Ayah 3:1532 تقویٰ و پرہیزگاری فوز و فلاح کی اصل اور حقیقی بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے تقوی کی زندگی گزاری ہوگی اور انہوں نے خواہشات نفس کو ترک کر کے رضائے خداوندی کو اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنایا ہوگا ان کے لیے ان کے رب کے یہاں ایسی عظیم الشان جنتیں ہونگی جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی۔ سو ان کو ان کے تقویٰ کے عوض آخرت کی اس حقیقی زندگی میں وہ من چاہی زندگی گزارنے کی سعادت نصیب ہوگی، جو یہاں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی، کہ وہاں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ } (حٓمٓ السجدہ۔ 3 1) یعنی " تمہیں وہاں پر ہر وہ چیزملے گی جسکی تم خواہش کرو گے اور تمہیں وہاں پر ہر اس چیز سے نوازا جائیگا جو تم مانگو گے " تو کیا دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی یہ شان ہوسکتی ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو اہل جنت کو جس بادشاہی سے وہاں نوازا جائے گا اس کے سامنے دنیاوی بادشاہی کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔ اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی بادشاہی سے سرفرازی کے لئے اولین اساس اور بنیادی تقاضا ہے تقویٰ و پرہیزگاری سے سرفرازی اور تقویٰ کا مفہوم ہے " بچنا " یعنی ہر اس چیز سے بچنا جو رب تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس میں سب سے پہلے کفر و شرک اور الحادو بےدینی سے بچنا ہے اور اس کے بعد جملہ معاصی وذنوب سے بچنا ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَ عَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
33 رضائے خداوندی کی نعمت سب سے بڑی نعمت : سو رضائے خداوندی کی یہ نعمت جو ان خوش بختوں کو نصیب ہوگی بڑی ہی عظیم الشان نعمت ہوگی جو کہ باقی تمام حسی نعمتوں سے کہیں بڑھ کر نعمت ہوگی۔ بلکہ جنت کی طلب ہی درحقیقت اس لئے ہے کہ وہاں پر رضائے خداوندی کی اس عظیم الشان اور بےمثل نعمت سے سرفرازی نصیب ہوگی (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ اللہ اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے ہم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو جنت کی نعمتیں بھی دنیاوی نعمتوں کی طرح دو قسم کی ہونگی۔ ایک ظاہری اور حسی، جیسے کھانے پینے کے بیشمار سامان اور ایسی پاکیزہ بیویاں جن کو ظاہری اور باطنی ہر طرح کے عیوب سے پاک صاف کردیا گیا ہوگا۔ اور دوسری قسم ہوگی رضائے خداوندی کی اس نعمت کی جو کہ معنوی نعمت ہوگی۔ اور جو دوسری تمام حسی اور ظاہری نعمتوں سے کہیں بڑھ کر اعلی وارفع ہوگی۔ سو اس آیت کریمہ کے اندر اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اہل جنت بھی مختلف درجات پر ہوں گے۔ ایک وہ جن کی نظر ظاہری اور حسی نعمتوں تک ہی محدود ہوگی اور دوسرے وہ جو رضائے خداوندی کی معنوی نعمت ہی کو اصل مقصود سمجھتے ہیں۔ (تفسیر المراغی) ۔ اَللّٰہُمَّ فَشَرِّفْنَا بِنَعِیْم جَنَّتِکَ وَبِمَرْضَاتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَ یَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِیْنَ ۔ انک انت السمیع القریب المجیب وعلی ما تشاء قدیر ۔ الیک نتضرع وبک نستعین فی کل حین وآن وبکل حال من الاحوال -
34 اللہ اپنے بندوں کو پوری طرح دیکھتا ہے : سو وہ پوری طرح دیکھتا اور جانتا ہے کہ کون کیا کرتا ہے اور کس نیت و ارادہ اور کس غرض و مقصد سے کرتا ہے۔ اسی کے مطابق وہ ہر کسی کو اس کی اس سزا و جزا سے نوازیگا جس کا وہ اہل اور لائق ہوگا۔ پس ہر کسی کو ہمیشہ یہی بات پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سے میرا معاملہ کیسا ہے، اور میں وہاں کیا جواب دوں گا ؟ ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضاء و خوشنودی ہی کو پیش نظر رکھنے کی سعادت و توفیق سے نوازے ۔ اور اس ارشاد میں کہ اللہ پوری طرح دیکھتا ہے اپنے بندوں کو تہدید و تخویف اور تسلیہ و تسکین کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہاں پر سیاق وسباق کے لحاظ سے تسلیہ و تسکین کا پہلو زیادہ نمایاں اور واضح ہے لیکن اپنے اصل اور عموم کے لحاظ سے یہ ان دونوں ہی پہلوؤں کو عام اور شامل ہے۔ سو اس میں تسلیہ و تسکین ہے ان خوش نصیبوں کے لئے جنہوں نے تقویٰ و پرہیزگاری کی روش کو اپنائے رکھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے صدق و اخلاص اور ان کی قربانیوں کو پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ وہ ان کو ان کے صلہ وبدلہ سے ضرور نوازے گا اور بھرپور طریقے سے نوازے گا اور اس میں تہدید و تخویف ہے منکرین و مخالفین کے لئے کہ وہ حق اور اہل حق کے خلاف جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ سے مخفی نہیں۔ اس لئے وہ اپنے کئے کرائے کے بھگتان کے بھگتنے سے کبھی بچ نہیں سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:1635 ایمان کے وسیلے سے دعا : سو ایسے خوش نصیب لوگ اپنے رب کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے۔ پس تو بخشش فرما دے ہمارے گناہوں کی اور ہمیں بچا دے دوزخ کی آگ سے۔ سو اس میں ایمان کے وسیلے اور صدقے میں عذاب دوزخ سے بچنے کی دعاء و درخواست کی تعلیم و تلقین ہے۔ یعنی ایمان و یقین کی اسی دولت کے طفیل جو تو نے ہم کو بخشی ہے اور جس سے تو نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں نوازا ہے، اسی کے طفیل ہمارا کام بنا دے کہ جو لغزشیں اور خطائیں ہم سے سرزد ہوگئیں، یا آئندہ ہونگی ان سب کی بخشش فرما کر ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے، اور دوزخ کے عذاب سے بچانے کی درخواست کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا کہ جس کو اس عذاب سے بچا لیا گیا وہ یقینا کامیاب ہوگیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی چناچہ ارشاد ہوتا ہے { فمَنْ زُحْزِحَ عَن النَّار وَاُدْخِل الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ، وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ اَلغُرُوْرِ } (آل عمران۔ 185) یعنی " جس کو دوزخ سے بچا کر جنت سے سرفراز فرما دیا گیا وہ یقینا کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:1736 اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا شعار توبہ و استغفار : یعنی وہ اپنی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری کے باوجود اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں کا احساس رکھتے، اور اپنے خالق ومالک کے حضور ان کا اقرار و اعتراف کرتے، اور اس سے مغفرت و بخشش کی دعاء و درخواست کرتے ہیں، اور رب تعالیٰ اور اس کے حقوق کی عظمت اور اپنے عجز و انکسار کے پیش نظر وہ رات کے پچھلے حصوں میں جبکہ دنیا غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہوتی ہے، وہ اٹھ اٹھ کر اس کے حضور توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، جو کہ دعاؤں کی قبولیت، اور اس کی باران رحمت و عنایت کے نزول کے خاص اوقات ہوتے ہیں۔ اور ان وقتوں میں اٹھنا نفس پر بڑا گراں ہوتا ہے یہ ایمان و یقین کی قوت ہی ہے کہ جو انسان کو آرام و راحت اور سکون و غفلت کے ان اوقات میں ابھارتی اور آمادہ کرتی ہے۔ بہرکیف یہاں پر اللہ کے خاص بندوں کی صفات کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ اللہ ان سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین۔ بہر کیف یہاں پر ان خوش نصیبوں کی خاص صفات بیان فرمائی گئی ہیں جو تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ کو اپناتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل کردینے والی مرغوبات سے دستکش ہو کر صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سو ان کی یہاں پر پانچ صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں صبر، صدق، قنوت، انفاق اور استغفار۔ اللہ نصیب فرمائے۔ اور اس قدر کہ وہ مالک راضی ہو ہوجائے۔ سبحانہ وتعالی ۔ ولا حول ولا قوۃ الا بہ جل وعلا -
Ayahs 3:18–1937 اللہ کی گواہی اس کی وحدانیت ویکتائی پر : اور اس نے یہ گواہی اپنے انبیاء و رسل کرام کے ذریعے بھی دی، کہ سب نے ہمیشہ یہی اولین پیغام دنیا کو دیا کہ اے لوگو ! ایک اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں، اور اپنی نازل فرمودہ کتب و صحف کے ذریعے بھی اس نے یہی گواہی دی، کہ ان سب میں بھی یہی پیغام تھا۔ نیز اپنے تخلیق فرمودہ اس صحیفہ کائنات میں بھی اس نے اپنی وحدانیت ویکتائی کی گواہی اس قدر موثر اور قوی انداز میں ودیعت فرما دی کہ اس کی ہر ہر چیز پکار پکار کر اپنی زبان حال سے یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہے ۔ فِفِیْ کُلّ شَیْئٍ لَہٗ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلٰی اَنَّہٗ وَاحِد ۔ نیز جیسا کہ فرمایا گیا کہ زمین سے اگنے والی ہر انگوری اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے۔ ہر گیا ہے کہ َاز زمین روید ۔ وحدہ لاشریک می گوید۔ بہرکیف یہ پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز اپنی زبان حال سے گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق ومالک واحد و یکتا اور " قائم بالقسط " ہے۔ اور شمس و قمر شجروحجر اور زمین و آسمان اپنی زبان حال سے ہر وقت یہ درس دیتے ہیں کہ وہ اپنے خالق ومالک کے مقرر فرمودہ پیمانے سے سرمو تجاوز نہیں کرسکتے۔
38 اللہ کے فرشتوں اور اہل علم کی گواہی اس کی توحید و وحدانیت کیلئے : سو فرشتے اور اہل علم سب اللہ پاک کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اپنی زبان وبیان، حجت وبرہان، اور دلائل نقلیہ و عقلیہ کے ذریعے۔ یہاں تک کہ آج کھلے مشرک بھی اپنے آپ کو مشرک کہنے سے شرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ایسے علمائے حقانیین کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے، اور ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز فرمائے، اور ہم جیسے طالب علموں کو بھی انہی کے زمرے میں شامل فرما دے۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَیْہ بِعَزِیر۔ وَھُوَعَلیٰ کُل شَیٍٔ قَدِیِر۔ اس ارشاد ربانی میں علمائ ربانیین کی ایک بڑی فضیلت و مزیت کا ذکر وبیان ہے کہ ان کی گواہی کو فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا گیا ہے، جبکہ فرشتوں کی گواہی کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی گواہی پر معطوف کرکے اور اس کی گواہی کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے عقیدہ توحید اور وحدانیت خداوندی کی عظمت شان کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کتنے بہکے بھٹکے، اور کس قد بگڑے ہوئے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود توحید کے عقیدہ صافیہ سے انکار و انحراف کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ انہی فرشتوں کو خدا کا شریک اور اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں جو کہ اس وحدہ لا شریک کی توحید و وحدانیت اور اس کی یکتائی کی گواہی دینے میں مصروف ہیں۔
39 اللہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے : پس نہ کوئی مجرم اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ اور کوئی امر و ارشاد حکمت سے خالی ہوسکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی رضا کا حصول دین حق اسلام ہی کے ذریعے ممکن ہوسکتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے کلی طور پر اپنے آپ کو اپنے خالق ومالک کے حوالے کر دے۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجا لائے، کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہی دین حق ہمیشہ سے رہا ہے اور یہی ہمیشہ رہے گا۔ اور اسی کی دعوت ہر پیغمبر نے اپنے اپنے دور میں دی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے { وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّآ نُوْحِیْ اِلَیْہ اَنَّہٗ لا اِلٰہَ الا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ } (الانبیائ۔ 25) ۔ پس جن لوگوں نے اسلام کے سوا اور دین گھڑے وہ کبھی بھی ان سے قبول نہیں ہوں گے۔ اور ایسے لوگ سخت خسارے میں ہیں اور خسارے ہی میں رہیں گے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ اور خاص کر آخرت میں، جیسا کہ آگے اسی سورة کریمہ کے ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے { وَمَنْ یََّّبْتَغ غَیْرَ الْاِسْلام دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الاٰخِرَۃ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } (آل عمران۔ 85) ۔ سو اس سے صاف ہوگیا کہ دین حق صرف اسلام ہے، اور اس کے سوا کوئی بھی دین قابل قبول نہیں۔ پس بعض ماڈرن لوگوں کا یہ کہنا کہ سب ہی دین ٹھیک ہیں۔ سب ہی اللہ کی طرف بلاتے اور امن و آشتی کا پیغام دیتے ہیں، سراسر غلط بات اور ایک مردود قول ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُل زَیْغٍ وَضَلاَلٍ ۔ بہرکیف اللہ پاک کی صفت عزیز یعنی اس کے زبردست ہونے کو سامنے رکھتے ہوئے انسان کو کبھی اس کی گرفت و پکڑ سے بےخوف و نڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ نیز اس کی طرف سے ملنے والی ڈھیل سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ چیز اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے، اور انسان اپنے کیے کرائے کے انجام اور بھگتان بھگتنے سے کبھی بچ نہیں سکتا۔ ڈھیل بہرحال ڈھیل ہوتی ہے جو بہرحال ختم ہوجاتی ہے۔
Ayah 3:2041 اہل باطل سے اظہار بیزاری : یعنی ہم نے تو بصدق و رضا دین حق کو قبول کرلیا اور توحید کے عقیدہ صافیہ کو اپنا لیا۔ تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی۔ ہم تو بہرحال اس راہ حق و صواب سے ہٹنے والے نہیں۔ یہ منکرین و معاندین کیلئے اہل حق کا آخری جواب ہے، جیسا کہ سورة کافرون میں ارشاد فرمایا گیا { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنٌ } (الکافرون۔ 6) ۔ سو یہ اہل باطل سے اظہار بیزاری ہے کہ تم لوگ اگر نہیں مانتے تو ہمارا راستہ اور تمہارا راستہ الگ ہے کہ ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ پیغمبر کا کام حق کا پیغام پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر اس کا منوا لینا نہ پیغمبر کے بس میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری۔ " بررسولاں بلاغ است و بس "۔ سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان سے صاف طور پر کہہ دیں کہ ہم نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا، اور اپنی گردن اس کے آگے ڈال دی ہے۔ اب اگر تم بھی ایسا کرتے ہو، اور اس راہ میں ہمارے شریک بنتے ہو تو ٹھیک، تمہارے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے دروازے کھل سکتے ہیں ورنہ تمہارا راستہ الگ اور ہمارا الگ۔ تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ سو اس میں اہل باطل سے اظہار و اعلان بیزاری کا درس ہے۔
42 " اُمّیّون " سے یہاں پر مراد ؟ : یہاں پر " اُمّیّون " سے مراد غیر اہل کتاب ہیں (صفوۃ البیان) ۔ اس طرح قل کے اس ارشاد سے فرمایا جانے والا یہ سوال تمام لوگوں سے ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ اس لئے کہ دنیا بھر کے لوگ ان ہی دو قسموں پر مشتمل ہیں۔ اھل کتاب اور غیر اہل کتاب۔ پس یہ سوال سب ہی کی طرف متوجہ ہے۔ اس طرح یہ بھی ان اہم اور صریح دلائل میں سے ایک ہے جو آنحضرت ﷺ کی عموم بعثت کو واضح کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن و سنت کی دوسری بہت سے نصوص اس کی تصریح کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کا پیغام قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کیلئے ہے، جبکہ آپ ﷺ سے پہلے ہر پیغمبر کی بعثت ایک خاص قوم اور خاص زمانے کیلئے ہوا کرتی تھی، جیسا کہ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے خود اس کی تصریح فرمائی ہے۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ ۔ بہر کیف پیغمبر سے فرمایا گیا کہ آپ نے ان لوگوں کو دعوت دینے کا فریضہ پورا کرلیا، اور اس ذمہ داری کا حق ادا کردیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقتوں اور ہٹ دھرمیوں ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ اب ان کا فیصلہ اللہ وحدہ لاشریک کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا جس کا وہ مستحق ہے لہذا ان کا معاملہ اسی پر چھوڑ دیا جائے۔ سبحانہ وتعالی -
43 پیغمبر کی ذمہ داری صرف تبلیغ حق اور بس : اور تبلیغ حق کی یہ ذمہ داری آپ نے پوری کردی اور بتمام و کمال پوری کردی۔ پس اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں وہ اپنی گمراہی اور اپنی بربادی و تباہی کے خود ذمہ دار ہیں ‘ آپ ﷺ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ راہ حق پر ڈال دینا اور حق کو منوا دینا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ آگے ان سے نمٹنا اور ان کو ان کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دینا ہمارے ذمے ہے { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلَاغُ وَ عَلَیْنَا الحِسَاب } ہٹ دھرموں کو آپ ﷺ کے انذار اور آپ کی تبلیغ سے بہر حال کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ آپ ﷺ کے انذار اور آپ کی تبلیغ سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہوں اور وہ خدائے رحمن سے بھی دیکھے ڈرتے ہوں { اِنَّمَا تُنْذِرُ مَن اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بالْغَیْب فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍکَرِیْمٍ } (یٰس : 1 1) ۔
44 اللہ پوری طرح دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو : پس وہ پوری طرح واقف و آگاہ ہے کہ کون کہاں، اور کیا کر رہا ہے، اور اسی کے مطابق وہ ہر ایک کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پوا پورا بدلہ دے گا اور اس کا اجر عطا فرمائیگا۔ پس جس نے بھلائی کی تو اپنے ہی لئے کی۔ اور جس نے برائی کی تو اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس کوشش ہمیشہ اس کی ہونی چاہیئے کہ اپنے اس خالق ومالک سے معاملہ صحیح رہے کہ یہ اس کا اس کے بندوں کے ذمے حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کے لئے تسلی کا سامان ہے کہ تبلیغ حق کے بعد آپ ﷺ ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالے کردیں۔ وہ ان سے عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق خود نمٹ لے گا کہ وہ اپنے بندوں کو پوری طرح دیکھ رہا ہے اور ان کے جملہ احوال و کو ائف سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو داعی حق کی اصل ذمہ داری تبلیغ حق ہے اور بس۔ آگے منوا لینا نہ اس کی ذمہ داری ہے اور نہ اس کے بس میں۔ تبلیغ حق کی ذمہ داری کی تکمیل کے بعد معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔
Ayah 3:2145 نبیوں کا قتل بغیر کسی حق کے۔ والعیاذ باللہ : یعنی " نکرہ تحت النفی " عموم کیلئے مفید ہے۔ اور حضرات انبیائے کرام کے قتل کے حق ہونے کی کوئی صورت تو ممکن ہی نہیں کہ وہ پاکیزہ ہستیاں ہر طرح کے جرم اور ہر قسم کے عیب و قصور سے پاک و بری ہوتی ہیں۔ سو " بغیر حق " کے اندر پائے جانے والے اسی مفہوم کو ہم نے اپنے ترجمہ میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمدللہ ۔ پس عام طور پر اس موقع پر جو ترجمہ " ناحق " طور پر وغیرہ الفاظ سے کیا جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کا پورا ترجمہ نہیں بنتا۔ کیونکہ ناحق وغیرہ دراصل ترجمہ ہے " بغیر الحق " کا، جبکہ یہاں ارشاد ہے " بِغَیْر حَقٍّ " تنکیر کے ساتھ، اور عربی بلاغت و مفہوم کے اعتبار سے یہ دونوں تعبیریں برابر نہیں۔ اس لئے ہم نے اس کا ترجمہ " بغیر کسی حق کے " سے کیا ہے، تاکہ قرآنی بلاغت کا بقدر امکان اظہار ہو سکے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے قتل کا جرم جو ایک انتہائی سنگین جرم ہے، ظالم اور بدبخت لوگوں نے اس کا ارتکاب کیا اور اس طرح وہ دارین کی ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک گڑھے میں گرگئے اور ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ اور قتل انبیاء کے اس انتہائی سنگین اور نہایت ہولناک جرم کا ارتکاب یہود بےبہبود نے کیا۔ اول تو قتل ناحق خود ایک سنگین جرم اور بڑے گناہوں میں سے ہے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ قتل کسی نبی کا ہو تو اس کی سنگینی کے کہنے ہی کیا۔ سو یہود بےبہبود نے اس انتہائی ہولناک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ اسی لئے اس بدبخت قوم پر خدا کا غضب ٹوٹا اور یہ " مغضوب علیہ " قوم قرار پائی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
