2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:189–196

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

آپ سے چاندوں کے بارے پوچھتے ہیں۔ فرما دیجئے یہ لوگوں کے لئے وقت کی شناخت ہے اور حج کے لئے۔ اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کے پیچھے سے آؤ اور لیکن نیکی پرہیزگاری اختیار کرنے میں ہے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاسکو

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو تم سے قتال کریں ان سے اللہ کی راہ میں قتال کرو اور زیادتی نہ کرو یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتے

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا تھا انہیں نکال باہر کرو اور شرارت قتل سے بھی سخت تر ہے اور ان سے مسجد حرام کے قریب مت لڑو یہاں تک کہ وہ تم سے وہاں لڑنا نہ شروع کردیں سو اگر وہ تم قتل کریں تو ان کو قتل کرو (کہ) کافروں کی یہی سزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پس اگر وہ باز آجائیں تو یقینا اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس حد تک لڑو کہ فتنہ (کفر) ختم ہوجائے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو پس اگر وہ باز آجائیں تو سوائے غلط کاروں کے کسی پر زیادتی نہ ہوگی

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے مقابل ہے اور حرمتیں (ایک دوسرے کا) بدلہ ہیں سو اگر کوئی تم سے زیادتی کرے تو تم بھی اس سے اتنی زیادتی کرو جتنی زیادتی اس نے تم پر کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہیں

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور (انپے آپ کو) اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تم روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کرو اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ پھر اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس کا فدیہ (بدلہ) روزوں یا صدقہ یا قربانی سے دے پھر جب تم امن میں ہو تو جو کوئی حج کے وقت میں عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے تو جو میسر ہو وہ قربانی دے پھر جسے (قربانی) میسر نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور سات جب تم واپس پہنچو یہ پورے دس ہوئے یہ اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام (مکہ مکرمہ) میں نہ رہتے ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں

آیات 189- 196 اسرارو معارف یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔ یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔ عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا : اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا۔ اگرچہ شمسی نظام سے بھی سال اور مہینوں کا حساب لگایا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے آلات رصد اور قواعد ریاضی کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس چاند کے طلوع سے خاتمہ تک مہینہ شمار کرنے کے لئے کسی آدمی کو تکلیف نہیں ہوتی۔ خواہ کسی دور دراز جنگل میں کیوں نہ بستا ہو۔ اسی لئے شریعت اسلامیہ نے تمام عبادات میں قمری مہینوں کو اور اس کے حساب کو فرض قرار دیا ہے اور عام معاملات میں بھی اسی کو پسند فرمایا ہے۔ چاند کے گھٹنے بڑھنے سے مراد انسان کے لئے وقت کی پیمائش کا ایک قدرتی آلہ مہیا کرنا ہے۔ اگر سوال یہی تھا تو جواب ہوگیا۔ لیکن اگر سائل کی مراد گھٹنے بڑھنے کی حقیقت جاننا تھا تو اس جواب سے واضح ہوا کہ اس سے انسان کے لئے کوئی صالح وابستہ نہیں۔ اس لئے اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا جس سے ظاہر ہے کہ انسان کو اس حد تک تحقیق کرنا چاہیے جہاں تک انسانی مصالح وابستہ ہوں فضول جستجو میں وقت ، محنت اور دولت کو ضائع نہ کیا جائے۔ اجرام سماوی کی حقیقت اول تو انسانی علم کی زد سے باہر ہے ، دوسرے اس کے جاننے یا نہ جاننے سے اس کی عملی زندگی کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے یہ ساری کاوش فضول ہے ورنہ چاند کے طلوع غروب سے بیشمار قدرتی اثرات بھی وابستہ ہیں ، جیسے پھلوں میں مٹھاس وغیرہ۔ مگر چونکہ انسان نہ اس کو طلوع کرنے پر قادر ہے نہ غروب ، نہ اس کی روشنی کو کم یا زیادہ کرنے پر۔ اور نہ اس کے اثرات گھٹا بڑھا سکتا ہے۔ اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ اس سے ماہ وسال شمار کرے خصوصاً مسلمان اوقات عبادات کے مہ وسال اسی سے شمار کرے۔ یہ چان پر جابسنے کے خیال کچھ دولت اور وقت کا ضیاع ہے یہی کروڑوں ڈالرزمین پر انسانی سہولت کے لئے خرچ ہوتے تو دوسرے کروں پر بھاگنے کی ضرورت نہ رہتی اور اگر کوئی دوسرے کروں پر چلا بھی گیا تو اصلاح کے لئے وہاں بھی ایٹم بم ہی لے جائے گا پھر فائدہ ؟ اور پھر یہ نیکی نہیں ہے کہ تم عبادات کے لئے رواج کی پیروی کرو۔ جیسے حج کے زمانے میں مشرکین گھروں میں دروازے سے داخل نہیں ہوتے مگر جانا بھی ضروری ہے تو پیچھے سے دیوار پھاند کر اندر جاتے ہیں ، یہ کوئی تک نہیں بلکہ نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے مالک حقیقی سے حیا کرے اور اس کی فرمانبرداری میں لگا رہے۔ اس کے حکم کے مقابلے میں کسی رواج کی کوئی حیثیت نہیں کسی فعل کو نیک ثابت کرنے کے لئے اسے سنت سے ثابت کرنا ہوگا۔ چونکہ یہ اقدام سنت میں نہیں لہٰذا یہ کوئی نیکی نہیں۔ دراصل کتاب اللہ کے احکام بھی ثابت سنت خیرالانام ﷺ ہی سے ہوں گے۔ ورنہ یار لوگ مختلف لغات کا سہارا لے کر بات کو کہیں سے کہیں لے جائیں گے۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کی ناراضگی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرو کہ تمہاری بھلائی اسی میں ہے اور نہ صرف دین کے مقابل رواج رپ عمل ہی چھوڑ دو بلکہ جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اور دین کی جگہ اپنا رواج جاری کرنا چاہتے ہیں ان سے جنگ کرو اللہ کے لئے ، اس کی رضا کے لئے کرو۔ کسی انتقامی جذبے سے یا ذاتی غرض سے نہ سوچو۔ چونکہ وہ بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے ان سے بھی زیادتی نہ کرو۔ یہ بات خوب یادرکھو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسی لئے جنگ لو جہاد کا نام دیا گیا ہے کہ اس میں مقابل کی بھلائی بھی پیش نظر ہوتی ہے اور اس کی اصلاح احوال بھی مقصود یہی وجہ ہے کہ جہاں مسلمان بحیثیت فاتح داخل ہو ، مقابل کے دل بھی فتح کرلئے اور جو جگہ کفار کے قبضہ میں آئی وہاں کی زمین بھی ان کے ظلم سے تھرا اٹھی تہذیب مغرب کے دلدادہ بیت المقدس پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے قبضہ کے حالات پڑھ کر اندازہ کرسکتے ہیں۔ گر کافر تم پر زیادتی کرنا چاہیں تو بھی بےجگری سے لڑو اور ہوسکے تو جس طرح انہوں نے تم سے شہر خالی کرالیا تھا تم بھی انہیں نکال باہر کرو کہ فتنہ یعنی شرانگیزی اور دین کی مخالفت کرکے فساد مچانا یا اس کی کوش کرنا قتل سے زیادہ سخت جرم ہے جس کے مرتکب ہو رہے ہیں نیز اس سارے قتال میں بھی اللہ کی عظمت پیش نظر رکھو اور حدود حرم میں لڑائی سے پرہیزکرو۔ ہاں ! اگر وہ لوگ وہاں تم سے لڑنا شروع کردیں تو پھر تمہیں اجازت ہے دفاعی جنگ ضرور لڑو اور ایسی جم کر لڑو کہ ان کے پرخچے اڑادو ” فاقتلوھم “ اور کافر اسی سلوک کا مستحق ہے کہ جب وہ مسلمانوں سے زیادتی کرے تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے۔ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب حضور ﷺ حدیبیہ کے بعد اگلے سال عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تو اگرچہ مشرکین کا حضور ﷺ کے ساتھ معاہدہ تھا مگر صحابہ کرام ؓ کو اعتبار نہ تھا۔ اس دور میں چار مہینے حرمت کے مقرر تھے ذیقعد ، ذی الحجہ ، محرم تین ماہ مسلسل اور چوتھا رجب۔ اسلام نے بھی ان کی حرمت باقی رکھی جو بعض حضرات کا خیال میں 7 ہجری میں منسوخ ہوگئی مگر بایں ہمہ اب بھی ان کا وہی احترام باقی ہے اور باجماع ان میں صرف دفاعی جنگ لڑنے کی اجازت ہے۔ (معارف) اس وقت بھی ان میں کوئی کسی سے زیادتی نہ کرتا تھا اور لوگ بےخوف سفر کرتے تھے پھر حرم کی حرمت بھی تھی جو ابھی تک ہے اور قیامت تک رہے گی کہ حرم میں شکار بھی نہ مارا جائے حتیٰ کہ سبز گھاس تک نہ کاٹی جائے تو چونکہ مسلمان تو حرم کی عزت کریں گے لیکن مشرکین اگر معاہدہ توڑ کر آپ ﷺ کو نقصان پہنچانا چاہیں تو ؟ اللہ کریم نے یہ آیات نازل فرما کر ضابطہ مقرر کردیا کہ حرم کی حرمت کا خیال رکھو لیکن اگر کافر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہیں تو ایسا مت ہونے دو ۔ اسی صورت میں فقہاء فرماتے ہیں کہ حد حرم میں اگر کوئی کسی کو قتل کرنا چاہے تو اپنا دفاع کرنے کی اجازت ہے ۔ سو اگر ایسی صورت ہو تو انہیں بےدریغ قتل کرو۔ خواہ وہ کہیں ہوں ، حرم میں یا بیت اللہ کے پردوں میں چھپنے کی کوشش کریں۔ مگر ہاں زیادتی نہ کرو یعنی جو نہ لڑے یا لڑنے کے قابل ہی نہ ہو۔ بچہ ، بوڑھا ، عورت وغیرہ انہیں مت چھیڑو زیادتی اللہ کو پسند نہیں اور ان سب زیادتیوں کے بعد بھی اگر کافر باز آجائیں تو اللہ بہت بڑا معاف کرنے والا ، اور رحم کرنے والا ہے۔ سبحان اللہ ! دوستاں راکجا کنی محروم تو کہ بادشمناں نظرداری لیکن اگر باز نہ آئیں تو ان سے جنگ کرو۔ اور اس وقت تک ہتھیار نہ رکھو۔ جب تک فساد کی کوئی چنگاری باقی ہے حتیٰ کہ فساد مٹ جائے اور اللہ کی حکومت قائم ہو۔ اللہ کی مخلوق پر اللہ کا قانون نافذ ہو اور انسانی خواہشات کے پلندے کو قانون کا نام دے کر کسی پر نہ ٹھونسا جائے ہر انسان خواہ مسلم ہو یا کافر اللہ کی مقرر کردہ حدود میں اپنا مقام اور حق حاصل کرسکے۔ اور اگر کفار سرکشی سے باز آجائیں تو سوائے ان لوگوں کے جن کے ذمے جرائم ہوں سب کو معاف کردو۔ یعنی محض اسلام دشمنی کی سزا نہ دو کہ اس سے تو وہ باز آچکے۔ ہاں ! کسی نہ کسی پر زیادتی کی ہو تو اس سے اس کا حق دلوایا جائے۔ یہی حال شہر حرام کا ہے کہ اگر وہ اس کا خیال رکھیں تو پھر درست لیکن اگر وہی پرواہ نہ کریں تو دفاعی جنگ سے مت ہٹو کہ یہ حرمت تو بدلے کی چیز ہے۔ اگر وہ کریں گے تو پائیں گے بھی۔ ورنہ سارا وبال ان کی گردن پر اور جو بھی تم سے زیادتی کرے ویسا ہی اسے جواب بھی دو ۔ اور یادرکھو کہ یہ زیادتی تم پر کیوں کرتا ہے تمہارا جرم کیا ہے کہ تم نے دین حق قبول کیا۔ تو تم جواب دیتے وقت حق کو سامنے رکھو اور دفاع کرو ، کبھی زیادتی کرنے والے نہ بن جائو۔ کہ تائید باری ہمیشہ متقی یعنی اللہ سے حیاء کرنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ انفاق اگرچہ عموماً دولت خرچ کرنے کے معنوں میں آتا ہے لیکن یہاں اس کا بہتر ترجمہ اپنی ساری توانائی کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے کہ جہاں دولت کی ضرورت ہو وہاں دولت ، جہاں تعاون کی ضرورت ہو وہاں تعاون ، جہاں زبان وقلم سے کام چلے وہاں زبان وقلم اور جہاں جان کا نذرانہ درکار ہو وہاں جان دے۔ یعنی یہ چندروزہ زندگی اور عارضی اقتدار اور وقتی دولت یہ سب کچھ اللہ کے لئے خرچ کرو تاکہ تم اس کا اعلیٰ بدلہ پائو نہ یہ کہ ان پر نثار ہوتے رہو۔ اور اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کے اسباب کر بیٹھو۔ ولا تلقوا بایدکم الی التھلکۃ۔ یعنی اپنی تباہی کے باعث نہ بنو کہ آج تم ان چیزوں کو محبوب رکھو اور مقصد حیات بنالو تو کل یہ تو چھن ہی جائیں گی اور اللہ کی راہ میں محنت نہ کرنے سے آخرت بھی گئی۔ سو ہمیشہ نیکی کے کاموں میں سبقت کرو۔ بھلائی کرو کہ اللہ اچھائی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ اچھائی نام ہے سنت خیرالانام ﷺ کا۔ جو کام بھی سنت رسول ﷺ کی حدود کے اندر ہو ، اچھائی ہے اور اس کا کرنے والا اللہ کا محبوب۔ فقہاء کی رائے میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی بعض مصارف ایسے ہیں جن کو پورا کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے جیسے جہاد کے اخراجات ، اور اگر ضرورت پیش نہ ہوگی تو فرض بھی نہ ہوں گی۔ ترج جہاد ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے وقت لوگوں میں گفتگو ہوئی کہ اب جہاد کی ضرورت اتنی نہیں رہی اب کھیتوں وغیرہ میں زیادہ محنت کرنی چاہیے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بعض کے نزدیک ایسی حالت میں کہ سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو شہید کروایا جائے دشمن کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ لڑنا بھی اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ۔ مگر یہ معنی بہت بعید ہیں اور اگرچہ اس آیت سے مستفاد ہوتے ہیں مگر ان چیزوں کا مدار خلوص نیت پر ہے۔ اسی لئے ارشاد ہے واحسنوا کہ ہر کام خلوص نیت اور صمیم قلب سے کرو کہ خود رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تفسیر حدیث جبریل میں یہ ارشاد فرمائی ہے کہ عبادت اس طرح کرو ، جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ اعتقاد لازم ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ حج : باب البر میں گیارہواں حکم حج کا ہے جو مذکورہ آیت سے لے کر 203 نمبر آیات تک مسلسل بیان ہورہا ہے۔ حج باجماع امت ارکان اسلام میں سے ہے اور ایک اہم فرض ہے جس کی تاکید واہمیت کتاب وسنت میں بکثرت وارد ہے بحوالہ ابن کثیر جمہور کے قول کے مطابق ہجرت کے تیسرے سال آل عمران کی آیت واللہ علی الناس حج البیت……میں اس کی شرائط کا بیان ہے اور باوجود طاقت رکھنے کے حج نہ کرنے پر سخت وعید ہے۔ مگر یہ آیت قصہ حدیبیہ میں نازل ہوئی جو 6 ہجری کا واقعہ ہے اس لئے فرضیت حج کا ذکر نہیں بلکہ حج وعمرہ کے ارکان کا بیان ہے کہ عمرہ کا بیان سورة آل عمران کی آیات میں نہیں۔ تو یہاں یہ مذکور ہے کہ حج وعمرہ بذریعہ احرام شروع کردینے سے واجب ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ عمرہ واجب نہیں بلکہ سنت ہے اور یہی ائمہ کے اقوال سے ثابت ہے۔ یہاں جس طرح پہلی آیات میں احسان کا ذکر ہورہا ہے اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ حج وعمرہ بھی صرف اور صرف اللہ کے لئے ادا کرو اس سے غرض ا صلی اللہ کی رضا کا حصول ہو ، نہ محض سیروتفریح مراد ہو ، نہ تجارت اور نہ ہی شہرت کی غرض ہو ۔ اگرچہ یہ سب چیزیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں سیریں بھی ہوتی ہیں اور کچھ نہ کچھ خریدوفروخت بھی۔ لوگ ” حاجی صاحب “ بھی کہتے ہیں مگر اس کا حصول مراد نہ ہو۔ اس کی جانچ اس طرح ہوسکتی ہے کہ اگر سفر میں ہم ارکان حج کی ادائیگی میں متفکر ہیں تو یقینا نیت درست ہے پھر تو آدمی ایک ایک رکن کو پوچھ پوچھ کر اور پوری محنت سے ادا کرے گا اور اگر ہم نے ارکان تو بجائے خود نمازوں تک کی ادائیگی میں کوتاہی برتی تو پھر اپنے دل کو ٹٹولنا چاہیے کہ اس تمام سفر کا آخر مقصد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرمایا اللہ سے ڈرتے رہو۔ ان اللہ شدید العقاب کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ ہمارے زمانے کے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سفر ہر حال میں مبارک ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر سفر حج میں بھی اور ارکان حج کی ادائیگی میں بھی لاپرواہی اور کوتاہی کو اختیار کیا تویہی بات غضب الٰہی کو دعوت دینے کا سبب بن گئی۔ جہاں ایک نماز ایک لاکھ کا ثواب پاتی ہے وہاں کی نماز کو چھوڑ دینا بھی گویا ایک لاکھ کو ضائع کرنا ہے۔ اب احکام کو لیجئے ! تو پہلا حکم یہی ارشاد ہوا کہ اگر احرام باندھنے کے بعد تمہیں کوئی عمرہ ادا کرنے سے روک دے جیسے اس واقعہ میں مشرکین نے حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کی جماعت کو روک دیا تھا تو قربانی دے کر احرام کھول لے۔ جس کی شکل بال منڈوانا یا کٹوانا ہے اور قربانی بکرے ، گائے یا اونٹ جو میسر ہودے سکتا ہے نیز قربانی حد حرم میں ذبح کی جائے۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک اگر خود نہ پہنچ سکتا ہو تو کسی دوسرے کے ہاتھ روانہ کردے۔ اسی سے ثابت ہے کہ احرام کی صورت میں بال کٹوانا منع ہے اگرچہ یہ حکم دشمن کے روکنے کی صورت میں ہے مگر ائمہ نے باشتراک علت بیماری وغیرہ کی مجبوری کو اس میں داخل کیا ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے کہ اگر مجبوری کی شکل میں قربانی دے کر احرام کھول دے مگر جب یہ مجبوری ہٹ جائے تو قضا کرے کہ اس کی قضا واجب ہے۔ چونکہ سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا ہی احرام کھولنے کی علامت ہے لیکن اگر کوئی شخص بیماری یا مجبوری کی وجہ سے سر یا بدن کے کسی دوسرے حصے کے بال کٹانے پر مجبور ہو تو بقدر ضرورت بال تو کٹوالے مگر اس کا فدیہ ہے کہ روزے رکھے صدقہ دے یا قربانی دے۔ قربانی تو حد حرم میں کرے روزے یا صدقہ جہاں بھی ادا کرے سنت ہے ، نیز قرآن میں تو کوئی عدد یامقدار مذکور نہیں مگر حدیث سے ثابت ہے کہ تین روزے یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع گندم بطور صدقہ دے (بخاری) آدھا صاع تقریباً پونے دو سیر کا ہوتا ہے یا اس کی قیمت ادا کردے۔ قبل از سلام کے رواجات میں یہ بھی تھا کہ جب حج کہ مہینے شروع ہوجائیں یعنی ماہ شوال سے حج وعمرہ کو جمع کرنا گناہ ہے تو یہاں اس کی اصلاح کردی گئی ہے کہ جو لوگ حدود میقات کے اندر رہتے ہیں وہ تو حج اور عمرہ جمع نہ کریں کہ ان کو عمرہ کی غرض سے سفر کرنا دشوار نہیں ، مگر باہر سے آنے والوں کو حج کے ساتھ عمرہ جمع کرنے کی اجازت ہے۔ میقات وہ مقامات ہیں جو اطراف عالم سے آنے والے حجاج کے لئے ہر راستہ پر متعین ہیں اور حج یا عمرہ کا احرام باندھے بغیر وہاں سے آگے بڑھنا گناہ ہے۔ البتہ جو لوگ حج وعمرہ کو جمع کریں ان پر شکرواجب ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ایک قربانی دے گائے یا اونٹ۔ لیکن اگر اس کی ہمت نہ رکھتا ہو تو پھر اس پر دس روزے واجب ہیں جن میں سے تین ایام حج میں رکھے یعنی نویں ذوالحج تک پورے کردے اور سات حج سے فارغ ہو کر جہاں چاہے اور جب چاہے رکھے اگر تین روزے ایام حج میں نہ رکھ سکے تو پھر اکابر اور امام صاحب (رح) کے نزدیک اس کے لئے قربانی ضروری ہے جب قدرت ہو حرم میں قربانی کرادے۔ حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی دو صورتیں ہیں تمتع اور قرآن۔ ایک یہ کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے۔ یہ احرام حج کے احرام کے ساتھ کھولے گا اسے قرآن کہا گیا ہے اور دوسرا یہ کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے جو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرکے کھول دے اور پھر آٹھویں ذوالحج کو منی جانے کے لئے حج کا احرام باندھے ، یہ تمتع ہے۔ ان سب امور میں خوف خدا کو پیش نظر رکھے ، اور کسی طرح کی کوتاہی یا سستی کو درمیان میں نہ آنے دے کہ اللہ کے عذاب بہت سخت ہیں آج کل تو اکثر لوگ پرواہ نہیں کرتے غلط کار معلموں کے ہتھے چڑھ کر ساری محنت ضائع کرتے ہیں یا دوستوں کی محافل میں بےپروائی سے وقت ضائع کرکے چلے آتے ہیں اور بہت سے لوگ تو فرائض کی پرواہ نہیں کرتے سنن وآداب کی تو بات ہی کیا۔ للہ ہم سب کو اصلاح احوال کی طاقت بخشے ! آمین۔
Ayahs 2:197–210

