Ayah 7:22فدلہما بغرور پس ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا۔
بغوی نے لکھا ہے یعنی ابلیس نے دونوں کو فریب دیا عرب کہتے ہیں مَا زَالَ فَلَانٌ یدَلِّی بفلانٍ بغرور یعنی وہ اس کو برابر فریب دیتا اور اس سے چکنی چپڑی باتیں کرتا رہا۔ غرور سے مراد ہے بےحقیقت (فریب) بعض علماء کا قول ہے کہ دَلّٰہما (کا مصدر تَدْلِیَۃٌہے ‘ تَدْلِیَۃٌاور اِدْلاَءُ کا معنی ہے نیچے اتارنا لٹکانا) اس سے مراد یہ ہے کہ ابلیس نے آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) کو اونچے درجے سے نچلے درجے پر اتار دیا۔ مقام طاعت سے مقام معصیت پر لا گرایا۔
فلما ذاقا الشجرۃ بدت لہما سواتہما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنۃ : پھر جب ان دونوں نے اس درخت (کے پھل) کا مزہ چکھ لیا تو دونوں کے پوشیدہ اعضاء ایک دوسرے پر بےپردہ ہوگئے اور (شرم کے مارے) اپنے برہنہ شدہ اعضاء پر جنت کے پتے چپکانے لگے۔ مطلب یہ ہے کہ پورے طور پر کھانے بھی نہ پائے تھے فقط مزہ ہی چکھا تھا کہ نافرمانی کی نحوست سے دوچار ہوگئے سزا میں پکڑے گئے اور بدن سے (جنت کا) لباس اتر گیا۔ عبد بن حمید نے وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ دونوں کا لباس نور کا تھا۔ ابن ابی حاتم نے بروایت سدی فرہابی کا قول اور ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابوالشیخ ‘ ابن مردویہ ‘ بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ آدم و حواء کا لباس ناخن کا تھا لیکن درخت کا مزہ چکھنے کے بعد وہ کل لباس اتر گیا صرف ناخن رہ گئے۔ جنت کے ورق سے مراد ہے انجیر کے پتے ابن ابی شیبہ ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابوالشیخ ‘ ابن مردویہ ‘ بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے۔
حضرت ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم ( علیہ السلام) دراز قامت ایسے تھے جیسے کھجور کا پرانا لمبا درخت سر کے بال بڑے بڑے تھے جب گناہ میں پڑگئے اور پوشیدہ اعضاء ظاہر ہوگئے اور پہلے کوئی ان اعضاء کو نہیں دیکھتا تھا تو بھاگ کر آپ ایک باغ میں پہنچے باغ کے ایک درخت نے ان کے بالوں کو الجھا لیا آدم نے کہا مجھے چھوڑ دے درخت نے جواب دیا میں تم کو چھوڑنے والا نہیں اس پر اللہ کی آواز آئی آدم کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے آدم ( علیہ السلام) نے کہا نہیں میرے رب ‘ بلکہ مجھے تجھ سے شرم آرہی ہے۔
ونادہما ربہما الم انہکما عن تلکما الشجرۃ واقل لکما ان الشیطن لکما عدو مبین : اور ان کے رب نے دونوں کو ندا دی کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے پاس بھی جانے) سے منع نہیں کردیا تھا اور کیا تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان تم دونوں کا صریحی دشمن ہے۔ اس نے خود اقرار کیا تھا کہ میں ان کو گمراہ کرنے کے لئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔ اس آیت میں ممانعت کی خلاف ورزی کرنے اور دشمن کی بات سے فریب کھانے پر عتاب کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (اگر استحباب ‘ ندب وغیرہ کا قرینہ نہ ہو اور) ممانعت غیر مشروط ہو تو اس کا تقاضا وجوب ہے محمد بن قیس نے کہا اللہ نے ندا دی آدم ( علیہ السلام) تو نے کیوں کھایا میں نے تو تجھے منع کردیا تھا آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا مجھے حوا نے کھلا دیا۔ اللہ نے حوا ( علیہ السلام) سے فرمایا تو نے کیوں کھلایا حواء نے عرض کیا مجھے سانپ نے مشورہ دیا تھا۔ سانپ سے سوال ہوا تو نے کیوں مشورہ دیا سانپ نے عرض کیا مجھے ابلیس نے مشورہ دیا تھا۔ اللہ نے فرمایا حواء ( علیہ السلام) تو نے درخت کو خون آلود کیا تو بھی ہر ماہ خون آلود رہے گی اور اے سانپ تیرے پاؤں میں کاٹے دیتا ہوں تو منہ کے بل چلے گا اور تجھے جو بھی پائے گا تیرا سرپھاڑ دے گا اور اے ابلیس تو ملعون و مردود ہے۔
Ayah 7:23قالا ربنا ظلما انفسنا آدم ( علیہ السلام) و حوّ اء نے عرض کیا پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
گناہ کر کے اور جنت سے نکالے جانے کا سامان کر کے خود اپنا نقصان کیا اپنے کو خود تباہ کیا۔
وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین اگر تو ہماری خطا معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر صغیرہ گناہ معاف نہ کئے تو ان کی سزا ہوسکتی ہے۔ معتزلہ کے نزدیک صغیرہ گناہوں کی سزا نہیں دی جائے گی (خواہ ان کو معاف نہ کیا گیا ہو) بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے آدمی اجتناب رکھتا ہو (کبیرہ کا مرتکب نہ ہو)
Ayah 7:24قال اہبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین اللہ نے فرمایا تم سب باہم دشمن ہونے کی حالت میں ہی اترو۔ تمہیں زمین میں ہی رہنا اور ایک وقت تک نفع اندوز ہونا ہے۔ اِہبطوا اگرچہ جمع کا صیغہ ہے مگر مخاطب صرف آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) ہیں ابلیس کو اس سے پہلے اتارا جا چکا ہے شاید (دو کے لئے) جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا کہ ان دونوں کا نزول ساری نسل کے نزول کا سبب ہے (یعنی تم دونوں اور آئندہ ہونے والی تمہاری نسل سب اترو) بعض کے نزدیک ابلیس کو بھی ذیلی طور پر اس وقت بھی خطاب میں داخل کرلیا گیا (اور تینوں کو حکم دیا گیا) تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ہمیشہ (دنیا میں) ان کو ساتھ رہنا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الگ الگ جو حکم ان کو دیا گیا تھا اس کے مجموعہ کی خبر اس آیت میں (بصیغۂ جمع) دے دی گئی۔ بعضکم لبعض عدوجملہ حالیہ ہے۔ مستقریا مصدر ہے (ٹھہرنا) یا ظرف مکان (ٹھہرنے کی جگہ) متاعٌمصد رہے (فائدہ اندوز ہونا) الی حین سے مراد ہے مرنے کے وقت تک۔
Ayah 7:25قال فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون یہ بھی فرما دیا (کہ) زمین میں ہی تم زندگی بسر کرو گے وہیں مرو گے اور اسی سے (پھر) نکالے جاؤ گے۔
Ayah 7:26یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم وریشآ و لباس التقوی ذلک خیر ذلک من ایت اللہ لعلہم یذکرون اے اولاد آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے واجب الستر اعضاء کو چھپاتا بھی ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقویٰ کا لباس سب سے بڑھ کر ہے یہ اللہ کے احکام میں سے ہے تاکہ لوگ یاد رکھیں۔
بغوی نے لکھا ہے جاہلیت کے زمانہ میں لوگ کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کیا کرتے تھے مرد دن میں اور عورتیں رات میں۔ ان کا قول تھا کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کو پہنے ہوئے ہم طواف نہیں کریں گے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی قتادہ نے کہا عورت دوران طواف میں اپنی شرمگاہ پر ہاتھ رکھے ہوئے کہتی تھی آج اس کا کچھ حصہ کھلا ہوا یا سب برہنہ ہو میں اس کو کسی کے لئے حلال نہیں کروں گی اس پر اللہ نے کپڑے پہننے کا حکم دیا اور فرمایا ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا ہے۔ سواتہما قابل ستر اعضاء یہ سوء ۃ کی جمع ہے واجب الستر حصہ کا کھلنا برا معلوم ہوتا ہے اس لئے اس کو سوء ۃ کہا جاتا ہے۔ انزلنا سے مراد (یہ نہیں ہے کہ براہ راست لباس آسمان سے اترا ہے بلکہ مراد) یہ ہے کہ اسباب سماوی اور نظام علوی کے زیر اثر ہم نے لباس پیدا کیا ہے ایسا ہی دوسری آیات میں بھی آیا ہے فرمایا ہے وانزل لکم من الانعام تمہارے لئے مویشی اتارے وانزلنا الحدید اور ہم نے لوہا اتارا۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تم پر لباس پہننے کا حکم اتارا۔ شاید حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قصہ اس بات کی تمہید ہے کہ کشف عورت ممنوع ہے شیطان کی طرف سے پہلی مصیبت انسان پر جو آئی ہے وہ بےپردہ ہونے کی شکل میں ہی آئی شیطان نے ہی حضرت آدم ( علیہ السلام) و حوا ( علیہ السلام) کو اغواء کر کے برہنہ کرایا اور ان کی اولاد کو بھی اسی طرح اغواء کر رہا ہے۔
ریشًاعمدہ لباس (قاموس) یا جمال (بیضاوی) یا مال (حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ ضحاک ‘ سدی) تَرَیَّشَ الرَّجُلُوہ آدمی مالدار ہوگیا۔ لباس تقویٰ سے کیا مراد ہے اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں قتادہ اور سدی کے نزدیک لباس تقویٰ ایمان ہے حسن بصری کے نزدیک حیا ہے کیونکہ حیا ہی موجب تقویٰ ہے عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ عمل صالح لباس تقویٰ ہے حضرت عثمان بن عفان ؓ کا قول آیا ہے کہ خوبصورت نقشہ مراد ہے۔ عروہ بن زبیر نے خشیتہ اللہ کو لباس تقویٰ قرار دیا ہے۔ کلبی نے پاکدامنی کو یعنی صاحب تقویٰ کے لئے پاکدامنی سب سے خوبصورت لباس ہے۔ ابن الانباری نے کہا لباس التقویٰ سے مراد وہی لباس ہے جس کا ذکر اس سے پہلے فقرہ میں آگیا ہے یہ غرض ہے کہ برہنہ طواف کرنے سے کپڑے پہن کر اعضاء پوشیدنی کو چھپانا بہتر ہے اور برہنگی کے گناہ سے بچنے کا سبب لباس ہے۔ زید بن علی نے فرمایا لباس تقویٰ سے مراد جنگی لباس ہے جو جنگ میں حفاظت کے لئے پہنا جاتا ہے زرہ خود بکتر پٹی گیٹس بعض نے کہا لباس تقویٰ بالوں کے کھردرے موٹے موٹے کپڑے ہیں جو زاہد لوگ پہنتے ہیں۔
آیات اللہ سے مراد (یا احکام ہیں یا وہ) نشانیاں ہیں جو اللہ کی رحمت و مہربانی پر دلالت کر رہی ہیں یاد رکھنے سے مراد ہے اللہ کی نعمتوں کا اقرار کرنا اور برائیوں سے بچا رہنا۔
Ayah 7:27یبنی ادم لا یفتننکم کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنہما لباسہما لیریہما سواتہما : اے اولاد آدم شیطان تم کو دھوکہ نہ دینے پائے (اور گمراہ کر کے جنت سے محروم نہ کر دے) جیسے تمہارے ماں باپ کو (یعنی آدم ( علیہ السلام) و حواء ( علیہ السلام) کو دھوکہ دے کر) جنت سے نکلوانے کا سبب بنا ایسی حالت میں کہ ان کا لباس بھی ان سے اتروا دیا تاکہ ان کو ان کا پردہ کا بدن دکھائی دینے لگے۔ بظاہر شیطان کو ممانعت ہے لیکن حقیقت میں اولاد آدم ( علیہ السلام) کو گمراہ ہونے سے نہی ہے یعنی تم دھوکہ نہ کھاؤ اور شیطان کے پیچھے چل کر راستہ سے نہ بھٹکو۔ شیطان چونکہ آدم ( علیہ السلام) و حواء ( علیہ السلام) کے بدن سے جنت کا لباس اتروانے کا سبب تھا اس لئے ینزع کی نسبت اس کی طرف کردی گئی۔
انہ یرکم ہو و قبیلہ من حیث لا ترونہم بلاشبہ وہ اور اس کے گروہ والے تم کو اس طور پر دیکھتے ہیں کہ تم ان کو نہیں دیکھتے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک قبیلہ سے مراد ہے ابلیس کی اولاد اور قتادہ کے نزدیک گروہ جن مراد ہے۔ غرض پوراجملہ نہی تحذیری کا ہے جس میں شیطان اور اس کے مددگاروں کی فریب دہی سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ وہ ایسا دشمن ہے جو ہم کو نظر نہیں آتا اور جو دشمن ہم کو دیکھ رہا ہو مگر ہم کو نظر نہ آ رہا ہو اس سے اللہ ہی محفوظ رکھے تو حفاظت ہوسکتی ہے۔ ذوالنون نے فرمایا اگر شیطان تم کو دیکھتا ہے اور تم کو نظر نہیں آتا تو تم اس ذات سے مدد کی درخواست کرو جو شیطان کو دیکھ رہی ہے اور شیطان اس کو نہیں دیکھ سکتا۔
انا جعلنا الشیطین اولیآء للذین لا یومنون ہم شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنائے رکھتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے رفیق بنانے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ باطل کی پیروی اور حق سے نفرت دونوں فریق میں مشترکاً قائم رکھی جاتی ہے یا شیطانوں کو بےایمانوں پر مسلط کردیا جاتا ہے اور قدرت دے دی جاتی ہے کہ وہ ان کو فریب دیتے رہیں اور اس فریب کاری پر ان کو آمادہ رکھیں۔
Ayah 7:28واذا فعلوا فاحشۃ قالوا وجدنا علیہا آباء نا واللہ امرنا بہا اور وہ لوگ جب کوئی بےحیائی کا کام (شرک یا برہنہ طواف وغیرہ) کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی پر پایا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ فاحشۃ حد سے زیادہ بری بات۔ اس سے مراد ہے شرک ‘ لیکن حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کے نزدیک برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرنا مراد ہے۔ بظاہر لفظ فاحشہ کے اندر ہر کبیرہ گناہ داخل ہے۔ یعنی جب وہ حد سے زیادہ کوئی بری حرکت کرتے ہیں اور ان کو منع کیا جاتا ہے تو اس کے جواز کی دو دلیلیں بیان کرتے ہیں کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو یونہی کرتے پایا (لہٰذا یہ عمل صحیح ہے) اور اللہ نے بھی ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔ پہلی دلیل کی تردید اس جگہ نہیں کی ‘ کیونکہ اس کی بےہودگی ظاہر ہی تھی پھر دوسری جگہ آیت میں اس کی تردید (بلیغ اسلوب کے ساتھ) آچکی ہے۔ فرمایا اولو کان اباء ہم لا یعلمون شیئا ولا یہتدون دوسری دلیل کی تردید مندرجۂ ذیل آیت میں فرمائی۔
قل ان اللہ لا یامر بالفحشآء اتقولون علی اللہ ما لاتعلمون آپ کہہ دیجئے کہ اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا کیا خدا کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کی سند کا تم کو علم نہیں۔
کیونکہ بری بات کا حکم دینا بھی برا ہے اس آیت میں ثبوت ہے اس امر کا کہ اشیاء کی اچھائی برائی اگرچہ خدا کی پیدا کردہ ہے لیکن عقل سے اس کو سمجھا جاتا ہے۔ قبیح سے مراد اس جگہ وہ امر شنیع ہے جس سے طبع سلیم نفرت کرتی ہے اور دانش صحیح جس کو برا سمجھتی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ میں دونوں جملے دو مرتب سوالوں کے جواب ہیں گویا کلام یوں تھا سوال تم نے اس امر قبیح کا ارتکاب کیوں کیا۔ جواب ہم نے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا۔ سوال۔ تمہارے باپ دادا کو کہاں سے حکم ملا۔ جواب ان کو اللہ نے اس کا حکم دیا تھا (اور ان کی وساطت سے اللہ کا وہ حکم ہم تک پہنچا پس اللہ ہی نے ہم کو اس کا حکم دیا بہرحال آیت سے اسلاف کا بےدلیل اندھا دھند اتباع ممنوع قرار پاتا ہے لیکن ہر تقلید آباء کی حرمت ثابت نہیں ہوتی (اگر آباء کا قول از روئے شریعت حق ہو تو اس پر چلنا اور اس کی تقلید کرنا تو ضروری ہے)
اتقولُون علی اللّٰہ یعنی کیا تم اللہ پر بغیر یقین آفریں دلیل کے بہتان بندی کرتے ہو۔ یہ استفہام انکاری ہے مگر انکار حکم نہی میں ہے یعنی اللہ پر افترا بندی نہ کرو۔
Ayah 7:29قل امر ربی بالقسط واقیموا وجوہکم عند کل مسجد وادعوہ مخلصین لہ الدین : آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ (بھی کہہ دیجئے) کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت (یا اطاعت) کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھا کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا القسط سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ ضحاک نے کہا توحید مراد ہے۔ مجاہد اور سدی کے نزدیک عدل مراد ہے۔ لغت میں قسط کا معنی ہے امر متوسط جس کا جھکاؤ طرفین میں سے کسی ایک کی جانب زیادہ نہ ہو۔ افراط وتفریط کے درمیان امر کا نام قسط ہے۔
اقیموا مفعول ہے فعل محذوف ہے یعنی اللہ نے فرمایا ہے کہ اقامت وجوہ کرو یا قل کا مفعول ہے یعنی آپ یہ جملہ کہہ دیں۔ اقیموا وجوہکم یعنی خالص اللہ کے لئے سجدہ کرو۔ عند کل مسجد یعنی ہر نماز اور سجدہ کے وقت یا ہر مقام سجود میں (اوّل مطلب پر لفظ مسجد ظرف زمان اور دوسرے مطلب پر ظرف مکان ہوگا) مجاہد اور سدی نے آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا جہاں بھی ہو نماز کے اندر اپنا منہ کعبہ کی طرف رکھو۔ ضحاک نے کہا اگر تم کسی مسجد کے پاس ہو اور نماز تیار ہو تو مسجد میں جا کر نماز پڑھ لو یہ نہ کہو کہ میں اپنی مسجد میں جا کر پڑھوں گا امام ابوحنیفہ (رح) : کا یہی مسلک ہے لیکن اتنی تفصیل ہے کہ اگر کوئی کسی دوسری مسجد کا امام ہو یا ایسا شخص ہو کہ اس کی غیر حاضری سے دوسری مسجد کی جماعت کے نظام میں خلل پڑجائے تو ایسے شخص کے لئے مسجد سے اذان کے بعد بھی چلا جانا درست ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا اللہ کی عبادت کی طرف سیدھے متوجہ ہوجاؤ کسی دوسرے کی طرف رخ نہ موڑو۔ وادعوہ یعنی اس کی عبادت کرو۔ مخلصین لہ الدین اطاعت اور عبادت کو ہر شرک و ریاء اور شہرت طلبی سے پاک صاف رکھ کر۔
کما بداکم تعودون جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا اسی طرح تم دوبارہ لوٹو گے۔
یعنی جس طرح اس نے پہلے تم کو مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا اسی طرح مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اللہ تمہارے اعمال کے موافق بدلہ دے گا تخلیق ثانی کو تخلیقِ اوّل سے تشبیہ دینے کی غرض یہ ہے کہ تخلیق ثانی ممکن ہے اور تخلیق اوّل کی طرح اللہ تخلیق دوئم پر قادر ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ جس طرح اوّل بار تم کو برہنہ پا برہنہ بدن غیر مختون پیدا کیا تھا اسی طرح تم اس کے پاس لوٹو گے۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن برہنہ پا برہنہ بدن اٹھائے جاؤ گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! مرد بھی اور عورتیں بھی فرمایا عائشہ ؓ ! اس روز معاملہ اس سے بہت سخت ہوگا (یعنی کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کی فرصت ہی نہ ہوگی) صحیحین۔
بخاری اور مسلم نے صحیحین میں اور ترمذی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو ! تم برہنہ یا پیدل برہنہ بدن غیر مختون اللہ کے پاس لے جاؤے پھر حضور ﷺ نے تلاوت فرمائی کما بدانا اوّل خلق نعیدہسب سے پہلے ابراہیم ( علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ اس مبحث کی صحیح احادیث بکثرت آئی ہیں۔ لیکن ابو داؤد ‘ ابن حبان ‘ بیہقی اور حاکم نے نقل کیا اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ انتقال کے قریب تھے کپڑے طلب کئے اور پہن کر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا سے کہ میت کو انہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن کو پہنے ہوئے اس کا انتقال ہوا ہوگا۔ ابن ابی الدنیا نے حسن سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت معاذ ؓ بن جبل نے نئے کپڑوں کا اپنی ماں کو کفن دلوایا اور فرمایا اپنے مردوں کو کفن اچھے دیا کرو قیامت کے دن انہی کپڑوں میں ان کو اٹھایا جائے گا۔ سعید بن منصور نے سنن میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اپنے مردوں کو کفن اچھے دیا کرو قیامت کے دن انہی میں ان کو اٹھایا جائے گا یہ تینوں احادیث قوت میں ان احادیث کی طرح نہیں ہیں جن میں برہنہ اٹھائے جانے کی صراحت آئی ہے۔ اکثر علماء نے موخر الذکر احادیث کا مصداق شہیدوں کو قرار دیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے شہید کے متعلق حدیث سنی تھی مگر (اجتہادی غلطی سے) عام مردوں کے لئے اس کو سمجھ لیا۔ بیہقی نے ان متعارض احادیث کو باہم توفیق دینے کے لئے کہا کہ بعض لوگوں کو برہنہ بدن اٹھایا جائے گا اور بعض کو کپڑوں میں۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ قبروں سے نکلتے وقت لوگ کپڑے پہنے ہوں گے پھر ان کے کپڑے ابتداء حشر کے وقت بدن سے گرجائیں گے اور میدان حشر میں ان کو برہنہ لے جایا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا یہ جو حدیث آئی کہ میت کو اس کے کپڑوں میں اٹھایا جائے گا اس میں (کپڑوں سے) مراد نیک عمل ہیں۔ جیسے (دوسری آیت میں تقویٰ کو لباس قرار دیا ہے اور) فرمایا ہے و لباس التقوٰی ذلک خیر۔
حضرت جابر ؓ نے آیت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جن اعمال پر لوگ مریں گے انہی پر ان کو اٹھایا جائے گا۔ رواہ مسلم فی صحیحہ و ابن ماجۃ والبغوی۔ حضرت جابر ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بندہ کو اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہوگا مؤمن کو ایمان پر اور کافر کو کفر پر۔ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تشریح میں فرمایا اللہ نے پہلی تخلیق میں اولاد آدم کو مؤمن اور کافر بنایا فرمایا (ہو الذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن) پھر قیامت کے دن ان کی بعثت بھی گزشتہ ایمان و کفر کی حالت پر ہوگی۔ ابو العالیہ نے تعودون کی تشریح میں فرمایا لوگ اسی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے جو حالت ان کی اللہ کے علم (ازلی) میں ہوگی۔ سعید بن جبیر نے آیت کا مطلب اس طرح فرمایا جیسا اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے تم ویسے ہی ہوجاؤ گے۔ محمد بن کعب نے کہا جس کی ابتدائی تخلیق اللہ نے بدبختی پر کی ہے وہ مآل کار شقاوت کی طرف چلا جائے گا خواہ اس نے اہل سعادت کے کام کئے ہوں۔ جیسے ابلیس اہل سعادت کے اعمال کیا کرتا تھا پھر شقاوت کی طرف چلا گیا اور جس کی ابتدائی تخلیق سعادت پر ہوگی وہ سعادت کی طرف (مآل میں) چلا جائے گا خواہ اس نے اہل شقاوت کے کام کئے ہوں جیسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلہ پر آنے والے جادوگر اہل شقاوت کے کام کرتے تھے پھر آخر میں سعادت کی طرف آگئے۔ حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور جنتیوں میں ہوتا ہے اور اہل جنت کے کام کرتا ہے مگر دوزخی ہوتا ہے۔ خاتمہ کے اعمال کا اعتبار ہے۔ بخاری و مسلم۔ یہ تشریح آیت کے آخری حصہ کے بھی مناسب ہے فرمایا ہے۔
Ayah 7:30فریقا ہدی وفریقا حق علیہم الضللۃ بعض لوگوں کو تو اللہ نے ہدایت کردی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے یعنی اللہ نے تم سے ایک فریق کو اپنے قدیم علم میں ہدایت یاب کرنے کا ارادہ کرلیا تھا تو اس کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق عطا کردی اور ایک فریق کو گمراہ کردیا جس کے لئے اللہ کے قدیم سابق فیصلہ میں گمراہی طے ہوچکی تھی۔
انہم اتخذوا الشیطین اولیآء من دون اللہ ویحسبون انہم مہتدون ان لوگوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا اللہ کو چھوڑ کر اور خیال ان کا یہ ہے کہ وہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جہالت عذر نہیں ہے اور کافر خواہ قصداً اور عناداً کافر ہو یا بلاقصد دونوں مذمت کے مستحق ہیں۔ مسلم نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ اسلام سے پہلے عورتیں برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرتی تھیں اور دوران طواف میں ایک ہاتھ شرمگاہ پر رکھتی تھیں اور کہتی تھیں آج یہ سب کھل جائے یا کچھ حصہ کھل جائے میں اس کو کسی کے تصرف میں نہیں دے سکتی اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 7:31یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد اور قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الخ بھی نازل ہوئی۔ اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔ باجماع اہل تفسیر زینت سے مراد وہ لباس ہے جس سے ستر عورت ہوجائے۔ مجاہد نے کہا جس سے تیرا ستر عورت ہوجائے خواہ چوغہ ہو۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ اس آیت کی تشریح میں بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ زینت سے مراد کپڑے ہیں اور مسجد سے مسجد ہی مراد ہے اسی لئے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ طواف یا نماز کے لئے ہر مسجد میں لباس لے لو اسی بنیاد پر ابن الہمام نے کہا ہے کہ آیت کا نزول برہنہ طواف کرنے کی حرمت کے لئے ہوا اعتبار اگرچہ الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے خصوصیت سبب مدار حکم نہیں ہوتی لیکن سبب میں سب سے پہلے براہ راست حکم کا متحقق ہونا ضروری ہے (اگرچہ حکم کا حصر اس سبب میں ہی نہیں) کیونکہ سب سے پہلے اسی سبب میں حکم کا تحقق مقصود ہوتا ہے اور پھر بالواسطہ (الفاظ کے عموم کے پیش نظر) دوسری صورتوں کے لئے بھی وہ حکم عام ہوجاتا ہے اور ہمارے نزدیک طواف کرنے میں ستر عورت ہونا واجب ہے مگر طواف کی شرط نہیں ہے اگر برہنہ طواف کرے گا تو طواف واجب کی ادائیگی ہوجائے گی مگر گناہگار ہوگا اسی طرح فرض نماز کی ادائیگی بھی برہنہ بدن نماز پڑھنے سے ہوجائے گی کیونکہ نماز کی حالت میں ستر عورت ہونا واجب ہے مگر شرط نہیں ہے ہاں گناہگار ضرور ہوگا (پس آیت سے تو استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ تنہائی میں بھی برہنہ بدن طواف یا نماز کا فرض ادا نہ ہوگا) البتہ اجماع علماء ہے کہ نماز میں ستر عورت ہونا فرض ہے (بغیر ستر عورت کے نماز نہیں ہوتی خلوت میں ہو یا جلوت میں) بعض علماء مالکیہ (جیسے قاضی اسماعیل) کا قول اس کے خلاف بھی آیا ہے مگر اجماع کے خلاف منفرد قول ناقابل اعتبار ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی مرفوع روایت بھی ہے کہ اللہ بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں فرماتا۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والحاکم و ابن خزیمۃ۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ مسجد مصدر میمی ہے سجدہ کرنا اور اس سے مراد نماز ہے۔ جزء بول کر کل مراد لے لیا جاتا ہے۔ جیسے آیت (وارکعوا مع الراکعین) میں رکوع سے مراد نماز ہے اسی طرح آیت (فاقروا ما تیسر من القران) میں قرآن سے مراد بھی نماز ہے (رکوع اور قرأت نماز کے اجزاء ہیں) اس مطلب پر آیت کی عبارت دلالت کر رہی ہے کہ صرف نماز میں ستر عورت واجب ہے (یعنی طواف سے آیت کا کوئی تعلق نہ ہوگا) ۔
عرب دور جاہلیت میں برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن کپڑوں کو پہن کر ہم نے اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں ان کو پہن کر طواف نہیں کریں گے عورتیں بھی برہنہ طواف کرتی تھیں یہ کل واقعات آیت (یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم۔۔ مابطن) تک کے نزول کا سبب تھا۔ بلکہ حضرت آدم کا قصہ بھی اسی کی تمید کے طور پر ذکر کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ سب سے پہلا دکھ جو شیطان کی طرف سے انسان کو پہنچ وہ پوشیدنی اعضاء کی برہنگی کی شکل میں نمودار ہوا۔ تمام آیات بتارہی ہیں کہ پوشیدنی اعضاء کو چھپانے کے لئے لباس کی تخلیق اللہ کی عظیم الشان نعمت ہے اور یہی تقویٰ ہے بےپردگی اور پوشیدنی اعضاء کی برہنگی عظیم الشر فتنہ اور شیطانی اغواء ہے جس کا شکار ابلیس نے پہلے تمہارے باپ آدم ( علیہ السلام) کو کیا اور اب تم کو کر رہا ہے یہ پکی بےحیائی ہے جس کا ارتکاب باپ دادا کی پیروی میں عرب کرتے تھے اور اللہ پر بہتان باندھتے تھے کہ خدا نے ان کو اس کا حکم دیا ہے اللہ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں دیا کرتا اس نے تو ایک فریق کو ہدایب یاب کردیا اور ایک فریق پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا یہ تمام آیات بتارہی ہیں کہ پوشیدنی اعضاء کی پردہ کشائی بےحیائی ہے مطلقاً حرام ہے شریف طبیعتیں اس کو برا اور قابل عیب جانتی ہیں اور دانش و دین اس کو قبیح سمجھتے ہیں اس بےحیائی کا ارتکاب طواف اور دوسری عبادات میں تو اور بھی برا ہے اس کی حرمت تو بدرجۂ اولیٰ ہے اور عرب جو دعویٰ کرتے تھے کہ طواف کے وقت کپڑے پہنے رہنا درست نہیں اور حج میں گوشت اور چکنائی کھانا حرام ہے یہ دعویٰ بالکل غلط ہے اللہ نے اس کی تردید میں فرما دیا ہے (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ ۔۔ ) اور فرمایا ہے (اِنَّمَا حَرَّمَ رَبَّی الْفَوَاحِشَ ۔۔ ) تمام بےحیائی کی باتیں اللہ نے حرام کردی ہیں۔ کشف عورت بھی بےحیائی ہے اللہ نے اس کو بھی حرام کردیا لیکن باوجود کشف عورت کی حرمت اور ستر عورت کے وجوب کے یہ بات کسی آیت میں نہیں آئی کہ پوشیدنی اعضاء کو چھپائے رکھنا (صحت) طواف کی شرط ہے (کہ اس کے بغیر طواف ادا نہ ہو) اسی لئے امام اعظم نے فرمایا کہ اگر کوئی برہنہ طواف کرے گا تو گنہگار ضرور ہوگا مگر فرض طواف ادا ہوجائے گا۔ ہاں اکثر ائمہ فرض طواف کی ادائیگی کے بھی قائل نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے کہ حج وداع سے ایک سال پہلے جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ : کو امیر حج بنا کر بھیجا تو آپ نے مجھے ایک جماعت کے ساتھ مقرر فرما کر حکم دیا کہ قربانی کے دن سب لوگوں میں اعلان کر دوں اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ طواف کرے گا۔ متفق علیہ۔ امام اعظم کے خلاف ائمہ کی عقلی دلیل یہ ہے کہ برہنہ طواف کرنے کی شرعاً ممانعت ہے لہٰذا ایسی حالت میں طواف کرنے سے فرض ادا نہ ہوگا جیسے قربانی کے دن روزہ رکھنے سے فرض روزہ کی قضا نہیں ہوتی یا طلوع و غروب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے قضاء فوائت نہیں ہوتی۔
رہی آیت (خذوا زینتکم عند کل مسجدٍ ) تو اس کا تقاضا صرف اتنا ہے کہ نماز میں ستر عورت شرط ہے ستر عورت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ عام ستر عورت کا فرض ہونا اور کشف عورت کا حرام ہونا دوسری آیت سے ثابت ہے اس آیت کا کوئی تعلق طواف سے نہیں ہے البتہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد گرامی آیا ہے کہ کعبہ کا طواف کرنا بھی نماز ہے مگر اس میں بات کرنا اللہ نے مباح فرما دیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے یہ حدیث ترمذی ‘ حاکم ‘ دارقطنی ‘ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے بیان کی ہے اور ابن خزیمہ و ابن حبان نے اس کو صحیح بھی کہا ہے اس حدیث کو اگر آیت سے ملا دیا جائے تو آیت کا تعلق طواف سے بھی ہوجائے گا اگر یہ مان لیا جائے کہ منجملہ دوسری آیات کے اس آیت کا نزول بھی عام کشف عورت کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ہوا اور کعبہ کا برہنہ طواف کرنے کی روایات کو اس آیت کا سبب نزول بھی قرار دیا جائے تب بھی یہ نہیں ثابت ہوتا کہ اس آیت کا نزول بھی طواف ہی کے سلسلہ میں ہوا اگر کسی واقعہ کے متعلق یا کسی سوال کے جواب میں کوئی حکم نازل ہو تو اس واقعہ کا فیصلہ اور اس سوال کا جواب ضرور اس حکم سے معلوم ہوجائے گا لیکن مورد نزول سے آگے بڑھ کر کوئی اور حکم معلوم نہ ہو سکے ایسا کہنا درست نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ برہنہ طواف نہ کرنے کا حکم اس آیت کے علاوہ دوسری آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے اس لئے ابن ہمام کا وارد کیا ہوا اشکال درست نہیں۔
مسئلہ رحمۃ الامۃ میں ذکر کیا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک ستر عورت نماز کی شرط ہے امام مالک (رح) کے شاگردوں میں (امام مالک کے مسلک کے متعلق) روایت کا اختلاف ہے بعض کا قول تو جمہور کے موافق ہے کہ اگر ستر عورت پر قدرت ہو اور اس کے باوجود پوشیدنی اعضاء کو برہنہ چھوڑ کر نماز پڑھے گا تو نماز صحیح نہ ہوگی گویا ستر عورت صحت نماز کی شرط ہے بعض کا قول ہے کہ ستر عورت اگرچہ بجائے خود واجب ہے لیکن صحت نماز کی ضروری شرط نہیں ہے لہٰذا ستر عورت کی قدرت رکھتے ہوئے اگر کوئی برہنہ نماز پڑھے گا تو نماز فرض کی ادائیگی ہوجائے مگر ستر عورت نہ کرنے کا گناہ اس پر ہوگا۔ متاخرین مالکیہ کے نزدیک بغیر ستر کے کسی حال میں نماز صحیح نہیں۔ ابن ہمام نے اسی قول پر اجماع سلف نقل کیا ہے پچھلے زمانہ میں اگر آراء کا اختلاف ہوجائے تو اس سے اجماع سلف نہیں ٹوٹ سکتا۔
فصل آیت سے اتنا تو معلوم ہوگیا ہے کہ نماز میں ستر عورت واجب ہے لیکن عورت (یعنی پوشیدنی اعضاء کون سے ہیں اور کن اعضاء کے کتنے حصہ کو چھپانا واجب ہے اس معاملہ میں آیت مجمل ہے احادیث میں اس کا بیان آیا ہے۔
بیان حسب ذیل ہے
مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک مرد کے لئے ناف سے زانو تک چھپا رکھنا واجب ہے۔ امام احمد (رح) و امام مالک (رح) کے دو مختلف قول مروی ہیں ایک قول امام ابوحنیفہ کے موافق ہے اور دوسرے قول میں ہے کہ صرف عضوء مخصوص اگلا اور پچھلا چھپا رکھنا واجب ہے اس قول کے استدلال میں حضرت انس ؓ کی روایت کردہ حدیث پیش کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا۔ الی آخر الحدیث۔ اس حدیث میں آیا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا حضور ﷺ کی ران کی سفیدی اب بھی میری نظروں کے سامنے پھر رہی ہے۔ رواہ البخاری۔ مسلم اور احمد کی روایت میں ہے پھر تہبند ہٹ گئی۔ حضرت عائشہ ؓ : کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : گھر کے اندر دونوں رانیں یا دونوں پنڈلیاں کھولے لیٹے ہوئے تھے اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ نے داخلہ کی اجازت طلب کی آپ نے اسی حالت میں (لیٹے لیٹے) اجازت دے دی پھر عمر ؓ داخل ہونے کے خواستگار ہوئے آپ ﷺ نے اسی حالت میں ان کو بھی اجازت دے دی کچھ دیر کے بعد عثمان طالب اجازت ہوئے تو آپ کپڑوں کو ٹھیک کر کے بیٹھ گئے۔ رواہ مسلم۔ اس حدیث میں چونکہ رانیں یا پنڈلیاں کوئی ایک لفظ وثوق کے ساتھ نہیں آیا ہے اس لئے ناقابل استدلال ہے مگر امام احمد نے چونکہ صرف رانیں کھولے لیٹنے کا ذکر کیا ہے اور حضرت حفصہ ؓ : کی روایت سے امام احمد نے جو حدیث ذکر کی ہے اس میں بھی صرف رانوں کا لفظ آیا ہے اس لئے حدیث قابل حجت ہے۔
طحاوی اور بیہقی نے ام المؤمنین حفصہ ؓ بنت عمر ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز میرے ہاں دونوں رانوں سے کپڑا ہٹائے (لیٹے) ہوئے تھے اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ : آگئے۔ الخ
حضرت ابو موسیٰ ؓ کی روایت ہے کہ ایک جگہ جہاں پانی موجود تھا رسول اللہ ﷺ اپنے یا اپنا زانو کھولے بیٹھے ہوئے تھے جب حضرت عثمان آئے تو حضور ﷺ نے زانو ڈھانک لیا۔ رواہ البخاری۔
جمہور کے قول کی دلیل حضرت علی ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے ران ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ مردہ کی ران نہ دیکھو۔ رواہ ابو داؤد و ابن ماجۃ و الحاکم والبزار۔ بعض علماء نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس کی سند اس طرح ہے ابن جریج از حبیب بن ثابت از عاصم بن ضمرہ۔ حافظ نے لکھا ہے اس سند میں ابن جریج اور حبیب کے درمیان انقطاع ہے۔ ابو حاتم نے العلل میں لکھا ہے کہ ابن جریج اور حبیب کے درمیان واسطہ حسن بن ذکوان ہے اور یہ ضعیف ہے پھر عاصم سے حبیب کا سماع بھی ثابت نہیں یہ دوسری خوبی ہے۔ ابن معین نے کہا حبیب نے عاصم سے خود نہیں سنا دونوں کے درمیان ایک ایسا راوی ہے جو ثقہ نہیں ہے بزار نے کہا دونوں کے درمیان راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کا گزر ایک شخص کی طرف سے ہوا اس شخص کی ران کھلی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ران کو ڈھانپ لو ران بھی پوشیدنی حصہ ہے۔ رواہ الترمذی والحاکم واحمد۔ بعض علماء نے اس کو صحیح قرار دیا ہے لیکن اس کی سند میں ابو یحییٰ قتات راوی ہے جو ضعیف ہے۔
رسول اللہ ﷺ حضرت جرہد ؓ کی طرف سے گزرے جرہد : مسجد میں تھے اور ان کی ران کھلی ہوئی تھی فرمایا جرہد ؓ اپنی ران ڈھانک لو ران بھی پوشیدنی حصہ ہے۔ رواہ احمد۔ اس حدیث کی سند میں ابو زرعہ مجہول راوی ہے۔
حضرت محمد بن حجش ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت معمر ؓ کی طرف سے گزرے معمر حبوہ (1) [ سرینوں کی نوک پر دونوں پاؤں کھڑے کر کے پنڈلیوں کو رانوں سے ملا کر بیٹھنے کی شکل کو حبوہ کہتے ہیں، کمر کے پیچھے سے کسی رومال یا چادر گھما کر لانے اور سامنے کے رخ پر پنڈلیوں پر گھما کرلے جانے سے تکیہ کی طرح پشت کو سہارا لگ جاتا ہے ] بنائے بیٹھے تھے ران کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا معمر اپنی ران ڈھانک لو۔ ران بھی پوشیدنی عضو ہے۔ رواہ احمد والبخاری فی التاریخ والحاکم فی المستدرک ‘ حافظ نے کہا اس حدیث کے تمام راوی سوائے ابوکثیر کے صحیح کے راوی ہیں ابو کثیر کی روایت ایک جماعت نے لی ہے اور اس کے متعلق میں نے کسی کی طرف سے جرح اور تعدیل نہیں پائی۔
حضرت ابو ایوب ؓ کی روایت ہے میں نے سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے زانو سے اوپر عورت ہے اور ناف سے نیچے عورت ہے۔ رواہ الدارقطنی۔ اس کی سند میں عباد بن کثیر اور سعید بن راشد ہیں اور دونوں متروک ہیں۔ عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح کرائے الی آخرہ۔ اس حدیث میں ہے کہ ناف کے نیچے سے زانو تک پوشیدنی حصہ ہے۔ رواہ الدارقطنی۔ اس کی سند میں سوار بن داؤد راوی ہے جس کو عقیلی نے نرم (یعنی ضعیف) قرار دیا ہے مگر ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ان احادیث میں سے کوئی حدیث کشف ران والی حدیث سے نہیں ٹکراتی لیکن چونکہ ان احادیث میں سے ایک دوسری کی مؤید ہے اور امت نے اس کو قبول کیا ہے اس لئے بطور احتیاط ہم نے اس کو لے لیا ہے اسی بنیاد پر بخاری نے کہا ہے کہ انس ؓ والی حدیث کی سند زیادہ قوی ہے اور جرہد والی حدیث میں احتیاط زیادہ ہے اور چونکہ حضرت انس والی حدیث زیادہ قوی ہے بلکہ وہ احادیث بھی زیادہ قوی ہیں جو حدیث انس ؓ کی ہم معنی ہیں اس لئے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا برہنہ آدمی بیٹھ کر نماز پڑھے شرمگاہ پر ہاتھ رکھ لے اور رکوع سجود کیلئے اشارہ کرے یعنی ستر عورت جو نماز کے اندر اور باہر فرض ہے اس کی رعایت امام اعظم نے کی ہے اور قیام رکوع سجود کو اس کی رعایت سے ترک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
مسئلہ امام اعظم (رح) کے نزدیک زانو بھی پوشیدنی اعضاء میں داخل ہے حضرت علی ؓ کی روایت ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے زانو پوشیدنی اعضاء میں سے ہے اس حدیث کی روایت میں عقبہ بن علقمہ راوی ہے جس کو ابو حاتم رازی اور نصر بن منصور نے ضعیف کہا ہے ابو حاتم نے کہا یہ مجہول ہے منکر احادیث نقل کرتا ہے۔ ابن حبان نے کہا یہ ناقابل حجیت ہے۔
امام شافعی (رح) اور امام احمد نے حضرت ابو ایوب اور عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت کردہ احادیث مندرجۂ بالا کی بنا پر زانو کو عورت میں داخل نہیں قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں زانو وہ جوڑ کا مقام ہے جہاں بالائی طرف سے پوشیدنی حصہ کی ہڈی اور نچلی طرف سے پنڈلی کی ہڈی ملتی ہے اس سے اوپر کا حصہ کھلا رکھنا حرام ہے اور نیچے کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہے ہم نے بطور احتیاط حرمت کو حلت پر ترجیح دی ہے۔
مسئلہ آزاد عورت کا پورا جسم پوشیدنی ہے امام اعظم کے نزدیک چہرہ دونوں قدم اور (گٹوں سے نیچے) دونوں ہاتھ پوشیدنی اعضاء میں داخل نہیں ہیں۔ ایک روایت میں امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے دوسری روایت میں ان ائمہ کے نزدیک صرف چہرہ اور قدم مستثنیٰ ہیں دونوں پنجے یعنی گٹوں سے نیچے ہاتھ عورت ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بالغہ کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی۔ یہ بھی فرمایا عورت (سراسر) پوشیدنی ہے۔ رواہ الترمذی من حدیث ابن مسعود ؓ ۔ ابو داؤد نے مرسلاً بیان کیا ہے کہ لڑکی جب بالغ ہوجائے تو اس کے چہرے اور پہنچوں سے دونوں ہاتھوں کے علاوہ دیکھا جانا درست نہیں۔
حضرت ام سلمہ ؓ : کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔ کیا عورت صرف کرتہ اور اوڑھنی پہن کر بغیر تہبند پہنے نماز پڑھ سکتی ہے فرمایا (پڑھ سکتی ہے) اگر کرتہ اتنا لمبا ہو کہ قدموں کی پشت کو ڈھانک رہا ہو۔ رواہ الدارقطنی۔ اس روایت کی سند میں ایک شخص عبدالرحمن بن عبداللہ ہے جس کو یحییٰ نے ضعیف کہا ہے ابو حاتم نے کہا اس کی روایت ناقابل احتجاج ہے ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث کو مرفوع قرار دینے میں غلطی کی ہے کیونکہ امام مالک اور ایک جماعت نے اس کو حضرت ام سلمہ ؓ : کا قول قرار دیا ہے۔
مسئلہ النوازل میں ہے کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کے لئے سبحان اللہ پڑھنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا۔ ابن ہمام نے کہا اگر اسی بنیاد پر کوئی کہے کہ نماز میں عورت اگر جہر کے ساتھ قرأت کرلے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔
مسئلہ امام اعظم کے نزدیک باندی کے پردہ کے اعضاء ‘ مرد کے پردہ کے اعضاء کی طرح ہیں لیکن پیٹ اور پشت بھی پوشیدنی اعضاء میں داخل ہے امام مالک (رح) امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک باندی کے پردہ کے اعضاء بالکل مرد کی طرح ہیں کوئی فرق نہیں (یعنی پیٹ اور پیٹھ پردہ کے اعضاء میں داخل نہیں) بعض اصحاب شافعی (رح) نے کہا سر کلائیوں اور پنڈلیوں کے علاوہ باندی کے باقی اعضاء پردہ کے ہیں۔
بیہقی نے بروایت نافع لکھا ہے کہ صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ایک عورت اوڑھنی پہنے چادر ڈالے نکلی حضرت عمر ؓ نے پوچھا یہ کون ہے جواب دیا گیا آپ ہی کی اولاد میں سے فلاں شخص کی باندی ہے ‘ آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس پیام بھیجا اور فرمایا کیا وجہ کہ تم نے اوڑھنی اور چادر پہنا کر باندی کو بیاہتا آزاد عورتوں جیسا بنا دیا یہاں تک کہ میں اس کو آزاد شوہر والی عورتوں میں سے سمجھنے لگا اور آزاد شوہر والی خیال کر کے قریب تھا کہ میں اس کی گرفت کرتا باندیوں کو آزاد شوہر والی عورتوں جیسا نہ بنایا کرو۔ بیہقی نے لکھا ہے حضرت عمر ؓ کے اس کے متعلق اقوال صحیح (الروایۃ) ہیں۔
مسئلہ امام احمد کے نزدیک فرض نماز میں مونڈھے ڈھانکنا بھی فرض ہے نفل میں مثبت منفی دونوں قول مروی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایک کپڑا پہنے اس طرح نماز نہ پڑھے کہ مونڈھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔ رواہ احمد۔ صحیحین میں بھی ایسی ہی روایت آئی ہے مگر بخاری نے مونڈھوں کی جگہ کندھے کا اور مسلم نے کاندھوں کا لفظ لکھا ہے جمہور کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے (تحریمی نہیں) کرمانی بظاہر ممانعت کا تقاضا تحریم ہے (کیونکہ جب نہی مطلق ہو تو تحریم ہی پر اس کو محمول کیا جاتا ہے) لیکن مونڈھے کھلے رکھنے کے جواز پر اجماع ہوچکا ہے (اس لئے نہی کو تنزیہی کہا جائے گا) حافظ نے کہا کرمانی نے اس کے بعد خود نووی کا بیان نقل کیا ہے کہ امام احمد مونڈھے کھلے رکھنے کو حرام کہتے ہیں کرمانی کو مذکور اوّل بیان کے وقت یہ دوسرا بیان یاد نہیں رہا ورنہ اجماع کا دعویٰ نہ کرتے۔ ابن المنذر نے بھی لکھا ہے کہ محمد بن علی مونڈھے کھلے رکھنے کو ناجائز فرماتے تھے۔ طحاوی نے شرح معانی الاثار میں اس مسئلہ کے متعلق ایک باب مستقل قائم کیا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ : کا قول بروایت طاؤس و نخعی نقل کیا ہے اور بعض لوگوں نے ابن وہب اور ابن جریر کی روایت سے بھی لکھا ہے کہ (مونڈھے (کندھے ‘ 12) کھلے رکھنا ناجائز ہے) شیخ تقی الدین سبکی نے تو امام شافعی کی عبارت اس کے وجوب کے متعلق نقل کی ہے اور اسی قول کو مختار بھی قرار دیا ہے مگر شوافع کی عام کتابوں میں اس کے خلاف منقول ہے (اور ستر منکبین کو واجب نہیں قرار دیا گیا ہے) ۔
مسئلہ اپنے اچھے کپڑے پہن کر نماز پڑھنی مستحب ہے آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آیت میں لباس کی تعبیر لفظ زینت سے فرمائی ہے اور زینت کو پہن کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے لہٰذا واجب مقدار اگرچہ اتنی ہے جس سے ستر عورت ہوجائے لیکن اس سے زیادہ لباس مستحب ہے۔ طحاوی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو دو کپڑے پہن لیا کرے کیونکہ اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے سامنے آنے کے وقت زینت کی جائے (یعنی پورا لباس پہنا جائے) الخ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کا حکم دریافت کیا حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں (یعنی ہر شخص کو تو دو کپڑے اور پورا جوڑا پہننے کی توفیق نہیں پھر ایک کپڑا ہی پہن کر نماز پڑھے گا) پھر مدت کے بعد ایک شخص نے حضرت عمر ؓ سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا جب اللہ نے کشائش عطا فرما دی ہے تو لوگوں نے بھی کشائش سے کام لیا لوگوں نے پورے کپڑے پہن کر نماز پڑھی۔ کسی نے تہبند اور چادر پہن کر ‘ کسی نے تہبند اور قمیص پہن کر کسی نے تہبند اور قبا پہن کر کسی نے پائجامہ اور چادر پہن کر کسی نے پائجامہ اور کرتہ پہن کر کسی نے پائجامہ اور چوغہ پہن کر کسی نے تبان اور قباء ‘ تبان اور قمیص پہن کر اور شاید یہ بھی فرمایا کسی نے تبان اور چادر پہن کر۔
بغوی نے کلبی کا بیان نقل کیا ہے کہ (جاہلیت کے زمانہ میں) حج کی مدت میں بنی عامر صرف اتنا کھاتے تھے کہ زندگی باقی رہ جائے اور چربی چکنائی نہیں کھاتے تھے یہ فعل حج کی عظمت کے پیش نظر کرتے تھے مسلمانوں نے کہا (تعظیم حج کے تو) ہم زیادہ مستحق ہیں ہم بھی ایسا ہی کریں گے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
وکلوا اور کھاؤ یعنی گوشت اور چربی کھاؤ۔
واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین اور پیو اور حد سے مت نکلو حد سے نکلنے والوں کو یقیناً اللہ پسند نہیں کرتا یعنی گوشت اور چربی کھانا اور لباس پہننا اللہ نے حلال کیا ہے اس کو حرام بنا کر حد سے نہ نکلو۔
ابن المنذر نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت : (قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم) کا نزول قریش کے حمیس اور بنی عامر بنی صعصعہ اور کنانہ بن بکر کے مختلف بطون کے متعلق ہوا جو حج کے زمانہ میں گوشت نہیں کھاتے تھے اور گھروں میں (دروازوں سے نہیں داخل ہوتے تھے بلکہ) گھروں کے پیچھے کی طرف سے جاتے تھے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو دل چاہے کھا جو دل چاہے پہن۔ لیکن دو باتوں سے پرہیز رکھ حد سے تجاوز اور اترانا۔
(اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف وعبد بن حمید فی التفسیر) ۔ (2) [ حسن کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ اپنے آخری بیٹے عبداللہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس گوشت رکھا ہوا تھا پوچھا یہگوشت کیسا ہے عبداللہ ؓ نے جواب دیا یہ گوشت ہے جو مجھے پسند ہے فرمایا جس کو تیرا دل چاہے گا (کیا) اس کو کھالے گا آدمی کی یہ بڑی قید ہے کہ جس چیز کو دل چاہے اس کو کھالے۔]
حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت ہے کھاؤ اور پیو اور خیرات کرو اور پہنو۔ بغیر اسراف اور اترانے کے۔ رواہ احمد بسند صحیح و ابن ماجۃ والحاکم۔ (3) [ حضرت عمر بن خطاب ( ؓ نے فرمایا پیٹ بھر کر کھانے پینے سے پرہیز رکھو یہ جسم کا بگاڑ ہے۔ بیماری پیدا کرتا ہے نماز میں سستی کا ذریعہ ہے۔ کھانے پینے میں کمی کا التزام کرو یہ جسمانی تندرستی کا ذریعہ ہے اور اسراف سے دور رکھنے والا ہے۔ اللہ موٹے جسم کو پسند نہیں کرتا۔ آدمی جب تک اپنے دین پر خواہش کو ترجیح نہیں دے گا تباہ نہیں ہوگا۔]
روایت میں آیا ہے کہ ہارون رشید کے پاس ایک عیسائی طبیب حاذق تھا ایک روز اس نے علی بن حسن بن واقد سے کہا تمہاری کتاب میں علم طب کے متعلق کچھ نہیں ہے حالانکہ علم دو ہی ہیں بدن کا علم اور دین کا علم۔ علی نے جواب دیا اللہ نے ساری طب کو آدھی آیت میں جمع کردیا ہے۔ فرمایا ہے (کلوا واشربوا ولا تسرفوا) طبیب بولا تمہارے رسول ﷺ : کا کوئی قول طب کے متعلق نہیں آیا۔ علی ؓ نے کہا ہمارے رسول ﷺ نے بھی ساری طب کو چند الفاظ میں جمع کردیا ہے فرمایا ہے معدہ مرض کا گھر ہے پرہیز ہر علاج کا سر ہے ہر بدن کو وہی چیز دو جس کا تم نے اس کو عادی بنا دیا ہو طبیب بولا تمہاری کتاب اور تمہارے رسول نے تو جالینوس کے لئے طب چھوڑی ہی نہیں۔
Ayah 7:32قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ (اے محمد ﷺ آپ کہئے کہ جو زینت اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اس کو حرام کرنے والا کون۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ نے لباس کا میٹر پیدا کیا۔ روئی پوست ایسی (یعنی نقلی ریشم) زمین سے پیدا کی اون ‘ بھیڑ ‘ بکری کی کھال سے اور ریشم کیڑے سے پیدا کی۔ بندوں کے لئے پیدا کرنے سے مراد ہے۔ بندوں کے فائدے اور آرائش کے لئے پیدا کرنا۔
والطیبت من الرزق اور لذیذ چیزیں کھانے پینے کی پیدا کیں۔
یعنی اللہ جو ان سب کا خالق اور مالک ہے اس نے تو ان چیزوں کو حرام نہیں قرار دیا پھر اور کون ان کو حرام و حلال بنا سکتا ہے پس کیا وجہ ہے کہ کافر مشرک دوران طواف میں کپڑے پہنے رہنا اور ایام حج میں گوشت اور چربی کھانا اور سوائب وغیرہ کو کام میں لانا حرام قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر اللہ نے حرام نہ قرار دیا ہو تو ہر چیز (اصل تخلیق کے لحاظ سے) حلال ہے (اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اصل اشیاء میں حلت ہے)
قل ہی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ آپ کہہ دیجئے کہ یہ چیزیں اس طور پر کہ قیامت کے دن بھی خالص رہیں دنیوی زندگی میں خاص اہل ایمان کے لئے ہیں یعنی یہ لباس آرائش اور پاک لذیذ کھانے پینے کی چیزیں دنیا میں اہل ایمان کے لئے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ ان سے فائدہ اندوز ہوں اور ان کو استعمال کر کے اللہ کی عبادت کے لئے جسمانی طاقت حاصل کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔ براہ راست کافروں کے لئے ان کو نہیں پیدا کیا گیا۔ مسلمانوں کے ساتھ کافروں کو ان نعمتوں میں اللہ نے بطور آزمائش شریک بنا دیا ہے تاکہ ان کو ڈھیل ملتی رہے۔
خالصۃً سے یہ مراد ہے کہ قیامت کے دن یہ نعمتیں ہر کدورت و آلائش (خوف انقطاع) اور غم سے پاک صاف ہوں گی دنیا میں ضرور یہ کدورت آمیز اور غم آگیں ہیں یا خالصۃً کا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن یہ صرف اہل ایمان کو ملیں گی کافر محروم رہیں گے (اگرچہ دنیا میں دونوں مشترک ہیں)
کذلک نفصل الایت لقوم یعلمون ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھداروں کے لئے صاف صاف صاف بیان کرتے ہیں جس طرح ہم نے حرام کو حلال سے جدا کردیا ‘ حلال کو اختیار کرنے کی اور حرام سے بچنے کی ہدایت کردی اسی طرح ہم تفصیل احکام ان لوگوں کے لئے کرتے ہیں جو اللہ کو وحدہٗ لاشریک جانتے ہیں۔
Ayah 7:33قل انما حرم ربی الفواحش ما ظہرمنہا وما بطن والاثم والبغی بغیر الحق وان تشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطنا و ان تقولوا علی اللہ ما لا تعلمون (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ
البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام بےحیائی کی باتوں کو ان میں جو اعلانیہ ہیں ان کو بھی اور جو پوشیدہ ہیں ان کو بھی اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو بھی اور اس بات کو بھی کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بناؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نہیں نازل کی اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمہ کوئی ایسی بات لگا دو جس کی کوئی سند نہ ہو۔
الفواحش یعنی وہ باتیں جن کے اندر برائی بہت زیادہ ہے۔ ظاہر فواحش جیسے مردوں کا برہنہ ہو کر دن میں طواف کرنا۔ پوشیدہ فواحش جیسے عورتوں کا برہنہ ہو کر رات میں طواف کرنا۔ بعض لوگوں نے کہا چھپ کر اور علانیہ زنا کرنا مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے اللہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں اسی لئے اس نے تمام چھپی کھلی بےحیائیوں کو حرام کردیا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی اپنی تعریف کو پسند کرنے والا بھی نہیں ہے اسی لئے خود اس نے اپنی تعریف کی ہے۔
الاثم سے موجب اثم مراد ہے یعنی گناہ اور اللہ کی نافرمانی۔ یہ لفظ عام ہے فواحش بھی اس میں داخل ہیں خاص کے بعد (حکم کی ہمہ گیری ظاہر کرنے کے لئے) عام کا ذکر کردیا جاتا ہے۔ ضحاک نے کہا اثم سے مراد ہے وہ گناہ جس کی کوئی سزا مقرر نہیں حسن نے کہا اثم شراب ہے ایک شاعر کا قول ہے میں نے اثم کو اتنا پیا کہ میری عقل غائب ہوگئی اثم سے عقل جاتی ہی رہتی ہے۔
البغی سے مراد ہے ظلم یا غرور یا عادل بادشاہ کے خلاف بغاوت۔ بغیر الحقکا تعلق البغی سے ہے اس سے مفہوم بغی کی معنوی تاکید ہو رہی ہے۔ ان تشرکوا میں انمصدری ہے شریک قرار دینا۔
سلطانًادلیل۔ اس لفظ سے مشرکوں کا مذاق اڑایا گیا ہے اور اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ بےدلیل بات کا اتباع حرام ہے۔ وان تقولوا علی اللّٰہ یعنی کھیتی یا جانوروں کی (خود ساختہ) حرمت کو اللہ کے ذمہ باندھنا اور برہنہ طواف کو اللہ کا حکم قرار دینا۔ مقاتل نے کہا دین میں بغیر یقین کے کوئی بات کہنے کی اس لفظ نے عمومی تحریم کردی۔
Ayah 7:34ولکل امۃ اجل اور ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے۔ یعنی کافروں کے ہر گروہ پر عذاب نازل ہونے کا اللہ کے علم میں ایک مقررہ وقت اور معین مدت ہے یہ اہل مکہ کو عذاب کی دھمکی ہے۔
فاذا جآء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی تو ذرا سی دیر نہ پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے۔
یعنی قلیل ترین وقت کی بھی ان کو مہلت نہیں دی جائے گی خواہ وہ مہلت کے طالب ہوں اور نہ وقت سے پہلے ان پر عذاب آئے گا خواہ وہ نزول عذاب کے خواستگار ہوں جیسے کافروں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیری جانب سے ہی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دکھ کا عذاب ہم پر نازل کر دے۔ (1) [ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کے نیزہ مارا گیا اور آپ زخمی ہوگئے تو حضرت کعب ؓ نے کہا اگر حضرت عمر ؓ اللہ سے اپنی زندگی کے لئے
دعا کریں تو اللہ (دعا رد نہیں کرے گا اور) آپ کا آیا ہوا وقت ٹال دے گا کعب سے کہا گیا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ (فاذا جاء اجلہم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) آیا ہوا وقت موت کے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ حضرت کعب ؓ نے فرمایا اللہ نے یہ بھی تو فرما دیا ہے (وما یعمر من معمرو ولا ینقص من عمرہ الافی کتاب) جس کو کسی کی عمر زیادہ ہو یا عمر میں کمی کردی جائے سب کا اندراج لوح محفوظ میں ہوتا ہے اللہ جس کو چاہتا ہے پیچھے کردیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) کم کردیتا ہے پھر جب معین وقت آجاتا ہے تو آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ ابوملیکہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ نیزہ سے زخمی ہوگئے تو کعب آکر رونے لگے اور بولے کاش امیر المؤمنین اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے قسم کھالیتے کہ اللہ ان کا آیا ہوا وقت ٹال دے گا تو اللہ ضرور ایسا کردیتا (آپ کی قسم کو اللہ جھوٹا نہ ہونے دیتا) ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے جا کر کہہ دیا کہ کعب ؓ نے ایسی بات کہی ہے امیر المؤمنین نے فرمایا اس صورت میں تو بخدا میں اللہ سے (تاخیر اجل کی) دعا نہیں کروں گا۔]