Ayah 3:192410 ظالموں کیلئے کوئی یار و مددگار نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کے لیے کوئی یار و مددگار نہیں جنہوں نے نور حق اور راہ صدق و صواب سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو دائمی خسارے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین حق سے منہ موڑنے والے اپنا اور صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کہ اس طرح ایک طرف تو وہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و باطل کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور متاع حیات کو حق و ہدایت کی روشنی میں اس کے صحیح مصرف میں صرف کرنے کی بجائے اس کو کفر و باطل کے مہیب اور ہولناک اندھیروں کی نذر کردیتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ اپنے اس خالق ومالک سے منہ موڑ لیتے ہیں جو کہ ان کا کارساز حقیقی ہے۔ اور اس سے منہ موڑ کر ایسے لوگ جن دوسرے خودساختہ اور فرضی و وہمی سہاروں پر تکیہ و آسرا کرتے ہیں ان کی کوئی حقیقت ہی سرے سے نہیں ہوتی۔ سو اس طرح وہ { خَسِرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃ } کا مصداق بن جاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسوں کے لئے فصل وتمیز اور جزاء و سزا کے اس ہولناک دن میں کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو حقیقی مددگار اور سب کا خالق ومالک ہے اس سے انہوں نے منہ موڑ رکھا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جو مختلف مددگار انہوں نے از خود مختلف ناموں سے فرض کر رکھے تھے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ وہ تو سب دھوکے کا سامان تھا ان کے کچھ کام آنے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:193411 { مُنَادِیًا یُّنَادِیْ } سے مقصود و مراد ؟۔ سو " منادی " سے یہاں پر مراد ہیں امام الانبیاء داعی اکبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (محاسن، معارف اور مراغی وغیرہ) ۔ جن جیسا دوسرا کوئی داعی نہ ہوا نہ قیامت تک کبھی ہوگا۔ اور جنہوں نے دعوت الی اللہ کا حق ادا کردیا ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ جنہوں نے سب دنیا کو توحید کی دعوت دی اور عقیدہ توحید کی اصل حقیقت سے دنیا کو روشناس فرمایا اور اپنی پوری حیات طیبہ میں طریق حق اور صراط مستقیم کی توضیح و تشریح کیلئے انہوں نے بےمثل جہاد فرمایا۔ اور ایسا جہاد کہ اس کا حق ادا کردیا۔ اور اپنی امت کو حق و ہدایت کی ایسی واضح اور روشن شاہراہ پر ڈال دیا جس میں نہ کوئی غموض باقی رہ گیا ہے نہ کسی طرح کا کوئی خفائ۔ اور اس کو ایسا واضح فرما دیا کہ " لَیْلُہا کَنَہَارِھَا " یعنی " اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح واضح ہوگئی " ۔ فَجَزَاہ اللّٰہُ اَفْضْلَ مَا جُوْزِیَ بِہ نَبِیٌّ عَنْْ اُمَّتِہٖ ۔ سو ایسے اولوا الالباب کٹ حجتیوں سے کام لینے اور خوارق و معجزات کا مطالبہ کرنے کی بجائے پیغمبر کی دعوت پر فوری طور پر اور دل و جان سے لبیک کہتے ہیں کہ اپنے نور باطن اور صفائ قلب کی بناء پر پیغمبر کی دعوت ان کو اپنے دل کی آواز لگتی ہے۔ اور جس خدا اور آخرت کی دعوت ان کو پیغمبر کی طرف سے ملتی ہے اس کی شہادت وہ خود اپنے باطن کے اندر پاتے ہیں۔ اس لئے وہ پیغمبر کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بجائے صدق دل سے اس پر لبیک کہتے ہیں۔ اور اس طرح راہ حق کو اپنا کر سعادت دارین سے سرفراز ہوتے ہیں ۔ والحمد للہ ۔ سو نداء منادی پر لبیک کہنا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
