Ayah 7:87وان کان طائفۃ منکم امنوا بالذی ارسلت بہ وطآئفۃ لم یؤمنوا فاصبروا حتی یحکم اللہ بیننا وہو خیرالحکمین۔ اور اگر تم میں سے بعض لوگ اس حکم پر جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے ایمان لے آئے ہیں اور بعض لوگ ایمان نہیں لائے ذرا تو ٹھہرے رہو اللہ ہمارے درمیان (عنقریب) فیصلہ کئے دے رہا ہے وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
فاصبروا تو ٹھہرے رہو۔ یعنی انتظار کرو۔ حتی یحکم اللّٰہ بیننا کہ اللہ فیصلہ کر دے جو اہل حق میں ان کو فتحیاب کر دے گا جو باطل پرست ہیں ان کو تباہ کر دے گا۔ اس میں اہل ایمان کے لئے (کامیابی کی) بشارت اور کافروں کے لئے (تباہی کی) دھمکی ہے۔ ہو خیر الحکمین۔
وہ سب سے اچھا حاکم ہے اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا۔
Ayah 7:88قال الملاء الذین استکبروا من قومہ لنخرجنک یشعیب و الذین امنوا معک من قریتنا او لتعودن فی ملتنا قال او لو کنا کرہین۔ شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ( علیہ السلام) شعیب ( علیہ السلام) ہم تم کو اور تمہارے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے ورنہ تم سب ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ شعیب ( علیہ السلام) نے جواب دیا کیا تم ہم کو اپنے مذہب میں لوٹا لو گے خواہ ہم دل سے چاہیں یا گوارا نہ کریں (یعنی دو کاموں میں سے ایک کام ضرور ہونا ہے یا بستی سے تمہارا نکالا جانا یا دوبارہ کفر میں لوٹ آنا)
حضرت شعیب ( علیہ السلام) اگرچہ کبھی مذہب کفر پر نہ تھے (اس لئے ان کا کفر کی طرف واپس آجانا کوئی معنی نہیں رکھتا) انبیاء کا کبھی کافر ہونا (خواہ نبوت سے پہلے ہی ہو) درست نہیں لیکن حضرت شعیب ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے اکثر اشخاص چونکہ کفر چھوڑ کر ایمان لائے تھے اس لئے خطاب میں انہی کی حالت کو ترجیح دی گئی اور آئندہ جواب میں بھی حضرت شعیب نے اسی کو پیش نظر رکھا بعض کے نزدیک لتعودون کا معنی ہے لَتَدْخُلُنَّعاد بمعنی صاد کے آتا ہے یعنی یا ہم تم کو نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ اَوْ لَوْ کُنَّا میں ہمزہ انکار کے لئے اور واؤ حال بلکہ عطف کے لئے ہے اور پورا جملہ حالیہ ہے اصل کلام اس طرح تھا کیا تم ہم کو اپنے مذہب میں لوٹا لو گے خواہ ہم پسند کریں یا ناپسند کریں۔ اوّل ٹکڑے کو حذف کردیا گیا اور استفہام کا تعلق دوسرے جملہ سے کردیا گیا تاکہ نفی حکم کامل طور پر ہوجائے۔
Ayah 7:89قد افترینا علی اللّٰہ کذبا ان عدنا فی ملتکم بعد اذ نجنا اللّہ منہا وما یکون لنا ان نعود فیہا الا ان یشآء اللہ ربنا وسع ربنا کل شی علما علی اللہ توکلنا ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ ہم اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجائیں گے اگر خدا نہ کرے ہم تمہارے مذہب میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دے دی اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں آجائیں ہاں اگر اللہ ہی کی مشیت ہو جو ہمارا مالک ہے (تو دوسری بات ہے) ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ہمارے مالک ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
قد افتریناہم گھڑ لیں گے دروغ بندی کریں گے۔ علی اللہ کذبا کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دیں گے اذ نجنایہ شرط ہے جس کے جواب پر سابق جملہ (یعنی قد افترینا) دلالت کر رہا ہے۔ افترینا ماضی کا صیغہ ہے مگر مستقبل کے معنی میں ہے تحقق وقوع کی وجہ سے مستقبل کی تعبیر ماضی کے صیغے سے کرلی گئی ہے اور چونکہ ماضی قریب مراد ہے جو حال سے متصل ہے اس لئے قد کا لفظ استعمال کیا یعنی جب اللہ نے کفر سے ہم کو نجات دے دی اور ظاہر فرما دیا کہ جس مذہب پر ہم پہلے تھے وہ باطل ہے اور جو مذہب ہم نے اختیار کیا ہے وہ حق ہے تو اب اگر سابق مذہب کی طرف ہم نے لوٹنے کا ارادہ کیا تو ہم دروغ باف اور اللہ پر تہمت تراشنے والے ہوں گے۔ مایکون لنا یعنی ہمارے لئے کبھی ممکن نہیں ایسا ہم سے کبھی نہیں ہوسکتا یہ اظہار ہے اسلام پر قائم رہنے اور کفر سے اجتناب رکھنے کا عزم اور چونکہ اس جملہ سے کسی قدر اپنے آپ کو پاک سمجھنے کی بو آرہی تھی اور مآل کی طرف سے لاپرواہی کا ترشح ہو رہا تھا اس لئے آگے استثناء کردیا اور کہہ دیا الا ان یشاء اللّٰہ مگر ہمارے مقدر میں ہی اگر اللہ نے کفر لکھ دیا ہو اور ہمارے مرتد ہوجانے کی اسی کی مشیت ہو اور وہی ہماری مدد نہ کرے تو بات دوسری ہے۔ یہ استثناء بتارہا ہے کہ کفر بھی اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے (پس معتزلہ کا قول غلط ہے جو امر اور مشیت میں فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ کفر اور گناہ اللہ کی مشیت سے نہیں ہوتا کیونکہ اس نے کفر و گناہ کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے) بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ جملہ استثنائیہ بول کر کافروں کو ناامید بنا دینا مقصود ہے کیونکہ حضرت شعیب نے اپنی جماعت کے ارتداد کو ایسی چیز سے وابستہ کیا جو کبھی ہونے والی نہ تھی (اور شرط اگر مستحیل الوقوع ہو تو مشروط کا وقوع بھی ناممکن ہوتا ہے) وسع ربنا یعنی اللہ کا علم ہمہ گیر ہے وہی جانتا ہے کہ آخرکار کون بندہ کفر کی طرف جاتا ہے اور کون اسلام کی طرف آتا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے صحیحین میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان صرف ہاتھ بھر فاصلہ رہ جاتا ہے (آخر میں) کتاب کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرنے لگتے ہیں اور جنت میں چلے جاتے ہیں۔ علی اللوفہ توکلنا اللہ ہی پر ہمارا اعتماد ہے کہ وہ ہم کو ایمان پر قائم رکھے گا اور یقین میں زیادتی کی توفیق دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں جس طرف کو چاہتا ہے موڑ دیتا ہے پھر آپ نے دعا کی اے اللہ ! اے دلوں کو موڑنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر موڑ دے۔ رواہ مسلم۔
