Ayahs 2:236–242آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے کچھ نہ کچھ دے جس کے ساتھ نکاح کے بعد خلوت نہیں ہوئی اور نوبت طلاق تک جاپہنچی ہے۔ مگر صد افسوس ! کہ اہل تشیع نے اسے غلط معنی پہنا کر ، عورت کو کچھ دے دلا کر اس سے بدکاری کے معنوں میں استعمال کیا ہے جو مشرکین عرب کی ایک رسم تھی اور جس کا تدارک اسلام نے کیا ۔ انہیں وہی سیاہی اسلام کے نام پر تھونپنے میں اللہ کا خوف بھی نہ آیا۔ حالانکہ لغات القرآن جلد پنجم ص 296 پر یہی لفظ بطور ایں معنی استعمال ہوا ہے کہ جن عورتوں کو قبل دخول طلاق دو اور ان کا مہر مقرر نہ ہو تو انہیں متعہ (یعنی تمتعہ اور معیشت کے لئے کچھ دینا) دینا واجب ہے ۔ یعنی متعہ گزارے کی اس رقم یا تحفے کا نام ہے جو صورت مذکور میں دیا جائے نہ کہ کچھ دے دلا کر بدکاری کی جائے اور اس کا نام ” متعہ “ رکھ دیا جائے۔
اللہ کی کتاب پر کس قدر جرات اور دلیری ہے۔ اعاذنا اللہ ھنھا۔
یہ دینا دلانا قاعدے کے مطابق ہو بالمعروف اس میں کسی طرح کی محض شہرت یا مخفی طور پر کوئی طمع نہ ہو بلکہ معروف طریقے پر اور اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو کہ اچھے اور صاحب خلوص لوگوں یعنی مسلمانوں پر واجب ہے۔
یہاں ہر مسلمان سے محسن یا صاحب احسان ہونے کی توقع کی گئی ہے یا دوسرے لفظوں میں احسان ہی حقیقی ایمان ہے اور احسان یہ ہے کہ انسان کا دل اس کا باطن اللہ کی عظمت کو اپنی حیثیت کے مطابق تسلیم کرے۔
حدیث جبریل میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ احسان یہ ہے کہ۔
ان تعبدو اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔
اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ جرات نہیں ہے تو کمتر درجہ یہ ہے کہ اس یقین کو ہاتھ سے نہ جانے دو کہ اللہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔
یہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لئے اسی باطنی کیفیت کی ضرورت ہے جو اسلام ہر مومن کے دل میں دیکھنا چاہتا ہے اور یہ کیفیات اللہ کے ذکر اور کاملین کی صحبت سے حاصل ہوتی ہیں کہ دلوں کو منور کرنا صحبت ہی کا فیض ہے ورنہ محض الفاظ سے معاملہ عقل وخرد تک رہتا ہے۔ دل صرف کیفیات سے آشنا ہے ، اسے لفظوں کی نہ ضرورت ہے نہ احتیاج۔ کیا جو لوگ گونگے بہرے ہوتے ہیں۔ ان کے دل لذات والم کو محسوس نہیں کرتے ضرور کرتے ہیں ، اگرچہ الفاظ اور ان کے معانی سے ان کے ذہن ناآشنا ہوتے ہیں۔ ہاں ! جب دل ان کیفیات کو پالے تو پھر الفاظ کے معانی اور ان پر عمل سب آسان ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فرائض نبوت میں پہلے تزکیہ اور پھر تعلیم کتاب و حکمت ہے۔ فیض صحبت نے شرف صحابیت بخشا اور جب یہ سلسلہ منقطع ہوا تو کتاب و حکمت تو باقی تھی مگر درجہ صحابیت کوئی نہ پاسکا۔ ہاں ! صحابہ کی صحبت میں تابعی اور ان کے فیض صحبت سے تبع تابعین کے مدارج ضرور تقسیم ہوئے۔ یہی فیض صحبت سینہ پسینہ منتقل ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اسی کے امین اہل اللہ کہلاتے ہیں اور حسن اسلام کے لئے ان کی صحبت شرط ہے۔
اب دوسری صورت کہ اگر مہر مقرر تھا اور قبل دخول طلاق ہوگئی تو نصف مہر ادا کرنا واجب ہوگا ، اور نصف معاف ، ہاں ! اگر عورت ہی اپنی مرضی سے سارا معاف کردے تو پھر کچھ بھی واجب نہ رہا۔ وہ جس کے ہاتھ نکاح کا تعلق لینی نکاح کو باقی رکھنے کا اختیار ہے ، یعنی خاوند معاف کردے کہ جو نصف شرعاً اسے معاف تھا حسن سلوک کرتے ہوئے وہ بھی دے دے اور اپنا حق چھوڑ دے تو پھر پورا دینا درست ہوگا۔ اور بہتر صورت یہی ہے کہ حسن سلوک کرتے ہوئے معاف کردو۔ جو بھی اپنا حصہ معاف کرے گا مرد یا عورت وہی نیکی حاصل کرے گا۔ کہ نیکی اقرب للتقویٰ ہے۔
اللہ کریم کے لئے دوسروں سے بھلائی کرنا ہی اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ آپس میں احسان کرنا فراموش نہ کردو ۔ نکاح قائم رہے یا نہ رہے تو یہ ضرور یادرکھو کہ تم دونوں مسلمان ہوا اور مسلمان کا مسلمان پر حق ہے ، اس رشتے کو مت بھولو۔ ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور رعایت کرو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور تمہارا ہر فعل یا نافرمانی ہے یا فرمانبرداری۔ نافرمانی مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔ ہر آن اطاعت کرو کہ اطاعت ہی کا نام عبادت ہے اور اس کیفیت وحالت کو قائم رکھنے کے لئے فرائض کا خاص خیال رکھو۔
حقوق العباد کی حفاظت کے لئے خوف خدا ضروری ہے اور خوف خدا اس میں کہاں جو حقوق اللہ ہی ادا نہیں کرتا اللہ کریم سے اپنا تعلق استوار کرنے کے لئے تمام نمازوں کی حفاظت کرو یعنی پوری کوشش سے ادا کرو۔
حفاظت سے مراد ہے کہ اس کا کوئی ادنیٰ سا رکن بھی ضائع نہ ہونے پائے وقت کا لحاظ ، لباس کا خیال ، وضوکا اہتمام جماعت کی کوشش ، یہ سب چیزیں محافظت صلوٰۃ میں داخل ہیں یعنی نماز ادا نہ کرنا تو دور کی بات ہے۔ نماز کی حفاظت کرو کہ مستحبات بھی فوت نہ ہونے پائیں۔ خصوصاً درمیان کی نماز کی۔ جسے بقول اکثر عصر کی نماز کہا گیا ہے کہ اس کے دونوں جانب دن کی ابتداء اور اس کا اختتام ہے اور دو دو نمازیں۔ یہ تاکید غالباً اس لئے ہے کہ عصر کا وقت سب کے لئے مصروفیت کا ہے دفاتر سے لے کر چرواہوں تک گھر جانے کی تیاری میں لگے ہوتے ہیں۔ مزدور اور دکاندار دن بھر کا کام سمیٹنے میں ، خواتین رات کے کھانے کی تیاری میں یعنی اکثریت کے لئے مصروفیت کا وقت ہے اگر اس وقت کی نماز بروقت اپنی شرائط کے ساتھ ادا کی گئی ہو تو باقی انشاء اللہ اس سے آسان ہوں گی۔ نہایت سکون اور اطمینان سے نماز ادا کریں کہ اس سے غرض صرف ادائے فرض نہیں بلکہ ان کیفیات کا حصول ہے جو اللہ سے تعلق استوار کرتی ہیں۔
