Ayahs 2:72–82آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس سے تمہیں وہ مقصد حاصل ہوگیا یعنی قاتل کا پتہ چل گیا۔ جو تمہارے اس بےدلی کے عمل سے ہونا تو نہ چاہیے تھا مگر ہم نے حکم دیا کہ گائے کا کوئی حصہ گوشت کا کوئی ٹکڑا اس کے جسم سے لگائو گوشت کا مس ہونا تھا کہ مردہ اٹھ بیٹھا اور ساری بات اپنی زبان سے بتا کر مرگیا۔ اس سے نہ صرف قاتل کا پتہ چل گیا بلکہ قدرت باری کا ایک اور مظہر تمہارے سامنے آیا اور تم نے اپنی آنکھوں سے مردے کو زندہ ہوتے اور باتیں کرتے دیکھا اور سنا۔ اسی طرح اللہ قادر ہے قیامت کے تمام مردوں کو زندہ کرے گا۔
تمہارے لئے کس قدر غور کرنے کا مقام ہے۔ یہاں یہ نہ سوچا جائے کہ اللہ قادر ہے تو خود ہی بغیر کسی گائے وغیرہ کے ذبح کے مردہ اٹھ بیٹھتا اور بتا دیتا کہ یہ درست ہے ، اللہ چاہتا تو یہ بھی ہوجاتا مگر ایک قانون ہے اللہ کا کہ دنیا کے امور اسباب سے متعلق فرمائے گئے ہیں یہاں گائے کا ذبح ایک سبب بنا۔ جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا مگر ترک سبب نہ فرمایا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا جاکر دم کردو۔ یا کفار کی آنکھیں ریت سے بھردیں۔ مگر نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ مٹھی بھر ریت پھینکئے تو سہی ، اگر مثالیں دی جائیں تو مضمون لمبا ہوجائے گا۔ غرض اصلی یہ عرض کرنا ہے کہ ہر کام کے لئے اسباب اختیار کرنا ضروری ہے۔
توکل کی حقیقت :
اسباب اختیار کرکے نتائج کی امید اللہ سے رکھنا توکل ہے اور جو نتیجہ بھی ظاہر ہو۔ اگر مرضی کے مطابق ہو تو اس پر اللہ کی تعریف کرنا شکر ہے اور اگر مرضی کے خلاف ہو تو اس پر دل میں تنگی محسوس نہ کرنے اور حرف شکایت لبوں پر نہ لانے کا نام صبر ہے ترک سبب کرکے بیٹھ جانا ہرگز توکل نہیں۔
ثم قست قلوبکم من بعد ذالک۔
اس قدر معجزات اور اتنی عنایات دیکھنے اور پانے کے بعد بھی تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے بلکہ قساوت میں پتھروں سے بھی بڑھ گئے۔ یہ قساوت یا نرمی وجودی شے نہیں بلکہ کیفی ہے کے نام ہے جو عالم امر سے لطیفہ قلب میں رکھی ہے اور جس کی بدولت دل خطاب الٰہی کا رتبہ پاتا ہے اور جمال باری سے سیراب ہوتا ہے اور پھر خلق خدا کو سیراب کرتا ہے بعض اس کی وجہ سے ہدایت پاتے ہیں اور جو ہدایت نہیں پاتے دنیاوی نعمتیں وہ بھی انہی زندہ دلوں کے صدقے میں کھاتے ہیں کہ جب کوئی دل زندہ نہ رہا یہ جہاں ہی نہ رہے گا ، اور قیامت برپا ہوگی۔ تو جو دل اللہ کی عظمت کا احساس کھوبیٹھا اور یادالٰہی سے خالی ہوا تو پتھروں سے بھی گیا گزرا ہے کہ بعض پتھروں اور چٹانوں سے نہریں جاری ہیں جو ایک عالم کی سیرابی و شادابی کا باعث بنتی ہیں یا پھر بعض سے کم پانی نکلتا ہے مگر کسی نہ کسی درجہ میں خلق خدا کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس سے کم تردرجہ میں وہ پتھر بھی ہیں جو بعض اوقات محض خشیت باری سے اور عظمت الٰہی کے خوف سے گر پڑتے ہیں ، چلو روحانی نہ سہی دنیا کے لئے مادی فوائد کا سبب تو بنتے ہیں تم تو ان سے بھی گئے گزرے ہو کہ تمہاری قساوت قلبی نے لوگوں کو مادی طور پر بھی دکھ اور مصیبت ہی ہی دی ہے کہ دنیا میں فساد پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔
افتطمعون ان یومنوا لکم۔۔۔ وھم یعلمون۔
اب اے مسلمانو ! کیا تما ی سے مردہ دلوں سے ایمان کی امید رکھتے ہو ، حالانکہ اس مردہ دلی سے بڑھ کر اس قدر خواہشات نفسانی کے ا سیر ہیں کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اللہ کے کلام کو سنا ، سمجھا اور پھر جان بوجھ کر اسے اپنے مطلب کے مطابق تبدیل کرلیا مقصد یہ ہے کہ بےعلمی کا گناہ بھی گناہ ہے مگر جانتے ہوئے محض اپنی غرض پوری کرنے کو تاویلات باطلہ کا سہارا لینا اور اللہ کے کلام کو بدل دینا یا اس کا مفہوم غلط بیان کرنا اس قدر گری ہوئی باطنی کیفیت کو ظاہر کر رہا ہے کہ ایسے لوگوں کو کبھی ایمان صیب ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
یہاں صرف قصہ خوانی مقصود نہیں بلکہ ان بیہودہ کو جن کے آباؤ اجداد کے یہ افعال تھے اور جن پر وہ بھی ناراض تھے متنبہ کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی شریعت سے یہ سلوک کیا تو اس درجہ ذلیل ہوگئے دھیان رکھنا تمہارے پاس تو محمد رسول اللہ اور ان کی شریعت ہے۔
خدا ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین
واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔۔ وما یعلنون
انہی کا حال بیان فرماتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ یہ ایسے بدبخت ہیں جو نہ صرف خود کو مذہب اور ہم مذہبوں کو دھوکا دیتے ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان تک کر گزرتے ہیں مگر جب آپس میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو ۔۔۔ کرتے ہیں کہ ایسی باتیں مسلمانوں سے کیوں کہہ دیتے ہو جو اللہ نے توریت کے ذریعے تم پر منکشف فرمائی ہیں کہ بعض یہودی یہ باتیں کر گزرتے تھے۔ نزولقرآن یا بعثت نبوی یا آپ ﷺ کا اتباع کرنے کی تاکید یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف و توصیف تورات میں اس طرح مذکور ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ باتیں کرکے تم اپنے خلاف ایک مضبوط دلیل مسلمانوں کے ہاتھ دے رہے ہو جو تمہیں آج دنیا میں بھی اور کل اللہ کی بارگاہ میں بھی مغلوب کردیں گے تمہیں اتنی بھی عقل نہیں۔
فرمایا یہ تو اس قدربودی عقل کے مالک ہوئے ہیں کہ یہ نہیں جان رہے کہ تم جس رب سے چھپانا چاہتے ہو وہ تو ایسا قادر ہے کہ اس کا علم اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ تم کسی بات کو ظاہر کرو یا چھپائو وہ ہر حال میں جانتا ہے۔
یہ سب اثرات قساوت قلبی کے ہیں کہ جب دل سیاہ ہو کر سخت ہوجاتا ہے تو جسم سارے کا سارا غلط سمت کو چل نکلتا ہے ، ہاتھ پائو ہی نہیں بلکہ دماغ تک الٹی سمت رواں ہوجاتے ہیں اور عقل اندھی ہوجاتی ہے نہ صرف انسانوں سے بلکہ اللہ سے بھی دھوکا کرنے سعی ہوتی ہے حالانکہ یہ کتنی موٹی بات ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کچھ چھپانا ممکن ہی نہیں مگر یہ بات بھی عقل میں نہیں آتی بلکہ لوگ دو طرح سے بن جاتے ہیں۔ جیسے آگے یہود کے دو طبقوں کے حالات ارشاد ہوتے ہیں۔ کہ ایک طبقہ تو ان میں ناخواندہ اور جہلاء کا ہے لا یعفو والکتاب ، جو اللہ کی بات کی عزت عظمت اور برکات سے ناآشنا ہیں اور محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے حیلوں کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے اور وہ اپنے زعم میں تو اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی ان کا وہم ہی ہے حقیقتاً وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے یہ تو سادہ سی بات ہے کہ جب ان کے دل سے اللہ کی کتاب کی عظمت گئی اللہ کی بارگاہ سے ان کی عزت ختم ہوگئی اور کوئی حیثیت نہیں رہی۔
دوسرے وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جو کتاب اللہ کی آیات بدل دیتے ہیں اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ غرض روپیہ بٹورنا اور ذاتی وقار کو قائم رکھنا ہے مثلاً اسی موضوع پر کہ آپ ﷺ کی وہ تعریف جو ان کے ہاں مذکور ہے اپنی قوم کو نہیں بتاتے پھر حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنادیتے ہیں محض حیلے بہانے کرکے غرض اصلی دنیا ہے دین نہیں ہے تو ان پر دوہری مار پڑگئی۔ ایک کلام الٰہی میں تحریف کرنے اور دوسرے لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر کھانے کی۔
یہی حال ہمیشہ سے علمائے سو کا رہا ہے کہ کتابیں پڑھتے ہیں مگر دل اندھے رہتے اور پھر مقصد حیات بدل جاتا ہے کہ رضائے باری کی جگہ حصول دنیا لے لیتی ہے اور ان کا علم چند ٹکوں کے عوض بکتارہتا ہے یہاں تک کہ غلط سلط مسائل گھڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے خوف نہیں کھاتے۔
