2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 2:47–59

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب ! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر فضیلت دی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ کسی سے سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے بدلے میں کچھ لیا جائے گا اور نہ کوئی (کسی اور طرح سے) کسی کی مدد کرسکے گا

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم کو فرعون کی قوم سے نجات دی جو تمہیں دکھ دینے کی فکر میں رہتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچا لیا اور ال فرعون کو (فرعون سمیت) غرق کردیا اور تم یہ (سب) دیکھ رہے تھے

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا پھر تم نے ان کے بعد بچھڑے کو (معبود) بنالیا اور تم بہت غلط کار تھے

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (بھی) ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر کرو

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فیصلہ کرنے کی چیز (معجزہ) دی تاکہ تم ہدایت پاسکو

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! تم نے گئو سالہ پرستی کرکے یقینا اپنا بڑا نقصان کرلیا ہے پس اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے توبہ کرو پس بعض ، بعض کو قتل کرو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے سو اسی نے تمہاری توبہ قبول کرلی یقینا وہ توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم آپ کے کہنے سے ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو واضح دیکھ لیں تو اس (گستاخی) پر تم پر بجلی کی کڑک آ پڑی اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہارے مرنے کے بعد تمہیں زندہ کر اٹھایا تاکہ تم شکر کرو

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر بادل سایہ فگن کیا اور تم کو من وسلویٰ (ترنجبین اور بٹیریں) عطا کیں کہ ہماری عطا سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی نہیں کی بلکہ وہ اپنے آپ کے ساتھ زیادتی کرتے رہے

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہوجاؤ پھر اس میں جہاں سے چاہو بافراغت کھاؤ اور دروازے سے سرنگوں ہو کر (سجدہ کرتے ہوئے) اور بخشش مانگتے ہوئے داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

پھر ظالموں نے جو بات ان سے کہی گئی تھی اس کو بدل ڈالا تو ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب اتارا اس وجہ سے کہ وہ بدکار تھے

آیات 47- 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے حاصل کرتے تھے اللہ نے فرمایا کہ میرے انعامات یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمہارے دور کے سارے لوگوں پہ فضیلت عطا فرمائی تمہاری قوم کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور تمہیں علوم نصیب فرمائے تمہیں اس روز سے ڈرنا چاہیے جس دن کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ واتقوا یوماً لا تجزی نفس عن نفس شیئا……………ولا ھم ینصرون۔ یہاں ” اتقو “ بمعنی خوف ہے کہ اس عظیم دن سے خوف کھائو جس دن کوئی شخص کسی بھی شخص کا دکھ نہیں بانٹ سکے گا نہ کسی سے سفارشاً کچھ سزا کم کر اسکے گا کہ کسی کافر کی کسی کافر کے حق میں سفارش قبول ہی نہ ہوگی۔ یاد رہے کہ یہاں خطاب کفار سے ہے لہٰذا مسئلہ شفاعت انبیاء سے متعلق نہیں کہ وہ صرف مومنین کے لئے ہے نہ وہ کافر کی شفاعت فرمائیں گے نہ اس کی اجازت ہوگی۔ بات چل رہی ہے ان بڑے بڑے کفار کی جن کی پیروی کرتے ہوئے یہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے کہ یہ تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے نہ تو تمہارا بوجھ بانٹ سکیں گے نہ سفارش کرسکیں گے اور نہ ہی قبول ہوگی ۔ نہ کسی سے کوئی عوض قبول ہوگا کہ نافرمانی کے بدلے کوئی جرمانہ ادا کرکے چھوٹ جائے یا یہ لوگ تمہیں چھڑالیں اور نہ تمہاری مدد کے قابل ہوں گے کہ طاقت استعمال کرلیں یا رعب ڈال سکیں ، غرض جتنے طریقے سزا سے بچنے کے تمہارے ذہنوں میں ہیں قیامت کے روز ان میں سے کوئی بھی نہیں چل سکے گا اور بجز ایمان کے کوئی چارہ کار نہیں۔ ایمان ایک ایسی نعمت ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان امیدوار شفاعت بھی ہے نیز خلودونار سے بچنے کا وعدہ لئے ہوئے ہے اور تم ایمان سے خالی ہو حالانکہ تم پر ، تمہاری قوم پر ، تمہارے اجداد پر کس قدر عظیم احسانات فرمائے گئے۔ واذ نجینکم من ال فرعون……………وانتم تنظرون۔ ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں سے نجات دی۔ یہ اس طرح ہوا کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے خاندان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر لے گئے تو یہ لوگ تقریبا 72 کی تعداد میں تھے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے وہاں دین کا دور دورہ ہوا ، عدل و انصاف قائم ہوا۔ یہ لوگ ایک طرح سے مقتداء بن گئے مگر ان کے بعد یہ لوگ انحطاط کا شکار ہوئے پرہیزگاری چھوٹی اور پھر دین بھی گیا اہل مصر بھی نہ صرف اللہ کو بھول گئے بلکہ حاکمان مصر اپنی خدائی کے دعوے دار بن بیٹھے جن میں سے حاکم جو عہد موسوی میں تھا۔ اپنے پہلوں سے بڑھ کر ظالم تھا اور بنی اسرائیل کی حالت اس قدر بدتر ہوئی کہ قبطی انہیں جانوروں کی طرح استعمال کرتے اور ان سے خدمت کراتے جس کی کوئی اجرت بھی نہ تھی۔ جھوٹا موٹا جو دے دیا وہی کھالیا ، نہ ان کی عزت تھی نہ مال اپنا حتیٰ کہ ان کی جان کی بھی کوئی قیمت نہ تھی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا اس نے خواب دیکھا اور انہوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری تباہی کا سبب بنے گا۔ تو اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم دے دیا کہ ان کے گھروں میں نرینہ اولادرہنے ہی دی جائے اور یہ سلسلہ سالوں تک جاری رہا حتیٰ کہ خود قبطی چیخ اٹھے اور انہوں نے فریاد کی کہ بنی اسرائیل کے بچے تو قتل ہوجاتے ہیں اور بڑی عمر کے لوگ مر رہے ہیں تو ہماری خدمت کون کرے گا۔ یعنی وہ ایسے بےوقعت ہوگئے تھے کہ ان کے قتل کا افسوس کسی کو نہ تھا۔ اپنی خدمت کے لئے فکردامن گیر ہوئی تو فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال پیدا ہونے والے بچے قتل کردیئے جائیں اور ایک سال جو پیدا ہوں وہ زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ چناچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جو معافی کا سال تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جس سال بچے قتل کئے جاتے تھے۔ ان کا واقعہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ بہرحال یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ جتنے قریبی ہوں گے اگر وہ نافرمانی اختیار کریں گے تو آخرت میں تو عذاب ہوگا ہی دنیا میں ذلت ان پر مسلط کردی جائے گی۔ نافرمانی کے اثرات : اور یہی مشاہدہ ہے کہ اگر کوئی صوفی طریقت کو چھوڑ بیٹھے تو مرتد طریقت ہو کر ہمیشہ ذلیل ہوجاتا ہے اور دنیا میں بھی اس کی زندگی موت سے بدتر ہوتی ہے ، جیسے ان لوگوں کو فراعنہ اور قبطیوں کی اصلاح کرنی تھی کہ وارثان نبوت تھے مگر دنیا کے لالچ میں آکر خود ان کے پیچھے چلنے لگے تو کس قدر ذلیل کئے گئے۔ اسی طرح آج کا مسلمان جس کا فریضہ اصلاح عالم ہے جس اخرجت للناس فرمایا گیا ہے اپنا منصب چھوڑ کر کفار کے پیچھے بھاگنے لگا تو نتیجہ ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے مصائب اسی پر ٹوٹ رہے ہیں اگر یہ آج بھی لوٹ کر اپنی جگہ آجائے تو فوراً حالات بدل سکتے ہیں اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ، خدا مسلمان کو توفیق بخشے ، آمین۔ یہ اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور افراد پر بھی جو کسی بھی ذرا سے عقل رکھنے والے انسان سے چھپا ہوا نہیں ہے کہ خلاف دین چل کر جس نے بھی عزت چاہی اسے ذلت نصیب ہوئی بنی اسرائیل کی طرح جنہیں یاد کرایا جارہا ہے کہ یومونکم سوالعذاب ۔ تمہیں کس قدر اذیت ناک زندگی کی طرف گھسیٹا جارہا تھا کہ مجبور تھے اس طرح بسر کرنے پر۔ حتیٰ کہ تمہارے بچے تک ذبح کردیئے جانے لگے بچیوں کو چھوڑ دیا جاتا کہ خدمت لیں گے اور لڑکے ذبح کردیئے جاتے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر بڑی مصیبت تھی کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے جہاں جس چیز کا ہونا مناسب ہو وہاں اس کو پہنچا دیتا ہے تمہارے کرتوتوں پر بڑی مصیبت تم پر آتی تھی مگر پھر رحمت باری نے تمہیں سنبھالادیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہستی تمہیں بخشی جس نے نہ صرف تمہیں کفر کے اندھیروں سے نکالا بلکہ فرعونیوں سے بھی تمہاری جان چھڑائی اور بحکم الٰہی تمہیں ساتھ لے کر مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تھی کئی عرصہ تک فرعون سے مقابلہ کرنے کے بعد اس کی اصلاح کے لئے کوشش کرنے اور مسلسل اظہار معجزات کے بعد حکم ہوا کہ انہیں لے کر نکلو مگر صبح جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو نکل گئے تو ایک عظیم لشکر لے کر خود تعاقب میں روانہ ہوا جس کی تعداد بعض کے مطابق سات لاکھ تھی۔ بحیرہ قلزم کے قریب ان کو جاپکڑا۔ اب یہ لوگ بہت گھبرائے نہ جائے ماندن نہ پلائے فتن سارے سمندر غرق ہوئے کہ خوف پیچھے فرعونیوں کی تلواریں ۔ اللہ کریم فرماتے ہیں میں نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی پر عصامارا۔ پانی اس طرح سے پھٹا کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ سڑکیں چھوڑ دیں اور خشک زمین نکل آئی یعنی پلائی کی تھی تک نہ رہی اور ہر ٹکڑا پانی کے عظیم پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑا تھا مائع تھا مگر ٹھوس کی طرح کھڑا تھا اور بنی اسرائیل آرام سے گزر کر دوسرے کنارے پہنچ گئے۔ جب فرعون ہاں پہنچا تو مبہوت ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو مقرر فرمایا۔ جنہوں نے فرعون اور لشکر فرعون سب کو دریا میں ڈال دیا جیسے ہی سارے سمندر میں پہنچ گئے پانی آپس میں مل گیا اور سارا لشکر فرعون سمیت غرق ہو کر تباہ ہوگیا اور لطف یہ کہ سارا تماشہ تم خود دیکھ رہے تھے وہ فرعون جس کے نام سے تم کانپتے تھے اور وہ قبطی جو تم پر ظلم کر رہے تھے کس طرح بےبسی اور بےکسی سے تمہارے سامنے غرق ہو رہے تھے۔ صحبت شیح : یہی حال شیح کا ہے کہ دین کی راہ میں جو رکاوٹ ہو اسے پھاڑ کر راستہ بنادے اور تعاقب میں جو کبر اور ناشکری کا فرعون ہے اسے غرق دریا کرے ، اور ان چیزوں کو آدمی خود محسوس کرے کہ صحبت شیخ میں آنے سے قبل زندگی کیا تھی۔ اور اب اس میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ واقدوای موسیٰ…………وانتم ظلمون۔ پھر وہ وقت یاد کرو جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتیں طور پر عبادت میں گزارنے کے لئے کہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ چالیس راتیں طور پر گزاریں روز ہ بھی رکھیں ، کسی سے نہ ملیں نہ بات کریں تاکہ وہ قوت ملکوتی اور وہ استعداد جو اسرار الٰہی کو قبول کرتی ہے اللہ کی کتاب کو پالے اور آپ کو تورات عطا ہو۔ یہاں سے چلہ کی اصلی بھی ثابت ہے۔ روح میں قوت پرواز کے حصول کا طریقہ : اصل بات قلت طعام ، قلت کلام اور قلت اخلاط مع الانام ہے یہ نفس کو کمزور کرنے کی بہترین دوا ہے اور نفس کی کمزوری کا مطلب روح کی قوت ہے۔ ان دونوں میں سے ایک کی قوت دوسرے کی کمزوری ہے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو لگ گئے اس انعام کی طلب میں اور یار لوگوں نے ان سے پیچھے سامری کا اتباع اختیار کرلیا جو ان کے ساتھ تھا۔ اس نے زیورات گلا کر ایک بچھڑا بنایا جو کسی قسم کی آواز پیدا کرتا تھا۔ روایات میں ملتا ہے کہ جہاں جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم لگتے وہ جگہ سرسبز ہوجاتی تو اس نے وہاں سے مٹی لے لی جو بچھڑے میں ڈالی تو وہ زندہ ہوگیا ، مگر بعض حضرات کے مطابق اس نے بچھڑے میں اس طرح کے سوراخ رکھے ہوئے تھے جو ہوا سے ایک قسم کی آواز پیدا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال قوم کا بیشترحصہ اس کے سامنے سربسجود ہوگیا۔ یہاں ان تمام باتوں کا اجمالی ذکر ہے کہ احسانات شمار فرمائے جا رہے ہیں آگے چل کر تفصیل بھی ہے۔ فرمایا تم کس قدر ظالم تھے کہ اتنے معجزات قاہرہ دیکھنے کے باوجود اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر رسول کی صحیت نصیب ہونے کے باوجود تم اللہ کو چھوڑ بیٹھے اور مخلوق کی پرستش پہ مائل ہوگئے۔ ثم عفونا عنکم من بعد ذالک لعلکم تشکرون۔ مگر ہمارا احسان دیکھو کہ بایں ہمہ ہم نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری خطا بخش دی کہ تم شکر کرو اور اللہ کا احسان مانو۔ واذاتینا موسیٰ الکتاب والفرقان لعلکم تہتدون۔ نہ صرف معاف کیا بلکہ تمہاری خاطر موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی ، ایک ایسی کتاب جو حق اور باطل میں فرق بتادینے والی تھی عطا کی کہ تم راہ ہدایت پاسکو۔ گویا نبی کو کتاب کا ملنا چونکہ امت کی ہدایت کے لئے تھا۔ اور ان کے پاس ایک حق و باطل کی کسوٹی پہنچ گئی نیز سب کو کلام اللہ سے مشرف ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان سب احسانات کا شکر کس قدر واجب تھا۔ یہ امت محمدیہ ﷺ کو اس غرض سے بتایا جارہا ہے کہ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) تھے تو تمہیں محمدرسول اللہ ﷺ کا امتی ہونے کا شرف حاصل ہے کتاب اللہ اپنی اصلی حالت میں تمہارے پاس محفوظ ہے اور یہی حق و باطل کا معیار ہے جو لوگ ، جو قوم ، جو افراد جن عقائد و اعمال میں اس کے خلاف لڑیں گے وہ گمراہی ہوگی اور اس کا اتباع ہدایت۔ واذقال موسیٰ لقومہ……………انہ ھوالتواب الرحیم۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں تمہارے گناہ کی شدت سے آگاہ فرمایا اور تمہیں طریق توبہ بتایا۔ یہی منصب تصوف میں شیخ کا ہے کہ گناہ سے بےرغبتی دلائے اور توبہ کا طریقہ دل میں بٹھائے فرق یہ ہے کہ نبی براہ راست اللہ سے ہدایت لیتا ہے اور شیخ نبی کی اطاعت میں جس شخص کی صحبت میں یہ شے حاصل نہ ہو اس کی صحبت میں رہنا وقت کا ضیاع ہے اور گمراہی کا خطرہ الگ۔ لہٰذا اس ظلم عظیم کا علاج یہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے گوسالہ کو سجدہ کیا ہے انہیں وہ لوگ قتل کردیں جو اس میں ملوث نہیں ہوئے تو مقتول کی توبہ منظور ہوجائے گی فرمایا فاقتلوانفسکم اب تمہارا قتل ہونا ہی تمہارے لئے بہتر ہے اسی میں تمہاری بھلائی ہے اور یہ شرک کا داغ اب گردن کے خون ہی سے صاف ہوسکے گا یہ طریق توبہ بعض گناہوں پہ ہماری شریعت میں بھی مقرر ہے جیسے قتل عمد کے بدلے حمل یا زنا کے بدلے پر رحم کو یہ صرتوبہ سے ساقط نہیں ہوتے ہاں اگر معاملات رفت وگزشت ہوچکے ہوں اور بجز اللہ کوئی جانتا نہ ہو تو علاج توبہ کے سوا کچھ نہیں یہ رحمت خاص ہے امت محمدیہ کے لئے اور کمال تصوف بھی یہ ہے کہ گویا قتل ہوچکا ، نفس مارا جاچکا ہے اب شریعت کے سامنے ایسا ہو جیسا مردہ بدست غسال ، جدھر ہلائے ادھر ہلے گا۔ صحبت پیغمبرکا کمال کہ دوری میں جو مبتلا شرک ہوگئے تھے حضوری میں ایسے صاف دل بن گئے کہ قتل تک ہونا منظور کرلیا اور قتل ہوئے بہت کثرت سے قتل ہوئے تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی۔ حکم ہوا کہ جو بچ رہے ہیں انہیں بھی معاف فرماتا ہوں اور جو قتل ہوئے انہیں شہادت سے سرفراز فرماتا ہوں۔ سو پھر تم پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات پیش کی تو کہنے لگے بھئی ! مانلینے سے تو ہم کو اعتراض نہیں۔ بات اتنی ہے کہ اگر خود اللہ کہہ دے کہ یہ میری کتاب ہے تو بڑی بات ہے موسیٰ (علیہ السلام) راضی ہوگئے اور قبیلے کے چیدہ چیدہ افرادہ کو جو کافی تعاد میں تھے لے کر طور پر پہنچے۔ دعا کی اللہ ان کو بھی اپنا کلام سننے کی توفیق وقوت عطا کر ۔ چناچہ انہوں نے سنا اور یہ بہت بڑا کمال تھا جو انہیں نبی کے وسیلے سے غیب ہوا۔ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اللہ میں ایسے افراد ہوسکتے ہیں جنہیں باتباع نبی اللہ سے کلام نصیب ہو۔ مگر اس کا درجہ وہ نہ ہوگا جسے وحی کی جائے۔ تو وہ وقت یاد کرو جب تم اس پر بجائے شکر کے حد سے بڑھ گئے کہ بات تو سن لی مگر کہنے لگے نہ جانے کس کی تھی اگر اللہ کو دیکھ لیں اور پھر ہمارے سامنے بات ہو تو مانیں اور یہ حد سے بڑھی ہوئی جسارت تھی۔ اس عالم آب وگل میں دیدار باری کی قوت ہی ہیں دی گئی بلکہ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تمنا کی تو ارشاد ہوا لن ترانی تم دیکھ نہ سکو گے۔ ساری خدائی میں یہ شرف رسول اللہ ﷺ کا ہے کہ شب معراج دیدار باری ہوا جس پر بعض کو اختلاف بھی ہے مگر یہاں دو باتیں زیر غور ہیں ایک تو حضور ﷺ جسدعنصری کے ساتھ عالم بالا کو تشریف لے گئے ہیں جس پر اہل سنت کا کوئی اختلاف نہیں تو یہ بات دنیا کی نہ رہی بلکہ اس عالم کی ہوگئی دوسری یہ کہ سب کا اتفاق ہے حضور ﷺ نے جنت کا ملاحظہ ومعائنہ فرمایا۔ نعمائے جنت میں سب سے بڑی نعمت ہی دیدار باری ہے اگر اللہ ہی کو نہ دیکھا تو پھر جنت میں کیا دیکھا۔ یہ بات اس کے حق میں جاتی ہے کہ آپ ﷺ کو دیار باری ہوا ۔ واللہ اعلم وعلمہ ، اعظم۔ اور کسی سے یہ کمال ثابت نہیں۔ ہاں ! آخرت میں اور جنت میں جنتیوں کو حسب مراتب نصیب ہونا ثابت ہے۔ یہاں یہ بات تھی بنی اسرائیل کی ، کہنے لگے واذقلتم یا موسیٰ لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصاعقۃ وانتم تنظرون۔ جب تم نے حد سے بڑھ کر اور بحیثیت سے بڑھ کر مطالبہ کیا تو تم پر بجلی گری اور دیکھتے ہی دیکھتے تم فنا ہوگئے۔ ہوسکتا ہے بجلی ہی ہو یا تجلیات پر بھی کی کوئی بھوک جو یہ برداشت نہ کرسکتے تھے اور نہ کرسکے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اللہ کے قتل کی تہمت سے مجھے ۔۔۔ پھر سے زندگی دے اور یہ چونکہ قضائے معلق تھی جو بدل سکتی ہے یعنی ایک فعل کے نتیجہ میں ان پر مسلط کی گئی ، عمر طبعی پوری نہ ہوئی تھی جس کے بعد اٹھائیں تو پھر تمہیں زندہ کردیا گیا۔ کیا کیا کمالات تھے اور کیسے کیسے انعامات تھے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل تمہیں نصیب ہوئے۔ ثم بعثنکم من بعد مولنکم لعلکم تشکرون۔ تمہیں ایسا موقع نصیب ہوا کہ تم شکر کرتے ، اللہ کے احسانات یاد کرکے اس کے سامنے سرجھکا دیتے۔ مگر ہوا کیا کہ تمہیں حکم بلا لو اور تم عمالقعہ سے ، جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد اس ملک پر قابض ہوگئے تھے اپنا وطن اصلی واپس لے لو ، اور اور جہاد کا ثواب بھی لوٹو۔ یہ حضرات چلے مگر جب راہ میں عمالقہ کی قوت کا حال معلوم ہوا تو دل چھوڑ بیٹھے کہ موسیٰ ! تو اور تیرے خدا لڑے ہم سے یہ مصیبت مول نہیں لی جاسکتی۔ چناچہ سب نے واپسی کی ٹھانی۔ اب جناب سارا دن چلتے اور رات ٹھہرتے مگر چالیس سال چلتے رہے اور رہے وہیں کے وہیں۔ ایک بارہ کو اس کی وادی میں پھنس کر رہ گئے جو عصر اور شام کے درمیان میں تھی۔ نہ وہاں پانی نہ خوراک ، نہ سایہ نہ مکان ، نہ لباس نہ دکان ، لگے خراب ہونے۔ پھر التجا کی موسیٰ ! ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ آپ نے پھر دعا کی تو اللہ نے تمام آسانیاں بخش دیں مگر چالیس برس تک اس میں بھٹکنا پڑا کسی طرف نکل نہ سکے۔ وضظلنا علیکم الدام وازلنا علیکم المن والسلویٰ کلوا من طیبت مارزقنکم وما ظلمونا ولکن کانوا العباد ویظلمون یہ انہیں احسانات کو یاد فرمایا جارہا ہے کہ دھوپ نکلتی تو تم پر بادل سایہ کرلیتے اور کھانے پینے کے فکر سے تمہیں یوں آزاد کیا کہ من وسلویٰ عطا فرمایا ” من “ ایک تر نجبین سی تھی جو رات کو جھاڑیوں پر خوب اکٹھی ہوتی اور صبح یہ حاصل کرلیتے۔ اور ” سلویٰ “ بٹیریں تھیں۔ جن کے ڈر آجاتے اور ان سے بھاگتے نہ تھے یہ پکڑ کر ذبح کرتے اور کھاتے ۔ حتیٰ کہ کپڑے نہ میلے ہوتے اور نہ پھٹتے بچوں کو جو کپڑے پہنادیئے وہ جسم کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہتے۔ رات کی تاریکی کا تدارک ایک نوری روشنی کردیا جاتا۔ غرضیکہ ان کی تمام تر ضروریات کو خرق عادت کے طور پر پورا کردیا گیا۔ اور زندگی کی ضرورتوں سے بےنیاز ہوگئے مگر باوجود ان عنایات کے اللہ کی اطاعت پر قائم نہ رہ سکے اور لگے نافرمانیاں کرنے ان کی یہ ناشکری اللہ کا تو کچھ بگاڑ نہ سکی۔ مگر خود ان کے حق میں بہت بڑی مصیبت ہوئی کہ زوال نعمت کا سبب بن گئی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ واذقلنا ادخلوا……………وسنزید المحسنین۔ پھر وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہیں ایک شہر پر غلبہ دیا اور حکم دیا کہ اس شہر میں داخل ہوجائو اور جو کچھ اس میں ہے تم پر حلال ہے مزے سے کھائو لیکن ایک بات یاد رہے کہ داخلے کے وقت سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا کہ تمہارا عجز اور ہماری عظمت ظاہر ہو نیز شکر ادا کرنے کا باعث ہو اور زبان سے حطۃ یعنی گزشتہ غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بھی تو ہماری عنایات دیکھو کہ اتنے سے معمولی کام پر پچھلی تمام خطائوں کی معافی کا وعدہ فرمایا۔ بلکہ فرمایا وسنزید المحسنین ، جن میں جتنا خلوص یا خشوع زیادہ ہوگا ان کو معافی کے ساتھ انعامات اور قرب الٰہی نصیب ہوگا۔ احسان نام ہے خلوص قلب کا اور یہ کیفیت ہر دل کی جدا ہوتی ہے۔ تو جس قدر کسی کے دل میں رجوع الی اللہ کی کیفیت بڑھتی جائے گی اس پر دو عالم میں انعامات بھی بڑھتے جائیں گے مگر یہ تم تھے کہ اتنی سی بات پر بھی عمل نہ کرسکے اور تم میں سے بدکاروں نے الفاظ بدل دیئے۔ فبدل الذین ظلموا……………بما کانوا یفقون۔ یہ لوگ جب داخل ہوئے تو نہ ہی سجدہ کیا اور نہ ہی الفاظ درست کہے بلکہ حنطلۃ کہنے لگے جس کا معنی روٹی ہے کہ بھئی ! ہم تو بھوک کے ستائے ہوئے لوگ ہیں ہمیں تو کھانا درکار ہے۔ لہٰذا اس فعل اور قول کو بدل دینے کی وجہ سے ان بدکاروں پر آسمان سے آفت نازل کی گئی۔ کہ ان کی بدکاری کا ثمر تھا۔ ایک ظلم تو سجدہ نہ کرنے کا تھا دوسرا یہ کہ الفاظ ہی بدل دیئے جو مامور بہ تھے یہاں تو معنی بھی بدل گئے اگر معانی محفوظ رکھتے ہوئے صرف الفاظ بدل دیئے جائیں تو بھی درست نہ ہوگا خصوصاً عبادات میں مثلاً اذان یا صلوٰۃ میں ثناء اور التحیات وغیرہ کہ ان کی جگہ معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی الفاظ بدل دینا جائز نہیں اور نہ صلوٰۃ ہوگی (معارف القرآن) ہاں احادیث میں روایت بالمعنی کا جواز ملتا ہے قرصی نے امام مالک ، شافعی اور ابوحنیفہ رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے مگر وہ بھی اس شخص کے لئے جو عربی زبان میں ماہر ہو اور مواقع خطاب اور ماحول کے لحاظ سے معانی یا مضمون کو سمجھ سکے ہر کس کے لئے نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ دنیاوی نقصان میں بھی مبتلا ہوگا۔ اس طرح صوفی کے لئے ان الفاظ ووظائف میں جو شیخ نے تعلیم فرماتے ہوں تبدیلی جائز نہیں ورنہ اس کا دینی نقصان بھی ہوگا اور دنیاوی مصائب بھی آئیں گے جس طرح ان نافرمانوں پر طاعون مسلط کردی گئی جو بطور سزا کے تھی اور اس کا سبب ان کی نافرمانی تھا بما اسمانوا یفسقون۔ کہ وہ بداعمال تھے۔ مصائب کا فلسفہ : بدکاروں پر مصیبت بطور سزا آتی ہے اور جو مصائب نیک بندوں پر آتے ہیں وہ بطور انعام ہوتے ہیں کہ بعض مقامات قرب کے حصول کے لئے ضروری ہوتے ہیں جیسے شہادت کے لئے قتل ہونا راہ حق میں ضروری ہے اور بعض اوقات منصب ومقام کے لحاظ سے عبادات میں کمی رہ جاتی ہے جسے تکالیف دنیاوی پورا کرتی ہیں۔ اور کبھی مجاہدہ کرانا مقصود ہوتا ہے تاکہ اس پر انعام مرتب ہو کہ یہ مجاہدہ اضطراری ہے جیسے آگے اسی قصہ میں آرہا ہے اور وہ وقت بھی یاد کرو۔ جب وادی تیہ میں تم کو پیاس نے بےحال کردیا اور تمہارے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کی دعا کی۔
Ayahs 2:60–61

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعا کی تو ہم نے فرمایا اپنے عصا کو اس پتھر پر ماریں تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ہر شخص کو اپنے گھاٹ کا پتہ چل گیا (فرمایا) اللہ کے دیئے سے کھاؤ اور پیو اور زمین پر فساد کرتے ہوئے نہ پھرو

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم ایک ہی قسم کے کھانے پہ ہرگز نہ رہیں گے پس اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کیجئے کہ ہمیں زمین کی پیداوار عطا کرے جیسے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز تو انہوں نے فرمایا کیا تم اعلیٰ نعمت کو کمتر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں اترو تو یقینا وہاں تمہیں تمہاری مطلوبہ چیزیں مل جائیں جائیں کی اور ان پر ذلت اور فقیری مسلط کردی گئی اور غضب الٰہی کے مستحق ٹھہرے یہ اس لئے کہ وہ احکام الٰہی کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناروا قتل کرتے تھے (اور ) اس لئے کہ نافرمانی کرتے اور حد سے نکل جاتے تھے

آیت 60- 61 اسرارومعارف توہم نے تمہیں وہ بھی خرق عادت کے طور پر بخشا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور ہر شخص کو اس کا مشرب یعنی سیراب ہونے کا چشمہ بھی بتادیا گیا۔ کس قدر عنایات ہیں کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری فرما دیئے اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کہ امور عادیہ میں نسانی محنت ضروری ہے کہ اگر بارش ہوتی تو اس کے لئے تالاب بناتے پھر پانی صاف نہ رہتا گدلا ہوتا رہتا یا اور کسی طرح کے مصائب بنتے مگر اللہ نے پانی ہی خرق عادت کے طور پر عطا فرمایا اور اس میں بھی اس قدر رعایت برتی کہ ہر قبیلے کے لئے علیحدہ وچشمہ جاری فرمایا اور اسے بتا بھی دیا اور فرمایا کہ اللہ کے عطاء کردہ رزق سے کھائو پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ان سب انعامات کے بدلے اللہ کا شکر ادا کرو۔ ورنہ چینا جھپٹی کرو گے تو روئے زمین پر فساد پیدا ہوگا گویا دنیا کا حسن وزینت اور اس کے آرام و آسائش کا مدار بھی اعمال انسانی پر ہے اگر یہ بدکار ہوگا تو اس کی بدی کے اثرات ماحول کو متاثر کرکے دنیا میں فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان باوجود ہر طرح کی سائنسی ترقی کے دنیا میں امن قائم کرنے سے قاصر ہے کہ اللہ سے بیگانہ ہوچکا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے بدکار ہے جس کی وجہ سے دنیا کا امن تہ وبالا ہوچکا ہے دراصل یہ دنیا ایک مکان کی مثال ہے اور انسان اس کا مکیں جب یہ خرمستیاں کرتا ہے تو لازمی طور پر ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ کھائو پیو ضرور مگر من رزق اللہ ملحوظ رہے وہ رزق جو اللہ کی طرف سے حلال ومباح ہو جس کے حاصل کرنے کا طریقہ شرعی ہو نہ یہ کہ بغیر حلال و حرام کی تمیز کے جو ملے جھپٹ لیا۔ لکڑہضم ، پتھر ہضم ، تو پھر نہ صرف اپنی تباہی کا سبب بنو گے بلکہ دنیا میں فساد پھیلانے کا ذریعہ جائو گے جو نہایت نامناسب ہے۔ واذقلتم یا موسیٰ ……………ذالک بما عصوا وکانوا یصدون۔ پھر ان سب انعامات کے باوجودتم کہنے لگے ، اے موسیٰ ! یہ روزانہ ایک طرح کی خوراک کچھ مزہ نہیں دیتی اور اس طرح عمر گزارنا بہت مشکل ۔ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کریں کہ کوئی زمینی پیداوار عطا کرے کوئی دال سبزی ، کھیرا ککڑی ہوتا تھوم پیاز ہوں یہ کیا روزانہ کا لگا بندھا کھانا ہے بھئی ! یہ ہمیں منظور نہیں۔ باوجود اس کے کہ یہ ایک بہت بڑی گستاخی تھی اور انتہائی ناشکری بلکہ نعمت کی ناقدری تھی۔ مگر ہم نے تمہاری یہ خواہش بھی پوری کردی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں بہت سمجھایا بھلایا کہ تم اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کی طرف کیوں جاتے ہو ؟ یعنی صرف یہ نہیں کہ ملنے والا کھانا اعلیٰ ہے بلکہ اس کے ساتھ اصل بات یہ ہے کہ تمہیں بطور خرق عادت نصیب ہوتا ہے اور خوارق میں انسان محنت و کاوش کو دخل نہیں ، یہ محض اللہ کی طرف سے صادر ہوتے ہیں مگر جن چیزوں کے تم طالب بن رہے ہو یہ امور عادیہ کے تحت آتی ہیں اور امور حاویہ میں تمہیں بھی باقاعدہ محنت کرنی ہوگی کہ امور عادیہ بغیر سبب اور محنت انسانی کے حاصل نہیں ہوتے تو کیا عجب حال ہے کہ تمہارا کھانا بھی پہلے سے کم درجے کا ہو اور محنت بھی گلے پڑجائے۔ شکار کا گوشت : پھر ایک بات اور بھی ہے کہ جب اللہ کی طرف سے بطور غرق عادت ملتا تھا تو خالص حلال تھا جب تم محنت کرو گے اور خود کمائو گے تو کیا خبر کہاں نقص واقع ہوجائے اور ابے حرام یا مکروہ کردے کہ جب انسانی لین دین ہوتے ہیں تو عموماً کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ اس لئے مولانا محمد اسماعیل شہید (رح) سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ شکار کیوں کرتے ہیں ؟ تو فرمایا شکار کا گوشت لطیب الرزق ہے جو براہ راست اللہ سے مل جاتا ہے کسی آڑھتی یا دکاندار کا اس میں دخل نہیں۔ ان تمام باتوں کو سن کر بھی تم اپنی بات پر اڑے رہے حال تمہارا یہ تھا کہ کہتے تھے موسیٰ ! اپنے رب سے کہو ، یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے تمہارا رب نہیں۔ یہ تک توفیق نہ ہوئی کہہ دیتے ہمارے رب سے سوال کرو ، مگر ہم نے پھر بھی تم پر احسان فرمایا اور تمہاری خواہش پوری کردی۔ حکم دیا چلو کسی بستی میں داخل ہوجائو۔ وہاں تمہیں یہ سب ملے گا اور پھر ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی یعنی مشقت زیادہ اور آمدن و آرام کم۔ پھر یہ ذلت ہمیشہ کے لئے اور احتیاج بھی ابدی کہ طبائع میں وہ اولوالعزمی نہ رہی ایک تو کاشتکاری کا پیشہ ایسا ہے کہ عموماً کام کرنے والے غریب ہی رہتے ہیں اور پھل دوسرے کھاتے ہیں۔ یہود کے تو مزاج ہی میں ذلت ہے کہ رئیس ترین یہودی بھی مسکین ہی بنا پھرے گا۔ نیز ہمیشہ کے لئے حکومت وسلطنت سے محروم ہوگئے ہاں الابحبل ھن اللہ وحبل من الناس ، یعنی کوئی اللہ کی طرف سے اس مصیبت سے کسی حد تک ماموں ہو یا کسی دوسرے انسان یا قوم کے آسرے پر چند روز کی چودھراہٹ بنا بیٹھیں ، جیسے موجودہ اسرائیل کی ریاست کہ درحقیقت امریکہ اور برطانیہ کی چھائونی کی حیثیت رکھتی ہے جو صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انہیں الجھائے رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے ورنہ اس دور سے اب تک اور اب سے ہمیشہ تک یہودی جہاں بھی رہے ذلیل و خوار اور دوسروں کے سہارے رہے اور رہیں گے۔ اس ذلت و محتاجی نے انہیں کہیں نہ نہ رکھا حتیٰ کہ غضب الٰہی کا شکار ہوئے دنیا میں مصروف ہوئے دین رفتہ رفتہ چھوٹتا گیا اور برائی آتی گئی ، حتیٰ کہ اس حد تک پہنچ گئے جہاں اللہ کے غضب کا شکار ہوئے اور حکم الٰہی سے انکار کرنے لگے اور انبیاء کے قتل ناحق میں ملوث ہوتے دین سے بےرغبتی بڑھتے بڑھتے دین سے دشمنی کی حد کو جا پہنچے حتیٰ کہ کسی نبی کی بات برداشت نہ کرسکتے تھے اور اپنے خود ساختہ معاشرتی اصولوں کی حفاظت کے لئے کہ ہر نبی تو اللہ کا قانون رائج کرے گا ہماری رسومات مٹ جائیں گی انبیاء کو قتل تک کردیا۔ بغیر الحق نبی کا قتل تو ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں اور بےگناہ واجب القتل کیسے ہوسکتا ہے۔ یہاں بغیرالحق فرما کر واضح فرمادیا کہ جانتے وہ خود بھی تھے کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ ناق ہے ظلم ہے اور یہ سمجھتے ہوئے بھی اس کے مرتکب اس وجہ سے ہوئے کہ اللہ کے نافرمان تھے اور گناہ آلود زندگی انہیں رفتہ رفتہ اس حد پر لے گئی کہ وہ تمام حدود پھلانگ گئے یہ مسلسل گناہ کا ثمر ہے۔
Ayahs 2:62–71

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

یقینا جو مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصرانی اور صابئین (بےدین) (غرض) جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن یقین رکھتا ہو اور نیک کام کرے تو ایسے لوگوں کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور انہیں کوئی ڈر ہوگا اور نہ افسوس

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور (پہاڑ) کو معلق کردیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے اختیار کرو اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم پرہیز گار بن سکو

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم پھرگئے پس اگر تم پر اللہ کا کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تمہارا بہت نقصان ہوتا

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور یقینا تم اپنے لوگوں کو جانتے ہو جو ہفتے والے دن (کے حکم) سے حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر اس (قصے) کو ہم نے عبرت بنادیا ان کے ہم عصر لوگوں کے لئے اور بعد میں آنے والوں کے لئے اور نصیحت پرہیزگاروں کے لئے

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا یقینا الہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو تو کہنے لگے کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں جاہلوں میں شامل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کریں ہمیں بتائے کہ وہ بیل کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا وہ فرماتا ہے کہ بیشک وہ بیل نہ بوڑھا ہے اور نہ بچہ ، اس کے درمیان جوان ہے پس تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کریں وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا وہ فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہے (کہ) دیکھنے والوں کو بہت اچھا لگتا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کریں ہمیں بتا دے کہ وہ بیل کیسا ہے ؟ بلا شبہ ہمیں اس بیل کے بارہ میں اشتباہ ہے اور یقینا ہم اس بار اگر اللہ نے چاہا تو ضرور سمجھ جائیں گے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

