2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:258–260

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے پروردگار کے بارے میں مباحثہ کیا کہ اللہ نے اس کو سلطنت بخشی تھی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ اس نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یقینا اللہ تو سورج کو مشرق سے لاتا ہے پس تو اس کو مغرب سے لے آ تو اس پر کافر متحیر رہ گیا اور اللہ غلط کاروں کی راہنمائی نہیں فرماتے

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اس شخص کی مانند جس کا گزر ایک گاؤں پر ہوا اور وہ اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا تو اس نے کہا کہ اس موت (تباہی) کے بعد اللہ اس (کے باشندوں) کو کیوں کر زندہ کریں گے ؟ پس اللہ نے اسے سو برش تک موت دے دی پھر اسے زندہ کیا (اور) پوچھا تم (اس حال میں) کتنی مدت رہے کہا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ فرمایا بلکہ تم ایک سو سال (اس حال میں) رہے پس اپنے کھانے اور پینے کی چیز کو دیکھو کہ وہ خراب نہیں ہوئی اور اپنے گدھے کی طرف دیکھو اور تاکہ ہم تم کو لوگوں کے لئے ایک نظیر بنادیں اور ہڈیوں کی طرف دیکھو ہم ان کو کیسے ترتیب دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں پس جب اس پر واضح ہوگیا تو کہا میں جانتا ہوں یہ کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! آپ مردوں کو کیسے زندہ کریں گے مجھے دکھا دیجئے۔ فرمایا کیا تم (اس پر) یقین نہیں رکھتے کہا ضرور رکھتا ہوں و لیکن یہ اس لئے کہ میرے دل کو سکون ہوجائے فرمایا کہ چار پرندے لیں پھر ان کو اپنے ساتھ ہلا لیں پھر ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک ٹکڑا رکھ دیں پھر ان کو بلائیں وہ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس چلے آئیں گے اور خوب جان لیں کہ اللہ غالب ہیں حکمت والے ہیں

