3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے (اس پر بطور تعجب) عرض کیا کہ اے میرے رب، میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا، جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا بھی نہیں، (اس پر ان کو) جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا، اللہ (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) جو چاہتا ہے پیدا فرما ہے، وہ جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو اسکو صرف اتنا کہتا ہے کہ " ہوجا " تو وہ ہوجاتا ہے،

105 حضرت مریم کی بےمثال پاک دامنی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت مریم صدیقہ کی بےمثال پاک دامنی کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے کہ ان کے لیے قرآن حکیم میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی کہ ان کو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں تھا : نہ جائز طریقے سے، کہ آپ کا کسی سے نکاح نہیں ہوا تھا، اور نہ ناجائز طریقے سے، کہ آپ کی پاکیزہ ہستی اس طرح کے کسی تصور اور شائبہ سے بھی پاک تھی۔ اس لیے انہوں نے کمال تعجب سے عرض کیا کہ میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح پیدا ہوگا، جبکہ مجھے کسی نے چھوا بھی نہیں۔ اور بچے کی پیدائش اس عالم اسباب و مسببات میں مرد اور عورت کی مباشرت اور باہمی اتصال ہی پر مبنی و موقوف ہوتی ہے۔ سو یہ مریم صدیقہ کی طرف سے تعجب کا اظہار تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے آپ کا مقصد یہ پوچھنا اور اس بارے سوال کرنا ہو کہ کیا بچے کی یہ بشارت یونہی خرق عادت کے طور پر پوری ہوگی، یا اس کیلئے مجھے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا پڑے گا۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت مریم نے اس بارے اپنے استعجاب کا ذکر فرمایا کہ اسباب کے بغیر ایسے کس طرح ممکن ہوگا۔ 106 اللہ کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے اعلیٰ وبالا ہے : سو حضرت مریم کو ان کے اس سوال واستعجاب کا جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ یعنی تم اپنی اسی حالت پر رہو گی، رشتہ ازدواجیت کی استواری کے بغیر، اور معروف طریقہ تولید و توالد کے فقدان کے باوجود۔ اللہ پاک اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہیں اس عظیم الشان بچے سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ اس کی قدرت کاملہ نہ سلسلہ اسباب و مسببات کی محتاج ہے، اور نہ ہی اس پر موقوف اور اس کی پابند۔ حضرت زکریا (علیہ الصلوۃ والسلام) کی بشارت کے ضمن میں فِعْل " یَفْعَلُ " ذکر فرمایا گیا تھا، اور یہاں پر اس کی بجائے " یَخْلُقُ " لایا گیا ہے۔ اس لئے کہ وہاں پر اس بشارت کا تحقق ظاہری اسباب کے ماتحت ہی ہوا تھا کہ بچے کی ماں اور اس کا باپ دونوں موجود تھے، جبکہ یہاں پر ظاہری اسباب کے برعکس والد کے بغیر صرف والدہ ہی سے ولادت ہو رہی تھی۔ تو یہاں تکوین و ایجاد ہے، جس کے لئے " خلق " کا لفظ ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وہاں پر صورت حال اس سے مختلف تھی۔ اس لئے وہاں " یَفْعَلُ " فرمایا گیا ۔ سبحان اللہ !۔ مَا اَجْمَلَ وَمَا اَدَقَّ ہٰذَا الْکَلامُ الْمَجِیْدُ ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اسرار و رموز سے زیادہ سے زیادہ مطلع و مستفید ہونے کی توفیق بخشے اور اس کے سمجھنے کے لیے سینہ کھول دے اور ظاہر و باطن کو اس کے انوار سے منور فرما دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو ظاہر اور آشکارا فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے اعلی وبالا ہے۔ وہ سلسلہ اسباب و مسببات کی پابند نہیں۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 107 اللہ تعالیٰ کی شان " کن فیکون " کی شان ہے : یعنی وہاں پر اسباب و وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف حکم و ارشاد کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ جونہی حکم ہوا شئی موجود ہوگئی۔ اَسباب و وسائل کی وہاں سرے سے کوئی ضرورت ہوتی ہی نہیں۔ پس تم اس بشارت پر تعجب مت کرو، اور اس کا یہ حکم حکم تکوین کہلاتا ہے جس میں نہ کسی کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے حکم کی بجاآوری پر کوئی اجر وثواب جبکہ اس کے حکم کی دوسری قسم حکم تشریعی کہلاتی ہے، جس میں انسان کو اختیار ہوتا ہے اور اسی پر اس کو اجر وثواب بھی ملتا ہے۔ سو اس وحدہ لاشریک کی شان " کُنْ فَیَکُوْن " کی شان ہے۔ جو کرنا چاہتا ہے اس کے لئے صرف حکم دیتا ہے تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔ سو وہاں پر اسبا اور مسببات کی ضرورت و احتیاج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی شان اس سب سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اس کو اللہ خود ہی (بغیر کسی معلم اور استاذ کے) سکھائے گا کتاب اور حکمت (کے معارف) بھی، اور تورات و انجیل بھی،

108 پیغمبر کا علم براہ راست اللہ کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو اللہ خود سکھائے گا کتاب و حکمت بھی اور تورات و انجیل بھی۔ سو پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہے کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کرتا۔ سو یہ پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں کسی سے نہیں پڑھتا، بلکہ اس کا علم براہ راست اللہ پاک ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ قادیانی دجال کی طرح نہیں کہ سکول میں مڈل فیل اور پھر اس کے بعد نبوت کا دعویٰ ۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے علوم براہ راست اللہ پاک کی طرف سے ہوتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ جب کچھ بڑے ہوئے تو ان کی والدہ ماجدہ ان کو استاد کے پاس پڑھانے کیلئے لے گئیں، تو استاد نے حسب معمول جب آپ سے کہا پڑھو بچے الف، آپ نے کہا الف۔ استاد نے کہا پڑھو بائ، تو حضرت عیسیٰ نے کہا کہ جناب پہلے الف کا معنی تو بیان کیجئے۔ استاد نے کہا کہ یہ تو حروف ہجا میں سے ہے، جن کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ تو حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ جب آپ نے پہلا لفظ ہی بےمعنی پڑھایا تو پھر آپ آگے مجھے کیا پڑھائیں گے ؟ اور میں آپ سے کیا پڑھونگا ؟ استاد نے کہا کیا تم اس کے معنی جانتے ہو ؟ تو آپ نے کہا جی ہاں، پھر آپ نے اپنے وہ وہبی علوم بیان فرمانا شروع کردیئے، جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آپ کو عطا ہوئے تھے۔ تب استاد نے حیرت زدہ ہو کر کہا " کَیْفَ اُعَلِّمُ مَنْ ہُوَ اَعْلَمُ مِنِّیْ ؟ " کہ میں اس کو کیسے اور کیا پڑھاؤں جو مجھ سے بھی کہیں زیادہ اور بڑھ کر علم رکھتا ہے۔ یہ اس بارے مختلف روایات کا خلاصہ ہے (در منثور، بحوالہ حاشیہ جامع البیان) ۔ ایسی روایات سند کے اعتبار سے خواہ کمزور ہی کیوں نہ ہوں، لیکن معنی کے اعتبار سے من حیث المجموع یہ معنی ومطلب بہرحال درست ہے۔ اور جو مضمون ان روایات میں بیان کیا گیا ہے وہ بہرحال صحیح ہے، کہ پیغمبر کبھی کسی انسان سے کچھ پڑھتا سیکھتا نہیں بلکہ ان کا علم براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فرشتہ جو کچھ ان کو سکھاتا بتلاتا ہے وہ محض واسطہ اور وسیلہ کے درجے میں ہوتا ہے۔ اور بس۔ ورنہ پیغمبر کا علم اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ 109 " الکتاب " سے یہاں پر مراد ؟ : " الکتاب " سے یہاں پر مراد یا تو جنس کتاب ہے، جس میں سب ہی آسمانی کتابیں آگئیں، جن میں قرآن حکیم بھی داخل ہے۔ سو یہ اس وقت ہوگا جبکہ آنجناب دوبارہ تشریف لائیں گے اور دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ تو اس وقت اللہ پاک آپ کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے قرآن و سنت کے علوم سکھا دیگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (روح، وغیرہ) ۔ اور یا " الکتاب " سے یہاں پر کتابت مراد ہے، کہ اللہ پاک آپ کو خط و کتابت بھی سکھا دیں گے۔ ( المراغی، القاسمی، صفوۃ، وغیرہ) ۔ جو بھی ہو یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ پیغمبر دنیا میں کسی انسان سے کبھی کچھ نہیں پڑھتا بلکہ ان کا علم براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جل و علا شانہ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو پیغمبر کی شان باقی سب مخلوق سے ممتاز اور نرالی ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں بھی کسی سے نہیں پڑھتے بلکہ ان کا علم براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayahs 3:49–50

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (مزید یہ کہ وہ اللہ کا) رسول ہوگا (خاص) بنی اسرائیل کی طرف، (اس مضمون و پیغام کے ساتھ) کہ بیشک میں تمہارے پاس آیا ہوں، ایک عظیم الشان نشانی کے ساتھ، تمہارے رب کی جانب سے، کہ میں تمہارے سامنے مٹی کے پرندے کی شکل جیسا (ایک مجسمہ) بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، جس سے وہ ہوجائے گا (سچ مچ کا) ایک پرندہ، اللہ کے اذن (و حکم) سے اور میں اچھا کردیتا ہوں مادر زاد اندھے، اور کوڑھ والے کو، اور میں زندہ کرتا ہوں مردوں کو ؟ اللہ کے اذن (وحکم) سے اور (یہ کہ) میں تم کو یہ بھی بتائے دیتا ہیں کہ تم لوگ کیا کھا کر آتے ہو، اور کیا کچھ رکھ آتے ہو اپنے گھروں میں بیشک اس (سب) میں بڑی بھاری نشانی ہے تمہارے لئے اگر تم لوگ واقعی ایمان لانے والے ہو،

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھے تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا اس (آسمانی کتاب) کی جو مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، اور (اس لئے بھیجا گیا) تاکہ میں حلت بیان کروں تمہارے لئے بعض ان چیزوں کی، جو تم پر حرام کردی گئی تھیں، اور میں تمہارے پاس آیا ہوں ایک عظیم الشان نشانی کے ساتھ، تمہارے رب کی جانب سے، پس اگر تم لوگ ڈرو اللہ سے (اور بچو میری تکذیب و مخالفت سے) اور (سچے دل سے) اطاعت (وفرمانبرداری) کرو میری،

110 حضرت عیسیٰ کا پیغام صرف بنی اسرائیل کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ کا رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔ نہ کہ کسی اور قوم کی طرف۔ یعنی ان کی بعثت و تشریف آوری خاص وقت اور خاص قوم کے لئے تھی۔ اور یہ بات بائبل میں بھی طرح طرح کی تحریفات کے باوجود آج بھی موجود و معروف ہے۔ مثال کے طور پر انجیل متی ( 10 ۔ 75) کے مطابق حضرت عیسیٰ اپنے حواریوں کو ہدایات دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا، بلکہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔ نیز اسی انجیل متی ہی کے ایک دوسرے مقام پر اس طرح آیا ہے کہ ہمیں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ ( انجیل متی 16 ۔ 24 ) ۔ اس کے علاوہ خودمسیحی فضلاء کو اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ مسیحیت عالمی دین نہیں ہے۔ چناچہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ج 5 ص 3 1 ،ـ 32 میں ہے کہ مسیح نے اسرائیل کے باہر اپنے مرید تلاش نہیں کئے۔ نیز یہ کہ مسیح کے اولین شاگردوں کو بھی مسیحی تعلیم کی عالمگیری کا احساس نہیں ہوا۔ سو اب عیسائی ادارے اور عیسائی مشنریاں دین مسیحی کی عالمی پیمانے پر جو تبلیغ و تشہیر کرتی اور اس کے لئے جو کروڑوں اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں، وہ انکے اپنے دین کے خلاف، اور اپنی کتاب کے خلاف ہے۔ اور اس طرح یہ عیسائیوں کی مشنریاں اپنے پیغمبر کے ارشادات اور ان کی تعلیمات کے خلاف عمل کر رہی ہیں، جس کا وبال خود ان پر ہوگا، اور جس کا بھگتان ان کو بہرطور بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ ان واضح نصوص کی بناء پر نہ تو دین مسیح عالمی دین ہے، اور نہ ہی مسیحی پادریوں کو بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس جانے کی اجازت ہے۔ مگر افسوس کہ اہل حق اور دین حق کے نام لیواؤں کی غفلت شعاری کی بناء پر آج عیسائی پر چارک عیسائیت اور دین مسیح کے نام سے دنیا بھر میں اپنے کفر و شرک کا پرچار کر رہے ہیں اور ان کو گمراہ کر کے راہ حق و ہدایت اور صراط مستقیم سے محروم کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 1 1 1 حضرت مسیح کے معجزات کا ذکر : یعنی ایسے عظیم الشان معجزات جو کہ میری صداقت و حقانیت کو واضح کرنے کے لئے کافی و وافی ہیں (القاسمی المراغی وغیرہ) سو میں تم لوگوں کو ایک نشانی کے بعد ایک کے طور پر دکھاتا جاؤنگا جس سے میری صداقت و حقّانیّت نکھر کر تمہارے سامنے آجائے گی اور حق تمہارے سامنے واضح سے واضح تر ہوتا جائے گا۔ سو آیت کی تنکیر یہاں پر اس کی وحدت کو نہیں بلکہ اس کی تعمیم کو ظاہر کرتی ہے۔ یعنی میں اپنی رسالت کے ثبوت کے لئے نشانی لے کر آیا ہوں قطع نظر اس سے کہ ایسی نشانیوں کی تعداد کیا اور کتنی ہوگی (تدبر قرآن ) ۔ سو حضرت عیسیٰ کے معجزات ان کی صداقت و حقانیت کے واضح ثبوت تھے جن کا تقاضا تھا کہ ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا جاتا اور ان کے پیغام کو قبول اور اختیار کیا جاتا۔ مگر ہٹ دھرم لوگوں نے پھر بھی مان کر نہ دیا۔ سو ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 1 12 معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو باذنہ کی اس تصریح اور اس کے تکرار سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ اور خاص کر معجزات کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو حضرت عیسیٰ کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنے رب کے حضور اس کی صحت یابی کیلئے دعاء کر کے اس پر ہاتھ پھیرتا ہوں تو وہ اچھا اور تندرست ہوجاتا ہے۔ پس یہ سب معجزات اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کے حکم سے ظاہر ہوتے ہیں، نہ کہ میرے اپنے بس اور اختیار سے۔ لہذا تم لوگ ان معجزات کی بناء پر کسی طرح کے شرک میں نہ پڑنا کہ معجزہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوتا ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ہے { وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّأَتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْن اللّٰہ } الاٰیۃ (الرعد۔ 38) ۔ اور جب معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں تو کرامت ولی کے اختیار میں کس طرح ہوسکتی ہے ؟ پس معجزہ و کرامت سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ جس کو جو ملتا اسی مالک مطلق کی رضا اور مشیت سے ملتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 113 حضرت عیسیٰ کے بعض خاص معجزات کا ذکر : سو حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو یہ بھی بتائے دیتا ہوں کہ تم کیا کھا کر آئے ہو اور کیا کچھ اپنے گھروں میں رکھ کر آئے ہو۔ کہ اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی مجھے اس کی خبر کردیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے پہلے چاروں معجزے حسی اور عملی تھے، اور یہ پانچواں معجزہ علمی ہے اور ان میں سے پہلے چاروں معجزات میں { بِاِذْن اللّٰہِ } کا ذکر بتکرار فرمایا گیا، تاکہ کہیں کسی کو آپ کی الوہیت کا کوئی اشتباہ نہ ہوجائے، جبکہ پانچویں اور علمی معجزے میں اس کا کوئی خدشہ نہیں تھا اس لئے یہاں { بِاِذْن اللّٰہِ } نہیں فرمایا گیا ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سبحان اللہ ! کیسی کیسی باریکیاں اور کیا کیا لطافتیں ہیں جو اس کتاب حکیم میں پائی جاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زیادہ سے زیادہ علم و آگہی اور معرفت سے مشرف فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔ حضرت عیسیٰ کے ان معجزات میں سے اکثر کا ذکر انجیل میں بھی موجود ہے مگر ان کے اندر { بِاِذْن اللّٰہِ } کی یہ قید موجود نہیں۔ شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ جب انہوں نے حضرت عیسیٰ کے ان خوارق و معجزات کی بناء پر ان کو خدا تسلیم کرلیا تو اب { بِاِذْن اللّٰہِ } کی اس قید کو انجیل کے مرتبین نے بےضرورت بلکہ اپنے خود ساختہ عقیدہ کی راہ میں خارج اور مخل سمجھا ہو۔ اور اس بناء پر اس کو خذف کردیا گیا ہو۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے زیغ و ضلال اور انحراف کا کہ انسان راہ راست سے ہٹنے اور محروم ہونے کے بعد بھٹکتا ہی چلا جاتا ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ بہرکیف قرآن حکیم نے اصل حقیقت کو واضح فرما دیا ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی قادر مطلق ۔ جل وعلا شانہ ۔ کے اذن اور اسی کے حکم وارشاد سے ہوتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 114 معجزات کا تقاضا و نتیجہ سچا پکا ایمان : سو حضرت عیسیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ بلاشبہ اس میں تمہارے لیے بڑی بھاری نشانی ہے اگر تم لوگ واقعی ایمان لانے والے ہو۔ سو اس سے واضح فرما دیا کہ معجزات انبیاء کا تقاضا صدق دل سے ان پر ایمان لانا ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ یعنی اگر واقعی تم نے ایمان لانا ہو تو اب کوئی خفاء وغموض باقی نہیں رہ گیا۔ حق پوری طرح واضح اور روشن ہوگیا ہے۔ اب تم حق کو ایسے مانو جیسا کہ اس کے ماننے کا حق ہے کہ یہی تقاضا ہے ایمانداری کا کہ حق اور حقیقت کی وضاحت کے بعد اس کو صدق دل سے قبول کیا جائے اور صحیح طور پر اپنایا جائے اور اسی میں بھلا ہے تم لوگوں کا دنیا و آخرت میں۔ سو حضرات انبیائے کرام کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والے معجزات و خوارق کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ صدق دل سے ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی دعوت کو قبول کیا جائے کہ اسی میں ان کا بھلا اور دارین کی بہتری ہوتی ہے۔ ورنہ وہ معجزات منکروں کے خلاف حجت بن جاتے ہیں اور ان کا جرم و قصور ثابت اور پکا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی، پس تم سب اسی (وحدہ لاشریک) کی بندگی کرو، یہی ہے سیدھا راستہ،

116 صراط مستقیم سے مقصود و مراد ؟ : سو سیدھا راستہ صرف توحید خداوندی اور اطاعت و اتباع پیغمبر کا راستہ ہے۔ اور یہ سیدھا راستہ جو کہ عبارت ہے اللہ پاک کی توحید اور اس کی یکتائی و وحدانیت، تقویٰ و طہارت، اور پیغمبر کی اتباع و اطاعت سے، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا عظیم الشان اور بےمثل و عدیم النظر راستہ ہے۔ پس خبردار، تم لوگ میرے معجزات کی بناء پر کسی شرک کا ارتکاب نہ کرلینا کہ ایسا کرنا دارین کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اس کے باوجود آپ کے نام لیواؤں نے آپ کے بعد آپ کے نام پر شرک کا کاروبار کیا اور آج تک کئے جا رہے ہیں۔ آپ کو خدا اور خدا کا اکلوتا بیٹا قرار دیا۔ پھر " کفارہ " کا خودساختہ اور نامعقول عقیدہ گھڑا۔ آپ کی معجزانہ ولادت اور آپ کے معجزات کی بنا پر ایسے ہی شرکیہ عقائد کا اختراع کیا اور اصل دین مسیحی کے برعکس ان بدبختوں نے انہی خود ساختہ عقائد کو گلے لگایا اور آج تک دنیا میں یہ لوگ اپنا یہ کاروبار کفر و شرک چلائے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ نے ان لوگوں سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا کہ حق و ہدایت اور دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے سرفراز اور بہرہ ور کرنے والی راہ یہی اور صرف یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو سب کا رب جانا اور مانا جائے۔ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی اور ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی کے لئے بجا لائی جائے۔ جن لوگوں نے اس راہ میں دوسروں کے وسیلے اور واسطے پیدا کر لئے ہیں انہوں نے اس سیدھی راہ میں مختلف کج و پیج پیدا کر لئے، جس کے نتیجے میں وہ شرک اور طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے اور صراط مستقیم کی یہ راہ بغیر کسی عوج اور کجی کے ہے اور یہی سیدھی راہ خدا تک پہنچانے والی ہے۔ " صراط " کی تنوین اس راہ کی عظمت شان اور اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے کفر ہی محسوس کیا، تو کہا کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں ؟ تو آپ کے حواریوں نے (جو کی آپ کے خاص ساتھی تھے، انہوں نے) کہا کہ ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے، ہم (سچے دل سے) ایمان لائے اللہ پر، اور آپ گواہ رہیے کہ ہم پکے فرمانبردار ہیں

117 حضرت عیسیٰ کی پکار حق کی نصرت و امداد کے لیے : سو حضرت عیسیٰ نے فرمایا " کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں ؟ سو اس طرح حضرت عیسیٰ نے اللہ کی راہ میں نکلنے والے مددگاروں کیلئے اعلان فرمایا تاکہ وہ راہ حق میں ان کا ساتھ دیں۔ یعنی ایسا مددگار جو اللہ کی راہ میں میرے ساتھ نکلے اور ان ناہنجاروں اور ظالموں کے مقابلے میں راہ ِحق میں میرا ساتھ دے، جو کہ مجھ پر ایمان لانے کی بجائے میرے قتل کے در پے ہوگئے ہیں۔ یہاں پر " الی اللہ " کے کلمہ سے یہ مضمون نکلتا ہے کہ میں تو اللہ کی راہ میں بہرحال چل رہا ہوں اب تم میں سے کون ایسا ہے جو اس راہ میں میرا ساتھ دے۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا جبکہ آپ نے اپنی قوم کے بارے میں یہ محسوس کرلیا کہ اب یہ حق کو قبول کرنے والے نہیں بلکہ اب یہ لوگ الٹا میری جان ہی کے دشمن ہوگئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت عیسیٰ نے جب بنی اسرائیل کے علماء اور سرداروں کے رویے سے یہ محسوس کرلیا تو آپ نے ان سے منہ پھیر کر ساری توجہ اپنے ان غریب ساتھیوں کی طرف کردی جو اگرچہ دنیاوی جاہ و منصب نہیں رکھتے تھے لیکن صدق واخلاص اور دولت ایمان سے سرشار ومالا مال تھے اور حضرات انبیاء و رسل کی سنت یہی رہی کہ انہوں نے اول اول تو اپنی اپنی قوموں کے با اثر لوگوں کو جھنجوڑنے کی کوشش کی لیکن جب انہوں نے نہ مانا تو انہوں نے ان کو چھوڑ کر اپنے غریب اور مخلص ساتھیوں ہی کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر اہمیت صدق و اخلاص ہی کی ہے۔ اور جو ضدی اور ہٹ دھرم ماننا چاہتے ہی نہیں ان کے پیچھے لگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سوائے تضییع وقت کے۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ہم (سچے دل سے) ایمان لائے اس سب پر جو کہ نازل فرمایا تو نے، اور ہم نے پیروی کی آپ کے رسول کی، پس تو (اے ہمارے مالک ! ) لکھ دے ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ،

118 حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کی دعاء و درخواست اپنے رب کے حضور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کے حواریوں نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس سب پر جو تو نے نازل فرما ہے۔ اور ہم نے پیروی کی آپ کے رسول کی۔ پس تو [ اے ہمارے خالق ومالک ] ہمیں لکھ دے گواہی دینے والوں کے ساتھ کہ مالک ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ رکھ دے تاکہ ہمارا یہ صدق و اخلاص اور ایمان و یقین معتبر ہوجائے۔ اور ہم تیری خاص رحمتوں اور عنایتوں کے مستحق ہو سکیں، اور قیامت کے روز ہمارا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہو جنہوں نے دنیا میں حق کا ساتھ دیا تھا نہ کہ ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو چھپانے کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا تھا کہ حق کی گواہی اور اس کا ساتھ دینا وہ عظیم الشان ذمہ داری ہے جو حضرات انبیائے کرام کا اصل مقصد اور اہم نصب العین رہا ہے۔ جس کیلئے انہوں نے زندگی بھر محنت کی اور جہاد فرمایا۔ اور اس کیلئے انہوں نے جان و مال سمیت ہر طرح کی قربانی دی۔ اسی لیے شہادت حق کے مقابلے میں کتمان حق نہایت سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب قوم یہود نے کیا ہے جس سے ان پر پھٹکار وارد ہوئی ہے۔ اسی لیے یہود ملعون قرار پائے کہ وہ اس جرم کے سب سے بڑے مرتکب رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف شہادت حق کی یہ ذمہ داری ایک عظیم الشان ذمہ داری ہے جو حضرات انبیائے کرام پر اور ان کے بعد ان کی امتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کے خوف اور ہر قسم کے لالچ سے بےنیاز اور لاپرواہ ہو کر خلق خدا پر حق کی گواہی دیں۔ اور یہ گواہی دل و جان، زبان وبیان، قول وقرار اور جان و مال کی قربانی ہر طرح سے دیں ۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayahs 3:54–55

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے (جو کہ آپ کے منکر اور دشمن تھے آپ کے قتل و قید کیلئے) خفیہ تدبیریں کیں، اور اللہ نے بھی ان کے جواب میں خفیہ تدبیر فرمائی، اور اللہ خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے،

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

(چنانچہ اس کا ایک نمونہ وہ تھا کہ) جب فرمایا اللہ نے (عیسیٰ سے، کہ) اے عیسیٰ میں تم کو پورا پورا واپس لینے والا ہوں، اور تم کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، اور تم کو پاک کرنے والا ہوں ان لوگوں (کے گندے اور دل آزار ماحول) سے، جو کہ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (وباطل) پر، اور تمہارے پیروکاروں کو بالا و برتر کرنے والا ہوں ان لوگوں کے مقابلے میں، جو کہ اڑے ہوئے ہیں (آپ کے کفر و) انکار پر، قیامت کے دن تک، پھر آخرکار تم سب کو (اے لوگو ! ) لوٹ کر بہرحال میری ہی طرف (اور میرے ہی پاس) آنا ہے، تب میں فیصلہ کر دونگا تمہارے درمیان (آخری اور عملی طور پر) ان تمام باتوں کا جن کے بارے میں تم لوگ آپس میں اختلاف کرتے رہے تھے،

119 " مکر اللہ " کا معنی و مطلب ؟ : یعنی ان لوگوں کی چال کے مقابلے میں جو چال اللہ نے چلی اس کی بناء پر یہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے کہ اس کی خفیہ تدبیر کا نہ کوئی مقابلہ کرسکتا ہے، نہ کوئی توڑ، اور نہ اس کو کوئی سمجھ ہی سکتا ہے۔ عام طور پر اردو محاورے اور ہمارے معاشرے میں لفظ ِ " مکر " چونکہ برے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لئے قرآن حکیم میں وارد ایسے الفاظ و کلمات سے کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، اور ان کو اچنبھا ہونے لگتا ہے کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " مکر " کیسے کرسکتا ہے۔ اور اس کو " مکر " کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور وہ { خَیرُالمَاکِرِیْنَ } کیسے ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر واضح رہے کہ عربی زبان و محاورہ میں یہ لفظ ایسے معنی میں استعمال ہوتا ہی نہیں، جس میں یہ ہماری زبان اور ہمارے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، بلکہ عربی زبان و محاورہ میں یہ لفظ دراصل دوسرے شخص کے ارادہ و پروگرام کے توڑ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اور ایسے طریقے کے ساتھ کہ اس کو پتہ بھی نہ چلنے پائے۔ چناچہ محققین کے یہاں اس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے " صَرْفُ غَیْرِکَ عَمَّا یُرِیْدُ بِمَا لا یَدْرِیْہ " یعنی " دوسرے شخص کو اس کے ارادہ و پروگرام سے ایسے طریقے سے روکنا اور باز رکھنا کہ اس کو اس کا پتہ بھی نہ چلنے پائے "۔ اسی لئے مکر کے معنی تدبیر محکم بھی کئے گئے ہیں۔ پس فی نفسہ " مکر " میں کوئی برائی سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ اس کی اچھائی برائی کا مدارو انحصار اس کے مقاصد پر ہے۔ اگر یہ اچھے مقصد کیلئے ہو تو یہ اچھا، برے کیلئے ہو تو برا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَلا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ } الاٰیۃ (فاطر۔ 43) کہ " بری سازش و چال اپنے کرنے والے ہی کے گلے پڑے گی "۔ پس اگر یہ کید و مکر اچھی بات اور نیک مقصد کیلئے ہو تو یہ محمود و مطلوب ہے۔ جیسا کہ یہاں پر ہے کہ حضرت حَق ۔ جَلَّ مَجْدُہٗ ۔ نے یہود بےبہبود کے مکر و فریب کے جواب، اور اس کے رد میں ایسی تدبیر فرمائی کہ اپنے رسول برحق کی نہایت حکیمانہ اور معجزانہ طور پر حفاظت بھی ہوگئی، اور ان کی شان میں اضافہ بھی۔ اور دشمنوں کے مونہوں پر ناکامی و نامرادی کی وہ سیاہی بھی مل دی گئی جسکی بناء پر وہ ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار، اور مردود و مغضوب بھی ہوگئے۔ پس حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے وجود میں آنے والا ہر " مکر " اور ہر تدبیر سراسر خیر ہی خیر اور حق و صواب ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر صرف صنعت مشاکلت کا سہارا لینے اور اس پر اکتفا کرنے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ لغت اور محاورے کی روشنی میں لفظ مکر و کید وغیرہ کا ایسا معنی و مفہوم مراد لیا جائے جو اس کی شان اقدس کے لائق ہو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہر کیف اللہ تعالیٰ نے ان بدبختوں کی سازشوں کو اس طرح ناکام بنایا کہ وہ ہمیشہ کے لئے رسوا و ذلیل ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ اور برتاؤ کیا کہ ان کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ اپنے کئے کرائے کے نتیجے اور اس کے جال میں اس بری طرح سے پھنس رہے ہیں اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے حق اور اہل حق کی مخالفت اور دشمنی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 3:56–57

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

سو وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (وباطل) پر، ان کو میں سخت عذاب دوں گا دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوگا،

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے ہوں گے، اور انہوں نے نیک کام بھی کیے ہوں گے، ان کو وہ ان کے اجر پورے کے پورے عطا فرمائے گا، اور اللہ پسند نہیں فرماتا ایسے ظالموں کو،

125 کافروں کیلئے ہمیشہ کا عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کو میں سخت عذاب دوں گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ یعنی ان کا عذاب اسی دنیا سے شروع ہو کر آخرت کے اس بھرپور عذاب تک جا پہنچے گا، جو ابدی دائمی اور نہایت ہی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس ارشاد کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی عدالت کسی مجرم کو سزا دیتے وقت یوں کہے کہ تمہاری سزا ایک سال ہے، لیکن اگر تم اپنی شرانگیزی سے باز نہ آئے تو تمہاری یہ سزا دو سال کردی جائے گی۔ یعنی اس صورت میں تمہاری یہ سزا آج ہی سے شروع ہو رہی ہے۔ اسی طرح یہاں سمجھا جائے کہ حق اور رسول حق کے ان دشمنوں کا عذاب اسی دنیا سے شروع ہو کر آخرت کے اس ابدی اور ہولناک عذاب تک جا پہنچے گا جس کا پھر کوئی خاتمہ نہیں ہوگا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَزِیْز الرّحْمٰنِ ۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اور اس نے ہمیشہ کیلئے ایسے ہولناک عذاب میں رہنا ہے تو اس کو اگر اس دنیا میں دنیا جہاں کی سب دولت بھی مل جائے اور اس کی پوری زندگی بھی اگر حکومت و اقتدار کی کرسی ہی پر گزر جائے تو بھی اس کو کیا ملا۔ اور اس سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے کہ اس کو آخرکار اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں وہ مومن صادق کس قدر خوش نصیب ہے جس کو اس ہولناک عذاب سے بچا کر جنت کی سدابہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا، اگرچہ دنیا میں اس کو نان جویں بھی میسر نہ رہی ہو۔ سو ایمان کی دولت ہی اصل، سب سے بڑی اور بےمثال دولت ہے۔ اور کفر سب سے بڑی محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -
Ayah 3:58

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ ہماری آیتیں ہیں جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو (اے پیغمبر ! ) اور حکمت سے لبریز ذکر (و نصیحت جس سے ہم نوازتے ہیں آپ کو)

126 اعمال کا پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گا : سو " یُوَفِّیْہِمْ " کے اس لفظ سے یہاں ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کردی گئی جو کہ قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر اور مختلف پیرایوں میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اعمال کا بھرپور بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ اور وہیں مل سکتا ہے۔ دنیا میں اعمال کا بدلہ خواہ وہ خیر ہوں یا شر، کسی نہ کسی حد تک اگرچہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یہاں پر نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے۔ وہ بہرحال آخرت میں ہی ملیگا کہؔؔ " دارالجزا " وہی ہے، اور اسی کی وسعتیں اس کی متحمل ہوسکتی ہیں، جیسا کہ اس کی کچھ تفصیل ابھی اوپر حاشیہ نمبر 125 میں بھی گزر چکی ہے۔ سو اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور اصل ناکامی آخرت ہی کی ناکامی ہے مگر دنیا ہے کہ اس حقیقت عظمیٰ سے غافل اور نچنت ہے الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:59

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے، کہ ان کو بنایا اللہ نے مٹی سے، پھر فرمایا کہ ہوجا تو ہوگیا (زندہ و موجود)

127 پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی صداقت و حقانیت کا ایک اور ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہماری آیتیں ہیں جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں [ اے پیغمبر ] اور یہ حکمت سے لبریر ذکر ہے جس سے ہم آپ کو نواز رہے ہیں۔ سو یہ اس بات کا ایک قطعی اور واضح ثبوت اور علامت ہے کہ آپ ہمارے بھیجے ہوئے رسول ہیں، جو ہماری وحی اور ہدایت کے مطابق لوگوں کے سامنے حکمت سے لبریز اس نصیحت و ذکر کو پیش کررہے ہیں۔ ورنہ آپ ﷺ تو امی محض تھے۔ کبھی کسی انسان سے ایک حرف تک نہیں پڑھا تھا۔ تو پھر آپ ﷺ کیلئے ایسے علوم و معارف اور اس قدر حکمت بھرا یہ ذکر سنانے اور پیش کرنے کا اور کیا ذریعہ ہوسکتا ہے سوائے وحی خداوندی کے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ ہے حضرت عیسیٰٰ کی اصل حقیقت جو کہ نکھار کر آپ کے سامنے رکھ دی گئی جس میں طرح طرح کے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور اس ذکر حکیم سے راہ حق و صواب کو بالکل واضح کردیا گیا جو کہ سراسر حکمت اور عبرت و بصیرت ہے، بخلاف اس من گھڑت داستان کے جس کو عیسائیوں نے تصنیف کیا ہے۔ جس سے انہوں نے حق اور حقیقت کو بدل اور بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنادیا ہے اور جس سے گمراہی کے سوا کچھ نہیں مل سکتا مگر ایک دنیا کی دنیا ہے جو پھر بھی آنکھ نہیں کھولتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 128 عیسائیوں پر حجت حضرت آدم کی ولادت سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے۔ ان کو اللہ نے مٹی سے بنایا پھر ان سے فرمایا ہوجاؤ تو وہ ہوگیا۔ آدم کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا گیا۔ تو پھر اگر ماں اور باپ کے معروف اور ظاہری سبب کے بغیر پیدا ہونے سے آدم کے اندر الوہیت و معبودیت کا کوئی شائبہ نہیں آسکتا تو پھر حضرت عیسیٰ صرف باپ کے بغیر پیدا ہونے سے خدا یا خدا کے بیٹے اور معبود کس طرح بن سکتے ہیں ؟ جبکہ آدم کو تم لوگ بھی خدا اور خدا کا بیٹا نہیں مانتے، حالانکہ ان کا توالد صرف باپ کے بغیر ہے بلکہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر محض قدرت خداوندی سے ہوا تھا۔ سو جس طرح حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں اور باپ کے اپنے حکم سے پیدا کیا اور ان سے کہا " ہوجا " تو وہ ہوگئے۔ ایسے ہی حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے اپنے کلمہ کن سے پیدا فرمایا اور پھر اس کو کہا ہوجا تو وہ ہوگئے۔ سو یہ چیز ان کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی۔ پس جنہوں نے محض اس بنا پر ان کو خدا بنادیا انہوں نے بڑا ظلم ڈھایا۔ اور اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

حق تمہارے رب ہی کی طرف سے ہے، پس تم کبھی نہیں ہوجانا شک کرنے والوں میں سے،

129 منکرین پر الزام اور اتمام حجت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے پس تم اے مخاطب شک کرنے والوں سے نہ ہوجانا۔ سو حق کی ایسی وضاحت کے بعد شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی : کہ حق تمہارے رب کی طرف سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) خدا نہیں، خدا کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ ان کی ولادت باسعادت والد کے واسطے کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے حکم سے معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اور ان کی والدہ ماجدہ قطعی طور پر ایک عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ بہود بےبہبود کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے الزامات سب افتراء و بہتان تھے۔ پس حضرت عیسیٰ نہ تو وَلَدُ الّزِنا تھے جیسا کہ بہود بےبہبود نے ان پر افتراء و بہتان بازی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور نہ ہی وہ خدا اور خدا کے بیٹے تھے، جیسا کہ نصاریٰ نے ان کے بارے میں شرکیہ عقیدہ رکھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ دونوں انتہاء پسندیاں باطل و بےبنیاد ہیں۔ حق اور حقیقت وہی ہے جو تمہارے رب نے بیان فرما دیا کہ حضرت عیسیٰ خدا کے پاکیزہ اور برگزیدہ بندے اور اس کے سچے رسول تھے۔ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلامُ -
Ayahs 3:61–62

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر بھی جو آپ سے اس بارے جھگڑا (اور حجت بازی) کریں (حق اور حقیقت کو واضح کردینے والے) اس علم کے بعد، جو کہ پہنچ چکا آپ کے پاس، (آپ کے رب کی جانب سے) تو ان سے کہو کہ آؤ (ہم اور تم اس بارے آپس میں مباہلہ کرلیتے ہیں، اسی طرح کہ) ہم اور تم خود بھی (میدان میں) آتے ہیں، اور اپنے اپنے بیوی بچوں کو بھی بلا لاتے ہیں، پھر ہم سب مل کر (اللہ تعالیٰ کے حضور) عاجزی وزاری کے ساتھ دعا (والتجا) کرتے ہیں، کہ اللہ کی لعنت (اور پھٹکار) ہو ان پر، جو جھوٹے ہوں،

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک یہی ہے قطعی طور پر حق (اور سچا) بیان، اور یہ کہ کوئی معبود (برحق) نہیں سوائے اللہ (وحدہ لاشریک) کے، اور بیشک اللہ ہی ہے جو سب پر غالب نہایت حکمت والا ہے،

130 خدائی فیصلے کی طرف رجوع کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی اگر یہ لوگ پھرے ہی رہیں تو ان سے کہو کہ ہم مباہلہ کرلیتے ہیں تاکہ اس طرح خدائی فیصلہ ہمارے اور تمہارے درمیان ظاہر ہوجائے اور حق و باطل پوری طرح واضح ہوجائے۔ سو جب فریق مخالف حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود حق کو ماننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو اور وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہی رہے تو اس کے لیے آخری بات یہی ہے کہ حق و باطل کے فیصلے کیلئے مباہلہ کیا جائے اور معاملے کو خدائی فیصلے پر چھوڑ دیا جائے۔ ابتہال کے اصل معنی تضرع اور دعاء کے ہیں، لیکن اس کے اندر ترک کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ لفظ ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا کے لئے معروف ہے۔ یہاں پر اس سے یہی معنی و مفہوم مراد ہے۔ جہاں پر مخاطب ایسی ہٹ دھرمی پر اتر آئے کہ سب روشن اور واضح دلائل کے باوجود حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں وہاں آخری چارہ کار مباہلہ ہی رہ جاتا ہے۔ تاکہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہوجائے۔ اور اس کے بعد کسی کے لیے کوئی مجال انکار باقی نہ رہے۔ 131 حق و باطل کے فیصلہ کیلئے آخری بات مباھلہ : تاکہ اس طرح جھوٹا اپنے انجام کو پہنچ جائے، اور سچے کا سچ نکھر کر سامنے آجائے۔ روایات کے مطابق جب اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ بخران کے وفد کو مباہلے کی دعوت دی تو انہوں نے ایک دن، اور دوسری روایات کے مطابق، تین دن کی مہلت مانگی، کہ ہم اس مدت میں باہم مشورہ کرنے کے بعد اس بارے جواب دیں گے۔ چناچہ اس دوران انہوں نے باہمی مشورہ کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ مباہلہ ہرگز نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ہیں جنکے بارے میں پیشگوئیاں ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ پس اگر ہم نے ان سے مباھلہ کرلیا تو خدشہ ہے کہ کہیں ہماری جڑ ہی نہ کٹ جائے۔ لہذا مباھلہ کی بجائے ان سے صلح صفائی کی بات کی جائے۔ چناچہ انہوں نے دو ہزار حلے (جوڑے) سالانہ دینے کی پیشکش پر صلح کی درخواست کی۔ جسکو آنحضرت ﷺ نے قبول فرما لیا۔ یہ اس بارے میں وارد مختلف روایات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے جو یہاں پیش کیا گیا۔ تفصیلات کیلئے ملاحظہ ہو، روح المعانی، معارف القرآن، قرطبی، ابن کثیر، ابن جریر، صحیح بخاری، کتاب المغازی، صحیح مسلم، اور سنن نسائی وغیرہ وغیرہٗ ۔ ادھر اس دوران حضور ﷺ نے مباھلے کی تیاری فرمالی اور اس کے لئے آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ ٗ فاطمہ ؓ اور حضرات حسنین کو بھی بلا لیا۔ شیعوں نے اس روایت کے سہارے اس واقعے سے خلافت بلافصل کے اپنے مشہور و معروف گمراہ کن عقیدے کیلئے دلیل کشید کرنے کی ناکام سعی کی، حالانکہ مباہلہ کی اس آیت کریمہ میں تو ان کے اس استدلال کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں۔ رہ گئی مذکورہ بالا روایت تو اس کی اصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان حضرات کو اس لئے بلا لیا تھا کہ یہ آپ ﷺ کے اہل بیت اور گھر والوں سے دور تھے۔ اس لئے ان کو پیشگی بلانے کی ضرورت پیش آئی۔ رہ گئے آپ ﷺ کے اہل خانہ جو کہ عرف و لغت وغیرہ ہر اعتبار سے آدمی کے اصل اہل بیت ہوتے ہیں تو وہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔ ان کو کہیں باہر سے بلانے منگوانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر مباہلے کی نوبت آجاتی تو آپ ﷺ یقینا ان کو بھی بلاتے، بلکہ ان کو پہلے بلاتے کہ { اَنْفُسَنَا }‘ { نِسَائَ نَا } اور { اَبْنَائَ نَا } کے اصل اور اولین مصداق تو وہی تھے۔ لغت اور زبان وبیان کے اعتبار سے بھی، اور عرف و محاورہ کے لحاظ سے بھی۔ اور پھر یہی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے دور ہونے کیوجہ سے صرف انہی حضرات کو بلایا تھا، بلکہ حضرت امام محمد باقر ؓ کے قول و ارشاد کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر حضرات خلفاء ثلاثہ اور ان کے اہل و عیال کو بھی بلا لیا تھا، جیسا کہ ابن عساکر نے بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو روح المعانی، در منثور، المراغی، اور جواہر القرآن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے شیعوں کے اس استدلال کی جڑ کٹ گئی ہے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ الَّذِیْ لا تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ اِلَّا بِتَوْفِیْقٍ مِّنْہُ جَلَّ وَعَلاْ وَتَبَارَکَ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف مباہلہ حق وباطل کے درمیان فیصلے کا اصل اور آخری ذریعہ ہوتا ہے۔
Ayah 3:63

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

سو اگر یہ لوگ پھر پھرے ہی رہے، تو، (اپنے کئے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے کہ) بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے فساد کرنے والوں کو،

132 اللہ پوری طرح جانتا ہے مفسدین کو : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ مفسدین کو پوری طرح جانتا ہی۔ پس نہ کوئی فسادی اس سے چھپ سکتا ہے، اور نہ اس کا کوئی فساد۔ لہٰذا ہر فسادی اپنے وقت پر اپنے کئے کی سزا بہرحال بھگت کر رہے گا کہ ایسے لوگ نہ اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر ہوسکتے ہیں اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح نکل سکتے ہیں۔ لہذا آج ان کو جو ڈھیل ملی ہوئی ہے اس سے ان کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے، کہ اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کیلئے تیار نہیں ہوتے جو کہ قضیہ کو حل اور اختلاف کو رفع کرنے کی آخری صورت تھی اور دعوت مباہلہ کے باوجود یہ اس سے گریز و فرار ہی کی راہ کو اختیار کرتے ہیں۔ تو اس کا صاف طور پر مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ حق کی پیروی کرنا چاہتے ہی نہیں۔ اور یہ خدا کی زمین پر فسادبپا کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے کہ شرک تمام فساد کی جڑ ہے۔ کیونکہ زمین و آسمان میں اگر کئی معبود تسلیم کر لئے جائیں تو یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے۔ سو ایسے فسادی لوگ یقینا اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں۔ لہٰذایہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کو جو ڈھیل ملتی ہے اس سے یہ دھوکے میں نہ پڑیں۔
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہو اے اہل کتاب، آؤ تم ایک ایسی بات کی طرف جو کہ یکساں ہے، ہمارے اور تمہارے درمیان، کہ ہم کسی کی بھی بندگی نہیں کریں گے سوائے ایک اللہ کے، اور ہم کسی بھی چیز کو (کسی بھی طور پر) اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور نہ ہی ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب بنائے گا سوائے اللہ کے، پس اگر (اس واضح اور معقول بات کے بعد) یہ لوگ روگردانی کریں، تو کہو کہ تم لوگ گواہ رہو کہ بیشک ہم تو (بہرطور اسی کے) فرمانبردار ہیں،

133 اہل کتاب کو ایک فکر انگیز دعوت : سو اس سے اہل کتاب کو ایک فکر انگیز دعوت دی گئی ہے کہ دونوں فریق کلمہ توحید پر اکٹھے ہوجائیں۔ کہ اس کو ہم بھی مانتے ہیں اور تم بھی اس کے ماننے کے دعویدار ہو، یعنی عقیدہ توحید، جس کی دعوت ہر پیغمبر اور ہر شریعت نے دی۔ اور جو اساس و بنیاد ہے ہر دین سماوی کی۔ اور اس کے ماننے سے تم کو بھی کوئی انکار نہیں ہوسکتا اور نہیں ہونا چاہیئے کہ یہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور ہم پہلے سے ہی اس پر قائم اور اس کے داعی اور مبلغ ہیں۔ سو یہ ہمارے اور تمہارے درمیان تعاون و اشتراک کی ایک بڑی اہم اساس و بنیاد ہے۔ " سواء " کے معنی وسط کے ہیں، " سواء الراس " سر کے بیچ کے حصے کو کہا جاتا ہے اور " سواء الطریق " کا معنی ہے راستے کا وسط۔ پس جو چیز دونوں جماعتوں کے بیچوں بیچ ہوگی، وہ دونوں کے درمیان یکساں مشترک و مسلم اور دونوں کی جانی پہچانی ہوگی۔ سو کلمہ توحید اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان ایک قدر مشترک اور امر مسلم ہے۔ تو پھر تم لوگوں نے اے کتاب والو، اس مشترک اور مسلم حقیقت کے برعکس خدائے واحد کی عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک کیوں ٹھہرا رکھا ہے ؟ اور تم لوگ اللہ کی وحدانیت کے قائل کیوں نہیں ہوتے ؟۔ 134 کسی کی مطلق اطاعت اس کو رب بنانے کے مترادف ہے۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آؤ ہم عہد کریں کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بھی بندگی نہیں کریں گے۔ نہ ہم کسی کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے اور نہ ہی ہم اللہ کے سوا کسی کو رب بنائین گے کہ ہم میں سے کوئی اللہ کی اطاعت مطلقہ کی طرح اس کی بھی مطلق اطاعت کرنے لگے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ اطاعت صحیح ہے یا نہیں۔ اور اللہ کی مقرر کردہ حدود وقیود کے اندر ہے یا ان سے باہر۔ اور یہ کہ اس کو تحلیل و تحریم کا اختیار دے دیا جائے کہ جس چیز کو وہ چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام، کہ ایسا کرنا درحقیقت اللہ کے سوا دوسروں کو رب قرار دینا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ۔ مگر ان لوگوں نے اس کے باوجود ایسے ہی کر رکھا تھا، اور اپنے مولویوں اور پیروں " اَحْبَار و رُھبان " کو ربوبیت کے ایسے ہی مقام پر بٹھا رکھا تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْن اللّٰہ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ } الآیۃ ( التوبۃـ 3 1) ۔ سو اطاعت مطلقہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور بس۔ اس کے سوا دوسری ہر اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط اور اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو کہ " لَا طَاعَۃَ لِمَخلُوْقٍ فِیْ مَعْصیَِۃ الْخَالِقِ } ایک قاعدہ کلیہ ہے۔ 135 اہل کفر و باطل سے اظہار بیزاری کا درس : سو اس سے حق کے واضح ہوجانے کے بعد اہل کفر سے اظہار بیزاری کا درس دیا گیا ہے۔ یعنی ہمارا طریقہ اور راستہ تو بہرحال یہی ہے۔ اب تمہاری مرضی تم جو چاہو اور جیسے چاہو کرو۔ اپنے کئے کے تم خود ہی ذمہ دار ہوؤ گے، اور اپنا بھگتان بھی بہرحال خود تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ تمہارا راستہ الگ ہمارا الگ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دین } یہ آخری جواب ہے جو ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کو دیا جاتا ہے جو راہ راست پر آنے کو تیار ہی نہ ہوتے ہوں۔ اور اس طرح کے جواب سے جہاں ایک طرف داعی حق کو اطمینان ملتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ لوگ پتھر ہیں جس پر جونک لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، وہیں دوسری طرف ایسے ہٹ دھرموں کی اس طرح کی ہر خوش فہمی کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے جو اس طرح کی امیدیں رکھتے ہیں کہ شاید یہ اہل حق ہماری اس طرح کی کسی ہٹ دھرمی سے اپنا رویہ تبدیل کردیں گے۔ سو اس میں اہل حق کے لئے حق کو واضح کردینے کے باجود ہل باطل سے اظہار و اعلان بیزاری کا درس ہے کہ اگر تم لوگ حق کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو تم سن لو، اور اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو بہرحال مسلمان اور فرمانبردار ہیں۔ اور " گواہ رہو " کے یہ الفاظ بطور اظہار براءت ہیں، یعنی ہم نے تو پوری وضاحت کے ساتھ پیغام حق تم کو پہنچا دیا۔ اب تم لوگ کل کو خداوند قدوس کے حضور ایسا کوئی عذر اور حیلہ بہانہ نہیں کرسکو گے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کل کو اس کے یہاں تمہاری ذمہ داری خود تمہارے اوپر ہے۔ ہم بہرحال اپنا فرض ادا کرچکے۔ " بر رسولاں بلاغ است وبس "۔
Ayah 3:65

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے کتاب والو، تم کیوں جھگڑا (اور حجت بازی) کرتے ہو ابراہیم کے بارے میں، حالانکہ نہیں اتاری گئی تورات اور انجیل، مگر ان کے (ایک زمانہ دراز کے) بعد، تو کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں جانتے (اور سمجھتے) ۔

136 عقل و فکر سے کام لینے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے کہ ایسے میں آخر وہ یہودی یا نصرانی کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ جب کہ تورات اور انجیل کا نزول ان سے صدیوں بعد ہوا۔ پس حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ سیدھے سادھے اور سچے پکے مسلمان اور ایک اللہ کے اطاعت گزار اور مطیع فرمان بندے تھے۔ عَلَیْہ الصَّلوۃُ والسَّلامُ ۔ جیسا کہ دوسرے کئی مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی { مَاکَانَ اِبْرَاہِیْمُ یَہُوْدِیّاً وّلَا نَصْرَانِیّاً وّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً } (الآیۃ) جیسا کہ یہاں بھی اس کے ایک آیت بعد بھی ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو یہود و نصاری اور مشرکین مکہ کا اپنی اپنی بدعات اور شرکیات کے لئے آنجناب کا نام استعمال کرنا، اور اپنے آپ کو ان کا پیرو ظاہر کرنا اور ان کے طریقے پر ہونے کا دم بھرنا سب غلط اور بےبنیاد ہے۔ یہ تینوں گروہ تو طرح طرح کی شرکیات میں ملوث و مبتلاء ہیں، جب کہ وہ اس طرح کی ہر بات سے دور و نفور اور پاک و بری تھے۔ پس ان کا ان تینوں کے گروہوں میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ دین حنیف پر اور یکسو مسلمان تھے۔ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُلّ زَیْغٍ وَّ ضَلَال -
Ayah 3:66

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

ہاں تم لوگ وہی ہو جو جھگڑا کرچکے ہو ایسی بات کے بارے میں جس کا تمہیں کچھ علم نہیں تھا مگر اب تم کیوں جھگڑا (اور حجت بازی) کرتے ہو اس چیز کے بارے میں جس کا تمہیں کچھ علم نہیں اور اللہ جانتا ہے (ہر چیز کو) اور تم نہیں جانتے،

137 علم کے بغیربحث و مباحثہ اور حجت بازی کی مذمت : یعنی موسیٰ و عیسیٰ کے بارے میں کہ ان کے تم نام لیوا اور ان کے ماننے کے دعویدار ہو، اگرچہ ان کے بارے میں بھی تمہارا علم ناقص اور غیر صحیح تھا۔ جس کی بنا پر تم افراط وتفریط کے شکار ہوئے کہ ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ کے نسب پر حملہ کیا اور ان کی پاکیزہ ہستی پر گندی تہمت لگائی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ دوسرے گروہ نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دے کر دین عیسوی کا حلیہ بگاڑ دیا۔ اور انہوں نے شرک کا حرام و ممنوع کاروبار شروع کردیا یا اسی طرح خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں بھی تمہیں کچھ علم تھا کہ ان کا ذکر تمہاری کتابوں میں تھا اور ان کے بارے میں پیشینگوئیاں بھی فی الجملہ ان میں موجود تھیں وغیرہ وغیرہ۔ (المراغی (رح) ، القاسمی (رح) ، المعارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ سو ایسے ناقص علم کی بناء پر بحث مباحثہ اور حجت بازی بھی اگرچہ کوئی صحیح طریقہ نہیں لیکن پھر بھی اس کی کچھ نہ کچھ تک بن سکتی ہے۔ مگر جس چیز کے بارے میں کوئی بھی علم و آگہی نہ ہو اس کے بارے میں بحث مباحثہ اور حجت بازی کی کیا تک ہوسکتی ہے۔ سو اس میں علم کی روشنی کے بغیر بحث مباحثہ اور حجت بازی کی مذمت ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُل اِلْحَادٍ وَّاِنْحِرَافٍ- 138 علم کے بغیر بحث مباحثہ عقل و نقل کیخلاف : سو علم کی روشنی کے بغیر بحث مباحثہ کرنا عقل و نقل کیخلاف ہے کہ یہ اندھیرے میں تیر چلانا ہے۔ پھر تم لوگ ایسی چیز کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو کہ نہ اس کا ذکر اس طور پر تمہاری کتابوں میں کہیں موجود ہے اور نہ تمہارے پاس اس کے بارے میں جاننے کا اور کوئی ذریعہ و ماخذ ہے (نفس المرجع) ۔ سو علم کی روشنی کے بغیر ایسے امور میں دخل دینا اور بغیر کسی بنیاد کے بحث مباحثہ کرنا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ یہ رجما بالغیب اور اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے جس کی لغویت محتاج بیان نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بحث و مباحثہ کے لیے علم کی روشنی درکار ہے۔ 139 اللہ جانتا ہے اور تم لوگ نہیں جانتے : پس حق و صدق وہی اور صرف وہی ہے، جو اس وحدہ لاشریک سے ملے۔ اور اس نے صاف وصریح طور پر بتا اور فرما دیا کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ اور نہ ہی ان کو مشرکین سے کوئی تعلق و لگاؤ تھا۔ جیسا کہ اگلی آیت کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے۔ پس تمہیں اسی کی پیروی کرنا چاہیئے جو اس وحدہ لاشریک کی طرف سے بتایا اور فرمایا جائے، نہ کہ تم لوگ خواہ مخواہ کی بےاصل اور بےبنیاد حجت بازی میں الجھو۔ سو حق اور حقیقت وہی ہے جس کو اس وحدہ، لاشریک نے واضح فرما دیا کہ ابراہیم حنیف مسلم تھے۔ سو حنیف کی صفت سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ وہ توحید کی سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم پر تھے۔ انہوں نے توحید کی اس شاہراہ سے ہٹ کر کج پیچ والی کسی مشرکانہ راہ کو کبھی نہیں اپنایا تھا اور مسلم کی صفت سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ وہ ہمیشہ اپنے رب کے فرمانبردار تھے۔ سو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہودیت اور نصرانیت توحید سے ہٹی ہوئی ٹیڑھی راہیں ہیں جو ہدایت کی بجائے گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں جن کا انجام ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:67

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

(سو اللہ بتلاتا ہے کہ) ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ سیدھے راستے والے (اور یکسو) مسلمان تھے، اور انکو کوئی لگاؤ (اور تعلق) نہیں تھا مشرکوں سے،

140 حضرت ابراہیم کا مشرکین سے کوئی لگاؤ نہیں تھا : پس جو لوگ شرک کی نجاست و غلاظت سے ملوث ہیں ان کا ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ پس یہود و نصاری اور مشرکین میں سے ہر گروہ کا حضرت ابراہیم سے انتساب کا دعوی غلط اور بےبنیاد ہے کہ ان سب لوگوں کے دامن شرک کی گندگی سے ملوث اور آلودہ ہیں کہ یہود نے حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو۔ نیز انہوں نے تثلیث کا یہ شرکیہ عقیدہ گھڑا جو کہ توحید کی یکسر ضد اور اس کے بالکل برعکس ہے، جبکہ مشرکین مکہ نے طرح طرح کے بت گھڑ رکھے تھے۔ لہذا ان لوگوں کا ابراہیمی ہونے کا دعویٰ غلط اور بےبنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بزرگوں کی طرف انتساب کا حق اصل میں انہی لوگوں کو پہنچ سکتا ہے جو ان کے طریقے پر اور ان کی تعلیمات پر کاربند ہوں۔ ورنہ ایسے وعدے بےحقیقت ہیں جن کا نہ کوئی فائدہ ہوسکتا ہے نہ نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بیشک ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب (مذہب و ملت کے اعتبار سے ان کے زمانے میں) وہ لوگ تھے، جنہوں نے (صدق و اخلاص سے) ان کی پیروی کی، اور (اب اس آخری زمانے میں) یہ نبی اور ان پر ایمان لانے والے ہیں اور اللہ حامی و مددگار ہے ایمان والوں کا،

141 دین اسلام کی اساس ملت ابراہیمی : سو نبی آخر الزماں ﷺ کے لائے ہوئے دین حق، یعنی اسلام کی اساس ہی ملت ابراہمی پر ہے۔ سو اس دین حق کو ماننے والے ہی وہ لوگ ہیں جو عقیدہ توحید پر قائم ہیں اور ان کے دین کی اساس و بنیاد ہی ملت ابراہیمی پر استوار ہے۔ جو ابراہیم کی طرح سچی اور خالص توحید کے قائل اور اللہ کو ایک اور وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔ جن کا قبلہ قبلہ ابراہیمی ہے۔ وہ اسی کی طرف اپنی نمازوں میں رخ کرتے اور اسی کا طواف کرتے اور وہاں حج وعمرہ کی عظیم الشان عبادات بجا لاتے ہیں۔ اور جو ابراہیم کی طرح اللہ کی رضا کیلئے قربانی کرتے اور ختنہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور جنہوں نے بیت اللہ میں رکھے گئے مشرکین مکہ کے بتوں کو اپنی حقانی ضربوں سے پاش پاش کرکے خداوند قدوس کے گھر کو شرک کی تمام آلائشوں سے ہمیشہ کیلئے پاک و صاف کردیا۔ سو یہی لوگ ہیں جو حق کے علمبردار اور ملت ابراہیمی کے پاسدار، اور ان کے اصل و حقیقی پیروکار ہیں۔ اور یہی ہیں جو ملت ابراہیمی کے محافظ و امین ہیں۔ اور یہی ہیں جو صراط مستقیم پرچلنے والے اور اہ حق و ہدایت کے راہی ہیں۔ سو حضرت ابراہیم کی طرف نسبت محض زبانی کلامی دعو وں یا نسبی اور خاندانی انتساب سے حاصل ہونے والی چیز نہیں بلکہ اس کا تعلق اطاعت و اتباع سے ہے۔ پس جو صدق دل سے آپ کی اطاعت و اتباع کرے گا وہی اس کا اہل اور مستحق ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ سو اس اعتبار سے حضرت ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب یہ پیغمبر ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے ان کے صحابہ کرام ہیں، نہ کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ جنہوں نے دین ابراہیم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا اور انہوں نے دین توحید میں شرک کی آمیزش کردی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -