Ayah 7:35یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اے اولاد آدم جب تمہارے پاس (میرے) پیغمبر آئیں گے جو تم میں سے ہوں گے (اور) تم سے میرے احکام بیان کریں گے سو جو لوگ پرہیز رکھیں گے اور درستی کریں گے ان کو کچھ اندیشہ نہ ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔
ایموقا میں ما زائد ہے جس کو تاکید شرط کے لئے زیادہ کیا گیا۔ لفظ اِنْجو شک کے لئے آتا ہے (باوجودیکہ پیغمبروں کا آنا یقینی تھا) اسی لئے استعمال کیا گیا کہ پیغمبروں کو بھیجنا اللہ کے ذمہ واجب نہیں۔ اللہ پر کوئی چیز بھی واجب نہیں ( کسی کا اس پر کوئی لازمی واجب الادا حق نہیں جب ہوش و حواس عقل و فہم اور تمام علمی و عملی طاقتیں عطا فرما دیں اور انفسی ‘ آفاقی ‘ داخلی اور خارجی دلیلیں قائم کردیں تو سوچ سمجھ کر افکار و اعمال کی درستی سب پر واجب ہوگئی ہدایت نامے اور انبیاء کی بعثت ضروری نہیں رہی مگر اللہ نے اپنی مہربانی سے کتابیں اور پیغمبر بھیجے) ۔
منکم یعنی آدمیوں سے اٰیاتی یعنی اللہ کی کتابوں کی آیات۔ فمن اتقی یعنی جو شخص شرک اور تکذیب انبیاء سے بچتا رہا۔ واصلح یعنی اس نے اپنے اعمال کو درست کرلیا اور اللہ کے حکم کے مطابق خالص اللہ ہی کی خوشنودی کے لئے کام کئے۔ فلا خوف یعنی قبر میں اور قیامت کے دن جب دوسرے لوگوں کو خوف ہوگا ان کو کوئی خوف نہ ہوگا۔ ولا ہم یحزنون یعنی جب دوزخ کے اندر دوسرے لوگ حزن میں مبتلا ہوں گے (اور گزشتہ زندگی تباہ کرنے کا ان کو غم ہوگا) ان کو کوئی غم نہ ہوگا۔
Ayah 7:36والذین کذبوا باتینا واستکبروا عنہا اولئک اصحب البار ہم فیہا خلدون : اور جو لوگ ہمارے احکام کی تکذیب کریں گے اور ان سے تکبر کریں گے وہ دوزخی ہوں گے اور دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ تکبر کریں گے یعنی ایمان لانے سے غرور کریں گے۔ فَلاَ خَوْفٌمیں فاء کو ذکر کرنا اور اولءک کو بغیر فاء کے لانا (باوجودیکہ دونوں جزاء شرط ہیں) وعدۂ ثواب کی قوت اور وعید عذاب کی سبکی کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 7:37فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ پس اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ پر دروغ بندی کرتا ہے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا قرار دیتا ہے۔ یعنی اللہ کے لئے شریک اور بیوی بچے قرار دیتا ہے اور سانڈھ اور دوسرے بتوں کے ناموں پر چھوڑے ہوئے جانوروں کی حرمت کا قائل ہے اور برہنہ طواف کرنے کو ضروری کہتا ہے ( اور ان احکام کی نسبت اللہ کی طرف کرتا ہے) آیت کے عموم میں وہ رافضی بھی داخل ہیں جو اللہ پر اور اللہ کے پیغمبروں پر دروغ بندی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے تو قرآن میں کچھ آیات اور بھی اتاری تھیں مگر صحابہ ؓ نے ان کو قرآن سے ساقط کردیا۔
او کذب باتیہ میں حرف او تردید کے لئے ہے لیکن یہ تردید جمع کی نہیں بلکہ خلو کی ہے (یعنی یہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ ہوسکتی ہیں کہ ایک شخص اللہ پر دروغ بندی بھی کرے اور جو احکام اللہ کے نہیں ہیں ان کی نسبت اللہ کی طرف کر دے اور واقعی جو اللہ کے احکام ہیں ان کو نہ مانے۔ ہاں اظلم ہونے کے لئے ان دونوں باتوں میں سے کسی ایک کا ہونا لازم ہے یعنی جو ایک کام کرے یا دوسرا وہ ضرور اظلم ہوگا۔
اولئک ینالہم نصیبہم من الکتب حتی اذا جآء تہم رسلنا یتوفونہم قالوا این ما کنتم تدعون من دون اللہ (دنیا میں) ان کے نصیب کا جو کچھ ہے ان کو مل جائے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے آئیں گے (اور) ان کی جانیں قبض کریں گے تو پوچھیں گے وہ کہاں گئے جن کی پوجا تم اللہ کے علاوہ کرتے تھے۔ فرشتوں کی طرف سے استفہام بطور سرزنش ہوگا یعنی وہ بت وغیرہ کہاں گئے جن کو تم پوجتے تھے۔
قالوا ضلوا عنا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کفرین وہ جواب دیں گے (آج) وہ سب غائب ہوگئے اور (معائنہ عذاب کے وقت) وہ خود اپنے کافر ہونے کا اعتراف کریں گے۔
Ayah 7:38قل ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار کلما دخلت امۃ لعنت اختہا (قیامت کے دن اللہ یا موت کے وقت فرشتہ) کہے گا تم سے پہلے جن و انس کے جو فرقے گزر چکے ہیں ان کے ساتھ شامل ہو کر تم بھی دوزخ میں چلے جاؤ جس وقت بھی (دوزخ میں) کوئی جماعت داخل ہوگی وہ اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ یعنی اس جماعت پر لعنت کرے گی جو اسی کی طرح گمراہ ہوگی اور جس کی پیروی کی وجہ سے یہ گمراہ ہوئی ہوگی۔ یہودی عیسائیوں پر اور عیسائی یہودیوں پر اور تمام گمراہ پیرو گمراہ کرنے والے لیڈروں پر لعنت کریں گے۔
حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعاً قالت اخرہم لاولہم ربنا ہولآء اضلونا فاتہم عذاب ضعفا من النار قال لکل ضعف ولکن لا تعلمون : یہاں تک کہ جب دوزخ کے اندر (پچھلی اور پہلی) سب جماعتیں جمع ہوجائیں گی تو پچھلی جماعت پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے مالک انہوں نے ہم کو گمراہ کیا ان کو دوزخ کا دگنا عذاب دے (گمراہ ہونے کا اور گمراہ کرنے کا) اللہ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کے لئے دوگنا عذاب ہے لیکن تم (ابھی) واقف نہیں۔ یعنی جتنا بظاہر دوسروں کو عذاب نظر آ رہا ہے حقیقت میں اس سے دگنا ہے ہر عذاب کی ایک ظاہری شکل و مقدار ہوگی جو دوسروں کو دکھائی دے گی ایک باطنی کیفیت و مقدار ہوگی جو دوسروں کو نہیں دکھائی دے گی اور نہ دیکھنے کی وجہ سے خیال کیا جائے گا کہ اندرونی طور پر اس پر عذاب نہیں ہے یا یہ مطلب ہے کہ گمراہی کا تقاضا جس عذاب کا ہے اس سے دو گناہ عذاب ہر فریق پر ہوگا رہنماؤں پر ایک عذاب تو ان کے کفر کا ہوگا اور دوسرا عذاب گمراہ کرنے کا اور رہنماؤں کے متبعین پر ایک عذاب اپنے کفر کا ہوگا اور دوسرا اہل حق کو چھوڑ کر اہل باطل کی تقلید کرنے کا۔
