3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور یقینا اللہ نے سچ کر دکھایا تم لوگوں سے اپنا وعدہ، جبکہ تم لوگ ان (دشمنان اسلام) کو تہ تیغ کرتے چلے جا رہے تھے اللہ کے (حکم و) اذن سے، یہاں تک جب تم لوگوں نے بزدلی دکھائی، اور جھگڑا ڈال دیا اپنے معاملے میں، اور تم نے نافرمانی کا ارتکاب کیا، اس کے بعد اللہ نے تم کو دکھا دیا تھا وہ کچھ جس سے تم لوگ محبت رکھتے تھے، (یعنی فتح و نصرت)4 تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے اور کچھ آخرت، پھر اللہ نے تم کو پھیر دیا ان لوگوں سے، (جس سے تم پسپائی سے دو چار ہوگئے) تاکہ اس طرح وہ تمہاری آزمائش کرے، اور البتہ تحقیق اس نے معاف فرما دیا تم سب کو، اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے ایمانداروں پر

304 اللہ کا وعدہ بہرحال اور قطعی طور پر سچا : سو ارشاد فرمایا گیا اور یقینا اللہ نے سچا کر دکھایا تم لوگوں سے اپنا وعدہ جو کہ اس نے تمہاری نصرت و امداد کے بارے میں تم سے فرمایا تھا { وََاِنْ تَصْْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا } الآیۃ (آل عمران : 120) ۔ یعنی " اگر تم لوگوں نے صبر اور تقویٰ کو اپنائے رکھا، تو ان کی چالوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا "۔ روایات میں ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو عارضی شکست سے دوچار ہونا پڑا تو ان میں سے بعض کے دلوں میں اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے کہ اگر واقعی ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا گیا تھا تو پھر ہمیں اس شکست سے دوچار کیوں ہونا پڑا ؟ تو اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا کہ اللہ پاک نے تم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا فرما دیا تھا، جبکہ تم لوگ ان کو گا جر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ اور غلبہ تمہارا ہی تھا۔ یہاں تک کہ تم نے اپنی ان کمزوریوں کی وجہ سے جن کا ذکر آگے فرمایا جا رہا ہے اپنی جیتی ہوئی بازی کو عارضی شکست و ہزیمت سے دوچار کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قصور تم لوگوں کا خود اپنا ہے۔ 305 فتح و نصرت اللہ ہی کی طرف سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ ان [ دشمنان اسلام ] کو تہ تیغ کرتے چلے جا رہے تھے اللہ کے اذن اور حکم سے کہ فتح و غلبہ کا حصول اصل میں اس وحدہ لاشریک کے اذن و حکم ہی پر موقوف و منحصر ہے نہ کہ ظاہری اسباب و وسائل پر۔ پس غزؤہ احد میں تم لوگوں کو شروع میں جو شاندار فتح نصیب ہوئی وہ اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق و عنایت سے تھی۔ پس اس کو تم لوگ کہیں اپنا ہی کمال قرار دیکر اپنے خالق ومالک کی اس توفیق و عنایت اور اس کے حق شکر سے غافل نہیں ہوجانا، بلکہ اس کو اسی کا کرم سمجھ کر دل و جان سے اس کا شکر بجا لانا کہ فتح و نصرت سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کی طرف سے ہے۔ سو { باذنہ } کے کلمہ کریمہ سے اسی کا درس دیا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت سے متعلق اپنا وعدہ پورا فرما دیا تھا۔ تم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے اذن و حکم سے کامیاب اور فتح یاب ہوگئے تھے اور تم ان کو تہ تیغ کر رہے تھے یہاں تک کہ تم نے اپنی کمزوری اور حکم عدولی کی بناء پر اس کو شکست سے بدل دیا۔ لہٰذا اب تم لوگوں کا منکرین و منافقین کے پروپیگنڈے اور ان کی باتوں کی بناء پر شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا کیونکر درست ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس سے آئندہ کے لیے سبق لو ۔ وباللہ التوفیق - 306 شکست کی ذمہ داری خود مسلمانوں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہاں تک کہ تم لوگوں نے بزدلی دکھائی۔ سو احد میں ہارنے کی ذمہ داری خود تم پر ہے اے مسلمانو ! : سو تم فتحیاب ہوگئے تھے۔ یہاں تک کہ تم نے بزدلی دکھائی اپنی رائے اور اپنی ہمت و عزیمت میں۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے پچاس افراد کا ایک دستہ جو حضرت عبداللہ بن جبیر کی سربراہی اور ان کی کمانڈ میں ایک مورچے پر مقرر فرمایا تھا، انہوں نے اپنے امیر سے اختلاف کیا۔ اور نبی ٔ اکرم ﷺ سے نئی منظوری لئے بغیر وہ مورچہ چھوڑ دیا اور صرف بارہ آدمی وہاں رہ گئے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر دشمن وہیں سے حملہ آور ہوا اور تمہاری فتح کو شکست میں بدل دیا۔ اور اس طرح تم لوگ اپنی جیتی ہوئی بازی ہار گئے۔ سو احد میں ہارنے کی ذمہ داری خود تم پر عائد ہوتی ہے اے مسلمانو ! نہ کسی اور پر۔ پس تم خود اپنے حال میں غور کر کے اپنی اصلاح کرو۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ۔ ازما ست کہ برما ست ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 307 اختلاف اور جھگڑا باعث نکبت و وبال ۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے جھگڑا ڈال دیا اپنے معاملے میں کہ اس دستے کے کمانڈر نے کہا کہ ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اللہ کے رسول ہمیں اس کا حکم نہیں فرمائیں گے۔ تو ان مجاہدین نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مورچے پر رہنے کا حکم تو اس وقت تک تھا جبکہ لڑائی لڑی جارہی تھی۔ اور اب جبکہ لڑائی ختم ہوچکی ہے اور مال غنیمت اکٹھا کیا جا رہا ہے تو اب ہمارے یہاں باقی رہنے کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ سو اسی جھگڑے اور اختلاف کی بنیاد پر تم لوگوں کو یہ انجام بد دیکھنا پڑا۔ تمہاری پوزیشن کمزور ہوگئی اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن نے وہیں سے تم پر حملہ کردیا۔ سو باہمی اختلاف اور نزاع وجدال باعث کمزوری ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے دین حنیف نے سمع وطاعت، یعنی سننے ماننے اور اطاعت امیر پر بہت زور دیا ہے کہ اسی میں امت کی شیرازہ بندی ہے اور اسی بنا پر رحمت و عنایت خداوندی کا نزول ہوتا ہے اور فتح و نصرت کے دروازے کھلتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 308 پیغمبر معاصی وذنوب باعث نقصان و خسران ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے معصیت و نافرمانی کا ارتکاب کیا کہ تم مورچہ چھوڑ کر چلے آئے۔ سو یہاں پر ذرا رک کر اور اس بارے بھی غور کرنے اور عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام ؓ سے اللہ کے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ایک حکم کی خلاف ورزی ہوگئی۔ اور وہ بھی جان بوجھ کر اور قصداً نہیں، بلکہ اجتہادی خطاء کی بناء پر۔ تو اس کا ان کو اس قدر بھگتان بھگتنا پڑا۔ تو پھر کیا خیال ہے آپ کا ان لوگوں کے بارے میں جن کی زندگیوں، اور جن کی بود و باش اور معاشرے کا پورا نظام ہی اللہ اور اس کے رسول کے احکام و فرامین کی خلاف ورزیوں اور صریح خلاف ورزیوں پر قائم ہے۔ عقائد ہیں تو کھلم کھلا مشرکانہ۔ اخلاق ہیں تو قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے صریحاً خلاف نظام معیشت و معاشرت ہے تو باغیانہ و سرکشانہ۔ سود اعلانیہ کھایا جا رہا ہے اور سودی لین دین اس قدر عام ہے کہ اس سے بچنا بھی کارے دارد۔ جھوٹ، دھوکہ بازی، فریب کاری، مکاری وغیرہ وغیرہ کون سی برائی ہے جو آج کے مسلم معاشرے میں موجود نہیں ؟ ۔ الا ماشاء اللہ ۔ قبروں کی پوجا کی جا رہی ہے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ کی جا رہی ہے۔ غیر اللہ کی نذر ونیاز کا کاروبار عام ہے۔ نمازوں کی پرواہ نہیں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کی کوئی فکر و اہتمام نہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات سے یکسر غفلت اور لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ فحاشی و عریانی چارسو پھیلی ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ ۔ تن ہمہ داغ داغ شد ۔ پنبہ کجا کجا نہم ۔ والا معاملہ ہوگیا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ کیوں ٹوٹ رہے ہیں ؟ طرح طرح کے عذاب کیوں مسلط ہو رہے ہیں ؟ اور ہم پر ایسے اور ایسے حالات کیوں گزر رہے ہیں ؟ اور اس حقیقت کو نہ کوئی دیکھتا ہے نہ اس میں غور کرتا ہے کہ ۔ ازما مست کہ برما است ۔ اور معدہ اور مادہ کی غلامی میں جکڑی ہوئی دنیا کو اس کا نہ کوئی پاس ہے نہ احساس ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ مریض اپنے مرض کے علاج کی بجائے یہ کہے کہ میں بیمار ہوں ہی نہیں ۔ فَاِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلَناَ وَارْحَمْنَا وَاَصْلِحْ حَالَناَ واَحْسِنَ مآلَنَا ۔ یا اَرْحَمَ الرََّاحِمِیْنَ و یَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ آمین ثم آمین یارَبَّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف پیغمبر کی معصیت و نافرمانی کا نتیجہ وانجام بڑا ہولناک ہے اور معاصی وذنوب باعث خسارہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 309 { مَا تُحِبُّوْنَ } سے مقصود و مراد ؟ اور ایک مغالطے کا جواب : جمہور علماء و مفسرین کرام { مَا تُحِبُّوْنَ } سے یہی مراد لیتے ہیں، یعنی فتح و نصرت۔ اور سیاق وسباق بھی اسی کا متقاضی ہے۔ متبادرالی الذھن بھی یہی ہے۔ اور مسلمان اور خاص کر حضرات صحابہ کرام کے شایان شان بھی یہی چیز ہے کہ حق کا غلبہ اور فتح و نصرت ہی ان کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔ اور تمام ثقہ اور معتمد مفسرین کرام نے بھی اس سے یہی معنی مراد لئے ہیں۔ چناچہ ایسے تمام حضرات اس موقع پر اس کا مفہوم اس طرح کے الفاظ سے بیان فرماتے ہیں " مِنَ النَّصْرِوَالظَّفْر " (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل، اور خازن وغیرہ) ۔ مگر اس سب کے برعکس دور حاضر کے ایک مشہور مفسر صاحب کا کہنا ہے کہ اس سے مراد مال غنیمت ہے اور پھر اس کو بیان بھی موصوف نے ایسے سخت الفاظ میں کیا جن سے ایک عام قاری کے ذہن میں حضرات صحابہ کرام ۔ علیھم الرحمۃ والرضوان ۔ کے بارے میں ایک غلط تاثر ہی ابھرتا ہے۔ چناچہ موصوف کے الفاظ ہیں " اور جونہی وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت) " (تفہیم القرآن) ۔ سو تعجب ہوتا ہے کہ موصوف نے ایسی سخت بات اور اتنے سخت الفاظ میں کیسے لکھ دی۔ حضرات مفسرین کرام میں سے کسی نے اگر { مَا تُحِبُّوْنَ } کا مصداق مال غنیمت کو قرار دیا بھی ہے تو ذیلی و ضمنی انداز میں۔ اور قول مرجوح کے طور پر۔ اور بڑے ہلکے انداز میں۔ مگر موصوف نے تو اس کو قول واحد کے طور پر اور اس قدر سخت انداز میں لکھا جو کہ باعث تعجب بھی ہے اور موجب افسوس بھی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الرَّحْمٰن ۔ بہرکیف جمہور علماء و مفسرین کرام کے نزدیک { مَا تُحِبُّونَ } سے مراد فتح و نصرت ہے۔ جس سے قدرت نے ان کو بہرہ ور و سرفراز کیا تھا۔ اور یہ حضرات دشمن پر غالب آگئے تھے۔ اور فتح و نصرت کا یہ مقصد ہی اصل اور حقیقی مقصد ہے۔ 3 10 صرف دنیا کو مقصد بنانا باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے کچھ لوگ تو صرف دنیا چاہتے تھے اور کچھ آخرت۔ یعنی تم میں سے کچھ تو یہ چاہتے تھے کہ آخرت کے ثواب کے ساتھ ساتھ دنیوی مال و دولت اور غنیمت بھی مل جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسا عیب نہیں جس پر گرفت کی جاسکے۔ کیونکہ مال انسان کی ضرورت بھی ہے اور مال کے معنی ہی یہ ہیں کہ جس کی طرف انسان کا میلان ہو " مَا تَمِیْلُ اِلَیْہ النَّفْسُ " اور مال غنیمت سے ملنے والے حصے کو تو لسان نبوت سے سب سے اچھی اور پاکیزہ روزی قرار دیا گیا ہے۔ اور امام المجاہدین حضرت نبی اکرم ﷺ تو فرماتے ہیں کہ " میری روزی میرے نیزے کے نیچے رکھ دی گئی ہے "۔ " جُعِلَ رِزْقِیْ تَحْتَ رُمْحِیْ "۔ اور پھر حضرات صحابہ کرام ۔ علیھم الرحمۃ والرضوان ۔ کے بارے میں حب دنیا کا الزام لگانے والے ذرا اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا خود ان کے دل مال کی محبت سے خالی ہیں ؟ بہرکیف فرمایا گیا کہ تم میں سے کچھ تو آخرت کے اجر وثواب ساتھ ساتھ دنیاوی مال بھی چاہتے تھے اور کچھ ایسے عالی ہمت بھی تھے کہ جو صرف آخرت ہی چاہتے تھے کہ انکے سامنے آخرت ہی آخرت تھی۔ دنیا کی ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ اور ظاہر ہے کہ ان کا درجہ بڑا بلند ہے کہ انہوں نے آخرت کی زندگی ہی کو ترجیح دی جو کہ اصل، حقیقی اور ابدی زندگی ہے۔ اور مومن کو ہمیشہ اسی کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو طلب دنیا باعث محرومی و رسوائی ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 311 ہزیمت احد ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اللہ نے پھیر دیا تم لوگوں کو ان سے جس کے نتیجے میں تم لوگ اس پسپائی سے دوچار ہو گیے۔ یعنی اس سے بھی اصل اور بڑا مقصد تمہاری سزا نہیں، بلکہ آزمائش تھی، تاکہ اس طرح کچا پکا الگ ہوجائے اور کھرے کھوٹے میں تمیز ہوجائے، اور یہ فرق وتمیز عملی طور پر اور اس طرح ہوجائے کہ پھر کسی کیلئے اس کے انکار و تردید کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ سو ان حضرات سے اگر اس طرح کی کوئی کمزوری صادر ہو بھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نہیں کرتا کہ ان پر اپنا غضب نازل کر دے بلکہ وہ خود ان کو ایسی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اس طرح ان کی ایسی کمزوریاں دور ہوجائیں اور وہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے سزا وار بن سکیں۔ سو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عفو و درگزر اور اس کے فضل و عنایت ہی کی ایک شکل ہے جس سے ان کو نوازا جاتا ہے۔ 312 شرکاء احد کیلئے قطعی معافی کی صریح خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے معاف اور درگزر فرما لیا تم سب سے کہ تمہاری یہ خطا قصداً اور دانستہ نہیں تھی، بلکہ ایک اجتہادی لغزش تھی، اس لئے اس کو معاف کردیا گیا۔ لہذا اب کسی کو اس بارے لب کشائی کا کوئی حق نہیں۔ اور جو کوئی اس کے باوجود ایسے کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جن کو خدا معاف فرما دے انکے بارے میں کسی کو لب کشائی کا کوئی حق آخر کس طرح اور کیونکر مل سکتا ہے ؟ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ ان حضرات کیلئے اس معافی کی یہ خوشخبری تاکید در تاکید کے کلمات کریمہ کے ساتھ اور اس قدر صراحت و وضاحت سے فرمائی گئی ہے۔ اس کے باوجود کوئی اگر ان صحابہ کرام ؓ پر خوردہ گیری کرے تو اس کی بدبختی میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر ان کے لئے صاف اور صریح طور پر فرما دیا گیا کہ اللہ نے تم سب سے درگزر فرما لیا اور تم کو معاف کردیا۔ تو اب کسی کیلئے ان کے بارے میں زبان درازی کا کیا حق ہوسکتا ہے۔ اور خاص کر بعد کے ان ادوار میں سے کسی دور کے کم سوادوں کے لیے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم - 313 اللہ بڑے ہی فضل والا ہے : اتنے بڑے فضل و کرم والا کہ اس کے فضل و کرم کی کوئی حد اور انتہاء ہی نہیں۔ اور جب اس کی شان ہی کرم کرنا اور انعام فرمانا ہے۔ اور وہ سب ہی کو نوازتا ہے اور ہمیشہ اور مسلسل و لگاتار نوازتا ہے تو پھر وہ تم لوگوں پر کیوں کرم نہیں فرمائے گا۔ جبکہ تمہارا درجہ بھی سب سے بلند ہے ؟ اور تمہاری شان ہی سب سے الگ ہے کہ تم لوگ شرف صحابیت اور صحبت رسول ﷺ سے مشرف ہو اور ایمان میں بھی تم دوسروں سے آگے ہو۔ اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے ایمان والوں پر۔ اس کے فضل و کرم سے سرفرازی کے لئے اولین اساس و بنیاد ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے فضل و کرم کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(اور یاد کرو کہ) جب تم لوگ بھاگے جا رہے تھے، اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے، اور تمہارے رسول تمہیں پیچھے سے پکار رہے تھے، پھر اس (وحدہ لاشریک) نے تم کو غم پر غم دیا1 تاکہ تم آئندہ نہ غم کرو کسی ایسی چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور نہ (ہی تم دل برداشتہ ہوا کرو) کسی ایسی مصیبت پر جو تمہیں پیش آجائے، اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان سب کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو

314 { تُصْعِدُوْنَ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : " تُصْعِدُوْنَ " " اِصْعَاد " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں " الذِّہَابُ فِیْ صَعِیْد الاَرْض وَالاِبْعَادُ فِیْہ " (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ یعنی " کھلی زمین میں چلنا اور اس میں دور نکل جانا " اور یہ اس وقت کا منظر پیش فرمایا جا رہا ہے جب حضرات صحابہ کرام سراسیمگی کے عالم میں میدان سے دور بھاگے جا رہے تھے۔ کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور سب افراتفری اور بھاگادوڑی کی کیفیت سے دوچار تھے جو کہ ایسے مواقع کا ایک طبعی نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اس افراتفری اور گھبراہٹ کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ 315 احد کی افراتفری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر تم کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور تمہارے رسول تمہارے پیچھے سے تم لوگوں کو پکار رہے تھے مگر تم کو رسول کی پکار کا بھی خیال نہیں رہا تھا : سو رسول تم کو بلا رہے تھے کہ تم میری طرف آؤ اے اللہ کے بندو ! " اِلَیَّ عِبَاد اللّٰہ " میں اللہ کا رسول ہوں اور میں یہاں پر زندہ موجود ہیں ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ سو رسول تم لوگوں کو پکارتے اور بلاتے تھے کہ میری طرف آؤ اور یہ کہ جس نے پلٹ کر دشمن پر حملہ کیا اس کیلئے جنت ہے، مگر تم لوگ ایسی سراسمیگی میں مبتلا تھے کہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے تھے۔ سو اس واقعہ سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ غزؤہ احد کے اس موقع پر ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی۔ سو علم غیب اور اختیار کلی اللہ تعالیٰ ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 316 معصیت رسول کے نتیجے میں غم پر غم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے تم کو غم پر غم پر دیا۔ ایک غم تو یہ کہ جیتی ہوئی بازی تم لوگ ہار گئے اور تمہاری فتح شکست سے بدل گئی۔ اور دوسرا غم وہ جو اللہ کے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) کے قتل و شہادت کے بارے میں پھیلنے والی خبر سے تمہیں لاحق ہوا تھا، جو کہ پہلے غم سے بھی کہیں بڑھ کر بڑا غم تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ اس آیت کریمہ کے ان الفاظ کا ایک مطلب ہوا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ { بِغُمٍّ } کی باء کو سَبَبِیّہ مانا جائے۔ سو اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اللہ نے تم کو غم دیا بدلے میں غم کے۔ یعنی اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کر کے۔ اگرچہ وہ اجتہادی خطاء کی بنا پر ہی تھی، تم نے ان کو جو غم دیا اس کے باعث اور اس کے بدلے میں تم کو یہ غم اٹھانا پڑا۔ (جامع البیان روح المعانی وغیرہ) ۔ سو اس سے معصیت رسول ﷺ کی خطورت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف احد کی اس ہزیمت کی تصویر کشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ بگٹٹ بھاگے چلے جا رہے تھے اور تم اپنے دائیں بائیں مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ جبکہ اللہ کے رسول تم کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔ الی عباد اللہ " ۔ اللہ کے بندو میرے پاس آؤ، میرے پاس آؤ، میں یہاں ہوں۔ 317 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس لئے اس سے تمہارا کوئی بھی عمل کسی بھی طرح چھپ نہیں سکتا۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھو کہ اس وحدہ لاشریک سے تمہارا معاملہ صحیح اور درست رہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب تمہاری نیت اس بارے صحیح اور درست ہوگی اور تم لوگ اپنے طور پر اس کے لیے فکرمند اور کوشاں رہو گے تو وہ ضرور تم کو اس سے نوازے گا کہ اس کی شان نوازنا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب بندہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے تو وہ اس کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے۔ سو ایسے میں اس کا ابتلا عذاب نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی رحمت کا ذریعہ و وسیلہ ہوتا ہے۔ عذاب کفار و منکرین پر آتا ہے اور ابتلاء اہل ایمان کے لئے ہوتا ہے۔ عذاب کا مقصد کفار کو مٹانا ہوتا ہے اور ابتلا کا مقصد اہل ایمان کو عقلی اور اخلاقی کمزوریوں سے پاک کرنا ہوتا ہے۔ سو پہلی صورت موت ہے اور دوسری زندگی۔ سو اہل ایمان کے ایمان میں ابتلاء و آزمائش سے قوت آتی اور نکھارپیدا ہوتا ہے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اس (خدائے مہربان) نے (اپنی خاص رحمت و عنایت سے) تم پر (جب کہ دشمن میدان سے نکل چکا تھا) امن کی ایک خاص کیفیت طاری کردی یعنی ایک ایسی اونگھ سی جو چھا رہی تھی، تم میں سے ایک گروہ پر، جب کہ ایک اور گروہ کو اپنی جانوں ہی کی فکر کھائے جارہی تھی، یہ لوگ گمان کر رہے تھے اللہ کے بارے میں ناحق طور پر جاہلیت کا گمان، یہ لوگ (اپنے خاص انداز میں) کہتے تھے کہ کیا اس کام میں ہمارا بھی کوئی (حصہ اور) اختیار ہے ؟ کہو اختیار تو سب اللہ ہی کیلئے (اور اسی کے ساتھ خاص) ہے، یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے بھی اس معاملہ میں کوئی شئی (رائے اور اختیار کی) ہوتی، تو ہم لوگ یہاں (اس میدان احد میں اس طرح) قتل نہ ہوتے، کہو کہ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی وہ لوگ خود بخود (اور ضرور بالضرور) نکل آتے اپنی قتل گاہوں کہ طرف، جن پر قتل ہونا لکھ دیا گیا تھا، اور (یہ سب کچھ اس لئے بھی ہوا کہ) تاکہ اللہ آزمائش کرے اسکی جو کچھ کہ ان کے سینوں کے اندر (چھپا ہوا) ہے، اور تاکہ اللہ چھانٹ (کر الگ کر) دے وہ کچھ، جو کہ تمہارے دلوں میں ہے (شوائب وساوس میں سے) اور اللہ خوب جانتا ہے دلوں کے (اندر چھپے بھیدوں اور) رازوں کو1

318 معرکہ احد میں اہل ایمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے معرکہ احد میں ایمان والوں کیلئے ایک خاص انعام یعنی امن و سکون کی اونگھ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ گروہ مومنین مخلصین کا گروہ تھا، جن کو انکے صدق و اخلاص کی بنا پر خداوند قدوس کی طرف سے " نعاس امن " کی اس عظیم الشان نعمت سے میدان کارزار میں عین اس وقت نوازا گیا جبکہ مسلمانوں کی لاشیں خون میں لت پت تھیں۔ اور غم پر غم کی بنا پر خوف و سراسیمگی کی کیفیت چار سو پھیلی ہوئی تھی۔ تو " نعاس امن " کے اس انعام خداوندی سے ان کے غم و صدمے کی یہ کیفیت جاتی رہی۔ دشمن کے رعب سے وہ سبکسار ہوگئے اور جنگ کے تعب اور تھکان سے ہلکے ہو کر وہ تازہ دم ہوگئے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ کیسی عظیم شان تھی ان حضرات صحابہ کی جن کیلئے قدرت کی طرف سے اس طرح آرام و راحت اور سکون اور اطمینان عین میدان معرکہ میں کیا گیا ۔ عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃُ وَالرِّضْوَانُ ۔ سو جنگ کی رات میں مسلمانوں نے امن کی اس نیند سے مکمل آرام پایا۔ حضرت ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ میدان کارزار میں اس اونگھ کی وجہ سے ہماری کیفیت یہ تھی کہ ہم میں سے ایک کے ہاتھ سے تلوار گرجاتی تو وہ اس کو دوبارہ اٹھاتا۔ (ابن کثیر، معارف اور مراغی وغیرہ) ۔ سو صدق ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام - 319 گروہ منافقین کی حالت و کیفیت : یہ منافقوں کا گروہ تھا جو کہ اپنے نفاق اور خبث باطن کی بنا پر " نُعَاس اَمْن " کی اس نعمت سے محروم رہا تھا۔ اور ان کو امن و سکون کی بجائے اپنی جانوں کی فکر کھائے جا رہی تھی کہ اب ہمارا کیا بنے گا۔ اور دشمن کا خوف ان پر حاوی و مسلط تھا۔ سو ایمان و یقین کی دولت امن و سلامتی اور سکون و اطمینان کی نعمت سے بہرہ ور و سرفراز کرنے والی دولت ہے جبکہ اس سے محرومی سکون و اطمینان کی دولت سے اور دارین کی فوز و فلاح سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ منافق لوگ اپنے نفاق کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت سے محروم تھے جن سے مسلمان سرفراز ہو رہے تھے۔ سو سکون و اطمینان ایمان و یقین کی دولت ہی سے نصیب ہوسکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 320 منافقوں کے منافقانہ اور جاہلیت کے گمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے بارے میں گمان کر رہے تھے ناحق طور پر جاہلیت کے گمان۔ کہ اللہ اور اس کے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) نے مسلمانوں سے فتح و نصرت کے جو وعدے کر رکھے تھے وہ کہاں گئے۔ اور ہمارا یہ حال کیوں ہوا۔ وہ سب کچھ دھوکہ تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ { مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسَوُلُہْ الاّ غُرُوْراً } الاٰیۃ (الاحزاب : 12) وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح کی منافقانہ باتوں اور جاہلیت کی بدگمانیوں کے باعث یہ لوگ نور حق و ہدایت سے دور اور محروم ہوتے جارہے تھے اور کفر و نفاق کی دلدل میں مزید پھنستے جارہے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بظاہر تو یہ لوگ مسلمان بنے ہوئے تھے اور اپنے اسلام اور ایمان کے بڑے بڑے دعوے بھی کرتے تھے، لیکن ان کے اندر ایمان تھا نہیں { وَمَا ھُمْ بِمُوْمِنینَ } ۔ سو ایمان کی دولت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 321 منافقوں کی دو رخی باتوں کی ایک مثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ کیا اس کام میں ہمارا بھی کوئی حصہ اور اختیار ہے۔ یعنی اپنی منافقانہ روش کی بناء پر وہی دو رخی باتیں کرتے جن کا ظاہر کچھ ہوتا اور باطن کچھ۔ مثلًا ان کی یہ بات کہ کیا اس کام میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ اس کا ظاہری پہلو یہ تھا کہ یہ تو تقدیر کا معاملہ ہے جس میں ہم کیا کرسکتے ہیں کہ تقدیر کے مقابلے میں تدبیر بےاثر ہے۔ یا یہ کہ ہماری رائے بھی اگر قابل غور اور لائق سماعت ہو تو ہم بھی اپنی رائے پیش کریں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ مطلب درست تھا۔ مگر اس قول سے ان کا اصل مقصد دوسرا تھا کہ صاحب اگر ہماری مان لی جاتی اور مدینے سے باہر نکلنے کی بجائے اندر سے ہو کر ہی دشمن کا مقابلہ کیا جاتا تو ہمارا یہ حشر نہ ہوتا اور آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔ آگے ان کے انہی نوایاء خبیثہ کا پردہ چاک کیا جاتا ہے۔ سو نفاق و منافقت باعث ہلاکت و تباہی اور موجب خسران ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 322 اختیار سب اللہ ہی کیلئے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اختیار تو سب اللہ ہی کیلیے ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ وہی حق اور صدق و صواب ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔ حق اور بہتری بہرحال اسی میں ہے جو وہ کہے اور جو وہ کرے۔ اس میں کسی کیلئے نہ کسی قیل و قال کی کوئی گنجائش ہے اور نہ حیل و حجت کی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد عالی میں حق اور حقیقت کا بیان بھی ہوگیا اور منافقوں کے قول کا ظاہر کے اعتبار سے جواب بھی۔ یعنی اس ارشاد سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ کے سوا اس کی مخلوق میں سے بھی کچھ ہستیوں کو مختار کل مانتے اور ان کو خرق عادت کے طور پر متصرف جانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اختیار سب کا سب اللہ ہی کے لئے ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ کہ اس کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 323 قرآن حکیم کی حقانیت کا ایک اور ثبوت : سو یہاں سے قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت کا ایک اور ثبوت سامنے آتا ہے کہ اس نے منافقوں کے دلوں میں چھپی بات کی خبر کردی اور ان کے دلوں کے اندر چھپے ہوئے چور کو ظاہر فرما دیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں جو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے لیے بھی اس معاملے میں کوئی شے ہوتی تو ہم یہاں پر اس طرح قتل نہ ہوتے۔ سو قرآن حکیم نے ان کے اس نفاق کو ظاہر فرما دیا جو انہوں نے اپنے گول مول الفاظ کے پردے میں چھپا رکھا تھا کہ صاحب اگر ہماری رائے اور ہمارے مشورے کی کوئی قدر و قیمت ہوتی اور ہماری بات اگر سنی اور مانی جاتی اور ہم باہر نکلنے کی بجائے مدینے کے اندر ہی رہ کر دشمن کا مقابلہ کرتے تو آج ہمارا یہ حشر نہ ہوتا۔ اور ہم احد کے میدان میں اس طرح نہ کٹتے مرتے۔ سو یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ یہ کلام کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دلوں کے اندر چھپی باتوں کو اس طرح جاننا اور بیان کرنا کسی انسان کیلئے ممکن نہیں بلکہ یہ شان صرف خالق بشر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کی ہے جو کہ { عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْر } یعنی " دلوں کے بھیدوں اور رازوں کو جاننے والا ہے " اور جس کی شان " لَا تَخْفٰی عَلَیْہ خَافِیَۃٌ " کی ہے۔ پس یہ کلام مجید، قرآن حکیم اللہ وحدہ لاشریک ہی کا فرمان اور اسی کا کلام حق ترجمان ہے ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَجَلَّ وَعَلَا مَجْدُہ - 324 تقدیر کا لکھا کبھی نہیں ٹل سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی وہ لوگ خود بخود اور ضرور بالضرور نکل آتے اپنی قتل گاہوں کی طرف جن پر قتل لکھ دیا گیا تھا۔ سو تم لوگ اگر اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی وہ لوگ اپنی قتل گاہوں کی طرف چل کر آجاتے جن پر قتل ہونا لکھ دیا گیا تھا۔ کیونکہ تقدیر کا لکھا ٹل نہیں سکتا۔ اور کوئی تدبیر اس کو روک نہیں سکتی۔ سو یہ کہنا اور ایسا سمجھنا غلط ہے کہ اگر ہم اپنے گھروں سے نکل کر احد میں نہ آتے تو قتل نہ ہوتے، اور مسلمانوں کو یہ الزام دینا کہ تم نے ہمیں مروایا ہے بالکل ناروا بات ہے۔ موت نے تو اپنے وقت پر بہرحال آ کر ہی رہنا ہے۔ اور سب سے عمدہ اور بہترین موت وہ ہے جو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے آئے۔ اور بڑا خوش نصیب انسان وہ ہے جو بہادروں کی موت مرے۔ شہادت کا شرف حاصل کرے اور اپنی جان اپنے خالق ومالک کی رضاء کیلئے قربان کرے اور زندہ جاوید بن جائے۔ 325 مصائب و ہموم ذریعہ آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب و آلام سینوں کے چھپے بھیدوں کی آزمائش اور ان کی جانچ کا ذریعہ ہیں۔ سو یہ سب کچھ اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ آزمائش کرلے اس کی جو کہ ان لوگوں کے سینوں کے اندر تھا۔ یعنی ایمان و یقین اور صدق و اخلاص وغیرہ کے مخفی رازوں اور چھپے بھیدوں کی آزمائش تاکہ اس سے واضح ہوجائے کہ کون مومن مخلص ہے اور کون منافق و بےایمان ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کھرا کھوٹا سب نکھر جائے { لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ } الآیۃ (الانفال : 37) سو مصائب ومشاکل دلوں کے چھپے بھیدوں اور مخفی رازوں کو جاننے اور ان کے آزمانے کا ذریعہ و وسیلہ ہے تاکہ اس طرح باطن کی مخفی کیفیت سب کے سامنے آشکارا ہوجائے اور کھرا کھوٹا سب چھٹ کر الگ ہوجائے۔ اور اس طرح کہ کسی کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سو مصائب و آلام کی چھلنی سے نکلنے اور چھننے کے بعد کھرا کھوٹا الگ ہوجاتے ہیں۔ اس لئے حکیم مطلق حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کی طرف سے مصائب وآلام کے ذریعے ابتلاء و آزمائش کا سامان کیا جاتا ہے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَکَما یُحِبْ ویُریدْ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ دلوں کی دنیا کی آزمائش کیلئے کیا گیا۔ تاکہ کھرا کھوٹا سب واضح ہوجائے۔ 326 مصیبت کے ذریعے تصفیہ قلوب کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ چھانٹ کر الگ کر دے وہ سب کچھ جو کہ تمہارے دلوں کے اندر ہے۔ اور اس طرح تمہارے دلوں سے ہر طرح کے شوائب کا ازالہ کر کے ان میں ایسا نکھار پیدا کر دے جیسا کہ سونے کو پگھلا کر اور اس کا کھوٹ دور کر کے اس میں نکھار پیدا کیا جاتا ہے۔ اور تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے رسول کی نافرمانی کے نتائج کس قدر سنگین ہوتے ہیں۔ اور ان کے دلوں کو ایسا کندن بنادیا جائے کہ ان کی توجہ اسباب سے ہٹ کر مسبب الاسباب پر لگ جائے اور وہ غیر اللہ کی طرف توجہ سے منزہ ہو کر خالص اللہ کے ہو کے رہ جائیں۔ سو اگر تم لوگ ہمیشہ امن و عافیت ہی میں رہتے اور فتح و نصرت اور غلبہ و استیلاء ہی سے محظوظ و بہرہ مند ہوتے رہتے تو تصفیہ باطن اور تمحیص قلوب کا یہ عظیم الشان مقصد کیسے حاصل ہوتا۔ سو اس طرح احد کی یہ عارضی اور وقتی شکست و ہزیمت بھی اتنی ہی بڑی نعمت ہے جتنی کہ فتح و نصرت اور غلبہ و استیلاء کی نعمت۔ اسی لئے علامہ قاشانی کہتے ہیں کہ مصیبت و بلا اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے کوڑوں میں سے ایک کوڑا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں کے تصفیہ باطن اور تزکیہ قلوب کا سامان کرتا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے رب رحمن و رحیم کی اس رحمت بیکراں اور عنایت بےنہایت کے۔ جس سے وہ اپنی اشرف المخلوقات مخلوق حضرت انسان کو نوازتا ہے۔ اور اس طور پر کہ انسان، ہاں اس ناشکرے انسان کو اس کی خبر و احساس بھی نہیں۔ اور وہ اس سے غافل و بےبہرہ بلکہ منکر تک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اس کے باوجود وہ مہربان مطلق اس کو اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتا بلکہ نوازے ہی جاتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے اور مسلسل اور ہمیشہ نوازنا ۔ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ۔ جَلَّ جَلَالُہَ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ پس بندے کا کام ہے کہ ہمیشہ اس کی طرف رجوع رہے ۔ وباللہ التوفیق - 327 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ایک نمونہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ سینوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے : پس وہی ہے جو پوری طرح جانتا ہے کہ دلوں کے روگ کیا ہیں اور ان کا علاج کیا ہوسکتا ہے اور کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ اور کس کیلئے کیا چیز مفید ہے اور کیا مضر۔ اور کب اور کس شکل و صورت میں مفید یا مضر ہوسکتی ہے۔ وہ ان سب باتوں کو جانتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس کو کسی امتحان وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ جو اپنے بندوں کو ابتلاء و آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس میں دوسری مختلف حکمتیں مخفی و مضمر ہوتی ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہیں سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر غلط کار اور الٹی سوچ کے ہیں وہ لوگ جو اس خالق ومالک وحدہٗ لاشریک کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لئے طرح طرح کے وہمی اور فرضی وسیلے اور واسطے گھڑتے اور فرض کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ طرح طرح کی شرکیات کے دروازے کھولتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بھلا جو ذات دلوں میں چھپے رازوں کو بھی پوری طرح جانتی ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

بیشک تم میں سے جن لوگوں نے پیٹھ پھیری (اس دن) جس دن کہ آمنا سامنا ہوا (حق و باطل کے) دو گروہوں کا2 تو اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہ تھی کہ ان کو پھسلا دیا تھا شیطان نے ان کی بعض کمزوریوں کی بناء پر اور یقینا اللہ نے معاف فرما دیا ان سب کو بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی بردبار ہے (سبحانہ وتعالی)

328 لغزش قدم اپنے کئے کے نتیجے میں : یعنی ان کا یہ پھرجانا نہ کسی ارتداد کی بناء پر تھا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور نہ کسی دیدہ و دانستہ نافرمانی کی بناء پر۔ بلکہ یہ ان کی ایک لغزش قدم تھی جس میں شیطان نے ان کو مبتلاء کردیا تھا ان کی اس اجتہادی خطاء کی بناء پر کہ انہوں نے وہ مورچہ چھوڑ دیا تھا جس پر اللہ کے رسول (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو مامور فرمایا تھا۔ اور ایسا انہوں نے اس خیال سے کیا تھا کہ اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔ معرکہ ختم ہوچکا ہے۔ مسلمان فتح سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ لہذا اب ہمیں بھی جا کر مال غنیمت جمع کرنے میں شامل ہوجانا چاہیئے۔ نیز جو دوسرے لوگ اس روز میدان معرکہ سے بھاگ گئے تھے ان کو بھی شیطان نے ان کی کچھ سابقہ خطاؤں کی بناء پر پھسلا دیا تھا کہ شیطان کا داؤ وہیں کارگر ہوتا ہے جہاں گناہ و خطاء کی جڑ موجود ہوتی ہے۔ لہذا گناہ و خطا کے سرزد ہوجانے کے بعد ایسی سچی توبہ کی جائے کہ اس کی جڑ نکل جائے۔ روایات کے مطابق اس روز شرکائے احد میں سے صرف تیرہ آدمی حضور ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے جن میں سے پانچ مہاجرین میں سے تھے اور باقی انصار میں سے۔ اور ان بھاگنے والوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو تین دن بعد حضور ﷺ سے آکر ملے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنے کئے کی سزا اس صورت میں اور فوری طور پر بھی ملتی ہے کہ اس سے انسان راہ حق سے پھسلتا جاتا ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ جبکہ اصل جزا و سزا آخرت ہی میں ہوگی کہ دار الجزاء دار الآخرت ہی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی لغزش و خطا سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 329 شرکائے احد کیلئے عفو و درگز کی خوشبخری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرما دیا ان کے اس صدق و اخلاص کی بناء پر جو کہ ان کے دلوں کے اندر موجود تھا۔ پس اب ان پر نہ کوئی الزام ہے نہ مؤاخذہ۔ لہذا اب جو کوئی ان پر کسی طرح کی لب کشائی اور زبان درازی کریگا وہ مجرم اور بدبخت ہوگا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور ان سے اس عفو و درگزر کو بھی { لقد } کے تاکید در تاکید کے کلمات کریمہ سے بیان فرمایا گیا۔ سو باطن کی صفائی اور صدق و اخلاص اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو اپنی طرف کھینچنے والی چیز ہے۔ سو شیطان کا داؤ اور اس کا وار انہیں لوگوں پر چلتا اور ان پر زیادہ موثر اور کارگر ہوتا ہے جن کے اندر گناہ کی کوئی جڑ موجود ہوتی ہے۔ اور جو سچے اور مخلص ہوتے ہیں وہ اس کے وار اور اس کے داؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب کبھی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو وہ اس کو دل میں جگہ نہ پکڑنے دے بلکہ استغفار اور توبہ نصوح کے ذریعے اس کا استیصال کر دے۔ ورنہ اسی قسم کے لوگ بڑی بڑی جماعتوں کے لئے وجہ ابتلاء اور باعث مصیبت بن جاتے ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو توبہ و استغفار قدرت کی ایک عظیم الشان عنایت و رحمت ہے۔ 330 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اس لئے وہ صدق و اخلاص کی بناء پر اور سچی توبہ کی وجہ سے سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کہ وہ غفور اور بڑا ہی بخشنہار ہے۔ نیز وہ گناہوں پر فوراً پکڑتا بھی نہیں تاکہ گنہگار کو توبہ و استغفار کا موقع میسر رہے کہ وہ حلیم اور بڑا ہی بردبار بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس نہ تو گناہوں کی بناء پر اس کی رحمت و بخشش سے مایوس ہونا چاہیئے، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اور نہ اس کے امہال اور تاخیر مواخذہ سے دھوکہ کھانا چاہیئے خواہ وہ کتنا ہی طویل اور دراز کیوں نہ ہو کہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔ والعیاذ بہ جل و علا ۔ اللہ ہر دھوکے اور فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان (لانے) کے شرف سے مشرف ہوچکے ہو، کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو (ایمان کے بلند بانگ دعوے تو کرتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ) کفر ہی کی راہ پر گامزن ہیں، جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ زمین پر کہیں سفر پر نکلتے ہیں، (اور وہاں اتفاق سے ان کی موت واقع ہوجاتی ہے) یا وہ کسی جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں قتل ہوجاتے ہیں، وہ ان کے بارے میں) کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہمارے پاس ہوتے تو نہ (اس طرح) مرتے اور نہ قتل ہوتے، تاکہ (اس طرح) اللہ (ان کی) اس بات کو حسرت (و افسوس کا انگارہ) بنا کر ان کے دلوں میں ڈال دے3 حالانکہ اللہ ہی زندگی بخشتا ہے، اور وہی موت بھی دیتا ہے، اور اللہ پوری طرح دیکھنے والا ہے ان کاموں کو جو تم کرتے ہو

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے، یا مرگئے، تو (کسی ناکامی کا سوال ہی نہیں کہ) بیشک اللہ کی طرف سے ملنے والی عظیم الشان بخشش اور (بےپایاں) رحمت اس (حطام دنیا) سے کہیں بہتر ہے جس کو جمع کرنے (اور جوڑ جوڑ کر رکھنے) میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں4

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم (کسی بھی طرح) مرگئے، یا قتل ہوگئے، تو (کیا ہوا ؟ ) تم سب کو بہرحال اللہ ہی کی طرف سمٹ کر جانا ہے

331 ایمان والوں کے ایک خاص تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان والو ! خبردار کہیں تم ان کافروں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے بھائیوں کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اگر یہ ہمارے ساتھ ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ یعنی ان منافق لوگوں کی طرح جو کہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر اندر سے کافر ہیں۔ (روح، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ پس تم ان کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا اور خبردار کہیں ان کی طرح نہیں ہوجانا کہ ایسے لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس ارشاد ربانی کے ذریعے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے آپ کو کفار و منافقین کی روش کی تقلید اور ان کی پیروی سے محفوظ رکھنا، کیونکہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم ایسے لوگوں کا راستہ اور ان کا طریقہ ہلاکت اور تباہی کا طریقہ ہے، جس کا نتیجہ بہرحال دائمی ہلاکت اور تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس لئے تم لوگ ان لوگوں کے طور طریقوں سے ہٹ کر اور بچ کر اس راہ حق و صواب پر گامزن رہنا جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی راہ ہے ۔ وباللہ التوفیق - 332 محروم الایمان لوگوں کی اندرونی کیفیت کا ایک نمونہ : سو ایسے لوگوں اگر مگر کے چکر میں پڑے رہتے ہیں اور سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں جبکہ مومن صادق ہمیشہ مطمئن رہتا ہے سو زندگی اور موت کو اللہ کی طرف سے جاننا ایمان کا تقاضا ہے : پس تم اے سچے ایمان والو، نہ تو ان منافق لوگوں کی طرح کبھی دل میں ایسا کوئی خیال لانا اور نہ زبان سے ایسی کوئی بات نکالنا کہ تمہارے ایمان و عقیدہ کا تقاضا یہی ہے کہ تم زندگی و موت کو اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں سمجھو۔ اور ہر حالت کو اسی کی طرف سے مقدر جان کر مطمئن رہو کہ امر واقع یہی ہے۔ اور اسی میں امن و سلامتی اور سکون و اطمینان کا راز پنہاں و پوشیدہ ہے کہ اس ایمان و یقین کے بعد انسان اللہ ہی سے ڈرتا اور اسی سے توقع اور امید رکھتا ہے۔ اور یہی اصل میں حقیقت ایمان و یقین کا تقاضا ہے۔ اور اسی ایمان و یقین سے اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوسکتی ہی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ کمال ایمان و یقین سے بہرہ مند و سرشار فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 333 محروم الایمان لوگوں کے لیے یاس و حسرت کی سزا کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اس طرح اللہ ان لوگوں کی ایسی باتوں کو یاس وحسرت کا انگارہ بنا کر ان کے دلوں میں ڈال دے۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنی سلگائی ہوئی اس غیر مرئی آگ میں ہمیشہ جلتے اور مرتے رہیں کہ کاش کہ ایسے نہ ہوتا ایسے ہوتا، یوں نہ ہوتا ووں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ سچا ایمان اس اعتبار سے بھی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس سے مومن صادق کو اطمینان قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے اور وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے جبکہ کفر و نفاق کھٹکے اور بےاطمینانی کا باعث ہے۔ اور ایسا شخص ہمیشہ " کاش کہ " اور " اگر مگر " کے چکر میں ہی پڑا رہتا ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ چناچہ اسی بناء پر ان لوگوں نے غزوہ احد کے مقتولوں کے بارے میں یہ بات کہی، حالانکہ زندگی و موت کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے موت دیتا ہے اور جب اور جیسے چاہتا ہے موت دیتا ہے۔ اور وہی جس سے چاہتا ہے موت کو ٹالتا اور مؤخر کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس موت سے ڈرنا اور اس سے بھاگنا محض جہالت اور حماقت ہے جیسا کہ بعض کہتے اور مانتے ہیں ۔ و الْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم - 334 زندگی اور موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے : سو وہ اگر زندہ رکھنا چاہے تو کوئی مار نہیں سکتا۔ اور اس کے یہاں سے اگر موت کا فیصلہ ہوجائے تو کوئی بچا نہیں سکتا۔ تو پھر موت سے ڈرنا، سفر سے بچنا اور جہاد سے جی چرانا، فضول و بےکار، بلکہ نری حماقت ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ بہرکیف زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں پیر صاحب نے مار دیا یا فلاں کو انہوں نے زندگی بخش دی۔ سو زندگی بخشنے اور موت دینے کے سب اختیارات اللہ وحدہ لاشریک ہی کے اختیار میں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کی صفت و شان ہے { یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ } یعنی " وہ زندگی بخشتا اور موت سے ہمکنار کرتا ہے " ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ پس اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی میں احیاء و اماتت کی صفت ماننا دوسروں کو اس کی صفات میں حصے دار بنانا ہے جو کہ شرک ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

سو اللہ کی رحمت کی بنا پر، آپ نرم خو ہوگئے ان کے لئے (اے پیغمبر ! ) ورنہ اگر کہیں آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے، تو یہ کبھی کے آپ کے آس پاس سے چھٹ گئے ہوتے1 سو آپ درگزر کرو ان (کی کو تاہیوں) سے، اور بخشش مانگو ان کے لئے (اپنے رب سے) اور شریک مشورہ رکھو ان کو ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کر (کے اس میں لگ) جاؤ، بیشک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسہ کرنے والوں کو

337 تند خوئی اور سنگدلی کا طبعی نتیجہ تنفر و انتشار۔ والعیاذ باللہ : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمت کی بنا پر اپ ان کے لیے نرم ہوگئے ورنہ آپ اگر کہیں تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ کبھی کے آپ کے پاس سے چھٹ گئے ہوتے کہ تندخوئی اور سنگدلی کا طبعی نتیجہ اور لازمی اثر بہرحال یہی ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تندخوئی و سنگدلی کی خصلت کس قدر نفرت و دوری پیدا کرنے والی خصلت ہے اور جب نبی اکرم ﷺ کی بےنظیر ہستی اور بےمثال شخصیت کیلئے بھی اس خصلت کا یہ اثر و نتیجہ ہے تو پھر دوسروں کے بارے میں کہنا ہی کیا ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ پس مالک الملک کے حضور ہمیشہ حسن خلق ہی کی دعاء کرتے رہنا چاہیئے ۔ اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا لِاَحْسَن الْاَخْلَاق ۔ وَلَا بَہْدِیْ لِاَحْسَنِہَا اِلَّا اَنْتَ ۔ وَاصْرِفْنَا عَنْ سَیِّئِہَا ۔ وَلَا یَصِرْفُ عَنْ سَیِّئِِہَا الا أنْتَ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان کے ساتھ سخت گیری کی روش اختیار کرتے تو یہ ایسے وحشی ہیں کہ آپ سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ پس آپ ان کے ساتھ اپنی اسی روش نرم روی پر قائم رہو کہ نرم روی اور رفق ولین کی عمدہ اخلاق میں ایک خاص اہمیت اور اس کا ایک اثر و وزن ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 338 باہمی مشورے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے درگزر ہی کرو۔ ان کے لیے بخشش کی دعا بھی کرو اور ان کو ایسے اہم کاموں سے متعلق مشورے میں شریک رکھا کرو۔ یعنی ان سے مشورہ کرو ان امور میں جو کہ مشورے کے لائق ہوں۔ اور ان کے بارے میں آپ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی ہو۔ کیونکہ جہاں وحی نازل ہوچکی ہو وہاں کسی مشورے وغیرہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لئے قیاس و اجتہاد کی شروط میں سے ایک اہم اور بنیادی شرط یہ ہے کہ " اَنْ لا یَکُوْنَ فِیْ مَعْرَض النَّصِّ " یعنی قیاس و اجتہاد صرف وہیں ہوسکتا ہے جہاں کوئی نص موجود نہ ہو۔ لہذا کسی امرمنصوص میں قیاس و اجتہاد یا مشاورت و مباحثہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ غیر منصوص امور پر مشورہ کرنا محمود اور مطلوب ہے۔ اور نبی ٔ اکرم ﷺ نے مشاورت کے اس حکم و ارشاد پر ہمیشہ عمل فرمایا اور ہر اہم معاملے پر اپنے صحابہ کرام سے مشورہ لیا۔ اور اپنے صحابہ کرام کی رائے کا احترام بھی کیا اور اس کو قبول بھی فرمایا۔ چناچہ غزوہ بدر واحد کے بارے میں مشورہ لیا اور غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ ﷺ نے حملہ آوروں سے مدینہ کے ایک تہائی پھلوں پر صلح کرنے کے بارے میں مشورہ لیا تو سعدین یعنی حضرت سعدبن معاذ اور سعد بن عبادۃ ۔ ؓ ۔ کے انکار پر آپ ﷺ نے اپنی اس تجویز کو واپس لے لیا ﷺ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر مشورہ لیا تو حضرت صدیق اکبر ؓ کی رائے کو قبول فرما لیا۔ اسی طرح قصہ افک اور براءت سیدہ عائشہ صدیقہ ۔ ؓ ۔ کے بارے میں بھی مشورہ لیا اور فرمایا " اَشِیْرُوْا عَلَیَّ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ "، " مسلمانو، مجھے اس بارے میں مشورہ دو " (بخاری، کتاب المغازی وغیرہ) ۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے صحابہ کرام ۔ علیھم الرحمۃ والرضوان ۔ بھی اہم امور میں باہم مشورہ کرتے تھے اور اہل ایمان کی ایک خاص صفت یہ بیان فرمائی کہ ان کے معاملات باہمی مشورہ سے طے ہوتے ہیں { وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ } بہرکیف شوریٰ اور مشورہ کرنا اسلام کی مقدس تعلیمات کا ایک اہم ارشاد ہے مگر اس سلسلے میں دین حنیف نے کوئی مستقل قوانین و ضوابط مقرر نہیں فرمائے۔ کیونکہ یہ چیز اس عالمی دین اور اس کی طبیعت سے میل نہیں کھاتی۔ کیونکہ یہ دین ساری دنیا کیلئے اور قیامت تک کے سب زمانوں کے لئے ہے۔ اور اس میں اختلاف کا پایا جانا ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ اس لئے دین حنیف نے اس بارے کوئی قدغن اور پابندی نہیں لگائی کہ ایسے کسی لگے بندھے ضابطے اور قانون کا انطباق تمام زمانوں اور سب علاقوں پر مشکل، بلکہ تقریبا ناممکن تھا۔ اس لئے بعد کے زمانوں میں اس کے طور طریقے بدلتے رہے اور بدلتے رہیں گے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے انتقال کے بعد حضرات صحابہ کرام نے جب حضرت صدیق اکبر ؓ کی خلافت کے بارے میں باہم مشورہ کیا تو اس نکتہ نظر پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ جب آنحضرت ﷺ آپ ؓ پر ہمارے دین کے بارے میں راضی ہوگئے کہ آپ ؓ کو اپنے آخری ایام میں اپنی جگہ نماز میں امام بنایا تو پھر ہم آپ ؓ پر اپنی دنیا کے بارے میں راضی کیوں نہ ہوں " رَضِیَ بِہ فِیْ دِیْْْنِنَا اَ فَلا نَرْضٰی بِہ فِیْ دُنْیَانَا " اسی طرح بعد کے حالات میں مختلف صورتیں اختیار کی گئیں کہ اپنے اپنے دور میں حالات کا تقاضا مختلف ہوتا ہے۔ اس لئے دین حنیف نے جو کہ دین فطرت ہے سب لوگوں اور سب زمانوں کیلئے کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں فرمایا، بلکہ یہ معاملہ کھلا چھوڑ دیا کہ ہر جگہ اپنے حالات اور اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق غور و فکر کیا جاسکے۔ البتہ اتنی شرط ضرور ہے کہ ان کا کوئی بھی فیصلہ دین کے کسی حکم سے ٹکراتا نہ ہو، کہ دین کا حکم بہرحال سب سے اعلیٰ وبالا ہے۔ 339 اللہ پر بھروسہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید سے مؤکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ محبت رکھتا اور پسند فرماتا ہے ایسے بھروسہ کرنے والوں کو جو اپنے مقدور کی حد تک ضروری وسائل تو اکٹھے کرتے ہیں مگر اس کے بعد انکے دلوں کا بھروسہ و اعتماد اپنے اسباب و وسائل پر نہیں، بلکہ اسباب و وسائل کے خالق ومالک حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ اور اس کی نصرت و امداد پر ہوتا ہے کہ یہ اسباب و وسائل بھی تب ہی کام دیتے ہیں جبکہ اس کی نصرت و عنایت شامل ہو۔ ورنہ یہ یونہی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، بلکہ الٹا نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اور دوسروں کے ہاتھ لگ کر الٹا اپنے ہی خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آئے دن اس کا مشاہدہ یہاں اور وہاں ہر طرف اور جگہ جگہ ہوتا رہتا ہے۔ پس توکل کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ اسباب تو پورے ہوں مگر دل کا بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہو۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس اعرابی کو بتایا تھا جس نے آپ ﷺ سے اپنی اونٹنی کے بارے میں پوچھا تھا کہ کیا میں اس کو باندھ لوں یا توکل کر کے اسے کھلا چھوڑ دوں ؟ تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " اِعْقِلْہَا ثُمَّ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہ " یعنی پہلے تم اس کو باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے تعلیمات نبوی ﷺ کی جامعیت کے کہ ایک جملے میں توکل سے متعلق ایسی جامع اور فیصلہ کن ہدایت وتعلیم سے نواز دیا ۔ صَلَوَات اللّٰہ وَ سَلَامُہُ عَلَیْہِ ۔ پس ترک اسباب توکل نہیں تعطل ہے، جو کہ ممنوع و محذور ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ البتہ اسباب ہی کو اصل اور سب کچھ سمجھ لینا بھی ممنوع و محظور ہے کہ اصل معاملہ اسباب و وسائل کے رہین منت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس ہوگا وہی اور ویسا ہی جو کہ اور جس طرح اس وحدہ لا شریک کو منظور ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -