3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 3:112

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

چپکا دی گئی ان پر ذلت (و خواری) جہاں بھی یہ پائے گئے (کہیں بھی امان نہ پاسکیں گے) مگر اللہ کے عہد و پیمان سے، اور لوگوں کے عہد و پیمان سے، مستحق ہوگئے یہ لوگ اللہ کے غضب کے، اور چپکا دی گئی ان پر پستی و محتاجی، یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ یہ لوگ کفر (و انکار) کرتے تھے اللہ کی آیتوں کا، اور یہ قتل کرتے تھے (اللہ کے) نبیوں کو بغیر کسی حق کے، (اور) یہ (کفر اور قتل انبیاء) اس بناء پر کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے (اللہ کی) اور تجاوز کرتے تھے (اللہ کی مقرر کردہ حدود سے)3

233 یہود بےبہبود پر ذلت و خواری کا ٹھپہ : یعنی جس طرح کسی سکے وغیرہ پر لگا ہوا ٹھپہ اس سے دور اور جدا نہیں ہوسکتا، اسی طرح ان سے بھی یہ ذلت و رسوائی کبھی زائل نہیں ہوگی۔ رہ گئی اسرائیل کے نام سے معرض وجود میں آنے والی یہودیوں کی موجودہ ریاست، تو اول تو تاریخ اقوام پر نظر کرتے ہوئے یہ اسرائیلی ریاست نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ وحی سماوی کی حامل اور آسمانی کتابوں کی ماننے والی اقوام میں سب سے قدیم قوم یہود ہے۔ تو اس اعتبار سے چاہیئے تو یہ تھا کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ حکومتیں یہودیوں کی ہوتیں۔ مگر اس کے برعکس یہاں پر صورت حال یہ ہے کہ عیسائی جو کہ یہودیوں کے بعد آئے اور مسلمان جو ان سب سے آخر میں آئے، ان کی تو پچاس پچاس سے بھی اوپر حکومتیں دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر یہودیوں کو صدیوں بعد یہی ایک حکومت نصیب ہوسکی، جو کہ دنیا کے مجموعی نقشے کے اعتبار سے تل کے ایک دانے کے برابر بھی نہیں ہے۔ دوسرے اس لئے کہ یہ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ اور مغربی اقوام کے رحم و کرم پر قائم اور انہی کے سہارے زندہ ہے بلکہ اگر اس کو حکومت کی بجائے امریکہ و یورپ کی فوجی چھاؤنی کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ چناچہ آج بھی اگر یہ استعماری قوتیں اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں، تو دوسروں سے پہلے فلسطینی مسلمان ہی اس کی تکہ بوٹی کردیں۔ اور تیسرے اس لئے کہ یہودیوں کی یہ ریاست بھی دراصل ان کی تذلیل و تباہی اور ان کے آخری انجام کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔ انشاء اللہ العزیز ۔ چناچہ قرآن حکیم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے { فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اْلآٰخِرَۃ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا } (بنی اسرائیل۔ 104) ۔ یعنی جب ان سے متعلق دوسری مرتبہ کے وعدے کا وقت آئیگا تو ہم تم سب کو (اے یہودیو ! ) اکٹھا کر کے لائینگے۔ یہاں پر { وَعْدُ الاٰخِرَۃ } سے کیا مراد ہے ؟ تو اس بارے میں اگرچہ عام طور پر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ اس سے مراد آخرت کا وعدہ ہے، کہ وہاں ان کو اکٹھا کر کے لایا جائیگا لیکن یہ بات زیادہ قرین قیاس نہیں، کیونکہ آخرت میں تو سب ہی کو اکٹھا کر کے لایا جائیگا، نہ کہ صرف یہود کو۔ اس لئے قرین قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہود کو اسی دنیا میں ان کے آخری عذاب کیلئے اکٹھا کر کے لایا جائیگا۔ اور اغلب یہ ہے کہ موجودہ اسرائیلی ریاست ہی یہودیوں کے اسی آخری انجام کا پیش خیمہ ہے۔ چناچہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قدرت کے غیبی ہاتھ کی کارستانی سے یہودی دنیا بھر کے کونے کھدڑوں سے نکل نکل کر یہاں پہنچ رہے ہیں، اور اپنے آخری انجام کیلئے جمع ہو رہے ہیں۔ رہ گئی یہ بات کہ یہ کب ہوگا تو اس کا علم اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوسکتا کہ غیب کا علم اس وحدہ لاشریک ہی کے ساتھ خاص ہے۔ اور یوں قوموں کے فیصلے دنوں مہینوں اور سالوں میں نہیں، بلکہ صدیوں، قرنوں اور زمانوں میں بدلا کرتے ہیں، اور ویسے بھی اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے یہاں کے پیمانے اور ہیں۔ وہاں کا ایک دن ہمارے یہاں کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے { وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْف سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ } (الحج : 47) اور یوں بھی عام قاعدے کے مطابق کسی بھی پھوڑے کے آخری آپریشن سے قبل اس کا پوری طرح سے پک کر تیار ہوجانا ضروری ہوتا ہے، جبکہ اسرئیلی ریاست کو قائم ہوئے ابھی صرف پچاس برس ہی ہوئے ہیں۔ اس کے جرائم اور اس کی وحشیت کا پیمانہ بھرتا جا رہا ہے۔ نہتے فلسطینیوں پر ان کے وحشیانہ مظالم کا سلسلہ برابر جا رہا ہے۔ کیا عجب کہ پچھلے چار پانچ سال سے مقبوضہ فلسطین میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کے خلاف سنگ باری یعنی پتھروں سے مقابلہ کرنے کی جو تحریک " الِاْنتِفَاضۃ الْفَلَسطِینِیّۃ " کے نام سے چل رہی ہے، وہی یہودیوں کے اس آخری انجام کا آغاز ہو۔ چناچہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہودی فوج ان نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہر طرح کا اسلحہ استعمال کرنے اور ہر قسم کا ظلم و تشددروا رکھنے کے باوجود نہ ان کو زیر کرسکی، اور نہ ان کے جذبہ حریت کو دبا سکی۔ اسرائیلی فوج اپنی بکتر بند گاڑیوں میں بند ہونے کے باوجود فلسطینی شاہینوں کے ان پتھروں سے ایسی ڈرتی اور اس طرح بھاگتی ہے جیسے وہ پتھر نہیں کوئی توپ کے گولے ہوں، جو حق اور صدق کے ان دشمنوں پر برس رہے ہوں۔ اور اس طرح { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ } کا ایک نمونہ نظر آتا ہے ۔ اللہ ظالموں کا بیڑا غرق کرے ۔ آمین ثم آمین۔ سو غلبہ اہل ایمان ہی کا ہے بشرطیکہ وہ صحیح معنوں میں اہل ایمان ہوں۔ 234 حَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ سے مقصود و مراد : سو " حَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ " یعنی اللہ کی رسی اور اس کے عہدو پیمان سے مراد یہ ہے کہ یہ جذیہ دینا قبول کرلیں، اور ان کو اس عقد ذمہ کی بناء پر پناہ مل جائے، جبکہ لوگوں کے عہد و پیمان (حَبْلٍ مِّنَ النَّاس) سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے ان کو جان و مال کی حفاظت کا عہد و پیمان مل جائے (ابن کثیر، وغیرہ) ۔ سو آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ اسرائیلی یہودی استعماری قوتوں کے سہارے اور ان ہی کی شہہ پر جی رہے ہیں، اور ان کی یہ نام نہاد حکومت انہی قوتوں کی مہیا کردہ بیساکھیوں ہی پر قائم ہے۔ ورنہ یہ کبھی کی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی، جیسا کہ اوپر کے حاشئے میں ابھی گزارا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اگر کہیں قائم ہیں تو اپنی سطوت اور عزت و قوت کے اعتماد پر نہیں بلکہ یا تو اللہ والوں کے کسی معاہدے کے اعتماد اور سہارے پر۔ یا دوسرے کچھ لوگوں اور اڑوس پڑوس کے کچھ گروہوں اور گروپوں کے اعتماد اور سہارے پر قائم ہوں گے اور بس۔ عہدنبوی کے زمانے میں بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی ان کا یہی حال ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ آج بھی یہ لوگ دوسروں کے سہارے جی رہے ہیں جیسا کہ ان کا حال سب کے سامنے ہے۔ 235 یہود بےبہبود کے ہولناک انجام کا اصل سبب : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کے اس ہولناک انجام کی جو کہ عبارت ہے ان کی دنیوی ذلت و خواری، اور آخرت کے دائمی عذاب سے۔ اصل سبب اور عِلَّۃُ الْعِلَّۃ یہ ہے کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے تھے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معصیت و برائی، اور اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی مقرر فرمودہ حدود سے تجاوز کرنے کی روش انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ اسی لئے حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص آداب کی پرواہ نہیں کرتا، وہ سنتوں کے ترک کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اور جو ترک سنت کا ارتکاب کرتا ہے، وہ ترک فرائض تک جا پہنچتا ہے۔ اور جو ترک فرائض کا ارتکاب کرتا ہے، وہ دین کے استحقار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور اس طرح وہ بالآخر کفر کے اس مہیب اندھیرے میں جا گرتا ہے جس کا انجام دوزخ کا ہولناک گڑھا ہوتا ہے (تفسیر محاسن التاویل للقاسمی (رح) ) ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آداب و سنن سے شروع ہونے والی انسان کی غلط روش اس کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی نافرمانی اور حدود الہی سے تجاوز کی عادت نے ان لوگوں کا بیڑا غرق کردیا کہ اسی چیز نے ان کو کفر اور قتل انبیاء جیسے ہولناک جرائم پر آمادہ کیا اور آخر کار ان کے ہی جرائم ان کے لیے خدا کے غضب کا باعث بنے اور ان پر ذلت ومسکنت تھوپ دی گئی اور یہ ہمیشہ کے لئے ملعون ور ذلیل و خوار ہو کر رہے ۔ والعیاذ باللہ بالعظیم من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف۔
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ سب برابر نہیں، (بلکہ) اہل کتاب میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو کہ قائم ہیں (راہ حق و صداقت پر) جو تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی4 رات کی گھڑیوں میں (اٹھ اٹھ کر) اور وہ (اسی کے حضور) سجدہ ریز ہوتے ہیں1