Ayah 7:39وقالت اولہم لاخرہم فما کان لکم علینا من فضل فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون : اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی اب تم کو ہم پر کوئی برتری نہیں لہٰذا اپنے کئے کا مزہ چکھو۔ پہلی جماعت اپنے کلام کو اللہ کے کلام پر مرتب کرتے ہوئے کہے گی اللہ کے کلام سے ثابت ہوگیا کہ کہ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ سب استحقاق عذاب میں برابر ہیں لہٰذا اپنے کئے کی سزا بھگتو فذوقوا العذاب رہنماؤں کے کلام کا جزء ہے یا اللہ کا وہ کلام ہے۔ جو دونوں فریقوں سے ان کی باہمی گفتگو کے بعد اللہ فرمائے گا۔
Ayah 7:40ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنہا لا تفتح لہم ابواب السمآء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ان پر ایمان لانے سے سرتابی کی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے۔ یعنی ان کے اعمال اور روحوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ان کی روحوں کے لئے نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ ان کی روحیں گندی ہوں گی ان کو اوپر نہیں چڑھایا جائے گا بلکہ نیچے سجین میں پھینک دیا جائے گا۔
امام مالک (رح) نسائی اور بیہقی (رح) نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں کافر بندے کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سیاہ رو ملائکہ کافر کی روح قبض کرنے کے بعد ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں اس سے بدترین مردار کی ایسی بدبو نکلتی ہے پھر اس کو لے کر اوپر چڑھتے ہیں اور ملائکہ کے جس گروہ کی طرف سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں یہ گندی روح کون ہے روح کے قابض ملائکہ اس مردہ کا بدترین دنیوی نام لے کر کہتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے آخر ساتویں آسمان تک اس کو لے جایا جاتا ہے اور دروازہ کھلوانے کی درخواست کی جاتی ہے لیکن دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر حضور ﷺ نے آیت (لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ وَلاَ یَدْخُلَوُنَْ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ) تلاوت فرمائی۔ پھر اللہ فرماتا ہے اس کی کتاب نچلی زمین کے قید خانہ (سجین) میں درج کرلو حسب الحکم اس روح کو (سجین میں) پھینک دیا جاتا ہے اس کے بعد حضور نے آیت : (ومن یشرک باللّٰہ فکانما خرمن السّماء فتخطفہ الطیر او تہوی بہ الریح فی مکان سحیق) تلاوت فرمائی۔ ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
حتی یلج الجمل یعنی اونٹ کی برابر کوئی چیز سوئی کے سوراخ میں داخل ہوجائے اور ایسا ہونا تو کبھی ممکن نہیں لہٰذا ان کا جنت میں داخلہ بھی کبھی ممکن نہیں۔
وکذلک نجزی المجرمین : اور اسی (سخت سزا اور رحمت سے محرومی) کی طرح ہم مجرموں کو سزا دیں گے
Ayah 7:41لہم من جہنم مہاد ومن فوقہم غواش وکذلک نجزی الظلمین۔ ان کا بچھونا اور اوڑھنا جہنم کا ہوگا اور ایسی ہی ہم ظالموں کو سزا دیں گے۔ مہاد بستر۔ غواش (غاشیہ کی جمع ہے) اوڑھنے کی چیز۔ یعنی آگ ان کو ہر طرف سے محیط ہوگی دوسری آیت میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا گیا ہے فرمایا : (من فوقہم ظلل من النار ومن تحتہم ظلل) جنت سے محرومی کے ساتھ مجرمین کا لفظ اور عذاب نار کے ساتھ ظالمین کا لفظ ذکر کیا اس سے اس بات پر تنبیہ ہوگئی کہ ظلم کا درجہ جرم سے بڑا ہے۔
اس سے آگے حسب اسلوب قرآنی اہل ایمان کے ثواب کا ذکر کیا اور فرمایا :
Ayah 7:42والذین امنوا وعملوا الصلحت لا نکلف نفسا الا وسعہا اولئک اصحب الجنۃ ہم فیہا خالدون۔ اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ایسے ہی لوگ جنتی ہیں جنت کے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے ہم کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ مکلف نہیں کرتے۔ الصلٰحت جمع ہے اور جب جمع کے صیغے پر الف لام آجائے تو صیغۂ استغراق بن جاتا ہے اس لئے عملوا الصلحٰت کے کہنے سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ جنت کا وعدہ انہی مؤمنوں سے کیا گیا ہے جنہوں نے تمام زندگی نیکیاں کی ہوں کبھی گناہ نہ کیا ہو یا تمام نیکیاں کی ہوں کوئی نیکی نہ چھوڑی ہو اس شبہ کو دور کرنے کے لئے درمیان میں لا نکلف نفسا الا وسعہابطور جملہ معترضہ فرما دیا (ہم نے اس جملہ کا ترجمہ جملۂ کاملہ کے ترجمہ کے بعد اردو زبان کی رعایت سے کیا ہے) اس سے مراد طاقت بغیر تنگی اور دشواری کے برداشت۔
Ayah 7:43ونزعنا ما فی صدروہم من غل اور جو خلش ان کے دلوں میں باہم تھی ہم اس کو نکال دیں گے نزعنابصیغۂ ماضی ہم ضرور نکال دیں گے۔ غلَّ وہ حسد اور دشمنی جو ان کے آپس میں دنیا میں تھی۔ یہاں تک کہ ان کے آپس میں دوستی ہی دوستی اور محبت ہی رہ جائے گی اگر اللہ ایک کو کسی خصوصی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور دوسرے کو وہ چیز نہیں عطا کی گئی ہوگی تو اس کو اپنے بھائی سے حسد نہ ہوگا۔ (گویا جذبۂ حسد ہی ختم ہوجائے گا) سعید بن منصور ‘ ابونعیم ‘ ابن ابی شیبہ ‘ طبرانی اور ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان ؓ اور طلحہ ؓ انہی لوگوں میں سے ہوں گے (یعنی وہ خلش جو دنیا میں باہم ہمارے دلوں میں تھی وہ آخرت میں دور ہوجائے گی اور دل صاف ہوجائیں گے)
میں کہتا ہوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ اس لئے فرمایا کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے فتنہ میں ان بزرگوں کے درمیان کچھ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی۔
بخاری اور اسماعیلی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت (ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین) کی تشریح میں فرمایا مؤمنوں کو دوزخ سے الگ کرلیا جائے گا پھر دوزخ اور جنت کے درمیانی پل پر روک لیا جائے گا اور بعض کے حقوق بعض سے دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ جب سب صاف ستھرے ہوجائیں گے تو ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ : کی جان ہے دنیا میں ان کو جتنا اپنے گھر کا راستہ معلوم تھا اس سے زیادہ وہ اپنے جنتی مکان کے راستہ سے واقف ہوں گے۔ راوی حدیث قتادہ ؓ نے کہا ان کی حالت ان لوگوں کے مشابہ ہوگی جو جمعہ کی نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں (اور کوئی اپنے گھر کو یا گھر کے راستہ کو نہیں بھولتا)
ابن ابی حاتم نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے مجھے اطلاع ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صراط سے گزرنے کے بعد اہل جنت کو روک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جو حقوق ایک کے دوسرے پر ہوں گے وہ دلوائے جائیں گے پھر جنت کے اندر اس حالت میں بھیجا جائے گا کہ آپس میں ان کے دلوں میں کوئی خلش باقی نہ ہوگی۔ قرطبی نے لکھا ہے یہ ان لوگوں کے لئے ہوگا جن کو دوزخ میں داخل ہی نہیں کیا گیا ہوگا باقی جو لوگ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد پھر رہائی پا کر آئیں گے ان کا (باہم صراط پر یا صراط کے بعد) کوئی محاسبہ نہ ہوگا بلکہ جب دوزخ سے نکلیں گے فوراً ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ ابن حجر نے لکھا ہے کہ (حضرت ابوسعید ؓ کی روایت کردہ حدیث میں جو آیا ہے) مؤمنوں کو دوزخ سے الگ کرلیا جائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخ سے محفوظ رکھا جائے گا دوزخ میں گرنے کے بغیر وہ صراط سے گزر جائیں گے۔ حدیث میں جو لفظ قنطرہ (پل) آیا ہے اس سے مراد بعض کے نزدیک صراط کا وہ کنارہ ہے جو جنت پر ہے بعض کے نزدیک یہ پل۔ صراط سے الگ ہے۔ قرطبی (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے اور سیوطی (رح) نے اوّل کو۔
میں کہتا ہوں وہاں دینار و درہم تو موجود نہ ہوگا آپس کا بدلہ نیکیوں اور بدیوں کے لین دین کی شکل میں ہوگا اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہوگا تو مظلوم کے حق کے بقدر وہ مظلوم کو دلوا دیا جائے گا اگر ظالم کی کوئی نیکی نہ ہوگی تو مظلوم کے گناہ بقدر حق ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد اسی طرح نقل کیا ہے۔ مسلم اور ترمذی کی روایت میں حدیث کے الفاظ اس طرح آئے ہیں حقوق کا پورا بدلہ لینے سے پہلے ہی اگر اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوم کے کچھ گناہ لے کر ظالم پر ڈالے جائیں گے پھر اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور دوزخ میں پھینکا جانا پل صراط سے عبور کامل کے بعد ممکن نہیں (اس لئے قنطرہ سے مراد پل صراط کے علاوہ کوئی دوسرا پل ہے)
تنبیہ
سینوں سے خلش کو دور کردینا آپس میں بدلہ دلوانے پر ہی محدود نہ ہوگا بلکہ بقول بغوی اس کے بغیر بھی ہو سکے گا۔ سدی نے اس آیت کی تشریح میں بیان کی کہ اہل جنت جب جنت کی طرف بڑھیں گے تو جنت کے دروازہ کے پاس ان کو ایک درخت ملے گا جس کی جڑ میں دو چشمے ہوں گے وہ جب ایک چشمہ کا پانی پئیں گے تو دلوں کے اندر جو باہمی خلش ہوگی وہ نکل جائے گی یہی شراب طہور ہوگی اور دوسرے چشمہ سے غسل کریں گے تو ان پر نضرۃ النعیم (رونق عیش) آجائے گی اس کے بعد کبھی نہ وہ خشک رو پراگندہ مو ہوں گے نہ کبھی چہرہ کا رنگ بگڑے گا۔
تجری من تحتہم الانہر (جنت میں داخل ہونے کے بعد) ان کے (گھروں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ جملہ حالیہ ہے۔
وقالوا الحمدللہ الذی ہدنا لہٰذا وما کنا لنہتدی لولا ان ہدنا اللہ لقد جآئت رسل ربنا بالحق اور وہ کہیں گے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور ہم کبھی بھی یہاں تک نہ پہنچتے اگر اللہ ہم کو نہ پہنچتا۔ بیشک ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ ہدنا لہذا یعنی اس نے ہم کو جنت تک پہنچایا۔ سفیان ثوری نے کہا ایسے عمل کی اس نے ہدایت کی جس کا یہ ثواب ہے۔ لنہتدی میں لام حجود ہے جو ما بعد کی نفی کو مؤکد کرنے کے لئے لایا گیا ہے اور ان ناصبہ مصدریہ محذوف ہے۔ جیسے مَا کَان اللّٰہِ لِیْعَذَبَہُمْ میں ہے۔ لَوْ لا کی جزاء محذوف ہے جس پر کلام سابق دلالت کر رہا ہے یعنی اگر اللہ نے ہم کو ہدایت نہ کی ہوتی تو ہم ہرگز ہدایت یاب نہ ہوتے۔ لَقَدْ جَآءَ تَ رَسُلَ رَبِّنَا بالحق یعنی اللہ کے پیغمبر برحق آئے تھے اور حق پیام لائے تھے انہی کی رہنمائی سے ہم ہدایت یاب ہوئے۔ پیغمبروں کے دیئے ہوئے وعدہ کے مطابق اپنی آنکھوں سے ثواب کا معائنہ کرنے کے بعد خوش ہو کر اہل جنت یہ بات کہیں گے۔
ونودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموہا بما کنتم تعملون۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ جنت تم کو تمہارے اعمال کے بدلہ میں دی گئی ہے۔ یعنی اہل جنت کو ندا دی جائے گی کہاں سے اور کس وقت ندا دی جائے گی اس کے متعلق علماء کے دو قول ہیں۔
(1) جب اہل جنت دور سے جنت کو دیکھیں گے تو اس وقت یہ ندا دی جائے گی۔ (2) جنت کے اندر ندا دی جائے گی۔ سیوطی (رح) نے بدور سافرہ میں اسی قول کو پسند کیا ہے۔ اور ثتموہا بما کنتم تعملون یعنی تمہارے اعمال کے سبب سے یہ جنت تم کو عطا کردی گئی۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ عطا جنت کو لفظ میراث سے تعبیر کرنا بتارہا ہے کہ جس طرح میراث بغیر کسی معاوضہ کے مفت وارث کو ملتی ہے اسی طرح جنت بھی محض اللہ کے فضل سے بغیر عملی استحقاق کے دی جائے گی (اگرچہ ظاہر میں اعمال عطاء جنت کا سبب ہوں گے مگر حقیقت میں محض اللہ کی مہربانی پر اس کا مدار ہوگا) ۔
مسلم نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک منادی پکارے گا آئندہ تمہارے لئے تندرست رہنا ہے کبھی بیمار نہ ہوگے تمہیں زندہ رہنا ہے کبھی نہ مرو گے تمہارے لئے جوان رہنا ہے کبھی بوڑھے نہ ہوگے تمہارے لئے سکھ میں رہنا ہے کبھی دکھ نہیں پاؤ گے یہی مطلب ہے اللہ کے فرمان (ونودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموہا بما کنتم تعملون) ابن ماجہ اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں ایک گھر جنت میں ایک گھر دوزخ میں اگر مر کر دوزخ میں چلا جاتا ہے تو اہل جنت اس کے (جنتی) گھر کے وارث ہوجاتے ہیں یہی معنی ہے آیت (اولئک ہم الوارثون) کا۔
Ayah 7:44ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فہل وجدتم ما وعد ربکم حقا قالوا نعم اور جنت والے دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب نے نے ہم سے جس ثواب کا وعدہ کیا تھا ہم نے تو اس کو واقعی پا لیا تو کیا تمہارے رب نے جس عذاب کی تم کو وعید دی تھی تم نے بھی اس کو واقعی پا لیا دوزخی کہیں گے ہاں۔ مَا وَعَدَنا سے مراد ہے ثواب اور مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ سے مراد ہے عذاب۔ اہل جنت دوزخ والوں سے مذکورہ بالا سوال صرف اپنی مسرت کو ظاہر کرنے اور دوزخیوں کو جلانے کے لئے کریں گے مَا وَعَدَرَبُّکُمْ میں وعد کا مفعول یعنی کم محذوف ہے۔
فاذن مؤن بینہم ان لعنۃ اللہ علی الظلمین : پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی پھٹکار ہو ان بےجا حرکتیں کرنے والوں پر۔
Ayah 7:45الذین یصدون عن سبیل اللہ ویبعونہا عوجا وہم بالاخرۃ کفرون۔ جو اللہ کی راہ سے روگرداں تھے اور دوسروں کو روکتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے رہتے تھے اور وہ آخرت ہی کے منکر تھے۔
یصدون (لازم بھی ہے) اعراض کرتے تھے (اور متعدی بھی) دوسروں کو روکتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یبغونہا عوجا کی تشریح میں فرمایا اللہ کے سوا دوسروں کے (دکھانے کے) لئے نماز پڑھتے تھے اور جس کی تعظیم کا حکم اللہ نے نہیں دیا اس کی تعظیم کرتے تھے۔
میں کہتا ہوں یصدون سے پہلے کانوا محذوف ہے (اور ماضی بعید کا صیغہ ہے) کیونکہ وہ دنیا میں ایسا کرتے تھے قیامت کے دن ایسا نہیں کریں گے۔ عوجبکسر عین عام ہے کسی طرح کی کجی ہو معانی میں ہو یا ان خارجی موجودات میں جو کھڑے نہ ہوں جیسے دین میں کجی زمین میں کجی لیکن بفتح عین صرف ان خارجی چیزوں کو کجی کو کہتے ہیں جو کھڑی ہوں جیسے دیوار یا نیزہ کی کجی۔
Ayah 7:46وبینہما حجاب وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماہم . اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑہو گی اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وہ لوگ (اہل جنت اور اہل جہنم میں سے) ہر فریق کو علامات سے پہچان لیں گے۔
بینہما یعنی جنت دوزخ یا اہل جنت و اہل جہنم کے درمیان۔ حجاب یعنی وہ آڑ اور دیوار جس کا ذکر سورة حدید کی آیت فضرب بینہم بسورلہ باب میں آیا ہے اور وہاں ہم نے اس کی تشریح کردی ہے۔ الاعرافعرف کی جمع ہے یعنی حجاب کی چوٹیاں یہ لفظ عرف الفرس (گھوڑے کی ایال) یا عرف الدیک (مرغ کی کلغی) سے ماخوذ ہے بعض علماء نے کہا عرف کسی چیز کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں کیونکہ (معرفت اور عرفان کا معنی ہے پہچاننا اور) کسی چیز کی چوٹی سب سے نمایاں اور قابل شناخت ہوتی ہے۔
اعراف پر کون لوگ ہوں گے علماء کے اقوال اس کے متعلق مختلف ہیں ابن مردویہ نے حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے رسول اللہ : ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ نیکیاں جہنم میں جانے سے روکیں گی لیکن اتنی بھی نہیں ہوں گی کہ جنت میں لے جائیں۔ ابن جریر اور بیہقی نے بطریق طلحہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان دیوار ہوگی اعراف والے وہ لوگ ہوں گے جن کے بڑے بڑے گناہ ہوں گے جن کی وجہ سے اللہ ان کو اعراف پر روک دے گا چہروں کی سیاہی سے وہ دوزخیوں کو اور سفیدی سے جنتیوں کو پہچان لیں گے۔ اہل جنت کو دیکھ کر جنت میں پہنچ جانے کی ان کو طمع ہوگی لیکن دوزخ کو دیکھیں گے تو اس سے پناہ مانگیں گے۔ آخر اللہ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا یہی مراد ہے آیت ( ہٰؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لاَیَنَالُہُمُ اللّٰہِ بِرَحْمَۃٍ ۔ اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَلاَ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ) میں۔
ہناد ‘ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے اپنی تفسیروں میں عبداللہ بن حارث کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ اعراف جنت و دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہوگی اور اصحاب اعراف وہ لوگ ہوں گے جن کو اللہ وہاں روک دے گا پھر جب اللہ ان کو معاف کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے ان کو ایک نہر کی طرف لے جائے گا جس کا نام نہر حیات ہوگا جس کے دونوں کنارے سونے کے موتیوں سے جڑے ہوئے ہوں گے اور اس کی مٹی مشک کی ہوگی اس نہر میں اصحاب اعراف کو ڈالا جائے گا (نہاتے ہی) ان کے رنگ درست ہوجائیں گے اور سینے پر ایک سفید چمکدار تل نمودار ہوجائے گا تو اللہ ان کو طلب فرما کر دریافت فرمائے گا کہ اب تمہاری کیا تمنا ہے جو چاہو مانگو۔ وہ لوگ اپنی تمنا ظاہر کریں گے جب ان کی ساری تمنائیں ختم ہوجائیں گی (اور کوئی تمنا کرنا باقی نہ رہے گی) تو اللہ فرمائے گا تم کو وہ چیزیں دی گئیں جن کی تم نے تمنا کی اور اتنی ہی اور بھی اور ستر ہزار گنا مزید۔ چناچہ وہ جنت میں داخل کردیئے جائیں گے مگر ان کے سینوں پر ایک سفید تل چمکتا ہوگا اسی سے ان کی پہچان ہوگی۔ یہ لوگ مساکین اہل جنت (جنتیوں میں مسکین) کہلائیں گے۔
ابوالشیخ نے ابن منکدر کے طریقہ سے ایک مزنی شخص کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اعراف کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو باپ کی اجازت کے بغیر جہاد کو گئے ہوں گے اور باپ کی نافرمانی کرنے کی حالت میں ہی جہاد میں شہید ہوگئے ہوں گے چونکہ باپ کے نافرمان تھے اس لئے ان کو جنت سے روک دیا جائے گا لیکن راہ خدا میں شہید ہوئے تھے اس لئے دوزخ میں بھی نہیں بھیجا جائے گا۔
طبرانی نے ضعیف سند سے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب اعراف کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو باپ کی نافرمانی کی حالت میں راہ خدا میں مارے گئے ہوں گے شہادت ان کو دوزخ میں جانے سے روک دے گی اور باپ کی نافرمانی جنت میں نہیں جانے دی گی۔ ان کا گوشت اور چربی پگھل جائے گی یہاں تک کہ اللہ جب سب مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا اور ان کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہے گا تو اس کی رحمت ان کو بھی ڈھانک لے گی اور اپنی رحمت سے ان کو بھی جنت میں داخل فرمائے گا۔
طبرانی اور بیہقی نے نیز حارث بن اسامہ نے اپنی مسند میں اور سعید بن منصور ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور ابوالشیخ نے اپنی تفسیروں میں حضرت عبدالرحمن مزنی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب اعراف کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا وہ ایسے لوگ ہوں گے جو راہ خدا میں مارے گئے ہوں گے۔ میں کہتا ہوں شاید ان شہداء سے مراد وہی شہداء ہیں جنہوں نے باپوں کی نافرمانی کی حالت میں جہاد کیا ہوگا۔ اس طرح مذکورۂ بالا دونوں حدیثوں میں مطابقت ہوجائے گی۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ مذکورہ شہداء کا ذکر بطور تمثیل کیا گیا ہے یہ ان لوگوں کی جماعت کے کچھ افراد ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی یہ مقصد نہیں ہے کہ اصحاب اعراف بس یہی لوگ ہوں گے دوسرے نہیں ہوں گے اس کا ثبوت بعض ان احادیث سے ملتا ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں گی ابن ابی داؤد اور ابن جریر نے ابن عمر بن حزم بن جریر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب اعراف کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ فرمایا یہ وہ بندے ہوں گے جن کا فیصلہ سب سے آخر میں ہوگا جب رب العلمین تمام بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجائے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو تم کو نکال لیا (یعنی بچا لیا) اور تم جنت میں بھی (نیکیوں کی کمی کی وجہ سے) نہیں جاسکے ‘ اب تم آزاد ہو جنت میں جہاں چاہو سیر کرتے پھرو۔ سیوطی (رح) نے کہا یہ روایت مرسل حسن ہے۔ ابن مردویہ اور ابوالشیخ نے دو طریقوں سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ان لوگوں کا حکم پوچھا گیا جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں گی فرمایا یہی اصحاب اعراف ہوں گے جو جنت میں نہیں جاسکے ہوں گے مگر داخلۂ جنت کی طمع رکھتے ہوں گے۔
بیہقی نے حضرت حذیفہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ سب کو جمع کرے گا اہل جنت کو جنت میں جانے کا اور دوزخیوں کو دوزخ کا حکم دیا جائے گا۔ پھر اصحاب اعراف سے فرمائے گا تم کو کس چیز کا انتظار ہے وہ عرض کریں گے ہم تیرے حکم کے منتظر ہیں ارشاد ہوگا تمہاری نیکیوں نے دوزخ میں جانے سے تو تم کو بلاشبہ بچا لیا (مگر) تمہارے جرائم جنت میں جانے سے بھی تمہارے لئے آڑ بن گئے اب جاؤ میری مغفرت اور رحمت سے (جنت میں) چلے جاؤ۔ سعید بن منصور اور ابن جریر ‘ ابوالشیخ ‘ بیہقی ‘ ہناد اور حذیفہ کا بیان ہے کہ اعراف والے وہ لوگ ہوں گے جن کی بدیاں جنت میں پہنچانے سے قاصر ہوں گی اور نیکیاں دوزخ سے ان کو بچا لیں گی ایسے لوگوں کو ٹھہرا لیا جائے گا یہاں تک کہ اللہ جب لوگوں کا فیصلہ کرچکے گا تو اچانک ان کو دیکھ کر فرمائے گا اٹھو تم بھی جنت میں چلے جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا۔
عبدالرزاق نے حضرت حذیفہ کا قول نقل کیا ہے کہ اعراف والے وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں گی وہ جنت و دوزخ کی درمیانی دیوار پر فروکش ہوں گے اور جنت میں داخلہ کے آرزومند (آخر) جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ بغوی نے اپنی سند سے بروایت سعید بن جبیر ‘ حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا۔ بدیوں سے جس کی ایک نیکی بھی زائد ہوگی وہ جنت میں چلا جائے گا اور جس کی بدیاں زائد ہوں گی وہ دوزخ میں پہنچ جائے گا اللہ نے فرمایا ہے : (فمن ثقلت موازینہ فاؤلئک ہم المفلحون ومن خفت موازینہ فاؤلئک الذین خسروا انفسہم) پھر فرمایا دانہ برابر وزن کی نیکیوں اور بدیوں سے بھی میزان میں ہلکا بھاری پن ہوجائے گا پھر آپ نے فرمایا جس کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں گی وہ اعراف والے ہوں گے۔ صراط (کے آخری سرے) پر ان کو روک لیا جائے گا (جہاں سے) وہ اہل جنت اور اہل نار کو پہچان لیں گے جب جنتیوں کو دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے سلام علیکم اور جب دوزخیوں کی طرف نظر پھیر کر دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ساتھ نہ کردینا نیکیوں والوں کو ایک نور عطا فرمایا جائے گا جو ان کے دائیں طرف اور سامنے کی جانب رواں ہوگا اس روز ہر بندہ کو نور دیا جائے گا جب لوگ پل صراط پر آئیں گے تو اللہ ہر منافق مرد و عورت کا نور سلب کرلے گا۔ منافقوں کی اس حالت کو دیکھ کر مؤمن عرض کریں گے اے ہمارے رب ہمارے نور کو کم نہ فرمانا۔ رہے اصحاب اعراف تو ان کے سامنے کا نور سلب نہیں کیا جائے گا لیکن ان کے گناہ ان کو چلنے سے روک دیں گے مگر سامنے کا نور چونکہ سلب نہیں ہوگا اس لئے ان کے دل میں طمع باقی رہے گی اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : (لم یدخلوہا وہم یطمعون) آخر ان کو بھی جنت میں داخل کردیا جائے گا جنت کے اندر سب سے آخر میں داخل ہونے والے یہی ہوں گے۔