نماز صرف عبادت ہی نہیں بلکہ روح کی غذا بھی ہے ، دوا بھی۔ یہ دونوں چیزیں خالص ہونا ضروری ہیں اور ان کی سخت حفاظت کی جاتی ہے۔ اور اگر خطرہ ہو یا تم میدان جنگ میں ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر سوار ہی نماز ادا کرلو ، چھوڑو نہیں ، حفاظت کرو۔ علماء کا ارشاد ہے کہ ایک جگہ کھڑے ہو کر پڑھ سکے تو درست ورنہ قضا کرلے اور کھڑے کھڑے ادا کرے تو سجدے کا اشارہ رکوع سے زیادہ پست کرے۔ مقصد یہ کہ امکانی حد تک نماز کو اس کے وقت مقرر پر اس کی پوری شرائط سے ادا کرے کہ اسی سے اس کو اللہ کی اطاعت کی توفیق بھی ارزاں ہوگی۔
وصیت کا حکم :
یہ حکم تعین میراث سے قبل کے لئے تھا۔ جب آیہ میراث نازل ہوئی اور عورت کا حصہ مقرر ہوگیا تو پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ آیہ میراث کے نزول سے قبل چونکہ حق کا مدار صرف مرنے والے کی نیت پر تھا۔ سو حکم ہوا کہ وصیت میں بیوی کو بھلایا نہ جائے بلکہ اگر وہ اپنی مرضی سے رہنا چاہے تو خاوند کا حق ہے کہ وہ وصیت کر جائے تو سال بھر وہ اس کے گھر میں اس کے ترکہ سے نان نفقہ لے کر رہ سکے۔ ہاں ! اگر اپنی مرضی سے بعد عدت نکاح کرلے ، شرعی قاعدے کے مطابق یا مرنے والے کا گھر چھوڑ دے تو پھر ورثاء پر کوئی گناہ نہیں کہ یہ عورت کا حق تھا۔ اگر وہ اپنی مرضی سے چھوڑ دے تو ٹھیک ہے لیکن معروف ہو شریعت کے مطابق ۔ اگر کوئی خلاف شریعت کرنا چاہے مثلاً عدت کے دوران نکاح کرنا چاہے یا اور کوئی ایسی حرکت جو شرعاً جائز نہ ہو تو روکنا اور منع کرنا واجب ہے اور جو طاقت رکھتے ہوئے نہ روکے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ اس کا جواب دینا ہوگا۔
للمطلقت متاع بالمعروف۔ یعنی ان جملہ احکام سے مراد مطلقہ عورتوں کو مناسب گزارہ دینا اور بڑی حد تک دلجوئی اور عزت نفس کی حفاظت ہے۔ یہ متعہ سے مستفاد ہے کہ بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان ان کے حقوق ہیں انہیں پامال نہ ہونے دیا جائے اور مطلقہ کو محض دھتکاری ہوئی عورت شمار نہ کیا جائے جیسا کہ ہمارے ہاں ہندوئوں سے متاثر ہو کر رواج پا گیا ہے اور لفظ متعہ ان عورتوں کو کچھ دینے کے لئے استعمال ہوا جن کے ساتھ نکاح تو ہمیشہ ساتھ رکھنے کی غرض سے ہوا تھا مگر بعض حالات نے جدائی کی صورت پیدا کردی نہ یہ کہ ایک مقررہ وقت کے لئے کچھ دے کر نکاح کرلیا۔ اور میعاد پوری ہونے پر وہ خود بخود ختم ہوگیا پھر نہ گواہ کی ضرورت نہ شاہد کی۔
یہ سب صورتیں شرعاً باطل ہیں اور متعہ سے یہ مراد لینا تحریف قرآن ہے اور یہ سب کچھ کرنا و اجب ہے اللہ کے نیک بندوں پر ، اللہ کے ماننے والوں پر ، خدا کا خوف رکھنے والوں پر کہ اللہ اپنے احکام اسی لئے بیان فرماتا ہے کہ تمہیں زندہ رہنے کا سلیقہ آجائے۔ تم دنیا میں بھی باعزت زندگی گزار سکو ، تم عقل پاسکو اور سمجھ سکو ، تمہارا معاشرہ مثالی معاشرہ بن سکے۔
Ayahs 2:243–248آیات 243- 248
اسرارو معارف
الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ کی روایت اور دیکھنے کے مصداق ہے جس میں شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
واقعات گزشتہ کشفاً دیکھے جاسکتے ہیں :
حدیث معراج میں ملتا ہے کہ جب کفار نے بیت المقدس کی عمارت کے بارے میں سوال کئے تو اللہ نے عمارت آپ ﷺ کے سامنے کردی۔ جسے حضور ﷺ دیکھتے جاتے تھے اور جواب ارشاد فرماتے جاتے تھے۔
یہاں بھی اگر دل کی رویت مراد ہو تو درست ہے جیسے صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے حی رویۃ القلب لارویۃ البصر……، تو یا ثابت ہوتا ہے کہ اللہ چاہے تو گزشتہ واقعات کو بھی دل کی آنکھ سے اسی طرح دیکھا جاسکتا ہے جیسے وہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہوں۔
یہ لوگ وباء کے خوف سے آبادی چھوڑ کر باہر میدان میں نکل گئے الوف جمع کثرت ہے جو کم از کم دس ہزار کی تعدا کے لئے ہے ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہوں کہ روایات مختلف ہیں تو ظاہر ہے کہ باہمت لوگ ہی نکلے ہوں گے بیمار ، کمزور ، بوڑھے اور غرباء تو اکثر رہ گئے ہوں گے۔ تو اللہ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ سو ارشاد ہوا کہ مرجائو اور وہ مرگئے اپنی طرف سے تو جان بچانے کو نکلے تھے مگر تدبیر انسانی کی قوت دیکھ لو ، کچھ نہ کر پائی اور الٹا تباہی کا سبب بن گئی۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر وباء پھیل جائے تو وہاں سے مت بھاگو اور اگر تم وہاں سے باہر ہو تو پھر وہاں مت جائو۔ اس مفہوم کی متعدد احادیث موجود ہیں۔ اس کی اصل بھی یہی ہے کہ زندگی اور موت کے اختیار میں ہے ، وہ قادر ہے ، بیماری سے بچا سکتا ہے۔ بغیر کسی مرض کے بھی موت دے سکتا ہے بستی والوں کے لئے مناسب نہیں کہ بھاگ کھڑے ہوں اور اگر کوئی باہر ہو یا محفوظ مقام پر ہو تو خواہ مخواہ وہاں جانے کی کوشش نہ کرے۔
روایات میں ملتا ہے کہ اللہ نے اس وادی پر فرشتہ مقرر فرمایا جس نے انہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا کہ مرجائو ، اور دفعتاً سب کے سب مرگئے بلکہ تمام جانور اور مویشی جو ساتھ تھے وہ بھی مرگئے۔ جب ارد گرد کے لوگوں نے سنا تو جمع ہوئے مگر اس قدر افراد کا کفن دفن آسان نہ تھا۔ انہوں نے ان کے گرد دیوار بنادی ، جس میں پڑے گلے سڑتے رہے۔ بعد مدت بنی اسرائیل کے نبی حضرت حز قیل (علیہ السلام) کا گزر ہوا۔ انسانی ہڈیوں کے انبار دیکھ کر دعا کہ کہ اے اللہ ! انہیں معاف فرما دے اور انہیں زندگی عطا کر ، حکم ہوا کہ انہیں فرمائیے کہ بحکم الٰہی زندہ ہوجائو۔
انہوں نے کہا تو سب بیک وقت زندہ ہوگئے۔ اللہ کی ثناء بیان کرتے تھے اور کہتے تھے سبحنک لا الہ الا انت۔ اور پھر اپنی طبعی زندگی پوری کرکے فوت ہوئے کہ ان کی یہ موت غیر طبعی تھی اس لئے وہ نہ دنیا میں رہے نہ آخرت ، ان پر منکشف ہوئی۔ کہ آخرت کے منکشف ہونے کے بعد دنیا میں زندگی نہیں ہے اور نہ ایمان معتبر نہ عبادت۔ نیز اگر عمر طبعی پوری کرکے مرتے تو بطور اعجاز زندہ تو ہوجاتے مگر دنیا میں رہنے بسنے کی مہلت نہ دیئے جاتے۔ لیکن اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ پر بطور دلیل پیش فرمانا تھا کہ لوگوں کو عبرت ہو اور آخرت کو جی اٹھنے پر یقین کریں۔
برزخ کا عذاب وثواب :
نیز یہ سوال بھی رفع ہوجائے کہ پس مرگ تو اجزاء پریشان ہوجائیں گے وہ کیسے دوبارہ اکٹھے ہوسکتے ہیں یا جیسے آج کل ایک نیا طبقہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ مرنے والے کے اجزاء پریشان ہوگئے کوئی جل گیا کسی کو جانوروں نے کھالیا اور کوئی خاک پریشان ہو کر زمین پر منتشر ہوگیا۔ اب جب تک قیامت قائم ہو کر دوبارہ زندہ نہ ہوں۔ انہیں عذاب یا ثواب کیسے ہوسکتا ہے ؟
افسوس ! لوگوں نے قدرت باری کو اپنے اوپر قیاس کررکھا ہے ورنہ تو قبل پیدائش کیا یہ کم منتشر تھے۔ تمام اغذیہ وادویہ جو انسان کھاتا پیتا ہے کیا یہ سب اجزائے خاکی نہیں ہیں۔ دودھ ہو یا مکھن ، غلہ ہو یا سبزیاں سب مٹی کے مختلف روپ ہیں۔ جو دنیا کے مختلف کونوں سے کھنچے چلے آتے ہیں اور ہر ذرہ اسی وجود تک پہنچتا ہے جس کے لئے اللہ نے اسے مقرر کررکھا ہے۔ باپ کے پیٹ میں پہنچ کر صلب میں محفوظ رہتا ہے اور ماں کے شکم میں جاکر علیحدہ وجود بننا شروع ہوتا ہے۔ غذاء ماں کھاتی ہے مگر بچے کے اجزاء الگ ہو کر اسی کا جزو بدن بنتے ہیں۔
اسی طرح پس مرگ اگر پریشان بھی ہوجائیں تو ان کا ربط روح کے ساتھ رہتا ہے اور روح کی لذت یا الم سے متاثر ہوتے اور حصہ پاتے ہیں۔ اللہ قادر ہے کہ وہ ذرات کسی جانور کے پیٹ میں پہنچ جائیں تو بھی انہیں عذاب کرے یا راحت دے اور جانور کو اس کا علم تک نہ ہو۔ نیز اللہ کے سامنے ساری مخلوق کی گردن خم ہے۔ یہاں بوسیدہ ہڈیوں اور منتشر اجزاء نے نبی ﷺ کی زبانی اللہ کا حکم سنا تو سب جمع ہوگئے۔ اللہ تو لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے کہ ان کو عذاب کی گرفت سے نجات دی اور دوسروں کے لئے کتنی بڑی دلیل قیام قیامت پر قائم فرمادی۔ اس کے باوجود اکثر ایسے ہیں جو ناشکری کرتے ہیں اور اطاعت الٰہی میں کوتاہی کرتے ہیں۔ محض طرز حیات کو اسلامی بنانے پہ یہ عذر نہ رکھو۔ بلکہ اللہ کی راہ میں لڑو بغیر کسی ہچکچاہٹ اور جھجک کے کہ زندگی اور موت اسی کے دست قدرت میں ہے اور ہر بات کو سننے والا اور ہر شے کو جاننے والا ہے ۔
اللہ ضرورت سے پاک ہے اور احتیاج سے منزہ ہے اس کے باوجود تمہاری اطاعت ایک بہترین قرض ہے جو اللہ نے اپنے ذمہ کرلیا ہے چونکہ قرض کی واپسی ضروری ہوتی ہے۔ تمہاری عبادت کا اجر اور اطاعت کا ثواب بھی تمہیں ضرور لوٹایا جائے گا اور اللہ اپنی شان کے مطابق لوٹائے گا کہ اللہ سینکڑوں اور لاکھوں گنا بڑھا کر واپس کرے اور جس قدر خلوص کسی اطاعت میں ہوگا اسی قدر وہ اپنے اجر میں بڑھ جائے گی کہ نعمتوں کو بڑھانا یا کم کرنا اسی کے دست قدرت میں ہے اور تم سب کو لوٹ کر اسی کی بارگاہ میں جانا بھی ہے۔ یعنی اپنی رسومات اللہ کے قانون پر قربان کردو۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال اور جان تک پیش کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔
ایک انصاری صحابی ؓ نے یہ آیہ کریمہ سنی تو حاضر خدمت ہو کر عرض کی ، یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے اپنا ایک باغ جس میں کھجوروں کے چھ سو درخت ہیں اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ تمہیں اس کے بدلے میں جنت عطا فرمائیں گے۔
واپس آئے تو بیوی کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آئو۔ میں نے اللہ کو قرض حسنہ دے دیا تو وہ بھی سن کر باغ باغ ہوگئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، کم من خذق رواح ودارفیھاح لا بی الدحاح۔ کہ کس قدر کھجوروں سے پر باغ اور کشادہ محلات ابی الدحاح ؓ کے لئے ہیں۔
اسی طرح کا دوسراواقعہ ارشاد ہوتا ہے جس سے مراد ہے کہ زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ہی بسر کرنا عزت کا باعث بھی ہے اور سکون کا بھی۔
تبرکات :
آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کو نہیں دیکھا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد چندے اطاعت کی اور پھر رفتہ رفتہ احکام الٰہی کو چھوڑ دیا۔ جدید تہذیب بنالی اور قدامت سے جان چھڑالی ، جیسے آج کل کا رواج ہوتا جارہا ہے اللہ نے ان پر کفار کو مسلط کردیا۔ یہ عمالقہ تھے جنہوں نے ان کے شہر چھین لئے ، بیشمار افراد کو قیدی بنالیا اور تابوت سکینہ ایک صندوق جس میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات اور تورات کی ٹوٹی ہوئی تختیاں وغیرہ تھیں جو ان کے لئے باعث تسکین اور باعث نزول رحمت ہوا کرتا تھا ، چھین کرلے گئے۔ انبیائ (علیہ السلام) اور بزرگوں کے تبرکات اہل ایمان کے لئے باعث نزول برکت ہوتے ہیں اور نااہلوں کو ان سے محروم کردیا جاتا ہے جیسے آج کل کے جدید تہذیب کے دلدادہ مسلمان سے قبلہ اول چھن گیا ہے۔ اللہ ہمیں کعبۃ اللہ سے محروم نہ فرمائیں اور توبہ کی توفیق دیں اور ہمارے گناہ معاف فرما کر قبلہ اول کو واپس حاصل کرنے کی ہمت دیں ، آمین۔
علامہ ابن کثیر (رح) نے یہاں ایک حدیث نقل کی ہے۔ کہ اللہ ایک سچے مسلمان کی صلاحیت کی وجہ سے اس کی اولاد کی اولاد کو ، اس کے گھر والوں کو اور آس پاس کے گھر والوں کو سنوار دیتا ہے۔ نیز ایک اور حدیث نقل کی ہے کہ قیامت تک ہر زمانہ میں سات شخص تم میں ضرور ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں روزی دی جائے گی اور تم پر بارش برسائی جائے گی۔ اسی طرح ایک اور روایت میں تیس ابدالوں کا ذکر ہے۔
غرض اہل اللہ کا نہ صرف وجود باعث برکت ہوتا ہے بلکہ ان کا لباس اور ان کے جوتے تک باعث برکت ہوتے ہیں ، لیکن صرف ان کے لئے جن کا ایمان اور عمل درست ہو اور اللہ کے بندوں سے اللہ کی معرفت کے طالب ہوں۔ نہ ان کے لئے جو انہیں اللہ کے اوصاف میں شریک مان لے ، ایسوں کے دونوں جہاں برباد ہوئے۔
عرصہ بعد ان میں ایک بچہ پیدا ہوا جو خاندان نبوت سے تھا اور لڑائی کے بعد خاندان نبوت کی ایک بی بی حاملہ بچ گئی تھی انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں کہ اللہ ! مجھے لڑکا دے اور اسے نبی بنا ، جب لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام شموئیل رکھا جس کا معنی ہے میری دعا قبول ہوئی (مظہری) جب وہ بڑا ہو کر نبی مبعوث ہوا تو قوم سے فرمایا ،
” اللہ کی اطاعت کرو ، اور کفار سے مقابلہ کرو ! “
تو کہنے لگے ، ہم پر کسی کو بادشاہ مقرر فرمادیجئے ، جس کی قیادت میں ہم لڑسکیں اور کفار سے جہاد کریں۔ انہوں نے فرمایا ، تم سے کچھ امید نظر نہیں آتی ، ممکن ہے جہاد کے حکم پر عمل نہ کرسکو۔
تو کہنے لگے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے شہر چھن گئے ، ہمارے لڑکے قید ہوگئے ، گھر برباد ہوئے اور ذلت الگ نصیب ہوئی۔ اس کے بعد اگر اللہ ہمیں ایک مضبوط حکومت دے تو ہم ایسے کافروں سے کیوں نہ لڑیں گے۔
لیکن ہوا وہی ، جس کا ڈر تھا کہ جب جہاد کا حکم ہوا تو اکثر بھاگ گئے اور حیلوں حوالوں سے جان چھڑانے لگے اس وقت قاعدہ یہ تھا کہ نبی الگ ہوتے تھے اور بادشاہ نبی کی اطاعت میں حکومت کا کام چلاتے تھے۔ سو اللہ کے حکم سے انہوں نے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا۔ یہ بن یامین کی اولاد میں سے تھے اور پہلے حکومت یہودا کے خاندان میں آرہی تھی جو امیر بھی تھے تو کہنے لگے ” یہ کیسے بادشاہ ہوسکتا ہے حکومت تو ہمارا حق ہے اور پھر اس کی تو مالی حیثیت بھی نہیں ! “
اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اسے اللہ نے چن لیا ہے ، اللہ کی مرضی جسے چاہے حکومت دے اور پھر یہ شخص علم میں اور وجاہت ذاتی میں تم سے بہت بڑھا ہوا ہے اللہ نے اسے علم سے نوازا ہے یہ سیاست وحکمرانی اللہ کے قانون کے مطابق کرسکتا ہے اور پھر وجیہہ وخوبصورت جوان ہے۔
پتہ چلتا ہے کہ حکمران کو دین کا علم ہونا چاہیے یا ایسے صاحب علم لوگوں کا ساتھ جو ہر مرحلہ پر رہنمائی کرسکیں اور سیاست وحکمرانی اللہ کے حکم کے مطابق ہو نیز صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن بھی رکھتے ہیں کہ حکمران بعض بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے بھی کاروبار سلطنت خراب کربیٹھتے ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک اللہ کا ہے جسے چاہے بخش دے اور تمہارا اعتراض بےجا ہے کہ وہ حکومت کی استعداد نہیں رکھتا۔ اللہ جب ذمہ داری دیتا ہے تو استعداد بھی عطا فرمادیتا ہے۔
منصب کی اہلیت :
اہل اللہ میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مناصب یا تو ان صاحب حال لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں جو عالم ہوں اور اگر علم ظاہر نہ رکھتے ہوں اور منصب نصیب ہوجائے تو پھر علم لدنی عطا کردیا جاتا ہے اور بڑے بڑے فضلا پھر ان سے علمی استفادہ بھی کرتے ہیں۔ صوفیاء میں ہمیں بہت سے اسمائے گرامی نظر آتے ہیں ، ان سب پر اللہ کی رحمت ہو۔
کہنے لگے ” آپ کا ارشاد بجا ! لیکن اگر کوئی ظاہری نشان بھی نصیب ہو تو تسلی ہوجائے “۔
فرمایا اس کے بادشاہ ہونے کی دلیل کے طور پر تمہیں وہ تابوت سکینہ ، جس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہم السلام) کی بچی ہوئی چیزیں لباس اور جوتے وغیرہ ، نیز عصائے موسوی ، تورات کی تختیوں کے ٹکڑے ، غالباً یہ وہ تختیاں ہوں گی جو طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں ، موجود ہیں بغیر کسی محنت کے مل جائے گا اور اسے فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔
چنانچہ اللہ نے عمالقہ پر مصیبت بھیج دی کہ جس بت خانے میں صندوق رکھتے ، بت تباہ ہوجاتے۔ اور جس شہر یا گھر میں رکھتے وہ برباد ہوجاتا۔ انہوں نے کسی جانور پر لاد کر جنگل کو بھگا دیا۔ جسے فرشتے ہنکاکر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے۔
Ayahs 2:249–253آیات 249- 253
اسرارو معارف
فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔
اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔
اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کییس کرسکیں گے۔ جالوت عمالقہ کے حکمران کا نا م تھا جو بہت خود سر اور سخت مزاج تھا اور ایک بڑا لشکر اس کے پاس تھا۔ مگر ان میں بھی جو اخص الخواص اور اکمل تھے کہنے لگے۔ کہ فتح وشکست اللہ کے ہاتھ ہے کتنی کم تعداد جماعتوں کے حالات تاریخ میں محفوظ ہیں جو اپنے سے بڑے لشکروں پر فتحیاب ہوئیں۔
لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ ناقص ، جو پانی پر بھی صبر نہ کرسکے اور پیچھے رہ گئے ، کامل جو دنیاوی نعمتوں پر صبر کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اکمل جو ان کے لئے بھی ثابت قدمی کا سبب بنے۔
جب جالوت کے لشکر کے مقابل ہوئے تو اللہ سے دعا کی کہ ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمارے دلوں پر اپنی طرف سے صبر اور استقامت کی قوت نازل فرما ! نیز ہمیں کفار پر فتح دے اور یہی توکل ہے کہ اللہ سے دعا بھی کرے ، اسباب ظاہر ی پوری کوشش سے اختیار کرے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردے جو اللہ کی طرف سے ہو اس پر راضی رہے۔
چنانچہ حضرت دائو د (علیہ السلام) نے ، جو اس وقت نو عمر تھے اور کمزور اور زرد رو تھے اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کرکے اس کا غرور خاک میں ملادیا۔ طالوت نے انہیں بیٹی کا رشتہ بھی دیا اور پھر سلطنت بھی انہی کو منتقل ہوگئی اور اللہ نے نبوت سے سرفراز فرما دیا اور جس قدر حاصل کرتے اور حکومت اللہ کے لئے کرتے تھے تمام جانوروں کی زبان سمجھتے تھے۔ اللہ نے زبان میں سوزرکھا پہاڑ اور درخت ان کے ساتھ مل کر ذکر کرتے تھے جسے ذکر حال نہ سمجھا جائے کہ وہ تو ہر شے اللہ کا ذ کہ ہمہ وقت کررہی ہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کی خصوصیت تو یہ تھی کہ پہاڑ اور چٹانیں زبان قال سے ان کے ساتھ مل کر اللہ کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ اللہ ہمیشہ بدی کا نیکی سے اور بدکاروں کا نیکوکاروں سے رد فرماتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جہان والوں پر کرم اور اللہ تو ہے عالمین پر کرم فرمانے والا۔
یہ سب احوال اللہ کی طرف سے آپ ﷺ پر بیان ہوتے ہیں اور بالکل درست اور صحیح۔ جبکہ آپ ﷺ نے نہ کسی سے پڑھا ، نہ سنا۔ تو یہ آپ ﷺ کی رسالت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے جہاں ان میں ترغیب وترہیب ہے وہاں ان کا بیان آپ ﷺ کا ایک بہت بڑا معجزہ بھی ہے اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد نوع انسانی کو آپ ﷺ کی اطاعت یا پھر اللہ کی گرفت ، دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض…………ولکن اللہ یفعل مارید۔
پارہ دوم نبی کریم ﷺ کی رسالت ونبوت کے اثبات کے موضوع پر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے احوال اس صحت کے ساتھ بیان کرنا حضور ﷺ کی نبوت کی دلیل قرار دیا۔ کہ آپ ﷺ نے نہ کسی مکتب ومدرسہ میں تعلیم حاصل کی ، نہ کسی راہب وعالم سے کچھ سیکھا ، نہ آپ ﷺ نے کسی قصہ گو کی مجلس اختیار فرمائی اور نہ عوامی میلوں میں کبھی شرکت فرمائی بلکہ ایسے معاشرے میں جس میں تعلیم و تعلم کا سرے سے کوئی اہتمام ہی نہیں ، بحالت یتیمی پرورش پائی اور پھر آپ ﷺ کا بچپن بھی سادگی ، سنجیدگی وصداقت ، شرم وحیا اور تنہائی کے لمحات پر محیط ہے ایسے شخص کا جس کی عمر عزیز چالیس سال سے متجاوز ہورہی ہے اور یہ چالیس برس صداقتوں کے سنگ میل ہیں اعلان فرمانا کہ اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے سراسر حق ہے کہ جس ہستی نے اتنی عمر میں کسی انسان پر بھی جھوٹ نہ بولا ہو ، وہ یکایک اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے اور پھر اس کے ساتھ وہ حقائق پوری صحت کے ساتھ بیان فرمانا جنہیں سابقہ امتوں کے علماء بھی صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے بیشک آپ ﷺ کی رسالت کی دلیل ہے۔
اس کے بعد انبیاء ورسل ﷺ کی فضیلت اور ان کا اعلیٰ مقام اور ان کی عظمت ارشاد فرما کر پھر آپ ﷺ کی عظمت کو جملہ انبیاء ورسل پر ارشاد فرمایا :
یہ اللہ کے رسولوں کی مقدس جماعت ہے۔ رسالت بجائے خود بہت بڑا مرتبہ ہے کہ نبی یا رسول ہی ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو براہ راست ذات باری سے اخذ فیض کرتا ہے باقی مخلوق اس استعداد سے محروم ہے اور ساری مخلوق کے لئے انتہائی کمال یہ ہے کہ اپنے نبی یا رسول سے ایسی نسبت حاصل ہوجائے کہ وہ اس کی وساطت سے فیوضات باری پاسکے۔
انبیاء ورسل معصوم عن الخطا ہوتے ہیں کہ براہ راست ذات باری سے حصول فیض کے لئے عصمت شرط ہے اس لئے اگر کسی نے حضور ﷺ کے بعد بھی کسی انسان کو معصوم مانا تو گویا وہ آپ ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کا قائل ہے اور یہ کفر ہے کیونکہ نبوت و رسالت آپ ﷺ کی ذات والا صفات پر ختم ہے۔ اب قیامت تک یہی امت ہے یہی کتاب اور یہی دین رہے گا حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے نزول کے بعد اپنی کتاب یا شریعت پر عمل نہ فرمائیں گے بلکہ خود شریعت محمدی ﷺ کے تابع ہوں گے اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم وتلقین فرمائیں گے۔