ٔ 236 قرآن حکیم کے عدل و انصاف کا ایک نمونہ ومظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب لوگ ایک برابر ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسی اور ایسی اچھی صفتوں والے بھی ہیں۔ سو یہ قرآن حکیم کی حق و صداقت سے بھری اور عدل و انصاف سے لبریز تعلیمات کا ایک عمدہ نمونہ اور روشن مثال ہے کہ یہود بےبہبود کی اس سیاہ تاریخ کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان میں سے ایسے حق پرستوں کا ذکر بھی قطعی صراحت و وضاحت کے ساتھ فرمایا جو کہ راہ حق و صداقت پر قائم ہیں۔ اور اس طرح اس سے یہ ایک بنیادی درس بھی دے دیا کہ کوئی بھی قوم ایسی نہیں ہوتی جس کے سب ہی افراد اچھے، یا سب ہی برے ہوں۔ بلکہ ہر قوم میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ لہٰذا ایسے قوم پرست قسم کے لوگوں کا یہ رویہ غلط اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، جو اپنی پوری قوم قبیلے کو ہر لحاظ سے اچھا اور صحیح سمجھتے ہیں، اور ان کے عیبوں کو بھی ہنر گردانتے ہیں۔ اور دوسروں کی خوبی کا بھی اقرار نہیں کرتے۔ سو ہر جگہ عدل و انصاف ہی کو ملحوظ رکھنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویُرید ۔ اور ایسے حق پرستوں ہی کو قبول حق کی توفیق نصیب ہوئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 3:114

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

جو (ٹھیک ٹھیک) ایمان رکھتے ہیں اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، اور وہ تعلیم دیتے ہیں (لوگوں کو) اچھائی کی، اور (ان کو) روکتے ہیں برائی سے، اور دوڑتے ہیں نیک کاموں میں سبقت کرتے ہوئے، اور ایسے ہی لوگ (نیک بخت) اور شائستہ لوگوں میں سے ہوتے ہیں2

237 نیک بخت لوگوں کی صفات اور ان کے انجام کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو ایسی اور ایسی عمدہ صفات و خصال سے بہرہ مند و مالامال ہیں۔ سو انہی کو حق و صداقت کے قبول کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ایسے ہی لوگ ذلت و خواری اور انکار ِحق کے برے انجام سے محفوظ رہتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ حضرات جن میں سے کچھ تو ایمان لاچکے تھے اور کچھ نے اگرچہ ابھی تک ایمان کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن وہ اندر سے ایمان لاچکے تھے۔ روایات کے مطابق ان آیات کریمہ کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں اہل کتاب کے نیک بخت اور سعادتمند لوگوں کی خصال حمیدہ اور صفات جمیلہ کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے شب بیدار تہجد گزار اللہ اور یوم قیامت پر ایمان رکھنے والے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ سو انہی لوگوں کو قبول حق کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی بس۔ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے عمل و کردار سے ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحبُّ ویُریْدُ ۔ جتنا کسی کا ایمان و یقین سچا پکا اور ان کا عمل و کردار درست ہوگا اتنا ہی اس کا درجہ و مرتبہ بڑا ہوگا۔
Ayah 3:115

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

یہ جو بھی نیکی کریں گے، اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پوری طرح جانتا ہے پرہیزگاروں کو3

238 خوش خصال لوگوں کے لیے خاص خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ جو بھی کوئی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی بلکہ ایسے خوش نصیب حضرات کو تو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے { اُولٓئِکَ یُؤْتُوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتِیْن بِمَا صَبَرُوْا } الآیۃ (القصص 54) اور نبیٔ امُّیّ ۔ عَلَیْہ الصّٰلوۃُ والتسلیم ۔ نے بھی احادیث صحیحہ میں اس کی خبر دی ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ صدق دل سے نبی آخر الزماں پر ایمان لائیں گے ان کو دوہرے اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ بہرکیف ایسے صادق الایمان اور نیک بخت لوگوں کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ صالح اور متقی لوگ ہیں۔ یہ جو بھی نیکی کریں گے ان کو اس کے اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہ اسلام میں آجانے کے بعد اپنی ان نیکیوں کا بھی پورا پورا اجر پائیں گے جو انہوں نے اسلام سے پہلے کی تھیں۔ انہی حضرات کا ذکر آل عمران کی آیت 199 میں فرمایا گیا ہے۔ سو دین حق کو اپنانا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سعادت دارین سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 239 اللہ پرہیزگاروں کو پوری طرح جانتا ہے : اس لئے وہ اپنی رحمت بےنہایت اور کرم بےپایاں سے ہر کسی کو اس کے اس اجر سے نوازے گا، جس کا وہ اپنے تقوی کی بنا پر مستحق ہوگا۔ کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی کہ وہ سب کو پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تقویٰ سے سرفرازی محض زبانی کلامی دعو وں یا صرف ظاہر داریوں سے نصیب نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کو صدق دل سے اور صحیح معنوں میں اپنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ معاملہ اس معبود برحق سے ہے جو دلوں کے احوال اور ان میں چھپی نیتوں اور مخفی ارادوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللّٰھُمّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرضٰی وَکَمَا تُحِبُّ وَترْضٰی بِکُل حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَال وَفِیْ کُل مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِن فِی الْحَیَاۃِ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 3:116

