2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:153–163

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور لیکن تم سمجھ نہیں سکتے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم تمہیں کس قدر خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیں

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں یقینا ہم اللہ کے لئے ہیں اور یقینا ہم پھر کر اس کے پاس جانے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خاص مہربانیاں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ سیدھی راہ پانے والے ہیں

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں سو جو کوئی (اللہ کے) گھر کا حج کرے یا عمرہ کرے (اور) ان دونوں کے درمیان طواف کرے تو اس پر گناہ نہیں ہے اور جو کوئی خوش دلی سے بھلائی کرے تو یقینا اللہ قدر کرنے والے (اور) جاننے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

ہم نے جو دلائل اور راہنمائی نازل فرمائی ہے بیشک جو لوگ اسے اس کے بعد بھی کہ ہم نے کتاب میں لوگوں کے لئے واضح کردی ہے چھپاتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ لعنت کرتے ہیں اور (دوسرے) لعنت کرنے والے لعنت کرتے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں اور (وہ باتیں) بیان کریں تو میں انہی کی طرف فرماتا ہوں اور میں توجہ فرمانے والا مہربان ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

یقینا جو لوگ کافر ہوئے اور کفر پر ہی مر گئے ایسے لوگوں پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان پر عذاب کم ہوگا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا معبود اکیلامعبود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ بڑا مہربان بہت رحم کرنے والا ہے

آیات 153- 163 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔ نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے : ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں بعض پریشانیاں یا صحت وبیماری وغیرہ اور دوسرے اہل اللہ کے لئے معاشرے کی عمومی مخالفت بھی ایک بہت بڑا بوجھ بنتی ہے کہ معاشرہ ہمیشہ اپنی رسومات اور اپنے اطوار کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور اہل اللہ اسے اس کے بنائے ہوئے غیر موزوں اور نامناسب طریقوں سے ہٹا کر اللہ کی راہ پر لگانا چاہتے ہیں جس سے اس کی انانیت کو ٹھیس لگتی ہے اور وہ مقابلے پر اتر آتا ہے سوائے ان سلیم الفطرت لوگوں کے جن کو اللہ ہدایت سے نوازے اور ظاہر ہے ایسے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ تکالیف انبیاء کرام (علیہ السلام) پر آتی ہیں کہ وہ معاشرے میں فسق وفجور اور شرک وکفر کو مٹا کر اللہ کا دین نافذ کرتے اور راستہ بناتے ہیں۔ بعد والے لوگ نبی کی اقتدا میں بنے ہوئے راستہ پر چلتے ہیں تو نبی کی نسبت انہیں بہت کم تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غالباً اس حدیث پاک کا ، جس کا مفہوم ہے کہ مجھے سب انبیاء سے بھی زیادہ تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ راہ بھی یہی ہے کہ دوسرے انبیاء نے صرف مخصوص قوموں کا سامنا کیا کہ انہی کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور حضور ﷺ نے سارے عالم کی رسومات کو للکارا کہ آپ ﷺ کی بعثت سے کے لے کسیو دوسرے سے مخالفت بھی اتنی ہی شدید ہوگی اور تکالیف بھی اسی قدر زیادہ ۔ تو جب تم اللہ کی راہ پر چل نکلے تو اب فرار کسی طرح مناسب نہیں بلکہ جم جائو اور اگر بدکار برائی سے نہیں ہٹتے تو نیکی کا راستہ کیوں چھوڑ دو ۔ ہاں ! یہ کام مشکل ضرور ہے اور اس مشکل کا حل بڑا سہل ہے کہ صبر اور نماز سے مدد لو۔ یہ دکھ کا مداوا ہے۔ صبر کا معنی ہے رک جانا۔ یعنی اللہ کے احکام پر اپنے آپ کو پابند کرنا ، خدا کی نافرمانی سے باز رہنا اور دنیاوی تکالیف پر جزع وفزع سے اجتناب کرنا کہ جس اللہ کی طرف سے حساب احسانات ہیں اگر کوئی معمولی تکلیف آبھی جائے تو شکر ہی مناسب ہے اور یہ مقام اس باطنی تعلق کی وجہ سے حاصل ہوگا جو بندے کو اللہ کریم سے حاصل ہے اور جس کی بنیاد اللہ کی عبادت ہے۔ لہٰذا نماز سے مدد حاصل کرو کہ سب سے زیادہ قرب نماز میں حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ عبادات بھی صبر ہی کا ایک جز ہیں مگر مقام صبر پر استقامت کا سبب بھی ہیں اور سب عبادات میں نماز گویا سب کا تاج ہے تو اس صبر اور نماز سے تمہیں ایک خالص مدد حاصل ہوگی اور وہ ہے کہ معیت ذاتی ان اللہ مع الصابرین کہ یہ پکی بات ہے کہ اللہ ذاتی طور پر صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جب اللہ ساتھ ہو تو پھر تکلیف تکلیف نہیں رہتی بلکہ ظاہراً اگر مصیبت بھی ہو تو باطناً ایک خاص لطف اور لذت لئے ہوئے ہوتی ہے مگر یہ یاد رہے کہ دوسری طرف بندے کا وصف ہے یعنی صبر۔ اگر کسی مقام پر صبر کا دامن چھوٹ گیا تو گویا معیت باری کھو بیٹھا۔ یہی وجہ ہے کہ ولایت شے کسبی ہے کہ بندے کی کوشش سے متعلق ہے اور تادام واپسیں اس کے سلب ہونے کا خطرہ ہے کہ زندگی کی طویل اور کٹھن راہ جہاں بھی صبر چھوٹا ، دولت معیت گئی۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس راہ میں عمریں صرف کردیں اور جن کو دین سے مس ہی نہیں اس راہ پہ چلے ہی نہیں وہ کیسے ولی اللہ بن گئے۔ یہ سب جہالت کے کرشمے ہیں۔ کوئی شخص اتباع دین کو چھوڑ کر ولایت حاصل نہیں کرسکتا۔ بلکہ ولایت خاصہ نام ہی عوام سے بڑھ کر اطاعت کرنے کا ہے ورنہ ظاہر ہے خلاف پمیبر کسے راہ گزید او ہرگز بمنزل نخواہد رسید یہ صرف نبوت ہے جو دہبی طور پر عطا ہوتی ہے اور پھر کبھی سلب نہیں ہوتی کہ شئے موہوب ایک طرح ملکیت ذات بن جاتی ہے لہٰذا مامون ہوتے ہیں مگر ولی آخر تک خطرہ میں یہ اور بات ہے کہ اولیا اللہ کی حفاظت باری حاصل ہوتی ہے اور یہ حضرات محفوظ ضرور ہوتے ہیں مگر اس وقت تک جب تک وصف صبر کو زندہ رکھیں۔ ایک وہم یہ کہ فلاں پیدائشی ولی تھا ، یہ بھی درست نہیں۔ جب ولایت کا تعلق کسب سے ہے اور کسب کا تعلق بلوغت سے جب بالغ ہوگا مکلف ہوگا اور جب مکلف ہوگا تو نیکی کرکے ولایت حاصل کرسکے گا پھر شکم مادر سے منازل سلوک کس طرح طے کر گیا۔ یہ صرف عرفاً کہہ دیا جاتا ہے اور ان خوش نصیب لوگوں پہ اس کا اطلاق ہوتا ہے جو نیک گھرانوں میں یا نیک ماحول پیدا ہوئے۔ اور مزاج صالح پائے بچپن سے برائی سے متنفر رہے۔ حتیٰ کہ بلوغت کے بعد ولایت خاصہ یا منازل سلوک کو حاصل کیا۔ ورنہ پیدائشی طور پر تو ہر پیدا ہونے والا بچہ استعداد لے کر پیدا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ، ” کل مولود یولہ علی الفطرۃ “ کہ ہر پیدا ہونے والا فطری صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس پر رنگ چڑھاتے ہیں اور اسے اپنی روش پہ لگا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کافر بھی توبہ کرے تو ولایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پاسکتا ہے کہ استعداد اس کے وجود میں موجود ہے جس کے آگے کفر کی دیوار تھی یا پھر بےصبری کی دھند۔ اگر کفر کی دیوار بھی ڈھادے اور توفیق صبر بھی پائے تو یقینا ولی ہوگا۔ یہ یاد رہے کہ یہ توفیق صبر خود بخود حاصل نہیں ہوتی۔ یہ کمالات رسالت میں سے ہے کہ لوگ ایک ایک گھونٹ پر گلے کاٹتے تھے مگر ان کی صحبت رسول ﷺ نے وہ صبر دیا کہ میدان جہاد میں زخموں سے چور ، حالت نزع میں بھی پانی دوسروں کی طرف بڑھاتے اور ایثار کی روشن مثال قائم کرتے چلے گئے تو یہ کمال پر توجمال نبوی ﷺ تھا اور ہے جب تک دل میں وہی انوارنہ آئیں صبر کا نصیب ہونا مشکل ہے۔ یہ ایک کیفیت ہے جو صرف الفاظ سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ علم ظاہر بھی ہو اور صحبت کامل بھی تو یہ اس کامل ہستی کے سینے کا پر تو ہوگا جو انوار نبوت کا امین ہو۔ ایک بات یہاں اور بھی ہوجائے اور وہ ہے مجازیب کی۔ تو یاد رہے مجذوب بھی وہ ہوگا جو بعداز بلوغت کسی شیخ کامل سے اللہ کا نور حاصل کرے اور پھر کسی درجہ میں قوت برداشت جواب دے جائے تو عقل وخرد بھی کھو بیٹھے۔ ورنہ پاگل تو ہوسکتا ہے مجذوب سالک نہیں۔ جنہوں نے اس کمال کو حاصل ہی نہیں کیا اور ہوش سے بیگانہ ہیں تو محض پاگل ہیں۔ نیز مجذوب ہونا نقص کی دلیل ہے۔ کمال کا نہیں۔ اگر یہ کمال ہوتا تو انبیاء مجذوب ہوتے مگر کوئی نبی مجذوب نہیں ہوا بلکہ کاملین کو عوام سے جدا کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور جس قدر کسی کو کمال نصیب ہوتا ہے اس کے امور بالکل عام آدمی سے قریب تر آتے چلے جاتے ہیں کہ منزل پر سوار بھی پیدل بن جاتا ہے اور مجازیب سے فائدہ نہیں ہوسکتا کہ انہیں نفع نقصان کا ہوش ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر ان سے نچلے درجے کا کوئی سالک ان کے پاس چلا جائے تو الٹا اس کے احوال سلب ہوجاتے ہیں ان کے انوار قوی ہوجاتے ہیں کہ بالکل ایک طرف لگے رہتے ہیں۔ لہٰذا شرعاً اتنا کافی ہے کہ میں آدمی کے حواس درست نہ ہوں اسے الل کے سپرد کردیا جائے اور کچھ نہ کہا جائے اور استقامت علی الذکر حاصل کرنے میں کوشاں رہے کہ معیت باری کا سبب ہے اگر یہ دولت حاصل ہوجائے تو پھر کوئی تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور تکالیف مبدل براحت ہوجاتی ہیں دنیا میں سب سے بڑھ کر دکھ جو کسی کو دیا جاسکتا ہے وہ ہے قتل ، کہ قیدیا جرمانہ اس سے کمتر درجہ میں ہیں تو اگر کوئی راہ حق میں قتل بھی ہوجائے تو مت کہو کہ وہ مرگیا بلکہ اس نے موت کو بھی شکست دے دی اور موت بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ کرسکی۔ حیات شہدائ : جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں قتل ہونا بدن سے متعلق ہے اور فعل قتل کا درود بدن پر ہوگا۔ تلوار سے کٹ جائے یا گولے سے اڑ جائے۔ اگرچہ اس کی دنیاوی زندگی تمام ہوئی اور یہاں سے کوچ کرکے برزخ میں چلا گیا مگر بایں ہمہ وہ مردہ نہیں بلکہ برزخ میں اسی زندگی کے ساتھ زندہ ہے۔ اگر چہ غذا دن رات یا موسم اور آرام و تکلیف کے احکام اس پر برزخی واردہوں گے۔ اگر روح کا وہ تعلق جو دنیا میں بدن کے ساتھ تھا ویسا ہی قائم رہے اور بدن مرکر بھی زندہ ہے۔ شہداء پر دنیا کے اعتبار سے احکام میت کے وارد ہوتے ہیں میراث بٹتی ہے۔ بیویاں بعداز عدت نکاح ثانی کرسکتی ہیں جنازہ اٹھتا ہے ، دفن ہوتے ہیں مگر بدن کو روح سے وہی تعلق رہتا ہے جو دنیا میں تھا خواہ بدن ریزہ ریزہ ہوجائے یا جل جائے یا درندے کھاجائیں کہ اللہ قادر ہے انسان کے خون کے ایک قطرے میں اربوں جراثیم رکھ سکتا ہے تو درندے کے جزو بدن بننے والے گوشت کو بھی علیحدہ زندگی دے سکتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے اعلیٰ زندگی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہے کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی بعض احکام ظاہری ان کی حیات سے متاثر ہوتے ہیں اگرچہ جنازہ و تدفین ہوتی ہے مگر میراث تقسیم نہیں ہوتی ، ازواج مطہرات نکاح ثانی نہیں کرسکتیں۔ دراصل موت اس کیفیت کا نام ہے کہ جب روح کو بدن سے نکال کر فرشتے اللہ کریم کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں وجود اس کی جدائی سے بےحس ہوجاتا ہے اگرچہ اس عالم آب وگل میں ہوتا ہے مگر اس کے اثرات کی اسے پرواہ نہیں ہوتی چونکہ روح برزخ میں ہوتی ہے تو بدن پر بھی احوال برزخ کے وارد ہوتے ہیں خواہ دنیا میں وہ جس حال میں بھی ہو۔ اللہ کی بارگاہ میں پیشی کے بعد روح کو اس کے مقام پر رکھا جاتا ہے جو علیین یا کفار کے لئے بحین کے نام سے موسوم ہے۔ تو چونکہ اعمال میں روح اور بدن کی شراکت ہے اس لئے جزاء میں بھی دونوں شریک رہتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ دنیا میں بدن مکلف بالذات تھا روح اس کے تابع۔ برزخ میں روح مکلف یالذات ہوتا ہے ، بدن اس کے تابع ، تو روح کا اپنے مقام پر رہتے ہوئے بھی بدن سے ایسا رابطہ ہوجاتا ہے کہ دکھ یا سکھ جو روح پر وارد ہو اس میں بدن شریک رہے جس طرح دنیا میں بدن کی لذت والم سے روح متلذذ ومتالم ہوتی تھی برزخ میں بدن روح کے دکھ سکھ میں شریک ہے اور یہ کہنا کہ وہاں نیا مثالی بدن عطا ہوتا ہے اور اس پر ثواب و عذاب ہوتا ہے۔ نادانی ہے کہ محنت یہ بدن کرے اور ثواب بدن مثالی پائے یا گناہ یہ وجود کرکے اور سزا بدن مثالی پائے یہ نہیں ہوسکتا۔ بدن مثالی نہ دنیا میں آیا نہ مکلف ہوا۔ نہ اس کی طرف کوئی نبی مبعوث ہوا بس اچانک پیدا ہو کر ثواب یا عذاب پانے لگا۔ یہ ناممکن ہے۔ قرآن شاہد ہے کہ آل فرعون غرق ہوتے ہی داخل نار ہوئے۔ اغرقوا فادخلو انارا۔ تو روح کا تعلق غرق سے کیسا ؟ غرق تو بدن ہوئے پھر کسی کا بدن برآمد ہوا اور اکثر مچھلیوں یا سمندری جانوروں کی غذا بن گئے مگر اس کے باوجود اللہ فرماتا ہے کہ آگ میں داخل ہوئے کہ روح جس آگ میں داخل ہوئی وہ ہماری سمجھ سے بالاتر۔ مگر بدن بھی اسی آگ میں ہے کہ روح کے تعلق کی وجہ سے آگ اس تک پہنچ رہی ہے اور وہ جل رہا ہے بظاہر خواہ قاہرہ کے عجائب گھر میں رکھا ہو یہ حال کافر کا ہے۔ مومن کی روح کو بھی بدن سے علاقہ ہوتا ہے اور نعم اخروی کے اثرات بدن تک پہنچتے ہیں۔ مگر شہید یا راہ حق میں قتل ہونے والوں کی ارواح کا تعلق اس قدر قوی ہوتا ہے کہ ابدان بظاہر زندہ نظر آتے ہیں اور صدیوں بلکہ ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہتے ہیں اور یہ اکثر مشاہدہ ہے۔ پہلے کی تو بات کیا۔ اب 1978 ء میں مسجد نبوی کی توسیع کے سلسلہ میں صحابہ ؓ کی قبور اکھڑیں تو چودہ صدیاں بعد بھی ابدان تروتازہ تھے جنہیں جنت البقیع منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایک بات اور سمجھ لی جائے کہ اگر کوئی واقعی شہید بھی ہو اور اس کا بدن سلامت نہ رہے تو کوئی استعباد نہیں۔ کہ موت کی وجہ سے اس کا بدن خراب نہ ہوگا اس کے علاوہ اثرات متاثر کرسکتے ہیں جیسے جلا دیا جائے یا گوشت کاٹ دیا جائے تو جو سب کچھ دنیا کی زندگی میں ممکن ہے اس کے بعد کی زندگی میں بھی ممکن ہے۔ ہاں ، صرف موت کی وجہ سے گل سڑ جانے کا امکان نہیں کہ احیاء کا مصداق بدن ہے جو بعد قتل بھی زندہ ہے کہ فعل قتل اسی پر صادر ہوا اور روح تو کافر کی بھی زندہ رہتی ہے۔ اس میں شہداء کی کیا تخصیص ۔ ہاں ! ان کی زندگی چونکہ باعتبار عالم کے برزخی ہوتی ہے موسم ، ماحول ، آرام ، سب اس کے مطابق ہوتے ہیں اور باعتبار حیات کے بالکل یہی زندگی ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کے مشکل تو نہیں وہ تو کرسکتا ہے ۔ ہماری میڈیکل سائنس کی رسائی سے بالاتر ہے۔ ہم مادی ذہن سے اس بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ صرف اللہ کی اطلاع پر یقین کرلو کہ اس کی بات ہمیشہ سی ہوتی ہے۔ اللہ کا کلام شہداء کی زندگی پہ شاہد اور عقل انسانی انبیاء کی حیات میں سرگرداں وحیراں۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ عقل سے مادی دماغ سے سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان کے دل زندہ نہیں ہیں اگر دل زندہ ہوتے تو وہ اس کی تصدیق کرتے جس کے مقابلے میں عقل کے ہونٹ بھی سل سکتے ہیں۔ اہل بصیرت کے لئے حیات انبیاء بدیہات میں سے ہے۔ خدا تمام مسلمانوں کے دل روشن کردے۔ آمین۔ ولنبلونکم بشیئ………………اولائک ھم المھتدون۔ اسی بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ کسی قدر خوف یا بھوک یا مالی نقصان یا فصلوں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کی جائے گی کہ صرف بےخطر زندگی میں ہی ذکر الٰہی کرتے ہو یا اسباب ظاہری تمہاری کوئی امید نہ بندھا رہے ہوں ، دشمن کا خوف ہو اور کسی تباہی کا سامنا۔ تو اللہ کی یاد سے ہٹ کر اس کے سامنے جھک تو نہ جائو گے یا کم از کم اللہ کی طرف سے غافل تو نہ ہوجائو گے۔ اور یہی حال جانی ومالی نقصانات سے بھی ہوگا یعنی ایک عام انسانی زندگی تمہیں بھی بسر کرنی ہوگی فرق یہ ہوگا کہ غافلین پر جو مصیبت وارد ہوگی وہ واقعی مصیبت ہوگی مگر اللہ کی یاد سے معمور سینہ رکھنے والوں پر اور نور ایمان سے منور دل رکھنے والوں پر جو تکلیف آئے گی اگرچہ صورت مصیبت کی ہوگی مگر ہوگا امتحان کہ کامیابی کی کلید امتحان ہی ہوا کرتے ہیں۔ خداوند عالم کا علم ازلی ہے ، ابدی ہے ، کامل واکمل ہے مگر اپنے بندوں پہ بھی اتمام حجت فرماتا ہے کہ کل میدان حشر میں یہ بات سامنے ہو کہ ان نورانی چہروں نے جہان کی ہر شے قربان کی مگر اللہ کا نام اور اس کی بارگاہ نہ چھوڑی اور وہ بدبخت اور بےنصیب بھی علیحدہ نظر آئیں گے کہ جو ان دنیاوی آسائشوں کے حصول کی غرض سے یا دنیاوی نقصانات سے بچنے کی امید پر غیر اللہ کے در پر سجدہ ریز رہے جو نہ انہیں دنیا دے سکے اور نہ آخرت۔ تو اے میرے حبیب ! میرے ان بندوں کو جنہوں نے ہر حال میں صبر کا دامن نہ چھوڑا اور ہر شے کے نقصان پر یہی بات کہی کہ ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہماری جان ، مال ، آبرو ، اولاد سب اللہ کے لئے ہے جو عطا کرے اس پہ بھی شکر بجالاتے ہیں اور جو لے لے اس پہ بھی شکر ہی کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا کیا ہم تو خود اسی کے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ اگرچہ دکھ طبعاً تو ان کو بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے ارشاد ہے ، اذا اصابتھم مصیبۃ ، یعنی جب ان پہ مصیبت اور تکلیف وارد ہوتی ہے توبہ تقاضائے بشریت ورد تو انہیں بھی ہوتا ہے مگر وہ درد ان کو نہ اللہ سے غافل کرسکتا ہے اور نہ شکوہ سنج ، بلکہ صبر کرتے اور اسی کا ذکر کرتے ، اسی کی یاد میں لگ جاتے ہیں۔ بشارت دیجئے ! انہیں مبارکباد کہئے کہ ان کے دل پہ گزرنے والے ایک دکھی لمحے کے صدقے اللہ کریم انہیں مدت مدید کی خوشیاں بخشے گا۔ اور یہی لوگ ہیں کہ جن پر عنایات خاص ہیں اور ایسے ہی لوگ حق پر ہیں ورنہ تو اگر دنیا کے لذائذ یا فوائد کو عبادات سے جوڑ دیا جاتا تو کون کم بخت پیچھے رہتا۔ لوگ تو جنگ عظیم اول میں سات روپے ماہوار لینے کے لئے سمندر پار جاکر لڑے اور وہیں کٹ مرے تو اگر نماز ، روزہ یا ذکر کے ساتھ رزق لگادیا جاتا تو یہ مساجد سے کب اٹھتے تھے یا صحت کو منسلک کردیا جاتا تو مساجد سے کب اٹھتے تھے۔ بھلا پانچ نمازوں سے پیچھے رہ جاتے ہرگز نہیں۔ روپیہ بھی بچاتے اور صحت بھی پاتے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اے مومنین ! تمہیں اللہ کی اطاعت ، اس کی عبادت بھی کرنا ہے اور دنیا میں انسانی زندگی بھی حسب معمول بسر کرنی ہے بلکہ یہ آیت تو اس بات پہ شاہد ہے کہ غافلین پہ کوئی دکھ آئے یا نہ آئے ، حاضرین پہ تو ضرور وارد ہوگا۔ اسی مقصد کو یہ حدیث پاک واضح کرتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ سب سے زیادہ مصیبت انبیاء کرام (علیہ السلام) پر آتی ہے پھر ان سے قریب تر لوگوں پر اور پھر ان سے قریب لوگوں پر۔ آج کے دور کی بڑی مصیبت بھی یہی ہے لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نماز روزہ کرکے ہم نے اللہ پر احسان کردیا ہے۔ اب اللہ کو ایسا ہی کرنا چاہیے ، جیسے ہماری منشا ہو ، سبحان اللہ ! گویا پہلے عبادت کی اور اب کروانا چاہتے ہو اطاعت ہی تو عبادت ہے معاذ اللہ ! اگر خدا انسانوں کا مطیع ہوگیا تو پھر ہوچکی خدائی ، بلکہ ایسی آرزو کرنا بہت بڑی جہالت ہے۔ ہاں ! ہر حال میں اس کی رحمت پہ امید رکھنا بہت بڑی بات ہے اور اس کی رضا کو اس طرح پانا کہ اپنی پسند اس میں گم ہوجائے اصل درجہ ہے۔ ان الصفا والمروۃ………………شاکر علیم۔ اور ذرا دیکھو تو ! میری ایک بندی نے پوری زندگی کس قدر قربانیاں دی ہیں۔ ایمان لائی تو ہجرت کرنا پڑی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نکاح کیا تو ساری عمر سفر اور غربت کی تکالیف سہیں۔ بادشاہوں سے ٹکر ہوئی ، ظالموں کی قید میں گئیں ، مگر ہر جگہ صبر کیا ، اللہ پر بھروسہ کیا اور ہمیشہ نعمت باری کی سزاوار ہوئیں۔ حتیٰ کہ آخری عمر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسالخت جگر عطا ہوا مگر یہ بخشش بھی مزید امتحان لائی اور بےآب وگیاہ صحرا میں بچے سمیت چھوڑ دی گئیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واپس ہونے لگے تو پوچھا ، یا خلیل اللہ ! ہمیں یہاں کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ فرمایا : ” اللہ کا حکم ہے ! “ تو فرمایا : ” اللہ ہمیں ضائع نہ کرے گا “۔ اس کے بعد پھر نئی مصیبت آگئی پانی ختم ہوا۔ جس کے سبب دودھ بھی سوجھ گیا بچہ بلبلارہا ہے صحرا کی وسعتوں میں بجز اللہ کوئی نہیں جب کوئی صورت نظر نہ آئی تو بےتابانہ پہاڑی پر چڑھیں ، بچہ نیچے رکھا ہوا تھا۔ وہاں سے نظر دوڑائی ، پانی نظر نہ آیا تو دوسری پہاڑی کی طرف چل دیں ، جب وادی میں اتریں تو بچہ اوجھل ہوگیا۔ دوڑ پڑیں کہ نگاہوں کے سامنے رہے مبادا کو کا نور نقصان پہنچائے دوسری پہاڑی سے بھی کچھ نظر نہ آیا تو سات چکر بیتابی سے لگائے۔ بظاہر تو یہ بہت بڑی مصیبت تھی مگر اللہ کو یہ ادا کیسی بھائی۔ فرمایا ، دیکھ لو ! ہم نے صحرا کا جگر شق کرکے چشمہ بھی جاری کردیا اور ان پہاڑوں کو وہ عظمت بخشی کہ دین کی علامتوں میں سے قرار دیا اور ان پر اسی طرح بےتابانہ دوڑنا حج وعمرہ کرنے والوں پر واجب قرار دیا۔ سعی کرنا امام (رح) کے نزدیک سنت مستحیہ ، امام مالک اور شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب ہے (معارف) اور اسے اس عظیم عبادت یعنی حج وعمرہ کے ارکان میں شامل فرمایا کہ جس کے کرنے والا گناہوں سے ایسے پاک ہوتا ہے ، جیسے پہلے روز دنیا میں آیا تھا۔ یہ سب برکات تو دنیا میں ظاہر اور سب کے سامنے ہیں اخروی اجر تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اب رہے وہ لوگ جو آپ ﷺ پر یا کتاب پر یا بیت اللہ کے قبلہ ہونے پر معترض ہیں تو ان کے پیشوا علمائے بنی اسرائیل ہیں کہ مشرک بھی ان سے پوچھتے تھے تو وہ ان سب حقائق سے خوب آگاہ ہیں کتب سابقہ میں یہ سب بطور پیشگوئی کے موجود ہے مگر یہ اسے ظاہر نہی کرتے اور چھپاتے ہیں کہ اسی میں اپنا اقتدار سمجھتے ہیں۔ ان الذین یکتمون……………ولاھم ینظرون۔ جو لوگ ارشادات باری کو جو لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوئے چھپاتے ہیں اور ظاہر نہیں کرتے ، وہ غضب الٰہی کا شکار ہوتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے اور ساری مخلوق کی طرف سے بھی کہ ان کا کتمان حق ایسی ظلمت پیدا کرتا ہے جس کی نحوست کے اثرات ساری مخلوق کو متاثر کرتے ہیں تو سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔ دراصل انسانی افعال کا اثر بہت وسیع ہے یہ قوم لوط کے اعمال تھے جنہوں نے زمین سمیت ساری چیزوں کو تباہ کردیا یا نوح (علیہ السلام) کی قوم کہ جس کے اعمال بد ساری زمین پر طوفان لائے اور سوائے کشتی کے کوئی چیز نہ بچ سکی سب غرق ہوگئے تو اس کا سبب انسانوں کی ہی بدعملی تھی اور سب طرح کی بداعمالیوں میں سرفہرست کتمان حق ہے کہ ایک بات دین کی جانتا ہو مگر دنیاوی مفاد کے لئے بیان نہ کرے یا توڑ موڑ کر اس طرح کرے کہ بات بگڑ جائے مگر لوگ خوش ہوں اور یہ فائدہ اٹھائے ، تو یہ شخص اللہ اور اللہ کی مخلوق کی لعنت کا نشانہ بنے گا۔ بلکہ ارشاد ہے کہ جس نے جانتے ہوئے بات چھپائی ، اللہ اسے آگ کا لگام پہنائیں گے۔ ہاں ! یہ دوسری بات ہے کہ جانتا ہی نہ ہو تو ایسے شخص کو بھی خواہ مخواہ مفتی بننے کا حق حاصل نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہی باتیں بیان کرنے کا حکم ہے جن کے ظاہر کرنے کی ضرورت ہو اور لوگوں کی راہنمائی کے لئے ضروری ہوں خواہ مخواہ مسائل گھڑ کے جھگڑا پیدا کرنا اور اپنی ہوس پوری کرنے کا ذریعہ بنانا بھی سخت جرم ہے نیز لوگوں سے ان کی استعداد کے مطابق بات کی جائے ایسی بات جو عوام کی رسائی سے بالاتر ہو عوام سے نہ کہی جائے کہ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں اور یہ سب کچھ صرف کتاب اللہ کے لئے نہیں بلکہ حدیث رسول ﷺ بھی اسی حکم میں ہے کہ بغیر حدیث کے ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی اور نہ قرآن کے مفہوم کی تعین ہوسکتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا ، سو جو لوگ ان حقائق کو جو اللہ نے لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ہے چھپاتے ہیں سخت ترین مجرم اور لعنت کے سزاوار ہیں۔ مگر بایں ہمہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اتباع رسول ﷺ اختیار کریں اور حق کو ظاہر کریں یعنی محض زبان سے لفظ توبہ کہہ کر خوش نہ ہولیں بلکہ اپنے اعمال کی ، عقائد کی اصلاح کریں اور برائی سے علانیہ بیزار ہوں اگر کوئی حق بات چھپائی تھی تو اسے ظاہر کریں تو اللہ کریم فرماتے ہیں ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہوں کہ میری شان ایسی ہی عظیم ہے اور توبہ قبول کرنا اور رحم کرنا مجھے ہی سزاوار ہے۔ سبحان اللہ ! اگر اس قدر وسیع رحمت اور بخشش سے بھی کوئی فرار ہی اختیار کرے تو پھر یہ پکی بات ہے کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی اور ضھر اسی پر موت سے ہمکنار ہوئے تو ان پر اللہ کی لعنت اور تمام نسل انسانی کی لعنت ہے کہ وہ ان سب کے مجرم ہیں اللہ کی نافرمانی کرکے اس کا جرم کیا اور انسانوں کی بستیوں میں غضب الٰہی کو وارد کرنے کا سبب بنے تو ان سب کی لعنت کے سزاوار ہوئے چونکہ کافر ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس میں کمی نہ ہوگی اور نہ کبھی انہیں مہلت دی جائیگی۔ یہاں سے سمجھ آئی کہ جب تک خاتمہ کفر پہ نہ ہو شخص سمعین پر لعنت کرنا جائز نہیں البتہ ظالموں اور کافروں پر بغیر کسی فرد کی تعین کے لعنت کرنا درست ہے۔ جب یہ اس قدر سنگین بات ہے کہ کافر پر بھی جب تک کفر پر ہی نہ مرجائے لعنت کرنا درست نہیں تو پھر مومن پر خواہ کیسا ہی ہو کبھی جائز نہیں ہوسکتی حالانکہ ہمارے ہاں عورتیں بات بےبات پر لعنت برساتی ہیں جس پر لعنت کی جائے اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو پھر کرنے والے پر پلٹتی ہے اور یہ صرف لفظ لعنت کہنے سے نہیں بلکہ اس کے ہم معنی الفاظ مثلاً رادہ درگاہ یا مردود وغیرہ سے بھی پرہیز لازم ہے سو یہ حال تو ہے ان کا جو کتمان حق کے مرتکب ہیں کہ وہ اپنی ہی راہ میں گڑھا کھود رہے ہیں۔ رہی تمہاری بات تو تمہیں اللہ پہ نگاہ رکھنی ہے کہ وہی اکیلا تمہارا معبود ہے اور اسی کی رضا تمہارا مقصود۔ کوئی کہتا ہے تمہیں اس سے غرض نہیں۔ والھکم الہ واحد لا الہ الا ھوالرحمن الرحیم۔ تمہارا معبوداکیلا ہے جسکا نہ کوئی ثانی ہے نہ شریک اور وہ اکیلا ہی مستحق ہے عبادت کا تمہیں اس کی رضا مطلوب ہے اور اس کے احکام کی بجاآوری تمہارا مقصد کہ وہ بہت بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 2:164–167

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

یقینا آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے ہیں اور ان جہازوں (کے چلنے) میں جو لوگوں کے نفع کا سامان لے کر سمندروں میں چلتے ہیں اور اللہ نے بلندی (آسمان) سے جو پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد تروتازہ کرنے میں اور اس میں مختلف اقسام کے جانور پیدا کرنے اور ہواؤں کو چلانے اور بادلوں کو آسمان اور زمین کے درمیان معلق کرنے میں صاحب خرد لوگوں کے لئے (اس کی توحید کی) نشانیاں ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اللہ کا شریک سمجھ لیتے ہیں (پھر) ان سے ویسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے (ہونی چاہیے) اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ اللہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور کاش یہ غلط کار لوگ اس وقت کو دیکھ سکتے جب عذاب ان کے سامنے ہوگا (تو جانیں گے) کہ سب قوت اللہ کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والے ہیں

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جس وقت کہ پیشوا اپنے پیروکاروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب سامنے دیکھیں گے اور ان کے (بچنے کے) ذرائع ختم ہوجائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور پیروکار کہیں گے کاش ہمیں دوبارہ موقع ملے تو ہم ان سے بیزاری اختیار کریں جس طرح یہ (آج) ہم سے بیزار ہو رہے ہیں۔ اس طرح اللہ ان کے اعمال کو مسرت بنا کر انہیں دکھائیں گے۔ اور انہیں دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا

آیات 164- 167 اسرارو معارف ان فی خلق اسلوت والارض…………………لایت لقوم یعقلون۔ توحید باری کے لئے تکوینی دلائل : یہ بات کہ وہ اکیلا ہی مستحق عبادت ہے اور وہی ہے ہر کہ دمہ پہ رحم کرنے والا ، سب کا خالق ومالک اور رازق معاندین کے لئے بیحد ثقیل تھی۔ خصوصاً نزول کلام کے وقت تو حال یہ تھا کہ گھر کے ہر فرد نے اپنا علیحدہ بت بنارکھا تھا اور پھر مختلف امور کے لئے مختلف خدا ادر الہٰ ۔ تو آج بھی مذاہب باطلہ میں دیکھے جاسکتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے مطابق سوچتا ہے تو یہ کام کہ ساری کائنات کا رب واحد ہے اور تمام امور اکیلا ہی انجام دے رہا ہے اس کی رسائی سے بالاتر ہے۔ ان حقائق تک پہنچنے کے لئے نور نبوت سے اکتساب ضروری ہے اور وہی ان بلندیوں تک رہنمائی کرسکتا ہے۔ یہ اتنی عظیم بات ہے کہ لوگ کلمہ پڑھنے اور اقرار توحید و رسالت کرنے کے بعد بھی بھٹک رہے ہیں۔ عہد نبوی ﷺ مثالی عہد تھا ، پھر اس کے بعد دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پھر تابعین کا زمانہ۔ اس کے بعد اگرچہ ” لا الہ “ کی ضرب اس قدر شدید کاری تھی کہ کوئی کلمہ گو پتھر کو مورت نہ بنا سکا مگر خیال مشکل کشائوں اور حاجت براری کرنے والوں کی ایک فوج نظر آتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے رواجاً کلمہ پڑھ لیا ہے کہ نسل بعد نسل آرہا ہے۔ اس کے حقائق کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔ کہ اس کے لئے انوارات نبوت کی ضرورت تھی جن سے لوگوں کے دل خالی ہیں مگر اسی حقیقت کو جاننے کے لئے دلائل تکوینی بھی تو موجود ہیں جو بنظر غور مطالعہ کیا جائے تو انسان کا رخ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف پھیرنے کے لئے بہت کافی ہیں۔ یہاں انہی سے بحث فرمائی ہے کہ بلا شبہ آسمانوں کی بناوٹ ، اس میں فرشتوں کا قیام اور ان کا امور دنیا پہ مقرر کیا جانا یا بیت المعمور اور بیت العزہ کہ نزول تجلیات کا سبب ہیں کا بنانا ، ان بیشمار حقائق کا ان میں سمودینا جو ان کو نظام دنیا کے لئے بھی ایک سیکرٹریٹ کا درجہ دے رہے ہیں اور زمین کی بناوٹ کہ جملہ سیاروں کی توجہ کا مرکز ہے خزانوں سے معمور رزق سے بھری ہوئی ، پانی سے لبالب اور مخلوق خدا کو اپنی گود میں لئے ہوئے۔ اس پر دن اور رات کی آمد وشد کا نظام دنیا کے قیام میں ان کو ایک خاص دخل ہے اور تعمیر حیات کے لئے جہاں سورج کی تمازت کی ضرورت ہے وہاں رات کی پنہائیاں بھی کم ضروری نہیں اور پھر اسی نظام کو قائم رکھنے کے لئے سمندروں کی تخلیق اور ان کے سینوں پر ٹنوں وزنی جہازوں کی آمدورفت کہ انسانی زندگی کی بقاء کا اور انسانوں کے منافع کا ایک بہت بڑا سبب ہیں اور پھر اس پانی کے خزانے کو آسمانوں سے یا بادل سے نازل کرنے کا اسلوب کہ عین وقت پر اور صحیح جگہ پر اور ٹھیک اندازے کے مطابق نازل ہوتا ہے پھر قطرہ قطرہ برس کر جل تھل کردیتا ہے اور دریائوں کو کناروں سے باہر اچھال دیتا ہے۔ اگر اسی طرح کا دریا اوپر سے انڈیل دیتا تو آبادیاں تباہ ہو کر رہ جاتیں مگر ایسا نہیں ، بلکہ ایک خاص طریقے سے اترتا ہے اور زمین کی نس نس میں پہنچ کر اس کی تازگی کا سبب بنتا ہے اور ہوائوں کو خاص اندازے سے خاص موسموں میں چلاتے ہیں کہ سب چیزوں کو زندگی بخشی ہے اور ان کی پرورش کرتی ہے۔ کبھی گرم ہو کر کبھی سرد ہو کر ، کبھی پروا تو کبھی پچھوا ہے اور پانی کے اس سمندر پر مقرر فرمانا کہ جو زمین وآسمان کے درمیان بادل کی صورت میں معلق ہے اگر کچھ حصہ برسے ، تو برداشت نہیں ہوسکتا۔ خدانخواستہ سارا گر پڑے تو کیا ہوتا۔ تو گویا یہ جملہ امور ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے مدار کی حیثیت رکھتا ہے اور سب کاموں کا اپنے صحیح وقت پر درست انداز میں پورا ہونا ہی جہاں کی آبادی کا سبب ہے اور جو واقعی ہورہا ہے اس میں توحید باری کی بہت بڑی دلیل موجود ہے۔ اگر متعدد رب ہوتے تو یہ نظام کسی تصادم کی نذر ہو کر تباہ ہوجاتا۔ ان استدلالات کو سمجھنے کے لئے عقل سلیم کی ضرورت ہے۔ معاذ اللہ ! اگر کہیں اس نظام کی کوئی کڑی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی تو یقینا کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مقام پر ضرور اختلاف پیدا ہوتا جو دنیا کی ویرانی کا سبب بن جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ ہر شے اور ہر کام اپنے وقت مقررہ پر انجام پارہا ہے۔ عرش علی سے تحت الثری تک ہر چیز اپنے اپنے کام میں لگی ہے تو یقینا یہ ایک ہی حاکم کے حکم پر عمل ہورہا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق بھی ہے۔ مگر لوگوں کا حال عجیب ہے ، ومن الناس……………ان اللہ شدیدا۔ مومن اور محبت الٰہی : کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اوروں کو بھی کار ساز سمجھتے ہیں اور اس طرح ان کو خدائی میں شریک قرار دیتے ہیں چناچہ جو محبت اللہ سے رکھنی چاہیے تھی وہ محبت ان باطل خدائوں سے رکھتے ہیں کہ جب ان سے توقع کارسازی کی رکھتے ہیں تو یقینا محبت بھی رکھیں گے مگر مومنین ایسا ہرگز نہیں کرتے بلکہ سب سے اشد محبت اللہ سے رکھتے ہیں۔ مشرکین کی محبت تو جلب منفعت کی ہے ہر دروازے پر کسی شے کو حاصل کرنے کی لالچ میں سرکھتے ہیں ، اگر جان یا مال اور اولاد پر زد پڑتی نظر آئے تو چونکہ ان کی محبت مشرک پر اپنے معبود کی نسبت غالب ہوتی ہے اپنے معبود کو چھوڑ دیتا ہے ان کو نہیں چھوڑ سکتا مگر مومن کی شان دوسری ہے کہ طبعاً مال ، جان ، اولاد سے محبت تو رکھتا ہے مگر ایسی نہیں کہ یہ چیزیں اسے اللہ سے بیگانہ کردیں اگر کبھی ضرورت پڑجائے تو اللہ کے نام پر سب کو قربان کردیتا ہے مگر اس کے در کو اور اس کے نام کو نہیں چھوڑتا ، کہ تمام محبتوں پر اسی کی محبت کو غالب رکھتا ہے۔ یہی ماحصل ہے تصوف کا۔ کہ اس قدر اللہ ، اللہ کرے کے دل و دماغ میں رچ بس جائے۔ سارا جہان چھوٹ جائے مگر اللہ کا نام نہ چھوٹے۔ سبحان اللہ ! کیا ہی بہتر ہوتا کہ ظالم بھی مصائب کو دیکھ کر سمجھ پاتے کہ بجز اللہ کے کوئی ان کو روکنے نہیں ، نہ کسی کی جرات ہے کہ ان کو ٹال سکے اور نہ کوئی شدت مصیبت میں یاد ہی رہا کہ یہ حال اگر دنیوی مصائب میں ہے تو اخروی گرفت تو اس سے شدید تر ہوگی ، وہاں کون آڑ بن سکے گا کہ ساری قوت و طاقت اسی ذات واحد کو سزاوار ہے کام آنا تو دور کی بات ہے۔ باطل میں اپنی پیروی کرانے والے تو الٹے اس روز اپنے پیروکاروں سے بیزار ہوجائیں گے ان کے اعمال کی سزا کا تصور ہی جان لیوا ہوگا جبکہ اپنے ذاتی اعمال ہی انہیں دوزخ میں دھکیل رہے ہوں گے۔ تو جن لوگوں نے ان کے پیچھے لگ کر باطل راہ اپنائی ان کا بوجھ بھی اوپر لادا جائے گا وہ ان سے سخت بیزار ہوں گے مگر اس وقت اسباب منقطع ہوچکے ہوں گے اور جان چھڑانے کا کوئی ذریعہ نہ پاسکیں گے ۔ نیز غلط کاروں کے پیر خود ان کی حالت دیکھ کر سیر ہوجائیں گے کہ یہ رفاقت تو جہنم کو لے چلی تو خواہش کریں گے کہ کاش دنیا میں لوٹ کرجاتا تو جیسے یہ آج ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں ہم بھی ان کو کھری کھری سناتے مگر یہ سب صرف ان کو اپنے کئے پر حسرت دلانے کے لئے ہوگا ورنہ تو دونوں گروہوں کو اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ بلکہ رہیں گے دوزخ ہی میں اور کبھی آگ سے نہ نکل سکیں گے۔
Ayahs 2:168–176

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو ! زمین میں موجود حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو (پیروی نہ کرو) یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

بلا شبہ وہ تمہیں برائی اور بےحیائی کا مشورہ دیتا ہے اور اللہ کے ذمہ ایسی باتیں لگانے کا کہتا ہے جو تم جانتے بھی نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں سے جب اللہ کے نازل کردہ (احکام) پر عمل کرنے کا کہا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے آباؤاجداد کے طریقہ کی پیروی کرتے ہیں خواہ ان کے اجداد نہ کچھ سمجھ ہی رکھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پر ہوں

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور ان کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسے (جانور) کے پیچھے چلارہا ہے جو سوائے شور اور آواز کے کچھ نہیں سنتا یہ بہرے ، گونگے ، اندھے ہیں پس وہ عقل سے محروم ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ہمارے دیئے ہوئے میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس (اللہ) کے اطاعت گزار ہو تو

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

یقینا اس نے تم پر مردار کو حرام کیا ہے اور خون اور خنزیر کا گوشت اور (ایسا جانور) جس پر (بوقت ذبح) اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے ہاں اگر کوئی بہت مجبور ہوجائے تو وہ حد سے نہ نکلے اور نہ زیادتی کرے تو اس پر گناہ نہ ہوگا یقینا اللہ بخشنے والا مہربان ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے حقیر سی شے (دولت دنیا) حاصل کرتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کریں گے اور نہ انہیں پاک کریں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور بخشش کے بدلے عذاب ۔ سو وہ دوزخ پر کس قدر دلیر ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب کو حپ کے ساتھ نازل فرمایا اور یقینا جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ بہت دور کی (بڑی) گمراہی میں جاپڑے (مبتلا ہوگئے)

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا حکم نہ ہوگا مگر تم اس بات کو اللہ کی طرف منسوب کرو گے۔ یا پھر اللہ پر اعتراضات کرتے رہو گے کہ حلال و حرام وہی ہیں جو اللہ نے مقرر فرمائے ہیں نہ یہ کہ شیطان کے بہکاوے میں آکر تم حلال کو حرام سمجھ بیٹھو اور حرام چیزوں کو حلال کہہ کر کھاتے رہو۔ کہ لوگ بعض حلال جانوروں کو بتوں کے نام کرکے چھوڑ دیتے اور ان کا کھانا حلال نہ جانتے تھے۔ کسی قدر مشابہت آج کے دور میں بھی پائی جاتی ہے۔ کہ مسلمان بھی جانوروں کو بعض بزرگوں کے نام مختص کردیتے ہیں اور پھر اپنے پر اس کو حلال نہیں سمجھتے۔ یہ سراسر ناجائز اور سخت گناہ ہے اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر مختص ہوجائے جب تک اس خیال سے توبہ نہ کی جائے حرام ہوگا اور مردار کے حکم میں ہوگا۔ لہٰذا ان کو ان کی اصلی حالت پر چھوڑ کر کھائو ، پیو ! یہی بات جب ان سے کہی جائے کہ اللہ کے احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں بھلا ہم باپ دادا کے رواج کو کیوں چھوڑ دیں اور ان کی اطاعت کیوں نہ کریں۔ ان کی اطاعت ضرور کرتے لیکن اس شرط پر کہ وہ یعنی ان کے آبائو اجداد سمجھ رکھنے والے اور ہدایت یافتہ بھی تو ہوتے کہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت بن جاتی مگر حال یہ ہے کہ ان یعنی کفار کے آبائو اجداد نہ ہدایت پر تھے اور نہ ہی سمجھ رکھتے تھے کہ حق و باطل میں تمیز کرسکتے۔ تقلید : بعض لوگ یہ آیات تقلید آئمہ مجتہدین کے خلاف پڑھ دیتے ہیں جو صریحاً زیادتی ہے ، اور مدلول آیت سے فرار ، بلکہ اس آیت نے تقلید کے لئے دو شرائط پیش کی ہیں۔ ایک یہ کہ عقل رکھتا ہو احکام دین کا استخراج کرسکے اور قرآن وسنت کا علم یعنی ہدایت رکھتا ہو۔ اگر یہ دو وصف نہ ہوں تو اندھی تقلید ہوگی جو باطل ہے ورنہ حق میں تو تقلید ضروری ہے کہ خود قرآن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول موجود ہے کہ میں نے اتباع کیا اپنے آبائو اجداد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا۔ ہاں ! خلاف سنت امور میں یا فرائض وواجبات میں احکام الٰہی کے خلاف کرنا اور جاہل باپ دادوں کے رواج کو اپنانا سخت ظلم ہے۔ اس کے ساتھ اگر یہ گمان بھی رکھے کہ صحیح طریقہ یہی ہے جو مروج ہے اور احکام دین معاذ اللہ فضول ہیں تو کافر ہوگا ، جیسے آج کل عموماً کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر یہ کام سنت یا شریعت کے مطابق کروں تو نکٹی ہوگی۔ ایسا کہنے والا ایمان نہیں بچا سکتا۔ اگر خلاف سنت بھی کر گزرے تو کم از کم یہ احساس ضرور ہو کہ حق تو راہ سنت ہے میرا کام غلط ہے تاکہ ایمان تو بچ سکے۔ یہ حال تو مسلمانوں کا ہے تو سراسر باطل پہ جمے ہوئے ہیں اور اپنے کافر اجداد کی پیروی بہ نسبت احکام الٰہی ضروری خیال کرتے ہیں یہ تو ایسے گئے گزرے ہیں کہ ان پر نصیحت کا بھی اثر نہیں ہوتا جیسے کوئی شخص ایسی شے کو پکاررہا ہو جس میں سننے کی صلاحیت ہی نہ ہو ، سوائے چیخ و پکار کے ، بلکہ یہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں اور اس کے ساتھ انتہائی بیوقوف اور بےعقل بھی کہ سمع و بصارت کو بھی محض پیٹ بھرنے کے لئے استعمال کرنا تو شرف انسانیت نہیں ہے بلکہ یہاں تک تو سب جانور بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں ان کا مصرف اصلی تو حصول معرفت تھا جس سے یہ محروم رہے تو گویا آنکھ کان رکھتے ہوئے بھی بہرے ، گونگے اور اندھے ہی رہے۔ نیز تمہاری دماغی قوتوں کو بھی محض دنیا کمانے کے لئے ہی صرف کیا حالانکہ یہی قوتیں دلائل حقہ ، کو سمجھنے کا ذریعہ بھی تھیں تو گویا اس نے عقل کو بھی ضائع ہی کردیا۔ غذا کا اثر : اے ایمان والو ! یہ سب چیزیں میں نے تمہیں روزی میں دی ہیں اور نوع انسانی کے لئے یہ سارا نظام ہے مگر یادرکھو ! ان میں سے طیب کھائو یعنی پاکیزہ کہ حلال بھی ہو اور پاک بھی کہ طیب صرف ، حلال ہی نہ ہوگا بلکہ پاک بھی ہو۔ اصل میں انسانی مزاج غذا ہی سے تعمیر پاتا ہے حرام غذا کی ایک خاص نحوست اور کیفیت ہوتی ہے جو اللہ سے دور کرتی ہے اور شیطانی القاء کو قبول کرتی ہے۔ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ بہت سے طویل السفر اور پریشان حال اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے اور یارب ! یارب ! پکارتے ہیں مگر کھانا پینا ، لباس ان کا حرام ہوتا ہے۔ دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟ حرام سے حاصل کی گئی قوت زبان حق بیان نہیں کرسکتی اور کان حق نہیں سن سکتے ، آنکھوں میں حیا نہیں رہتی اور دل میں نور نہیں رہتا۔ انسان پر شیطان کا اثر قوی ہوجاتا ہے اور وہ اسی کے نقش قدم پر چل نکلتا ہے۔ رزق حلال سے ایک نور دل میں پیدا ہوتا ہے حق گوئی اور حق پرستی کی قوت نصیب ہوتی ہے عبادات کے لئے دل میں ذوق پیدا ہوتا ہے اور دل کی آہ عرش تک پہنچتی ہے اور گناہ سے بےرغبتی پیدا ہوتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اگر تم صری اللہ کی عبادت کرنے والے ہو تو حلال کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو اور محض اپنی طرف سے کوئی شخص قید لگا کر کسی شے کو حرام نہیں کرسکتا بلکہ حرام وہی ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ حلال و حرام : اللہ نے تو مردار ، خون ، لحم خنزیر اور وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، حرام کیا ہے کہ بنیادی طور پر تمام جانوروں کو ان قسموں میں پرکھا جاسکتا ہے جو ان میں سے ہو وہ حرام ، علاوہ ان کے سب حلال۔ سب سے پہلا ہے ھیتہ یعنی مردار۔ اس کی مصداق وہ جانور ہیں جن کے حلال ہونے کے لئے ذبح کرنا ضروری مگر وہ بغیر ذبح کے مرجائیں یا مار دیئے جائیں ، جیسے گلا گھونٹ کر یا پتھر وغیرہ سے ضرب لگاکر اور دوسری قسم مردار کی وہ ہے کہ جانور شرعی طور پر ذبح کرنے سے بھی حلال نہیں ہوتے وہ جب بھی جس حال میں مریں یا مارے جائیں مردار ہوں گے اور ان سے نفع حاصل کرنا یا کھانا جائز نہ ہوگا سوائے ان جانوروں کے جو رسول اللہ ﷺ نے بغیر ذئح کے حلال قرار دیئے ہیں جیسے مچھلی اور ٹڈی۔ ارشاد ہے کہ ہمارے لئے دو مردار حلال کردیئے گئے ہیں ایک مچھلی دوسری ٹڈی اور دو خون حلال کردیئے گئے ہیں جگر وطحال (ابن کثیر) ان میں بھی جو مچھلی سٹر کر پانی کے اوپر آجائے حلال نہیں رہتی۔ نیز ذبح میں ایسے جانور جو شکار کئے جائیں اگر قابو نہ آسکیں تو تکبیر پڑھ کر دھاردار چیز سے زخم لگائیں تو بغیر ذبح کے حلال ہوگا اور وہی اس کے ذبح کا حکم رکھے گا۔ مگر شرط ہے کہ چیز دھار دار ہو اور کاٹے ، توڑے نہیں۔ مثلاً تیر یا خنجر وغیرہ اگر بندوق کی گولی سے جانور مرا تو وہ اس حکم میں ہوگا جیسے لاٹھی یا پتھر کی چوٹ سے مرا ، اس لئے اس کو مرنے سے پہلے ذبح کرنا ضروری ہے۔ بیشک گولی نوکدار ہو کہ کوئی گولی ادھاردار نہیں ہوتی اور نوکدار کی نوک میں بھی کاٹنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ بارود کے زور سے گوشت یا ہڈیوں کو توڑتی ہے۔ ظاہر ہے جیسے مردار کا کھانا حرام ہے اسی طرح اس سے نفع اٹھانا یا کسی دوسرے کو کھلانا بھی ناجائز۔ حتیٰ کہ جانور کو بھی مردار نہ کھلایا جائے بلکہ کسی ایسی جگہ رکھ دے جہاں سے کوئی کتا بلی وغیرہ خود اٹھا کر کھالے۔ ہاں ! مردار کی ہڈی ، کھال ، بال وغیرہ جو چیز کھانے کی نہیں ہے ان سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ جیسے ارشاد ہے ، ” ومن اصوافھا واوبار ھا واشعارھا اثاشا وھتاعالی الی حین “۔ میں مطلقاً اجازت ہے ذبح شرط نہیں۔ ہاں ہڈی خشک ہو ، گوشت یا چربی کا اثر نہ ہو اور کھال کی دباغت کی جائے کہ یہ اثرات نہ رہیں۔ گوشت کی طرح چربی بھی حرام ہے اور مردار کی چربی سے صابن وغیرہ بنانا بھی ناجائز ۔ جیسے اکثر یورپ سے آنے والے صابن وغیرہ میں اس کا احتمال زیادہ ہے بلکہ ممکن ہے خنزیر کی استعمال ہو۔ اس لئے احتیاط ضروری ہے ہاں علم قطعی نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے مگر جن ڈبوں پہ لکھا ہو کہ اجزاء خنزیر سے شامل ہیں وہ تو قطعی حرام ہیں۔ دوسرا حرام خون ہے یہاں اگرچہ صرف لفظ دم استعمال ہوا ہے مگر سورة انعام میں ساتھ مسفوح بھی ہے یعنی بہنے والا۔ تو وہ خون جو عندالذبح بہتا ہے حرام ہوگا یازخمی جانور کے زخم سے بہنے والا۔ ہاں بعد ذبح اگر گوشت میں لگارہ گیا تو وہ اس حکم میں شامل نہیں ذبح میں حلقوم کو کاٹے اور گردن کی دونوں رگیں احتیاط سے کاٹے۔ کوئی رگ رہ نہ جائے۔ نیز گردن کو توڑ کر پیچھے مروڑ کر حرام مغز کو کٹنا مکروہ ہے۔ کہ اس کے کٹنے سے دل کی حرکت فوراً معطل ہوجاتی ہے جس سے خون کے جسم میں رہ جانے کا امکان ہے جو قصاب وغیرہ عموماً کاٹ دیتے ہیں کہ اس طرح جانور کے مرنے میں جلدی ہوجاتی ہے نیز خون کا بیچنا بھی حرام ہے۔ خون کا دینا : ایک مسئلہ دور حاضرہ ہے کہ انسانوں کا خون دیا جاتا ہے یہ ایک تو کیا اضطراراً جاتا ہے کہ اس کے بغیر مریض جانبر نہ ہوسکتا ہو۔ دوسرے ٹیکے سے لیا جاتا ہے اور ٹیکے سے رگ میں داخل کیا جاتا ہے اس میں کھانے پینے کا سوال نہیں وہ اس حکم میں نہیں آتا کہ ناجائز ہو۔ ہاں ! اس کی تجارت درست نہیں۔ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فراہم کرنا چاہیے۔ تیسری شے لحم الخنزیر یعنی کسی بھی حال میں اس کا گوشت تک حلال نہیں۔ باقی تمام اجزاء بھی باجماع امت حرام ہیں کہ یہ نجس العین ہے بلکہ اس کی اجرت لینا تک حرام ہے مثلا کوئی خنزیروں کی چربی پہ نوکر ہو یا کسی کے پالتو خنزیروں کا چوکیدار ہو یا ٹرک وغیرہ میں لاد کر پہنچائے اور اجرت لے یہ سب حرام ہے۔ یہی حکم شراب اور سود کا ہے شراب کی مزدور اور سود کی گواہی تک حرام ہیں۔ وما اھل بہ لغیر اللہ۔ چوتھی شے وہ جانور ہے جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کردیا جائے۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ کوئی جانور غیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے اور وقت ذبح اسی کا نام لیا جائے یہ جانور مردار ہوگا اور اس کی کسی شے سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بھی غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کیا جائے اور وقت ذبح اس پر اللہ ہی کا نام لیا جائے۔ یہ بھی حرام اور مردار کے حکم میں ہے اور کسی امام کا اس میں اختلاف نہیں۔ خواہ ہندو یا غیر مذاہب بت یا دیوی دیوتائوں کو خوش کرنے کے لئے کریں یا مسلمان پیروں ، بزرگوں اور اولیاء اللہ کو خوص کرنے کے لئے۔ حکم دونوں کا ایک ہے کہ دونوں میں تقرب غیر اللہ کا مقصود ہے اشتراک علت سے حرام ہوگا۔ نیز یہ وماذبح علی النصب کے حکم میں آکر بھی حرام ہوگا کہ ” نصب “ ان تمام کو کہا جائے گا خواہ اشیاء ہوں یا افراد جن کو الہ مانا جائے یا ان کی وہ عظمت تسلیم کی جائے جو صرف اللہ کا حصہ ہے اور ایسی عاجزی ان کے سامنے کی جائے جو صرف اللہ کے لئے ہے خواہ وہ فرشتہ اور نبی ہی کیوں نہ ہو ، جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا بیٹا مانے پھرتے ہیں تو اگرچہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برحق نبی ، مگر عیسائی غیر اللہ کے پجاری قرار پائے۔ اب اگر ان کا تقرب حاصل کرنے کو جانور ذبح کریں گے ۔ خواہ ذبح کے وقت اللہ ہی کا نام لیں ، حرام ہوگا۔ یہی حال پیروں کے مرغوں اور بکروں کا ہے کہ کسی بھی بزرگ کا تقرب چاہنے کے لئے ذبح کرے گا ، حرام قرار پائے گا اور اس کا کھانا ناجائز۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی جانور اللہ کے بغیر کسی اور کے نام پر مختص کردیا جائے اور اسے ذبح کرنا یا بیچنا یا اس سے کام لینا ناجائز تصور کیا جائے۔ وما اھل بہ لغیر اللہ کے حکم میں بھی داخل ہو اور وماذبح علی النصب کے حکم میں بھی۔ ان ہی کو بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کہا گیا ہے نیز ان کے حرام سمجھنے سے جانور حرام نہیں ہوجاتا۔ اگر اس عقیدے سے توبہ کرے تو ذبح کرے یا کوئی دوسرا جو اس گمراہی میں مبتلا نہ ہو مثلاً باپ نے بکرا ، پیر کے نام چھوڑ رکھا مگر بیٹا اس خیال سے متفق نہ ہو اور اللہ کے نام پر ذبح کرے حلال ہوگا۔ ہاں ! اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس جانور کو صدقہ کرکے ثواب کسی بزرگ کو پہنچائے تو اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرے اور جو ثواب حاصل ہو وہ مرنے والے کو بخشے درست ہے نیز شرعاً یہ جانور اسی کو ملک ہوتا ہے اگر بیچ دے تو جائز ہے یا ہبہ کرے درست ہے۔ ایسے ہی وہ جانور ، جو ہندو وغیرہ مندروں پر دیتے تو چڑھاوا ہیں مگر پجاریوں کو اختیار دیتے ہیں کہ رکھیں یا بیچیں یا جاہل مسلمان مزارات وغیرہ پر دے کر مجاوروں کو اختیار دے دیتے ہیں ، ان کی خرید وفروخت جائز ہے مگر وہ چیز جو صرف قبر پر رکھ دی جائے یا مزار پر چھوڑ دی جائے تو چونکہ قبر تو مالک نہیں ہوسکتی اس لئے وہ اسی آدمی کی ملکیت رہتی ہے اس کی خریدوفروخت کے لئے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ یہی حال نذر اور منت کے جانوروں یا مٹھائیوں کا ہے خواہ ہندو مندر میں دے یا مسلمان مزار پر ، اشتراک علیت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی وجہ سے وما اھل لغیر اللہ میں داخل ہو کر حرام ہے اور اس کا کھانا کھلانا بیچنا سب حرام ہیں۔ تفصیل کتب فقہ سے ملاحظہ ہو۔ حرام چیزوں کے بیان کے بعد ایک حکم استثنائی ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک سے قریب المرگ ہے کہ نہ تو کھانے میں لذت کا خواہشمند ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھائے تو اس صورت میں ان حرام چیزوں سے بھی کھالے تو اس کے لئے کوئی گناہ نہیں یعنی یہ دونوں شرطیں پائی جائیں۔ اول تو بغیر اس شے کے کوئی چیز دستیاب نہیں اور پھر بغیر کھائے یا پئے موت کا اندیشہ ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ نہ لذت طلبی ہو نہ پیٹ بھر کے کھائے صرف اس قدر کھائے کہ موت سے بچ جائے اس صورت میں حرام حلال نہ ہوگا رہے گا حرام ہی مگر اس آدمی پر گناہ نہیں۔ فلا اثم علیہ یعنی اس پر کچھ گناہ نہیں یہی حال حرام دوائوں کا ہے کہ بغیر اس دوا کے چارہ نہ ہو۔ آدمی کو موت کا خطرہ اور اس کے بغیر کوئی صورت ممکن نہ ہو۔ محض معمولی تکلیف میں اور حلال و جائز دوائوں کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی جواز نہیں۔ یہ حکم ان ولایتی دوائوں کا ہے جن میں شراب وغیرہ نجس اشیاء کا ہونا یقینی معلوم ہو جن میں ایسے اجزاء کا وجود مشکوک ہو ان میں اور بھی گنجائش ہے مگر احتیاط بہرحال لازم ہے۔ چونکہ یہ احکام رواجات سے براہ راست متصادم ہیں اور ہر دور میں انسانی کمزوری رہی ہے کہ کسی نہ کسی شے کو آسرا بنائے رکھتا ہے اور اس پر نذر ونیاز چڑھا کر مطمئن ہوجاتا۔ نیز یہی شے راہبوں ، پادریوں اور پیروں کو اظہار حق سے مانع بھی ہے کہ ایک تو رواج سے براہ راست ٹکر لینا مشکل ہے اور دوسرے اس میں کافی آمدن بھی ہے جسے چھوڑنا آسان نہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پیشتر کی امتیں بھی اس مرض کا شکار تھیں اور علمائے سو نے اپنی آمدن کے ذرائع بنا رکھے تھے اور باطل مذاہب کی تو بنیاد ہی یہی چیزیں ہیں مشکل تو یہ تھی کہ آسمانی مذاہب کے ماننے والے بھی اس طوفات میں گھر چکے تھے۔ اور بدنصیبی یہ ہے کہ مرور زمانہ نے مسلمان کو جو اکیلا مذہب حقہ کا وارث ہے اسی دلدل میں پھینک دیا ہے چڑھادے چڑھتے ہیں۔ شیرینیاں بٹتی ہیں اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا غریب ادھار لے کر بکرا نذر کرتا ہے کہ ادھار کی مصیبت سے چھوٹ سکے مگر نادان اور دھنستا چلا جاتا ہے اور بڑی بڑی توندوں والے مزار فروش تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو روکھی سوکھی اور صبر کی تلقین کرکے گھر میں انگریزی کھانے پکواتے ہیں اور لوگوں کو مسجد کی دعوت دے کر گھر میں عریاں فلمیں دیکھتے ہیں ایسے لوگ کب جرات کرتے ہیں کہ ان حقائق سے پردہ اٹھائیں۔ اللہ کریم نے اس جرم کو اور اس کی شدت کو یوں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی کو جو اللہ نے کتب میں نازل فرمائے ہیں چھپاتے ہیں اور اس فعل کو ذریعہ آمدن بنائے ہوئے ہیں۔ یا دولت دنیا لے کر احکام شرعی کو بدل دیتے ہیں یہ دونوں باتیں ایک سی ہیں کوئی غیر اللہ کے نام کی نیازیں وصول کرتا رہے اور لوگوں کو یہ یقین دلاتا رہے کہ یہ جائز اور بہت بڑا ثواب ہے یا پیسے لے کر کوئی حکم بدل کر بتائے تو ایسے لوگ سوائے دوزخ کی آگ کے اور کچھ نہیں کھا رہے ہیں یعنی یہ مال بظاہر تو دنیا کا رزق ہے مگر اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ نار جہنم ہے۔ اگرچہ دنیا میں عام انسان کو نظر نہ آرہا ہو۔ دوسری مصیبت اس کی یہ ہے کہ ولا یکمھم اللہ یوم القیمۃ کو روز محشر اللہ کریم ان سے مطلقاً بات نہیں کریں گے اگرچہ بعض کفار اتنی اجازت تو ہوگی کہ عرض معروض کریں گے۔ اور اتمام حجت کے بعد ان پر حکم لگایا جائے گا کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہاری عرض سنی جائے بلکہ دوزخ میں داخلے کے بعد اللہ کو پکاریں گے تو جھڑک ہی سہی جواب تو پائیں گے کہ دوزخ میں بھی نامرادی کا شکار ہو۔ آئندہ مجھے پکارنے کی جرات نہ کرنا۔ مگر ایسے لوگ جو حرام کو حلال بلکہ ثواب بتا کر دولت جمع کرتے رہے ان کو یہ سزا میدان حشہ سے ہی شروع ہوجائے گی کہ خطاب الٰہی سے محروم ہوں گے اور انہیں پاک نہیں کیا جائے گا کہ حدیث شریف میں آتا ہے جب کوئی مسلمان حرام کا مال کھائے تو جو گوشت رزق حرام سے بنے گا اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ پھر اللہ کریم نیا گوشت عطا فرما کر اسے جنت میں داخل فرمائیں گے کہ حرام کا کوئی ذرہ جنت میں نہ جائے گا مگر یہ لوگ اس سے بھی محروم ہوں گے۔ ولایزکیھم۔ ان کو پاک بھی نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے عذاب بھی بہت درد ناک ہوگا یعنی بہت سخت اور بہت زیادہ ایذا دینے والا عذاب۔ عام دوزخیوں کی نسبت بہت دکھ دینے والا ہوگا کہ ایسے لوگ جو گمراہی کے بدلے ہدایت کو چھوڑ دیتے ہیں گویا وہ خود معرفت الٰہی کو ٹھکرا کر عذاب الٰہی خریدتے ہیں اور یہ لوگ دوزخ پہ کس قدر صبر کئے بیٹھے ہیں۔ جاہل بزعم خود عیش کر رہے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ دوزخ کی آگ کھا کر کون سی عیش نصیب ہوگی اگرچہ یہ بہت سخت سزا ہے مگر یہ بلاوجہ نہیں بلکہ ان کا جرم بھی بہت شدید ہے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی کو نوع انسانی کے لئے باعث حیات تھی۔ مگر ان بدبختوں نے محض پیٹ بھرنے کے لئے مزارات اور تعزیے بنا کر لوگوں کو روحانی موت سے ہمکنار کیا اور مٹھائی کا لیبل لگا کر زہر کھلائی اور بجائے احقاق حق کے کتمان حق کے مرتکب ہوئے۔ یہ بہت سخت جرم تھا اور یہ پکی بات ہے کہ جو بھی اللہ کی کتاب میں بےراہ روی اور کج روی اختیار کرے وہ بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو اور اسی نسبت سے سخت ترین سزا کا حقدار۔