انبیاء ورسل اگرچہ نبوت میں سب شریک ہیں مگر عنداللہ قرب میں اور آخرت کے ثواب میں اپنے اپنے مدارج ہیں جس میں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ انبیاء کے درمیان تفصیل نہ کیا کرو۔ اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کام اپنی رائے سے مت کرو ، کسی انسان کے بس کا نہیں۔ ہاں ! اگر کتاب اللہ یا حدیث پاک سے ثابت ہو تو پھر اس پر ایمان رکھنا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وصف نبوت میں سب برابر ہیں۔ فرق صرف مراتب قرب الٰہی میں ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ارشاد فرماسکتا ہے یا اللہ کے حکم سے اللہ کا رسول بتا سکتا ہے۔
اہل اللہ کی باہم دگر فضیلت :
نیز ایسی فضیلت کسی حال نہ دی جائے جس میں دوسرے نبی کی کسر شان ہو کر سب اعلیٰ اور اچھے ہیں پھر بعض اچھوں میں بھی بہت اچھے ہیں اور یہی طریقہ اہل اللہ کی ذوات سے بھی روارکھنا چاہیے کہ ولایت کا تعلق بندے اور اللہ کے بین ہے۔ اللہ ہی جانے کہ کون زیادہ مقبول ہے ، ہاں حالات وواقعات بیان کرنے میں حرج نہیں مگر اس احتیاط سے کہ کسی ایک کے ذکر سے دوسرے ولی اللہ کی توہین کا پہلو نہ نکلتا ہو۔
اب بعض فضائل کا ذکر ہے کہ کوئی براہ راست اللہ سے ہمکلام ہوا ، کسی کو اس سے بھی زیادہ مراتب نصیب ہوئے ، جیسے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر وحی کے واسطے کے اللہ سے شرف ہمکلامی نصیب ہوا۔ اللہ جس کو نبوت کے لئے چن لیتا ہے اسے عصمت عطا فرماتا ہے نوع انسانی سے ہونا جملہ انسانی حاجات و ضروریات کے ساتھ ، اور زندگی کے جملہ تقاضوں کو مختلف بھلے برے معاشرے میں رہ کر پورا کرنا اور پھر ایسی دیانت ، امانت ، صداقت اور شرافت سے پورا کرنا کہ زندگی بھر کبھی گناہ یا معصیت سرزد نہ ہو۔ معصوم عن الخطا ہے۔ یہ صرف اور صرف نبی کا شان اور مقام ہے غیر نبی کو نصیب نہیں۔ یہ رفعت انہیں حاصل ہے جن پر وحی نازل ہوئی۔ اب جس ہستی کو وحی کے بغیر براہ راست اللہ سے شرف ہمکلامی نصیب ہوا اس کی شان کتنی بلند اور اس کی پاکیزگی ونفاست کس قدر اعلیٰ وارفع ہوگی ، سبحان اللہ !۔
فرمایا بعض کے درجات اس سے بھی بہت بلند ہیں جس سے مفسرین کرام کے نزدیک آقائے نامدار ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے کہ وہاں رف ہمکلامی ہے مگر بلا حجاب نہیں اور پھر زمین ہی کے ایک حصہ پر یہ دولت نصیب ہوتی ہے مگر آپائے نامدار ﷺ آسمانوں سے اوپر تشریف لے گئے۔ کروڑوں ، اربوں حجابات سے بالا ، جہاں شرف ہمکلامی سے مشرف ہوئے کہ ارشاد ہوتا ہے۔ فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ جب یہ کلام ہورہا تھا تو حامل وحی سدرۃ المنتہیٰ پہ منتظر تھے جو بہت نیچے ساتویں آسمان کے آخر پہ ایک مقام ہے اور حضور ﷺ اس سے بہت اوپر ، بہت آگے جہاں اللہ نے چاہا تشریف رکھتے تھے پھر تجلیات باری سے بھی سیراب ہو رہے تھے کہ یہاں طور پر دیدار جمال کا تقاضا ہوا تو فرمایا لن ترانی کہ برداشت نہ کر پائو گے اور پھر واقعی جب کوئی ذرہ تجلی ذاتی کا جلوہ گر ہوا تو نہ طور برداشت کرپایا اور نہ اللہ کا رسول ہوش میں رہا۔
یہاں بھی علمائے کرام کی دو آراء ہیں بعض کے نزدیک دیدار باری نہیں ہو اور بعض کے نزدیک ہوا۔ کہ نہ ہونا تو دنیا میں ہے ، دنیا اور یہاں کی زندگی میں انسانی قوت برداشت ایسی نہیں کہ دیدار کرسکے۔ مگر آخرت میں نگاہ اور دل دونوں کو وہ قوت عطا ہوگی کہ مومن اپنے رب کا دیدار کرسکیں گے اور یہ بات تو بالائے عرش کی ہے۔
دیدار باری :
جب وجود مادی جو مادہ سے صورت پذیر ہے مگر اس قدر شفاف ، اس قدر پاکیزہ ، اس قدر لطائف سے پر ہے کہ بالائے عرش جہاں پہنچنے کو روحیں ترستی ہیں وہاں تشریف لے جاسکتا ہے وہاں جب جنت و دوزخ کا ملاحظہ فرمای جانا مذکور ہے براہ راست ہم کلام ہونا مذکور ہے تو دیدار سے مشرف ہونے میں کوئی شے مانع نہیں بلکہ اللہ کا یہ فرمان ماذاغ البصر وما طغیٰ بجائے خوددیدار باری کی دلیل ہے کہ اگر جمال باری کا دیدار نہیں ہوا تو پھر آنکھ کس چیز سے نہیں بھٹکی۔ میری ناقص رائے میں سب سے قریب تر جو ذاتی تجلی تھی وہ صرف حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمائی اور دیدار باری سے مراد بھی یہی ہے کہ تجلیات ذاتی کا دیدار ہوا ورنہ ذات باری تو مخلوق کی رسائی سے بالاتر ہے۔ اگر کوئی ایک آنکھ ہی سہی جب وہ اللہ کو سما سکے تو وجود باری محدود قرار پائے گا۔ جو باطل ہے اللہ حدود سے بالاتر ہے۔
اس کے دیدار سے مراد قریب ترین ذاتی تجلی جہاں تک مخلوق کی رسائی ہوسکی وہ حضور ﷺ نے مشاہدہ فرمائی یہ تجلی نہ عین ذات ہے اور نہ ذات سے جدا ہے اور اس کی فضیلت میں بھی بدستور ترقی ہوتی رہے گی اور قریب سے قریب تر تجلیات کا دیدار نصیب ہوگا کہ دیدار باری کے مختلف مدارج بلحاظ افراد کے ہوں گے ، بلحاظ مقامات کے ہوں گے اور بلحاظ اوقات کے ہوں گے جیسا کہ جنت میں سب جنتی دیدار باری سے ضرور مشرف ہوں گے مگر اپنے اپنے درجے کے مطابق۔ ایسے ہی بلحاظ فرد اور بلحاظ مقام سب پر آقائے نامدار ﷺ کی ذات گرامی کو فضیلت حاصل ہے۔
