3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد پر ہو تو پھر کوئی بھی (خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو) تم پر غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے۔ والعیاذ بہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے اس کے بعد ؟ اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے، ایمان والوں کو2

340 اللہ کے سوا کوئی بھی مدد نہیں کرسکتا : سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا کوئی بھی نہیں جو اللہ کے مقابلے میں اور اس کے بعد تمہاری مدد کرسکے۔ بھلا خالق کے مقابلے میں مدد کرنے کا یارا کس کو ہوسکتا ہے۔ لہذا تم لوگ ہمیشہ ہر وقت اور ہر حال میں اسی پر توکل کرو اور اسی کا بھروسہ رکھو۔ اور وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور طرح طرح کے فرضی، وہمی اور بےحقیقت سہاروں پر تکیہ کر رکھا ہے۔ اور اس طرح وہ محرومی کی راہ پر چل رہے ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو مدد بہرحال اللہ ہی کی مدد ہے۔ وہ اگر مدد کرے تو اور کسی کی مدد کی ضرورت ہی نہیں۔ اور اس کی مدد اگر شامل حال نہ ہو تو اور کسی کی مدد کچھ کام نہیں آسکتی۔ سو بندہ مومن کا کام اور اس کی شان یہی ہے کہ وہ اپنا تعلق اپنے خالق ومالک کے ساتھ ہمیشہ صحیح اور درست رکھے اور اپنے آپ کو اس کا اہل بنانے کی فکر و سعی کرے کہ وہ اللہ کی مدد و معاونت کا اہل ہو سکے۔ اسی سے مدد مانگے اور دل کا بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھے { وَعَلی اللّٰہ فَلْیَتَوَکّل الْمُؤْمِنُوْنَ } ۔ وَبِاللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَ یُریْد ۔ اللہ تعالیٰ حقیقت توکل سے سرفراز و سرشار فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو اسباب کے درجے میں اور اسباب کے ماتحت ایک دوسرے کی مدد کرنا نہ ممنوع ہی نہ محذور بلکہ مطلوب و محمود ہے کہ یہ دنیا ہے ہی اسباب و مسببات کی دنیا۔ لیکن اسباب کے بغیر یا اسباب کے خلاف اور مافوق الاسباب کسی کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے کہ اس کی قدرت سلسلہ اسباب کی پابند نہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے خلاف اسباب یا ما فوق الاسباب مدد کا عقیدہ رکھنا شرک اور باطل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 34 1 اللہ پر بھروسہ رکھنا ایمان کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ایمان والوں کو۔ سو یہ حکم وارشاد کلمات حصر کے ساتھ بیان فرمایا گیا کہ ایمان والوں کا بھروسہ و اعتماد صرف اللہ ہی پر ہونا چاہیئے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا نہ کوئی توکل و بھروسہ کے لائق ہے اور نہ ہی یہ امر ایمان والوں کی شان کے لائق ہے کہ وہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور پر بھروسہ کریں۔ مگر افسوس کہ آج کے نام نہاد ایمان والوں میں سے بہتوں کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ ان کا بھروسہ و اعتماد طرح طرح کی فانی مخلوق اور بےبنیاد چیزوں پر ہے لیکن اگر اس کا بھروسہ نہیں ہے تو صرف ایک اللہ ہی پر نہیں ہے ۔ اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ ایسے لوگ اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے مختلف فانی اور فوت شدہ ہستیوں کو پکارتے، ان کے نعرے لگاتے، طرح طرح کی شرکیہ تختیاں آویزاں کرتے، انہی پر بھروسہ کرتے اور اٹھتے بیٹھتے انہی کو پکارتے ہیں۔ اور ان کی مت ایسی مار دی گئی کہ ان کی کھوپڑیوں میں یہ بات بھی نہیں آتی کہ جو خود مر کر قبروں میں جاچکے ہیں اور ان کو قبروں میں گئے بھی صدیاں گزر چکی ہیں اور زمانے بیت چکے ہیں، آخر وہ ان کی حاجت روائی اور مشکل کس طرح حل کرسکتے ہیں، مگر وہ اس کے باوجود ان فوت شدہ ہستیوں کو پوجتے پکارتے اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مگر ان کو ایک اللہ پر بھروسہ کرنے اور اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ اِلا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ فَاِلَی اللّٰہ المُشْتَکٰی ۔ وَہُوَ الْمُسْتَعَانُ فِیْ کُلّ حِیْنٍ وَّاٰنٍ ۔ بہرکیف یہاں پر حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ بھروسے کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ (کسی طرح کی) کوئی خیانت کرے، اور جس کسی نے کوئی خیا نت کی تو اسے قیامت کے روز اپنی خیانت (کردہ شئی) کو خود (اپنے سر پر اٹھا کر) لانا ہوگا، پھر ہر کسی کو پورا بدلہ دیا جائے گا اس (کی زندگی بھر) کے کئے کرائے کا، اور ان پر (کسی طرح کا) کوئی ظلم نہیں ہوگا3