حضرت شعیب جب کافروں کی طرف سے مایوس ہوگئے تو بددعا کی اور کہا ربنا افتحاے ہمارے رب ہمارا فیصلہ کر دے۔ اِفْتَحْ فتاحَۃٌ سے مشتق ہے فتاحۃ فیصلہ کردینا حکم دے دینا۔ فَتَّاحٌوہ حکم جو لاینحل امر کا فیصلہ کرتا ہے یا افتح سے مراد ہے اپنے امر کو ظاہر کر دے کہ حق کا ظہور ہوجائے دودھ پانی سے جدا ہوجائے اس وقت لفظ اِفْتَحْ فَتَحَ المشُکْل (مشکل کو کھول دیا) سے ماخوذ ہوگا۔
Ayah 7:90وقال الملاء الذین کفروا من قومہ لئن اتبعتم شعیبا انکم اذا لخسرون شعیب ( علیہ السلام) کی قوم کے کافروں نے (نچلے اور زبردست طبقہ سے) کہا اگر تم شعیب کے پیچھے چلو گے (اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر اس کا دین اختیار کرو گے) تو بلاشبہ اس صورت میں گھاٹے میں رہو گے۔ اپنی سیدھا چال کو چھوڑ کر اس کی لائی ہوئی گمراہی اختیار کرلو گے یا یہ مطلب کہ جو دنیاوی فائدے تم کو حاصل ہوتے ہیں ناپ تول میں کمی کر کے جو نفع مل جاتا ہے وہ جاتا رہے گا۔
Ayah 7:91فاخذتہم الرجفۃ فاصبحوا فی دارہم جثمین : نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو زلزلہ نے آپکڑا اور اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے
Ayah 7:92الذین کذبوا شعیبا کان لم یغنوا فیہا الذین کذبوا شعیبا کانوا ہم الخسرین۔ جنہوں نے شعیب کو جھوٹا کہا تھا ان کی ایسی حالت ہوگئی گویا ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے یہ تکذیب کرنے والے ہی سراسر خسارے میں رہے۔
الرجفۃ کلبی نے کہا اس سے مراد ہے زلزلہ۔ فی دارہم یعنی اپنی بستی میں۔ جس میں مردہ مرے رہ گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے ان پر جہنم کا دروازہ کھول دیا اور ایسی سخت گرمی میں مبتلا کردیا کہ دم گھٹنے لگے نہ سایہ سے فائدہ ہوتا تھا نہ پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے تہ خانوں میں گھستے تھے اور وہاں اوپر سے زیادہ گرمی پا کر پھر باہر نکل آتے تھے اور بھاگ کر میدانوں میں چلے جاتے تھے ایک بار باہر میدان میں بھاگ کر پہنچے تو اللہ نے ایک بادل بھیج دیا جس کے اندر بڑی خوشگوار ہوا تھی ابر نے ان پر سایہ کرلیا الظلہ (جس کا ذکر دوسری آیت میں آیا ہے) یہی ابر تھا۔ ابر کے نیچے کچھ خنکی اور ہوا محسوس ہوئی تو ایک نے دوسرے کو پکار کر سب کو ابر کے نیچے جمع کرلیا جب سب عورتیں مرد بچے بڑے جمع ہوگئے تو (بادل کے اندر سے) اللہ نے آگ کے شعلے پیدا کردیئے۔ نیچے زمین تپ رہی تھی اور اوپر سے آگ تھی۔ سب بھنی ہوئی ٹڈی کی طرح جل بھن کر رہ گئے۔
یزید جریری کا قول ہے کہ (اوّل) سات روز تک اللہ نے ان پر ہوا کے طوفان کو مسلط رکھا پھر گرمی چھا گئی سامنے دور سے ایک پہاڑ نظر آیا ایک آدمی نے جا کر دیکھا تو وہاں نہریں اور چشمے جاری تھے سب پہاڑ کے نیچے جمع ہوگئے پھر پہاڑ ان پر گرپڑا اسی کو یوم الظلہ کہا گیا ہے (یعنی الظلہ سے مراد ہے پہاڑ کا سایہ) قتادہ ؓ : کا قول ہے اللہ نے شعیب کو اصحاب الایکہ کی ہدایت کے لئے بھی بھیجا تھا اور اصحاب مدین کی طرف بھی ایکہ (بن میں رہنے) والے تو (ابر یا پہاڑ کے) سایہ (میں جمع ہو کر اس) سے ہلاک کئے گئے اور مدین والوں کو زلزلہ نے آپکڑا جبرئیل ( علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری جس سے سب ہلاک ہوگئے۔
کان لم یغنوا یعنی بیخ و بن سے ان کی بربادی ہوگئی۔ ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہاں رہتے ہی نہ تھے وہاں کوئی آبادی ہی نہ تھی۔ غنیت بالمکان میں نے اس جگہ قیام کیا۔ مَغَانِیَمکانات قیام گاہیں اس کا واحد مغنی ہے۔ ہم الخسرین یعنی دنیا اور آخرت میں خاسر ہوگئے۔ ہاں جن لوگوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی تصدیق کی اور آپ کے پیچھے چلے وہ دونوں جہان میں فائدے میں رہے قوم شعیب ( علیہ السلام) کے خاسر ہونے کی علت اور تخصیص خسران کے سبب پر متنبہ کرنے کے لئے الذین کذبوا شعیبا دوبارہ فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ شعیب کی تکذیب ہی خسران کی علت تھی۔
Ayah 7:93فتولی عنہم وقال یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم فکیف اسی علی قوم کفرین۔ (جب عذاب آگیا تو حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے عالم تحیر میں) ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو اپنے رب کے پیام پہنچا دیئے تھے اور تمہاری خیر خواہی کی تھی اب کس طرح میں کافر قوم (کے ہلاک ہوجانے کا رنج کروں۔ کیونکہ جو عذاب ان پر آیا وہ اسی کے مستحق تھے کوئی حق نہیں رکھتا کہ اس کے ہلاک ہونے کا رنج کیا جائے) حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے نصحت لکمتک جو کچھ فرمایا وہ انتہائی رنج اور افسوس کے ماتحت تھا لیکن پھر سنبھل گئے اور خود اپنے خلاف فیصلہ کیا اور آخری جملہ فرمایا یہ آخری فقرہ اپنی شدت حزن کی معذرت کے طور پر فرمایا مطلب یہ کہ میں نے اللہ کے احکام پہنچانے اور تمہاری خیر خواہی کرنے کی حد کردی مگر تم نے میرا کہا نہ مانا اور عذاب کو خود پسند کیا اب میں ایسے لوگوں کے مرنے کا کیا افسوس کروں۔
Ayah 7:94وما ارسلنا فی قریۃ من نبی الا اخذنا اہلہا بالباسآء والضرآء لعلہم یضرعون : اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ ڈھیلے پڑجائیں
Ayah 7:95ثم بدلنا مکان السیءۃ الحسنۃ حتی عفوا وقالوا قد مس اباء نا الضرآء والسرآء فاخذنہم بغتۃ وہم لا یشعرون۔ پھر ہم اس بدحالی کی جگہ خوش حالی لے آئے کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور اس وقت وہ کہنے لگے ہمارے باپ دادا کو بھی دکھ سکھ پیش آیا تھا اب ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔
وما ارسلنا فی قریۃ من نبی اس جگہ ایک جملہ محذوف ہے یعنی کسی بستی میں ہم نے کوئی نبی نہیں بھیجا (پھر بستی والوں نے اس کی تکذیب کی) مگر اہل قریہ کی ہم نے گرفت کی۔ بالباساء والضراء (بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کے نزدیک باسائ سے مراد فقیری اور ضراء سے مراد بیماری ہے بعض کے نزدیک باسائ سے جنگ اور ضرائ سے قحط مراد ہے۔ لعلہم یضرعون تاکہ وہ (گڑگڑائیں توبہ کریں) اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اس جگہ لفظ لعلکا استعمال بتارہا ہے کہ ان لوگوں کا قول غلط ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام میں عسٰی اور لعلَّ کا استعمال جس جگہ ہوا ہے اس کا وقوع ضروری ہے (اللہ کے لئے لفظ امید شاید) عنقریب کا استعمال درست نہیں اللہ کی قدرت اور ارادہ اور علم ہمہ گیر ہے۔ امید یا شک یا ظن تو اس کو ہوتا ہے جو ناقص القدرۃ ضعیف الارادہ اور ناقص العلم ہو لہٰذا اللہ نے جس جملہ کو لفظ عسیٰیا کاد یا لعل سے بیان کیا ہے اس سے مراد مفہوم جملہ کا وقوع ہوتا ہے شک یا ظن مراد نہیں ہوتا) کیونکہ اس جگہ لفظ لعلکا استعمال ایسے جملہ کے لئے ہوا ہے جو وقوع پذیر نہیں ہوا (اکثر لوگوں نے مالی اور جسمانی دکھ میں مبتلا ہو کر بھی توبہ نہیں کی)
السیءۃ مالی اور جسمانی دکھ الحسنۃ مال کی کثرت اور سرسبزی۔ یعنی ان کو ڈھیل دی گئی اور دکھ سکھ دونوں طرح سے ان کی جانچ کی گئی۔ حتی عفوایہاں تک کہ ان کی تعداد خوب بڑھ گئی اور مال کی بھی فراوانی ہوگئی۔ عَفَتِ النباتُسبزہ خوب ہوگیا۔ اعفاء اللحیۃ داڑھی خوب بڑھانا۔ قالوا قد مس یعنی انہوں نے کہا کہ یہ دکھ سکھ کا دور ہمارے باپ دادا پر بھی آتا رہا ہے زمانہ کا دستور ہی یہی ہے کبھی دکھ کبھی سکھ باری باری سے آتا رہتا ہے وہ لوگ خالق کو بھول گئے اور راحت و مصیبت کو پیدا کرنے والے کا انہوں نے تصور بھی نہ کیا۔ وہم لا یشعرون اور ان کو عذاب آنے کا (پتہ بھی نہ تھا) احساس بھی نہ تھا۔
Ayah 7:96ولو ان اہل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکت من السمآء والارض ولکن کذبوا فاخذنہم بما کانوا یکسبون۔ اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور ڈرتے رہتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تو پیغمبروں کی تکذیب کی اس لئے ہم نے بھی ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔
القرٰی میں الف لام عہد خارجی کا ہے یعنی انہی بستیوں والے جن کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ واتقوا اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے جس کی صورت یہ تھی کہ اس کے حکم پر چلتے اور نافرمانی کو ترک کردیتے۔
من السماء والارض یعنی ہر طرف سے ہم خیر کے دروازے ان پر کھول دیتے اور اس خیر کو قائم رکھتے۔ بعض علماء کے نزدیک آسمان کی برکتوں سے مراد ہے بارش اور زمین کی برکتوں سے مراد ہے سبزی ‘ پھل ‘ غلہ ‘ برکت کا لغوی معنی ہے زیادتی اور کسی چیز کا زوال نہ ہونا۔ ولکن کذبوا الرسل مگر انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی۔ فاخذناہمتو ہم نے ان کو سزا میں گرفتار کیا۔ بما کانوا یکسبون اس کفر و معصیت کی سزا میں جو وہ کرتے تھے۔
Ayah 7:97افامن اہل القری ان یاتیہم باسنا بیاتا وہم نآئمون : کیا پھر بھی ان بستیوں میں رہنے والے اس بات سے بےفکر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب جب کہ یہ رات میں غافل پڑے سوتے ہوں آجائے
Ayah 7:98اوامن اہل القری ان یاتیہم باسنا ضحی وہم یلعبون۔ اور کیا ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دوپہری میں آپڑے جب کہ وہ کھیل کود میں ہوں۔
افامن میں اس کا عطف فاخذناہم بغتۃ پر ہے دونوں کے درمیان کی عبارت معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ گزشتہ انبیاء کی تکذیب کرنے والی بستیوں کی تباہی اور عذاب میں گرفتاری کے بعد بھی کیا ان کافروں کو ڈر نہیں لگتا جو محمد رسول اللہ ﷺ : کی نبوت کا انکار کرتے ہیں کہ رات کو سوتے میں یا دن کو کھیل کود میں غافل ہونے کے اوقات میں ان پر اللہ کا عذاب ناگہانی آجائے۔ اس جگہ اہل القریٰ سے مراد ہیں مکہ اور اطراف مکہ کے رہنے والے۔
بیاتًا یا تبییت (مصدر تفعیل) کے معنی میں ہے یا وقت بیات مراد ہے یعنی رات یا اسم فاعل کے معنی میں ہے اور باسنا سے حال ہے یا اسم مفعول کے معنی میں ہے اور ہم سے حال ہے (مطلب بہر طور قریب قریب ہے اصل میں لفظ بیات (مصدر لازم) بیتوتت کے معنی میں ہے لیکن جس طرح لفظ سلام (لازم) بمعنی تسلیم (مصدر متعدی) کے آجاتا ہے اسی طرح لفظ بیاتبمعنی تبییت (متعدی) بھی آتا ہے وہم نائمونسونے سے مراد ہے غفلت کی حالت میں ہونا ‘ عذاب کی طرف سے غافل ہونا۔
افامن اور اوامن میں استفہام زجری ہے ضحی سے مراد دن ہے اس کا لغوی معنی ہے دھوپ چڑھنے کا وقت۔ وہم یلعبون یعنی جب کہ وہ غفلت کی حالت میں بےہودہ کاموں میں مشغول ہوں۔
Ayah 7:99افامنوا مکر اللہ فلایامن مکر اللہ الا القوم الخسرون۔ تو کیا یہ لوگ اللہ کی ناگہانی پکڑ سے بےفکر ہوگئے سو (یاد رکھو کہ) اللہ کی نامعلوم پکڑ سے صرف وہی لوگ بےفکر ہوتے ہیں جن کی شامت آگئی ہو۔
مکر اللہ کی دی ہوئی ڈھیل ‘ کہ ایک وقت تک راحت و نعمت میں رکھتا ہے پھر اچانک نامعلوم راستہ سے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے جس طرح کہ پہلی قوموں سے اس نے کیا۔ القوم الخاسرون یعنی جنہوں نے کفر و معصیت کا ارتکاب کیا اور نظر و بصیرت سے کام لے کر اپنے حال کا گزشتہ اقوام کے حال سے توازن نہیں کیا۔
Ayah 7:100اولم یہد للزین یرثون الارض من بعد اہلہا ان لو نشآء اصبنہم بذنوبہم وتطبع علی قلوبہم فہم لا یسمعون۔ اور کیا ان لوگوں کو جو اس زمین پر سابق باشندوں کی جگہ رہتے ہیں ان واقعات نے یہ بات ہنوز نہیں بتائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے جرائم کی پاداش میں ان کو تباہ کر ڈالتے۔ ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اسی لئے وہ (حق کی آواز) نہیں سنتے۔
یرثون الارض زمین کے وارث ہوتے ہیں یعنی سکونت کے اعتبار سے (ملک مراد نہیں ہے) من بعد اہلہا یعنی پچھلے باشندوں کی ہلاکت کے بعد۔ چونکہ اس جگہ ہدایت کا معنی ہے بیان کرنا اس لئے یَہْدِکے بعد لام آیا ہے ان لَّو اَنْ مخففہ ہے اور اس کے بعد والا جملہ (بتاویل مفرد ہو کر) یَہْدِکا فاعل ہے۔ اصبناہُم یعنی عذاب اور سزا میں ان کو پکڑ لیتے بذنوبہمان کے گناہوں کے بدلے میں۔ ونطبع علی قلوبہم اس جملہ کا عطف اس مفہوم پر ہے جو اولم یہد للذین سے مستفاد ہو رہا ہے یعنی وہ غفلت کرتے ہیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔ زجاج نے کہا یہ جملہ بالکل علیحدہ ہے (سابق پر عطف نہیں ہے واؤ استینافیہ ہے۔ عاطفہ نہیں ہے) فہم لا یسمعونپس وہ ڈرانے کو نہیں سنتے اور نصیحت کو نہیں قبول کرتے۔
Ayah 7:101تلک القری نقص علیک من انبآء ہا ولقد جآء تہم رسلہم بالبینت فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین : ان بستیوں کے کچھ کچھ واقعات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تھے پھر جس بات کو پہلی بار انہوں نے جھوٹا کہہ دیا (پیغمبروں کے بعد بھی) اس پر ایمان لانے والے نہ ہوئے اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
Ayah 7:102وما وجدنا لاکثرہم من عہد وان وجدنا اکثرہم لفسقین۔ اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفاء عہد نہ دیکھا اور اکثر لوگوں کو ہم نے بےحکم ہی پایا۔
تلک القری یعنی گزشتہ اقوام کی بستیاں قوم نوح ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم لوط اور قوم شعیب کی بستیاں من انباۂ ا۔ من تبعضیہ ہے یعنی کچھ واقعات بعض خبریں۔ البینت معجزات اور وہ دلائل جو ان کی رسالت کو ثابت کرتی ہیں۔ ماکانوا لیؤمنوا لان یومنوا تھا ان مصدری کو حذف کردیا گیا۔ لام حجود تاکید نفی ایمان کے لئے ہے اور مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے یعنی وہ ایماندار نہ تھے۔ بما کذبوا من قبل یعنی پیغمبروں کی بعثت سے پہلے جو توحید کی تکذیب کرتے تھے اس پر برابر قائم رہے ایمان نہ لائے۔ یا یہ مطلب کہ پیغمبر جس شریعت اور رسالت کو لے کر ان کے پاس پہنچے۔ انہوں نے اس کی تکذیب کی اور پھر اس تکذیب پر ساری عمر قائم رہے پیغمبروں کی دعوت نے ان پر کوئی اثر نہ پیدا کیا نہ پیہم معجزات سے ان کی انکاری حالت بدلی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی نے آیت کے مطلب کی توضیح اس طرح کی ہے کہ بروز میثاق جو ان سے ایمان کا عہد لیا گیا تھا اور زبانوں سے انہوں نے اقرار کیا تھا مگر دلوں میں تکذیب پوشیدہ رکھی تھی تو پیغمبروں کی بعثت کے بعد بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے نہ ایمان لائے۔ پس اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ مجاہد نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہلاک کئے جانے والے سے پہلے جس طرح انہوں نے تکذیب کی تھی اگر ہم ہلاکت کے بعد ان کو پھر زندہ کردیتے تب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے تقریباً ایسا ہی مضمون دوسری آیت میں آیا ہے فرمایا : (ولو ردوا لعادوا لما نہوا عنہ) ۔
یمان بن ذباب نے توضیح مطلب اس طرح کی ہر نبی نے اپنی قوم کو عذاب سے ڈرایا لیکن انہوں نے پیغمبر کی تصدیق نہیں کی۔ نتیجہ میں اللہ نے ان کو ہلاک کردیا پھر ان کے بعد دوسری قومیں آئیں اور ان کو پیغمبروں نے عذاب سے ڈرایا لیکن انہوں نے بھی گزشتہ اقوام کی طرح اس چیز کی تکذیب کی جس کی تکذیب گزشتہ قومیں کرتی چلی آئی تھیں۔ اسی کی مثل دوسری آیت آئی ہے فرمایا ہے (مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِّنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ الاَّ قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) ۔
کَذِلِکَاسی طرح یعنی جس طرح گزشتہ کافروں کے دلوں پر ہم نے بند لگا دیئے تھے اسی طرح آپ کی قوم کے کافروں کے متعلق ہم نے لکھ دیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ لہٰذا تمام نشانیاں اور ڈراوے دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل نرم نہیں پڑیں گے وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِہِمْیعنی اکثر لوگوں کا یا ہلاک کردہ قوموں میں سے اکثر کا۔ اوّل صورت میں یہ جملہ مستقل اور اعتراضیہ ہوجائے گا۔ من عھدٍ (مضاف محذوف ہے) یعنی ایفاء عہد۔ عہد سے مراد ہے ‘ عہد میثاق جو حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے تمام ذریات کو نکال کرلیا گیا تھا یا وہ عہد مراد ہے کہ مصیبت اور دشمنوں کے خوف سے گھر کر جب ان لوگوں نے کہا تھا لئن انجیتنا من بعدہ لنکونن من الشّٰکِرِیْنَ اگر تو ہم کو اس سے بچالے گا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے (یعنی مؤمنوں اور اطاعت گزاروں میں سے) ہوجائیں گے۔ وَانْ وَّجَدْنَا اَکْثَرَہُمْ لَفَاسِقِیْنَعلماء کوفہ کا قول ہے کہ اناس جگہ نافیہ ہے اور ل بمعنی الاَّ (یعنی استثنائیہ) ہے۔ علمائے بصرہ کے نزدیک یہ اِنْ مخففہ ہے اس صورت میں وَجَدْنَا کا معنی ہوگا عَلِمْنَاکیونکہ ان مخففہ صرف ان افعال پر داخل ہوتا ہے جو مبتدا خبر پر داخل ہوئے ہوں۔
Ayah 7:103ثم بعثنا من بعدہم موسیٰ بایتنا الی فرعون وملاۂ فظلموا بہا فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین۔ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا لیکن انہوں نے ہماری نشانیوں کا بالکل حق ادا نہ کیا سو دیکھ لو ان تخریب کاروں کا کیسا انجام ہوا۔ من بعدہم۔ ہمضمیر پیغمبروں کی طرف راجع ہے یعنی نوح ( علیہ السلام) ‘ ہود ( علیہ السلام) ‘ صالح ( علیہ السلام) ‘ لوط ( علیہ السلام) ‘ شعیب ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ان کا ذکر آیت (ولقد جاء تہم رسلہم الخ) میں آچکا ہے۔ موسیٰ کے والد کا نام عمران تھا۔
بٰایٰتنَاآیات سے مراد معجزات ہیں جن کا ذکر آئندہ آیات میں کیا گیا ہے فرعون شاہ مصر کا لقب فرعون تھا جیسے شاہ فارس کا لقب کسریٰ تھا اس فرعون کا نام قابوس یا ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ ملا شرفا ‘ قوم ‘ سرداران امراء ‘ فظلموا بہاظلم کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو بےمحل رکھ دینا۔ آیات واضحہ کا تقاضا تھا کہ ان پر ایمان لایا جاتا لیکن فرعونیوں نے ان کو نہ مانا اور بجائے ایمان کے کفر کیا اس لئے یہ ظلم ہوگیا۔ کیف کان عاقبۃ المفسدین مفسدوں کا انجام کیسا ہوا دیکھ لو سب کو دریا میں غرق کردیا گیا۔
Ayah 7:104وقال موسیٰ یا فرعون انی رسول من رب العلمین : اور موسیٰ نے (فرعون) سے کہا اے فرعون میں رب العلمین کا رسول (فرستادہ) ہوں
Ayah 7:105حقیق علی ان لا اقول علی اللہ قد جئتکم بینۃ من ربکم فارسل معی بنی اسرائیل : (اللہ نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے) میرے لئے یہی زیبا ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں لہٰذا بنی اسرائیل کو (چھوڑ دے اور) میرے ساتھ (ارض مقدسہ کو) چلے جانے کے لئے آزاد کر دے۔
Ayah 7:106قال ان کنت جئت بایۃ فات بہا ان کنت من الصدقین۔ فرعون نے کہا اگر تو کوئی معجزہ لے کر آیا تو ہے پیش کر اگر سچا ہے (تو ثبوت سامنے لا) وقال موسٰی یعنی جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے تو کہا۔ حقیق عَلٰیبعض علماء کا خیال ہے کہ عَلٰی اس جگہ عَلَیَّتھا چونکہ خلاف مقصود کا کلام میں وہم بھی نہیں ہوسکتا تھا اس لئے یاء متکلم کو حذف کردیا گیا یا عَلٰیحرفِ جر ہے حقیق کے بعد اگرچہ ب آنا چاہئے تھی اور حقیق بی کہنا چاہئے تھا لیکن شدت تمکن اور پورے جماؤ کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لئے عَلٰیکو ذکر کیا جیسے رَمَیْتُ بالقوس (میں نے کمان سے تیر پھینکا) کی جگہ رَمَیْتَ علی القوس (میں نے کمان کو مضبوط پکڑ کر تیر پھینکا) بولا جاتا ہے یا یوں کہا جائے کہ چونکہ اس جگہ حقیق کے اندر حَرِیْصٌ کا معنی بھی ہے (میں حریص ہوں اور مجھ پر لازم ہے اس لئے حقیق کے بعد علیٰ ذکر کردیا گیا کیونکہ حریص کے بعد علیآتا ہی ہے) بِبَیِّنَۃٍیعنی ایسا ثبوت جو میرے رسول ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ فارسل مَعِیَیعنی بنی اسرائیل کو چھوڑ دے ارض مقدسہ کو چلے جانے کی ممانعت اٹھا لے وہ ان کے اسلاف کا اصلی وطن ہے فرعون نے بنی اسرائیل کو گویا قیدی بنا رکھا تھا اینٹیں بنانے اٹھانے اور مٹی ڈھونے اور اسی طرح کے سخت محنت کرنے کے کام ان سے لیتا تھا (اور یہ سب خدمتیں جبریہ تھیں گویا سب کو غلام یا قیدی سمجھتا تھا) قالفرعون نے موسیٰ کو جواب دیا۔ ان کنت من الصدقین اگر تو اپنے دعویٰ رسالت میں سچا ہے۔
Ayah 7:107فالقی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین : پس موسیٰ نے اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا تو وہ دفعتہ ایک کھلا ہوا اژدہا بن گیا
Ayah 7:108ونزع یدہ فاذا ہی بیضاء للنظرین۔ اور (جیب کے اندر سے) اپنا ہاتھ نکالا تو دیکھنے والوں کو وہ سفید گورا (بہت ہی خیرہ کن روشنی والا) دکھائی دینے لگا۔
ثُعْبَانٌ نر اژدہا۔ یہ چھوٹے سانپ کی طرح لہراتا اور حرکت کرتا تھا اسی لئے دوسری آیت میں آیا ہے کَاَنَّہَا جَانٌّ گویا وہ حرکت کرتا ہوا چھوٹا سانپ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی لاٹھی اژدہا بن گئی۔ یہ اژدہا زرد رنگ کا تھا اس کے اوپر بال تھے سر پر کلغی تھی اتنا منہ کھولے تھا کہ دونوں جبڑوں کے درمیان اسّی ہاتھ کا فاصلہ تھا ایک میل زمین سے اونچا تھا نچلا جبڑا زمین پر اور بالا جبرا قصر کی دیوار کے اوپر رکھے تھا اور اوپر کھڑا ہو کر فرعون کی طرف بڑھتا تھا۔ روایت میں آیا ہے کہ اژد ہے نے فرعون کا قبہ منہ میں بھر لیا اور فرعون کو دبا کر بھاگا (اور ڈر کے مارے) اس کو چار سو بار اسہال ہوئے۔ سانپ نے لوگوں پر حملہ کردیا لوگ چیخیں مار کر بھاگے۔ پچیس آدمی آپس میں کچل کر مر بھی گئے فرعون گھر میں گھس گیا اور چیخا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) میں تجھے اسی کا واسطہ دیتا ہوں جس نے تجھے بھیجا ہے کہ اس کو پکڑ لے میں تجھ پر ایمان لے آؤں گا اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی بھیج دوں گا۔ حضرت موسیٰ نے سانپ کو پکڑ لیا تو وہ پھر سابق کی طرح لاٹھی بن گیا۔
معمر کے طریق سے قتادہ ؓ : کا بیان عبدالرزاق ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ پھر فرعون نے کہا کیا تیرے پاس کوئی اور معجزہ بھی ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ وَنَزَعَ یَدَہْاور گریبان کے اندر ہاتھ ڈال کر باہر نکالا۔ فَاِذَا ہِیَ بَیْضَاء للَّنِّظِرِیْنَ تو وہ ہاتھ بالکل گورا تھا جس کی سفیدی غیر معمولی تھی اس کی شعاعیں چکا چوند پیدا کر رہی تھیں اور سورج کی کرنوں سے تیز تھیں لیکن ناگوار نہ تھیں ‘ دیکھنے والوں کے لئے جاذب نظر تھیں۔ پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے گریبان کے اندر ہاتھ ڈال لیا تو ہاتھ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا۔
Ayah 7:109قال الملا من قوم فرعون ان ہذا لساحر علیم : قوم فرعون کے سرداروں نے (آپس میں) کہا کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے
Ayah 7:110یرید ان یخرجکم من ارضکم فما ذا اتامرون : جو تم کو تمہارے ملک سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے اب تم لوگوں کا (اس کے متعلق) کیا مشورہ ہے
Ayah 7:111قالوا ارجہ واخاہ وارسل فی المدآئن حشرین : انہوں نے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی مہلت دو اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے آدمیوں کو بھیج دو
Ayah 7:112یاتوک بکل سحر علیم : تاکہ وہ تمہارے پاس بڑے سے بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں۔
عَلِیْمٌسے مراد ہے ماہر جادوگر جو نظر بندی کر کے لوگوں کو لاٹھی کا سانپ اور ہاتھ کی معمولی جلد کو چمکدار شعاع ریز بنا کر دکھاتا ہے اور غیر واقعی چیز کو دیکھنے میں واقعی بنا دیتا ہے اس جگہ اس قول کا قائل سرداروں کو قرار دیا اور سورة الشعراء میں اس قول کی نسبت فرعون کی طرف کی گئی ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول برطریق مشورہ سب کا تھا فرعون کا بھی اور سرداروں کا بھی یا فرعون نے شروع میں کہا تھا اور سرداروں نے یہی بات آپس میں مشورہ میں طے کردی اور اپنے ماتحتوں سے بھی کہہ دی۔ یریدون ان یخرجکمیہ چاہتا ہے کہ اے قبطیو ! تم کو یہاں سے نکال دے۔ ارضکم یعنی مصر۔ فماذا تامرونیہ کلام تو اسی قول کا حصہ ہے جو سرداروں نے فرعون سے اور خاص خاص امراء سے کہا تھا اس صورت میں امر بمعنی حکم حقیقتاً ہوگا (کیونکہ حقیقت میں فرعون اور اس کے خاص امراء کے ہاتھوں میں قوت آمرہ تھی) یا یہ آخری فقرہ انہوں نے آپس میں اور اپنے ماتحتوں سے کہا تھا تو اس وقت امر کا معنی ہوگا مشورہ دینا کیونکہ مشورہ دینے والا راستہ بتاتا ہے مشورہ طلب بات کی تعلیم دیتا ہے گویا حکم دیتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فما ذا تامرونان لوگوں کا قول ہو جن سے سرداروں نے کہا تھا ان ہذا لساحر علیم یعنی سرداروں نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے تو انہوں نے جواب دیا پھر آپ لوگوں کا کیا مشورہ یا کیا حکم ہے (کیا تدبیر کی جائے) اس صورت میں یہ فرعون کا یا اس کے دوسرے سرداروں کا قول ہوگا یا اوّل فرعون کا پھر دوسرے لوگوں کا کلام ہوگا اور آخر میں بالاتفاق سب کا مشورہ ہوگیا اور سب نے فرعون سے کہا ارجہَ وَاَخَاہُاس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے دو (ارجہاصل میں ارجۂ تھا) صاحب قاموس نے لکھا ہے اَرْجَاءَ الْاَمْرُاْس کام کو مؤخر کردیا یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) پر نہ ایمان لانے میں جلدی کرو نہ اس کو قتل کرنے میں عجلت سے کام لو (ابھی کچھ مدت یونہی رہنے دو ) تاکہ حقیقت امر ظاہر ہوجائے۔ فی المدائن یعنی صعید علاقۂ مصر کی بستیوں میں کچھ سپاہیوں اور سرکاری آدمیوں کو بھیج دو ۔ اس علاقہ میں بڑے بڑے جادوگر رہتے تھے۔ حشرین یعنی پولیس اور دوسرے کارندوں کو جو جادوگروں کو جمع کریں۔
یاتوک یہ جواب امر ہے یعنی اگر آپ بھیج دیں گے تو وہ بڑے سے بڑے جادوگروں کو جمع کر لائیں گے۔ ان کے مقابلہ میں اگر موسیٰ ( علیہ السلام) غالب ہوگیا تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اگر جادوگروں کو غلبہ حاصل ہوگیا تو ہم سمجھ لیں گے کہ موسیٰ جادوگر ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ سدی اور ابن اسحاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ کی لاٹھی میں اللہ کی قوت دیکھ لی تو کہنے لگا ہم موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم کے آدمیوں کے بغیر اس پر غالب نہیں آسکتے چناچہ بنی اسرائیل کے کچھ لڑکوں کو غرباء نامی بستی میں جادو سیکھنے بھیج دیا جادوگروں نے ان کو خوب جادو سکھا یا ادھر موسیٰ سے کچھ مدت ٹھہرے رہنے کا معاہدہ کرلیا جب وہ لوگ جادو سیکھ گئے تو ان کو استاذ سمیت طلب کیا اور پوچھا تم نے کیا کیا انہوں نے جواب دیا ہم نے جو جادو سکھا ہے روئے زمین کے سارے جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہاں اگر کوئی آسمان سے آئی ہوئی چیز ہو تو ہم میں مقابلہ کی طاقت نہیں اس کے بعد فرعون نے اپنی قلمرو کے تمام جادوگروں کو جمع کیا۔ مقاتل نے ان کی تعداد 72 بتائی ہے جن میں ستّر اسرائیلی اور دو قبطی تھی قبطیوں میں سے ایک شعمون تھا جو سب کا سرگروہ تھا۔ کلبی نے کہا یہ جادوگر ستّر تھے اور ایک ان کا سرگروہ تھا انہوں نے ان دو آدمیوں سے جادو سیکھا تھا جو نینوا کے باشندے تھے مگر فرعون کے جیل خانہ میں بند تھے۔ کعب نے بارہ ہزار سدی نے کچھ اوپر تیس ہزار۔ عکرمہ نے ستّر ہزار اور محمد بن منکدر نے اسّی ہزار تعداد بیان کی ہے۔
Ayah 7:113وجآء السحرۃ فرعون قالوا ان لنا لاٍر ان کنا نحن الغلبین : اور وہ جادوگر فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے اگر ہم غالب آگئے تو ہمارا بہت بڑا صلہ ہوگا
Ayah 7:114قال نعم وانکم لمن المقربین : فرعون نے کہا ہاں (بہت بڑا انعام ملے گا) اور (مزید یہ کہ) تم مقرّب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے
Ayah 7:115قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملتقین : پھر جادوگروں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا یا آپ (پہلے) ڈالئے اور یا ابتداء میں ڈالنے والے ہم پر ہی ہوں۔
وَجَاء السَّحَرَۃَیعنی سپاہیوں اور کارندوں کے ساتھ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ قالوا یہ جملۂ استینافیہ ہے ایک محذوف سوال کا جواب ہے گویا کسی نے پوچھا ‘ پھر جادوگروں نے کیا کہا تو جواب دیا کہ جادوگروں نے یہ بات کہی۔ اِنَّ لَنَا لَاَجْرًایہ کلام خبری ہے یعنی اگر ہم غالب آجائیں تو ہمارا حق الخدمت بہت بڑا ہے۔ وَاِنَّکُمْ لمِنَ الُمَقِّرِبِیْنَاس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی فرعون نے کہا تمہارا حق الخدمت بہت بڑا ہوگا اور تم میرے مقربوں میں سے ہوجاؤ گے تمہارا مرتبہ اونچا ہوجائے گا۔ فرعون نے جواب میں اضافہ ان کو مقابلہ کی ترغیب دینے کے لئے کیا (ورنہ نعم کہہ دینا کافی تھا)
مقاتل کا بیان ہے کہ فرعون کی موجودگی میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے بڑے جادوگر سے کہا اگر میں غالب آجاؤں گا تو کیا تو ایمان لے آئے گا جادوگر نے جواب دیا میں ایسا جادو پیش کروں گا کہ کوئی جادوگر اس پر غالب نہیں آسکتا۔ لیکن اگر آپ غالب آگئے تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ قآلُواجادوگروں نے کہا۔ اِمَّا اَنْ تُلِقَییا آپ پہلے اپنی لاٹھی پھینکیں۔ وَاِمَّا اَنْ نَکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَیا ہم ہوجائیں اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکنے والے۔ جادوگروں کے دلوں میں تو یہ حرص تھی کہ انہی کو جادو پھینکنے کا موقع پہلے مل جائے مگر جرأت کا مظاہرہ کرنے کے لئے انہوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اختیار دیا۔ طرز کلام کا بدل دینا خبر کو معرف باللام لانا اور ضمیر فصل کو تاکید کے لئے درمیان میں لانا ان کی اس اندرونی خواہش کی غمازی کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے انہوں نے صرف جملۂ فعلیہ بولا اور اپنے لئے مذکورہ شان کے ساتھ جملہ اسمیہ استعمال کیا۔ قال القوا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنے اوپر کامل اعتماد تھا اور جادوگروں کو وہ اپنے سامنے حقیر سمجھتے تھے اس لئے فرمایا (میں نہیں بلکہ) تم پھینکو۔
Ayah 7:116قال القوا فلما القوا سحروا عین الناس واسترہبوہم وجآء بسحر عظیم : موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تم ہی ڈالو پس جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں کو جادو زدہ کردیا اور ڈرایا اور (بظاہر) ایک بڑا جادو دکھلا دیا۔
Ayah 7:117و اوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک ‘ فاذا ہی تلقف ما یافکون : اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈالو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے (اژدہا بن کر) ان کے سارے جھوٹے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کردیا
Ayah 7:118فوقع الحق وبطل ما کانوا یعملون : اور حق غالب آگیا اور جو کچھ انہوں نے بنایا تھا وہ سب بیکار ہو کر رہ گیا۔
Ayah 7:119فغلبوا ہنا لک وانقلبوا صغرین : پس وہ لوگ اس موقعہ پر ہار گئے اور ذلیل ہو کر واپس چلے گئے۔ فَلَمَّا اَلْقَوا یعنی جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینکیں۔ سَحَرْوا عین الناستو لوگوں کی نظر پر جادو کردیا یعنی اصل حقیقت کو دیکھنے اور جاننے سے پھیر دیا لوگوں کے خیال میں رسیاں اور لاٹھیاں اژد ہے محسوس ہونے لگے ان کو نظر آیا کہ دور دور تک پہاڑوں کی طرح اونچے سانپ ہی سانپ ہیں۔ استرہبوہم اور لوگوں کو انہوں نے خوف زدہ کردیا۔ بسحر عظیم یعنی فن کے لحاظ سے انہوں نے بڑا جادو پیش کیا وَاَوْحَیْنَا اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا تو ہم نے اس کو وحی کی کہ تم بھی اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دو اور کچھ خوف نہ کرو۔ تم ہی غالب رہو گے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادو کی شعبدہ بازی ہے اور شعبدہ باز کو کہیں بھی کامیابی نہیں ہوسکتی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے فوراً اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی۔ فَاِذَا ہی تو وہ دفعتہ ایک بہت بڑا اژدہا بن گئی جس نے افق کو گھیر لیا اور ہر طرف دوڑنا شروع کردیا ابن زید نے کہا یہ اجتماع اسکندریہ میں ہوا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اژد ہے کی دم جھیل (بحیرہ) کے پار پہنچی تھی۔ پھر اس نے اسّی ہاتھ منہ کھول دیا یا مَا یا فکوْناور ان کے جھوٹے بنائے ہوئے کھیل کو یہ اژدہا نگلنے لگا۔
یافکون افک سے ماخوذ ہے افککا معنی ہے کسی چیز کو الٹ دینا موڑ دینا۔ روایت میں آیا ہے کہ اژدہا سب رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا پھر اہل اجتماع کی طرف اس نے رخ کیا لوگ سرپٹ گرتے پڑتے بھاگے کہ بہت سے لوگ مرگئے پھر موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا تو وہ حسب سابق لاٹھی بن گیا جادوگروں نے کہا اگر موسیٰ ( علیہ السلام) کی لاٹھی جادو کی لاٹھی ہوتی تو ہماری لاٹھیاں اور رسیاں تو اصلی حالت پر باقی رہتیں لاٹھیوں اور رسیوں کا معدوم ہونا بتارہا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی لاٹھی اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔
فَوَقعََ الحقُّ پس حق ثابت اور ظاہر ہوگیا۔ فَغُلِبوا یعنی فرعون اور اس کے گروہ والے ہار گئے وَانْقَلَبُوْا اور شہر کو لوٹ گئے صَاغِرِیْنَ ذلیل و مغلوب ہو کر۔
Ayah 7:120والقی السحرۃ سجدین : اور ساحر سجدہ میں بےاختیار گرپڑے
Ayah 7:121قالوا امنا برب العلمین : کہنے لگے ہم رب العالمین پر
Ayah 7:122رب موسیٰ وہرون : یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے
Ayah 7:123قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم ان ہذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منہا اہلہا فسوس تعلمون : فرعون بولا میری اجازت کے بغیر تم موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے حقیقت میں یہ تم سب کی سازش تھی جو تم نے شہر میں اس لئے کی تھی کہ یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ اب تم کو (اپنے اس جرم کی) حقیقت معلوم ہوجائے گی۔
القی السحرۃ ساجدینگرا دیئے گئے یعنی اللہ نے ان کو سجدہ میں گرا دیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ سجدہ میں گرگئے بلکہ فعل مجہول استعمال کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ظہور حق نے ان کو بےاختیار سجدہ میں گرا دیا اور وہ بےقابو ہوگئے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں سجدہ میں گر پڑنے کا ارادہ پیدا کردیا۔ جس کی وجہ سے وہ سجدہ میں گرپڑے۔ اخفش نے کہا وہ فوراً ہی سجدہ میں گرپڑے معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے ان کو سجدہ میں گرا دیا۔
رَبِّ مُوْسٰی وہرٰون رب العلمین کے بعد رب موسیٰ و ہارون کہنے سے اس خیال کو دور کرنا مقصود ہے کہ شاید رب العلمین سے ان کی مراد فرعون ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جب جادوگر ایمان لے آئے تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیرو چھ لاکھ بنی اسرائیل ہوگئے اَمٰنْتُمْ بِہٖیعنی اللہ پر یا موسیٰ ( علیہ السلام) پر تم ایمان لے آئے۔ ان ہذا حقیقت میں یہ فعل ایک سازش تھی جو تم نے اور موسیٰ نے مل کر تیار کی تھی۔ فی المدینۃ یعنی تاریخ مقررہ پر یہاں آنے سے پہلے مصر کے اندر تم نے یہ سازش کی تھی۔ لتخرجوا منہا اہلہا تاکہ مصر سے اہل مصر یعنی قبطیوں کو نکال دو اور ملک مصر تمہارا اور بنی اسرائیل کا ہوجائے۔ فَسَوف تعلمونتم نے جو حرکت کی اس کا نتیجہ تم کو ابھی معلوم ہوجائے گا اس جملہ میں فرعون نے منہم دھمکی دی جس کی توضیح آگے کلام میں کردی۔
Ayah 7:124لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ثم لاصلبنکم اجمعین : میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دونگا
Ayah 7:125قالوا ان الی ربنا منقلبون : انہوں نے جواب دیا (کچھ پروا نہیں) ہم اپنے رب کے پاس ہی ضرور لوٹ کر جائینگے
Ayah 7:126وما تنقم منا الا ان امنا بایت ربنا لما جآء تنا ربنا افرغ علینا صبرا وتوفنا مسلمین : اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا۔ بجز اسکے کہ ہم نے اپنے رب کے احکام کو مان لیا جب وہ احکام ہمارے پاس آگئے۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جانیں حالت اسلام پر نکال۔
مِنْ خلاَفٍیعنی ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پاؤں۔ لَاْ صَلِّبنّکم یعنی دریا مصر کے کنارے درختوں کے تنوں میں تم کو صلیب پر لٹکا دوں گا تاکہ تمہاری رسوائی اور دوسروں کو عبرت ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ : کا ایک قول ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے سولی چڑھانے کا طریقہ فرعون نے ہی ایجاد کیا۔ قالوا یعنی جادوگروں نے فرعون سے کہا انا الٰی ربنا منقلبون ہم کو تیری دھمکی کی پروا نہیں مرنے کے بعد آخر ہمیں اپنے رب کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم کو تم کو سب کو رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے وہی ہمارا آپس کا فیصلہ کرے گا۔ وما تنقم یعنی تجھے ہمارے اندر اور کوئی بات بری نظر نہیں آئی صرف اتنی بات ہوئی کہ ہم ایمان لے آئے اور ایمان بہترین عمل ہے اس کو عیب قرار دینا جائز نہیں۔ لہٰذا تیری خوشنودی حاصل کرنے اور تیری دھمکی سے مرعوب ہونے کی وجہ سے ہم ایمان سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ پھر اللہ کی طرف انہوں نے کلام کا رخ موڑا اور دعا کی۔ افرغ علینا صبرًاہم پر صبر بہا دے۔ صبر کا فیضان کر دے تاکہ فرعون کی دھمکی ہم کو ایمان سے نہ روک سکے۔ وَتَوَّفَنَا مُسْلِمِیْنَ اور مرنے کے وقت ہم کو ایمان پر ثابت قدم رکھ۔ کلبی کا بیان ہے کہ دھمکی کے مطابق فرعون نے مؤمن جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور صلیب پر لٹکوا دیا لیکن دوسرے علماء کا قول ہے کہ فرعون ایسا نہ کرسکا۔ کیونکہ اللہ نے فرما دیا تھا) لا یصلون الیکما انتماء ومن ابتعکما الغالبون) ان کی دسترس تم دونوں تک نہ ہوگی تم دونوں اور تمہاری پیروی کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