آیات 258- 260 اسرارو معارف الم ترالی الذی حآج ابراھیم…………واللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ ایمان مسلط اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے دل پر وارد ہوتی ہے اور جس کا درود کا سبب وہ خواہش ہے جسے کتاب اللہ نے انابت کا نام دیا ہے اگر کسی دل میں انابت ہی نہ ہو تو لاکھ کوشش اور ہزار حجت کے بعد بھی اسے ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ پھر یہاں زبردستی کیسی ؟ اس ضمن میں بطور مثال ارشاد ہے کہ……ذرا اسی شخص کے حالات دیکھئے جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا اور وہ بھی ربوبیت باری میں۔ حالانکہ اللہ نے ہی اسے ملک عطا کیا تھا یعنی خود اس کی ذات اور اس کی بہت بڑی سلطنت ربوبیت باری ہی کے تو مظہر ہیں اور حق یہ تھا کہ وہ شکر ادا کرتا مگر اس نے سرکشی اختیار کی خود خدا ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں سے کہا ” تمہارا رب میں ہوں مجھے سجدہ کرو ! “ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑے اور اعلان نبوت فرمایا تو اس نے دربار میں طلب کرکے پوچھا ، آپ کس رب کی طرف دعوت دے رہے ہیں ؟ سب کا رب تو میں ہوں اور تمام لوگوں کی ضروریات تو میری حکومت پوری کر ہی ہے۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ، میرا رب وہ ہے یا میں اس رب کی طرف دعوت دیتا ہوں جو زندگی بخشتا ہے ، جو خالق ہے اور جو موت دیتا ہے کہ وقت مقرر پر ہر کوئی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے حتیٰ کہ ربوبیت کے جھوٹے مدعی بھی پیدا ہوتے ہیں اور مرجاتے ہیں ، کائنات کے نظام کو نہ ان کی پیدائش متاثر کرسکتی ہے نہ موت۔ اگر تو اور تیرے جیسے بندے رب ہوتے تو یقینا ان کے سوا یہ عالم قائم نہ رہ سکتا۔ حالانکہ واقعہ اس کے برعکس ہے حقیقی رب وہی ہے جو زندگی اور موت کا بھی دینے والا ہے “۔ اس کے جواب میں نمرود نے دو قیدی منگوائے ایک کو بری کردیا اور دوسرے کو قتل کرادیا۔ اور کہنے لگا ، میں بھی تو زندگی اور موت کا دینے والا ہوں۔ کسی قدر احمقانہ جواب تھا مگر یہ بات نمرود بھی جانتا تھا کہ مناظرے کے جج عوام ہوا کرتے ہیں جن کی اکثریت علم سے عاری اور محض باتوں پر فدا ہوتی ہے سو کٹ حجتی کر گیا ، مگر اللہ کے رسولوں کے پاس دلائل بھی تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اللہ ساری کائنات کا خالق ہے اس کے سارے نظام کا بنانے والا اور چلانے والا ہے اس نے سورج کو مشرق سے نکل کر مغرب کی طرف غروب ہونے پر مقرر فرمایا ہے۔ اگر تو رب ہے اور اس کائنات کو تو چلارہا ہے تو ذرا اس نظام کو بدل دے اور سورج کو الٹے چکر پر لگا ، مشرق سے طلوع ہونے کی بجائے مغرب سے نکل آئے۔ تو بوکھلا اٹھا وہ جان گیا کہ اگر یہ سوال حضرت پہ لوٹا دوں تو یقینا جو رب مشرق سے طلوع کرتا ہے وہ مغرب سے طلوع کرنے پر قادر ہے اگر ان کی دعا سے ایسا ہوگیا تو غضب ہوجائے گا لوگ ان کی بات قبول کرلیں گے۔ اس کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا ، بھڑک اٹھا اور آگ میں پھینکنے کا حکم دیا۔ روایت میں ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نمرود نے حضرت کو آگ میں ڈالنے کے لئے جیل سے طلب کیا اور پھر آگ میں ڈال کر آگ کو گلزار بنتے دیکھ لیا مگر کافر ہی رہا کہ اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت اور ایمان نصیب نہیں فرماتا۔ دل جو صرف طلب الٰہی کے لئے ہے اس میں دنیا یا جاہ و حشمت کی طلب بھر دینا ، کیا یہ بہت بڑا ظلم نہیں ہے ؟ ایسے ظالم کبھی ہدایت نہیں پاتے۔ اوکا الذی ھر علی قریۃ……………ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ : یا پھر ایسا ہی عجیب قصہ اس شخص کا ہے جس کا گزر ایک اجڑے ہوئے شہر سے ہوا۔ یہ شخص حضرت عزیر (علیہ السلام) تھے اور تباہ شدہ بستی بیت المقدس۔ جسے بخت نصر نامی بادشاہ نے بری طرح برباد کردیا تھا۔ جب بنی اسرائیل کی بدکاریاں حد سے بڑھیں تو اللہ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا جو بہت ظالم تھا اس نے شہر کو تاراج کردیا۔ تو رات کے تمام نسخے جلا ڈالے اور بیشمار لوگوں کو قتل کیا جو بچ رہے ، انہیں قیدی بنا کرلے گیا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) جو تباہی کے وقت جنگل کو نکل گئے تھے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ جب قوموں پر عذاب نازل ہوا تو اللہ کے بندوں کو ان سے جدا کردیا جاتا ہے۔ بخت نصر کی واپسی کے بعد جب شہر کو لوٹے تو سخت بربادی نظر آئی نہ سبزہ تھا نہ درخت باقی ، نہ مکان تھے نہ مکینوں کا پتہ۔ کھنڈر انسانی وجودوں کے کٹے پھٹے متعفن ٹکڑوں سے بھرے پڑے تھے اور گلی سڑی لاشیں بربادی پہ نوحہ خواں تھیں تو بےساختہ پکاراٹھے کہ ان لوگوں کو اللہ کیسے زندہ فرمائیں گے یعنی ان کی دوبارہ زندگی کی کیا صورت ہوگی ؟ جن کے اجزائے جسم درندے لے اڑے ، پرندوں نے نوچے ، آگ میں جلے اور مکان کی راکھ میں مل گئے یا ہوا لے اڑی۔ غرض بہت بری طرح تباہ ہوئے اب یہ کیونکر زندہ ہوں گے ، یہ ایک اظہار حیرت تھا۔ اللہ کی قدرت پر ، ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ ایسا ضرور ہوگا۔ مگر اس ہونے کی کیفیت کیا ہوگی ، یہ اللہ ہی جانے۔ اسی سوچ میں آرام کرنے کو لیٹ گئے ، سواری کا گدھا باندھا اور کچھ انگوروں کا رس اور انجیر وغیرہ کا توشہ جو جنگل سے لائے تھے رکھ دیا۔ سو اللہ نے ان پر ایسی نیند مسلط فرمادی جو موت کی طرح تھی۔ واقعتاً فوت نہ ہوئے تھے کہ برزخ سے لوٹ کر آدمی مکلف نہیں ہوتا حالانکہ آپ نے دوبارہ دنیا کو اللہ کی طرف دعوت دینے کا فریضہ ادا فرمایا۔ نہ تو روح قبض ہو کر برزخ میں پہنچی اور نہ زندوں کے ساتھ کوئی تعلق رہا۔ بلکہ ان کی کیفیت اس کے درمیان رہی۔ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے نہ صرف ان کے باوجود کی حفاظت فرمائی بلکہ ان کے کھانے اور شربت کو بھی محفوظ رکھا کہ ایک صدی کا طویل فاصلہ بھی اسے خراب نہ کرسکا اور چشم عالم سے پوشیدہ بھی رکھا کہ کسی نے سو سال میں ان کا وجود یا کھانا پینا دیکھا نہ اس پر مٹی یا دھول جمی بلکہ ایسے ہی محفوظ رہے۔ جب اللہ نے اٹھایا تو خود ان کو اپنے وجود یا لباس میں کوئی ذرہ بھر تغیر نظر نہ آیا۔ گویا ایک صدی بیت گئی اور دوسری طرف ایک لمحہ بھی نہ گزرا۔ بالکل ایسے ہی جیسے حضور اکرم ﷺ شب معراج تشریف لے گئے۔ بیت المقدس اور پھر آسمانوں پر اور پھر آگے اور پھر جنت دوزخ کا مشاہدہ فرما کر واپس لوٹے تو وہی وقت تھا۔ کنڈی بل رہی تھی اور بستر گرم ، یعنی ایں جانب لمحہ بھی نہ گزرا تھا خواہ ادھر سالوں بیت گئے ہوں۔ ایک صدی کے بعد اللہ نے اٹھایا۔ دریں اثناء تقریباً ستر سال بعد بنی اسرائیل قیدوبند سے چھوٹے۔ بخت نصر کو ہلاک کیا اور انہیں دوبارہ آباد ہونے کی توفیق بخشی تیس سالوں میں شہر خوب آباد ہوا۔ ادھر حضرت عزیر (علیہ السلام) اٹھے تو اللہ نے استفسار فرمایا کہ آپ یہاں کتنی دیر ٹھہرے ؟ عرض کیا ، دن بھر ، یا اس سے بھی کچھ کم دیر رکا ہوں۔ تو ارشاد ہوا کہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے بلکہ آپ سو سال یہاں ٹھہرے ہیں اور ہماری قدرت کا تماشا دیکھیں کہ آپ اس طویل مدت کو محسوس تک نہیں کر پائے۔ اسی طرح آپ کا توشہ بھی محفوظ ہے نہ کسی ذی روح نے چھیڑا ہے نہ ہی بادل یا بارش اور نہ ہی تیز ہوائیں اس کا کچھ بگاڑ سکیں اور نہ سو سال تک تمازت آفتاب نے اسے متاثر کیا ہے اس کے ساتھ آپ کا گدھا تھا۔ جو حوادثات کی نظر ہوا۔ اس کی حفاظت نہیں کی گئی کہ آپ خوددیکھ سکیں کہ مردے کس طرح سے جی اٹھیں گے۔ اور کیا کیفیت ہوگی۔ اسکی ہڈیوں کو دیکھیں کس طرح یکجا ہوتی ہیں اور پھر کس طرح سے اس کے جسم کے ذرات جو ہوائیں لے اڑی تھیں یا جانوروں اور پرندوں کی غذائیں بن گئے تھے یا آبی طوفانوں کی نظر ہوئے۔ واپس لوٹ کر پھر سے گوشت اور چمڑا بن کر اپنی اصلی جگہ پر آتے ہیں اور یہ سب عجائبات کا مشاہدہ اس لئے کرایا گیا کہ آپ اپنے سوال کا جواب بھی پالیں۔ یعنی دوبارہ جی اٹھنے کی کیفیت بھی دیکھ لیں اور خودآپ کا وجود لوگوں کے لئے قدرت باری کی دلیل بن جائے۔ سماع موتیٰ : آج کل سماع موتیٰ اور عدم سماع کی بحث چل نکلی ہے اور عدم سماع کے قائل حضرات یہاں سے بھی دلیل پکڑتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو کوئی پتہ نہ چل سکا۔ اس لئے برزخ والے کچھ سن نہیں سکتے یہاں سے استدلال بےجا ہے کہ نہ حضرت عزیر (علیہ السلام) پر طبعی موت وارد ہوئی اور نہ آپ برزخ میں پہنچے ، اور نہ اخذ ثواب کی نوبت آئی ، قطع نظر اس کے کہ مرنے والے کچھ سن سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہاں سے دلیل نہیں دی جاسکتی بلکہ حیات بعد الموت کا انکار ۔ یہی کفار کے کفر پہ قائم رہنے کا سبب تھا اور ہے۔ اور یہ اس لئے ہے کہ عقل انسانی سے یہ سب کچھ بالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اپنی قدرت کا اظہار فرمادیا کہ کھانا پانی اپنی اصلی حالت میں محفوظ رکھا اور چشم عالم سے پنہاں بھی اپنے نبی کی وجود ، لباس غرضیکہ ہر شے کو محفوظ بھی رکھا ، چشم عالم سے پوشیدہ بھی اور خود نبی کو بھی پورے سو سال کے گزرنے کی خبر تک نہ ہونے دی۔ ساتھ میں گدھے پر موت آئی جسم گلا ، سڑا ، منتشر ہوا اور ایک صدی کا طویل عرصہ بیت گیا۔ پھر اسے اپنے نبی کے روبرو بنایا۔ زندگی بخشی اور فرمایا اب خود تیری ذات میری قدرت کاملہ کی دلیل ہے اور وہ بستی جس کی بربادی پر آپ حیران ہوئے تھے دوبارہ آباد ہوچکی ہے اب اسے بھی دلکھ لو ! چنانچہ آپ تشریف لے گئے اور لوگوں سے فرمایا میں عزیز نبی ہوں۔ طویل روایات ملتی ہیں کہ لوگوں نے نشانیاں طلب کیں اور سب سے بڑی نشانی کی بنی اسرائیل کے پاس سو سال سے تورات کا کوئی نسخہ نہ تھا سب بخت نصر نے جلا دیئے تھے۔ اللہ نے عزیز (علیہ السلام) کے قلب میں ڈال دی اور آپ نے دوبارہ لکھوا دی۔ یہ سب سامان ہدایت تھا اور بہت بڑا معجزہ تھا۔ مگر ہوا کیا کہ یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنادیا۔ ان کے دل میں انابت نہ تھی کہ ہدایت پاتے ، اللہ نے انہیں اپنے قرب سے اپنی معرفت سے محروم فرمادیا اور ادھر حضرت عزیر (علیہ السلام) نے یہ سب دیکھ کر فرمایا کہ میں تو یہ بات سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ایسے ہی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ، اذ قال ابرھم…………ان اللہ عزیز حکیم۔ اور اس موضوع پر بہت بڑی دلیل وہ واقعہ بھی ہے جب حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ اے پروردگار ! مجھے یہ چیز دکھادے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ فرمایا : ” کیا تجھے اس بات پر یقین نہیں ؟ “ عرض کیا ، ” یا اللہ ! یقین کیوں نہیں ، ضرور یقین ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ اس کیفیت کو آنکھوں سے دیکھوں تاکہ دلی اطمینان کا بہت اعلیٰ درجہ حاصل ہو “۔ دنیا دار عمل ہے اور یہاں اسباب کو بہت دخل ہے حتیٰ کہ خود رب کریم اسباب پیدا فرما کر نتائج کو ان کے ثمر کے طور پر پیدا فرماتا ہے۔ اسی طرح دیکھنا سکون قلبی اور کیفیات قلبی کے لئے بہ نسبت سننے کے زیادہ موثر ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی قوم کی گو سالہ پرستی کی خبر تو ہوگئی مگر الواح نہ پھینکیں۔ اگرچہ بہت دکھ بھی لگا۔ غصے بھی ضرور ہوئے ہوں گے۔ لیکن جیسے ہی آنکھوں سے قوم کو اس برائی میں ملوث دیکھا تو الواح پھینک دیں ، حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی کھینچ لی۔ اسی طرح سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یا اللہ ! بذریعہ وحی معلوم ہے ، یقین ہے ، جانتا ہوں لیکن اے پروردگار ! اے اسباب کے پیدا کرنے والے ! جو تاثیر تو نے مشاہدہ میں رکھی ہے ، اس کا طلب گار ہوں ، اپنے کرم سے مجھے مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیات کا مشاہدہ کرادے۔ دعا کا سلیقہ : اللہ کی بارگاہ بہت عالی ہے اور طالب کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے دیکھیں حضرت عزیر (علیہ السلام) کی طلب بھی اسی کیفیت کے بارے تھے مگر الفاظ جو عرض کئے وہ اور تھے۔ ان میں حیرت تھی ، کہ نامعلوم اللہ کیسے زندہ فرمائے گا ، تو اللہ نے سو سال انہیں ایک ایسی کیفیت میں رکھا کہ نہ زندہ تھے اور نہ مردوں میں اور تب اس کیفیت کا مشاہدہ ہوا۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسرے انداز میں عرض کیا کہ اللہ ! جس طرح تو مردوں کو زندہ فرمائے گا مجھے دکھادے۔ تو فوراً مشاہدہ کرایا گیا۔ لہٰذا عرض حال کے لئے بہت زیادہ احتیاط وادب کی ضرورت ہے۔ فرمایا ، چار پرندے لے لیں اور انہیں اپنے ساتھ خوب ہلالیں کہ ایک تو ان کی پہچان اچھی طرح سے ہوجائے دوسرے آپ سے مانوس ہو کر آپ کی آواز پر لبیک کہیں۔ یہاں بھی اسباب کو درمیان میں رکھا کہ مانوس ہوں تب ہی جاکر آواز پر حاضر ہوں اسی طرح نبی کی ذات سے انس پیدا نہ ہو تو ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ذاتی طور پر نبی کا دشمن ہو اور پھر مسلمان بھی رہے حتیٰ کہ ذات نبی سے دشمنی خواہ آپ ﷺ کے قرابت داروں سے دشمنی کی صورت میں ہو یا آپ ﷺ کے تابعداروں سے دشمنی کی صورت میں ہو اس کا حامل کافر ہوجاتا ہے۔ یہی حال اخذ فیض کے لئے شیخ کی ذات کا ہے جب تک ذات سے انس نہ ہوگا فیض حاصل نہ ہوگا۔ اولیاء اللہ سے دشمنی کفر نہیں ہے کہ ان کا ماننا نہ تو فرض ہے اور نہ کسی ولی کی بالیقین ولی کہا جاسکتا ہے ۔ مگر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ تعالیٰ کا ارشاد بڑا درست ہے کہ اولیاء اللہ سے دشمنی کفر تو نہیں مگر ایسے لوگ مرتے عموماً کفر پر ہی ہیں۔ جب پرندے آپ کے ساتھ ہل جائیں تو انہیں ذبح کریں اور سب کو ملا کر کوٹ لیں۔ پھر ان اجزائے ابدان کو مختلف پہاڑوں پر پھینک دیں ، اور اس کے بعد ان کو اپنی طرف بلائیں اور دیکھیں کہ دوڑے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوں گے حضرت نے ایسا ہی کیا اور روایت ہے کہ سر اپنے پاس رکھتے ہوئے تھے جس پرندے کو آواز دیتے اس کے قطرہ ہائے خون خواہ پتھروں پہ گرے تھے یا زمین میں جذب تھے یا دوسرے پرندوں کے خون میں مل گئے تھے جدا ہو ہو کر آنے لگے۔ ایسے ہی گوشت پوست ، ہڈیوں اور پروں کے ٹکڑے آ آ کر اپنے اپنے اجزاء کے ساتھ مل کروجود بن گئے اور پھر سروں کے ساتھ جڑ کر زندہ پرندے ، اور ارشاد ہوا کہ اچھی طرح جان لیں کہ اللہ زبردست ہے ، جیسے چاہے کرسکتا ہے مگر بہت بڑا حکیم ہے اور اپنی حکمت سے ہر کام کا وقت مقرر فرمادیا ہے۔ ویسے انسان اپنے پیدا ہونے سے قبل اپنے وجود کے اجزاء کو دیکھے تو دنیا میں اس قدر منتشرنظر آتے ہیں کہ بعد مرگ اتنا پھیلنا محال دکھائی دیتا ہے ، یہ اغذیہ ، یہ ادویہ جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں سب مٹی ہے ، پانی ہے ، آگ اور ہوا ہے اسی کے مختلف روپ ہیں۔ کہیں غلہ ، کہیں چاول ، کہیں گنا اور کھانڈ ، کہیں مرچ اور مصالحہ ، کسی جگہ سبز چارے کی شکل میں ہے تو کہیں بھوسہ بن رہی ہے جسے جانور کھاتے ہیں۔ پھر دودھ یا مکھن کی صورت میں انسان کو نصیب ہوتی ہے۔ اس تمام عمل میں اتفاقات کا دخل نہیں بلکہ عنداللہ جو ذرہ خاک جس جسم کے لئے مقدر ہے اسی کی طرف مائل بہ پرواز ہے۔ حتیٰ کہ انسان اپنے حصے کے اجزا اپنے وجود پر چڑھا لیتا ہے مگر اولاد کے حصہ کے اجزا اس کے صلب میں محفوظ ہوجاتے ہیں جو اس کے بدن کی تعمیر پر صرف ہوتے ہیں جس کا وہ حصہ ہوتے ہیں اسی طر ح ماں غذا کھاتی ہے گر وجود کے اندر حل ہونے کے بعد بھی تقسیم ہوجاتی ہے اور بچے کا حصہ اس کا جزوبدن نہیں بنتا بلکہ اس بدن تک پہنچتا ہے جس کا حصہ اسے اللہ نے مقرر فرمادیا ہے۔ آخرت کی تعمیر اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ، اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ کسی بدن کے اجزاء کہیں پہنچ جائیں تو انہیں ثواب یا عذاب پہنچتا رہے خواہ کسی دوسرے بدن کا حصہ ہی کیوں نہ بن چکے ہوں۔ اس عالم میں مکلف بالذات بدن ہے لیکن ہر لذت وہر الم اپنا اثرروح پر بھی چھوڑتا ہے اسی طرح برزخ میں مکلف بالذات روح ہے مگر اسے پہنچنے والی لذت یا دکھ کا اثر ہر اس ذرے پر بھی وارد ہوتا ہے جو اس کے اجزائے بدن سے ہو اور میدان حشر میں ، اور اس کے بعد دونوں برابر برابر شریک ہوں گے۔ کفار کا اللہ کی اطاعت سے منحرف ہونااسی سبب سے ہے کہ وہ حیات بعد الموت کا ناممکن سمجھتے ہیں جس کا اثبات ان تین واقعات میں ارشاد فرما کر اب ان لوگوں کی تمثیل ارشاد ہوتی ہے جو اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں جو ایماندار ہیں حیات بعدالموت پہ یقین رکھتے ہیں اور اپنی بہترین کوششوں کو اس کے لئے وقف کردیتے ہیں۔
Ayahs 2:261–266