ایسے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات عطا فرمائے کہ بیماروں کو اچھا کرنا ، مادر زادہ اندھوں کو بینا کرنا اور کوڑھ کے مریضوں کو تندرست کردینا ، مٹی کا پرندہ بناکر اس میں دم کرنا اور اس کا زندہ ہونا ، مردوں کو زندہ کرنا آپ کے معجزات میں سے تھا ، اور آپ پر آسمان سے خون اتارا گیا تھا۔ نیز یہود سے حفاظت کے لئے روح القدس یعنی جبرائیل امین (علیہ السلام) آپ کے ساتھ رہتے تھے ۔ یہ سب اللہ کے انعامات تھے ، ان کی صداقت اور حقانیت کا ثبوت تھے۔ نہ یہ کہ یہود نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تو مانا مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین پہ اترآئے اور عیسائی حضرات نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنادیا۔ یہ دونوں نظرئیے باطل قرار پائے اور کمالات موسوی نیز کمالات ان حضرات (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور اللہ کے انعامات ہیں۔ ان کے ارشادات اور ان کی تعلیمات پہ عمل ہی کا نام ان سے نسبت ہے۔
مشرکین عرت کے ساتھ یہود ونصاریٰ ہی دو قومیں تھیں جو اپنی مذہبی حیثیت منوانے پہ مصر تھیں اور خود کو حق پر کہتی تھیں۔ انبیاء کے فضائل کے ضمن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ انبیاء سابقہ کی تعلیمات میں بھی یہ بات موجود تھی کہ بعثت محمدی ﷺ کے بعد صرف حضور ﷺ کا اتباع ضروری ہوگا۔
اب ہر شخص کا معاملہ اللہ سے ہے اور جیسا اس کا تعلق ہوتا ہے ویسے اللہ نتائج مرتب کرتا ہے وہ قادر ہے چاہتا تو سب کو بچا لیتا اور ایسی عظیم ہستیوں کی بعثت کے بعد اور اس قدر روشن دلائل کے بعد گمراہ نہ ہوتے۔ نہ ایک دوسرے کا گلا کاٹتے اور نہ فساد بپا کرتے۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا کہ اللہ کی حکمت نے انہیں اپنی راہ پسند کرنے کا اختیار بخشا تھا۔ لوگوں نے اختلاف کیا ، آراء میں ، اعمال میں اور یہی اختلاف بڑھ کر قتل و غارت گری تک جا پہنچا۔ کوئی ایمان پر قائم نہ رہا اور کچھ دوسرے کفر کی گمراہی میں چلے گئے۔ اللہ تو قادر ہے اگر بچانا چاہتا تو یقینا ایک دوسرے کو قتل نہ کرتے ، مگر وہ حکیم ودانا ہے اور مالک ومختار جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
اس میں بہت بڑی تسلی آپ ﷺ کے لئے بھی ہے کہ اختلاف لوگوں کی فطرت ہے یقینا آپ ﷺ سے بھی کریں گے کہ کبھی سارے لوگ ایک بات پہ جمع نہیں ہوتے۔
Ayahs 2:254–257آیات 254- 257
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا انفقوا………………والکفرون ھم الظلمون۔
اصلاح احوال کی بنیاد :
اصلاح احوال کی بنیاد معاشیات پر ہے اگر دیکھا جائے تو تمام مذاہب باطلہ کا ماحصل دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی آرزو ہے انسان مختلف امور میں ساری محنت حصول زر پہ کرتا ہے کہ تکمیل خواہشات کا بہت بڑا ذریعہ دولت ہی ہے اور یہیں سے اختلافات اور فسادات کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اگر دولت کے خرچ کو محدود کردیا جائے تو ناجائز ذرائع سے حصول دولت کی ضرورت رہتی ہے نہ فائدہ۔
دنیا کی معاشی نظام صرف حصول زر کے قواعد سے بحث کرتے ہیں ، مگر اسلام رزق کو اللہ کی طرف سے تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف محنت کرنے کا مکلف ہے رزق دینا اللہ کا اپنا کام ہے زیادہ عطا کرے یا کم۔ پھر رزق حاصل ہوجانے کے بعد اس کے مصارف متعین ہیں صدقات واجبہ ، جن کا ادا کرنا واجب ہے اور نافلہ۔
نفس انسانی ، دنیا کی لذات پر خرچ کرنا زیادہ پسند کرتا ہے مگر اللہ اسے انفاق کی دعوت دیتا ہے۔ انفاق سے مراد اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرنا ہے خواہ وہ خرچ زکوٰۃ و صدقہ ہو یا بیوی بچوں کا خرچ ہو ، جہاں بھی اللہ کی اطاعت میں خرچ ہوگا وہ اتفاق فی سبیل اللہ میں شمار ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس سے انسان کی دنیاوی ضروریات بھی پوری ہوں گی اور آخرت کا اجر بھی مرتب ہوگا جو ابدی راحت ہے اور جس کے حصول کے لئے دنیا میں انسان کو بھیجا گیا ہے تو جب نگاہ تعمیر آخرت پر ہوگی تو قبول حق میں کوئی شے مانع نہ ہوگی اور جو شخص آخرت کو چھوڑ کر اس عارضی اور فانی زندگی کی لذات پر قناعت کرلے تو ایسے کم ظرف سے بھلائی کی امید عبث۔
اس کے ساتھ تھوڑا سا نقشہ آخرت کا کھینچا گیا ہے کہ اعمال حسنہ ہی اس روز کا سرمایہ ہیں۔ ان کی جگہ نہ کسی کی دوستی پر کرسکے گی نہ قیمتاً ایسی شے جو اس ضرورت کو پورا کرے مل سکے گی۔ اور نہ کسی کی سفارش کام آئے گی کہ شفاعت کے لئے بھی ایمان شرط ہے اور مومن کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیا۔ خطاء کوئی فعل سرزد ہو تو فوراً توبہ کرتا ہے اس کے ازالے کی کوشش کرتا ہے لیکن کافر بہت بڑے زیادتی کرنے والے ہیں کہ کائنات میں اپنی خواہشات اور آرزوئوں کا نفاذ چاہتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کائنات کا مالک اللہ ہے۔
اللہ لا الہ الا ھو……………وھوالعلی العظیم۔
اللہ ، جس کے سوا کوئی بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کی عبادت کی جائے ہر طرح کی اطاعت اسی کے لئے ہے جو ہمیشہ زندہ ہے اور ساری کائنات کی زندگی اس کی قدرت اور عطا سے ہے جو بذات خود قائم ہے اور ساری کائنات اور اس کے جملہ نظام کو قائم رکھنے والا ہے۔ جسے نہ کبھی سستی متاثر کرسکتی ہے اور نہ جس پر کبھی نیند طاری ہوسکتی ہے ، نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ ہی کمزور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے جس کی نہ ابتداء ہے نہ انتہاء اور جو حقیقتاً ارض وسماء اور مافیہا کا مالک ہے جس کی عظمت وہیبت کے سامنے کسی کو مجال دم زدن نہیں۔ کوئی نیں جو اس کی اجازت کے سوا کسی کی سفارش بھی کرسکے۔ وہ ساری مخلوق کے اول وآخر اور ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ہر وقت ہر شے سے باخبر اور مخلوق اس کے علم کو احاطہ نہیں کرسکتی صرف اسی قدر جان سکتی ہے جس قدر وہ خود آگاہ فرمادے۔ جس کو جو بخش دے وہی اس کا کمالعلم ہے اس سے آگے کچھ نہیں جان سکتا۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمینوں سے وسیع تر ہے اور تمام جہانوں کو تھامنا قائم رکھنا ، ان کا نظام چلانا اسے کچھ بھی تو گراں نہیں وہ بہت برتر اور عظمت والا ہے۔
لفظ کرسی سے اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے اللہ نشست وبرخاست اور حیز مکان سے بالاتر ہے۔ ان آیات کی حقیقت وکیفیت کا ادارک انسانی عقل سے بالاتر ہے البتہ یہ ثابت ہے کہ عرش وکرسی دو عظیم الشان وجود ہیں جو ارض وسما سے بہت بڑے ہیں۔
ابن کثیر میں بروایت حضرت ابوذر غفاری ؓ نقل ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کرسی کیا ہے اور کیسی ہے ؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمان اور زمینیں کرسی۔ کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی بڑے میدان میں کوئی حلقہ انگشتری۔ جیسا دوسری روایات میں ہے کہ کرسی کی مثال عرش کے سامنے ایسی ہے جیسے کسی بڑے میدان کے مقابل ایک انگشتری۔
اس آیہ کریمہ میں اللہ کی ذات وصفات کے کمالات کا عجیب انداز میں بیان ہے کہ جسے جاننے کے بعد کوئی ذرہ بھر عقل رکھنے والا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ تمام عزت و عظمت اور اقتدار واختیار اسی ذات بےہمتا کو سزاوار ہے۔
یہ آیہ کریمہ ” آیۃ الکرسی “ کہلاتی ہے احادیث مبارکہ میں اس کے بیشمار فضائل اور برکات کا ذکر ہے۔ شیطان اور اس کے وساوس سے بچنے کے لئے اور اللہ کی رحمت و شفقت کو پانے کے لئے حضور ﷺ نے ہر فرض نماز کے بعد اس کو پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے۔
لا اکراہ فی الدین……………واللہ سمیع علیم۔
یہ سب پر واضح ہوجانے کے بعد اب کسی کو قبول اسلام کے لئے مجبور نہ کیا جائے گا کہ آپ ﷺ کے معجزات اور نزول کتاب سے ہدایت اور حق واضح ہوگیا اور راہ روشن ہوگئی۔ اب ہر انسان کو اختیار ہے کہ حق کو قبول کرے یا نہ کرے۔ لیکن اگر کفر یہ بھی قائم رہے تو دنیا میں فساد بپا کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ بلکہ جس طرح سانپ بچھو کو مارا جاتا ہے کہ مخلوق کو ایذا نہ دیں۔ اسی طرح مسلمان کافروں سے جہاد کریں۔ حتیٰ یعطوالجزیہ وھم صغرون۔ کہ وہ اگر کفر پہ رہنا چاہتے ہیں تو رہیں مگر جزیہ دے کر ، اور قانون اسلام کے تابع ہوکر۔ ہاں ! ایک اختیار ہر حال میں دیا جائے گا کہ ایمان دل کا فعل ہے اگر چاہیں تو ایمان لے آئیں نہ چاہیں تو نہ لائیں۔
اس کا ایک سرکاری ترجمہ بھی ہے کہ دین کے معاملہ میں کسی کو نہ پوچھا جائے خواہ وہ نماز ادا کرے یا نہ اور روزہ رکھے یا نہ۔ یہ تاثر سراسر غلط ہے۔ یہ رعایت صرف قبول اسلام کے لئے ہے جب قبول کرلیا تو تمام احکام پر عمل کرنا ہوگا ورنہ حاکم مکلف ہے کہ عمل نہ کرنے والوں کو وہ سزائیں دے جو حضور ﷺ نے مقرر فرمائی ہیں ورنہ حاکم بھی ساتھ ماخوذ ہوگا اور ایک ایک بدکار کے ساتھ روز حشر جوابدہ ہوگا۔
جس کسی نے طاغوت یعنی شیطان خواہ جنوں سے ہو یا انسانوں سے ، کا انکار کیا۔ اس سے اپنی امیدیں توڑ لیں اور اللہ پر ایمان لایا۔ اپنی تمام امیدوں کا مرکز اللہ کو یقین کیا تو اس نے ایک ایسا حلقہ تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے یعنی ہمیشہ کامیاب رہا اور اللہ ہر ایک کی سنتا بھی ہے اور سب کے بھیدوں اور ارادوں کو جانتا بھی ہے۔
اللہ ولی الذین امنوا ……………ھم فیھا خلدون۔
اللہ مومنین کا دوست ہے ، اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے جب اس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ کفر کی تاریکی اور گمراہی کی دلدل سے نکال کر دین اسلام کے نور سے منور کرتا ہے ان کے دل روشن اور آنکھیں بنیا ہوتی ہیں انہیں عقل سلیم عطا ہوتی ہے اور اللہ ان پر ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے اور جو لوگ اللہ کی عظمت کا انکار کرتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی سے امیدیں باندھتے ہیں ان کے ساتھ شیطان لگ جاتے ہیں۔ جنوں سے بھی اور انسانوں سے بھی۔ یہ شیطان انہیں نور اسلام ، نور ہدایت سے دور لے جاکر کفر کی تاریکیوں اور برائی کی دل دلوں میں پھنساتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
یاد رہے دین کسی پر زبردستی نہ ٹھونسا جائے گا مگر قبول اسلام کے بعد عمل ضرور کرایا جائے گا اور اگر بعد قبول ترک کردے تو باغی قرار پاکر قتل کیا جائے گا۔ جو لوگ قبول نہ کریں انہیں بھی اللہ کی زمین پر بےلگام نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ہر اس کفر سے جہاد کریں جو اللہ کی زمین پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے یا کئے ہوئے ہے اور عین جہاد میں ان لوگوں کو جو بےضرر ہیں خواہ کافر ہو کچھ نہ کہا جائے گا جیسے بوڑھے ، بچے ، عورتیں یا اپاہج وغیرہ۔
غرض مسلمانوں کے فرائض میں ، اللہ کی زمین سے ظلم وستم کو مٹا کر امن وامان اور عدل و انصاف کا قیام بھی ہے۔