Ayahs 3:173–174369 غزوہ بدر صغریٰ اور اس کے حال و مآل کا ذکر : سو یہ اشارہ ہے غزوہ بدرصغریٰ کی طرف۔ ابوسفیان نے احد سے لوٹتے وقت آنحضرت ﷺ سے چیلنج کے طور پر کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اگلے سال بدر کے مقام پر ہمارا پھر مقابلہ ہو۔ اس سے مقصد اس کا یہ تھا کہ ہم احد کی طرح وہاں بھی مسلمانوں کے بڑے بڑے سرداروں کو مار کر بدر میں قتل ہونے والے اپنے سرداروں کا بدلہ لینگے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے اس چیلنج کو قبول فرما لیا۔ سال پورا ہونے پر ابوسفیان دوہزار کا لشکر لے کر بدر کی طرف چل پڑا جس میں دوسرے ساز و سامان کے علاوہ پچاس گھوڑے بھی اس کے ہمراہ تھے۔ مگر " مرالظہران " کے راستے جب وہ " مجنہ " کے مقام پر پہنچا، تو قدرت کی طرف سے اس پر ایسا رعب چھا گیا کہ اس نے واپسی کا فیصلہ کرلیا۔ مگر چاہا کہ کوئی ایسا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس فرار کا الزام بھی اس کے بجائے مسلمانوں پر آئے۔ چناچہ اس کو اس موقع پر نعیم بن مسعود الثقفی مل گیا جو کہ عمرہ کر کے مدینہ واپس لوٹ رہا تھا۔ تو ابوسفیان نے اس سے کہا کہ دیکھو ہم نے محمد اور ان کے ساتھیوں سے اس موسم میں بدر کے مقام پر مقابلے کا طے کیا تھا مگر اب چونکہ زمانہ قحط سالی کا ہے اس لئے ایسے میں ہمارا وہاں جانا مناسب نہیں۔ لہذا تم جا کر مدینے میں محمد اور ان کے ساتھیوں کو ایسا ڈراؤ اور خوفزدہ کرو کہ وہ بدر نہ آسکیں تاکہ وعدہ خلافی کا یہ الزام انہی پر آئے۔ اور میں اس کے بدلے تمہیں دس اونٹ دوں گا، جو میں ابھی سے سہیل بن عمرو کے پاس رکھ دیتا ہوں۔ چناچہ اس قول وقرار کے مطابق نعیم بن مسعود نے مدینے میں جا کر اس کے حق میں پروپیگنڈہ کرنا اور مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا شروع کردیا اور کہا کہ دیکھو ان لوگوں نے تمہارے خلاف ایسا بڑا اور اتنا خوفناک لشکر جمع کر رکھا ہے جس کا مقابلہ کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔ تم جانتے ہو کہ احد میں جہاں انہوں نے اتنی دور سے آ کر تم پر تمہارے گھروں کے اندر حملہ کیا تھا تو تم پر کیا بیتی تھی۔ کوئی گھر ایسا نہیں جس کا کوئی نہ کوئی فرد ہلاک یا زخمی نہ ہوا ہو۔ اور جو بچ سکے وہ بھی وہ ہیں جنہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ تو اب اگر تم لوگ اتنی دور جا کر ان کے اتنے بڑے لشکر سے ٹکرائے تو تم میں سے کوئی بھی لوٹ کر واپس نہیں آسکے گا۔ اس شخص کی ان باتوں کا ان لوگوں میں سے کچھ پر تو طبعی طور پر اثر ہوا مگر آنحضرت ﷺ نے ہر قیمت پر نکلنے کا قصد و ارادہ فرما لیا اور قسم کھا کر فرمایا کہ اگر اور کوئی نہ بھی گیا تو میں اکیلا ہی جاؤں گا " وََالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَاَخْرُجَنَّ وَلَوْ وَحْدِیْ "۔ اس پر صحابہ کرام کی ایک جمعیت بھی تیار ہوگئی جو کہ ستر اشخاص کی تعداد میں تھی۔ ان حضرات میں نعیم بن مسعود کی اس تخویف سے خوفزدگی کی بجائے ایمانی قوت ہی میں اضافہ ہوا اور وہ سب آنحضرت ﷺ کی معیت میں اللہ پر یقین و اعتماد کرتے ہوئے اور { حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ } کہتے ہوئے بدر کی طرف روانہ ہوگئے، جہاں پر پہنچنے کے بعد آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے ان جاں نثار ساتھیوں نے آٹھ دن تک قیام فرمایا۔ ابوسفیان اور اس کا لشکر جو قدرتی رعب کی بناء پر ہمت ہار چکے تھے، انہوں نے نہ آنا تھا نہ آئے۔ اپنے بدر کے اس قیام کے دوران ان حضرات نے وہاں تجارت بھی کی اور خوب خوب نفع بھی کمایا۔ اور یہ ایک درھم کے دو دو درھم کما کر سلامتی، غنیمت اور اجر کے ساتھ واپس لوٹے۔ آیت کریمہ میں اسی کا ذکر وبیان ہے۔ اس واقعہ کو بدر صغریٰ کہا جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے ہونے والے بدر کے غزوہ کو غزوہ بدر کبریٰ کہا جاتا ہے۔
370 صدق ایمان کا نتیجہ و تقاضا اللہ پر پکا اور پختہ یقین و اعتماد : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ سچے مومنین کی شان اللہ تعالیٰ کی قدرت و کارسازی پر پکا اور پختہ ایمان رکھنا ہے۔ سو یہ تھی شان سچے مسلمانوں کی۔ اور یہ ہے نمونہ ایمان صادق اور یقین کامل کا کہ بھروسہ و اعتماد صرف اور صرف اللہ پر اور یقین و وثوق اسی وحدہ لاشریک کی کارسازی پر ہے۔ کہ حاجت روا و مشکل کشا اور کارساز و کارفرما وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ جل و علاشانہ ۔ غور کیجئے کہ حضرات صحابہ کرام وہ برگزیدہ و پاکیزہ ہستیاں ہیں کہ کتاب حکیم میں اللہ رب العلمین کی طرف سے ان کو صاف وصریح الفاظ میں ۔ ؓ و رضواعنہ ۔ کا عظیم الشان تزکیہ اور بےمثل سرٹیفیکیٹ مل چکا ہے۔ حضرت امام الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیھم اجمعین ۔ خود بنفس نفیس ان کے اندر موجود ہیں مگر اس سب کے باوجود ان حضرات کا نہ اپنے بارے میں اس طرح کا کوئی خیال و گھمنڈ اور نہ نبی اکرم ﷺ کی حاجت روائی و مشکل کشائی کا کوئی گمان و اعتقاد۔ بھروسہ و اعتماد اور اعلان و اقرار ہے تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی بزرگی و بڑائی، حاجت روائی و مشکل کشائی اور کارسازی و کارفرمائی کا ہے۔ اسکے مقابلے میں اب ذرا اپنے دور کے نام کے جاہل مسلمان کا حال بھی دیکھئے کہ وہ اس کے برعکس طرح طرح کی شرکیات میں مبتلا ہے۔ اللہ پاک کے سوا اور طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا اس نے ازخود گھڑ رکھے ہیں۔ اللہ سے مدد مانگنے اور " یا اللہ مدد " کہنے کی بجائے وہ طرح طرح کے دوسرے شرکیہ کلمات کے سہارے ڈھونڈتا ہے۔ وہ " یا رسول اللہ اغثنی "، " یا علی مدد "، " یا غوث دستگیر "، " یا خواجہ اجمیری پار لگا کشتی میری "، " یا بہاء الحق بیڑا دھک " وغیرہ وغیرہ جیسے شرکیہ راگ الاپتا ہے۔ اور پھر بھی کہتا ہے میں مشرک نہیں موحد ہوں۔ تو پھر شرک اور کس بلا کا نام ہے اور مشرک اور کون ہوتا ہے ؟ اور بدعتی ملاں اور پیر ہیں کہ وہ اپنے جبہ و دستار کے رعب دار لبادے میں ایسے سادہ لوح مسلمانوں کے دل و دماغ میں طرح طرح سے ان شرکیات کو ٹھونستے اور پکا کرتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر بگڑی بنے تو کیسے بنے۔ حالات درست ہوں تو کس طرح۔ ابھی چند ہی روز پہلے کی بات ہے کہ کراچی کے حالیہ فسادات کے بارے میں کراچی کے ہی ایک بڑے پگڑ والے بدعتی اور مشرک ملاں نے اخبارات میں یہ بیان دیا اور لوگوں کو تلقین کی کہ وہ حالات کی اصلاح کیلئے اللہ اور اس کے رسول سے مدد مانگیں۔ یعنی یہ دونوں ہستیاں گویا ایک ہی برابر ہیں۔ اس طرح جس نبی امی ﷺ کی بعثت و تشریف آوری ہی عقیدہ توحید کی تعلیم و تبلیغ اور تلقین و ارشاد کے لئے ہوئی تھی اور جس نے امت کو صاف اور صریح طور پر حکم دیا تھا کہ جب تمہیں سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو اور جب مدد مانگنی ہو اللہ ہی سے مانگو۔ چناچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا " اِذَا سَاَلْتَ فَاسْاَل اللّٰہَ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ ۔ اسی کے نام نامی اور اسم گرامی سے شرک شروع کردیا گیا { فَاِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ } کہاں ہے روز مکافات اے خدائے دیر گیر ؟ حالانکہ پیغمبر کا اپنا اسوہ یہ ہے کہ اس شخص نے جب آپ ﷺ کے سامنے اور آپ ﷺ کو خطاب کر کے کہا " مَاشَائَ اللّٰہُ ومَا شِئْتَ " جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں " تو اس پر غصے سے آپ ﷺ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا " اَ جَعَلْتَنِیْ لِلّٰہ نِدًَّا ؟ " یعنی " کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا لیا " (الادب المفرد للامام البخاری وغیرہ) ۔ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو ہدایت فرمائی کہ یوں کہا کرو " ماشاء اللہ وحدہٗ " یعنی " جو صرف اللہ چاہے " کہ اس کی مشیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ سو دیکھیے اور غور کیجئے کہ کہاں یہ تعلیمات نبویہ اور کہاں دور حاضر کا جاہل مسلمان ؟ جو مذکورہ بالا قسم کی شرکیات کا ارتکاب علی الاعلان کرتا ہے ۔ فالی اللّٰہ المشتکٰی و ہوالمستعان -
Ayah 3:175372 انسانی لبادے میں شیطان اور اس کی کارستانی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ شخص شیطان تھا جو انسانی لبادے میں شیطان کی ڈیوٹی ادا کر رہا تھا۔ سو اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ شیطان انسانی لباس اور لبادے میں بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ کتاب حکیم میں ایک دوسرے مقام پر شیاطین الانس والجن کے الفاظ سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ نیز فرمایا گیا { مِنَ الجِنَّۃ وَالنَّاسِ } اور دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ جھوٹ اور جھوٹا پروپیگنڈا دراصل شیطانی عمل ہے اگرچہ اس کے علمبردار و کارپرداز اپنے بارے میں بڑا زعم و گھمنڈ رکھتے اور بلند بانگ دعوے کرتے ہوں۔ کیونکہ یہاں پر جس شخص کو شیطان فرمایا گیا ہے اس نے یہی کام کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جو کوئی شیطان کا کام اور باطل کا پرچار کرے وہ شیطان ہے اگرچہ اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے وہ انسان دکھائی دیتا ہو کہ وہ کام شیطان کا کر رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
373 ایمان صادق کا تقاضا کہ بندہ اللہ ہی سے ڈرے ۔ وباللہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ایسے لوگوں سے نہیں ڈرنا بلکہ خاص مجھ ہی سے ڈرنا کہ ایمان اور ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ مومن صادق صرف اللہ وحدہ لاشریک سے ڈرے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، مگر آج کے جاہل مسلمان کا حال اس کے بالکل برعکس ہے کہ اللہ اور اس کے خوف و ڈر کو تو اس نے پس پشت ڈال دیا ہے، مگر دوسری طرح طرح کی ایسی فانی، اور فرضی و وہمی چیزوں اور ہستیوں سے وہ ڈرتا ہے جو اس نے ازخود اپنے طور پر طرح طرح کے ناموں سے گھڑ اور فرض کر رکھی ہیں، مثلاً " کانواں والی سرکار "، " بلیوں والی سرکار "، " سہیلی سرکار "، " غریب نواز "، " گنج بخش "، " غوث اعظم " یعنی سب سے بڑی فریاد رس ہستی " کھٹے شاہ "، " مٹھے شاہ "، " لسوڑے شاہ " اور " گھوڑے شاہ " وغیرہ وغیرہ۔ اور ان ناموں اور فرضی سرکاروں کیلئے اس کے پاس نہ کوئی دلیل نہ سند۔ بھلا ایسی فرضی چیزوں کیلئے سند ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ سوائے مفروضوں اور خودساختہ ڈھکوسلوں کے ۔ رب فرماتا ہے { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہ اِلٰہًا اٰخَرَ لَا بُرْھَان لَہٗ بِہٖ فَاِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہِ } الآیۃ (المومنون : 1 17) ۔ یعنی " جو کوئی اللہ کے سوا کسی اور معبود کو پکاریگا اس کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں سو اس کا حساب اس کے اللہ ہی کے پاس ہے "۔ بھلا شرک کے لئے کوئی دلیل کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو شرک کے مرتکبوں کو اپنے کیے کی سخت سزا بھگتنا ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:176374 منکروں کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ وہ ایسے بدبختوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے کہ وہ خود ایسا نہیں چاہتے اور زبردستی کسی کو نعمت ہدایت اور اس کے ثمرات سے نوازنا اللہ پاک کی سنت اور اس کے دستور کیخلاف ہے کہ یہ اس کی شان عدل و انصاف کے منافی اور عقل و نقل کے تقاضوں کے معارض و متصادم ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ دوڑ دوڑ کر کفر کے اندھیروں میں گرتے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور وہ محروم کے محروم ہی رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ ایسے لوگ آخرت کے حصے اور اس کے اجر وثواب سے محروم رہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الذی بیدہ ازمۃ الہدایۃ والتوفیق ۔ سو ایمان و یقین کا نور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والا واحد اور عظیم الشان وبے مثال نور ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہ ۔ اللہم فزدنا منہ و ثبتناعلیہ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 3:177375 ایمان کی بجائے کفر کو اپنانے والوں کیلئے بڑا دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے ایمان کی بجائے کفر کو اپنایا وہ یقینا اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور انجام کار ان کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ انہوں نے نور ایمان سے منہ موڑ کر کفر کے اندھیروں کو اپنایا اور وہ اسی پر اڑے رہے۔ سو ایمان کی روشنی سے منہ موڑ کر کفر کی ظلمت میں گرنے والے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارتے اور اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کے بارے میں غمگین و فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ داعی حق کی ذمہ داری پیغام حق و ہدایت کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ آگے ان کو راہ حق پر ڈال دینا نہ اس کے ذمے ہے اور نہ اس کے بس میں۔ سو کفر والوں کے لئے ان کے کفر و انکار کے نتیجے میں بڑا دردناک عذاب ہے جو ان کو بھگتنا ہوگا۔ اور جب انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں کفر و انکار ہی کو گلے لگائے رکھا اور اسی کفر کی حالت میں ہی وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے لیے اس عذاب سے چھٹکارے اور نجات کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی بلکہ ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ہی اس عذاب میں رہنا ہوگا۔ اس سے بڑھ کر عذاب اور نقصان اور کیا ہوسکتا ہے۔ سو کفر و انکار خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:178–179376 کافروں کیلئے رسوا کُن عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے جو کہ ان کے اس کبر و غرور کے لائق اور عین مناسب ہے جس کی بنا پر انہوں نے حق کو ماننے اور اس کے آگے جھکنے سے انکار کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کبر و غرور کا نتیجہ و انجام بہت برا اور سراسر محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار والوں کو ان کے کفر و انکار کے باوجود جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ ان کے لئے خیر نہیں شر ہے۔ ایسی ڈھیل ان کے لئے خیر نہیں شر ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کا پیمانہ اچھی طرح لبریز ہوجائے تاکہ ان کی کشتی جب ڈوبے تو پھر اس کو ابھرنا نصیب نہ ہو سکے۔ اور اس ڈھیل کے بعد ان کے لئے بڑا رسوا کن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:180383 بخیلوں کیلئے ان کا بخل بہت برا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے بخشے میں بخل سے کام لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے جمع کئے ہوئے مال کا انجام ان کیلئے بہت برا ہوگا۔ اور یہ اس لئے کہ اس واہب مطلق نے ان کو جن نعمتوں سے اپنے فضل وکرم سے نوازا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو اس کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے برضا ورغبت خرچ کرتے۔ اس طرح شکر نعمت کے تقاضے بھی پورے ہوتے اور یہ دولت ان کیلئے آخرت کا ذخیرہ اور وہاں کی کامیابی کا ذریعہ و وسیلہ بھی بن جاتی۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس بخل کا طریقہ اپنا کر اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنے لئے ہلاکت اور تباہی کا ذریعہ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کو اپنی آخرت کا ذخیرہ بنانے کی بجائے یہ بخیل لوگ اس کو جوڑ جوڑ کر رکھتے گئے جو بعد میں دوسروں کے کام آیا۔ اور آخرت کا حساب ان کے ذمے رہا۔ اور ان کو اپنے بخل کا برا انجام بھگتنا پڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بخل اور کنجوسی سے کام لینے والے لوگ اصل میں اپنی ہی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور شعور نہیں اور اس طرح وہ خسارہ در خسارہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ بخل سمیت ہر رذیلہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
384 بخل کے انجام بد کے ایک مظہر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے بخیلوں نے جو کچھ جوڑا اور جمع کیا تھا کل قیامت کے روز اس کو ان کے گلوں کا طوق بنادیا جائے گا۔ سو یہ اس برے انجام کا ایک نمونہ ہے جس سے ان لوگوں کو اپنے بخل کے نتیجے میں سابقہ پڑتا ہے۔ حضرات مفسرین کرام کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک یہ کلام تشبیہ و تمثیل پر محمول ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اپنے بخل کا انجام اس طرح لپٹ اور چپک جائیگا جس طرح کہ کسی کے گلے میں طوق لپٹ جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے حضرات کے نزدیک یہ تمثیل پر نہیں، بلکہ حقیقت پر مبنی اصول ہے کہ ان کے بخل کا یہ انجام واقعہ اور حقیقت کے طور پر ان کے گلے کا طوق بن جائیگا، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اللہ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے روز اس کا یہ مال ایک ایسے اژد ہے کی شکل میں اس کے سامنے آئے گا جس کے زہر کی شدت کی بناء پر اس کے سر کے بال اڑ چکے ہوں گے۔ اس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے۔ وہ آ کر اس کے گلے میں لپٹ جائیگا اور دونوں جبڑوں سے اس کو پکڑ کر کہے گا کہ میں تیرا وہ مال ہوں جسے تو (دنیا میں) جمع کیا کرتا تھا۔ میں تیرا وہ خزانہ ہوں جسے تو (دنیا میں) جوڑ جوڑ کر رکھا کرتا تھا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی (بخاری کتاب الزکوۃ باب اثم مانع الزکوۃ) ۔ سو ایسے لوگوں کا مال ان کے لئے عذاب ہی کا باعث بنے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
385 ساری کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی میراث : سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ آسمانوں اور زمین کی ساری کائنات کی میراث اللہ ہی کیلئے ہے : یعنی یہ سب لوگ مر مرا کر ختم ہوجائیں گے جو آج طرح طرح کی دولتوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ اور یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر یہ لوگ اسی طرح خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس اللہ ہی کی ملکیت میں رہ جائے گا جو کہ اس سب کا خالق اور مالک حقیقی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ آج جبکہ یہ سب کچھ تمہارے قبضے اور ملکیت میں ہے اپنی خوشی ومرضی سے اسے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کر کے خود اپنی بھلائی کا سامان کرلو، قبل اس سے کہ وہ دن آجائے کہ جب تم کو یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر کوچ کرنا پڑے ۔ سبحان اللہ ۔ رب رحمان نے کس کس طرح سے سمجھایا اور بتایا ہے تاکہ اس کے بندے اپنی آخرت کو بنانے اور سنوارنے کی فکر اور اس کے لئے سامان کرلیں، مگر لوگ ہیں کہ پھر بھی غافل اور بےفکر ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العزیز الر حمن ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَل فِی کُلّ حِیْنٍ مِّنَ الْاَحْیَان وَبِکُل حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَال فِی الْحَیَاۃ یَا ذَا الْجَلَال والْاِکْرَام -
Ayahs 3:181–182386 یہود بےبہبود کا ایک انتہائی بیہودہ قول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے سن لی بات ان [ بدبخت اور منحوس ] لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے [ والعیاذ باللہ ] اور ہم مالدار " سو یہ قول یہود بےبہبود کا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ { مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَناً فَیُضَاعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً } الآیۃ (البقرۃ :245) نازل ہوئی تو یہود بےبہبود نے کہا کہ محمد کا رب غریب اور محتاج ہوگیا ہے جو اپنے بندوں سے قرض مانگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے محروم اور اس سے منہ موڑنے والا انسان کس قدر ڈھیٹ، بےشرم، اور کتنا ظالم و بےانصاف ہوتا ہے کہ وہ اس ذات اقدس واعلیٰ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے بارے میں بھی ایسی بےہودہ بات کہنے سے نہیں چوکتا جس کے ہر ہر لمحہ اتنے خزانے تقسیم ہو رہے ہیں۔ اور ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں ۔ کہ ان کا حساب کرنا بھی کسی انسان کے بس میں نہیں۔ اگرچہ وہ دنیا بھر کے انسانوں کو بھی اپنی مدد کیلئے بلا لے۔ اور حساب و کتاب میں مدد دینے والے تمام آلات و اوزار اور وسائل و ذرائع کو بھی اکٹھا اور جمع کرلے کہ اس وحدہ لاشریک کی عطاء لامحدود اور اس کی داد و دہش ناپیدا کنار ہے۔ نیز یہاں سے یہ اہم درس بھی ملتا ہے کہ ظالموں نے جب خداوند قدوس کی ذات اقدس و اعلیٰ کو بھی نہیں بخشا اور اس کی ذات بےہمتا کے بارے میں بھی اتنی بڑی اور اس قدر ناروا بات کہہ دی تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو ایسے ظالموں کے طعن وتشنیع کے تیروں سے بچ سکے ؟ اور پھر ما وشما جیسے عاجز و کمزور انسانوں کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔ پس کوئی یہ کبھی سوچے بھی نہ کہ مجھے سب اچھا کہیں کہ ایسا نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا۔ بلکہ مطمح نظر ہمیشہ یہ رہے کہ میرا اپنا راستہ و رویہ درست اور صحیح ہو اور میرا معاملہ میرے اپنے خالق ومالک کے ساتھ ٹھیک رہے۔ اس کے بعد کوئی کچھ کہے اس کی پرواہ نہیں ۔ اَللّٰھُمََّ فَخُذْ بِنَوَاصِیَنا الیٰ مَا فِیْہ حُبُّکَ وَرِضَاک ۔ سو اس سے یہود بےبہبود کی طبعی خست اور ذہنی خباثت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ اس حد تک پستی میں گرگئے تھے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی جناب اقدس و اعلیٰ کے بارے میں ایسی گستاخی کا ارتکاب کردیا۔ تو ایسوں سے کسی خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟۔ اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر بیہودگی اور ناشائستگی کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 3:183–184389 یہود کی بہانہ جو طبیعتوں کا ایک بہانہ : سو انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے سامنے کوئی ایسی قربانی پیش کرے جن کو آسمانی آگ آ کر کھاجائے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کے بعض انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے دور میں ہوا کرتا تھا کہ ان میں کوئی شخص جب کوئی قربانی یا نذر و نیاز پیش کرتا تو اس کے قبول ہونے کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ ایک آسمانی آگ آکر اس کو کھا جاتی تھی۔ اور اگر ایسی آگ نہ آتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ قربانی اور نذر ونیاز قبول نہیں ہوئی۔ اب یہود کی بہانہ جو طبیعتوں نے اس بات کو اپنے لئے ایک بہانہ کے طور پر اپنا لیا کہ ہمیں تو تورات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم کسی پیغمبر پر اس وقت تک ایمان مت لاؤ جب تک کہ وہ تمہارے سامنے یہی معجزہ پیش نہ کرے، مگر یہ ان لوگوں کا جھوٹ و افتراء اور محض ایک بہانہ تھا۔ تورات میں ان کو اسطرح کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ بہرکیف آیت کریمہ میں ان کے اسی زعم باطل کی تردید فرمائی گئی اور ان کو اس طریقے سے اور اس طرح پکڑا گیا کہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ اور جس سے ان کے سب ایسے حیلے بہانے " ہَبَائً ا مَّنْثُوْرًا " ہوگئے۔ اور یہ لوگ خود لاجواب ہوگئے { فَاَتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا } بہرکیف اس سے اس بہانہ باز اور حیلہ جو قوم کی بہانہ بازی اور حیلہ جوئی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آجاتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل زَیْغ وَّضَلَالٍ وَسُوْئٍ وَّانْحِرَافٍ ۔ اللہ ہمیشہ ہدایت وحق کی دولت سے سرفراز اور صراط مستقیم پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
390 یہود کے حیلے کا جواب انکے اپنے عمل و کردار سے : سو ان کے اس قول کی تردید اور اس کے جواب کے لیے پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ان سے کہیں کہ کتنے ہی رسول مجھ سے پہلے کھلی نشانیاں لے کر آ چکے ہیں اور خود اس نشانی کے ساتھ بھی جس کا مطالبہ تم لوگ مجھ سے کرتے ہو تو پھر تم لوگوں نے ان کو کیوں قتل کیا اگر تم اپنے دعوے اور مطالبے میں سچے ہو۔ یعنی اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہوتے تو ان حضرات پر فوری طور پر اور سچے دل سے ایمان لے آتے۔ مگر تم نے نہ صرف یہ کہ ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا بلکہ ان کی تکذیب کی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تم نے ان پاکیزہ ہستیوں کے قتل تک کا ارتکاب کیا جو کہ ایک نہایت ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ پس اس سے صاف اور واضح ہوگیا کہ تمہارا یہ قول محض ایک بہانہ ہے جو تمہاری حیلہ ساز اور بہانہ جو طبیعتوں نے گھڑا ہے۔ جس کا حقیقت اور واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور نہ تورات میں ایسا کوئی حکم تھا اور نہ ہوسکتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ مِنْ کُل زَیْغٍ وَّ ضَلَالٍ ۔ قتل انبیاء کے اس جرم کا ارتکاب ان یہودیوں نے نہیں کیا تھا جو کہ قرآن کے مخاطب تھے۔ بلکہ ان کے بڑوں نے کیا تھا جو کہ ان سے صدیاں پہلے گزر گئے تھے۔ مگر یہ لوگ جو کہ اپنے ان بڑوں کے کردار سے خوش تھے اور ان سے اپنی نسبت پر فخر کرتے تھے اس لیے ان کو اس طرح مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ سو کسی برائی اور برے عمل پر خوش ہونا اس میں شریک ہونا ہے۔ اور کسی برائی کے مرتکبوں کے ساتھ تعلق اور ان سے انتساب پر خوش ہونا اور اس پر فخر جتلانا ان کے جرائم میں شریک اور شامل ہونے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ مختلف احادیث میں ان کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل سُوْئٍ وَّاِنْحِرَافٍ-
Ayah 3:185395 اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو تمہارے اعمال کے پورے بدلے قیامت کے روز ہی ملیں گے کہ اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے اس روز جزا ہی میں مل سکے گا۔ دنیا اور عالم برزخ میں جو بدلہ ملتا ہے وہ انسان کے عمل کا " کچھ بدلہ " اور صرف ایک نمونہ ہوتا ہے۔ اور بس پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا کہ وہی " دارالجزائ " ہے۔ اور اسی کی یہ شان اور یہ وسعت و گنجائش ہے جس میں ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ اور بدلہ مل سکے۔ دنیا کے ظرف محدود میں نہ اس کی گنجائش ہے اور نہ ہی اس کا موقع کہ دنیا " دارالعمل " ہے نہ کہ " دارالجزائ "۔ اسی لئے یہاں پر { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر کے ساتھ بیان فرمایا گیا کہ " تم لوگوں کو تمہارے اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا "۔ سو عقل و نقل کا تقا ضا یہی ہے کہ آخرت اور وہاں کی کامیابی ہی کو اپنا مطمح نظر اور مقصود حیات بنایا جائے۔ نہ کہ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کو۔ کہ یہ بہرحال آنی جانی چیز ہے ۔ وَباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرِیْدُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا۔
396 حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور اس کو جنت میں داخل ہونا نصیب ہوگیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا۔ سو یہی ہے حقیقی اور کامل کامیابی کہ عذاب جہنم سے پناہ مل جائے اور نعیم جنت سے سرفرازی نصیب ہوجائے۔ اور یہی وہ کامیابی ہے جو اللہ تعالیٰ کے خوش نصیب بندوں کو وہاں نصیب ہوگی۔ سو اسی کو مقصد حیات بنانا چاہیئے اور اسی کیلئے بندے کو کوشش کرنی چاہیئے ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے اس سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو بازی اصل میں وہیں کی بازی ہے۔ اور ہار جیت حقیقت میں وہیں کی ہار جیت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْم الْجَمْع ذَالِکَ یَوْمُ التَّغَابُن } الاٰیۃ (التغابن : 9) ۔ سو عقل سلیم اور طبع مستقیم کا تقاضا یہی ہے کہ اسی دن کی جمعیت اور وہیں کی فائز المرامی کو اپنا مقصد حیات بنایا جائے کہ وہیں کی کامیابی حقیقی کامیابی ہے ۔ { وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَس الْمُتَنَافِسُوْنَ } ۔ ورنہ دنیا ساری فانی اور ہیچ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
397 دنیاوی زندگی محض دھوکے کا سامان ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیاوی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں : جس کی ظاہری چمک دمک، وقتی فوائد و منافع، اور عارضی لذتوں سے دھوکہ کھا کر غافل انسان اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے اور آخرت کی اپنی اصل منزل اور حقیقی کامیابی کو بھول کر اور اسے پس پشت ڈال کر دائمی خسارے کا شکار ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسیلئے رب رحمان ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنے کلام مجید میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت سے خبردار کیا ہے کہ کہیں تم دنیا کی اس ظاہری چمک دمک میں الجھ کر شیطان کی دھوکہ دہی کے جال میں پھنس کر اپنے اصل مقصد اور اپنی آخرت کے حقیقی نصب العین سے غافل نہیں ہوجانا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا { یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہ حَقٌّ فَلا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہ الْغُرُوْرِ } (فاطر : 9) اور بعینہ یہی بات سورة لقمان کی آیت نمبر 33 میں ارشاد فرمائی گئی ۔ وَباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ -
Ayah 3:186398 اہل ایمان کی ابتلاء و آزمائش کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ [ ایمان والو ] تم لوگوں کی آزمائش ضرور بالضرور ہوگی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی " کہ تم سے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو بھی کہا جائے گا اور جان پیش کرنے کو بھی۔ کہ جہاد فی سبیل اللہ میں ان دونوں کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح فقر و افلاس اور بیماری و مصیبت کے ذریعے بھی تمہاری آزمائش ہوگی۔ تاکہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز ہو سکے۔ اور ہر ایک کے باطن کی کیفیت نکھر کر سامنے آجائے۔ پس تم نے اے مسلمانو ایسے ہر موقع پر اطاعت شعاری و فرمانبرداری، صبر و برداشت اور استقلال و استقامت ہی سے کام لینا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے جانی اور مالی آزمائشیں بھی پیش آتی ہیں اور ان کی طرف سے تمہیں طرح طرح کی دلآزاریوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے جو کہ اصل میں تمہارے صبر اور تقویٰ کا امتحان ہوگا۔ پس تم نے اگر ان باتوں پر صبر و برداشت اور عزم و استقامت سے کام لیا اور حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھا تو یہ عزیمت کا مقام ہے جو اولوا العزم انبیائے کرام اور ان کے جاں نثاروں کا خاص حصہ ہے۔ اور یہی کامیابی کی کلید ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحِبُّ وَیُرِیْد -
399 ایمان والوں کی ایذاء و دلآزاری کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو ضرور سننا پڑیں گی تکلیف دہ اور دلآزار باتیں ان لوگوں کی طرف سے بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے بھی جو کھلے مشرک ہیں۔ اس بغض و حسد کی بناء پر جو ان لوگوں کے دلوں میں تمہارے لئے اور تمہارے دین کے بارے میں چھپا ہوا ہے۔ سو ایسے ہی ہوا اور قرآن حکیم کی یہ پیشینگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور ہو رہی ہے۔ اہل کتاب اور خاص کر یہود اور دوسرے مشرکین کی ان ایذاء رسانیوں کا یہ سلسلہ عہد رسالت اور عہد صحابہ سے شروع ہو کر اس کے بعد تاریخ کے ہر دور میں اور مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا۔ اور آج تک آ رہا ہے۔ قصہ افک، سازش قتل امام الانبیاء ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ تحریک غزوہ احزاب اور اس کے بعد صلیبی جنگوں کا سلسلہ۔ اور آج بوسنیا و ہر زوگوینا کے اس ملک کے مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے ہولناک مظالم، جو قلب یورپ میں واقع اور ان دشمن قوتوں کے اندر گھرا ہوا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں وہاں کے لاکھوں بےگناہ مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ صدیوں پرانی تاریخی اور عظیم الشان مساجد اور مختلف قسم کے آثار قدیمہ کو مٹانے کے لئے ان کو تاک تاک کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس طرح مسلمانوں کے وجود اور ان کے آثار اور نشانات تک کو اس علاقہ سے مٹا دیا جائے ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَحَفِظَ الاِسْلامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ مِنْ مَّکْرِہِمْ وَشُرُوْرِہِمْ ۔ اور یہی سلوک ان ظالم اور دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ آج چیچنیا، کشمیر، فلسطین، فلپائن اور ہندوستان وغیرہ دوسرے مختلف ممالک میں کیا جا رہا ہے اوراقوام متحدہ سمیت تمام عالمی تنظیمیں اور ادارے، انصاف اور حقوق انسانی کی پاسداری کے بلند بانگ دعو وں اور نعروں کے باوجود اس ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ظالموں کی حمایت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ ظلم کا شکار ہونے والے مسلمان ہیں۔ اور ان کا مسلمان ہونا ہی وہ جرم ہے جو ان ظالموں کے یہاں ناقابل معافی جرم ہے۔ اور اس طرح کی تمام عالمی تنظیموں اور اداروں پر غلبہ و تسلط انہی لوگوں کا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حقد و عداوت میں باہم ایک ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ان کھلے دشمنوں اور مشرکوں کی طرح ان کلمہ گو مشرکوں کا بھی اہل حق کے خلاف ایسا ہی سلوک و برتاؤ رہا ہے، اور آج تک ہے۔ جو کہنے کو تو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، اور بڑے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں مگر { وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ باللّٰہ اِلَّا وَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ } (یوسف : 16) کے ارشاد ربانی کے مصداق وہ طرح طرح کے شرکیہ عقائد و اعمال کے مرتکب اور قسما قسم کی شرکیات میں ملوث ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ جاہل پیر، بدعتی ملاں، اور روافض و خوارج وغیرہ وغیرہ تمام گمراہ طبقے و فرقے، اہل حق کو تنگ اور بدنام کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان پر افتراء باندھنا، جھوٹ بولنا، تہمتیں لگانا، ان کے خلاف طرح طرح کی ناروا کتابیں لکھنا، اشتہار چھاپنا، تقریریں کرنا، جھوٹے الزام لگانا وغیرہ وغیرہ ان لوگوں کا دن رات کا مشغلہ ہے ۔ تَشَابَہَتْ قُُلُوْبُہُمْ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِہِم ۔ اللہ دشمنوں کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
400 صبر وتقویٰ حفاظت و سلامتی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے صبر [ واستقامت ] سے کام لیا اور تم تقوی و پرہیزگاری پر کاربند رہے تو [ یقینا تم لوگ مراد کو پہنچ گئے کہ ] بیشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ یعنی ان ہمت کے کاموں میں سے جو مسلمانوں کی شان رفیع کے لائق اور ان سے مطلوب ہیں کہ یہ ذریعہ و وسیلہ ہیں ان درجات و مراتب کے حصول کا جن سے ان کا رب کریم ان کو نوازنا چاہتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم اے مسلمانو صبر وتقویٰ کو ہمیشہ اپنائے رکھنا کہ یہی ذریعہ و وسیلہ ہے حفاظت و سلامتی کا۔ روایات کے مطابق جب نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں پر موجود یہود و مشرکین نے آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچانے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرنے شروع کیے۔ تو ان سے بچاؤ کیلئے اہل ایمان کو اس ارشاد ربانی کے ذریعے صبر وتقویٰ کو اپنانے کی تلقین فرمائی گئی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ پس اہل کفر و باطل کی ایسی شرانگزیوں اور ایذاء رسانیوں پر صبر و برداشت اور عزم و استقامت سے کام لینا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنا عزم و ہمت کے ان عظیم الشان کاموں میں سے ہے جو خداوند قدوس کی نصرت و امداد سے سرفرازی و سرشاری کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور یہی حضرات انبیاء و رسل اور ان کے سچے جاں نثاروں کی میراث اور فوز و فلاح کے لئے شاہ کلید ہے۔ اس لئے اس کا پوری طرح سے خیال و اہتمام رکھنا ضروری ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 3:187401 یہود سے اظہار و تبیین حق کے عہد کا ذکر وبیان : سو اس عہد و پیمان کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ نے پختہ عہد لیا ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی کہ تم نے ضرور بالضرور اس کو کھول کر بیان کرنا ہے لوگوں [ کی بھلائی اور نفع رسانی ] کے لیے اور اس [ کے کسی بھی حصے ] کو تم لوگوں نے چھپانا نہیں۔ تاکہ اس طرح لوگ اپنے خالق ومالک کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات مقدسہ اور ارشادات حقہ سے مستفید و فیضیاب ہو سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں، کہ وحی الہٰی اور ہدایت خداوندی کی روشنی و رہنمائی کے بغیر اس مقصد جلیل کا حصول ممکن نہیں۔ سو اس اعتبار سے وحی کے علوم کو چھپانا بہت بڑا جرم قرار پاتا ہے کہ اس طرح دنیا حقیقی سعادت اور فوز و فلاح سے محروم ہوجاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص سے کسی ایسے علم کے بارے میں سوال کیا گیا جو اس کے پاس تھا مگر اس نے اس کو چھپالیا تو قیامت کے روز اس کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس سے مسلمان کی وہ عظیم الشان ذمہ داری بھی واضح ہوجاتی ہے، جو علم کے بیان اور حق کی اشاعت کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ اب حق دنیا میں وہی ہے جو مسلمان کے پاس ہے اور جو قرآن و سنت کے دو عظیم الشان و بےمثل مآخذ کی صورت میں آج تک موجود ہے اور قیامت تک باقی و موجود رہے گا۔ باقی تمام دنیا تو اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہی ۔ اللہ حق کو بیان کرنے اور اس کے نور مبین سے آفاق کو منور کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اور اس عظیم الشان ذمہ داری سے سبکدوشی کی ہمت و توفیق بخشے ۔ آمین۔
402 یہود کی عہد شکنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے باوجود انہوں نے اس عہد اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے میں انہوں نے دنیائے دوں کے گھٹیا بدلے کو اپنایا۔ سو بڑا ہی برا ہے وہ کچھ جس کو یہ لوگ [ حق پوشی اور حق فروشی کے عوض ] اپنا رہے ہیں۔ کہ حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے اور اس محرومی کا باعث بننے والا یہ مال و دولت سب سے برا مال ہے، جو کوئی محروم اور بدبخت انسان اپنا سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کا ان لوگوں کو بڑا ہی سخت اور ہولناک بھگتان بھگتنا ہوگا اور ان کا یہ مال و متاع اس وقت ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی کا خسارہ بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے کہ اس سے انسان اس دنیا میں نور ہدایت سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کی اس عارضی وفانی زندگی کی منزل سے گزرنے کے بعد جب وہ آخرت کے حقیقی اور ابدی جہاں میں پہنچتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے۔ جس سے اس کو وہاں کے عذاب مقیم میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سورة کریمہ میں اہل کتاب کو یہ آخری تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ اپنے خود ساختہ اور من گھڑت عہود کے حوالے دے کر حق کی مخالفت میں بڑی چابکدستی دکھا رہے ہو۔ لیکن اللہ کا وہ اصل عہد و میثاق جو اس وحدہ لاشریک نے اپنی کتاب کو کھول کر بیان کرنے کے سلسلے میں تم سے لیا تھا اور اس کی وہ ہدایت جو اس نے تمہیں فرمائی تھی کہ اس کی کسی بات کو تم نے چھپانا نہیں اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا اور دنیائے دوں کے حقیر فائدے کے عوض اس کو تم نے قربان کردیا۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر تم نے اس کی تحریف کے سنگین جرم کا بھی ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:188403 اہل باطل کیلئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ ایسا دردناک اور اس قدر ہولناک کہ کوئی شخص اپنے طور پر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس آیت کریمہ کا نزول اگرچہ یہود بےبہبود کے بارے میں ہوا لیکن اس کے حکم اور عموم میں ہر ایسا شخص داخل ہے جو اپنے برے افعال سے خوش ہوتا ہو اور ناکردہ امور پر اپنی تعریف چاہتاہو۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس طرح کے ہر شر و فساد اور ہر بری نیت اور خصلت سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جن لوگوں کے کارنامے یہ کچھ ہوں کہ انہوں نے دنیائے دوں کے حقیر مفادات کی خاطر اسقدر ڈھٹائی کے ساتھ دین فروشی کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور پھر وہ اپنے اس کارنامے پر خوش بھی ہوتے ہوں اور وہ چاہتے ہوں کہ ایسے کاموں کا کریڈٹ بھی حاصل کریں جو انہوں نے کئے نہ ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو کبھی عذاب الٰہی سے محفوظ نہ سمجھنا۔ وہ اس دنیا میں بھی عذاب کی زد میں ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لئے ایک بڑا دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:189–190404 اللہ تعالیٰ کی بےمثال بادشاہی اور اس کے کمال قدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین [ کی اس پوری کائنات ] کی۔ اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ سو بادشاہوں کے بادشاہ اور اس شہنشاہ حقیقی کی بادشاہی بےمثال اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔ پس نہ کوئی کہیں چھپ کر اس کی پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔ کیونکہ نہ کوئی اس کی بادشاہی سے نکل کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی قدرت لامحدود سے باہر ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات میں اس کے سوا کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پس جو لوگ اس سے سرکشی کرتے ہیں وہ ہر وقت اس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان بادشاہی میں اور کسی کا کوئی حق اور حصہ نہیں۔ نہ اس کے بنانے پیدا کرنے میں اور نہ اس کے حکم و تصرف میں۔ وہی وحدہ لا شریک اس کا خالق اور موجد بھی ہے اور وہی اس میں حاکم و متصرف بھی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نہ اس کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کے حکم وتصرف میں۔
Ayah 3:191407 ذکر و فکر دونوں کی ضرورت کا اظہار وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ گوہر مقصود سے سرفرازی کیلئے ذکر و فکر دونوں کی ضرورت ہے۔ سو اس سے ایک اور عظیم الشان حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ گوہر مقصود سے سرفراز و بہرہ ور ہونے کیلئے ذکر و فکر دونوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ یعنی اپنے آس پاس اور گرد و پیش کی اس عظیم الشان کائنات کے خالق ومالک کی یاددلشاد اور اس کی عظمت کا استحضار بھی دل میں موجود ہو۔ اور اس کی اس حکمتوں بھری کائنات میں غور و فکر بھی۔ تو اس سے ایمان و یقین میں جلا پیدا ہوتی اور قوت آتی ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کا حال اس سے یکسر مختلف ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ تو ان لوگوں کا ہے جو اس اتھاہ کائنات میں غور و فکر کرنے اور اس کے خزائن ودفائن کے دریافت کرنے اور ان سے طرح طرح کے مادی فائدے اٹھانے میں تو مصروف ہیں مگر وہ اس قادر مطلق اور واہب کل کی قدرت کاملہ اور عنایت شاملہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جس نے یہ سب کچھ اس پر حکمت طریقے سے اور اس وسیع پیمانے پر ان کیلئے پیدا فرما کر اس طرح اس وسیع کائنات میں محفوظ فرما دیا ہے جیسا کہ اس نے اپنے اس کلام حق ترجمان میں دوسرے مقام پر اس طرح خود بیان فرمایا ہے { وَجَعَلَ فِیْہا رَوَاسِی مِنْ فَوْقِہَا وَبارَکَ فِیْہَا قَدَّرَ فِیْہا اَقْوَاتَہَا فِیْ اَرْبَعَۃ اَیَّام } الآیۃ (حٰمٓ السجدۃ : 10) جس سے یہ ناشکرے لوگ نسل درنسل اور پشت ہا پشت مستفید ہوتے جا رہے ہیں۔ تو اس سے بڑھ کر ظلم اور کفران نعمت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک کی ان بےانتہاء نعمتوں سے طرح طرح سے اور لگاتار فائدہ تو اٹھاتا جائے مگر وہ اسی سے غافل اور اس کا نافرمان ہو جس نے اس کو ان سے نوازا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے ذکر سے سرشاری کے دعویدار تو بنتے ہیں اور بہت سے اس کے ذکرپاک سے رطب اللسان رہتے بھی ہیں، مگر ایسے حضرات غورو فکر سے کام لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔ اور اس پر مزید یہ کہ ان میں بہت سے عناصر ایسے بھی ہوتے ہیں جو ذکر اذکار کے نام سے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کرتے اور اس ضمن میں ایسی ایسی شرکیات کے ارتکاب تک جا پہنچتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ راہ راست ہی سے بھی بھٹک جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس امن و سلامتی اور حق و ہدایت کی راہ ایک اور صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ کہ ذکر بھی ہو اور فکر بھی۔ اور یہ سب کچھ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں اور ان ہی کی مقرر کردہ حدود اور دائرہ کے اندر ہو ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ لذِالِکَ وَالسِّدَادَ وَالثِّبَات علیہ ۔ بہرکیف ذکر و فکر دونوں سے سرفرازی مطلوب و مقصود ہے، ورنہ ذکر کے بغیر فکر محض مادہ پرستی، تن و توش کی خدمت، پیٹ کی پوجا اور اہواء و اَغراض نفس کی بندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ اور فکر کے بغیر محض ذکر ایک ایسا زبانی جمع خرچ بن جاتا ہے جس سے قلب و روح کی تطہیر و بالیدگی کا اصل مقصود حاصل نہیں ہوسکتا۔ سو ذکر و فکر دونوں مطلوب ہیں اور ان دونوں کی یکجا موجودگی ہی سے گوہر مقصود حاصل ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-408 غور و فکر کا محل، مخلوق ہے نہ کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ -: سو یہ ایک اور اہم نکتہ ہے جس کو یہاں واضح فرما دیا گیا۔ وہ یہ کہ غور و فکر کا محل مخلوق ہے نہ کہ خالق۔ کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ذات اقدس و اعلیٰ انسانی عقل و فکر اور دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ انسان خود بھی مخلوق و محدود ہے اور اس کی عقل و فکر بھی مخلوق و محدود۔ اس لئے اس کی محض اپنی عقل کی پرواز کی بناء پر وہاں تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ پس صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کی اس مخلوق میں غور و فکر سے کام لیکر اس خالق بےہمتا کی عظمت کے احساس و ادراک سے اپنے دل و دماغ کی دنیا کی آبادی کا سامان کرے۔ اور پھر وحی کے نور کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرے۔ اسی لئے حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے بارے میں مت سوچو بلکہ اس کی مخلوق کے بارے میں سوچو " لا تَفَکِّرُوْا فِی اللّٰہ وَلٰکِِِنْ تُفَکِّرُوْا فِیْمَا خَلَقَ " ( اخرجہ ابن ابی الدنیامن حدیث عبداللہ بن سلام، محاسن التاویل ) ۔ اور انسان جب اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرنے لگے تو ا سے قدم قدم پر اس وحدہ لاشریک کی عظمت و وحدانیت کے دلائل و شواہد ملیں گے ۔ حضرت شیخ ابو سلیمان دارانی ۔ (رح) ۔ فرماتے ہیں کہ میں جب اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو جس چیز پر بھی میری نظر پڑتی ہے اس میں مجھے ایک عظیم الشان نعمت بھی نظر آتی ہے اور ایک بڑا سامان عبرت بھی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ اللہ قلب و نظر کی ایسی ہی روشنی سے سرفراز و مالامال فرمائے ۔ آمین۔
409 کائنات کی تخلیق عبث و بیکار نہیں ہوسکتی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کی تخلیق بیکار نہیں ہوسکتی : کہ جب ایک عام اور معمولی چیز بھی کوئی بیکار و بےمقصد نہیں بناتا تو پھر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ حکمتوں بھرا کارخانہ قدرت بیکار و بےمقصد ہو ؟ سو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی یہ ساری مخلوق بےمقصد نہیں ہوسکتی بلکہ یہ بڑی ہی بامقصد اور پر حکمت کائنات ہے۔ اور اس کو بےمقصد اور بیکار سمجھنا کافروں اور منکروں ہی کا کام ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا { وَمَا خَلَقْنا السَّمَائَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا بَاطِلاً ، ذَالِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، فَوَیْلٌ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ } (صٓ: 28) ۔ اس کائنات میں غور و فکر کا سب سے بڑا اور اصل اور حقیقی مقصد یہ ہے کہ انسان اس میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے اس خالق ومالک کی مغفرت حاصل کرے جس نے یہ سب کچھ اپنے کمال قدرت و حکمت سے پیدا فرمایا اور انسان کو اس سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہونے کا موقع بخشا۔ اور اس کے نتیجے میں اس کا دوسرا مقصد یہ قرار پاتا ہے کہ انسان اس کی ایک ایک چیز سے مستفید ہوتے وقت دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کا شکر بجا لائے اور اس طرح ہر ہر قدم پر اپنے دل و دماغ کو نور معرفت سے منور کرے اور اپنے ذخیرہ آخرت میں اضافہ چاہے۔ اور یہیں سے اس کا تیسرا بڑا مقصد واضح ہوجاتا ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھ ہو کہ اس نے اس کا کیا حق ادا کیا تاکہ شکر گزاروں کو ان کی شکر گزاری کا پورا پورا صلہ وبد لہ ملے اور ناشکروں اور منکروں کو ان کے کفر وانکار کی قرار واقعی سزا ملے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ ورنہ اس حکمتوں بھری کائنات کا وجود بیکار ہو کر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کا شکر اللہ کی ہدایت اور اس کے رسولوں کی تعلیمات کے بغیر ممکن نہیں اور جو رب خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد ﷺ کی رسالت کاملہ کی صورت میں قیامت تک کے لئے موجود ہے۔ سو زمین و آسمان کی اس عظیم الشان کائنات میں صحیح طور پر غور و فکر کرنے سے اللہ کی وحدانیت ویکتائی اس کے رسولوں کی صداقت و حقانیت اور آخرت و قیامت کی ضرورت سب سے متعلق دلائل ملتے ہیں اور توحید و رسالت اور آخرت کے یہی تین بنیادی اصول دین کی اصل اساس و بنیاد ہیں۔ اور ان تینوں کی دعوت ہر آسمانی دین و شریعت میں ہمیشہ سے دی گئی ۔ وَباللّٰہ التَّوْفِیْق وَہُوَ الْہَادِیْ اِلَی سَوَائ السَّبِیْلِ ۔ سو کائنات کی یہ کھلی کتاب عظیم الشان دلائل قدرت پر مشتمل ہے۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس میں غور وفکر سے کام نہیں لیتا۔ وہ حیوانوں کی طرح اس کی ان گنت اور بےحد و حساب نعمتوں سے فائدے تو اٹھاتا ہے اور دن رات اور لگاتار اٹھاتا ہے مگر اس طرح کبھی توجہ نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق بنتا ہے ؟ اور اس کا نتیجہ وانجام کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو وہ ادھر توجہ کرتا ہی نہیں الا ماشاء اللہ -