Ayahs 2:282–283آیات 282- 283
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اذاتداینتم……………واللہ بکل شیء علیم۔
آج کا دور تو تعلیم و تعلم اور نئی نئی ایجادات کا ہے اب تو بات کمپیوٹر کو بھی فیڈ کی جاسکتی ہے مگر معاملات کے بارے میں خصوصاً مالی معاملات جو اکثر جھگڑوں کی بنیاد بنتے اور پورے معاشرے کے سکون کو تباہی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنتے ہیں لیکن آج سے چودہ صدیاں پیشتر دیکھا جائے تو یہ صرف اسلام تھا جس نے انسان کو معاملات یا لین دین میں تحریر اور شہادت کا طریقہ تعلیم فرمایا کہ اس طرح سے نہ کسی کی حق تلفی ہو اور نہ فساد پیدا ہونے کا امکان رہے آج جو طریقہ رائج ہیں اسی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں جن میں اصل وہی ہے کہ لین دین یا یاداشت کے لئے ضبط تحریر میں لایا جائے اگر جدت آگئی ہے تو طرز تحریر میں اور بس۔
ارشاد ہے کہ اے ایمان والو ! جب تم آپس میں کسی مدت تک ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ یہاں یہ تعلیم فرمایا کہ ایک تو معاہدہ ہو اور پھر قرض کی مدت مقرر کی جائے ایسی مدت کہ جس میں ابہام نہ ہو کہ جی فصل آنے پر دے دوں گا یہ درست نہیں بلکہ تاریخ اور مہینہ تک معین ہونا چاہیے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ لکھنے والا تمہارے درمیان پوری دیانتداری اور انصاف سے لکھے کسی فریق کی طرفداری نہ کرے کسی کے دنیوی نفع کے لئے اپنا ابدی نقصان نہ کرے۔ نیز پڑھا لکھا آدمی لکھنے سے انکار نہ کرے کہ اللہ نے اسے پڑھنا لکھنا سکھایا ہے تو اللہ کی مخلوق کے کام آکر ہی اللہ کا شکر بھی ادا کرسکتا ہے نیز جس کے ذمہ حق ہے وہ تحریر لکھوائے یا دستاویز کا مضمون وہ املاء کرائے اور اللہ سے ڈرتا رہے لکھوانے میں کسی طرح کی کوئی کمی بیشی اور حیلہ سازی نہ کرے۔ اور اگر جس پر قرض ہے وہ بےعقل ہے یا ایسا بوڑھا جس کی عقل درست نہیں یا املاء نہیں کراسکتا جیسے گونگا یا پردہ نشیں عورت تو چاہیے کہ اس کا ولی تحریر کرادے۔ مجنون اور نابالغ کا تو ولی ہی تحریر کرائے گا۔ گونگے یا پردہ نشیں عورت یا کسی غیر ملکی کی طرف سے جو زبان سے واقف نہ ہو۔ ولی ہی تحریر کرائے گا اور اگر وہ کسی کو اپنا وکیل مقرر کرے تو بھی درست ہے کہ لفظ ولی کے معنی میں وہ بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ یہ سارا حکم استحبابی ہے جیسے ، واذاقضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض۔
یہاں تک بات ضبط میں لانے کی تھی۔ اس کو درست ثابت کرنے کے لئے ارشاد ہوا ، اس پر تم میں سے دو مردوں کی گواہی ہونی چاہیے ۔ تم میں سے ظاہر ہے کہ گواہ مسلمان ہونے چاہئیں اور بالغ اور عادل ہوں کہ فاسق شہادت کا اہل نہیں اور اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ کرلو۔ ایسے مرد اور ایسی عورتیں جن کی گواہی تمہیں پسند ہو ، یعنی عادل ہوں فاسق نہ ہوں ، ناپسندیدہ افراد نہ ہوں۔ اور ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتیں اس لئے کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلاسکے۔ نیز اکیلی عورت کا مردوں کی مجلس میں جانا پسندیدہ بات نہیں دو ہونگی تو بات اور ہوگی۔
عورت کی شہادت :
نہ اکیلا مرد شہادت کے لئے کافی ہے اور نہ دو عورتیں ۔ بلکہ ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور بہتر صورت یہ ہے کہ شہادت مردوں سے دلائی جائے۔ آج کل ہمارے ہاں اس بات کا بہت چرچا ہے شرعی قانون شہادت میں بالکل اسی طرح سفارش کی گئی جس طرح اللہ کا ارشاد ہے اس پر ملک بھر میں عورتوں کے ایک خاص طبقہ نے بڑا شور مچایا ، یہاں تک کہ جلوس نکلے لاٹھی چارج ہوئے اور ابھی شورش ختم نہیں ہوئی حیرت ہے کہ عورت اس بات پہ جلوس کیوں نہیں نکالتی کہ اسے عورت کیوں بنایا گیا ہے غالباً مردانہ شکل بنا کر ، بال ترشوا کر بازاروں میں گھومنے والی عورتیں اس بات پہ مجسم احتجاج ہیں۔
ان کے مقابلے میں مردوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو اپنے مرد بنائے جانے سے بیزار ، سرخی پائوڈر لگا کر زنانہ لباس پہن کر بازاروں میں کھڑے صنعت باری پہ احتجاج کناں نظر آتے ہیں۔ یہ سب باتیں اللہ نے ناآشنائی ، خالق کی عظمت سے جہالت اور دین سے دوری کا ثبوت ہیں۔
مساوات کے یہ معنی نہیں کہ مرد اور عورت کو کانٹ چھانٹ کر ، ملا جلا کر کوئی درمیانہ راستہ اپنایا جائے اور ایسی مخلوق وجود میں آئے جو ہر طرح سے برابر ہو۔ بلکہ مساوات کا یہ معنی ہے کہ مرد کو جو حق بحیثیت مرد حال ہے وہ ملے اور عورت کو جو حق بحیثیت عورت حاصل ہو۔ عورتوں کو قال کرنے کے لئے ٹیلیویژن پروگرام آئے۔ بڑازور لگایا گیا ، لیکن صرف ان باتوں پر کہ عورت کہاں عدالتوں میں خوار ہوتی پھرے۔
اللہ نے اولاً مردوں کو گواہ کیا ہے اور مجبوراً گواہی دینی پڑے تو عورت اکیلی نہ ہو کم از کم دو ضرور ہوں۔ بھئی ! یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے مگر جو بات اللہ نے ساتھ بیان فرمادی ہے وہ کیوں نہیں کہتے کہ عورت فطرتاً مرد کی نسبت کم استعداد رکھتی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ اگر ایک ہوئی اور بھول گئی تو پھر اس کے لئے کسے گواہ لائو گے ، شروع ہی سے دو رکھو کہ یاد دلاسکیں اور ایک دوسری کے ساتھ بھی ہوں۔
رہی استعداد کی بات ، تو عرض ہے کہ اصل علم نبوت ہے جو تمام علوم کا سرچشمہ اور ساری انسانیت کے لئے مصدر اور منبع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر چہ تمام انبیاء (علیہ السلام) نے عورتوں کی گود میں پرورش پائی۔ بجز حضرت آدم (علیہ السلام) ، جو براہ راست مٹی سے تخلیق کئے گئے مگر کسی عورت کو نبوت عطا نہیں ہوئی اور یہ بار امانت عورت پر نہیں ڈالا گیا۔ کیا کوئی عورت یہاں احتجاج کرے گی ؟
ایک حدیث پاک کا مضمون ہے کہ عقل مند اور سمجھ رکھنے والے مرد کو کم عقل اور کم دین رکھنے والی یعنی عورت سے بڑھ کر کوئی اندھا نہیں کرتا۔ تو کسی عورت نے عرض کی ، یا رسول اللہ ﷺ ! ہم عقل یا دین میں کمزور ہیں ؟ ارشاد ہوا ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی شہادت تو عقل کی کمی پر دال ہے اور ہر ماہ ایام مخصوصہ میں نماز ، روزہ نہ کرسکنا یا نماز کا معاف ہونا ، دین کے نقص پہ شاہد۔
تو کیا ہماری ترقی پسند خواتین جلوس نکالیں گی کہ آئندہ مرد بچے جنا کریں یا ایک بچہ عورت جنے اور ایک مرد ، کہ مساوات قائم رہے ؟ یہ ہرگز مساوات نہیں ، بلکہ مساوات یہ ہے کہ جو فرائض عورت کے ذمہ ہیں وہ ادا کرے ، اور جو حقوق اس کے بحیثیت عورت ہیں ضائع نہ ہونے پائیں۔ اور جو فرائض اللہ نے مرد کے ذمے لگائے ہیں وہ ادا کرے اور اپنے حقوق حاصل کرے۔ نیز جس کو گواہی کے لئے کہا جائے بلا عذر شرعی انکار نہ کرے کہ یہی احیائے حق کا طریقہ ہے اور شبہات سے بچنے کا ذریعہ نہ کوئی ایسا شخص جو گواہ ہو گواہی پر حاضری سے انکار کرے اور نہ ہی دستاویز لکھنے میں سستی کرو ، معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ضرور مقررہ میعاد لکھا کرو کہ یہ تحریر اور شہادت ہی شک وشبہ سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سودا دست بدست ہو تو تحریر نہ لکھی جائے تو بھی حرج نہیں مگر بہتر ہے اس پر بھی گواہ کرلو ، کہ کسی وقت دینے والا یا لینے والا اپنی بات سے پھر نہ سکے۔ اور کوئی نزاع پیدا نہ ہو کبھی لکھنے والے یا گواہی دینے والوں کو تنگ نہ کرو کہ ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو ، پتہ چلا کہ کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچانا حرام ہے۔ کاتب اگر اجرت مانگے یا گواہ آنے جانے کا خرچ طلب کرے تو یہ اس کا حق ہے ادا نہ کرنا بھی اس کو نقصان پہنچانا ہی ہوگا جو حرام ہے اور سخت گناہ۔
دین برحق نے پہلے تو معاملات کو ضبط تحریر میں لانے اور ان پر شہادت قائم کرنے کا حکم دیا۔ پھر کاتب کو ارشاد ہوا کہ لکھنے سے انکار نہ کرے ، نیز مسلمان شہادت دینے سے گریز نہ کریں اور آخر میں ارشاد ہوا کہ کاتب کر پریشان نہ کیا جائے نہ اس کو مالی نقصان پہنچایا جائے ، نہ توہین کی جائے اور نہ بلا وجہ عدالتوں کے چکر لگوائے جائیں تاکہ بات صاف ہو جھگڑے کم ہوں اور ان میں بھی انصاف حاصل ہوسکے۔
اب تو حال برعکس ہے پہلے تو گواہ کو تھانیدار صاحب ہی یوں دیکھتے ہیں جیسے سارا قصور اسی بےقصور کا ہے پھر آئے دن تھا نے کے چکر اور توہین آمیز دھمکیاں۔ جب وہاں سے بچے عدالتوں کے چکر۔ خصوصاً دیوانی عدالتیں تو دیوانہ کیے دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر شریف آدمی شہادت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور پیشہ ور گواہوں کی بن آئی ، عدالتیں ان کے رحم وکرم پر اور انصاف بھی ان کی مٹھی میں۔
کتاب اللہ نے سب کے حقوق مقرر فرمادیئے ہیں اور ارشاد ہوا کہ بحیثیت مسلمان اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا تو آخرت پر ایمان ہے اللہ کے ہاں حاضری کی امید لئے بیٹھے ہو اور پھر اللہ ہی اپنے کمال کرم سے تمہیں تعلیم فرمارہا ہے اور یہ بھی یادرکھو کہ وہ ہر بات سے واقف بھی ہے فقہاء نے اس آیہ کریمہ سے تقریباً بیس اہم فقہی مسائل نکالے ہیں۔ تفسیر مظہری میں عمدہ بحث ہے۔ اس کے ساتھ خوف خدا اور آخرت کی یاد کر رکھا کہ قانون پر عمل تب ہی ہوسکتا ہے جب دل میں ایمان بھی ہو۔ ورنہ تو پس دیوار جو جی میں آئی کر گزرے۔
وان کنتم علی سفر……………واللہ بما تعملون علیم۔
اگر تم سفر میں ہو یا کسی وجہ سے کاتب دستیاب نہ ہو تو کوئی یہ چاہے کہ اعتماد کے لئے کوئی چیز گردی رکھ لے ، تو اس کی بھی اجازت ہے لیکن لفظ مقبوضہ سے ظاہر ہے کہ مرتہن صرف قبضہ میں رکھ سکتا ہے اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتا۔ اس سے نفع حاصل ہو تو راہن یعنی اصل مالک کا ہوگا۔
ہمارے ہاں زمین رہن رکھنے کا رواج ہے پھر مرتہن اسے کاشت کرتا ہے تو چاہیے کہ مالک کا حصہ اس کی رقم سے وصول کرلیا جائے یا اسے دے دیا جائے ورنہ جائز نہ ہوگا۔ نیز اگر باہم ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہو تو اس کو بحال رکھنے میں پوری کوشش کرو۔ جس کے پاس دوسرے کا مال ہو وہ ضرور مقرر وقت پر واپس کرے کہ باہمی اعتماد مجروح نہ ہو اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے یعنی اس کی روزی تو اللہ کے ذمے ہے پھر کیوں امانت میں خیانت کا مرتکب ہو۔ نیز جس کو کسی معاملہ کی خبر ہو یہ بھی امانت ہے۔ ضرورت پڑنے پر ضرور بیان کرے اور شہادت کو نہ چھپائے اگر ایسا کرے گا تو اس کا دل گناہگار ہوگا۔ یعنی یہ محض زبانی گناہ نہیں بلکہ براہ راست دل کو متاثر کرے گا۔ یقینا دل جس طرح گناہ سے آلودہ ہوتا ہے اسی طرح نیکی سے روشن بھی ہوتا ہے۔ حقیقتاً دل حکمران ہے اور گناہ کا حکم وہی صادر کرتا ہے تب اعضاء وجوارع عمل کرتے ہیں۔
اگر دل خود اللہ سے آشنا ہو اور اللہ کا ذکر کرنے والا ہو۔ اللہ کی ذات اور اللہ کا اسم ذاتی جو اس کا مذکور ہے اس میں موجود ہو تو وہ اس کے خلاف حکم نہیں کرتا۔ جب وہ حکم نہیں کرتا تو اعضاء وجوارح اللہ کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ اسی لئے صوفیائے کرام دل پر حملہ آور ہوتے اور ذکر قلبی تعلیم کرتے ہیں کہ جب دل ذاکر ہو کر روشن ہوگا تو سارا جسم نیکی کرے گا۔ ذہن نظر ، کان ، زبان ، ہاتھ پائوں سب اس کے درباری اور پیادے ہیں جو اس کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ اور یہی مفہوم اس حدیث پاک کا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک بوٹی ہے اگر بگڑ گئی تو سارا جسم بگڑ گیا۔ اگر سدھر گئی تو سارا جسم سدھر گیا خوب جان لو ! وہ بوٹی دل ہے۔
سو جو تم سے صادر ہوتا ہے اللہ اس سے خوب آگاہ اس سے واقف ہے اس پر ایسا ہی پھل لگاتا ہے جیسا تم پودا کاشت کرتے ہو۔ ہمہ وقت اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہیے کہ انسانی زندگی کی اصلاح اس کے سوا محال ہے۔
Ayahs 2:284–286آیات 284- 286
اسرارو معارف
للہ مافی السموت……………واللہ علی کل شیء قدیر۔
حقیقتاً تو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کریم کا ہے اصل مالک وہی ہے انسان یہاں محدود مدت کے لئے آتا ہے اور اسے بطور خلیفہ اور امین کے ان چیزوں پر عارضی اختیار عطا ہوتا ہے۔ بالآخر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا جاتا ہے اور وہی مال اور جائیداد بعد آنے والوں کو مل جاتے ہیں۔
یہاں آسمانوں اور زمین میں کی اشیاء کا ذکر فرما کر سب مخلوق مراد لی ہے ورنہ عرش وکرسی اپنا علیحدہ وجودرکھتے ہیں یا قلب ، روح سرخفی اور اخفایا ارواح انسانی سب کچھ اللہ کا ہے مگر طرز کلام ایسا ہے کہ عام آدمی جن چیزوں کے بارے عموماً علم رکھتا ہے وہی ارشاد فرما کر سب جہاں مراد لیا جارہا ہے۔ خواہ عالم خلق ہو یا عالم امر۔ مگر ان چیزوں کا نام نہیں لیا گیا۔ جن سے خواص بھی کم ہی آگاہ ہوسکتے ہیں۔ اب اگر تم کوئی شے دل میں چھپائو یا ظاہر کرو اللہ تم سے سب کا حساب لے گا اور پھر وہ مالک ہے جسے چاہے بخش دے خواہ اس کے گناہ کیسے ہی بڑے ہوں۔ سوائے ان گناہوں کے جن کے بارے اعلان فرمادیا ہے کہ نہ بخشوں گا اور وہ کفر یا شرک ہیں۔
یہاں چونکہ مخاطب مومنین ہیں ، لہٰذا صری کبائر یا صغائر کی بات ہوگی جسے چاہے عذاب دے ، خواہ کسی چھوٹے گناہ پر پکڑلے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یوں تو بہت طویل بحثیں کی گئی ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ وساوس میری امت سے معاف کردیئے گئے تو ان چھپی باتوں سے وہ پوشیدہ ارادے سے مراد ہیں جو کسی کام کے بارے میں دل میں آئیں پھر یہ الگ بات ہے کہ عمل کیا یا نہ کیا۔
یعنی اعتقادات ، عبادت اور معاملات سب میں اول بات دل ہی میں آتی ہے پھر عمل کیا تو ظاہر ہوگئی ورنہ دل میں رہی تو باز پرس ہوگی۔ دراصل اللہ کی طرف سے مقرر کردہ اعمال ہیں ہی دو طرح سے۔ ایک اعضاء وجوارح سے متعلق ہیں۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ یا معاملات۔ دوسرے دل سے تعلق رکھتے ہیں جیسے ایمان ، کفر یا اخلاق صالحہ قناعت ، تواضع ، صبر ، سخاوت وغیرہ یا رذائل کبر ، حرص ، حسد ، بغض ، حب دنیا وغیرہ ، ان سب کا سب حساب ہوگا۔
صفائی قلب :
کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو صفائی قلب کو حاصل کرتے ہیں۔ جو نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم سے سینہ بسینہ چلی آرہی ہے کہ صحابیت صرف صحبت نبوی ﷺ سے حاصل ہوئی۔ ایک خاص کیفیت ان کے دل میں پیدا ہوئی جو ان کی صحبت سے تابعین کو نصیب ہوئی اور تابعین کی زیارت ہی سے تبع تابعین کو ایک خاص مقام حاصل ہوگیا۔ ازاں بعد خوش قسمت افراد نے زندگیاں وقف کردیں اور اس نعمت کو حاصل کیا حتیٰ کہ انہیں وہ مقام حاصل ہوا کہ دولت ومال کجا ، خود اپنی ذات اور اپنے کمالات کو عطائے باری جانا اور کبھی اس کی ملکیت کے مدعی نہ ہوئے۔ اگر کبھی خطا ہوئی جو بحیثیت انسان قلب منور ہونے کے بعد بھی ممکن ہے تو سخت شاق گزری تضرع وزاری کرنے لگ گئے۔ جس سے ان کے گناہ بھی اللہ نے حسنات میں بدل دیئے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ مومن کو اللہ قریب کرے گا اور اپنے دست قدرت سے ڈھانک لے گا۔ پھر ارشاد ہوگا کہ تو نے یہ بھی کیا ، یہ بھی کیا ، حتیٰ کہ وہ سمجھے گا کہ میں ہلاک ہوگیا تو ارشاد ہوگا کہ ہم نے دنیا میں تیرا پردہ رکھا ، یہاں بھی رکھیں گے ، جا ! تجھے بخش دیا۔ اور کافر کا اعلانیہ بتایا جائے گا کہ رسوا ہوں۔ پھر ارشاد ہوگا کہ میری امت کے ستر ہزار افراد بےحساب جنت میں داخل ہوں گے جن کے ساتھ ستر ستر ہزار ہوں گے اور پھر تین لپ بھر کر اللہ بےحساب جنت میں داخل فرمائیں گے۔ صاحب تفسیر مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ ستر ہزار وہ ہوں جو نہ صرف خود کامل ہوں گے بلکہ کامل گرہوں گے کہ ان کے ذریعہ سے دوسرے لوگ بھی کمال کو پہنچے اور انہوں نے خلوص دل سے ہر شے کو اللہ ہی کی ملکیت جانا حتیٰ کہ اپنی نیکیوں کو بھی اللہ کی عطا سمجھے اور مغرور نہ ہوئے۔
دوسرے گروہ ان فقراء کے ہوں گے جنہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کمال حاصل کیا اور صفائی قلب کے حصول میں لگے رہے۔ فرماتے ہیں کہ پہلا گروہ کامل گروں کا ہوگا دوسرا کاملین کا۔ اور اللہ کی لپوں کا کیا اندازہ کہ ہر دوعالم لپ میں سما جائیں۔ فرماتے ہیں دراصل تین طرح کے لوگ مراد ہیں جنہوں نے واقعی کاملین سے فیض پایا اور مریدان باصفا ثابت ہو کر کسی نے عبادات میں درجہ پایا ، کوئی راہ حق میں شہید ہوا اور کسی نے مال اللہ کی راہ میں صرف کیا۔ ایسے تین طرح کے مخلص افراد بھی ان کے طفیل بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے پھر باقی مخلوق کا حساب ہوگا۔
یہاں صاحب تفسیر مظہری ، اللہ ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ! رقمطراز ہیں کہ صوفیاء کے طریقہ پر چلنا اور مجاہدات کے ذریعہ سے امراض نفسانی کو دور کرنے کے لئے ان کے دامن سے وابستہ ہونا ایسا ہی فرض ہے جیسا کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کے احکام کو سیکھنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تم میں دو عظیم الشان چیزیں چھوڑی ہیں۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری آل رسول ﷺ ۔ یہ مردان باصفا ہیں جن کے قلوب انوار محمدی ﷺ سے منور ہیں۔ کہ آل سے مراد حقیقی متبعین ہوا کرتے ہیں۔
اھن الرسول………فانصرنا علی القوم الکفرین۔
یہ سورة بقرہ کی آخری دو آیات بیشمار فضیلت رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ یہ مجھے خزانہ خاص سے عطا ہوئی ہیں جو عرش کے نیچے ہے اس لئے ان کو خاص طور سے سیکھو۔ اپنی عورتوں اور بچوں کو سکھائو۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم اور سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کا ارشاد ہے کہ جس آدمی کو ذرا عقل ہوئی ، سورة بقرہ کی ان آخری آیات کو پڑھے بغیر نہ سوئے گا ۔ نیز سورة بقرہ میں اکثر احکام نازل ہوئے ہیں جن میں عقائد ، معاملات ، معاشرت ، اخلاف ، عبادات غرض کچھ اجمالاً اور بعض تفصیل کے ساتھ۔ اس کا خاتمہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت اور اللہ سے عافیت طلب کرنے پر اور استقامت علی الدین کی ترغیب پر فرمایا۔
ارشاد ہوا کہ ایمان رکھتے ہیں رسول ﷺ اس چیز پر جو ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوئی۔ بیان کا ایک خاص انداز ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا نام نامی لینے کی بجائے ” رسول “ ارشاد فرمایا۔ اس سے آپ ﷺ کی عظمت کا اظہار ہے۔ قرآن کریم میں کسی جگہ بھی بطور خطاب کے ” یامحمد ! “ ارشاد نہیں ہوا بلکہ یا ایھا النبی۔ یا ایھا المزمل یا اسی طرح کے اوصاف سے پکارا گیا۔ جہاں نام مبارک آیا ہے وہاں پکارا نہیں گیا۔ آپ ﷺ کی ذات کو متعین کرنا مقصود ہے ، جیسے محمد رسول اللہ یا وماکان محمدا با احد من رجالکم۔
یا محمد ! کتاب اللہ میں کہیں نہیں :
” یامحمد ! “ کتنا خلاف ادب ہے۔ جب کتاب اللہ میں اس کا لحاظ رکھا گیا ، تو عام مسلمان کیوں نہ رکھے گا ؟ دوسرے لائوں سپیکر پر پکار کر اور بلند آواز سے کہنا کتاب اللہ کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ ارشاد ہے ،
لا ترفعوا صواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروالہ بالقوم۔
کہ نہ نبی اکرم ﷺ کی آواز مبارک پر آواز بلند ہو نہ اس طرح پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو تو بھلی اور اچھی بات تو یہ ہے کہ وہ درود شریف پڑھا جائے جس کے بارے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ثواب میں کوئی دوسرا درود شریف اس کو نہیں پاسکتا۔ لیکن اگر اپنی طرف سے بنا کر پڑھنا چاہتا ہے تو حضور قلب سے اطمینان سے بیٹھ کر یا چلتے پھرتے بھی پڑھے تو ادب کو ہاتھ سے نہ جانے دے خواہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ہی پڑھا کرے مگر اس عقیدے کے ساتھ کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے میرا صلوٰۃ وسلام پیش کردیں گے۔ میں پھر عرض کروں گا کہ سب سے بہتر یہ ہے کہ مسنون اور ادا پڑھا کرے۔
سو جس طرح آپ ﷺ کا ایمان و اعتقاد وحی پر ہے ایسا ہی سب مسلمانوں کا ہے مگر یہاں آپ ﷺ کا ذکر علیحدہ ہوا ہے کہ نفس ایمان میں بیشک سب مسلمان شریک ہوں لیکن مراتب اپنے اپنے ہیں۔
ایمان اور مدارج :
آپ ﷺ کا ایمان مشاہدہ اور سماع پر ہے اور دوسرا مسلمانوں کا ایمان بالغیب اور آپ ﷺ کی روایت اور آپ ﷺ سے سماع پر۔ ایسے ہی ان عظیم ہستیوں کا ایمان جنہیں فناء فی الرسول اور بارگاہ نبوی ﷺ کا مشاہدہ حاصل ہے ان سے بدرجہا بلند تر ہے جن کا صرف روایات پر ایمان ہے۔
اس کے بعد اجمالاً ایمان کی تعریف فرمائی کہ وحی پر اللہ کی توحید ذاتی اور صفاتی پر ، اللہ کے فرشتوں کے موجود ہونے پر ، اللہ کی کتابوں پر اور جو حقائق ان میں ارشاد ہیں ان پر ، اللہ کے سب نبیوں پر کہ کسی بھی نبی کی تکذیب نہیں کرتے اگرچہ اطاعت صرف آخری کتاب اور آخری رسول ﷺ کی ہوگی مگر ایمان سب پر ضروری ہے۔
مقام صحابہ ؓ :
اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جاں سپاری کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے کہا ، سنا ہم نے اور سر تسلیم خم کردیا۔ اے اللہ ! تیری بخشش کے طالب ہیں کہ تیرے ہی دربار میں لوٹ کے حاضر ہونا ہے سبحان اللہ ! ہر دو عالم سے دست بردار ہوگئے اور صرف رضائے الٰہی کو مقصود بنالیا۔
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ تعریف براہ راست صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہے۔ قیامت تک مسلمان اگرچہ اس میں شریک ہوں گے تو صحابہ کرام ؓ کے اتباع کے طفیل اور ان کے نقش پاکے صدقے۔ سو جس نے ان کی اطاعت سے روگردانی کی اس کا ایماندار ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ رضائے باری کا طالب ہو۔
پھر ارشاد ہوا کہ اسلام تو دین فطرت ہے اور اللہ کا احسان عظیم۔ جو کاوش انسان نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہرحال کرنا تھی اسی کوشش کا سب سے اچھا طریقہ اور اعلیٰ ترتیب بھی بتادی اور اس پر عمل کو عبادت بھی قرار دیا۔
انسان اعمال اختیاریہ کا مکلف ہے :
پھر یہ احسان مزید فرمایا کہ جو شخص کسی کام کے کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے لئے جوابدہ بھی نہ ہوگا۔ سبحان اللہ ! گویا غیر اختیاری وساوس جن پر عمل تو کجا انسان رد کرنے کی کوشش کرتا ہے معاف ہوئے یا ایسے اعمال جو غیر اختیاری طور پر سرزد ہوجائیں جیسے رعشہ کی وجہ سے ہاتھ ہل گیا اور کسی کو ایذاء پہنچ گئی ، ان پر مواخذہ نہ ہوگا۔
ہاں ! انسان افعال اختیار یہ کا مکلف ہے خواہ ظاہر کے متعلق ہوں یا باطن سے ، جو کرے گا پائے گا۔ نیکی پہ ثواب اور برائی پہ عذاب۔ یعنی ہر کام میں انسان کے قصدوارادہ کو دخل ہے اور آخر میں ایک جامع دعا فرمائی کہ اے اللہ ! بھول چوک پر بھی اور خطا سرزد ہونے پر جو بحیثیت انسان سوائے انبیاء کے سب سے ممکن ہے۔ اللہ ! ہمارا مواخذہ نہ فرما ، اور توبہ کی توفیق بخش۔ نیز ہم پر ایسی بھارئی توبہ بھی نہ ڈال اور ایسے اعمال شاقہ کا بوجھ نہ ڈال جیسے ہم سے پہلوں پر ڈالا گیا کہ غلطی پر فوری گرفت ہوتی اور شکلیں مسخ ہوجاتی تھیں۔ یا توبہ کے لئے قتل نفس کی شرط عائد فرمادی اور اسی طرح کے حالات بنی اسرائیل کے دیکھے جاسکتے ہیں۔
یہاں ان سے پناہ طلب کرنا سکھایا جارہا ہے کہ اے اللہ ! جس بوجھ کو سنبھالنے کی ہم میں سکت نہیں ، ہمیں اس سے معاف رکھ اور ہماری لغزشوں سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے ، ہم پر رحم فرما۔ اور کفار کے مقابل ہماری مدد اور نصرت فرما۔ ہمیں کفار کے غلبہ سے ہمیشہ مامون رکھ۔
یہاں ان لوگوں کو سوچنا چاہیے جو کفار کے ساتھ دوستی کے طالب ہیں اور اس قدر فدا ہیں کہ حلیہ ، لباس ، کھانے پینے کے طور طریقے تک کفار سے لیتے ہیں اور ان جیسے بن کر اپنے کو ترقی پسند جانتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک نیز اطاعت کو قدامت پسندی کا طعنہ دیتے ہیں۔ العیاذ باللہ !
اللہ کریم کے کرم سے سورة بقرہ تمام ہوئی۔ سب توفیق اللہ کی عطا کردہ ہے اور سب احسان اسی مالک حقیقی کا ہے۔