Ayah 7:155واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا اور موسیٰ نے ہمارے مقرر کردہ وقت (پر کوہ طور کو) جانے کے لئے اپنی قوم میں سے ستر آدمی چنے۔
قومہ یعنی من قومہ اپنی قوم میں سے۔ سبعین رجلا یعنی ان لوگوں میں سے ستّر آدمی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی۔ لمیقاتنا یعنی ہم نے ان کی حاضری کا جو وقت مقرر کیا تھا اس وقت کے لئے۔
روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو لے کر آؤ اور بچھڑے کی پوجا کی معذرت پیش کرو (یعنی قصور معاف ہونے کی دعا کرو) آپ نے ہر سبط میں سے چھ آڈمی چھانٹ لئے اس طرح دو آدمی بڑھ گئے کیونکہ کل اسباط بارہ تھے آپ نے فرمایا دو آدمی کم کرلو اس پر کوئی راضی نہ ہوا آخر آپ نے فرمایا جو آدمی ساتھ نہ جائے گا اس کو بھی ساتھ جانے والے کے برابر ثواب ملے گا اس پر کالب اور یوشع بیٹھ گئے اور باقی کو ساتھ لے کر آپ چل دیئے پہاڑ کے قریب پہنچے تو موسیٰ ( علیہ السلام) اور ساتھیوں کو ایک باریک ابر نے اپنی آغوش میں لے لیا سب لوگ سجدہ میں گرپڑے اور سب نے سنا کہ اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام کیا بعض اوامرو نواہی کی ہدایت کی کچھ دیر کے بعد ابر پھٹ گیا تو ساتھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہنے لگے جب تک کھلم کھلا ہم اللہ کو دیکھ نہ لیں یوں ہم کو آپ کی باتوں کا یقین نہیں آئے گا (معلوم نہیں کس کی آواز تھی) اس گستاخی کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ بعض نے کہا پہاڑ میں زلزلہ آگیا اور سب بےہوش ہوگئے یعنی مرگئے۔ سدی کا یہی قول ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جن ستّر لوگوں پر بجلی گری تھی ان کا واقعہ بعد کا ہے اور جن لوگوں نے بغیر رو در رو خدا کو دیکھے صرف آواز سن کر ماننے سے انکار کردیا تھا ان کا واقعہ پہلے ہوچکا تھا۔ اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ ستّر آدمیوں کو چن کر اپنے ساتھ باہر لاؤ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ستّر افراد چن لئے اور سب کو لے کر بستی سے باہر آکر سب نے مل کر دعا کی من جملہ دعا کے انہوں نے یہ الفاظ بھی کہے تھے کہ اے اللہ ہم کو وہ چیز عطا فرما جو تو نے ہم سے پہلے کسی کو نہ دی ہو نہ ہمارے بعد کسی کو دے یہ (ٹھیکیداری کی) دعا اللہ نے رد کردی اور ان کو بجلی نے آپکڑا۔ وہب نے کہا وہ رجفہ موت نہ تھا (یعنی مرے نہیں) بلکہ منظر دیکھ کر ان پر لرزہ طاری ہوگیا۔ کپکپانے لگے بےچین ہوگئے بند بند ٹوٹنے لگا۔
فلما اخذتہم الرجفۃ قال رب لو شئت اہلکتہم من قبل وایای اتہلکنا بما فعل السفہآء منا ان ہی الا فتنتک تضل بہا من تشاء وتہدی من تشاء انت ولینا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الغفرین : سو جب ان کو زلزلہ (یا بجلی) نے آپکڑا تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے مالک اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان کو ہلاک کردیتا اور مجھ کو بھی کیا تو ہم میں سے (ان) بیوقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دے گا۔ یہ واقعہ تو تیری طرف سے محض ایک امتحان ہے (یعنی ہلاک کرنے کے لئے تو نے ایسا نہیں کیا) ایسے امتحانات سے تو جس کو چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے تو ہمارا کارساز ہے ہم کو معاف فرما دے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ معاف کرنے والا ہے
Ayah 7:156واکتب لنا فی ہذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ہدنا الیک : اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہمارا رجوع تیری ہی طرف ہے۔
فلما اخذتہم الرجفۃ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الرجفۃ یعنی سخت زلزلہ۔ چونکہ گوسالہ پرستوں سے وہ لوگ گوسالہ پرستی کے وقت الگ اور کنارہ کش نہیں ہوئے اس لئے سخت بھونچال میں گرفتار ہوگئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ان کی حالت دیکھ کر رحم آیا اور اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مر نہ جائیں اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے نکل نہ جائیں یہ لوگ تمام نیک کاموں میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مددگار تھے اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) رونے لگے اور عرض کیا رب لو شئتاے مالک اس منظر کو دیکھنے سے پہلے ہی اگر تو چاہتا تو ان سب کو اور مجھے مار ڈالتا۔ یعنی فرعون کے ہاتھوں سے ان کو مروا دیتا یا دریا میں غرق کردیتا یا کسی اور طرح سے مار ڈالتا مگر تو نے رحم کیا ان کو بچا لیا۔ فرعون سے بھی اور دریا سے بھی ہر مصیبت سے رہائی دی اب اگر ایک بار اور تو ان پر رحم فرمائے تو تیری عمومی رحمت سے بعید نہیں۔ بعض علماء نے کہا لو شئت کا یہ مطلب ہے کہ اگر تو چاہتا تو یہاں آنے سے پہلے ہی قوم کے سامنے ان کو ہلاک کردیتا سب لوگ دیکھ لیتے اور مجھ پر تہمت تراشی نہ کر پاتے۔
بما فعل السفہاء مناان بیوقوفوں نے جو طلب دیدار کی جرأت کی یا بچھڑے کی پوجا کی ان کی اس حرکت سے تو کیا سب کو ہلاک کر دے گا۔ مبرد نے کہا کلام استفہامی ہے مگر استفہام کی غرض طلب رحم ہے کیونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) واقف تھے کہ اللہ بڑا منصف ہے بعض کے جرم سے سب کو ہلاک نہیں کرتا (اور جس چیز سے واقف تھے اس کو دریافت کرنے کا کوئی معنی نہیں اس لئے استفہام سے مراد ہے مہربانی کی طلب) یعنی ہلاک نہ کر۔ اِنْ ہی نہیں ہے یعنی رویت کی طلب یا گوسالہ پرستی۔ الافتنتک مگر تیری طرف سے امتحان کہ ان کو کلام سنایا جس سے ان کو تیرے دیدار کا لالچ ہوا یا تو نے ایک بچھڑا چیختا ڈکارتا بنوا دیا جس سے یہ کجراہ ہوگئے اور پھر تو نے ان کو یونہی بےمدد چھوڑ دیا۔
اِلاَّ فتنتک کے لفظ میں اللہ کے قول اِنَّا فَتَنَّاقَوْمَکَ مِنْ بَعْدِکَ کی طرف اشارہ ہے گویا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا یہ تیرا وہی امتحان ہے جس کی تو نے مجھے اطلاع پہلے ہی دی تھی کہ کچھ لوگوں کو تو نے گمراہی میں ڈال دیا اور وہ فتنہ میں پڑگئے اور کچھ کو ہدایت پر قائم رکھا اور محفوظ رکھا کہ وہ دین پر جمے رہے۔ تضل من تشائتو جس کو گمراہی میں ڈالنا چاہتا ہے اس کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے کہ اس کی مدد نہیں کرتا بےمدد چھوڑ دیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حد سے آگے بڑھ جاتا ہے وتہدی من تشائ اور جس کی ہدایت چاہتا ہے اس کو ہدایت پر کردیتا ہے (اور اس کی مدد کرتا ہے) جس کی وجہ سے اس کا ایمان مضبوط ہوجاتا ہے انت ولینا تو ہمارا مددگار اور محافظ ہے۔ وانت خیر الغفرین یعنی برائی کو معاف کردیتا ہے اور اس کی جگہ بھلائی عطا کرتا ہے واکتب لنا اور ہمارے لئے لکھ دے یعنی واجب کر دے۔
حسنۃ نیک حالی یعنی طاعت کی توفیق اور نعمت اور عافیت وفی الاخرۃ اور آخرت میں بھی نیک حالی یعنی مغفرت اور رحمت اور جنت انا ہدناہم نے تیری طرف رجوع کیا توبہ کی یہ لفظ ہاد یہود سے (جمع متکلم ماضی کا صیغہ) ہے۔ قتادہ اور ابن جریح کا قول ہے اور محمد بن کعب نے بھی یہی کہا ہے کہ ان لوگوں کا قصور اتنا تھا کہ گوسالہ پرستی کے وقت یہ لوگ گوسالہ پرستوں سے کنارہ کش نہ ہوئے تھے (انہی کی معاشرت میں گھلے ملے رہتے تھے) نہ بھلائی کا حکم دیا نہ برائی سے روکا تھا اسی جرم کی وجہ سے عذاب رجفہ میں پکڑے گئے۔
قال عذابی اصیب بہ من اشآء ورحمتی وسعت کل شی فساکتبہا للذین یتقون ویوتون الزکوۃ والذین ہم بایتنا یومنون۔ اللہ نے فرمایا میں اپنا عذاب تو اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے تو وہ میں ان لوگوں کے لئے تو ضرور ہی لکھوں گا جو (اللہ کی نافرمانی سے) ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔
قال یعنی موسیٰ کی دعا ‘ کے جواب میں اللہ نے فرمایا ( وَسِعَتْ کل شء) یعنی میری رحمت ہر شے کے لئے عام ہے (کوئی میری رحمت سے محروم نہیں) دنیا میں کوئی ہو مؤمن ہو کافر ہو مکلف ہو غیر مکلف ہو البتہ آخرت میں کافروں پر رحمت نہ ہوگی کیونکہ دوسروں کی پوجا کر کے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے سے خود انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا عرض کیا گیا۔ انکار کس نے کیا (امت میں منکر کون ہوسکتا ہے) فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ رواہ البخاری۔
عطیہ عوفی نے آیت کی تشریح میں فرمایا اللہ کی رحمت سموئے ہوئے تو ہر چیز کو ہے لیکن رحمت کا وجوب صرف متقیوں کے لئے ہے اللہ کی رحمت اہل ایمان کے لئے وسیع ہے ان کی وجہ سے کافروں کو بھی رزق ملتا ہے اور بلائیں دفع ہوتی ہیں اور یہ بھی اللہ کی رحمت سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں پھر جب مؤمن آخرت کو سدھاریں گے تو رحمت خداوندی خصوصیت کے ساتھ انہی پر ہوگی (کافر بلا رحمت رہ جائیں گے) جیسے دوسرے کے چراغ کی روشنی سے کوئی شخص فائدہ اندوز ہوتا ہے اور جب چراغ والا اپنا چراغ لے جائے تو یہ نور چیں محروم رہ جائے۔
فساکتبہا یعنی اے بنی اسرائیل میں آخرت میں تم لوگوں میں سے انہی کے لئے اپنی رحمت واجب کروں گا لِلَّذِیْنَ یتقونجو کفر و معصیت سے بچتے ہیں۔ ویؤتون الزکوۃ (یتقون میں اداء ‘ زکوٰۃ بھی داخل تھی مگر) زکوٰۃ کا ذکر خصوصیت سے اس لئے کیا کہ نفس پر ادائے زکوٰۃ بہت شاق ہوتی ہے ہے (دل پر بڑا پتھر رکھ کر اپنا مال بلا احسان دوسرے کو کو دینا ہوتا ہے) بٰایٰتنا یعنی میری تمام کتابوں پر یؤمنون ایمان رکھتے ہیں کسی کا بھی انکار نہیں کرتے۔
چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ حضرت موسیٰ کی شریعت کو ایک وقت پر منسوخ کیا جائے گا اس لئے آئندہ آیت میں اس پر تنبیہ فرمائی اور بنی اسرائیل کو رسول امی خاتم الانبیاء ﷺ کی اتباع پر برانگیختہ کیا۔
Ayah 7:157الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورۃ والانجیل یامرہم بالمعروف وینہہم عن المنکر ویحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبآئث .
جو لوگ اتباع کرتے ہیں اس رسول نبی امی کا جس (کے صفات و احوال) کو وہ اپنے پاس انجیل و توریت میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں کی ممانعت کرتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتاتا ہے اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام قرار دیتا ہے۔ الذین یتبعون مبتداء ہے یَاْمرہمخبر ہے یا مبتدا محذوف ہے اور الذینخبر ہے یعنی وہ وہی لوگ ہیں جو اتباع کرتے ہیں۔ الرسول النبی یعنی اللہ کا پیغمبر اور بندوں کے لحاظ سے نبی الامی مراد رسول اللہ ﷺ ۔ امی ام (ماں) کی طرف منسوب ہے یعنی اسی حالت پر ہے جس حالت پر پیدائش کے وقت تھا مطلب یہ کہ نہ لکھا ہے نہ پڑھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم امی گروہ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب داں ہیں۔ رواہ البخاری و مسلم عن ابن عمر۔ امی کا وصف ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ باوجودیکہ محمد ﷺ لکھے پڑھے نہیں اس حالت میں ان کا علمی کمال اعلیٰ ترین معجزہ ہے۔ بعض علماء نے کہا امی امت کی طرف منسوب ہے آپ کی امت کثیر ہونے والی تھی اس لئے آپ کو امی فرمایا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے تابع تمام انبیاء سے زائد ہوں گے میں ہی سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ رواہ مسلم۔
امی اصل میں امتی تھا نسبت کی وجہ سے تاء کو حذف کردیا جیسے مکی اور مدنی میں تاء کو حذف کردیا گیا ہے (مکی مکتی تھی اور مدنی مدینتی) بعض کے نزدیک امی ام القری کی طرف منسوب ہے یعنی مکہ کے رہنے والے اس آیت کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل حکم آیت سے خارج ہوگئے جنہوں نے رسول اللہ : ﷺ کا دور نبوت پایا اور ایمان نہ لائے مگر وہ بنی اسرائیل حکم میں داخل رہے جنہوں نے حضور : ﷺ کا عہد رسالت پایا ہی نہیں اور آپ کی نبوت سے پہلے ہی گزر گئے کیونکہ آیت میں صاف صراحت ہے کہ (ما تفرق الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاء تہم البینہ) ۔
ابن حبان نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر نبی کے لئے نور کا ایک ممبر ہوگا اور میں سب سے اونچے اور سب سے زیادہ نور والے ممبر پر متمکن ہوں گا کہ ایک منادی ندا دے گا نبی ﷺ امی کہاں ہے۔ انبیاء کہیں گے ہم میں سے ہر ایک نبی امی ہے (یعنی امت والا ہے) پھر کس کے پاس پیام آیا ہے منادی دوبارہ لوٹ کر آئے گا اور کہے گا نبی ﷺ امی عربی کہاں ہے اس پر محمد ﷺ (ممبر سے) اتر کر آئے گا اور جنت کے دروازہ پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹائے گا دریافت کیا جائے گا کون ہے جواب ملے گا محمد ﷺ اور احمد ﷺ دریافت کیا جائے گا کیا بلایا گیا تھا جواب ملے گا ہاں دروازہ کھول دیا جائے گا اور رب جلوہ انداز ہوگا اس سے پہلے جلوہ انداز نہ ہوگا۔ تجلی پڑتے ہی محمد ﷺ سجدہ میں گرپڑے گا اور اس طرح سے اللہ کی حمد کرے گا کہ کسی نے نہ کی ہوگی حکم ہوگا سر اٹھا بات کر اور شفاعت کر تیری شفاعت قبول کی جائے گی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امی کا لفظ امت کی طرف منسوب ہے اسی لئے ہر پیغمبر اپنے کو امی کہے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے لفظ امی کی خصوصیت اس لئے ہوگئی کہ آپ کی امت ہر پیغمبر کی امت سے زیادہ ہے (بڑی امت والا)
یجدونہجس کو بنی اسرائیل پاتے ہیں۔ مکتوبًا لکھا ہوا نام بھی اور خصوصی اوصاف بھی۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا رسول اللہ : ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اس کا باپ اس کے سرہانے توریت پڑھ رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ ( علیہ السلام) پر توریت اتاری تھی اور پوچھتا ہوں کیا تجھے توریت میں میرے اوصاف حالات اور مقام خروج (بعثت) کا ذکر ملتا ہے یہودی نے کہا نہیں لیکن اس لڑکے نے کہا کیوں نہیں (ضرور موجود ہے) خدا کی قسم یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے اوصاف خصوصیات اور مقام خروج کا ذکر توریت میں پاتے ہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ ؓ سے) فرمایا اس (یہودی) کو اس کے سرہانے سے اٹھا دو اور اپنے بھائی کی خود کفالت کرو۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ فلاں یہودی کی رسول اللہ ﷺ پر کچھ اشرفیاں قرض تھیں اس نے حضور ﷺ پر تقاضا کیا حضور ﷺ نے فرمایا میرے پاس (اس وقت) کچھ نہیں ہے کہ میں دے سکوں یہودی بولا محمد ﷺ جب تک دے نہ دو گے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو میں تمہارے پاس بیٹھا رہوں گا چناچہ آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور (وہیں) حضور ﷺ نے ظہر ‘ عصر ‘ مغرب ‘ عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں۔ صحابہ کرام ؓ یہودی کو دھمکانے لگے اور کچھ وعدے کرنے لگے صحابہ کی حرکت کو رسول اللہ ﷺ سمجھ گئے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک یہودی آپ کو روکے ہوئے ہے (ہم سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے میرے رب نے حق تلفی کرنے سے منع فرمایا دیا ہے۔ کسی معاہد کی ہو یا غیر معاہد کی۔ جب دن چڑھ گیا تو (اچانک یہودی بولا میں شہادت دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ ﷺ بلاشبہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور میرا آدھا مال اللہ کے لئے (وقف) ہے۔ خدا کی قسم میں نے جو معاملہ آپ کے ساتھ کیا وہ صرف اس وجہ سے کیا کہ میں نے توریت میں دیکھا تھا محمد بن عبداللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی اور طیبہ اس کا مقام ہجرت ہوگی اس کی حکومت شام میں ہوگی وہ بدخو درشت مزاج نہ ہوگا۔ بازاروں میں چیخ و پکارنہ کرے گا فحش کلام اور بےحیائی کی باتیں نہیں کرے گا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں یہ میرا مال موجود ہے آپ جیسا مناسب ہو اس میں تصرف کریں۔ یہ یہودی بڑا مالدار تھا۔ مذکورۂ بالا دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں بیان کی ہیں۔
عطاء بن یسار کا بیان ہے میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے رسول اللہ ﷺ کے وہ اوصاف بتائیے جن کا ذکر توریت میں آیا ہے فرمایا اچھا خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کی جو صفات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں ان کا کچھ حصہ توریت میں بھی ذکر کیا گیا ہے توریت میں آیا ہے۔ اے نبی ہم نے تجھ کو (حق و باطل کی) شہادت دینے والا (نیکوں کو جنت کی) خوشخبری دینے والا (نافرمان کافروں کو دوزخ سے) ڈرانے والا اور امیوں (یعنی عربوں) کا محافظ بنا کر بھیجا ہے تو میرا بندہ ہے میرا رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے جو بدخو درشت مزاج نہ ہوگا بازاروں میں پکارتا غل مچاتا نہ پھرے گا۔ برائی کو برائی سے دفع نہیں کرے گا بلکہ عفو اور مغفرت سے کام لے گا ہم اس کی روح اس وقت تک قبض نہ کریں گے جب تک اس کے ذریعہ سے ٹیڑھی امت کو سیدھا نہ کردیں گے یعنی جب تک لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں گے ہم اس کے ذریعہ سے اندھی آنکھوں کو بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو کھول دیں گے۔ رواہ البخاری۔ دارمی نے حضرت عبداللہ بن سلام کی روایت بھی اسی جیسی نقل کی ہے۔
حضرت کعب احبار نے توریت سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہم (توریت میں) لکھا ہوا پاتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ میرا منتخب بندہ ہوگا۔ درشت خو بدمزاج نہ ہوگا بازاروں میں شوروغل نہیں کرے گا۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دے گا بلکہ معاف کر دے گا اور بخش دے گا۔ اس کی پیدائش مکہ میں ہجرت طیبہ میں اور حکومت شام میں ہوگی اس کی امت بکثرت حمد کرنے والی ہوگی دکھ سکھ ہر حال میں اللہ کی حمد کرے گی ہر فرود گاہ میں حمد کرے گی اور ہر ٹیلہ پر تکبیر کہے گی وہ لوگ سورج (کے طلوع غروب اور چڑھاؤ اتار) کو تکتے رہیں گے۔ جب نماز کا وقت آئے گا تو نمازیں پڑھیں گے وہ وضو میں ہاتھ پاؤں دھوئیں گے۔ ان کا مؤذن خلاء ‘ سماوی میں (یعنی منارہ پر چڑھ کر) اذان دے گا۔ ان کے میدان قتال کی صف بندی اور نماز کی صف بندی ایک ہی طرح کی ہوگی رات میں ان کی (نمازوں کی) گونج ایسی ہوگی جیسی شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔ رواہ البغوی فی معالم التنزیل۔ وذکرہ فی المصابیح۔ دارمی نے بھی یہ حدیث کسی قدر تغیر کے ساتھ نقل کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا توریت میں محمد ﷺ کے اوصاف لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ عیسیٰ بن مریم کو ان کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ رواہ الترمذی۔ ابوداؤد نے کہا حجرہ میں ایک قبر کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔
یامرہم بالمعروف یعنی ان باتوں کا حکم دیتا ہے جو شریعت الٰہیہ میں اچھی بتائی گئی ہیں دینہہم عن المنکر یعنی ان باتوں کی ممانعت کرتا ہے جو شرع ‘ عقل سلیم اور سنجیدہ غیر جذباتی ہوش رکھنے والوں کے نزدیک بری ہیں جیسے شرک۔ محسن کی ناشکری اور نافرمانی۔ قرابت داروں سے رشتہ قرابت کو توڑ لینا۔ ویحل لہم اور بنی اسرائیل کے لئے حلال کرتا ہے۔ الطیباتوہ پاکیزہ چیزیں جو نافرمانی کی سزا میں توریت کے اندر ان کے لئے حرام کردی گئی تھیں جیسے چربی اور اونٹ کا گوشت اور ان چیزوں کو بھی حلال کرتا ہے جو اہل جاہلیت نے خود اپنے لئے حرام قرار دے رکھی تھیں جیسے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ ‘ حام (ان چاروں اقسام کے اونٹوں کی تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے)
ویحرم علیہم الخبائث اور گندی چیزوں کو ان کیلئے حرام کرتا ہے۔ جیسے خون ‘ شراب ‘ خنزیر ‘ مردار ‘ سود ‘ رشوت۔
ویضع عنہم اصرہم والاغلل التی کانت علیہم اور ان پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتا ہے (یعنی اتار پھینکتا ہے)
اصرلغت میں اس بوجھ کو کہتے ہیں جو حرکت کرنے سے روک دے۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ حسن ‘ ضحاک ‘ سدی اور مجاہد کے نزدیک اصر سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے توریت کے کل احکام کی پابندی رکھنے کے لئے لیا گیا تھا۔ قتادہ کے نزدیک وہ دینی تشدد مراد ہے جس کے بنی اسرائیل مکلف تھے۔ والاظل یعنی وزنی بار جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں تھے جیسے توبہ قبول ہونے کے لئے قتل کئے جانے کا ضروری حکم۔ گناہ کرنے والے عضو کو کاٹ ڈالنے کا حکم ‘ کپڑے پر نجاست لگ جائے تو اس کو قینچی سے قطع کردینے کا حکم قتل عمداً ہو یا خطاً بہرحال قصاص کا وجوبی حکم اور خون بہا لینے دینے کی ممانعت ‘ سینچر کے دن کوئی دنیوی کام نہ کرنے کا حکم ‘ گرجا کے علاوہ کہیں اور کسی جگہ نماز کی ادائیگی نہ ہونے کا حکم یہ اور اسی طرح کے دوسرے سخت احکام تھے جو طوق کی طرح یہودیوں کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے۔
فالذین امنوا بہ عزروہ ونصروہ واتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون . سو جو لوگ اس (نبی امی) پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے ایسے ہی لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔
عزروہ اس کی تعظیم کی ‘ یعنی قوت پہنچا کر (اس کی عملی) تعظیم کی۔ ونصروہ اور دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کی۔ النور یعنی قرآن مجید۔ مَعَہٗیعنی اس کی نبوت کے ساتھ جو قرآن بھیجا گیا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ قرآن کو نور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ (نور اس چیز کو کہتے ہیں جو خود بالکل ظاہر ہو اور دوسری چیزوں کو بھی ظاہر کردینے والی ہو) قرآن اپنے معجزہ ہونے کی وجہ سے خود ظاہر الصداقت ہے اور اس کا کلام اللہ ہونا پوشیدہ نہیں ہے اور (افکارو اعمال کو روشن کرنے والے) احکام کو ظاہر کرنے والا بھی ہے یا یوں کہا جائے کہ قرآن حقائق کے چہرہ سے پردہ اٹھا دینے والا ہے اس لئے اس کو نور کہا گیا۔
مَعَہٗکا تعلق اتبعوا سے ہو (انزل سے نہ ہو) اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ نازل شدہ نور یعنی قرآن کا بھی اتباع کرو اور نبی کا بھی اتباع کرو قرآن اور سنت دونوں کی پیروی کرو۔ المفلحون یعنی ابدی فلاح پانے والے اور لازوال دائمی رحمت سے سرفراز ہونے والے۔ المفلحونتک حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی دعا کا جواب تھا۔
نوف بکائی حمیری کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستّر آدمی چھانٹے پھر اللہ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا میں تم لوگوں کے لئے تمام زمین کو عبادت گاہ اور پاک قرار دوں گا جہاں نماز کا وقت ہوجائے تم نماز پڑھ سکو گے ہاں پاخانہ یا غسل خانہ یا قبر کے پاس پڑھنے کی ممانعت ہوگی اور تمہارے دلوں میں ٹھہراؤ (اطمینان ایمانی) پیدا کردوں گا تم تہ دل سے (یعنی حفظ) توریت پڑھا کرو گے مرد عورت آزاد غلام چھوٹا بڑا ہر شخص توریت حفظ کرے گا۔ حضرت موسیٰ نے یہ فرمان اپنی قوم کو سنایا وہ لوگ کہنے لگے ہم نہیں چاہتے کہ گرجا کے علاوہ کہیں اور نماز پڑھیں نہ ہم تہ دل سے توریت پڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں ہم تو صرف دیکھ کر پڑھنا چاہتے ہیں اس پر اللہ نے فرمایا (فساکتبہا للذین یتقون۔۔ سے۔۔ المفلحون) تک۔
چنانچہ اس امت کے لئے اللہ نے یہ بات مخصوص کردی ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب مجھے اس امت کا پیغمبر بنا دے اللہ نے فرمایا ان کا نبی انہی میں سے ہوگا ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا تو مجھے اس امت میں سے ہی کر دے اللہ نے فرمایا تم ان کے زمانہ کو نہیں پہنچ سکتے (یعنی وہ امت آخری زمانہ میں آئے گی تم اس وقت تک زندہ نہیں رہو گے) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب میں بنی اسرائیل کا وفد لے کر حاضر ہوا تھا اور ان کی نمائندگی کا فائدہ دوسروں کو تو نے عطا کیا (یہ محروم رہ گئے) اس پر اللہ نے نازل فرمایا : (ومن قوم موسیٰ امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون) حضرت موسیٰ اس پر خوش ہوگئے نوف بکائی کی یہ تشریح اور تفصیل آیت کے صریحی الفاظ اور کلام کی رفتار کے خلاف ہے آیت : (الذین یتبعون الرسول النبی الامی۔۔ فی التوراۃ والانجیل) صراحت کے ساتھ بتارہی ہے کہ یہ آیت صرف مؤمنین اہل کتاب کے حق میں ہے (ان مؤمنوں سے اس کا تعلق نہیں جو پہلے مشرک تھے)
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ ‘ قتادہ اور ابن جریح نے فرمایا جب آیت (وسعت رحمتی کل شء) نازل ہوئی تو ابلیس کہنے لگے میں بھی کل شئی میں داخل ہوں (میں بھی رحمت سے محروم نہیں روہوں گا) اس پر اللہ نے فرمایا (فساکتبہا للذین یتقون ویوتون الزکٰوۃ والذین ہم بایتنا یؤمنون) یہ آیت سن کر یہودی اور عیسائی بھی آرزومند ہوگئے اور کہنے لگے ہم بھی تقویٰ رکھتے ہیں اور اللہ پر ہمارا ایمان ہے اس پر اللہ نے رحمت کو محض اس امت کے لئے محدود کردیا اور فرمایا : (الذین یتبعون الرسول النبی والامی) ۔
اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں خطاب کا رخ رسول اللہ ﷺ : کی طرف ہے حالانکہ آیت کا سیاق چاہتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ نے ان الفاظ سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو خطاب فرمایا اور رسول اللہ : ﷺ پر اس آیت کا نزول بطور نقل ہوا (گویا رسول اللہ : ﷺ کو اطلاع دی گئی کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی اور ہم نے ان کی دعا کا یہ جواب دیا) واللہ اعلم۔
Ayah 7:158قال یایہا الذی انی رسول اللہ الیکم جمیعا الذی لہ ملک السموات والارض لا الہ لا ہو یحی و یمیت آپ کہہ دیجئے کہ اے (تمام) لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔
قل اے محمد آپ کہہ دیجئے۔ انی رسول اللّٰہاس میں اضافت عہد خارجی کی ہے یعنی میں وہی رسول نبی امی ہوں جس کا ذکر اوپر گزر گیا اور جس کے اعتبار کا عہد لیا گیا تھا۔ الیکمیہ تمام لوگوں کو خطاب ہے اسی لئے آگے جمیعًابطور تاکید فرمایا لفظ جمیعًا کُمْسے حال ہے۔
رسول اللہ : ﷺ کی بعثت تمام انسانوں کے لئے بلکہ جنات کے لئے بھی تھی باقی انبیاء کو صرف اپنی اپنی قوم کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ رسول اللہ : ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چھ باتوں کی وجہ سے انبیاء پر برتری عطا فرمائی گئی ‘ مجھے جامع الفاظ عطا کئے گئے (یعنی کثیر معانی کو ادا کرنے والے مختصر ترین الفاظ بولنے کا ملکہ عطا کیا گیا) میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ دشمنوں پر دور دور تک میرا رعب ڈالا گیا) میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ‘ میرے لئے (تمام) زمین کو عبادت گاہ بنا دیا گیا اور پاک کردیا گیا ‘ مجھے سب مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا مجھ پر نبوت ختم کردی گئی۔ رواہ مسلم والترمذی عن ابی ہریرۃ۔
طبرانی نے الکبیر میں صحیح سند سے حضرت سائب بن یزید کی روایت سے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے مجھے پانچ باتوں کی وجہ سے انبیاء پر برتری عطا کی گئی۔ مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا۔ میری امت کے لئے میری شفاعت جمع رکھ لی گئی۔ ایک ماہ (کی راہ) آگے تک اور ایک ماہ (کی راہ) پیچھے تک رعب ڈال کر میری مدد کی گئی میرے لئے (تمام) زمین کو عبادت گاہ اور طاہر بنا دیا گیا۔ میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ بیہقی نے صحیح سند سے حضرت ابوامامہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے مجھے چار باتوں کی وجہ سے برتری عطا کی گئی اس روایت میں شفاعت کا ذکر نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں آیت میں خطاب اگرچہ عام طور پر سب لوگوں کو ہے لیکن بیان کی رفتار بتارہی ہے کہ عام کے ذیل میں مدینہ کے یہودی اور بعض عیسائی خصوصیت کے ساتھ مخاطب ہیں انہی کے خلاف بطور دلیل مکتوبا عندہم فی التورات والانجیل فرمایا اس کے بعد عناد و خصومت کے زیر اثر ان کا انکار اللہ کے دربار میں بےسود ہوگا (انکار کی کوئی وجہ باقی نہیں) الذی لہ ملک السمواتیہ اللہ کی صفت ہے یعنی میں اس اللہ کا رسول ہوں جس کی حکومت سارے جہان پر ہے یا الذیمبتدا ہے اور لا الہ الا ہو۔ خبر ہے۔ یعنی جس اللہ کی بادشاہت تمام جہان میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس آخری صورت میں الذی لہالخ پیام رسالت کا بیان ہوگا یعنی مجھے یہ پیام پہنچانے کے لئے بھیجا گیا ہے کہ جو بادشاہ کائنات ہے وہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
فامنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلمتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون پس تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اللہ کے اس رسول نبی امی پر بھی جو خود اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتا ہے اور اس رسول کا اتباع کرو تاکہ تم ‘ راہ مقصد پر آ لگو۔
رسولہ النبی الامی یعنی اس امی پیغمبر ﷺ کا اتباع کرو جس کے اتباع کا پکا وعدہ تم سے گزشتہ کتابوں میں لے لیا گیا ہے۔ وکلماتہ اور اللہ کے احکام پر یعنی ان کتابوں پر اور وحی پر جن کا نزول اللہ کی طرف سے نبی امی اور دوسرے پیغمبروں پر ہوا ہے ‘ لعلکم تہتدون یعنی ہدایت یاب ہونے کی امید رکھتے ہوئے ‘ ہدایت یابی کی امید کو دونوں باتوں کے مجموعہ کا نتیجہ قرار دیا (ایمان اور اتباع دونوں کے مجموعہ پر امید ہدایت کو مرتب کیا) تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جو شخص صرف تصدیق تو کرتا ہو رسول اللہ : ﷺ پر اس کا ایمان تو ہو مگر شریعت کی پابندی نہ کرتا ہو اور رسول اللہ : ﷺ کا پیرو نہ ہو تو وہ (فکر و عقیدہ کے لحاظ سے اگرچہ ہدایت یافتہ ہوجائے گا مگر عمل کے اعتبار سے) برابر گمراہی میں گھرا رہے گا۔
Ayah 7:159وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ : اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو دین حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے موافق انصاف بھی کرتے ہیں۔
Ayah 7:160وقطعنہم اثنتی عشرۃ اسباط امما اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی۔
ومن قوم موسیٰ موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم میں سے یعنی بنی اسرائیل میں سے۔ اُّمّۃٌیعنی ایک جماعت بالحق (یہ لفظ یا حال ہے) یعنی ایسی حالت میں کہ وہ خود برحق ہیں اصحاب حق ہیں یا بالحق سے مراد ہے بکلمۃ الحق یعنی وہ لوگوں کو حق بات کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔ اس حق کے سبب جس پر وہ خود قائم ہیں لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں وبہ یعدلون یعنی آپس کے معاملات میں بھی حق کے ساتھ ہی انصاف کے فیصلے کرتے ہیں۔
ضحاک ‘ کلبی اور ربیع کا بیان ہے کہ جس جماعت کا اس آیت میں تذکرہ ہے وہ انتہائی مشرق میں چین سے بھی آگے ایک دریا کے کنارے جس کا نام دریا ءِ اوراق ہے رہتی ہے ان میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں کہ اس کے پاس مال ہو اور اس کے ساتھی کے پاس نہ ہو وہاں (روز) رات کو بارش ہوتی ہے اور دن کو ابر کھل جاتا ہے وہ لوگ کھیتی کرتے ہیں ہم میں سے کوئی بھی وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ وہ سب دین حق پر ہیں۔
روایت میں آیا ہے کہ شب معراج میں حضرت جبرئیل رسول اللہ : ﷺ کو لے کر ان کی طرف پہنچے اور ان سے پوچھا تھا کہ کیا تم ان کو پہچانتے ہو جن سے کلام کر رہے ہو انہوں نے انکار کیا تو جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا یہ محمد نبی امی ﷺ ہیں یہ بات سنکر وہ سب آپ پر ایمان لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہم کو وصیت کی تھی کہ تم میں سے جو کوئی بھی احمد کو پالے میرا ان سے سلام کہہ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے سلام کا جواب دیا پھر ان کو دس مکی سورتیں سکھائیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنی جگہ پر ہی قیام پذیر رہیں وہ لوگ سنیچر کے دن عبادت کرتے تھے آپ نے ان کو سنیچر کی جگہ جمعہ کی تعلیم دی۔
بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں وہ یہودی مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے اور مسلمان ہوگئے تھے۔ بغوی کے نزدیک اوّل قول زیادہ صحیح ہے۔ میرے نزدیک اوّل روایت غریب ہے مکہ میں معراج کے وقت جمعہ کی نماز کا حکم ہوا ہی نہ تھا اور نہ کوئی دس مکی سورتیں ایسی ہیں جن میں اسلام کے پورے احکام مذکور ہوں زیادہ ظاہر یہ بات ہے کہ آیت میں مراد وہ مؤمن ہیں جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں حضرت موسیٰ پر ایمان لائے اور جو یہودی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے ان میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے وہ بھی مراد ہیں جیسے عبداللہ ؓ بن سلام وغیرہ۔
قطعناہم یعنی ہم نے بنی اسرائیل کے فرقے بنا دیئے۔ اثنتی عشرۃ بارہ یعنی ان کی جماعت کو بارہ حصوں میں بانٹ دیا اسباط یہ بدل ہے تمیز نہیں ہے اولاد (لڑکی ہو یا لڑکا) کی اولاد کو سبط کہتے ہیں حضرت اسرائیل کے بارہ بیٹوں کی اولاد یہ بارہ اسباط تھے اُمَمًایہ اسباط کی صفت ہے یا دوسرا بدل۔ زجاج نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کے بارہ فرقے یعنی جماعتیں بنا دیں۔
واوحینا الی موسیٰ اذا استقسہ قومہ ان اضرب بعصاک الحجر فانجبست منہ اثنتا عشرۃ علینا قد علم کل اناس مشربہم اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا جبکہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنی اس لاٹھی کو فلاں پتھر پر مارو پس (مارتے ہی) اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص (یا ہر جماعت) نے اپنا پانی پینے کا مقام (یعنی گھاٹ) جان لیا۔
اذاستسقاہ یعنی جب تیہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ سے پانی طلب کیا۔ فانجبست یعنی موسیٰ نے جونہی لاٹھی ماری فوراً چشمے پھوٹ نکلے۔ لاٹھی مارنے کا لفظ یہ بتانے کے لئے حذف کردیا کہ حکم کے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) نے فوراً تعمیل کی جس کے ذکر کی ضرورت نہیں اور تعمیل حکم کرتے ہی چشمے بہ نکلے۔ ایک بات یہ بھی معلوم ہوگئی کہ موسیٰ کا لاٹھی مارنا بذات خود موثر نہ تھا (اسی لئے اس کو حذف کردیا) کہ اس پر چشموں کا پھوٹ نکلنا موقوف ہوتا۔ انجاس کا معنی ہے پھٹ جانا لیکن ابو عمرو بن علاء نے انبجست کا ترجمہ کیا ہے عرقت یعنی پسیج کر اور پھوٹ کر نکلے بارہ چشمے ہر خاندان کے لئے ایک چشمہ کل اناس یعنی ہر سبط نے بارہ اسرائیلی قبائل میں سے ہر قبیلہ نے۔
وظللنا علیہم الغمام وانزلنا علیہم المن والسلوی کلوا من طیبت ما رزقنکم وما ظلمونا ولکن کانوا انفسہم یظلمون : اور سایہ کردیا ہم نے ان پر ابر کا اور پہنچائیں ان کو ترنجبین اور بٹیریں (اور اجازت دے دی کہ) ہماری عطا کردہ نفیس چیزوں میں سے (جو دل چاہے) کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے
Ayah 7:161واذا قیل لہم اسکنوا ہذہ القریۃ وکلوا منہا حیث شئتم وقولوا حطۃ وادخلوا الباب سجدا نغفرلکم خطیئتکم سنزیر المحسنین اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ تم لوگ اسی بستی میں جا کر رہو اور بستی میں سے جہاں چاہو (رہ کر) کھاؤ اور (داخلہ کے وقت) زبان سے حِطّۃٌ (توبہ ہے توبہ ہے) کہتے جاؤ اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہو ہم تمہاری (پچھلی) خطائیں معاف کردیں گے (اور) جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید عنایت کریں گے۔
کلوا یعنی ہم نے کہا کھاؤ۔ سنزیر المحسنین عمومی مغفرت گناہ کے ساتھ نیکوکاروں سے مزید ثواب دینے کا وعدہ فرمایا۔ بغیر عطف کے اس جملہ کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ ثواب محض مہربانی ہے ان احکام کی تعمیل کے عوض نہیں ہے جو ان کو دیئے گئے تھے۔
Ayah 7:162فبدل الذین ظلموا منہم قولا غیر الذی قیل لہم فارسلنا علیہم رجزا من السمآء بما کانوا یظلمون سو بدل دیا ان میں سے ظالموں نے اس لفظ کو جو ان سے کہا گیا تھا۔ غیر لفظ کے ساتھ اس پر ہم نے ان پر ایک آفت آسمان سے بھیجی اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے۔ آیات مذکورہ بالا کی تفسیر سورة بقرہ میں مفصل گزر چکی ہے سورة بقرہ کی آیات اور ان آیات میں فرق صرف یہ ہے کہ سورة بقرہ میں فکلوا فاء کے ساتھ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سکونت قریہ سبب اکل ہے (وہاں جا کر رہو تو کھاؤ) اور اس جگہ فاء نہیں ہے وہاں فاء کا ذکر کافی سمجھا گیا یا یہ کہ آیات کی رفتار خود بتارہی ہے کہ سکونت سبب اکل ہے۔ کذا قال البیضاوی۔
میں کہتا ہوں کہ سورة بقر میں ادخلوا ہذہ القریۃ فکلوا آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کھانا داخل ہونے کے بعد ہی ہوگا اس لئے فاء (تعقیبیہ) ذکر کردی گئی اور اس جگہ اسکنوا ہذہ القریۃ آیا ہے اس جگہ کلوا پر فاء (تعقیبیہ) لانا مناسب نہیں کیونکہ سکونت کے ساتھ ہی کھانا بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں فعل ایک وقت میں جمع ہوسکتے ہیں اس لئے واؤ جو محض جمعیت پر دلالت کرتا ہے ذکر کیا اور وادخلوا سے پہلے قولواذکر کرنے سے معنی پر کوئی جدید اثر نہیں پڑتا۔
Ayah 7:163وسئلہم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر اذ یعدون فی السبت اذ تاتیہم حیتانہم یوم سبتہم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیہم کذلک نبولہم بما کانوا یفسقون اور آپ ان
(یہودیوں) سے اس بستی کے متعلق دریافت کریں جو سمندر (بحر شور) کے کنارے آباد تھی جب کہ وہ سنیچر کے دن کے (احکام کے) بارے میں حد شرعی سے نکل رہے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ سنیچر کے دن سمندر کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آجاتی تھیں اور سنیچر نہ ہوتا تھا تو نہ آتی تھیں ہم اسی طرح ان کی آزمائش کرتے تھے کیونکہ وہ (پہلے سے) بےحکمی کیا کرتے تھے۔
واسئلہم یعنی اے محمد یہودیوں سے دریافت کرو یہودیوں سے اقرار کرانے اور کفر و معصیت پر تنبیہ کرنے کے لئے سوال کرنے کا حکم دیا ایک غرض یہ بھی تھی کہ اس سوال کا معجزۂ رسول ہونا ‘ ظاہر ہوجائے یہودیوں کو اپنے واقعات کا علم تھا مکہ والے ان سے واقف نہ تھے اب رسول اللہ : ﷺ کی زبان سے ان واقعات کا اظہار معجزہ نہ تھا تو اور کیا تھا۔ عن القریۃ یعنی بستی والوں کا واقعہ (مضاف محذوف ہے) حاضرۃ البحرسمندر کے قریب ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس بستی کا نام ایلہ تھا یہ آبادی مدین اور طور کے درمیان سمندر کے کنارے پر تھی۔ ازہری نے کہا شام کی جھیل طبریہ کے کنارہ پر تھی۔ اذ یعدون اس کی ضمیر اہل قریہ کی طرف راجع ہے۔ اہل کا لفظ اگرچہ مذکور نہیں (مگر مذکور کے حکم میں ہے) مطلب یہ ہے کہ وہ مچھلی کے شکار میں حد جواز سے آگے بڑھتے تھے (سنیچر کے دن بھی شکار کرتے تھے) اذ تاتیہم اس ظرف کا تعلق یعدونا سے ہے یا یہ دوسرا بدل ہے۔ یوم سبتہم (سبت مصدر ہے) یعنی سنیچر کی تعظیم کا دن۔ عربی میں کہا جاتا ہے سبت الیہود ‘ یہودیوں نے سبت کی تعظیم کی یعنی عبادت کے لئے سنیچر کے دن تمام مشاغل ترک کردیئے۔ اس قول کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آگے لا یستبون (بصیغۂ مضارع بصورت اشتقاق) آیا ہے (جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یوم سبتہم میں بھی سبت کا مصدری معنی مراد ہے) بعض کے نزدیک سبتہم میں سبت سے سنیچر کا دن مراد ہے۔ اس صورت میں سبت کو مضاف کی شکل میں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ سنیچر کے احکام کی خصوصیت صرف یہودیوں کے ساتھ ہے اس لئے سنیچر صرف یہودیوں کا ہوا۔
شُرَّعًایہ شارع کی جمع ہے یعنی پانی کی سطح پر بکثرت جمع ہونے والیاں۔ شرعقریب ہوگیا اوپر آگیا۔ ضحاک نے شُرَّعًا کا ترجمہ کیا ہے پے در پے متواتر۔ روایت میں آیا ہے کہ سنیچر کے دن مچھلیاں پانی کے اوپر بڑے سفید دنبوں یا مینڈھوں کی طرح آجاتی تھیں۔
یوم لا یسبتون اور جس روز وہ سنیچر نہیں مناتے تھے (یعنی سنیچر نہ ہوتا تھا) کذلک یعنی سنیچر کے دن جیسی حرکت وہ کرتے تھے ایسی ہی ہم ان کی جانچ کرتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہم ان کی جانچ اس سخت امتہان کی صورت میں کرتے تھے۔ روایت میں آیا ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں یہ خیال پیدا کردیا کہ اللہ نے سنیچر کے دن شکار کرنے سے منع نہیں کیا ہے کھانے سے منع کیا ہے اس لئے وہ شکار کرنے لگے یا یہ سوسہ پیدا کیا کہ مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کی ہے لہٰذا انہوں نے لب ساحل بڑے بڑے حوض کھود لئے جن کے اندر سمندر سے پانی کے ساتھ سنیچر کے دن مچھلیاں آجاتی تھیں اور اتوار کے دن لوگ ان کو پکڑ لیتے تھے ایسی حرکت بہت دنوں تک کرتے رہے پھر سنیچر کے دن بھی شکار کرنے کی جرأت کرنے لگے اور بولے ہمارے خیال میں اب سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنے بھی ہمارے لئے حلال کردیا گیا ہے چناچہ اس خیال کے بعد وہ سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنے بھی لگے اور خریدو فروخت بھی کرنے لگے اور کھانا بھی لگے۔ ایک تہائی آدمی تو اس نافرمانی میں مبتلا ہوگئے مگر ایک تہائی آدمیوں نے ان کو روکا اور بازداشت کی باقی ایک تہائی نے نہ تو جرم میں شرکت کی نہ ممانعت کی۔ خاموش رہے۔
Ayah 7:164واذا قالت امۃ منہم لم تعظون قوما ان اللہ مہلکہم او معذبہم عذابا شدیدا قالوا معذرۃ الی ربکم ولعلہم یتقون۔ اور (اس وقت کا حال دریافت کرو) جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کئے جاتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہی ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے انہوں نے جواب دیا ‘ تمہارے رب کے سامنے عذر پیش کرنے کے لئے اور اس لئے بھی کہ شاید یہ پرہیزگار ہوجائیں۔
واذا قالت امۃ یعنی خاموش رہنے والے گروہ نے نصیحت کرنے والے اور (سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنے سے) روکنے والے گروہ سے کہا اللّٰہ مہلکہم یعنی جن کو اللہ دنیا میں ہلاک کرنے والا ہے یا آخرت میں سخت سزا دینے والا ہے۔ قالوا نصیحت کرنے والوں نے کہا۔ معذرۃ یعنی اس لئے ہم نصیحت کرتے ہیں کہ ہماری طرف سے بازداشت میں کوتاہی نہ ہونے پائے اور اللہ کے سامنے ہم عذر پیش کرسکیں۔ ولعلہم یتقون اور شاید یہ لوگ باز ہی آجائیں (ہم ناامید نہیں ہیں) ناامیدی تو ہلاکت کے بعد ہی ہوگی۔
Ayah 7:165فلما نسوا ما ذکروا بہ انجینا الذین ینہون عن السوء واخذنا الذین ظلموا بعذاب بیئس بما کانوا یفسقون : آخرجو بات ان کو سمجھائی جاتی تھی جب وہ اس کے تارک ہی رہے (یعنی نصیحت نہ مانی) تو ہم نے بری بات سے روکنے والوں کو تو بچا لیا اور جو لوگ بےجا حرکت کرتے تھے ان کی نافرمانی کی پاداش میں ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیا
Ayah 7:166فلما عتوا عن ما نہوا عنہ قلنا لہم کونوا قردۃ خسئین : یعنی جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے (براہ قہر) ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ (وہ ذلیل بند رہو گے)
فَلّما نسوا پھر جب نافرمان فرقہ واعظ و صالح فرقہ کی نصیحت بھول گیا یعنی نصیحت کا تارک رہا سمجھانے پر عمل نہ کیا۔ الذین ینہون عن السوء تو نصیحت کرنے والے نیکوکار فرقہ کو ہم نے ہلاکت سے بچا لیا۔
واخذنا الذین اور نافرمان گروہ کو سخت عذاب میں گرفتار کرلیا۔ بئیسبروزن شدید بمعنی شدید بوس باساشدید ہوگیا۔ (باب نصر)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں سن رہا ہوں کہ اللہ نے ( انجینا الذین ینہون عن السوء واخذنا الذین ظلموا بعذا بئیس) تو فرما دیا (یعنی بری باتوں سے روکنے والوں کے بچانے کی اور ظالموں کے گرفتار (عذاب) ہونے کی تو صراحت فرما دی) مگر معلوم نہیں خاموش رہنے والے (نیکوکار) گروہ کا کیا ہوا۔ عکرمہ نے کہا میں نے عرض کیا۔ حضرت پر میری جان قربان۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہ فرمایا کہ اس خاموش رہنے والے گروہ نے ظالموں کی حرکت سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کردیا اور ان کے عمل کو برا قرار دیا اور نصیحت کرنے والوں سے کہہ دیا لم تعظون قوما اللّٰہ مہلکہم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے۔ ان کے متعلق اللہ نے اگرچہ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے ان کو بچا لیا مگر یہ بھی نہیں فرمایا کہ میں نے ان کو ہلاک کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کو میری یہ بات پسند آئی اور مجھے دو چادریں پہنانے کا حکم دے دیا یعنی پورا خلعت بطور انعام عنایت فرمایا اور فرمایا خاموش رہنے والے گروہ نے (یقینا) نجات پائی۔ رواہ الحاکم۔
یمان بن رباب نے کہا دونوں گروہوں نے نجات پائی اس گروہ نے بھی جس نے لم تعظون قومان اللّٰہ مہلکہم کہا تھا اور ان لوگوں نے بھی جنہوں نے معذرۃ الی ربکم کہا تھا اور مچھلیاں پکڑنے والوں کو اللہ نے غارت کردیا۔ یہ قول حسن اور مجاہد کا ہے ابن زید نے کہا صرف روکنے اور بازداشت کرنے والے گروہ نے نجات پائی۔ باقی دونوں گروہ ہلاک ہوگئے۔ نہی عن المنکرکو ترک کرنے کے سلسلہ میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ فلما عتوا یعنی گناہگار مجرم گروہ ممنوع کے ترک کی حد سے بڑھ گیا۔ عن مانہوا میں مضاف محذوف ہے یعنی عن ترک ما نہوا خسئیندور (یعنی پھٹکار والے ذلیل) یہ امر (ایجاب عمل کے لئے نہیں ہے کیونکہ عمل کرنا اور بندر بن جانا ان کے اختیار میں نہ تھا بلکہ) تکوین اور تسخیر کے لئے ہے (یعنی تم کو ہونا پڑے گا بندر ذلیل) ظاہر کلام بتارہا ہے کہ اللہ نے پہلے ان کو کوئی سخت سزا دی لیکن اس پر بھی انہوں نے سرکشی جاری رکھی اور باز نہ آئے تو اللہ نے ان کی صورتیں مسخ کردیں یہ بھی جائز ہے کہ آیت فلما عتوا آیت فلما نسوا کی تاکید اور تفصیل ہو (ہم نے ترجمہ اسی شق کے مطابق کیا ہے)
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ واذا قالت امۃ سے مراد یہ ہے کہ نیکوکار فرقہ میں سے بعض نے بعض سے کہا تم کیوں ان کو نصیحت کرتے ہو یعنی بطور افسوس انہوں نے وعظ کے لئے بےسود ہونے کا اظہار کیا اور آپس میں ہی انہوں نے جواب دیا اور کہا معذرۃ الی ربکم۔
یا یوں کہو کہ (وعظ کرتے کرتے) جو لوگ نصیحت کرنے سے رک گئے تھے انہوں نے ان لوگوں سے جو نصیحت کرنے سے نہیں رکے تھے (برابر وعظ کئے جا رہے تھے) کہا لم تعظون قوما اللّٰہ مہلکہم بعض اہل علم کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ بطور استہزاء اور مذاق بناتے ہوئے خطاکار لوگوں نے نصیحت کرنے والے گروہ سے کہا کہ جب تمہارے خیال میں اللہ ہم کو ہلاک کرنے والا ہی ہے تو پھر ایسے لوگوں کو تم نصیحت کیوں کرتے ہو۔ اس کے جواب میں نیک گروہ نے کہا معذرۃ الی ربکم مگر لعلہم یتقون میں غائب کی ضمیر اس مطلب کو غلط قرار دے رہی ہے اگر یہی مطلب تھا تو لعلکم تتقونمخاطب کی ضمیر کے ساتھ کہنا چاہئے تھے (ممکن ہے کہ گناہگار گروہ نے جب اپنے کو بصیغۂ غائب ذکر کیا اور قوما اللّٰہ مہلکہم کہا تو نصیحت کرنے والوں نے بھی اسی رعایت سے مخاطب کو بصیغہ غائب ذکر کردیا۔ مترجم)
روایت میں آیا ہے کہ جب واعظ ناامید ہوگئے تو خطاکاروں کے ساتھ رہنا بھی ان کو گوارا نہ ہوا اور انہوں نے بستی کو تقسیم کرلیا مسلمانوں کی آبادی کا دروازہ الگ ہوگیا اور مجرموں کی آبادی کا دروازہ الگ ہوگیا اور دونوں آبادیوں میں دیوار حائل ہوگئی اور حضرت داؤد نے مجرموں کے لئے بددعا کی ایک روزہ صبح کو جب نیکوکار گروہ اٹھا اور بدکاروں میں سے کوئی گھر سے نہیں نکلا تو انہوں نے کہا آج ضرور ان پر کوئی افتاد ہوئی ہے چناچہ گھروں کے اندر جا کر دیکھا تو سب بندر نظر آئے یہ لوگ اپنے قرابتداروں کو نہ پہچان سکے۔ مگر بندروں نے ان کو پہچان لیا اور پاس آکر ان کے کپڑے سونگھنے لگے روتے تھے اور ان کے آس پاس لوٹے پھرتے تھے نیک گروہ والے ان سے کہنے لگے کیا ہم تم کو منع نہیں کرتے تھے بندر جواب میں سر ہلا دیتے تھے تین روز تک اسی حال میں رہے لوگ ان کو دیکھتے تھے اور وہ لوگ تین روزہ کے بعد سب مرگئے۔
Ayah 7:167واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیمۃ من یسومہم سوء العذاب ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم۔ اور وہ وقت یاد کرنا چاہئے جب آپ کے رب نے بتادیا تھا کہ وہ ان (یہودیوں) پر روز قیامت (کے قریب) تک ایسے لوگوں کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت دکھ پہنچائیں گے بلاشبہ آپ کا رب واقعی جلد سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی غفور رحیم ہے۔ وَاِذ تاذّن۔ تاذَّنماضی باب تفعل اذن سے مشتق ہے اس کا معنی ہے اٹل ارادہ کیونکہ کسی کام کا عزم کرنے والا۔ اپنے نفس کو اس کام کی محکم اطلاع دے دیتا ہے (چیلنج کردیتا ہے) اسی لئے فعل قسم عَلِمَ اللّٰہ شَہِدَ اللّٰہوغیرہ کے قائم مقام اس کو استعمال کیا جاتا ہے اور جواب قسم کی طرح اس کا جواب ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے تَاَذَّنَکا ترجمہ قال (فرمایا) کیا ہے اور مجاہد نے امر (امر کیا) اور عطاء نے حَکَمَ (حکم دیا) لَیَبْعَثَّنَآخری تینوں اقوال پر جواب قسم محذوف ہوگا یعنی خدا کی قسم اللہ روز قیامت تک یہودیوں پر مسلط کرتا رہے گا۔ من یسومہم سوء العذابسوء عذاب سے مراد ہے قتل کرنا قید کرنا جزیہ لینا۔ چناچہ اوّل اللہ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو یہودیوں پر مسلط کیا۔ پھر بخت نصر کو۔ بخت نصر نے ان کی بستیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ جوانوں کو قتل کیا۔ عورتوں اور بچوں کو باندی غلام بنایا جو باقی رہے تھے ان پر ٹیکس مقرر کیا اور رسول اللہ : ﷺ کی بعثت تک۔ مجوسیوں کو وہ ٹیکس دیتے رہے رسول اللہ : ﷺ نے بنی قریظہ کو قتل کرایا ان کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کیا اور بنی نضیر و بنی قینقاع کو مدینہ سے نکال باہر کردیا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے خیبر اور فدک سے بھی ان کو نکال دیا اور اللہ نے قیامت تک کے لئے حکم دے دیا کہ یہودیوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک ذلت کے ساتھ یہ جزیہ ادا نہ کریں۔
لسریع العقاب یعنی نافرمانوں کو جلد سزا دینے والا ہے۔ اسی لئے دنیا میں ہی اس نے سزا دے دی وانہ لغفور رحیم لیکن ان میں سے جو شخص توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اس کو اللہ معاف کرنے والا مہربان بھی ہے۔
Ayah 7:168وقطعنہم فی الارض امما منہم الصلحون ومنہم دون ذلک وبلونہم بالحسنت والسیات لعلہم یرجعون۔ اور ہم نے دنیا میں ان میں متفرق جماعتیں کردیں بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح کے بھی تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں (صحت ‘ دولت ‘ حکومت) اور بدحالیوں (بیماری ‘ مفلسی ‘ محکومی) سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں۔
قطعناہم یعنی ہم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقے فرقے بنا دیئے اس سے ان کی طاقت ایسی منتشر ہوگئی کہ آئندہ کبھی باہم اتفاق نہ ہوگا اور نہ اجتماعی قوت حاصل ہوگی۔ منہم الصلحون ان میں سے کچھ صالح ہیں حضرت ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا الصالحون سے مراد ہیں وہ یہودی جو مسلمان ہوگئے۔
میں کہتا ہوں کہ ظاہر کلام کا تقاضا ہے کہ وہ لوگ مراد ہوں کہ شریعت موسوی کے منسوخ ہونے سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت پر تھے کیونکہ آگے فخلف من بعدہم خلفآیا ہے یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ الصلحون سے مراد وہ یہودی ہیں جو (حضرت عیسیٰ سے پہلے) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیح دین پر تھے۔
ومن ہم دون ذلک اور کچھ لوگ ان سے گرے ہوئے تھے یعنی درجۂ صلاح پر فائز نہ تھے یہ لوگ (حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر) وہ یہودی ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لائے یا (ظاہر کلام کے اعتبار سے) وہ یہودی ہیں جو شریعت موسوی کے منسوخ ہونے سے پہلے اس کو مانتے تھے مگر بداعمال تھے یا وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضرت داؤد ‘ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا۔
وبلوناہم اور ہم نے ان کو جانچا بالحسنات نعمتیں دے کر والسیات اور تکلیفیں دے کر لعلہم یرجعون تاکہ وہ متنبہ ہو کر کفر و بدکاری سے لوٹ جائیں نعمت کے وقت اللہ کا شکر ادا کریں اور تکلیف کے وقت توبہ کریں۔