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے معلوم ہیں سو جو ان میں حج کا ارادہ کرے تو نہ عورتوں سے اختلاط کرے اور نہ کوئی براکام اور نہ جھگڑا کرے ایام حج۔ اور جو نیکی تم کرو گے اللہ اس سے واقف ہیں۔ اور راستے کا خرچ لے لیا کرو تو بیشک بہترین زادرہ ن کی ہی اور اے صاحب دانش لوگو ! مجھ سے ڈرو

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

(اس میں) تم پر کوئی گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو پھر جب تم عرفات سے واپس چلو تو مشعرحرام (مزدلفہ) میں اللہ کا ذکر کرو اور جیسا تم کو سکھایا ہے ایسے اس کو یاد کرو اور اگرچہ اس سے پہلے تم ان طریقوں کو نہیں جانتے تھے

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر جہاں سے لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور اللہ سے بخشش طلب کرو یقینا اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم اپنے تمام ارکان پورے کرچکو تو اللہ کا ذکر ایسے کرو جیسے اپنے آباء کا ذکر کرتے تھے یا اس سے بہت زیادہ یاد کرو پس بعضا آدمی کہتا ہے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو دنیا میں ہی دے دیں اور اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی ان میں سے کہتا ہے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دیں اور آخرت کی بھلائی بھی عطا کریں اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچائیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے (نیک) کاموں کا حصہ ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والے ہیں

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور کئی روز تک اللہ کو یادکرو پھر جس نے (مکہ مکرمہ آنے میں) دو دن میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تاخیر کی تو اس پر بھی گناہ نہیں جو اللہ سے ڈرتا رہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اس کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور آپ کو بعضے آدمی کی بات دنیا کے اعتبار سے بہت اچھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اس پر جو اس کے دل میں ہے اللہ کو گواہ بناتا ہے اور وہ آپ کی مخالفت میں بہت شدید ہے