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی جیسے ایک دانے کی مثال کہ اس میں سے سات بالیں اگیں (اور) ہر بالی میں سو (100) دانے ہوں اور اللہ جسے چاہتے ہیں یہ زیادتی عطا کرتے ہیں اور اللہ کشائش والے جاننے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذا کا سبب بنتے ہیں ان کے لئے ان کا ثواب ان کا پروردگار کے پاس ہے اور نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ افسوس کریں گے

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا ایسی خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے ایذا پہنچائی جائے اور اللہ غنی ہیں حلم والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو جیسے کوئی اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف چٹان کہ اس پر کچھ مٹی پڑی ہو پھر اس پر بارش برسے تو اسے صاف کردے ان کی اپنی کمائی کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گی اور اللہ کافروں کی راہنمائی نہیں فرماتے

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنا مال اللہ کی رضا جوئی کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ثابت قدم رکھنے کے لئے ان کی مثالایسی ہے جیسے بلندی پر کوئی باغ ہو جس پر بارش برستی ہو پس وہ اپنا دگنا پھل دے تو اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار (شبنم بھی اس کو کافی ہے) اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھتے ہیں

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں چلتی ہوں اور اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اس کو بڑھاپا آجائے اور اس کی اولاد (ابھی) کمزور ہو تو کوئی ایسا بگولہ آئے جس میں آگ ہو پھر وہ (باغ) جل جائے اللہ اسی طرح تمہارے لئے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ تم فکر کرو

آیات 261- 266 اسرارو معارف مثل الذین ینفقون اموالھم……………واللہ غنی حلیم اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مومن کے لئے ایسے ہے جیسے کاشتکار کہ وہ کھیتی بوتا ہے تو بظاہر کھیتی تیار کرنے کی مشقت اٹھاتا ہے پھر اپنی محنت سے کمائے ہوئے غلے کو اس میں بکھیردیتا ہے جو بظاہر محنت اور اثاثہ دونوں کا ضیاع نظر آتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اس سارے کام کے انجام سے بیخبر ہے جو انجام کی اطلاع رکھتا ہے وہ پھر اس کی رکھوالی کرتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے جب ایک ایک دانے سے سات سات خوشے نکلتے ہیں یعنی خوب اعلیٰ پودا اگتا ہے جس پر اس قدر خوشے لگتے ایسے صحتمند کہ ہر خوشے میں سو سو دانا ہوتا ہے وہ تھوڑا سا غلہ جو اس نے بیجا تھا بہت زیادہ غلہ جمع کرنے کا سبب بن جاتا ہے مگر یہ سب اس وقت ظہور پذیر ہوتا ہے جب کھیتی اعلیٰ قسم کی ہوا اور پھر اس پر محنت کی جائے غلہ اچھا اور اعلیٰ ہو وقت پر بیجا جائے اور پھر اس کی پوری دیکھ بھال کی جائے۔ ایسے ہی پہلے تو ایمان شرط ہے کہ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھے ، پھر بیج خالص ہو یعنی جائز اور حلال ذرائع سے دولت پیدا کرے کہ اللہ حلال کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا اور پھر مستحقین پر خرچ کرے۔ محض دولت لٹانے مقصد نہیں ہے بلکہ صدقات کو ان کے صحیح مصرف پہ خرچ کرے اور صحیح طریقے سے خرچ کرے یعنی اتباع سنت کا اہتمام ہو تو اللہ قادر ہے کہ جتنا چاہے کسی کے اجر کو بڑھا دے وہ بہت وسیع بخشش کا مالک ہے جس قدر اہتمام ہوسکے کر ، کہ وہ علیم بھی ہے وہ تمہاری کوششوں یا تمہارے خلوص ، تمہارے ارادوں اور تمنائوں کو جانتا ہے ۔ تم جتنی محنت کرتے جائو گے اللہ اس اجر کو اسی قدر اپنی بخشش اور کرم سے بڑھاتے چلے جائیں گے۔ ہاں اس کی رکھوالی بھی کرو کہ خرچ کرنے کے بعد جس پر خرچ کیا ہے کوئی احسان نہ رکھو۔ نہ اس کے لئے کسی دکھ کا سبب بنو کہ تم اسے ذلیل سمجھنے لگ جائو۔ لوگوں میں اظہار کرکے اسے رسوا نہ کرو۔ ایسا کرنے والے یقینا اپنے اجر اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے تب انہیں نہ گزشتہ کا یعنی اپنے خرچ کرنے کا افسوس ہوگا اور نہ آئندہ کا کوئی خوف۔ لیکن اگر تم خرچ کرنے کے لئے دولت نہیں رکھتے یا کسی کو دینا نہیں چاہتے تو اس سے اچھی طرح بات ہی کرلو ، یہ بھی صدقہ ہے اور ایسے صدقہ سے بدرجہا بہتر ہے کہ تم کسی کو پیسے دے کر اس پر احسان جتائو یا اسے ایذا دو ۔ کم از کم مناسب طریقے سے معذرت کرو اگر مانگنے والے کی بات ناگوار گزری ہے تو درگزر کرو کہ اللہ غنی ہے اللہ کو کسی کے صدقات دینے یا نہ دینے کی کوئی احتیاج نہیں اور بڑا تحمل والا ہے کہ بیسیوں خطائیں تم سے سرزد ہوتی ہیں اور فوراً گرفت نہیں کرتا۔ اب اس کے نام پر تم سے کوئی سوال کرتا ہے تو اسے مت جھڑکو بلکہ نرمی اور لطف سے پیش آئو۔ یایھا الذین امنوا………………لایھدی القوم الکفرین۔ فرمایا ، اے لوگو ! جو اللہ پر ، آخرت پر ، ضروریات دین پر یقین رکھتے ہو ، اللہ کی راہ میں خرچ کرکے پھر اس کے پیچھے احسان نہ جتائو اور نہ اس آدمی کے لئے جس پر خرچ کیا ہے کوئی تکلیف پیدا کرو ، ورنہ اس طرح تو تمہارا صدقہ باطل ہوجائے گا یعنی یہ کھیتی اجر جائے گی پھل لانے کے قابل نہ رہے گی اور ساری محنت کے ضیاع کے ساتھ انجام حسرت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ تو ایسے ہوا جیسے کوئی دکھلادے کے لئے خرچ کرے نہ اس کا اللہ پر ایمان ہو اور نہ آخرت پر یقین۔ یعنی ریاء ، ایمان اور یقین کو نقصان پہنچاتی ہے اور مومن کے شایان نہیں۔ وہ خرچ اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے جانتا ہے پھر لوگوں میں نمائش بنا کر واہ واہ کروانے کی کیا ضرورت ، اور اگر کوئی لوگوں کو دکھانے اور ان سے اپنی تعریف کروانے کے لئے خرچ کرتا ہے تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی سخت چٹان پر معمولی مٹی پڑی ہو اور کوئی اس میں کاشت کرے۔ حتیٰ کہ جب بارش پڑی تو وہ مٹی ہی بہہ کر چلی گئی اور خالی چٹان رہ گئی کچھ ہاتھ نہ لگا۔ یعنی کافر اگر نیکی بھی کرتا ہے تو آخرت پر تو اس کا ایمان نہیں ہوتا۔ محض دکھاوے یا دنیاوی منافع کے لئے کرتا ہے۔ اللہ ایسے ناشکرے لوگوں کو ہدایت کی توفیق بھی عطا نہیں فرماتا کہ اس کی رضا کے مقابلے میں وہ لوگوں سے واہ واہ کے خواہشمند ہوں۔ ومثل الذین ینفقون……………واللہ بما تعلمون بصیر۔ اور جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اور اپنے دلوں کو ثابت کرکے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باغ کی بلند زمین پر ہو۔ ربوہ کے معنی صاحب تفسیر مظہری نے یوں فرمائے ہیں کہ ایسی زمین جو نہر کے کنارے نہ اتنی اونچی ہو کہ پانی نہ پہنچ پائے نہ ایسی نیچی کہ پانی جمع رہے بلکہ کناروں کے برابر ہو۔ یہ بہت اعلیٰ زمین کی نشانی ہے اور پھر اس پر ابررحمت بھی خوب کھل کر برسے۔ خوب مزے دار بارش پڑے تو وہ امید سے بھی دوگنا پھل لائے اور اگر زیادہ بارش نہ بھی ہو تو اسے پھلدار بنانے کے لئے تو پھوار بھی کافی ہے یعنی ارادہ خالص ہو کہ نیت زمین ہے بیج اچھا ہو یعنی حلال کا پیسہ ہو سنت کے مطابق خرچ کرے اور لوگوں پر احسان جتانے یا ریاکاری سے اس کی حفاظت کا اہتمام بھی کرے تو پھر دیکھو اس پر کس طرح رحمت باری متوجہ ہوتی ہے اور کتنا زیادہ اجر ملتا ہے۔ اور اللہ تو تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ ایوداحدکم……………لعلکم یتفکرون۔ کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں جاری ہوں اور طرح طرح کے پھلوں سے لدرہا ہو ، زندگی بھر محنت کرکے اسے تیار کرے پھر جب بوڑھا ہو اور اس بڑھاپے میں احتیاج بڑھانے کے لئے چھوٹی چھوٹی اولاد بھی ہو ، عورتیں ہوں۔ یعنی کام کے قابل نہ رہے اور کوئی کام میں ہاتھ بٹانے والا نہ ہو۔ پھر سخت احتیاج بھی ہو کہ عورتوں اور بچوں کا کیا کرے۔ اندریں حالات اس کے باغ میں کوئی بگولا داخل ہو جس میں آگ ہو اور سارے باغ کو جلا کر راکھ کردے تو ذرا غور کرو ، اس کا کیا حال ہوگا۔ ایسے ہی خرچ کرنے کے بعد یعنی حلال کمائے صحیح مصرف پہ خرچ کرے درست طریقے سے خرچ کرے پھر بھی اگر اس میں نمود ونمائش کا پہلو آگیا تو جب موت آئے گی۔ آخرت کو سدھارے گا تو ایسی سخت احتیاج کی حالت میں دیکھے گا ، کہ فساد نیت کی آگ نے کھلا ہوا باغ بھسم کردیا تو یہ کتنا حسرت کا مقام ہوگا۔ اب نہ تو کوئی معاون و مددگار ثابت ہوگا ، نہ تلافی مافات کی فرصت۔ یہ دلائل اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں دعوت فکر ہے۔ خود بھی سوچو اور غور کرو کہ عبادات ضائع نہ ہونے پائیں۔
Ayahs 2:267–273

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے عمدہ چیزیں خرچ کیا کرو اور جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے پیدا کیا ہے۔ اور ناکارہ (خبیث) چیز کا قصد نہ کرو کہ تم (نیکی میں تو) خرچ کرو اور خود اس کو لینا نہ چاہو سوائے اس کے کہ اس کے بارے میں چشم پوشی کر جاؤ اور خوب جان لو کہ اللہ کسی چیز کے محتاج نہیں ، تعریف کے لائق ہیں

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور تم کو بری بات کا مشورہ دیتا ہے اور اللہ تم سے وعدہ فرماتے ہیں اپنی طرف سے بخشش کا اور زیادہ دینے کا اور اللہ وسعت والے جاننے والے ہیں

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

جسے چاہیں دانائی عطا کرتے ہیں اور جس کو دانائی عطا ہوئی تو یقینا اس کو بہت بڑی بھلائی مل گئی اور صاحب خرد ہی نصیحت قبول کرتے ہیں

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور جو تم کسی طرح کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو تو یقینا اللہ اسے جانتے ہیں اور غلط کاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم ظاہر کرکے صدقات دو تب بھی اچھا ہے اور اگر انہیں پوشیدہ رکھو اور محتاجوں کو دوتو وہ تمہارے لئے بہتر ہے اور وہ (اللہ) تم سے تمہاری برائیاں دور کردیں گے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھتے ہیں

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

ان (کافروں) کو ہدایت پر لانا آپ کے ذمہ نہیں و لیکن اللہ جسے چاہتے ہیں ہدایت فرماتے ہیں اور جو مال تم خرچ کرتے ہو تو وہ تمہارے اپنے لئے ہے اور تم اللہ کی رضا چاہنے کے علاوہ (کسی غرض کے لئے) خرچ نہیں کرتے اور جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ پورا پورا تم کو دیا جائے گا (یعنی اس کا ثواب) اور تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

یہ ان محتاجوں کے لئے ہے جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے ہوں کہ ملک میں کہیں آجا نہیں سکتے سوال نہ کرنے کی وجہ سے نادان انہیں دولت مند سمجھتا ہے تم ان کو ان کے چہروں (طرز) سے پہچان سکتے ہو لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور جو مال تم خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو جانتے ہیں

آیات 267- 273 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا انفقوا ھن طیبت……………واعلموا ان اللہ غنی حمید۔ اے ایمان والو ! اپنی کمائی سے صاف ستھری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنی کمائی سے خرچ کرو ، ظاہر ہے کہ کمائی تو حلال ہی ہوگی ورنہ ناجائز ذرائع سے دولت پیدا کرنے کو کسب نہیں کہا جاتا۔ بلکہ ایسے لوگ خود اپنے ناجائز ذرائع کو لوگوں کی نظروں سے بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس میں سے جو راہ خدا میں دے وہ کھری اور اچھی چیز ہونی چاہیے اگر غلہ یا پھل یا کوئی اور جنس اللہ کی راہ میں دے ، اور اگر حرام مال سے دے گا توہ عنداللہ مقبول ہی نہیں ہوگا۔ کہ ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برے کو بھلے سے مٹا سکتا ہے ناپاک سے ناپاکی دور نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کسی کے پاس مال ہی ایسا ہو سب ناقص قسم کا ہے تو اسی میں سے دے گا یا کچھ اچھا اور کسی قدر ناقص ہے تو دونوں میں سے بھی دے سکتا ہے اس میں صدقات مراد لئے جاسکتے ہیں ، نافلہ ہو یا واجبہ۔ ومما اخرجنا لکم من الارض سے مراد زمین کی زکوٰۃ جسے اصطلاح شریعت میں عشر کہا گیا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک زمین کی ہر قلیل وکثیر مقدار پر عشرواجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم اس طرح ہے کہ بارش سے سیراب ہونے والی فضل پر دسواں حصہ اور جس کی سنچائی آبپاشی سے کی گئی ہو اس کا بیسواں حصہ لازم ہے ایسے ہی سورة انعام کی آیت واتوحقہ یوم حصادہ ۔ وجوب عشر میں بالکل صریح ہے حکومت اسلامی جو ٹیکس زمین پر بناتی ہے اس کے لئے دو اصطلاحی لفظ ہیں۔ عشر اور خراج۔ ان میں فرق یہ ہے کہ عشر محض ٹیکس نہیں اس کی اصلی حیثیت عبادت مالی ہے اور مسلمان چونکہ عبادت کا اہل ہے اور پابند ہے اس لئے زمین کی آمدن سے عشر ادا کرتا ہے اور کافر عبادت کا اہل نہیں ہے لیکن ریاست میں رہتے ہوئے ریاست کو جو ٹیکس زمین کی آمدن پر ادا کرتا ہے اس کا نام خراج ہے اور یہ محض ٹیکس ہوتا ہے عشر بھی زکوٰۃ کی مانند ہے ۔ فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ خواہ مال پر کوئی نفع نہ ہو تو بھی ساقط نہیں ہوتی یہ مسلمانوں سے ہی وصول کی جاتی ہے اور ان کا خرچ بھی غیر مسلم پر جائز نہیں۔ تفصیل کے لئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع (رح) کی کتاب ” نظام الاراضی “ کی طرف رجوع کریں۔ فرمایا کہ خراب مال کو اللہ کی راہ میں دینے کا ارادہ نہ کرو۔ ایسا کہ اگر تمہیں اس طرح کا مال دیا جائے تو لینا پسند نہ کرو ، سوائے اس کے تمہیں مال وصول کرنا ہو تو سارا جاتا دیکھ کر چشم پوشی کر جائو کہ چلو کچھ تو وصول ہورہا ہے مگر اللہ تو محتاج نہیں کہ ایسی ویسی اشیاء قبول فرمائے۔ اچھی طرح جان لو ! کہ اللہ غنی اور بہت خوبیوں والا ہے یعنی اس کے تمام افعال مستوجب حمد ہیں۔ الشیطان یعدکم الفقر…………واللہ واسع علیم۔ ایسا نہ سوچو کہ صدقات ادا کرنے میں مفلس ہوجائوں گا۔ یہ وسواس شیطانی ہیں۔ ان میں پڑ کر خیرات سے ہاتھ نہ کھینچنا چاہیے بلکہ یہ تو بےحیائی کا مشورہ دیتا ہے اگر تم اس کے کہنے میں آگئے تو پھر صرف خیرات سے روکنے پر اکتفا کرے گا بلکہ عیاشی میں مبتلا کردے گا۔ اور یوں سمجھ آتی ہے کہ آجکل کے نوجوانوں کے بگڑنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ جو مال ان تک پہنچتا ہے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی ہوتی نتیجتاً وہ بےحیائی اور فحاشی پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو حلال کماتے ہیں مگر اس پر نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں نہ خیرات۔ جو جمع ہی حرام اور ناجائز ذرائع سے کرتے ہیں ، ان کا پھر کیا پوچھنا۔ اللہ کریم تو تمہیں خیرات پر مغفرت اور بخشش کی نوید سناتے ہیں کہ تمہارا خیرات کرنا تمہارے گناہوں کی بخشش کا سبب بن جائے گا اور وہ اپنے فضل کا وعدہ فرماتا ہے جس سے اجر آخرت میں زیادتی بھی مراد ہوسکتی ہے اور خیرات کے بدلے میں رزق کی زیادتی بھی۔ اس طرح اللہ کی راہ میں خرچ کرکے تم کئی گنا منافع دونوں عالم میں کماتے ہو اور اللہ کی خوشنودی اس کے سوا ہے اور اللہ تو اپنی کرم فرمائیوں کو وسیع کرنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا ہے کہ کس نے کس لئے دیا ؟ اور کب دیا ؟ سب باتوں سے آگاہ ہے۔ یوتی الحکمۃ ھن یسائ……………اولوالباب۔ حکمت کے معنی کسی قول یا عمل کو اس کے تمام اوصاف کے ساتھ مکمل کرنا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا استعمال بار بار ہوا ہے اور مختلف تفسیریں کی گئی ہیں مگر سب کا مفہوم یہی ہے۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد مفید ، صحیح علم اور اس کے مطابق عمل جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو ظاہراً یہ علم انبیاء (علیہم السلام) کا ہے تو سارا عالم حصول حکمت میں انبیاء سے رجوع کرے گا اور اس سے مراد دین کی سمجھ لیا جائے۔ ارشاد ہے کہ احکام دین کو سمجھنا اور ان کے فضائل وفوائد سے آگاہ ہونا ہی اصل عبادت ہے جو دونوں جہانوں کی بھلائی کا سبب ہے اور اللہ جسے چاہے عطا کردے اور جسے اللہ نے حکمت عطا فرمائی اسے بہت بڑی بھلائی خیر کثیر عطا فرمائی۔ اس سے سمجھ آتی ہے کہ اللہ جس پر انعام فرمائے اسے علوم انبیاء (علیہ السلام) کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور تب ہی اس کے دل میں دین کی عظمت جاگزیں ہوتی ہے۔ ایک حدیث پاک کا مضمون ہے کہ دنیا کا مال تو اللہ اپنے دشمن کو بھی دیتا ہے اور دوست کو بھی ۔ مگر دین صرف اپنے مقبول بندوں کو عطا فرماتا ہے اور نصیحت پذیر تو وہی ہوتے ہیں جو دانشمند ہوں یعنی خدا داد علوم پر وہی لوگ غور کرتے ہیں جن کا فہم شیطانی خیالات سے پاک ہو اور ایسا تفکر تب ہی ممکن ہے جس نفس امارہ مغلوب ہوجائے۔ نفس امارہ کو مغلوب کرنے کا نام تصوف ہے : اور اسی کا نام تصوف ہے اور ساری محنت اس شے کے حصول کے لئے کی جاتی ہے اس لئے اہل اللہ سے اخذ فیض کرنا ضروری ہے اور ایسے مجاہدات جن سے نفس مغلوب رہے۔ وما انفقتم ھن نفقۃ اونذرتم ھن ندر………………وما لظلمین من انصار۔ اور جس طرح کا خرچ بھی تم کرتے ہو ، اطاعت میں یا معصیت میں ، جائز ہو یا ناروا ، مخلصانہ ہو یا ریاکارانہ ، اچھا اور عمدہ ہو یا ناقص ، یا کوئی نذر جو تم مانتے ہو۔ عبادت بدنی ہو مالی میں سے ہو درست اور صحیح ہو یا ناجائز کہ نذر کے لئے ضروری ہے کہ از قسم فرض ہو اور فرض نہ ہو اور صرف اللہ کے لئے مانی جائے۔ جیسے نماز فرض ہے مگر یہ نذر نہ ہوگی کہ کوئی فجر یا کسی اور وقت کے فرائض کی نذر مانے بلکہ کئی رکعت نفل مانے گا۔ ایسے نفلی صدقات یا نفلی روزے اور حج۔ پھر اگر غلط نذرمانی اور پھر ایفا کیا یا نہ کیا۔ سب باتیں اللہ پر عیاں ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے سب کا اجر عطا فرمائے گا اور جو حدود و شرائط کی پرواہ نہیں کرتے غرض جو بھی بےقاعدگی اور نافرمانی کرتے ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں کہ انہیں اللہ کی گرفت سے بچا سکے۔ ان تبدو الصدقات فنعما ھی……………وانتم لا تظلمون۔ اگر تم علی الاعلان خیرات کرو تو بہت اچھی بات ہے بڑی اچھی مثال ہے مگر مشکل کام ہے اور کچھ نہ ہو تو کوئی نہ کوئی شمہ ریاء کا اس میں داخل ہو ہی جاتا ہے۔ بعض اوقات تکبر پیدا ہوجاتا ہے۔ اس میں اس طرح کی بہت سی مشکلات ہیں۔ آسان راستہ یہی ہے کہ صدقہ چپکے سے اور پوشیدہ طور پر کرو کہ لینے والے کا بھرم بھی رہ جائے اور تمہاری ذات بھی مشکلات میں نہ پھنسے پھر دنیوی فائدہ بھی ہے کہ مال کی مقدار عام آدمی پر ظاہر نہ ہو اس میں اگر کوئی ظاہری فائدہ نظر نہ آئے تو کیا حرج ہے۔ ہم اسے تمہارے گناہوں کی بخشش کا سبب بنادیں گے۔ تمہارے گناہ معاف ہوں گے درجات بڑھیں گے۔ یہ کفارہ سیات پوشیدہ صدقہ کے ساتھ مختص نہیں ہے ظاہراً صدقہ دیا جائے تو بھی حاصل ہوتا ہے مگر یہاں ارشاد ہے کہ مقصد اصلی تو یہی ہے کہ گناہ معاف ہوں ، اللہ کا قرب حاصل ہو ، سو ہوگا۔ کیونکہ اللہ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ چھپا کر خیرات کرنا رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور عزیزوں سے اچھا سلوک کرنا عمر بڑھا دیتا ہے اوکما قال۔ مفسرین کرام نے اس ضمن میں بہت احادیث جمع فرمائی ہیں۔ صدقہ نافلہ مومن وکافر سب کو دیا جاسکتا ہے اب اگر کوئی عزیز کافر ہے تو اس خیال میں نہ ہو کہ مسلمان ہوگا تو صدقہ دیں گے ورنہ نہیں کہ ہدایت اللہ کی عطا ہے جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف پھیرے گا ، ہدایت پالے گا۔ آپ ﷺ کا ذمہ نہیں ہے لیکن مربوب تو سب اسی کے ہیں روزی تو سب کو وہی دیتا ہے۔ سو صدقات نافلہ کو کافروں سے بھی نہ روکو کہ تم تو اپنی بھلائی کی خاطر خرچ کرتے ہو یعنی اس کا اجر تو تم ہی لو گے ، اب فقیر مومن ہے یا کافر ، کھاتا اللہ کے نام کا ہے اور سجدہ کسی اور کا کرتا ہے اس سے تمہیں کوئی سروکار نہیں ، یہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے نہ یہ تمہارا فقیر پہ کوئی احسان ہے کہ تم اس کی خاطر تو صدقہ نہیں کر رہے اپنی بہتری اور دونوں عالم کی بھلائی کے خواہاں ہو اور اللہ کی رضا کے طالب ہو تم اللہ کے جمال کے متلاشی ہو ، ، تمہاری تمنا بہت بلند ہے اور تمہاری آرزو لائق صدآفرین۔ پھر اتنی بلندی کے لئے جو سیڑھی بنائے جائے اس میں کیا ناقص مال لگانا چاہیے یا اسے کمزور سہاروں پر قائم کرنا چاہیے ؟ ہرگز نہیں ! مال بھی اچھا دو اور صرف اللہ پر اعتماد رکھو ، کہ جو شے بھی تم نیکی پہ خرچ کرو گے اس کا بدلہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا بلکہ کئی گناہ بڑھا کردیا جائے گا اور قطعاً تمہاری حق تلفی نہ کی جائے گی۔ یاد رہے صدقہ نافلہ غیر مسلم کو بھی دینا جائز ہے۔ فرض صدقات مثلاً زکوٰۃ عشروغیرہ جو وصول صرف مسلمانوں سے کئے جائیں گے وہ صرف مسلمانوں کو دیئے جائیں گے غیر مسلم کو دینا جائز بھی نہیں اور فرض بھی ادا نہ ہوگا۔ یہ فرض صدقات وہ ہیں جو اللہ نے مسلمانوں پر فرض کئے عہد نبوی ﷺ میں بھی وصول کئے گئے اور حضور ﷺ کے سفر آخرت کی خبر پاکر جن لوگوں نے زکوٰۃ کا انکار کیا ان کے ساتھ جہاد کیا گیا بالکل اسی طرح جیسے کفار کے ساتھ یا جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ اور ان منکرین کے ساتھ تین شبانہ روز کی جنگ کے سالار خود خلیفہ رسول ﷺ سیدناابوبکر صدیق ؓ تھے۔ اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، الکریم بنفس نفیس مجاہدین میں۔ پھر عہد فاروقی ، عثمانی اور علوی ؓ میں بدستور اسی پر حمل رہا۔ معاذ اللہ ! جو زکوٰۃ وعشر حضرت علی ؓ خود ادا کرتے رہے بحیثیت امیر سب مسلمانوں سے وصول کرکے صحیح مصرف پہ خرچ کرتے رہے ، اسے ساڑھے تین سو سال بعد سے شروع ہو کر بننے والے فقہ جعفریہ نے کیسے باطل کردیا ؟ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے ! للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ…………فان اللہ بہ علیم۔ خیرات ان فقیروں کے لئے ہے جو دینی امور کی وجہ سے یعنی حصول علم یا جہاد کی مصروفیت کی وجہ سے کہیں آجا نہیں سکتے کہ اپنی روزی کا اہتمام کریں اور ایسے باہمت لوگ ہیں کہ قناعت کی وجہ سے سوال تک نہیں کرتے جس کے باعث ناسمجھ لوگ انہیں مالدار سمجھتے ہیں مگر آپ ﷺ تو انہیں ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہیں۔ ان کے لباسوں کو بوسیدگی اور ان کے چہروں کی زردی ان کے حال کی غماض ہے ، اگرچہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ یعنی جو لوگ گداگری کو خلاف شان سمجھتے ہیں اور دینی امور میں منہمک ہیں کہ دنیاوی کاموں کے لئے وقت نہیں نکال سکتے۔ فاقہ زدہ چہرے اور بوسیدہ کپڑے ان کے پائے اثبات کو نہیں ہلا سکتے۔ ان پر صدقات کو صرف کرنا سب سے افضل ترین ہے اور جو بھی مناسب چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس سے آگاہ ہے خوب علم رکھتا ہے۔
Ayahs 2:274–281

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا خرچ کرتے ہیں رات کو اور دن کو ، پوشیدہ اور ظاہر تو ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا ثواب ہے اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوں گے (قبروں سے) مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان لپٹ کر خبطی بنادے یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی مثل سود کے ہے اور حلال کیا ہے اللہ نے بیع کو اور حرام کیا ہے سود کو پھر جس (شخص) کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی پھر وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے ہوچکا تو وہ اسی کا رہا اور اس کا (باطنی) معاملہ اللہ کے حوالے اور جو پھر عود (پلٹ کر ایسا) کرے تو یہ لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں اور اللہ کسی کفر کرنے والے گنہگار کو دوست نہیں رکھتے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کا مکیے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دی ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا ثواب ہے اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو سود کا بقایا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم (واقعی) ایمان والے ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے اصل مال تمہارے ہیں نہ تم زیادتی کرو اور نہ تم پر زیادتی کی جائے

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر (قرض دار) تنگ دست ہو تو کشادگی تک مہلت دو اور اگر معاف ہی کردو تو تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کو (اس کے ثواب کی) خبر ہو

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے پھر ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان سے زیادتی نہ کی جائے گی

274 تا 281 اسرارو معارف الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔ جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر ؓ ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎ آں امن الناس بر مولائے ما آں حکیم وادی سینائے ما دولت اوکشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغار وبدر وقبر یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان کے بعد امید کرسکتا ہے۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کی جاں نثاریوں کا بدلہ محفوظ ہے۔ نہ انہیں اپنی حق تلفی کا یا اپنے کئے پر پشیمانی کا یا عذاب الٰہی کا خوف ہی ہوگا۔ نہ آئندہ کا غم کہ کل کیا ہوگا۔ ان کا کل ان کے آج سے بھی درخشاں ہوگا۔ والحمد للہ علی ذالک اللھم ارزقنا ابتاء عھم۔ جوشخص بھی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ایسے ہی اعلیٰ انعامات کا امیدوار ہوگا۔ صدقہ مال کو بغیر کسی مادی نفع کی امید کے اللہ کی رضا کے لئے دینے کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابل ربو ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے۔ ارشاد ہے ، الذین یا کلون الربوا…………ھم فیھا خالدون۔ کہ جو لوگ سود لیتے ہیں اگرچہ یہاں ارشاد سود کھانا ہے مگر مراد سود کا لینا ہی ہے خواہ کھانے میں استعمال کرے یا لباس میں یا مکان وغیرہ کے بنانے میں۔ مطلقاً سود لینا ہی سود کھانا ہے کہ سود خور کو حاصل کردہ رقم پر مکمل قبضہ اور تصرف حاصل ہوتا ہے اور اس کی واپسی کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے سود لینے کو سود کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ لوگ قیامت کو اس طرح کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے ان سے لپٹ کر ان کو خبطی بنادیا ہے۔ جنات و شیاطین کا اثر : اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنات و شیاطین کے اثر سے انسان بےہوش یا مجنون ہوسکتا ہے یہ بات کتاب اللہ ، احادیث مبارکہ اور متواتر مشاہدات سے بھی ثابت ہے اور اطبانے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ صرع ، جنون یا بےہوشی کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب جنات کا اثر بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ جزا از قسم اعمال ہوا کرتی ہے۔ دنیا میں سود خوار ایسا مدہوش تھا کہ کسی کی غربت اور بےکسی کی پرواہ تھی نہ احکام الٰہی کی۔ آخرت میں اٹھا تو ایسا خبطی تھا جیسے کسی کو جنات لپٹ کر مخبوط الحواس بنادیں۔ کہ یہ دنیا میں کہتا تھا سود مثل بیع ہی تو ہے۔ کہ اشیاء کی خریدوفروخت سے مقصود دولت کو بڑھانا اور نفع کمانا ہے اور سود سے بھی دولت کی بڑھوتری ہی مراد ہے تو پھر تم لوگوں نے بیع کو کیوں حلال سمجھ رکھا ہے اور وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام اور اللہ مالک الملک والملکوت ہے وہ ساری مخلوق کے نفع نقصان کو خود مخلوق سے بہت ہی زیادہ جانتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ حاکم ہے جب اس نے حکم دے دیا تو بات ختم ہوگئی۔ بیع حلال اور ربو حرام ، کسی کو اس کی ذات پر اعتراض کرنے یا سوال کرنے کا حق ہی حاصل نہیں۔ دوسری بات یہ کہ سود کو حلال کہنے والے کی دلیل تو عقلی تھی اور جواب حاکمانہ ہے عرض ہے اللہ حاکم بھی ہے اور رب العالمین بھی۔ وہ مجموعہ نظام عالم کا خالق بھی اور ساری مخلوق سے اور مخلوق کے بھلے برے سے آگاہ بھی۔ جب اس نے حرام کردیا تو ظاہر ہے اس میں ضرور نقصان چھپا ہوا ہوگا اور خباثت بھی خواہ ہم اس کو کسی حد تک جان سکیں یا بالکل ہی نہ جان سکیں کہ ہم اپنے نفع ونقصان کو تو ممکن ہے کسی حد تک سمجھ سکتے ہوں مگر پورے عالم پر کیا گزرے گی یا پوری قوم پر کیا اثر ہوگا ؟ اسے وہی علیم وخبیر جانتا ہے۔ جس کے پاس اللہ کی نصیحت پہنچی اور وہ سود کو حلال کہنے کے کفریہ فعل سے باز آگیا اور سود لینا بھی چھو ڑ دیا ، تو اس سے پہلے جو کچھ وہ لے چکا ہے وہ اسی کا ہوا اور ظاہراً اس کی توبہ قبول ہوئی ، اگرچہ اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے یعنی صحیح تائب ہوا ہے یا نہیں۔ یہ اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس سے باز پرس کرے گا لیکن اگر توبہ کے بعد پھر سود لینا شروع کردیا تو یہ فعل اسے دوزخ میں لے جائے گا اور اگر حرام جان کر بھی کھائے تو بھی۔ ہاں ! حرام جاننے والا ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا۔ واللہ اعلم۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد وگرامی ہے کو جو گوشت حرام لقمے سے بنا اس کے لئے آگ ہی سزاوار ہے نیز یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ابن کثیر اور صاحب مظہری رحمہم اللہ تعالیٰ نے احادیث نقل فرمائی ہیں جن میں ارشاد ہے کہ سود کے ستر گناہ ہیں اور ادنیٰ یہ ہے کہ کوئی اپنی ماں سے زنا کرے۔ العیاذ باللہ ! یہ گناہ اسے دوزخ میں لے جائے گا اور اگر حلال جانتا ہے تو یہ کفر ہے پھر ہمیشہ دوزخ ہی میں رہے گا۔ بیع کیا ہے ؟ اور ربوٰ کسے کہا جائے گا یہ بحث تفسیر مظہری میں دیکھ لی جائے۔ یا صاحب معارف القرآن نے بہت اعلیٰ انداز میں بیان فرمایا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ بحق اللہ الربو …………کفار اثیم۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے اور صدقات کو بڑھاتے ہیں اور کسی کافر یعنی سود کو حلال جاننے والے یا بدکار یعنی سود جیسا کبیرہ گناہ کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے بلکہ مبغوض رکھتے ہیں یاد رہے کہ سود لینے والا ، دینے والا یا سود کی دستاویز لکھنے والا سب برابر کے گنہگار ہیں نیز جس لالچ میں سود خور کام کرتا ہے وہ ہو بھی نہیں پاتا کہ اللہ سود کو مٹاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سٹے کے بازاروں میں بڑے بڑے کروڑ پتی دیکھتے دیکھتے دیوالیہ ہوجاتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ دولت فی نفسہ مقصود نہیں ، نہ سونا چاندی کوئی کھانے کی چیز ہے بلکہ مقصود دولت سے ان اشیاء کا حصول ہے جو جسم کو آرام پہنچادیں تو اول سود خور اپنے آرام کے لئے بھی خرچ نہیں کرتا اگر کوئی کرے بھی تو جب اللہ آرام اندر نہیں پہنچنے دیتے تو ظاہری اسباب کا کیا فائدہ۔ ان محلوں میں رہنے کا کیا سکھ جن میں نیند کی گولیوں کے بغیر رات بسر نہ ہو اور پھر آخری بات یہ ہے کہ سارا جمع شدہ مال تو دنیا میں رہ گیا لیکن ابدی زندگی کے لئے ایک بہت بڑا عذاب بن کر مسلط ہوگیا۔ صاحب تفسیر مظہری نے ایک حدیث واقعہ معراج کے بارے میں نقل فرمائی ہے کہ میں نے کچھ لوگوں کو راستے میں پڑا ہوا دیکھا جن کے پیٹ بڑی بڑی کوٹھڑیوں جتنے تھے اور ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو باہر سے نظر آتے تھے پھر دور سے لوگوں کے دوڑنے کی آواز آئی تو ان لوگوں نے راستے سے ہٹنا چاہا مگر وہ پیٹ انہیں اٹھنے نہ دیتے تھے حتیٰ کہ وہ لوگ آپہنچے اور انہیں روند کر گزر گئے۔ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے راستے میں پڑے ہیں اور انہیں روند کر گزرنے والے فرعونی ہیں جو صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں جو دوڑتے ہوئے چیخ اٹھتے ہیں کہ اللہ کبھی قیامت قائم نہ ہو۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ خون کی نہر میں کچھ لوگ تھے جو کنارے پر آتے تر فرشتہ منہ میں پتھر ٹھونس دیتا۔ پھر لڑھکتے ہوئے واپس چلے جاتے۔ پوچھنے پر جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ سود خوار ہیں۔ ایسے طرح طرح کے عذاب تو برزخ میں ہو رہے ہیں آخرت میں اس سے کہیں شدید ہوں گے۔ رہا معاملہ صدقات کا تو اللہ ایسے آدمی کے مال میں برکت دیتا ہے۔ اس کا دل مطمئن رہتا ہے وہ تنکوں پر ایسی راحت پاتا ہے جو سود خوار کو محل میں نصیب نہیں ، اور پھر آخرت میں اس کا مال ہزاروں گنا بڑھا کر اسے اجر کی صورت میں ملتا ہے یہاں تک ارشاد ہے کہ جو اللہ کی راہ پر ایک کھجور دے اللہ اس کی پرورش فرماتا ہے حتیٰ کہ وہ کھجور احد پہا ڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کبھی دیوالیہ ہوتے نہیں دیکھے بلکہ ان کے مال میں برکت ہوتی ہے ۔ زندگی پرسکون اور اخروی اجر کا اندازہ ممکن نہیں جو مقصود ہے اور حقیقی زندگی کی حقیقی راحت بھی ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا ، اس کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے جو سود خواروں کو نصیب نہیں۔ ان الذین امنوا……………ولاھم یحزنون۔ پھر ابدی راحت کا صحیح راستہ ارشادفرمادیا۔ جو صرف ایک ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یعنی تکمیل ایمان یہ ہے کہ انسان کا عمل اس کے عقیدے کے تابع ہوجائے زندگی کے تمام امور ، معاملات ہوں یا اخلاقیات سب اس عقیدے کے تابع ہوں جس کا وہ مدعی ہے اور پھر عبادات کے لئے اپنی ممکن کوشش صرف کردے۔ اقام الصلوٰۃ یعنی نماز کو قائم کرے پوری محنت ، پورے خلوص کے ساتھ۔ نماز اور زکوٰۃ ارشاد فرما کر جو مقصود عبادات ہیں بدنی ہوں یا مالی ، پورے خلوص سے ادا کرے تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے رب کے پاس انعامات اور اجر ہے جنہیں نہ کسی قسم کا ڈر ہوگا اور نہ افسوس۔ جو گزشتہ پر بھی اللہ کا شکر ادا کر رہے ہوں گے۔ اور آئندہ بھی اللہ کی نعمتوں میں روز افزوں زیادتی کے امیدوار۔ یایھا الذین امنوا تقو اللہ…………وھم لا یظلمون۔ (278- 281) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو۔ اللہ کی رضامندی اور خوشنودی کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دو اور سود چونکہ اللہ نے تمہارے لئے حرام قرار دیا ہے جو باقی ہے سب چھوڑ دو ۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور تم نے صدق دل سے ایمان قبول کیا ہے تو پھر اطاعت کے سوا کوئی راستہ نہیں اور اگر تم باز نہ آئے تو ظاہر ہے صرف دعویٰ ایمان ہے ورنہ سود جیسی لعنت میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت تھی ؟۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہوجائو ! یعنی سود کو مسلمان حاکم زبردستی روک دے اور اگر سود خواروں کی جماعت ہو جن کو روکنے کے لئے لڑنا پڑے تو ان سے جہاد کیا جائے گا ۔ جب تک وہ تائب نہیں ہوجاتے۔ یہی حکم نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کا ہے کہ انکار کرنے والا قطعی کافر ہو کر مرتد ہوگا اور واجب القتل۔ اگر کثیر جماعت ہے تو اس کے ساتھ جہاد مسلمان امیر پر فرض ہے تاوقتیکہ وہ توبہ کریں یا قتل ہوں ، اور اگر نہ انکار کرے نہ عمل کرے تو فاسق ہوگا اور حاکم اسے قید کرے تاوقتیکہ وہ تائب ہو۔ اگر بغیر توبہ کے مرجائے تو نہ جنازہ پڑھا جائے گا اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوگا۔ فرمایا اگر تم توبہ کرلو تو تم اصل مال لینے کے حقدار ہو نہ تم کسی سے زیادہ لے کر ظلم کرو ، اور نہ کوئی تمہارا اصل مال روک کر تم پر زیادتی کرے۔ یہاں ثابت ہوتا ہے کہ سود خوار اگر توبہ نہ کرے تو اس کا اصل مال بھی ضبط کیا جائے گا۔ اسے نہیں مل سکے گا۔ ہاں ! اگر جس سے اصل مال واپس لینا ہے اسے تنگی میں پائو تو اسے مہلت دو صبر سے کام لو ، اس پر احسان کرو۔ تاوقتیکہ اللہ اسے فراخی دے اور وہ مال واپس کرنے کے قابل ہوجائے۔ لیکن اگر بالکل ہی بےبس ہے تو صدقہ کردو۔ اللہ کے لئے چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر اور بہت بڑے اجر کا سبب ہے۔ اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت اعلیٰ نیکی ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے۔ بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ غریبوں کو تنگی کی حالت میں ادائے قرض کی مہلت دینے والے یا اللہ کے لئے معاف کرنے والے لوگ عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے جبکہ میدان حشر میں اس کے سوا کوئی سایہ ہ ہوگا۔ فرمایا کہ اس دن کا خیال کرو اور اس روز کے لئے اپنی کوئی جائے پناہ بنالو۔ جس روز تم سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائو گے اور پھر ہر کسی کو اس کی محنت یا کارکردگی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی سے کوئی زیادتی نہ کی جائے گی ، جو کچھ کسی نے دنیا میں عقیدہ وایمان رکھا ، اس کے مطابق اور جو کچھ اس نے کیا اس پر جو بھی اجر ملنا چاہیے عذاب یا ثواب ہر کسی کو بغیر کسی کی حق تلفی کئے دیا جائے گا۔ سبحان اللہ ! انداز بیان ایسا ہے کہ گناہ بخشش کی گنجائش ہے مگر نیکی کے زیاں کا کوئی امکان نہیں۔