Ayahs 2:217–221217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو لوگ مسجد حرام کے اہل ہوں اور ان کو وہاں سے نکال دینا کیا کم گناہ ہے ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ اس طرح کا فساد تو قتال سے بڑھ کر جرم اور گناہ ہے اگر کفار ان مہینوں میں ایسی کوشش کریں یا لڑائی کی ابتدائ۔ ان کی طرف سے ہو تو پھر ماہ حرام کی حرمت پامال کرنے کا گناہ بھی ان ہی کے سر ہوگا۔ یہی تعامل رسول اللہ ﷺ سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ﷺ ان مہینوں میں اس وقت تک قتال نہ فرماتے جب تک ابتداء کفار کی طرف سے نہ ہو۔
کفار کا حال یہ ہے کہ یہ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے بلکہ یہ ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے تاآنکہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تمہیں تمہارے دین سے بھی برگشتہ کردیں اور کفر میں لوٹا دیں۔
مرتد کی سزا :
اگر تم میں سے کوئی دین سے پھرجائے اور پھر کفر پر ہی مرے تو اس کے تمام نیک اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے وہ نہ تو اسے دنیا میں فائدہ دیں گے اور نہ آخرت میں۔ بلکہ ایسے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ رہیں گے ۔ دنیا میں مرتد کا نکاح باطل ہوجاتا ہے مسلمان سے وراثت نہیں پاسکتا جنازہ نہیں پڑھا جاتا اور نہ ہی مسلمانوں کے مقابر میں دفن کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جاتا ہے اور عورت ہو تو حبس دوام پاتی ہے اور آخرت کا نقصان ابدی جہنم ہے۔ ہاں اگر توبہ کرے تو ازسر نو مسلمان ہوجاتا ہے بلکہ حنفیہ کے نزدیک اگر پہلے حج کرچکا تھا تو وہ بھی فاسد ہوا۔ بشرط وسعت دوبارہ حج بھی کرے گا۔ یہی حال باقی نیک اعمال قبل ازارتداد کا ہے۔ امام شافعی (رح) کا مسلک اس کے خلاف ہے اور کافر اصلی اگر کوئی نیک کام کرتے تو معلق رہتا ہے اگر مسلمان ہوجائے تو پہلے سے سب نیک کاموں کا بھی اجر پاتا ہے اگر کفر پر مرے تو پھر سب ضائع ہوجاتے ہیں سو مرتد کافر اصلی سے بھی شنیع تر ہے۔
کفار کا حال یہ ہے کہ وہ مسلمان کو بحیثیت مسلمان برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ آج بھی دیکھا جائے تو انسانی ہمدردی کے دعا دی کے باوجود کفار کے نزدیک وہ مرتد جو نام تو مسلمانوں جیسے رکھتے ہیں مگر عقائد اسلامی کا مذاق اڑاتے ہیں بڑے عزیز ہیں اور جو لوگ حق پرست اور مسلمان ہیں انہیں غیر مہذب اور قدامت پسند اور کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے۔
سو کفار کی ایسی کوششیں جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہیں انہیں روکنا ہر حال اور ہر زمانے میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کرکے دکھایا۔ تب ہی ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ پکی بات ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور پھر سارے جہاں کو اللہ کے لئے چھوڑا ، اللہ کی راہ میں جو بھی رکاوٹ بنی ہٹا دی ، خواہ عزیز و اقارب ہوں ، جاہ ومال ہو ، گھر یا وطن ہر شے کو اللہ کی محبت اور اپنے اللہ سے تعلق پہ نثار کردیا اور پھر یہیں بس نہیں بلکہ ساری عمر اللہ کی راہ میں لڑتے اور کفر کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے گزار دی۔
حقیقتاً یہی لوگ رحمت باری کے امیدوار ہیں ان کا عمل ان کی اس تمنا کا آئینہ دار ہے اور انہوں نے کسی غلط جگہ امیدیں وابستہ نہیں کیں بلکہ اللہ ہی ہے بخشنے والا اور رحم کرنے والا۔
عہد جہالت کے بعض رواجات اور اسلام :
عرب میں عہد جاہلیت میں شراب اور جوا تہذیب کا ایک حصہ تھا۔ شراب کے بغیر ہر دعوت نامکمل سمجھی جاتی تھی اور جوا نہ کھیلنے والے کو کنجوس اور بزدل کہا جاتا تھا اور یہ دونوں عادتیں اس قدر رچ بس چکی تھیں کہ انہیں عربوں کے مزاج سے خارج کرنا اور نہ صرف ذہنی بلکہ قلبی طور پر ان سے مسلمانوں کا متنفر ہوجانا خود ایک بہت بڑا معجزہ اور دلائل نبوت میں سے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ اسلام نے سابقہ رواج بھی اپنائے ہیں۔ لیکن اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ کتنی بڑی بڑی برائیوں کا سدباب کیا ہے جو سوائے نبی کے کوئی شخص مٹانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مثلاً یہی شراب اور جوے کو دیکھ لیں یا متعہ کے نام سے جنسی بےراہروی کی ایک صورت جو قبل اسلام رائج تھی اسلام نے اس کو مٹا کر نکاح کو قائم فرمایا اور حکم دیا باقاعدہ زندگی گزارنے کے لئے یہ رشتہ جوڑو۔
کیا آج کا یورپ شراب اور جنسی بےراہ روی سے پریشان نہیں ہے ؟ کیا وہاں کے دانشور اور صاحب اقتدار دونوں اس شے کو ختم نہیں کرنا چاہتے ؟ لیکن وہ کیا ایسا کر بھی سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں !
یہ صرف اور صرف اسلام اور حضور ﷺ سے محبت اور غلامی کا تعلق ہے جس میں آج بھی یہ قوت ہے کہ یورپ کا باسی جو اسلام قبول کرتا ہے تو پھر ان چیزوں سے اس قدر متنفر ہوجاتا ہے کہ جس قدر پہلے ان کا رسیا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور یہ صرف بات نہیں اس عاجز کا تجربہ ہے اور ایسے لوگ آج بھی میرے پاس مقیم ہیں جو سویڈن اور فن لینڈ جیسے سرد ممالک کے باسی ہیں۔ جہاں شراب ہمارے ہاں کی چائے سے زیادہ پی جاتی ہے مگر آج وہ دن بھر نماز اور مختلف مسائل یاد کرتے ہیں اور ان چیزوں سے گلو خلاصی پاکر پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہاں ! بعض باتوں کو قائم رکھا یا ان کے اطوار کی اصلاح فرمادی جیسے طواف کعبہ یا منیٰ وعرفات کا قیام وغیرہ یہ چیزیں یا تو سابقہ ادیان سے تھیں جنہیں دین اسلام میں بھی قائم رکھا اور یا اتفاقاً ایسی باتیں تھیں جو عنداللہ پسندیدہ تھیں۔ ورنہ کسی رواج کی مضبوطی سے متاثر ہو کر دین اگر رواج کو اپناتا تو شراب اور جوا حرام نہ ہوتے اور نہ جنسی تعلق کے لئے صورت معین ہوسکتی تھی۔ ہاں ! یہ انقلابی کام تدریجاً کیا گیا۔
سب سے پہلے یہی ارشاد ہو کہ شراب اور جوئے میں اگرچہ بعض لوگ فائدہ بھی پاتے ہیں۔ ان کا خواہ تھوڑا سہی مگر اک حسین پہلو بھی ہے مگر اس میں گناہ زیادہ ہے ۔ اس قدر زیادہ کہ اس کے مقابلے میں وہ نفع بھی قابل مذمت نظر آتا ہے کہ چند لوگ تو پیسہ کمالیں مگر قوم کی معیشت اور اخلاق تباہ ہوجائے اور قوم گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب جائے تو یہ نفع ہرگز قابل التفات نہیں۔