قالوالن تمسنا النار……………ھم فیھا خالدون۔
بایں ہمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں آگ نہ چھوئے گی اگر گناہوں کے عوض دوزخ جانا پڑا تو وہ محض چند روز ہوگا کہ بوجہ ایماندار ہونے کے ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے یعنی حال یہ ہے کہ سارا دین بدل کر رکھ دیا حلال و حرام کو خلط ملط کردیا۔ جہلاء نے رواج کو دین کا درجہ دے رکھا ہے اور علماء ہیں کہ اپنی طرف سے مسائل گھڑتے چلے جا رہے ہیں جو صریحاً کتاب کی خلاف ورزی بھی ہے مثلاً تورات میں بھی تو حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا حکم موجود تھا آپ ﷺ کے اوصاف بلکہ آپ کے خدام کے اوصاف موجود تھے ان ساری باتوں سے ہٹ کر ہنوز اپنے آپ کو آگ سے بری خیال کرتے ہیں تو ان سے ذرا یہ تو فرمائیے کہ تمہاری ذات سے اللہ کا کوئی وعدہ ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ لیکن اگر بات ذات کی نہیں صفات کی ہے تو ایمانداروں کے سارے اوصاف تم میں ناپید ہیں پھر تو تم اللہ پر بھی بہتان تراشی کر رہے ہو کہ ان عقائد باطلہ کے ساتھ تمہیں بخش دے گا۔
اللہ اللہ یہ کیسی تصویر کشی ہے آج کے گمراہ معاشرے کی جو اپنے کرتوتوں کے ساتھ اپنے اسلام کا بھی مدعی ہے۔
فرمایا میاں ! سیدھی سی بات ہے کہ کسے باشد ، کوئی بھی ہو عالم ہو یا جاہل ، مرد ہو یا عورت شاہ ہو یا گدا ، جو برائی اور خطا کوئی کرتا رہے اور یہاں تک کہ وہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن جائے اور اس میں نیکی کا اثر تک نہ رہے وہ دوزخ کا رہنے والا ہے جہاں ابد تو رہے گا کہ گناہ کی زد آخر ایمان پر پڑتی ہے اگر کوئی مسلسل گناہ کرتا رہے تو ایک روز اس کا عقیدہ بھی چلا جاتا ہے جب عقیدہ گیا تو پہلی نیکیاں بھی ضائع ہوگئیں اور آئندہ اگر کوئی اچھا کام بھی کر بیٹھاتو عنداللہ مقبول نہ ہوا تو گویا اس کے وجود میں ذرہ برابر نیکی کا اثر باقی نہ رہا۔ اور وہ ہمیشہ کا دوزخی بن گیا۔ ہاں ایسے لوگ والذین امنوا……جو نبی ﷺ کی بات پر یقین رکھتے ہیں توحید ، کلام باری ، دین خدا یا طریق عبادت فرائض ہوں یا نوافل سب کیا ہے ؟ ارشادات رسول ﷺ دنیا ہو کہ عقبیٰ ، جنت ہو یا دوزخ ، حشر ہو کہ نشر یا میزان سے تمام امور اور ان سے متعلق علم اور عقیدہ ، یہ سب کیا ہے ؟ محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کا نام ہے۔
تو جو صدق دل سے اس پر یقین کرے اور عملاً اپنے کو حضور ﷺ کے احکام کا تابع بنالے وہ عملوالصلحت کو اچھے کام کرے تو اچھا کام بھی سنت خیرالانام ﷺ کا ہی نام ہے۔ سو جس میں ایمان ہو اور نیکی کرے۔ وہ ہے جنت کے قابل اور ایسے لوگوں کو جنت نصیب ہوگی جہاں وہ ابدالآباد رہیں گے۔
Ayahs 2:83–86آیات 83- 86
اسرارو معارف
بنی اسرائیل ہی کی حالت بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا وہ منظر چشم تصور کے سامنے لائو ، جب ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے دوسرے والدین کے ساتھ سلوک کرو گے اور تیسرے یہ کہ یتیموں اور مساکین کے ساتھ احسان کرو گے اور چوتھے یہ کہ نوع انسانی تمہارے حسن کلام سے مستفید ہوگی اور پانچویں یہ کہ نماز ادا کرو گے اور جو صدقات فر ض ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو گے۔ مگر سوائے معدودے چند لوگوں کے تم ان باتوں سے پھرگئے۔
یہود ونصاریٰ دعویٰ تو اللہ ہی کی عبادت کا کرتے تھے مگر عملاً اپنے علماء اور ہبان جو کہتے کر گزرتے تھے خواہ وہ اللہ کی اطاعت کے خلاف ہی ہوتا۔ ان کی اس حرکت کو اللہ کریم نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ اتخذواحبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ ، کہ انہوں نے اللہ کریم کو چھوڑ کر علماء سو اور اپنے بےدین پیروں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔
یہ دونوں ادارے یعنی علماء اور پیر ہی اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں اور دوسرے لوگ اپنی عملی زندگی میں ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے محتاج ، مگر جب یہ بگڑتے ہیں تو اللہ کی پناہ ! قوموں کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں ، جیسے یہود کے علماء نے اور ان کے پیروں نے یہاں تک زیادتی کی کہ اللہ کی کتاب کو بدل کر رکھ دیا۔ انبیاء جو اصلاح احوال کے لئے تشریف لائے ان کو قتل کیا۔ حتیٰ کہ خود حضرت محمد ﷺ کی ذات برکات کے اوصاف جو تورات میں مذکور تھے بدلے اور آپ ﷺ کے ساتھ قتال سے بھی باز نہ رہے اور یہ قوم آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے دوڑتی رہی جسے اللہ نے سخت ناپسند فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم نے اللہ کی عبادت چھوڑ کر ان ہی کی پوجا شروع کردی حالانکہ یہ لوگ اللہ کی طرف بلاتے تو ان کی اطاعت ضروری تھی مگر جب یہ خود اس راہ سے بھٹکے تو تمہیں چاہیے تھا کہ ان کو چھوڑ دیتے اسی طرح جو شخص اپنے نفس اور خواہشات نفس کی تکمیل میں حدود اللہ کی پرواہ نہیں کرتا وہ بھی غیر اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے جس کے لئے ارشاد ہوا۔ اتخذالھہ ھواہ۔
علمائے سو اور رہبان :
دراصل عالم کا منصب مذہب ایجاد کرنا نہیں بلکہ مذہب بیان کرنا ہے اور اللہ اور اس کے نبی کی بات کو خلق خدا تک پہنچانا ہے اگر وہ باتیں گھڑنے میں لگ گیا تو بھٹک گیا۔ رہا پیر تو پیر علماء سے ہی بنتے ہیں یعنی ہر عالم پیر نہیں ہوتا مگر ہر پیر عالم ہوتا ہے کہ جاہل کی بیعت ہی حرام ہے۔ عالم ارشادات نبوت کو لوگوں تک پہنچاتا ہے تو پیر ارشادات کے ساتھ انوار برکات کا حامل بھی ہوتا ہے اور یہ سب کچھ تب ہی ہوگا۔ جب وہ خود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت گزار ہوگا۔ اگر وہ اپنی زندگی سنت کے خلاف رکھتا ہے تو اس کے پاس برکات کہاں اور دوسروں کو سوا گمراہی کے اس سے کیا حاصل۔
اس کے بعد دوسرا درجہ والدین سے حسن سلوک کا ہے کہ وہ تیرے دنیا میں آنے کا سبب بنائے گئے۔ اولاد پر اور اس کے مال پر ان کا حق ہے اگرچہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی عزت بہرحال ضروری ۔ دین کے معاملہ میں ان کی اطاعت نہ کرے ان کی بےعزتی نہ کرے اور نہ حقیر جانے بلکہ اصلاح کے لئے دعا کرتا رہے۔ اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ کسی شخص سے دوستی کرنے سے پہلے اسے دیکھ لو ، کیا اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اگر نہیں تو کم از کم اپنے والدین کی عزت کرتا ہے جنہوں نے دنیا میں اس کے ساتھ زیادہ بھلائی کی ہے اگر ایسا نہیں تو تو اس سے کیا امید وفارکھتا ہے۔
والدین کے بعد قرابت داروں کا حق ہے ان سے حسن سلوک کرو ، قرابت کو قائم رکھو اور قطع رحمی کے قریب نہ پھینکو۔ پھر معاشرے میں مستحق افراد یعنی یتیم اور مسکین لوگ تمہاری توجہ سے محروم نہ رہیں ، حتیٰ کہ نوع انسانی کی بہی خواہ رہو۔ اور لوگوں سے حسن کلام سے پیش آئو ان سے بدکلامی نہ کرو۔ یعنی ہمیشہ پیار و محبت سے حق بات پہنچاتے رہو۔ حسن کلام یہ ہے کہ کلام حق بھی ہو اور مناسب طریقے سے کہا بھی جائے مداہنت یعنی محض کسی کو خوش کرنے کی خاطر غلط باتیں اور بےجا خوشامد کو احسن کلام نہیں کہا جاسکتا۔
نماز ادا کر رہو ، اور زکوٰۃ دیتے رہو۔
معاملات کی اصلاح پر صلاحیت عبادات کا مدار ہے ترتیب قرآنی سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک معاملات درست نہ ہوں گے عبادات میں لذت کہاں۔ بلکہ اگر بات زیادہ بگڑی تو عبادات چھوٹ ہی جائیں گی۔ جیسا کہ آج کل حالات سامنے ہیں۔
اسی طرح وہ لوگ بھی اپنے معاملات درست نہ رکھ سکے نتیجتاً عبادات گئیں اور بالآخر ایمان رخصت ہوا۔ سوائے ان چند لوگوں کے جنہیں اللہ نے توفیق استقامت عطا کی اور آخر کار نبی کریم ﷺ کا زمانہ جنہوں نے ان میں سے پایا۔ انہیں آپ ﷺ پر ایمان لانا نصیب ہوا۔ فرمایا تم تو ہی ہو بدعہد اور پھرجانے والے لوگ۔
یہی ایک بات تھوڑی ہے بھلا وہ وقت یاد کرو !
واذاخذنا میثاقکم……………وانتم تشھدون۔
کہ جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا کہ اپنا خون نہ گرائو گے اور نہ اپنی جانوں کو وطن سے نکلنے پر مجبور کرو گے۔
یہ ہے اخوت اسلامی کو مسلمان سارے ہی ایک ہی بدن کے اجزاء ہیں۔ اگر مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کرتا ہے تو گویا وہ اپنا ایک حصہ جسم کاٹ رہا ہے۔ یہ ایسا عہد ہے کہ جس کا تم نے نہ صرف اقرار کیا تھا بلکہ اب تک تسلیم کرتے ہو اور مانتے ہو۔
ثم انتم ھئولاء تقتلون انفسکم………………وما اللہ بغافل عما تعملون۔
پھر کیا تم نے اس کا پاس کیا ہرگز نہیں۔ بلکہ اے یہود یا اے بنی اسرائیل ! یہ تم ہی ہو جو آپس میں ایک دوسرے کا گلاکاٹتے ہو۔ اور اپنوں کو اس قدر تنگ کرتے ہو کہ وہ ترک وطن پر مجبور ہوجاتے ہیں اور پھر جب کسی کو قید کی حالت میں پاتے ہو تو اسے آزاد کراتے ہو اور اس کی خاطر رق میں خرچ کرتے ہو کہ ہمارا دینی بھائی ہے حالانکہ اس کو اس ذلت تک پہنچانے کے ذمہ دار بھی تو تم ہی ہو اور اس کو ذلیل و خوار کرکے ترک وطن پر مجبور کرنا ، اس کو ایذا دینا ہی تم پر حرام تھا وہاں تمہیں اللہ کی اطاعت کیوں بھول گئی ؟ کیا اللہ کی کتاب کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کر بیٹھے ہو کہ اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔ سو اگر انکار ہی ہے تو یاد رکھو کہ تمہارے اس فعل پر تمہیں دنیا میں ذلت نصیب ہوگی اور تم کبھی عزت کی زندگی بسر نہ کرپائو گے یعنی جس شے کے حصول کے لئے تم نے دوسروں کی گردن کاٹی کہ میں اس کی دولت سمیٹ لوں یا میری دھاک بیٹھ جائے۔ وہ تمہیں حاصل نہ ہوسکے گی اور یہی اصول ان قوموں پر لاگو ہے جو اس جرم کا ارتکاب کرتی ہیں کہ عزت کی زندگی سے محروم ہوجاتی ہیں اور خانہ جنگی کبھی عروج کا سبب نہیں بنی یہ تو اس عمل کا دنیاوی نتیجہ تھا۔
اب آخرت میں اس عمل کے ساتھ احکام الٰہی کا انکار اگرچہ ایک ہی کیوں نہ ہو بھی شامل ہوگیا جو کفر ہے صرف عمل نہ کرنا تو فسق ہے مگر اس کو کیا کیا جائے کہ لوگ کہتے ہیں یہ حکم ہے ہی فضول اور ناقابل عمل تو یہ صریح کفر بن جاتا ہے اور اشد عذاب یعنی بہت سخت عذاب میں مبتلا کردے گا اور یادرکھو اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح آگاہ ہے یعنی ایسا بھی ہرگز نہیں کہ دیکھ تو رہا ہو مگر نگاہ میں سستی ہو اور موٹی موٹی باتیں دیکھ لیں کچھ رہ بھی گئیں۔ نہیں ہرگز نہیں ، وہ پوری طرح تمام اعمال وافعال کے ساتھ سارے ولی عقائد کو بھی دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 2:87–96آیات 87- 96
اسرار و معارف
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، ایک لائحہ عمل ، پوری زندگی کا پروگرام اور ایسا جو دنیا وآخرت ہر دو عالم کی کامیابی کا ضامن ہو دیا۔ انسان کی ساری سوچ بچار ، ساری تگ ودو اور انتخاب واسمبلیاں صرف اس لئے ہیں کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کیا جائے مگر ہم نے آسمان نازل فرما کر اللہ کی طرف سے تمہیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیا اور ساتھ ایک الوالعزم رسول بھیجا کہ صرف کتاب نافع نہیں جب تک دل پاک ہو کہ اس کی تعلیمات کو قبول نہ کرنے لگ جائیں جو صحبت رسول کا حاصل ہے اور جب یہ استعداد حاصل ہو تب بھی کتاب اللہ کی شرح نبی اور رسول ہی کرسکتا ہے کہ ہمیشہ کتاب میں اجمال ہوتا ہے اور اس کی سرح انبیاء (علیہم السلام) فرماتے ہیں جو براہ راست اللہ سے تعلیم پاتے ہیں۔
یہی حال یہاں ہے کہ سب سے عظیم کتاب سب سے عظیم رسول ﷺ لائے اور جوتے کے تسمے باندھنے سے لے کر ۔۔۔۔۔ ؟ صفحہ 82 تک ہر شے کی تعلیم فرمائی مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جب دل ہی فیضان نبوت سے خالی ہوں تو کتاب سے کیا حاصل ہوسکے گا۔
پھر یہ بات صرف موسیٰ (علیہ السلام) پر ختم نہ کردی بلکہ ان کے بعد پے درپے رسول بھیجے جو سب دلوں کو زندہ کرنے کی قوت رکھتے تھے اور فیضان باری کے خزینے تھے۔ حتیٰ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن کے پاس واضح معجزات بھی تھے اور جبرائیل امین جیسے عظیم فرشتے بھی ہمہ وقت ان کی اطاعت میں کھڑے تھے کہ تعمیل ارشاد کریں ، نبی سب معصوم عن انحطاء ہوتے ہیں مگر اسی کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ایک برادری فضیلت بھی ارشاد فرمائی کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے دم کرنے سے حمل قرار پایا۔ ولادت کے وقت وہی خادم تھے پردے کے پیچھے خطاب فرماتے تھے ، بعد ولادت ساتھ رہے ، زندگی بھر حفاظت کی ، اور انہی کے ذریعہ آسمان پر اٹھائے گئے یعنی ان کا مزاج ہی کامل ملکوتی تھا کہ نہ جماع سے پیدا ہوئے اور نہ ابھی خود ہی کیا تھا۔
جماع اگرچہ خود اطاعت بن کر ثواب کا باعث بنتا ہے مگر یہ ایک ایسا فعل ہے جو مکمل توجہ اپنی طرف جذب کرتا ہے اور احوال میں مزید لمحوں کے لئے ایک انقطاع پیدا کردیتا ہے جس کی تلافی کے لئے پھر کچھ وقت کچھ محنت ضرور کار ہوتی ہے مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں یہ بھی نہ تھا۔ اگر چو وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو شادی بھی کریں گے صحیح حدیث سے ثابت ہے مگر جس وقت کی بات ہورہی ہے اس وقت حالت ایسی ہی تھی۔ اسی طرح امت مرحومہ میں بعثت نبوی علٰے صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کے بعد کتاب اللہ کی حفاظت بھی اللہ خود کررہا ہے اور فیضان نبوی کے خزینے یعنی اولیاء اللہ بھی ہر دور کو منور فرما رہے ہیں۔
یہ حدیث کہ جس کا مفہوم ہے میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں انہی روشن چراغوں کے حق میں ہے جو علوم ظاہرہ کے ساتھ ساتھ سینے اور قلوب بھی منور رکھتے ہیں اور دوسروں کت یہ روشنی پہنچانے کی استعداد رکھتے ہیں محض چند گردانیں یاد کرکے انہیں روٹی کا ذریعہ بنانے والے اس کا مصداق نہیں ہوسکتے تو تمہاری حالت یہ ہے کہ تم نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اپنے نفس کی کسوٹی پہ جانچا نفس مختلف مادی اجزاء کے یکجا ہونے کی وجہ سے صورت پذیر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی ساری توجہ مادی لذات کی طرف ہوتی ہے یہ تو روح اور دل ہے جو عالم بالا کے حقائق سے منور ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ نفس کو بھی منور کرکے اس کی خواہشات بدل دیتا ہے۔
برعکس اس کے تم نے نفس کو روح اور دل پر مسلط کیا جو انبیاء سے حصول فیض تو کجا الٹا ان سے اکڑ گیا یہاں تک کہ تم بحیثیت قوم اکثر انبیاء کے قتل کے مرتکب ہوئے اور بہتوں کی تکذیب کرتے رہے تکبر نفس نے تکذیب پہ ابھارا اور تکذیب سے دل اس قدر سیاہ اور سخت ہوئے کہ انبیاء کے قتل سے بھی تم نے دریغ نہ کیا۔
یہی حال اکثر اہل اللہ کا ہوا ہے اور ہورہا ہے کہ لوگ استفادہ کرنے کی بجائے ان کو ایذا کا سبب بنے رہتے ہیں اور ان کو اپنے فتو وں کی زد میں رکھتے ہیں بنیادی سبب تو وہی تکبر ہے۔
وقالوا قلوبنا غلف……………فقلیلاً ما یوھنون۔
اور اس کے ساتھ یہ دعویٰ کہ جی ہمارے دل تو پردوں کے اندر ہیں کبھی میلے نہیں ہوتے ہمیشہ حق بات قبول کرتے ہیں اگر تمہاری باتوں میں وزن ہوتا تو ہمارے دل قبول کرتے۔ فرمایا یہ بات نہیں کہ انبیاء کی بات بےوزن ہے بلکہ قبول نہ کرنے والوں کے دل کفر کے سبب لعنت الٰہی اور حق سے دوری کی سزا میں گرفتار ہیں جیسے پہلے تھے ایسے ہی اب رسول اللہ ﷺ کا انکار کر رہے ہیں یہ ان کے کفر اور بےراہ روی کی سزا ہے۔
یہاں سے خوب پتہ چلتا ہے کہ کثرت گناہ بالآخر ایمان کو بھی لے ڈوبتی ہے دل سیاہ ہوتے ہوتے اس قدر سخت ہوجاتے ہیں کہ ان پر حق بات اثر نہیں کرتی ورنہ اہل کتاب کی حالت یہ ہے کہ قرآن کو اور نبی اکرم ﷺ کو حق جانتے اور خوب پہچانتے ہیں مگر توفیق ایمان نہیں رکھتے۔
ولماجاء ھم کتاب من عنداللہ……………فلعنۃ اللہ علی الکفرین۔
کہ جب اللہ کی وہ کتاب ان کے پاس پہنچی جو ان کی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ جملہ آسمانی کتابوں میں توحید ، رسالت ، آخرت اور عبادت الٰہی وغیرہ ہی تو ہیں جو قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہ بھی کہ ان کی کتاب یا پہلی سب کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن کی بشارت ہے تو یہ بعثت اور نزول اس کی تصدیق کا سبب بن گئی کہ واقعی ایسا ہوا جس کی خبر کتاب میں پہلے موجود تھی۔ اور یہ لوگ تو کافروں کے مقابلے پر جنگ میں فتح انہی کے وسیلے سے مانگتے تھے یعنی آنے والے نبی اور کتاب کی عظمت سے اس قدر آشنا تھے کہ اللہ کو ان کا واسطہ دے کر کفار پر فتح طلب کرتے تھے اور پاتے تھے اور میدان مناظرہ میں بھی ان کو دلائل سے عاجز کرتے تھے ہم صاحب کتاب ہیں اگرچہ انبیاء کا زمانہ دور ہوا اور برکات اٹھ گئیں مگر اب نبی آخر الزماں کا وقت ظہور قریب ہے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ مل کر تمہیں خوب سزادیں گے۔
مگر ہوا کیا ؟ جب وہ ہستی ، وہ کتاب آپہنچی ، وہی شے جس کو یہ خوب جانتے تھے تو اس کا انکار کردیا۔ سو لعنت ہے ، اللہ کی کافروں پر یعنی وہ عذاب الٰہی کا شکار ہیں۔
بئسما اشتروابہ انفسھم………………وللکفرین عذاب مھین۔
بہت برا سودا کیا ہے ان کے نفوس نے کہ محض حسد اور بغض کی وجہ سے محض دنیا کا جھوٹا وقار قائم رکھنے کو اللہ کی نازل کردہ نعمتوں یعنی نبوت اور کتاب کا انکار کربیٹھے۔
یہ نبوت کو بھی اپنی پسند کے تابع رکھنا چاہتے تھے کہ اگر بنی اسرائیل سے نبی ہوتا تو مان لیتے۔ بنی اسرائیل سے باہر نبوت کیسے ہوسکتی ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں ہوسکتی ، اللہ اپنی عطا میں کسی کا پابند نہیں ہے جس پر چاہے اور جو چاہے کرم کردے۔ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ من عبادہ یعنی اس کے مقبول بندے بھی سب ایک درجہ کے نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے بعض کو خصوصی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ یہی یہودیانہ روش اب کے جاری ہے کہ کسی بزرگ کے خاندان سے ہونا ضروری ہے خواہ خودبدکار ہی ہو پیر مانا جائے گا اور اگر ایسا نہیں تو کس قدر نیک اور صاحب دل بھی ہو اکثر لوگ محروم رہیں گے انہوں نے نبوت کو میراث جانا ، یہ ولایت کو میراث جانتے ہیں ، لہٰذا ایسا کرنے سے یہ لوگ دوہرے عذاب کا شکار ہوئے کہ ایک تو اللہ کے نبی کا انکار کیا۔ دوسرے عطائے باری پہ اعتراض ہے تمہیں اپنی اس جرات بےجا کا پتہ چلے گا کہ کافروں کے لئے عذاب بھی ہے اور ذلت بھی۔ یعنی انہیں عذاب میں تکلیف کے علاوہ تذلیل کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ برخلاف اس کے اگر مومن گرفتار بلا ہوا تو محض گناہوں سے پاک کرنے کے لئے ہوگا۔ اس کی عزت قائم رکھی جائے گی ، معاملہ رب اور اس کے بندے کے درمیان ہوگا لوگوں میں ذلیل نہ کیا جائے گا۔
واذاخذنا میثاقکم……………………ان کنتم مومنین۔
باتیں بہت کرتے ہو حالانکہ حال تمہارا یہ ہے کہ تم سے اطاعت کا عہد لینے کے لئے تم پر کوہ طور کو معلق کیا گیا کہ اللہ کے احکام اچھی طرح سنو اور ان پوری محنت اور دیانتداری سے عمل کرو یہ کس قدر عظیم احسان تھا کہ اضطراراً تم سے اطاعت کرائی گئی ، حالانکہ کوئی قانون یہ نہیں ہے ورنہ تو اس طرح سب کے لئے آسانی ہوجائے اور تم نے عہد کیا قالوا سمعنا تم نے وعدہ کیا کہ اللہ ہم نے خوب سن لیا ہے مگر تمہارے عمل اور بعد کی زندگی نے یہ بھی ثابت کردیا کہ تم نے اطاعت نہ کی اور نافرمانی میں مبتلا رہے۔
بھئی ! یہ تو ایسے لوگ ہیں ان کی ناشکرگزاریوں کے باعث اور عبور دریا کے بعد پھر مبتلائے کفر ہونے کے باعث ان کی توبہ ناقص رہی جس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ڈال دی گئی ” واشربوا “ ان کے دلوں کو بچھڑے کی محبت سے سیراب کیا گیا۔ یہاں واقعہ رفع طور کی تکرار نہیں بلکہ ان کی ناشکری کا ایک درجہ اور اس کی کیفیت کا بیان مقصود ہے کہ بت پرستوں کو عبادت میں مصروف دیکھ کر کہہ اٹھے تھے یا موسیٰ اجعل لنا الہ۔ ان کو اس کفر سے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈانٹ ڈپٹ کر توبہ تو کرائی مگر ان سے حقیقی توبہ نہ ہوسکی حتٰے کہ ان پر پہاڑ معلق کیا گیا اور اس وقت اطاعت کا وعدہ کرکے عملاً غلط روش اپناتی اسی وجہ سے لوگوں میں اللہ کی محبت جگہ نہ پائے گی بلکہ غیر اللہ کی ایک بت کی ، ایک بچھڑے کی محبت ڈال دی گئی ان سے من حیث القوم کیا امید وفا کہ ان کرتوتوں کے ساتھ دعویٰ ایمان بھی ہے۔
ان سے فرمادیجئے کہ اگر تمہارا ایمان یہی ہے کہ کفر وشرک بھی کیا جائے ۔ حرام و حلال کی تمیز بھی نہ ہو ، حتیٰ کہ انبیاء کا قتل بھی صادر ہو اور ایمان بھی باقی رہے تو یہ بہت برا ایمان ہے یعنی یہ ایمان ہرگز نہیں بلکہ کفر کا پلندہ ہے جس کا نام تم نے ایمان رکھ لیا ہے۔
جیسے آج کل دعویٰ ایمان بھی ہے اور سنت رسول ﷺ کو مٹا کر رسوم کو عبادت کا درجہ دیا جارہا ہے ذات وصفات باری تعالیٰ میں شرک بھی کیا جارہا ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ مسلمانی کے ٹھیکیدار ہونے کے مدعی بھی ہیں سو کوئی شخص بغیر عقائد کے جو حضور ﷺ نے تعلیم فرمائے اور بغیر ان اعمال کے جن کی اصل سنت سے ثابت ہو کبھی فلاح نہیں پاسکتا خواہ کیسے بھی عادی کرتا رہے اب ان کے دعوے کو دوسری طرح سے جانچ لیں۔
قل ان کانت لکم الدار……………واللہ علیم بالظلمین۔
کہ یہود کہتے تھے لن تمسنا النار ال ایاما معدودہ ، لن یدخل الجنۃ الامن کان ھودا اونصری ، نحن ابناء اللہ واحیاء ۃ۔ تو ان سب دعو وں کی بنیاد یہ تھی کہ ہم حق پر ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور محض لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ورنہ دل سے جانتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اگر ایسا نہیں تو آئو اب تک بات عقل ونقل کی حدود میں رہی اب ذرا فوق العادت اور معجزانہ طور پر تمہارے دعا دی کو پرکھا جائے کہ اگر تم سچے ہو تو ذرا موت کی تمنا کرو۔
موت کی تمنا کرنا یا نہ کرنا یا کن حالات میں جائز ہے اور کن میں نہیں ، یہ دوسرا مسئلہ ہے یہاں اس سے بحث نہیں۔ یہاں مقصد اس بات سے ہے کہ ان یہود کو جو آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں آپ ﷺ کی نبوت کا اس قدر یقین ہے کہ ان کے دل کہتے ہیں کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ آپ کے مقابلے میں ہم سچے نہ ہوں تو ہمیں موت آجائے یقینا موت آجائے گی۔ لہٰذا یہ اعلان کردیا کہ کبھی ایسی تمنا نہ کریں گے کہ یہ بدکار ہیں اور بہت بڑے ظالم کہ حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اللہ ایسے ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گنہگار پر ایک انجانا سا خوف ، ایک خفیہ سی پریشانی جو مسلط رہتی ہے وہ وہی زندگی کے خاتمے کا کھٹکا اور موت کی ہیبت ہے۔ اور نیک اور صالح انسانوں کے دلوں میں جمعیت اور سکون کی بنیاد بھی اخروی آرام کی توقع ہے یہ بات ایک طرح سے مباہلہ سے مشابہت رکھتی ہے اور یہود یہ بھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں موت آجائے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ اگر کہہ گزرتے تو دنیا پر کوئی یہودی نہ رہتا بلکہ اپنے ہی لعاب دہن سے گلے گھٹ کر مرجاتے۔
ولتجہ نھم احرص الناس……………………واللہ بصیربما یعملون۔
کہ آپ ان کو دوسروں سے بھی زیادہ زندگی پر حریص پائیں گے حتیٰ کہ مشرکین سے بھی جن کا آخرت پر ایمان ہی نہیں یا کفار جو آخرت کو مانتے ہی نہیں ان کے نزدیک صرف یہی دنیا ہے ان کی حرص تو لازمی چیز ہے مگر یہ جو ایمان کے مدعی اور آخرت کے قائل ہیں یہ حرص دنیا میں ان سے بھی بازی لے گئے ان میں کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کاش ہزاروں برس جیتا ہی رہے۔
تو پتہ چلا کہ اپنے آپ کو اخروی نعمتوں کا مستحق جاننے کا دعویٰ نرا دعویٰ ہی ہے اور جب یہ بات ہے تو طویل عمر اگر نصیب بھی ہوجائے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچانے کا سبب تو نہیں بن سکتا بلکہ کفر کے ساتھ طویل عمر ، الٹا عذاب کو بڑھانے کا ذریعہ ہوگی کہ نجات کا مدار تو ایمان پر ہے اور یہ ان کے دعوے اور ان کے کرتوت اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے۔ یہ ایسے ظالم ہیں کہ دل سے حق کو حق جانتے ہیں مگر مانتے نہیں۔
جاننے اور ماننے میں فرق :
یہاں یہ خیال نہ گزرے کہ جب جانتے ہیں تو نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے ، بھئی ! جانتا تو شیطان بھی ہے مگر مانتا نہیں۔ ایمان کے لئے صرف جاننا کافی نہیں بلکہ ماننا ضروری ہے اور ماننے کے لئے سمعنا وعصینا نہ ہو کہ زبانی مانے اور عملاً جھٹلائے بلکہ ماننا اسے کہتے ہیں جس پر عمل بھی ہو۔
اکثر ائمہ نے جن میں امام بخاری (رح) جیسے جلیل القدر حضرات شامل ہیں ، اعمال کو ہی ایمان کہا ہے مگر احناف کے نزدیک اقرار کے ساتھ ولی تصدیق شامل ہو تو کافر نہ ہوگا ترک اطاعت سے فاجر ہوگا۔ کہ یہ قول اور تصدیق قلبی بھی تو ایک عمل ہی ہے اور یہ بہت بڑا عمل ہے مگر اس کی زینت اعمال ہی سے ہے جو بہت ضروری ہے تو گویا ہر قول اور ہر فعل کا مدار عملاً اس کے کرنے اور قلبی طور پر اس کی تصدیق سے ہے اگر دل ساتھ نہ ہو تو عمل محض ایک ڈھونگ رہ جاتا ہے۔
افسوس ! ہمارے زمانے کی مصیبت یہی ہے کہ دل مرتے جا رہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ جان بلب مریضوں (دلوں) کو غفلت اور عدم توجہی کا شکار کررکھا ہے۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے ، آمین !