7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

ولقد ذرانا لجہنم کثیرا من الجن والانس لہم قلوب لا یفقہون بہا ولہم اعین لا یبصرون بہا ولہم اذان لا یسمعون بہا اولئک کالانعام بل ہم اضل اولئک ہم الغفلون ہم نے بلاشبہ جہنم کے لئے ایسے بہت سے جنات اور انسان پیدا کئے ہیں جن کے پاس دل ہیں (مگر) وہ ان سے سمجھتے نہیں ان کی آنکھیں ہیں (مگر) وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے کان ہیں (مگر) وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں۔ بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں ایسے سب لوگ غافل ہیں (حقیقت اور انجام سے بیخبر ) ذراناہم نے پیدا کئے۔ کثیرابکثرت جنات و انسان۔ یعنی وہ لوگ جن کی پیدائش کے بعد کفر پر جما رہنا اللہ کو پہلے سے ہی معلوم ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا اللہ نے جنت پیدا کی اور اس کے مستحق بھی پیدا کردیئے جب کہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی تھے (یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت میں) اور جہنم کو پیدا کردیا اور اس کے مستحق بھی پیدا کردیئے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے (یعنی دنیا میں آئے بھی نہ تھے) رواہ مسلم۔ اسی مضمون کی حدیث اوپر گزر گئی جس میں حضرت آدم کی پشت سے سب کا برآمد ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ راوی ہیں کہ ایک روزہ رسول اللہ ﷺ دو تحریریں دونوں ہاتھوں میں لئے ہوئے برآمد ہوئے اور فرمایا جانتے ہو یہ دو تحریریں کیسی ہیں ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم کو کچھ نہیں معلوم البتہ آپ بیان فرما دیں تو معلوم ہوجائے گا حضور : ﷺ نے دائیں ہاتھ والی تحریر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العلمین کی طرف سے تحریر ہے اس میں جنتیوں کے نام ان کے باپ اور قبائل کے نام درج ہیں اور آخر میں اس کو ختم کردیا گیا ہے۔ آئندہ کبھی اس میں کمی ہوگی نہ بیشی۔ پھر بائیں ہاتھ والی تحریر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العلمین کی طرف سے تحریر ہے اس میں تمام دوزخیوں کے اور ان کے باپوں کے اور قبائل کے نام درج ہیں اور آخر میں اس کو ختم کردیا گیا ہے آئندہ کبھی اس میں اضافہ ہوگا نہ کمی۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کس غرض سے ہے جب کہ یہ (اہل جنت و اہل جہنم کا) معاملہ ختم ہوچکا فرمایا سیدھی چال چلتے رہو۔ جنتی کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوگا خواہ اس نے (زندگی میں) کوئی عمل کیا ہو اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوگا خواہ اس نے (زندگی میں) کیسا ہی عمل کیا ہو۔ پھر حضور : ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور دونوں (تحریروں) کو (گویا) پھینک دیا پھر فرمایا تمہارا رب بندوں (کے فیصلہ) سے فارغ ہوگیا ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ دوزخ میں کردیا گیا۔ رواہ الترمذی۔ ایک شبہ آیت (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) میں اور اس آیت میں تضاد ہے اس جگہ کی آیت بتارہی ہے کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو گمراہ کردیا ہے کفر و معصیت کے لئے ہی ان کو پیدا کیا ہے جن کو کوئی ہدایت یاب نہیں کرسکتا اور آیت وما خلقتبتا رہی ہے کہ انسان کی تخلیق عبادت اور معرفت کے لئے ہوئی ہے۔ ہر انسان کو معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے ‘ دونوں میں موافقت کیسے ہوسکتی ہے۔ جواب نفس تخلیق اور اصل حکمت پیدائش تو یہی ہے کہ انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا نفس تخلیق کا تقاضا یہی ہے اصل تخلیق کے لحاظ کے وقت اس بات کا کوئی لحاظ نہیں کہ اللہ کا علم بندہ کے متعلق کیا ہے اور وہ بندہ کو جنتی جانتا ہے یا دوزخی (یعنی واقع میں بندہ دوزخی ہے یا جنتی اس کا علم تو اللہ کو ہے تخلیق کا تقاضا اور مصلحت تو یہی ہے کہ ہر شخص عبادت گزار اور صاحب معرفت ہو) رہی یہ بات کہ بہت انسانوں اور جنوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے تو اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ (ان کی تخلیق کی غرض یہ ہے کہ وہ جہنمی ہوں بلکہ مقصد یہ ہے کہ) اللہ پہلے سے واقف ہے کہ وہ کفر اختیار کریں گے اور اس طرح اللہ کی بات پوری ہو کر رہے گی کہ لا ملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ بعض علماء تفسیر نے یہ جواب دیا ہے کہ آیت (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد خاص ہے یعنی صرف وہی لوگ معرفت و عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں جن کے متعلق اللہ جانتا تھا کہ یہ ایماندار اور اطاعت گزار ہوں گے یہ جواب بےدلیل اور غلط ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ لجہنم میں لام عاقبت کا ہے یعنی کثیر مخلوق کی پیدائش کا نتیجہ جہنمی ہونا ہے اور جس کی پیدائش کا نتیجہ جہنمی ہونا ہے وہ گویا جہنم کے لئے پیدا ہی کیا گیا ہے۔ معتزلہ نے یہ تاویل اس لئے اختیار کی کہ وہ گناہوں کو اللہ کی مشیت و ارادہ کے تحت نہیں مانتے مگر یہ تاویل ظاہر کلام کے خلاف ہے۔ لا یفقہون بہا یعنی حق کو شناخت کرنے اور دلائل پر غور کرنے کی ان میں استعداد و صلاحیت ہی نہیں ہے لا یبصرون بہا یعنی آنکھیں تو ہیں مگر دلائل کو عبرت اندوز نظر سے نہیں دیکھتے۔ لا یسمعون بہا یعنی ان کے کان تو ہیں مگر آیات و مواعظ کو گوش قبول سے نہیں سنتے۔ اولئک کالانعام یعنی کھانے پینے جماع کرنے اور اسباب تعیش میں مشغول رہنے کے لئے ہی ان کی ساری قوتیں اور احساسات وقف ہیں وہ بےسمجھی میں اور عبرت اندوز نظر نہ رکھنے میں اور گوش قبول و تامل کے فقدان میں جانوروں کی طرح ہیں۔ بل ہم اضلبل کہ وہ جانوروں سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں جانوروں میں تو کسی قدر ضرر رساں اور فائدہ بخش چیزوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ منافع کو حاصل کرنے اور مضرات کو دفع کرنے کی اپنی انتہائی کوشش کرتے ہیں لیکن کافروں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو محض عناد کی وجہ سے دوامی دوزخ کی طرف دوڑے جاتے ہیں باوجودیکہ جانتے ہیں کہ یہ راستہ یقینی ہلاکت کا ہے اللہ نے انہی کے متعلق فرمایا ہے (یعرفون کما یعرفون ابناء ہم وجحدوا بہا واستیقنتہا انفسہم ظلماو علوا) اور بعض کافر ایسے ہیں کہ فطری دانش و شعور کو ضائع کردیتے ہیں۔ تقاضئے عقل کا مقابلہ وہم سے کرتے ہیں یہ دونوں گروہ مکلف ہیں مامور ہیں اور جانور نہ مکلف ہیں نہ مامور فطری مجبور ہیں اس لئے کافر زیادہ گمراہ ہیں قابل مواخذہ اور جانور گم کردہ راہ ہیں معذور و مجبور۔ اُولٰءِکُ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ یعنی کامل طور پر یہی غافل ہیں کوئی دوسرا کامل غفلت کا حامل نہیں ہے اس آیت (اور حصر) سے معلوم ہو رہا ہے کہ جانوروں کو بلکہ جمادات کو بھی اپنے خالق کا کسی قدر شعور ہے وہ کامل طور پر اپنے رب سے غافل نہیں ہیں اسی کی تائید دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے فرمایا ہے (وان من شی الا یسبح بحمدہ) دوسری آیت ہے (الم تر ان اللّٰہ یسجد لہ من فی السمٰوٰت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب وکثیر من الناس وکثیر حق علیہم العذاب) ۔ مقاتل کی روایت ہے کہ ایک شخص نے اللہ کا نام لے کر بھی نماز میں دعا کی اور رحمن کا لفظ کہہ کر بھی اس پر کافر کہنے لگے ان مسلمانوں کا تو یہ دعویٰ ہے کہ ہم ایک ہی رب کی عبادت کرتے ہیں پھر اس شخص کو کیا ہوگیا کہ دو کو پکار رہا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے

وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بہا وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ سیجزون ما اکنوا یعملون۔ اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں۔ بس انہی ناموں سے اللہ کو پکارا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کئے کی سزا ملے گی۔ وللّٰہ الاسماء الحسنی یعنی جن ناموں کے معنی تمام معانی سے اچھے ہیں وہ اللہ ہی کے نام ہیں ان سے مراد وہ الفاظ ہیں جو صرف صفات پر نہیں دلالت کرتے بلکہ اس سے ذات کو بتاتے ہیں جو صفات کی حامل ہے دونوں میں بڑا فرق ہے (دوسری زبانوں کے اندر جو اللہ کے نام ہیں وہ محض صفات پر دلالت کرتے ہیں جیسے پر ماتما یعنی روح کائنات۔ واجب الوجود۔ علت تامہ۔ بھگوان وغیرہ) فادعوہ بہاپس انہی ناموں سے اس کو پکارا کرو۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں جو ان کو یاد کرے گا جنت میں داخل ہوگا دوسری روایت میں آیا ہے اللہ وتر ہے طاق کو پسند کرتا ہے۔ شیخین نے اس حدیث میں ننانوے ناموں کی تفصیل ذکر نہیں کی کیونکہ شیخین کی شرط کے موافق تفصیل مروی نہیں۔ ترمذی اور بیہقی نے الدعوات میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کرے گا۔ جنت میں جائے گا۔ ہو اللّٰہ الَّذی لاَ اٰلِہَ اِلَّا ہو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المہیمن العزیز الجبَّار المتکبر الخالق الباری المصور الغفار الوہاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیب الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشہید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدی المعید المحیی الممیت الحی القیوم الواجد الماجد الصمد الواحد القادر المقتدر المقدم المؤخر الاوّل الاخر الظاہر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤف مالک الملک ذوالجلال والاکرام الجامع الغنی المغنی المانع الضار النافع النور الہادی البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ کے اسماء کا حصر انہی مذکورہ بالا اسماء میں نہیں ہے (دوسرے نام بھی ہیں) حدیث مذکور میں جن اسماء کا ذکر ہے ان سے مراد شاید یہ ہے کہ جو ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے (تاکہ لوگ یاد کرلیں) ترمذی کی روایت مذکورہ میں جن اسماء کا ذکر ہے ان میں سے ستائیس ایسے ہیں جو بلفظہ صراحۃً قرآن مجید میں نہیں آئے القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل العدل الجلیل الباعث المحصی المبدی المعید المحیی الممیت الواجد الماجد المقدم المؤخر الوالی ذوالجلال والاکرام (ذی الجلال والاکرام آیا ہے) المقسط المغنی المانع الضار النافع الباقی الرشید الصبور۔ مندرجۂ ذیل توصیفی اسماء حسب ذیل آیات میں آئے ہیں مگر ترمذی کی روایت میں نہیں آئے۔ ہُوَ خَیْرٌ واَبقٰیِ الٰہ شَاکرٌ رب العالمین احد مالک یوم الدین الاعلی الاکرم خفی اعلم بمن ضل عن سبیلہ واعلم بالمہتدین القریب النصیر القدیر المبین الخلاق مبتلیکم الموسع الملیک الکافی فاطر السموات والارض القائم بالقسط غافر الذنب قابل التوب شدید العقاب نعم المولی الغالب علی امرہ سریع الحساب فالق الحب والنوی فالق الاصباح جاعل اللیل سکنا علام الغیوب عالم الغیب والشہادۃ ذوالطول ذوانتقام رفیع الدرجات ذوالعرش ذوالمعارج ذوالفضل العظیم ذوالقوۃ ذوالمغفرۃ جامع الناس لیوم لا ریب فیہ متم نعمتہ متم نورہ عدو للکافرین ولی المؤمنین القاہر فوق عبادہ اسرع الحاسبین مخرج المیت من الحی محی الموتی ارحم الراحمین۔ احکم الحکمین خیرا الرزاقین خیر الماکرین خیر الفاتحین مخزی الکافرین موہن کید الکافرین فعال لما یرید المستعان نور السموات والارض اہل التقوی اہل للغفرۃ نعم الماہدون رب الناس ملک الناس الہ الناس اقرب الیہ من حبل الورید القائم علی کل نفس بما کسبت احق ان تخشاہ الذی ہو اغنی واقنی والذی ہو امات واحیی والذی ہو اضحک وابکی والذی خلق الزوجین الذکر والانثی والذی اہلک عادن الاولی الذی لم یکن لہ ولد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد) ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل الذی انزل علی عبدہ الکتاب الذی بیدہ ملکوت کل شی الذی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر الذی یبدا الخلق ثم یعیدہ الذی بیدہ الملک الذی بعث فی الامیین رسولا لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمیناس آیت کو حدیث میں اللہ کا اسم اعظم فرمایا گیا ہے اس کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ کی صفات اور بھی بیان کی گئی ہیں۔ بعض اسماء ایسے بھی دوسری احادیث میں آئے ہیں جو نہ قرآن مجید میں مذکور ہیں نہ ترمذی کی روایت مذکورہ میں مثلاً الحنان المنان الجواد الاجود الفرد الوتر الصادق الجمیل القدیم البار الوافی العادل المعطی المغیث الطیب الطاہر المبارک خالق الشمس والقمر المنیر رازق الطفل الصغیر جابر عظم الکبیر کبیر کل کبیر الذی نفسی بیدہوغیرہ پھر یہ بھی نہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ کے جتنے نام قرآن مجید اور احادیث میں آئے ہیں بس یہ ہی اللہ کے نام ہیں ان کے علاوہ اور کوئی نام اللہ کا نہیں ہے کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے توریت میں اپنے ایک ہزار نام نازل فرمائے تھے۔ رسول اللہ : ﷺ بھی دعا کیا کرتے تھے اللہم انی اسئلک بکل اسم ہولک سمیت بہ نفسک وانزلتہ فی کتاب او علمتہ احدامن خلقک او استاثرت بد فی علم الغیب عندکاے اللہ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں تیرے ہر نام کے ساتھ جو تو نے اپنی ذات کا مقرر کیا ہے اور اس کو کتاب میں نازل کردیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علم غیب میں تو نے خاص طور پر رکھ چھوڑا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ کے تمام ناموں پر جو اللہ کو معلوم ہیں اجمالی ایمان رکھا جائے۔ وذروا الذین یلحدون فی اسماۂ ۔ الحادٌ (مزید) اور لحدٌ (مجرد) دونوں کا لغوی معنی ہے سیدھے راستے سے مڑ جانا۔ کج راہ ہوجانا۔ یعقوب بن سکیت کا قول ہے کہ الحاد کا معنی ہے حق سے مڑ جانا اور جو چیز حق نہیں ہے اس کو حق کی فہرست میں شامل کردینا اَلْحَدَ فی الدین اور لَحَدَ فی الدیندونوں طرح بولا جاتا ہے۔ آیت میں مشرک مراد ہیں جنہوں نے اللہ کے ناموں کو اصل مصداق سے موڑ کر بتوں کو ان ناموں سے موسوم کردیا پھر ان میں کمی بیشی بھی کرلی اللہ سے اللاَّت العزیز سے العُزَّی اور منان سے مناتبنا لیا۔ حضرت ابن عباس ؓ و مجاہد نے یہی تفسیر فرمائی۔ بعض علماء نے کہا کہ الحادفی الاسماء سے مراد یہ ہے کہ مشرکوں نے بتوں کا نام الہرکھ دیا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے یلحدون فی اسمائ کی تشریح میں فرمایا یکذبوناہل معنی کہتے ہیں کہ اللہ کے ناموں میں الحاد کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے وہ نام رکھ چھوڑے ہیں جو اللہ نے اپنے لئے نہیں اختیار کئے نہ اللہ کی کتاب میں آئے نہ رسول اللہ ﷺ : کی حدیث میں۔ خلاصہ یہ کہ اللہ کے نام صرف توقیفی (تنزیلی) ہیں اللہ کا نام جواد ہے سخی نہیں عالم ہے عاقل نہیں رحیم ہے رقیق نہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے یخادعون اللّٰہ وہو خادعہم دوسری آیت ومکروا ومکر اللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین لیکن اللہ کو خادع اور ماکریا مکار نہیں کہا جاسکتا۔ یا قائم بالقسط کہا جاسکتا ہے قائم نہیں کہا جاسکتا یا خالق کہا جاسکتا ہے خالق القردۃ والخنازیر (بندروں اور سوروں کے خالق) کے نام سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ زید اگرچہ تمام بادشاہوں سے بڑا بادشاہ ہو مگر اللہ کو کبیر من زید نہیں کہا جاسکتا (مطلب یہ کہ کسی صفت میں موجود ہونے کی بنا پر اللہ کا وصفی نام از خود نہیں بنایا جاسکتا) بلکہ اللہ کو انہی ناموں سے پکارا جائے گا جو بطور تعظیم قرآن یا حدیث میں آگئے ہیں (یعنی اللہ نے اظہار عظمت کے نشان کے طور پر جن کو نازل کیا ہے جہاں صرف تقابلی صورت میں آئے ہیں۔ اظہار عظمت کے لئے نہیں آئے جیسے ہو خادعہم یا مکر اللّٰہ تو ایسے ناموں سے بھی اللہ کو نہیں پکارا جاسکتا) توریت میں ذکر کئے ہوئے نام بھی لینا درست نہیں کیونکہ یہودیوں کی معرفت جو نام آئے ہیں ان کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں علماء یہود میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے اور دل سے مسلمان ہوگئے ان کی روایت سے توریت میں ذکر کئے ہوئے ناموں کے لینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ حضرت ابن عباس ؓ ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ اور بعض دوسرے صحابی ؓ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور بعض دوسرے مسلمان علماء یہود سے توریت کی اطلاعات دریافت کرتے تھے اور کوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا تھا۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جو لوگ اللہ کے ناموں کے متعلق کج راہی اختیار کرتے ہیں شریعت نے اللہ کا جو نام نہیں بتایا وہ نام اللہ کا رکھتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے جو نام اپنا مقرر کیا ہے اور مشرک اس نام کو نہیں مانتے تو تم ان مشرکوں کی پروا نہ کرو جیسے اللہ نے اپنا نام رحمن فرمایا تو مشرک کہنے لگے ہم تو رحمن یمامہ کے علاوہ کسی رحمن سے واقف نہیں (یعنی اللہ کا نام رحمن نہیں ہے) یا یہ مطلب ہے کہ اگر مشرک اللہ کے ناموں کا اطلاق بتوں پر کرتے ہیں اور اس کے ناموں سے (مونث کے) صیغے مشتق کرتے ہیں تو ان کو کرنے دو تم ان کی موافقت نہ کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم ان سے اعراض کرو اللہ خود ان کو سزا دے دے گا ان کے کئے کی سزا ان کو دی جائے گی۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

وممن خلقنا امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون : اور ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق (یعنی اسلام) کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور حق ہی کے موافق عدل کرتا ہے۔ وَمِمَّنْ خلقنا امۃ بغوی نے لکھا ہے کہ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں امت سے مہاجرین انصار اور وہ لوگ جو ان کے پیرو ہوں مراد ہیں۔ قتادہ نے کہا ہم کو اطلاع ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کو پڑھ کر فرماتے یہ تمہارے لئے ہے اور اسی کی طرح اس امت کو بھی دیا گیا تھا جو تمہارے سامنے موجود ہے (یعنی یہودی ‘ یہودیوں کے متعلق آیا تھا) ومن قوم موسیٰ امۃ یہدون بالحق وبہ یعدلون کلبی نے کہا (کوئی خاص امت مراد نہیں ہے بلکہ آیت عام ہے) تمام لوگوں میں ایسا گروہ ہوتا ہے بہرحال (آیت میں خاص امت مراد لی جائے یا عام) اللہ نے پہلے ذکر کیا کہ ایک گروہ کو دوزخ کے لئے پیدا کیا گیا ہے جو ظالم اور حق سے اعراض کرنے والے ہیں پھر (اس آیت میں) ذکر کیا کہ ایک گروہ کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتا اور عدل کرتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ہر زمانہ میں اجماع اہل ہدایت صحیح (بلکہ بنص قرآنی ضروری الوقوع) ہے اور اس آیت سے وہ حدیث تعلق رکھتی ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں برابر ایک گروہ پیدا ہوتا رہے گا جو اللہ کے امر کو پورے طور پر ادا کرتے رہے گا ان کی مدد نہ کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں قیامت آجائے گی۔ متفق علیہ من حدیث معاویۃ بن ابی سفیان و مغیرۃ بن شعبہ مگر یہ استدلال غلط ہے اور حدیث مذکور کا بھی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ ہر امت میں ایک گروہ ایسا ضرور ہوگا۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا

والذین کذبوا بایتنا سسنتدرجہم من حیث لا یعلمون : اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو (جہنم کی طرف) آہستہ آہستہ لئے جا رہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں۔ والذین کذبوا بایتنا اس سے مراد مکہ کے کافر ہیں۔ سنستدرجہم ہم آہستہ آہستہ ان کو ہلاکت کے قریب لئے جا رہے ہیں استدراج کا لغوی معنی ہے آہستہ آہستہ چڑھانا یا درجہ بدرجہ اتارنا۔ من حیث لا یعلمونعطاء نے کہا مراد یہ ہے کہ ہم ان کے متعلق ایسی پوشیدہ تدبیر کریں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ کلبی نے کہا ہم ان کے اعمال ان کی نظر میں مرغوب بنا دیں گے پھر ان کو ہلاک کردیں گے ضحاک نے کہا جس قدر وہ نوبنو گناہ کریں گے ہم نو بنو ان کو نعمتیں دیں گے۔ سفیان ثوری نے کہا ہم ان کو پوری پوری نعمت دیں گے اور شکر ادا کرنا فراموش کرا دیں گے۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے

واملی لہم ان کیدی متین : اور ان کو میں ڈھیل دیتا ہوں بیشک میری پوشیدہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ واملی لہم اس کا عطف سنستدرجہم پر ہے یعنی میں ان کی عمریں لمبی کر دوں گا اور ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں مرغوب بنا دوں گا اور ان کو بداعمالی کی سہولت عطا کروں گا تاکہ وہ گناہوں میں بڑھتے چلے جائیں اور آخر ہلاک ہوجائیں۔ ان کیدی متین یعنی میری گرفت سخت ہے گرفت کو کید سے اس لئے تعبیر کیا کہ اللہ کی گرفت بظاہر انعام نظر آتی ہے اور حقیقت میں تباہی آفریں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا میری پوشیدہ تدبیر سخت ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو اللہ کا اللہ کے رسول کا اور اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے چناچہ ایک ہی رات میں اللہ نے سب کو قتل کرا دیا۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے کوہ صفاہ پر چڑھ کر قریش کے ایک ایک کنبہ اور شاخ کو نام بنام یا بنی فلاں یا بنی فلاں کہہ کر پکارا اور اللہ کے عذاب و حوادثِ الٰہیہ سے برابر ڈراتے رہے ایک شخص بولا تمہارا یہ ساتھی یقیناً دیوانہ ہے رات بھر صبح تک چیختا رہا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں

اولم یتفکروا ما بصاحبہم من جنۃ ط ان ہو الا نذیر مبین : کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں ہے وہ تو بس صاف صاف (نافرمانی کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔ صاحبکم سے مراد ہیں رسول اللہ جنّۃ بمعنی جنون مبین صاف صاف کھول کر واضح طور پر ڈرانے والا کہ کسی سے کوئی بات چھپی نہ رہے (سب کی سمجھ میں آجائے) اولم ینظروا کیا دلیل آفریں اور استدلال کی نظر سے انہوں نے نہیں دیکھا ماخلق اللہ من شی یعنی جس پر لفظ شئی کا اطلاق ہوتا ہے کوئی چیز ہو شئی کے افراد و اجناس ان گنت ہیں اور سب اپنے بنانے والے کی ہمہ گیر قدرت اور توحید پر دلالت کر رہی ہیں ان کو استدلال کی نظر سے کائنات عالم کو دیکھنا چاہئے تاکہ ان پر واضح ہوجائے کہ رسول اللہ ﷺ جس چیز کی ان کو دعوت دے رہے ہیں وہ صحیح ہے۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے

اولم ینظروا فی ملکوت السموات والارض وما خلق اللہ من شی وان عسی ان یکون قد اقترب اجلہم فبای حدیث بعدہ یومنون : اور کیا انہوں نے آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دوسری چیزوں کی حکومت پر جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے غور نہیں کیا اور اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ ممکن ہے ان کی اجل قریب ہی آپہنچی ہو۔ پھر قرآن کے بعدکس بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ وَاَنْ عَسٰی کا عطف ملکوت پر ہے انمصدری ہے یا خفیفہ ہے اور ضمیر شان اس کا اسم ہے اسی طرح ان یکون میں انمصدری ہے یا خفیفہ۔ دونوں جگہ استفہام انکاری ہے اور تعجب پر دلالت کر رہا ہے کلام کا مطلب اس طرح ہے تعجب ہے یہ لوگ قرآن اور پیغمبر ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور پیغمبر ﷺ : کو دیوانہ بتانے لگے اور اس بات پر غور نہیں کیا کہ شاید ان کی اجل قریب آگئی ہو اگر اس پر غور کرتے تو طلب حق کی طرف تیزی سے بڑھتے اور ایسی چیز کی طرف توجہ کرتے جو مرنے سے پہلے ان کی نجات کا باعث ہوجاتی۔ فبای حدیث بعدہ یومنون یعنی جب انہوں نے اس قرآن کو نہیں مانا جو علم و حکمت سے بھرا ہوا ہے اور معجزہ ہے تو اس کے بعد اور کون سی بات کا یقین کریں گے۔ یعنی ممکن ہے ان کی موت قریب ہو پھر قرآن پر ایمان لانے کی طرف کیوں نہیں بڑھتے اور قرآن سے بڑھ کر اور کون سی واضح دلیل چاہتے ہیں قرآن سے بڑھ کر اور کون سی بات ہے جس پر یہ ایمان لانا چاہتے ہیں۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں

من یضلل اللہ فلا ہادی لہ ویذرہم فی طغیانہم یعمہون : جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں اور اللہ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ حقیقت میں ان کی روگردانی کی علت یہ ہے کہ من یضلل اللّٰہ فلا ہادی لہ جس کو اللہ گمراہ چھوڑ دے اس کو راہ پر لانے والا کوئی نہیں وَیَذَرَہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یََعَمَہُوْنَ یمعہون یذرہم کی ضمیر مفعول سے حال ہے۔ ابن جریر نے قتادہ وغیرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں عرض کیا آپ ہمارے قرابت دار ہیں ہم کو بطور اشارہ بتا دیجئے کہ قیامت کب آئے گی ابن جریر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ حمل بن ابی قشیر اور سمول بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اگر آپ نبی ہیں جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے تو بتائیے کہ قیامت کب آئے گی ہم بھی تو جان لیں قیامت کیا ہے اس پر آیات ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسہا قل انما علمہا عند ربی لا مجلیہا لوقتہا الا ہو ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتۃ یسئلونک کانک حفی عنہا قل انما علمہا عنداللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون : یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا آپ کہہ دیجئے کہ اس کا (تعیینی) علم تو میرے رب کے پاس (محفوظ) ہے اس کے وقت پر بس وہی اس کو ظاہر کر دے گا وہ آسمان و زمین کا سب سے بھاری حادثہ ہوگا بس وہ تم پر اچانک ہی آپڑے گی وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اس کا (تعیینی علم) تو بس اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ الساعۃ قیامت کے اسماء غالبہ میں سے ہے یا تو قیامت کو ساعت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اچانک آجائے گی یا اس وجہ سے کہ قیامت کے دن حساب بہت جلد ہوجائے گا یا اس وجہ سے کہ قیامت کا دن باوجودیکہ بہت لمبا ہوگا مگر اللہ کے نزدیک گھڑی بھر ہوگا۔ ایانَکب۔ مرسٰہا مرسا مصدر میمی ہے اور ساء بھی مصدر ہے یعنی استقرار قیامت کب ہوگا۔ رسوا الشئی کسی چیز کا ثبات اور استقرار رَسَاء الجبلٌ پہاڑ جما ہوا ہے۔ ارسی السفینۃ کشتی لنگر انداز ہوگئی ‘ رک گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے مرسا کا لفظی ترجمہ کیا منتہیٰ اور قتادہ نے کہا وقوع انما علمہا عند ربی یعنی اللہ نے قیامت کا علم اپنے پاس ہی رکھا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اس نے کسی کو نہیں بتایا نہ کسی مقرب فرشتہ کو واقف کیا نہ کسی نبی مرسل کو۔ لایحلیہا یعنی اس کا پردہ نہیں کھولے گا اس کو ظاہر نہیں کرے گا۔ لوقتہا بمعنی لام فی ہے یعنی اس کے وقت پر۔ ثَقُلَتْیعنی قیامت کا علم ثقیل اور اس کا معاملہ زمین و آسمان کے رہنے والوں سے پوشیدہ ہے۔ ہر پوشیدہ چیز کا حصول ثقیل ہوتا ہے۔ یا یہ مطلب کہا جائے کہ آسمانوں کے ملائکہ اور زمین کے باشندے سب کے پیش نظر قیامت کی حالت کو جاننا ہی ہے ہر ایک کی تمنا ہے کہ قیامت کا علم اس کو حاصل ہوجائے علم قیامت کا مخفی رہنا سب پر بار ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ قیامت کی شدتیں اور ہولناکیاں زمین و آسمان میں بھاری ہیں جس نے ثقلت کا مطلب یہ بیان کیا کہ ملائکہ اور جن و انس غرض تمام زمین آسمان والوں پر قیامت ثقیل اور عظیم ہے (اسی لئے قیامت کو مخفی رکھا گیا ہے) گویا ثقلت کے لفظ سے قیامت کو مخفی رکھنے کی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ الا بغتۃً مگر اچانک ‘ غفلت کی حالت میں صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص (یعنی بائع اور مشتری) اپنے بیچ میں کپڑا پھیلائے ہوں گے اور خریدنے بیچنے نہ پائیں گے کہ قیامت آجائے گی کوئی آدمی اپنا حوض درست کرتا ہوگا اور اس کا پانی پلانے نہ پائے گا کہ قیامت بپا ہوجائے گی کوئی ادمی اونٹنی کا دودھ دوہ کرلے کر لوٹ رہا ہوگا اور پینے نہ پائے گا کہ قیامت بپا ہوجائے گی کوئی شخص لقمہ اٹھا کر منہ میں لے جانا چاہتا ہوگا اور کھانے نہ پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی (یعنی قیامت کا وقوع اچانک ہوجائے گا اگرچہ اس کی نشانیاں مدت سے ظاہر ہو رہی ہوں گی) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ صور میں پھونک مار دی جائے گی جب کہ لوگ راستوں بازاروں اور اپنی اپنی مجلسوں میں ہوں گے یہاں تک کہ بیچنے خریدنے والے آپس میں بھاؤ چکا رہے ہوں گے اور ایک اپنے ہاتھ سے اس چیز کو چھوڑنے نہ پائے گا کہ صور پھونک دیا جائے گا جس کی آواز سے وہ بےہوش ہوجائے گا۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا یہی مطلب ہے آیت ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ کا۔ لوگ بازاروں میں خرید فروخت کر رہے ہوں گے کپڑے ناپ رہے ہوں گے اونٹنیوں کا دودھ دوہ رہے ہوں گے اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کہ قیامت آجائے گی اور کوئی کسی کو وصیت کرسکے گا نہ گھر لوٹ سکے گا۔ عبداللہ بن احمد نے الزہد کی روایت میں حضرت زبیر بن عوام کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت ایسی حالت میں آجائے گی کہ کچھ لوگ کپڑا ناپ رہے ہوں گے کچھ لوگ اونٹنیوں کا دودھ دوہ رہے ہوں گے پھر آپ نے پڑھا فلا یستطیعون توصیۃ ولا الی اہلہم یرجعون۔ طبرانی نے کھری سند سے حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے ڈھال برابر ایک کالا ابر مغرب کی طرف سے اٹھے گا اور اونچا ہوتا جائے گا پھیلتا جائے گا یہاں تک کہ آسمان کو بھر دے گا پھر ایک (غیبی) منادی ندا دے گا لوگو ! اَتٰی اَمْرُ اللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعِجلُوہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ دو آدمی اپنے بیچ میں کپڑا پھیلائے ہوئے ہوں گے اور لپیٹنے نہ پائیں گے (کہ قیامت آجائے گی) کوئی آدمی اپنا حوض درست کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پلا نہ پائے گا (کہ قیامت آجائے گی) اور کوئی آدمی اونٹنی دوہ رہا ہوگا اور دودھ پینے نہ پائے گا (کہ قیامت آجائے گی) یسئلونک کانک خفی عنہاحفی بروزن فعیل تحقیقات کرنے والا حفی الشئی اس چیز کی پوری تفتیش کی۔ حفی سے اس جگہ مراد ہے عالم ہونا کیونکہ کسی چیز کی پوری تحقیقات اور کامل تفتیش کرنے والا اس سے واقف ہو ہی جاتا ہے اور اس چیز کا پورا پورا عالم اس کو حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ علمی تحقیقات کے مضمون کو ظاہر کرنے کے لئے ہیَ خِفِیٌّکے بعد عَنْ کا استعمال کیا ہے (ورنہ خَفِیَکا استعمال بغیر عَنْ کے ہوتا ہے) بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ عنہا کا تعلق یسئلونک سے ہے یعنی وہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں گویا آپ قیامت کا پورا علم رکھتے ہیں۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک حَفِیٌّ حفاوۃ سے مشتق ہے حفاوۃٌ کا معنی ہے شفقت و مہربانی کیونکہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا ہماری آپ سے قرابت داری ہے ہمیں آپ بتا دیجئے کہ قیامت کب آئے گی اس صورت میں مطلب یہ ہوگا وہ آپ سے قیامت کے متعلق (خصوصی) سوال اس طرح کرتے ہیں گویا آپ قریش سے اپنی قرابتداری کی وجہ سے خصوصیت کے ساتھ ان کو بتادیں گے کہ قیامت کب آئے گی۔ قل انما علمہا عنداللّٰہ چونکہ یسئلونک دوبارہ ذکر کیا تھا کیونکہ ثانی یسئلونک سے کانک خفی عنہا کا تعلق تھا اس لئے قل انما علمہا عنداللّٰہکو بھی دوبارہ ذکر کیا یا تکرار ذکر سے مراد صرف کلام میں زور پیدا کرنا ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ قیامت کا تعیینی علم اللہ نے صرف اپنے لئے خاص کر رکھا ہے مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں

قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ما شاء اللہ ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر وبشیر لقوم یومنون . آپ کہہ دیجئے کہ میرے بس میں تو اپنے لئے بھی نہ کوئی نفع ہے نہ نقصان مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ نے چاہا اگر میں غیب کی (سب) باتیں جانتا تو میں بہت سے منافع کی باتیں حاصل کرلیا کرتا اور مجھے دکھ ہی نہ پہنچتا میں (عالم الغیب نہیں کار ساز اور قادر مطلق نہیں) صرف (اللہ کے عذاب و نافرمانی سے) ڈرانے والا ہوں اور ایمان والوں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔ قل لا املک یعنی کسی دینی دنیوی منفعت کو حاصل کرنے اور مضرت کو دفع کرنے کی مجھے خود اپنے لئے بھی قدرت نہیں ہے۔ یہ قول عبدیت کے اظہار اور غیب دانی کے دعوے سے بیزاری پر دلالت کر رہا ہے۔ لاستکثرت من الخیر۔۔ یعنی کثرت سے منافع حاصل کرلیتا اور ضرر رساں چیز کو دفع کردیتا یہاں تک کہ پھر مجھے کوئی دکھ ہی نہ پہنچتا ‘ نہ لڑائیوں میں کبھی مغلوب اور کبھی غالب ہوتا۔ بعض علماء نے آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر میں غیب کی باتیں جانتا یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں کب مروں گا تو کثرت سے اچھے اچھے کام کرلیتا اور مجھے کچھ نقصان نہ پہنچتا یعنی ہر شر اور فتنہ سے بچا رہتا۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا یعنی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ قیامت کب آئے گی تو میں تم کو بتادیتا تم ایمان لے آتے اور تمہاری تکذیب کا مجھے دکھ نہ پہنچتا۔ بعض کے نزدیک مَا مَسِّیَ السُّوءُالگ مستقل کلام ہے (پہلے کلام سے مربوط نہیں ہے) اس سے مشرکوں کے قول کی تردید کرنی مقصود ہے کہ تم جو مجھے دیوانہ کہتے ہو یہ غلط ہے مجھے تو کوئی دکھ چھو کر بھی نہیں گیا ہے الا نذیر یعنی کافروں کو ڈرانے والا بشیر لقوم یومنون یعنی تصدیق کرنے والوں کو خوشخبری دینے والا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لقوم کا تعلق نذیر اور بشیر دونوں سے ہو کیونکہ عذاب سے ڈراوا ہو یا ثواب کی بشارت دونوں کا فائدہ اہل تصدیق ہی کو پہنچ سکتا ہے (کافروں کو نہ دھمکی فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ خوشخبری۔ اس صورت میں لقوم میں لام انتفاع کا ہوگا)
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے

ہو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا فلما تغشہا حملت حملا خفیفا فمرت بہ فلما اثقلت دعوا اللہ ربہما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین : اللہ وہی ہے جس نے تم کو ایک تن واحد (آدم) سے پیدا کیا اور اسی (کے اندر) سے اس کا جوڑا (حواء کو) پیدا کیا تاکہ وہ اپنے جوڑے سے سکون خاطر حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس نے ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا اتنا کہ اس کو لئے پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بی بی نے اللہ سے جو ان کا رب تھا دعا کی کہ اگر تو نے ہمیں صحیح سالم بچہ دے دیا تو ہم بڑے شکر گزار ہوں گے۔ من نفس واحدۃ ایک شخص سے یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) سے وجعل منہا یعنی اس ایک شخص کے تن سے اس کی پسلی سے زوجہا یعنی حوا ( علیہ السلام) کو یسکن الیہا تاکہ اس زوج سے اس کو سکون خاطر اور انس حاصل ہو چونکہ نفس سے شخص مراد ہے اس لئے لیسکن بصیغۂ مذکر ذکر کیا۔ تغشہا قربت کی۔ جماع کیا۔ حملت حملا خفیفاتو حواء نے ہلکا سا بار اٹھا لیا یعنی نطفہ اس صورت میں حملاً مصدر بمعنی محمول (اسم مفعول کے) ہوگا اور مراد نطفہ ہوگا یا حملا مفعول مطلق ہے یعنی حاملہ عورتوں کو حالت حمل میں عام طور پر جو دکھ اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے حضرت حوا پر وہ دکھ نہیں پڑا فمرت بہوہ اس کو لئے چلتی پھرتی رہی اٹھنے بیٹھنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کی۔ یا یہ مطلب کہ پیدائش کے وقت تک وہ حمل کو لئے رہی اس نے صحیح سالم حمل کے ساتھ یہ مدت گزار دی نہ اخراج ہوا نہ اسقاط۔ فلما اثقلت یعنی جب بچہ بڑا ہوگیا اور وہ عورت باردار ہوگئی بچہ کا بوجھ اس پر پڑنے لگا۔ دعوا تو آدم حوا دونوں نے دعا کی۔ صالحاً صحیح سالم ہماری طرح لنکونن من الشکرینتو ہم تیری اسی نئی نعمت کے شکر گزار ہوں گے۔ بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر کا بیان ہے کہ جب حوا حاملہ ہوگئیں تو ابلیس مرد کے بھیس میں ان کے پاس آیا اور پوچھا تیرے پیٹ میں کیا ہے حواء نے کہا مجھے نہیں معلوم۔ ابلیس نے کہا مجھے اندیشہ ہے کہیں یہ کوئی چوپایہ یا کتا یا خنزیر نہ ہو اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کس طرح باہر آئے گا اگر پیچھے سے برآمد ہوا تو تیری ہلاکت کا سبب ہوجائے گا ممکن ہے منہ سے برآمد ہو یا تیرا پیٹ پھٹ جائے۔ حواء کو ڈر لگنے لگا اور آدم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ان کو بھی فکر ہوگئی ابلیس دوبارہ لوٹ کر آیا اور حوا سے کہا میرا اللہ کی بارگاہ میں مرتبہ ہے اگر میں دعا کر دوں کہ بچہ صحیح سالم تیری طرح خدا پیدا کر دے اور اس کا برآمد ہونا بھی بسہولت ہو تو کیا تو اس کا نام عبدالحارث رکھ دے گی۔ ابلیس کا نام ملائکہ میں حارث تھا۔ حواء نے اس کا ذکر حضرت آدم ( علیہ السلام) سے کیا حضرت آدم ( علیہ السلام) نے فرمایا شاید یہ وہی شخص ہے جس کو میں پہلے سے جانتا ہوں (یعنی شاید یہ وہی ابلیس ہے) لیکن ابلیس (بصورت مرد) برابر دونوں کے پاس آتا رہا آخر دونوں فریب کھا گئے اور بچہ پیدا ہونے کے بعد اس کا نام عبدالحارث رکھا کلبی کا بیان ہے کہ ابلیس نے حواء سے کہا تھا اگر میں اللہ سے دعا کروں اور تو انسان کا بچہ جنے تو کیا میرے نام پر تو اس کا نام رکھ دے گی حوا اس کے نام سے واقف نہ تھیں نادانی کی وجہ سے اقرار کرلیا بچہ پیدا ہوگیا تو ابلیس نے کہا میرے نام پر اس کا نام رکھو حواء نے پوچھا تیرا کیا نام ہے ابلیس نے کہا الحارث حواء جانتی نہ تھیں کہ جس ابلیس کی وجہ سے جنت سے دونوں کو نکالا گیا اس کا نام حارث تھا اس لئے بچہ کا نام عبدالحارث رکھ دیا۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ حوا کے بطن سے ایک کے بعد ایک متعدد بچے ہوتے رہے حضرت آدم ( علیہ السلام) کسی کا نام عبداللہ کسی کا عبیداللہ اور کسی کا عبدالرحمن رکھتے رہے لیکن سب مرتے رہے آخر ایک بچہ کا نام عبدالحارث رکھا تو وہ جیتا رہا۔ حضرت سمرہ بن جندب کی روایت سے امام احمد اور ترمذی اور حاکم نے بیان کیا ہے ترمذی کے نزدیک یہ روایت حسن غریب اور حاکم کے نزدیک صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حوا کے بچے پیدا ہوتے مگر زندہ نہ رہتے ایک بچہ جو پیدا ہوا تو ابلیس نے ادھر کا چکر لگایا اور حوا سے کہا اس کا نام عبدالحارث رکھو حواء نے عبدالحارث نام رکھ دیا اور وہ بچہ زندہ رہا یہ حرکت شیطان کے مشورہ اور وسوسہ سے ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے حدیث میں آیا ہے کہ حواء کے پاس ابلیس دو بار آیا (اور حواء) اس کے بہکاوے میں آگئیں) ایک بار جنت میں اور ایک بار زمین پر۔ ابن زید کا بیان ہے کہ حضرت آدم ﷺ کا ایک بچہ پیدا ہوا آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا ابلیس نے آکر پوچھا تم نے بچہ کا کیا نام رکھا حضرت آدم اور حواء نے کہا عبداللہ اس سے پہلے حضرت آدم ( علیہ السلام) کا ایک بچہ پیدا ہوا تھا جس کا نام آپ نے عبداللہ رکھا تھا اور وہ مرچکا تھا ابلیس نے کہا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ اللہ اپنے بندہ کو تمہارے پاس چھوڑ دے گا ایسا نہیں ہوسکتا خدا کی قسم جس طرح پہلے بچہ کو اس نے لے لیا اس کو بھی لے لے گا ‘ میں تم کو ایسا نام بتاتا ہوں کہ اگر وہ تم رکھ دو گے تو جب تک تم زندہ رہو گے وہ بچہ بھی جیتا رہے گا چناچہ دونوں نے اس بچہ کا نام عبدالشمس رکھا۔ بغوی نے لکھا ہے اوّل روایت زیادہ صحیح ہے۔ صالحاً پورا انسان صحیح سالم۔ جعلا لہ شرکائبغوی نے لکھا ہے شرکاء جمع کا صیغہ ہے مگر مراد واحد ہے یعنی عبدالحارث نام رکھ کر غیر کو اللہ کا شریک قرار دے دیا۔ لیکن یہ شرک نہ عقیدہ میں تھا نہ عبادت میں کیونکہ حضرت آدم نبی معصوم تھے شرک نہیں کرسکتے تھے بلکہ یہ شرک صرف نام رکھنے میں تھا اس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ حارث بچہ کی صحت اور ماں کی سلامتی کا سبب ہے کبھی عبد کا اطلاق ایسے شخص پر ہوتا ہے جو مملوک نہ ہو (یعنی بمعنی خادم) جیسے رب کا اطلاق کبھی ایسے (مربی اور سرپرست) شخص پر ہوجاتا ہے جو معبود نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اپنے مہمان کی تواضع کرنے کے لئے اپنے آپ کو عبدالضیف کہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ضیف اس کا معبود ہے اور وہ ضیف کا بندہ۔ بعض لوگ دوسروں سے کہتے ہیں میں تو آپ کا بندہ ہوں حضرت یوسف نے عزیز مصر کے متعلق کہا تھا انہ ربی احسن مثویٰآپ کی مراد اس سے یہ نہ تھی کہ عزیز مصر آپ کا معبود ہے۔ عبدالحارث نام بھی اسی طرح رکھا گیا۔ حسن اور عکرمہ نے کہا جعلا سے مراد ہے جَعَلَ اَوَلاَدَہُمَا یعنی آدم و حواء کی اولاد نے اللہ کے شریک بنا رکھے اس سے مراد مکہ کے کافر اور دوسرے مشرک ہیں۔ مضاف محذوف ہے۔ جیسے ان یہودیوں کو جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے خطاب کر کے فرمایا ہے ثم اتخذتم۔ واذ قتلتم نفسًاحالانکہ گوسالہ پرستی اور قتل نفس ان کا فعل نہ تھا بلکہ ان کے اسلاف کا تھا اس مطلب کی تائید لفظ شرکاء سے بھی ہو رہی ہے (کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) و حواء ( علیہ السلام) نے عبدالحارث نام رکھا یعنی نام رکھنے میں شرک کیا اگر یہ مطلب ہے تو شرکاء کا لفظ کیوں استعمال کیا حارث تو واحد ہے اور فعل بھی واحد ہے ہاں کفار بہت ہیں اور انہوں نے بکثرت شرکاء بھی بنا رکھے ہیں اس لئے جعلا کی اسناد حضرت آدم و حواء کی طرف حقیقی نہیں بلکہ مضاف محذوف ہے یعنی جعل اولادہما شرکاء۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے

فلما اتہما صالحا جعلا لہ شرکآء فیما اتہما فتعلی اللہ عما یشرکون : لیکن جب اللہ نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں دوسروں کو ساجھی قرار دینے لگے سو ان کے شرک سے اللہ پاک ہے۔ فتعالی اللّٰہ عما یشرکونپس اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ شریک کرتے ہیں یعنی بتوں سے (اس صورت میں ما مصدری نہ ہوگا بلکہ موصولہ ہوگا) بغوی نے لکھا ہے بعض علماء کا خیال ہے یہ کلام ابتدائی ہے (پہلے کلام سے مربوط نہیں ہے) اور مشرکوں سے مراد ہیں کفار مکہ اور اگر پہلے کلام سے اس کو مربوط بھی قرار دیا جائے اور مذکورہ بالا اشخاص ہی مراد ہوں تب بھی مطلب صحیح ہوجائے گا (اور شرک سے مراد ہوگا نام رکھنے میں شرک کرنا) کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) و حوا کے لئے بہتر یہی تھا کہ نام میں بھی شرک نہ کرتے۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ اس جملہ کا عطف خلقکم پر ہے اور درمیانی کلام بطور معترضہ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یشرکون کی ضمیر یہود و نصاریٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے ان کو اولاد عنایت فرمائی (جو موحد اور مسلم تھی) مگر انہوں نے اس کو یہودی اور عیسائی بنایا اللہ ان کے اس فعل سے بزرگ و برتر ہے۔ ابن کیسان نے کہا یشرکون سے مراد وہ کفار ہیں جو اپنی اولاد کا نام عبدالعزی عبدالات ‘ عبدالمناۃ اور عبدالشمس رکھتے تھے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عکرمہ اور حسن کے نزدیک آیات کی تفسیر سب سے الگ ہے ان بزرگوں کے نزدیک خلقکم من نفس واحدۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے تم سب کو ایک شخص سے یعنی ہر ایک کو اس کے باپ سے پیدا کیا پھر اس نفس سے یعنی اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا اور دونوں کے ملنے سے اولاد عطا کی مگر وہ شرک کرنے لگے اگرچہ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ مجاہد سعید بن مسیب اور جمہور مفسرین کی تفسیر کے خلاف ہے مگر میرے نزدیک یہی صحیح ترین قول ہے اس کی دلیل حسب ذیل ہے۔ اللہ نے حضرت آدم اور حواء کو اکل شجرہ کی ممانعت فرما دی لیکن جب دونوں نے شجرہ کو کھالیا تو چند مقامات پر بطور تشنیع اس کا اظہار کیا مثلاً فرمایا وعصی ادم ربہ فغوی۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو بھی اپنے اس قصور پر بڑی ندامت ہوئی اور انہوں نے دعا کی ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی فرمایا ثم اجتباہ ربہ فتاب علیہ وہدی۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو توبہ قبول ہونے کے بعد بھی اپنی اس لغزش پر پشیمانی رہی صحیحین میں آیا ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مؤمنوں کو روک لیا جائے گا ان کو سخت پریشانی ہوگی اور کہیں گے کاش اس وقت کوئی سفارشی ہوتا جو اللہ سے سفارش کر کے ہم کو اس جگہ سے رہا کرا دیتا چناچہ لوگ آدم کے پاس جا کر کہیں گے آپ سب آدمیوں کے باپ ہیں اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے آپ کو بنایا تھا اور اپنی جنت میں سکونت عطا کی تھی اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا تھا اور تمام چیزوں کے اسماء آپ کو سکھا دیئے تھے آج اپنے رب سے شفاعت کر کے ہم کو اس جگہ سے نجات دلا دیجئے حضرت آدم اپنی اس لغزش کو یاد کریں گے جو ممنوعہ درخت کو کھا لینے کی صورت میں پیدا ہوئی تھی اور کہیں گے میرا یہ مقام نہیں کہ تمہارے کام آؤں۔ اس حدیث پر غور کرو حضرت آدم ( علیہ السلام) سے درخت کو کھا لینے کی صورت میں جو خطا ہوئی تھی اس کو تو اس وقت یاد کریں گے (باوجودیکہ وہ لغزش معاف بھی ہوچکی ہے) لیکن دوسری (شرک والی) غلطی کو یاد نہیں کریں گے باوجودیکہ پہلی خطا سے دوسری خطا زیادہ سخت تھی ا (اور اس کی معافی کی بھی کوئی صراحت نہیں کی گئی) لہٰذا آیت مذکورہ کی تفسیر وہی صحیح ہے جو عکرمہ اور حسن نے کی۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں

ایشرکون ما لا یخلق شیئا وہم یخلقون : کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کرسکیں اور خود ہی (اللہ کی قدرت سے) سے پیدا کئے جاتے ہوں۔ ایشرکون کیا اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ ما لا یخلقجو کسی چیز کو پیدا نہ کرسکیں۔ یعنی ابلیس اور بت۔ وہم یخلقون۔ ہُمضمیر بتوں کی طرف راجع ہے۔ (اگر چہھم کی ضمیر جمع اصحاب عقل کی طرف راجع ہونا چاہئے اور بت جامد چیز ہے لیکن) بتوں کو مشرک معبود قرار دیتے تھے (اس لئے بت بھی اصحاب عقل کے حکم میں ہوگئے)
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

ولا یستطیعون لہم نصرا ولا انفسہم ینصرون : اور وہ ان کو کسی طرح کی مدد بھی نہ دے سکتے ہوں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہوں۔ ولا یستطیعون اور بت طاقت نہیں رکھتے لہم نصراً ان مشرکوں کی مدد کرنے کی جو ان کے پجاری ہیں۔ ولا انفسہم ینصرون اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں کہ نامناسب ناگوار چیز کو دفع کرسکیں مثلاً اگر کوئی ان کو توڑے تو اپنے کو محفوظ رکھ سکیں۔ وان تدعوہم الی الہدی اور اگر تم مشرکوں کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ بعض علماء کے نزدیک تدعوا سے خطاب مشرکوں کو ہے اور ہم ضمیر بتوں کی طرف راجع ہے یعنی اے مشرکو اگر تم بتوں کو بلاؤ کہ وہ تم کو ہدایت کریں راستہ بتلا دیں تو وہ تمہارے کہنے پر عمل نہیں کرسکتے یعنی تم کو راستہ نہیں بتلا سکتے نہ اللہ کی طرح تمہاری دعا قبول کرسکتے ہیں۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

وان تدعو ہم الی الہدی لا یتعبوکم سوآء علیکم ادعوتموہم ام انتم صامتون : اور اگر تم ان کو راہ راست کی طرف بلاؤ تو تمہارے کہنے پر نہیں چلتے تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔ سواء علیکم ادعوتموہم ام انتم صامتون بجائے (صمتم) فعل کے (صامتون) اسم فاعل ذکر کیا یا تو صرف آیات کے مقاطع کے لحاظ سے یا غیر مفید ہونے کو پُر زور طور پر ظاہر کرنے کے لئے کہ تمہارا ان کو پکارا بھی خاموش رہنے کے برابر بےسود ہے (نہ پکارنے سے تم کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ خاموش رہنے سے) یا اسلوب ادا کو بدلنے کی یہ وجہ ہے کہ (فعل حدوث و تجدد پر دلالت کرتا ہے اور اسم دوام و استمرار پر اور) مشرک اپنی اغراض کے لئے تو بتوں کو پکارتے نہ تھے (عرض مقاصد کے وقت خاموش رہنا ان کی عادت جاریہ تھی جس پر وہ قائم تھے) اغراض کے لئے پکارنا ایک نئی بات ہوگی اس لئے فرمایا کہ (خلاف معمول اور برخلاف عادت) ان کو پکارنا یا (حسب معمول) خاموشی پر قائم رہنا دونوں غیر مفید اور بےسود ہونے میں برابر ہیں۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں

ان الذین تدعون من دون اللہ عبادا مثلکم فادعوہم فلیستجیبوا لکم ان کنتم صدقین : واقعی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں اگر تم سچے ہو تو ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کردیں۔ ان الذین تدعون من دون اللّٰہ یعنی اے مشرکو ! اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے اور ان کو معبود کہتے ہو عبادا مثالکم تمہاری طرح بندے ہیں یعنی مخلوق ہیں اللہ کے مملوک اور تابع ارادہ ہیں مقاتل نے کہا خطاب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جو فرشتوں کی پوجا کرتے تھے اس لئے الّذین تدعون سے مراد ملائکہ ہیں اوّل تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو کہ وہ الہٰ ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مطلب اس طرح ہو کہ چونکہ انسانوں کی شکل کی انہوں نے مورتیاں بنا رکھی تھیں تو ان سے (گویا) فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ تمہاری طرح زندہ اور عاقل ہوجائیں اگر ایسا ہو بھی جائے تب بھی وہ تمہاری عبادت کے مستحق نہیں ہوسکتے جس طرح تم میں سے کوئی کسی کی عبادت کا مستحق نہیں ہے اس سے آگے واضح فرمایا کہ وہ تو تم سے کمتر درجہ پر ہیں۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)

الہم ارجل یمشون بہا ام لہم اید یبطشون بہا ام لہم اعین یبصرون بہا ام لہم اذان یسمعون بہا قل ادعوا شرکآء کم ثم کیدون فلا تنظرون : کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہوں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں یعنی تمہاری طرح نہ ان کے ہاتھ پاؤں ہیں نہ آنکھ کان پھر اپنے سے کمتر درجہ والوں کی پوجا تم کس طرح کرتے ہو آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے سب معبودوں کو جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو بلا لو پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرلو پھر مجھے ذرا مہلت مت دو ۔ ثم کیدونی یا متکلم محذوف ہے اسی طرح فلا تنظرون میں بھی یاء محذوف ہے یعنی تم اور تمہارے معبود جس قدر ہو سکے میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے دکھ پہنچانے کی کوشش کرو اور قطعاً مجھے مہلت نہ دو چونکہ میرا اعتماد اللہ پر ہے اس لئے مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے

ان ولی اللہ الذی نزل الکتب وہو یتولی الصلحین : بیشک میرا حامی اللہ ہی ہے جس نے کتاب نازل فرمائی ہے اور وہی نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِیّ َبے شک میرا حامی اور محافظ اللہ ہے جس نے کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی حفاظت و مدد کرتا ہے انبیاء کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو لوگ اللہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ان کی مدد کا ذمہ دار اللہ ہوتا ہے دشمنوں کی دشمنی ان کو ضرر نہیں پہنچا سکتی۔ والذین سے ینصرون تک پروا نہ کرنے کی علت کی تکمیل ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

والذین تدعون من دونہ لا یستطیعون نصرکم ولا انفسہم ینصرون : اور جن کو اللہ کو چھوڑ کر تم پوجتے ہو وہ تمہاری مدد بالکل نہیں کرسکتے اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے

وان تدعوہم لی الہدی لا یسمعوا وترہم ینظرون الیک وہم لا یبصرون : اگر ان کو کوئی بات بتانے کو پکارو تو نہیں سنتے آپ کو نظر آتا ہے کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ لا یسمعواوہ یعنی بت نہیں سنتے۔ وتراہم اور اے مخاطب تجھے وہ نظر آتے ہیں کہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے چونکہ مشرکوں نے اپنے معبودوں کی مورتیاں انسانی شکل کی بنا رکھی تھیں تو دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا تھا کہ یہ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ حسن بصری نے لا یسمعوا اور تراہم کی ضمیریں مشرکوں کی طرف راجع کی ہیں یعنی اگر مشرکوں کو آپ اسلام کی دعوت دیں تو وہ دلوں سے نہیں سنتے کچھ نہیں سمجھتے بظاہر آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