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

اس کے برعکس جن لوگوں نے (اپنے مال و اولاد کے گھمنڈ میں) کفر کیا، تو بیشک ان کو اللہ (کی گرفت و پکڑ) کے مقابلے میں نہ ان کے مال کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ان کی اولادیں، یہ لوگ یار ہیں دوزخ کے، جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا4

240 کافروں کا انجام خلود فی النار : ان کے اپنے اس کفر کی بناء پر، جس کو انہوں نے خود اپنے ارادہ و اختیار سے اپنایا تھا، اور مرتے دم تک اس کو گلے لگائے رکھا تھا۔ اور ایسے لوگ چونکہ دنیا سے ایمان سے محرومی اور کفر کی ظلمت کے ساتھ ہی رخصت ہوئے اس لیے ان کو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں ہی رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی اس دنیا میں مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم الْعَزِیْز الْغَفَّار -
Ayah 3:117

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

مثال اس کی جو یہ (کافر) لوگ خرچ کرتے ہیں اس دنیا کی زندگی میں، ایسی ہے جیسے کہ ایک ہوا ہو جس میں پالا (سخت سردی) ہو، جو آپڑے ایسے لوگوں کی کسی کھیتی پر، جنہوں نے ظلم ڈھایا ہو اپنی جانوں پر، اور وہ ہلاک و برباد کر کے رکھ دے اس کھیتی کو، اور اللہ (سبحانہ وتعالیٰ ) نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، مگر یہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے رہتے تھے5

241 اہل کفر و باطل کے خرچ کی آخرت میں کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں : سو اس سے کافروں کے اس خرچ و انفاق کی حقیقت واضح فرما دی گئی جس کو وہ اپنے طور پر نیکی اور خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔ اپنے طور پر یہ لوگ اس کو نیکی اور کمال سمجھتے ہیں { وَہُمْ یَحْسَبُوْنََ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } الآیۃ (الکہف۔ 104) جیسے آج کل اہل کفر و باطل مختلف طریقوں سے اور مختلف کاموں اور پروگراموں پر، اپنے مال خرچ کرتے، اور دولت لٹاتے ہیں۔ ہسپتال بناتے، خیراتی ادارے قائم کرتے اور غریبوں محتاجوں میں روٹی کپڑا وغیرہ محتلف اشیاء تقسیم کرتے، اور اپنے طور پر مست و مگن ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں۔ اور ہم نے سب کچھ پا لیا۔ مگر ایمان سے محرومی کے باعث ان لوگوں کو ان کے ان اعمال کا آخرت میں کوئی بدلہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ وہاں اجرو ثواب اور صلہ و بدلہ پانے کیلئے اولین شرط ایمان سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے ایسے لوگ محروم ہوتے ہیں۔ البتہ ان اعمال کا بدلہ ایسے لوگوں کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے، جیسا کہ مختلف نصوص میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مثلاً سورة ھود کی آیت نمبر میں 15 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ - 242 کفر و شرک کا پالا بڑا ہولناک اور تباہ کن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں اور مشرکوں کے خرچ کی مثال ایسے ہے جیسے ایک ہوا ہو جس میں سخت قسم کا پالا ہو۔ جو ایسے لوگوں کی کھیتی پر آپڑے جنہوں نے ظلم کیا ہو اپنی جانوں پر اور وہ اس کھیتی کو ہلاک اور برباد کر کے رکھ دے۔ سو یہی حال ان کافروں کا ہے، جو اپنے طور پر، اور اپنے زعم و گمان کے مطابق، نیکی کے ان مختلف کاموں اور مختلف میدانوں میں اپنا مال و دولت لگاتے اور خرچ کرتے ہیں۔ اور اس امید پر ہیں کہ یہ انہیں آخرت میں کام آئے گا، مگر کفر و شرک کے تباہ کن پالے اور اس کی ٹھنڈ نے ان کی اس کھیتی اور زندگی بھر کے کئے کرائے کو تباہ و برباد کردیا۔ اور کل جب یہ فیصلے کے اس دن میں وہاں پہنچیں گے، تو ان کے کام آنے کو وہاں کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہوگا۔ اور اس وقت ان کو یاس و حسرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و شرک کی آگ ایک ایسی ہولناک ٹھنڈی آگ ہے، جو زندگی بھر کی ساری محنت اور کمائی کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے۔ کفر و شرک کے مارے اپنے خود ساختہ اور من گھڑت دینداری کی نمائش کے لئے جو کچھ خرچ کرتے ہیں یہ ان کو آخرت میں کچھ بھی کام نہیں آسکے گا۔ یہ محض ایک سراب اور سراسر دھوکہ ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل چیز ایمان صادق اور یقین کامل کی دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و ہمکنار کرتی ہے ۔ والحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ ۔ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ - 243 حق سے منہ موڑنے والے ظالم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق سے منہ موڑنے والے ظالم ہیں جو خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف سے عطا فرمودہ نور ہدایت سے منہ موڑ کر خود اپنے آپکو اس ہولناک انجام کے حوالے کیا۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنا دراصل خود اپنی ہی جان پر ظلم کرنا ہے اور اس کا بھگتان ایسے لوگوں کو خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ لیکن آج ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو زندگی کی قدر و قیمت اسی صورت میں ہے اور راہ حق و ہدایت اور طریق فوز و فلاح سے سرفرازی اسی وقت میسر آسکتی ہے جب کہ دین حق کی تعلیمات حق و ہدایت کو صدق دل سے اپنایا جائے۔ ورنہ سرا سر دھوکہ اور نرا سراب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، تم اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری خرابی (اور بربادی) میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے، وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم لوگ تکلیف اور (نقصان) ہی میں مبتلا رہو، ان کے دلوں کا بغض ان کے مونہوں سے نکلا پڑتا ہے، اور جو کچھ انہوں نے اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، ہم نے تو کھول کر بیان کردیں تمہارے لئے (حقیقت سے آگاہ کرنے والی) نشانیاں (سو تم احتیاط سے کام لو) اگر تم میں عقل رکھتے ہو1

244 اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو رازدار بنانے کی ممانعت : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رازدار نہیں بنانا۔ وہ تمہاری خرابی اور بربادی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم لوگ تکلیف اور نقصان ہی میں مبتلا رہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انکو جب بھی کوئی موقع میسر آئے گا وہ تم کو نقصان ہی پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے ان کو کبھی اپنا رفیق و راز دار نہ بنانا کہ وہ جب تمہارے دین کے دشمن ہیں تو تم سے بھی اپنی دشمنی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ اس لیے ان سے ہمیشہ محتاط اور چوکنا رہنا۔ اور تمہارے خیر خواہ وہی ہوسکتے ہیں جو تمہارے دین و ایمان میں تمہارے شریک ہوں۔ اور جو تمہارے دین کے دشمن ہوں وہ تمہارے بھی دشمن ہو نگے لیکن افسوس کہ آج مسلمان کی حالت اس سلسلے میں بھی نہایت افسوسناک ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ غیروں کو اپنا دوست اور راز دار بنائے ہوئے ہیں بلکہ ان میں کتنے ہی ایسے ہیں جو غیروں کا آلہ کار بن کر خود اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچار ہے ہیں اور دین حق کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ خاص کر وہ لوگ جن کا تعلق حکمران طبقے سے ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ جیسا کہ اس کے نمونے ہم اپنی آنکھوں سے جا بجا دیکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 245 دوست اور دشمن کے درمیان فرق وتمیز کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں کھول کر بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ سو یہ عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ انسان دوست اور دشمن کے درمیان فرق وتمیز کرے کہ انسان کی بہتری بھی اسی میں ہے اور عقل و خرد کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان ایسے دشمنوں سے ہوشیار اور محتاط رہے، اور اپنا ایسا کوئی راز ان کے ہاتھ نہ لگنے دے جو کل اس کے لئے مصیبت اور نقصان کا باعث بن جائے۔ اور وہ دوست اور دشمن کے درمیان فرق کرے اور اس بات کو سوچے اور سمجھے کہ دوست کون ہوسکتا ہے اور دشمن کون ؟ اور رازداں کس کو بنانا چاہیئے " بطانۃ " اصل میں لحاف وغیرہ کے استر کو کہتے ہیں اور اس سے مراد آدمی کے اہل و عیال اور اس کے خواص اور محرم راز ہوتے ہیں۔ اسی کو " ولیجہ " کہا جاتا ہے۔ سو اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنے سوا دوسروں کو اپنا رازدار نہ بنائیں کہ ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ وہ تو ایمان والوں سے بغض وعناد ہی رکھتے ہیں۔ تو پھر ایسوں کو " ولیجۃ " اور رازدار بنانے کی کیا تک اور کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟۔
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

ہاں (تم لوگ اتنے سادہ لوح اور غفلت شعار کیوں ہو کہ) تم تو ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، حالانکہ تم لوگ ایمان رکھتے ہو تمام (آسمانی) کتابوں پر، اور ان کا حال یہ ہے کہ جب تم سے ملنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، لیکن جب وہ الگ ہوتے ہیں، تو تم پر غیظ (و غضب) کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں، کہو کہ جل مرو تم اپنے اس غیظ (و غضب) میں، بیشک اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی باتوں تک کو2

246 قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کا ایک اور ثبوت، دلوں کے حال کا بیان : ۔ یہ قرآن حکیم کی حقانیت اور اس کی اعجاز بیانی کا ایک اور ثبوت ہے کہ محبت رکھنے یا نہ رکھنے کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے، اور دلوں کا حال کوئی نہیں جان سکتا سوائے خود محبت رکھنے والے کے یا اس کے جو علام الغیوب ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے ثابت ہوا کہ یہ کلام انسانی کلام نہیں بلکہ انسانوں کے اس خالق ومالک کا کلام ہے جو کہ دلوں کے رازوں اور بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے اور اس نے وحی کے ذریعے اس سے اپنے پیغمبر کو سرفراز فرمایا ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالیٰ ۔ { ہَا اَنْتُمْ } میں " ہا " حرف تنبیہ ہے۔ اور عربی زبان و استعمال میں یہ حرف تنبیہ کی بات پر زور دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے " ہَا اَنَا ذَا "، " ہاں میں یہ ہوں "۔ سو اس سے فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم لوگ ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے۔ تم پوری کتاب پر ایمان رکھتے ہو مگر وہ نہیں رکھتے۔ تو ایسے میں تمہارے لئے یہ کس طرح درست ہوگا کہ تم ان سے محبت رکھو، اور ان کو اپنا " بطانہ " اور رازداں بنا لو ؟ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کل سوء وانحراف۔ 247 مومن کا ایمان سب آسمانی کتابوں پر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مومن ہر آسمانی کتاب پر ایمان رکھتا ہے خواہ وہ کسی پر بھی نازل ہوئی ہو اور کبھی بھی نازل ہوئی ہو کہ مومن صادق سب ہی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتا ہے، جبکہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمہاری کتاب پر اس کی صداقت و حقانیت واضح ہوجانے کے باوجود اس پر ایمان نہیں لاتے تو ایسی صورت میں ان لوگوں سے تمہاری دلی دوستی اور محبت کا سوال ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ اور تم ان کو اپنا " بطانہ " اور رازدار کس طرح بنا سکتے ہو ؟ سو غیروں کو اپنا راز دار بنانا تمہاری غیرت ایمانی کے بھی خلاف ہے۔ اور تمہارے دینی اور ایمانی تقاضوں اور مفادات کے بھی۔ پس تم لوگوں کو اے ایمان والو اس بارے محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 248 اہل کفر و باطل کے جوش عداوت اور حسد کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جب علیحدہ ہوتے ہیں تو تم پر غیظ و غضب کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں۔ یعنی وہ تمہارے خلاف اپنی انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں، جوش عداوت اور حسد و جلن میں، کہ یہ لوگ بڑھتے اور پھیلتے پھولتے جا رہے ہیں۔ سو یہ قرآن حکیم کا ایک اور معجزہ ہے کہ ان لوگوں کے ظاہر و باطن دونوں کی ایسی باتوں کو یکساں طور پر اور پوری صراحت و وضاحت سے بیان فرمادیا، حالانکہ ان کے گھر کی اور تنہائی کی ان باتوں کو ان کے سوا اور کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں، بلکہ اس ذات اقدس و اعلیٰ کا کلام ہے جو لوگوں کے ظاہر و باطن سے یکساں طور پر واقف و آگاہ ہے، جو دلوں کے بھیدوں کو جاننے والی ذات ہے، اور جس کی شان ہے " لاتَخْفٰی عَلَیْہ خَافِیَۃٌ " مزید معجزہ یہ کہ یہ اعداء و منافقین اس کا انکار بھی نہیں کرسکے کہ ہم تنہائی میں ایسی باتیں نہیں کرتے ۔ فَسُبْحَانَہٗ مَا اَعْظَمَ شَانُہٗ ۔ سو اہل کتاب کی یہ باتیں یاد کرا کر مسلمانوں کو غیرت دلائی گئی کہ جن لوگوں کے حالات اور کرتوت یہ اور یہ ہیں اور جن کی تم لوگوں سے دشمنی کا یہ عالم ہے ان کے ساتھ تمہاری دوستی آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ سو ان سے دوستی حق اور حقیقت کے تقاضوں کے قطعا خلاف ہے۔ سو ان سے محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 249 اللہ تعالیٰ کے کمال علم وآگہی کا ذکر و حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو بھی جانتا ہے۔ سو اس سے تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی۔ اپنے کئے کا بھگتان تمہیں بہرحال بھگتنا ہوگا جو کہ اپنی کامل شکل میں آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جو کہ " دارالجزاء " ہے اور جہاں پر انسان کو اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ ملے گا، مگر تمہارے لئے نقد سزا یہ ہے کہ تم اپنی حسد کی اس ٹھنڈی آگ میں ابھی سے جلتے مرتے رہو، جو تم لوگوں نے حق اور اہل حق کے خلاف خود ہی اپنے سینوں میں جلا رکھی ہے۔ سو حاسد لوگوں کو ان کے حسد کی ایک نقد سزا یہ ملتی ہے کہ وہ حسد کی اس ٹھنڈی آگ میں خود ہی جلتے رہتے ہیں جو انہوں نے اپنے باطن میں خود جلا رکھی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اہل بدعت وغیرہ اہل زیع و ضلال کے ان خیالات فاسدہ اور مزاعم کا سدہ کی بھی جڑنکل جاتی ہے جو اس طرح کے لوگ اس ذات اقدس و اعلیٰ کو دنیاوی حکمرانوں اور بادشاہوں پر قیاس کر کے طرح طرح کے واسطے گھڑتے اور شرکیہ عقائد اپناتے ہیں۔ بھلا جو ذات اقدس و اعلیٰ دلوں کے رازوں اور بھیدوں سے بھی پوری طرح مطلع اور آگاہ ہو، اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرنا اور اس بنا پر اس کے لئے خود ساختہ وسیلے اور واسطے گھڑنا آخرکس طرح اور کیونکر درست ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ للہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 3:120–122