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب واپس پلٹتا ہے (جب بس چلتا ہے) تو کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد کرے اور (کسی کی) کھیتی تباہ کردے اور جانور۔ اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ کا خوف کرو تو غرور اسے اور گناہ میں ڈال دیتا ہے سو ایسوں کے لئے دوزخ کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور بعض آدمی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا کے بدلے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت کرنے والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو ! سارے کے سارے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر واضح دلائل آنے کے بعد تم ڈگمگانے لگو تو جان رکھو کہ اللہ غالب ہیں حکمت والا ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کے سائے میں ان کے پاس آئیں اور فرشتے (بھی) اور کام ختم ہوجائے اور سب کام اللہ کی طرف پھیرے جاتے ہیں

آیات 197- 210 اسرارو معارف الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔ احکام حج : عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں ہے۔ لارفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج۔ رفث سے مراد عورت سے مبارشت اور اس کے مقدمات حتیٰ کہ زبان سے اس سارے میں کھلی گفتگو بھی نہ چاہیے جو حالت احرام میں حرام ہے فسوق اصطلاحاً نافرمانی کے لئے بولا جاتا ہے یعنی ان باتوں سے جن سے بچنے کا حالت احرام میں حکم ہے اپنی پوری کوشش سے بچے۔ کہ یہ سعادت روز روز حاصل نہیں ہوسکتی اور ذرا ذرا سی کوتاہیاں بھی اس کے حسن و کمال کو ضرور متاثر کرتی ہیں۔ اگرچہ بعض فسوق ایسے بھی ہیں جن سے حج ہی فاسد ہوجاتا ہے جیسے حالت احرام میں وقوف عرفات سے پہلے بی بی سے صحبت کرلی تو حج فاسد ہوگیا بطور جرمانہ قربانی بھی دے گا اور اگلے سال پھر حج بھی کرے گا۔ اسی لئے یہ علیحدہ لارفث کہہ کر بیان فرمایا۔ دوسرے ممنوع امور میں مثلاً بری جانوروں کا شکار کرنا یا شکاری کو بتانا ، بال یاناخن کٹوانا ، خوشبو کا استعمال کرنا۔ مردوں کے لئے سلے ہوئے کپڑے اور سر اور چہرے کا ڈھانپنا اور عورت کے لئے بھی حالت احرام میں چہرے کا ڈھانپنا درست نہیں۔ تو غرض یہ ہے کہ ان جملہ امور سے سخت اجتناب کرے یا اسی طرح کہ اس ہجوم خلائق میں اکثر نوبت جھگڑے کی آتی ہے کبھی سفر کے ساتھیوں سے اور کبھی کھانے پکانے کے معاملے میں کبھی کوئی شے خریدنے یا بیچنے کے وقت اور کبھی طواف وسعی کے درمیان کہ ہر جگہ ایسے مواقع بکثرت آتے ہیں ، عورتوں اور مردوں کا اختلاط جس سے بچنا اس ہجوم میں ممکن نہیں پھر مسلسل سفر اور جگہ جگہ عارضی قیام اور وقت بےوقت کھانے پینے سے تھکاوٹ سے مزاج میں برہمی اور عبادات میں سستی۔ ان سب چیزوں کا سب سے زیادہ موقع یہیں بنتا ہے جس سے بچنا اور پوری کوشش سے بچنا ضروری ہے جس کی ایک ہی صورت ہے کہ نگاہ صرف بیت پر نہ ہو بلکہ صاحب بیت کی عظمت سے دل منور ہو اور لبیک لبیک کی صدائوں سے دل بھی طواف کعبہ میں مصروف ہو۔ اللہ اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ ان تمام مواقع پر بچنے کی کوششیں ، صرف اللہ کی رضاجوئی کے لئے ہوں کہ اللہ خوب دیکھ رہا ہے۔ حج کے لئے اپنا خرچ ہونا چاہیے : سفر حج مصارف حج کا خوب اہتمام کرو وتزودوا ایسا نہ ہو کہ تم کسی پر بوجھ بنو یا گداگری کرتے پھر رہے ہو کہ چلے تھے اللہ کی رضا حاصل کرنے اور پھر رہے ہیں غیر اللہ کے در پر۔ اپنے دین کو بچانے اور اللہ کی عبادت کے لئے سفر خرچ کا ساتھ ہونا ہی بہترین ذریعہ ہے اسی لئے تو حج فرض ہی صاحب استطاعت پر ہے اور اس کا مشاہدہ ہم روز مرہ کی زندگی میں بھی کرتے ہیں۔ کہ جو شخص بھی مزدوری کرکے اپنی روزی کما سکتا ۔ اس سے کسی نیکی کی امید بھی مشکل ہے۔ بعض لوگوں کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں جن کی ساری عمر محراب میں اور منبر پر گزرتی ہے مگر وہ حق بات بیان نہیں کر پاتے اسی لئے کہ یہی ان کا ذریعہ معاش ہوتا ہے کاش مزدوری کرکے آتے اور منبر پر بیان کرتے۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں حق بیان کرنے سے نہ روک سکتی۔ سو کم از کم حج جیسی عبادات کے دوران تو انسانوں کی عطا پر نظر نہ ہو۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر عصر حاضر تک انقلابی کام جس ہستی نے بھی کیا ہے اس نے روزی کمانے کے معروف طریقے اختیار کئے اور دینی خدمات کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ خواہ ائمہ اربعہ ہوں اور دیگر ائمہ فقہ یا حدیث و تفسیر یا صوفی اور اہل اللہ کے سرخیل ہوں۔ آپ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) سے لے کر شیخ احمد سرہندی قدس سرہ العزیزتک تمام کی زندگیوں کے حالات دیکھیں تو یہی بات ہر جگہ کار فرما نظر آئے گی۔ واتقون یا اولی الالباب۔ اور خوف خدا ہی عظمت کی معراج ہے۔ ان تمام محنتوں اور عبادتوں کا ماحصل اللہ سے تعلق اور اس کی ناراضگی کا خوف ہی تو ہے جو انسانوں سے امیدیں وابستہ کرنے سے ضائع ہوجاتا ہے اور یہ ہرگز عقلمندی نہیں کہ مخلوق کو خوش رکھنے کے لئے خالق کو ناراض کردیا جائے۔ لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم۔ قبل از اسلام جو رسوم حج کے نام پر باقی تھیں۔ ان میں زیادہ حصہ دنیا کمانے اور نمودونمائش ہی تھا عبادت کا تو نام تھا۔ بڑے بڑے بازار لگتے اور منڈیاں سجائی جاتی تھیں۔ تو یہاں اس کی بھی اصلاح فرمائی کہ اگر دوران سفر حج کوئی شے خرید لی یا فروخت کردی کہ اللہ کی عطا سے فراخی نصیب ہو تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں مگر یہ کہ اسے محض تجارتی سفر بنا کر رکھ دیا جائے اور دولت سمیٹنے کا ایک حیلہ ہرگز درست نہیں۔ یہاں لیس علیکم جناح سے واضح ہے کہ اگرچہ اس کی اجازت ہے مگر اس سے اگر آدمی بچ سکے تو بہتر ہے کہ یہ مقصد اصلی تو نہیں اور اس کا مدار ارادے اور نیت پر ہے۔ جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعرحرام کے پاس اللہ کی یاد کرو اور اس طرح کرو جیسے تمہیں بتلایا گیا ہے۔ عرفات ایک مشہور میدان ہے جو حرم سے باہر واقع ہے جس میں حجاج کا پہنچنا اور زوال آفتاب سے مغرب تک قیام کرنا حج کا نہایت اہم فرض ہے یہاں سے لوٹ کر مزدلفہ میں قیام ہوتا ہے جہاں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کی جاتی ہیں مشعرحرام ایک پہاڑ ہے جو اسی میدان میں واقع ہے حجاج اسی میدان میں رات گزار کر علی الصبح منی کو لوٹتے ہیں تو فرمایا کہ اگرچہ تجارت کی اجازت ہے مگر مقصد اصلی تو حصول معرفت ہے جس کا واحد ذریعہ ذکر الٰہی ہے اور وہ بھی اس طرح سے جس طرح تمہیں بتلایا گیا ہے۔ کما ھداکم سے یہ واضح ہوا کہ کوئی عبادت یا طریقہ عبادت اس وقت تک مقبول نہیں جب تک اس کی سند سنت رسول ﷺ سے حاصل نہ ہو۔ اب تو یہ حال ہے کہ لوگ فرائض میں تو کسی حد تک احتیاط کرتے ہیں مگر نوافل اور صدقات میں اور ذکرواذکار میں اپنی طرف سے بعض طریقے ایجاد کرلیتے ہیں جیسے کسی بزرگ کے ایصال ثواب کے لئے کوئی خاص رقم یا شیرینی اور پھر کسی خاص دن سے مختص کرلینا دور حاضرہ کا جدید فتنہ کہ اذان سے اول یا آخر بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام اور اس قبیل کی بہت سی اشیاء جو عہد رسالت میں یا سنت مبارکہ سے ثابت نہیں ہیں جن کا کرنا خود درست نہ تھا چہ جائیکہ ان پر اس قدر اصرار کہ نہ کرنے والے کو اچھا مسلمان ہی شمار نہ کرنا۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی چیزوں کی نفی ہورہی ہے کہ عبادات میں آدمی کے بس کی بات نہیں کہ جو چاہے کرے ، بلا دلیل شرعی ہرگز قدم نہ اٹھائے۔ یہاں تک قریش نے جو امتیازی حیثیت قائم رکھنے کے لئے طریقہ گھڑ رکھا ہے کہ لوگ تو عرفات سے لوٹیں اور یہ مزدلفہ سے باہر نہ جائیں۔ یہ بھی عہد جہالت کی رسم تھی کہ قریش یہ کہتے ہوئے کہ ہم تو حرم کے مجاور ہیں ہمیں حد حرم سے باہر جانا زیب نہیں دیتا۔ مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے چونکہ وہ حد حرم میں ہے اور عرفات باہر۔ وہاں نہ جاتے تو اللہ نے اس کی اصلاح فرمائی کہ ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفرو اللہ ان اللہ غفور الرحیم۔ سب اسی جگہ سے ہو کر پلٹو ، جہاں تک سب لوگ جاتے ہیں اور ہر وقت اللہ سے معافی چاہتے رہو۔ یہاں اصلاح تو عہد رسالت کی رسم کی ہورہی ہے مگر اصول ایسا ارشاد فرمایا کہ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے اس کا ضرورتمند ہے اور وہ یہ کہ بنیادی طور پر سب انسان ہیں اگر مال و دولت یا اقتدار ووقار سے کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ اپنے مقام پر ہے ، اسے انسانوں سے نکال کر کوئی اعلیٰ مخلوق نہیں بناسکتی۔ سو اپنے آپ کو ہمیشہ انسان سمجھو ، عبادات میں بھی اور عام معاشرت میں بھی۔ اور کبھی کوئی شخص اپنے لئے امتیازی صورت اختیار نہ کرے کہ اس سے نفرت اور باہمی دشمنی پیدا ہوگی اور مل کر رہنے سے باہمی اخوت اور محبت۔ یہی شے حضور ﷺ کے آخری خطبہ حج میں ارشاد ہوئی ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔ اگر اس طرز معاشرت کو اپنایا جائے تو دنیا سے مزدور اور سرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجائے جو دور حاضرہ کی تمام خرابیوں کی بنیاد ہے۔ سب کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنی کوئی امتیازی شان نہ چاہو بلکہ اللہ سے استغفار کرتے رہو کہ اللہ تمہاری ساری خطائیں معاف فرمائے یا دوران حج جو کمی رہ گئی ہے اس سے درگزر فرمائے کہ اللہ بڑا بخشنے والا ہے۔ ذکر الٰہی عیادت کا بیج بھی ہے اور پھل بھی : فاذا قضیتم ھنا سککم فاذکرو اللہ کذکرکم اباء کم اواشدذکرا۔ سو جب ارکان حج پورے کرچکو تو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو جس طرح تم اپنے اجداد کا ذکر عہد جہالت میں کرتے تھے اس سے بڑھ کر اللہ کا ذکر کرو۔ عہد جاہلیت میں نام تو حج کا ہوتا تھا مگر اصل ذریعہ اس کو حصول زر یا اظہار تفاخر کا بناتے تھے ۔ اور جب لوٹ کر منیٰ میں پہنچتے تو بڑے بڑے بازار لگتے خریدوفروخت ہوتی اور مجالس قائم ہوجاتی تھیں جن میں اپنے اجداد کے کارنامے بطور تفاخر کے بیان کئے جاتے۔ اللہ کریم نے دونوں کی اصلاح فرما دی کہ نہ تو تجارت بنیادی مقصد ہے۔ اور نہ اس قدر ممنوع کہ آدمی ضرورت بھی پوری نہ کرسکے اور حج میں میلوں ٹھیلوں کی گنجائش نہیں کہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں بیشمار موانع ہیں عزیزوں سے مفارقت ، زادراہ کا اہتمام ، بہت سا وقت اور سفر کی مشکلات ، صحت وبیماری ، تو ان مشکلات کے ہوتے ہوئے جس نے حج کی توفیق بخشی ہے اسی کا ذکر کرو ، بہت شدت اور کثرت سے کرو۔ اگر عرفات سے لوٹنے کے بعد بھی تمہیں اپنی بڑائی ہی کے اظہار کا فکر ہے تو گویا تم معرفت باری سے محروم ہی رہے۔ ذکر اور معرفت لازم وملزوم ہیں۔ حصول معرفت کا ذریعہ اگر ذکر ہے تو معرفت کا ماحصل بھی ذکر ہے کہ جب معرفت باری کا کوئی شمہ بھی نصیب ہوجائے تو عظمت باری مستحضر ہوتی ہے اور آدمی اپنی بےبسی اور محتاجی کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر اپنے وجود ، اپنے کمالات ، اپنے اعزازات ومقامات سب اللہ کی عطا کے مختلف مناظر بن کر سامنے آتے ہیں جو کثرت ذکر کا سبب بن جاتے ہیں جیسے بیج درخت کے اگنے کا سبب بھی ہے اور اس کے پھل کے اندر پھر بیج ہی حاصل کے طور پر بھی۔ اسی طرح ذکر ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی۔ یہ تخم بھی ہے اور ماحصل بھی۔ اللہ کے احسانات کے پیش نظر کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ آج اگرچہ وہاں وہ رسوم تو نہیں ہیں مگر تہذیب جدید کا ڈسا ہوا انسان آج بھی وہاں پارٹیوں اور تفریحات میں وقت کو برباد کرتا ہے جس سے اجتناب ضروری ہے اور ہر لمحہ یاد الٰہی میں بسر کرنا ہی حاصل سفر ہے بلکہ بعض لوگ تو ان عبادات میں محض دنیاوی چیزوں کے حصول کی مانگتے ہیں حالانکہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے جس کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ دراصل جس قدر مذاہب باطلہ ہیں انہوں نے دنیوی فوائد کا لالچ دے کر اپنی دکان سجائی ہے اور ہر عبادت کے نتیجہ کے طور پر کوئی نہ کوئی دنیاکا فائدہ ظاہر کیا ہے اسی طرح ہر دیوتا کی خوشنودی پر بھی کسی نہ کسی دنیاوی کامیابی کا حاصل ہونا مقرر کیا ہے مگر اسلام نے فرد کو اس حقیقت ذات اور ابدی زندگی سے آشنا کیا ہے۔ صرف دنیا مانگنا گویا خود کو آخرت سے محروم کرنا ہے۔ جیسے آج بھی لوگوں کو حصول دنیا کے لئے مختلف وظائف بتلائے جاتے ہیں اور لوگ مقامات مقدسہ پر بھی اغراض دنیوی کا پلندہ لئے پھرتے ہیں۔ بلکہ بہت سے حضرات حصول دنیا کے لئے نوافل ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے حضرات کا بزرگوں سے تعلق بھی خواہ وہ زندہ ہوں یا دنیا سے گزر چکے ہوں دنیا طلبی کا ہوتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی دعا اور توبہ سے ہمارے بہت سے کام نکلیں گے ، تجارت میں فائدہ ہوگا۔ مقدامات جیت جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان چیزوں کو درمیان سے نکال دیں تو آپ دیکھیں گے اللہ کے لئے اللہ والوں کے پاس جانے والوں کی تعداد شاید نہ ہونے کے برابر ہو۔ ایسے لوگ جو محض دنیا کے لئے اللہ والوں کے پاس جاتے ہیں یا اور نوافل ادا کرتے یا مقامات مقدسہ کے طویل سفر اختیار کرتے ہیں یہ تو ازلی محروم ہیں کہ مالہ فی الاٰخرۃ من خلاق۔ ابدی راحت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ہاں ! دنیا بھی مانگے کہ سب کچھ اللہ ہی سے مانگنا ہے مگر یوں عرض کرے۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ۔ کہ اے اللہ ! اے میرے پروردگار ! مجھے دنیا بھی دے تو حسنہ ہو۔ یعنی تجھ سے دور کرنے والی اور تیری ناپسندیدہ نہ ہو بلکہ دنیا بھی تیری یاد دلانے والی اور تجھ سے قریب کرنے والی ہو۔ اعمال کی توفیق دے تو مطابق سنت ہو۔ ایسا رزق عطا فرما جو حلال اور طیب ہو یعنی نہ صرف دنیا طلبی مقصد اور نہ دنیا سے بیزاری کی ضرورت۔ کہ دنیا ہی دین بھی ہے کہ انسان اپنی بقاء اپنے اعمال اور عبادات سب میں ضروریات دنیاوی کا محتاج ہے سو دنیا طلب کرے مگر ایسی دنیا جو تع میرات آخرت کا سبب ہو جس پر ابدی زندگی کی راحتوں کا حصول آسان ہوجائے۔ یہاں ان لوگوں کی اصلاح بھی مقصود ہے جو ترک دنیا کو وصول الی اللہ کا سبب کہتے ہیں اور دنیا کے لئے دعا مانگنا خلاف شان جانتے ہیں۔ یہ بھی جہالت ہے۔ اصل قاعدہ یہ ہے اور یہی انبیاء (علیہ السلام) کا طریقہ بھی ہے کہ دنیا کو مقصد نہ بنائے بلکہ آخرت کی فکر کرے اور دنیا کو حصول آخرت کا سبب بنائے اور یہی شے اللہ سے مانگے اور ہمیشہ دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتا رہے کہ خلاف شریعت دنیا کا حصول دراصل دوزخ کی آگ ہے اور جائز طرح سے دنیا کے کاموں کا کرنا بھی عبادت ہے یہی دنیا کا حسن ہے اور اسی پر آخرت کی بھلائی مرتب ہوتی ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ واللہ سریع الحساب وہ سب امور سے پوری طرح آگاہ ہے اور ظاہر و باطن سے واقف تمہیں بہت جلد ان تمام امور کا حساب دینا ہے۔ واذکرو اللہ فی ایام مغدودات۔ ان چند دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں جن سے منیٰ میں قیام ہوتا ہے اور جمرات پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ یہ دن عید کے ہوتے ہیں اور حج کا بھی اختتام ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ان ایام میں بھی یاد الٰہی میں لگے رہو مصروفیت کے دن ہوں یا فراغت کے۔ سفر ہو یا قیام۔ قیام ہو یا عید کوئی دن کوئی لمحہ یا کوئی حال ذکر الٰہی سے خالی نہ ہو۔ اب اگر کوئی دس ذوالحجہ کے بعد بارہ تک رہا اور دعا کرکے واپس ہوا تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر کوئی تیرہ تک رہاتو بھی ٹھیک ہے۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر 12 ذی الحجہ کا سورج منیٰ میں غروب ہو تو پھر تیرہ کو دعا کرکے آئے لیکن اگر بارہ کو دعا کرکے غروب آفتاب سے پہلے منیٰ سے واپس ہوا تو پھر تیرہ کو دعا اس پر واجب نہ رہی ، نیز تیرہ کو دعا زوال آفتاب سے پہلے بھی درست ہے۔ یہ جملہ احکام کیفیات قلبی سے متعلق ہیں یہ سب تو اس کے لئے ہے۔ من اتقیٰ کہ جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ جس کے دل میں اللہ کی طلب اور اس کی ناراضگی کا خوف ہو۔ برخلاف اس کے جو دل عظمت باری سے خالی ہو اور حج بھی اپنی بڑائی کے اظہار کے طور پر کررہا ہو اس کا احکام بجا لانا یاترک کرنا برابر ہی ہے اور اے لوگو ! اللہ سے ضرور ڈرو کہ تمہیں اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حج سے فارغ ہو کر آنے والا گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر آتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو گویا جو شخص پہلے بھی نافرمان تھا اور دوران حج بھی سستی اور نافرمانی کرتا رہا اور لوٹ کر آنے پر بھی حال وہی ہے تو گویا اس نے حج کیا ہی نہیں۔ اگر اسے گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوتی تو دل گناہوں سے متنفر ہوجاتا۔ ہاتھ پائوں اللہ کی نافرمانی سے رک جاتے کہ دوران حج بھی تو ہر مقدس مقام پر اس نے گزشتہ سے معافی اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ سو قبولیت حج کی دیل یہی ہے کہ دل دنیا کی محبت سے خالی ہوجائے اور آخرت کی رغبت پیدا ہوجائے۔ اللہ کریم جملہ اہل اسلام کو اس کی توفیق عطا فرمائے ! آمین۔ نتائج کا انحصار دلی کیفیات پر ہے : من الناس من یعجبک قولہ فی الحیوۃ الدنیا ویشھد اللہ علی مافی قلبہ وھوالدالخصام۔ بعض لوگوں کی باتیں بڑی دل فریب ہوتی ہے اور پندو نصائح سے مزین۔ ساتھ ہی وہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ میرے دل میں بھی یہی ہے جو زبان پر ہے مگر یہ سب زبانی جمع خرچ ہوتا ہے ورنہ عملی زندگی میں تو کوئی بات مان کر ہی نہیں دیتے سخت جھگڑالو اور فساد پیدا کرنے والے ہوتے ہیں اور جب محفل سے اٹھتے ہیں تو ایسا کام کرتے ہیں جو روئے زمین پر کھیتوں اور نسلوں کی بربادی کا سبب بنتا ہے ان سب کی ایک صورت تو ظاہراً فساد کرنے کی ہے اور دوسری یہ کہ ہر گناہ کرنے والے نہ صرف نافرمان ہے بلکہ دنیا ومافیہا کو تباہ کرنے کے جرم کا مجرم بھی ہے اور محض زبان سے کہنا اور دل میں کسی کیفیت کا نہ ہونا محرومی ہے۔ اخنس بن شریق ایک شخص تھا جو حضور ﷺ کے سامنے تو بڑی اچھی اچھی باتیں کرتا اور قسمیں کھا کر اپنے مخلص ہونے کا اعلان کرتا مگر زندگی میں اطاعت کی بجائے نافرمانی اور فساد بپا کرتا۔ یہی بات اللہ نے اس کے نفاق پر بطور دلیل ارشاد فرمائی ہے اور فرمایا اللہ فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ حج اور اس کے ارکان تو اس لئے ادا کئے جاتے ہیں کہ عملی زندگی کو بدل دیں۔ اگر یہ نہ کرسکا تو پھر اس نے کیا کیا ؟ کہ اگر اسے ناپسندیدہ باتوں سے منع کیا جائے اور کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تمہیں یہ حرکات زیبا نہیں تو بجائے ڈرنے کے وہ اسے اپنی انانیت کو ایک چیلنج سمجھے اور مزید انہی غلط کاریوں پہ جم جائے ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہی سزاوار ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے اور بڑی سخت جگہ۔ ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضاۃ اللہ ، واللہ رئوف بالعباد۔ اس کے مقابل ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے آپ کو بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔ سبحان اللہ ! کفار اور منافقین کے مقابل صحابہ ؓ کا مثالی اخلاص بھی ہے۔ حضرت صہیب ؓ نے جب ہجرت فرمائی تو کفار مکہ نے راستہ میں جا گھیرا۔ آپ سواری سے اتر کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا ” اے قریش “ ! میرا ترکش بھرا ہوا ہے اور تم جانتے ہو کہ میرانشانہ خطا نہیں جاتا۔ اس کے بعد میں اپنا نیزہ اور تلوار بھی آزمائوں گا اور جب تک دم ہے تم مجھ تک نہ پہنچ سکو گے کیا یہ بہتر نہیں کہ مکہ میں میرا جو سرمایہ ہے وہ تم لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو “۔ چنانچہ قریش اس پر راضی ہوگئے اور مال کا پتہ پوچھ کر واپس چلے گئے۔ آپ جب خدمت نبوی ﷺ میں پہنچے تو سارا واقعہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے دربار ارشاد فرمایا۔ ” ابایحییٰ ! تمہارا بیو پار نفع بخش رہا “۔ اور صاحب تفسیر مظہری نے لکھا ہے کہ کئی دوسرے واقعات بھی اس کی مثال ہیں جو آیت کا شان نزول ہیں۔ بہرحال یہاں مقصدبیان یہ ہے کہ انسان تمام چیزوں کو خواہ دنیا کے منافع ہوں یا انانیت کے تقاضے ، مرضیات باری پہ قربان کردے۔ حج اس کی عملی تربیت کا سامان ہے گھر ، اولاد ، کاروبار سب سے علیحدہ ہو کر ، آرام قربان کرکے ، ظاہری شان و شوکت چھوڑ کر ، دو ان سلی چادروں میں سروپا برہنہ ” لبیک لبیک “ کہنے کا مقصد تو یہی ہے کہ یہ تمام چیزیں اللہ کی رضا کے ساتھ ہی رہ سکتی ہیں ورنہ ان کو چھوڑا جاسکتا ہے اور اللہ کی اطاعت ترک نہیں کی جاسکتی ، اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے یعنی جب کمی واقع ہوتی ہے تو اس طرف سے ورنہ اللہ کی بخشش میں کوئی کمی نہیں ہے۔ یا ایھا الذین اھنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۔ اے ایمان والو ! اپنے تمام امور میں اسلام کی اطاعت اختیار کرو کہ عبادت ہو یا مزدوری کوئی بھی کام ہو جو حداسلام سے خارج ہو وہ شیطان کی پیروی میں ہوگا جو تمہیں ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ بعض لوگوں نے صرف نماز روزے کو اسلام جانا اور اس کے سوا تمام امور میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں اور بعض لوگ مسجدوں میں داخل ہوئے تو مساجد سے باہر کی زندگی میں ان کا کوئی حصہ نہ رہا اور تیسرے گروہ نے نمازرروزے کو بھی وقت کا ضیاع جانا۔ یہ سب افراط وتفریط ہے۔ اپنے نظریات و عقائد سے لے کر اعمال سب کو اسلام کا تابع بنائو اور ظاہر و باطن سے اس کے لئے کوشاں رہو۔ نماز کے وقت مسجد میں ، کاروبار کے وقت بازار میں اور جہاد کے وقت میدان میں نظر آئو ! غرض یہ کہ اسلام کی ہی تعلیمات کو اپنا مطمح نظر بنائو۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھو کہ اگر تم ان واضح دلائل کے بعد بھی جو تم تک پہنچ چکے ہیں (جن میں سب سے بڑی دلیل خود نبی کریم ﷺ کی ذات اور اللہ کا کلام اور احکام اسلام) بھٹک گئے تو اللہ بہت زبردست ہے۔ وہ طاقت والا ہے ہر شے کو جاننے والا ہے اور سب کو سزا بھی دے سکتا ہے۔ گو کہ حکیم ہے اور کسی حکمت کی بنا پر چندے سزا نہ دے۔ یہ حال بھی اگرچہ ظاہراً سزا نہ ہوگی مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے سزا ہی ہے کہ کسی کو توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو تو کیا ایسے لوگ جو ان سب امور کے بعد بھی اپنی اصلاح نہیں کرپاتے ، اس روز کے منتظر ہیں کہ جب تمام امور واقع ہوں گے تو یہ ایمان لائیں گے۔ یعنی اس وقت کا ایمان لانا نافع نہ ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ تمام مقدمات اللہ ہی کے سامنے پیش ہوں گے کوئی دوسری عدالت فیصلوں کی مجاز نہ ہوگی کہ کوئی شخص پیش ہونے سے بچ جائے۔
Ayahs 2:211–216

