Ayahs 3:94–96191 افتراء علی اللہ سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ افتراء علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ سو جو اللہ پر اس طرح کا جھوٹ باندھے اور کہے کہ نہیں صاحب یہ چیزیں تو پہلے سے ہی حرام چلی آرہی تھیں اور اللہ نے ان کو حضرت ابراہیم وغیرہ پر حرام فرمایا تھا وغیرہ۔ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم اور ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغ وَّضَلَال و سُوْئٍ وّ انْحِرَاف۔ سو جو چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام نہیں تھیں ان کو حرام قرار دے کر ملت ابراہیمی میں شامل کرنا اللہ پر افتراء باندھنا ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی ہر بات سے ہمیشہ بچا جائے ۔ اللہ ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
192 حق سے منہ موڑنے والے ظالم ۔ والعیاذ باللہ : کہ حق کے اس طرح واضح ہوجانے کے بعد، اور اپنی اس عجز و درماندگی کے باوجود، یہ لوگ قبول حق سے انکاری ہیں۔ اور اللہ کے نبی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ سو حق سے منہ موڑ کر اور اس کا انکار کرکے انہوں نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا، جس کے نتیجے میں ان کو دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا مزہ چکھنا اور اس میں جلتے رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حق سے منہ موڑنا اور اللہ پر افتراء باندھنا بڑا ظلم ہے اور اس کے مرتکب بڑے ظالم اور محروم لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:97196 مقام ابراہیم سے مقصود و مراد ؟ : یعنی وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر آنجناب " بیت اللہ " کی تعمیر فرماتے تھے، اور جس پر آپ کے قدم مبارک کے نشان پڑگئے تھے جو بعد میں لوگوں کے ہاتھوں کے چھونے کے باعث مٹ گئے تھے۔ (حاشیہ بیضاوی بحوالہ معارف القران للکاندھلوی (رح) ) ۔ اور یہ پتھر بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ موجود تھا جسکو بعد میں حضرت عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں وہاں سے مشرقی جانب میں پیچھے ہٹا لیا تھا تاکہ بیت اللہ کا طواف کرنے والوں کیلئے دشواری نہ ہو۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف مقام ابراہیم کے بارے میں حضرات اہل علم کا یہ ایک قول ہے۔ جبکہ اس بارے میں دوسرا قول کچھ حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ اس سے پوری ارض حرم مراد ہے جسکو حضرت ابراہیم نے اپنا مستقر و مقام قرار دیا تھا۔ اور یہ قول حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد ؓ اور عطاء جیسے حضرات سے مروی ہے۔ اور بعض اہل علم نے مختلف دلائل کی بناء پر اسی کو ترجیح دی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔
197 بیت اللہ میں داخل ہونے والے کے لیے امن وامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بیت اللہ میں داخل ہونے والا امن وامان سے سرفراز ہوگیا۔ قتل و خونریزی، اور ہر طرح کی دست درازی سے۔ اب اس کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا۔ اس مقدس گھر کی یہ عظیم الشان اور گہری عقیدت و عظمت لوگوں کے دلوں میں ایسی راسخ تھی کہ نور اسلام کے طلوع سے قبل زمانہ جاہلیت کی خانہ جنگیوں کے دور میں بھی لوگ اس کے قائل اور ماننے والے تھے۔ اور وہ بیت اللہ میں پناہ لے لینے والے کو کسی طرح چھیڑتے نہیں تھے۔ اسی لئے اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنی کتاب حکیم میں مشرکین مکہ پر اپنا یہ کرم اور احسان عظیم یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ } الآیۃ (العنکبوت۔ 67) یعنی " کیا ان لوگوں نے کبھی اس امر پر غور نہیں کیا کہ کس طرح ہم نے اس مقام کو امن والا حرم بنادیا (جہاں یہ لوگ امن وامان سے رہتے ہیں ۔ جبکہ انکے آس پاس کے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
198 " وَمَنْ کَفَرَ " کا معنیٰ ومطلب ؟ : یعنی جس نے انکار کیا " بیت اللہ " کے قبلہ اول ہونے کا یا حج کی فرضیت کا۔ اور کفر سے مراد بھی عام ہے کہ وہ کفر جحود و انکار ہو، یا کفران نعمت و ناشکری۔ کیونکہ جس نے بھی کفر کیا اور جس نوعیت اور شکل کا بھی کفر کیا، اس نے یقینا اپنا ہی نقصان کیا، کہ اللہ تو سب دنیا جہان سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سے بےنیاز ہے۔ سو جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا۔ نہیں تو اپنا ہی نقصان کرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور صحیح حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استطاعت کے باوجود حج نہیں کیا، اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ سو ایسے شخص کا ایمان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو زندگی میں ایک مرتبہ اس گھر کی زیارت اور اس کا حج فرض ہے۔
199 اللہ سب جہان والوں سے بےنیاز ہے : اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے۔ پس نہ کسی کے ایمان و اطاعت سے اس کی خدائی میں ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوسکتا ہے، اور نہ کسی کے کفر و انکار اور معصیت و نافرمانی سے اس کا کسی طرح کا کوئی نقصان ممکن ہے۔ یہ سب کچھ انسان اپنے ہی بھلے یا برے اور نفع یا نقصان کیلئے کرتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُل سُوْئٍ وََّ شَرٍّ " اور حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ اگر ساری دنیا بھی (خدانخواستہ) کفر پر جمع ہوجائے تو اس سے خدا کی خدائی میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اور اگر ساری دنیا ایمان پر جمع ہوجائے تو اس سے خدا کی خدائی میں ذرہ برابر کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ سو اللہ تعالیٰ حجت تمام کردینے کے بعد اس بات سے بےپرواہ ہوجاتا ہے کہ کون کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون ایمان کی۔ کہ وہ بہرحال سب سے بےنیاز ہے۔ اور کفر و اسلام اور حق و باطل کی راہوں میں سے جو بھی راہ کوئی اختیار کرے گا اس کے نفع و نقصان کا تعلق خود اسی شخص سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بہرحال سب سے غنی و بےنیاز ہے۔ اس لئے اس نے ایمان یا کفر کی راہ کو اپنانے کا معاملہ انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر چھوڑ دیا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس کی مرضی ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ البتہ یہ بات یاد رہے کہ ظالموں کے لئے ہم نے ایک بڑی ہی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے جسکی قناتوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے (الکہف۔ 29) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:98200 اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گواہ ہے تمہارے ان تمام کاموں پر جو تم لوگ کرتے ہو۔ پس تمہارا کوئی بھی قول و فعل اس سے مخفی نہیں رہ سکتا، اور تمہیں اس وحدہ لاشریک کے حضور حاضر ہو کر اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور بھرپور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پس ہر کوئی اپنا معاملہ خود دیکھ لے اور اپنے بارے میں خود غورو فکر کرلے کہ وہ کیا کررہا ہے اور اس وحدہ لاشریک کے یہاں وہ کس صلہ و بدلہ کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اللّٰھُمْ وَفقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَلِِ ۔ بہر کیف اس میں اہل کتاب کو زجرو ملامت ہے کہ تم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اور تمہیں اپنے کئے کا بھگتان بھگتنا پڑے گا۔ سو اپنی روش کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ اس کی گرفت میں آجاؤ اور اور پھر اس سے خلاصی کی کوئی صورت ممکن نہ رہے۔
Ayah 3:99201 راہ حق سے روکنے کی سنگینی اور ممانعت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اے اہل کتاب تم کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں۔ سو اہل کتاب سے کہو کہ تم دوسروں کو اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو اور اس طرح تم خود گمراہ ہو کر دوسروں کو بہکانے، بھٹکانے اور گمراہ کرنے کے دوہرے جرم کا ارتکاب کرتے ہو، اور اپنے لئے ڈبل عذاب کا سامان کرتے ہو۔ اور تم نہیں سمجھتے کہ اس طرح تم لوگ خود اپنا ہی نقصان اور کس قدربڑا نقصان کرتے ہو کہ اللہ کی سیدھی راہ سے روکنا بڑی ہی محرومی اور ہولناک خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العظیم ۔ پس تم لوگ باز آجاؤ اللہ کے راستے سے روکنے کے اس سنگین جرم سے، کہ اس میں خود تمہارا بھلا ہے نہیں تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
202 سیدھی راہ میں کجی ڈھونڈھنا ایک یہودی ہتھکنڈا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کیوں کجی ڈھونڈتے ہو سیدھی راہ میں۔ پس تم لوگ سیدھی راہ میں کجی مت ڈھونڈوطرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر کے، جس سے عام اور سادہ لوح قسم کے لوگ دھوکہ کھا کر شک اور تذبذب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سو سیدھی راہ میں کجی ڈھونڈھنا ایک قدیم یہودی ہتھکنڈا ہے جس سے اہل باطل آج تک کام لے رہے ہیں۔ اور اس طرح وہ سادہ لوح عوام کو راہ حق و ہدایت سے محروم کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہود کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے راہ حق مل گئی ہے تم لوگ ان کو شکوک و شبہات میں ڈال کر گمراہ کرنا اور سیدھی راہ سے پھیرنا چاہتے ہو۔ سو تم باز آجاؤ اپنی اس روش سے ورنہ تمہارا جرم دوگنا ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
203 راہ حق سے روکنے کی سنگینی کے ایک خاص پہلو کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کا گواہ ہونے کے باوجود حق سے روکنا ایک سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس بارے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ غافل و بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ بس تم لوگوں کو اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ سو تم گواہ تھے اس بات کے، کہ یہ راستہ حق و صواب کا راستہ ہے، جو کہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اس تک پہنچانے والا ہے۔ اس میں کسی کجی اور ٹیڑھ کا کیا سوال ؟ اور اللہ غافل و بیخبر نہیں تمہاری ان چکر بازیوں سے جو تم لوگ راہ حق سے روکنے کیلئے کرتے ہو۔ پس نہ تو تمہاری کوئی چکر بازی اور دھوکہ دہی اس سے مخفی و پوشیدہ رہ سکتی ہے، اور نہ ہی تم اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکتے ہو۔ سو حق کے گواہ ہونے کے باوجود راہ حق سے روکنا ایک بڑا ہی ہولناک اور سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ جو راستے کے اوپر راہبر و راہنما بن کر کھڑا ہو، وہی اگر راہزن اور ڈاکو بن جائے، اور وہ راہنمائی کی بجائے راہزنی کا پیشہ اختیار کرلے تو پھر اس سے بڑھ کر مجرم اور کون ہوسکتا ہے۔ اور تمہیں اس کے باوجود ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا کہ اللہ تمہارے کرتوتوں سے غافل و بیخبر نہیں بلکہ وہ تمہاری ایک ایک حرکت سے واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور تمہارے کیے کرائے کا سب ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔
Ayah 3:100204 دشمن کی شرانگیزیوں سے ہوشیار و محتاط رہنے کی تعلیم و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے اس بارے تنبیہ فرمائی گئی کہ اگر تم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لی جو کہ تم پر حسد کی آگ میں جل رہا ہے، اور تمہارا راہ حق پر قائم رہنا اس کو گوارا نہیں، تو وہ تمہیں تمہارے ایمان سے پھیر کر کافر بنادیگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تمہیں ان سے ہر حال میں ہوشیار رہنا ہوگا۔ روایات کے مطابق شماس بن قیس نامی ایک یہودی نے، جو کہ اسلام اور مسلمانوں سے حد درجہ حسد اور بغض رکھتا تھا، ایک دفعہ انصار کے ایک مجمع میں یہ دیکھ کر جل گیا کہ اوس اور خزرج کے وہ دونوں قبیلے جو کہ اسلام سے قبل آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، اور ان کے درمیان طویل جنگیں بھی ہوچکی تھیں، نور اسلام کی رحمت و برکت سے وہ اب آپس میں اس طرح شیر و شکر ہوگئے ہیں۔ اور اسلام کی انقلاب آفریں تعلیمات کی یہ تاثیر و برکت اسے ایک آنکھ نہ بھائی، تو اس نے ان کے درمیان شر انگیزی پھیلانے کے لئے ان کو جنگ بعاث وغیرہ کی خونریزی کی یاد دلائی۔ اور اس دور کے کچھ اشعار ان کو سنائے، جس سے ان کے درمیان فتنے اور فساد کی چنگاریاں بھڑک اٹھیں، اور ان دونوں گروہوں نے اپنی اپنی تلواریں اٹھا لیں، اور وہ لڑنے اور مرنے مارنے کیلئے تیار ہوگئے۔ آٰنحضرت ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے تشریف لا کر ان کو سمجھایا کہ یہ کیا حرکت ہے جس پر تم لوگ آمادہ ہوگئے ہو ؟ اس کے بعد کہ تم کو اللہ نے نور ہدایت سے سرفراز فرما دیا، اور اسلام کی حقیقی اور سچی عزت سے تم کو نواز دیا، اور جبکہ میں بذات خود تمہارے درمیان موجودہوں۔ تو اس پر وہ سب حضرات ٹھنڈے پڑگئے، اور انہوں نے اپنے غصے تھوک دیئے، اور سمجھ گئے کہ یہ سب شیطانی اکساہٹ کا نتیجہ تھا۔ اپنے کئے پر وہ نادم ہوئے اور پھر آپس میں بغل گیر ہوگئے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور اس میں انکو خبردار کیا گیا اور دشمن کی شرانگیزی سے ہوشیار و محتاط رہنے کی تلقین فرمائی گئی۔ کیونکہ شیطان ہمیشہ انسان کی تاک میں رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:101205 کفر وانکار کی گنجائش کی نفی : سو کفر وانکار کی نفی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کیسے کفر کرسکتے ہو جبکہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی چاتی ہیں اور تمہاری اندر اس کا رسول بھی موجود ہے۔ یعنی ایسے میں تمہارے لیے کفر و انکار کی کوئی گنجائش نہیں : استفہام یہاں پر تعجب و انکار کیلئے ہے، کہ جب کفر کے دواعی و اسباب منتفی اور حق پر ثابت قدمی کے اسباب پوری طرح موجود ہیں، تو پھر تمہارے لئے کفر و انکار کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ پس تم لوگوں کو کفر و انکار کے شوائب سے ہمیشہ بچ کر رہنا چاہیئے اور نور ایمان و یقین سے سرفرازی پر دل و جان سے اپنے خالق ومالک کا شکر ادا کرنا چاہیئے تاکہ اس طرح خود تمہارا اپنا بھلا ہو، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وَبِاللّٰہ التًّوْفِیْقِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج جب اللہ کی آیتیں تم لوگوں کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں اور اللہ کا رسول تمہارے اندر موجود ہے تو پھر بھی تم اگر کفر و انکار کی راہ پر چلو گے تو یہ تمہاری انتہائی بدبختی ہوگی اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی ہے اور تم جان کر کھڈے میں گر رہے ہو۔ اور تم نے اپنے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
206 " وفیکم رسولہ " کا معنی و مطلب ؟ : یعنی یہ کہ اس وقت اللہ کے رسول بنفس نفیس خود ان کے اندر موجود تھے ۔ صَلَوات اللّٰہ و سَلاَمہُ عَلَیْہ ۔ پس اہل بدعت کا اس آیت کریمہ کے ان الفاظ شریفہ سے حاضر و ناظر کے اپنے شرکیہ عقیدے کیلئے دلیل کشید کرنے کی کوشش کرنا باطل و مردود ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق اس خاص واقعہ سے ہے جیسا کہ روایات میں وارد اور مذکور و موجود ہے۔ نہ کہ ہمیشہ کے لئے۔ بلکہ آئندہ اور ہمیشہ کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو ایسی عظیم الشان اور بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم نے ان کو اپنائے اور تھامے رکھا تو تم کبھی گمراہ نہیں ہوؤ گے، ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری سنت۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں بذات خود تمہارے درمیان ہمیشہ موجود رہوں گا۔ کہ ہمیشہ اور ہر جگہ حاضر و موجود ہونا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت وشان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
207 اعتصام باللہ کا معنیٰ و مطلب ؟ : اعتصام کے اصل معنی ہیں تھامنے اور مضبوط پکڑنے کے۔ سو اللہ کو مضبوط پکڑنے سے مراد اس کی کتاب کو مضبوط پکڑنا ہے اس پر سچا پکا ایمان لا کر۔ اس کے احکام و اَوامر کی تعمیل و پیروی کر کے اور اس وحدہ لاشریک پر دلی بھروسہ اور اعتماد کر کے کہ معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے، اور اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ کے احکام و ہدایات اور اس کی کتاب کی مقدس تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہنا اور نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں مخالفت و موافقت سے بےنیاز ہو کر ان کو اپنائے رکھنا اعتصام باللہ ہے اور یہی طریقہ ہے جادہ استقامت پر استوار اور ثابت قدم رہنے کا ۔ وَباِللہ التَّوْفِیْق وبہ العصمۃ من کل زیغ و زلل -
208 سیدھی راہ سے سرفرازی کی خوشخبری : سو اس ارشاد میں اللہ کی رسی یعنی قرآن حکیم کو مضبوطی سے تھامنے والوں کیلئے سیدھی راہ سے سرفرازی کی خوشخبری ہے۔ ایسی سیدھی راہ جو کہ دارین کی سعادت و کامیابی اور حقیقی فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے۔ جو کہ حق و صواب کی امین و پاسدار ہے۔ اور جو کہ سرفراز کرنے والی ہے انسان کو اپنے رب کی رضا و خوشنودی اور جنت کی سدابہار اور ا بدی نعمتوں سے ۔ اللہ اپنے کرم سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ سو اعتصام بکتاب اللہ راہ حق و ہدایت سے سرفرازی، اور اس پر استقامت و ثابت قدمی دشمنوں کی شرانگیزیوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ پس اس کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات اور اس کی ارشاد فرمودہ ہدایت کو حرزجاں بنایا جائے اور تمام مشکلوں اور مخالفتوں کے باوجود اس کو مضبوطی سے تھاما جائے ۔ وباللّٰہ التوفیق وہوالہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ صراط مستقیم پر ثات قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 3:102209 حق تقوی کو اپنانے کی ہدایت و تلقین : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم ڈرتے رہا کرو اللہ سے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے کہ اس وحدہ لاشریک کا خوف و خشیت تمہارے دلوں میں رچا بسا ہو، اور تمہارا ہر عمل اس کا غماز اور آئینہ دار ہو۔ اس کے اوامرو ارشادات کی تم دل و جان سے تعمیل کرو، اس کے فرائض بجا لاؤ اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، کہ اس خالق ومالک کا یہ اپنے بندوں پر حق بھی ہے اور اس میں خود تم لوگوں کا اپنا بھلا بھی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے ابدی جہاں میں بھی۔ سو اس ارشاد سے اعتصام باللہ کی حقیقت واضح فرما دی گئی کہ اس کی اساس و بنیاد ہے اللہ سے ایسا ڈرنا جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ یہ تقویٰ اگرچہ مطلوب اسی حد تک ہے، جس حد تک بندے کی استطاعت ہو کہ بندے کی تکلیف اس کی استطاعت تک ہی ہوتی ہے اور تقویٰ کے بارے میں تو صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے { فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ } (التغابن۔ 16) لیکن اللہ سے ڈرنے اور دوسروں سے ڈرنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس لئے اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سے اس طرح ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے کیونکہ اس خالق ومالک کے اس بندوں پر جو حقوق ہیں وہ اور کسی کے نہ ہیں نہ ہوسکتے ہیں۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے جو حدود وقیود مقرر فرمائی ہیں وہ اور کسی نے نہ مقرر کی ہیں نہ کرسکتا ہے اور ان کا تمام تر فائدہ بندوں ہی کے لئے ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور ان کو توڑنے کی جو سزا مقرر ہے وہ بھی تمامتر بندوں ہی کے فائدے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے نہ کوئی فائدہ پہنچتا ہے نہ نقصان۔ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر تیسری طرف یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام اعمال کو دیکھتا اور ان پر مطلع ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں کی کوئی حالت و کیفیت بھی کسی طرح اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ اور چوتھی بات یہ ہے کہ اللہ کی پکڑ جیسی پکڑ اور کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اسی بناء پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور خدا سے ڈرنے کے یہ تمام پہلو جب تک کسی کے پیش نظر نہ ہوں وہ خدا سے ڈرنے کا صحیح مفہوم بھی نہیں سمجھ سکتا چہ جائیکہ وہ اس کا حق ادا کرے۔
210 ہمیشہ ایمان و اطاعت پر قائم رہنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو موت نہ آنے پائے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہوؤ۔ یعنی تم لوگ ہمیشہ ایمان و اطاعت کی شاہراہ پر قائم اور گامزن رہو، تاکہ جب بھی تمہاری موت کا وقت آئے تو تم ایمان و اطاعت کی حالت ہی میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کردو، سو { لَا تَمُوْتُنَّ } کی نہی کا تعلق درحقیقت موت سے نہیں کہ وہ تو انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہے ہی نہیں۔ اور جو چیز اپنے بس اور اختیار سے باہر ہو اس سے روکنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس نہی کا تعلق دراصل اس امر سے ہے کہ تم کبھی بھی اسلام کے علاوہ کسی اور حالت پر نہیں رہنا تاکہ جب بھی تمہاری موت آئے تو ایمان و اسلام کی پاکیزہ حالت ہی پر آئے۔ کیونکہ اگر اس طرح خاتمہ ایمان پر ہوگیا تو تم کامیاب ہوگئے۔ جیسا کہ مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا " مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلاَمِہٖ لآاِلٰہَ اِلّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ " یعنی " جس کا آخری کلام (مرتے وقت کا) لا اِلٰہَ الا اللّٰہُ کا کلمہ توحید ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگیا "۔ اسی لئے فرمایا گیا " اِنَّمَا الْعِبْرَۃُ بالْخَوَاتِیْمُ " کہ " اعتبار تو خاتمے کا ہے " اور کسی کو کسی کے بارے میں بھی یہ یقینی علم نہیں ہوسکتا کہ اس کا خاتمہ کب اور کس طرح ہوگا۔ پس نہ تو کسی کو اپنی نیکی پر اترانا اور تکبر کرنا جائز ہے، اور نہ کسی دوسرے کی تحقیر و تذلیل کرنا، کہ پتہ نہیں کہ کس کا خاتمہ کس طرح ہوگا، تو اس مضمون کو { لا تَمُوْتُنّ } کے صیغہ سے اور اس انداز میں جو اداء فرمایا گیا تو اس لئے کہ یہ بلاغت کا ایک اہم اسلوب ہے، جس میں ایک ایسی تاثیر ہے جو اس کے بغیر ممکن نہیں۔ بہرکیف اس سے اہل ایمان کو اس اہم ہدایت سے نوازا گیا کہ وہ ہمیشہ ایمان و اسلام پر رہنے کی کوشش کریں تاکہ جب بھی موت آئے وہ ایمان و اسلام ہی کی خاتمے پر ہو ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی مَایُحِبُّ وَیُریْدُِ ۔ سُبْحَانَہٗ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 3:103211 اللہ کی رسی سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مضبوطی سے تھام لو اللہ کی رسی کو۔ یعنی اس کے دین، اور اس کی شریعت کو، جو کہ عبارت ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے، جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو ایسی عظیم الشان چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ تم نے جب تک ان کو مضبوطی سے تھامے رکھا، تم کبھی گمراہ نہیں ہوؤ گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری سنت۔ سو ان دونوں کو اپنی ڈاڑھوں سے اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو۔ اسی طرح جن حضرات نے حبل اللہ سے اللہ کا عہد مراد لیا ہے، جیسا کہ آل عمران کی آیت نمبر 211 میں ارشاد فرمایا گیا { اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاس } تو وہ بھی اسی میں داخل ہے۔ یعنی اللہ کے دین اور اس کی شریعت کے عموم میں۔ کیونکہ آل عمران کی اس آیت شریفہ میں بھی اللہ کے عہد سے مراد اس کا دین، اور اس کی شریعت ہی ہے۔ اور اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے دین و شریعت اور اس کی کتاب سے تمسک کو " حبل اللہ " یعنی اللہ کی رسی سے تمسک و اعتصام کے ساتھ تعبیر فرمانے میں یہ بلاغت ہے کہ جس طرح مضبوط رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والا ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ پاک کی اس رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والا ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ پھر اللہ پاک کی یہ رسی اس قدر مضبوط ہے کہ اس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ ہی نہیں۔ یہ چھوٹ تو سکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر ٹوٹ نہیں سکتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْت وَیُؤْمِنْ باللّٰہ فَقَد اِسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا } الاٰیۃ (البقرۃ : 256) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
212 تفرق و انتشار سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپس میں مختلف ٹکڑیوں میں نہیں بٹ جانا کہ اللہ کی رسی کو چھوڑ کر الگ الگ گروپ بنا لو۔ کہ اگر تم لوگوں نے اس طرح کیا تو تم ہلاکتوں کے گڑھوں میں گرتے اور اپنی تباہی کا سامان کرتے جاؤگے، اور خدا وند قدوس سے دور ہو کر ہمیشہ کیلئے مبتلائے عذاب ہوجاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والے اس طرح کی ہر ہلاکت سے محفوظ رہیں گے، اور سیدھے خداوند قدوس کے جواررحمت میں پہنچ کر ابدی سعادت و سرخروئی اور حقیقی کامیابی و کامرانی سے بہرہ ور و سرفراز ہوں گے۔ سو بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْقُ ۔ اور مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں میں مت بٹ جاؤ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
213 تالیف قلوب کے انعام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر فرمایا جبکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے باہم جوڑ دیا تمہارے دلوں کو۔ سو اس قادر مطلق مالک مہربان نے تالیف قلوب کی اس عظیم الشان نعمت سے تم کو نوازا۔ اس دین و ایمان کی برکت سے، اور اس کی رحمتوں بھری اور انقلاب آفریں مقدس تعلیمات کے ذریعے۔ سو اپنے خالق ومالک کے اس عظیم الشان احسان کو یاد کرکے تم ہمیشہ اس کا شکر ادا کرو، اور دل و جان سے اس کے حضور جھکے رہو، کہ اس خالق ومالک کا تم لوگوں پر حق بھی ہے اور اس میں خود تمہارا ہی بھلا بھی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہر کیف تالیف قلوب کی یہ نعمت ایک عظیم الشان نعمت تھی جس سے اہل اسلام کو اس دور میں نوازا گیا تھا۔ سو نور اسلام سے پہلے عرب کا ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن تھا۔ ان میں باہم خونریز جنگیں برپا رہتی تھیں۔ ان کی دیویاں دیوتا الگ اور ان کے اغراض و مفادات باہم متصادم تھے۔ لیکن نزول قرآن کی اس نعمت عظمیٰ کے بعد ان کو { بِحَبْلٍ مِنَ اللّٰہِ } کی اس بےمثال لڑی میں اس عمدگی سے پرو دیا گیا کہ جو ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے وہ آپس میں جگری دوست اور ایک دوسرے کے سچے خیر خواہ اور حقیقی غمخوار بن گئے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اللہم الف بین قلوب المومنین وانصرہم علی اعدائک اعداء الدین -
214 ہدایت کی نعمت بےمثال کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم لوگ دوزخ کے کنارے پر تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا : یعنی حق سے محرومی اور اپنے کفر و باطل کی بناء پر تم لوگ بالکل دوزخ کے کنارہ پر کھڑے تھے، اور اس طرح کہ صرف مرنے کی دیر تھی، جونہی جان نکلی سیدھے دوزخ کے ہولناک گڑھے میں جا گرے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو ایسے میں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا تم لوگوں پر یہ کس قدر بڑا کرم و احسان ہوا کہ اس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے، اس دین حق کے ذریعے اور اس نبی ٔ برحق کو مبعوث فرماکر تم کو اس ہولناک عذاب اور برے انجام سے بچالیا۔ سو اس عظیم الشان نعمت خداوندی سے منہ موڑنا، اور اس کا انکار کرنا کس قدر ناشکری، کفران نعمت اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ناشکری و کفران نعمت کا عذاب بہت سخت ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلاَ ۔ اللہ تعالیٰ ناشکری اور کفران نعمت سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ سو حق و ہدایت کی نعمت سب سے بڑی نعمت ہے ۔ والحمد للہ -
215 دوزخ سے نجات کا ذریعہ دین حنیف سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ دوزخ کے کنارے پر کھڑے تھے تو خدائے رحمان و رحیم نے تم لوگوں کو بچا لیا دوزخ کے اس ہولناک گڑھے سے اپنے اس دین حق کے ذریعے جس سے اس نے تم کو سرفراز فرمایا۔ اور نبیوں کے امام و پیشوا، اپنے اس آخری رسول کو تمہارے اندر مبعوث فرما کر، جس نے تمہیں کفر و شرک کی ان سب آلائشوں سے پاک و صاف کردیا، جو دوزخ کی اس ہولناک آگ کی طرف کھینچنے والی ہیں۔ سو اس سے تم اندازہ کرلو کہ یہ دین حق اس کی کتنی بڑی نعمت ہے جس سے اس واہب مطلق نے تم کو محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ اور اس نبی رحمت کا وجود مسعود کس قدر بڑا انعام ہے جس سے اس خالق ومالک نے تم کو سرفراز فرمایا ہے۔ سو دل و جان سے اس کی ان نعمتوں کی قدر پہچان کر کے تم اس کا شکر بجا لاؤ، تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو، جو کہ صلہ وثمرہ ہے شکر خداوندی کا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو دوزخ سے بچاؤ کا ذریعہ دین حنیف کی پیروی ہے اور بس۔ اس کے سوا باقی راہیں ٹیڑھی اور دوزخ کی طرف جانے والی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
216 دین حق دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہی تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم لوگ راہ راست سے سرفراز ہو سکو اور اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو۔ سو دین حق سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس طرح تم ہلاکت و گمراہی کے گڑھوں سے بچ کر رہو۔ سو یہ دین حق دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز کرنے والا دین ہے۔ اور اس دین کا اتارا اور بھیجا جانا سراسر تمہاری ہی بہتری اور بھلائی کے لئے ہے، اور اس دین حق سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ منزل تک رسائی کے لئے راہ راست سے سرفرازی اولین تقاضا اور بنیادی ضرورت ہے۔ اور راہ راست سے سرفرازی دین حق کے بغیر ممکن نہیں۔ پس دین حق کو صدق دل سے اپنانے ہی سے سعادت دارین حاصل ہوسکتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 3:104217 دعوت الی الخیر امت مسلمہ کی ایک اہم اور اجتماعی ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا تمہارے اندر ایسے لوگوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کی تلقین کرے اور برائی سے روکے۔ تاکہ ان کی طرح دوسری دنیا بھی غفلت و جہالت کی ہلاکتوں سے بچ کر راہ حق و صواب سے سرفراز ہو سکے، اور سب اس دین کی برکتوں سے سرفراز و مالامال ہوسکیں۔ سو دعوت الی الخیر اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کی ایک اہم اور عظیم الشان اجتماعی ذمہ داری اور ایک اہم فریضہ ہے۔ اس لیے اس امت کا لقب ہی امت دعوت قرار پایا ہے۔ بہر کیف اس ارشاد سے امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہے جو اعتصام بِحَبْل اللّٰہ پر قائم رہنے اور لوگوں کو اس پر قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے اس مقصد کی خاطر ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام کے لئے مقرر کریں جو لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دے، اور منکر سے روکے۔ معروف اور منکر سے مراد شریعت اور سوسائٹی دونوں کے معروفات اور منکرات ہیں۔ سو اس کے مطابق بندہ ہمیشہ امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے لیے مستعد رہے ۔ وباللہ التوفیق -
218 فلاح پانے والوں کی تعیین و تشخیص : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے یعنی جن کے اندر مذکورہ بالا صفات پائی جاتی ہوں، خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں کہ ان خوش نصیبوں نے اپنے مقصد حیات کو بھی سمجھ لیا اور حصول مقصد کیلئے صحیح راہ کو بھی پہچان لیا، اور حیات دنیا کی اس مختصر و محدود فرصت کی قدر و قیمت کو بھی انہوں نے ٹھیک طور سے جان لیا۔ آیت کریمہ میں اسلوب حصر کا ہے کیونکہ مبتدا و خبر دونوں معرفہ ہیں۔ اور بیچ میں ضمیر فصل بھی موجود ہے۔ پس اس سے واضح ہوگیا کہ جو لوگ دین و ایمان کی اس دولت سے محروم ہیں، وہ سراسر ناکام ہیں۔ اگرچہ وہ فضاؤں میں اڑتے، اور ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہوں۔ اور وہ زمین کی تہوں تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں۔ وہ بہرحال ناکام ہیں کہ وہ اپنے مقصد حیات سے غافل، اپنے مصیرمحتوم اور اس کی فکر سے محروم و بیخبر ، اپنے خالق ومالک کے حق بندگی و عبودیت سے لاپرواہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس سے اعتصام باللہ کا نتیجہ وثمرہ بیان فرما دیا گیا کہ جو لوگ صحیح طور پر اور پورے صدق و اخلاص سے اس کا اہتمام کریں گے وہی فلاح دارین سے سرفراز ہو سکیں گے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق ۔ اور { اولئک ہم المفلحون } کا اسلوب حصر و قصر کا اسلوب ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ فلاح پانے والے یہی خوش نصیب ہیں۔ ان کے سوا فلاح دارین کی دولت اور کسی کو نہیں مل سکے گی۔ ابنائے دنیا خواہ کتنی ہی ترقیوں اور سربلندیوں کے دعوے کریں حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ایمان صادق اور اعمال صالحہ کے بغیر فوز و فلاح کی سعادت سے بہرہ مندی ممکن نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہ پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 3:105219 تفرق و انتشار والے لوگوں سے بچ کر رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کہیں تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجانا جو مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور وہ باہم اختلاف میں پڑگئے اس کے بعد کہ ان کے پاس آچکی تھیں ان کے رب کی طرف سے کھلی ہدایات۔ پس تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو باہم بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ محض اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر۔ اور دنیائے فانی کے حطام زائل کے پیچھے لگ کر۔ اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے آپ کو شرف انسانیت سے محروم کرکے حیوانیت محضہ کے درجے میں لاکھڑا کیا، جو کہ خسارہ اور انتہائی ہولناک نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ ہمیشہ ایسے لوگوں کے طور طریقوں سے بچ کر رہنا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس سے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کے انجام سے عبرت دلائی گئی ہے کہ وہ خدا کی واضح تنبیہات کے باوجود خدا کی رسی کو چھوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ جس کے ہاتھ میں اس رسی کا جو ٹکڑا آگیا وہ اسی کو لے کر بیٹھ گیا اور اسی کو حبل اللہ سمجھ کر اس پر قانع ہوگیا۔ پس تم لوگ اے مسلمانو، کہیں ان ہی یہود و نصاریٰ کی طرح نہیں ہوجانا کہ ان کی طرح تم بھی اپنی عاقبت برباد کرلو کہ یہ راہ فوز و فلاح کی نہیں عذاب الیم کی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تفرق و انتشار اور ہلاکت خیزیوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
220 ا حق سے محروموں کے لیے بہت بڑا عذاب ۔ والعذاب باللہ : وضوح حق کے بعد اختلاف کرنے والوں اور نور حق سے محروم رہنے والوں کے لئے بہت بڑا عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو واضح ہدایت کے آجانے کے بعد تفرق و اختلاف سے کام لینے کرنے والوں اور دولت حق سے محروم رہنے والوں کیلئے بہت بڑا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اتنا بڑا کہ اس کا یہاں پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَیَوْْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗ اَحَدٌ وَّلا یُوْثِقُ وَثَاقَہٗ اَحَدٌ } پس عقلمند کا کام یہ ہے کہ وہ حیات مستعار کی اس محدود و مختصر فرصت میں اس عذاب عظیم سے بچنے کی فکر کرے کہ اس کا موقع و محل یہی دنیا ہے اور بس۔ اور اگر حیات دنیا کی اس فرصت مستعار کو اخروی عذاب کے اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے دنیا کے متاع فانی اور حطام زائل کے جوڑنے اور جمع کرنے میں ضائع کردیا، تو یہ ایسا سنگین اور ہولناک ضیاع و نقصان ہوگا جس کے تدارک و تلافی کی پھر کوئی صوت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:106–107221 قیامت کے روز اہل ایمان کا نور ان کے چہروں پر : سو ان کے ایمان و یقین کی جھلک ان کے چہروں سے واضح وعیاں ہوگی جس سے ان کے چہرے روشن اور منور ہوں گے : کہ ایمان و یقین کا باطنی نور اس روز ان کے چہروں پر عیاں و ہویدا ہوجائے گا۔ اور وہ اپنی اس حقیقی اور ابدی کامیابی سے شاداں وفرحاں ہوں گے، جیسا کہ مختلف مقامات پر اس کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے { اَللّٰہُمَّ اجَْعَلْنَا مِنْہُمْ بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو کچھ چہرے اس روز روشن اور فروزاں ہوں گے وہ خنداں اور شاداں ہوں گے۔ سو جو لوگ دنیا میں ایمان و یقین کی دولت کو اپناتے اور اعتصام باللہ کے شرف سے مشرف ہوتے ہیں وہ قیامت کے اس یوم حساب میں اپنے چہروں کو روشن اور منور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ اس کے اثرات کل قیامت کے اس یوم فیصل میں ان کے چہروں پر ہویدا اور ظاہر و واضح ہوں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
222 اہل باطل کے کفر و باطل کی سیاہی ان کے چہروں پر : سو اہل ایمان کے برعکس اہل کفر و باطل کی سیاہی اس روز ان کے چہروں پر چھائی ہوگی۔ سو ان کے کفر و باطل کی وہ سیاہی جو ان کے بواطن میں مستور و پوشیدہ تھی، وہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں ان کے چہروں پر ظاہر اور نمایاں ہوجائے گی۔ اور وہ اپنی اس دائمی ناکامی کی بناء پر غم واندوہ کی تصویر بنے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرۃٌ، تَرْھَقُہَا قَتَرَۃٌ} ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہٗ وَ لَا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہُ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی ۔ اس روز ایسے ہی لوگ ہوں گے ہوں گے جن پر سیاہی چھائی ہوگی۔ کدورت نے ان کو ڈھانپ رکھا ہوگا۔ یہی ہوں گے کافر اور فاجر لوگ۔ سو جن لوگوں نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر طرح طرح کے دوسرے پھندوں کو اپنے گلوں میں ڈالا ہوگا وہ اس روز بہت خسارے میں ہوں گے اور ان کے چہروں کی سیاہی ان کی ناکامی کا پتہ دے رہی ہوگی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ ہَوْل ذٰلِکَ الْیَوْمِ ۔ اللہ کفر وباطل کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
223 دوزخ انسان کی اپنی کمائی کا صلہ وثمرہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب تم مزہ چکھو اور چکھتے رہو اپنے اس کفر و انکار کا جس کا ارتکاب تم اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اپنے قول وفعل سے۔ سو یہ ہولناک عذاب ثمرہ و نتیجہ ہے تمہاری اپنی اس کمائی کا، ورنہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو کسی پر ظلم نہیں فرماتا { مَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِیْنَ } سو دوزخ اور اس کا عذاب انسان کی اپنی اس کمائی کا صلہ و ثمر اور لازمی نتیجہ ہوگا جو اس نے اپنی دنیاوی زندگی کی فرصت عمل میں کی تھی۔ اس لئے ایسے بدبختوں سے اس روز ان کی تقبیح و تذلیل کے لئے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ چکھو اور چکھتے رہو مزہ دوزخ کے اس عذاب کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اپنے اس کفر و انکار کے بدلے اور اس کے نتیجے میں جس کو تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنائے رہے تھے۔ سو اللہ پاک نے یہ سب کچھ پیشگی اور اسقدر صراحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں خبر نہیں تھی۔ مگر ایک دنیا کی دنیا ہے کہ وہ پھر بھی غافل و لاپروا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:108–109225 اللہ کی آیتیں سراسر حق و صواب : کہ ان کا معنی و مضمون بھی سراسر حق و صواب ہے، اور ان کے سنانے کا مقصد بھی حق و صدق۔ اور ان کے سنانے کا طریق بھی سراسر حق اور سچ ہے۔ سو جو لوگ ان سے سبق نہیں لیتے تو یہ ان کے اپنے فہم و ادراک کا قصور ہے۔ اور جو لوگ ان آیات حق و صدق سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ سراسر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہر کیف کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ تنبیہات جو ان آیات کے ذریعے فرمائی گئی ہیں قطعی طور پر حق اور صدق ہیں اور جو لوگ ان کو نظر انداز کریں گے وہ اپنی ہولناک ناکامی اور روسیاہی کا معاملہ خود کریں گے اور اس کی ذمہ داری خود انہی پر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے
اس سے پیشگی آگہی بخش دی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی کو اتمام حجت سے پہلے سزا دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اب جو لوگ ان آیات بینات سے منہ موڑے ہوئے ہیں وہ بڑے ہی محروم اور بدبخت لوگ ہیں جو اپنی آنکھوں کو خود بند کر کے ہلاکت اور تباہی کے نہایت ہی ہولناک گڑھے میں چھلانگ لگا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی آیات کریمات قطعی طور پر حق اور صدق و صواب ہیں۔ اور باقی سب اندھیرے ۔ والعیاذ باللہ -
226 اللہ کبھی ظلم نہیں کرنا چاہتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کبھی کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا جہان والوں پر۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی لئے اس نے اپنے بندوں کو ان آیات بینات سے نوازا، اور ان پاکیزہ تعلیمات سے سرفراز فرمایا ہے، تاکہ کہیں لوگ اندھیرے میں رہ کر اس عذاب عظیم سے دوچار نہ ہوجائیں۔ مگر اس کا کیا جائے کہ یہ انسان ظلوم و کفور اس کی ان آیات بینات اور سچی تعلیمات سے منہ موڑ کر خود ہی اس عذاب الیم کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ انپی رحمت ورافت اور عنایت بیکراں کی بناء پر لوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ ان مہالک سے بچ کر رہیں اور اس کی گرفت و پکڑ سے بچ کر اس کی رحمتوں اور عنایتوں کے مستحق بن جائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ وَ یُرِیْد ۔۔ مگر جو لوگ اس کی ہدایات وتعلیمات سے منہ موڑ کر خود ہلاکت و تباہی کے گہرے کھڈے میں گرنا چاہتے ہیں وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ رحمت ہی فرماتا ہے اور رحمت ہی فرمانا چاہتا ہے ۔ تبارک و تعالیٰ -
Ayah 3:110229 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت شان : سو ایمان باللہ کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کی سب سے اہم اور امتیازی خصوصیات ہیں۔ پس " امر بالمعروف " اور " نہی عن المنکر " اور اللہ تعالیٰ پر سچا پکا ایمان امت مسلمہ کی وہ خصوصی اور امتیازی صفات ہیں، جن پر اس کی عزت و عظمت کا مدارو انحصار ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ جب یہ امت اس معیار پر پوری اتری، تو اس کو ایسی سچی اور حقیقی عزت و عظمت سے نوازا گیا کہ چشم فلک نے اس کی کوئی نظیر و مثال کبھی نہیں دیکھی۔ اور جب اس نے اس سے تغافل برتا تو اس کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے نکبت و ادبار کی ذلت سے دوچار ہونا پڑا، جیسا کہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے، کہ آج مسلمان جگہ جگہ اور طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں اور مصائب و آلام کے پہاڑ ہیں جو ان پر توڑے جارہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذُبِاللّٰہ الْعَظِیْمِ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ تم سب سے بہتر امت ہو اور خیر امت کے اس لقب اور اس شرف عظیم سے نوازے جانے کا سبب اور اس کا باعث یہ ہے کہ تم لوگ نیکی کی تعلیم دیتے، برائی سے روکتے اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ سو اس شرف عظیم اور منصب جلیل سے تمہاری سرفرازی نسب اور نسل کی بناء پر نہیں، جیسا کہ اہل کتاب نے اپنے بارے میں گمان کیا اور اس بنا پر وہ لوگ راہ رست سے بھٹک کر ہمیشہ کے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ تمہاری یہ سرفرازی تمہارے ایمان و یقین اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عمدہ اور امتیازی صفات و خصال کی بناء پر ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ ان امتیازی صفات اور ان کے تقاضوں کا خیال رکھنا اور ہر حال میں ان پر قائم و استوار رہنا ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
230 اہل کتاب اگر ایمان لے آتے تو یہ خود انہی کیلئے بہتر ہوتا : کہ اس کے پاکیزہ فوائد وثمرات خود انہی کو ملتے، اس دنیا میں بھی، اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی۔ اور اس طرح یہ لوگ دارین کی سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرشار و سرفراز ہوتے۔ مگر انہوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر نور حق و ہدایت سے منہ موڑا، جس سے یہ دارین کی محرومی اور ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اہل کتاب ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ اس دین حق پر سب سے پہلے اور سب سے آگے بڑھ کر ایمان لاتے مگر انہوں نے اعراض و روگردانی کو اپنا کر اپنے لئے ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
231 اکثریت بدکاروں ہی کی رہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اکثریت بدکاروں ہی کی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ محض عوام الناس کی اکثریت کی تائید یا تردید سے کسی امر کے حق یا باطل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کہ عوام کی اکثریت ہمیشہ غلط کاروں ہی کی رہی ہے۔ فاسقوں، فاجروں، جاہلوں اور نابکاروں کی۔ پس عوام الناس کی اکثریت حق و باطل کیلئے معیار نہیں قرار پاسکتی، جس پر دور حاضر کی نام نہاد مغربی جمہوریت کا مدارو انحصار ہے۔ شاعر مشرق نے کیا خوب کہا ہے
۔ گریزاز طرز جمہوری، غلام پختہ کارشو ۔ کہ اَز مغز دو صد خرفکر انسانی نمی آید ۔ یعنی " اس جمہوری طرز عمل سے دور بھاگو اور پختہ کار انسان بن جاؤ کہ دو سو گدھوں کے مغز جمع کردینے سے ایک انسان کی عقل و فکر کی قوت نہیں حاصل ہوسکتی "۔ پس محض عوام کی اکثریت کی بنا پر کسی بات کے حق یا باطل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ مغربی جمہوریت کے پجاریوں کا کہنا ہے اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:111232 حق کے مقابلے میں شکست اہل باطل کا مقدر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل باطل اہل حق کے مقابلے میں شکست کھائیں گے : یعنی اگر یہ لوگ اہل حق کے مقابلے میں آئیں گے تو شکست کھائیں گے۔ اور پیٹھ دے کر بھاگیں گے۔ اور جن جن کا زعم اور گھمنڈ یہ رکھتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس فرمان واجب الاذعان کے مطابق یہود بےبہود کو مسلمانوں کے مقابلے میں کبھی بھی شوکت و غلبہ نصیب نہیں ہوسکا۔ اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں میدان میں اترے ہوں اور غالب و کامیاب ہو کر لوٹے ہوں بلکہ ہمیشہ مقہور و مخذول ہی رہے۔ (کبیر وغیرہ) ۔ رہ گئی اسرائیل کے نام سے وجود میں آنے والی یہودیوں کی موجودہ ریاست تو اس سے دھوکے اور شبہ میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ اس سے ان کی ذلت و رسوائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ ہم اگلے حاشیے میں بیان کریں گے ۔ انشاء اللہ ۔ اور اس سے پہلے بھی بیان کر آئے ہیں۔ سو غلبہ بہرحال حق اور اہل حق ہی کا ہے ۔ والعاقبۃ للتقویٰ ۔ والحمد للہ جل وعلا -