Ayah 3:69142 اہل کتاب کے ایک گروہ کی دین دشمنی کا ایک مظہر : کہ یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی بجائے الٹا یہ چاہتے ہیں کہ تم لوگوں کو بھی دین سے پھیر دیں۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ اہل ایمان کو گمراہ کرنے اور ان کو راہ حق سے پھیرنے کی خواہش و چاہت رکھتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ ایسا اس لیے چاہتے ہیں تاکہ حق و ہدایت کے نور سے جس طرح یہ لوگ محروم ہیں اسی طرح تم بھی محروم ہوجاؤ۔ اور پھر تم سب ایک برابر ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَٓائً } الایۃ (النسا۔ 89) ۔ سو محروم اور ہٹ دھرم انسان کی یہ بھی ایک عمومی نفسیات رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح آج بھی موجود ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ جس طرح وہ کسی خیر سے محروم ہوتا ہے اسی طرح دوسرے بھی محروم ہوجائیں۔ اور اس طرح وہ حرمان نصیبی میں سب ایک برابر ہوجائیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ بہر کیف اس ارشاد سے ان لوگوں کی دشمنی اور ان کی بدباطنی سے اہل ایمان کو آگاہ فرما دیا گیا تاکہ وہ ان سے محتاط اور چوکنے رہیں لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت قرآن حکیم کی اس ہدایت سے غافل و بےبہرہ اپنے ایسے دشمنوں کی طرف دوستی اور محبت و مودت کی پینگیں بڑھا رہی ہے۔ خاص کر مسلمانوں کا حکمران طبقہ ۔ الا ماشاء اللہ ۔ فَاِلَی اللّٰہ الْمُشْتَکٰی وَہَُوَالْمُسْتَعَان -
ِ 143 اپنی گمراہی کا سامان خود اپنے ہاتھوں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ گمراہ نہیں کرتے مگر خود اپنے آپ کو۔ سو دوسروں کو گمراہ کرنا دراصل خود اپنی گمراہی کو پکا کرنا اور اپنی گمراہی کا سامان خود کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس طرح ایسے لوگ اپنے ضلال سابق کے ساتھ اضلال کا بوجھ بھی اپنے اوپرڈال رہے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے جرم و گناہ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں، مگر ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں کہ اس طرح ہم اپنے ہی خسران و نقصان میں اضافہ کررہے ہیں اور کتنا سنگین اور کس قدر ہولناک اضافہ کر رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الرَّحْمٰن ۔ سو اس طرح ایسے لوگ اپنی محرومی اور بدبختی کے ٹھپے کو اور پکا کرتے ہیں کہ جو کوئی دیدہ دانستہ اپنی گمراہی کو ہدایت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ سب سے پہلے خود اپنے آپ ہی کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے، لیکن دوسرے کی مخالفت کے جوش میں اس کو اپنے اس نقصان کا احساس نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:70144 انکار حق کے ایک بڑے سنگین پہلو کا ذکر : سو اہل کتاب کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کیوں حق کا انکار کرتے ہو جبکہ تم خود اس کے گواہ ہو۔ سو حق کا گواہ ہونے کے باوجود اس کا انکار کرنا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اہل کتاب کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے قلوب و ضمائر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا کہ تم لوگ کیوں کفر و انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کے ساتھ جبکہ تم لوگ خود گواہ ہو اس بات کے کہ یہ آیتیں حق اور سچ ہیں۔ ان آیتوں سے مراد یا تو تورات و انجیل کی وہ آیتیں ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری، اور صداقت و حقانیت سے متعلق تھیں۔ یا ان آیات سے مراد قرآن حکیم کی وہ آیات بینات ہیں، جو کہ اپنی صداقت و حقانیت اور کلام الہٰی ہونے کی خود دلیل ہیں۔ نیز ان آیات سے مراد وہ مختلف معجزات بھی ہوسکتے ہیں، جن سے اللہ پاک نے اپنے نبیٔ آخرالزمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کو نوازا تھا۔ اور جو آپ ﷺ کی صداقت و حقانیت کو واضح کرتی ہیں۔ آیات اللہ کے لفظ کا عموم ان تینوں مفہوموں کو عام اور شامل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ کی ان آیتوں کا انکار کس طرح کرتے ہو جو کہ حق و ہدایت کو پوری طرح واضح کرنے والی ہیں۔ اور جن کے بارے میں خود تمہارے دل یہ گواہی دے رہے ہیں کہ یہ اللہ کی آیتیں ہیں اور خاص کر جب کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان کی تائید و تصدیق اور خلق خدا کے سامنے ان کی گواہی کا تم سے عہد کرچکا ہے۔ اور تم اس کے حضور اس ذمہ داری کے اٹھانے اور ادا کرنے کا اقرار کرچکے ہو۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 89 میں اس کی تصریح اور تفصیل موجود ہے۔ سو حق کی گواہی کا حامل اور اس کا ذمہ دار بن کر اس کے تقاضوں کی خلاف ورزی کرنا بڑا ہی سنگین جرم ہے مگر یہود بےبہبود نے اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا اور دھڑلے سے کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:71–75145 لبس حق بالباطل اور کتمان حق کی سنگینی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا ایک بڑا سنگیں جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا اور حق کو چھپانا اور جان بوجھ کر ایسے کرنا ایک اور سنگیں اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود جانتے ہو کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا اور اس کو باطل سے گڈ مڈ اور خلط ملط کرنا کتنا بڑا اور کس قدر سنگین جرم ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود تم لوگ " لَبْس حق بالْبَاطِل " اور کتمان حق کے اس سنگین جرم کے مرتکب ہو کر اپنی عاقبت کیوں تباہ کرتے ہو ؟ اور اپنے ان مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے تم اپنی کتابوں میں لفظی و معنوی طرح طرح کی تحریفات کا ارتکاب آخر کیوں کرتے ہو ؟ اور تمہیں اس کا کوئی خیال و احساس تک نہیں کہ اس کا نتیجہ و انجام کیا ہوگا ؟ اور یہ کہ اس طرح تم لوگ ڈبل جرم اور دوہرے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو اور تم نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی محروم کرتے ہو ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم .
Ayah 3:76158 تقویٰ و پرہیزگاری ایک عظیم الشان ڈھال : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جس نے تقوی و پرہیزگاری کو اپنایا اور اختیار کیا اور ڈرتا اور بچتا رہا اپنے خالق ومالک کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ سے وہ کامیاب ہوگیا۔ اور اسی تقوی اور خوف خداوندی کی بناء پر وہ دوسروں کے حق مار کھانے سے بھی ڈرتا اور بچتا رہا۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری ایک ایسی عظیم الشان ڈھال ہے جو انسان کو ہر برائی اور برے نتیجہ وانجام سے بچاتی ہے۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو یہ اصولی اور بنیادی تعلیم دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کامیابی اور فوز و فلاح کا مدارو انحصار حسب و نسب اور زبانی کلامی دعو ووں پر نہیں بلکہ عمل و کردار پر ہے۔ سو جس نے بھی اپنے عہد کو نبھایا اور تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ کو اپنایا وہ کامیاب اور فائز المرام ہوگیا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہود کا یہ گمان کہ ہم جو بھی کریں کوئی پرواہ نہیں۔ ہم پر کسی عہد کی پابندی نہیں تو یہ سب کچھ غلط اور محض شیطانی دھوکہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کا قانون سب کے لئے ایک ہے اور یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالٰی -
Ayah 3:77159 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ محبت رکھتا ہے متقی اور پرہیزگار لوگوں سے۔ سو اللہ تعالیٰ کے محبوب متقی و پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ سو جس نے اپنے عہد کو نبھایا اور تقوی کو اپنایا وہ اللہ کا محبوب بن گیا۔ اور جو اللہ کا محبوب بن گیا تو اس کو اور کیا چاہیئے۔ اور اس سے بڑھ کر کامیاب اور فائز المرام اور کون ہوسکتا ہے ؟ پس ہمیشہ تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت ہی کو اپنانے بڑھانے اور اس کو محفوظ رکھنے کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اپنے عہد و پیمان کی ادائیگی و پاسداری اور تقویٰ و پرہیزگاری کا التزام و پابندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اس میں انسان جتنا بھی پختہ ہوگا اور جس قدر آگے بڑھے گا اسی قدر راہ حق و ہدایت اور دولت فوز و فلاح سے بہرہ مند و سرفراز ہوگا ۔ وِبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَھُوَا لْہَادِی اِلٰی سَوَاء السَّبِیْل -
160 اصل چیز نور حق و ہدایت ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل چیز نور حق و ہدایت ہی ہے۔ اور حق کے مقابلے میں دنیا ساری بھی ہیچ ہے اور حق فروشی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ کیونکہ حق فروشی کے مقابلے میں تو دنیا ساری کی دولت بھی ہیچ ہے۔ پھر ان چند ٹکوں کا کہنا ہی کیا جو کوئی قسمت کا مارا حق کے بدلے میں اپنائے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ِکہ حق کی جس نعمت عظمیٰ سے ایسے لوگوں نے اپنے آپ کو محروم کیا، اس کے مقابلے میں دنیا ساری کی سب دولتیں مل کر بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتیں (محاسن التاویل للامام العلامہ القاسمی الشامی (رح) ) ۔ سو اصل دولت حق اور ہدایت کی دولت ہی ہے، جو انسان کو انسان بناتی اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و سرفراز کرتی ہے۔ ورنہ انسان ایک حیوان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ بدترین مخلوق " شَرّْ الْبَرِیَّۃ " بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق و ہدایت کی دولت سب سے بڑی دولت ہے ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
161 حق فروشوں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق فروشوں اور عہد شکنی کرنے والوں کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے : سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق فروشی، عہد شکنی اور خیانت کس قدر سنگین اور ہولناک جرم ہے کہ جو سزا اس کی یہاں بیان ہوئی ہے وہ زنا، چوری، اور قتل وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں سے بھی کسی کے بارے میں بیان نہیں ہوئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود یہ بیماری آج مسلم معاشرے میں بھی پائی جاتی ہے اور زور و شور سے پائی جاتی ہے۔ اور کتنے ہی اچھے اچھے دیندار قسم کے لوگ ہیں جو اس بیماری کے جراثیم سے آلودہ ہیں اور ان کو اس کا احساس ہی نہیں کہ عہد شکنی اور خیانت کے اس جرم کے باعث وہ اپنا کس قدر نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور " عہد اللہ " کا عموم ہر اس عہد کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے نام پاک کے واسطے سے انسان پر عائد ہوتا ہے جس میں وہ عہد بھی آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں سے عالم ارواح میں لیا تھا اور جس کو عہد الست کہا جاتا ہے۔ اور وہ عہد بھی جو انسان اقرار ایمان کے ذریعے اپنے اوپر عائد کرتا ہے اور خداوند قدوس کی وہ کتاب و شریعت بھی جس کو اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے۔ اور ایمان سے مراد وہ عام عہد و پیمان ہیں جن پر عام اجتماعی اور تمدنی زندگی کی اساس و بنیاد قائم ہوتی ہے اور جن سے معاشرتی زندگی اور باہمی معاملات میں اعتماد اور حسن ظن کی فضا قائم ہوتی ہے۔ یہود بےبہبود نے طرح طرح کے حیلوں حوالوں سے ان سے متعلق ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو گویا بالکل فارغ کردیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:78162 ایک اور یہودی چال کا ذکر وبیان : سو اس سے دنیا کو راہ حق سے محروم کرنے کیلئے یہود کی ایک اور سازش اور چال کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ کلام الہی میں اپنی ایسی توڑ مروڑ سے کام لیتے ہیں جس سے اس کو اپنی مرضی کے معانی پہنا کر اس میں تحریف کرسکیں، اور اس کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق خودساختہ اور من مانے معنی پہنا سکیں۔ اور اپنے ایسے مذموم اغراض و مقاصد کیلئے یہ لوگ لفظی اور معنوی دونوں ہی قسم کی تحریفوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، روح المعانی اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ تاکہ اس میں وہ اپنی مرضی کی اور من گھڑت باتیں شامل کر کے لوگوں کو یہ باور کرا سکیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے ہوتا نہیں۔ سو اپنی اسی طرح کی دھوکہ دہی سے یہ لوگ دنیا کو راہ حق و ہدایت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ کچھ ایسا ہی حال آج کل کے اہل بدعت وغیرہ کا ہے کہ یہ لوگ بھی اسی طرح کی حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں، مثال کے طور پر { قُلْ لاَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلاّ ضَرًّا الا مَا شَا ئَ اللّٰہَ } جیسی آیات کریمات میں یہ لوگ کہتے ہیں " اَیْ بَالذَّات " کہ اس میں ذاتی اختیار کی نفی ہے نہ کہ عطائی کی۔ تاکہ اس طرح کی تاویلات کے ذریعے یہ لوگ مختار کل جیسے اپنے خودساختہ شرکیہ عقائد کو ایسی آیات کریمہ کی زد سے بچا سکیں یا جیسے { اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } والی آیات کریمہ میں ان کے کچھ لوگ { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر کو اس طرح مروڑ کر پڑھتے ہیں کہ یہ " ما " نافیہ بن جائے، اور پھر کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ میں تم جیسا بشر نہیں ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یا کبھی یوں کہتے ہیں اور آیت کریمہ کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ میں محض ظاہری طور پر تم جیسا بشر ہوں وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ آیت کریمہ میں اس طرح کا کوئی لفظ موجود نہیں جس کا ترجمہ یہ ہوسکے۔ بہرکیف یہود بےبہبود اپنی توڑ مروڑ سے کلام الہی میں اس طرح کی تحریفات کرتے تھے۔ اور اسی کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اسی کے نتیجے میں یہ لوگ دولت حق و ہدایت سے محروم ہو کر مغضوب علیہم قرار پائے۔
163 یہود کے ایک اور سنگین جرم کا ذکر وبیان : سو اس سے یہود کے کتاب الٰہی میں اضافے کرنے کے جرم کے ارتکاب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اپنے خودساختہ اور من گھڑت اضافوں کو کتاب الہی میں شامل کرنا ایک بڑا بھاری اور ہولناک یہودی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہ اضافہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ ان لوگوں کا اپنا خود ساختہ اضافہ ہوتا ہے جس کو ایسے لوگ اپنی مختلف اغراض و اہواء کی تکمیل اور مختلف مقاصد کی تحصیل کیلئے کلام الٰہی میں شامل کرتے ہیں۔ اور ان کو اس کا کوئی احساس و شعور نہیں کہ اس طرح وہ کتنے بڑے سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کا ان کو کتنا بڑا بھگتان بھگتنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے اہل کتاب کی ان چالوں اور سازشوں میں سے ایک کا ذکر فرمایا گیا ہے جو یہ لوگ عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے گریز و فرار کے لئے اختیار کرتے تھے۔ سو یہ لوگ کسی لفظ یا جملہ کو توڑ مروڑ کر اس طرح بگاڑ دیتے کہ اصل حقیقت گم ہو کر رہ جاتی اور اس کا معنی و مفہوم کچھ کا کچھ ہوجاتا اور پھر یہ ظالم کہتے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اس طرح یہ بدبخت جرم بالائے جرم کا ارتکاب کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ افسوس کہ اس یہودیانہ توڑ مروڑ کا ارتکاب کئی نام نہاد مسلمان بھی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ واِلَیْہ المُشْتَکیٰ وَہُوَ الْمُسْتَعَان جل وعلا ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
164 افتراء علی اللہ ایک نہایت سنگین جرم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ دیدہ دانستہ اور جانتے بوجھتے اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھنا نہایت ہی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نرا جھوٹ اور خود ساختہ اضافہ ہے۔ اور یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولنا کس قدر سنگین اور کتنا بڑا جرم ہے، مگر اس سب کے باوجود یہ لوگ دیدہ و دانستہ اس طرح کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، حالانکہ اس سنگین جرم کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک اور نہایت ہی برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس حرکت کا ارتکاب اس مقصد سے کرتے ہیں کہ جو چیز کتاب الٰہی میں سے نہیں ہے اس پر یہ کتاب الٰہی کا لیبل چسپاں کردیں اور جو چیز اللہ کی طرف سے نہیں اس کو یہ اللہ کے نام سے پیش کریں جو کہ جرم بالائے جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:79165 حضرات انبیائے کرام کی براءت کا ذکر وبیان : سو حضرات انبیائے کرام کی براءت اور ان کی صفائی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب، حکم اور نبوت سے نوازے اور پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ لہذا تمہارا اے افتراء پردازو اور اے حامل کتاب ہونے کے دعویدارو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے بارے میں یہ کہنا کہ آج جن شرکیہ عقائد پر تم لوگ قائم ہو ان کی تعلیم انہی حضرات نے تم کو دی تھی، نرا جھوٹ اور ان پاکیزہ ہستیوں پر ایک کھلا ہوا بہتان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ عیسائی لوگ جب الوہیت مسیح اور تثلیث جیسے سراسر غیر معقول اور شرکیہ عقائد پر دلیل لانے سے عاجز آجاتے ہیں، تو کہتے ہیں، کہ ہم کیا کریں۔ ہمیں حضرت عیسیٰ نے یہی تعلیم دی ہے اور انہوں نے خود کہا کہ میں خدا اور خدا کا بیٹا ہوں وغیرہ۔ ( معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو خداوند قدوس نے ان آیات کریمہ سے ان لوگوں کی ان بہتان طرازیوں، اور افتراء پردازیوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوہ والسلام ۔ کی ان پاکیزہ ہستیوں کی براءت و پاک دامنی کو واشگاف کردیا۔ کچھ اسی طرح کا حال آج بہت سے ان کلمہ گو مسلمانوں کا بھی ہے جو مختلف بزرگوں کے نام سے طرح طرح کے شرکیہ اعمال کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کو " مشکل کشا " و " حاجت روا " سمجھتے اور پکارتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ ان بزرگوں نے اپنے پچھلوں کو یہی تعلیم دی تھی۔ سو اس طرح کی باتیں ان بزرگوں پر تہمت اور بہتان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ " حاجت روا " و " مشکل کشا " سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ تمام انبیاء و رسل اور علماء و صلحاء نے اپنی مشکلات و مصائب میں اور اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کو پکارا ہے۔ اور یہ سب حضرات اپنی اپنی نمازوں اور ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ پاک کے حضور یہی عرض کرتے تھے { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن } یعنی " مالک ! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے " مگر اب سب کے باوجود کتنے ہی بہلے بھٹکے سے ہیں وہ لوگ جو اپنی بزرگ ہستیوں کے نام سے طرح طرح کے شرکیہ کاروبار چلائے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کو اس کا کچھ پاس و احساس نہیں کہ اس طرح یہ لوگ کتنے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
166 پیغمبر کی دعوت توحید خالص کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر کبھی لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو ان سے یہی کہے گا کہ تم سب کے سب اللہ والے بن جاؤ۔ اس پر صدق دل سے ایمان لا کر۔ اس کی عظمت و محبت سے سرشار ہو کر۔ اور اس کی اطاعت و بندگی بجا لا کر۔ اور اس کی یاد میں فنا ہو کر۔ کہ خالق ومالک اور معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے بندے اور ربانی بن جانے ہی میں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان ہے اے لوگو، اور یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے کہ سب اسی کی عبادت و بندگی کریں اور صدق دل سے اس کے آگے جھک جائیں ۔ سُبْحَانَہ وَ تَعَالیٰ ۔ اور اسی کی عبادت و بندگی سے سرشار رہیں کہ یہی سیدھا راستہ ہے اور یہی تقاضا ہے عقل اور نقل کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
167 کتاب الہی کے پڑھنے پڑھانے کا تقاضا ؟ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کتاب الہی کو پڑھنے پڑھانے کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ اللہ والے اور ربانی بن جاؤ کہ توحید و تفرید اور عظمت وجلال خداوندی سے بھرپور و لبریز ایسی کتاب کے پڑھنے پڑھانے کا بدیہی اور لازمی تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ خالصتاً ربانی اور اللہ والے بن جاؤ اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جاؤ، ورنہ اس کے پڑھنے پڑھانے کا کیا فائدہ ؟ افسوس کہ آج بہت سے کلمہ گو مسلمانوں کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہے کہ قرآن حکیم جیسی بےمثل کتاب عزیز پڑھنے پڑھانے کے باوجود وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْزَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل کتاب خاص کر نصاریٰ کو دعوت فکر دی گئی اور ان کے دامن دل کو جھنجوڑ کر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کتاب الٰہی کے حامل ہونے اور اس کے پڑھنے کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ اللہ والے اور ربانی بن جاؤ۔ ورنہ یہ سب کچھ بےمقصد اور بےسود ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:80168 اللہ والے کبھی کفر و شرک کی تعلیم نہیں دے سکتے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ہستیاں کبھی کفر و شرک کی تعلیم نہیں دے سکتیں۔ سو استفہام تعجب و انکار کیلئے ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسی کوئی ہستی اتنے بڑے شرف و مرتبہ سے مشرف ہو کر اللہ کے بندوں کو اس طرح کے کسی شرکیہ عقیدے کی تعلیم و ترغیب دے کہ ایسا کرنا ان کے شرف و مرتبہ اور ان کے منصب کیخلاف ہے کہ ان کا اصل منصب اور مشن یہی ہوتا ہے کہ وہ بندوں کو ان کے خالق ومالک سے ملائیں۔ اور ان کو صدق دل سے اسی کے حضور جھکنے کا درس دیں کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور اسی کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ سو جس طرح اللہ کا پیغمبر کسی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم میرے بندے بن جاؤ، اسی طرح اس کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ دوسروں سے کہے کہ تم فرشتوں، نبیوں کو { اَرْبَابًا مِّنْ دُوْن اللّٰہ } بنا لو۔ بھلا ایمان و یقین اور توحید و وحدانیت خداوندی کی دعوت کے ساتھ کفر و شرک کی یہ دعوت آخر کس طرح اور کیونکر جمع ہوسکتی ہے ؟ اور جو شخص تم لوگوں کو ایمان و یقین کی دعوت دینے اور دوزخ کی آگ سے بچانے کیلئے آئے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ کفر و شرک کی دعوت دے کر تم کو دوزخ میں جھونکنے کی کوشش کرے ؟ سو جن لوگوں نے ایسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کیں۔ انہوں نے بڑا جھوٹ بولا اور سخت ظلم اور زیادتی کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:81–82169 حضرات انبیائے کرام کے عہد کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب اللہ نے اپنے پیغمبروں سے یہ عہد لیا۔ سو تمام انبیائے کرام سے یہ عہد لیا گیا کہ تم نے ہر بعد میں والے بنی پر ایمان لانا اور ان کا ساتھ دینا ہے کہ سب کا پیغام ایک ہی اور مشترک ہے۔ سو تم نے ان کی مدد کرنی ہے، اپنی جان و مال اور ہر اس وسیلہ و ذریعہ سے، جو تمہیں میسر ہو کہ حق ایک ہے اور اس کیلئے تعاون و تناصر سب کی مجموعی ذمہ داری اور ہر ایک سے مطلوب ہے۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شرائع میں فروع و جزئیات کے اعتبار سے اگرچہ اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے کچھ اختلاف رہا ہو، لیکن اصول و مبادی کے اعتبار سے سب کے سب یکساں اور سب کی دعوت ایک ہی تھی۔ رسول کے لفظ کا عموم اپنے ظاہر کے اعتبار سے تمام انبیاء و رسل کو شامل اور عام ہے کہ یہ حکم ہر نبی و رسول کے لئے ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے ہر نبی و رسول کی بعثت و تشریف آوری پر اس پر ایمان لائے، اور اس کی نصرت و امداد کرے۔ پس یہ حکم حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ تک سب ہی کو شامل ہے۔ یہی ظاہر و متبادر ہے اور یہی جمہور کا قول ہے۔ (ابن کثیر، معارف القرآن، المراغی، المحاسن وغیرہ ) ۔ اس لئے حضرات مفسرین کرام اس کی توضیح و تشریح میں فرماتے ہیں " اَیُّ رَسُوْلٍ کَانَ " اور ان میں سب سے آخر نبیوں کے امام حضرت محمد رسول اللہ ہیں ﷺ ہیں، جن کی بعثت و تشریف آوری اگرچہ سب سے آخر میں ہوئی، مگر مرتبہ و فضیلت اور درجہ و شان کے لحاظ سے آپ ﷺ سب سے مقدم اور سب پر فائق ہیں۔ اسی لئے شب اسراء و معراج میں آپ ﷺ نے سب انبیائے کرام کی امامت فرمائی۔ لہٰذا آپ ﷺ اس عہد و میثاق میں بطریق اولیٰ داخل ہیں کہ سب ہی حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی نصرت و امداد کا عہد لیا گیا کہ وہ اپنی اپنی امتوں کو اس کی تلقین فرما دیں۔ اس لئے یہود و نصاریٰ کو آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بلاچوں و چرا آپ ﷺ پر ایمان لانا چاہیئے تھا۔ سو یہ ایک قول ہے حضرات اہل علم کا اس آیت کریمہ کی تفسیر میں۔ اور رسول کی تنکیر اور اس کے تبادر کا تقاضا بھی یہی ہے، جبکہ دوسرا قول اس بارے یہ ہے کہ رسول کا لفظ اگرچہ نکرہ ہونے کی وجہ سے عام ہے، مگر اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔ اور یہ عہد و میثاق دراصل آپ ہی کیلئے لیا گیا تھا، جیسا کہ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّْٰہ سُبْحَانَہٗ و تعالیٰ ۔ والظّاہروالْمُتَبادِرھُوَ الْاَوَّل ۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کی دعوت اور ان کا پیغام ایک ہی رہا ہے کہ عبادت و بندگی صرف اللہ وحدہ لا شریک کی ہو کہ معبود برحق بہرحال وہی ہے۔
170 ایک عظیم الشان اور بےمثل عہد و اقرار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حق تعالیٰ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے اس کا اقرار کرلیا اور اس پر میری طرف سے عائد ہونے والی اس بھاری ذمہ داری کو قبول کرلیا ؟ تو ان سب نے کہا ہاں۔ ہم نے اقرار کرلیا۔ یعنی " اصر " کے اصل معنیٰ بھاری ذمہ داری اور معنوی بوجھ کے آتے ہیں اور یہاں پر اس سے مراد ذمہ داری کا وہ بھاری بوجھ ہے جو اس عہد سے عائد ہوتا ہے۔ سو انہوں نے اس کا اقرار کیا تو حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے پر گواہ رہو اور مزید فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھ اور تم سب پر گواہ ہوں۔ سو یہ ایک عظیم الشان اور بےمثل عہد ہے کہ یہ عہد حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی قدسی صفات ہستیوں سے لیا گیا، اور انہوں نے اس کا اقرار بھی کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ خود بھی گواہ بن گئے، تو پھر اس عہد و اقرار کی عظمت شان کے کہنے ہی کیا ؟ سو ایسے عہد سے پھرنے کا جرم بھی بڑا سخت اور سنگین ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم عن کل زیغ و زلل -
Ayah 3:83172 کائنات کی ہر چیز اللہ کی فرمانبرداری : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حضور سرتسلیم خم ہے : کہ یہ سب کچھ اسی کا مخلوق و مملوک، اور اسی کے حکم کے تابع ہے۔ واضح رہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے احکام دو قسم کے ہیں۔ ایک تکوینی اور دوسرے تشریعی۔ تکوینی سے مراد وہ احکام ہیں، جو اس کی اس وسیع کائنات میں جاری وساری ہیں، جن پر جِنّ وانس وغیرہ کسی مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دخل اور اختیار نہیں بلکہ یہ سب کچھ اس کے ان تکوینی احکام کا پابند ہے۔ اسی لئے ان احکام پر ان کیلئے کوئی اجرو ثواب نہیں، جیسے انسان کا پیدا ہونا، مرجانا، کالا یا گورا ہونا، چھوٹا یا بڑا ہونا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب احکام انسان پر لاگو ہوتے ہیں، مگر اس طرح کہ انسان کا ان کے بارے میں نہ کوئی اپنا ارادہ ہوتا ہے نہ اختیار۔ اس لئے ان میں سے کسی پر اس کو نہ کوئی اجر ملتا ہے نہ ثواب، اور تکوین و تخلیق کے اس دائرے میں انسان بھی باقی تمام مخلوق کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کا پابند، اور اس کے آگے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ کوئی چون و چرا بھی اس کے بس میں نہیں۔ اس اعتبار سے وہ اسی وحدہ لاشریک کا فرمانبردار اور اسی کے حضور سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ } (البقرۃ۔ 1 16) جبکہ دوسری قسم احکام کی تشریعی ہے، جن کے بجا لانے پر اجر وثواب ملتا ہے، اور ان کی خلاف ورزی پر گناہ و پکڑ بھی۔ اور یہ تمام امور انسان کے ارادہ و اختیار پر رکھے گئے ہیں۔ اسی لئے وہ ان پر اجرو ثواب اور بدلہ و جزاء کا حقدار قرار پاتا ہے۔ پس اس کے اس ارادہ و اختیار ہی پر اس کے امتحان اور اس کی جزاء و سزا کا سارا دارومدار ہے۔ سو تکوینی اعتبار سے سب ہی اس کے حکم کے پابند اور اس کے حضور سرتسلیم خم ہیں کہ خالق ومالک سب کا وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
173 اللہ کے حضور سجدہ ریزی باعث سعادت و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور خوشی بخوشی سجدہ ریز ہوناباعث سعادت و سرفرازی اور موجب نجات و فلاح ہے۔ سو آسمان و زمین کی اس مخلوق میں سے کچھ تو خوشی خوشی اور برضا ورغبت اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں جیسے ملائکہ، اور ایمان والے جن وانس کہ وہ سب کے سب انپے خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھکتے اور اس کے احکام و اَوامر کو بجا لاتے ہیں، اور اپنی رضا ورغبت سے اور خوشی خوشی اس کے حضور سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اس کی رضاء و خوشنودی اور رحمت و عنایت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ سو سعادت سب کی سب اور دارین کی فوز و فلاح کا مدارو انحصار اسی پر ہے کہ انسان اپنے اراد وو اختیار سے اور اپنے شوق ورغبت کے ساتھ اپنے خالق ومالک کے حضور جھکے اور اس طرح وہ اس ساری کائنات کا ہمنوا و ہمسفر ہوجائے گا کہ کائنات پوری کا دین اسلام ہی ہے۔ وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے حضور جھکی ہوئی ہے مگر اس کا یہ جھکنا جبری اور غیر اختیاری ہے۔ اس لئے اس کے لئے کوئی اجر وثواب نہیں، جب کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے اس کے آگے جھک کر اپنے لئے دارین کے اجر وثواب اور فوز و فلاح کا سامنا کرتا ہے کہ اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنا اس کا حق بھی ہے اور اسی میں بندے کا بھلا بھی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
174 اللہ تعالیٰ کے حضور لاچاری اور مجبوری کی سجدہ ریزی کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان و زمین کی اس پوری طائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم اور سجدہ ریز ہے۔ خواہ رضا ورغبت سے اور خوشی بخوشی ہو جیسا کہ انسان وملائک جیسی بہت سی ذی ارادہ مخلوق کرتی ہے اور یا مجبوری اور لاچاری سے جیسا کہ باقی تمام مخلوق۔ جیسے کائنات کی ہر چیز، کہ وہ اپنی خلق وتکوین کے دائرے میں اللہ پاک کے حکم و ارشاد کی پوری طرح پابند ہے۔ اسی لئے سورج و چاند جیسے یہ عظیم الشان کرے پوری پابندی کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، اور خود انسان بھی اپنے دائرہ خلق وتکوین میں، کہ اس لحاظ سے یہ سب کے سب اس کے حکم وارشاد کے پابند ہیں اور ان سب کو خواہی نخواہی اسی وحدہ لاشریک کے احکام پر چلنا پڑتا ہے، کہ دائرہ خلق وتکوین میں انکو کوئی اختیار ہے ہی نہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ خداوند قدوس کے حکم و قانون سے ذرہ بھر سرتابی کرسکے اور اپنے محدود دائرہ سے باہر نکل سکے۔ خالق نے اس کو جس کام کے لئے مقرر فرمادیا وہ اس میں پوری طرح لگا ہوا ہے۔ اور پوری پابندی سے اپنے فرض کو نبھا رہا ہے۔
175 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو لوٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کے حضور حاضر ہونا ہے : خواہ یہ چاہیں یا نہ چاہیں۔ بہرکیف ان کو لوٹ کر وہیں جانا ہے تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، کہ آخری اور کامل اور عملی فیصلہ وہیں ہو سکے گا۔ سو ان سب کو بہرحال لوٹ کر وہیں جانا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے، اور اپنے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پانا ہے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور اس طرح کائنات کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ سو جس طرح ان کے لئے ان کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے قانون سے گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن نہیں اسی طرح ان کی زندگی کے بعد بھی ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی بلکہ ان کو خواہی نخواہی بہرحال اس کے حضور حاضر ہونا اور اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ اس لیے اس یوم حساب کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 3:84176 تفریق بین الرسل جائز نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کے درمیان تفریق جائز نہیں : یعنی ہم ایسا نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر نہ لائیں، بلکہ ہم سب کو مانتے، اور سب پر ایمان رکھتے ہیں، کہ یہ سب ایک ہی دین حق یعنی اسلام کے ماننے والے اور ایک ہی معبود برحق کی اطاعت اور عبادت و بندگی کا درس دینے والے، اور ایک ہی دعوت کے علمبردار تھے۔ پس ان کے درمیان درجات و مراتب کا فرق اگرچہ موجود تھا، اس لیے ان کے تو ہم قائل ہیں لیکن ان کے درمیان تفریق کرنا کہ کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے، تو یہ جائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہم اس کے روادار ہیں، بلکہ ہم بلا تفریق و استشناء سب ہی پر ایمان رکھتے ہیں ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اپنے اپنے دور میں ان میں سے ہر ایک کی اتباع اور پیروی ضروری تھی اور اب راہ نجات صرف ان کے امام اور ان سب کے افضل حضرت محمد ﷺ کی اتباع اور پیروی میں ہے۔ جن کی شریعت تمام شرائع سابقہ کیلئے ناسخ ہے اور قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔
Ayah 3:85177 دین اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہے۔ پس اسلام کے سوا کوئی بھی دین اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں : کہ وہ سب ناحق ہے۔ دین حق تو صرف اسلام ہے۔ جس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان ہے۔ اب جس نے اس سے منہ موڑ کر کسی اور طریقہ و دین کو اپنایا اس نے راہ حق و صواب سے روگردانی کی۔ اور وہ نجات کی بجائے ہلاکت و تباہی کے راستے پر چل پڑا۔ تو پھر اس سے ایسے کسی بناوٹی دین کو اللہ پاک کے یہاں آخر کیونکر قبول کیا جاسکتا ہے ؟ لہٰذا ہدایت و نجات اور دنیا و آخرت کی فوز و فلاح کا راستہ ایک اور صرف ایک ہے، یعنی اسلام۔ پس جس نے اس دین حق کے سوا کسی بھی اور دین کو اپنایا، یا اس نے اس دین حق میں اپنی طرف سے کوئی بدعات شامل کرلیں وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (تفسیر القاسمی (رح) ) ۔ بہرکیف دین حق صرف اسلام ہے۔ یہی دین فطرت ہے اور یہی اس پوری کائنات کا دین ہے اور جس کا حاصل ہے اپنے آپ کو اپنے ارادہ و اختیار سے اپنے خالق ومالک کے حوالے کردینا۔ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کی عزت و عظمت بھی ہے۔ اور ان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان بھی ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائ السَّبِیْلِ-
178 اسلام کے سوا ہر دین باعث خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے تصریح فرما دی گئی کہ دین اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہے۔ اور جس نے اسلام کے سوا کوئی اور دین اپنایا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ایسا شخص آخرت میں یقینا سخت خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دین حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو دین حق اسلام سے محروم لوگ آخرت میں قطعی طور پر ہولناک خسارے میں ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسا ہر شخص قطعی طور پر خسارے میں ہوگا، کیونکہ اس نے نورحق کی اس دولت کو ضائع کردیا جو اللہ پاک نے اپنی رحمت ِبے نہایت اور کرم ِبے پایاں سے اس کی فطرت وجبلت میں و دیعت فرما دی تھی۔ اور پھر اس کی تذکیرو یاددہانی کیلئے اس نے کرم بالائے کرم کے طور پر اپنے انبیائے کرام کی قدسی صفات ہستیوں کو مبعوث فرمایا جن کے آخر میں سب کے خاتم اور سب کے امام حضرت محمد ﷺ کو اس آخری اور کامل پیغام کے ساتھ بھیجا جو کہ رہتی دنیا تک انسانیت کی ہمہ جہتی اور کامل رہنمائی کرنے والا دین عظیم ہے، مگر ایسے ظالم، بےانصاف، اور ناشکرے انسان نے اس سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو تہ درتہ اندھیروں کے حوالے کردیا، اور اپنی آخرت کو بھول کر وہ خواہشات نفس کا بندہ اور ان کا پیرو بن کر رہ گیا اور آخرت کی کمائی کیلئے حیات دنیا کی جو فرصت اس کو ملی تھی اس کو اس نے متاع دنیا کے حطام فانی اور متاع زائل کے پیچھے لگ کر ضائع کردیا۔ اور یہ جب وہاں پہنچا تو یکسر خالی ہاتھ تھا۔ اب نہ واپسی کا کوئی راستہ اور نہ کمائی کی کوئی سبیل۔ تو اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟{ خَسِرَ الدُّنیَا وَالاٰخِرَۃ ۔ ذَالِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر خسارے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت بہرحال یہی ہے کہ دین حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ آج دنیا میں یہ بات بہت سے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ آج حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے لیکن کل قیامت کے روز جب یہ پردہ ہٹا دیا جائے گا اور حقائق اپنی اصل شکل میں سامنے آجائیں گے تو اس وقت یہ حقیقت سب کے سامنے پوری طرح عیاں اور آشکارا ہوجائے گی کہ جو لوگ دین حق اسلام سے محروم تھے وہ قطعی طور پر اور نہایت ہی ہولناک خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:86179 بےقدری اور ناشکری باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے بےقدرے اور ناشکرے لوگوں کی محرومی واضح ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ : اس لیے دین حق جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کی ناقدری کرنے والے اس سے کبھی مشرف و سرفراز نہیں ہوسکتے۔ استفہام یہاں پر انکار واستبعاد کیلئے ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کا دولت ہدایت سے سرفراز ہونا بہت بعید اور بہت دور کی بات ہے۔ کیونکہ اس کے لئے قلب سلیم اور تعصبات و میول سے پاکیزہ باطن کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز یہ نعمت ان لوگوں کو ملتی ہے جو حق و ہدایت کے طالب اور اس کے قدرداں ہوں۔ اور اس سب سے یہ لوگ محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر ان کو حق و ہدایت کی اس دولت سے سرفرازی نصیب ہو تو کیسے ہو ؟ اور مراد ان لوگوں سے جیسا کہ حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ سے مروی ہے، وہ اہل کتاب اور خاص کر یہود ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں میں پائی جانے والی ان صفات اور پیشینگوئیوں کی بناء پر جو کہ حضرت خاتم الانبیائ ﷺ کے بارے میں ان میں موجود تھیں، یہ لوگ آنجناب ﷺ پر اور آپ ﷺ کی صداقت و حقانیت پر ایمان لے آئے۔ اور وہ اس سے پہلے اپنی انہی پیشینگوئیوں کی بناء پر آپ ﷺ کی تشریف آوری کے منتظر تھے۔ اور وہ کفار کے مقابلے میں آپ ﷺ کی تشریف آوری پر فتح پانے کے منتظر تھے { وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } الآیۃ (البقرۃ۔ 89) مگر آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری پر وہ لوگ آپ ﷺ کے منکر ہوگئے، محض اس حسد اور جلن کی بنا پر کہ آپکا ورود مسعود بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں کیوں ہوگیا۔ اسی طرح آیت کریمہ کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔ بہرکیف جن لوگوں نے دولت حق و ہدایت کی ناقدری کی اور اس کو پالینے کے بعد وہ اس کے منکر ہوگئے تو وہ اس سے سرفراز نہیں ہوسکتے، الا یہ کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہو کر صدق دل سے اپنی اس روش سے تائب ہوجائیں، اور اپنے خدائے رحمن و رحیم کی طرف سچے دل سے رجوع کرلیں ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ التّوفِیْقَ وَالسَّدَاد لماتُحِبُّ وَتَرْضٰی یا رب العالمین -
180 ظالموں کے لیے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو نور ہدایت سے نہیں نوازتا : کہ انہوں نے حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد اس سے اعراض برتا اور ہدایت کی دولت پالینے کے بعد اس سے منہ موڑا۔ اور وہ اس کی ناقدری کے مرتکب ہوئے۔ اور اس طرح یہ لوگ ظالم قرار پائے اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ حق و ہدایت کے نور سے نہیں نوازتا۔ سو ان لوگوں کی یہ محرومی ان کے اپنے کیے کرائے ہی کی وجہ سے ہے، اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر ایسوں کو دولت حق و ہدایت سے سرفرازی کیونکر نصیب ہوسکتی ہے، جبکہ اس کیلئے اولین شرط طلب صادق ہے ۔ اللہ ہر طرح کی محرومی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو جن لوگوں کے پاس رسول کی صداقت اور حق کو واضح کرنے والی نشانیاں آچکیں مگر انہوں نے اس کے باوجود حق کو جھٹلایا، جن کے دل گواہی دے رہے ہیں کہ واقعی یہ اللہ کے رسول اور وہی رسول ہیں جن کے بارے میں پیشگوئیاں اس سے پہلے ان کے پاس موجود تھیں مگر انہوں نے پھر بھی ان کو جھٹلایا تو ایسے لوگ ظالم ہیں جنہوں نے ظلم کیا اپنی عقل و فطرت پر۔ اور انہوں نے ظلم کیا اپنی روح اور جان پر۔ تو ایسے ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں مل سکتی۔ ایسوں کی سزا یہی ہے کہ ان پر اللہ کی اس کے فرشتوں کی اور ساری مخلوق کی لعنت ہو، کیونکہ انہوں نے دن کی کھلی اور صاف روشنی میں اندھے بن کر اپنے آپ کو کھڈے میں گرایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:87181 ظلم کا نتیجہ محرومی و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ ظالموں پر لعنت و پھٹکار ہے اللہ کی، اس کے فرشتوں اور لوگوں کی سب کی۔ سو اہل ایمان ایسوں پر صراحتاً لعنت کرتے ہیں، مگر خود کفار بھی غیر شعوری طور پر اپنے اوپر لعنت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ کہتے ہیں کہ حق بات نہ ماننے والوں پر لعنت ہو، تو یہ لعنت خود ان پر پڑتی ہے، مگر وہ اس کو سمجھتے نہیں (معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف ایسے ظالموں پر سب کی لعنت و پھٹکار ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو نور حق و ہدایت سے نہیں نوازتا۔ جو لوگ نشانات راہ کو جان کر گم کردیں ان کو وہ با مراد نہیں کرتا کہ انہوں نے نشانات راہ کو گم کر کے ٹھوکریں کھانے کے طریق کو باختیار خود اپنایا۔ سو ان پر نیک و بد سب ہی لوگوں کی لعنت ہوگی۔ نیکوں کی لعنت تو ظاہر ہے لیکن بد ان پر لعنت اس لئے کریں گے کہ وہ بھی انہی کی بدولت حق سے محروم ہو کر گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے۔ چناچہ قیامت کے روز گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کی لعنت ملامت کی تصریح قرآن پاک میں موجود و مصرح ہے۔ سو حق و ہدایت سے منہ موڑنا سب سے بڑی محرومی اور سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:88182 کافروں کیلئے ہمیشہ کا عذاب : کیونکہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا اور کفر کی سزا یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ لعنت و پھٹکار ہی ان کیلئے دوزخ کا دائمی عذاب بن جائے گی جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے سچی توبہ سے حق کی طرف رجوع کرلیا۔ " فیہا " کی ضمیر مجرور کا مرجع دوزخ ہے۔ اور دوزخ کا ذکر اگرچہ الفاظ میں موجود نہیں لیکن اوپر جس لعنت کا ذکر آیا ہے اس نے ایسا واضح قرینہ بہم پہنچا دیا ہے کہ لفظوں میں اس کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ یہ لعنت گویا خود ہی دوزخ کے قائمقام بن گئی۔ اس اسلوب کی مختلف مثالیں قرآن حکیم میں کئی جگہ موجود ہیں۔ سو کفر و انکار محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت اور نہایت ہی ہولناک عذاب کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے بالمقابل ایمان سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ۔
Ayah 3:89183 رجوع الی اللہ کی ترغیب وتحریض : سو سچے دل سے ایمان لانے والوں، اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور سچی توبہ کرنے والوں کیلئے بخشش اور مہربانی کا وعدہ ہے کہ اللہ بڑا ہی غفور اور رحیم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے وہ اپنی مغفرت بیکراں اور رحمت بےنہایت سے ایسوں کے گناہوں کی میل کو بالکل صاف فرما دیتا ہے، اور ایسا کہ گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں، جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی ٔ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا " اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْب کَمَنْ لا ذَنْبَ لَہٗ " بشرطیکہ ایمان سچا ایمان ہو، رجوع الی اللہ صحیح طور پر ہو، اور اصلاح احوال مخلصانہ طریق سے، اور توبہ سچی توبہ ہو۔ محض ظاہرداری یا کچھ رٹے رٹائے اَلفاظ و کلمات کے دہرانے سے کام نہیں چلے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے رہے اور انہوں نے اسی حال میں جان دی وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ نہ ان کے لئے کسی مرحلے میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ ہی ان کو کبھی کوئی مہلت ملے گی۔ دوزخ میں پڑجانے کے بعد ان کے لئے امید کے سب دروازے بند ہوجائیں گے۔ البتہ سچی توبہ کرنے والوں کے لئے مغفرت و بخشش کا مژدہ جانفزا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے اور ہر قسم کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 3:90–93184 پکے اور پورے گمراہوں کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے کفر پر اڑنے والے پکے اور پورے گمراہ ہیں کہ کفر ایسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اور اس کی نحوست ان کے رگ و ریشے میں سرایت کرگئی ہے، جس کے باعث ان کو ایسی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی، جو شرف قبولیت پاس کے۔ اور مرتے وقت اگر تو بہ کرینگے بھی تو وہ قبول نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ کشف حقائق کے بعد کی توبہ ہوگی، جو کہ معتبر نہیں۔ اس لئے کہ مطلوب ایمان بالغیب ہے اور موت کے وقت کا وہ ایمان، ایمان بالغیب نہیں ہوگا بلکہ ایمان بالشہود و بالمشاہدہ ہوگا۔ اس لئے وہ توبہ قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ سورة نساء میں ارشاد فرمایا گیا { وَلَیْسَت التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السِّیِّآت، حَتّٰیٓ اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ } الآیۃ (النساء 18) ۔ اس لئے عام ضابطہ اور اصول یہی ہے کہ ایسے بدبختوں کی توبہ قبول نہیں ہوگی، کہ ان کو سچی توبہ کی توفیق نصیب ہی نہیں ہوتی ۔ وَالْعِیَاذ باللّہِ ۔ تاہم اگر ان میں سے کسی کو سچی توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی تو اس غفورو رحیم، وہّاب و کریم کی رحمت اس کو بھی اپنی آغوش میں لے لیگی، کہ اس کا صاف وصریح ارشاد اپنی کتاب حکیم میں اس طرح موجود و مذکور ہے { وَہُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہ وَیَعْفُوْ عَن السِّیِّآت وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ } (الشوریٰ ۔ 25) تو اس طرح یہ ایک استثنائی صورت ہوگی۔ عام ضابطہ و قانون وہی ہے جو اوپر ارشاد ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