342 خیانت کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہوسکتا : کہ نبوت اور خیانت دونوں یکجا نہیں ہوسکتیں کہ نبوت کا شرف سب سے بڑا اور سب سے عظیم الشان شرف ہے جس سے اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے کسی بندے کو اپنے کرم خاص سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے۔ وہاں خیانت جیسی گھٹیا خصلت راہ پا ہی نہیں سکتی۔ ترمذی وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر ایک چادر کہیں گم ہوگئی تو بعض لوگوں نے کہا کہ شاید اللہ کے رسول نے لے لی ہو تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ترمذی کتاب التفسیر) ۔ نیز اس ارشاد ربانی کے عموم میں یہ بات بھی داخل ہے بلکہ اس کے الفاظ و کلمات کریمہ کے ظاہر اور تبادر کے زیادہ قریب ہے کہ نبی اپنی امت سے کبھی خیانت اور بدعہدی نہیں کرتا، بلکہ وہ ہمیشہ ان کی خیر خواہی ہی کرتا اور خداوند قدوس کے احکام جوں کے توں اور بلا کم وکاست ان تک پہنچاتا ہے۔ یہ ارشاد دراصل منافقوں کے اس پروپیگنڈے کے جواب میں اور اس کی تردید کیلئے فرمایا گیا جو وہ غزؤہ احد کی شکست کے بعد لوگوں میں پھیلا رہے تھے کہ ان صاحب نے ہمارے اعتماد کا ناجائزہ فائدہ اٹھایا۔ ہمیں اپنے گھروں سے نکال کر یہاں احد کے میدان میں اس طرح مروا دیا اور ہمیں دھوکہ دیا وغیرہ۔ تو اس پر ان منافقوں کے اس پروپیگنڈے کے جواب میں اور اس کی تردید میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ خیانت کرے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو جوں کا توں پہنچاتا ہے۔ سو یہی آیت کریمہ کا مفہوم و مطلب اور اس کا ظاہر اور متبادر مفہوم ہے۔ اور ابن جریر وغیرہ جیسے بعض اکابرین اہل علم نے اسی کو اپنایا ہے۔ اور اس صورت میں اوپر والا مفہوم جو کہ ترمذی کی روایت کے حوالے سے گزرا ہے وہ محض اس کی ایک مثال اور مظہر کی حیثیت رکھتا ہے، جو کہ اس کے عموم میں داخل ہے نہ کہ اصل اور حقیقی مفہوم ۔ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ خیانت کرے کہ وہ صدق و اخلاص اور خلق عظیم کے اعلیٰ درجے پر ہوتے ہیں ۔ (علیہ السلام) - 343 خیا نت کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو خیانت کرنے والے کو قیامت کے روز اپنی خیانت کردہ شے کو اٹھا کر حاضر ہونا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ صحیحین یعنی صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی قیامت کے روز اس حالت میں آئے کہ اس نے ایک اونٹ کو اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو۔ پھر وہ مجھ سے کہے کہ میری مدد کرو، میری فریاد سنو، تو میں اسے جواب دوں کہ نہیں میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا، جاؤ میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا اور اس انجام سے خبردار کردیا تھا۔ الی آخر الحدیث ( بخاری، کتاب الجہاد، مسلم، کتاب الامارۃ) ۔ سو جب خیانت کا جرم ایسا ہولناک جرم ہے تو پھر پیغمبر جیسی پاکیزہ ہستی کسی خیانت اور بددیانتی کا ارتکاب کیسے کرسکتی ہے۔ سو پیغمبر خیانت اور بددیانتی کے ہر شائبہ سے پاک اور صاف ہے ۔ اللہ ہمیں بھی خیانت و بددیانتی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 344 روز جزاء میں کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ہوگا کہ کسی کا کوئی عمل چھوٹ جائے یا کسی کو اس کے کئے سے زیادہ کی سزا دی جائے۔ سو ایسی کوئی بات اس روز وہاں نہیں ہوگی بلکہ وہاں پورا پورا عدل و انصاف ہوگا۔ یہاں بھی اسی حقیقت کو آشکار فرمایا گیا ہے جو قرآن حکیم میں دوسرے بھی کئی مقامات پر بیان ہوئی کہ انسان کو اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا کہ دنیا میں پورا بدلہ مل سکتا ہی نہیں۔ اس لئے کہ دنیا کے ظرف محدود میں اس کی گنجائش ہی نہیں۔ اور دنیا میں اس کا کوئی موقع بھی نہیں کہ دنیا " دارالعمل " ہے " دارالجزاء " نہیں۔ " دارالجزائ " آخرت کا وہ جہاں ہی ہے جو کہ دارالجزاء بھی ہے اور اس کی وسعتیں بھی لامحدود ہیں۔ اور وہیں انسان کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ مل سکے گا۔ نیکی کا جنت کی سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ اور برائی کا دوزخ کے طرح طرح کی عذابوں کی صورت میں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ بہرکیف روز جزا میں ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جو پیروی کرتا ہو اللہ (تعالیٰ ) کی رضا کی، وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو (اپنے کرتوتوں کے باعث) مستحق ہوگیا ہو اللہ کے غضب کا، اور اس کا ٹھکانا (قرار پا چکا) ہو جہنم ؟ اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ (والعیاذ باللہ)

345 اللہ کی رضا کی پیروی کرنے والا اور اس کے غضب کا مستحق کبھی برابر نہیں ہوسکتے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی مرضیات پر چلنے والا اور اس کے غضب کا مستحق کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ پس استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں قسم کے لوگ ایک برابر ہوجائیں بلکہ ان دونوں کا انجام یکسر مختلف ہے اور مختلف ہوگا۔ اللہ کی رضا کے طالب اس کے محبوب بندے ہیں جو اس کے انعام و اکرام کے مستحق ہوں گے اور وہ جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ جبکہ حق سے منہ موڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزارنے والے لوگ دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں، اور وہ بہرحال اس کا ایندھن بن کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ صرف اتنی بات ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں ان دونوں گروہوں کا یہ فرق نظر نہیں آ رہا کہ یہ ا متحان و آزمائش کی جگہ ہے۔ اور امتحان کے ہال میں بیٹھنے والے سب ہی شرکاء ایک برابر ہوتے ہیں۔ اسی کو دوسرے مختلف مقامات میں دوسرے مختلف الفاظ و انداز میں بیان فرمایا گیا ہے جیسے { اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لَا یَسْتَوُوْنَ } (السجدۃ : 18) یعنی " کیا جو ایماندار ہو وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ فاسق و بدکار ہو۔ نہیں یہ دونوں آپس میں کبھی برابر نہیں ہوسکتے "۔ نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَ فَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ، مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ } (القلم : 35- 36) ۔ تو " کیا ہم مجرموں کو فرما نبرداروں کی طرح کردیں گے تم لوگوں کو آخر کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو "۔ سو اسی سے واضح ہوجاتا ہے کہ قیامت کا قائم ہونا ناگزیر ہے تاکہ انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے کیونکہ دنیا میں ایسا نہ ہوتا ہے اور نہ ہونا ممکن ہے۔
Ayah 3:163

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے یہاں بڑے مختلف درجوں کے ہیں، اور اللہ پوری طرح دیکھنے والا ہے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں

346 لوگوں کے مختلف درجات کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے مختلف درجات ہیں : یعنی ان دونوں گروہوں کے آپس میں اور پھر ہر گروہ کے آپس میں۔ سو یہ سب لوگ اپنے اپنے عمل و کردار کے مطابق بڑے مختلف درجات میں ہوں گے۔ کوئی اعلیٰ علیین میں ہوگا اور کوئی قعر سجین میں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کِل سُوْئٍ وَّشّر ۔ بہرکیف اس دنیا میں لوگ جیسے اور جس طرح بھی ہوں اور دنیا والے جو بھی کہیں اور سمجھیں، اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے ہی مختلف درجات ہیں اور ہوں گے۔ ان کے ایمان و اخلاص، صدق و صفا، عمل و کردار اور راہ حق میں تفانی و قربانی کے اعتبار سے ۔ سو رضائے الٰہی کے طالب اور اس کے قہر و غضب کے سزاوار آپس میں یکساں اور ایک برابر نہیں ہوسکتے۔ ان کے درجے اور ٹھکانے ان کے اعمال کے مطابق الگ الگ ہوں گے۔ اور اللہ ہر ایک کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر کسی سے وہی معاملہ فرمائے گا جس کا وہ اہل اور مستحق ہوگا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ سو اس کے یہاں فلاں ابن فلاں کے دعو وں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اصل دارومدار ایمان و یقین اور عمل و کردار کی پونجی پر ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

بیشک اللہ نے بڑا ہی احسان فرمایا ایمان والوں پر، کہ ان میں ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر مبعوث فرمایا، جو خود ان ہی میں سے ہے4 جو کہ ان کو پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اس کی آیتیں، اور وہ پاک (و صاف) کرتا ہے ان کے باطن کو، اور سکھاتا (پڑھاتا) ہے ان کو کتاب و حکمت (کے علوم و معارف) حالانکہ اس سے قبل یہ لوگ قطعی طور پر (پڑے) تھے کھلی گمراہی میں1

347 بعثت پیغمبر ایک عظیم الشان انعام خداوندی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بعثت نبوی اہل ایمان پر قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام ہے کہ اس عظیم الشان پیغمبر اور اس کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے اللہ نے ان لوگوں کو حیوانیت وبہیمیت کے قعر مذلت سے نکال کر انسانیت کے شرف سے آگاہ و مشرف فرمایا۔ اور ان کو ان عظیم الشان اور بےمثال تعلیمات مقدسہ سے نوازا، جو ان کو اس دنیا میں حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی راہ پر ڈالنے والی اور آخرت میں جنت کی ابدی اور سدابہار نعمتوں سے ہمکنارو سرفراز کرنے والی ہیں۔ سو اس طرح بعثت رسول کی نعمت ایسی عظیم الشان نعمت ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت ممکن ہی نہیں۔ سو جن لوگوں نے اس نعمت کی صحیح معنوں میں قدر پہچان کر اس کو دل و جان سے نہیں اپنایا، وہ بڑے ظالم اور سخت بےانصاف لوگ ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ کہ اس طرح کفران نعمت کا ارتکاب کر کے ایسے لوگوں نے اپنے خالق ومالک کے حق عبدیت و عبودیت کے بارے میں بھی ظلم کیا اور پیغمبر کی شان نبوت اور حقوق رسالت کے بارے میں بھی ظلم و بےانصافی سے کام لیا اور خود اپنی جان کے بارے میں بھی ظلم کیا کہ اپنے آپ کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم کر کے ہلاکت و تباہی کی راہ پر ڈالا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم - 348 بشریت پیغمبر ایک اور عظیم الشان انعام خداوندی : سو { من انفسہم } " خود انہی میں سے " کی تصریح سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ بشریت پیغمبر یعنی پیغمبر کا اپنی امت میں سے ہونا قدرت کا ایک اور عظیم الشان انعام و احسان : یعنی وہ انسان و بشر قریشی و ہاشمی تھے (علیہ الصلوۃ والسلام) تاکہ لوگ زندگی کے ہر شعبے اور ہر عمل میں ان کی اتباع اور پیروی کرسکیں۔ ورنہ اگر ان کی بجائے کوئی ایسا فرشتہ بھیج دیا جاتا جو بشری ضرورتوں اور تقاضوں سے پاک اور مبرا ہوتا، تو وہ ان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتا تھا کہ اس نے نہ کھانا، نہ پینا، نہ شادی، نہ بیاہ، نہ بیوی، نہ بچے، نہ بھوک، نہ پیاس، نہ سردی، نہ گرمی وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کو ایسے عوارض بشریہ سے نہ کوئی سابقہ و واسطہ اور نہ تعلق۔ تو پھر وہ انسانوں کیلئے اسوہ حسنہ اور نمونہ کس طرح بن سکتا تھا۔ سو اس طرح رسول عظیم کا بشر و انسان ہونا ایک اور عظیم الشان انعام و احسان ہے، جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کی مخلوق کو نوازا گیا ہے۔ اسی لئے اس کو یہاں پر الگ کر کے اور { مِنْ اَنْفُسِہِمْ } کے الفاظ سے خصوصی طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ یہ نعمت پر نعمت اور انعام پر انعام ہے، جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنے بندوں کو نوازا۔ مگر اس کے باوجود کتنے ہی اہل بدعت ایسے ہیں جو رسول کو بشر ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اور وہ بشریت رسول کے انکار کے لئے اس قدر زور لگاتے ہیں کہ اس کے لئے طرح طرح کی تحریفات اور تلبیسات تک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ پیغمبر کا بشر اور انسان ہونا قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے تاکہ دنیا ان کی اتباع اور پیروی کرسکے جو کہ پیغمبر کی بعثت اور تشریف آوری کا اصل اور حقیقی مقصد ہے ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَسَلَامُہُ عَلَیْہ - 349 تلاوت آیات بعثت پیغمبر کا اولین مقصد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تلاوت آیات یعنی کتاب اللہ کی آیات کریمہ پڑھ کر سنانا بعثت نبوی کا اولین مقصد اور اہم فریضہ ہے۔ تاکہ ان کے انوار و برکات سے ان لوگوں کے دل و دماغ کو جلا ملے اور ان سے ظلمات دور ہوں۔ تو تلاوت آیات مقاصد بعثت میں سے پہلا مقصد اور فرائض نبوت میں سے اولین فریضہ ہے۔ مگر اس کے باوجود آج کے جاہل اور غافل مسلمان کا حال یہ ہے کہ اس کے یہاں اس کام کیلئے نہ کوئی فرصت ہے نہ اہتمام ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ زائغین کا یہ تک کہنا ہے کہ محض تلاوت و قراءت کا کوئی فائدہ ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر بعثت پیغمبر کے مقاصد اربعہ کے ذکر وبیان کے سلسلے میں سب سے پہلے اسی کو بیان فرمایا گیا کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔ سو بندہ تلاوت آیات میں بھی پیغمبر کی تعلیم و تلقین کا محتاج ہے۔ 350 تزکیہ باطن بعثت نبوی کا دوسرا بڑا مقصد اور اہم فریضہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پیغمبر پاک و صاف کرتا ہے ان کے باطن کو کفر و شرک کی نجاستوں اور نفسانی اہواء و آلائشوں سے۔ کہ یہ نجاستیں اور آلائشیں انسان کو دوزخ کے الاؤ میں جھونکنے والی ہیں۔ اور ان کی صفائی فیضان نبوت کے سوا اور کسی طریقہ سے ممکن ہی نہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بعثت نبوی ﷺ اور فیضان نبوت کی نعمت کس قدر عظیم الشان نعمت ہے، جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی مخلوق کو نوازا اور سرفراز فرمایا ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو کتنے بےانصاف اور کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو اس نعمت عظمیٰ سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اور اس طرح ایسے لوگ نورحق و ہدایت سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اور وہ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کے قعر مذلت میں جا پہنچے اور " خَیْرُ الْبَرِیَّہ " کے اعزازو شرف سے محروم ہو کر " شَرُّ الْبَرِیَّۃ " یعنی " بدترین مخلوق " بن کر رہ گئے۔ جو کہ سب سے بڑا خسارہ اور انتہائی ہولناک نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی زیغ و زلل اور خسران و نقصان سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 351 تعلیم کتاب و حکمت بعثت نبوی کا تیسرا بڑا مقصد اور اہم فریضہ : تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ قرآن کیا کہتا ہے اور ان سے کیا چاہتا ہے۔ اور یہ کہ ان کی سعادت و کامیابی اور فوز و فلاح کس میں ہے۔ سو معلوم ہوا کہ پیغمبر کی تعلیم و تبیین کے بغیر قرآن کے معانی و مطالب کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ چناچہ آپ ﷺ نے حضرات صحابہ کرام کو اس کی تعلیم دی۔ قولاً بھی اور فعلاً و عملًا بھی۔ اور وہی آپ ﷺ کی تعلیم " حدیث " کہلاتی ہے جو کہ قرآن حکیم کی اولین اور سب سے اہم اور معتبر تفسیر و تشریح ہے۔ پس حدیث رسول حجت و سند اور دین حق کا ایک اہم اور بنیادی ماخذ ہے۔ اور اس کا انکار دین کا انکار ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب حضرات صحابہ کرام جو کہ اصل عرب اور سند کی حیثیت رکھنے والے عرب تھے، وہ بھی پیغمبر کی تعلیم و تشریح کے بغیر از خود قرآن نہیں سمجھ سکتے تو پھر اور کون ہے جو اس کو ازخودسمجھ سکے۔ اور پھر دور حاضر کا کوئی عجمی، جس کو نہ عربی لغت و محاورہ سے کوئی واقفیت ہو اور نہ ہی اس نے قرآن کو سیکھنے کیلئے کبھی کسی استاذ کے سامنے باقاعدہ زانوئے تلمذ طے کئے ہوں اور وہ کہے کہ میں ذاتی مطالعہ (Self Study) سے از خود قرآن سمجھ لونگا۔ سو ایسا کہنا ایک بڑی ہی بےجا بات ہے۔ حالانکہ قرآن سرے سے ایسی کتاب ہے ہی نہیں جسے محض ذاتی مطالعہ اور (Self Study) سے از خود سمجھا جاسکے۔ اگر ایسے ممکن ہوتا تو قرآن کو ایک لکھی لکھائی کتاب کی شکل میں اتار کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا کہ لو اس کو خود پڑھ اور سمجھ لو۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس اس کے لئے پہلے ایک عظیم الشان اور بےمثال معلم و استاذ کا انتظام فرمایا گیا۔ جس کی چالیس برس تک بےمثل طریق سے تعلیم و تادیب فرمائی گئی۔ جیسا کہ ان کا خود اپنا بیان ہے " اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَأْدِیْبِیْ " اور اس تعلیم و تربیت ربانی کے بعد ان پر اس کتاب عظیم کو بذریعہ وحی نازل فرمایا گیا اور ان کے ذمے لگایا گیا کہ آپ ﷺ لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ اس کے معانی و مطالب ان کے سامنے واضح کریں۔ اور اس کی غرض وغایت اور اس کے اتارنے والے کی مراد کو ان کے سامنے کھول کر بیان کریں۔ ارشاد ہوتا ہے { وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاس مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ } (النحل : 44) " اور ہم نے اے پیغمبر، اس عظیم الشان ذکر (اور نصیحت) کو آپ کی طرف اتارا ہے، تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں وہ کچھ جو کہ ان کی طرف اتارا گیا ہے ( تاکہ یہ لوگ اس سے فیضیاب ہوں) اور تاکہ یہ غور و فکر سے کام لیں "۔ چناچہ آپ ﷺ نے اپنی نبوت مطہرہ کی تئیس سالہ زندگی میں اس کو بتمام و کمال بیان فرمایا۔ اور ایسا کہ اس کی تعلیم و تبیین کا حق ادا کردیا ۔ فَجَزَاہ اللّٰہُ خَیْرَ مَا جُوْزِیَ بِہٖ نَبِیٌّ عَنْ اُمَّتِہٖ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں بعثت نبوی کی عظمت شان اور بعثت نبوی کے مقاصد اربعہ کو بیان فرمایا گیا ہے تاکہ دنیا کو اس کا احساس ہو سکے اور وہ اس نعمت کی قدر کر کے اور اس کو اپنا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سو دین حق کی تعلیم و تلقین بعثت پیغمبر کا اصل مقصد اور مشن ہوتا ہے کہ اسی سے راہ حق و ہدایت واضح ہوتی ہے۔ 352 بعثت پیغمبر کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے پہلے یہ لوگ یقینی اور قطعی طور پر گمراہی میں تھے۔ سو ایسے میں ان کے اندر ایسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کی بعثت و تشریف آوری کے اس انعام کی عظمت شان کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ سو { وَاِنْ کَانُوْا } میں واو حالیہ ہے اور " اِنْ " مُخَفَّفۃ مِنَ الْمُثقَّلۃ ہے۔ جو کہ " اِنَّ " کے معنیٰ میں آتا ہے۔ اس لئے ترجمہ میں بھی اس کا لحاظ کیا گیا ہے۔ اور ان لوگوں کی جہالت و گمراہی کا یہ عالم تھا کہ یہ اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے، ان کو حاجت روا و مشکل کشا مان کر ان کو بلاتے پکارتے، ان کے آگے جھکتے اور ان سے مرادیں مانگتے۔ وہمی چیزوں کے پیچھے چلتے، حرام اور خبیث اشیاء کھاتے، بچیوں کو زندہ درگور کرتے، اِفلاس و محتاجی کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرتے وغیرہ وغیرہ۔ تو اللہ پاک نے اپنا عظیم الشان رسول ان کے درمیان مبعوث فرماکر ان کو ان طرح طرح کے اندھیروں سے نکال کر حق کی اس عظیم الشان روشنی سے سرفراز فرمایا، جو کہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثل روشنی ہے اور جس سے محرومی دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ایک قطعی امر اور واضح حقیقت ہے کہ طلوع اسلام سے پہلے عرب دین و شریعت سے بیخبر ، حق و ہدایت کی دولت سے بےبہرہ و محروم اور نبوت و رسالت سے نا آشنا اور امی محض تھے۔ اور ایک زمانہ دراز سے کفر و شرک اور جہالت و جاہلیت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور رحمت و عنایت سے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ذریعے ان کی دستگیری فرمائی اور ان کو ضلالت و گمراہی کی وادیوں سے نکال کر حق و ہدایت کی صراط مستقیم سے سرفراز فرمایا۔ سو ایسے میں اس دین حق سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا کس قدر ناشکری اور کتنی بڑی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

اور (تمہارا یہ کیا حال ہے) جب تم لوگوں کو (احد میں) کچھ تکلیف پہنچی تو تم چیخ اٹھے، کہ یہ کہاں سے (اور کیسے) آگئی، حالانکہ اس سے (پہلے بدر میں) تم لوگ اس سے دوگنی تکلیف (اپنے ان دشمنوں کو) پہنچا چکے تھے، (ان سے) کہو (اے پیغمبر ! ) کہ یہ (تکلیف و مصیبت) بھی خود تمہاری اپنی ہی طرف سے ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

353 غزوہ بدر کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو مسلمانوں کی شکست خوردگی کے اثرات کے ازالے کے طور پر ان سے فرمایا گیا کہ اس سے پہلے تم لوگ [ بدر میں اپنے دشمنوں کو ] دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ سو احد میں اگر تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے تو بدر میں ان کے ستر صنادید مارے گئے اور ستر قیدی بن کر تمہارے ہاتھ لگے وغیرہ وغیرہ۔ تو ایسی صورت حال میں تمہارا احد کی اس عارضی شکست سے چیخ اٹھنا اور شکوہ سنج ہوجانا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے ؟ جبکہ اس میں اصل کمزوری اور کوتاہی خود تمہاری اپنی ہی طرف سے تھی۔ اور اس میں بھی تمہارے لیے بڑے عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت بھی ہیں۔ تو پھر تمہارا یہ حال کیوں ہے ؟ بہرکیف غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو عارضی شکست کی وجہ سے صدمہ ہوا تھا اور ان کو اس طرح کے شکوک و شبہات بھی پیش آ رہے تھے کہ اگر ہم حق پر ہیں تو پھر ہمیں اس شکست سے سابقہ کیوں پیش آیا۔ اور منافقین اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان شکوک و شبہات کو اور مرچ مسالے لگا کر پیش کرتے جس سے کمزور مسلمانوں کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ تو اس سلسلے میں فرمایا گیا کہ تم اس سے پریشان کیوں ہوتے ہو ؟ تم لوگ غزوہ بدر اور اس کے نتیجہ و انجام سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ جہاں تمہارے دشمنوں کو تمہارے ہاتھوں دوچند نقصان اٹھانا پڑا تھا اور احد میں بھی پہلے پلڑا تمہارا ہی بھاری رہا تھا۔ لیکن پھر تمہاری اپنی غلطی کی بناء پر تمہیں شکست ہوئی۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہے کرے۔ کسی کی فتح کو شکست سے بدل دے یا شکست کے بعد فتح عطا فرمائے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ بہرکیف وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا ہر عمل حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ 354 انسان کی مصیبت خود اس کے اپنے عمل کا نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمہاری مصیبت خود تمہاری ہی طرف سے ہے : کہ اس کا سبب تم خود بنے ہو کہ اگر تم لوگ پیغمبر کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ مورچہ نہ چھوڑتے تو یہ نوبت کیوں آتی ؟۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی مصائب کے نزول کا باعث بنتی ہے اور یہ کہ اعمال کے لازمی آثار و نتائج ہوتے ہیں جو ان کے طبعی نتائج کے طور پر ظہور پذیر ہوتے اور ان پر مرتب ہوتے ہیں۔ تو پھر لوگ ایسی شکایتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اور اللہ فتح و شکست دونوں پر قادر ہے اور اس کی قدرت ہمیشہ اس کی حکمت کے تحت ہی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قادر مطلق ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم مطلق بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف تمہاری مصیبت تمہاری اپنی ہی طرف سے ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح فرما دی گئی کہ انسان کی مصیبت اس کے خود اپنی ہی عمل اور اپنی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور اس حقیقت کو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة شوریٰ میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر } ۔ (الشوری :30) سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں ہی کی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور بہت سے باتوں سے تو اللہ در گزر فرما لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 3:166

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو بھی کچھ مصیبت تمہیں (غزوہ احد میں) اس روز پہنچی جب کہ (کفر و اسلام کی) ان دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا تو وہ سب اللہ کے اذن سے تھا، اور (یہ اس لئے ہوا کہ) تاکہ اللہ دیکھ لے ایمان والوں کو،

355 ہر کام اللہ کی مشیت اور اس کے اذن سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو مصیبت تم لوگوں کو پہنچتی ہے وہ اللہ ہی کے اذن سے پہنچتی ہے۔ اللہ کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے اذن و مشیت سے ہوتا ہے کہ اس میں دوسری بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں تھیں۔ جن کے تقاضے اس کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے تھے۔ سو ظاہری سبب اس شکست و ہزیمت کا تم لوگ خود بنے ہو مگر اصل اور حقیقت کے اعتبار سے یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا کہ اس کے پیچھے بڑی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما تھیں۔ اور اس کی اس کائنات میں جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی کے اذن و حکم اور ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے کہ بادشاہی بہرحال اسی کی ہے اور حکم و تصرف بھی اس میں اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس حقیقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اپنے اس خالق ومالک پر رکھے جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے اور ہمیشہ مانگے بھی اسی وحدہ لاشریک سے اور اس سے اپنا تعلق بھی صحیح رکھے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ و یُرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور تاکہ وہ دیکھ لے ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کا وطیرہ اپنا رکھا تھا، اور (جن کا حال یہ تھا کہ جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ تم (ہمارے ساتھ شامل ہو کر) لڑو اللہ کی راہ میں یا (کم از کم اس طرح تکثیر سواد کے ذریعے) تم لوگ دفاع کرو (اپنے شہر کا) تو انہوں نے (صاف) کہہ دیا کہ اگر ہم کوئی لڑائی جانتے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے، اس روز یہ لوگ ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے، یہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جو کہ ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ یہ چھپاتے ہیں2

356 احد کی شکست کا ایک اہم مقصد، منافقوں کی چھانٹی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھ لے منافقون کو یعنی تاکہ ان لوگوں کا وہ نفاق سامنے آجائے جسے انہوں نے اپنے باطن میں چھپا رکھا تھا اور سچے ایمان والوں کا صدق و اخلاص بھی مزید نکھر جائے کہ مصائب و مشکلات کی یہ بھٹی ہی ایسی ہوتی ہے جس سے کھرے اور کھوٹے کے درمیان صحیح طور پر تمیز ہوجاتی ہے۔ سو احد کے اس واقعہ میں جو کچھ پیش آیا وہ اسی ابتلاء و آزمائش کے لئے پیش آیا تاکہ سچے مسلمان اور منافق باہم چھٹ کر الگ ہوجائیں اور ہر کوئی کھلی آنکھوں سے دیکھ لے کہ کون لوگ جماعت کے اندر قابل اعتماد ہیں اور کون نہیں۔ سو اس اعتبار سے یہ آزمائش جماعتی تطہیر کے لئے ضروری تھی، ورنہ اگر جماعت کے اندر منافقین اسی طرح گھسے رہتے تو کسی وقت پوری جماعت کا بیڑا غرق کردیتے اور وہ طرح طرح کے مصائب کا باعث بنتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح ان کی چہانٹی کردی گئی ۔ والحمد للہ جل وعلا 357 دین کیلئے نہیں تو کم از کم دفاع وطن ہی کیلئے سہی : یعنی اول اور اصل چیز تو دین ہے۔ اور وہی اس لائق ہے اور اسی کا حق ہے کہ انسان اس کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کرے لیکن اگر تم لوگ دین کی خاطر نہیں لڑتے تو کم از کم اپنی قوم اور اپنے وطن کے دفاع اور اپنے اہل و عیال کی حفاظت کیلئے ہی سہی ہمارے ساتھ ہو کر ان مشترکہ دشمنوں سے لڑو اور ان کا راستہ روکو۔ کیوں کہ انہوں نے اگر خدانخواستہ غلبہ پا لیا تو وہ مخلص و منافق کے درمیان کوئی تمیز و تفریق نہیں کریں گے بلکہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکیں گے۔ اور ایک ہی گھاٹ پر اتار دیں گے۔ سو اس ارشاد و ہدایت سے مقصود ان لوگوں پر اتمام حجت کرنا تھا کہ اگر تم لوگ دین کے لئے نہیں لڑتے، جو کہ اصل مقصد اور جہاد اسلامی کا حقیقی باعث اور غرض وغایت ہے، تو کم از کم تم اپنی قوم و وطن، مال و منال اور اپنے اہل و عیال کے دفاع کے لئے ہی ہمارا ساتھ دو ۔ 358 منافقین کے ایک منافقانہ قول کا ذکر : یعنی یہ کہ اگر ہم کوئی لڑائی جانتے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ ان کے اس منافقانہ قول کا ظاہری مطلب یہ تھا کہ کوئی لڑائی وغیرہ نہیں ہوگی بلکہ معاملہ یونہی ٹل جائے گا۔ اس لیے اس بارے گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ مگر اندر سے ان کا مطلب کچھ اور تھا۔ اور وہ یہ کہ یہ لڑائی کوئی لڑائی نہیں بلکہ یہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو تین ہزار کا ایک ایسا لشکر جرار ہے جو کہ ہر طرح کے سامان حرب و ضرب سے لیس ہے اور دوسری طرف صرف ایک ہزار بےسروسامان لوگوں کا ایک گروہ ہے۔ تو ایسے میں ہم اس مقابلے میں شریک ہو کر اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے منہ میں کیوں جھونکیں ؟ بہرکیف یہ لوگ جہاد کے لئے نہ اٹھے لیکن اپنے نفاق اور بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لئے بات یہ بنائی کہ ہمیں علم ہے کہ اس موقع پر کوئی لڑائی نہیں ہوتی، ورنہ ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے اور جنگ میں ضرور حصہ لیتے۔ 359 منافق اپنے قول وقرار سے کفر کے قریب تر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے کہ اس روز انہوں نے اپنے قول وقرار سے اپنے کفر کے لبادے کو خود سرکا دیا تھا۔ کیوں کہ اس سے قبل تو یہ لوگ زبانی کلامی حد تک اپنے دین و ایمان کا دعوی کرتے اور دم بھرتے تھے۔ مگر آج تو انہوں نے اس تکلف کو بھی ترک کردیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم تمہارے ساتھ شامل ہو کر اہل کفر سے لڑنے اور مقابلہ کرنے والے نہیں۔ اور اس طرح ان کا نفاق پہلے قدم پر ہی کھل کر سامنے آگیا۔ دقّت تعبیر ملاحظہ ہو کہ یہاں پر یہ نہیں فرمایا گیا کہ یہ لوگ کافر ہوگئے، بلکہ یہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ بہ نسبت ایمان کے کفر سے زیادہ قریب تھے۔ سو اس میں یہ اہم درس پایا جاتا ہے کہ محض قرائن کی بناء پر کسی کے کافر ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اس کے کفر کا کوئی صریح ثبوت نہ مل جائے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے ان لوگوں سے اہل ایمان ہی کا سا معاملہ فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان کے بڑے گرو ابن ابی کے مرنے پر اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی جو کہ اس کے چندہی سال بعد مرا تھا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کو صریح حکم و ارشاد کے ذریعے اس سے منع فرما دیا گیا اور اس طرح ان کے کفر کا اعلان کرکے ان کی فضیحت و رسوائی کا سامان کردیا گیا۔ بہرکیف اس روز یہ لوگ اپنے ایمان کے مقابلے میں اپنے کفر کے زیادہ قریب تھے اور ان کی منافقت کے پردے کے باوجود ان کا کفر کھل کر سامنے آگیا تھا۔ اور ان کے منافقانہ ایمان کی قلعی اتر گئی تھی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 360 منافقت کا نشان، ظاہر کچھ اور باطن کچھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جو ان کی دلوں میں نہیں " کہ زبان سے تو یہ لوگ برابر اپنے ایمان و اسلام کا دعویٰ و اظہار کرتے ہیں مگر دل میں انہوں نے اپنے کفر کو چھپا رکھا ہے۔ سو یہ بھی قرآن حکیم کا ایک معجزہ اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کہ دلوں کی باتوں کو جاننا اور نیتوں اور ارادوں سے واقف و آگاہ ہونا کسی انسان کیلئے ممکن نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کی صفت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ لوگ اس طرح کر کے اپنے آپ کو بڑا ہوشیار چالاک سمجھتے ہیں مگر حقیقت میں یہی چیز ان کی حماقت اور محرومی کی دلیل اور اس کا ثبوت ہے کہ اس طرح یہ لوگ ایمان و یقین کی دولت سے الگ محروم ہو رہے ہیں جو کہ قدرت کی سب سے بڑی دولت اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والی دولت ہے اور اس سکون و اطمینان سے یہ الگ محروم ہو رہے ہیں جو کہ صدق ایمان کے نتیجے میں ملتا ہے۔ سو اس طرح یہ خسارے پر خسارے کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن منافقت کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ ان کو اس کا احساس بھی نہیں۔ 361 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ یہ لوگ چھپاتے ہیں کہ وہ ظاہر کی طرح انسان کے باطن اور اس کے دلوں کے احوال کو بھی پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس لیے اس سے ظاہر و باطن کی کسی بھی چیز کو چھپانا ممکن نہیں۔ اور وہ اسی کے مطابق انکو جزا دیگا اور ان سے معاملہ فرمائیگا۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ جھوٹ اور منافقت سے کام لینے اور لوگوں کے سامنے چکنی چپڑی باتیں کرنے کی بجائے اس وحدہ لاشریک سے اپنا معاملہ صحیح رکھا جائے کہ حساب اسی کے یہاں دینا ہے۔ اور جزا و سزا اسی کی طرف سے ملنی ہے۔ اور اس سے ظاہر و باطن کی کوئی بھی کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی۔ پس منافقت سے کام لیکر دھوکہ دینے والے دراصل خود ہی دھوکہ کھا رہے ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں { وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ } (البقرۃ : 9) ۔ مگر کفر و نفاق کی نحوست انسان کو اس حقیقت کے فہم و ادراک سے محروم کردیتی ہے جس سے وہ اس طرح خسارے پر خسارے میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے نقصان کو نہیں سمجھتا۔ اور وہ اندھا اور اوندھا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ نفاق کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ ایسے (بد نصیب اور محروم) لوگ ہیں کہ خود تو بیٹھے رہے، (اپنے گھروں میں) اور اپنے (ان ہم نسب) بھائیوں کے لئے (جو کہ راہ حق میں کام آئے یوں) کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے تو (اس طرح) قتل نہ ہوتے کہو (ان سے، اے پیغمبر ! ) کہ اچھا تو پھر تم لوگ خود اپنی جانوں سے (اپنے وقت پر آنے والی) موت کو ٹال کے دکھاؤ، اگر تم سچے ہو (اپنی ان باتوں میں)3

362 منافقوں کی منافقت کے ایک اور مظہر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ خود تو اپنے گھروں میں بیٹھے رہے لیکن اپنے ان (ہم نسب) بھائیوں کے لیے [ جو کہ اللہ کی راہ میں کام آئے ] ان کی لیے یہ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے اور جنگ میں شریک نہ ہوتے بلکہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے یا اس طرح میدان کارزار میں شریک ہونے کی بجائے راستے سے ہی واپس ہوجاتے، جیسا کہ ہم نے کیا، تو آج یہ لوگ اس انجام سے دوچار نہ ہوتے، جس سے یہ اب ہوئے ہیں۔ سو اس طرح یہ لوگ تو اپنے تئیں اپنے آپ کو چالاک اور ہوشیار سمجھ رہے تھے اور ان مجاہدوں کو جو جہاد میں کام آئے یہ لوگ بیوقوف اور خسارے والا قرار دے رہے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی خلاف وزری کر کے انہوں نے اپنے لئے نقصان اور خسارے کا جو سودا کیا تھا اور وہ اس سے کہیں بڑھ کر اور اصل اور حقیقی خسارہ تھا۔ مگر یہ سمجھتے نہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے کفر و نفاق کی نحوست کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ سیدھی بات کو بھی الٹا سمجھنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اندھے اور اوندھے پن کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 363 موت کو اپنے وقت سے کوئی نہیں ٹال سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو [ اے پیغمبر ] کہ اچھا تو پھر تم لوگ خود اپنے جانوں سے [ اپنے وقت پر آنے والے ] موت کو ٹال کر دکھاؤ اگر تم سچے ہو [ اپنی ان باتوں میں ] "۔ اور جب تم ایسا نہیں کرسکتے، اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے، اور یہ تمہارے بس میں نہیں ہے کہ تم اپنے آپ سے موت کو ٹال دو تو پھر تمہارا یہ کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ کہ اگر یہ لوگ ہمارا کہنا مان لیتے تو اس طرح نہ مارے جاتے۔ پس واضح ہوگیا کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جس سے پہلے وہ آ نہیں سکتی۔ اور اپنے وقت مقرر پر آجانے کی صورت میں وہ کسی کے ٹالے سے ٹل نہیں سکتی۔ بہرحال آ کر رہے گی۔ تو پھر ایسے حیلے بہانے کرنے کا کیا فائدہ ؟ اور ایسی باتوں کی کیا تُک ؟ سوائے اپنی حماقت اور منافقت کے ثبوت کے اور اپنی یاس و حسرت میں اضافے کے۔ سو عقلمندی کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان موت سے بھاگے کہ یہ تو ایک لاحاصل اور بےسود کوشش ہے، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسان یہ کوشش کرے کہ وہ شہادت کی موت مر کر حیات جاودانی سے سرفراز و سرشار ہوجائے کہ اس صورت میں اس کیلئے سعادت ہی سعادت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت کس طرح امن و سکون بخشنے والی دولت ہے کہ اس سے انسان ہر حال میں مطمئن رہتا ہے اور اس کے لئے کسی بھی صورت میں کوئی خسارہ و نقصان نہیں ۔ اللّٰھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہ یَا ذَالْجِلال وَ الاِکْرَامِ ۔ جبکہ ایمان سے محروم انسان ہمیشہ موت سے ڈرتا اور خوف کھاتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو جو کہ اللہ کی راہ میں مارے جائیں کبھی مردہ نہیں سمجھنا کہ وہ (حقیقت میں) زندہ ہیں، اپنے رب کے یہاں رزق (بےگمان) پا رہے ہیں1

364 شہیدوں کو مردہ سمجھنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کو کبھی مردہ مت سمجھنا جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ۔ کہ وہ زندہ ہیں، اور ایسے زندہ کہ ان کی وہ زندگی اس دنیاوی زندگی سے کہیں بڑھ کر اعلیٰ وارفع ہے۔ اور ان کو وہاں پر اپنے رب کے جوار رحمت میں وہ رزق اور ایسی روزی نصیب ہوتی ہے جس کا یہاں پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سو شہادت کی موت توا للہ پاک کی ایک عظیم نعمت ہے جس سے مشرف ہونے کے لئے مومن صادق تمنا کرتا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز تھوڑی ہی ہے جس سے ڈرایا اور بھگایا جائے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا دولت ہے ایمان و یقین کی یہ دولت، جس میں ناکامی کی کوئی صورت ہے ہی نہیں۔ اور جس سے موت بھی ایسی نعمت بن جاتی ہے جو آگے طرح طرح کی نعمتوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے ۔ فَزِدْنَا اللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَیَقِیْنًا ۔ وَارْزُقْنَا شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ ۔ وَاجْعَل اللّٰہُمَّ حَیَاتَنَا زِیَادَۃً مِّنْ کُلّ خَیْرٍ وَمَوْتَنَا رَاحَۃً مِنْ کُلّ شَرٍّ ۔ سو جو لوگ شہادت کی موت کو خسارہ سمجھتے ہیں وہ خود بڑے ہولناک خسارے میں پڑے ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے صاف اور صریح طور پر واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو کبھی مردہ نہیں سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے یہاں سے ملنے والے رزق سے بہرہ مند و سرفراز ہو رہے ہیں۔ مگر ان کی یہ زندگی عالم برزخ کی ایک ایسی امتیازی زندگی ہے جس کی کنہہ اور حقیقت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں اس کی تصریح فرمائی گئی { وَلٰکِنْ لَاَّ تَشْعُرُوْنَ } کہ " تم لوگ اس کی حقیقت کا شعور نہیں رکھتے "۔ مزید تشریح کے لئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 154 کے حواشی کی طرف رجوع کیا جائے۔ بہرکیف اللہ کی راہ میں مارا جانا موت نہیں بلکہ حیات جاودانی سے سرفرازی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 3:170

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

وہ خوش و خرم ہیں ان نعمتوں سے جن سے اللہ نے ان کو نوازا ہے اپنے فضل (و کرم) سے، اور یہ خوش ہوتے ہیں ان لوگوں کی بناء پر بھی جو ان کے پیچھے (اور ان کے نقش قدم پر) ہیں، اور جو ابھی تک ان سے ملے نہیں کہ (وہ بھی اگر شہادت کی موت پالیں تو) ان پر بھی نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

365 شہداء کیلئے نہ کوئی خوف نہ غم : کہ نہ ان کو آخرت کی عقوبت کا کوئی خوف و اندیشہ ہوگا کہ اس سے ان کے رب نے ان کو بچا کر مامون کردیا ہوگا۔ اور نہ ہی ان کو دنیاوی لذتوں کے چھوٹ جانے کا کوئی افسوس اور غم ہوگا کہ وہاں کی نعمتیں ایسی ہونگی کہ دنیا کی نعمتوں کی ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ نیز وہ اس بات پر خوش اور شاداں وفرحاں ہوں گے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز ہو کر حیات دنیا کی اپنی متاع گرانبہا کو اس کے صحیح مصرف میں لگایا جس کے نتیجے میں وہ حیات جاودانی کی کامیابی اور ابدی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوگئے۔ سو اس سے ان منافقین اور کمزور ایمان مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ تم لوگ اپنی جہالت اور بےبصیرتی سے ان پر ترس کھا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اگر وہ تمہاری بات پر چلتے تو اس طرح نہ مارے جاتے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے انعامات پر شاداں وفرحاں ہیں۔ سو شہادت کی موت سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 3:171

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کے عظیم الشان انعام اور مہربانی پر، (جس سے وہ سرفراز ہوچکے ہیں) اور اس بناء پر کہ بیشک اللہ (پاک سبحانہ و تعالیٰ ) ضائع نہیں فرماتا اجر ایمانداروں کا2

366 شہداء کی خوشی و مسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کے انعام اور اس کے فضل سے جس سے ان کو نوازا گیا۔ انعام وہ جو ان کو اپنے عمل کی جزاء میں اور اپنے کئے کرائے کے بدلے کے طور پر ملے گا اور فضل و مہربانی وہ جس سے ان کو اس پر بطور مزید نوازا جائے گا۔ سو یہ اوپر والی بات کی مزید توثیق اور توضیح ہوگئی کہ شہداء کیلئے نہ کوئی خوف ہوگا نہ غم۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام اور اس کے فضل و احسان اور مہربانی و عنایت سے سرشار ہوجائے گا اس کے لیے پھر کسی خوف اور غم کا کیا سوال ؟ سو ناداں لوگ تو ان پر افسوس کرتے ہیں کہ وہ جنگ میں مارے گئے مگر ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے خاص انعام و اکرام اور اس کے فضل و کرم سے خوش ہو رہے ہیں اور دمبدم ان کو طرح طرح کی خوشیاں ملتی ہیں اور وہ اور اپنے ان اخلاف و اولاد سے متعلق جو ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان سے ملنے کے آرزو مند ہیں اگرچہ وہ ابھی تک ملے نہیں ان سے متعلق بھی ان کو یہ خوشخبریاں مل رہی ہیں وہ بھی عنقریب ہی ان سے ملیں گے۔ سو اس طرح وہ خوشخبری پر خوشخبری سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں۔ 367 اہل ایمان کے لیے ایک خوشخبری : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اللہ ایمانداروں کا اجر کبھی بھی ضائع نہیں فرماتا بلکہ وہ اس کو ان کے لیے محفوظ رکھتا اور ان کو اس کے اجر وثواب سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے کہ اس کی شان یہ ہے کہ لوگ تو اپنے عمل کو بھول جاتے ہیں مگر وہ اس کو محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { احصاہ اللہ ونسوہ } ۔ (المجادلۃ :6) یعنی انہوں نے تو اس کو بھلا دیا مگر اللہ نے اس کو محفوظ رکھا۔ اور جب وہ عام مومنین کو بھی ان کے اجرو ثواب سے محروم نہیں کرتا، بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ان کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے تو پھر ان شہداء کو وہ کیا کچھ نہیں دے گا جنہوں نے اس کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیئے۔ اور یہاں جہاد کی بجائے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اصل اور اساس دارین کی فلاح و نجاح کی ایمان و یقین کی دولت ہی ہے کہ اسی سے ہر نیکی کی قدر و قیمت بنتی ہے۔ ورنہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عمل صالح بن سکتا ہے اور نہ اس کی کوئی قدر و قیمت ہوسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان میں مزید از مزید قوت نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور اس کے رسول کا اس کے بعد کہ ان کو (ابھی تازہ) زخم لگ چکا تھا3 ان میں سے جو نیکوکار اور تقویٰ (و پرہیزگاروں) والے ہیں ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے

368 غزوہ حمراء الاسد اور اس کے شرکاء کی عظمت شان کا بیان : سو یہ اشارہ ہے غزوہ حمراء الاسد کی طرف، جو کہ غزوہ احد کے متصل بعد پیش آیا۔ روایات کے مطابق جب ابوسفیان غزوہ احد سے واپس مکہ کی طرف لوٹا، تو راستے میں " روحاء " کے مقام پر پہنچ کر اسے یہ خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی جو اس فتح کے بعد احد سے یونہی واپس چلے آئے اور مسلمانوں کا پوری طرح صفایا نہیں کیا۔ اس طرح ہم نے کتنا اچھا موقع گنوا دیا۔ چناچہ اس نے کہا کہ ہم اب واپس چلتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی جڑ نکال کر ان کا ہمیشہ کیلئے قلع قمع کردیں۔ یہ خبر جب آنحضرت ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے کفار کے اس لشکر کے تعاقب کا ارادہ فرما لیا اور اس کے لئے اعلان فرمایا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس غرض کیلئے ہمارے ساتھ وہی لوگ نکلیں جو کل احد میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ ان کے سوا اور کوئی نہ نکلے۔ صحابہ کرام جو ابھی تازہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے اور اپنی اپنی مرہم پٹی میں مصروف تھے، یہ اعلان سنتے ہی اپنے زخموں اور تکلیفوں کو بھول گئے اور فورًا جہاد کیلئے تیار ہوگئے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ اپنے جاں نثاروں کے اس مختصر سے لشکر کے ساتھ جن کی تعداد ستر تک تھی، دشمن کے تعاقب میں نکل پڑے اور حمراء الاسد کے مقام تک پہنچ گئے، جو کہ مدینہ منورہ سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ابوسفیان اور اس کے لشکر کو جب اس کا پتہ چلا تو ان پر منجانب اللہ ایک ایسا رعب طاری ہوگیا کہ انہوں نے مدینہ کی طرف واپسی کا اپنا ارادہ ترک کر کے مکہ ہی کی راہ لی اور مسلمان صحیح سلامت اجر و ظفر کے ساتھ واپس لوٹے ۔ والحمدللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ صدق و اخلاص پر ایسے ہی نوازتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -