7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں

ولما جآء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ قال رب ارنی انظر الیک قال لن ترنی ولکن انظر الی الجبل فان استقرمکانہ فسوف ترنی۔ اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب مجھے اپنا دیدار کرا دے کہ میں ایک نظر تجھے دیکھ لوں اللہ نے فرمایا تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو سو اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی دیکھ سکو گے۔ وقال موسٰی یعنی مناجات کے لئے پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اخلفنی یعنی میرا قائم مقام ہوجا۔ واصلِحْ اور جن امور کی اصلاح کی ضرورت پڑے ان کی درستی کرنا۔ یا مصلح بن جا۔ یا بنی اسرائیل کی اصلاح کرتا رہنا اور ان کو اللہ کی اطاعت کی ترغیب دیتا رہنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اَصْلِح فرمانے سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ بنی اسرائیل سے نرمی کرنا اور ان سے حسن سلوک رکھنا۔ ولا تتبع یعنی نافرمانوں کی راہ پر نہ چلنا اور جو لوگ معصیت کی راہ پر لے جانا چاہیں ان کی بات نہ ماننا۔ ولما جائ یعنی جب موسیٰ ( علیہ السلام) طور سینا پر آئے۔ لمیقاتنا اس میں لام تخصیص کا ہے یعنی ہمارے مقرر کردہ وقت پر۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) طہارت کر کے پاک کپڑے پہن کر اللہ کے وعدہ کے مطابق تیار ہوگئے وکلمہ ربہ اس واقعہ کی تفصیل میں آیا ہے کہ اللہ نے سات فرسخ تک تاریکی ہی تاریکی کردی اس حصہ سے شیاطین کو باہر نکال دیا۔ زمین کے کیڑوں کو بھی ہٹا دیا اور دونوں فرشتوں کو بھی الگ کردیا اور آسمان تک فضا کو صاف کردیا اس وقت حضرت موسیٰ نے فرشتوں کو خلا میں کھڑا دیکھا اور عرش کھلا ہوا سامنے نظر آیا اس وقت اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا جس کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے تو سن لیا مگر موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ جو اس وقت جبرئیل موجود تھے ان کو کچھ سنائی نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قلم چلنے کی آواز بھی سنی۔ بیضاوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ہر طرف سے کلام سن رہے تھے میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ کسی جہت سے نہیں سن رہے تھے (یعنی وہ کلام کسی جہت کا محتاج نہیں تھا تمام جہات و اطراف کی قیود سے آزاد تھا) جس طرف رخ کرتے تھے وہی کلام بےجہت سنتے تھے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) پر کلام رب کا انکشاف ہوگیا اور اس سے آگے دیدار کے مشاہدہ کا اشتیاق پیدا ہوگیا۔ اَرِخِیْیعنی مجھے اپنا دیدار دکھا (اَرِکا مفعول محذوف ہے) انظر الیکحسن نے کہا موسیٰ کا شوق دیدار اتنا جوش میں آیا کہ انہوں نے رویت آخرت پر قیاس کرتے ہوئے اس دنیا میں بھی دیدار ہونے کا گمان کرلیا یعنی جذبۂ شوق سے مجبور ہو کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے انظر الیک کہا تھا) ۔ قال لن ترانی اللہ نے فرمایا تو ہرگز مجھے نہیں دیکھ پائے گا نہ کوئی انسان دنیا میں میری طرف نگاہ کرسکتا ہے جو شخص میری طرف دیکھے گا مرجائے گا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا الٰہی میں تیرا کلام سن کر تیرے دیدار کا مشتاق ہوا اگر میں تیری طرف دیکھ لوں اور مرجاؤں تو بغیر دیدار زندہ رہنے سے مجھے زیادہ پسند ہے۔ سیوطی (رح) نے لکھا ہے کہ لن ترانی (تو مجھے نہیں دیکھ پائے گا) فرمایا لا اولمی (میں نہیں دیکھا جاسکتا) نہیں فرمایا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کا دیدار فی نفسہٖ محال نہیں ہے (اگرچہ اس عالم میں اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا) الی الجبلمدین میں یہ سب سے بڑا پہاڑ تھا جس کو زبیر کہا جاتا تھا۔ سدی کا بیان ہے کہ جس وقت اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا تھا اس وقت ابلیس نے زمین کے اندر گھس کر اور پھر موسیٰ ( علیہ السلام) کے دونوں قدموں کے درمیان سے زمین چیر کر اوپر کو سر نکال کر موسیٰ ( علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا کہ یہ کلام کرنے والا اللہ نہیں شیطان ہے اس وقت حضرت موسیٰ نے دیدار کی درخواست کی تھی۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ دنیا میں اللہ کا دیدار (فی نفسہٖ ) ممکن ہے انبیاء ناممکن چیز کی طلب نہیں کرسکتا ‘ خصوصاً ایسی ناممکن چیز کی طلب جس سے معرفت خداوندی میں جہالت لازم آتی ہو۔ ہاں لن ترانی کا لفظ یہ ضرور بتارہا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو اس دنیا میں دیدار ملا نہیں لیکن کبھی نہیں ملے گا اس کا کوئی ثبوت آیت میں نہیں۔ دوامی عدم وقوع ہی آیت سے ثابت نہیں۔ عدم امکان کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ ایک شبہ کیا موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کے معاملہ میں اتنے نادان تھے کہ ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ اللہ کا دیدار ہوسکتا ہے یا نہیں اور اس نادانی کی وجہ سے وہ دیکھنے کی درخواست کر بیٹھے۔ ازالہ لن ترانی کے نزول سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا بعض احکام سے ناواقف ہونالازم آتا ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی نجات کی دعا کی تھی اور ان کو معلوم نہ تھا کہ وہ ڈوبنے سے بچایا جائے گا یا نہیں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کی تھی اور آپ کو معلوم نہ تھا کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کی مغفرت کی درخواست کی تھی جس پر آیت (ماکان النبی والذین امنوا ان یستغفر واللمشرکین ولو کانوا اولی قربی) نازل ہوئی۔ بعض منافقوں کی بخشش کی دعا بھی حضور ﷺ نے کی تھی جس پر آیت (استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفر لہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللّٰہ لہم) اور آیت (ولا تصل علی احدمنہم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ) نازل ہوئی یہ تمام دعائیں اس وقت کی گئیں جب کہ یہ معلوم نہ تھا کہ کافروں کے لئے مغفرت کی دعا ناقابل قبول ہے۔ (معتزلہ کے نزدیک) دیدارِ الٰہی ناممکن ہے (نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں) دلیل یہ ہے کہ لن ترانی فرما دیا اور لَنْ : کا لفظ تابید کے لئی ہے (تو کبھی مجھے نہیں دیکھے گا) ہم کہتے ہیں لَنْ تابید کے لئے نہیں بلکہ دنیا میں رویت کی نفی کی تاکید کے لئے ہے (تو ہرگز مجھے نہیں دیکھے گا۔ ہرگز سے تاکید نفی ہوتی ہے اور کبھی سے نفی روایت کا دوام) دیکھو یہودیوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (ولن یتمنوہ ابدًا) (یہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ) آخرت میں کافروں کو موت کی تمنا ہوگی اللہ نے خود فرما دیا ہے : (ونادوا یا مالک لیقض علینا ربک) (وہ پکاریں گے اے مالک کاش تیرا رب ہم کو تمام ہی کردیتا ‘ ہماری موت کا حکم ہی دے دیتا) اور فرمایا (یالیتہما کانت القاضیۃ) (کاش پہلی موت ہی تمام کردینے والی ہوتی) (ویقول الکافر یٰلیتنی کنت ترابا) (اور کافر کہے گا کاش میں خاک ہوگیا ہوتا) بعض لوگ کہتے ہیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے دیدارِ الٰہی کی درخواست قوم کی زبان بندی کے لئے کی تھی کیونکہ انہوں نے اَرِنا اللّٰہَ جہرۃ کہا تھا مگر یہ خیاط قطعاً غلط ہے یہ واقعہ ہی دوسرا ہے اس گستاخانہ سوال کی پاداش میں تو ان پر عذاب آگیا تھا اور ان پر بجلی گر پڑی تھی فاخذتہم الصاعقۃ بظلمہم وہ ایسی بات کہنے کا حق نہیں رکھتے تھے اسی لئے پکڑے گئے۔ جس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے رب سے کلام کیا اور اللہ نے توریت عطا فرمائی اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے دیدار کی درخواست کی ‘ اس وقت تو وہاں کوئی بھی نہ تھا اور چونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) غیر مستحق نہ تھے (اور درخواست گستاخانہ نہ تھی) اس لئے اللہ کی طرف سے اس درخواست پر کوئی عتاب بھی نہیں ہوا ‘ صرف رویت سے انکار کردیا گیا کیونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) میں رویت کو برداشت کرنے کی طاقت نہ تھی اور استقرار جبل سے رویت کو مشروط کردیا گیا۔ اگر رویت واقع میں محال ہوتی تو جب قوم نے دیدارِ رب کی خواہش کی تھی موسیٰ ( علیہ السلام) پر لازم تھا کہ ان کو جاہل قرار دیتے اور سرزنش کرتے جس طرح کہ قوم والوں نے جب اجعل لنا الہا کہا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو توبیخ کی اور جاہل قرار دیا تھا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے تو حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو بھی مفسدوں کے راستہ پر چلنے کی ممانعت کردی تھی پھر خود کس طرح مفسدوں کے راستہ پر چل کر ان کی زبان بندی کے لئے خود دیدار کی درخواست کرنے لگتے۔ فان استقر مکانہ فسوف ترانی میں یہ بتانا مقصود ہے کہ پہاڑ بھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تم کو رویت کی برداشت کیسے ہوگی۔ استقرار جبل سے روایت کو مشروط کرنا بتارہا ہے کہ رویت فی نفسہٖ محال نہیں کیونکہ استقرار جبلبجائے خود محال نہیں اور شرط کا امکان مشروط کے امکان کو ثابت کرتا ہے (استقرار جبل ممکن ہے لہٰذا وہ رویت جو استقرار جبل کی شرط سے مشروط ہے وہ بھی ممکن ہے) وہب بن منبہ اور ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب موسیٰ نے دیدار کا سوال کیا تو کہر اور تاریکی چار چار فرسخ تک پہاڑ پر چھا گئیں بجلیاں تڑپنے لگیں بادل گرجنے اور کڑکنے لگے اور اللہ نے آسمانوں کے فرشتوں کو حکم دیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے سامنے آجائیں حسب الحکم اس نچلے آسمان کے ملائکہ بیلوں کی شکل میں بادل کی طرح گرجدار آواز میں اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے سامنے سے گزرے پھر دوسرے آسمان کے ملائکہ بشکل شیر سامنے آئے ان کے منہ سے بھی اللہ کی تسبیح و تقدیس کی چیخیں نکل رہی تھیں ضعیف بندہ (موسٰی) بن عمران اس منظر کو دیکھ کر اور ان آوازوں کو سن کر خوف زدہ ہوگیا لرز گیا بدن کا رونگٹا رونگٹا کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب مجھے اپنی درخواست پر پشیمانی ہے کاش کوئی چیز مجھے اس مقام سے الگ کردیتی (کہ میں یہ منظر نہ دیکھتا) اس پر ملائکہ کے سرگروہ نے جو سب کا بزرگ تھا کہا موسیٰ ( علیہ السلام) ابھی اپنے سوال پر قائم رہو ابھی تو بہت میں سے تھوڑا تم نے دیکھا ہے۔ پھر تیسرے آسمان کے فرشتے اتر کر موسیٰ ( علیہ السلام) کے سامنے آئے ان کی شکلیں بھی شیروں جیسی تھیں گرجیلی آوازوں سے متواتر تسبیح و تقدیس کا شور کر رہے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی لشکر کا مخلوط شور ہے۔ آگ کے شعلے کی طرح ان کی رنگ تھا موسیٰ ( علیہ السلام) خوف زدہ ہوگئے اور زندگی کی آس نہ رہی سرگروہ ملائکہ نے کہا ابن عمران ابھی اپنی جگہ ٹھہرو تمہارے سامنے تو ایسا منظر آئے گا کہ برداشت نہ کرسکو گے پھر چوتھے آسمان کے ملائکہ موسیٰ کے سامنے آئے پچھلے ملائکہ کی شکلوں سے ان کی صورتیں تھیں رنگ تو شعلہ کی طرح تھا اور جسم برف کی طرح سفید تھا ان کی تسبیح تقدیس کی اونچی آوازیں ایسی تھیں کہ سابق فرشتوں کی آوازیں ان جیسی نہ تھیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا جوڑ جوڑ چٹکنے اور دل دھڑکنے لگا اور شدت کے ساتھ گریہ طاری ہوگیا سید الملائکہ نے کہا ابن عمران ابھی اپنے سوال پر ٹھہرو کم دیکھا ہے زیادہ دیکھنا ہے پھر پانچویں آسمان کے ملائکہ اتر کر موسیٰ کے سامنے آئے جن کے سات رنگ تھے موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھتے رہنے کی تاب نہ رہی ایسی شکلیں تو انہوں نے پہلے نہیں دیکھی تھیں نہ ایسی آوازیں سنی تھیں۔ دل بھر آیا غم نے گھیر لیا اور خوب رونے لگے۔ سرگروہ ملائکہ نے کہا ابن عمران ابھی اپنی جگہ (یعنی اپنے سوال پر) صبر کئے رہو ایسی چیزیں سامنے آئیں گی کہ صبر نہ کرسکو گے۔ پھر حسب الحکم چھٹے آسمان کے فرشتے اتر کر موسیٰ ( علیہ السلام) کے سامنے آئے ہر فرشتے کے ہاتھ میں سورج سے زیادہ روشن درخت کھجور کی طرح لمبا آگ کا ایک ڈنڈا تھا سب کا لباس آگ کے شعلوں کی طرح تھا ہر فرشتے کے ایک سر میں چار منہ تھے گزشتہ فرشتوں کی مجموعی آواز کی طرح اونچی آواز سے تسبیح و تقدیس کر رہے تھے انتہائی بلند آواز سے کہہ رہے تھے سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمٰلِئکۃ والرُّوْحِ رَبُّ الْعِزَّۃِ ابدًا لاَیَمُوت موسیٰ ان کی تسبیح کی آواز سن کر خود بھی تسبیح پڑھنے اور رونے لگے اور عرض کرنے لگے اے میرے رب مجھے یاد رکھنا اپنے بندہ کو نظر انداز نہ کرنا معلوم نہیں اس منظر سے میرا چھٹکارا ہوگا یا نہیں اگر میں (یہاں سے) نکلتا ہوں تو جل جاؤں گا اور رکتا ہوں تو مرجاؤں گا۔ فرشتوں کے سرداروں نے کہا ابن عمران تیرا خوف تو حد سے بڑھ گیا اور تیرا دل نکل پڑتا ہے مگر جس چیز کا تو نے سوال کیا ہے اس کے لئے صبر کر اس کے بعد ساتویں آسمان کے ملائکہ کو عرش الٰہی اٹھانے کا حکم ہوا جونہی نور عرش نمودار ہوا پہاڑ کھل گیا اور تمام فرشتوں نے سبحان الملک القدوس رب العزۃ ابدا لایموت کی آوازیں بلند کیں پہاڑ میں لرزہ آیا اور جو درخت بھی وہاں تھا پھٹ گیا اور بندۂ ضعیف موسیٰ ( علیہ السلام) منہ کے بل بےہوش ہو کر گرپڑا پھر اللہ نے اپنی رحمت سے اس کے پاس روح کو بھیجا روح موسیٰ ( علیہ السلام) پر سایہ فگن ہوگیا اور چھا گیا اور جس پتھر پر موسیٰ ( علیہ السلام) کھڑے ہوئے تھے اسی پتھر کو موسیٰ پر الٹ کر قبہ کی طرح بنا دیا تاکہ موسیٰ ( علیہ السلام) جل نہ جائیں کچھ دیر کے بعد روح نے ان کو کھڑا کیا موسیٰ ( علیہ السلام) تسبیح پڑھتے اٹھ کھڑے ہوئے اور مناجات کرنے لگے میرے مالک میں تجھ پر ایمان لایا اور تصدیق کرتا ہوں کہ جو شخص بھی تجھے دیکھے گا زندہ نہ رہے گا جو شخص تیرے فرشتوں کو بھی دیکھے گا اس کا دل (خوف سے) باہر نکلنے لگے گا تیری عظمت بہت بڑی ہے تو سب کا رب اور معبود کل اور شاہنشاہ ہے تیرے مساوی اور مقابل کوئی شے نہیں اے میرے رب میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ حمد تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں تو بڑی بزرگی والا ہے تو بڑی عظمت رکھتا ہے تو رب العلمین ہے۔ فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا وخر موسیٰ صعقا فلما افاق قال سبحانک تبت الیک ونا اوّل المؤمنین۔ پس جونہی رب نے پہاڑ پر جلوہ ڈالا اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرپڑے پھر جب ہوش آیا تو عرض کیا بیشک تیری ذات پاک ہے میں تیری بارگاہ میں معذرت کرتا ہوں اور سب سے پہلے یقین رکھتا ہوں کہ (میں تجھے براہ راست نہیں دیکھ سکتا) تجلّٰیظاہر ہوا نمودار ہوا یعنی اس کا کچھ نور چمکا۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ چھنگلی کے آدھے پورے کے برابر نور خداوندی کا ظہور ہوا حاکم کی صحیح حدیث میں یہی آیا ہے۔ صوفیہ کہتے ہیں کہ کسی چیز کا دوسرے درجہ پر ظہور (یعنی عکس اور پر تو کا ظہور) تجلی کہلاتا ہے جیسے آئینہ کے اندر کسی کی صورت کا ظہور حقیقت میں یہ جلوہ اندازی اور جلوہ بینی رویت ذات نہ تھی کیونکہ ظاہر ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی استعداد و قوت پہاڑ سے زائد تھی اور موسیٰ کو دیدار ذات سے تاکید کے ساتھ روک دیا گیا تو پہاڑ میں نور ذات کو برداشت کرنے کی صلاحیت کہاں سے آسکتی ہے اللہ نے فرمایا ہے (انا عرضنا الامانۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منہا وحملہا الانسان) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا نور خداوندی پہاڑ پر نمودار ہوا تھا ضحاک کا قول ہے اللہ نے اپنے نور سے پردے ہٹا لئے تھے اور بیل کی ناک کے سوراخ برابر (نور کو) ظاہر کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام اور کعب بن احبار نے فرمایا عظمت خداوندی کی جلوہ پاشی صرف سوئی کے ناکہ کی برابر ہوئی تھی کہ پہاڑ شق ہوگیا۔ سدی نے کہا چھنگلی کے برابر تجلی ہوئی تھی اس کی تائید حضرت انس ؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھنگلی کے آخری جوڑ پر انگوٹھا رکھتے ہوئے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا بس اتنی تجلی ہوئی تھی کہ پہار آہستہ آہستہ چلا (یعنی لرزا) اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ ابوالشیخ کی روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے چھنگی سے اشارہ کیا (اور فرمایا) اس کے ہی نور سے پہاڑ کے پرخچے اڑا دیئے۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی کی روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے نور کے ستّر ہزار حجابوں سے درہم کی برابر ہٹایا تھا کہ پہاڑ کے پرخچے اڑ گئے۔ جعلہ دکوقا یعنی ریزہ ریزہ دَکٌّاور دقٌّ ہم معنی ہیں۔ قاموس میں ہے دَکٌّ دَقٌّاور ہدم کا معنی ہے ہموار ریت ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا پہاڑ کو خاک کردیا پہاڑ آہستہ آہستہ چلا یہاں تک کہ سمندر میں جا گرا اور سمندر کے اندر (برابر اب بھی) چلا جا رہا ہے۔ عطیہ نے کہا پہاڑ ریگ رواں ہوگیا۔ کلبی نے کہا دکًّا کا معنی ہے کسرًاپارہ پارہ یعنی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں میں بٹ گیا۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کی تفسیروں میں آیا ہے کہ عظمت نور کی وجہ سے وہ پہاڑ چھ پہاڑوں میں منقسم ہوگیا تین مدینہ میں آپڑے احد و رقان رضوی اور تین مکہ میں ثور ‘ ثبیر ‘ حراء۔ سعاف نے تخریج بیضاوی میں لکھا ہے کہ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے موسیٰ کو سنایا اور فرمایا اننی انا اللّٰہیہ لکھا واقعہ عرفہ کی شام کو ہوا وہ پہاڑ جس پر تجلی ہوئی موقف (حج) میں تھا تجلی پڑتے ہی اس کے سات ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا سامنے گرگیا یہ ٹکڑا تو وہی ہے جس کے قریب امام موقف میں کھڑا ہوتا ہے تین ٹکڑے مدینہ میں جا پڑے طیبہ ‘ احد ‘ رضوی اور طور سیناشام میں چلا گیا اس کو طور کہنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ اڑ کر شام میں جا پہنچا تھا۔ میں کہتا ہوں اس روایت میں انتہائی غرابت ہے اللہ نے موسیٰ سے کلام تو طور سینا علاقہ شام میں کیا تھا وہیں توریت عطا فرمائی تھی مکہ میں نہ کلام کیا نہ کتاب عطا فرمائی۔ صَعِقًاحضرت ابن عباس ؓ اور حسن نے ترجمہ کیا بےہوش اور قتادہ نے کہا مردہ۔ کلبی نے کہا عرفہ کے دن پنجشنبہ کو موسیٰ بےہوش ہوئے تھے اور جمعہ کو قربانی کے دن اللہ نے توریت عطا فرمائی۔ واقدی نے کہا موسیٰ بےہوش ہو کر گرگئے تو آسمانی ملائکہ نے کہا ابن عمران کا اور دیدار کی درخواست کا کیا ہوا۔ فَلَمَّا افاق یعنی جب بےہوشی سے افاقہ پایا۔ قالتو نظارہ کی عظمت کے زیر اثر کہا۔ تبت الیک یعنی بغیر اجازت سوال کرنے کی جرأت سے توبہ کرتا ہوں۔ وانا اوّل المؤمنین یعنی (اس امت میں) میں سب سے پہلا مؤمن ہوں ہر نبی کا ایمان اپنی امت سے پہلے ہوتا ہی ہے۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

قال یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی فخذ اما اتیتک وکن من الشکرین۔ اللہ نے فرمایا میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز کردیا ہے سو جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اس کو لو اور شکر گزار بنو۔ اصطفیتک علی الناس یعنی تمہارے زمانہ کے لوگوں پر تم کو امتیاز عطا کیا اور برتری دی۔ بکلامی کلام سے مراد کلام کرنا۔ ما اتیتک یعنی جو پیغام میں نے تجھے دیا ہے اس کو لے۔ روایت میں آیا ہے کہ جب موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا تو اس وقت آپ کے چہرہ پر ایسی چمک آگئی تھی کہ کوئی بھی آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا اور مرتے دم تک آپ کے چہرہ پر تابانی قائم رہی بیوی نے ایک بار آپ سے کہا جب سے اللہ نے آپ سے کلام کیا میں تو آپ سے غیر متعلق ہو کر رہ گئی حضرت موسیٰ نے چہرہ سے نقاب اٹھا دیا تو بیوی کے چہرہ پر سورج کی کرنوں کی طرح شعاعیں پڑنے لگیں اس نے فوراً اپنا چہرہ اپنے ہاتھ سے چھپالیا اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر پڑی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا آپ اللہ سے دعا کریں کہ جنت کے اندر اللہ مجھے آپ کی بیوی بنائے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا یہ بات تجھے مل جائے گی بشرطیکہ میرے بعد کسی اور سے تو نکاح نہ کرے کیونکہ عورت آخری شوہر ہی کی بیوی ہوگی۔ بغوی نے حضرت کعب احبار کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے توریت کا مطالعہ کیا اور عرض کیا اے میرے رب میں (توریت میں) ایک امت کا ذکر پاتا ہوں جو خیر الامم ہوگی اس کو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیدا کیا گیا ہوگا وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے گی اور بری باتوں کی ممانعت کرے گی اس کا ایمان اللہ پر اور پہلی کتاب پر اور پچھلی کتاب پر ہوگا وہ گمراہوں سے جہاد کرے گی یہاں تک کہ کانے دجال سے لڑے گی اے میرے رب اس کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا موسیٰ وہ محمد ﷺ کی امت ہوگی۔ حضرت موسیٰ نے کہا میرے رب مجھے (توریت) میں ایک امت کا تذکرہ ملتا ہے جو بکثرت حمد کرنے والے ہوں گے اور سورج کی نگرانی رکھیں گے (یعنی اوقات صلوٰۃ کی تعیین سورج کے طلوع غروب سے کریں گے اور نمازوں کے منتظر رہیں گے) جب وہ کسی کام کا ارادہ کریں گے تو کہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ہم یہ کام کریں گے ان لوگوں کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا وہ محمد ﷺ کی امت ہوگی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا میں (توریت میں) ایک امت (کا ذکر) پاتا ہوں جو اپنے کفارات اور صدقات کو باہم کھائیں گے (یعنی آگ میں نہیں جلائیں گے) گزشتہ شریعتوں والے نذر اور صدقہ کی چیز آگ میں جلا دیتے تھے۔ وہ دعائیں کریں گے اور ان کی دعائیں قبول ہوں گی وہ شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول ہوگی ان لوگوں کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا یہ محمد ﷺ : کی امت ہوگی موسیٰ نے عرض کیا مجھے ایسی امت کا بھی تذکرہ ملتا ہے کہ جب وہ لوگ کسی ٹیلہ پر چڑھیں گے تو اللہ اکبر کہیں گے اور نشیب میں اتریں گے تو حمد کریں گے (یعنی حاجی ہوں گے) ساری مٹی ان کے لئے طہور (پاک اور پاک کن) ہوگی ساری زمین ان کے لئے مسجد ہوگی جہاں ہوں گے جنابت سے طہارت کریں گے مٹی سے بھی ان کی طہارت ایسی ہوگی جیسی پانی سے بشرطیکہ پانی دست یاب نہ ہو ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے گورے ہوں گے (یعنی قیامت کے دن) اے میرے رب ان کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا یہ محمد ﷺ کی امت ہوگی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے رب مجھے ایسے لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے کہ اگر وہ نیکی کا صرف ارادہ کریں گے عمل نہ کر پائیں گے تب بھی ان کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر نیکی کرلیں گے تو دس گنے سے سات سو گنے تک ان کو ثواب ملے گا اور اگر گناہ کا صرف ارادہ کریں گے تو گناہ نہیں لکھا جائے گا اور اگر گناہ کرلیں گے تو اتناہی لکھا جائے گا جتنا انہوں نے کیا ہوگا۔ ان کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا یہ احمد کی امت ہوگی۔ موسیٰ نے عرض کیا میں ایک مرحوم امت کا تذکرہ پاتا ہوں جو کمزور ہوگی وہ ان لوگوں سے کتاب میراث میں پائیں گے جن کو (عطاء کتاب کا) تو نے امتیاز دیا ہوگا ان لوگوں میں سے کچھ تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوں گے (یعنی گناہ گار ہوں گے) اور کچھ متوسط الحال ہوں گے (ان کی نیکیاں بدیاں مخلوط ہوں گی) اور کچھ نیکیوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک (گروہ) مرحوم ہوگا کوئی بھی ایسا نہ ہوگا کہ مرحوم نہ ہو اے رب ان لوگوں کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا یہ احمد کی امت ہوگی۔ موسیٰ نے عرض کیا میں ایسے لوگ بھی (توریت میں) پاتا ہوں جن کے مصحف ان کے سینوں میں ہوں گے (یعنی حافظ قرآن ہوں گے) وہ اہل جنت کے لباس کے رنگ کے کپڑے پہنیں گے۔ نمازوں کے اندر ان کی صفیں ملائکہ کی صفوں کی طرح ہوں گی مسجدوں کے اندر ان کی (تلاوت و قرأت کی) آوازیں شہد کی مکھیوں کی گونج کی طرح ہوں گی ان میں سے کوئی کبھی آگ میں نہیں داخل ہوگا۔ سوائے اس شخص کے جو نیکیوں سے اس طرح الگ ہوجائے جیسے پتھر درختوں کے پتوں سے الگ ہوجاتا ہے اے رب ان لوگوں کو میری امت بنا دے اللہ نے فرمایا یہ احمد کی امت ہوگی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کو جب اس بات پر تعجب ہوا کہ محمد ﷺ : کو اور آپ کی امت کو اللہ نے یہ بھلائیاں عطا فرمائی ہیں تو عرض کیا کاش میں محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہوتا اس پر موسیٰ ( علیہ السلام) کو خوش کرنے کے لئے اللہ نے تین چیزوں کی وحی بھیجی اور فرمایا (یموسٰی انی اصطفیتک علی الناس برسالاتی و بکلامی۔۔ سے۔۔ ساریکم دارالفسقین۔ ومن قوم موسیٰ امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون) موسیٰ اس سے کامل طور پر خوش ہوگئے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا

وکتبنالہ فی الالواح من کل شی موعظۃ وتفصیلا لکل شی فخذہا بقوۃ وامر قومک یاخذوا باحسنہا ساریکم دار الفسقین۔ اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی (ضروری) نصیحت اور (احکام ضروریہ کے متعلق) ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دے دی سو تم خود بھی کوشش کے ساتھ ان پر عمل کرو اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں۔ میں اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بےحکم لوگوں کا مقام دکھلاؤں گا۔ لَہٗیعنی موسیٰ کے لئے۔ فی الالواحیہ تختیاں سات یا دس تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الواح سے مراد ہیں توریت کی تختیاں۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ تختیاں جنت کے بیری کے درخت کی تھیں۔ ایک تختی کی لمبائی بارہ ہاتھ تھی۔ یہ روایت ابوالشیخ کی ہے جس کی نسبت حضرت جعفر کی وساطت سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف کی گئی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور تورات اپنے ہاتھ سے لکھی اور طوبیٰ کا درخت اپنے ہاتھ سے بویا۔ حسن نے کہا وہ تختیاں لکڑی کے تختے کی تھیں۔ کلبی نے کہا کہ زبرجد سبز کی تھیں۔ سعید بن جبیرنے کہا یاقوت سرخ کی تھیں۔ آخری قول کعب کا بھی ہے جو طبرانی اور ابوالشیخ نے بیان کیا ہے۔ ربیع بن انس نے کہا زبرجد کی تھیں۔ ابن جریج کا قول ہے زمرد کی تھیں جو جبرئیل بحکم خداوندی عدن سے لائے تھے جن کو اسی قلم سے لکھا تھا جس سے ذکر کو لکھا تھا اور نہر نور کی روشنائی سے لکھا تھا۔ ابوالشیخ کی روایت میں ابن جریج کا قول آیا ہے کہ وہ زمرد یا زبرجد کی تھیں۔ وہب کا بیان ہے ٹھوس پتھر سے اللہ نے ان تختیوں کو اکھاڑنے کا حکم دیا پھر ان کو نرم بنا دیا کہ موسیٰ نے ان کو تراش لیا پھر ان کو چیر لیا اور ان پر دس نصائح لکھنے کی قلم کی آواز موسیٰ نے خود سنی۔ یہ واقعہ یکم ذیقعدہ کو ہوا۔ تختیوں کی لمبائی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قد کے موافق دس ہاتھ تھی۔ مقاتل اور وہب نے کہا انگوٹھی کے نقش کی طرح تختیوں پر حروف لکھے گئے تھے۔ ربیع بن انس نے کہا توریت نازل ہوئی تو ستّر اونٹوں کا بوجھ تھی اس کا ایک جزء ‘ ایک سال سے کم میں نہیں پڑھا جاسکتا تھا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) حضرت یوشع ‘ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کے علاوہ اور کسی نے پوری توریت نہیں پڑھی۔ من کل شی یعنی دینی ضرورت کی ہر چیز۔ موعظۃ یعنی نصیحت اور ان اعمال سے بازداشت جن کا نتیجہ خوفناک ہے۔ قاموس میں ہے وَعَظَہٌ مُوعِظَۃٌ سزا جزا کا ذکر اس طرح کیا کہ دل نرم پڑجائے۔ وتفصیلاً لکل شئٍ یعنی امر ‘ نہی ‘ حلال ‘ حرام حدود و احکام میں سے ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔ تفصیلاً : کا عطف موعظۃ پر ہے بقوۃ یعنی کوشش کے ساتھ یاقوت قلب اور صحت عزیمت کے ساتھ کیونکہ ارادہ کے ضعف کے ساتھ لینے کا نتیجہ اعمال میں سستی لازمی ہے۔ باحسنہا احسناس جگہ اسم تفضیل کے معنی میں مستعمل نہیں ہے کیونکہ اللہ کی کتاب میں جو حکم ہے وہ بہترین ہی ہے کم و بیش کا احتمال ہی نہیں ہے۔ کتاب میں کوئی برا حکم موجود ہی نہیں ہے جیسے محاورہ میں کہا جاتا ہے الصیف اَحَرُّ من الشتاء موسم گرما موسم سرما سے زیادہ گرم یعنی گرم ہوتا ہے (موسم سرما میں تو گرمی ہوتی ہی نہیں ہے پھر موسم گرما کا سرما سے زیادہ گرم ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا) کذا قال قطرب۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول یاخذوا باحسنہا کی تشریح میں نقل کیا ہے کہ اس کے حلال کو حلال حرام کو حرام سمجھیں احکام پر غور کریں اشیاء و امثال سے نصیحت حاصل کریں اس کے احکام پر عمل کریں اور متشابہات میں غور و خوض نہ کریں۔ بعض علماء نے کہا باحسنہا سے مراد ہیں فرائض اور مستحبات جن پر ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ مباحات ہیں جن پر نہ ثواب مرتب ہوتا ہے نہ عذاب۔ بعض نے کہا عزیمت مراد ہے یعنی رخصت سے کام نہ لو۔ عزیمت کو اختیار کرو اور ہر چیز میں جو دو حکم ہوں (ان میں سے اعلیٰ پر عمل کرو مثلاً عفو قصاص سے اعلیٰ ہے صبر انتقام سے اعلیٰ ہے پس اعلیٰ کو اختیار کرو۔ سَاُرِیکُم دارالفسقین اس جملہ میں تخویف ہے کہ کتاب کو ترک نہ کرو۔ ورنہ فاسقوں کی طرح ہوجاؤ گے اور جو مقام ان کا ہے وہی تمہارا ہوجائے گا۔ دارالفاسقین سے مراد ہیں مصر کے اندر فرعون اور اس کی قوم کے ٹوٹے پھوٹے ویران کھنڈر۔ عطیہ عوفی کا یہی قول ہے۔ سدی نے کہا کافروں کی ہلاکت گاہیں (مرنے کے مقامات) مراد ہیں۔ کلبی اور قتادہ نے کہا عاد وثمود اور دوسری گزشتہ تباہ شدہ قوموں کی ویران بستیاں مراد ہیں جن کو سفر کی حالت میں بنی اسرائیل سرراہ دیکھتے گزرے تھے۔ مجاہد حسن اور عطاء نے کہا جہنم مراد ہے جہاں آخرت میں ان کا مقام ہوگا۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے

ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بہا وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا ذلک بانہم کذبوا بایتنا وکانوا عنہا غفلین : میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گے جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق نہیں۔ اگر تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں۔ تب بھی ان کو نہ مانیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنا لیں اور یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلایا اور ان سے غافل رہے
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا

والذین کذبوا بایتنا ولَاء الاخرۃ حبطت اعمالہم ہل یجزون الا ما کانوا یعملون : اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھوٹا قرار دیا ان کے سب کام اکارت گئے ان کو ان کے کئے ہوئے اعمال ہی کی سزا دی جائے گی۔ ساصرف یعنی اندرونی و بیرونی اور انفسی و آفاقی آیات پر غور کرنے اور ان سے عبرت اندوز ہونے سے پھیردوں گا۔ یا اپنی نازل کردہ آیات اور معجزات کو باطل کرنے اور نور الٰہی کو پھونکیں مار کر بجھانے سے روک دوں گا۔ مطلب یہ کہ اپنی آیات کا بول بالا کروں گا اور ان تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کر دوں گا جیسے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردیا اللہ اپنا نور پورے طور پر پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو گوارا نہ ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ چونکہ ان کو حق سے عناد ہے اس لئے ان کو ہدایت سے محروم رکھوں گا اور قرآنی آیات کو قبول کرنے اور ان پر ایمان لانے سے پھیر دوں گا دوسری آیت میں بھی اسی طرح کا مضمون آیا ہے فرمایا ہے ( فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبہم) کذا قال ابن عباسسفیان نے ساصرف کی تشریح اس طرح کی کہ میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے عجائب کو جاننے سے روک دوں گا۔ الذین یتکبرون فی الارضان لوگوں کو جو ملک میں تکبر کرتے ہیں میرے بندوں پر جبر کرتے ہیں اور میرے دوستوں سے لڑتے ہیں بغیر الحق اس کا تعلق یتکبرون سے ہے یعنی باطل دین کی وجہ سے تکبر کرتے ہیں۔ غیر الحق سے مراد ہے باطل دین یا۔ بغیر الحق یتکبرون کی ضمیر فاعلی سے حال ہے بہرحال آیت کا حکم تمام کافروں کے لئے عام ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آیاتی سے مراد ہیں وہ نو آیات جو اللہ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھیں اور الذین سے مراد ہیں خاص کفار (یعنی قبطی) اس وقت آیت کا حکم خاص ہوگا۔ وان یروا یعنی یہ متکبر اگر دیکھ لیں۔ کل ایۃ یعنی ہر نازل شدہ آیت کو یا ہر معجزہ کو لا یومنوا بہاتو اس کو نہیں مانیں گے کیونکہ ان کے دلوں میں عناد ہے یا اس وجہ سے کہ اندھی تقلید اور خواہش پرستی میں غرق ہونے کے سبب ان کی عقلیں بگڑ گئی ہیں یا عدم ایمان کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر گمراہی کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ وان یروا سبیل الرشد اور اگر انبیاء اور علماء کی راہنمائی کی وجہ سے ہدایت کا راستہ ان کے سامنے آبھی جائے لا یتخذوہ سبیلاتو چونکہ شیطنت ان پر غالب ہے اس لئے اپنے لئے اس کو اختیار نہیں کرتے۔ رَشَد رُشْد رشادسب ہم معنی ہیں جیسے سَقَم سُقم سقامابو عمرو نے کہا رشد کسی کام کی درستی کو کہتے ہیں اور رَشَد دین کی استقامت کو۔ وان یروا سبیل الْغَی اور اگر نفس یا شیطان کے دکھانے سے گمراہی کا راستہ دیکھ لیں۔ ذلکیہ آیات سے پھیر دینا۔ بانہم اس سبب سے ہے۔ کذبوا بایتنا کہ انہوں نے ہماری نازل کردہ آیات اور معجزات کو نہ مانا اور کائنات سماوی و ارضی کو نظر غور سے نہیں دیکھا۔ غفلین اور ان آیات سے غافل رہے یعنی ان کو بھول گئے اور لہو سمجھ کر ان کو ترک کردیا یا عناد کی وجہ سے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔ ولقاء الاخرۃ مفعول ہے یعنی دار آخرت کو پانا یعنی دار آخرت میں اللہ نے جس ثواب عذاب کا وعدہ کیا ہے اس کو پانا جن لوگوں کو تسلیم نہیں حبطت اعمالہمتو جو نیکیاں انہوں نے کی ہوں گی سب اکارت جائیں گی غریبوں کو مال دینا کنبہ والوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ رشتہ داروں سے قطع تعلق نہ کرنا وغیرہ بہرحال یہ سب نیکیاں اس میدانی سراب کی طرح ثابت ہوں گی جو دور سے پیاسے کو دکھائی دیتی ہیں اور قریب پہنچتا ہے تو (ہلاکت کے سوا) کچھ نہیں ملتا۔ ہل یجزون استفہام انکاری ہے یعنی ان کو بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ الا ما کانوا یعملون مگر انہی اعمال کا جو وہ دنیا میں کرتے تھے اور اللہ کے نزدیک بھی وہ اعمال قابل اعتبار تھے یعنی خالص نیت کے ساتھ محض اللہ کے لئے (بغیر کسی شہرت و ریا کے جذبہ کے) جو اعمال کئے تھے صرف انہی کی جزا ملے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو بد اعمالیاں وہ دنیا میں کرتے تھے انہی کی سزا دی جائے گی (ظلم نہیں کیا جائے گا) اور ان کے تمام اعمال برے ہی ہوں گے کوئی بھی اچھا ثابت نہ ہوگا۔ اللہ کے ساتھ دوسروں کی پوجا بدترین گناہ ہے اگر اللہ کی دشمنی میں یا نفسانی خواہش کی تسکین کے لئے مال خرچ کیا یا کنبہ جوڑا جائے تو یہ بھی بہت برا عمل ہے اس سے کفر کی مدد ہوتی ہے (اور کافروں کی یہی عملی خصوصیات ہیں اس لئے ان کے تمام اعمال برے ہی ہیں)
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیہم عجلا جسدا لہ خوار اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان کی قوم (بنی اسرائیل (نے) اپنے (مقبوضہ) زیور کا ایک بچھڑا (پوجا کے لئے) بنا لیا جو ایک مجسمہ تھا اور اس کی ایک آواز تھی۔ قَوْمَ موسٰی یعنی بنی اسرائیل نے۔ من بعدہ یعنی جب موسیٰ طور کی طرف مقرر کردہ وقت پر (مناجات کرنے اور کتاب لینے کے لئے) چلے گئے اور تیس دن گزرنے کے بعد چلہ کا چوتھا عشرہ شروع ہوگیا۔ من حلیہم یعنی اس زیور کا جو بنی اسرائیل نے شادی کے بہانہ سے مصر سے نکلتے وقت قبطیوں سے بطور عاریت لے لیا تھا اور نکلنے کے بعد انہی کے پاس رہ گیا تھا۔ من حلیہم میں اضافت قبضہ پر دلالت کر رہی ہے یعنی وہ زیور جو ان کے قبضہ میں تھا۔ یا ملکیت کو ظاہر کر رہی ہے کیونکہ قوم فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل اس زیور کے مالک ہوگئے تھے۔ حلی بضم حاء و کسر لام حلی کی جمع ہے جیسے ثدی کی جمع ثدی۔ عجلایہ پہلا مفعول ہے دوسرا مفعول محذوف ہے یعنی بنا لیا بچھڑے کو معبود۔ جَسَدًاجسم۔ یہ عجلاً سے بدل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ قتادہ اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ بچھڑا سامری نے بنایا تھا اور حضرت جبرئیل کے نشان قدم کی خاک اس کے منہ میں ڈال دی تھی جس کی وجہ سے وہ گوشت اور خون والا جسم بن گیا تھا۔ سامری کے قول کو نقل کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے ( بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا الخ) سورة طہٰ میں ہم سامری کا قصہ نقل کریں گے۔ خوارگائے کی آواز۔ روایت میں آیا ہے کہ بچھڑے نے صرف ایک بار آواز نکالی تھی۔ بعض کا قول ہے کہ وہ برابر آوازیں نکالتا ہی تھا جب آواز نکالتا تھا بنی اسرائیل اس کے سامنے سجدے میں گرپڑتے تھے اور خاموش ہوجاتا تھا تو سجدہ سے سر اٹھا لیتے تھے۔ وہب کا قول ہے اس کی آواز ضرور تھی مگر وہ حرکت نہیں کرتا تھا۔ سدی نے کہا وہ چلتا بھی تھا۔ بعض اہل دانش نے لکھا ہے وہ سونے کا ایک مجسمہ تھا جس میں جان نہ تھی جب ہوا اس کے پیٹ کے اندر داخل ہوتی تھی (اور پھر دوسری طرف سے نکلتی تھی) تو گائے کی آواز کی طرح اس کی آواز سنائی دیتی تھی اس کی بناوٹ ہی اسی تدبیر سے کی گئی تھی۔ اس تشریح کی تردید آیت (فقبضت قبضۃ من اثر الرسول) سے ہو رہی ہے۔ الم یروا انہ لایکلمہم ولا یہدیہم سبیلاً اتخذوہ کانوا ظلمین۔ (جب ان احمقوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تو) کیا انہوں نے اتنا نہیں دیکھا کہ وہ (کیسا معبود ہے کہ) ان سے بات بھی نہیں کرسکتا اور نہ ان کو راہ ہدایت بتاسکتا ہے۔ یعنی انسانوں کی طرح بھی اس میں قدرت نہیں ہے کہ بات کرسکے یا راستہ بتاسکے پھر کیسے انہوں نے اس کو آسمان و زمین اور ساری طاقتوں کا خالق مان لیا ایسے کو معبود بنا لیا اور وہ بڑا بےڈھنگا کام کرنے والے تھے یعنی ایک ذلیل چیزکو معبود بنا لیا یہ ظلم تھا ایک چیز کا بےمحل استعمال تھا۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے

ولما سقط فی ایدیہم ورأوا انہم قد ضلوا قالوا لئن لم یرحمنا ربنا ویغفرلنا لنکونن من الخسرین۔ اور جب وہ نادم ہوگئے اور جان گئے کہ واقعی ہم گمراہی میں پڑگئے تو کہنے لگے اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہم کو معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوگئے۔ سقط فی ایدیہم سقط فعل مجہول کی اسناد فی ایدیہم کی طرف سے ہے بطور کنایہ سخت پشیمانی مراد ہے پشیمان آدمی افسوس سے ہاتھ کاٹتا ہے گویا اس کا ہاتھ اس کے اندر گرا دیا جاتا ہے عرب لوگ ہر پشیمان کو سقط فی یدہ کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا ایدیہم سے مراد ہیں دل اور نفوس یعنی ندامت ان کے دلوں میں پیدا ہوگئی۔ حصلِ فِی یدہ مکروہٌاس کے ہاتھ میں یعنی دل میں بری بات پیدا ہوگئی اگرچہ ہاتھ میں مکروہ کا پیدا ہونا ناممکن ہے (برا خیال دل میں ہی پیدا ہوتا ہے) مگر دل اور نفس کے اندر پیدا ہونے والی جو چیز پکڑی اور دیکھی ہوئی چیز کی طرح مان کر حصل فی یدہ مکروہ کہا جاتا ہے (گویا بطور تشبیہ غیر محسوس کو محسوس خارجی قرار دے دیا جاتا ہے) حاصل مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے واپس آکر جب ان پر عتاب کیا تو ان کو پشیمانی ہوگئی اور جان گئے کہ بچھڑے کو معبود بنا کر ہم گمراہ ہوگئے اور توبہ کی اور کہا کہ ہمارا رب اگر ہماری توبہ قبول کر کے ہم پر رحم نہ فرمائے گا اور ہمارے قصور سے درگزر کر کے معافی نہ دے گا تو ہم بڑے گھاٹے میں ہوں گے۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

ولما رجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا قال بسئما خلفتمونی من بعدی اعجلم امر بکم والقی الالواح اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غضب و رنج کی حالت میں لوٹے تو کہا تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا اپنے رب کے حکم (آنے) سے پہلے ہی جلد بازی کرلی اور تختیاں (ایک طرف) رکھ دیں۔ ولما رجع موسیٰ یعنی میقاتی چلہ پورا کرنے کے بعد جب موسیٰ ( علیہ السلام) لوٹے۔ اَسفاً حضرت ابو درداء نے اسفائکا ترجمہ کیا ہے سخت غضب ناک۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی نے فرمایا سخت غمگین۔ قاموس میں ہے اَسَفٌ سخت ترین غم۔ اَسَفَ علیہ اس پر غصہ ہوا۔ بئسما خلفتمونی میرے بعد تم نے بری حرکت کی کہ گوسالہ کو پوجنے لگے۔ یہ خطاب صرف گوسالہ پرستوں سے ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے میری بری قائم مقام کی کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو نہ روکا اس وقت خطاب حضرت ہارون اور دوسرے صحیح الایمان مؤمنوں کو ہوگا۔ من بعدی یعنی میرے میقات پر جانے کے بعد۔ یا یہ مطلب ہے کہ باوجود یکہ تم نے میری طرف سے تعلیم توحید و تنزیہ کو دیکھ لیا اور یہ بات بھی دیکھ لی کہ میں شرک سے روکتا ہوں اس کے بعد بھی تم نے یہ بری حرکت کی۔ اعجلتم امر ربکم یعنی تم نے اپنے رب کے کام کو ناتمام چھوڑ دیا۔ چونکہ عجل کے اندر سبقکا معنی مضمر ہے اس لئے بغیر حرف جر کے مفعول کو ذکر کیا گیا۔ یا یہ معنی ہے کہ تم نے اللہ کے مقرر کردہ چلہ کے پورے ہونے سے پہلے ہی یہ حرکت شروع کردی مجھے مردہ مان لیا اور اسی طرح دین کو بگاڑ دیا جیسے گزشتہ انبیاء کے بعد ان کی امتوں نے اپنا دین بگاڑا تھا۔ عجلۃ کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو وقت سے پہلے طلب کرنا۔ القی الالواح یعنی وہ تختیاں جن میں توریت لکھی ہوئی تھی سخت غضب کی حالت میں زمین پر ڈال دیں مگر (یہ فعل توریت سے نفرت اور بےادبی کے طور پر نہ تھا بلکہ) یہ مغلوب الغضبی محض اللہ کی ہدایت کی حمایت و اطاعت کے لئے تھی۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کو زبرجد کی سات تختیوں پر (لکھی ہوئی) توریت دی گئی تھی جس کے اندر ہر چیز کا بیان بھی تھا اور ہدایات بھی تھیں۔ لیکن حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پہاڑ سے آکر بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا میں منہمک پایا تو اپنے ہاتھ سے توریت کو پھینک دیا جس کی وجہ سے تختیوں کے سات ٹکڑے ہوگئے ٹوٹنے کے بعد چھ حصے تو توریت کے اللہ نے اٹھا لئے صرف ساتواں حصہ رہ گیا بغوی نے لکھا ہے کہ غیب (ماضی و مستقبل) کی خبروں سے تعلق رکھنے والے حصے تو اٹھا لئے گئے اور جس حصہ کے اندر ہدایات ‘ احکام اور حلال و حرام کا بیان تھا وہ رہ گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کانوں سے سنی ہوئی ‘ آنکھوں سے دیکھنے کی طرح نہیں ہوتی اللہ نے (طور پر ہی) موسیٰ ( علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی اطلاع دے دی تھی لیکن موسیٰ ( علیہ السلام) نے تختیاں نہیں پھینکیں اور جب ان کی حرکت خود دیکھ لی تو تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔ رواہ احمد و الطبرانی فی الاوسط والحاکم بسند صحیح۔ واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ قال ابن ام ان القوم الستضعفونی وکادوا یقتلوننی فلا تشمت بی الاعدآء ولا تجلعنی مع القوم الظلمین : اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے ہارون نے کہا اے میرے ماں جائے ان لوگوں نے مجھے بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں سو آپ (مجھ کو ذلیل کر کے) مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسوائیں اور مجھ کو ان ظالم لوگوں کے ذیل میں شمار نہ کریں۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

قال رب اغفرلی ولاخی وادخلنا فی رحمتک وانت ارحم الراحمین۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میری اور میرے بھائی کی خطا معاف فرما دے اور ہم کو اپنی رحمت میں داخل فرما دے تو سب سے بڑا رحیم ہے۔ واخذا براس اخیہ موسٰی ( علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے آپ کو گمان ہوا کہ ہارون کے قصور سے قوم گمراہی میں مبتلا ہوئی بغوی نے براسہ کی تشریح میں لکھا ہے کہ گیسو اور داڑھی پکڑ کر کھینچی۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور چونکہ غصہ آور نہ تھے اس لئے بنی اسرائیل آپ سے موسیٰ ( علیہ السلام) کی بہ نسبت زیادہ محبت کرتے تھے۔ ابن ام حضرت ہارون ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے لیکن موسیٰ ( علیہ السلام) کے دل میں نرمی پیدا کرنے اور اپنی محبت قلبی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ماں جایا کہا۔ ابن عامر حمزہ اور کسائی وغیرہ نے تو ابن ام پڑھا ہے اور ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ اصل میں یا ابن امی تھا حرف ندا اور یاء متکلم کو حذف کردیا گیا میم کا کسرہ باقی رہ گیا لیکن فتح چونکہ خفیف ہے۔ زیادتی تخفیف کے لئے ابن ام اکثر قاریوں کی قرأت میں آیا ہے یا جیسے خمسۃ عشر میں تا ہمیشہ مفتوح آتی ہے (کیونکہ دونوں لفظ مل کر ایک کلمہ بن گئے اور اعراب ایک کلمہ کے درمیان جاری نہیں ہوتا جیسے بعلبک میں لام پر ہمیشہ فتح آتا ہے) اسی کی مشابہت سے ابن ام کہا گیا۔ ان القومالقوم یہ لوگ یعنی بچھڑے کے پجاریوں نے۔ کادوا قریب تھا انہوں نے ارادہ کر ہی لیا تھا۔ مطلب یہ کہ میں نے ان کو روکنے میں اپنی کوشش کرلی مگر یہ مجھ پر غالب آگئے اور انہوں نے مجھے بےحقیقت سمجھ لیا قریب تھا کہ مجھے قتل کردیں میں نے روکنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی آپ اس میں میری کوشش کا قصور نہ سمجھیں۔ فلا تشمت بی یعنی مجھ سے ایسا سلوک نہ کیجئے کہ دشمن خوش ہوں۔ دشمن کی مصیبت پر خوش ہونے کو شماتت کہتے ہیں کذا فی القاموس۔ ولا تجعلنی اور اس غصہ اور غضب میں مجھے ان ظالموں کا شریک نہ بنائے ظالموں سے مراد ہیں گوسالہ پرست (کیونکہ گوسالہ پرستی جیسی غیر موزوں نالائق حرکت کا صدور ان سے ہوا تھا) رب اغفرلی یعنی جو حرکت میں نے اپنے بھائی کے ساتھ کی اس کو معاف فرما دے ولاخی اور اگر میرے بھائی سے بنی اسرائیل کو روکنے میں کوئی قصور ہوا ہو تو اس کو بھی معاف فرما دے۔ کلام کا سیاق بتارہا ہے کہ اصل مقصود اپنے بھائی کے قصور کی معافی کی طلب تھی بھائی کو خوش کرنے اور دشمنوں کی شماتتکو دفع کرنے کے لئے دعائے مغفرت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی ذات کو بھی شریک کرلیا۔ پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ دوسروں کے لئے استغفار کا طریقہ بھی یہی ہے کہ اپنی ذات کے لئے اوّل استغفار کیا جائے تاکہ اپنے نفس کو پاک سمجھنے کا شبہ بھی باقی نہ رہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ گناہ دعا کو قبول ہونے سے روکتے ہیں اس لئے سب سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی کی درخواست کی جائے اس کے بعد کوئی دعا کی جائے یہی وجہ ہے کہ جنازہ کی (نماز کی) دعا میں اللہم اغفرلحینا ومیتنا آتا ہے۔ زندوں کا ذکر مردوں سے پہلے آتا ہے کیونکہ دعا کرنے والا زندہ ہی ہوتا ہے اور اہل قبور کی دعا میں بھی یغفر اللّٰہ لنا ولکمآتا ہے۔ مخاطب سے پہلے متکلم کا ذکر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اگرچہ معصوم تھے آپ سے کسی گناہ کا صدور ہی نہ ہوتا تھا لیکن امت کی تعلیم کے لئے اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کر کے فرمایا : واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنت۔ وادخلنا فی رحمتک یعنی دنیا میں ہم کو معصوم رکھ اور آخرت میں ہم پر رحم فرما اور دونوں جہان میں ہم کو ترقی درجات عنایت کروانت ارحم الراحمین یعنی تو سب سے زیادہ ہم پر مہربان ہے یہاں تک کہ جتنے مہربان ہم اپنے اوپر ہیں اس سے بھی زیادہ تو ہم پر مہربان ہے۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

ان الذین اتخذوا العجل سینا لہم غضب من ربہم وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا ط وکذلک نجزی المفترین : بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی بہت جلد اس دنیوی زندگی میں ان پر ان کے رب کا غضب آئے گا اور ذلت پڑے گی۔ ہم افترا پردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے

والذین عملوا السیات ثم تابو من بعدہا وامنوا ان ربک من بعدہا لغفور رحیم : اور جن لوگوں نے برے کام کرنے کے بعد توبہ کرلی اور (سچے دل سے) ایمان لے آئے تو آپ کا رب اس توبہ کے بعد گناہ کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اتخذوا العجل یعنی جنہوں نے گوسالہ کو معبود بنایا۔ غضب یعنی عذاب اس سے مراد ہے وہ حکم جو ان کو دیا گیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردیں۔ وذلۃ ذلت سے مراد ہے گھروں سے نکل جانا جلاوطن ہوجانا۔ اس مطلب پر سینالہم میں سین استقبال کے لئے ہوگی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے غضب ناک ہونے کے بعد ہی کا زمانہ جس میں بنی اسرائیل کو سزا دی گئی مراد ہوگا۔ لیکن عطیہ عوفی کا قول ہے کہ ان الذین اتخذوا العجل سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے یہودی۔ باپ دادا کے ناشائستہ افعال کا ذکر کر کے ان کو عار دلائی گئی ہے اور انہی یہودیوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم کو آخرت میں اللہ کی طرف سے عذاب ہوگا اور دنیا میں ذلت پڑے گی چناچہ بنی قریظہ اور بنی نضیر پر یہ ذلت پڑی کہ ایک قبیلہ کو قتل کیا گیا اور دوسرے قبیلہ کو جلاوطن کیا گیا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ذلت سے مراد ہے جزیہ۔ والذین عملوا السیئات یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم میں سے جنہوں نے گوسالہ پرستی کی پھر توبہ کی اور مؤمن ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حکم کے موافق آپس میں ایک نے دوسرے کو قتل کیا۔ من بعدہا یعنی توبہ کے بعد۔ لغفور رحیمبلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے خواہ گناہ کتنے ہی بڑے اور زیادہ ہوں (سب معاف فرما دے گا)
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی

ولما سکت عن موسیٰ الغضب اخذ الالواح وفی نستختہا ہدی ورحمۃ للذین ہم لربہم یرہبون اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی۔ سَکَتَبمعنی سَکَنَیعنی فرو ہوا عن موسیٰ الغضبحضرت ہارون کی معذرت اور قوم کی ندامت و توبہ کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا غصہ فرو ہوا۔ سکون کو لفظ سکوت سے تعبیر کرنے میں کلام کی رفتار میں زور آگیا وہ غضب جس میں گزشتہ حرکت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے صادر ہوئی تھی اس کو آمر و حاکم کی صورت میں پیش کیا گیا ہے (گویا پہلے غضب نے حکم دیا تھا کہ تختیاں پھینک دو موسیٰ ( علیہ السلام) نے تختیاں پھینک دیں پھر غصہ خاموش ہوگیا تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے تختیاں اٹھا لیں) اخذ الالواح تختیاں لے لیں جن کا 7؍6 حصہ ٹوٹ چکا تھا۔ فی نستختہابعض علماء کے نزدیک نسخہ سے مراد ہے ایک لوح (کیونکہ نسخہ کا لغوی معنی ہے کا پی ‘ نقل اور) وہ لوح محفوظ کی نقل تھی۔ بعض کا قول ہے کہ پھینکنے سے اصل تختیاں ٹوٹ گئیں پھر ان کی نقل کی گئی۔ بعض نے کہا نسخہ بروزن فعلۃ بمعنی اسم مفعول ہے یعنی لکھا ہوا تحریر کردہ جیسے خطبہ بمعنی مخطوب۔ عطاء نے نسختہا کا ترجمہ کیا ہے بقیہ حصہ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور عمرو بن ابی الدنیا کا قول ہے کہ موسیٰ کے پھینکنے سے وہ تختیاں تو ٹوٹ گئیں (ناکاہ اور ناقابل قرأت ہوگئیں) پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے چالیس دن روزے رکھے تو دو تختیوں پر لکھی ہوئی توریت دوبارہ عطا کی گئی۔ ہدیً گمراہی سے ہدایت اور حق کا بیان۔ وَرحمۃٌاور عذاب کی جگہ رحمت۔ لربہم اس میں لام زائد ہے (کیونکہ یرہبونکا مفعول بغیر لام کے عربی کلام میں آتا ہے) جیسے رء وف لکم میں لام زائد ہے۔ کسائی نے کہا فعل کے مؤخر ہونے کی وجہ سے اس کے عمل میں کمزوری آگئی ہے اس لئے مفعول پر لام زیادہ کیا گیا ہے جیسے للرؤ یا تعبرون میں۔ قطرب کے نزدیک یہ لام من کے معنی میں ہے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ بعض نے کہا یرہبون بمعنی راہبون (اسم فاعل) کے ہے بعض کے نزدیک لام تعلیل کا ہے یعنی اللہ کی وجہ سے گناہوں سے ڈرتے ہیں۔