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

اولاد یعقوب (علیہ السلام) سے پوچھئے کہ ہم نے انہیں کتنی واضح دلیلیں دیں اور جو کوئی اللہ کی نعمت کو اس کے پاس آنے کے بعد بدل دیتا ہے تو یقینا اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کافروں کے لئے سجا دی گئی ہے اور وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جو لوگ پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے روز ان سے بہت بلند ہوں گے اور اللہ جسے چاہتے ہیں بیشمار رزق عطا کرتے ہیں

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

لوگ ایک ہی (طرح کی) جماعت تھے پھر اللہ نے انبیاء کو بھیجا جو بشارت دیتے اور (انجام بد سے) ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ لوگوں میں جو اختلافات ہیں ان کا فیصلہ کریں اور جن کو دلائل دیئے گئے تھے انہی لوگوں نے آپس میں سرکشی کرتے ہوئے اختلاف کیا پس اللہ نے اپنے حکم سے ایمان والوں کو حق کی راہ دکھائی جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے اور اللہ جس کی چاہیں سیدھی راہ کی طرف راہنمائی فرمادیں

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ تم کو ان لوگوں کے سے احوال پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان پر تنگی آئی اور بیماری اور وہ ہلا کر رکھ دیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ ایمان والوں نے کہا اللہ کی مدد کب آئے خوب سن لو یقینا اللہ کی مدد قریب ہے

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں فرما دیجئے جو کچھ مال تم خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے اور جو بھلائی تم کرتے ہو تو یقینا اللہ اسے خوب جانتے ہیں

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

تم پر جہاد (لڑنا) فرض کیا گیا اور وہ (طبغا) تم پر گراں گزرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اچھاسمجھو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اور اللہ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے ہو

آیات 211- 216 اسرارو معارف سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔ آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس طرح اس کی رحمت حدود سے بالاتر ہے اسی طرح اس کے عذابوں کی سختی بھی عقل انسانی کی دسترس سے باہر ہے اللہ ان سے بچائے ، آمین۔ جب کوئی شخص اللہ کے ارساں کردہ دلائل کی پرواہ نہیں کرتا تو خود بخود اس کی پسند کا معیار بدل جاتا ہے اور محض دنیا کی لذات پہ فریفتہ ہو کر رہ جاتا ہے پھر اس کی ساری کوشش حصول لذات تک ہی محدود ہوجاتی ہے اور اس شے کو مستحسن جاننے لگتا ہے۔ گمراہی نگاہوں کو بدل دیتی ہے اور بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی : اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ جو لوگ ان عارضی اور مادی لذات کو ابدی راحت اور اخروی زندگی کے لئے قربان کرتے ہیں وہ انہیں ناسمجھ جانتا ہے اور ان کا تمسخر اڑاتا ہے کہ کیسے بےعقل ہیں خواہ مخواہ اپنے آپ کو ضابطوں میں جکڑ رکھا ہے اور عیش و عشرت نہیں کرتے لیکن یہ ان کی جہالت ہے۔ یہ زندگی عارضی ہے اور اخروی زندگی دائمی۔ اگرچہ راحت یہاں بھی مومن کے لئے ہی ہے۔ کہ عین فطری زندگی بسر کرتا ہے اور کفار کی زندگی غیر فطری ضابطوں میں جکڑی ہوتی ہے۔ مگر اس قدر باریک نگاہ نہیں رکھتے۔ ان کے ہاں معیار دولت اور صرف خوبصورت مکان ، لباس یا اچھی قسم کا کھانا ہوتا ہے۔ آخرت میں یہ بھی دیکھ لیں گے کہ مومنین باعتبار رزق کے بھی ان سے بہت اعلیٰ ہوں گے کہ کفار جب چاہے جتنا چاہے کسی کو بخش دے۔ انسان اپنی آفرنیش کے اعتبار سے تو بالکل ایک ہی جماعت تھے ان کا ایک ہی عقیدہ ، نظریہ بھی تھا ، مگر جب ضروریات بڑھیں تو اختلاف اغراض نے نظریات بھی مختلف بخشے ، اپنے اپنے مزاج نے بھی رنگ دکھایا اور مختلف آراء سامنے آئیں ایک شور مچا جس میں ہر کوئی اپنی رائے کو حق ثابت کرنے پر مصر تھا۔ رحمت باری نے دستگیری فرمائی اور انبیاء (علیہ السلام) کو بھیجا کہ انہوں نے حق کو باطل سے علیحدہ علیحدہ کردیا اور جہاں اہل حق کو بشارت دی وہاں دوسرے گروہ کو اللہ کے غضب سے ڈرایا کہ باطل کی پیروی نہ کریں۔ اللہ نے انبیاء کو اپنی کتابیں دیں ان پر اپنا کلام نازل فرمایا کہ حق کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کریں اور اختلاف دور فرمائیں مگر کتب سماوی اور واضح احکام کے بعد بھی لوگوں نے محض ضد کی وجہ سے انبیائ (علیہ السلام) کی پیروی نہ کی اور محروم رہے مگر جن لوگوں نے سر تسلیم خم کیا۔ اللہ نے ان کی الجھنیں بھی سلجھا دیں اور اپنی رحمت سے انہیں اختلافات کی دلدل سے نکال کر سیدھی راہ نصیب فرمائی۔ وہ جسے چاہے سیدھے راستے پہ چلنے کی توفیق ارزاں کردے۔ باعتبار عقیدہ دنیا میں صرف دو قومیں ہیں : یہاں انسانوں کو ملجاظ عقیدہ ونظریہ تقسیم فرمایا ہے اور صرف دو قومیں ارشاد فرمائی ہیں کہ جب تک خیالات اور عقائد متحد تھے نوع انسانی کی قوم بھی ایک ہی تھی یہاں امہ سے مراد وحدت عقائد ہے اگر چہ لغت میں کسی بھی سبب سے ایک وحدت وجود میں آئے تو امہ کہلاتی ہے وہ وجہ ایک زمانہ یا ایک خطہ یا ملک ہی کیوں نہ ہو۔ مگر یہاں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ ملکی یا زمانی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ تو امہ سے بھی نظریاتی وحدت ہی مراد ہوگی۔ رہی یہ بات کہ کس دور میں تھی ؟ تو بعض حضرات نے اسے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد گردانا ہے بعض نے طوفان نوح کے بعد بچ رہنے والوں کے حق میں لکھا ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ درست ہیں مگر اسلوب بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ نوع انسانی اپنے ساتھ اختلاف نہیں لائی بلکہ دنیا میں رہنے بسنے کے ساتھ مختلف چیزیں سامنے آئیں اور اپنی پسند کے حصول کے مختلف ذرائع اپنائے گئے اور پھر ہر شخص نے اپنی رائے ہی کو درست جانا جو ایک فطری امر تھا۔ مگر انبیاء کرام ﷺ نے آکر حق و باطل کو واضح کردیا۔ سو اس سے محروم صرف وہ لوگ رہے جو قبول حق کی استعداد ہی کھو چکے تھے اور محض ضد اور اکڑ میں اپنے آپ کو برباد کر بیٹھے۔ اس کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ مزاج کو قوت حق کی استعداد سے عاری کردیتا ہے اور ایسے لوگ کبھی مان کر نہیں دیتے۔ اظہار حق کرنے والوں کو اس سے بددل نہ ہونا چاہیے بلکہ اپنا کام پورے خلوص سے کرتے رہنا ہی ضروری ہے کہ کہ تم تو اللہ کی رضا کے طالب ہو تو جنت کا داخلہ چاہتے ہو جو رضائے الٰہی کا مظہر ہے تو اتنی عظیم طلب کے لئے بہت بڑی قربانی بھی تو چاہیے کوئی ایسا کام بھی تو دکھائو جو تمہیں یہ انعام دلوانے کا باعث ہو ۔ کہ سنت اللہ یہی ہے کہ ہر کام کسی سبب کا نتیجہ ہوتا ہے نیز اپنے سے پہلے گزرنے والوں (مومنین) کو دیکھو۔ ان پر بھی تو کس قدر امتحان آئے کہ انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ بعض اوقات نہ صرف مومنین بلکہ ان کے ساتھ انبیا ﷺ بھی پکار اٹھے ۔ ھتی نصر اللہ کہ اے اللہ ! تیری مدد جس کا تو نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے کب آئے گی۔ یعنی اے اللہ ! جلدی مدد فرما اور خوب جان لو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ ثمرات کے لئے مجاہدہ ضروری ہے : یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ مجاہدہ شرط ہے۔ یہی اللہ کا نظام ہے اور یہ ضروری نہیں کہ مجاہدہ اختیاری ہی ہو بلکہ اضطراری بھی نافع ہے سب سے بڑی بات جو مجاہدے پر مرتب ہوتی ہے وہ قرب الٰہی اور ماسوا اللہ سے بیزاری ونامیدی ہے کہ آدمی ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ کو پکاراٹھے اگر کوئی شخص محض شہرت یا کوئی کمال حاصل کرنے کے لئے تکلیفیں اٹھاتا ہے تو وہ مجاہدہ نہیں جس پر یہ اجر مرتب ہو بلکہ سخت گناہ ہے نیز مصیبت وابتلاء جو اللہ کے بندوں کو پیش آئے وہ محض صورتاً مصیبت ہوا کرتی ہے حقیقتاً اللہ کا انعام اور ترقی درجات کا وسیلہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل۔ وقت مصیبت اللہ سے دعا کرنا تو کل کے منافی نہیں بلکہ خوب الحاح وزاری سے اللہ کو پکارنا ہی حاصل مجاہدہ ہے اور قرب الٰہی کی دلیل ہے۔ مجاہدہ اختیاری میں شرائط مجاہدہ کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے مثلاً اللہ کی رضا کے لئے مال کا خرچ کرنا ایک مجاہدہ ہے لیکن مال کا محض ضیاع مجاہدہ نہیں بلکہ پہلے تو وہ مال خیر ہو حلال اور جائز کمائی ہو۔ پھر اس میں جتنا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہو اس کا مصرف یہ ہے کہ سب سے پہلے والدین کا حق ہے پھر قرابتداروں کا اور پھر یتیموں ، مساکین اور مسافروں کا۔ یاد رہے یہاں صدقات نافلہ کی بابت ارشاد ہورہا ہے اور ان کا بھی محل ہے یہ نہ ہو کہ والدین بھوک سے تڑپ رہے ہوں یا علاج کو ترس رہے ہو اور نامور بیٹا مہاجرین میں کھانا یا دوائیں بانٹنے کی تصاویر کھنچوارہا ہو۔ اسی طرح جو مال خرچ کیا جائے وہ اپنا بھی ہو ، یہ نہ ہو کہ قرض خواہ پریشان پھریں اور بجائے انہیں واپس کرنے کے صدقات بانٹے جا رہے ہوں یعنی مال اپنا ہو ، جائز اور حلال ہو اور پھر درست جگہ پر خرچ کیا جائے اور خالص اللہ کی رضا مقصود ہو تب بات بنے گی مقاصدکو حاصل کرنے کے لئے اور انہیں درجات کو پانے کے لئے تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے۔ جہاد میں مجاہدہ اختیاری بھی ہے اور اضطراری بھی۔ گو بظاہر اور طبعاً تمہیں ناگوار بھی ہو ، عین ممکن ہے کہ ایک شے تمہیں بھلی معلوم نہ ہو مگر وہ تمہارے لئے بہت سود مند ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہیں کوئی چیز بہت پسند آئے مگر حقیقت کے اعتبار سے تمہارے لئے بہت نقصان دہ ہو کہ اشیاء کے حقائق سے واقف ہونا تمہارے بس کی بات نہیں۔ یہ تو اللہ ہی کو سزاوار ہے اور اسی کی شان علم ہے کہ وہ عواقب ونتائج سے باخبر ہے سبحان اللہ ! یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آتا ہے مومن کے لئے ہمیشہ انعام ہی ہوتا ہے اور اس میں اس کی بھلائی ہوتی ہے۔ خواہ صورتاً کس قدر شدید اور سخت بھی ہو۔ کافر کو جو کچھ ملتا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے عذاب ہی ہوتا ہے خواہ وہ صورتاً دولت دنیا یا جاہ ومنصب ہی کیوں نہ ہو۔ جہاد فرض ہے مگر فرض کفایہ کہ ایک جماعت اس فریضہ کو ادا کرتی رہے تو سب کی طرف سے کفایت کرے لیکن اگر ان سے بات بڑھ جائے تو پھر پاس والوں پر فرض عین۔ اسی طرح اگر ان سے نہ ہوسکے تو بڑھتا ہوا ساری دنیا کے مسلمانوں پر فرض عین ہوجاتا ہے۔