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

(نیز ان کا حال یہ ہے کہ) اگر تمہیں کوئی اچھائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ لوگ خوش ہوتے ہیں، اور (یاد رکھو کہ) اگر تم صبر و (استقامت) سے کام لیتے رہے، اور تم نے تقوٰی (و پرہیزگاری) کو اپنائے رکھا، تو ان کے مکر (و فریب) سے تمہارا کچھ نہیں بگڑے گا، بیشک اللہ (اپنی قدرت کاملہ اور علم شامل سے) پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے، ان کے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کرتے ہیں3

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب آپ (اے پیغمبر ! ) صبح کے وقت (جہاد و قتال کی غرض سے) اپنے گھر سے نکلے تھے (اور احد کے میدان میں) مسلمانوں کو بٹھا رہے تھے لڑائی کے مورچوں پر، اور اللہ بڑا ہی سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرو کہ) جب تم میں سے (اے مسلمانو ! ) دو گروہوں نے ارادہ کرلیا کہ وہ بزدلی دکھائیں، اور اللہ مددگار تھا ان دونوں کا، اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو4

250 حاسدوں کے حسد کا ایک اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو کوئی اچھائی نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں۔ سو یہ ان کے حسد و عداوت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ اور یہاں بھی وہی حقیقت روشن و فروزاں ہے کہ ان کے دلوں کے حال کی خبر دی گئی ہے، کیونکہ خوش ہونے اور برا لگنے کا تعلق اصل میں دل ہی سے ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم کے اس بیان کا وہ لوگ انکار بھی نہیں کرسکے۔ سو یہ ایک اور معجزہ ہے اس کتاب حکیم کا کہ یہ دلوں کے حال اور مخفی اسرار کی اس طرح خبر دیتی ہے۔ پس یہ اس مالک مطلق کا کلام حق ترجمان ہے جو دلوں کے چھپے اسرار کو بھی پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس سے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جب ان لوگوں کا تم سے دشمنی کا یہ عالم ہے کہ اگر تم کو کوئی اچھی حالت نصیب ہو تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ خوش ہوتے ہیں تو پھر ایسوں سے تمہاری دوستی اور ان کو اپنا رازدار بنانا تمہارے لئے کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ 251 صبر وتقویٰ وسیلہ حفاظت و نجات : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر وتقوی ضرر رسانی سے بچنے کے دو عظیم الشان وسیلے ہیں : سبحان اللہ صبر وتقویٰ کے یہ دو ہتھیار کس قدر عظیم الشان ہتھیار ہیں کہ نہ انکے اٹھانے اور لانے لیجانے کا کوئی بوجھ، نہ ان کیلئے روپیہ پیسہ اور خریدو فروخت کا کوئی سوال، لیکن یہ کارگر اتنے اور مفید اس قدر کہ اتنے بڑی عداوت اور دشمنی رکھنے والے دشمن کا مکرو فریب بھی اہل حق کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْألُ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْ تُشَرِّفَنَا بِکَامِل الصَّبْر وَ التَّقْوٰی فِیْ کُلّ حَالٍ مِّنَ الاَحْوَال وَبِکُلّ مَوْطِنٍ مِّنْ مَوَاطِن الْحَیَاۃ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم دنیا کو کس قدر عظیم الشان خزانوں سے نوازتا ہے لیکن دنیا ہے کہ اس سے غافل و بیخبر اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دشمن کی ضر رسانی سے بچنے کے لئے صبر اور تقویٰ دو عظیم الشان ذریعے اور وسیلے ہیں ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْقِ ۔ پس تم لوگ ہمیشہ انہی کو اپنائے اور اپنے لیے حرز جان بنائے رکھو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 252 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے احاطہ علم وقدرت سے کچھ بھی باہر نہیں ہوسکتا : پس نہ یہ لوگ اس کے دائرہ علم وقدرت سے خارج ہوسکتے ہیں، اور نہ ہی اس کی گرفت و پکڑ سے نکل کر کہیں بھاگ سکتے ہیں۔ سو ایسے میں ہر کوئی خود دیکھ لے اور اپنے بارے میں خود سوچ لے کہ وہ کیا کررہا ہے، اور اپنے رب کے ساتھ اس کا معاملہ کیسا رہے گا ؟ کیونکہ اس نے بہرحال اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جو اب دہی کرنی اور اس کا صلہ اور بدلہ پانا ہے۔ پس یہ لوگ جو چاہیں حق اور اہل حق کے خلاف چل رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت سے نہ مخفی ہیں اور نہ ہی اس سے خارج۔ پس اس ارشاد میں ایک طرف تو منکرین کے لئے تہدید اور دھمکی ہے کہ ان کو حق اور اہل حق کے خلاف اپنائی جانے والی ان چالوں کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور دوسری طرف اس میں اہل حق کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ تم لوگ ان کی ان چالوں سے گھبراؤ نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور صبر وتقوی کے وسیلوں کو اپنائے رکھو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت کے مورد بن سکو۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور یقینا اللہ مدد فرما چکا ہے تمہاری (اس سے پہلے) بدر کے مقام پر، جب کہ تم (بالکل) کمزور تھے1 سو ڈرتے (اور بچتے) رہو تم لوگ اللہ (کی ناراضگی و نافرمانی) سے، تاکہ تم (اس کے) شکر گزار بن سکو

257 لفظ " اَذِلَّۃٌ " کا معنیٰ و مفہوم اور ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ : " اَذِلَّۃٌ " ذلیل کی جمع ہے، جس کے اصل معنی کمزور و ناتواں کے ہیں، اور ذلیل کا لفظ اپنے اصل مفہوم اور لغوی معنی کے اعتبار سے اس معنی کیلئے موضوع نہیں جس کے لئے یہ ہمارے محاورے اور معاشرے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اہل بدعت نے حضرت شاہ اسماعیل شہید (رح) کے خلاف ایک موقع پر اس لفظ یعنی " اَذِلَۃ " کے استعمال کی بناء پر جو الزامات کا ایک طوفان بپا کیا ہے، وہ خود ان لوگوں کی اپنی جہالت اور لغت سے بیخبر ی کی دلیل ہے۔ ورنہ ان معترضین سے کوئی پوچھے کہ کیا تم لوگ یہاں پر یعنی اس آیت کریمہ میں استعمال ہونے والے اس لفظ کے وہی معنی مراد لو گے جو کہ ہمارے عام محاورے میں سمجھے جاتے ہیں ؟ اور کیا تم لوگ یہاں بھی وہی اعتراضات دہراؤ گے جو تم نے حضرت شاہ شہید (رح) پر کئے ہیں۔ اور تم خود بتاؤ کہ حضرات صحابہ کرام ۔ رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ سے متعلق اس آیت کریمہ میں وارد اس لفظ کے استعمال کو تم کس معنی و مفہوم میں لو گے ؟ اور پھر بتاؤ کہ حضرت شاہ شہید (رح) نے کیا جرم کیا جو تم لوگوں نے ان کے خلاف اس قدر طوفان بدتمیزی بپا کیا ؟ بہرکیف لفظ " ذلیل " کا اصل اور حقیقی معنی وہ نہیں جو ہمارے یہاں سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا اصل معنی کمزور و ناتواں ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ 258 شکر منعم وسیلہ سرفرازی ۔ وباللہ التوفیق : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری وسیلہ سرفرازی ہے۔ اور اس منعم حقیقی اور وہّاب مطلق کی شکر گزاری اس کی نعمتوں سے مزید ازمزید سرفرازی کا ذریعہ اور سبب ہے۔ سو اس طرح اس غنی مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی شکرگزاری سے خود تم ہی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا، کہ شکرگزاری کی صفت ہی وہ صفت ہے جس سے نعمتوں میں برکت آتی، بڑھوتری ہوتی اور ان کی حفاظت ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے { وَاِذْ تَأذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد } (ابراہیم۔ 7) یعنی وہ وقت یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب تمہارے رب نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر تم لوگ شکر ادا کرو گے تو میں تم کو بڑا کر دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو یاد رکھو کہ پھر میرا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہے " ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الّذِی لا اِلٰہُ الاَّہُوَ-
Ayah 3:124

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرو کہ) جب آپ (اے پیغمبر ! ) اہل ایمان سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہیں کافی نہیں یہ بات کہ تمہارا رب تمہاری مدد فرمائے تین ہزار ایسے فرشتوں سے جو کہ (اسی غرض کیلئے) اتارے گئے ہیں2

259 فرشتوں کی مدد کا وعدہ و خوشخبری : یہاں پر منزلین کے لفظ سے یہ واضح فرما دیا کیا کہ یہ فرشتے ان فرشتوں میں سے نہیں ہوں گے جو کہ پہلے سے زمین پر موجود ہیں بلکہ یہ فرشتوں کا وہ خاص لشکر ہوگا جس کو اسی غرض کیلئے آسمان سے اتارا جائے گا، اور ان کو خاص تمہاری مدد کیلئے بھیجا جائے گا۔ سو جب صدق و اخلاص پورا ہو اور اللہ پر بھروسہ و اعتماد بھی کامل ہو تو اللہ ایسے ہی اپنی غیبی مدد سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " مسومین "، " سَوْمہ " یا " سمْہ " سے ماخوذ و مشق ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔ سو فرشتوں کے لئے اس صفت کے ذکر وبیان سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ ان فرشتوں کو اس مہم میں شرکت اور اہل ایمان کی مدد کے لئے بطور خاص اتارا گیا ہوگا اور وہ اپنے اوپر کچھ خاص نشان اور بیج لگائے ہوئے ہوں گے جو فوج کی مختلف یونٹوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اہل بدر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی امداد کا انتظام فرمایا گیا۔ اور اللہ ایسے ہی نوازتا ہے اپنے بندوں کو ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 3:125

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں کیوں نہیں، اگر تم ثابت قدم رہے، اور تم تقوٰی (وپر ہیزگاری) پر قائم رہے، اور وہ لوگ تم پر یکبارگی حملہ آور ہوگئے، تو تمہارا رب تمہاری مدد فرمائے گا، پانچ ہزار ایسے فرشتوں سے جو کہ خاص نشانوں والے ہوں گے

260 اہل ایمان کیلئے فرشتوں کی خصوصی فوج کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ثابت قدم رہے اور تم تقوی و پرہیزگاری کی روش پر قائم رہے اور وہ لوگ تم لوگوں پر یکبارگی حملہ آور ہوگیے تو تمہارا رب تمہاری مدد فرمائے گا پانچ ہزار ایسے فرشتوں سے جو خاص نشانوں والے ہوں گے۔ یعنی ایسے خاص نشانیوں والے جن سے ظاہرہو گا کہ یہ فرشتوں کا خاص لشکر ہے جو تمہاری مدد کیلئے بھیجا جا رہا ہے، اس لئے وہ خاص نشانات والے فرشتے ہوں گے، جس طرح کہ مختلف فوجی یونٹوں کے مختلف نشانات ہوتے ہیں، جن سے ان کی پہچان ہوتی ہے۔ اسی طرح ملائکہء کرام کے اس خاص لشکر کے بھی خاص نشانات ہوں گے جو تمہاری مدد کیلئے بھیجے جائیں گے۔ سو اہل ایمان جب اپنے خالق ومالک کے ساتھ تعلق صحیح رکھتے ہیں، اپنے دل کا بھروسہ و اعتمادبھی اسی وحدہ لاشریک پر رکھتے ہیں اور اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضے صحیح طور پر پورے کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے ایسے ہی خاص انعامات سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 3:126

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس (امداد) کو بھی اس نے محض اس لئے مقرر (اور بیان) فرما دیا تاکہ خوشخبری ہو تمہارے لئے، اور (اس لئے کہ) تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمہارے دل، ورنہ (حقیقت یہ ہے کہ فتح و) نصرت اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، جو کہ بڑا ہی زبردست (و غالب، اور) نہایت ہی حکمت والا ہے3

261 اللہ کی مدد ظاہری اسباب و وسائل کی محتاج نہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی مدد نہ ان ظاہری اسباب و وسائل کی محتاج ہے اور نہ ہی ان پر موقوف۔ وہ جیسے چاہے اپنی عزت وقدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے مدد فرمائے، مگر انسان چونکہ طبعی طور پر ظاہری اسباب کا عادی اور محسوسات کا خوگر ہے، اس لئے اس نے تمہاری مدد کیلئے یہ ظاہری طریقہ اختیار فرمایا، تاکہ اس سے تمہارے دلوں کے اطمینان کا سامان ہوسکے، ورنہ مدد اصل میں اسی عزیز و حکیم خداوند قدوس ہی کی مدد ہے، جو ان اسباب و وسائل کے واسطے کے بغیر بھی جس طرح چاہے مدد فرما سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہ عزیز اور غالب ہے جس کو چاہے اور جیسے چاہے اپنی نصرت و امداد اور فتح و غلبہ سے سرفراز فرمائے۔ لیکن وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے جو کچھ کرتا ہے، نہایت حکمت سے کرتا ہے۔ اس کا کوئی فعل بھی حکمت اور اس کے تقاضوں سے خالی نہیں ہوتا ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا -
Ayahs 3:127–128

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(اور ایسا اس غالب و حکیم مطلق نے اس لئے کیا کہ) تاکہ وہ جڑ (بنیاد) کاٹ دے کافروں کے ایک گروہ کی، (اور ان کے کبر و غرور کی) یا ان کو ایسا ذلیل و خوار کردے کہ وہ لوٹیں ناکام (و نامراد) ہو کر

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں (اے پیغمبر ! آپ اس کو اللہ ہی کے حوالے کردیں) وہ چاہے ان کو معاف کرے، یا سزا دے، بیشک یہ لوگ پکے ظالم (اور مجرم) ہیں4

262 کافروں کے ایک گروہ کی بیخ کنی کا مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ جڑ کاٹ دے کافروں کے ایک گروہ کی۔ جو اپنے ظاہری اسباب و وسائل پر مست اور اپنے کبر و غرور کے نشے میں چور تھے، چناچہ ان کے ستر سردار مارے گئے۔ ان کا نشہ ہرن ہوگیا۔ غرور خاک میں مل گیا۔ اور ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ ایسے ہوگئے کہ اب ان کے نام بطون اوراق ہی میں باقی رہ گئے اور بس۔ سو اس سے اس مقصد کو ظاہر اور واضح فرما دیا گیا جس کے لئے اہل ایمان کی مدد کی غرض سے فرشتوں کی فوج کو اتارنے کا یہ خاص اہتمام فرمایا گیا ۔ والحمد للہ ۔ سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم کافر و منکر جو اپنے کفر وانکار پر اڑ جائیں وہ اللہ کی دھرتی پر ایک ایسا ناروا بوجھ بن جاتے ہیں جس کو مٹانا ضروری ہوجاتا ہے۔ 263 کافروں کے ایک گروہ کی ذلت و رسوائی کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یا وہ ان کو ایسا ذلیل وخوار کر دے کہ وہ ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹیں۔ اور اس طرح وہ ہمیشہ کیلئے نشان عبرت بن جائیں کہ حق کے خلاف میدان میں اترنے والے بدبختوں کا انجام کیا اور کیسا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ ان کے ستر سردار قیدی بنائے گئے اور باقی ایسے ذلیل ہو کر واپس لوٹے کہ پھر کبھی سر اٹھانے کے قابل ہی نہ رہے۔ اور ان کی شوکت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوگیا ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ ۔ بہرکیف معاملہ سب کا سب اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور گر وہ سے یہاں پر مراد جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے کفار قریش ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اہل ایمان کی نصرت و امداد اور ان کے غلبہ کے لئے اس اہتمام کے ساتھ جو انتظام فرمایا تو وہ اس لئے کہ تاکہ اس جنگ میں یا تو قریش کی قوت بالکل پامال ہوجائے اور وہ ذلیل وخوار ہو کر واپس لوٹیں یا کم از کم ان کی طاقت کا ایک حصہ ٹوٹ جائے۔ سو کفر و انکار ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 3:129

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے، وہ بخشش فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے، اور سزا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

265 کائنات پوری اللہ ہی کی ملکیت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ اور اس پر حکومت بھی اسی کی ہے، اور ہر طرح کا تصرف بھی اسی کا۔ اس کے سوا دوسری کوئی سرکار ایسی نہیں جس کا ان میں سے کسی بھی چیز میں کوئی اشتراک یا عمل دخل ہو۔ پس غلط کہتے اور جہالت کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ کی نگری اور یہ فلاں ہستی کا ایریا ہے وغیرہ۔ یہ سب بےبنیاد اور بےاصل باتیں ہیں جو آگے طرح طرح کی شرکیات کا باعث بنتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک تنہا وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اس کا کسی بھی درجے میں کوئی شریک نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس ارشاد میں اہل حق کے لئے بشارت و خوشخبری کا پہلو بھی ہے کہ وہ اپنے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بنا پر جس بدلہ اور اجر وثواب کے مستحق ہوں گے وہ ان کو بہرحال ملے گا کہ جو اس ساری کائنات کا خالق اور اس کے تمام خزانوں کا مالک ہے اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ وہ ہر صاحب حق کو اس کا حق دے اور پورے کا پورا دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہم فکن لنا ولا تکن علینا یا ذا الجلال والاکرام ۔ آمین ثم آمین۔ 266 بخشش و عذاب کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بخشش فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور عذاب و سزا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ کہ وہی جانتا ہے کہ کس کا جرم قابل معافی ہے اور کس کا نہیں کہ وہی وحدہ لاشریک عالم غیب اور دلوں کے بھیدوں اور جملہ کیفیات کو جاننے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب زمین و آسمان کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لاشریک ہے تو یہ حق بھی اسی کا بنتا ہے کہ وہ جسکو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے معاف فرما دے۔ سو معاملہ اسی کے حوالے اور اسی کے اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایسے میں اگر کوئی کفر و شرک کے ارتکاب سے اپنے اوپر ظلم ڈھاتا ہے تو تم اس کی فکر میں نہ پڑو، بلکہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے کردو۔ وہ اگر چاہے گا تو ان کو تو بہ کی توفیق دے دیگا۔ یہ توبہ کریں گے اور وہ ان کو معاف فرما دے گا۔ اور اگر یہ اس کے اہل نہیں ہوں گے تو وہ ان کو ان کے کئے کرائے کی پوری پوری سزا دے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بھرپور طریقے سے پورے ہوں۔ پس آپ ان کا غم نہیں کرو بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو { فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تولی عن ذکرنا وَلَمْ یُردْ اِلّا الحَیَاۃَ الدُّنِیا } (النجم :30) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بخشش و عذاب کا معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور وہ چونکہ غفور و رحیم اور عزیز و حکیم بھی ہے اس لیے اس کا ہر فیصلہ اور اس کی مشیت عدل و انصاف اور حکمت ہی پر مبنی ہے سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 3:130–132

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، مت کھاؤ تم سود بڑھتا چڑھتا1 اور ڈرو تم لوگ اللہ (کی پکڑ) سے، تاکہ تم فلاح (کی حقیقی اور ابدی سعادت) پاسکو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور ڈرو تم لوگ اس (ہولناک) آگ سے جس کو تیار کیا گیا ہے کافروں کیلئے2

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور تم لوگ، (دل کی خوشی سے) حکم مانو اللہ کا، اور اس کے رسول کا، تاکہ تم پر رحم کیا جائے

267 بڑھتا چڑھتا سود کھانے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ بڑھتا چڑھتا سود مت کھاؤ "۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا اور جیسا کہ سود مرکب یعنی سود درسود کی خاصیت ہے، اور { اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً } یعنی بڑھتے چڑھتے سود کی یہ قید احترازی اور بیان شرط کے طور پر نہیں، بلکہ بیان واقع اور تقبیح مزید کیلئے ہے۔ ( ابن کثیر، روح، کبیر، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور غزوہ احد کے احوال کے بیان کے درمیان سود کی اس حرمت و ممانعت، اور مکارم اخلاق کے ذکر میں یہ درس ہے، کہ ایمان وتقویٰ ہی کے ذریعے مومن جہاد کے قابل ہوسکتا ہے، اور اپنے دشمن پر فتح و غلبہ پا کر اس کو زیر کرسکتا ہے، جبکہ دنیا پرستی اور سود خوری اس کی معنویات اور اخلاقی قوت کو تباہ کردیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ایمان والوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے رب کی معصیت و نافرمانی کی ہر شکل سے بچیں۔ اور خاص کر سود خوری اور دنیا پرستی سے۔ اور اس کے برعکس وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے کی خصلت کو اپنائیں تاکہ اس کی رحمت و عنایت سے سرشار ہوں۔ سو { اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً } کی قید ایسے ہی ہے جیسے سورة بقرہ میں { لَا یَسْأَ لُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا } کی قید ہے، یا جیسے سورة نور میں { اِنْ اَرَدْ نَ تَحَصُّنًا } کی قید ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو سود کے ساتھ بڑھنے چڑھنے کی یہ قید احترازی نہیں واقعی ہے۔ جو سود خوری کی لعنت کی قباحت و شناعت کو ظاہر کرنے کے لئے ذکر فرمائی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور دوڑو تم لوگ (ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر) اپنے رب (مہربان و غفور) کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف، جس کا عرض (اور پھیلاؤ) آسمانوں اور زمین کے (عرض و پھیلاؤ) کے برابر ہے، جسے تیار کیا گیا ہے ان متقی (اور پرہیزگار) لوگوں کیلئے

268 اہل ایمان کے لیے مسابقۃ اور مسارعۃ کے اصل میدان کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کے لیے مسابقہ کا اصل میدان دنیاوی زندگی اور اس کا متاع فانی اور حطام زائل نہیں۔ بلکہ آخرت کی زندگی اور وہاں کی نعیم مقیم ہے کہ اس سے سرفرازی ہی اصل سرفرازی اور وہاں کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے نہ کہ حیات دنیا کے ان خزف ریزوں کو سمیٹنا جن کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم اپنے رب کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر دوڑو : کیونکہ { سَارِعُوْا } " مُسَارَعَۃٌ " سے امر کا صیغہ ہے، جو کہ مصدر ہے باب مفاعلہ کا۔ اور اس کا مفہوم یہی ہے کہ مقابلہ اور دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ پس آخرت کی کامیابی کی دھن مومن پر اس طرح سوار رہنی چاہیئے کہ وہ ہر وقت اس کے لئے سرگرم و کوشاں رہے۔ اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ وَالسِّدَادَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی وَمَا یُقَرِّبُنَا اِلٰی مَرْضَاتِکَ وَنِعِیْم الْجَنَان یَاَ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو مومن کے لئے مسابقہ اور مقابلہ کا میدان اصل میں یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا و خوشنودی اور اس کی مغفرت و بخشش کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کرے نہ کہ دنیاوی مال و دولت کے جمع کرنے اور جوڑنے میں کہ یہ طریقہ یہودی ساہوکاروں اور مہاجنوں کا ہے جن کے نزدیک متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہے جب کہ مسلمان کے نزدیک اصل چیز آخرت وہاں کی کامیابی ہے جو کہ مقابلہ اور مسابقہ کا اصل میدان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ { وفِیْ ذالِکَ فَلْیِتَنَافِس المُتَنَافِسُوْنَ } سو اس حقیقت کو فراموش کردینا بڑے خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 269 جنت کی وسعت کا تصور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کا عرض یعنی چوڑائی اور پھیلاؤ آسمانوں اور زمین کے عرض اور پھیلاؤ کے بر ابر ہے۔ اور جس کا عرض اور پھیلاؤ اس قدر ہوگا اس کا طول کس قدر ہوگا اور وہ کس قدر عظیم الشان چیز ہوگی ؟ اور یہ بھی محض سمجھانے کیلئے اور تقریب الی الافہام کے طور پر فرمایا گیا ہے کہ انسان کے سامنے آسمان و زمین کے طول و عرض کے سوا کسی اور وسعت کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ ورنہ جنت اور آخرت کا معاملہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے اور اس کی حقیقی وسعت و عظمت تو خداوند قدوس ہی جانے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو سود کے ذریعے اگر تم لوگ بہت تیر مارو گے تو سود کے ساتھ دس بیس فیصد کما لو گے یا دو گنا ہی کما لو گے اور بس۔ اور وہ سب بھی یہیں رہ جائے گا اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں نہ صرف یہ کہ یہ تمہارا کچھ کام نہیں آئے گا بلکہ وہاں پر تمہارا یہ سارا اندوختہ تمہارے جلانے کے لئے دوزخ کا ایندھن بنے گا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ اور اس کے برعکس اگر تم اپنا مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کرو گے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو اس کے صلے میں تم لوگ خدا کی رحمت و بخشش اور اس کی اس عظیم الشان جنت کے وارث بنو گے ۔ وَباللّٰہ التَّوْفِیْق -
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو خرچ کرتے ہیں (اپنے مال اللہ کی رضا کیلئے) خوشی میں بھی، اور تنگی میں بھی، اور جو پی جاتے اپنے غصے کو، اور جو عفو (درگزر سے) کام لیتے ہیں لوگوں سے (ان کی خطاؤں اور تقصیرات پر) اور اللہ (پسند فرماتا اور) محبت رکھتا ہے ایسے نیکو کاروں سے

270 راہ خدا میں ہر حال میں خرچ کرنے کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ جنت ان خوش نصیبوں کے لیے ہوگی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں خوشی میں بھی اور تنگی میں بھی۔ یعنی وہ ہر حال میں خرچ کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل مقصود رضائے خداوندی کا حصول اور جنت کی حقیقی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی وفائز المرامی ہی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی اصل مطلوب ہے جتنا بھی ممکن ہوسکے۔ چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقّ تَمْرَۃٍ " (المراغی وغیرہ) ۔ یعنی تم لوگ دوزخ کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے ممکن ہو اور سائل کو کچھ دیکر ہی لوٹایا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو اور حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ انگور کے ایک دانے کا صدقہ کیا اور بعض اسلاف کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے پیاز کے ایک گنڈے کا صدقہ کیا۔ (نفس المرجع) ۔ بہرحال جو اور جس قدر ممکن ہو سکے اپنے خالق ومالک کی رضا اور اپنی آخرت کے توشہ و تیاری کے لئے خرچ کرو ۔ وباللہ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل - 27 1 عفو و درگزر سے کام لینے کی ترغیب : سو ان متقی اور پرہیزگار لوگوں کی خاص صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہیں۔ یعنی وہ محض ذاتیات اور ذاتی مفادات کی بناء پر انتقام لینے والے نہیں ہوتے، بلکہ ان کی شان حلم و بردباری اور عفو و درگزر ہی سے کام لینے کی ہوتی ہے ۔ اللّٰھُم ارْزُقْنَا التّوْفِیْقَ لِذَالک و عَلَی مَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ سو عفو و درگزر سے کام لینے کی صفت ایک بڑی عظیم الشان صفت ہے۔ اور حضرت ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ حضور ؓ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ اس کو بلند درجات سے نوازا جائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لے اس شخص سے جو اس پر زیادتی کرے۔ اور وہ عطاء کرے اس کو جو اس کو محروم کرے۔ اور وہ تعلق جوڑے اس سے جو اس سے قطع تعلق کرے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ! ! کیسی اعلیٰ تعلیم ہے اخلاق فاضلہ کی جس سے نبی امی نے اپنی امت کو نوازا ہے۔ اللہ ان کو اپنانے کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جنت ایسے ہی خوش نصیبوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو تقویٰ و پرہیزگاری کی زندگی گزارتے ہیں اور جو اپنی گنجائش کے مطابق خوشحالی اور تنگدستی کی ہر حالت میں اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ جو اپنے غیظ و غضب کو پی جاتے ہیں۔ لوگوں سے عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ اور وہ احسان و نیکو کاری سے کام لیتے ہیں ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -