3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور جن کا حال یہ ہے کہ جب ان سے کوئی (ناشدنی حرکت اور) بےحیائی سر زد ہوجاتی ہے، یا وہ (کسی گناہ کے ارتکاب سے) ظلم کر بیٹھتے ہیں اپنی جانوں پر، تو فوراً اللہ (تعالیٰ اور اس کی عظمت و جلال) کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی بخشش (و معافی) مانگنے لگ جاتے ہیں، اور کون ہے جو گناہوں کو معاف کرسکے سوائے اللہ (وحدہ لاشریک) کے ؟ اور وہ اڑتے نہیں اپنے کئے پر، جانتے بوجھتے

272 ارتکاب فاحشہ اور ظلم نفس سے مراد ؟ : " فَاحِشَۃ " اور ظلم نفس کے مفہوم کے بارے میں حضرات اہل علم کے مختلف اقوال ہیں، مثلا یہ کہ " فاحشہ " سے مراد کبیرہ گناہ ہیں، کیونکہ " فاحشہ " فحش سے ماخوذ و مشتق ہے جس کے معنی " مجاوزۃ الحد " یعنی حد سے بڑھ جانے کے ہیں (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ اسی لئے اس کا معنی کیا گیا ہے " بَالِغَۃَ الْقُبْحِ " یعنی انتہائی بری شے (جامع البیان وغیرہ) ۔ پس اس کا اطلاق بڑے اور کبیرہ گناہوں پر ہوتا ہے جیسے زنا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ظلم نفس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ (کبیر، مدارک، صفوۃ، اور محاسن، وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ " فاحشہ " سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا اثر دوسرے تک پہنچے جیسے غیبت چغلی وغیرہ۔ اور ظلم نفس سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا اثر وتعلق صرف اس کے مرتکب سے ہو جیسے شرب خمر وغیرہ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ " فاحشہ " سے مراد مطلق گناہ ہے، خواہ اس کا تعلق بندے کی حق تلفی سے ہو، یا خداوند تعالیٰ کی حق تلفی سے۔ جبکہ ظلم نفس سے مراد اور اس کا تعلق حقوق اللہ کے اتلاف سے ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (القرطبی، البحر وغیرہ) ۔ بہرکیف جو بھی ہو اس سے معافی کا طریقہ سچی توبہ اور رجوع الی اللہ ہے۔ اور یہی شان ہوتی ہے مومن صادق کی ۔ وباللّٰہ التوفیقَ لِمَا یُحِبُّ وَیَرْضٰی جَلَّ وَعَلَا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 273 گناہوں کو معاف کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت وشان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے سوا گناہوں کو اور کون معاف کرسکتا ہے ؟ : استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اور کوئی بھی ایسا نہیں جو اس طرح کرسکے بلکہ یہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کی شان ہے کہ وہ اپنے گنہگار بندوں کے گناہ ان کی سچی توبہ پر بالکل معاف فرما دیتا ہے۔ ورنہ دوسری ایسی کوئی بھی ہستی نہیں جو ایسا کرسکے۔ اور وہ ایسے حلم بےکراں اور عفو ناپیدا کنار کی مالک و مختار ہوسکے ۔ سُبْحَانَہ وَ تَعَالٰی ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ الْمَغْفِرَۃَ وَالرَّحْمَۃَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرم الاَکْرَمِیْنَ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سعادت اور خوش بختی کی راہ یہ ہے کہ انسان اگر غلبہ جذبات کی بنا پر کسی چھوٹے یا بڑے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو خدا کی یاد اس کو چوکنا اور مصطرب کر دے اور وہ فوراً اپنے خالق ومالک سے اس کی معافی مانگے اور خدائے پاک کے سوا کوئی نہیں جو معافی دے سکے۔ سو جو لوگ دوسروں کی سفارش کی امید پر گناہوں کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں وہ اپنی شامت اعمال کا ہی سامان کر رہے ہیں۔ گناہوں کی معافی کا طریقہ یہ نہیں کہ دوسروں کی سفارشوں پر تکیہ کرلیا جائے بلکہ خود اللہ پاک کی طرف رجوع کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 274 مومن عاصی کا طریقہ رجوع الی اللہ : سو اس ارشاد سے مومن عاصی اور سرکش و طاغی انسان کے درمیان ایک خاص اور بنیادی فرق کو واضح فرما دیا گیا۔ اور یہ اللہ کے مومن عاصی اور سرکش و طاغی بندوں کے درمیان ایک خاص امتیازی وصف اور نمایاں فرق ہے، کہ طاغی اور سرکش انسان اپنی خطا و غلط کاری پر اڑ جاتا ہے جس سے اس کا جرم اور پکا ہوجاتا ہے۔ اور اس طرح وہ اس وحدہ لاشریک مہربان مطلق کی رحمت و عنایت سے بالکل محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ ابلیس لعین کا قصہ اس کا سب سے بڑا نمونہ اور واضح نشان ہے کہ وہ اپنی معصیت و سرکشی پر اڑ گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کیلئے مطرود اور ملعون ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن عاصی کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ غلطی اور گناہ صادر ہونے پر فورا توبہ کرتا اور اپنے کئے کی معافی مانگتا ہے جس سے خداوند تعالیٰ کی رحمت اس کو پھر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، جیسا کہ حضرت آدم نے کیا ۔ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسِّلامُ ۔ کہ خطا سرزد ہونے کے فوراً بعد اپنے رب کی طرف سچے دل سے رجوع ہوگئے، اور اس رب غفور و رحیم نے ان کو پھر اپنی رحمت سے نواز دیا کہ وہ تو ہے ہی رحمان و رحیم ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور نوازنا اور لگاتار نوازنا اس کی شان ہے ۔ جل جلالہ و عم نوالہ ۔ سو توبہ کا دروازہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے سرفرازی کا ایک عظیم الشان دروازہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ جَلَّ وَ عَلَا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں نور حق و ہدایت سے سرفراز رکھے اور اپنی خاص حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا بدلہ (اور انکی جزاء) ان کے رب (کی طرف) سے ملنے والی بخشش اور ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں جن میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا1 اور بڑا ہی عمدہ بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا2

275 جنت کے انسانی عمل کا بدلہ ہونے کا مطلب ؟ : یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتیں، اہل جنت کو اگرچہ محض اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے نصیب ہو نگی، نہ کہ انسانی عمل سے۔ کہ انسان کے پاس اتنا اور ایسا عمل ہو ہی کیسے سکتا ہے جو جنت اور اس کی بےنہایت نعمتوں کی قیمت اور ان کا مول بن سکے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک مشہور ارشاد گرامی میں فرمایا کہ " تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ عرض کیا گیا، اللہ کے نبی آپ بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی۔ الا یہ کہ اللہ کی رحمت مجھے ڈھانپ لے " مگر اس سب کے باوجود مختلف آیات و نصوص میں بتایا گیا کہ جنت اہل جنت کے اعمال صالحہ کا صلہ و بدلہ ہوگا، جیسا کہ یہاں پر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔ سو یہ دراصل حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا ایک اور کرم و احسان ہے کہ وہ اپنے اس عظیم الشان فضل و احسان یعنی جنت کو اپنے بندوں کے اعمال اور ان کے کئے کرائے کا بدلہ قرار دے رہا ہے کہ اس کے اس فضل و کرم کا ظاہری سبب بہرحال انسان کے اپنے اعمال ہی ہیں ۔ تَبَارَکَ اِسْمُہٗ وَتَعَالیٰ جَدُّہُ ۔ سُبْحَانَہٗ وتعالٰی ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