یہ تھا پہلا حکیمانہ ارشاد جو شراب اور جوئے کے بارے نازل ہوا۔ بعض لوگ تو پہلے سے طبعاً یا عقلاً اسے پسند نہ کرتے تھے اور کچھ لوگ اس ارشاد سے متنبہ ہو کر اس کو چھوڑ گئے پھر حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ حکم ہوا ، لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاریٰ ۔ تو اکثر صحابہ ؓ نے یہ سمجھ لیا کہ جب اس حالت میں نماز جیسی عظیم عبادت سے روک دیا گیا تو اس میں کوئی بھلائی نہیں ہوسکتی اور پھر یہ واضح طور پر ممانعت کا حکم نازل ہوا تو قطعی طور پر سب مسلمانوں نے اسے چھوڑ دیا۔
یہ آیت سورة مائدہ میں ہے اور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے جس میں ارشاد ہے :۔
یا ایھا الذین امنوا انما الخمر والعیسر ولا نصاب ولازلام رجس من عمل الشیطن فا جنتبوہ لعلکم تفلحون۔
تو مدینہ منورہ میں اس طرح شراب گرائی گئی کہ گلیوں میں جاری ہوگئی اور مدتوں کبھی بارش ہوتی تو زمین پر شراب کا رنگ نکھر آتا ۔ اور فضا میں شراب کی بو رچ جاتی۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کے پاس شراب ہے فلاں جگہ جمع کردی جائے۔ تو جاں نثار صحابہ ؓ نے فوراً جمع کردی ، حضور ﷺ تشریف لے گئے اور دست مبارک سے مشکیزوں کو چاک فرمایا اور کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں ضائع کرادیئے گئے بلکہ ایک صحابی ؓ جو شراب درآمد کیا کرتے تھے۔ اتفاق سے ساری جمع پونجی لے کر شام گئے ہوئے تھے اور حکم چاہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” سب مشکیزوں کو چاک کرکے شراب بہادو “ انہوں نے بلا تامل اپنا سارا سرمایہ زمین پر بہاد دیا۔ ؓ
اس کی حرمت اگرچہ بتدریج ہوئی مگر جب حرمت نازل ہوئی تو پوری شدت سے نافذ کی گئی اور حضور ﷺ نے اس سے متعلق دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے نچوڑنے والا ، پینے والا ، پلانے والا ، لاکر دینے والا ، جس کے لئے لائی جائے۔ بننے والا ، بیچنے والا ، خریدنے والا ، ہبہ کرنے والا اور اس کی آمدنی کھانے والا۔
اس کے ساتھ جوئے کو بھی قرار دیا۔ اسی شدت اور قوت کے ساتھ۔ اور جوئے کی تمام اقسام کو حرام قرار دیا۔ خواہ وہ اس دور میں رائج تھیں یا آج رواج پائیں اور کسی بھی نام سے ہوں۔
لاٹری :
اس پر اجماع ہے کہ میسر میں جوئے کی تمام صورتیں داخل ہیں حتیٰ کہ فرمایا۔ المیسرالقمار حتیٰ لعب الصبیان بالکعاب والجوز کہ ہر قسم کا قمار میسر ہے یہاں تک کہ بچوں کا کھیل ، لکڑی کے گٹکوں اور اخروٹ وغیرہ سے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا الخاطرۃ من القمار ، یعنی مخاطرہ قمار میں سے ہے۔ جس سے مراد ایسا معاملہ ہے جس میں کس قدر نقصان کا احتمال بھی ہوا اور مال کے ملنے کا بھی جیسے آج کل لاٹری کے مختلف طریقے یا معمے حل کرنے کا کاروبا وغیرہ۔
دراصل قمار کی تعریف یہ ہے کہ کسی مال کا مالک بنانے کے لئے ایسی شرائط رکھی جائیں جن میں وجود وعدم دونوں کا امکان برابر ہو اور نفع خالص یا تاوان خالص برداشت کرنے کی دونوں جانبین مساوی ہوں اور احادیث مقدسہ میں تو شطرنج اور چوسہ وغیرہ کو حرام قرار دیا ہے اور یہی حال تاش کا ہے۔ اگر ان پر روپیہ بھی لگا ہو تو پھر خالص جوا ہے ، صحیح مسلم میں ہے نرو ” چوسر “ کھیلنے والا گویا خنزیر کے گوشت اور خون میں ہاتھ رنگتا ہے اور ابن عمر ؓ کا ارشاد ہے کہ شطرنج نرو سے بھی بری چیز ہے۔
مفسرین کرام نے بیشمار مالی ، بدنی اور سیاسی نقصانات گنائے ہیں جن کو دہرانا یہاں ضروری خیال نہیں کیا گیا بہرحال ایک ضابطہ ارشاد ہوا ہے کہ جلب منفعت سے دفع مضرت ضروری ہے اور کسی چیز میں نفع بھی ہو مگر اس کا نقصان واضح ہو تو اسے چھوڑ دینا بہتر ہے جیسے سانپ خوبصورت تو ہے مگر اس کا زہر قاتل ہے یا جرائم بھی تو لوگ نفع کی امید میں کرتے ہیں چوری ، ڈاکہ اور اغواء لیکن ایک شخص اپنے نفع کے لئے کتنے گھر اجاڑتا ہے۔ کیا ان کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے یہی حال جوئے اور شراب کے نفع کا ہے کہ ایک وقتی لذت ہمیشہ کے خسران کا سبب ہے اور ایک شخص کی آمدنی قوم کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔
تو جیسے آمدن حلال ہونا ضروری ہے ویسے ہی اخراجات کا مناسب ہونا بھی۔ جب آپ ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ کس قدر مال خرچ کریں تو فرمائیے جو اپنی ضرورت سے زائد ہو۔
یہ ایک ایسی صورت ہے کہ جس سے بعض حضرات نے یہ مفہوم لیا ہے کہ ضرورت سے زائد ہر شے خرچ کردینی چاہیے اور آئندہ کے لئے بچا کر کچھ نہ رکھیئے۔ حضرت ابوذرغفاری ؓ کا یہی مسلک تھا اور بعض اہل اللہ کا بھی۔ اکثر صحابہ کرام ؓ اس کے خلاف اعتدال کی راہ اپناتے اور اللہ کی راہ میں بھی دیتے۔ ضروریات کے لئے بچا کر بھی رکھتے تھے اور یہی ان آیات کا مفہوم بھی ہے کہ اللہ تمہارے لئے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم دنیا اور آخرت کی باتوں میں فکر کرو یعنی اپنی اخروی اور ابدی ضروریات کو بھی نگاہ میں رکھو اور دنیا بھی عالم اسباب ہے۔ یہاں بھی زیست کا سامان کرو۔
اگر پس انداز غیر محمود ہوتا تو زکوٰۃ فرض ہی نہ ہوتی کہ وہ تو لاگو ہی پس انداز پر ہے۔ ہاں ! یہ نہ ہو کہ صرف اپنے لئے پس انداز کرتا رہے اور ارد گرد سے بیگانہ ہوجائے بلکہ غرباء کا بھی خیال رکھے اور یہ صرف ان کی بھلائی کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کی اپنی اخروی اور ابدی ضرورت بھی ہے۔ میانہ روی ہی مناسب ہے کہ دنیا میں بھی آرام سے گزرے۔ اور آخرت بھی درست رہے۔
ایسے ہی آپ ﷺ سے یتیم بچوں کے ساتھ تعلق کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ صورت یہ پیش آئی کہ اکثر یتیم بچے تو ورثاء کے ساتھ رہتے تھے۔ اور ان میں سے بعض کے پاس والدین کا چھوڑا ہوا مال بھی ہوتا تھا۔ جب مال کے بارے سخت محتاط رہنے کا حکم ہوا تو یتیم کے مال سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی۔ ارشاد ہوا۔
الذین یاکلون اموال الیتمیٰ ظلما انھم یاکلون فی بطونھم نارا۔
