2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:177–182

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرو یا مغرب کی طرف اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور آخرت کے دن پر اور رفشتوں پر اور کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور اس کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں کو اور یتیموں کو اور فقیروں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور قیدیوں کو چھڑانے میں دے اور وہ نمازکو قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور (یہ لوگ) جب عہد کریں تو اپنے وعدے کو پورا کریں اور تنگی اور بیماری اور حالت جنگ میں صبر کریں یہ وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں۔ اور یہی لوگ پرہیزگار ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر قتل (عمد) میں قصاص (برابری) فرض کیا گیا ہے آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ہاں جس کو اس فریق کی طرف سے کچھ معافی ہو وے (یعنی خون بہا پر راضی ہوجائے) تو اس پر اچھی طرح عمل کیا جائے اور اس کو اچھے طریقے سے ادا کیا جائے یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے پھر جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اے صاحب خرد لوگو ! اور تمہارے لئے (قانون) قصاص میں حیات ہے تاکہ تم پرہیزگار بن سکو

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے (اور) اگر وہ مال چھوڑ رہا ہو تو اس میں والدین اور قرابت داروں کے لئے بہتر طور پر وصیت کرے۔ جو پرہیزگار ہیں ان کے لئے یہ ضروری ہے

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی اسے سننے کے بعد اس میں تبدیلی کردے تو یقینا اس کا گناہ اس کو تبدیل کرنے والوں پر ہوگا یقینا اللہ سننے والاے (اور) جاننے والے ہیں

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر کسی کو وصیت کرنے والے سے یہ ڈر ہو کہ اس نے غلط کیا یا گناہ کیا ہے تو ان (وارثوں) میں اصلاح کردے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے یقینا اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

آیات 177- 182 اسرارو معارف لیس البران تولوا وجوھکم…………وللئک ھم المتقون۔ شروع سورة سے یہاں تک روئے سخن معاندین کی طرف تھا اور ضمناً مسلمانوں کو بھی خطاب فرمایا جاتا رہا۔ مثلاً اولا ایمان کی بحث ، پھر انسانوں کی اقسام بلحاظ عقائد اور پھر نوع انسانی کو دعوت عبادت ، صداقت قرآن اور حقانیت پیغمبر اثبات توحید اور پھر کفار کے اعتراضات کے جواب اور اسی ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر احسانات و انعامات اور پھر قبلہ کی بحث چلی اور عبادات اور ان کا اجر مذکور ہوا۔ اور زاں بعد شرک کے اصول کا ابطال۔ یہ سب مضامین نصف سورة تک آئے۔ ان کے بعد اب بقیہ آیات میں جو تقریباً نصف سورة ہیں ، روئے سخن مسلمان کی طرف ہے گو ضمناً خطاب کفار سے بھی ہے۔ یہ بحث اس موضوع پر شروع ہوئی کہ نیکی کیا ہے اور کیا نہیں ہے ؟۔ چونکہ کفار اپنی رسومات کو نیکی منوانے پر مصر تھے تو اللہ کریم نے لفظ ” بر “ سے بحث کا آغاز فرمایا تو زندگی کے ہر پہلو میں نیکی کو بیان کردیا مثلاً احکام قصاص ، وصیت ، روزہ جہاد ، حج وانفاق ، حیض وایلا۔ و طلاق ، عدت ومہر اور بعض معاملات بیع وشرا کے بیان کرنے کے بعد وعدہ رحمت مغفرت پہ اس کو تمام کیا۔ حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے اس مجموعہ کا نام ” ابواب البر “ رکھا ہے۔ ایمان اور عبادات : ارشاد ہوتا ہے کہ نیکی اسی پہ ختم نہیں کہ تم تعین قبلہ میں الجھے رہو کہ فلاں سمت منہ کرنے والا اچھا ہے یا دوسرا۔ بلکہ اصل کمال تو اللہ پر ایمان ہے جیسا کہ اس کی ذات ہے اور جیسی اس کی صفات ہیں اللہ کا تصور یا کسی ایسی ہستی کا تصور ، جو سب پر غالب اور آخری حیثیت رکھتی ہو تو ہر مذہب میں موجود ہے مگر اس ذات کے اوصاف اہل مذہب نے اپنی سمجھ کے مطابق مقرر کر رکھے ہیں حالانکہ ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ واقعی جیسا ہے اس کو ایسا ہی یقین کرے اس کی تعیین صرف اور صرف انبیاء (علیہم السلام) ہی کرسکتے ہیں جن کو خود اللہ اپنی ذات اور صفات کے بارے علم و آگہی بخشتا ہے۔ ایمان باللہ کے لئے ضروری ہوا کہ جس طرح نبی کریم ﷺ منوائیں اس طرح مانیں۔ اس کی قدرت اور اس کے علم پہ یقین کامل رکھتا ہو۔ اسی کو اپنا خالق ومالک اور رازق جانتا ہو۔ غرض اعتقادات کی اساس ہے ایمان باللہ ! اگر یہی درست نہ ہو۔ اللہ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک جانے تو کیا فرق پڑا کہ اس کا منہ مغرب کو ہے یا مشرق کو۔ اور پھر اسے یہ یقین کامل بھی حاصل ہو کہ ایک روز میں نے اس عالم الغیب والشہادہ کے حضور حاضر ہو کہ اپنا حساب پیش کرنا ہے جو اللہ میرے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے جو میری کلام اور اعمال سے واقف ہے اور جس نے نیکی وبدی کا معیار مقرر فرمایا ہے اسی کے سامنے پیش ہو کر اپنے کردار کی جوابدہی کرنا ہے نیز اسے فرشتوں کے وجود پر اور کتاب الٰہی کی صداقت پر یقین حاصل ہو اور انبیاء (علیہ السلام) کی صداقت وحقانیت پر صمیم قلب سے اعتقاد رکھتا ہو۔ دراصل انسانی مزاج ایسا ہے کہ ہر آدمی اپنی حیثیت کے مطابق یہ چاہتا ہے کو جو خیالات یا نظریات میرے ہیں وہی سارے جہان کے ہوں اور ہر کہ ومہ اسی کو قبول کرے۔ یہ اسی جذبے کی تسکین کا سامان تھا کہ کفار اپنے خیالات ہی کو مذہب اور عبادت کا درجہ دیتے تھے اور یہی شے آج کے مسلمانوں کو بھی باہم دست وگریباں کر ارہی ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات دوسرے پر ٹھونسنے کے لئے تیار ہے اور رواجات کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اختلاف رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے ہی خارج سمجھاجاتا ہے۔ ایک مسجد والے دوسری والوں کو تکفیر کرتے ہیں یہ یہیں سوچتے کہ کفار کا مساجد میں کیا مقام اور کیا کام۔ اگر اتنا ہی شوق جہاد ہے تو روئے زمین پر مسلمانوں کی نسبت کافر زیادہ بستے ہیں وہاں جاکر کام کرو اور ان کی اصلاح کا سامان کرو نہ یہ کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں ان پر کفر کی تلوار چلاتے ہو۔ اللہ کریم نے اس آیت میں یہ حق بندے سے لے لیا ہے کہ نیکی اور بدی کی تعیین تیراحق نہیں ، یہ میرا کام ہے تیرا کام نیکی کو اختیار کرنا اور برائی سے اجتناب ہے اس کے معیار کر فرشتے کتاب اور نبی کے ذریعہ میں تجھ تک پہنچائوں گا۔ اسی طرح عبادات میں بھی رسوم کو دخل نہیں بلکہ وہی کام عبادت ہوگا جو اللہ فرمائے گا۔ دوسرے درجے میں انسان کو مال عزیز ہے اللہ کریم نے اس کے کمانے کی تدبیر بتلانے کی بجائے اس کے مصارف ارشاد فرمادیئے ہیں۔ یہ صورت صرف اسلامی معاشیات میں ہے کہ خرچ کی حدیں بھی مقرر ہوں۔ ظاہر ہے جب خرچ اللہ کے حکم کے مطابق کرتا ہے اپنی پسند سے کمانے کی کیا ضرورت ؟ تو فرمایا اگرچہ طبعاً مال اس کو محبوب ہوتا ہے مگر اللہ کی ذات سے کم۔ اس کی محبت میں مال کو رشتہ داروں پر ، یتیموں ، محتاجوں ، مسافروں پر اور غلاموں کو آزاد کرانے پر صرف کرتا ہے۔ اور اس چیز کو زکوٰۃ سے مقدم ذکر فرمایا کہ صرف زکوٰۃ ادا کرکے کوئی مالی فرض سے سبکدوش نہیں ہوجاتا۔ نیز عموماً ان چیزوں کی طرف کم توجہ دی جاتی ہے حالانکہ ضرورت ان اشیاء کو بھی فرض کردیتی ہے مثلاً زکوٰۃ تو دے چکا مگر کسی رشتہ دار کی جان پہ بن آئے تو اس کی مدد کرنا فرض ہوگا۔ یا کوئی مسکین بھوک سے مررہا ہو اور انسان کہے کہ میں تو زکوٰۃ دے چکا۔ نہیں بلکہ اس کی جان بچانا فرض ہوگا۔ اسی طرح ضرورت کی جگہ ، مسجد کی تعمیر ، مدرسہ ومکتب وغیہر۔ یہ سب فرائض مالی میں داخل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کو صرف ضرورت فرض کرے گی ورنہ یہ فرض نہ ہوں گے اور زکوٰۃ ہر حال میں فرض۔ یہ لوگ نماز کو قائم کرنے والے یعنی اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنے والے اور زکوٰۃ دینے والے ہوں گے۔ عبادات کے بعد درجہ معاملات کا ہے۔ فرمایا ایسے لوگ جو اپنے وعدوں کو پورا کریں ۔ جن میں سرفہرست اللہ سے عہد ہے اللہ کے رسول ﷺ سے عہد ہے۔ یہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ایک مقدس عہد ہی تو ہے اس کے بعد کب زیب دیتا ہے کہ انسان ارشادات نبوی ﷺ کے مقابلے میں رسوم جاری کرے یا ان کو اہمیت دے اسی لئے بزرگوں کا قول ہے کہ دوستی کرنے سے پہلے دیکھ کیا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا وفادار ہے اگر نہیں تو تو اس پر بھروسہ نہ کر کہ وہ اس قابل ہی نہیں۔ چنانچہ اسی طرح درجہ بدرجہ معاملات میں درستی رکھتا ہے۔ اس کے بعد اخلاقیات ، کہ سختی اور تنگی میں صبر کرتے ہیں۔ یہی ایک ایسا وصف ہے کہ مندرجہ بالا تمام امور میں معاون ہے کہ خود اس کی بناء اعتماد علی اللہ اور اعتماد علی الرسول ﷺ پر ہے کہ اللہ میرے حال سے مجھ سے بڑھ کر آگاہ ہے۔ اور میری ذات سے بھی زیادہ میرا بھلا چاہنے والا ہے اگر تنگی ہے تو یقینا یہی میرے حق میں بہتر ہے بلکہ اگر سرکٹ رہے ہیں تو بھی استقلال اور پامردی کا مظاہرہ کرتا ہے کہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چاہا ہی ہوگا اور اللہ وہی چاہے گا جو میرے حق میں بہت ہی بہتر ہوگا۔ حجاج بن یوسف جب مرض الموت میں تھا تو اس کی والدہ رو رہی تھی کہنے لگا ، ” امی ! کیوں روتی ہیں ، لاکھوں آدمی میرے سامنے موت کے گھاٹ اترے آخر ایک روز مجھے بھی جانا ہی تھا اور وہ وقت آگیا۔ “ کہنے لگی ، ” میرے رونے کا سبب یہ نہیں بلکہ اس بات پہ روتی ہوں کہ بعد موت تجھ سے کیا سلوک ہوگا ؟ “ حجاج کہنے لگا ، ” امی ! اگر میرا حساب اللہ آپ کو دے دے تو مجھے معاف کردیں گی ؟ “ کہا ، ” یقینا ! “ کہنے لگا ، ” حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ اپنی مخلوق پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی والدہ اپنی اولاد پہ ہوا کرتی ہے “۔ یہی بات کسی نے خواجہ حسن بصری (رح) سے کہی تو فرمایا : ” یہ بات اس کی بخشش کا سبب بن سکتی ہے صبر کا مدار بھی اللہ پہ یقین پر ہے اور جملہ طاعات کا مدار صبر پر ہے “۔ جو ایسے ہیں اعتقادات ، عبادات ، معاملات اور اخلاقیات میں اولئک الذین صدقوا یہ لوگ ہیں جنہوں نے سچ کہا۔ یہ کھرے لوگ ہیں اور یہی متقی ہیں۔ یعنی انہیں کو ایک خاص نسبت اللہ سے حال ہے جسے تقویٰ کہا جاتا ہے اور اگر یہ بات نہیں تو پھر مشرق کو منہ کیا یا مغرب کو ، کیا حاصل۔ قصاص : انسانی معاشرے میں عموماً جب کوئی شخص کسی بھی وجہ سے دوسرے شخص کو پسندنہ کرتا ہو تو چاہتا ہے کہ یہ آدمی دنیا میں نہ رہے اور بس چلنے پر اسے قتل کردیتا ہے عموماً اس کی وجہ حسد ہوتا ہے یا پھر لالچ وغیرہ۔ وجہ خواہ کوئی بھی ہو یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر دور میں انسان انسانوں کو قتل کرتے رہے ہیں اور خصوصاً بعثت نبوی ﷺ کے زمانے میں روئے زمین پر اور خصوصاً انسانی جانوں کی کوئی قدر نہ تھی۔ ہر زبردست کمزور کو قتل کرنا تو گویا اپنا حق سمجھتا تھا اور اگر کسی وجہ سے کسی کمزور قبیلے کے ہاتھوں کسی امیر قبیلے کا کوئی فرد مارا جاتا تو پھر عجیب مطالبے ہوتے کہ ہماری عورت کے بدلے اس کا مرد قتل کیا جائے یا ان کے آزاد آدمی کے بدلے ہم اپنا غلام قتل کے لئے پیش کریں گے وغیرہ۔ حتیٰ کہ دو قبیلے ایسے تھے کہ جن میں قبل اسلام جنگ ہوئی اور طرفین کے مرد عورتیں اور غلام قتل ہوئے۔ جب ان کو اسلام نصیب ہوا اور صلح کی بات چلی تو ان میں سے ایک نے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے غلام کے بدلے ان کا آزاد اور عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے تب صلح ہوگی۔ گویا وہ اپنی ذوات کو ان کی نسبت برتر خیال کرتے تھے۔ نیکی پر بحث کرتے ہوئے اللہ کریم نے سب سے پہلے اسی امر کی اصلاح فرمائی کہ یہ معاملہ برارہ راست انسانی جانوں سے متعلق تھا فرمایا کہ اے ایمان والو ! پہلی بات تو یہ ہے کہ قصاص لینا تم پر فرض ہے قصاص مماثلت کو کہا جاتا ہے اور اصطلاح شرح میں قتل عمد کے بدلے قتل یازخم لگانے کے بدلے برابر کی سزا کو کہا جاتا ہے۔ اور یہ اختیار ہر ایک کو نہیں کہ جس کا قتل ہوجائے وہ دوسرے کے قتل کے درپے ہو بلکہ حاکم یا انتظامی سربراہ کا فرق ہے کہ قاتل کو یا زیادتی کرنے والے کو سزا دے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو عنداللہ قاتل کے ساتھ وہ خود بھی ماخوذ ہوگا۔ اب جبکہ یہ مساوات ضروری ٹھہری تو مساوات تب ہی ہوگی جب مقتول کے بدلے قاتل کو سزا ملے نہ یہ کہ غلام کے بدلے بےگناہ آزاد یا عورت کے قاتل ہونے کے باوجود سزا اس کے مرد کو دی جائے۔ فرمایا کہ آزاد کے بدلے آزاد ، غلام کے بدلے غلام ، عورت کے بدلے عورت قتل ہوگی جبکہ آزاد کا قاتل آزاد اور غلام کا غلام ہو یا عورت ، عورت کو قتل کرے۔ اسی طرح بالعکس بھی یعنی قتل کرنے والا آزاد ہو یا غلام ، عورت ہو یا مرد ، قتل کی سزا میں قتل کیا جائے گا۔ یہاں تک تو ان کے جاہلانہ اور ظالمانہ طریق کار کی اصلاح کی بات ارشاد ہوئی۔ اس کے ساتھ اصلاح کا ایک اور عمدہ پہلو ارشاد فرمایا کہ جب ایک جان تو ضائع ہو ہی چکی اب اگر اس کے ورثاء اس بات پر راضی ہوں کہ اللہ کی راہ میں قاتل کو معاف کردیں تو بیشک اس پر کوئی مطالبہ نہیں کہ ان کا یہ احسان دوسرے شخص کی اصلاح کردے یا اگر وہ چاہیں تو قتل کے بدلے دیت یا خون بہا قاتل سے لے لیں جس سے ان کو تنبیہ بھی ہوگی اور مقتول کے وارث کی مالی امداد بھی۔ دیت یا خون بہا شرعاً سو اونٹ یا ہزار دینار ہے جس کو صاحب معارف نے حل کرکے 36 سیر 36 تولے 8 ماشے چاندی دور حاضرہ کے اعتبار سے قرار دیا ہے اب اس کی قیمت لگائی جاسکتی ہے یا باہم کسی قدر مال پر مصالحت ہوجائے ، تو پھر وہی مال دیت بن جائے گا اس کی مفصل بحث اور شرائط کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مقتول کے ورثاء میں اگر ایک وارث بھی اپنا حق معاف کردے تو قاتل پر قصاص معاف ہوجائے گا اور اسے قتل نہ کیا جائے گا اس میں بات صرف قاتل اور ناحق مقتول کی ہے گورے ، کالے ، یا آزاد غلام یا مرد ، عورت کی نہیں۔ نوع انسانی کے افراد ہونے میں سب برابر ہیں۔ یہ انصاف صرف اسلام کے پاس ہے ورنہ روئے زمین پر باطل مذاہب ہوں یا دور جدید کی نام نہاد تہذیب ہر طرف زبردست مارتا بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتا۔ ہندومت میں اگر شورد ، برہمن پر تھوکے تو اس کی زبان کھینچ لی جاتی ہے اور اگر برہمن شودر کو قتل بھی کردے تو کوئی جرم نہیں ہے۔ اسی طرح مغربی دنیا کے بنائے ہوئے جمہوری قوانین تو خود ہم پر بھی مسلط ہیں اور ان کی لائی ہوئی مصیبتیں یہاں پیش نظر ہیں۔ کہ مقتول کے ورثاء کو اس کا دکھ بھول جاتا ہے اور مقدمے کی فکر ، گواہوں کا اہتمام ، وکیل کی فیس اور اس طرح دوسری مصیبتوں کی فکر لاحق ہوجاتی ہے سالوں مقدمہ چلتا ہے بےچارے کچہریوں میں ذلیل ہوتے ہیں اور پھر جج صاحب قاتل کو بری کردیتے ہیں کہ اس طویل مدت میں گواہ ہی نہ رہے۔ کوئی مرگیا ، کوئی اندھا ہوگیا یا پھر رشوت لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے اب اس کا اثر مقتول کے ورثاء پہ یہ ہے کہ وہ ایک کی بجائے معتدبہ بےگناہ افراد کو بھی شامل کرتے چلے جاتے ہیں کہ اگر چھوٹ بھی جائیں تو کم از کم ذلیل تو ہوں۔ ان قوانین کو بنانے والے اسلام کے قانون قصاص پر طنز کرتے ہیں حالانکہ وہ سراسر امن اور ان کے قوانین سراسر فساد ہیں۔ آج بھی اس کی زندہ مثال مغربی معاشرے اور سعودی عرب میں موازنہ کرکے دیکھی جاسکتی ہیں کہ امریکہ میں انسانی جان کی کیا قیمت ہے ؟ لندن اور انگلینڈ میں کیا ہورہا ہے اور وہ ظالم انگریز جو یہاں تو معمولی بات پر گولی چلوادیتا اور کشتوں کے پشتے لگا دیتا تھا۔ اپنے ملک میں ہزاروں بےگناہ ایشیائی باشندوں کے قتل پر سوچ رہا ہے کہ کیا قاتلوں پر ربڑ کی گولی بھی چلائے یا نہ اور دنیا بھر کی خبر دینے والا ادارہ بی بی سی بھی اس بات پر منقار زیر پر ہے۔ اس کے مقابل سعودی عرب کو دیکھیں جہاں صرف حدود اسلامی کا نفاذ اور قصاص لیا جاتا ہے کوئی غریب ترین آدمی بھی کسی بڑے سے بڑے آدمی سے نہیں دبتا بلکہ اس کا اپنا حق ہے اور اس کا اپنا۔ اور دنیا میں اگر کسی ملک کا امن مثالی ہے تو وہ ملک یہی ہے اگرچہ ان میں وہ دینداری نہیں مگر اسلامی قانون کی برکات عیاں ہیں۔ فرمایا صاحب عقل اس بات کو جان سکتے ہیں کہ قصاص ہی میں زندگی ہے اور جس معاشرے میں ظالم کا ہاتھ نہ روکا جائے وہ معاشرہ تباہی کا منظر پیش کرتا ہے جس پر تاریخ عالم ہے۔ یہی بات تمہیں قرب الٰہی بخشنے کا سبب اور تمہارے وصف تقویٰ سے متصف ہونے کا ذریعہ بھی ہے یعنی قصاص ہر دو عالم کی بھلائی ہے اصلاح معاشرہ بھی اور آخرت کی سرخروئی بھی۔ یہ بات تو قتل کی تھی ، جو لوگ طبعی موت مرتے اور اپنے پیچھے مال چھوڑ جاتے ہیں وہ بھی کھینچا تانی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایے ایمان والو ! تم پر فرض ہے کہ اگر مال چھوڑو تو اس کے بارے وصیت بھی کرو۔ ماں باپ اور رشتہ داروں کے حق میں اور انصاف سے کرو ، جس قدر کسی کا حق بنتا ہے نہ اس سے زیادہ دو نہ کم کرو۔ یہ حکم اللہ کے نیک بندوں پر لازم ہے۔ اس آیات میں مال کو ” خیر “ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مومن جائز ذرائع سے کماتا اور شرعی طور پر خرچ کرتا ہے پھر اس کمے پاس کچھ مال بچ رہے تو وہ بھی خیر ہی کہلاتا ہے۔ اسلام میں مال جمع کرنا منع نہیں ہے ، ناجائزطور پر کمانا بھی منع ہے اور خرچ کرنا بھی ، ایسے ہی ناجائز ذرائع سے جمع کرنا بھی ناروا ہے ورنہ حلال رقز کے لئے محنت کرنا بجائے خود عبادت ہے اسے ناجائز امور میں خرچ کرنا نیکی اور پس ماندگان کو دے کر جانا خیر ہے۔ جب آیہ میراث نازل نہ ہوئی تھی مرنے والوں پر فرض تھا کہ مال میں وصیت کرتا۔ پھر جب اللہ نے خود ورثاء کے حقوق مقرر فرمادیئے تو یہ حکم منسوخ ہوا کہ یہ اللہ کی مرضی کس وقت کون سا حکم باقی رکھتا ہے۔ ہاں ! ورثاء کی اجازت سے اب بھی وصیت کرسکتا ہے یا پھر باجماع امت مال کے ایک تہائی میں وصیت کا حق رکھتا ہے یہ حکم اس شخص کا ہے جس کے ذمے کسی کا حق یا امانت نہ ہو اگر دوسروں کے حقوق واجب نہ ہوں تو پھر وصیت واجب ہوگی۔ نیز ایک تہائی ہیں جو وصیت کا حق دیا گیا ہے انسان اپنی زندگی میں اس میں تبدیلی کا حق بھی رکھتا ہے کس قدر ناپائیداری عالم یہاں ہے کہ صاحب مال ورثاء سے اجازت لے کر وصیت کرسکتا ہے گویا مال اس کا نہیں ورثاء کا ہے اور پھر جب ان کے پاس پہنچے گا تو یہی حال ان کا ہوگا اس مال کے لئے جو کسی کا ہے۔ انسان اگر نافرمانی کرے تو کس قدر نادانی ہے واقعی دنیا کا مال چند روزہ ہے جو دوسروں کو سونپ کر چلے جانا ہے۔ وصیت سننے والوں کا حق ہے کہ اسے تبدیل نہ کریں اگر ایسا کریں گے تو اللہ کریم بھی سن رہا ہے اور جانتا ہے۔ جس کی بارگاہ میں کل انہیں جواب دینا ہے۔ ہاں ! وصیت کرنے والا اگر غلط کر جائے اور طرفداری یا ناجائز تقسیم کا خطرہ ہو تو ورثاء میں باہم صلح کرانا۔ اور اس کے لئے اگر وصیت میں تبدیلی بھی آجائے تو کوئی گناہ نہیں کہ اللہ کریم بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ دراصل احوال کی اصلاح کی بنیاد ہی ایمان بالآخرت ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں پیشی پر یقین ہو۔ اور ہر کام کو اس نگاہ سے کرے کہ اس کا اثر وہاں کیا ہوگا۔
Ayahs 2:183–188

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن سکو

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(یہ) گنتی کے دن ہیں پھر (اگر) تم میں کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں وہ فدیہ دے دیں جو ایک فقیر کا کھانا ہے پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو تو

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے اور (اس میں) ہدایت کی روشن دلیلیں ہیں اور فیصلہ کرنے والا (ہے) ۔ سو جو تم میں سے اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا مسافر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتے ہیں اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتے اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اس لئے کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر ادا کرسکو

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور جب آپ سے میرے بندے میرے بارے پوچھیں سو یقینا میں قریب ہوں (اور) جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو مانگے والے کی دعا قبول کرتا ہوں پس چاہیے کہ یہ بھی میرا حکم قبول کریں اور میری ذات پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے تمہاری بیبیوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ جانتے ہیں کہ تم اس سے پہلے اپنے لئے خیانت کرجاتے تھے پس اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کردیا پس اب ان سے مباشرت کرسکتے ہو اور جو اللہ نے تمہارے حصے میں لکھا ہے وہ طلب کرو اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تکہ کہ فجر کی سفید لکیر رات کی سیاہ لکیر سے تمہارے لئے واضح ہوجائے پھر روزے کو رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کر رہے ہو تو ان (عورتوں) سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان کے قریب مت پھٹکو۔ اسی طرح اللہ لوگوں کے لئے اپنے دلائل واضح کرتے ہیں تاکہ وہ پرہیزگار بن سکیں

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور جب ایک دوسرے کا مال آپس میں ناجائز طریقے سے مت کھاؤ اور تم اے حکام کے پاس لے جاتے ہو تاکہ گناہ کرتے ہوئے دوسرے کے مال کا کچھ حصہ کھا سکو اور (یہ) تم جانتے بھی ہو

آیات 183- 188 اسرارو معارف رمضان اور احکام رمضان : تیسرا حکم نیکی اور بر کے باپ میں ” صوم “ کا ہے ، اسے ارشاد فرمانے کا ایک خاص انداز ہے کہ قبل ازیں نوع انسانی کو دعوت عبادت دی۔ مگر اس میں یہ انداز نہیں بلکہ ایک عمومی رنگ ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔ مگر یہاں ارشاد ہے ، ’ تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں پر فرض کیا گیا تھا ‘۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے مخاطب نوع انسانی ہے اور دوسرا خطاب خاص مومنین کو ہے اور ان کی روحانی تربیت اور حصول رحمت کے لئے ایک خاص اہتمام ہے۔ دراصل انسان روح اور جسم سے مرکب ہے جس طرح جسم مادہ کی ایک ٹھوس اور کثیف شکل ہے اسی طرح روح انتہائی لطیف شے ہے اور یہ قدرت باری ہے کہ فرشتے اور حاملین عرش سے بھی لطیف تر۔ روح کو ایک کثیف جسم سے پیوست کردیا گیا ہے اور یہ جسم روح کو بخشا ہی اس لئے گیا ہے کہ عبادت الٰہی کرسکے۔ جسم ہو ، اس کی ضروریات ہوں اور پھر ان کی تکمیل کے سامان موجود ہوں لیکن یہ اس میں اپنی پسند پہ احکام الٰہی کو ترجیح دے اور احکام باری کو اختیار کرے۔ اس کی یہ ادنیٰ قربانی اس کے لئے حصول قرب کا سبب بنے ، ویسے تو مجرد روح اللہ کی عبادت میں مصروف رہ سکتی تھی مگر اس کی عبادت فرشتے کی عبادت کی مثل ہوتی جو ہمیشہ اطاعت تو کرتا ہے مگر چونکہ کوئی عارضہ اپنے ساتھ ایسا نہیں رکھتا جو اسے اطاعت سے روک سکے اس لئے وہ اپنے مقام سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ جس مقام پر رکھا گیا ہے ہمیشہ اسی پہ رہتا ہے مگر انسان جب عملی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو ایک خاص حیثیت عملی اور علمی رکھتا ہے۔ اشیائے عالم اور ان کے اوصاف سے واقف ہوتا ہے پھر اس کے وجود کو ان کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سے آرام اور لذت حاصل کرتا ہے۔ اب اگر وہ ان سے استفادہ کرنے کا وہ طریقہ اپناتا ہے جو اللہ نے مقرر فرمایا ہے تو اسے حقیقی انسانیت اور اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے لیکن اگر صرف لذت طلبی اور تکمیل خواہشات میں کھو جاتا ہے تو پھر انسانیت کے مقام رفیع سے گر جاتا ہے۔ اور جانوروں نے بدتر شمار ہوتا ہے اور یہ بات کہ انسان محض خواہشات کی تکمیل ہی نہ کرے بلکہ اپنے ہر کام میں اللہ کی اطاعت کو مقدم رکھے تب نصیب ہوتی ہے جب روح قوی ہو اور بدن کے قویٰ پہ روحانیت غالب ہو۔ یہ تب ہوسکتا ہے کہ روح کا تعلق اللہ سے قائم ہو اور سب سے اعلیٰ صورت انبیاء کے تعلق کی ہوتی ہے جو سب سے مضبوط ہوتا ہے اتنا مضبوط کہ وہ کبھی اللہ کے حکم کے خلاف نہیں کرپاتے اور معصوم ہوتے ہیں باقی مخلوق ان کی وساطت سے اللہ سے رابطہ قائم کرتی ہے جس نے کلمہ پڑھ لیا گویا اس کا تعلق اللہ سے قائم ہوا اور وہ اھنوا کی فہرست میں داخل ہو کر خصوصی خطابات اور عنایات کا سزاوار ہوا۔ اب جہاں بدن کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک طریقہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تکمیل ضرورت بھی ہوتی رہے۔ اور اللہ کی اطاعت بھی۔ وہاں کچھ عبادات بھی مقرر فرمائیں ، جو مالی بھی ہیں ، بدنی بھی ہیں اور جانی بھی۔ عبادات ہی روح کی اصل غذاء اور اس کی زندگی کا سامان ہیں تو جن لوگوں کا تعلق اللہ سے قائم ہوا ان کے لئے مزید روحانی قوت اور قرب الٰہی کے حصول کے اسباب مہیا فرمائے جن میں سے ایک بہت بڑا ذریعہ ” صوم “ ہے اسی لئے ارشاد ہے کہ روزہ تم پر فرض کیا گیا ہے۔ یعنی ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ ایسی ضروری عبادت ہے کہ تم سے پہلے امت مسلمہ پر فرض رہی ہے خواہ کیفیت میں یا دنوں میں فرق بھی ہو مگر روزہ ان پر بھی فرض رہا۔ اس لئے تم پر بھی فرض ہوا کہ تم اللہ سے ایک مضبوط تعلق قائم کرسکو جسے ” تقویٰ “ کہا گیا ہے یعنی اس کی غرض اصلی لعلکم تتقون۔ صوم کے لفظی معنی رکنے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے رکنے کا نام ہے۔ اگر طلوع فجر کے بعد یا غروب آفتاب سے پہلے کچھ کھا پی لیا خواہ کتنی ہی تھوڑی دیر باقی تھی روزہ نہ رہے گا۔ جہاں تک اس کے فضائل کا تعلق ہے تو وہ بیشمار ہیں بلکہ یہ دین کے عمود اور شعائر میں سے ہے اور باقی سارا سال تو انسان حرام اور ناجائز سے پرہیز رکھتا ہے مگر اس مبارک ماہ میں اللہ کے حکم سے تمام حلال غذا بھی وقت معین تک چھوڑ کر کمال ا اطاعت کا اظہار کرتا ہے اور زمین پر بستے ہوئے ، مادی وجود رکھتے ہوئے فرشتوں سے مشابہت پیدا کرتا ہے جس کو وصول رحمت میں ایک خاص دخل حاصل ہے۔ نتیجتاً اسے وصف تقویٰ نصیب ہوتا ہے یعنی ایک ایسا تعلق اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کہ جو ہاتھ کو اٹھنے اور قدم کو چلنے سے تھام لے ، اسے حدود اللہ سے تجاوز نہ کرنے دے۔ ایاما معدودات۔ یعنی گنتی کے چند روز ہیں کچھ بہت زیادہ نہیں بلکہ کھانے پینے کے لئے گیارہ ماہ اور روزے کے لئے صرف ایک ماہ ہے پھر اس میں بھی بیمار کو اور مسافر کو اجازت ہے دوران سفر یا مرض روزہ نہ رکھیں مگر ایسا نہ ہو کہ سعادت سے محروم ہوجائیں جب مریض تندرست ہو یا مسافر مقیم ہو تو جس قدرروزے نہ رکھ سکا تھا ان کی گنتی پوری کرے۔ بیمار سے مراد وہ بیمار ہے جسے روز رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف ہو یا مرض کے بڑھ جانے کا قوی امکان ہو اور مسافر سے مراد وہ شخص ہے جو کم از کم گھر سے ایسے سفر پہ نکلے جو تین منزل ہو یعنی پیدل چلنے والا تین روز میں طے کرلے ، جسے فقہاء نے میلوں میں حساب کرکے اڑتالیس میل قرار دیا ہے کہ ارشادات نبوی ﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فقہاء نے یہی اخذ کیا ہے۔ اسی طرح مسافر اگر کسی جگہ رکے تو وہ مقیم قرار نہ دیا جائے گا جب تک ایک جگہ کا قیام پندرہ روز کا نہ ہو۔ اگر پندرہ روز ٹھہرنے کا ارادہ کرے تو مقیم ہوجائے گا لیکن ایک دو روز کے لئے رکا اور کسی مجبوری کی وجہ سے وقت بڑھتا رہا۔ حالانکہ وہ چلنے کو تیار ہی رہا تو خواہ اس سے زیادہ روز بھی گز رجائیں مسافر ہی رہے گا یا پندرہ روز متفرق شہروں میں ٹھہرا تو بھی مسافر رہے گا اور اگر مریض صحت مند ہونے کے بعد یا مسافر مقیم ہونے کے اتنے دنوں کی مہلت پائے تو روزوں کی قضا اس پر واجب ۔ لیکن اگر اس سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اس پر قضا نہ ہوگی نہ فدیہ نیز عدۃ من ایام اخر میں ترتیب کی قید نہیں بلکہ گنتی پوری کرنے کا حکم ہے اگر متفرق بھی رکھے تو جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ روزہ نہ رکھ سکنے کی صورت میں فدیہ : وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ ، یعنی ایسے لوگ جو مریض یا مسافر نہیں ، مگر روزہ رکھنا نہیں چاہتے اور اس کے بدلے صدقہ وغیرہ دینے کو تیار ہیں تو فرمایا ، ان کے لئے فدیہ ہے ، ایک فقیر کا کھانا ، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر دوسری آیات نے اسے منسوخ قرار دیا اور بغیر مریض اور مسافر کے سب کو روزہ رکھنا ضروری قرار دیا کہ ھن شھد منکم الشھر فلیصمہ ، جو بھی رمضان المبارک کو پائے وہ ضرور روزہ رکھے ہاں ، مریض ، مسافر یا بوڑھے جو روزہ رکھنے کی ہمت رکھتے ہیں وہ معذور ہیں۔ ایسے بوڑھے یا ایسے مریض جن کے صحت مند ہونے کی امید نہ ہو ، فدیہ دیں۔ فدیہ کی مقدار نصف صاع گندم یعنی پونے دو سیر ہے جس کی قیمت بازار کے مطابق ایک فقیر کو دے نہ ایک روزہ کا فدیہ دو میں تقسیم کرے اور نہ کئی روزوں کا فدیہ ایک ہی تاریخ میں ایک ہی آدمی کو دے۔ ہاں ! اگر کسی کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو استغفار کرے اور نیت رکھے کہ جب بھی فراخی نصیب ہوگی ضرور ادا کروں گا۔ ان سب مراعات کے ساتھ کہ نیکی بہرحال نیکی ہے اگرچہ فدیہ دینا بھی نیکی ہے مگر وان تصومواخیرلکم ، تمہارے لئے بہت بہتر یہ ہے کہ تم روزہ رکھو ، اگر تمہیں علم ہے ، اگر جانتے ہو تو جو کیفیت روزہ رکھ کر حاصل ہوتی ہے وہ فدیہ دے کر کہاں نصیب۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ روزہ رکھو اور اسے معمولی نہ جانو بلکہ مہینوں میں یہ مہینہ ہی ایک خاص فضیلت رکھتا ہے۔ شھررمضان الذی……………لعلکم تشکرون۔ فضیلت ماہ رمضان : یہی مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور اتنی عظمت کا حامل کہ ساری نوع انسانی کے لئے ہدایت ہے اور روشن دلیلوں سے مزین ، حق اور باطل میں فرق بتانے والا ہے تمام انعامات میں خواہ وہ مادی ہوں یا روحانی اور جن کا شمار انسان سے نہ ممکن اعلیٰ انعام یہ ہے کہ انسان کو مخلوق کو بےبس وبے کس کو خالق بےنیاز رحمت سے پکارے اور اسے اپنے کلام کا شرف بخشے ۔ سبحان اللہ ! یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں نزول کلام ہوا۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جس قدر کتابیں اور صحائف اللہ کی طرف سے انبیاء پر نازل ہوئے اور خود قرآن مجید اسی ماہ کی مبارک رات کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل ہوا اور پھر مسلسل تیئس برس میں حضور اکرم ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوتا رہا۔ یہ مہینہ ہی بہت برکات کا حامل ہے ۔ تم میں سے جو اس کو پالے وہ روزے رکھے۔ یہاں پا لینے سے مراد بحالت صلاحیت ہے یعنی مومن ہو ، عاقل ہو ، بالغ ہو ، اگر کافر نصف رمضان میں مسلمان ہوا یا نابالغ بالغ ہوا تو اس کے بعد روزے فرض ہوں گے گزشتہ کا قضاء نہ ہوگی۔ ہاں ! مجنون اگر مسلمان تھا تو صلاحیت رمضان رکھتا تھا۔ جب ہوش آیا تو سارے قضا کرے گا۔ اسی طرح مریض ، مسافر یا حیض ونفاس والی عورت کہ جب روزہ کی صلاحیت پائیں گے تو سب روزے قضا کریں گے جس قدر بھی پہلے چھوڑ چکے ہوں۔ ” پالینا “ سے مراد خود رمضان کا چاند دیکھ لینا یا معتبر شہادت سے پتہ چل جانا اور یا پھر شعبان کے تیس دن پورے ہوجانا ہے اس کے بعد رمضان شروع ہوجائے گا اگر 29 شعبان کو ابر وغیرہ ہو چاند نظر نہ آئے اور شرعی شہادت بھی میسر نہ ہو تو روزہ نہ رکھا جائے گا۔ حدیث شریف میں اس کی ممانعت ہے کہ یو الشک کا روزہ نہ رکھے۔ چھ ماہ کے دن اور رات کے بارے : یہاں عجیب بات تو ان ممالک کی ہے جہاں دن رات مہینوں پر محیط ہوتے ہیں یعنی چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات۔ تو وہاں عادتاً رمضان المبارک کا پا لینا صادق نہیں آتا۔ نیز جب فقہائے حنفیہ نے ان ہی کے دن رات سے نماز کا حکم دیا ہے کہ چھ ماہ کے دن میں پانچ نمازیں اپنے دن کے اعتبار سے ادا کرے گا یا مثلاً مغرب کے فوراً بعد صبح صادق طلوع ہوگئی تو عشاء فرض ہی نہ ہوگی۔ حضرت تھانوی (رح) نے اسی رائے کو اختیار فرمایا ہے اور بعض محققین نے اس کو اس بات پر قیاس کیا ہے کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو دن سات سال کے برابر ہوجائے گا پھر دو سال اس سے کم۔ تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ نمازوں کا کیا ہوگا ؟ فرمایا ، اندازہ کرکے دن رات کی پانچ نمازیں پڑھی جائیں گی۔ یعنی سال کے دن میں نمازیں سال ہی کی پڑھی جائیں گی لہٰذا ان لوگوں کو بھی اندازہ کرکے نماز ادا کرنی چاہیے۔ یہاں ایک بات ہے کہ ظہور دجال کے وقت عادتاً دن سال کا نہ ہوگا بلکہ اس کی نظر بندی وغیرہ کی وجہ سے محسوس ایسا ہوگا تو اس میں تو سال کی نمازیں فرض ہوئیں۔ یہاں ان ممالک میں عادتاً دن چھ ماہ کا ہوتا ہے۔ یعنی دوسری دنیا میں چھ مہینے گزرے ہیں اور وہاں ایک۔ اس بات کا مقتضیٰ تو یہی ہے کہ دن میں ان پر پانچ نمازیں ہوں اور روزے وہاں فرض ہی نہیں ہوتے کہ رمضان ہی کو نہیں پاسکتے بہرحال احتیاط اس میں ہے کہ جس طرح دنیا کے ساتھ تعلقات کے لئے وہ گھڑیوں وغیرہ سے اوقات کی تعیین کرتے ہیں۔ عبادت کے لئے بھی کرلیں کہ عبادت روح کے لئے بمنزلہ غذا کے ہے اگر مادی غذاء بقائے جسم کے لئے ضروری ہے تو عبادات روح کی زندگی کے لئے لازمی ۔ جب مادی غذاء کے لئے اوقات مقرر کرتے ہیں تو روحانی غذا کے لئے کیوں نہ کریں۔ جو بھی اس مبارک ماہ کو پائے ضرور روزے رکھے۔ ہاں ! مریض اور مسافر کی سہولت بحال رکھی گئی کہ وہ قضا کرسکتے ہیں کہ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہیں گرفتار بلا کرنا نہیں چاہتا اور یہ تو اس لئے ہے کہ تم یہ گنتی پوری کرو۔ عید کی روح : تو اللہ کی عظمت بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ، وجود بخشا ، قوتیں دیں عقل و شعور عطا فرمایا ، نعمتیں دیں اور اگر چاہے تو سب سلب کرنے پر بھی قادر ہے مگر حکم دیا کہ چندے ان چیزوں سے بااختیار رک جائو کہ تمہارے اس فعل کو انعام خاص کا ذریعہ بنادوں۔ سبحان اللہ ! یہ اسی کو سزاوار ہے کہ اس کی ذات عظیم ہے۔ اس کی عظمت بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو ، اس کا احسان اور مانو کہ تم پر کس قدر رحمت اور برکات نازل فرما رہا ہے۔ واذاسالک عبادی………………لعلکم یرشدون۔ قبولیت دعا : روزہ ایک طرف اگر کمال اطاعت ہے تو اس کا دوسرا اجابت دعا بھی ہے صائم اپنے تمام ایسے امور ، جن کو توجہ ہٹانے میں ایک حد تک دخل حاصل ہے چھوڑ دیتا ہے مثلاً کھانا پینا ، جماع وغیرہ۔ تو اس کی توجہ کلی طور پر اللہ کی طرف ہوتی ہے اور اسی حالت کو قرب الٰہی اور اجابت دعاء کے لئے موزوں قرار دیا ہے کہ اللہ تو ہر حال میں قریب ہے انسان اپنی ضروریات میں الجھ کر اپنی توجہ ان کی طرف کرلیتا ہے۔ جب ان کو اللہ کے حکم سے چھوڑا تو اسے ایک خاص طرح کا قرب الٰہی نصیب ہوا۔ ارشاد ہے کہ جب میرے بندے آپ ﷺ سے میرے متعلق پوچھیں تو فرمادیں کہ میں بہت قریب ہوں۔ اس عبادی یعنی میرے بندے فرمانے میں یہی حکمت ہے کہ جب وہ میری اطاعت میں مصروف ہوں اور میری طرف متوجہ ہوں تو انہیں میرا قرب حاصل ہوتا ہے اور میں مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں یہ سب کچھ تب ہی ہوتا ہے جب وہ میری اطاعت پر کمر بستہ ہوں جس کے لئے اولاً میری عظمت کا اظہار ہے میری ذات وصفات پر ایمان لائیں اور اپنی پوری کوشش میرے حکم کی بجا آوری پہ صرف کردیں تاکہ انہیں میرا قرب حاصل ہو اور میں ان کی دعائیں قبول کروں اور یہی وہ راستہ ہے جو مقصد حیات ہے اور جو حقیقتاً صحیح راستہ ہے اور یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ صائم کی دعا قبول ہوتی ہے جیسا کہ حضور اکرم کا ارشاد گرامی ہے ، اللصائم عند فطرہ دعوۃ مستجابہ اوکما قال۔ نیز انی قریب سے اخذ ہوتا ہے کہ دعا آہستہ اور خفیہ کرنی چاہیے۔ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم……………وانتم تعلمون۔ رمضان المبارک کے احکام ارشاد فرماتے ہوئے درمیان میں اپنے ایک خاص انعام کا ذکر فرمایا کہ جسے روزہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے یعنی اجابت دعا اور پھر احکام رمضان ارشاد ہوتے ہیں۔ حیات صحابہ رضوان اللہ علیہم ایک عمومی معیار ہے : یہ سجھ لینا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ کریم نے معیاری انسان قرار دے کر احکام شرعی کو نافذ فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اولیاء اللہ کی کثرت کرامات دیکھ کر لوگ سوچتے ہیں کہ چیزیں اس کثرت سے صحابہ سے کیوں منقول نہیں ؟ حالانکہ نہیں وہ درجہ حاصل تھا جو صرف انہی کا حصہ ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی زندگی عمومی معیار قرار پائی اور جو حکم انہیں مشکل نظر آیا اللہ نے سہل فرمادیا۔ اسی طرح انہوں نے پوری امت پر احسان فرمایا۔ اب یہی حکم لے لیجئے کہ شروع میں رمضان المبارک کا حکم یہ تھا کہ افطار کے بعد جب تک بیدار رہے درست ، جب سو گئے تو روزہ شروع ہوگیا اور کھانے پینے اور جماع وغیرہ سے روک دیا گیا۔ بعض صحابہ ؓ اپنی بیبیوں سے شب باشی کے مرتکب ہوئے مگر انہوں نے ہماری طرف بات کو چھپایا نہیں بلکہ علی الصباح بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے یہ حرکت سرزد ہوئی ، اسی طرح بعض کو یہ مشکل پیش آئی کہ جیسے حضرت قیس بن صرفہ ؓ انصاری دن بھر مزدوری کرکے شام کو گھر آئے تو کھانے کو کچھ نہ تھا۔ بیوی نے عرض کی کہ کہیں سے کوئی انتظام کرکے لاتی ہوں۔ مگر اس کے واپس آنے سے پہلے آنکھ لگ گئی اور روزہ بند۔ اب بیدار ہوئے مگر کچھ کھانے کی اجازت نہیں۔ دوسرے روز دوپہر کو نقاہت کی وجہ سے بےہوش ہوگئے چناچہ اللہ نے رات بھر کھانے پینے اور مباشرت کی اجازت دے دی اور روزہ بند کرنے کا وقت مقرر فرمادیا۔ اب خواہ کوئی سو کر اٹھے یا جس طرح بھی ، بلکہ سو کر اٹھے تو سحری کھانا سنت قرار پایا۔ یہاں یہی ارشاد ہوتا ہے کہ اب رمضان المبارک کی شب بیبیوں سے مباشرت تمہارے لئے حلال کردی گئی کہ تمہارے لئے مشکل تھا اور بعض حضرات سے اس کی خلاف ورزی ہوئی مگر ایک بات سن لو کہ محض شہوت رانی نہ ہو۔ میاں اور بیوی : بلکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے مقرر فرما دیا ہے۔ ماکتب اللہ لکم ، یعنی یہ معاہدہ نکاح ایک مقدس عہد جسے کے ذریعے مرد اور عورت مل کر ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ نسل انسانی کی بقاء کا مقدس کام کرتے ہیں۔ اب اس لئے ان کی آپس میں محبت ، تعاون اور ایک دوسرے کی خیر خواہی ایک دوسرے پر ضروری ہے تاکہ وہ دنیاکو اچھے انسان دیں معاشرے کو صالح افراد دیں۔ ایک ایسی نسل پیدا کریں اور اس کی اس طرح پرورش کریں اور اللہ کے پسندیدہ بندے ثابت ہوں۔ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس۔ یہ لباس ہی زینت کا سبب بھی ہے اور گرمی سردی سے بچانے کا سبب بھی۔ یہ جسمانی عیوب بھی چھپاتا ہے اور انسان کا پردہ بھی رکھتا ہے اسی طرح تم باہم دگر ایک دوسرے کا بھرم رکھو ، عزت مال اور جان کی حفاظت کرو ، ایک دوسرے کو آرام پہنچانے کی کوشش کرو ، اللہ نے تمہاری مشکل آسان فرمادی۔ نیز جو اب تک تم خطا کرچکے معاف فرما دیا ہے اب تم کھائو پیو بھی اس وقت کہ صبح کی سفیددھاری ، سیاہ دھاری سے علیحدہ نظر آئے اور روزے کو رات تک پورا کرو۔ سنت کا مقام : یہاں جو حکم منسوخ ہوا وہ قرآن سے ثابت نہیں بلکہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق اس پر عمل ہوتا تھا لیکن یہاں اسے حکم الٰہی قرار دیا گیا ہے کہ سنت سے ثابت حکم الٰہی میں سے ہے۔ لہٰذا اب سحری وافطاری کا واضح وقت مقرر فرمادیا کہ حتیٰ تبین یعنی جب تک تم پر صبح صادق کی سفید دھاری افق پر سیاہ دھاری سے یقینی طور پر واضح نہ ہوجائے کھانے پینے کی اجازت ہے وہم کی بنیاد پر پہلے روزہ بند کرلینا درست نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ حضرت بلال ؓ کی اذان تمہیں کھانے پینے سے نہ روکے کہ وہ رات سے اذان کہہ دیتے ہیں۔ ابن کلثوم ؓ کی اذان پر روزہ رکھو کہ وہ صبح صادق پہ اذان دیتے ہیں۔ مگر یہ سب ان لوگوں کے لئے ہے جن کو افق سامنے ہو اور سمجھ سکے ورنہ احتیاط کریں اور کسی سے پوچھ لیں یا اذان سن لیں۔ اگر کسی نے شبہ کی حالت میں یہ جان کر کھایا ابھی وقت ہے مگر بعد میں ثابت ہوا کہ وقت گزر چکا تھا تو گناہ اگرچہ نہ ہوگا مگر قضا لازم اور دوسری طرف رات تک روزہ پورا کرو۔ یعنی غروب آفتاب پر روزہ افطار ہوجائے گا پیشتر اس کے کہ رات چھا جائے الی الیل یعنی رات تک۔ اسے رات میں داخل نہ کرو۔ شیعہ حضرات جنہوں نے ایک متوازی اسلام بنانے کی کوشش کی ہے یہاں بھی تاخیر سے افطار کیا ہے کہ خوب رات چھا جائے تو افطار کرتے ہیں حالانکہ جب مشرق سے تاریکی اٹھے۔ اور سورج غروب ہو تو بیشتر اس کے کہ تاریکی پھیل جائے افطار کرنا چاہیے اگر کسی نے غلطی سے بادل وغیرہ کی وجہ سے ایک آدھ منٹ پہلے افطار کرلیا اور بعد میں ثابت ہوا کہ درست نہ تھا تو قضا لازم۔ مگر عمداً افطار میں پہل یا سحری میں تاخیر ہوئی تو کفارہ لازم ہوگا۔ اس لئے موذن حضرات کو خاص احتیاط لازمی ہے کہ ان کی اذان پر اکثر لوگ افطار کرتے ہیں۔ اب اس کے ساتھ اعتکاف کا حکم بھی واضح ہوا کہ یہ حلت مباشرت اعتکاف پر لاگو نہ ہوگی۔ اعتکاف خاص شرائط کے ساتھ مساجد میں ٹھہرنے کا نام ہے اور آخری عشرہ رمضان میں مسنون۔ مرد حضرات صرف مساجد میں اعتکاف کے لئے ٹھہر سکتے ہیں نیز ایسی مسجد جہاں نماز پنجگانہ باجماعت ہوتی ہو کہ جو مسجد کی تعمیر کا مقصد ہے اور کھانے پینے کے بارے میں تو حکم وہی ہے مگر مباشرت منع۔ فضول بات کرنا یا بغیر عذر مسجد سے باہر جانا درست نہیں۔ نیز اس کے دوسرے احکام اعتکاف کے لئے مفصل مذکور ہیں دیکھ لئے جائیں۔ تلک حدود اللہ فلا تقربوھا۔ (یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان کے قریب ہی مت پھٹکو) اسی لئے روزہ میں مبالغہ نہ کرنا چاہیے یا بیوی سے بوس وکنار درست نہیں مکروہ ہے اور اوقات سحر وافطار میں ایک آدھ منٹ کی احتیاط بہتر ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو ، اور نہ حاکموں تک ایسی بات لے جائو کہ اس کے نتیجہ میں تم دوسروں کا مال کھاسکو۔ یہ اگلا حکم ہے جو ایک طرح سے روزے کا ماحصل بھی ہے کہ جب تم نے اللہ کے حکم سے جائز اور پاک مال ، جو تمہارے پاس موجود تھا نہ کھایا اور صبح سے شام تک روزہ رکھا جب افطار کیا وہی کھانا تمہارے لئے ثواب ہوا۔ حصول رزق کے معروف ذرائع اختیار کرنا ضروری ہیں : یہ تمہیں کب زیب دیتا ہے کہ دوسروں کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کرکے کھائو ، یہ فعل تو عنداللہ بہت برا ہے۔ دراصل مال کی اچھائی یا برائی کا معیار کسب مال کے ذرائع یا طریقوں پر ہے جن پر ساری دنیا کی قوموں کا اتفاق ہے کہ یہ درست نہیں۔ جیسے چوری ، ڈاکہ یا فریب دہی وغیرہ سے اور کچھ ایسے بعض کے نزدیک جائز اور بعض کے نزدیک ناجائز ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر قوم کے لوگ جو کچھ سوچتے ہیں اس میں ان کے قومی مزاج اور قومی مفاد کو دخل حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے تو باوجود بین الاقوامی کانفرنسوں کے کوئی ایسا ضابطہ نہیں بنایا جاسکا جو ساری دنیا کے لئے قابل قبول ہو ، نتیجتاً جنگ وجدل ہوتی ہے اور ہورہی ہے۔ اسلام جو اللہ کا قانون ہے۔ ساری انسانیت کے لئے ہے اور خالق کائنات کی طرف سے ہے جس نے نہ صرف مخلوق پیدا کی ہے بلکہ خود ان کی ضروریات بھی تقسیم کی ہیں ، ان کی تکمیل کے اسباب مہیا فرمائے ہیں اور ان اسباب سے استفادہ کا طریقہ ارشاد فرمایا ہے اور یہی طریقہ امن عامہ اور سب کے حقوق کا محافظ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ ایک معقول اور فطری ضرورتوں کے مطابق جامع ضابطہ ہے مثلاً اشتراک کی اشیاء کو وقف عام رکھا ہے جس میں تمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں جیسے ہوا ، پانی ، خودروگھاس ، غیر مملوک جنگلات وغیرہ۔ جن چیزوں کے اشتراک سے انسانی معاشرت میں خلل کا اندیشہ ہے ان میں انفرادی ملکیت کا قانون جاری فرمایا ہے پھر انتقال ملکیت کا ضابطہ علیحدہ اور پوری طرح یہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ جو شخص بھی اپنی محنت ان چیزوں کے حصول پر خرچ کرے وہ ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے اور نہ ہی دوسروں کے حقوق غصب کرکے انہیں نقصان پہنچا سکے۔ اسی لئے ان جملہ امور میں فریقین کی رضامندی ضروری قرار دی گئی ہے خواہ انتقال ملکیت یا بعد الموت انتقال وراثت ، مزدوری ہو یا بیع و شرا۔ اور جن چیزوں کو منع فرمایا ہے جو طریقے باطل ٹھہرے ہیں ان میں کہیں دھوکہ فریب ہے تو کہیں کسی کا حق غصب ہوتا ہے جیسے کسی نامعلوم چیز یا نامعلوم عمل کا معاوضہ اور کہیں حقوق عامہ پہ زد ہے ، جیسے جوا ، سود وغیرہ کہ ایسے امور باہمی رضامندی سے بھی جائز نہیں ہوسکتے پھر اکلوا اموالکم ، فرمایا کہ کسی کے مال میں ناجائز تصرف دراصل اپنے ہی مال کو ضائع کرنا ہے کہ جب یہ طریقہ چل نکلے گا تو اس کے اپنے مال کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا مثلاً کسی نے دودھ میں پانی ملایا اور زائد پیسے حاصل کرلئے تو جب وہ گھی ، آٹا لینے جائے گا تو وہ ملاوٹ کرکے دگنے پیسے اس سے نکال لیں گے اب وہ مصالحہ لینے گیا اس نے اس سے یہی سلوک کیا۔ تو گویا سب لوگ ایک دوسرے سے زیادتی کے مرتکب ہو کر زمین پر فساد برپا کرنے کا سبب بن جائیں گے۔ کوئی بھی کسی پر ، کسی کے پر ناجائز طریقے سے نگاہ نہ رکھے اور نہ ہی جان بوجھ کر جھوٹے مقدمے بنائے کہ اس طرح دوسروں کا حق غصب کرے۔ نیز اسلام نے جہاں کسب مال کا طریقہ مقرر فرمایا ہے وہ مال خرچ کرنے کا سلیقہ بھی سکھادیا ہے کہ اس کے ضائع کرنے سے دوسروں کی اولاد اور ورثاء کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور مومن کی نگاہ صرف مال کے حصول پر نہ ہو بلکہ بنیادی بات اطاعت الٰہی ہے جو تعمیر آخرت اور ابدی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ سو دنیا میں مال کا خرچ کرنا نہ صرف دنیا میں مفید ہو بلکہ دونوں عالم کی تعمیر کرنے والا ہو۔ نیز غذاء کو مزاج انسانی میں بڑا دخل ہے اگر حلال غذا ہوگی تو مزاج صالح ہوگا اور اعمال اچھے صادر ہوں گے۔ اگر حرام کھائے گا تو کبھی اچھائی نہ کرسکے گا اور نہ درست سوچ رکھے گا۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حرام کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اس کی عبادت رائیگاں جاتی ہے اللہ تمام مسلمانوں کو اس بلا سے محفوظ رکھے ! آمین۔