412 ایمان کے وسیلے سے مغفرت سیآت کی دعائ : حرف " فَا " یہاں پر تفریع کیلئے ہے۔ یعنی جب ہم ایمان لے آئے اے ہمارے مالک تو تو ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے۔ یعنی ہمارے اس ایمان و عقیدہ کی بنا پر اور اسی کے طفیل میں۔ اسی لئے ایمان اور اعمال صالحہ کے وسیلہ و واسطہ سے دعا مانگنا بالاتفاق جائز ہے۔ اور اس امر کی قرآن و سنت کی دوسری مختلف نصوص کے ذریعے تصریح فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث غار کے قصے میں اس کی ایک واقعاتی تصدیق کو ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو وہ اپنے پروردگار کے حضور عرض کرتے ہیں کہ مالک، جب ہم دعوت حق کے منادی پر ایمان لے آئے اور ان کی دعوت کو صدق دل سے قبول کرلیا تو اس کے صلے اور صدقے میں تو ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے اور ہم سے ہماری برائیوں کو اور ان کے اثرات کو مٹا دے۔ کہ تیری شان کرم و عطا اور مغفرت و بخشش کی شان ہے اور ہم تیرے بندے اپنی سیئآت و تقصیرات اور معاصی وذنوب کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی مغفرت و بخشش کا سوال لیکر اور اپنے ہاتھ تیری بارگہ اقدس واعلیٰ میں پھیلائے حاضر ہوگئے ہیں۔ پس تو ہمارے ان ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا اور اپنی مغفرت و بخشش کے آب زلال اور مائے صافی سے ہماری تقصیرات کی میل کچیل اور ان داغ دھبوں کو صاف فرما دے اور ہمیشہ رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرما دے { انک انت الغفور الرحیم وانت السمیع العلیم ۔ وانت علی ما تشاء قدیر }۔
413 تکفیر سیآت کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خوش نصیب اپنی دعا میں مزید عرض کرتے ہیں اور تو مٹا دے ہم سے ہماری برائیوں کو۔ یعنی ہماری طاعات و عبادات کو شرف قبولیت سے نواز کر۔ کیونکہ صغیرہ گناہ طاعات و عبادات کی قبولیت سے خود بخود معاف ہوجاتے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنْ تََجْتَنِبُوْا کَبَٓائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عََنْکُمْ سَیِّآتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا } (النسائ : 3 1) ۔ یعنی " اگر تم لوگ ان بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تم کو روکا اور منع کیا جاتا ہے تو چھوٹے گناہ ہم خود تم سے ہی معاف کردیں گے، اور تم کو ایک بڑی ہی عزت کی جگہ میں داخل ہونا نصیب فرمائیں گے " اور یہاں پر اس زیر بحث آیت کریمہ میں جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ذنوب سے مراد کبائر ہیں اور سیآت سے مراد صغائر۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف ان " اُوْلُوا الْبَاب " کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایمان کی دولت سے سرشار و سرفراز ہونے کے بعد اپنے رب کے حضور درخواست و دعاء کرتے ہیں کہ ہمارے گناہوں اور ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے اور ان کی میل کچیل کو ہم سے دور فرما دے۔ تاکہ ہمارا دامن ان کے دھبوں سے پاک ہوجائے کہ یہ تیری ہی شان کرم وعطا ہے ۔ تبارک وتعالیت ۔
414 خاتمہ بالخیر کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مزید عرض کرتے ہیں کہ تو ہمارا خاتمہ فرما نیک لوگوں کے ساتھ۔ یعنی اپنے ان نیک اور پاکیزہ بندوں کے ساتھ جو تیری رضا کے شرف سے مشرف ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ تیری جنت اور اس کی نعمتوں سے سرفراز و بہرہ مند ہوتے ہیں۔ جن میں سرفہرست حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ ہیں۔ اور ان کے بعد دوسرے صالحین۔ (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ پس ہمیں انہیں حضرات کی طرح سچا پکا ایمان اور اعمال صالحہ کی توفیق نصیب فرما۔ اور " ابرار " جمع ہے " بر " کی۔ جیسے " ارباب " جمع ہے " رب " کی۔ یا یہ جمع ہے " بار " کی جیسے " اصحاب " جمع ہے " صاحب " کی۔ اور " بر "، " کثیر البر " یعنی ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کی نیکی کا دائرہ بہت وسیع ہو۔ سو اس طرح یہ دعا خاتمہ بالخیر کی ایک عظیم الشان دعا ہے جس میں بندہ اپنے رب سے یہ دعاء و درخواست کرتا ہے کہ مجھے اپنے خاص اور نیک بندوں سے تعلق رکھنے اور ان کے طور طریقوں کو اپنانے کی توفیق نصیب فرما۔ اور انہی کے عقیدہ و عمل پر ہماری زندگی کا خاتمہ فرما۔ سو محاورہ کی زبان میں ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کے ساتھ ہوں۔ یعنی اس کے طور طریقے اور اس کے عقیدہ و مذہب پر ہوں۔ سو اس محاورے کے مطابق اور اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں اپنے ان لوگوں یعنی حضرات انبیائے کرام اور صلحائے عظام کے طور طریقوں اور انہی کے عقیدہ و عمل کی راہ پر قائم رکھ تاکہ جب ہماری موت آئے تو انہی حضرات کے طریقے پر آئے اور اس طرح ہماری بخشش کا سامان ہوجائے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 3:194415 راہ حق پر استقامت کی دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کے حضور مزید عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں وہ کچھ عطا فرما دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے فرما رکھا ہے۔ یعنی دنیا کی عزت اور نصرت و غلبہ اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں دائمی فوز و فلاح، نعیم جنان اور اپنی رضا کے شرف کے وعدے جو تو نے اے ہمارے خالق ومالک اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے فرما رکھے ہیں۔ سو تیرے وعدے تو بہرحال سچے ہیں مگر خطرہ ہماری اپنی طرف سے ہے کہ ہم کہیں راہ حق و ہدایت سے بھٹک اور پھسل کر ان سے محروم نہ ہوجائیں۔ پس تو اے ہمارے مالک ہمیں راہ حق و ہدایت پر پکا رکھ تاکہ ہم تیرے ان وعدوں سے سرفراز ہوسکیں ۔ سو یہ دعا دراصل راہ حق پر پختگی اور استقامت کی دعا ہے جو ان اولوا الالباب کی طرف سے ان کے خالق ومالک کے حضور کی جاتی ہے۔ سو راہ حق و ہدایت پر صبر و استقامت اور اللہ والوں کی محبت ورفاقت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والی چیز ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اللہ زیغ و زلل کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
416 قیامت کی رسوائی سے بچانے کی دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مزید عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں قیامت کے دن رسوا نہیں کرنا کہ اس دن کی رسوائی بہت بڑی اور نہایت ہولناک و مہیب رسوائی ہوگی۔ اور تیری رحمت و عنایت کے سوا اور کوئی صورت اس سے بچنے کی ممکن نہیں۔ اور تیرا وعدہ ہے کہ تو اس روز کی اس رسوائی سے اپنے پیغمبر کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو محفوظ رکھے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ } (التحریم : 8) ۔ پس ہمیں ایمان و یقین اور پیغمبر کی معیت سے ہمیشہ سرفراز و سرشار رکھنا تاکہ ہم اس دن کی اس ہولناک رسوائی سے بچ سکیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الراحمین۔ بہرکیف قیامت کی رسوائی بڑی ہی ہولناک ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
417 اللہ کا وعدہ قطعی اور پکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بندگان صدق وصفا اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور مزید عرض کرتے ہیں بیشک تو [ اے اصدق القائلین ] خلاف ورزی نہیں کرتا اپنے وعدے کی۔ پس تیرے وعدوں کی خلاف ورزی کا تو کوئی خدشہ و امکان بہرحال نہیں لیکن اس بات کا ڈر اور خطرہ ضرور ہے کہ ہم کہیں نفس اَمّارہ اور شیطان مردود کے اغواء اور دھوکہ میں آ کر راہ حق سے بھٹک نہ جائیں۔ پس تو اے ہمارے مالک ! اپنے کرم اور اپنے لطف و عنایت سے ہماری حفاظت فرما اور ہمیں ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنا نصیب فرما۔ اور ہمیں ہر زیغ و زلل سے محفوظ رکھنا۔ آمین۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ اولوا الالباب کی طرف سے حق کی یہ تائید دعوے کی شکل میں نہیں بلکہ دعاء کی شکل میں سامنے آئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے اس { اٰمَنَّا } کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس پر فخر کا اظہار کرنے کی بجائے نہایت عاجزی اور فرونتی کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیا کہ مالک ! جس طرح تو نے اپنے کرم سے ہمیں اس ایمان کی توفیق بخشی، اسی طرح ہمیں اس راہ کی مشکلات اور ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرما ۔ فانک انت المستعان وعلیک التکلان ۔ سو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 3:195–198418 اللہ کسی کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان سچے اہل ایمان کی دعاؤں کو قبول فرما لیا اور ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سے کسی شخص کے عمل کو کبھی ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت۔ بلکہ میں ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دیتا ہوں، بلکہ کئی گنا بڑھا کردیتا ہوں۔ اور اتنا دیتا ہوں اور اس طرح دیتا ہوں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ بلکہ انسان اپنے عمل کو بھول بھی جائے گا مگر وہ نہیں بھولے گا۔ بلکہ وہ اس کو محفوظ رکھے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کا پورا بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ سورة مجادلہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ } الاٰیۃ (المجادلۃ : 6) ۔ یعنی " یہ لوگ تو اپنے کئے کو بھول گئے ہیں مگر اللہ نے اس کو محفوظ رکھا ہوا ہے "۔ اسی لئے حدیث قدسی میں فرمایا گیا ہے " اِنَّمَََا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہََا لَکُمْ ، فَمَنْ وَجَدَ خَیْْرًا فَلْیَحْمَد اللّٰہَ ، وَمَنْْ وَجَدَ غَیْرَ ذَالِکَ فلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہ " یعنی " تمہارے اعمال اے لوگو ! تمہارے اپنے ہی لئے ہیں۔ میں تو ان کو تمہارے لئے محفوظ رکھتا ہوں۔ پس کل فیصلے اور بدلے کے اس موقع پر جو کوئی اچھائی پائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اسی کی توفیق و عنایت سے اس کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔ اور جس کا معاملہ اس کے برعکس ہو تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے کہ اس کا ذمہ دار وہ خود ہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ اللہ کسی کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا۔
419 مرد اور عورت کی جزا میں مساوات کی علت اور سبب کا ذکر وبیان : سو مرد اور عورت کی جزا میں اس مساوات کی علت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب باہم ایک ہو : اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے، اور اس لحاظ سے کہ تم سب کا تعلق ایک ہی باپ اور اس کی اولاد سے ہے۔ اس لئے سب کیلئے قانون و ضابطہ بھی ایک ہی ہے کہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ کسی کا کوئی حق نہیں مارا جائے گا۔ سو اس چھوٹے سے جملے سے جاہلیت کے ان تمام تصورات کی جڑ کاٹ دی گئی جو عورت کو اس کی فطرت وجبلت کے اعتبار سے ہی مرد سے کمتر مخلوق مانتے تھے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا عمل کے اعتبار سے مرد اور عورت دونوں باہم ایک برابر ہیں۔ نیز اس جملے سے اس بات کی دلیل بھی بیان فرما دی گئی کہ مرد اور عورت کا عمل باہم یکساں وزن کیوں رکھتا ہے۔ سو بتادیا گیا کہ اس لئے کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔ دونوں ایک ہی ماں باپ سے ہیں۔ اس لئے محض خلقت وجبلت کے اعتبار سے کسی کو کسی پر کوئی فوقیت و فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت و فوقیت کا تعلق انسان کے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار سے ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہ اَتْقَاکُمْ } سو محض نسل ونسب کی بنا پر اکڑنے اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے کی کوئی تک نہیں۔
420 بعض اہم اعمال کا ذکر وبیان : سو اس سے عزت و عظمت سے ہمکنار کرنے والے بعض خاص اور اہم اعمال کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ پس یہ ان کے بعض ان اہم اور خاص اعمال کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو وہ اپنے دین و ایمان کی خاطر اور اپنے رب اور خالق ومالک کی رضا کے حصول کیلئے بجا لاتے ہیں۔ اور جن کی بنا پر وہ اس کے یہاں سے خاص رحمت و عنایت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اور جو انسان کو عزت و عظمت اور شرف و منزلت سے ہمکنار و بہرہ مند کرنے والے اعمال ہیں۔ سو انسان کی اصل قدر و منزلت اس کے عمل و کردار سے ہے نہ کہ حسب و نسب اور قوم وغیرہ سے۔ کہ یہ مصنوعی چیزیں لوگوں نے ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ سو اللہ کی راہ میں ہجرت اور جہاد کرنا اور اس کی راہ میں مصائب جَھیلنا اور تکلیفیں برداشت کرنا حقیقی عزت و عظمت اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز کرنے والے اعمال ہیں۔ جیسا کہ اسلام کے اس ابتدائی اور انتہائی نازک دور میں اسلام کے سچے علمبرداروں نے کر کے دکھلایا۔ انہوں نے راہ حق میں ہر طرح کی قربانی دی اور ہر قسم کی مشقت برداشت کی۔ سو ایسے اعمال کو اپنانے کی کوشش کرنا ہی اصل مقصود ہے۔
421 شہادت فی سبیل اللہ کی عظمت شان کا ذکر : سو اللہ کی راہ میں شہید ہونا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا صدق ایمان کا ایک واضح نشان اور کھلا ثبوت ہے۔ سو اس طرح انہوں نے اپنے قول و فعل سے اپنی صداقت اور اپنے ایمان و یقین کی پختگی کا ثبوت پیش کردیا۔ سو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء و خوشنودی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایسے حضرات کے صدق ایمان اور پختگی یقین کی ایک واضح نشانی اور کھلا ثبوت ہے۔ اس لئے کہ انسان کے نزدیک اس کی جان ہی سب سے زیادہ قیمتی شیٔ ہوتی ہے۔ سو ایسے سچے مسلمانوں نے اپنے دین و ایمان کی خاطر اسلام کے اس نازک دور میں جان و مال کی ہر قربانی دی اور دشمنان اسلام کی طرف سے لرزہ خیز مظالم سہنے اور ان کے ظلم و ستم کا ہدف بننے کے باوجود انہوں نے کبھی پائے استقامت میں لغزش نہ آنے دی۔ سو یہ اسلام کا ایک معجزہ ہے کہ اس طرح کی ہولناک ستم رانیوں کے باوجود دشمنان اسلام کسی ایک بھی شخص کو اسلام سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ والحمد للہ رب العالمین۔
422 جنت کی عظیم الشان نہروں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں۔ ایسے صاف و شفاف اور ستھرے نکھرے اور عمدہ پانی کی جو کبھی خراب نہ ہو۔ اور ایسے عمدہ و بےمثل دودھ کی جس میں کبھی فرق نہ آئے اور اس کا مزہ کبھی بدلنے نہ پائے۔ اور ایسی نفیس اور عمدہ شراب کی جو سراسر لذت و سرور ہوگی پینے والوں کیلئے۔ اور اس میں اس طرح کی کوئی ایسی خرابی نہ ہوگی جو دنیاوی شرابوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ اور وہاں نہریں ہوں گی ایسے عمدہ و بےمثل شہد کی جسے ہر طرح کی کدورت سے پاک و صاف کردیا گیا ہوگا۔ تو اس طرح کی عمدہ اور عظیم الشان نہریں ایسے خوش نصیبوں کیلئے وہاں موجود ہوں گی جیسا کہ سورة محمد وغیرہ میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہی ۔ اے اللہ، اے بےانتہا کرم والے اللہ، ہم سب کو اپنے کرم سے ان نعمتوں سے سرفراز ومالا مال فرما دے ۔ آمین۔ سو کیسے محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس جنت اور اس کی ان عظیم الشان اور مثالی نعمتوں سے منہ موڑ کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیا کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغٍ وَّضَلَالٍ وَسُوْئٍ وَّاِنْحِرَافٍ-
423 اللہ کی طرف سے ایک عظیم الشان اور بےمثال صلہ وبدلہ : سو ان کو اس سے نوازا جائے گا اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ملنے والے ایک عظیم الشان صلہ و بدلہ کے طور پر۔ { ثَوَابًا مِّنْ عِنْد اللّٰہِ } کے اس چھوٹے سے جملے میں دو عظیم الشان حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ ان کے اعمال کا ایک طبعی نتیجہ ہوگا جس سے ان کو سرفراز فرمایا جائے گا۔ کیونکہ ثواب کے اصل معنیٰ اور اس کا لغوی مفہوم لوٹنے اور رجوع کرنے کا ہے۔ اور کپڑے کو بھی " ثوب " اسی لئے کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں یہ طریقہ ہوا کرتا تھا کہ کپڑا بنانے والے ایک آدمی سے سوت لیتے اور پھر اس کا کپڑا بنا کر اس کو واپس لوٹا دیتے۔ تو یہ اس کا اپنا ہی سوت ہوتا تھا جو اب کپڑے کی شکل میں اس کو واپس مل جایا کرتا تھا۔ اس لئے اس کو " ثوب " کہا جاتا تھا۔ پھر اس کا اطلاق عام ہوگیا اور ہر کپڑے کو " ثوب " کہا جانے لگا۔ جیسا کہ عربی لغت میں بکثرت ایسے ہوتا ہے۔ اور اس کی بیشمار مثالیں پائی جاتی ہیں۔ تو اس سے اس حقیقت کی تصدیق و تائید ہوگئی کہ ہر عمل کا اپنا ایک طبعی اثر و نتیجہ ہوتا ہے جو عامل کی ذات اور اس کی شخصیت میں پیدا ہوتا اور نشوونما پاتا ہے۔ چناچہ نیک اعمال اس کے تزکیئے کے ذریعے اس کو جنت کی ان سدا بہار نعمتوں کا اہل بنادیں گے اور اس کو ان سے ہمکنار کردیں گے۔ جبکہ برے اعمال اس کو خواہشات کی دلدل میں پھنسا کر اور اسے اوندھے منہ نیچے گرا کر ہاویہ جہنم میں پہنچا دیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قرآن حکیم نے اس حقیقت کو دوسرے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں اور طرح طرح سے واضح فرمایا ہے مثلا سورة شمس میں ارشاد ہوتا ہے { قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسََّاہَا } یعنی " کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاک کرلیا اپنی جان کو (آلائشوں اور نجاستوں سے) اور ناکام و نامراد ہوگیا وہ جس نے دھنسا دیا اس کو (ان آلائشوں اور غلاظتوں میں " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری اہم حقیقت جو اس آیت کریمہ کے اس مختصر سے جملے میں ارشاد فرمائی گئی ہے یہ ہے کہ ان خوش نصیب اور پاکیزہ حضرات کو ملنے والا یہ اجر وثواب بہت بڑا ہوگا۔ کیونکہ ایک تو { ثوابًا } کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے اور دوسرے اس لئے کہ اس میں { مِنْ عِنْد اللّٰہْ } کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ تو جب اس واہب مطلق کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں تو پھر اس کی بخشش و عطا بھی اسی قدر اور اسی کی شان کے مطابق بڑی اور عظیم ہوگی ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے اپنے اس عظیم الشان شرف و اعزاز سے مشرف فرمائے ۔ آمین۔ نیز تیسرا پہلو اس ارشاد ربانی کا اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان کرم و عطا کا یہ ہے کہ وہ جنت اور اس کی بےمثال اور لامحدود نعمتوں سے سرفرازی کو اپنے بندوں کے عمل کا صلہ اور بدلہ قرار دیتا ہے۔ حالانکہ بندہ کے محدود و مختصر عمل میں اس کی گنجائش ہی کہاں کہ وہ جنت کی ان ابدی اور سدابہار نعمتوں کا بدلہ اور ان کا مقابل بن سکے۔ سو یہ اس مالک المک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے کرم بےپایاں ہی کا ایک مظہر ہے کہ وہ جنت کی ان ابدی اور سدابہار نعمتوں کو اپنے بندوں کے عمل کا صلہ و بدلہ قرار دے رہا ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
424 سب سے عمدہ بدلہ اللہ ہی کے پاس :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے پاس ہے سب سے عمدہ بدلہ۔ اتنا کامل اور اس قدر عمدہ و عظیم الشان کہ اس کا تصور کرنا بھی کسی انسان کے بس میں نہیں۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ میں نے اپنے نیک اور صالح بندوں کیلئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے سورة سجدہ کی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی { فَََلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃ اَعْیُنٍ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } پس مومن کو چاہیئے کہ ہمیشہ اسی اجر وثواب کو اپنا مطمح نظر اور مقصد حیات بنائے، نہ کہ دنیائے دوں کے متاع غرور اور حطام فانی و زائل کو۔ اور ایسا عمدہ بدلہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کہیں سے ملنا ممکن ہی نہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ایسی ہستی ہے جسکے خزانے کبھی ختم ہونے والے نہیں اور جسکی عطا و بخشش کا کوئی حد و کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ داتا جس کو چاہے دے اور جتنا چاہے دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ہمیشہ اسی سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرتے رہنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 3:199428 دوہرے اجر کے مستحقوں کا ذکر : سو اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کیلئے دوہرے اجر کی بشارت ہے جو ان کی امتیازی شان کے لائق ہوگا۔ سو پہلے عام اہل ایمان کے اجرو ثواب کا بیان تھا۔ اب یہ خاص اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے حضرات کے اجر کا بیان ہے کہ ان کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر وہ محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ اور دوسرا وہ غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جسکے پاس باندی ہو تو وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے پھر اس کو آزاد کر کے اس سے خود نکاح کرلے۔ (بخاری، کتاب العلم، باب تعلیم الرجل امتہ و اھلہ، مسلم کتاب الایمان) ۔ بہرکیف اوپر کی آیات کریمات اور بحیثیت مجموعی اس پوری سورة کریمہ میں ہٹ دھرم اور ہویٰ و ہوس کے پجاری اہل کتاب کے رویے کی شدید مذمت فرمائی گئی ہے۔ اب آخر میں ان حق پرست اہل کتاب کی تحسین فرمائی گئی ہے جو اپنی سابقہ کتابوں پر بھی ایمان لائے اور اس کے مطابق راہ حق پر قائم رہے۔ اور اب وہ دولت اسلام سے بھی مشرف و سرفراز ہوئے۔ سو ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لئے ان کا وہ اجر ہے جو ان کے لئے خاص ہے اور جس کے یہ اپنے صدق و اخلاص کی بناء پر مستحق ہیں ۔ والحمد للہ ۔ سو قدق و اخلاص عظیم الشان دولت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 3:200429 فلاح کا مفہوم اور اس سے سرفرازی کا طریقہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یہ اور یہ کام کرو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ اور فلاح کا حصول اور اس سے سرفرازی اصل مقصود اور گوہر مطلوب ہے جسکے معنیٰ ہیں کہ انسان دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی امن و سکون اور خیرو برکت والی پاکیزہ زندگی یعنی حیات طیبہ سے سرفراز ہوجائے۔ اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی رضائے خداوندی اور نعیم جنان سے فائز المرام ہوجائے۔ اور اس مقصد جلیل کیلئے اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو چار باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ایک " صبر " یعنی راہ حق پر پکے اور ثابت قدم رہو اور دوسرے " مصابرت " یعنی دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدمی و پامردی۔ اور تیسرے " مرابطہ " یعنی حق کی خدمت و اتباع کیلئے تیار و مستعد رہنا اور دشمنوں کی شر انگزیوں کے بارے میں چوکنے اور بیدار رہنا۔ اور چوتھے تقویٰ و پرہیزگاری کا اہتمام والتزام۔ جو کہ اصل میں ایسے تمام امور کیلئے سرچشمہ قوت ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر جامع اور انقلاب آفرین ہے یہ آیت کریمہ ؟ ۔ اَللّٰھُمَّ وَفّقِتْاَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَل وَاَعِنَّا عَلٰی اَعْدَائِناَ فِی الدّیْن وَالدُّنْیَا مِنَ النَّفّْس وَشَیَاطِیْن الْجِنّ وَالْاِنْس ۔ اور فلاح ہی اصل مقصود اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔ بہرکیف آیت کریمہ میں فلاح کے حصول اور اس سے سرفرازی کا طریقہ تعلیم و ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ اللہ ہم سب کو محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الراحمین یا من بیدہ ملکوت کل شیء وہو یجیر و لا یجار علیہ -
14 ۔ شوال 14 15 ہجری مطابق 15 مارچ 1995 ء بروز بدھ، سطوہ، دبی۔