بیشک گزر چکے ہیں بہت سے (عبرت انگیز) واقعات (اور مثالیں) سو تم لوگ چل پھر کر دیکھو زمین میں، کہ کیسے ہوا انجام (حق کو) جھٹلانے والوں کا3 یہ ایک عظیم الشان بیان ہے لوگوں (کی آنکھیں کھولنے) کے لئے

276 سیر و سیاحت کا اصل مقصد عبرت پذیری : تاکہ اس سے تم لوگ عبرت پکڑو اور سبق لو، تاکہ تم کو راہ حق اور طریق صدق و صواب کی راہنمائی مل سکے۔ سو زمین پر چلنے پھرنے اور سیرو سیاحت کا اصل مقصد اور حقیقی غرض وغایت یہی ہے کہ اس سے عبرت پکڑی جائے اور درس بصیرت لیا جائے۔ مگر افسوس کہ آج اہل دنیا کی اور خود مسلمانوں کی سیر و سیاحت سے عبرت پذیری کا یہی عنصر غائب اور مفقود ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ آج ہلاک شدہ اقوام کے آثار اور کھنڈرات کی حفاظت کیلئے تو کروڑوں اربوں روپے دنیا بھر میں خرچ کئے جا رہے ہیں، مگر ان سے عبرت پکڑنے اور سبق لینے کی طرف کوئی توجہ نہیں، کہ یہ کون لوگ تھے ؟ کیوں ہلاک ہوئے ؟ ان کو کس نے ہلاک کیا ؟ کیوں ہلاک کیا ؟ اور اس میں ہمارے لئے کیا درس ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ اس کے برعکس آج ہو یہ رہا ہے کہ لوگ ایسے مقامات پر پکنک منانے اور تفریح کرنے کیلئے جاتے ہیں اور وہاں پر وہ عبرت پذیری کی بجائے الٹا غفلت کا شکار ہوتے اور طرح طرح کے معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مرد عورت اکٹھے ہوتے ہیں، نظر بازیاں اور فوٹوگرافیاں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی رنگ رلیوں کے سامان کئے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُلّ سُوْئٍ واِْنحِِرَاف۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شر و فساد سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

اور سراسر ہدایت، اور ایک (بےمثل و) عظیم الشان نصیحت، پرہیزگاروں کے لئے

277 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثل بیان : " ھذا " کا مشارالیہ قرآن حکیم ہے۔ اور تنوین تعظیم کی ہے۔ سو قرآن حکیم حق اور حقیقت کی تفہیم و توضیح کیلئے ایک ایسا عظیم الشان اور کافی و شافی بیان ہے، جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی کہیں پائی گئی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی پائی جاسکے گی۔ اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کا مشارالیہ وہ مضمون ہے جو کہ بیان ماسبق سے مفہوم ہو رہا ہے۔ حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی قول مروی و منقول ہیں اور دونوں میں سے ہر ایک درست اور اپنے طور پر وجیہ ہے۔ اور ان میں سے پہلے کو ابن جریر نے اختیار کیا ہے (صفوۃ، محاسن، اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف حق و حقیقت کی تبیین و توضیح کیلئے قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال بیان ہے ۔ فالحمد للہ جل وعلا - 278 قرآن حکیم سراسر ہدایت : یعنی یہاں پر " ہادی " نہیں " ھدی " فرمایا گیا ہے، جو کہ مصدر ہے۔ اس لئے ہم نے اس کا ترجمہ " ھدایت دینے والا " یا " رہنمائی کرنے والا " نہیں کیا۔ جیسا کہ عام طور پر کیا جاتا ہے، بلکہ اس کے مصدری معنیٰ کی وضاحت کے لئے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ یعنی " سراسر ہدایت " یا اس سے ملتے جلتے کچھ دوسرے الفاظ سے کیا جائے۔ اور حق اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ کتاب حکیم سراسر ھدایت، نری ہدایت اور عین ہدایت ہے۔ اس کو جس اعتبار سے اور جس پہلو سے بھی دیکھا جائے اور اس میں غور کیا جائے، اس سے ہدایت ہی ہدایت اور رہنمائی ہی رہنمائی ملے گی۔ اور جس طرح کہ ایک اندھا بہرا شخص اپنا ہاتھ اپنے کسی نہایت قریبی اور قابل اعتماد عزیز کے ہاتھ میں دے کر مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب مجھے کوئی خطرہ اور پرواہ نہیں، یہ مجھے صحیح راستے پر ہی لے جائے گا، اسی طرح جو کوئی اپنی زمام اختیار اس کتاب حکیم کے حوالے کر دے گا، یہ اس کو امن و سلامتی کی اس عظیم الشان راہ پر لے کر چلے گی، جو دنیا و آخرت کی سعادت و کامرانی اور فوز و فلاح سے ہمکنار کرنے والی راہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی مَا شَرَّفَنَا بِہ مِنْ ہٰذَا الْکِتَاب الْعَزِیْز الْحَکِیْم الْمُبَارَک الْمُبِیْن وَبِالْاِیْمَان بِہٖ ۔ اللّٰھُمَّ فَزِدْنَا اِیْمَانًا بِہٖ وَصِدْقًا وَیَقِیْنًا وَتَوْفِیْقًا لِخِدِْمَتِہٖ وَالتَّمسُّک بِتَعاِلیْمِہٖ ۔ آمین ثم آمین۔ پس جو لوگ اس کتاب مبین کے نور سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں نہ وہ اپنی زندگی کے مقصد سے واقف ہیں اور نہ صراط مستقیم سے آگاہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 279 ایک عظیم الشان نصیحت : ایسی عظیم الشان و بےمثل نصیحت، جس میں کسی خطاء و تقصیر کا کوئی خدشہ و امکان نہیں۔ جو دنیا کی اس عارضی وفانی زندگی کے علاوہ آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے والی ہے، اور جس جیسی دوسری کوئی نصیحت و موعظت نہ کبھی کوئی ہوئی ہے، اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ پس اس عظیم الشان نصیحت کو صدق دل سے اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرنا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی دارین کی ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپنانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اعراض و روگردانی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 280 ہدایت قرآنی سے سرفرازی کے لیے اولین شرط تقویٰ و پرہیزگاری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآنی سے استفادہ کیلئے اولین شرط تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ کہ اس سے فائدہ ایسے ہی خوش نصیبوں اور سعادت مندوں کو حاصل ہوگا۔ ورنہ اس کی ہدایت تو سب دنیا جہاں کیلئے عام ہے۔ مگر جو بدنصیب اس کی طرف توجہ ہی نہ کریں، اور اس سے منہ ہی موڑے رہیں، وہ اس سے کیونکر مستفید و فیضیاب ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کَارِہُوْنَ } (ہود۔ 28) یعنی " کیا ہم اس نصیحت کو تمہارے سرمڑھ دینگے اگرچہ تم اس کو ناپسند سمجھتے رہو ؟ " یعنی ایسا نہیں ہونے کا۔ ہدایت کی یہ عظیم الشان اور انمول دولت، سب سے بڑی اور عظیم الشان دولت ہونے کے باوجود، ہے تو اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے مفت ہی بٹنے کے لئے، مگر اس سے سرفراز و بہرہ ور ہونے کے لئے اولین شرط ہے طلب صادق۔ پس جو لوگ اس کے سچے دل سے طالب نہیں ہوں گے، وہ اس سے سرفراز نہیں ہو سکیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کے صلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور نہ تم ہمت ہارو (آئندہ کیلئے اے مسلمانو ! ) اور نہ غم کھاؤ (گزشتہ پر) اور (حقیقت بہرحال یہی ہے کہ) غالب تم ہی ہو اگر تم (واقعی اور سچے) مومن ہو4 اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو (یہ کوئی ہمت ہارنے کی بات نہیں کہ)

281 غلبہ اہل ایمان ہی کا مقدر ہے : سو یہاں پر دو لفظوں میں ایک عظیم الشان حقیقت کا اظہار وبیان فرما دیا ۔ سبحان اللہ ! ! ۔ اتنے مختصر لفظوں میں کتنی بڑی حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا کہ غلبہ اے مسلمانو ! تمہارا، اور صرف تمہارا ہی ہے، کیونکہ { اَنْتُمْ } اور { اَلاَعْلَوْنَ } دونوں معرفہ ہیں۔ اور قاعدہ کے مطابق جب مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں، تو اس میں حصر کا مفہوم پیدا ہوجا تا ہے۔ پس غلبہ بہرحال مسلمان ہی کیلئے ہے، مگر شرط صرف یہ ہے کہ تم سچے مومن اور واقعی ایماندار ہوؤ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمانی قوت حقیقی غلبہ و کامیابی کیلئے شہ کلید ہے۔ اور ایمانی کمزوری سب خرابیوں اور کمزوریوں کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آج امت مسلمہ کی حالت زار اس کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ کمزوری خود مسلمان کے اندر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مسلمان کی زبوں حالی کا اصل سبب اور حقیقی باعث یہی ہے کہ مسلمان مسلمان نہیں۔ کیونکہ ایمان صرف زبانی کلامی دعو وں کا نام نہیں بلکہ یہ عبارت ہے اس نور خداوندی سے جس سے بندہ مومن کا باطن منور اور اس کا دل معمور ہوتا ہے اور یقین صادق کی اس قوت کا ظہور اس کے اعمال و افعال میں ہوتا ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق و علی ما یحبُّ یرید وہوالہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف اس جملے میں مبتدا و خبر کی تعریف سے جو حصر اور قصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ غلبہ اہل ایمان ہی کا مقدر اور انہی کا حق ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو صحیح اور حقیقی معنوں میں مومن بننا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 3:140–141

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

یقینا (فریق مخالف کے) ان لوگوں کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، (اس سے پہلے بدر کے موقع پر) اور (فتح و شکست کے) ان دنوں کو ہم ادلتے بدلتے رہتے ہیں لوگوں کے درمیان (تاکہ ابتلاء و آزمائش کے تقاضے پورے ہوں) اور تاکہ اللہ دیکھ لے ان لوگوں کو جو (صدق دل سے) ایمان لائے ہیں، اور (تاکہ) تم میں سے کچھ کو وہ شہید بنا لے، اور (یہ بہرحال قطعی امر ہے کہ) اللہ پسند نہیں فرماتا ظالموں کو

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ (اس طرح) اللہ چھانٹ کر الگ کر دے ایمان والوں کو، اور مٹا دے وہ کافروں (اور ان کے غلبہ و تسلط) کو،

282 مسلمانوں کیلئے استقامت و ثابت قدمی کا درس : جبکہ اس موقع پر کفار کے ستر صنادید مارے گئے تھے، اور اتنے ہی قید ہوگئے تھے۔ اور اس طرح ان کی ناک کٹ گئی تھی۔ ان کی کمر ٹوٹ گئی تھی۔ اور ان کا غرور خاک میں مل گیا تھا۔ مگر اس کے باوصف اور کفر و باطل پر ہونے کے باوجود وہ لوگ اپنی اس شکست خوردگی سے ہمت نہیں ہارے۔ تو پھر تم لوگ اے مسلمانو ! کیوں ہمت ہارتے ہو ؟ جبکہ تم ہو بھی حق پر اور تمہارے ہر عمل اور ہر حال پر تمہیں اجر وثواب بھی ملتا ہے۔ اور تمہارے لئے کسی بھی صورت میں ناکامی نہیں کہ مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ تو پھر تمہارا ہمت ہارنا یا کمزوری دکھانا کس طرح درست ہے ہوسکتا ہے۔ سو اس ارشاد میں مسلمانوں کے لئے استقامت و ثابت قدمی اور ہمت و قوت سے کام لینے کا درس ہے ۔ وبِاللّٰہ التَّوْفِیْق وَھُوَ الْہَادِیْ اِلٓی سَوِائ السَّبِیْلَ ۔ بہرکیف راہ حق پر صبر و استقامت ایک عظیم الشان سعادت ہے۔ 283 حالات کی تبدیلی ابتلاء و آزمائش کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دنوں کو ہم لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں تاکہ اس طرح ابتلاء و ازمائش کے تقاضے پورے ہوں۔ اور اس ابتلاء و آزمائش کے ذریعے کھرے کھوٹے دونوں نمونے نکھر کر سامنے آجائیں اور حقیقت حال پوری طرح اور سب کے سامنے واضح ہوجائے۔ اور اس طور پر کہ کسی کیلئے کسی شک و انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سو فتح و شکست اور ابتلاء آزمائش کے ان دنوں کی تبدیلی حکمت خداوندی کا تقاضا اور سنت الہیہ کا ایک مظہر ہے۔ سو فتح و شکست کے یہ حالات ہر قوم کو پیش آتے ہیں اور ان میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہوتے ہیں اور یہ قانون ابتلا و آزمائش کا مقتضیٰ ہے کہ اسی سے کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ اور اس قدر صاف وصریح طور پر کہ کسی کے لیے انکار اور گریز و فرار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 284 شرف شہادت سے سرفرازی کا مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ تم میں سے کچھ کو شہید بنا لے جو کہ مومن صادق کیلئے ایک عظیم الشان نعمت اور ایک منفرد اعزاز اور جنت کی نعمتوں سے سرفرازی کا سب سے بڑا ذریعہ اور مختصر راستہ ہے۔ اور اس طرح تم لوگ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کی خاطر اپنی جان قربان کرکے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکو۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور صفوۃ التفاسیر، وغیرہ) ۔ سو شہادت فی سبیل اللہ ایک اہم مقصد ہے۔ روایات کے مطابق جن لوگوں کو غزؤہ بدر میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا ان کو اس کا افسوس تھا، اور وہ تمنا کیا کرتے تھے کہ ان کو بھی کوئی ایسا موقع مل جائے جس میں وہ شرف شہادت سے سرفراز ہوجائیں تو ان کیلئے غزؤہ احد کے اس معرکہ میں اس کا موقع فراہم فرما دیا گیا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو احد کی اتھل پتھل اور حالات کے ادل بدل سے اسی طرح کے کئی اہم اور عظیم الشان مقاصد حاصل کرنا مطلوب تھے۔ ورنہ یہ حقیقت اپنی جگہ ایک اٹل اور بنیادی حقیقت ہے کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے (اے مسلمانو ! ) کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو دیکھا (پرکھا اور ظاہر کیا) ہی نہیں، جنہوں نے اس کی راہ میں جہاد کیا، اور جو (راہ حق میں ثابت قدم رہنے والے اور) صابر ہیں

285 جنت سے سرفرازی کیلئے ابتلاء و آزمائش کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں نے [ اے مسلمانو ] یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو دیکھا پرکھا ہی نہیں جنہوں نے اس کی راہ میں جہاد کیا اور جو صبر کرنے والے ہیں۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونے کا کہ تم لوگ ابتلاء و آزمائش کے مراحل سے گزرے بغیر یونہی جنت اور اس کی نعمتوں سے سرفراز ہوجاؤ، بلکہ اس کے لئے تمہیں ابتلاء و آزمائش کی بھٹی سے گزرنا ہوگا، تاکہ کھرا کھوٹا الگ ہوجائے، اور معرکہ احد کی یہ اتھل پتھل بھی اسی آزمائش کا ایک حصہ ہے۔ لہٰذا تمہیں اس پر نہ تعجب ہونا چاہیئے، اور نہ اس سے ہمت ہارنا اور حوصلہ چھوڑنا چاہیئے۔ اور یہی شان ہوتی ہے مومن صادق کی کہ وہ ابتلاء و آزمائش کی بھٹی سے اور بھی نکھر کر اور سرخرو ہو کر نکلتا ہے۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم لوگ تو (بڑے زور و شور سے) موت کی تمنا (و آرزو) کرتے تھے، اس سے پہلے کہ تمہارا اس سے آمنا سامنا ہوتا، سو اب وہ تمہارے سامنے آگئی، اور تم اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو1

286 غزؤہ احد کے شرکاء کے لئے ایک خاص تنبیہ : یعنی یہ کہ اس سے پہلے تو تم لوگ خود اس کی تمنا کیا کرتے تھے، تو اب جبکہ تمہاری یہ تمنا پوری ہو رہی ہے اور موت تمہارے سامنے آگئی ہے تو اب تمہارے لئے اس سے جی چرانے، یا کمزوری دکھانے، اور پیچھے ہٹنے کا کیا موقع ہوسکتا ہے۔ پس تم ثابت قدم رہو اور پامردی سے دشمن کا مقابلہ کرو کہ عزت و غلبہ تمہارے ہی لئے ہے اور تمہاری ہر حالت خیر ہی خیر کی ہے۔ حضرت حسن ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ حضرات کہا کرتے تھے کہ اگر ہمیں اللہ کے رسول کے ساتھ کبھی جہاد کا موقع مل جائے تو ہم ایسے اور ایسے کارنامے دکھائیں گے۔ سو غزؤہ احد کے موقع پر جب ان کو اس کا موقع ملا تو ان میں سے کچھ نے کمزوری دکھائی تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس میں مسلمانوں کو ان کی اصل شان اور ان کے دین و ایمان کے تقاضوں کے بارے میں تنبیہ فرمائی گئی ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ نہیں ہیں مگر ایک رسول2 ان سے پہلے بھی گزر چکے ہیں بہت سے رسول، تو کیا اگر وہ مرجائیں، یا قتل کر دئیے جائیں، تو تم لوگ (راہ حق و صواب سے) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور (یاد رکھو کہ) جو کوئی پھر گیا (راہ حق و صواب سے) تو وہ (یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا) اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑے گا، اور اللہ (ضرور اور) جلد ہی نوازے گا شکر گزاروں کو ان کے (صلہ و) بدلہ سے

287 محمد اللہ کے رسول ہیں اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ محمد نہیں ہیں مگر ایک رسول۔ یعنی ان میں الوہیت کا کوئی شائبہ نہیں کہ ان پر موت طاری نہ ہو سکے۔ یعنی یہ حصر اضافی ہے الوہیت کی نفی کے اعتبار سے۔ روایات میں ہے کہ احد میں جب مسلمان کفار کے اچانک عقبی حملے کی وجہ سے افراتفری کا شکار ہوگئے، تو اس موقع پر کسی شیطان نے آواز لگائی کہ محمد قتل ہوگئے " اِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ " تو اس سے مسلمانوں کے ہوش اڑ گئے۔ ہمتیں ٹوٹ گئیں۔ اور ان کی صفوں میں طرح طرح کی باتیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ بعض کمزور لوگوں نے کہا کاش کہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہمارے لئے ابوسفیان سے امان لے لے۔ بعض منافقوں نے کہا کہ اگر محمد نبی ہوتے تو اس طرح قتل نہ ہوتے۔ اور یہ کہ اب تم لوگ اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ جاؤ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس موقع پر حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا انس بن النضر ؓ نے کہا کہ اگر محمد قتل ہوگئے تو کیا ہوا رب محمد تو زندہ ہے۔ اسے تو کبھی موت نہیں آنے والی۔ اور یہ کہ ان کے قتل ہوجانے کے بعد اب تم لوگ زندہ رہ کر کیا کرو گے، بلکہ جس چیز کیلئے انہوں نے جان دے دی تم بھی اسی کیلئے جان دے دو کہ حق تو بہرحال باقی رہنے والی چیز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے پوری قوت سے کفار پر حملہ کیا یہاں تک کہ راہ حق میں لڑتے لڑتے انہوں نے جان دے دی اور وہ شہید ہوگئے۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (ابن کثیر، محاسن التاویل، معارف القرآن، صحیح بخاری، کتاب الجہاد وغیرہ) ۔ 288 مومن کی جنگ حق کیلئے ہوتی ہے نہ کہ کسی شخصیت کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تو کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ استفہام انکار و توبیخ کے لئے ہے۔ یعنی ایسے نہیں کرنے کا کہ مومن کی یہ شان نہیں ہوتی، اس لئے کہ مومن کی جنگ شخصیات کیلئے نہیں بلکہ حق کیلئے ہوتی ہے۔ کیونکہ شخصیات تو بہرحال فانی ہی ہوتی ہیں، لیکن حق ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ لہٰذا جس حق کیلئے پیغمبر نے جان دی تم لوگ بھی اسی کیلئے جان کی بازی لگانے کیلئے مستعد اور تیار ہوجاؤ، جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا تھا (ابن کیثر وغیرہ) ۔ کیونکہ جو حق کی خاطر جان کی بازی لگاتا ہے وہ حیات جاوداں سے سرفراز ہوجاتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح دنیا میں دوسرے بہت سے رسول گزر چکے ہیں اسی طرح محمد بھی اللہ کے ایک رسول ہیں۔ اور جس طرح دوسرے انبیاء و رسل کو آزمائشیں پیش آئیں اسی طرح آپ کو بھی پیش آسکتی ہیں۔ اور جس طرح دوسرے تمام رسولوں کو موت کے مرحلے سے گزرنا پڑا اسی طرح آپ کو بھی اپنے وقت مقرر پر اس مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ سو آپ کے رسول ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو موت نہیں آئے گی یا آپ کو کسی مصیبت و مشکل اور شکست و ہزیمت سے کوئی سابقہ پیش نہیں آسکتا۔ اگر کسی کو اس طرح کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہو اور اس وجہ سے وہ احد کے اس حادثے کے بعد کسی تذبذب میں مبتلا ہوگیا ہو تو اس کو اس غلط فہمی کی اصلاح کر لینی چاہئے ورنہ اگر ایسی کسی غلط فہمی کی بنا پر وہ راہ حق سے پھر گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا کہ اس کا نقصان اس کے ایمان و عقیدہ کا تیا پانچا سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 289 راہ حق سے پھرنے سے اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا : کہ وہ وحدہ لاشریک تو بہرحال اور ہر طرح سے اور ہر کسی سے غنی و بےنیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی کی طاعت یا معصیت سے اس کے یہاں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے۔ اچھائی اور بھلائی کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا اور برائی کا وبال بھی خود اسی پر پڑے گا۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا اس طرح کے کسی عمل سے نہ کسی فائدے کا کوئی تصور ہوسکتا ہے اور نہ نقصان۔ وہ وحدہ لاشریک ایسے تمام تصورات سے پاک وبالا اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو احد کے اس حادثے کی بنا پر اگر کوئی تذبذب میں مبتلا ہو کر راہ حق سے پھر گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ محض اپنا ہی نقصان کرے گا اور خود اپنی دنیا و آخرت تباہ کرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ازخود یونہی مرجائے، مگر اللہ کے اذن (و حکم) سے (اور مرنا بھی ہر ایک نے) ایک لکھے ہوئے (اور طے شدہ) وقت کے مطابق (ہی ہے)3 اور جو کوئی بدلہ چاہے گا دنیا کا، تو اس کو ہم اسی (دنیا) میں سے دے دیں گے، اور جو کوئی بدلہ چاہے گا آخرت کا تو اس کو ہم اس میں سے دیں گے4 اور ہم عنقریب ہی (اور ضرور اور بھرپور) بدلہ دیں گے شکر گزاروں کو،

290 موت کا ایک وقت مقرر ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جو کہ لکھا ہوا ہے۔ تو پھر موت سے ڈرنے اور جہاد سے جی چرانے کا کیا فائدہ ؟ کہ وقت سے پہلے اور اللہ کے اذن کے بغیر اس نے آنا نہیں اور اپنے وقت پر اس نے ٹلنا نہیں۔ سو وہ تو اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گی۔ تو ایسے میں اس سے ڈرنے کی بجائے خواہش اور کوشش اس کی ہو کہ شہادت کی موت ملے تاکہ اس طرح حیات جاودانی اور جنت کی سدابہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوسکے جو کہ سب سے بڑی سعادت ہے۔ اور یہی نشانی ہوتی ہے مومن صادق کی نہ یہ کہ انسان موت سے ڈرنے اور شہادت سے بھاگنے اور بچنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہ راہ بہرحال ناکامی اور محرومی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر شخص کی موت کے لئے ایک نوشتہ الٰہی موجود و مقرر ہے۔ اس سے پہلے کسی کی موت آ نہیں سکتی اور اس کے پورا ہوجانے پر ٹل نہیں سکتی۔ اس لئے آدمی کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ موت سے گھبرانے کی بجائے اپنے خالق ومالک کے مقرر کردہ فرائض پورے عزم و جزم کے ساتھ بجا لائے اور موت کے بارے میں یقین رکھے کہ اس کا وقت بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقرر ہے اور اس کی شکل بھی متعین ہے اس لئے اس کا معاملہ اسی کے حوالے کر کے مطمئن ہوجائے اور موت سے ڈرنے کی بجائے حق کی سربلندی اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے مصروف جہاد رہنا چاہیے تاکہ موت جب بھی آئے راہ حق و صواب پر آئے اور حقیقی کامیابی اور دائمی مسرت و شادمانی کا ذریعہ بنے ۔ وباللّٰہ التوفیق - 291 طالب دنیا کیلئے دنیا ہی کا صلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی دنیا کا بدلہ چاہے گا تو ہم اس کو اسی میں سے دے دیں گے لیکن اتنا ہی جتنا کہ ہم چاہیں گے۔ اور وہی اور اسی قدر جتنا کہ ہمیں منظور ہوگا۔ مگر سکے بعد اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کہ اس نے آخرت چاہی ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو دنیا اور اس کی عارضی اور فانی لذتوں کو ہی اپنا مقصد بنا لیتے ہیں اور اسی کے لئے جیتے اور مرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس عقل والوں اور سعادت مندوں کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا تو ضرورت کی حد تک کمائیں مگر اصل مقصد اپنی آخرت ہی کو بنائیں، جیسا کہ قرآن حکیم نے اپنی اس عمدہ اور جامع دعاء کے ذریعے تعلیم و تلقین فرمایا ہے۔ اور بتایا ہے کہ اللہ کے نیک اور سعادت مند بندے اس مالک الملک سے یہی دعاء مانگتے ہیں { رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسََنََۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ } ۔ اللہ پاک سب کو راہ حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف طالب دنیا کے لئے دنیا ہی کا ہر صلہ ہے اور وہ بھی اسی قدر جتنا کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اور بس۔ جبکہ آخرت اس کے لئے کچھ بھی نہین { ومالہ فی الآخرۃ من نصیب } 292 شکر گزاروں کیلئے بدلہ و جزا کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ضرور بدلہ دیں گے شکر گزاروں کو۔ پس مومن صادق کو ہمیشہ صبر و شکر ہی سے کام لیتے رہنا چاہیئے تاکہ اس کو اپنے خالق ومالک کی رضا و رحمت، اور اس کی طرف سے ملنے والے بدلہ و جزاء سے سرفرازی نصیب ہو سکے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ وَالسِّدَادَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَل ۔ لہٰذا مومن صادق کو ہمیشہ اپنے خالق ومالک کے شکر سے شادکام رہنا چاہیئے کہ یہ اس خالق ومالک کا اپنے بندوں کے ذمے حق بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی میں خود مومن کا بھلا بھی ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور خاص کر دین و ایمان کی اس نعمت پر جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور سب سے بڑی نعمت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدردانی پر ہم انہیں بھرپور صلہ دیں گے اور جو لوگ اس روشنی کو دیکھ کر بھی ظلمت ہی کے طالب رہیں گے ان کو تاریکیوں ہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ ان سے نکلنا چاہتے ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں جن کے ساتھ شامل ہو کر (جہاد و قتال) کیا بہت سے اللہ والوں نے، (حق کی سر بلندی کی خاطر) سو اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مصیبتوں (اور تکلیفوں) کی بناء پر نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ ہی کمزوری دکھائی، اور نہ ہی (باطل کے آگے) دبے، اور اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے ہی صابر (اور ثابت قدم) لوگوں سے،

293 صبر کرنے والوں کیلئے محبت خداوندی کا مژدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ محبت فرماتا ہے صبر کرنے والوں سے۔ پس تم لوگوں کو بھی ان ہی لوگوں کے اسوہ و نمونہ کو سامنے رکھتے ہوئے صبر و استقامت سے کام لینا چاہیئے تاکہ اپنے رب کی خاص رحمت و عنایت کے مستحق اور اس کی محبت کے اہل بن سکو۔ سو مومن صادق کی زندگی کے دو ہی عنوان ہیں۔ صبر و شکر کہ وہ راہ حق پر ہمیشہ پکا اور ثابت قدم رہے اور مشکلات و مصائب پر صبر و برداشت اور پختگی و استقامت ہی سے کام لیتا رہے اور اپنے خالق ومالک کی نعمتوں کی یاد اور ان پر اس کے شکر سے شادکام بھی ہوتا رہے۔ اس طرح اس کی زندگی سراسر خیر و برکت بن جائے گی اور جو بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد میں تصریح فرمائی گئی کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اور جب اس خالق ومالک وحدہ لا شریک کی محبت کا مصرف نصیب ہوگیا تو پھر اور کیا چاہئے ۔ اللّٰھُمَّ فَشَرِّفْنَا بِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی وَکَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی بِکُل حالٍ مِنَ الْاَحْوال، وفی کُل مَوْطِنٍ مّنَ الْمَوَاطِن فِی الْحَیَاۃ یا ذالجلال والاکرام -
Ayah 3:147

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (میدان کارزار میں بھی) ان کا قول (و کلام) بس یہی ہوتا تھا کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہوں کو، اور ہماری زیادتیوں کو ہمارے معاملے میں، اور ثابت (و پختہ) رکھ ہمارے قدموں کو، اور مدد فرما ہماری کافر قوم کے مقابلے میں1

294 مومن کا اصل سرمایہ رجوع الی اللہ اور اسی کے حضور دعاء والتجا : سو مومن صادق میدان معرکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ اور ہمیں ان پر فتح و غلبہ نصیب فرما۔ سو اس طرح انہوں نے اپنی اس دعاء والتجا سے یہ درس بھی پچھلے آنے والوں کے لئے چھوڑا کہ مومن صادق کا اصل بھروسہ، اسلحہ، اور سامان حرب و ضرب وغیرہ کے ظاہری اسباب و وسائل پر نہیں ہوتا، بلکہ اپنے خالق ومالک کی مدد اور اس کی توفیق و عنایت پر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ بقدر امکان ہر طرح کے ظاہری اسباب و وسائل جمع کردینے کے باوجود، سب سے پہلے اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتا، اور اسی سے دعا مانگتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کا اصل سرمایہ یہی مخلصانہ دعاء والتجاء اور رجوع الی اللہ کا سرمایہ ہے، کہ فتح و نصرت سمیت سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے یہاں پر اللہ کے ان سچے اور مخلص مسلمانوں کا یہ نمونہ دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے اہل باطل کے مقابلے میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کیا اور اسی کے حضور عجز و انکساری کے ساتھ یہ عاجزانہ اور مخلصانہ دعاء کی جس سے ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی نصیب ہوئی۔ سو مومن صادق کی شان اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہے ہر موقع پر اور ہر حال میں۔ وبِاللّٰہ التوفیق لما یَحَبّ وَیُرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 3:148–149

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

سو اس (اخلاص و استقامت) پر اللہ نے ان کو دنیا کے (اجر و) ثواب سے بھی نوازا، اور آخرت کا عمدہ (اور حقیقی اجرو) ثواب بھی ان کو عطا فرمایا، اور اللہ محبت کرتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے نیکو کاروں کو2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے اطاعت (و فرمانبر داری) کی ان لوگوں کی جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے (اپنے کفر و باطل کی طرف) جس سے تم لوگ مبتلا ہوجاؤ گے (دارین کے) خسارے میں (وہ نہیں)

295 اخلاص و استقامت وسیلہ نوازش و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اخلاص واستقامت پر نوازنا شان خداوندی اور اس کا ایک عظیم مظہر و نمونہ ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اجر وثواب سے نوازا کہ دشمن کے مقابلے میں فتح نصیب ہوئی، ان پر غلبہ حاصل ہوا۔ حکومت ملی۔ عزت و ناموری سے سرفراز ہوئے۔ اور ان کو سچی ناموری کا اعزاز بخشا گیا وغیرہ۔ سو صدق و اخلاص اور استقامت و ثابت قدمی انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی دولت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ یہاں پر ذرا یہ بھی دیکھ لیجئے کہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کیا سکھاتی بتاتی ہیں اور آج کے جاہل مسلمان کا عمل و سلوک کس طرح ہے کہ وہ مشکلات کے ایسے مواقع پر بھی اللہ تعالیٰ کی بجائے اس کی کسی عاجز اور فانی مخلوق کو پکارتا ہے۔ اور ایسے موقع پر بھی وہ " یا علی مدد " اور " یاپیر دستگیر " وغیرہ جیسے شرکیہ نعرے لگاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز اس ارشاد یعنی { وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ } الخ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب ان اللہ والوں کو آزمائش اور مصیبتیں پیش آئیں تو انہوں نے آج کے کمزور مسلمانوں اور منافقوں کی طرح شکوک و شبہات میں پڑنے اور ایسی کسی مشکل اور مصیبت میں شکوہ و شکایت کرنے اور اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کرنے کی بجائے اپنی کمزوری اور تجاویز پر محمول کیا۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی مانگی جس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و نصرت سے نوازا اور حکومت و اقتدار سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں ان کو حسن ثواب اور اعلیٰ درجہ و مقام سے بہرہ مند فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو مرتبہ احسان پر فائز ہیں اور اللہ ایسے نیکو کاروں سے محبت فرماتا ہے ۔ وبا للّٰہ التوفق لِمَا یُحِبُّ ویُرِید ۔ سو استقلال اور احسان مسلمان کی دو عظیم الشان صفتیں ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے اور بدرجہ تمام و کمال نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 296 مخلصین و صابرین کے لیے انعام آخرت کا ذکر وبیان : سو اس سے مخلصین و صابرین کے لیے آخرت کے حسن ثواب کا مژدہ جانفرا سنا دیا گیا کہ وہاں ان کو جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوئی۔ اور وہاں ان کو وہ کچھ ملا جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا گزر ہی ہوا۔ اور وہ بھی ہمیشہ کیلئے اور ابدی انعام کے طور پر۔ اور جہاں ان کو اپنے رب کی رضا و خوشنودی اور اس کے قرب کی وہ نعمت عظمیٰ نصیب ہوگی، جو سب نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔ اور یہ نعمتیں ایسی عظیم الشان نعمتیں ہیں کہ دنیا کی نعمتوں کی ان کے سامنے کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ اسی لئے یہاں { حُسْنَ ثَوَاب الاٰخِرَۃَ فرمایا گیا ہے۔ سو آخرت کا اجر وثواب دنیا کے اجر وثواب کی طرح نہیں کہ دنیا کا اجر وثواب اول تو ناقص اور آخرت کے اس اجر وثواب کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے اور پھر اس میں بھی طرح طرح کی تکلیفوں اور مشکلات کے مختلف ایسے شوائب شامل ہوتے ہیں جو اس کو مکدر اور اس کا مزہ کر کرا کردیتے ہیں۔ جبکہ آخرت کا اجر وثواب ایسے تمام شوائب سے خالی اور پاک و صاف ہوتا ہے۔ اور وہ ہوگا بھی ایسی کامل شان کا کہ یہاں اس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی جیسا کہ حضرت نبی معصوم ﷺ نے اس کی اس طرح توضیح و تصریح فرمائی۔ اور آپ ﷺ نے اس مضمون کی تائید و توثیق کیلئے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃ اَعْیُنٍ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } (السجدہ۔ 17) سو مومن صادق کیلئے اس کے صدق و اخلاص کے صلے میں اس دنیا میں بھی اچھائی اور بھلائی ہے اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی۔ اسی لیے اس کو دنیا و آخرت کی خیر اور بھلائی کی جامع یہ دعا تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے { رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّار } (البقرۃ : 20 1) ۔ سو اخلاص و استقامت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 297 نیکوکاروں کیلئے محبت خداوندی کا مژدہ جانفرا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ محبت کرتا اور پسند فرماتا ہے نیکوکاروں کو جن کی نیتیں اور ارادے بھی نیک اور صحیح ہوتے ہیں اور ان کے اعمال بھی دین حق کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اور صالح و مستقیم ہوتے ہیں ۔ اللہ ہمیں انہی میں سے بنائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ امام رازی کی دقیقہ سنج طبیعت نے یہاں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ان حضرات نے جب حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حضور اپنی کمزوری اور کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے اپنی بخشش کی دعاء مانگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو احسان کی سند سے نواز دیا۔ اور ان کو محسن قرار دے دیا۔ گویا کہ اللہ پاک نے ان کی دعاء کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ جب تم نے اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا اقرار و اعتراف کرلیا تو میں نے تم کو احسان کے وصف سے سرفراز کردیا اور تم کو اپنی محبت کے شرف سے نواز دیا۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کے یہاں شرف باریابی سے مشرف ہونے کیلئے یہی راستہ ہے کہ انسان اس کے حضور اپنی عاجزی و درماندگی کا اظہار کرے اور صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرے ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَ یُرِیْدُ وَعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْد ۔ سو احسان کی صفت ایک عظیم الشان صفت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 3:150

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے، اور وہی ہے سب سے بہتر مدد کرنے والاف 3

300 اللہ ہی سب کا ناصر و مددگار ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی حامی و ناصر اور مددگار ہے تم سب لوگوں کا اور وہی ہے سب سے بہتر مدد کرنے والا۔ پس تم لوگ دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھو کہ اس کی رحمت و عنایت بھی کامل اور اس کی قدرت وعطاء بھی لامحدود و شامل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ روایات میں ہے کہ غزوہ احد سے واپسی کے موقع پر جب ابوسفیان نے " ھبل " کی جئے پکاری اور کہا " لَنَا الْعُزّٰی وَلا عُزّٰی لَکُمْ " یعنی " ہمارے لئے عزی ہے اور تمہارے لئے کوئی عزی نہیں " تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام ۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ کو حکم دیا کہ تم یوں کہو " اَللّٰہُ مَوْلانَا وَلا مَوْلٰی لَکُمْ " کہ " اللہ ہمارا مالک و کارساز ہے تمہارا کوئی مولیٰ و کارساز نہیں "۔ سو ان نصوص کریمہ میں حصر کے ساتھ بتایا گیا کہ حامی و ناصر سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ مددگار سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ حتی کہ حضرت امام الانبیائ ﷺ خود بھی اسی وحدہ لاشریک سے مدد مانگتے اور اسی سے مدد مانگنے کی تعلیم و تلقین فرماتے ہیں۔ اور حضرات صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے بھی کبھی خرق عادت اور خلاف اسباب کے طور پر آپ ﷺ سے مدد نہیں مانگی۔ اور خود آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اور اپنی موجودگی کے دوران بھی، کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔ لیکن آج کا جاہل مسلمان ہے کہ اس سب کے باوجود طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگاتا ہے۔ کہیں وہ کہتا ہے " یارسول اللہ اَغِثْنِیْ " اور کہیں " یا پیر دستگیر " اور کہیں " یا علی مدد " وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ یہ مقدس اور برگزیدہ ہستیاں خود بھی زندگی بھر اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتی رہیں اور اسی کو پکارنے کی دعوت اور درس دیتی رہیں۔ اور یہ سب حضرات اپنی اپنی نمازوں میں اپنے خالق ومالک کے حضور دست بستہ اسی طرح عرض کرتے رہے { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } کہ " مالک ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے "۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سب اسی کے محتاج ہیں ۔ جل وعلا شانہ -
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

عنقریب ہی ہم رعب ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں، اس بناء پر کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا ایسی (بےبنیاد اور وہمی) چیزوں کو جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری، اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ایسے ظالموں کا

301 اہل ایمان کے لیے القاء رعب کی خاص مدد کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قدرت کی طرف سے اہل حق کی مدد القائ رعب کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم رعب ڈال دیں گے کافروں کے دلوں میں جس کے باعث وہ عسکری تفوق کے باوجود تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا کہ غزوہ احد سے واپسی پر ابوسفیان اور دوسرے کفار و مشرکین کو یہ خیال آیا کہ جب مسلمان اس قدر کمزور ہوچکے تھے تو ہم اپنا کام تمام کئے بغیر یونہی واپس کیوں آگئے۔ ہمیں تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا بالکل صفایا کردینا چاہیئے تھا۔ اس پر وہ واپسی کا ارادہ کر کے دوبارہ حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگئے، مگر قدرت کی طرف سے ان کے دلوں پر ایسا رعب طاری کردیا گیا کہ وہ واپسی کی ہمت نہ کرسکے ۔ سبحان اللہ ۔ خدا وند قدوس کی طرف سے دلوں میں رعب ڈال دینے کے اس غیرمرئی لشکر نے کتنا کام کیا اور رعب قلوب کا یہ لشکر ایسا سخت لشکر ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں ہے ہی نہیں۔ اور اسی کو آج کل کی فوجی اصطلاح میں " مورال ڈاؤ ن " ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایسی سخت مار ہے کہ اس کے بعد کوئی لشکر خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ اٹھنے کی ہمت ہی نہیں کرسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے پاس ظاہری اسباب خواہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، وہ لڑنے کے قابل نہیں رہتا اور ایسے میں وہ اس کے کچھ کام نہیں آسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ } اور اللہ پاک سبحانہ تعالیٰ کی یہ مدد و عنایت اہل ایمان کو ہمیشہ کی طرح آج بھی حاصل ہے۔ اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس کے مناظر و مظاہر دیکھنے سننے میں آتے ہیں۔ چناچہ حال ہی میں افغانستان میں روس کی شیطانی سپر پاور، جو کہ اپنے دور کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور تھی، کا حملہ اس کی ایک واضح مثال ہے کہ اس پر افغانستان کے نہتے مگر قوت ایمانی سے لیس و سرشار مجاہدین کا رعب جس طرح پڑا اس کو دنیا نے کھلی آنکھوں دیکھا اور سنا۔ اور اس حد تک کہ روس کو افغانستان پر قبضہ کرنے کی بجائے ان افغان مجاہدوں سے جان چھڑانی مشکل ہوگئی۔ کتنے بھاگ گئے اور کتنے واصل جہنم اور فی النار والسقر ہوگئے۔ پھر آخر کار سب نے ناکام ونامراد ہو کر واپسی کی راہ لی۔ اور اب تک وہ خوابوں میں بھی ان مجاہدوں سے ڈرتے ہیں۔ اسی طرح کی صورت حال دنیا نے قازقستان کی جمہوریہ چیچنیا میں دیکھی جہاں مسلمانوں کی ایک جھوٹی سے تعداد نے روس کی جدید ترین اسلحہ سے لیس افواج کو لوہے کے چنے چبوا دیئے۔ اسی طرح یورپ کی مسلم جمہوریہ بوسنیا ہر زگوینا اور کشمیر اور فلسطین میں ہوا، اور ہو رہا ہے۔ اور اس کی تازہ اور حیران کن مثال جو انہی دنوں کی ہے جبکہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر رہا ہے، وہ افغانستان میں برپا ہونے والی " طالبان " کی تحریک ہے جس میں دینی مدارس کے سیدھے سادھے طلبہ کرام نے ایسا انقلاب برپا کر دکھایا کہ آج پوری دنیا اس سے حیرت زدہ اور انگشت بدنداں ہے۔ اور اس کو اسلام کا ایک زندہ معجزہ اور غیبی قوت قرار دینے کے سوا اور کوئی توجیہ اس کی ان کے پاس نہیں ہے اور نہیں ہوسکتی ۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ قَبْلَ کُل شَیْئٍ وَّبَعْدَہ ۔ فَاِنَّہ بِیَدِہٖ اَزِمّۃُ کُل شَیْئٍ ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف القائے رعب کی یہ مدد قدرت کی ایک عظیم الشان مدد ہے جس سے وہ اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ 302 فرضی خداؤں کے پجاریوں کی بےحقیقتی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔ اس بنا پر کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا ایسی چیزوں کو جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ یعنی یہ سب کچھ ان لوگوں کا خود ساختہ اور من گھڑت ہے۔ اور جن کے خدا ہی اس طرح کے فرضی اور بےبنیاد ہوں، ان میں طاقت و قوت کہاں سے آسکتی ہے ؟ وہ تو { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ } کے مصداق اور قسمت کے مارے ہوئے لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود سرے سے ہے ہی نہیں تو پھر ایسے کسی من گھڑت معبود کیلئے کوئی سند ممکن ہی کس طرح ہوسکتی ہے ؟ البتہ ایسے لوگ اس طرح کرکے شرک کے جس ہولناک جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرک لوگوں نے جن خود ساختہ اور من گھڑت چیزوں اور فرضی اور وہمی معبودوں کو خدائے پاک کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ان کے لئے نہ کوئی شہادت عقل و فطرت کے اندر موجود ہے، اور نہ خداوند قدوس کی پیدا کردہ اس کائنات اور اس کے نظام میں۔ اور نہ ہی خدا کے بھیجے ہوئے دین اور اس کے اتارے ہوئے صحیفوں میں۔ بلکہ یہ سب کچھ محض ان لوگوں کا اپنا من گھڑت اور فرض کردہ ہے جس کی حقائق کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ من کل شائبۃ من شوائب الکفر۔ 303 ظالموں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت میں ایسوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ایسے ظالموں کا۔ اور ایسے برے ٹھکانے کو ان ظالموں نے ازخود اختیار کیا ورنہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے تو اپنی رحمت بیکراں اور عنایت بےنہایت سے اس سے بچنے کا ان کیلئے پورا سامان کردیا تھا۔ اور راہ حق و صواب کو ان کیلئے پوری طرح عیاں اور روز روشن کی طرح واضح کردیا تھا۔ مگر انہوں نے اس سے اعراض ہی کیا اور " خود کردہ را علاجے نیست " کے مصداق اب یہ لوگ اپنے کئے کا مزہ ہمیشہ چکھتے رہیں گے۔ اور اس روز ان ظالموں سے کہا جائے گا { ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ } (الزمر :24) یعنی " اے ظالمو ! اب چکھتے رہو تم عذاب اور مزہ اپنی اس کمائی کا جو تم لوگ دنیا میں کرتے رہے تھے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ اس لئے کہ ایسے ظالموں اور مشرکوں کا جرم بہت بڑا اور نہایت ہولناک و سنگین ہے۔ انہوں نے حضرت حق ـجَلَّ مَجْدُہٗ ۔ جو کہ سب کا خالق ومالک اور معبود برحق ہے اس کے ساتھ انہوں نے شرک کیا اور بےحقیقت چیزوں کو اس وحدہ لاشریک کی خدائی میں شریک مانا۔ اور دوسری طرف ان لوگوں نے اس سے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوق میں سب سے اشرف مخلوق بنایا۔ لیکن یہ جب انسان ہو کر اپنے سے فروتر مخلوق کو خدا کا شریک مان کر اس کے آگے جھکتا ہے اور اس کی پوجا و پرستش کرتا ہے تو یہ گویا شاہین ہو کر کنجشک فرومایہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔ اور اس سے نہ صرف یہ کہ اپنی شاہینی صفت کھو دیتا ہے بلکہ یہ کنجشک سے بھی فرومایہ اور گھٹیا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اللہ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