46 علمائے حقانیین کا قتل انتہائی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ : یعنی مصلحین کرام اور علمائے حقانیین کو، جو حق و انصاف کی دعوت دیتے، اور قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کا نور پھیلاتے ہیں۔ اَلفاظ کا عموم ہر دور کے ایسے علمائے کرام کو شامل ہے، جو حق کی حفاظت و آبیاری، اور خلق خدا کی ہدایت و خیر خواہی کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے، اور جنہوں نے اس کے لئے طرح طرح کی قربانیاں دیں، اور صعوبتیں برداشت کیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ اور آج بھی ساری دنیا میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اور حق کے دشمن ان کو قتل کرکے حق و ہدایت کی روشنی کو گل کرنے کی سعئ مذموم میں پہلے کی طرح آج بھی مصروف ہیں۔ بہرکیف علمائے حق، حق کی خاطر یہ قربانیاں دیتے رہے اور دیتے جارہے ہیں ۔ بنا کروند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن ۔ خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را ۔ فَرَحِمَہُمُ اللُّہُ رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً فِی الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃ وَتَقَبَّلَ جُہُوْدَہُمْ وَضَاعَفَ اَجُورَہُمْ وَ الثَّوَابَ ۔ بہرکیف علمائے حقانیین اور مصلحین کرام کا قتل ایک انتہائی سنگین جرم ہے۔ اسی لیے یہاں اس کو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے قتل کے سنگین اور نہایت ہولناک جرم کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہاں پر اس سے مراد، اور اس کا اولین مصداق وہ علمائے مخلصین اور مجددین کرام ہیں جو عام لوگوں سے اٹھتے ہیں اور انہوں نے یہود و نصاری کی تحریفات و بدعات کی اصلاح و تردید کا بیڑا اٹھایا اور انہوں نے از سر نو خدا کے دیئے ہوئے نظام حق و عدل کے مطابق ان کی زندگیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ تو یہود و نصاری کے بدبختوں نے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو انہوں نے خدا کے نبیوں کے ساتھ کیا۔ سو " اَلَّذِیْنَ یَامُرُوْنَ بالْقِسْط " کا اولین مصداق اگرچہ یہی حضرات علمائے و مصلحین ہیں لیکن الفاظ کا عموم ایسے تمام علمائے مصلحین کو شامل ہے جو ان کے بعد ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔
47 ایک نہایت سنگین جرم اور اس کا نہایت دردناک عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو حضرات انبیاء و مصلحین کا قتل نہایت سنگین جرم ہے اور ان کے قاتلوں کیلئے بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور ان کے بعد ان کے جانشین یعنی حضرات علماء و صلحاء کے قتل کے جس جرم عظیم کا ارتکاب ان بدبختوں نے کیا، وہ بہت بڑا اور نہایت ہی سنگین و ہولناک جرم ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ ۔ جیسا کہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کے روز سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہوگا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا، یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو نبی کی تعلیم دیتا اور برائی سے روکتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے قرآن پاک کی یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ نیز ارشاد فرمایا " ابو عبیدہ بنی اسرائیل نے ایک دن میں اور صبح کے ایک وقت میں تینتالیس انبیائے کرام کو قتل کیا۔ اس پر بنی اسرائیل کے ایک سو ستر علماء و صلحاء نے ان بدبختوں کو نصیحت فرمائی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا تو انہوں نے اسی شام کو ان سب کو بھی قتل کردیا (ابن جریر، معارف، المراغی وغیرہ ) ۔ سو یہود بےبہود کی قوم ایک بڑی منحوس قوم اور بدبخت جماعت ہے کہ انہوں نے من حیث الجماعت انبیائے کرام اور صلحائے عظام کے قتل کے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو ایک بڑے ہی درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جو ان کو بہر حال بھگتنا ہوگا اور ہمیشہ کے لئے بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ اس لئے کہ ایسے حضرات روشنی کے مینار اور دنیا کی اصلاح کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اور ان کا وجود قدرت کی ایک خاص عنایت ہوتا ہے۔ علیہم الرحمۃ والرضوان -
Ayah 3:2248 انبیاء و صلحاء کے قاتلوں کے سب عمل اکارت : کہ دنیا میں جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی جو نعمت انکو حاصل تھی اس سے یہ لوگ محروم اور مباح الدم ہوگئے، اور ذلت و خواری کے مستحق بن گئے۔ اور آخرت میں دوزخ کی آگ کا ایندھن بن گئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرات انبیاء و صلحاء کے قتل کا جرم کس قدر سنگین اور کتنا ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ ان لوگوں کے عمل دو قسم کے تھے۔ ایک وہ جن کو یہ لوگ اپنے طور پر نیکی اور ثواب کا کام سمجھ کر رہے تھے کہ یہ ان کو آخرت میں کام آئیں گے۔ سو ان کے ایسے کاموں کے آخرت میں ان کے کام آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں کام آنے کے لئے اولین شرط ایمان صحیح کی دولت سے سرفرازی ہے جس سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اور دوسری قسم ان کے اعمال کی وہ تھی جو یہ لوگ دین حق اسلام کی مخالفت اور اس کا راستہ روکنے کے لئے کرتے تھے۔ وہ بھی ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ دین حق بہرحال غالب آ کر رہے گا۔ ان کو اس بارے منہ کی کھانی پڑیگی۔ سو ان کے تمام اعمال اکارت چلے گئے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار اور مستحق نار ہوگئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -
49 انبیاء و مصلحین کے قاتلوں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہوگا : جو ان کو اللہ کی گرفت و پکڑ سے بچا سکے، اور دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب کو ان سے ٹال سکے، کہ ان کا جرم بڑا سنگین اور نہایت ہولناک جرم ہے۔ لہذا ان کو ہمیشہ کیلئے اس ہولناکی میں رہنا ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العَظِیْمِ ۔ اور یہ اس لئے کہ حقیقی ناصر و مددگار تو سب کا ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ اس کے تو یہ لوگ منکر اور باغی ہیں۔ اس لئے اس کی نصرت و امداد سے سرفرازی کی ان کے لئے کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور جن کو ان لوگوں نے از خود اور اپنے طور پر اپنا یا اور مددگار بنا رکھا تھا، اور ان کو یہ دنیا میں اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے، ان کی نہ کوئی اصل ہی اور نہ حقیقت۔ اس لئے ان میں سے کسی کے کام آنے کی کوئی صورت ہوگی ہی نہیں کہ وہ سب وہمی اور فرضی سہارے تھے جن کے اندر کسی کے کام آنے کی کوئی اہلیت اور صلاحیت سرے سے تھی ہی نہیں۔ سو ایسے لوگ دنیا و آخرت کی اس ذلت و خواری اور ناکامی و نامرادی سے نہ خود بچ سکیں گے اور نہ ہی ان کو کام آنے والا کوئی یار و مددگار مل سکے گا۔ اور تاریخ اس بات کی گواہ اور شاہدعدل ہے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن حکیم کی ہر پیشینگوئی حرف بحرف پوری ہوئی کہ اللہ کا عذاب آنے پر ان کے ان خود ساختہ سہاروں میں سے کوئی بھی انکے کام نہ آسکا۔ اور اصل عذاب تو ایسے بدبختوں کو آخرت میں بھگتنا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 3:23–2550 اہل کتاب کے قابل تعجب حال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک حصہ دیا گیا جس کے یہ حامل بھی ہیں اور اس پر ایمان کے دعویدار بھی۔ اور جس کی تعلیمات پر عمل کرنا اور کرانا ان کی ذمہ داری تھی اور ہے۔ ان سب باتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ ایسی ہر دعوت پر فوراً لبیک کہتے اور آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے، جو اللہ کی طرف سے ان کو ملتی، اور اس کے مقتضیٰ پر یہ لوگ دل و جان سے عمل کرتے ہیں۔ مگر یہ اس کے برعکس اس سے منہ موڑتے اور اعراض کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر دوسروں کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح ضلال واضلال کے دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ یہاں پر کتاب کے ایک حصہ " نصیبًا مِّنَ الْکِتَابِ " سے مراد تورات و انجیل وغیرہ آسمانی کتابیں ہیں اور " کتاب اللہ " سے مراد قرآن مجید ہے۔ کیونکہ جس طرح پچھلے آسمانی مذاہب اور شریعت اسلامیہ میں جز و کل کی نسبت ہے اسی طرح دیگر آسمانی کتابوں اور قرآن مجید میں بھی جزو و کل کی نسبت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شریعت انسانی ذہن اور انسانی معاشرے کے تدریجی ارتقاء کے مطابق درجہ بدرجہ پایہ تکمیل کو پہنچی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اب وہ دین اسلام کی شکل میں اپنی آخری اور کامل شکل میں موجود ہے اور قیامت تک دنیا کے لئے مینارہ نور کی حیثیت سے باقی رہیگی ۔ فالحمد للہ ۔ سو جو لوگ اس سے محروم ہیں وہ حق و ہدایت کے نور سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
5 1 قرآن پاک کے عدل و انصاف کا ایک نمونہ : قرآن پاک کے عدل و انصاف اور اس کی حق گوئی کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ یہ نہیں فرمایا کہ یہ سب ہی ایسے ہیں بلکہ فرمایا { فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ } یعنی ان میں کا ایک گروہ ایسا ہے۔ ورنہ ان میں اچھے اور انصاف والے بھی موجود ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سب برابر نہیں، بلکہ اھل کتاب میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو رات کے وقت (اٹھ اٹھ کر) اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے اور (اسی وحدہ لاشریک کے حضور) سجدہ ریز رہتے ہیں " { لَیْسُوْا سَوَائً مِّنْ اَہْل الْکِتَاب اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ} الایۃ (آل عمران آیت نمبر۔ 1 13) مگر ایسے لوگ ان میں تھوڑے ہی ہیں۔ زیادہ تر بدکار ہی ہیں، جیسا کہ سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا گیا { مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَّکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ } یعنی ان میں سے کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں مگر ان کی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے جو بڑے برے کام کرتے ہیں (المائدۃ۔ 66) ۔ اور ان کی وہ تھوڑی سی تعداد جو سیدھے راستے پر قائم، اور راست رو ہے، وہی دولت ہدایت و ایمان سے سرفراز ومالا مال ہوئی ہے، اور وہ ہی عدل و انصاف سے کام لیتی ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ہے { وَمِنْ قَوْم مُوْسٰی اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالْحَقّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ } (الاعراف۔ 159) اور یہی وہ خوش نصیب اور حق پرست و انصاف پسند لوگ ہیں، جن کو حضرت خاتم الانبیاء ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین ۔ پر اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب حکیم قرآن مجید پر ایمان لانے کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی، اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و ہمکنار ہوئے۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لَمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد وہو الہادی الی سواء السبیل -
52 اِعراض و بےرخی ایسے لوگوں کی دائمی عادت : یعنی { وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ } جملہ اسمیہ ارشاد ہوا ہے، جو کہ دوام اور استمرار پر ولالت کرتا ہے۔ یعنی اعراض و بےرخی کی ان کی یہ کیفیت کوئی وقتی اور عارضی بات نہیں، بلکہ یہ ان کا ایک مستقل وطیرہ اور دائمی روگ ہے، اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب کوئی شخص یا قوم خواہشات نفس کے پیچھے لگ جاتی ہے، وہ حق کی طرف رجوع کی توفیق سے محروم ہوجاتی ہے اور اس کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ سو اس ارشاد سے اہل کتاب کے اجتماعی مزاج پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حق سے اعراض و انکار ان کی کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں بلکہ یہ ان کا ہمیشہ طریقہ و وطیرہ اور دائمی روش ہے اور یہ چیز ان لوگوں کی فطرت ثانیہ اور قومی و اجتماعی مزاج بن گئی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -
Ayah 3:2657 حکومت و بادشاہی اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حکومت و بادشاہی بخشنا اور اس کا چھیننا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس تو ہی جانتا ہے اے ہمارے خالق ومالک ! کہ کس کو کیا دیا جائے اور کیا نہ دیا جائے۔ کون کس کے لائق ہے اور کون کس کے لائق نہیں۔ پس تو ہمیں اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے بادشاہی و حکومت سے نواز اور عزت و سلطنت عطا فرما، تاکہ تیرے دین کا بول بالا ہو، اور تیرے نام لیوا حق کو غالب اور باطل کو مغلوب و زیر کرنے کے لائق ہو سکیں۔ غزوہ احزاب کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ نے خندق کی کھدائی کے موقع پر سامنے آنے والی ایک چٹان پر ضرب لگائی تو اس سے ایک بڑی چنگاری نکلی، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے حمیر کے محلات دکھائے گئے ہیں۔ پھر دوسری ضرب لگانے پر چنگاری نکلی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے روم کے سرخ محلات دکھائے گئے ہیں۔ اور پھر تیسری ضرب پر جب چنگاری نکلی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی روشنی میں مجھے صنعاء کے محلات دکھائے گئے ہیں۔ اور جبریل امین نے مجھے بتایا ہے کہ ان تمام ممالک پر عنقریب ہی میری امت کا غلبہ و تسلط قائم ہوگا۔ اس پر کفار ناہنجار نے اس کا مذاق اڑایا کہ ان صاحب کو دیکھو کہ اپنے مخالفوں کے خوف کے مارے چھپنے کیلئے خندقیں کھود رہے ہیں، اور دعوے اتنے بڑے کر رہے ہیں کہ ان تمام ملکوں اور محلات پر ان کا غلبہ و تسلط عنقریب ہی قائم ہوجائے گا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ ان لوگوں کی ان ہرزہ سرائیوں سے قطع نظر کر کے آپ ﷺ اپنے خالق ومالک سے اس طرح عرض والتجا کرو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ (معارف للکاندھلوی، (رح) المراغی، الصفوۃ، وغیرہ) ۔ نیز اس قرآنی دعا کی تعلیم و تلقین میں دراصل اس طرف اشارہ ہے کہ اب یہود و نصاری سے دینی سیادت و قیادت چھن کر مسلمانوں کو ملنے والی ہے جو اب قیامت تک انہی کے اندر رہے گی۔ بہرکیف قرآن حکیم کے اس ارشاد سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت و اقتدار بخشنا اور اس سے محروم کرنا سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، لیکن آج کا جاہل مسلمان الیکشن جیتنے کیلئے طرح طرح کی قبروں اور مختلف ناموں کی خودساختہ اور فرضی سرکاروں کے چکر کاٹتا، ان کے طواف کرتا اور طرح طرح کے ننگ ڈھرنگ ملنگوں کے آگے ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ بنتا ہے اور بننا چاہتا ہے وہ قوم کا لیڈر و راہنما مگر اپنی عقل و خرد اور دین و ایمان کا حال یہ ہے کہ جگہ جگہ اس طرح کی ذلتیں اٹھاتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حکومت و اقتدار سے سرفراز کرنا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس سے محروم کرنا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 3:2758 دن رات کا ادلنا بدلنا قدرت کا عظیم الشان مظہر : سو دن کا رات میں اور رات کا دن میں داخل کرنا قدرت کی کارفرمائی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے جس سے کبھی رات بڑی اور کبھی دن۔ اور یہ نہایت ہی حکمت اور بڑی باریکیوں پر مشتمل ایک ایسا حیرت انگیز نظام ہے جس سے مخلوق کے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اور کسی کے بس اور اختیار میں نہیں کہ وہ اس میں کوئی رکاوٹ ڈال سکے۔ اور دن رات کے ادلنے بدلنے کا یہ سلسلہ چونکہ نہایت باریکی اور انتہائی پابندی کے ساتھ ہر لمحہ و لحظہ اور ہر حال میں جاری وساری رہتا ہے، اس لئے اس سے یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا حکم و تصرف اس کی اپنی اس کائنات میں ہر لمحہ و لحظہ جاری و کارفرما رہتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایسا نہیں کہ اس کائنات کو بناسنوار کر وہ اس سے الگ ہو بیٹھا ہو، جیسا کہ بہت سے ٹیڑھی کھوپڑی والوں کا کہنا اور ماننا ہے اور اس بنا پر وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے اور مہالک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور وہ اپنی اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کیلئے طرح طرح کی خودساختہ اور فرضی و وہمی سرکاروں اور ہستیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سو ایسا نہیں جیسا کہ اس طرح کے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ وہ قیوم السموات والارض اپنی اس کائنات میں ہر وقت اور ہر طرح کا تصرف فرماتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ -
59 اِحیاء واماتت قدرت کی حکمت و تصرف کا ایک اور عظیم الشان مظہر : سو مردہ کو زندہ سے اور زندہ کو مردہ سے نکالنا قدرت کی عظمت وحکمت اور اس کے حکم و تصرف کا ایک اور عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ جیسے چوزہ کو بیضہ سے اور بیضہ کو چوزہ سے، مادہ تولید سے جاندار کو، اور جاندار سے مادہ تولید کو۔ مومن کو کافر سے اور کافر کو مومن سے۔ موحد کو مشرک سے اور مشرک کو موحد سے۔ کیونکہ ایمان و توحید زندگی ہے اور کفر و شرک موت۔ جیسا کہ سورة انعام میں ارشاد فرمایا گیا { اَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًًًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاس کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰت لِیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا } الایۃ (الانعام۔ 123) ۔ یعنی " کیا ایسا شخص جو مردہ ہو پھر ہم (ایمان و یقین کی دولت سے نواز کر) اس کو زندگی بخش دیں، اور اس کو ایک ایسے عظیم الشان نور سے سرفراز کردیں، جس کو وہ لئے ہوئے لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو طرح طرح کے اندھیروں میں اس طرح پڑا ہو، کہ ان سے نکلنے ہی نہ پاتا ہو ؟ " اور اسی طرح زمین کے بارے میں بتایا گیا کہ بارش اور پانی سے قبل وہ مردہ پڑی ہوتی ہے، جس میں نہ کچھ اگتا ہے، نہ کوئی پیداوار ہوتی ہے، مگر پانی ملنے کے بعد وہ زندہ ہوجاتی ہے، جس سے طرح طرح کی انگوریاں پھوٹتی اور پیداواریں نکلتی ہیں۔ چناچہ سورة روم میں ارشاد ہوتا ہے { فَانْظُرْ الیٰ اٰثَار رَحْمَۃ اللّٰہ کَیْفَ یُحْی الاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } الآیۃ (الروم۔ 50) ۔ " سودیکھو اللہ (پاک سبحانہ و تعالی) کی رحمت کے آثار و نشانات کی طرف کہ کس طرح وہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے بعد کہ وہ مردہ پڑی ہوتی ہے "۔ سو اس طرح زندوں کو مردوں سے، اور مردوں کو زندوں سے نکالنے کا یہ حیرت انگیز اور عبرت خیز عمل، جو کہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، اور رحمت بےکراں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے، اس عالم کون و فساد میں ہر طرف جاری وساری ہے۔ اور ہمیشہ سے اور ہر وقت جاری وساری ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کیسے اندھے اوندھے اور کوتاہ بین ہیں وہ لوگ جو اپنی دانش و بینش کے بلندبانگ دعو ووں کے باوجود نہ اس پر غور و فکر کر کے اپنے خالق ومالک کو پہچانتے ہیں نہ اس کے حق بندگی کو ادا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے انجام اور عاقبت کی فکر کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
60 روزی رساں اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی کی شان ہے بےحساب روزی عطا فرمانا۔ حساب کے دو معنی آتے ہیں۔ اور یہاں پر دونوں ہی مراد لینا صحیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کے معنی لئے جائیں بغیر گنتی و شمار کے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنی حکمت بےپایاں اور اپنے علم بےنہایت کی بنا پر جس کو چاہے جو نعمت دے اور بغیر کسی حد و حساب کے جتنی چاہے عطا فرمائے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرے یہ کہ حساب کو حسبان و گمان کے معنی میں لیا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے وہ کچھ دیتا ہے اور وہاں سے دیتا ہے جس کا اور جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَنْ یَّتَّق اللّٰہَ یَجْعَلْ لُّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ } الاٰیۃ ( الطلاق 2 ـ۔ 3) ۔ پس مومن کا کام ہے کہ وہ اپنے بس کی حد تک صدق و اخلاص کے ساتھ کوشش و محنت کرے، اور راہ حق و صواب میں مصروف عمل رہے۔ روزی کی فکر نہ کرے۔ اللہ پاک روزی سے اس کو وہاں سے نوازے گا جہاں سے اس کو اس کا گمان بھی نہیں ہوگا، مگر آج کا جاہل مسلمان ہے کہ وہ توکل علی اللہ کی اس دولت سے محروم ہے۔ اس کا توکل و آسرا طرح طرح کے فرضی وہمی اور خودساختہ سہاروں پر تو ہے مگر اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس پر توکل کرنے کی توفیق اس کو نصیب نہیں ہوتی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اور اس وجہ سے وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال و سوء وانحراف۔
Ayah 3:2861 اہل کفر و باطل کو دوست بنانے کی ممانعت : پس اہل کفر و باطل کو دوست بنانا ایک سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی رکھنا ایک سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ کفار اللہ کے دشمن ہیں۔ اور دشمن و دوست دونوں کی محبتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ پس کفار سے دلی دوستی ممنوع و حرام ہے۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اور ایسی دوستی کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے کہ ایسا شخص اللہ کی دوستی اور اس کی نصرت و عنایت کے شرف سے محروم ہوگیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ " اولیاء " جمع ہے " ولی " کی جس کے معنی دوست، ساتھی، کار ساز و مددگار اور حمایتی وغیرہ کے آتے ہیں { من دون المؤمنین } کی قید سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ کافروں سے صرف اس قسم کی موالات ممنوع اور ناجائز ہے، جو مسلمانوں کے بالمقابل یا ان کے مفاد و مصالح کے خلاف ہو۔ اسلام اور مسلمانوں کا مفاد اور ان کا حق دوسرے تمام حقوق اور مفادات پر بہرحال مقدم اور فائق ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے نام نہاد مسلمانوں کا معاملہ اور ان کا طرز عمل اس سے یکسر مختلف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کتنے ہی ایسے بدبخت ہیں جو کافروں سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
62 کفار اشرار سے ظاہری مدارات کی اجازت : ۔ اور اس بنا پر تم ان سے ظاہری تعلق اور میل ملاپ رکھو کہ یہ منع نہیں۔ کہ ان کے شر سے بچنے کیلئے ایسا کرنے کی اجازت ہے، جیسا کہ حضرت امام بخاری (رح) حضرت ابو الدردائ۔ ؓ ۔ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم ہنس کرملتے ہیں مگر ہمارے دل ان کو لعنت کر رہے ہوتے ہیں " اِنَّا لَنَکْشِرُ فِیْ وُجُوہ اَقْوَامٍ وَقَُلُوْبُنَا تَلْعَنُہُمْ " ( اخرجہ البخاری فی کتاب الادب، باب المداراۃ مع الناس) ۔ ظاہری دوستی اور تعلق جو ضرورت کی بناء پر ہو رکھنا پڑتا ہے، اس کی اجازت ہے۔ البتہ ان سے دل کی دوستی رکھنا جائز نہیں۔ " بِطَانَۃً " یہاں پر مفعول مطلق کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے فعل کی تاکید ظاہر ہوتی ہے، سو جو مسلمان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفار سے دوستی اور موالات کا تعلق رکھتے ہیں ان کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگ انہی میں سے ہوں گے جن سے یہ دوستی رکھتے ہیں چناچہ ارشاد فرمایا گیا { وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ } اللہ تعالیٰ اور اس کے دشمنوں دونوں سے دوستی رکھنا ممکن نہیں۔ اللہ سے دوستی اور تعلق کے لئے ضروری ہے کہ اس کے دشمنوں سے اپنا دامن بچا کر رکھا جائے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہی لوگ ہیں جو ان کفار کی مخالف اسلام موالات سے اس طرح بچیں جس طرح اس سے بچنے کا حق ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
63 اللہ سے ڈرتے رہنے کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو ڈراتا ہے اپنے آپ سے
تاکہ تم ڈرو اس کے غضب و عقاب سے، اور بچو اس کی گرفت وپکڑ سے۔ کہ اس کی پکڑ بہت سخت ہے { ِانَّ اَخْذَہْ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ } نیز فرمایا گیا { ِانَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ} ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس وہ اپنے حلم بےپایاں اور کرم بےنہایت کی بناء پر جو تم لوگوں کو ڈھیل اور مہلت دے رہا ہے، اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا کہ یہ مہلت بہرحال ایک مہلت ہے، جس نے لامحالہ ختم ہوجانا ہے۔ سو اس قادر مطلق رب رحمان و رحیم کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ پس اس کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہنا اور اس کی گرفت و پکڑ سے کبھی غافل اور بےفکر نہیں ہوجانا ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 64 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ہر کسی کو بہرحال لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ اور وہاں پہنچ کر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور بھرپور بدلہ پانا ہے۔ پس ہر کوئی خود دیکھ لے کہ میں وہاں کیلئے کیا لے کر جا رہا ہوں۔ سو وہاں سرخرو ہونے کا سامان کرلو قبل اس سے کہ متاع عمر ہاتھ سے نکل جائے۔ اور پھر تلافی وتدارک کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ سو اس میں تنبیہ ہے منکرین و منافقین کو کہ اگر ڈھیل ملی ہوئی ہے تو وہ اس سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ یہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے بہرحال ختم ہو کر رہنا ہے اور تم نے بالآخر اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے کئے کرائے کا پھل پانا اور اس کا نتیجہ بھگتنا ہے۔ اور عدل وفضل کے اس دن نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے۔ لہذا آج ملنے والی ڈھیل اور مہلت سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور ہمیشہ اپنے اس آخری انجام کو یاد رکھنا چاہئے۔ اور اس فکر و کوشش میں رہنا چاہیے کہ وہاں مجھے کیا چیز کام آئے گی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 3:2965 اللہ کے کمال علم کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کو ایک برابر جانتا ہے : کہ اس سے کوئی چیز یا کسی چیز کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ سو دنیا والوں سے تو تم لوگ بہت کچھ چھپا سکتے ہو مگر اس سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔ اس لئے اس وحدہ لاشریک سے اپنے دلوں کا معاملہ بھی ہمیشہ درست رکھا کرو اور یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھا کرو کہ اس کے یہاں ظاہر و باطن سب ایک برابر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس سے کسی کی کوئی بھی حرکت مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ سو وہ تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو بھی جانتا ہے اور آسمان اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو کچھ ہے اس سے بھی پوری طرح آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ خواہ وہ ظاہر ہو یا مخفی و پوشیدہ کہ اس کے یہاں غیب و حاضر اور نہاں وعیاں سب ایک برابر ہے اور اس کا علم سب پر یکساں حاوی و محیط ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
66 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت سب پر حاوی و محیط ہے۔ پس نہ کوئی اس کے علم سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے، کہ اس کا علم بھی کامل و لامحدود اور اس کی قدرت بھی کامل و لامحدود ہے۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لیے بندے کو ہر وقت اور ہر حال میں اس کی رضا کے حصول ہی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ اس کی رضا سے سرفرازی نصیب ہوگئی تو سب کچھ مل گیا۔ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ ۔ بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ اپنے اس علم کامل اور قدرت لا محدود کے باوجود جو ڈھیل دے رہا ہے تو اس لئے دے رہا ہے کہ اس نے سزا و جزا کے لئے ایک خاص دن مقرر کر رکھا ہے، جس میں ہر کسی کی نیکی اور بدی اس کے سامنے آجائے گی اور وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کو خود دیکھ لے گا اور اس کے مطابق پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور یہ کہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری مشکل میں پورے ہو سکیں۔ پس عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس یوم جزا کے لئے تیاری کرے اور اس کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے ۔ وَبِاللّٰہ التًّوْفِیْق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 3:30–3267 روز جزا میں اہل باطل کی ایک بےفائدہ تمنا : سو اس روز ایسے لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کہ کاش کہ ان کے اور ان کے برے اعمال کے درمیان بڑے دور کی مسافت حائل ہوجاتی تاکہ مجھے اس کے معائنے کی اور یہ انجام بد دیکھنے کی نوبت نہ آتی، مگر اس وقت اس کے اس چاہنے سے اس کو کچھ فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سو بچنا ہے تو اب دنیا کی اس فرصت میں اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرو کہ آخرت کی فوز و فلاح کے حاصل کرنے کی فرصت اور وہاں کیلئے کمائی کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ للاٰخِرَۃ " کہ " دنیا آخرت کی کھیتی ہے "۔ اس فرصت کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کمائی کیلئے کوئی موقع ملنے کا نہیں، اور وہاں کے افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } (سبا۔ 52) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کتاب حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے آخرت کے اس غیبی جہاں کے ان غیبی حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے اور وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اس کی خبر نہ تھی۔ مگر دنیا ہے کہ اس کے باوجود خواب غفلت میں پڑی ہے۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو آج دنیاوی زندگی میں آخرت کے لئے کمائی کا جو موقع ہے وہ پھر کبھی ملنے والا نہیں۔ اس کو غنیمت سمجھا جائے ۔ وَبِاللّٰہ التُّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ-
68 اللہ تعالیٰ کی تحذیر و تنبیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم کو اپنے آپ سے ڈراتا اور خبردار کرتا ہے۔ تاکہ اس طرح تم اس کی نافرمانی اور اس کی پکڑ سے بچ سکو کہ اس کی پکڑ بہت سخت ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ جَلالَہٗ ۔ سو آج جو ڈھیل تم لوگوں کو اس کی طرف سے ملی ہوئی ہے اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا، کہ یہ ڈھیل بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے بہرحال ختم ہوجانا ہے اور اس رب رحمان و رحیم کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس لیے وہ تم لوگوں کو اپنی ذات سے ڈراتا اور اپنی گرفت و پکڑ سے خبردار کرتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ چونکہ " رؤف " ہے اور اپنے بندوں پر نہایت درجہ مہربان ہے۔ اور وہ ان کو ان کے اعمال کے نتائج بد سے بچانا چاہتا ہے اس وجہ سے وہ ان کو اپنی ذات سے بار بار خبردار اور ہوشیار کرتا ہے کہ وہ اس ڈھیل سے کسی غلط فہمی میں نہ پڑیں کہ وہ ڈھیل تو بیشک دیتا ہے لیکن جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بھی بڑی سخت ہوتی ہے اور ایسا خسارہ کہ پھر اس کی تلافی وتدارک کی کوئی صورت بھی ممکن نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
69 اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے : اتنا مہربان اور اس قدر شفیق کہ اس کی شفقت و مہربانی کا کوئی کنارہ نہیں، اور یہ اس کی شفقت و مہربانی ہی کا ایک حصہ و مظہر ہے کہ وہ تم کو پیشگی خبردار کرتا اور اپنی گرفت و پکڑ سے ڈراتا، اور تمہارے انجام بد سے تمہیں اس طرح خبردار کرتا ہے، تاکہ تم وقت کے ہاتھ سے نکل جانے سے قبل اور فرصت عمر کے فوت ہوجانے سے پہلے اپنے حال کی اصلاح اور اپنے مآل کی فکر کرلو کہ یہ موقع پھر کبھی ملنے والا نہیں ۔ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ۔ پس اس خدائے رؤف ورحیم کی بارگہ رافت و رحمت سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا جہاں اس کے حق بندگی سے منہ موڑنا ہے، وہیں یہ اپنے لیے دارین کا خسارہ ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -