2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:97–103

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ جو کوئی جبرائیل (علیہ السلام) سے دشمنی رکھے تو یقینا اس نے آپ کے قلب (اطہر) پر اللہ کے حکم سے اس (قرآن) کو پہنچایا جو تصدیق کرتا ہے اپنے سے پہلی (کتابوں) کی اور راہنمائی کرتا ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری دیتا ہے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جس کسی نے دشمنی کی اللہ سے اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں سے اور جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) سے تو یقینا اللہ (ایسے) کافروں کے دشمن ہیں

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے آپ پر واضح دلائل نازل فرمائے اور ان کا انکار صرف بدکار ہی کرتے ہیں

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا ایسا نہیں ہوتا رہا کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک طبقے نے اس کو توڑ دیا بلکہ ان میں سے اکثر تو (اس عہد پر) یقین ہی نہیں رکھتے

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب کبھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول آیا (حالانکہ وہ) جو ان کے پاس (کتاب) ہے اس کی تصدیق کرتا تھا تو ان اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے (ان کا) انکار کردیا اللہ کی کتاب کو بھی قابل اعتناء نہ سمجھا (پیٹھ پیچھے کردیا) جیسا کہ وہ جانتے ہی نہ ہوں

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور انہوں نے ایسی چیز کا اتباع کیا جو سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں شیاطین (جن اور انسان) پڑھا کرتے تھے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا مگر ہاں شیاطین کفر کیا کرتے تھے لوگوں کو سحر کی تعلیم دیتے تھے اور جو کچھ بابل (شہر) میں ہاروت اور ماروت (دوفرشتوں) پہ نازل کیا گیا اور وہ بھی جب تک کہہ نہ دیتے کہ ہمارا وجود بھی ایک امتحان ہے سو کفر میں نہ جاپڑنا سو وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے تو یہ ان سے (ایسا سحر) سیکھنا چاہتے تھے جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں مگر یہ (جادوگر) اس سے اللہ کے حکم کے سوا کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ایسی چیز (سحر) سیکھتے جو ان کو نقصان تو پہنچائے اور انہیں نفع نہ دے۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے اور وہ بہت برا ہے جس کے پیچھے انہوں نے اپنی جان لگادی کاش یہ جانتے ہوتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر یہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا معاوضہ بہتر تھا کاش ان کو اتنی عقل ہوتی

آیات 97- 103 اسرارومعارف جب علمائے بنی اسرائیل عقل ونقل میں عاجز ہوئے تو صورت ایک مباہلہ کی بنی ، جب وہاں بھی ناکام ہوئے تو اب سوائے تسلیم کے چارہ نہ تھا اور راہ وہ اختیار نہ کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا ایک اور عذر لنگ تراشا کہ نبی تو برحق ہیں اور ہم مان بھی ضرور لیتے مگر یہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھ پر وحی لاتے ہیں اور یہ وہ فرشتہ ہے جو بارہا ہم پر بربادی لایا اور ہمارے آبائو اجداد سے سختیاں کیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ مثلاً میکائیل ہی وحی لاتا تو ضرور ہم بھی تسلیم کرتے مگر جبرائیل کے ساتھ ہماری بنتی نہیں ہے اس وجہ سے ہم نبوت محمدی ﷺ کا اتباع نہیں کرسکتے۔ یہ ساری بات انہوں نے جہلاء کو بہلانے کے لئے گھڑی ، مگر اللہ کریم نے یہاں بھی ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا اور فرمایا ان جبرائیل کے دشمنوں سے فرمائیے کہ تمہیں فرشتوں سے برادری گانٹھنی ہے یا اس پیغام کو قبول کرنا ہے جو وہ اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کے قلب اطہر پہ لاتے ہیں۔ یہاں باذن اللہ کہہ کر یہ ظاہر فرمایا کہ اللہ کریم کا کلام ذاتی ہے اور فرشتہ تو صرف لانے پر مامور ہے اس کا مہبط آپ ﷺ کا قلب اطہر ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لی جائے کہ انسان جس قدر علوم حاصل کرتا ہے ان کا خزانہ تو دماغ ہے پھر یہ نزول علم دل پر کیسا ؟ تو یہ جان لینا چاہیے کہ علم کی اقسام وہ ہیں مادی اور روحانی علوم مادیہ یا مادی کمالات کو سیکھنا ، محفوظ رکھنا اور ان کو عمل میں لانا دماغ کا کام ہے۔ دماغ اور دل کی صلاحیتوں میں فرق : جسم مادی ہے اس کی ضروریات مادی ہیں ، دماغ بھی ایک مادی جسم ہے جس کا کام جسم کی ضروریات کو جاننا اور ان کی تکمیل کی راہیں تلاش کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ مادی کمالات کے لئے ایمان ضروری نہیں ، کافر بھی ڈاکٹر ، سائنسدان ، انجینئر وغیرہ بن سکتا ہے۔ دوسرا علم روحانی ہے روح کا تعلق عام امر سے ہے وہاں کے علوم جاننا دماغ کے بس کی بات نہیں بلکہ دل کا کام ہے۔ وہ دل جو اس گوشت کے لوتھڑے میں اللہ نے رکھ دیا ہے جو حقیقتاً عالم امر ہی کا ایک لطیفہ ہے اللہ کی ذاتی عظمت کا شعور اس کی صفات کا ادراک آسمان سے بالا کی باتیں ، ارواح ، برزخ ، آخرت ، موت یا بعدالموت ، حشرونشر ، ثواب و عذاب ، جنت ، دوزخ یہ سب وہ حقائق ہیں جن کو روحانی علوم کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے جن کا مہبط دل ہے۔ اگر دماغ میں صلاحیت ہوتی تو ساری کائنات میں سب سے افضل دماغ بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے آپ ﷺ کے دماغ کو خطاب فرمایا جاتا یا ان علوم کی تعلیم دی جاتی گر نہیں ، یہاں بسط سی قلب اطہر ہے۔ لہٰذا اس علم سے مستفید ہونے کے لئے روزن دل دا کرنا ہوگا تو فرمایا فرشتہ اللہ کا ذاتی کلام لایا جو براہ راست قلب اطہر نازل ہوا یہ بھی کلام کی عظمت کا انکار ہے کہ دماغ کی رسائی ہی سے بالا تر ہے بلکہ خود دماغ کی اصلاح کرنے والا ہے۔ یہ کہ کسی کا دماغ اس کی اصلاح کرنے لگ جائے۔ قرآن کے مصداق ہونے کا مفہوم : اپنے سے پہلے اس کلام کی جو کسی زمانے میں بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوا تصدیق کرتا ہے یہ تصدیق بھی دو قسم کی ہے ایک تو مضمون اخبار میں پہلے کی تصدیق کرتا ہے ، مثلاً ذات وصفات باری ، حشرونشر ، حساب کتاب یا جنت دوزخ کے جو حقائق پہلی منزل من اللہ کتاب نے بیان کئے وہی یہ بیان کرتا ہے اور دوسری تصدیق حالاً ہے کہ ان سب کتابوں میں نبی آخرالزماں ﷺ اور اللہ کی آخری کتاب کے آنے کی پیشگوئی موجود ہے سو اس نبی ﷺ اور کلام نے آکر عملاً ان کی پیشگوئی سچی ثابت کردی۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی کتاب نازل نہ ہوگی اگر ایسا ہوتا تو قرآن صرف اپنے سے پہلے کی وحی کا مصدق ہی نہ ہوتا بلکہ بعد والے کلام کی پیشگی تصدیق فرمایا مگر ایسا نہیں ، پہلے کی بات کرتا ہے اپنے بعد کا کوئی امکان ہی نہیں رکھتا اس کے بعد کوئی شخص بھی اگر نزول وحی کا دعویٰ کرے گا تو کذاب ہوگا۔ وھدی اور راہ دکھاتا ہے یعنی بہترین رہنمائی کرتا ہے کہ جس قدر اصلو حیات یا طریق زندگی لوگوں نے بنائے ہیں ان میں رکھ کر دیکھ لو ، سب سے بہترین طرز حیات وہی ہے جو یہ کلام سکھاتا ہے اور یہ واحد طرز حیات یا ہدایت ہے جو پیدائش سے لے کر آخرت تک رہنمائی فرماتا ہے ورنہ باقی سب طریق حیات کم از کم موت سے آگے تو خاموش ہیں۔ وبشریٰ للمومنین ، اپنے ماننے والوں میں ایک ایسی روحانی خوشی اور خوشخبری تقسیم کرتا ہے جو انہیں آخرت کی لذتوں سے آشنا کردیتی ہے اور ایک ایسا سکون عطا فرماتا ہے جس کی لذت کو دنیاوی آلام بھی کم نہیں کرسکتے۔ ؎ یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے یہ جملہ اس کلام کے اعجاز ہیں اور تمہیں اس کلام کو ماننا تھا ، مگر کیسے مانتے کہ جب تمہارا اصل مرض تو کفر ہے اور اللہ سے دشمنی تو فرمایا جو اللہ کا دشمن ہو اور اس کے فرشتوں اور پیغمبروں کا اور جبرائیل ومیکائیل کا ، اللہ تو خوددشمن ہے کافروں کا یعنی یہ جبرائیل سے دشمنی میکائیل سے دوستی نہیں بن سکتی بلکہ اس کا اصل سبب ہی اللہ سے دشمنی ہے تو جب اللہ ہی سے دشمنی ہے تو پھر سب فرشتوں تمام انبیاء سے دشمنی کا سبب ہے۔ اسی طرح جو بھی مقبولان بارگاہ الٰہی کا یا ان میں سے بعض کا دشمن ہوگا تو حقیقتاً وہ سب کا دشمن ہوگا بلکہ خود اللہ کا دشمن ہوگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ میرے دو وزیر آسمانوں میں اور دو زمین میں ہیں آسمانوں میں جبرائیل ومیکائیل اور زمین پر ابوبکر وعمر ؓ الی آخر الحدیث ۔ تو گویا شیخین ؓ کا یا ان میں سے کسی ایک کا دشمن بھی اسی وعید کا مستحق ہوگا اور سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ فان اللہ عدو للکفرین۔ کو خدا خود کفار کا بوجھ ان کے کفر کے دشمن ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غضب الٰہی کا شکار ہو کر اللہ کے مقبول بندوں یا اس کے رسولوں اور فرشتوں کی عداوت میں مبتلا ہوں گے۔ چوں خدا خواید کہ پردہ کس درد میش اندر طعنہ نیکاں کند اور اسی طرح بالعکس جب راضی ہوتا ہے تو اسے اپنے مقبول بندوں کی محبت عطا فرماتا ہے اور ان کی مجلس میں پہنچاتا ہے یعنی نیک ہم نشین عطا فرماتا ہے پھر واضح اور بین دلیلیں اور روشن نشانیاں نازل فرمائیں ، کلام اللہ خود بہت بڑا معجزہ ہے علاوہ ازیں معجزات نبوی ظاہر و باہر اور بیشمار ہیں ان سے انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں کر رہے بلکہ ہر مصیبت ان کی بداعمالیوں کی لائی ہوئی ہے کہ بدکاری نے دل کو اقرار کی صلاحیت سے محروم کردیا ہے۔ اور یہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ یہ تو نسلاً بعد نسل بدعہدی کرتے چلے آرہے ہیں جب بھی اللہ نے کوئی وعدہ لیا ان میں سے کسی نہ کسی فریق نے ضرور عہد شکنی کی بلکہ اکثر نے کی اور عملاً کم ہی لوگ ہوئے جو حق پر رہے۔ وہی حال آج ہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی تورات میں موجود مگر ایمان لانے والے کم اور عہد شکنی کرنے والے زیادہ ہیں۔ ولما جاء ھم رسول ھن عنداللہ……کانھم لا یعلمون۔ جب ان کے پاس اللہ کا عظیم الشان رسول تشریف لایا جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا بھی ہے کہ اگر اس کا انکار کریں تو اس پیشگوئی کا کیا کریں گے جو ان کی کتاب میں موجود ہے اور جس کی حقانیت کے مدعی بھی ہیں۔ اور خوب جانتے اور سمجھتے ہیں اس ساری بات کو ، آپ ﷺ کی ذات کو ، آپ ﷺ کے اوصاف و کمالات کو حتیٰ کو حلیہ مبارک تک سب جانتے ہیں ، مگر دیکھ لو کس طرح کتاب الٰہی کو پس پشت ڈال رہے ہیں گویا کچھ جانتے ہی نہیں اور بجائے اتباع نبوت کرنے کے ان علوم کے اکتساب میں لگے ہوئے ہیں جو عہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) میں شیطین پڑھا کرتے تھے۔ واقمومواما تتلو الشیطین علی ملک سسلینس………لوکانو یعطون۔ ہر اصل کے ساتھ نقل کا وجود ہے یہاں تک کہ اللہ کے مقابلے میں خدائی کے جھوٹے دعویدار موجود انبیاء کے مقابلے میں کذاب اور اولیا کے مقابلے میں نقال ہمیشہ رہے ہیں۔ اسی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بابرکت حکومت نے جو جن وانس ہی کو نہیں بلکہ درندہ پرند اور ہوا تک کو محیط تھی ، جذبہ نقالی کو ہوا دی اور کئی ایسے شوقین پیدا ہوئے جن کو جنات کی تسخیر کرنے کا خبط سمایا۔ شیاطین نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور بعض کفر یہ کلمات لوگوں کو تعلیم کئے جو کوئی ان الفاظ …………کو دہراتا۔ امکانی حد تک شیاطین اس کی مدد کرتے تاکہ یہ کفر سازی قائم رہے۔ سحرکی اصل اور تاثیر : سہی سحر کی اصل بنی جو آج تک مروج ہے اس کی اصل میں دو طرح کا کفر اور زندقہ پایا جاتا ہے یا تو الفاظ کفر یہ ہوتے ہیں اور اگر الفاظ قرآنی ہوں گے تو لکھنے کا طریقہ غلط ، مثلاً دم مسفوح سے لکھے جائیں گے نیز ساحر ہمیشہ گندے اور ناپاک رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ شیطان اسی حال کو پسند کرتا ہے جس طر ح سحر کرنے کے دو طریقے ہیں اسی طرح اس کی تاثیرات بھی دو قسم کی ہیں ایک تو یہ کہ آدمی کی نظر یاقوت متخیلہ متاثر ہو کر اس کے سامنے مختلف صورتیں متشکل کردیتی ہے واقعتا ایسا نہیں ہوتا جیسے فرعونی ساحروں کے بارے میں ارشاد ہے سحروا العین الناس اور بخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعیٰ کہ لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا یا ان کے سحر کے اثر سے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال آتا کہ رسیوں کے سانپ بن کر دوڑ رہے ہیں ، گویا واقعی کچھ نہ تھا۔ رسیاں ویسی کی ویسی ہی تھیں مگر قوت متخیلہ متاثر ہو کر سانپ سمجھنے لگ گئی اور دوسری تاثیر یہ کہ جادو کے ذریعے کسی چیز کی حقیت ہی بدل جائے ، جیسے انسان کو پتھر یا کسی جانور کے قالب میں تبدیل کردیا جائے اس میں بات بہت طویل ہے کہ ایسا ممکن ہے یا نہیں۔ اکثر کے نزدیک قلب ماہیت محال ہے واللہ اعلم۔ غرضیکہ ان لوگوں یعنی بنی اسرائیل نے کتب سماوی کو چھوڑ کر شیطانی تعلیمات کو اپنایا۔ یہاں تک کہ اللہ نے بائبل کے مقام پر دو فرشتے نازل فرمائے کہ جو جادو اور کلام اللہ میں فرق بیان کریں اور جادو کو خرابی سے لوگوں کو مطلع کریں۔ اجمالاً تو جادو کا غلط ہونا تعلیمات انبیاء نے واضح کردیا تھا مگر جادو کی قسمیں اور باریکیاں اور اس کے مروج الفاظ سے بحث انبیاء کا منصب ہی نہ تھا اور فرشتے جو کارخانہ تکوین میں ہر کام بجا لاتے ہیں۔ اللہ نے ان کو مقرر فرمایا کہ انسیاء صرف تشریعی امور بجا لاتے اور مظہرہدایت ہوتے مثلاً حضور ﷺ نے یہ تو فرمایا کہ جوا حرام ہے اور اس کی وجہ بھی ارشاد ہوئی کہ نقصان یقینی اور نفع موہوم ہو تو یہ جوا ہوگا۔ مگر کس طرح ، تاش کے پتوں پہ یا کسی اور چیز سے کھیلا جاتا ہے ان جزئیات سے بحث کرنا گویا جوئے کے مختلف طریقے بیان کرنا ہے جن کو سن کر کوئی بدباطن جوا شروع کرسکتا ہے کہ طریقہ تو اس نے سن ہی لیا۔ سو یہ بات نبی کی شان کے لائق نہیں اسی طرح جادو کی جزئیات بیان کرنا بھی کسی نبی کو زیب نہیں دیتا تھا۔ اس لئے یہ کام اللہ نے فرشتوں سے لیا اور ہاروت وماروت دو فرشتے نازل فرمائے جن کے فرشتہ ہونے پر دلائل قائم کردیئے گئے جیسے نبی کی نبوت کے اثبات کے لئے معجزات ، اور انہوں نے اپنا کام شروع کردیا کہ یہ علم نہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور نہ انبیاء کو زیب دیتا ہے یہ سب شیطانی جادو ہیں اور ان سے بچو۔ نیز جادو کی جزئیات بھی بیان کیں کہ کیا کرنے ہے کیا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے جو اشتباہ اور التباس معجزات اور شعبدہ میں پیدا ہوچلا تھا اسے بھی ظاہر فرمایا کہ جادو اور سحر کسی جن یا شیطین یا اسی طرح کی مخلوق کا عمل ہوتا ہے۔ معجزہ اور شعبدہ میں فرق : فرق یہ ہے کہ اس کا سبب عام نظر سے اوجھل ہوتا ہے مگر معجزہ اسباب سے بالاتر ہوتا ہے اور براہ راست فعل باری۔ یہ بھی ایک لطیف بات ہے اور عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر۔ اس سے بھی آسان فرق ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ معجزہ دین کی تائید نبوت کے اثبات اور احکام الٰہی کے قیام کے لئے ہوتا ہے۔ برخلاف اس شعبدہ بازیا جادو گر ہمیشہ اپنی عظمت منوانے کے لئے کوشاں رہتا ہے اسی طرح کرامت بھی وہی ہوگی جو احیائے دین کے لئے ظاہر ہو اور ایسی عجیب بات کا اظہار ، جو محض اپنی ذات کا لوہا منوانے کے لئے ہو شعبدہ ہوگا۔ نیز ایک صاف پاک ، طیب و طاہر قول سے متعلق ہوگا جبکہ دوسرا قول وفعل کی قباحت پر استوار ہوگا۔ رحمت باری دیکھو کہ فرشتوں کو تعلیم پر مقرر فرمایا اور جب تک چاہا زمین پر رکھا مگر ان کی کج فہمی اور بدمزاجی ملاحظہ ہو کہ باوجود اس کے کہ وہ فرشتے جزئیات سحر بیان کرنے سے پیشتر تاکید کرتے اور ہر فرد کو آگاہ کرتے جو بھی ان کے پاس جاتا اسے کہتے کہ میاں یہ جادو نرا کفر ہے اور ہمارا وجودبھی تمہارے لئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ جادو کی باریکیاں سیکھ کر جادو ہی میں مبتلا ہوجائو ، اور اسی طرح کا فر نہ بن جانا یعنی فلا تکفر۔ مگر یہ ایسی باتیں سیکھتے جن کے ذریعے سے مرد اور اس کی بیوی میں تفریق ہوسکے یعنی پرائی عورتوں کو پھانستے پھرتے اور وہی کاروبار یہود اب تک یعنی آپ ﷺ کے عہد مبارک تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ افسوس ! آج یہ سارا کاروبار یہود سے بڑھ کر مسلمانوں میں بھی پھیل چکا ہے اور اکثریت کے ایمانوں کو ضائع کرتا چلا جارہا ہے ۔ مگر ایک بات یاد رہے وما ھم بضارین بہ من احد الا باذن اللہ کہ جادو گر جو چاہے کرے یہ ممکن نہیں اور نہ اس خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت۔ یہ تو کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے مگر ہاں جب اللہ ہی اجازت دے دے۔ یعنی جب کسی سے حفاظت الٰہیہ ہی اٹھ جائے تو اسے تو یہ گیند بنالیتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کا ایمان و عقیدہ درست ہو اور اللہ کی اطاعت کرنے والا ہو تو اس کی حفاظت الٰہی حاصل ہوتی ہے اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ جیسے عاصم بن بعید یہودی نے حضور اکرم ﷺ پر جادو کیا تو اللہ نے ساری حرکت سے حضور ﷺ کو مطلع فرما دیا اور کنگھی ، بال اور کفجور وغیرہ نکال لی گئی یا وہ کنواں جس میں یہ پھینکی گئی تھیں صاف کردیا گیا۔ جادو کی تاثیر : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے اور انبیاء بھی متاثر ہوسکتے ہیں جیسے بھوک یا پیاس وغیرہ امور طبعی سے متاثر ہوتے ہیں مگر ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا الٹا منہ کی کھاتا ہے۔ اسی طرح عاملوں کی ساری عمر کا عمل کامل کی ایک نگاہ سے زائل ہوجاتا ہے ۔ مگر یہاں جو بدنصیب خدا کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ان پر حکومت جادوگروں ہی کی ہوتی ہے جیسے ہندو کہ کبھی پنڈتوں کے چکر سے نہیں نکل سکتے یا بدعتی اور گمراہ فرقے کو ہمیشہ ٹونے ٹوٹکے والوں کے اسیر رہتے ہیں۔ یہ بدعتی ایسے علوم کی تحصیل میں عمریں کھپا دیتے ہیں جو اگرچہ وقتی طور پر عارضی فوائد ، دنیا یا جاہ کا سبب تو ہیں مگر نتیجتاً ہمیشہ نقصان دہ اور ضرر رساں ہیں کہ ابدی ذلت میں مبتلا کرتے ہیں اور جن سے کسی بھی طرح کا حقیقی فائدہ نہیں۔ ولقد علموا یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ جس کسی نے کتاب اللہ کی بجائے عمر تحصیل سحر کی نذر کردی اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ، اور وہ ہمیشہ ذلت میں گرفتار ہوا اور کس قدر عظیم مصیبت ہے جو یہ اپنی جانوں کے لئے مول لے رہے ہیں یعنی محنت ومشقت اور طرح طرح کی چلہ کشیاں کرکے حاصل کیا ہوگا جہنم کتنا گھاٹے کا سودا ہے کتنا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اس بات کو سمجھ پاتے اور ٹونے ٹوٹکے اور جادو کی جگہ آپ کی مبارک تعلیمات کو اپنا کر ولوانھم امنو یعنی آپ ﷺ کی تعلیمات کو قبول کرتے واتقوا اور ان پر عمل پیرا ہوتے نیکی اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کریم کے ہاں بہت بہتر بدلہ اور اجر پاتے۔ کاش ان میں اس قدر عقل ہوتی اور اتنا علم رکھتے کہ حق و باطل میں تمیز کرسکتے۔ یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خلاف سنت زندگی گزارنے والا شخص بےعلم اور بیوقوف بھی ہے خواہ فی زمانہ اسے دانشور ہی کا خطاب کیوں نہ ملا رہے ساری دانش ساری بینش کا خلاصہ اتباع نبوی ہے۔
Ayahs 2:104–112

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ’ راعنا ‘ مت کہا کرو اور ’ انظرنا ‘ (ہماری طرف توجہ فرمائیے) کہا کرو اور (اچھی طرح) سن لو اور (ان) کافروں کے لئے درناک عذاب ہے

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

کافر اہل کتاب اور مشرک نہیں چاہتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے بھلائی نازل ہو اور اللہ جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

جو آیت ہم موقوف کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں (اے معترض ! ) کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ مددگار

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ایسے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھے گئے اور جو کوئی ایمان کو کفر سے بدل ڈالے تو یقینا وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے اکثر یہ چاہتے ہیں کہ کاش ! تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بناڈالیں (محض) حسد کی وجہ سے جو ان کے دلوں میں ہے ان پر حق واضح ہوجانے کے بعد (ایسا کرتے ہیں) پس معاف کردو اور درگزر کرو حتیٰ کہ اللہ اپنا حکم بھیج دیں یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز کو قائم رکھو (پابندی سے ادا کرو) اور زکوٰۃ ادا کرو اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجتے ہو اسے اللہ کے ہاں پاؤ گے اور جو عمل تم کرتے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہے ہیں

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں سوائے یہودیوں اور نصاری کے کوئی جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا یہ (محض) ان کی آرزوئیں ہیں فرمائیے اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف جھکادے اور وہ مخلص (بھی) ہو تو ایسے بندے کے لئے اللہ کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کو نہ ڈر ہوگا اور نہ افسوس

آیات 104- 112 اسرارو معارف فرمایا ان کے ایمان لانے کی کیا امید یہ ایسے بدباطن ہیں کہ عمداً بارگاہ نبوی میں گستاخی کرتے اور ایسے پوشیدہ طریقے سے کرتے ہیں کہ گستاخی بھی کرلیں اور پکڑے بھی نہ جائیں تو یہ لفظ محاورہ عرب کے لحاظ سے اگرچہ ادب کا تھا کہ ارشاد فرماتے ہوئے اگر کوئی لفظ کسی نے نہ سنا تو عرض کرتا راعنا یعنی ہماری رعایت فرمائیے یا مراد کہ ہم پر شفقت فرمائیے۔ مگر یہود بےبہبود ” ع “ کی زیر کو کھینچ کر راعی پڑھتے جس سے مراد گڈریا یا چرواہا بنتا ہے تو گویا طنز مقصود ہوتا ہے کہ ہم تو فاضل ہیں اور آپ ﷺ معاذ اللہ محض ایک چرواہے ہیں۔ یہی لفظ مومنین بھی عرض کرتے مگر ان کی مراد ہرگز یہ نہ ہوتی ، وہ تو محاورتاً کرتے تھے مگر چونکہ یہود نے یہ لفظ توہین کے لئے چن لیا تھا تو اللہ کریم نے اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغت سے ہی خارج فرمادیا کہ کبھی راعنا مت کہو۔ غالباً اسی وجہ سے سید انور شاہ کشمیری (رح) نے کفار المحدین میں لکھا ہے کہ کوئی جملہ شان رسالت میں ایسا کہنا جس سے مراد توہین نہ ہو مگر سننے والا سمجھے کہ اس نے توہین کی ہے تو قائل کافر ہوجائے گا۔ سو اس سے صحابہ کرام ؓ کو اللہ نے بچا لیا اور فرمایا کہ یہ لفظ ہی چھوڑ دو اور انظرنا کہا کرو جو عرفاً اس کے ہم معنی ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ اس کی بھی نوبت کیوں آئے واسمعوا غور سے سنا کرو کہ معجزات نبوی ﷺ میں یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی آواز جہاں تک مجمع ہوتا برابر پہنچتی بغیر اس کے حضور اکرم ﷺ کوئی کوشش فرماتے یا زیادہ اونچا بولتے بلکہ آپ ﷺ کی معتدل اور طبعی آواز جیسے پہلی صف والا آدمی سنتا ایسے ہی دور بیٹھنے والے تک پہنچتی تھی اگر بات رہ جاتی تو نقص سننے والے کی طرف سے ہوتا سو یہ ہو ہی کیوں ، پوری توجہ سے سنو۔ رہے کفار ، جو ایسی خباثبتیں کرتے ہیں ان کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے جو آخرت کا تو ہے ہی یقینی ، مگر دنیا میں بھی یہود کی حالت بہت بری ہوئی ، جس کا مشاہدہ چشم عالم نے کیا۔ مایودالذین کفروا………………سوآء السبیل o اگر بات یہ ہے کہ کفار خواہ یہود ونصاریٰ ، اہل کتاب میں سے ہوں ، خواہ مشرکین میں سے یہ اپنے دل سے اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر اللہ کی طرف سے انعامات کا ظہور ہو۔ تو چونکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت سے تو آگا ہیں ہی یہ بات بھی کہ اللہ خالق باقی سب مخلوق ہے ساری مخلوق میں جس قدر حسن و جمال اور علوم ودرجات تقسیم ہوئے سب سے زیادہ کا جامع محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اس میں بحث کی گنجائش کہاں ہے اللہ سب کو سمجھ عطا فرمائے ! آمین۔ یہ تو آپ حضرات کو رحمت باری سے محروم کرنے کی تدبیر کرتے مگر اللہ بھی جسے چاہے اپنی رحمت کے لئے مختص فرمادے ” یعنی صحابہ کرام کو اللہ نے اپنی رحمت کے لئے چن لیا تھا “۔ کہ اول مخاطب کلام باری کے وہی ہیں اور سب سے پہلے انہی کو آداب بارگاہ رسالت سے مطلع فرمایا جارہا ہے تو اس طرح یہ آیت عدل صحابہ ؓ پہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت کے لئے چن لے جیسے آپ حضرات کو چن لیا ہے اور رحمت کے فریب پر مطلع فرمادیا ہے کہ وہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ اسی طرح یہ قبلہ کی تبدیلی پہ معترض ہیں کہ جی مذہب حقہ کیسے جسے کبھی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہوئے پاتے ہیں اور پھر اچانک سمت بدل کر کعبہ کو قبلہ قرار دیتا ہے۔ اب پہلے والا ٹھیک تھا یا موجودہ ؟ فرمایا یہ سب مسلمانوں کو بھٹکانے کی چالیں ہیں ورنہ اعتراض تو جب تھا کہ کوئی خبر یا اطلاع غلط ثابت ہوتی ۔ انبار میں تو نسخ ہے نہیں۔ اب رہے احکام تو بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا پابند ہے خدا بندے کی صلاح یا مشورے کا پابند نہیں اللہ کی مرضی کسی شریعت میں دو نمازیں تھیں ، دوسری میں پانچ نمازیں کردیں کسی کا قبلہ بیت المقدس تو کسی کا کعبہ تھا۔ مسلمانوں کو دونوں کی سعادت بخشی ، سو جو کوئی جانتے ہیں کہ اگر کوئی ناسمجھی سے بھی توہینکرسالت کا مرتکب ہوا تو انعامات باری تو کجا ایمان بھی نہ پائے گا اس لئے اس طرح کے الفاظ کے پھیر میں الجھانا چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ اس قدر نازک اور آج کے لوگ اس قدر دلیر ہیں کہ ہر بات پر موضع بحث ہی ذات نبوی ﷺ کی ذات ہو صفات کی جائے گی جہاں ذرا بےادبی ہوئی اور ایمان چلا گیا ، کیا کافی نہیں کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر حکم منسوخ ہوتا ہے یا ذہنوں سے بھلا دیا جاتا ہے تو اس کی جگہ اس جیسا یا اس سے بھی بہتر برکات کا حاکم بھیج دیا جاتا ہے یہ دونوں طریقے نسخ فرمادیئے جاتے یا تلاوت منسوخ حکم باقی ، جیسے آیہ رجم ، اور یا حکم اپنے کی بجائے وہ آیت فراموش کرادی اور صحابہ کرام کو خود نبی اکرم ﷺ کو یاد نہ رہتی۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ہو اس میں بندوں کی بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اور زیادہ برکات کا نزول اور اے مخاطب ! کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ غالب ہے مغلوب نہیں اس کی اطاعت کی جائے گی۔ نہ یہ کہ انسان کے لئے قاعدے مقرر کرے۔ اے مخاطب ! کیا نہیں سمجھتا کہ آسمانوں اور زمین کی حقیقی سلطنت اسی کے لئے ہے اور اکیلا حاکم اور ساری کائنات محکوم ہے۔ خوب سن لو ، ایک وقت آرہا ہے جب حقائق بےنقاب ہوں گے تو تم اس کے مقابلے میں کسی کو نہ اپنا دوست پائو گے نہ مددگار۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر تو کتاب ایک ہی بار نازل ہوئی تھی تم بھی اپنے نبی ﷺ سے یہ سوال کرو تو کیا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب فوراً مان لی تھی یا طرح طرح کے سوال کرکے عذاب الٰہی کو دعوت دی تھی جب تمہیں ترغیب دے رہے ہیں تو کیا تم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اپنے نبی ﷺ کو عبث سوالوں سے پریشان کرنا چاہتے ہو ، اگر ایسا ہے تو یہ ایمان نہ ہوگا بلکہ یہ راہ تو ایمان سے ہٹ کر کفر اختیار کرنے کی ہے ۔ اور جس کسی نے ایمان چھوڑ کر کفر اپنایا وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ ودکثیر من اھل الکتاب………………بما تعملون بصیر۔ یہ ساری کوشش اہل کتاب کی اس وجہ سے ہے کہ تم سے حسد کرتے ہیں جلتے ہیں تم پر نزول رحمت کو برداشت نہیں کرپاتے حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ حق وہی ہے جس پر تم عمل پیرا ہو تو یہ حیلے تمہیں رہاہ حق سے ہٹانے کے لئے کر رہے ہیں۔ جیسے آج بھی یہودکا رائج کردہ سودی نظام۔ کہ سود کھانے والے کا ایمان نہ بچ سکے گا یا مغرب سے نصاریٰ کے ممالک سے اشیاء جن میں اکثر خنزیر کی آمیزش کردی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے منہ میں جائے گی تو ان کے ایمان ضرور خراب ہوں گے مگر افسوس کہ مسلمان بچوں کے دودھ سے لے کر میت کے کفن تک وہیں سے منگانا پسند کرتے ہیں۔ یہ سب حیلے تمہیں بھٹکانے کے لئے ہیں جن سے کمال رحمت فرماتے ہوئے اللہ نے تمہیں آگاہ کردیا ہے تم درگز کرو خیال میں نہ لائو حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے یا اللہ جہاد کا حکم دے کر ہر چیز پہ قادر ہے ان کا افرادی قوت اور دولت واسلحہ کا گھمنڈ خاک میں ملا دے اور یہی ہوا کہ جب اللہ کی اجازت ملی تو یہود کا حشر عبرت کا سبق بن گیا اور یا پھر موت اور قیام قیامت ان کی ذلت کو عام کر ردے کہ اللہ تو ہر بات پر قادر ہے۔ اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یعنی فضول الجھنے کی بجائے عبادات الٰہی پہ کمر بستہ ہوجائو۔ مناطرہ : اسی لئے عام مناظرہ ممنوع ہے ہاں اگر کوئی شخص تحصیل علم کی بناء پر سوال کرے تو درست۔ یا پھر ایسے شخص سے مناظرہ کرنا جو لوگوں کے عقائد خراب کررہا ہو اس آدمی کے لئے جائز ہے جو اسکو جواب دے کر لوگوں کے دین کی حفاظت کا سبب بنے ورنہ یہ کام محض شغلاً کرنے کا نہیں ، جتناوقت یہاں برباد کرو گے اس کو اللہ کی یاد اور اطاعت پر لگائو کہ ہر نیکی کو تم کل اللہ کے ہاں اپنے لئے محفوظ پائو گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر تمہارے تمام کا م دیکھ رہا ہے کام کرتے وقت یہ دھیان رہے کہ اللہ کے سامنے کررہا ہوں۔ وقالو لن یدخل الجنۃ…………………ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا گویا انہوں نے جنت میں داخلے کو تو میت پر منحصر کردیا ہے کہ بس اہل کتاب کی فہرست میں یا یہود ونصاریٰ کی مردم شماری میں آگئے تو جنت کے وارث قرار پائے۔ کیا مجال جو دوسرا وہاں دم مارسکے۔ یہی حال آج کے مسلمانوں کا ہے کہ نام دین محمد یا عبداللہ خان رکھ لو اور مسلمانوں کی مردم شماری میں آجائو یا قومی مسلمان بن جائو ، جنت کے مالک ہوجائو گے خواہ عقائد و اعمال کچھ بھی پلے نہ ہو مگر یہ بات سوائے ایک آرزو کے کچھ وزن نہیں رکھتی۔ ذرا ان سے کہئے کہ اس بات پہ کوئی سند تو لائو اور اپنی صداقت کی کوئی دلیل تو پیش کرو جو یہ ہرگز نہیں کرسکتے بلکہ بات اس طرح ہے جنت قومیت یا نسل پر موقوف نہیں بلکہ جو کوئی بھی ہو اگر وہ سر تسلیم خم کردے یعنی عقائد صحیحہ کو تسلیم کرے۔ وھو محسن اور صدق دل سے ان پر عمل پیرا ہو۔ احسان کی تعبیر احادیث میں یوں ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی ایسا اطمینان حاصل ہو اور دل کا ایسا ربط نصیب ہوجائے۔ یا کم ازکم اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے یہ کم تر درجہ ہے ، اس سے کم کی گنجائش نہیں ، اسی کو اصطلاح صوفیہ میں نسبت کہا گیا ہے۔ جو کوئی عقائد و اعمال میں صمیم قلب سے کوشاں ہو اس کے لئے اللہ کے ہاں انعامات وبرکات ہیں اور وہ شخص نہ آئندہ سے خوف زدہ ہوگا اور نہ گزشتہ پہ پشیمان……کہ اس نے راہ عمل ایسی اپنا لی جو ہر طرح سے محفوظ ہے مگر یہ ضروری ہے کہ اس کا دل بھی اس کے ساتھ ہو ، محض رسمی کاروائی نہ ہو کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں اور نہ صرف دعویٰ قومیت ہو۔ جو کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اور یہی بنیادی ضرورت ہے جو دل کو ذاکر کرنے اور ذکر قلبی پر مجبور کرتی ہے کہ دل جب تک خود زندہ نہ ہو ، خود استعداد قبول نہ رکھتا ہو کب اعمال میں ساتھ دے گا اور یہی فیض صحبت ہے کہ علم نبوت نے عقائدواعمال ارشاد فرمائے اور صحبت نبوی نے دلوں کو گرمایا اور درجہ صحابیت پر فائز کردیا۔ آج بھی اگر کوئی صاحب دل میسر آجائے تو انسان کی دنیا بدل جاتی ہے ورنہ محض رسمی وعظ اور ضابطے کی کاروائی تو عام ہے جس کا اثر وقتی وعارضی ہوتا ہے مجلس ختم ، اثر ختم عملی زندگی کو متاثر نہیں کرپاتا۔ پھر یہاں ایک مصیبت اور ہے کہ لوگ دو حصوں میں بٹ گئے ہیں ایک وہ حضرات جنہوں نے تعلیم ، تعلم اور عبادات کو تو اپنایا مگر دلوں کی طرف توجہ نہ فرمائی اور اصلاح باطن سے صرف نظر کیا جس کا نتیجہ سامنے ہے کہ زبان قرآن وحدیث بیان کرتی ہے بدن رکوع و سجود میں لگا ہے مگر دل دنیا میں اٹکا ہے جب ذرا سا لالچ یا خوف سامنے آیا فوراً رائے بدل لی اور مداہنت کی راہ اپنانا پڑی۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جنہوں نے یہ سمجھا کہ ہمارے دل میں درد موجود ہے ہم محبت الٰہی سے سرشار ہیں اب اس کا فائدہ انہوں نے یہ اٹھایا کہ اعمال اپنی پسند کے شروع کردیئے اور ان خرافات میں جاپھنسے جو خلاف سنت اور محض رسومات تھیں ، انہی کو دین سمجھ لیا تو یہ دونوں باتیں درست نہ ہوئیں بلکہ چاہیے یہ تھا کہ من اسلم یعنی عقائد و اعمال اور اطاعت وفرمانبرداری کے طریقے وہی اپناتا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے ذریعے تعلیم فرمائے۔ درجہ احسان کیسے حاصل ہوتا ہے ؟ : اور اس کے ساتھ اس فیض کو حاصل کرتا ہے جو محض صحبت سے حاصل ہے۔ تعلیم ارشادات رسول ﷺ سے تزکیہ صحبت رسول ﷺ سے جس نے صحابہ ؓ کو صحابیت بخشی وہ تعلیم رسول نہ تھی کہ وہ تو بحمدللہ ہم تک بھی پہنچی اور ہمیں بھی اس کے طفیل دین نصیب ہوا۔ وہ تو صحبت نبوی ﷺ تھی جس نے انہیں احسان بخشا دل کی زندگی عطا کی ۔ درجہ صحابیت عطا فرمایا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں بہت اعلیٰ انعامات ہیں اور وہ بےخوف وخطر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ محض دعویٰ اسلام ہی کو کافی سمجھ لیا جائے اور پھر اس پر طرہ یہ کہ محض اس دعویٰ کی بنیاد پر یہ امید بھی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھی کوئی دکھ نہ ہو اگر پریشانی آتی ہے تو اس کا سبب اسلام کو گردانتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کی مصیبت کا اصلی سبب مسلمان ہوتے ہوئے ترک اسلام ہے کہ عملاً اسلام سے دور چلے گئے اور سارا کام نرے دعوے سے لینا چاہا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے مادی وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود بڑی طاقتوں کو اللہ کے آگے جھکنے پر مجبور کردیا۔ مگر وہ اس وقت حقیقی مسلمان تھے نرا دعویٰ نہ تھا جو عمل گیا صرف دعویٰ رہا تو تائید باری نہ رہی اب بات صرف اسباب پر رہ گئی اگر اسباب میں کافر اس سے بڑھ کر ہے تو وہ یقینا اسے تکلیف دے گا۔ یہی حال تجارت ، مال و دولت دنیاوی کا ہے کہ کافر نے اس طرف بھی توجہ دی اور وہ آگے نکل گئے اگر ہماری طرح محض کسی عقیدے کا نام لے کر بیٹھ جاتے تو وہی ہوتا جو ہمارے ساتھ اب ہورہا ہے۔ مسلمان اگر محنت کریں اور اسلامی اصولوں کے مطابق بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ناکام ہو۔ یہاں تو مصیبت یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر یورپ کی اقتداء میں نکلے تو محنت کرنا ان سے بھی نہ سیکھا بلکہ صرف بےحیائی ، آخرت سے غفلت اور کفر درآمد کیا۔ الغرض محض نام یا قومیت کسی کام کی نہیں جب تک خلوص قلب اور عمل صالح ساتھ نہ ہو۔
Ayahs 2:113–121

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودکہتے ہیں نصاریٰ کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں یہود کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور حالانکہ یہ (سب) لوگ (آسمانی) کتاب بھی پڑھتے ہیں یہی بات جاہل لوگ بھی انہی کی طرح کہتے ہیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں گے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور جو مسجدوں میں اللہ کے نام کا ذکر کرنے سے روکے اس سے بڑا ظالم کون ہوگا اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ان کو لازم تھا کہ ان (مساجد) میں ڈرتے ہوئے داخت ہوتے۔ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق ومغرب اللہ کے لئے ہیں تو تم جس طرف رخ کرو تو اسی طرف اللہ کا رخ ہے کہ اللہ تمام جہات کو محیط (اور ) بہت علم والے ہیں

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ وہ (اللہ) پاک ہے اس سے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے ہر شے اس کے حکم کے تابع (فرماں بردار ہے) ہے

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور جب کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اسے فرمادیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جاہل لوگ کہتے ہیں اللہ ہم سے کیوں بات نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی اور نشانی نہیں آئی ان سے پہلے (جاہل) لوگوں نے بھی ان ہی کی طرح کی بات کہی تھی ان کے قلوب ایک دوسرے سے ملتے ہیں ہم نے یقین لانے والوں کے لئے نشانیاں بیان کردی ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

یقینا ہم نے آپ کو (دین) حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری دینے والا اور (انجام بد سے) ڈرانے والا اور اہل جہنم کے بارے آپ سے پرسش نہ ہوگی

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور آپ سے یہود اور نصاریٰ تب تک راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (ان سے) کہہ دیجئے کہ یقینا اللہ کی ہدایت ہی ، ہدایت ہے اور اگر آپ نے ، آپ کے پاس علم آجانے کے بعد ان کی بات مانی تو اپنے لئے اللہ سے بچانے والا ہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ مددگار

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس کو پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں۔ یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

آیات 113- 121 اسرارو معارف اب ان کا حال دیکھئے کہ یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کا مذہب کوئی بنیاد ہی نہیں رکھتا انجیل کے کتاب اللہ ہونے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا دیکھا دیکھی نصاریٰ نے دین موسوی اور تورات کا انکار کردیا اور لگے کہنے یہ بےبنیاد نظریات ہیں حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں اور آسمانی کتب بنیادی عقائد کی یکساں تبلیغ کرتی ہیں اور توحید و رسالت ، آخرت حشر ونشر کے حقائق ایک سے بیان کرتی اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو اس طرح ان دونوں گروہوں نے گویا خود اپنی کتاب کا بھی انکار کردیا۔ اور انہی کی طرح جہلاء اور مشرکین کو بھی کتب الٰہیہ کے انکار کا موقع مل گیا اور انہوں نے دونوں کا انکار کردیا۔ اپنی بڑ ہانکنے لگے کہ جی اصل مذہب تو یہی بت پرستی ہے۔ بعثت خاتم النبیین ﷺ نے عقلی اور نقلی دلائل سے تو ہر طرح حق و باطل میں تمیز کردی ہے اور اس کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ نئی کتاب۔ اب تو ایک ہی بات ہے کہ روز قیامت اللہ جل شانہ عملاً ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں گے اور ان کے اختلافات حل ہوجائیں گے دنیا میں یہ حق پرستی کے جھوٹے مدعی یہ تک نہیں سوچتے کہ انہوں نے اللہ کے گھروں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ………………ان اللہ واسع علیم۔ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا کہ بت پرستوں نے خودنبی کریم ﷺ پر بیت اللہ کا داخلہ روک دیا۔ جب تک ان کا بس چلا وہ رکاوٹ بنے رہے ان یہود ونصاریٰ کے اسلاف کو دیکھو جس کو دوسری پر دائو چلا ، چڑھ دوڑا اور معبدو مساجد حتیٰ کہ بیت المقدس تک کو برباد کرنے اور اس کی توہین کرنے سے باز نہ رہے اور اب جبکہ اسلام دین حق ہے نہ صرف مساجد ان کے سجدوں سے خالی ہیں بلکہ یہ طرح طرح کے اعتراضات اور بےجا شبہات پیدا کرکے ان کو بھی راہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسجدوں کی آبادی کا سبب بنے ہوئے ہیں اور مساجد کی عظمت خود اس بات کی مقتضی ہے کہ جو شخص ان میں داخل ہو وہ اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر جانے اور اس عظمت پر ہیبت الٰہیہ طاری ہو۔ وہ لرزاں وترساں ادب واحترام سے حاضر ہو۔ جہاں تک مساجد کے ادب کا تعلق ہے تو دنیا کی تمام مساجد اس لحاظ سے مساوی ہیں اور کسی بھی مسجد کی بےحرمتی ایسا ہی ظلم ہے ، جیسے بیت اللہ یا مسجد نبوی ﷺ یا بیت المقدس کی اگرچہ ان تینوں مساجد کی عظمت اور خاص بزرگی اپنی جگہ مسلم۔ بیت اللہ میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کا ثواب پاتی ہے اور مسجد نبوی اور بیت المقدس میں پچاس ہزار کا۔ نیز مسجد کی ویرانی کے یا وہاں پر نماز وذکر سے روکنے کے جتنے بھی طریقے ہیں سب ناجائز اور حرام ہیں جن میں سے کسی کو منع کرنا تو ایک ظاہر بات ہے۔ کبھی وہاں شور وغل کرکے یا پڑوس میں زور زور سے ریڈیو بجا کر لوگوں کی نمازوں میں خلل ڈالنا بلکہ اوقات نماز میں یا جب لوگ نوافل یا ذکر وغیرہ میں لگے ہوں تو بلند آواز میں تلاوت کرنا یا ذکر جہر بھی ممنوع ہے ہاں اگر عام نمازی نہ ہوں تو اور بات ہے۔ اسی طرح مسجد کی ویرانی کی جس قدر صورتیں ہیں سب ممنوع ہے صرف یہ کہ انہیں ڈھایا نہ جائے بلکہ کوئی ایسی صورت یا ایسا جھگڑا جو نمازیوں کو وہاں آنے سے روک دے یہی حکم رکھے گا نیز ان لوگوں کے لئے یہاں بہت بڑی تنبیہہ ہے جنہوں نے مساجد میں حاضری ہی چھوڑ دی ہے اگرچہ دوسرے لوگوں کو روک نہ رہے ہوں تو بھی خود حاضر نہ ہونا ویرانی ہی کا سبب ہے اور اللہ نے یہاں کفار کے اس دعویٰ کا جواب دیا ہے وہ اپنے جنتی ہونے پر قائم کرتے تھے کہ تمہیں مساجد میں تو قدم رکھنے نہیں دیتا جنت میں ضرور تمہاری ہی دعوت کا منتظر ہوگا ؟ یہاں حال یہ ہے کہ کسی سے نما زکا کہو تو کہتا ہے جی ! اللہ اپنے فضل سے ہی بخشے گا ہم نے نمازی بھی دیکھ رکھے ہیں ، بھئی ! نمازی اور بےنمازی میں ایک فرق تو ظاہر ہے کہ وہ پانچ وقت اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتا ہے اور دوسرے کو اللہ اپنے در پر نہیں آنے دیتا تو یہی اللہ کا فضل ہے کہ جب کسی پر مہربان ہوتا ہے تو توفیق اطاعت ارزاں فرما دیتا ہے ورنہ نافرمان ایک تو خود اطاعت نہ کرکے ظلم کررہا ہے دوسرے وہ کسی نہ کسی درجے میں مساجد کی ویرانی کا سبب بھی بن رہا ہے ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں ذلت ورسوائی اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے دنیا میں اگر اسے مال و دولت یا اولاد ملی بھی تو اس کی پریشانیاں بڑھائے گی اور اس کے لئے یہ بھی مصیبت بن کر رہے گی اور نہ ملی بھی تو اس طرح اخروی عذاب میں گرفتار ہوگا۔ وللہ المشرق…………واللہ واسع علیم۔ یہ جو انہیں بات مل گئی ہے کہ جی پہلے تو مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور کعبے کی طرف کیوں پھرگئے کہ ابتدائً قبلہ بیت المقدس ہی تھا تقریباً سولہ ماہ مدنی زندگی میں ایسا ہی رہا حتیٰ کہ اللہ نے استقبال کعبہ کا حکم نازل فرمایا تو یہودونصاریٰ نے اس بات کو بہت ہوا دی کہ جی اگر نبی ہوتے تو شروع سے ایک قبلہ کیوں نہ مقرر کرلیتے۔ اب ان کی وہ نمازیں کیا ہوئیں ، جو بیت المقدس کو رخ کرکے ادا کیں۔ تو اللہ نے فرمایا یہ تو کمال اطاعت ہے کہ مسلمان نہ تو بیت المقدس کے پجاری ہیں نہ کعبہ کے۔ بلکہ یہ تو اللہ کی اطاعت گزار ہیں۔ بیت المقدس قبلہ مقرر فرمایا تو ادھر سجدہ ریز ، اور کعبۃ اللہ کی طرف حکم دیا تو ادھر حاضر۔ اور خود اللہ تعالیٰ نے تمام سمتوں کو محیط ہے وہ کسی خاص سمت یا مکان میں مقید نہیں بلکہ ہر سمت اور ہر مقام پر اس کا ظہور یکساں ہے۔ اور ہر جگہ موجود۔ ہاں وہ علیم ہے اور کئی حکمتوں کی وجہ سے کسی خاص سمت کی تعیین کی جاتی ہے مثلاً ایک سمت کی تعیین نے پورے عالم اسلام میں ایک گونہ تنظیم پیدا فرمادی۔ برخلاف اس کے کہ ایک جگہ چند نمازی جمع ہوتے تو ہر ایک کا منہ دوسری طرف ہوتا اور ایک افتراق کی شکل سامنے آتی اور اسی طرح کی اور بیشمار حکمتیں جنہیں اللہ بہتر جانتا ہے ورنہ تو اگر نمازی کی سمت معلوم نہ ہو اور تاریکی وغیرہ سے سمجھ نہ آتی ہو کوئی بتلانے والا بھی نہ ہو تو اپنے اندازے سے نماز پڑھ لے وہی سمت قبلہ ہوگی خواہ بعد میں پتہ بھی چل جئاے کہ غلط سمت کو پڑھ لی پھر بھی نماز ادا ہوجائے گی۔ اعادہ کی ضرورت نہیں اسی طرح فقہ میں جزئیات دیکھی جاسکتی ہیں جن سے استقبال قبلہ کے حکم شرعی کی حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے۔ وقالوا ات خدا للہ ولدا………………کن فیکون۔ ذرا ان کی دیانتداری ملاحظہ ہو کہ جن کتابوں کو یہ مانتے ہیں ان پر کس طرح اپنے ایجاد کردہ عقائد مسلط کر رکھے ہیں جیسے ہر کتاب نے تنزیہ باری بیان کیا ہے مگر یہ دونوں گروہ مدعی ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے یہود نے کہا عزیر ابن اللہ اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دیا حالانکہ اللہ تمام احتیاجات سے بالاتر ہے اور کوئی اس کا کسی طرح ہمسر نہیں جبکہ صاحب اولاد خود بہت سی احتیاجات میں مبتلا ہوتا ہے اور اولاد ایک ایسا سلسلہ ہے جو بیشمار قسم کے افکار میں جکڑا لیتا ہے جس کے لئے بیوی کی ضرورت ، رشتہ داروں کی ضرورت ، خانہ داری کی محتاجی اور خود بقائے نسل کی احتیاج موجود ہے حالانکہ اس کی ذات ان سے بالا تر ہے۔ پھر اولاد والد کے اوصاف لے کر آتی ہے انسان کا بچہ انسان اور حیوان کا بچہ حیوان بلکہ بھینس کا بچہ گائے نہیں ہوگا۔ اور نہ گائے بھینس جنے گی حتیٰ کہ درخت کا ننھا پودا اپنی قسم کے بڑے درخت کی خصوصیات ، پتے ، رنگ اور ذائقہ وغیرہ رکھتا ہوگا تو لا محالہ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو خدائی اوصاف رکھتی۔ پھر وہ پاک اور لاشریک نہ رہتا۔ یہ تو کئی خدا بن جاتے۔ چھوٹے سہی اختیارات میں کم سہی مگر ہوتے تو خدا ہی۔ حالانکہ ان کی کتابوں نے بھی اس کی تقدیس بیان کی ہے بلکہ جملہ کتب نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ذات کے سوا جو کچھ ہے وہ اسی کی ملکیت ہے اور سب کچھ اور ہر کوئی اور ہر شے اس کے آگے دست بستہ حاضر ہے کسی کو رکھے یا مٹادے کسی میں مجال دم زون نہیں ہر شے اس نے نئے سرے سے پیدا کی ہے۔ وہ تھا ، اور کچھ نہیں تھا۔ ارض وسماء اس نے پیدا فرمائے۔ اس کی قدرت کامل اس کا اختیار غیر محدود ۔ اور اس کا حکم سب پر جاری ہے۔ اس کی ذات قدیم ، ازل اور ابدی ہے اسی طرح اس کی صفات قدیم ، ازلی اور ابدی ہیں اس کا علم جامع حضوری ہے اور زمانوں کی قید سے بالاتر۔ ماضی ہو یا مستقبل اس کے سامنے سب حاضر بلکہ وہ ایسا قادر ہے جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ اسی کام کو کہتا ہے ہوجا ! اور وہ ہوجاتا ہے یعنی سب کچھ اس کے سامنے اس کے علم میں موجود اور حاضر ہے جو ہوچکا ہے جو ہورہا ہے جو ہونے والا ہے مخلوق کے لئے غیر موجود ہے مگر اس کے سامنے حاضر۔ وہ اسی کو حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ اور وہ ہوجاتا ہے۔ عقیدہ بداء کی تردید : یہاں عقیدہ بداء کی تردید ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے خدا کی طرف ایسا بہتان منسوب کیا وہ ان متذکرہ فرقوں سے کسی طرح کم نہ رہے اور انہوں نے یہ جانا کہ معاذ اللہ ، اللہ کا حکم نامکمل ہے جب کچھ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ سامنے ہوتا ہے تب اللہ کو پتہ چلتا ہے کہ کیا ہوگیا۔ تو کیا کسی ایسی ہستی کو احتیاج سے پاک کہا جاسکتا ہے جو کرنا تو درکنار ، جاننے میں بھی محتاج ہو۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ اس قدر گمراہی صرف اس لئے اپنانا پڑی کہ اس کے بغیر عظمت صحابہ ؓ کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی راہ نہ تھی۔ تورات وانجیل میں ان کی تعریف کی گئی پھر مسلسل تئیس برس قرآن کریم نازل ہوتا رہا جس نے ہر پہلو سے ان کو مثال بندے قرار دیا اور رضائے الٰہی کے مظہر اور واجب الاتباع بتایا تو یار لوگوں کو ان چیزوں سے انکار کرنے کے لئے عقیدہ بداء کی ضرورت پڑی کہ پہلے تو ایسے ہی تھے مگر جب حضور نبی کریم ﷺ نے سفر آخرت فرمایا تو یہ بدل گئے اب وحی تو باقی نہیں اور اللہ کو بداء ہوگیا تھا ان کے اس وقت کے احوال سے آہ بیچارہ اللہ۔ ایسے بےبس اور مجبور کو اللہ بنانے کی کیا ضرورت ؟ تو یہ سب کیا ہے اقرار کے پردے میں کتاب اللہ کا انکار ہے ورنہ ان کی پہلی کتابوں نے اللہ کے محتاج ہونے کا انکار کیا ہے جو بنیاد ہے ایمان کی ، اس کے ساتھ ذرا ان کا سلوک دیکھئے یہ حال تو اہل کتاب کا ہے۔ رہے جہلا تو وہ ان سے بھی آگے نکل گئے۔ وقال الذین لا یعلمون………………لقوم یوقنون۔ وہ یوں کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا ہم پر کوئی نشانی اور دلیل نازل کیوں نہیں فرماتا۔ یہ جاہل اتنا نہیں جانتے کہ اگر دنیا میں سب انسانوں کو مکالمہ باری نصیب ہو تو میاں ! امتحان کیسا ؟ اور کہاں کا ابتلاء پھر سب اسی کے ہو رہیں اور کوئی اسکے در سے اٹھے ہی نہیں۔ دنیا میں یہ دولت صرف انبیاء کو نصیب ہوتی ہے اور وہبی طور پر ملتی ہے کہ کوئی انسان عبادت و ریاضت سے اس درجہ کو پا ہی نہیں سکتا۔ اور آخرت میں جس قدر انعامات اور نعمتیں رکھی ہیں ان سب سے اعلیٰ دیدار باری اور کلام باری ہی تو ہے۔ ارے بےوقوفو ! جنت تو جنت ہے میدان حشر میں عظمت باری دیکھ کر ہر کافر پکار اٹھے گا۔ اے اللہ ! ایک بار زندگی دنیا کو لوٹا دے اور پھر دیکھنا ہم کس قدر اطاعت کرتے ہیں۔ اگر یہ سب چیزیں ہر ایک پہ اب یہیں ظاہر ہوجائے تو پھر امتحان اور آزمائش چہ معنی دارد ، یہ اپنے کو انبیاء کا ہم پلہ جانتے ہیں ایسے ہی جاہلانہ اقوال ان سے پہلے کفار بھی کہا کرتے تھے اور عجب بات ہے کہ آج بھی جن اعتراضات کو جدید سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے ان کی چھان پھٹک کی جائے تو بات وہی ملتی ہے جو صدیوں سے کفار دہراتے چلے آرہے ہیں ان کی وجہ تشابھت قلوبھم ہے ان کے دلوں نے کفر اور بدکاری کی وجہ سے پہلے کافروں سے مشابہت پیدا کرلی ہے اسی لئے انہی جیسی باتیں بھی ان کے دلوں سے نکلتی ہیں۔ جب کوئی بدی کی راہ اپناتا ہے تو اسے شیطان سے ایک تعلق پیدا ہوتا ہے۔ نسبت کے کرشمے : پھر اس کو جوں جوں بڑھاتا ہے تو نوبت کفر تک پہنچتی ہے پھر کفر کے مدارج ہیں تو جس طرح کی نسبت کفر یہ پاتا ہے اس طرح کا جو کافر پہلے گزرا ہے اس جیسی باتیں دہراتا ہے اور ایک راہ یہ بھی ہے کہ جس طرح ہر مبارک کلمہ پر ایک خاص برکت اور رحمت متوجہ ہوتی ہے اسی طرح بڑے کافروں کے کفر یہ الفاظ پر ایک خاص درجہ کا غضب بھی بھڑکتا ہے تو شیطان کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کفار کے منہ سے وہ الفاظ کہلوائے جو بڑے بڑے کافروں نے کہے تھے تاکہ اس درجہ کے غضب الٰہی کا شکار ہوں۔ اسی طرح جو شخص نیکی کی طرف گامزن ہوتا ہے اسے نیک لوگوں سے ایک خصوصی تعلق نصیب ہوتا ہے جس کے درجے بھی مختلف ہیں فنانی الشیخ ، فنانی الرسول اور فنانی اللہ اسی راہ کی منازل میں جنہیں تمافی الرسول نصیب ہوتا ہے ان کے قلب کا ایک ربط اللہ رسول اللہ ﷺ سے پیدا ہوجاتا ہے اور ان کے منہ سے وہ باتیں جاری ہوتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی تھیں۔ وہ مولانا ظفر علی خاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس شعر کا مصداق بنتے ہیں۔ انہی کا مطلب کی کہہ رہا ہوں زباں میری ہے بات ان کی انہی کی محفل سنوارتا ہوں چراغ میرا ہے رات ان کی میرا فقط ہاتھ چل رہا ہے انہی کا مطلب نکل رہا ہے انہی کا مضمون ، انہی کا کا غد ، قلم انہی کا ، دوات ان کی یہ اس لئے کہ تشابھت قلوبھم ان کے دل مشابہت پیدا کرلیتے ہیں۔ کفار کے اعتراضات اس وجہ سے نہیں کہ حق بیان کرنے میں کوئی کسر ہے بلکہ اس کی وجہ پہلے کفار سے ان کی باطنی نسبت ہے ورنہ تو ہم نے قدبین الایات ظاہر و باہر دلائل ارشاد فرمائے ہیں اور رسالت محمدیہ ﷺ اور حقانیت کتاب اللہ پر نہایت واضح دلیلیں موجود ہیں۔ مگر یہ ان لوگوں کو مفید ہے جو یقین و اطمینان کے طالب ہیں۔ معترضین کو کیا حاصل کچھ حاصل کرنے کے لئے طالب ہونا ضروری۔ اعتراضات سے فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ انا ارسلنک بالحق……………اصحب الجحیم۔ ہم نے تو آپ ﷺ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور احقاق حق کے واضح دلائل قائم فرمادیئے ہیں۔ اہل کتاب کے لئے پہلے سے ان کی کتب میں اور مشرکین کے لئے آپ ﷺ کی سیرت ، آپ کی صورت ، آپ کے معجزات ، آپ کی تعلیمات اور آپ کی پیشگوئیاں یہ سب اہل یقین کے لئے مشعل راہ ہیں۔ اب آپ ﷺ کا کام ماننے والوں کو بشارت و خوشخبری دینا اور منکرین ومعاندین کو انکار کے وبال سے آگاہ کرنا اور اس راہ کے خطرناک انجام یعنی دوزخ سے ڈرانا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی اس راہ پر چلتا ہے تو آپ کیوں ملول خاطر ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا کرم ہے اللہ کا رسول ﷺ کافر کی ذات سے متنفر ہونے کی بجائے اسے مبتلائے کفر دیکھ کر اس کا دکھ محسوس فرماتا ہے کہ آخر اللہ کا بندہ تو ہے بےچارہ بھٹک گیا ہے اور ہمیشہ دوزخ میں جلے گا تو مومنین کے ساتھ کس قدر شفیق ہوگا اللہ ! اللہ ! فرمایا آپ کوئی اہل دوزخ کے متعلق جوابدہ تھوڑے ہی ہیں۔ اگر کوئی اپنی مرضی سے وہ راہ اختیار کرتا ہے تو کرکے دیکھ لے۔ ولن ترضی………………ولا نصیر۔ کفار کے ساتھ مراسم : رہے یہودونصاریٰ اور ان کے ساتھ اتفاق و اتحاد ، تو یہ لوگ تب تک راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے دین اور ان کی رسومات کے تابع نہ ہوجائیں جو محال ہے تو پھر ان کا خوش رہنا بھی محال ہے یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں کے گہرے مراسم گمراہ فرقوں سے استوار ہیں۔ ان میں بھی کسی نہ کسی درجہ میں وہ گمراہی موجود ہے ورنہ حق اور باطل کا یکجا ہونا ممکن نہیں ، ہاں دنیا کے امور میں مثلاً تجارت ، ملازمت یا اس طرح کی باتیں یہ تو ہوسکتی ہیں مگر ایک دوسرے کی دعوتوں میں شرکت ، آپس میں دلی محبت تب ہی ہوگی جب کوئی وصف مشترک ہوگا۔ تو سیدھی بات تو یہ ہے کہ اگر ان کی طرف سے کوئی ارادہ کسی طرح ظاہر بھی ہو تو کہہ دیا جائے کہ صحیح اور درست راہ وہ ہے جو اللہ نے ارشاد فرمائی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اے مخاطب ! اگر تو علم قطعی اور وحی آجانے کے بعد بھی ان کے خرافات کو اپنائے تو پھر تجھے کوئی دوست یا مددگار اللہ کے سامنے نہیں ملے گا نیز اس کے مقابلے میں کسی کی بات کو کوئی وقعت نہ دی جائے۔ یہ تو اس حکم کی عظمت کا اظہار ہے کہ جب خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے تو آپ ﷺ سے تو اس کا سرزد ہونا محال اور اس پر غضب کا وارد ہونا کیا۔ مگر یوں سمجھ لو کہ جب دنیا میں کوئی آپ ﷺ جیسا نہیں تو پھر جو کوئی بھی کفار سے دوستی کی خاطر ان کی رسوم کو اپنائے گا اور ان کے کفر کی ترویج کے لئے چندے دے کر انہیں خوش کرے گا پھر اللہ کی گرفت کے وقت انہیں پکار کر دیکھ لے گا کہ کس قدر کام آتے ہیں یاد رہے یہ ذاتی تعلقات کی بات ہورہی ہے حکومت کی نہیں۔ حاکم پر بحیثیت رعایا ہونے کے سب کے حقوق ہوتے ہیں اسے کفار کے حقوق کی نگہداشت کرنی چاہیے۔ الذین اتینھم الکتاب………………ھم الخسرون۔ ہاں ان میں جو لوگ اس کتاب کو جو انہیں عطا ہوئی اس طرح پڑھتے ہیں کہ بجائے اس میں ترامیم کرنے کے اس سے راہنمائی حاصل کریں۔ حق تلاوۃ یعنی فہم سلیم سے حق و انصاف سے یہ تلاش کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب ہمیں کن امور سے منع فرماتی ہے اور کن امور کو اختیار کرنے کا حکم دیتی ہے تو ان کو ہدایت بھی نصیب ہوجاتی ہے اور وہ آپ ﷺ پر اور اللہ کی آخری کتاب پر بھی ایمان لے آتے ہیں۔ تلاوت کتاب کا طریقہ بھی یہ ہے کہ برکت حاصل کرنے اور دل کو منور کرنے کے لئے اس کے معانی پر غور کرے اور دل وجان سے اس کے احکام اپنائے۔ اگر محض اعتراضات کے لئے اور کج بحثی کے لئے پڑھتا بھی رہے تو کیا ہوگا انکار کردے گا۔ اور اس پر یقین نہ رکھے گا۔ تو ایسا کرنے والا کسی کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنی تباہی کا سبب بنے گا۔ اور خود کو ایمان کے اعلیٰ انعامات سے محروم کرکے ابدی نقصان میں مبتلا ہوگا۔