ہناد نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہوں گے جو نیکوکار فقہاء اور علماء ہوں گے اور اعراف جنت و دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہوگی شاید اس قول کی مراد یہ ہے کہ وہ مؤمن فقہا اور علماء جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہوگا اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں گی اچھے برے عمل مخلوط ہوں گے امید ہے کہ اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔
بیہقی نے ابو مجلز کا قول نقل کیا ہے کہ اعراف ایک اونچی جگہ ہوگی جہاں ملائکہ فروکش ہوں گے اور وہاں سے اہل جنت اور اہل نار کو دیکھ کر ہر فریق کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے۔ یہ قول غلط ہے کیونکہ اصحاب اعراف کو رجال (مرد) فرمایا اور ملائکہ مرد نہیں۔ علاوہ ازیں مذکورہ بالا احادیث بھی اس قول کی تردید کر رہی ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اصحاب اعراف انبیاء یا اولیاء یا شہداء ہوں گے جو اہل جنت و اہل نار کو دیکھ کر پہچان لیں گے اس قول کی تردید بھی گزشتہ احادیث اور آئندہ آیات سے ہوتی ہے۔
بعض کے نزدیک مشرکوں کے بچے اہل اعراف ہوں گے یہ قول بھی غلط ہے اللہ نے اصحاب اعراف کو رجال فرمایا اور گزشتہ احادیث بھی اس قول کے خلاف ہیں۔
سیمایا سام اِبَلِہٗسے ماخوذ ہے (اونٹوں کو چراگاہ میں نشان لگا کر چھوڑ دیا) وَسَمَ عَلَی القلبِسے ماخوذ ہے (دل پر نشان لگا دیا) اس آخری صورت میں مادہ مثال وادی (وسم) ہوگا جیسے جاہ وجہ سے بنایا گیا ہے۔
ونادوا اصحب الجنۃ ان سلم علیکم لم یدخلوہا وہم یطمعون : اور اہل اعراف جنت والوں سے پکار کر کہیں گے تم پر سلامتی ہو (اس وقت تک) وہ جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر (داخلہ کے) آرزومند ہوں گے حسن نے کہا اللہ ان کو امید دلائے گا کیونکہ ان پر کرم کرنا مقصود ہوگا (ورنہ کافروں کی امید تو منقطع ہی کر دے گا) لَمْ یَدْخلوہَاالخ جملہ مستانفہ ہے ماقبل سے اس کا ترکیبی اختلاط نہیں ہے یا رجال کی صفت ہے یا نادوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے جو لوگ قائل ہیں کہ اصحاب اعراف انبیاء اور ملائکہ ہوں گے ان کے نزدیک اصحاب الجنۃ سے حال ہوگا۔
Ayah 7:47واذا صرفت ابصارہم تلقآء اصحب النار قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظلمین . اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف موڑ دی جائیں گی تو وہ (اللہ کی پناہ مانگیں گے رحمت کی درخواست کریں گے اور) کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کردینا۔ یعنی کافروں کے ساتھ دوزخی نہ بنا دینا۔
صُرِفتکا لفظ اشارہ کر رہا ہے کہ اصحاب اعراف کی نظروں کو دوزخیوں کی طرف پھیرنے والا کوئی اور ہوگا (یعنی خدا تعالیٰ ) تاکہ وہ دوزخیوں کے حال کو دیکھیں گے اور پناہ مانگیں گے۔
رفتار کلام بتارہی ہے کہ اعراف والے امید و بیم کی حالت میں ہوں گے یہی ان کی نیکیوں اور بدیوں کے برابر ہونے کا تقاضا ہوگا اور یہ حالت انبیاء ‘ شہداء اور صلحاء کی نہیں ہوسکتی ان کو تو اس روز نہ کوئی خوف ہوگا نہ رنج۔
Ayah 7:48ونادی اصحب الاعراف رجالا یعرفونہم بسیمہم قالوا ما اغنی عنکم جمعکم وما کنتم تستکبرون اور اعراف والے کچھ لوگوں کو ان کی علامات سے پہچان کر پکار کر کہیں گے کہ (آج) تمہارے جتھے اور وہ چیزیں جن پر تم غرور کیا کرتے تھے تم کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ غرور کرنے سے مراد ہے حق کو حقیر سمجھ کر اعراض کرنا یا مخلوق کے مقابلہ میں غرور کرنا۔ اعراف والے جن لوگوں سے یہ کلام کریں گے وہ وہی کافر ہوں گے جو دنیا میں بڑے مانے جاتے تھے۔ جمع سے مراد ہے قوم برادری ‘ اولاد اور مددگاروں کے جتھوں کی کثرت اور مال جمع کرنا۔ کلبی نے کہا وہ دیوار اعراف پر سے پکاریں گے اے ولید بن مغیرہ ‘ اے ابو جہل بن ہشام ‘ اے فلاں اے فلاں پھر جنت کی طرف دیکھیں گے تو اس کے اندر وہ فقراء اور کمزور لوگ نظر آئیں گے جن سے کافر استہزاء کرتے تھے۔ جیسے سلمان فارسی : ؓ ‘ صہیب ؓ رومی ‘ بلال ؓ : حبشی ‘ خباب ؓ تو اس وقت دوزخی کافروں سے کہیں گے۔
Ayah 7:49اہو لآء الذین اقسمتم لا ینالہم اللہ برحمۃ کیا یہ وہی (کمزور حقیر) لوگ ہیں (جن کے متعلق) تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر اہل اعراف سے کہا جائے گا۔
ادخلوا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون (اب تم) جنت میں چلے جاؤ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم رنجیدہ ہو گے۔
میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ الخ بھی اصحاب اعراف کے کلام کا تتمہ ہو یعنی اعراف والے کہیں گے کہ کیا یہ کمزور ضعیف لوگ وہی ہیں جن کے متعلق تم نے کہا تھا کہ اللہ کی رحمت ان کو نہیں مل سکتی حالانکہ ان کو تو (آج) حکم دے دیا گیا کہ جنت میں چلے جاؤ اور کوئی خوف و حزن نہ کرو۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بعض علماء تفسیر نے ایک اور مطلب بیان کیا ہے وہ یہ کہ اصحاب اعراف جب اہل جہنم سے مذکورہ بالا بات کہیں گے تو وہ جواب دیں گے اگر وہ (ضعفاء) جنت میں چلے گئے تو تم کو کیا ‘ تم تو نہیں جاسکے ! اور نہ جاسکتے ہو وہ قسم کھائیں گے کہ تم دوزخ میں ضرور آؤ گے یہ سن کر وہ ملائکہ جو اصحاب اعراف کو پل صراط پر روکے ہوئے ہوں گے اہل نار سے کہیں گے کیا یہ اصحاب اعراف وہی لوگ ہیں جن کے متعلق تم نے کہا تھا کہ ان کو اللہ کی رحمت نہیں ملے گی پھر اصحاب اعراف کی طرف رخ کر کے کہیں گے جاؤ تم جنت میں بےخوف و رنج چلے جاؤ۔
بغوی نے عطاء کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اصحاب اعراف جب جنت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی کچھ کشور کار کی طمع پیدا ہوجائے گی اور عرض کریں گے پروردگار ہمارے کچھ رشتہ دار جنت میں ہیں ہمیں اجازت مل جائے کہ ہم ان کو دیکھ لیں اور کچھ بات چیت کرلیں۔ چناچہ (اجازت کے بعد) وہ اپنے جنتی قرابت داروں اور ان کی راحت و عیش کی حالت دیکھ لیں گے اور ان کو پہچان لیں گے مگر وہ ان دوزخیوں کے چہروں کی سیاہی کی وجہ سے ان کو نہیں پہچانیں گے۔
Ayah 7:50ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من المآء او مما رزقکم اللہ : اور دوزخ والے اہل جنت (کے نام لے کر ان) کو پکار کر (اپنی رشتہ داریاں بتا کر) کہیں گے کہ ہماری طرف کو بھی کچھ پانی بہا دو جو اللہ نے تم کو عطا فرمایا ہے ہم کو بھی اس میں سے کچھ دے دو ۔ ما رزقکم اللّٰہسے مراد یا شربت ہے کیونکہ افیضوا (بہا دو ) کا لفظ اسی کو چاہتا ہے یا طعام جنت مراد ہے جیسے عربی محاورہ میں آتا ہے عَلَفْتُہَا تِبْنًا وَمَاءً ا بارِدًا میں نے اونٹنی کو کھلایا بھوسہ اور ٹھنڈا پانی۔
قالوا ان اللہ حرمہما علی الکافرین : وہ کہیں گے اللہ نے قطعاً یہ دونوں چیزیں ان کافروں کے لئے حرام کردی ہیں
Ayah 7:51الذین اتخذوا دینہم لہوا ولعبا وغرتہم الحیوۃ الدنیا جنہوں نے اپنے دین کو کھیل کود بنا رکھا تھا اور دنیوی زندگی نے ان کو فریب دے رکھا تھا۔ بیضاوی نے لکھا ہے حرم سے مراد یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے کافروں سے روک دی ہیں (ممانعت فرما دی ہے) جیسے مکلف کو حرام چیز کی ممانعت کردی جاتی ہے۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے یہاں تحریم بمعنی منع ہے جیسے وحرمنا علیہ المراضع میں حَرَّمْنَا کا معنی ہے مَنَعْنَا میں کہتا ہوں آیت حرام علی قریۃ اہلکناہا انہم لا یرجعون میں بھی حرام کا معنی منع ہی ہے۔
ابن ابی الدنیا اور رضیا نے زید بن رفیع کا بیان نقل کیا ہے کہ دوزخی دوزخ میں داخل ہو کر مدت تک آنسوؤں سے روئیں گے پھر مدت تک لہو کے آنسو بہائیں گے۔ دوزخ کے کارندے ان سے کہیں گے بدبختو تم دنیا میں نہیں روئے آج تم کس سے فریاد کر رہے ہو ‘ وہ چیخ کر پکاریں گے اے جنت والو ‘ اے گروہ پدراں و مادراں ! اے اولاد ! ہم قبروں سے پیاسے نکلے تھے ‘ میدان حشر میں بھی پوری مدت پیاسے رہے اور آج بھی پیاسے ہیں ‘ اللہ نے پانی اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے ‘ ہماری طرف بھی اس میں سے کچھ بہا دو ۔ چالیس (دن یا مہینے یا سال) تک مانگتے رہیں گے مگر کوئی جواب نہیں دے گا آخر ان کو جواب ملے گا تم کو (یونہی یہاں ہمیشہ) رہنا ہے یہ سن کر وہ ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس : ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کو پکارے گا اور کہے گا بھائی میری فریاد رسی کر میں جل گیا وہ جواب دے گا ان اللّٰہ حرمہما علی الکافرین۔
فالیوم ننسہم کما نسوا لقآء یومہم ہذا وما کانوا بایتنا یجحدون : پس آج ہم بھی ان کو ایسے ہی فراموش کردیں گے جیسے انہوں نے اس دن کی پیشی کو فراموش کردیا تھا اور جیسے ہماری آیات کا انکار کردیا تھا۔ فراموش کردینے سے مراد ہے دوزخ میں ڈال کر چھوڑ دینا اور قیامت کے دن کی پیشی کو بھولنے سے مراد ہے ایسے اعمال ترک کردینا جو قیامت کے دن فائدہ رساں ہوں۔
Ayah 7:52ولقد جئنہم بکتب فضلنہ علی علم ہدی ورحمۃ لقوم یومنون : ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کر کے بیان کردیا ہے۔ ذریعۂ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لے آئے ہیں۔
کِتَابٌیعنی قرآن فَصَّلْنٰہٗ یعنی ہم نے معافی کی وضاحت کردی۔ حرام حلال کو الگ الگ کردیا ہدایات اور قصے بیان کردیئے اور صحیح غلط عقائد کی صراحت کردی۔ عَلٰی عِلْمٍ یعنی وجوہ تفصیل کا علم رکھتے ہوئے یا انسانوں کے مصالح کو جانتے ہوئے۔ دونوں صورتوں میں فصلنا کی ضمیر فاعل سے حال ہوگا یا وہ کتاب علم کو حاوی ہے اس وقت فصلناہ کی ضمیر مفعول سے حال ہوگا۔ ہدًی اور رحمۃً بھی حال ہیں۔
Ayah 7:53ہل ینظرون الا تاویلہ ‘ یوم یاتی تاویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قد جآءت رسل ربنا بالحق فہل لنا من شفعآء فیشفعوا لنا او نرد فنعمل غیر الذی کنا نعمل قد خسروا انفسہم وضل عنہم ما کانوا یفترون۔ ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف آخری نتیجہ کا انتظار ہے جس روز اس کا آخری نتیجہ (سامنے) آجائے گا اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ ہمارے رب کے پیغمبر بیشک سچی سچی باتیں لائے تھے۔ سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ ہماری سفارش کر دے یا (دنیا میں) ہم کو لوٹا دیا جائے کہ ہم پہلے کئے ہوئے اعمال کے برخلاف اعمال کرلیں (اس وقت) وہ یقیناً خود خسارہ میں پڑچکے ہوں گے اور جو باتیں وہ تراشتے تھے سب غائب ہوجائیں گے۔
ہل ینظرون یعنی قرآن پر ایمان لانے کے لئے ان کو اور کسی بات کا انتظار نہیں ہے۔ تاویلہ یعنی قرآن نے جو وعدہ و وعید بیان کیا ہے اور جس نتیجہ اور انجام کی صراحت کی ہے اس کے سامنے آنے کے منتظر ہیں۔ مجاہد نے کہا تاویل سے مراد ہے سزا جزاء۔
یوم یاتی تاویلہ یعنی مرنے کے دن یا قیامت کے دن جب سزا جزا یا نتیجہ سامنے آجائے گا۔ نسوہ یعنی انہوں نے اس کو ایسا چھوڑ دیا تھا جیسے کوئی بھولنے والا چھوڑ دیتا ہے اور اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔ قد جاءت یعنی ان پر پیغمبروں کی سچائی کھل جائے گی اس لئے پیغمبروں کی صداقت کا اقرار کریں گے مگر اس وقت یہ اقرار بےکار ہوگا۔ فنعمل غیر الذی کنا نعمل یعنی شرک و معصیت کو چھوڑ کر اللہ کی توحید کا اقرار کریں گے۔ قد خسروا انہوں نے اپنی عمریں کفر میں گزار دیں اس صرف عمر میں ان کو خسارہ ہوگا۔ ضلنابود ہوجائے گا کھو جائے گا۔ ما کانوا یفترونجو کچھ خود افترا بندی کرتے تھے کہ اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے یا اللہ کا شریک قرار دیتے تھے (یہی ان کی افترا پردازی تھی)