کہ جو لوگ ظلماً یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں انگارے بھر رہے ہیں۔ تو صحابہ کرام ؓ نے یتیموں کا مال بالکل علیحدہ کردیا۔ اب ان کے لئے علیحدہ کھانا پکانا ، یا بچ جائے ت استعمال نہ کرنا اور نہ صدقہ دینا۔ اس طرح ایک سخت مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی تھی مگر اللہ نے آسان فرمادیا کہ مقصد یتیموں کی بھلائی ہے اگر تم ان کا مال اپنے ساتھ شامل کرلو ، بدیں خیال کہ ان کا نقصان نہ ہو تو وہ تمہارے ہی بھائی اور عزیز ہیں۔
ہاں ! اگر کوئی بدبخت اصلاح کے پردے میں ان کا مال ہڑپ کرنا چاہے تو اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتا کہ اللہ بہتری چاہنے والے اور فسادی دونوں کو خوب جانتا ہے اور یہ قاعدہ اللہ نے تمہاری آسانی اور سہولت کو مقرر فرمایا کہ اللہ تم پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا ، وہ زبردست ہے کوئی دھوکا باز اس کی گرفت سے نہ بچ سکے گا اور وہ بڑی تدبیر والا ہے حکیم ہے اگر اس کی حکمت سے چندے گرفت نہ آئے تو کیا ہوا۔
جب معاشرت اور باہمی اختلاط کا ذکر چلا تو فرمایا ، مسلمان یتیم تو تمہارے بھائی ہیں لیکن اگر مشرک رشتہ دار بھی ہو تو وہ تمہارا کچھ نہیں لگتا۔
مناکحت کے لئے ایمان شرط ہے :
مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں ان سے تو مسلمان لونڈی بہتر ہے اگرچہ مشرک عورت اس سے خوبصورت بھی ہو ۔ اسی طرح مشرک مرد کے نکاح میں مسلمان عورت نہ دو کہ اس سے وہ غلام بدرجہا بہتر ہے جو مسلمان ہے اگرچہ شکل و صورت میں مشرک ہی کیوں نہ بڑھا ہوا ہو کہ اصل بات مآل کار ہے اور رشتہ ازدواج ایک بہت مضبوط تعلق ہے مشرک کے ساتھ تعلق اگر مومن کو مشرک نہ بنا سکا تو اس کے دل سے شرک کی نفرت تو ضائع کردے گا جو دوزخ کی طرف ایک قدم ہے اور یہی شے کفر و شرک میں مبتلا کرنے والی چیز ہے۔
فرمایا ، اس طرح یہ مشرک دوزخ کی طرف دعوت دینے والے ہیں اپنے اثر اور تعلق کے اعتبار سے یہ جہنم کے داعی ہیں اور اللہ تو جنت اور اپنی بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اسی لئے اپنے احکام ارشادفرماتا ہے کہ لو گ نصیحت قبول کریں۔
یہاں شرک سے اگر مطلق غیر مسلم مراد ہیں تو اہل کتاب ان میں داخل نہ ہوں گے کہ وہ تو توحید وآخرت اور کسی نہ کسی نبی کی نبوت پر تو متفق ہیں اگرچہ حضور ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں مگر ان کفار سے کفر میں ہلکے ہیں جو توحید و رسالت اور آخرت کا سرے سے انکار کئے بیٹھے ہیں اور پھر اہل کتاب کی بھی صرف عورت سے نکاح درست ہے مرد سے نہیں کہ عورت فطرتاً مرد کے تابع ہوتی ہے مسلمان سے نکاح شاید اس کی اصلاح کا سبب بنتا ہے اور یہ بھی صرف نکاح درست ہے نسب ثابت ہوجائے گا مستحسن نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے مسلمان بھی دیندار عورت تلاش کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ تو جب بدکار مسلمہ سے نکاح مناسب نہیں تو اہل کتاب سے کیسے پسندیدہ ہوگا ؟ نیز وہ بھی اس وقت جائز ہے جب اہل کتاب اپنے مذہب پر تو ہوں۔ فی زمانہ تو صرف مردم شماری میں عیسائی یا یہودی لکھا ہوا ہے۔ اگر تحقیق کی جائے تو نہ تو ان کا اللہ پر ایمان ہے اور نہ آخرت پر ، نہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اور نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو۔ یہی وجہ ہے کہ جب شام کے مسلمانوں میں ایسے نککاح ہوئے۔ تو امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے بذریعہ فرمان روک دیا اور اس طرف توجہ دلائی کہ سیاست اور دیانت دونوں طرح یہ شادیاں مسلمان خاندانوں کے لئے مضر ہیں۔ (کتاب الآثار کلام محمد ﷺ
اور آج کے غیر مسلم یہود ونصاریٰ جس طرح مسلمان گھروں میں داخل ہو کر ان کے راز حاصل کرنے اور انہیں ذلیل کرنے کے درپے ہیں ایک دلازار حقیقت ہے مشرق وسطیٰ میں یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے باعث تقریباً سب بااثر افراد اور حکمران طبقے کے گھروں میں یہودی لڑکیاں مسلمان ناموں سے موجود ہیں۔
اے کاش ! مسلمان کفار کے فریب کو سمجھ سکتا۔ اور ان کا حال تو یہ ہے کہ تقریباً افریقہ کے تمام حکمرانوں پر یہودی لڑکیاں ہی قابض ہیں ، آج کل کے ملحد اہل کتاب یا نام کے وہ مسلمان جو عقیدۃً کافر ہیں اور مسلمان کہلاتے ہیں جیسے مرزائی یا روافض کہ اول الذکر ختم نبوت کا انکار کرکے اگر کافر ہے تو ثانی اجرائے نبوت کے عقیدے میں اس سے کہیں آگے ہے اور اسی طرح منکرین حدیث ، کہ انکار حدیث ایسا ہی کفر ہے جیسا کتاب اللہ کا انکار۔ ان سب سے نکاح حرام ہے اور اس کے جواز کی کوئی صورت کم از کم میری نظر میں نہیں۔
Ayahs 2:222–229آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے والوں سے جو منہیات سے بچتے ہیں اور اللہ کی اطاعت میں کوشاں رہتے ہیں محبت کرتا ہے اور انہیں محبوب رکھتا ہے۔
بیبیاں تمہاری کھیتی ہیں اور اس اختلاط سے مراد محض شہوت رانی نہیں بلکہ اس پر بقائے نسل کا مدار ہے۔ سو اپنے کھیت میں جس طرح چاہو کرو۔ جس ہئیت سے چاہو کرو۔ مگر صحبت کا موقع وہی ہے جہاں سے نسل چل سکے جو واقعی کھیتی کہلا سکے کہ حیض کی حالت میں بھی نطفہ نہیں ٹھہرتا اور گندگی بھی ہے اگر دبر میں وطی کی جائے تو بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ سو محض لذات میں مشغول ہونا بھی تو مقصد نہیں۔ بلکہ اس سے مقصداصلی تو اصلاح معاشرت ہے اور آئندہ کی زندگی یا آخرت کے لئے اعمال صائح کا کرنا۔
ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی نکاح کے بعد یہ نہ جانور کو عورت تو قابو میں آہی گئی ہے لذت اٹھائیں بلکہ وہ بھی انسان ہیں ان کے تم پر حقوق ہیں۔ پھر نکاح سے مراد جہاں جنسی جذبے کی تسکین ہے وہاں بقائے نسل مراد ہے اختلاط جنسی میں بھی حدود الٰہی کی نگہداشت ضروری ہے۔ یہ بات یادرکھو کہ تمہیں اللہ کے روبرو پیش ہونا ہے اور اے میرے محبوب ! میری عظمت پہ یقین رکھنے والوں کو بشارت دیجئے اور جو لوگ جذبات کو حدود الٰہی سے تجاوز نہیں کرنے دیتے انہیں اللہ کے انعامات کی نوید سنائیے۔
اللہ کے نام کو اور اس کی قسم کو حسن معاشرت میں آڑ نہ بنائو۔ مبادا یہ کہہ دو کہ میں ضرور یہ بھلائی کرتا لیکن مجبور ہوں کہ غصے میں یا ناراض ہو کر قسم کھائی تھی کہ یہ کام نہ کروں گا۔ اگر کام نیک ہے حسن سلوک یا بھلائی کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا معاملہ ہے تو ضرور کرو کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اپنی زبان کو سنبھال کر رکھو بلکہ قلب وذہن کو بھی میلا نہ ہونے دو ، اچھا سوچو ، اچھا بولو اور اچھا عمل کرو۔
گناہ پر قسم کھانے سے پرہیز :
اگر بلا قصور تم جھوٹ بول چکے ہو یا جھوٹ پر اس طرح قسم کھا بیٹھے کہ تم اسے سچ جانتے تھے مگر تھا جھوٹ۔ تو اللہ کی رحمت اور بخشش ہے کہ اس پر گرفت نہ فرمائے گا اور یہ معاف کردی جائے گی لیکن جن امور میں تم نے دل میں ٹھان لی کہ گو یہ بات غلط ہے مگر میں قسم کھا کر اسے سچ ثابت کروں گا۔ تو اللہ کی گرفت بڑی سخت ہے اور وہ تمہیں پکڑے گا یہ اس کا حلم ہے کہ چندے مہلت بخش دے۔
تو مشو مغرور بر علم خدا
دیر گیرد سخت گیرد مرترا
اسی امر میں مرد وزن کے تعلقات میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھے کہ میں اپنی بیوی کے پاس نہ جائوں گا تو اس کے لئے چار ماہ کی مہلت ہے اگر وہ اس میں پھر مل بیٹھیں تو درست کہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے اور اگر علیحدہ ہی ہوجانے کا ارادہ ہے تو بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے اس ایلا کہتے ہیں۔ جس کی چار صورتیں ممکن ہیں کہ کوئی مدت معین نہ کرے اور قسم کھائے کہ بیوی سے صحبت نہ کروں گا یا چار ماہ کی مدت مقرر کرے یا پھر چار ماہ سے زائد مقرر کرے اور چوتھی یہ کہ چار ماہ سے کم مدت مقرر کرے ، تو پہلی تین صورتوں میں اگر چار ماہ سے پہلے قسم توڑ دے اور بیوی سے صحبت کرلے تو قسم کا کفارہ دے ، نکاح باقی ہے اور درست ہے ۔ اور چار ماہ گزر گئے تو عورت پر طلاق قطعی واجب ہوگی یعنی بلا نکاح رجوع نہیں کرسکتا۔ چوتھی صورت میں اگر قسم توڑ دی تو کفارہ دے گا اور اگر پوری کرلی تو بھی چونکہ چار ماہ سے کم ہے نکاح باقی ہے (بیان القرآن)
اگر عورت کو طلاق ہوجائے تو اسے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھنا ہوگا یعنی وہ عورت جس سے خلوت صحیحہ ہوئی ہو ، اور اس کو حیض آتا ہو ، آزاد ہو ، لونڈی نہ ہو۔ اگر اسے طلاق ہوجائے تو پھر وہ تین حیض تک نکاح نہیں کرسکتی۔ نیز بحیثیت ایماندار ہونے کے اسے یہ بھی زیب نہیں دیتا کہ جو کچھ اس کے رحم میں اللہ نے پیدا کیا ہے حمل ہو یا حیض کو چھپالے اور اگر طلاق رجعی ہو جس کا بیان آئندہ آرہا ہے تو شوہر بلا تجدید نکاح لوٹا لینے کا حق رکھتا ہے۔ بشرطیکہ رجعت سے مراد اصلاح ہو ، ورنہ محض تنگ کرنے کے لئے مناسب نہیں ، اگرچہ رجعت تو ہی جائے گی۔ اور جس طرح مردوں کا عورتوں پر حق ہے ایسا ہی حق عورت کا مرد پر بھی ہے۔ ہاں ! مرد کو ایک گونہ فضیلت عورت پر ہے کہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے عورت مرد کی پناہ میں ہی عافیت جانتی ہے اور حقیقی غلبہ تو اللہ کا ہے جس کے سامنے مردو عورت سب جواب دہ ہیں اور جس نے اپنی حکمت سے یہ نظام پیدا فرمایا ہے۔
عورت اور اسلام :
معاشرہ ایک مرد اور عورت سے شروع ہو کر خاندان ، قبائل اور ملک کی صورت اختیار کرتا ہے۔ حسن معاشرت کے لئے دین برحق نے معاشرے کی بنیاد ہی سے اصلاح کا کام بھی شروع فرمایا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے صحیح مقام کا تعین کیا ہے۔ دونوں کے حقوق وفرائض متعین فرمادیئے ہیں اور مساوات اس شے کو قرار دیا ہے کہ ہر کوئی اپنی جگہ اپنا فرض بھی ادا کرے اور اپنا حق بھی پالے۔ رہا معاملہ آخرت کا ، تو اس کا مدار تقویٰ پر ہے ۔ ایسی عورتیں بھی یقینا ہوں گی جو آخرت میں لاکھوں مردوں پر فضیلت رکھتی ہوں گی۔
قبل از اسلام عورت کو ایک گھریلو استعمال کی شے سمجھا جاتا تھا اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور وہ مرنے والے کے مال کے ساتھ وراثت میں تقسیم ہوا کرتی تھی اور یورپ میں تو عورت کو انسان تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے۔ جبکہ ہندوستان میں مرنے والے کے ساتھ بیوی کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ 586 ء میں بڑی ردوکد کے بعد فرانس میں یہ طے ہوا کہ عورت انسان تو ہے مگر یہ صرف مرد کی خادم ہے اور بس۔ تب یہ تھا اور اب یہ ہے کہ عورت کو مرد پر مسلط کرنے کے جتن ہو رہے ہیں اور مساوات کے نام پر عدم مساوات کے لئے تحریکیں چلائی جارہی ہیں اور ایک بےلگام آزادی دے کر پورے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
یہ صرف اسلام ہے جس نے عورت کی عظمت بحیثیت ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے تسلیم کروائی۔ جہاں اس کے فرائض متعین ہیں وہاں پہلے اس کے حقوق کی بات کی اور تعمیر معاشرت میں اس کا بھرپور کردار رکھا اسے وراثت میں حصہ دار قرار دیا اسے اختیار بخشا کہ بالغ عورت کو کسی سے نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہ منطور نہ کرے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ اسی طرح شوہر کی وفات یا طلاق دینے کی صورت میں وہ خود مختار ہے اس پر جبر کرنا درست نہیں ۔ نیز شوہر کے لئے عورت کو راضی رکھنا اور اس پر خرچ کرنا عبادت قرار دیا۔ اگر شوہر حقوق واجبہ ادا نہ کرے تو عورت کو حق دیا کہ اسے اسلامی عدالت کے ذریعہ ادائے حقوق پر ورنہ طلاق پر مجبور کرے۔
جہاں اس طرح حقوق دیئے وہاں عورت کو بےمہار نہیں چھوڑا۔ اسے مردوں کی نگرانی سے آزاد نہیں چھوڑا کہ بجائے خاندان کی تعمیر کے اور اولاد کی تربیت جیسے عظیم الشان کام کے وہا پنے گزارے اور معاش کے لئے دفتروں میں دھکے کھائے اور ایک کھلونے کی حیثیت سے لوگ اس سے آنکھیں سینکیں۔ یہ بھی اس کی حق تلفی اور بربادی ہے۔ نہ صرف عورت کی بربادی بلکہ پورے معاشرے کی تباہی کا باعث ہے۔
اللہ نے سب کے حقوق مقرر فرما کر انہیں احسن طریقے سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور مرد کی فضیلت ارشاد فرما کر گویا اشارہ فرمادیا ہے کہ عورت مرد سے کمزور ہے۔ اگر اس سے کوتاہی بھی ہو تو مرد برداشت کرنا اور اصلاح کی صورت پیدا کرنا ہے نیز سارال فساد اس وقت شروع ہوتا ہے جب لوگ حقوق تو مانگتے ہیں فرائض ادا نہیں کرتے۔ تو حسن معاشرت یہ ہے کہ دوسرے کا حق ادا کرے اور اپنے مطالبات میں عالی ہمتی سے کام لے۔ یہ اصول گھر سے لے کر حکومت تک موثر ہے۔ اور قیام امن کا ضامن۔
Ayahs 2:230–231آیات 230- 231
اسرارو معارف
ایسے ہی اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے علیحدہ ہی ہونا چاہے یا کوئی ایسی صورت واقع ہو کہ آئندہ مل کر رہنا نقصان دہ ہو یا زوجین کے مزاج نہ مل سکیں تو علیحدگی کی بھی ایک خاص صورت ہے جیسے معاہدہ نکاح کی ایک معین اور خاص صورت ہے کہ ہر عورت کا ہر مرد سے نکاح جائز نہیں بلکہ ایک خاص ضابطہ ہے جس کی رو سے متعدد عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح درست نہیں اور انعقاد نکاح کے لئے دو گواہ موجود ہونا شرط ہے اگر گواہوں کے بغیر مرد اور عورت آپس میں نکاح کرلیں اور پھر زندگی بھر اس سے کوئی فریق بھی انکار نہ کرے تب بھی یہ نکاح باطل ہوگا اور منعقدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح نکاح کا اعلان عام بھی مسنون ہے اور ائمہ فقہ کے نزدیک تو نکاح ایک معاہدہ ہے اور اس سے زیادہ عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور قرآن وسنت اس پر گواہ ہیں۔
جس طرح اس معاہدہ کے منعقد ہونے کی ایک امتیازی صورت ہے ایسے ہی اگر کسی وجہ سے اسے ختم کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے بھی ایک خاص قانون ہے جو اس آیہ کریمہ میں بیان ہوا ہے کہ نکاح ختم کرنے کی صورت میں صرف فریقین متاثر نہیں ہوتے بلکہ اولاد کی تباہی کا امکان ہوتا ہے اور بعض اوقات خاندان اور قبیلے کے تعلقات متاثر ہوتے ہیں یا نوبت لڑائی تک پہنچتی ہے غرض پورا معاشرہ اس سے اثر پذیر ہوتا ہے۔ اسی لئے اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ نکاح عمر بھر کے لئے ہو اور اسے ختم کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اسی لئے اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں افہام و تفہیم کا حکم دیا اور فرمایا کہ دونوں خاندانوں سے ثالث بنائے جائیں تاکہ معاملہ نہ تو دو افراد تک محدود رہے اور نہ خاندان سے باہر لوگ سنیں۔ لیکن پھر بھی کبھی یہ سب کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوتیں اور طرفین کا اکٹھا رہنا مزید تلخی یا فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ تو اس کے لئے نکاح کو ختم کرنے کا بھی ایک سلیقہ ہے مذاہب باطلہ کی طرح نہیں کہ کبھی رشتہ ازدواج ٹوٹ ہی نہ سکے بلکہ طلاق اور فسخ کا قانون ہے۔
طلاق کا حق مرد کو دیا گیا ہے کہ عادتاً تحمل اور بردباری کا مادہ اس میں زیادہ ہے۔ نیز فکر و تدبر میں بھی عورت سے بڑھا ہوا ہے اور عورت چونکہ وقتی اثرات زیادہ قبول کرتی ہے لہٰذا اس کی جلد بازی طلاق کو ایک کھیل نہ بنادے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی نہیں کہ عورت مجبور ہو اور ہمیشہ مرد کے جوروستم کا شکار رہے بلکہ اسے بھی حق دیا کہ شرعی عدالت میں شکایت کر کے اور ثبوت مہیا کرکے نکاح فسخ کر اسکتی ہے اور مرد کو اختیار تو آزادانہ بخشا مگر ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ ابغض الحلال عنداللہ الطلاق اوکما قال ﷺ ۔ کہ طلاق دینال اگرچہ حلال ہے مگر اللہ کے نزدیک بہت ہی ناپسندیدہ۔ اس لئے محض غصے سے مغلوب ہو کر یاوقتی اور ہنگامی جذبات کے تحت یہ حق استعمال نہ کیا جائے اسی طرح حالت حیض میں نہ دے یا جس طرح طہر میں ہمبستری ہوچکی ہو اس میں بھی طلاق دینا مناسب نہیں کہ اس عورت کی عدت طویل ہو کر اس کے لئے مصیبت ثابت ہوگی۔ نیز معاہدہ نکاح دوسرے معاہدوں کی طرح فوراً ختم نہیں ہوجاتا کہ بات ہوئی اور فریقین فوراً آزاد بلکہ اس کو ختم کرنے کے لئے اول تو تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں ہیں پھر عدت کی پابندی کہ اس کے پورا ہونے تک عورت بھی دوسرا نکاح نہیں کرسکتی اور مرد پر بھی بعض حقوق باقی رہتے ہیں۔
علاوہ ازیں اگر ایک یا دو طلاق دی گئی ہوں تو نکاح فوراً نہیں ٹوٹ جاتا بلکہ عدت پوری ہونے تک باقی ہے۔ اگر دوران عدت رجوع ہوجائے تو نکاح سابق ہی درست تسلیم ہوگا اور یہ حق بھی ایک یا دو طلاق تک رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی تیسری طلاق بھی دے دے تو اسے رجوع کا اختیار ہی نہیں رہتا۔ بلکہ دوبارہ آپس میں نکاح بھی کرنا چاہیں تو جب تک عورت بعد عدت دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور پھر وہ اسے چھوڑ دے یا مرجائے تو اس کی عدت بھی گزارے اس کے بعد اختیار ہے کہ شوہر سابق سے نکاح کرسکتی ہے۔
ان آیات میں اسی قاعدے اور ضابطے کا ذکر ہے کہ الطلاق مرتن کہ طلاق دو ہی مرتبہ ہے اور پھر ان دو سے نکاح ختم نہیں ہوتابل کہ عدت پوری ہونے تک مرد کو اختیار ہے کہ اپنے نکاح میں روک لے یا پھر مدت پوری ہونے پر نکاح خود بخود ختم ہوجائے یہی مراد ہے۔ فامساک بمعروف اور تشریح باحسان سے کہ اگر حسن اخلاق اور خوش معاملگی سے رجوع ہوسکے تو بہتر صورت یہ ہے ورنہ اچھے طریقے سے اور ایک دوسرے کی عزت نفس بحال رکھتے ہوئے معاملے کو ختم ہوجانے دے جو عدت کی تکمیل سے خود بخود ختم ہوجائے گا۔ اور یہ نہ کرے کہ نہ عورت کو آباد کرے اور نہ طلاق دے ، بلکہ تنگ کرے اور اس سے مال کا مطالبہ کرے ، بلکہ فرمایا جو تم انہیں دے چکے ہو مہر یا مختلف چیزوں کی صورت میں۔ اس کا واپس لینا بھی حلال نہیں کہ طلاق ویسے یہ تلخی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اور اس پر یہ مطالبہ مزید خرابی پیدا کرے گا۔
ہاں ! ایک صورت استثناء کی اس میں بھی ہے اور وہ یہ کہ عورت بھی سمجھتی ہو کہ وہ مرد کے حقوق ادا نہ کرپائے گی اور اس طرح احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہوگی اور مرد بھی یہ جانے کے احسن طریقے سے نباہ نہیں ہوسکتا تو اس صورت میں جائز ہے کہ مہر کی واپسی یا معافی کے بدلے طلاق دے دے اور یہ سب امور محض دنیا نہیں ہیں اور نہ صرف تکمیل جذبات کے ذرائع۔ بلکہ یہ حدود اللہ یعنی اللہ کے مقرر کردہ قاعدے ہیں اور ان کی پابندی عبادت الٰہی ہے اور ان سے تجاوز سخت نامناسب ، بلکہ ان حدود کو توڑنے والوں کو ظالم فرمایا ہے کہ یہ سخت زیادتی کرنے والے ہیں۔
اگر کوئی شخص عورت کو تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر وہ عورت اس کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک وہ عدت پوری کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔ پھر اس کا حق زوجیت ادا کرے اور پھر وہ اسے طلاق دے دے یا مرجائے تو اس کی عدت بھی پوری کرے۔ بعدازاں اگر وہ دونوں یہ سمجھیں کہ وہ حدود اللہ کی حفاظت کرسکیں گے یعنی باہم شرعی طور پر گزارہ کرسکیں گے تو آپس میں نکاح کرکے مل جائیں۔ بہرحال یہ ملنا ، بچھڑنا حدود الٰہی کے اندر ہو۔ یہ قواعدوضوابط اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں اور اہل علم کے لئے تو زندگی کی بہترین راہیں ہیں۔
قرآن کریم ، حدیث اور تعامل صحابہ ؓ سے طلاق کے بارے میں جو ثابت ہے وہ یہی ہے کہ جب طلاق کے سوا کوئی چارہ نہ رہے تو حالت طہر میں ایک طلاق دے دے اور بس عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہوجائے گا لیکن الر وہ بھی دے دے جو الگ الگ طہروں میں ہوں کہ ھرتان سے ہی مستفاد ہے ورنہ الطلاق طلاقان فرمادیا جاتا۔ اور وہ دو طلاقوں سے بھی بات وہی رہے گی۔ کہ رجوع نہ کرے تو عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہوجائے گا اگر پھر آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو نکاح درست ہوگا لیکن اگر تیسری طلاق بھی دے دی تو پھر وہی صورت ہے کہ عورت کسی اور سے نکاح کرے پھر وہ مرضی سے چھوڑ دے یا مرجائے تو اس کی عدت پوری کرے تب اگر چاہیں تو آپس میں نکاح کرسکتے ہیں۔
رہی یہ بات کہ بیک وقت تین طلاق دے دینا درست نہیں اور منشاء شریعت کے خلاف ہے اس لئے سخت گناہ ہے مگر گناہ ہونا اس کے اثر کو نہیں روکتا طلاق واقع ہوجاتی ہے جیسے ظلماً قتل کرنا یا کسی کا مال لوٹ لینا سخت گناہ ہے۔ مگر مرنے والا تو مرجاتا ہے یا مال تو لٹ جاتا ہے۔
عہد نبوی ﷺ میں ایسے واقعات ہوئے جو احادیث میں مذکور ہیں تو حضور ﷺ نے باوجود ناپسند فرمانے کے طلاق نافذ فرمادی۔ اس موضوع پر مستقل کتب دستیاب ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عہد ہائے نبوی ﷺ اور صدیقی میں بیک وقت تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تو درست نہیں بلکہ اس کی صورت یہ ہے کہ حضرت رکانہ ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور لفظ ” البتتہ “ استعمال کیا ۔ جو عرب میں عرفاً تین طلاقوں کے لئے بولا جاتا تھا مگر تین کا مفہوم نہ تھا۔ انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں عرض کیا کہ میری مراد ایک طلاق تھی اور ایک ہی کا قصد تھا۔ بعض کتب حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت رکانہ ؓ نے تین طلاق دی تھیں ۔ مگر ابودائود نے اسی کو ترجیح دی کہ انہوں نے البتتہ کے ساتھ طلاق دی تھی تو چونکہ یہ لفظ تین طلاق کے لئے معروف تھا اس لئے راوی نے تین طلاق سے تعبیر کردیا۔ بہرحال اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے حلف لیا جس میں انہوں نے بیان کیا کہ میر ی نیت تین طلاق دینے کی نہ تھی۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاق کے صریح الفاظ نہ تھے۔ ورنہ پھر نیت ہونے نہ ہونے کا کیا سوال۔ حضور ﷺ نے ایک طلاق قرار دی۔ لہٰذا یہ قاعدہ بن گیا کہ اگر نیت ایک کی ہو مگر لفظ ایسے کہہ دے کہ تین کا احتمال ہو یا نادانی سے ایک ہی کو موکد کرتا رہے تو اس کا حلف دینا ہوگا کہ میں نے ایک ہی طلاق دی ہے تب ایک تصور ہوگی۔
عہد صدیقی اور عہد فاروقی ؓ کے ابتدائی دو سال تو یہی طریقہ رہا مگر جب اسلام دور دور تک پھیلا نئے نئے لوگ داخل ہوئے تو دیانت وامانت کا وہ معیار جو صحبت نبوی ﷺ سے حاصل ہوا تھا نہ رہا اور بمطابق حدیث شریف آئندہ گھٹنے کی امید بھی تھی تو حضرت فاروق اعظم ؓ کی دور بین نگاہ نے دیکھا کہ یہ تو ایک کھیل بن جائے گا اور لوگ شریعت کی دی ہوئی اس سہولت کو بےجا استعمال کرنے لگ جائیں گے تو آپ نے باتفاق صحابہ ؓ یہ قانون بنا دیا کہ اگر کوئی شخص تین طلاق دے گا تو وہ تین ہی تصور ہوں گی اور یہ عذر قبول نہ کیا جائے گا کہ نیت ایک کی تھی۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مزاج شناس رسول ﷺ تھے۔ ان کا اجماع دلیل شرعی ہے۔ یہ اعتراض نہایت بودا ہے کہ حضور ﷺ نے تین کو ایک قرار دیا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے بدل دیا۔ سب صحابہ ؓ ان سے کیسے متفق ہوگئے ؟ یہ حضرات تو پیغام نبوی ﷺ کو کائنات کی وسعتوں میں پہنچانے والے اور دین اسلام کو نافذ کرنے والے تھے انہوں نے حضور ﷺ کی دی ہوئی سہولت سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا تھا جو درست تھا اور درست ہے۔ نیز یہ ایک فقہی مسئلہ ہے یہاں اس کا احاطہ مقصود نہیں۔ اس کے لئے شروح ، حدیث اور کتب فقہ کی طرف رجوع کریں۔
جب مطلقہ رجعی عورتوں کی عدت قریب الختم ہو تو شوہر کو اختیار ہے کہ رجعت کرے یا نکاح کو ختم ہوجانے دے۔ مگر دونوں امور کے لئے بالمعروف کا لفظ آیا ہے۔ کہ شرعی قاعدے کے مطابق کرے اور احسن طور پر انجام دے یعنی اگر رجعت کا ارادہ کرے تو غصہ اور ناراضگی دل سے دور کرے ، آئندہ بہتر طریقے پر رہنے کا ارادہ کرے نہ یہ کہ محض عورت کو ستانے کے لئے رجعت کرے نیز سورة طلاق میں حکم ہے کہ رجعت پر بھی دو معتبر گواہ بنالے کہ کل عورت یا مرد دونوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو رجعت کا دعویٰ کرسکے۔ اور نہ یہ کہ رجعت نہیں تھی بلکہ اس پر دوگواہوں جو اصل صورت واقع بیان کرسکیں کہ پھر جھگڑا پیدا نہ ہو اگر چھوڑنا ہی مقصود ہو تو اچھے طریقے سے کہ جیسے ارشاد ہے کہ ان سے دی ہوئی چیزیں یا مہر یا کچھ اور معاوضہ طلب نہ کرے اور الٹا اسے کچھ دے کر رخصت کرے کہ اس کے کچھ حقوق ہیں۔
اگر خلوت ہوچکی اور مہر ادا نہیں کیا تو ادا کرے۔ اگر خلوت نہیں ہوئی تو آدھا مہر دے۔ عدت ختم ہونے تک گھر میں رہنے دے اس کا خرچ برداشت کرے اور وقت رخصت بھی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ تحفتاً ہی سہی دے کر رخصت کرے کہ عورت بھی ذلیل ورسوا نہ ہو اور یہ معاملہ دو خاندانوں میں دشمنی کا سبب نہ بن جائے۔ اگر اس کے خلاف کیا تو اس نے نہ صرف عورت کو تنگ کیا بلکہ اپنے آپ پر زیادی کی کہ اس کے غلط طریقے سے جس قدر فساد پھیلے گا جتنے دل دکھیں گے۔ سب کا وبال اس کی گردن پر ہوگا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی اس سے سوا اور ابدی زندگی میں کس قدر خسارہ ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے قوانین کو مذاق نہ سمجھ لو۔
لاتتخذوا ایات اللہ ھزوا۔ اسے بچوں کا کھیل نہ بنائو یا عہد جاہلیت کی طرح کہ بعض لوگ طلاق دے کر یا غلام کو آزاد کرکے مکر جاتے تھے کہ میں نے تو صرف مذاقاً کہا تھا نیت نہ تھی۔ اللہ نے قانون بنادیا کہ ان امور میں مذاق نہیں اگر کسی نے واقعی مذاقاً ہی کہہ دیا تو منعقد ہوجائے گا۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا ہنسی مذاق میں کرنا اور واقعی کرنا برابر ہے ایک طلاق دوسرے عتاق اور تیسرے نکاح۔ اگر مرد عورت گواہوں کے سامنے ہنسی مذاق میں بھی ایجاب و قبول کریں گے تو نکاح ہوجائے گا ، یہی حال رجعت اور طلاق کا ہے یا غلام کو ہنسی میں کہہ دیا کہ تو آزاد ہے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
پھر اس تمام امر کو دوسری طرح ارشاد فرمایا کہ اللہ کے انعامات کو یاد کرو اور اس کے احسانات کا شمار تو کرو کہ اس نے تم کو اپنے کلام کے شرف سے نواز۔ تمہیں کتاب عطا فرمائی۔ حکمت و دانائی کی باتیں جو اللہ کے رسول ﷺ تم تک پہنچاتے ہیں کیا اس سب انعام کا یہ جواب مناسب ہے کہ اس کی اطاعت نہ کی جائے اور اسے مذاق بنا لیا جائے ہرگز نہیں ! ہر آن اس سے ڈرتے رہو اور خوب سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ وہ اعمال وکردار کو بھی دیکھ رہا ہے اور افکار و ارادہ بھی اس کی نگاہ سے اوجھل نہیں وہ خوب جانتا ہے کہ اس کے انعامات کی قدر کن دلوں میں ہے اور کون ایسے ہیں جنہوں نے پرواہ نہیں کی۔ تمام کام اس طرح انجام دو کہ مآل کار تمہیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
Ayahs 2:232–235آیات 232- 235
اسرارو معارف
واذطلقتم النسائ…………ان اللہ غفور رحیم
مطلقہ عورتوں کے ساتھ بعد از طلاق کیا سلوک کیا جائے ؟ تو ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو عورت طلاق ہوجانے کے بعد اس قدر مجبور وبیکس ہوتی ہے کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ اس کے ساتھ کوئی ایسی نحوست وابستہ ہوتی ہے ، جسے اہل خاندان بوجھ خیال کریں بلکہ وہ بحیثیت انسان وہی پہلے والا انسان ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے اگر کسی سے مزاج نہ مل سکا اور طلاق ہوگئی تو صرف اس وجہ سے اس کی عزت نفس ضائع نہیں ہوجاتی۔ بلکہ بعد از طلاق جب عدت پوری کرچکے تو نہ پہلے شوہر کو حق ہے کہ اسے نکاح ثانی سے روکے اور نہ ورثاء کو۔
اگر پہلے ہی شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا ہے تو ورثاء محض ناراضگی کی وجہ سے درمیان میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ہاں ! دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے ایک تو دونوں کی باہمی رضامندی اور دوسرے شرعی جواز۔
اذاتراضوا بینھم بالمعروف۔ بالمعروف سے یہی مراد ہے کہ کسی فریق پر زبردستی نہ کی جائے نہ مجبور کیا جائے اور نہ عورت پر کوئی دبائو ڈالا جائے۔ وہ اپن رض اور غبت سے آمادہ ہوں پھر ان کی رضامندی کا شرعی طور پر جائز ہونا بھی ضروری ہے مثلاً پہلے خاوند سے ہی اگر نکاح کرنا چاہے تو طلاق رجعی ہوئی ہو۔ ورنہ تین طلاقوں کے بعد وہ آپس میں نکاح نہیں کرسکتے یا کسی دوسرے مرد کے ساتھ اگر راضی ہو تو شرعی قاعدے کے مطابق مثلاً جیسا آج یورپ کا رواج ہے کہ اگر کوئی بغیر نکاح ہی رہنا چاہے کہ نکاح تو پہلے کرکے دیکھ لیا۔ اب ایسے ہی مل کر رہیں گے جب تک طبیعت نے چاہا مل کر رہیں گے ورنہ نہیں ، تو پھر روکنا واجب ہوجائے گا۔ یا عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح کرنا چاہے مگر شرعاً جائز نہ ہو تو پھر روکنا ضروری ہے۔ بالعموم تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً ورثاء کو بقدر استطاعت روکنا واجب ہے۔ ہاں ! محض اپنی فرض کردہ عزت یا غیرت کے خلاف جان کر روکنا یا کسی لالچ وغیرہ کی وجہ سے کہ کہیں سے روپے مل جائیں گے تو وہاں نکاح کردیں گے یا اسی طرح کی نامناسب باتیں سوچ کر اسے شرعی حق سے محروم کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ مومن کی نگاہ اس دارفانی کی جھوٹی روایات سے بہت بلند ہوتی ہے۔
اسی لئے ارشاد ہے کہ اللہ یہ نصیحت ان کے لئے ارشاد فرمارہا ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں جن کے نزدیک حق وہ ہے جو اللہ نے مقرر کردیا اور عزت وہ ہے جو میدان حشر میں بھی معزز کردے۔ یہ تو وہ جذبہ ایمانی ہے جو خلاف حق روکنے کی ہمت دلاتا ہے اور کسی کا حق غصب نہ کرنے کی ترغیب بھی کہ بغیر کسی خارجی دبائو کے انسان اپنی پسند سے اور اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر نیکی کو اپناتا چلا جائے تو اس کا اثر دونوں جہانوں کی بہتری کا باعث ہوگا اور یقینا ہوگا۔
اگر محض دنیوی مصالح پر نظر کی جائے تو ذالک اذ کی لکم واطھر۔ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ راہ ہے۔ مثلاً اگر کوئی اپنی کسی مطلقہ یا بیوہ (اگرچہ یہاں ذکر نہیں لیکن بعد عدت اسے بھی تویہی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اس لئے میں نے ذکر کردیا کہ اختیام عدت کی علت تو مشترک ہے) کے نکاح ثانی کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر رکاوٹ بنے تو ہوسکتا ہے کہ وہ عورت کوئی ایسی غلطی کر بیٹھے جس سے نہ صرف عزت تباہ ہو بلکہ خاندان کی تباہی اور فتنہ و فساد کا سبب بن جائے۔ اسی طرح مال کے لالچ میں روکے اور ممکن ہے مال حاصل کرتے کرتے جان بھی ضائع کر بیٹھے کہ خلاف فطرت جس بات پر بھی کسی کو مجبور کرو گے ، اس کا نتیجہ اچھا نہیں پاسکوں گے اور اللہ کا قانن ہی عین فطرت ہے۔
ایک بات تو اللہ کی عظمت اور سرخروئی ہوئی اس کے ساتھ دنیا کے نظام کا احسن طریق پر چلانے کے لئے بھی اللہ کے قانون کی پابندی ضروری ہے کہ اللہ جانتا ہے اس کا علم کامل ہے ہر چیز کے حقائق سے وہ باخبر ہے اور ہر شے کی فطرت اور ہر شخص کے فطری تقاضوں سے آگاہ ہے۔ رہے تم ، تو تمہارا علم ناقص ہے ، اندازے ہیں جو کبھی درست اور اکثر غلط ہوتے ہیں تم نہیں جانتے۔
رضاعت کا عرصہ :
مرد وعورت کے تعلقات میں اولاد کا ذکر نہ کرنا گویا ان تعلقات کو ادھورا بیان کرنا ہے چناچہ اللہ کریم اولاد کے لئے بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اصولاً ماں کے ذمہ ہے کہ اولاد کو دو سال تک دودھ پلائے بغیر عذر شرعی کے۔ محض شوہر سے ناچاقی یا ناراضگی کے دودھ نہ پلائے تو گناہگار ہوگی۔
یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ ہاں ! احکام رضاعت ثابت کرنے کے لئے امام اعظم (رح) کے نزدیک دوسری آیہ کریمہ وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا۔ دلیل ہے کہ اگر اڑھائی سال دودھ پلادیا تو یہ ثابت ہوجائے گا اور اسی بناء پر علما نے فرمایا ہے کہ اگر بچے کی کمزوری وغیرہ کے عذر سے اڑھائی سال بھی پلادیا تو جائز ہے مگر اس کے بعد ماں کا دودھ پلانا باتفاق حرام ہے۔ نیز مدت رضاعت میں دودھ پلانا ماں کا اپنا فرض ہے اس لئے شوہر سے اس کی اجرت طلب نہیں کرسکتی۔ مگر ساتھ ہی ارشاد ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق عورت یعنی ماں کا نان نفقہ کھانا اور لباس بچے کے باپ کے ذمے ہے جیسے راضی خوشی ہنستے بستے گھر میں ہوتا ہے۔ اگر ناچاقی اور طلاق بھی ہوجائے تو مدت رضاعت میں بچہ کو متاثر نہ ہونے دیا جائے ، ماں برضا ورغبت دودھ پلائے اور باپ پوری دیانت داری سے اس کی کفالت کرے کہ بعد اگر عورت باقاعدہ معاوضہ طلب کرے تو جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ اتنا ہی مانگے جتنا کوئی دوسری عورت لے گی۔ ورنہ پھر باپ کو حق ہوگا کہ بچہ لے کر اسے دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا اہتمام کرے اور اس میں دونوں طرف کے حقوق کی نگہداشت ضروری ہے مثلاً بلا عذر اگر ماں کا انکار کرنا مناسب نہیں تو کسی عذر کی وجہ سے اگر وہ دودھ نہ پلاسکے تو باپ یا مرد کو بھی حق حاصل نہیں کہ اسے مجبور کرے۔ یعنی ایک حسن معاشرت ہے کہ بچہ ، ماں اور باپ تین فریق متاثر ہیں۔ تینوں کی بہتری کو مدنظر رکھا جائے۔ وعلی الوارث مثل ذالک یعنی اگر باپ فوت ہوجائے تو جن کی وراثت پہنچتی ہے وہ لوگ اپنی حیثیت کے مطابق بقدر میراث اس اہتمام کے ذمہ دار ہوں گے۔
امام صاحب (رح) نے یہیں سے ثابت فرمایا ہے کہ جب دودھ پلانے کا اہتمام ان کے ذمہ تو دودھ چھڑانے کے بعد بچے کا خرچہ بلوغت تک وارثوں کے ذمہ ہے کہ محض دودھ پلانا مقصد نہیں مقصد بچے کا گزارہ ہے۔ مثلاً یتیم کا دادا اور اس کی ماں زندہ ہیں تو یہ وارث ہیں۔ ایک تہائی کی ماں اور دو تہائی کا دادا۔ تو اسی نسبت سے بچے کا نفقہ بھی ان کے ذمہ ہے اور ان پر واجب ہے۔ اسی طرح دادا کو حق حاصل ہے کہ یتیم پوتے کے لئے اپنی میراث میں وصیت کر جائے خواہ بیٹوں کے حصہ سے بھی زیادہ کردے۔ کہ اصول وراثت کی رو سے تو وہ میراث نہ پاسکے گا کہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتا وارث نہیں ہوسکتا کہ قریب تر کے ہوتے ہوئے بعید وارث نہیں ہوسکتا تو اس طرح اصول وراثت بھی مجروح نہ ہوا اور پوتا بھی محروم نہ ہوا۔
اب دوسری صورت کہ اگر میاں بیوی آپس میں رضامندی سے دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا چاہیں ، خواہ ماں کی بیماری یا بچے کی صحت وغیرہ کسی بھی وجہ سے تو جائز ہے اور اگر ورہ چاہیں کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلوائیں تو کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ دودھ پلانے والی سے اجرت طے کرلی جائے اور بروقت پوری پوری ادا کردی جائے۔ یہ باہمی رضامندی کی شرط غالباً اس لئے ہے کہ بچے کی بہتری پیش نظر رہے اور والدین کے ذمہ ہے کہ اس کی بہتر پرورش کریں۔ واتقو اللہ یعنی ایک معصوم جان سے کھیلنے کی جرات نہ کرو کہ عورت مرد کو تنگ کرنے کے لئے اور مرد عورت کو پریشان کرنے کے لئے بچے کو نشانہ نہ بنائے کہ عورت بلا عذر دودھ پلانے سے انکار کردے یا مرد بلاوجہ بچہ چھین لے یا اور کوئی اس طرح کی حرکت جو ان کی باہمی چپقلش کی وجہ سے بچے کو متاثر کرے تو ان سب امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے معاملہ احسن طریق پر کرو ، اور یہ یادرکھو کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
اب اسی معاملہ کی ایک اور صورت کہ اگر خاوند مرجائے تو عورت کو چار مہینے اور دس دن عدت کے گزارنے ہوں گے دوران عدت عورت کو خوشبو لگانا ، سنگار کرنا ، سرمہ ، تیل یا مہندی وغیرہ یارنگین لباس استعمال کرنا وغیرہ درست نہیں۔ اسی طرح اس کو جائز نہیں کہ رات کو دوسرے گھر میں رہے اور یہی حال اس عورت کا ہے جس پر طلاق بائن واقع ہوئی ہو بلکہ اپنے گھر سے بدن سخت مجبوری کے دن کو بھی نکلنا درست نہیں اور نہ ہی دوران عدت نکاح ثانی کی بات کرے۔ ہاں بعد عدت اگر نکاح کرنا چاہیں تو شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر شرعاً جائز ہے تو خواہ مخواہ رکاوٹ نہ بنو اور نہ خلاف شریعت کرنے کی اجازت ہی دو ۔ اسی طرح دوران عدت نکاح کا پیغام نہ دو اور نہ وعدہ وعید ہی کرو۔ ہاں ! اگر قاعدے کے مطابق کوئی ایسی بات کہہ دو کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ بعد عدت اگر عورت نے پسند کیا تو میں اس سے شادی کرلوں گا تو جائز ہے مگر وہ بھی کناہتہً اور یہ تو ہرگز نہ کرو کہ خفیہ پیغام دے کر یا ملاقاتیں کرکے شادی کے وعدے کرو۔ دوران عدت یہ سب حرام ہیں۔ ہاں ! بعد عدت شرعی قاعدے کے مطابق کرو اور یادرکھو کہ انسانوں سے تو ممکن ہے تم چھپ کے کرلو۔ اللہ سے نہیں چھپ سکتے وہ تو تمہارے دل کے اندر کی باتوں کو جانتا ہے۔ سو ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور بخشش کی امید رکھو ، اگر کوئی غلطی ہوجائے تو فوراً توبہ کرو کہ وہ غفور ہے اور اگر فوری گرفت نہ ہو تو بےفکر نہ ہوجائو کہ وہ حلیم بھی ہے۔ ہر حال میں اللہ کی اطاعت کو پیش نظر رکھو۔
اسلام کا یہی قاعدہ سب سے زیادہ موثر ہے کہ جہاں حاکم کو نفاذ قانون کا حکم دیتا ہے جہاں تمام مسلمانوں کو قانون سازی کے احترام کے لئے حسب طاقت کوشاں رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہاں ہر فرد کو اس کے اور اللہ کے درمیان تعلقات کو بھی یاد دلاتا چلا جاتا ہے کہ حکومت سے آدمی چھپ بھی سکتا ہے معاشرے کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے مگر اللہ سے تو نہ چھپ سکتا ہے اور نہ اپنے ارادوں کو چھپا سکتا ہے پھر صرف دنیا میں اپنا بھرم نہیں رکھنا ، بلکہ میدان حشر میں اپنا حساب بھی پیش کرنا ہے۔ ان سب امور کو مدنظر رکھ کر معاملات کر سرانجام دو !