاء کے طور پر کہی تھی۔ قالوا انا اس تفصیلی جواب کی ضرورت نہ تھی صرف ہاں کہہ دینا کافی تھا لیکن تفصیلی جواب دے کر اہل ایمان یہ بتادینا چاہتے تھے کہ صالح کی نبوت تو ایسی یقینی چیز ہے کہ کسی سمجھدار آدمی کو اس میں شک کرنا ہی نہ چاہئے۔ قال الّذین استکبروایہ بطور مقابلہ مؤمنوں کے قول کی تردید ہے ارسِلَ بِہٖکی جگہ اٰمَنْتُمْ بِہٖکہنے سے اس بات پر تنبیہ تھی کہ جو تمہارا مسلمہ ہے وہ محض مفروضہ ہے جو واقع کے خلاف ہے۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ

فعقروا الناقۃ وعتوا عن امر ربہم وقالوا یا صلح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین : غرض انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے اے صالح جس (عذاب) کی تو ہم کو دھمکی دیتا تھا اس کو ہم پر لے آ اگر تو پیغمبر ہے۔ عقروا یعنی انہوں نے قتل کردیا ازہری نے کہا عقرکا معنی ہے اونٹ کی کونچیں کاٹ دینا پھر اونٹ کو ذبح کرنے کو بھی کہا جانے لگا کیونکہ جو اونٹ بھاگ جاتا تھا اوّل اس کی کونچیں کاٹی جاتی تھیں پھر اس کو قتل کیا جاتا تھا (بغیر کونچ کاٹے وہ قابو میں نہ آتا تھا) قاموس میں ہے عقر زخمی کردینا اور اونٹ یا گھوڑے کی ٹانگ کو مجروح کردیتا۔ صحاح میں ہے عقر الدار اصل مکان عقر الحوض حوض کی جڑ۔ اسی سے ہے عقرت النحل میں نے کھجور کا درخت جڑ سے کاٹ دیا۔ عقرت البعیر میں نے اونٹ کو نحر کردیا۔ قتل کرنے والا اگرچہ صرف قذار بن سالف تھا لیکن چونکہ سب کی رضامندی سے یہ فعل ہوا تھا اس لئے قتل کی نسبت سب کی طرف کردی۔ قذار ایک ٹھگنا نیلی آنکھوں والا سرخ رنگ کا آدمی تھا جیسے فرعون تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا گزشتہ لوگوں میں سب سے برا شقی صالح کی اونٹنی کو قتل کرنے والا تھا اور آنے والے لوگوں میں سب سے بڑا شقی تیرا قاتل ہوگا۔ عتواعتو کا معنی ہے باطل میں غلو کرنا۔ حد سے زیادہ باطل میں گھس جانا۔ عَتی یعتو عُتُوًامغرور ہوگیا قاموس میں ہے عُتُوًا عَتْوًا عِتْیَا (تینوں مصدر ہیں) غرور کرنا حد سے آگے بڑھ جانا۔ عن امر ربہم یعنی اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرنے سے۔ حکم وہی تھا جو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان کو پہنچایا تھا اور فرمایا تھا۔ فذروہا تاکل
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

فاخذتہم الرجفۃ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔ پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر (بستی) میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ الرجفۃ زلزلہ بھونچال۔ قوم ثمود کی ہلاکت ایک سخت چیخ (کڑک) اور زلزلہ سے ہوئی۔ دارہم دار سے مراد ہے دنیا بعض کے نزدیک ان کی سرزمین اور بستی مراد ہے (یعنی مکان مراد نہیں ہے) اسی لئے دار بصیغۂ مفرد ذکر کیا ہے (اگر مکان اور گھر مراد ہوتا تو دیاریا دو (بصیغۂ جمع ذکر کیا جاتا) جاثمین بےجان مردے۔ قاموس میں ہے جَثُمَ الطّائرُوا الانسانُپرندہ اور انسان اپنی جگہ چمٹ کے رہ گیا اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکا بعض کے نزدیک جاثمین سے مراد یہ ہے کہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے جیسے بیٹھے تھے ویسے ہی مرے رہ گئے۔ الناسَ جَثْمَّ کا معنی یہ ہے کہ لوگ سن بیٹھے ہیں جن میں کوئی حرکت نہیں نہ کوئی بات کرتا ہے بعض نے کہا سب کے سب مردہ ہو کر منہ کے بل گرپڑے۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے

فتولی عنہم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالہ ربی ونصحت لکم ولکن لا تحبون النصحین۔ اس وقت صالح ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے رب کا حکم پہنچا دیا تھا اور تمہاری خیر خواہی کی تھی لیکن تم خیرخواہوں کو ہی پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک شبہ زلزلہ سے ساری قوم ہلاک ہوچکی تو پھر ان مردوں کو حضرت صالح نے کس طرح مخاطب بنایا اور لقد ابلغتکم کس سے فرمایا۔ ازالہ : مردوں سے خطاب رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا تھا بدر کے مقولین کو جب ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے (نام لے لے کر) ان کو مخاطب بنایا۔ صحیحین میں حضرت ابو طلحہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ بدر سے تیسرے دن رسول اللہ ﷺ نے اونٹنی کسوانے کا حکم دیا اونٹنی پر پالان باندھ دیا گیا پھر آپ صحابہ ؓ : کو لے کر پیدل چل دیئے صحابہ ؓ : کو خیال ہوا کہ کسی ضروری کام سے کہیں تشریف لئے جا رہے ہیں لیکن آپ جا کر اس کنویں کے کنارے کھڑے ہوگئے (جس کے اندر مقتولین کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں) اور پکارنے لگے اے ابو جہل بن ہشام اے امیہ بن خلف اے عتبہ بن ربیعہ اے شیبہ بن ربیعہ کیا تمہارے لئے اس وقت یہ امر باعث مسرت ہوتا کہ کاش تم نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لیا ہوتا اللہ اور اس کے رسول نے جس چیز کی تم کو وعید کی تھی کیا تم نے اس کو صحیح پا لیا میں نے تو اس وعدہ کو حق پا لیا جو اللہ نے مجھ سے کیا تھا تم اپنے نبی کے لئے بدترین قبیلہ ہو تم نے میری تکذیب کی اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا جانا تم مجھ سے لڑے اور دوسرے لوگوں نے میری مدد کی۔ اے گروہ شر تم کو اللہ نے میری طرف سے سزا دے دی میں امین تھا تم نے مجھے خائن قرار دیا میں سچا تھا تم نے مجھے جھوٹا کہا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا تین روز کے بعد آپ ان کو پکار رہے ہیں بےجان لاشوں سے آپ کس طرح کلام فرما رہے ہیں فرمایا تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اس وقت وہ سن رہے ہیں لیکن لوٹا کر جواب نہیں دے سکتے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضرت صالح نے مردوں کو خطاب اس لئے کیا کہ آنے والے لوگوں کو عبرت ہو۔ بعض کا قول ہے کہ آیت میں تقدیم تاخیر ہے (جو واقعہ پہلے ہوا ترتیب عبارت میں اس کو پیچھے ذکر کیا ہے اور جو واقعہ پیچھے ہوا ترتیب عبارت میں اس کو پہلے ذکر کردیا) اصل کلام اس طرح تھا۔ فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتَکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنْ لاَّ تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ فَاَخَذَتَہُمْ الرَّجْفَۃُ فَاصْبَحُوْا فِی دَارِہِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ قصہ ثمود محمد بن اسحاق ‘ وہب بن منبہ ‘ ابن جریر اور حاکم نے اسناد کے ساتھ حضرت عمرو بن خارجہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قوم عاد تباہ کردی گئی تو ثمود ان کی بستیوں میں بس گئے اور ان کے جانشین ہوگئے یہ خوب پھلے پھولے انہوں نے لمبی لمبی عمریں پائیں لوگ مٹی (کچی پکی اینٹوں) کے مکان بناتے تھے مکان گرجاتے تھے مگر بنانے والا زندہ رہتا تھا مجبور ہو کر انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر غاروں کے اندر مکان بنا لئے معاش کی طرف سے یہ لوگ بڑی کشائش میں تھے آخر ملک میں انہوں نے تباہی پھیلائی اور اللہ کے سوا دوسروں کو پوجنے لگے۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا یہ لوگ خالص عرب تھے اور صالح نسبی لحاظ سے متوسط درجہ کے تھے۔ مگر اخلاق فاضلہ کے لحاظ سے سب سے برتر تھے صالح ابتداء رسالت کے وقت نوجوان تھے اور قوم کو اللہ کی طرف بلاتے بلاتے سفید مو ہوگئے مگر سوائے قلیل آدمیوں کے کسی نے آپ کی پیروی نہیں کی اور قلیل بھی وہ تھے جن کو کمزور سمجھا جاتا تھا (یعنی غریب تھے) صالح برابر جمے رہے اور تبلیغ کرتے رہے اور اللہ کے عذاب سے بہت زیادہ ڈراتے اور خوف دلاتے رہے آخر قوم والوں نے کہا کوئی ایسی نشانی دکھاؤ جس سے تمہارے قول کی سچائی ثابت ہو۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا کون سی نشانی چاہتے ہو قوم والوں نے کہا کل تم ہمارے ساتھ ہمارے تہوار کے میلے میں چلو یہ تہواری میلہ سال میں ایک معین دن ہوتا تھا جہاں لوگ اپنے بتوں کو لے کر جاتے تھے۔ پھر تم اپنے معبود سے دعا کرو اور ہم اپنے معبودوں سے دعائیں کریں اگر تمہاری دعا قبول ہوگئی تو ہم تمہارے ساتھ ہوجائیں گے اور اگر ہماری دعا قبول ہوگئی تو تم ہمارے ساتھ ہوجانا۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا بہت اچھا چناچہ قوم والے میلہ کو بت لے کر گئے اور صالح بھی ان کے ساتھ گئے قوم والوں نے بتوں سے دعائیں کیں کہ صالح ( علیہ السلام) کی دعا قبول نہ ہو۔ پھر جندع بن عمرو بن جو اس نے جو ثمود کا سردار تھا۔ حضرت صالح سے کہا یہ پتھر جو حجر کے ایک گوشہ میں الگ تھلگ پڑا ہے جس کو کا ثبہ کہا جاتا ہے اس کے اندر سے بختی اونٹ کی شکل کی ایک بڑے پیٹ والی دس ماہہ گابھن خوب بالوں سے بھرپور اونٹنی برآمد کر دو اگر ایسا کرو گے تو ہم تم کو سچا مان لیں گے اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان سے ایمان کا پختہ وعدہ لے لیا تو کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے مالک سے دعا کی۔ یکایک پتھر میں سے ایک ایسی آواز نکلنے لگی جیسی پیدائش کے وقت بیاہنے والی اونٹنی کی نکلتی ہے پھر اس ٹیلہ سے وہی آواز نکلنے لگی یکدم پتھر شق ہوگیا اور اس کے اندر سے فرمائش کے مطابق اونٹنی برآمد ہوگئی اس کے دونوں پہلوؤں کی درمیانی چوڑائی بہت زیادہ تھی پھر اس کے پیٹ سے اسی کی طرح ایک بچہ پیدا ہوا یہ دیکھ کر جندع بن عمر اور اس کے قبیلہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور سرداران ثمود نے بھی ایمان لانے کا وعدہ کرلیا لیکن ذواب بن عمرو بن لبید اور حباب مجاور اصنام اور دباب بن صحر کاہن نے ان کو منع کردیا یہ تینوں شخص ثمود کے سردار تھے۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے قوم والوں سے کہا ایک دن یہ اونٹنی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے جانوروں کو پانی کا کوٹہ ملے گا اس کے بعد کچھ مدت تک اونٹنی ایک بچہ کے ساتھ آزاد پھرتی درختوں کی پتیاں چرتی اور پانی پیتی رہی مگر ایک دن ناغہ کر کے پانی پیتی تھی اور اس طرح پیتی تھی کہ کنوئیں میں سر ڈال کر سب پانی پی جاتی۔ ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑتی تھی اور اس دوران میں ٹانگیں چیر کر کھڑی ہوجاتی تھی اور لوگ جتنا چاہتے اس کا دودھ دوہ لیتے ‘ جتنا پیا جاتا پیتے اور جتنے برتن تھے سب بھر کر رکھ لیتے تھے پھر اونٹنی بغیر ٹانگیں چیرے باہر نکل آتی۔ معاملہ یونہی چلتا رہا۔ گرمی کے زمانے میں اونٹنی وادی کے اوپر آجاتی اور اس کے خوف سے تمام مویشی بکریاں گائے اور اونٹ بھاگ کر وادی کے اندر چلے جاتے اور سردی کے زمانہ میں اونٹنی وادی کے اندر اتر جاتی تو تمام جانور اوپر آجاتے (اس طرح اونٹنی تو گرمی سردی کی تکلیف سے بچ جاتی اور) تمام جانور گرمی اور سردی کی طرف سے دکھی رہتے۔ اس سے مویشیوں کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو یہ بات اتنی کھلی کہ وہ اللہ کے حکم سے سر کشی کرنے لگے اور اونٹنی کو قتل کر ڈالنے کے درپے ہوگئے یہاں تک کہ اونٹنی کو مار ڈالنے پر متفق الرائے ہوگئے قبائل ثمود میں دو عورتیں تھیں ایک کا نام صدوف اور دوسری کا نام عنیزہ تھا ‘ عنیزہ کی کنیت ام غنم تھی یہ غنم بن مجاز کی بیٹی اور ذواب بن عمرو کی بیوی تھی اور بڑھیا سال خوردہ ہوگئی تھی اس کی متعدد خوبصورت بیٹیاں تھیں اس کے پاس اونٹ گائے اور بکریاں بھی بہت تھیں بڑی مالدار تھی۔ صدوف مختار کی بیٹی تھی اور خوبصورت جوان تھی اس کے پاس بھی اونٹ گائے اور بکریاں بہت تھیں بڑی مالدار تھی دونوں کو حضرت صالح ( علیہ السلام) سے سخت عداوت تھی اور چونکہ اونٹنی سے ان کے جانوروں کو سخت ضرر پہنچتا تھا اس لئے اونٹنی کو قتل کرا دینے کی دونوں خواستگار تھیں۔ صدوف نے ایک ثمودی شخص کو جس کا نام حباب تھا آمادہ کیا اور کہا تو اگر اونٹنی کو قتل کر دے تو میں تیری ہوجاؤں گی حباب نے انکار کردیا صدوف نے اپنے چچا کے بیٹے سے جس کا نام مصدع بن مہرج بن مختار تھا۔ یہی کہا اور چونکہ صدوف بہت حسین اور بڑی مالدار تھی اس لئے مصدع نے صدوف کی درخواست مان لی۔ ادھر غنیزہ بنت غنم نے قذار بن سالف سے کہا اگر تو اونٹنی کو قتل کر دے تو پھر میری جس بیٹی کو چاہے لے لینا۔ قذار سرخ رنگ نیلگوں چشم پستہ قد آدمی تھا۔ اہل روایت کا خیال ہے کہ وہ حرامی تھا۔ سالف کے بستر پر پیدا ہوا تھا اس لئے اس کو قذار بن سالف کہا جاتا تھا۔ یہ شخص قوم میں باعزت اور طاقتور تھا رسول اللہ ﷺ نے آیت (واذا نبعث اشفاہا) کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا تھا وہ ابو زمعہ کی طرح اپنی قوم میں باعزت صاحب عزم اور طاقتور تھا۔ رواہ البخاری من حدیث عبداللہ بن زمعۃ۔ غرض مصدع اور قذار تیار ہوگئے۔ قبیلۂ ثمود میں سے اپنی مدد کے لئے سات آدمی انہوں نے اور اپنے ساتھ لئے اور چل دیئے قذار اونٹنی کی واپسی کی راہ میں ایک پتھر کی آڑ لے کر گھات لگا کر بیٹھ گیا اور مصدع دوسرے راستہ میں جا چھپا ‘ اونٹنی مصدع کی طرف سے گزری مصدع نے تیر مارا جس سے اونٹنی کی ٹانگ کا عضلہ چھد گیا ادھر ام غنم عنیزہ اپنی حسین ترین بیٹی کو لے کر قذار کے پاس آپہنچی اور قذار کو بھڑکایا اور گھات کی جگہ سے اس کو اٹھا کرلے آئی ‘ قذار نے آتے ہی اونٹنی پر تلوار کا وار کیا جس سے اس کی کونچ کھل گئی اونٹنی بھاگی اور اپنے بچہ کو تنبیہ کرنے کے لئے اس نے چیخ ماری قذار نے اس کے سینہ پر برچھا مارا اور اونٹنی کو قتل کردیا پھر بستی والوں نے آکر اس کا گوشت بانٹ لیا اور پکایا ‘ بچہ نے ماں کی یہ حالت دیکھی تو بھاگ کر ایک محفوظ پہاڑ پر چلا گیا اس پہاڑ کا نام کسی نے صور لکھا ہے اور کسی نے فازہ۔ حضرت صالح تشریف لائے تو بستی والوں نے کہا یا نبی اللہ ہمارا کوئی قصور نہیں فلاں شخص نے اونٹنی کو قتل کیا ہے حضرت صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا بچہ کی تلاش کرو اگر وہ تم کو مل جائے گا تو ممکن ہے تم سے عذاب ٹل جائے لوگ بچہ کی تلاش میں نکلے اور پہاڑ کے اوپر دیکھ کر پکڑنے کے لئے گئے مگر اللہ نے پہاڑ کو اتنا اونچا کردیا کہ پرندے بھی اس کی چوٹی تک نہ پہنچ سکیں۔ روایت میں آیا ہے کہ بچہ نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کو دیکھا تو آنسوؤں سے رو دیا اور تین چیخیں ماریں پھر ایک پتھر پھٹا اور بچہ اس میں گھس گیا حضرت نے فرمایا بچہ کی ہر چیخ تمہارے لئے ایک دن کی مہلت (کی طرف اشارہ ہے) صرف تین دن تک گھروں میں رہ سکتے ہو یہ وعدۂ عذاب غلط نہیں ہوسکتا۔ ابن اسحاق کی روایت میں آیا ہے کہ جو نو آدمی اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے نکلے تھے ان میں سے چار شخص بچہ کو قتل کرنے نکلے ان میں مصدع بن مہرج اور اس کا بھائی ذاب بن مہرج بھی تھا مصدع نے اس کے تیر مارا جس سے اس کا دل چھید گیا۔ مصدع نے اس کو ٹانگ پکڑ کر کھینچا اور سب نے نیچے لا کر ماں کی طرح اس کا گوشت بھی آپس میں بانٹ لیا۔ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا تم لوگوں نے حرمت خداوندی کو توڑا اب اللہ کے عذاب اور انتقام کے لئے تیار ہوجاؤ۔ لوگوں نے آپ کی بات کا مذاق بنایا اور استہزاء کے طور پر کہنے لگے صالح عذاب کب آئے گا اس کی علامت کیا ہوگی ثمودیوں کی زبان میں اتوار کو اوّل پیر کو عون منگل کو دبار بدھ کو جبار جمعرات کو مونس جمعہ کو عروبہ اور سنیچر کو شیار کہتے تھے بدھ کے روز انہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا۔ حضرت صالح نے جواب میں فرمایا جب مونس کی صبح ہوگی تو تمہارے چہرے زرد ہوں گے عروبہ کی صبح اٹھو گے تو تمہارے چہرے سرخ ہوں گے اور شیار کی صبح کو تمہارے منہ کالے ہوجائیں گے پھر اوّل (اتوار) کے دن صبح کو تم پر عذاب آجائے گا یہ بات سن کر وہ نو آدمی جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا آپس میں کہنے لگے آؤ صالح کو ہی ختم کردیں اگر یہ سچا ہے تو (عذاب آنے سے) پہلے ہی ہم اس کو قتل کر چکیں گے اور جھوٹا ہے تو اونٹنی کے پاس اس کو بھیج دیں گے اس مشورہ کے بعد رات کو شب خون مارنے کے لئے حضرت صالح ( علیہ السلام) کے مسکن پر پہنچے لیکن فرشتوں نے پتھر مار مار کر ان کو دفع کردیا جب ان کے ساتھ والوں نے دیکھا کہ دیر ہوگئی اور وہ واپس نہیں لوٹے تو صالح کے گھر پہنچے دیکھا کہ ان کے آدمی پتھروں سے کچلے پڑے ہیں کہنے لگے صالح تو نے ان کو قتل کیا ہے یہ کہہ کر حضرت صالح کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن دوسرے ساتھ والوں نے جو مسلح تھے ان سے کہا تم صالح کو کبھی قتل نہیں کرسکتے صالح نے وعدہ کیا ہے کہ تین روز کے بعد تم پر عذاب آئے گا اگر یہ سچے ہیں تو ان کو قتل کرنے کا ارادہ کر کے تم اپنے رب کے غضب کو اور بھڑکا رہے ہو اور اگر یہ جھوٹے ہیں تو جو کچھ تم ارادہ کر رہے ہو وہ اس کے بعد ہوجائے گا یہ تقریر سن کر لوگ اسی رات کو منتشر ہوگئے پھر جمعرات کی صبح ہوئی تو ان کے چہرے زرد ہوگئے معلوم ہوتا تھا کہ چھوٹے بڑے عورت مرد ہر ایک کے چہرہ پر خلوف (ایک زرد خوشبو) ملی ہوئی ہے یہ علامت دیکھ کر ان کو عذاب کا یقین ہوگیا اور سمجھ گئے کہ صالح نے صحیح بات کہی تھی (پھر توبہ کرنے کے بجائے) حضرت صالح کو قتل کرنے کے لئے تلاش کرنے لگے لیکن آپ بھاگ کر ثمود کے قبیلۂ بنی غنم میں پہنچ کر قبیلہ کے سردار کے پاس جس کا نام تقبل تھا اور کنیت ابوہرب جا ٹھہرے تھے یہ شخص مشرک ضرور تھا مگر اس نے آپ کو چھپالیا اس لئے تلاش کرنے والوں کی دسترس سے آپ باہر رہے اور صبح کو حضرت صالح کے مؤمن ساتھیوں کے پاس جا کر ان کو طرح طرح سے اذیتیں دے کر صالح کا پتہ پوچھنے لگے ایک شخص نے جس کا نام صدع بن ہرم تھا حضرت سے دریافت کیا یا نبی اللہ یہ لوگ آپ کا پتہ بتانے کے لئے ہم کو اذیتیں دے رہے ہیں کیا ہم ان کو آپ کا پتہ نشان بتادیں آپ نے فرمایا ہاں تم کو کہہ دو کہ میرے پاس صالح ہے مگر تم اس پر دسترس نہیں پاسکتے (اس شخص نے حسب اجازت کہہ دیا مگر) وہ لوگ اس کو چھوڑ کر چل دیئے اور جس عذاب میں مبتلا تھے اس نے ان کو آگے کچھ کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیا بلکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر اس کے چہرے کی زردی بتاتا تھا اسی میں شام ہوگئی تو سب چیخ پڑے ‘ میعاد مقرر کا ایک دن گزر گیا جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو ان کے چہرے سرخ ہوگئے معلوم ہوتا تھا خون سے رنگے ہوئے ہیں یہ دیکھ کر چیخنے اور چلانے اور رونے لگے شام ہوئی تو چیخ کی میعاد کے دو دن گزر گئے اب عذاب آ ہی پہنچا تیسرے دن کی صبح ہوئی تو سب کے منہ کالے ہوگئے جیسے تارکول مل دیا گیا ہو ‘ یہ دیکھ کر (مزید) روئے پیٹے شام ہوئی تو حضرت صالح مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر شام کی طرف چل دیئے اور فلسطین کے ایک ریگستان میں جا کر فروکش ہوگئے اتوار کی صبح ہوئی تو لوگوں نے کفن پہن لئے ‘ مردہ کی خوشبو مل لی اور زمین پر پڑگئے کبھی آسمان کی طرف دیکھتے تھے کبھی زمین کی طرف سمجھ نہ سکے کہ عذاب کدھر سے آئے گا جب خوب دن چڑھ گیا تو زلزلہ نے ان کو آدبوچا اور سب گھروں کے اندر پڑے کے پڑے رہ گئے اور ایک ایسی زور کی چیخ آسمان کی طرف سے آئی جس میں ابر کی ہر کڑک اور زمین کی ہر تڑک سے زیادہ قوت تھی جس سے سب کے دل سینوں کے اندر پھٹ گئے اور ہر بچہ بڑا ہلاک ہوگیا صرف ایک اپاہج لڑکی بچ گئی جس کا نام ذریعۃ بنت سلف تھا یہ کافر تھی اور حضرت صالح سے اس کو سخت دشمنی تھی عذاب کو دیکھنے سے اس کے پاؤں یک دم کھل گئے اور تیزی سے بھاگ کر یہ قرخ یعنی وادی القری میں پہنچ گئی اور عذاب کی جو کیفیت اس نے دیکھی تھی وادی القری کے باشندوں سے بیان کردی پھر پانی مانگا اور پانی پیتے ہی مرگئی۔ سدی نے قتل ناقہ کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ اللہ نے حضرت صالح ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی تیری قوم عنقریب اونٹنی کو قتل کر دے گی حضرت نے قوم سے یہی بات کہہ دی قوم والوں نے کہا ہم ہرگز ایسا نہیں کرسکتے حضرت صالح نے فرمایا اس مہینہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا اور آئندہ وہ قتل کرے گا اور اسی کے سبب سے تمہاری ہلاکت ہوگی کہنے لگے اس مہینہ میں ہمارا جو بچہ پیدا ہوگا ہم اس کو قتل کردیں گے چناچہ اس مہینہ میں دس لڑکے پیدا ہوئے نو کو تو انہوں نے قتل کردیا ایک نیل گوں چشم سرخ رنگ والا بچہ بچ گیا اور اس کا بڑھاؤ بہت تیزی سے ہوا۔ مقتول بچوں کے باپ جب اس کو دیکھتے تو کہتے ہمارے بچے بھی اگر زندہ ہوتے تو ایسے ہی ہوتے یہ سوچ سوچ کر ان کو حضرت صالح ( علیہ السلام) پر غصہ آیا کہ یہ ہی شخص ہمارے بچوں کے قتل کا سبب ہے پھر انہوں نے قسم کھا کر باہم معاہدہ کرلیا کہ ہم رات کو جا کر اس کو اور اس کے گھر والوں کو ضرور مار ڈالیں گے پھر مشورہ ہوا کہ ہم کو بستی سے نکل جانا چاہئے لوگ ہم کو جاتے دیکھ کر خیال کریں گے کہ ہم سفر کو جا رہے ہیں ہم باہر جا کر کہیں غار میں چھپ جائیں گے اور صالح جس وقت (رات کو) مسجد کو جائیں گے ہم آکر ان کو قتل کردیں گے پھر لوٹ کر غار میں چلے جائیں گے پھر (صبح کو) گھروں کو واپس آجائیں گے اور کہیں گے ہم تو قتل کے وقت موجود بھی نہ تھے لوگ ہم کو سچا سمجھیں گے کیونکہ ان کا تو یہی خیال ہوگا کہ ہم سفر کو گئے ہوئے تھے۔ حضرت صالح قوم کے ساتھ بستی میں نہیں سوتے تھے بلکہ اپنی مسجد میں جس کو مسجد صالح کہا جاتا تھا جا کر رات گزارتے تھے اور صبح کو آکر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے شام ہوتی تو پھر مسجد کو جاکر رات کو وہیں رہتے غرض وہ لوگ جن کے بچے قتل ہوئے تھے بستی سے باہر جا کر ایک غار میں گھس گئے اور اللہ کے حکم سے غار ان پر گرپڑا اور سب مرگئے اسی کو اللہ نے فرمایا ہے : (فمکروا مکرا ومکرنا مکرا وہم لا یشعرون) ۔ کچھ لوگ جو اس بات سے واقف تھے نکل کر گئے جا کر دیکھا کہ سب لوگ کچلے پڑے ہیں انہوں نے بستی میں آکر شور مچا دیا اللہ کے بندو ! صالح نے بچوں کے قتل پر ہی بس نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کو بھی مار ڈالا یہ سن کر بستی والے اونٹنی کو قتل کرنے پر متفق ہوگئے۔ ابن اسحاق نے کہا اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد ان نو آدمیوں نے شب خون مار کر حضرت صالح کو قتل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ یعنی قتل ناقہ کا واقعہ حضرت صالح کو قتل کرنے کے معاہدہ سے پہلے ہوچکا تھا۔ سدی وغیرہ کا بیان ہے دسواں بچہ قذار جب قتل ہونے سے بچ گیا تو تیزی سے بڑھنے لگا ایک دن میں اتنا بڑھ جاتا جتنا دوسرے بچے ایک ہفتہ میں بڑھتے ہیں اور ایک ماہ میں اتنا بڑھ جاتا جتنا دوسرے بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں جب بڑا ہوگیا تو لوگوں کے ساتھ ایک روز شراب پینے بیٹھا اور شراب بنانے کے لئے پانی کی ضرورت ہوئی اور چونکہ وہ دن اونٹنی کے پانی پینے کا تھا اس لئے پانی نہیں ملا ‘ یہ بات ان لوگوں کو بہت کھلی اور کہنے لگے ہم دودھ کا کیا کریں ہمیں تو اس پانی کی ضرورت ہے جو یہ اونٹنی پی جاتی ہے تاکہ مویشیوں کو پلائیں اور کھیتیاں سینچیں۔ قذار بولا کیا میں تمہارے لئے اس اونٹنی کو قتل کر دوں۔ اہل مجلس نے کہا ہاں ! چناچہ سب نے اونٹنی کو قتل کردیا۔ عبداللہ بن دینار کے چچا کے بیٹے کی روایت سے بخاری نے صحیح میں بیان کیا ہے کہ غزوۂ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ حجر میں فروکش ہوئے تو حکم دیا لوگ یہاں کے کنوئیں کا پانی نہ پئیں ‘ نہ جانوروں کو پلائیں لوگوں نے عرض کیا ہم نے تو اس پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے اور پانی لے بھی لیا ہے فرمایا گوندھے ہوئے آٹے کو پھینک دو اور پانی کو بہا دو ۔ بغوی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ حجر کے کنوئیں سے لیا ہوا پانی بہا دیں اور گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور اس کنوئیں کا پانی لیں جس کا پانی اونٹنی پیتی تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابوالزبیر نے حضرت جابر ؓ کا قول نقل کیا کہ جب غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کا گزر حجر سے ہوا تو صحابہ کو حکم دیا تم میں سے کوئی اس (ویران) بستی میں نہ جائے نہ ان کا پانی پیو ان عذاب یافتہ لوگوں کی طرف سے گزرو تو روتے ہوئے ڈرتے ڈرتے کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا پھر فرمایا تم اپنے رسول سے معجزات نہ طلب کرو۔ یہ صالح کی قوم تھی جس نے اپنے رسول سے معجزہ طلب کیا تھا تو اللہ نے ایک اونٹنی برآمد کردی جو اس پہاڑی راستہ سے پانی پر جاتی اور (پانی پی کر) اس راستہ سے واپس آتی تھی اور اپنی باری کے دن ان کا (سارا) پانی پی جاتی تھی ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کو قتل کردیا نتیجہ میں اللہ نے ان سب لوگوں کو ہلاک کردیا جو اس سرزمین میں مشرق سے مغرب لے کر مغرب تک آسمان کے خیمہ کے نیچے رہتے تھے صرف ایک آدمی بچا جس کو ابو رغال کہا جاتا تھا یہ ہی قبیلۂ ثقیف کا مورث اعلیٰ تھا یہ اس وقت حرم کے اندر تھا اور حرم میں ہونے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے بچ گیا لیکن جب حرم سے باہر نکلا تو اس پر بھی وہی عذاب آیا جو دوسروں پر آیا تھا اور وہیں دفن ہوگیا دفن ہونے کے وقت اس کے پاس سونے کی ایک سلاخ بھی تھی جو اسی کے ساتھ زمین میں دب گئی۔ حضور ﷺ نے صحابہ کو ابو رغال کی قبر بھی دکھائی اور لوگوں نے تلواروں سے (کرید کر) زمین کھود کر سونے کی وہ ڈنڈی برآمد کرلی۔ قوم ثمود میں سے جو لوگ حضرت صالح پر ایمان لائے تھے ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ حضرت صالح ان لوگوں کو لے کر حضرموت چلے گئے۔ حضرموت میں پہنچ کر آپ کی وفات ہوگئی اسی لئے اس بستی کا نام حضرموتہو گیا پھر ان لوگوں نے ایک بستی بسائی جس کا نام حاصورا ہوا۔ بعض علماء روایت کا قول ہے کہ حضرت صالح کی وفات مکہ میں ہوئی وفات کے وقت آپ کی عمر 58 سال کی تھی آپ صرف بیس سال اپنی قوم میں رہے تھے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا

ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ ما سبقکم بہا من احد من العلمین : اور ہم نے لوط ( علیہ السلام) کو بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو

انکم لتاتون الرجال شہوۃ من دون النسآء بل انتم قوم مسرفون۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ حقیقتاً تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے۔ لوط بن ہارس (یا ہاران) بن تارخ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ قوم لوط سے مراد سدوم والے ہیں۔ لُوْطًا۔ اَرْسَلْنَا محذوف کا مفعول ہے اور اذقالَاس کا ظرف ہے یا اُذْکُرْمحذوف ہے (یاد کرو) اور اذقال اس سے بدل ہے۔ اتاتون میں زجر آمیز انکار استفہامی ہے۔ الفاحشۃ یعنی مردوں سے لواطت بہا میں ب تعدیہ کی ہے من احد میں من زائد ہے مگر نفی میں تاکید اور عموم پیدا کر رہا ہے۔ من العلمین میں منتبعیضیہ ہے۔ عمرو بن دینار کا قول ہے کہ دنیا میں کوئی نر کسی نر پر نہیں دیکھا گیا قوم لوط سے ہی اس فعل کی ابتدا ہوئی انکم سے اتاتون الفاحشۃ کے انکار و زجر کی مزید کامل تاکید ہو رہی ہے۔ لتاتون الرجال یعنی مردوں سے جماع کرتے ہو۔ اَتَی المرء ۃ اس عورت سے جماع کیا یہ عرب کا محاورہ ہے۔ شہوۃً مفعول لہ ہے یعنی محض شہوت رانی کے لئے بغیر کسی مصلحت و خوبی کے۔ یا مفعول مطلق ہے جو بجائے حال کے واقع ہوا ہے یعنی ناکارہ بےسود شہوت رانی کے طور پر۔ من دون النساء۔ دونبمعنی غَئرٌہے یعنی عورتوں کو چھوڑ کر دوسروں سے مراد یہ ہے کہ عورتوں سے قربت میں تو حکمت ہے اولاد کی پیدائش اور نسل کا بقاء وغیرہ اور مردوں سے قربت میں کچھ فائدہ نہیں اس ٹکڑے میں قوم لوط کی انتہائی مذمت ہے کہ تم (انسانی فکر و دانش سے بالکل خالی) محض (بےعقل) جانور ہو۔ اس آیت سے بطور دلالتِ نص ثابت ہو رہا ہے کہ عورتوں سے لواطت بھی حرام ہے کیونکہ گندم اور بےسود ہونا دونوں کا ایک ہی طرح ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل سورة بقر کی آیت (فاتوا حرثکم انی شئتم) کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ بل انتم قوم مسرفون یعنی تمہاری عادت ہی ہے کہ شریعت و دانش کی حدود سے نکل جاتے ہو کہ حدود نکاح سے تجاوز کر کے تم نے ایسے فعل کی طرف توجہ کی جو انسانی عادت کے خلاف اور فائدہ سے خالی ہے۔ اس آیت میں انکار سے اعراض اور اخبار کی طرف کلام کا رخ پھیر دیا گیا ہے یا انکار سے مذمت کی طرف اعراض ہے یا اصل کلام اس طرح تھا کہ اس قبیح فعل کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں صرف یہی نہیں بلکہ تمہاری عادت ہی حد انسانیت سے تجاوز کرنے کی ہے۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

وما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوہم من قریتکم انہم اناس یتطہرون : اور ان کی قوم سے کوئی جواب بن نہ پڑا سوائے اس کے کہ آپس میں کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال کر باہر کر دو یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی

فانجینہ واہلہ الا امراتہ کانت من الغبرین : سو (اوّل) ہم نے لوط کو اور ان کے متعلقین کو بچا لیا سوائے لوط کی بیوی کے وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا

وامطرنا علیہم مطرا فانظر کیف کان عاقبۃ المجرمین : اور ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو مجرموں کا کیسا انجام ہوا۔ وَمَا کَان جواب یعنی کوئی ایسی بات پیش نہ کرسکے جو صحیح جواب بن سکتی۔ اِلاَّ اَنْ قالوا اس میں الا کا معنی ہے لیکن اخرجوہم یعنی لوط کو اور اس کے مؤمن ساتھیوں کو۔ انہم اناس یتطہرون یعنی یہ فحش کاموں سے پاک بنتے ہیں۔ یہ کلام انہوں نے بطور استہزاء کہا تھا۔ واہلہ اہل سے مراد مؤمن ساتھی۔ بعض نے کہا حضرت لوط ( علیہ السلام) کی دو بیٹیاں مراد ہیں۔ الا امراتہیہ اہلہ سے استثناء ہے حضرت لوط کی یہ بیوی منافق تھی دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے۔ من الغابرین یعنی ان لوگوں میں سے تھی جو اپنے گھروں میں رہ گئے تھے اور عذاب سے ہلاک کردیئے گئے تھے۔ یا ان لوگوں میں سے تھی جو عذاب میں رہ گئے تھے یا ان بوڑھے معمر لوگوں میں سے تھی جو مدت دراز سے زندہ تھے پھر ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔ مطرا (مفعول مطلق ہے) یعنی عجیب طرح کی بارش۔ کنکریالے پتھروں کی بارش جن میں سے ہر پتھر ہر مجرم کے لئے نشان زدہ تھا۔ وہب نے کہا گندھک اور آگ کی بارش ‘ ابوعبیدہ کی تحقیق ہے کہ عذاب کے لئے اَمْطَرَ (باب افعال سے) اور رحمت کے لئے مَطَرْ (ثلاثی مجرد سے) بولا جاتا ہے۔ المجرمین مجرموں سے مراد ہیں کافر۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت لوط اپنے چچا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے شام کی طرف جاتے ہوئے اردن میں اتر گئے اللہ نے ان کو پیغمبر بنا کر سدوم کو بھیجا تاکہ اہل سدوم کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دیں اور ان کی ایجاد کردہ بےحیائی سے بازداشت کریں آپ نے تبلیغ کی مگر وہ باز نہ آئے آخر اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کی اور سب ہلاک ہوگئے۔ اسحق بن بشیر اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا یہی بیان نقل کیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے وطن میں مقیم تھے ان کو تو زمین کے اندر دھنسا دیا گیا یعنی زمین ان کو لے کر دھنس گئی اور جو کہیں سفر میں تھے ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اہل سدوم کے پھلدار باغات اور (سرسبز) بستیاں ایسی تھیں جو اس سرزمین میں کہیں نہیں تھیں لوگ ان کو آکر دکھ پہنچاتے (اور ان کے باغوں سے پھل لوٹتے اور چراتے تھے) آخر ابلیس آدمی کی شکل میں ان کے پاس آیا اور مشورہ دیا کہ اگر ان لوگوں کے ساتھ تم ایسی حرکت کرو گے تو پھر تمہاری حفاظت ہوجائے گی۔ اہل سدوم نے اس مشورہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن جب (چور ڈاکو) اپنی حرکتوں پر جمے رہے تو اہل سدوم نے بھی ان کے لڑکوں بالوں کو پکڑ کر ان کے ساتھ یہ حرکت کی اور اس طرح یہ خباثت ان میں جم گئی۔ حسن نے کہا وہ صرف عورت سے نکاح کرتے تھے۔ کلبی کا قول ہے کہ سب سے پہلے قوم لوط کی حرکت ابلیس نے کی۔ بات یہ ہوئی کہ اہل سدوم کا ملک بڑا سرسبز تھا ‘ دوسری بستیوں والے وہاں جانور چرانے (اور غلہ پھل لینے) آجاتے تھے (سدوم والے ان سے تنگ تھے) ابلیس ایک نوجوان کی شکل میں ان کے سامنے آیا اور دبر کی طرف اشارہ کیا اس طرح لواطت ہونے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے حکم سے آسمان نے ان پر پتھر برسائے اور زمین نے ان کو اپنے اندر دھنسا لیا۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

والی مدین اخاہم شعیبا اور ہم نے مدین کی طرف ان کے (نسبی) برادر شعیب ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ مدینحضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے کا نام تھا۔ یہاں مدین کی نسل مراد ہے۔ بغوی نے لکھا یہ ہی اصحاب الایکۃ (بن والے) تھے۔ عطاء کا قول ہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) توبہ بن حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے تھے محمد بن اسحاق نے کہا میکیل کے بیٹے تھے اور میکیل یشجر کے اور یشجر مدین کے اور مدین حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ ابن اسحاق کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ میکیل حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیٹی کا نام تھا۔ بعض کے نزدیک حضرت شعیب یثرون بن نوس بن مدین کے بیٹے تھے۔ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نابینا (ہو گئے) تھے چونکہ اپنی قوم سے خطاب کرنے میں آپ کو کمال تھا اس لئے آپ کا لقب خطیب الانبیاء ہوا۔ آپ کی قوم کافر بھی تھی اور ناپ تول میں بھی کمی کرتی تھی۔ ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر کرتے تھے تو فرماتے تھے وہ خطیب الانبیاء تھے اس لئے کہ اپنی قوم سے خطاب اچھے اسلوب سے کرتے تھے۔ قال یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ قد جآء تکم بینۃ من ربکم فاوفوا الکیل والمیزان ولا تبخسوا الناس اشیآء ہم ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا ذلکم خیر لکم ان کنتم مؤمنین۔ شعیب نے کہا اے میری قوم ! اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی سو تم ناپ تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں (کو ناپ تول کردینے) میں نقصان نہ کیا کرو اور روئے زمین پر درستی کے بعد بگاڑ نہ پیدا کرو یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر مؤمن ہو (تو اس ہدایت کو مانو) ۔ اُعْبَدُوا اللّٰہ یعنی تنہا اللہ کی پوجا کرو۔ بینۃ یعنی معجزہ (یا واضح دلیل) قرآن مجید میں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے کسی معجزہ کا ذکر نہیں کیا گیا بعض کے نزدیک بینۃ سے مراد ہے حکمت نصیحت اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا کلام حق باسلوب بلیغ۔ المیزان میعاد کی طرح میزان بھی مصدر ہے بمعنی وزن۔ یا میزان سے مراد ہے ترازو اور وزن محذوف ہے یعنی وزن المیزان۔ یا کیل سے مراد ہے پیمانہ۔ کیل (مصدر) محذوف ہے کیل کا اطلاق کمال پر ایسا ہی جیسے عیش کا اطلاق معاش پر ہوتا ہے۔ نحسٌکے دو مفعول آتے ہیں یہاں الناسپہلا مفعول اور اشیاء ہم دوسرا مفعول ہے محاورہ میں بولا جاتا ہے بَخَسْتُ زَیْدًا حَقَّہٗمیں نے زید کا پورا حق دینے میں کمی کردی۔ اشیاء کا لفظ عموم پر دلالت کر رہا ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ لوگ بڑی چھوٹی اور تھوڑی بہت سب چیزوں کے ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لوگ ذخیرہ اندوز تھے ہر چیز کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ ولا تفسدوا اور بگاڑ نہ پیدا کرو یعنی کفر اور ظلم۔ بعد اصلاحہا درستی کے بعد یعنی جب اللہ نے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا جو تم کو بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے۔ ذلکم یعنی یہ بات جو بات میں نے تم سے کہی اور جس بات کا تم کو حکم دیا۔ خیرلکم تمہارے لئے ظلم کرنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے بہتر ہے۔ اگرچہ ناپ تول میں کمی کرنے سے بظاہر کچھ مالی فائدہ ہوجاتا ہے مگر حقیقت میں دنیا اور آخرت دونوں میں یہ نقصان کا سبب ہے اور حضرت شعیب نے جو ان کو حکم دیا اس میں دنیا اور آخرت دونوں کا فائدہ تھا اس لئے ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا ذلکم خیرلکم فرمایا۔ ان کنتم مؤمنین یعنی اگر تم مجھے سچا جانتے ہو تو جو حکم میں دے رہا ہوں اس کی تعمیل کرو اور وہ لوگ واقف ہیں کہ شعیب ( علیہ السلام) جھوٹ کبھی نہیں بولتے۔ (ان کا یہ خیال حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے تھا۔ نبوت کے دعوے میں وہ جھوٹا ہی سمجھتے تھے) روایت میں آیا ہے کہ اہل مدین سرراہ بیٹھ جاتے اور جو شخص مسلمان ہونے کے لئے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے پاس جانا چاہتا اس کو روکتے اور کہے شعیب بڑا جھوٹا ہے کہیں تجھے دین کی طرف سے بگاڑ نہ دے۔ یہ لوگ مسلمانوں کو بھی ڈراتے اور قتل کر ڈالنے کی دھمکیاں دیتے تھے کذا اخرج ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

ولا تقعدوا بکل صراط تو عدون وتصدون عن سبیل اللہ ومن امن بہ وتبغونہا واذکروا اذ کنتم قلیلا فکثرکم انظروا کیف کان عاقبۃ المفسدین۔ اور تم راستوں پر اس غرض سے نہ بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش کرو اور یاد کرو کہ جب تم کم تھے تو اللہ نے تمہاری تعداد بڑھا دی اور دیکھ لو کہ تخریب کاروں کا انجام کیسا ہوا۔ توعدون اور تصدوندونوں جملے تقعدوا کی ضمیر فاعل سے حال ہیں۔ تبغونہا عوجًا یعنی اللہ کی راہ میں کجی کی تلاش کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں شبہ ڈالتے ہو یا لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہو کہ یہ راستہ ٹیڑھا ہے (بہرحال لوگوں کو بہکاتے ہو) بعض علماء کے نزدیک صراط سے مراد ہے دین کا راستہ۔ دین کا راستہ اگرچہ ایک ہی ہے لیکن اس کی شاخیں متعدد ہیں عقائد و معارف کی شاخ احکام کی شاخ حدود و تعزیرات کی شاخ (گویا راہ دین کی ہر شاخ ایک راستہ ہے) قوم شعیب والے جب کسی کو دین کی کسی شاخ میں کوشش کرتے دیکھتے تو مار ڈالنے اور دکھ دینے کی دھمکی دیتے تھے اس صورت میں تصدون عن سبیل اللّٰہ۔ کل صراطکا بیان ہوگا۔ اس سے ان کی حرکت شنیعہ کی انتہائی خرابی اور انپی راہ پر قائم رہنے کی مذمت مستفاد ہوگی قلیلًاتعداد میں کم یا سامان میں کم۔ فکثرکم اللہ نے تم کو بڑھا دیا یعنی اولاد و مال میں برکت عطا فرما دی۔ عاقبۃ المفسدین یعنی گزشتہ سرکش قوموں کا انجام جیسے حضرت لوط کی قوم کا اور دوسری تخریب کار قوموں کا انجام کیسا ہوا۔