Ayah 7:54ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ دنیا کے انہی چھ دنوں کے برابر وقت میں یا آخرت کے چھ دنوں کے برابر مقدار میں آخرت کا ہر دن دنیا کے ہزار برس کے برابر ہوگا۔ سعید بن جبیر نے فرمایا اللہ سارے آسمان اور زمینیں ایک آن اور ایک پل میں پیدا کرسکتا تھا مگر لوگوں کو ہر کام میں آہستہ روی اور ہر عمل کو دھیرے دھیرے انجام دینے کی تعلیم کے لئے اس نے اس کائنات ارضی و سماوی کو چھ روز میں بنایا حدیث میں آیا ہے آہستہ روی رحمن کی طرف سے ہے اور عجلت پسندی شیطان کی طرف سے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان مرفوعاً عن انس ؓ بن مالک۔
ثم استوی علی العرش . پھر عرش پر متمکن ہوگیا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ معتزلہ کے نزدیک استویٰ سے مراد ہے غلبہ پانا تسلط جمانا ‘ اہل سنت کہتے ہیں کہ عرش پر استوا ‘ اللہ کی ایک صفت ہے جو بےکیف ہے (یعنی اس کی کیفیت ‘ حالت ‘ ہیئت ‘ وضع نہیں سمجھی جاسکتی) اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کا علم اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے۔
ایک شخص نے امام مالک بن انس ؓ سے الرحمن علی العرش استوٰیکی کیفیت پوچھی امام نے کچھ دیر سر جھکا لیا پھر فرمایا استواء (کا معنی) معلوم ہے کیفیت مجہول ناقابل فہم ہے اس پر ایمان واجب ہے اور اس کو پوچھنا بدعت (خلافت سنت اور اختراع نفسانی ہے) اور میرے خیال میں تو گمراہ ہے پھر آپ نے حکم دے کر اس کو (اپنی مجلس سے) نکلوا دیا۔ سفیان ثوری ‘ اوزاعی ‘ لیث بن سعید ‘ سفیان بن عیینہ اور عبداللہ وغیرہ تمام علماء سنت کا قول ان آیات کے متعلق جن کے اندر صفات متشابہات کا بیان ہے یہی ہے کہ ان کو اسی طرح بلاکیف ماننا چاہئے جس طرح وہ آئی ہیں لغت میں عرش تخت حکومت کو کہتے ہیں اور عرش خداوندی ایک عظیم ترین مخلوق ہے جو اللہ کے نزدیک بڑی باعزت ہے تجلیات الٰہی سے اس کا خصوصی تعلق ہے اسی لئے اس کو عرش الرحمن کہا جاتا ہے۔ یہ اضافت (مکانی نہیں بلکہ) صرف اعزازی ہے جیسے کعبہ کو بیعت اللہ بطور احترام کہا جاتا ہے۔ عرش کے متعلق بعض احادیث کا تذکرہ ہم نے سورة بقرہ کی آیت الکرسی کی تفسیر کے ذیل میں کردیا ہے۔
یغشی اللیل النہار یطلبہ حثیثا والشمس والقمر والنجوم مسخرات بامرہ : وہ رات سے دن کو چھپا دیتا ہے اور اس طور پر کہ رات دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو ایسے طور سے پیدا کیا کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔
یغشی رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور چونکہ یہ معلوم ہی تھا کہ دن کو بھی رات پر ڈھانک دیا جاتا ہے اس لئے اس پہلو کو نظر انداز کردیا یا یوں کہا جائے کہ جملہ میں دونوں احتمال ہوسکتے ہیں (اللیل مفعول اوّل اور النہار مفعول دوئم یا النہار مفعول اوّل اور اللیل مفعول دوئم) بغوی نے کہا یہاں دوسرا جملہ محذوف ہے اصل کلام یوں تھا یغشی اللیل النہار ویغشی النہار اللیلپہلے جملہ سے دوسرا جملہ معلوم ہو رہا تھا اس لئے اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یَطْلُبُہٗ یعنی اس کے پیچھے آتا ہے جب ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہو تو ایسا ہی لگتا ہے کہ پیچھے والا آگے والے کو طلب کر رہا ہے۔ حَثیثًا تیز بغیر وقفہ کے۔ بامرہ یعنی اللہ کے فیصلہ اور حکم کے تابع۔
الا لہ الخلق والامر یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا۔
یعنی وہی سب کا خالق ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں اور حکومت بھی اسی کی ہے اسی کے ہاتھ میں حکم ہے جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے کوئی اس سے پرستش نہیں کرسکتا۔ صوفیہ کا قول ہے کہ الخلق سے مراد ہے عالم خلق یعنی عالم جسمانی ‘ عرش تمام آسمان اور زمینیں اور آسمان و زمین کی تمام مادی کائنات اور سارے عناصر اور عناصر سے بنائی ہوئی نباتی معدنی اور حیوانی مخلوق کے نفوس یعنی وہ لطیف اجسام جو کثیف اجسام میں جاری ساری ہیں اور الامر سے مراد ہے عالم امر یعنی مجردات قلب ‘ روح ‘ سرخفی ‘ اخفی یہ تمام مجردات عرش سے بالاتر ہیں مگر انسانی اور ملکی اور شیطانی نفوس میں اس طرح سرایت کئے ہوئے ہیں جیسے آئینہ کے اندر سورج چونکہ اللہ نے ان کو بغیر مادہ کے صرف لفظ کن سے پیدا کیا ہے اس لئے ان کو عالم امر کہا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے فرمایا خلق اور امر میں فرق ہے جس نے دونوں کو ایک کہا وہ کافر ہوگیا۔
تبارک اللہ رب العلمین بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو سارے جہان کا رب ہے۔
یعنی وحدت الوہیت میں برتر اور ربوبیت میں منفرد ہے یہ لفظ برکۃ سے مشتق ہے جس کا معنی ہے بڑھوتری اور بڑھوتری کے لئے عظمت و برتری لازم ہے اس لئے برکت کا معنی ہوگیا۔ برتری اور عظمت پس تبارک کا ترجمہ ہوا (برتر ہے عظمت والا ہے)
بعض نے کہا تبارک کا یہ مطلب ہے کہ برکت اس کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ ہر برکت کو لایا ہے حسن نے کہا برکت اس کی طرف سے ہے۔ بعض نے کہا تبارک یعنی وہ پاک ہے برکت کا معنی ہے قدس اور قدس کا معنی ہے پاک ہونا۔ بعض نے کہا اللہ کا نام مبارک ہے اور ہر چیز میں اس کی برکت ہے اہل تحقیق نے لکھا ہے معنی یہ ہے کہ اللہ دائم الوجود لازوال ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ کیونکہ برکت کا اصل معنی ہے جما رہنا (جو پانی اکٹھا کرلیا جائے اور ہر طرف سے گھیر کر اس کو جمع کرلیا جائے یعنی حوض یا تالاب بنا لیا جائے اس کو) برکۃ اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تبارک اللہ کہنا تو درست ہے مگر لفظ مبارک کا اطلاق اللہ پر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ کے تمام اسماء صفات سمعی شرعی ہیں اور یہ لفظ ان ناموں میں شامل نہیں ہے۔