تو انہوں نے فرمایا کہ وہ فرماتا ہے وہ بیل نہ ہل جوتا ہوا ہے کہ کھیتی میں ہل چلایا ہو اور نہ اس سے زراعت کی آبپاشی کی گئی ہو ہر نقص سے پاک ہے اس میں کوئی داغ نہیں کہنے لگے اب آپ نے ٹھیک کہا پھر انہوں نے اس (بیل) کو ذبح کیا اور لگتا تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست نہیں کہ کوئی بھی فرقہ اچھے اعمال کرتا ہو تو وہ مقبول ہوگا اس لئے کہ بغیر ایمان کے عمل میں صلاحیت پیدا ہی نہیں ہوتی کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو وہ اسلام قبول کرلے۔ اور اگر مسلمانوں پہ عنایات ہیں تو اس کا سبب ان کی ذات نہیں بلکہ ان کے عقائد اور اعمال ہیں۔ لہٰذا اے بنی اسرائیل اور دنیا کے تما فرقو ! اگر تم بھی اپنے اعمال اور عقائد میں نبی کریم ﷺ کی پیروی اختیار کرو تو تم بھی مورد عنایات ہوسکتے ہو لیکن اگر نہ آخرت مسلمان بھی ان اوصاف کو ضائع کردے تو تمہارے طرح ذلیل ہوگا۔ جیسے آج کل ہماری حالت ہے ۔ وہ اوصاف جن کی وجہ سے ہمیں عزت و عظمت دو عالم نصیب تھی۔ گئے تو یہ چیزیں بھی گئیں۔ آج ہر طرف ہمارے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور ہماری حکومتوں کو برباد کیا جارہا ہے مگر ہم ہیں کہ ٹس سے مس ہو رہے ، خدا ہمیں توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور عقائد بھی وہ نصیب کرے جن کی دعوت حضور ﷺ نے دی اعمال بھی وہی جو سنت کے مطابق ہوں۔ ایسے ہی لوگ عنایات باری کے سزاوار ہوں گے نہ انہیں آئندہ کا خوف ہوگا اور نہ گزشتہ کا افسوس۔ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ تصوف کا خلاصہ : یہی خلاصہ ہے سارے تصوف کا ، اللہ اللہ کی تکرار کرنے سے دل میں وہ صلاحیت آتی ہے کہ آدمی عقائد اسلامیہ کو دل سے قبول کرتا ہے اور وجود میں وہ ہمت پیدا ہوتی ہے کہ اتباع سنت کے لئے سنت کرتا ہے اگر کوئی شخص خلاف سنت کرتا ہو اور اسے تصوف کا نام دے تو اس کی مثل تو یہ ہے ” برعکس نہند نام زنگی کافور “۔ واذاخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور……………لعلکم تتقون۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے طور کو تمہارے سروں پر معلق کردیا کہ وعدہ کرو اور مانو جو ہم نے بھیجا ہے۔ تورات کو مضبوطی سے پکڑو ورنہ یہ عظیم پہاڑ تم پر گرادیا جائے گا۔ جب یہ حال بنا تو سب سجدے میں گر گئے اور لگے گڑگڑانے اور وعدہ کرنے۔ اللہ نے اسے بھی بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ اگر تم نہ مانتے تو نقصان کس کا تھا۔ تمہارا۔ سو ہم نے تم سے منوا کر تمہیں یہ موقع بخشا کہ تم ان کو مانو ، یادرکھو ، ان پر عمل کرو کہ تقویٰ جیسی نعمت میسر ہو۔ یہاں اکراہ فی الدین نہیں ہے بلکہ یہ اول مسلمان تھے مگر عملاً جب تورات کو پڑھا تو پھسلنے لگے کہ جی اس پر عمل دشوار ہے تو اللہ نے ان پر طور پہاڑ کو معلق فرمادیا کہ اب عمل کرو اور مانو ، ورنہ قتل کردیئے جائو گے جیسے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے کا ذکر نہیں ۔ مسلمانوں سے اسلام پر عمل کرانا اہل اختیار کی ذمہ داری ہے : اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ مسلمان سے اسلام پر عمل کرانا صاحب اختیار کی ذمہ داری ہے ورنہ اسے سزا دے ، اگر ایسانہ کرے گا تو خود ماخوذ ہوگا جب ہی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مقدس دور میں فاروق اعظم ؓ مڈمڈنے پھرا کرتے تھے کاش آج کے حکمرانوں کو بھی اللہ یہ سمجھ دے۔ پھر اس کے بعد بھی تم وعدے پر قائم نہ رہے اور عہد شکنی کی جس کی تازہ مثال نبی اکرم ﷺ سے تمہارا عناد ہے مگر اللہ کا فضل اور عموم رحمت ہے کہ تمہیں تا یہ عمر مستعار مہلت مل رہی ہے ورنہ تم سخت خسارے میں تھے اور قریب تھا کہ تم پر عذاب آپڑے تم تو شروع سے ہی غلطیاں کرتے چلے آرہے تھے یہ اللہ کی رحمت تھی کہ جگہ جگہ تمہیں سہارا دیتی چلی آئی اور بعثت محمدیہ ﷺ تو ایک مخلص رحمت تھی جس کے سبب سے کفار سے بھی عمومی عذاب ہٹ گئے لیکن آخر تابہ کے۔ ایک روز تو بارگاہ الٰہی میں پیش ہونا ہی ہے اگر دنیا میں موسیٰ (علیہ السلام) سے بدعہدی کرکے فوراً ہلاک نہ ہوئے تو کیا ابدی ہلاکت سے بچ سکو گے ؟ سو یہ بھی اللہ کا فضل اور رحمت ہے کہ فوراً گرفت نہ فرمائی اور توبہ کی صفت عطا کررکھی ہے ورنہ تم خوب جانتے ہو۔ ولقد علتم الذین امتہ وامنکم……………للمتقین۔ کہ وہ لوگ بھی تھی میں سے تھے جنہوں نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی۔ یہ واقعہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا کہ یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے اور مچھلی ان کے معاش کا ذریعہ تھی۔ اللہ نے حکم دیا کہ ہفتہ کے روز مچھلی نہ پکڑا کریں کہ یہ روز ان کے لئے مکرم اور عبادت کا تھا مگر ہوتا یہ کہ اس روز مچھلیاں بھی کثرت سے کنارے کے قریب آجاتی تھیں ان لوگوں سے نہ رہا گیا تو میلہ ایجاد کرلیا کہ کنارے پر گڑے بنادیئے اور نالیوں کے ذریعے سمندر سے ملادیئے جب گڑھے مچھلیوں سے بھر جاتے تو نالی میں سل وغیرہ رکھ کر بند کردیتے پھر دوسرے روز پکڑتے رہتے کوئی کانٹا ڈال دیتا مچھلی اس میں اٹک جاتی مگر وہ اس روز نہ پکڑتا ۔ دوسرے روزے نکال لیتا جن لوگوں کو اللہ نے اطاعت کی توفیق بخشی انہوں نے سختی سے منع کیا۔ یہ سخت جرم ہے تلخی بڑھی تو بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے ان کی بستی ہی علیحدہ کردی۔ اور درمیان میں دیوار کھینچ دی کہ اگر تم نہیں کرسکتے تو الگ رہو۔ ایک روز انہیں نافرمانوں کی طرف سے کوئی انسانی آواز سنائی نہ دی بلکہ درندوں اور بندروں کے چلانے کی آوازیں تھیں ، جاکر دیکھا تو سب بندر اور خنزیر بن چکے تھے جو ان بندر اور بوڑھے خنزیر بن گئے ، رشتہ داروں کو پہچانتے ، ان کے پائوں میں لوٹتے اور چیختے تھے مگر کچھ نہ بن سکا اور چند روز اسی عذاب میں مبتلارہ کر ہلاک ہوگئے۔ صحیح حدیث سے ثابت ہے جن قوموں پر مسخ کا عذاب واقع ہوا۔ ان کی نسل نہیں چلی۔ یہ موجودہ بندر وغیرہ پہلے بھی تھے یہ جدا مخلوق ہیں اس سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ حیلہ کی قسمیں : یہاں ایک بات تو واضح ہے کوئی ایسا حیلہ جس سے حکم شرعی کا ابطال ہوتا ہو جائز نہیں بلکہ سخت جرم ہے۔ ہاں فقہاء کے وہو حیلے جن سے حکم شرعی کی تعمیل مقصود ہے نہ کہ ابطال ، وہ اس میں داخل نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ نیکوں کے ساتھ چلنا بھی عمومی عذاب کی گرفت سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب تک مل کر رہے بچے رہے مگر جب نیک لوگوں کو بالکل علیحدہ کردیا اور قدامت پسندوں کو جدا کردیا تو تہذیب یافتہ لوگ عذاب کی گرفت میں آگئے۔ خدا تعالیٰ ہمیں نیکوں کا ساتھ نصیب فرمائے ! آمین فرمایا۔ دیکھ لو ان کا حال ! انہوں نے مچھلیاں تو پکڑیں مگر ہم نے ان کو بندر اور ذلیل جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا اور ان کے ہمصر میں کے لئے اور بعد والوں کے لئے عبرت اور توبہ کا سبب بنادیا اور نیک لوگوں کے لئے مزید نصیحت کا ذریعہ۔ یہ عذاب کی صوبتیں مسخ ہوجائیں بعثت نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کے بعد عمومی طور پر اٹھا لیا گیا۔ یہ آپ ﷺ کی برکات میں سے ملے مگر بعض افراد پر اس کا جاری ہونا عجیب نہیں۔ یہاں ہمارے گاؤں میں ایک عورت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو خصوصی طور پر سخت توہین آمیز کلمات کہا کرتی تھی۔ اور دیگر صحابہ اور ازواج مطہرات کو بھی۔ تو مرنے سے پیشتر اس کی شکل بگڑ کر ڈرائونی ہوگئی۔ کتے کی طرح زبان کوئی چار انچ کے قریب منہ سے نکل آئی۔ اور واپس میں میں بھی داخل نہ ہوسکتی تھی۔ دن رات چب بھی کرسکتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ لفظ تو کوئی بن نہ سکتا۔ کتے کی طرح بھوں بھوں کرتی رہتی۔ بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس لاہور تک اسے لے کر گئے مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ تین ماہ اسی عذاب میں مبتلا رہ کر جہنم واصل ہوئی۔ ایسے متعدد واقعات ہیں جن کا لکھنا یہاں طوالت کا سبب ہوگا۔ تو یہ صورت حال استثنائی ہے اب قوموں کی صورت نہیں بگڑتی مگر افراد اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ یہ تو جسم کی بات ہے۔ روحانی شیخ کی صورت : رہی روح کی صورت جب تک ایمان اور عمل صالح نہ ہو انسانی رہ ہی نہیں سکتی بلکہ اس درندے یا جانور سے مثابہ ہوتی ہے جس سے اس کی عادات ملتی ہوں۔ انسانی شکل پر صرف ان لوگوں کے ارواح ہوتے ہیں جن کا دل منور ہو ۔ ورنہ مسلمان اور نمازی بھی حلال جانوروں کی شکل پر ہوتے ہیں اور بدکار اور کفار درندوں کی شکل پر کیا ہوا اگر اس کے اوپر بدن انسانی کا جامہ ہے تو یہ ہمیشہ تو نہ رہے گا۔ اور اگر اللہ دل کی آنکھ واکرے تو دنیا میں دیکھا جاسکتا ہے شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں درندوں سے اٹی پڑی ہیں۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے ! آمین ، یہی وجہ ہے کہ بظاہر تو انسان نظر آتے ہیں لیکن کردار درندوں سے بھی بدتر ہیں۔ واذقال موسیٰ لقومہ…………فذبحوھا وما کادوا یفعلون۔ وہ وقت اور احسان یاد کرو۔ جب تم میں ایک شخص قتل کردیا گیا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل رہا تھا۔ ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) بےعرض کیا کہ قاتل کا ضرور پتہ چلنا چاہیے تو آپ نے اللہ کے حکم سے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ کہنے لگے آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں۔ فرمایا ، ایسی جہالت سے کہ اللہ کے احکام میں مذاق کروں ، اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں یہ کام تو وہی کرسکتا ہے جو اللہ کی عظمت سے ناآشنا ہو وہی سب سے بڑا جاہل ہے خواہ کتنے ہی کالجوں اور مدرسوں میں پھر ہو ، جسے معرفت باری تعالیٰ جیسی دولت نصیب ہو بھلا وہ احکام الٰہی میں مذاق کی جرات کرسکتا ہے ہرگز نہیں کہ وہ عالم ہے اسے وہ شے حاصل ہے جو تحصیل علم کا مقصد ہے اور انبیاء کی ذوات مقدسہ اس بات کے لئے تو مثالی ذوات ہوا کرتی ہیں ویسے بھی ایسا مذاق جس میں کسی کا تمسخر اڑانا مقصود ہو یا جھوٹ پر مبنی ہو شرعاً جاگز نہیں۔ ہاں بات سچی ہو اور کی توہین مقصود نہ ہو بلکہ محض خوش طبعی ہو تو بےتکلیف احباب میں ایسا کرنا ہرج کا باعث نہیں۔ مگر یہ معاملہ احکام الٰہی سے تو نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اسے مذاق کیوں جانا۔ اس لئے کہ ان کے خیال میں قتل کی تفتیش کے لئے بیل یا گائے کو ذبح کرنا کچھ بےجوڑ سی بات ہے بھلا اس سے کیا مقصد حاصل ہوگا۔ دنیا عالم اسباب ہے یہ اللہ کی سنت ہے کہ ہر کام کو کسی نہ کسی سبب سے متعلق فرمادیا ہے اور اس کے مصلحت یا حکمت سے وہ خود ہی آگاہ ہے جو امور ہمارے روز مرہ کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ ہم ان کے عادی ہو کر انہیں ایک عام سی بات کا درجہ دیتے ہیں۔ ورنہ یہ کیا تک ہے گندم حاصل کرنے کے لئے جو چند دانے گھر میں رکھے ہیں انہیں بھی مٹی میں دبادو۔ مگر ہمارا تجربہ کہ اس سے فصل پیدا ہو کر بالیاں لگیں گی اور دانوں سے بھر جائیں گی ، ہمیں اس پر حیران نہیں ہونے دیتا ورنہ تو اس عالم کی ہر شے قدرت باری پہ ایک بہت بڑی دلیل ہے سو اسی طرح اللہ انہیں روز مرہ کے دلائل کے علاوہ اپنی قدرت کی ایک اور دلیل دکھانا چاہتا تھا۔ نیز اس میں مزید کس قدر حکمتیں تھیں یہ بھی اللہ ہی جانے تو انبیاء (علیہم السلام) کے احکام کی تعمیل ضروری ہے اور جو نتائج انہوں نے ان امور پہ بیان فرمائے وہ ضرور مرتب ہوتے ہیں خواہ ان کی درمیانی کڑی ہم جان سکیں یا نہ ، جیسے آج کل یہ اعتراض کہ عید قربان پہ کس قدر جانور ذبح کردیئے جاتے ہیں ، اور سب گوشت ، کھالیں ضائع ہوتی ہیں اگر یہ رقم جمع کرکے فلاحی کاموں پر لگائی جاتی تو کس قدر خوب ہوتا۔ یا یہ اعتراض کہ اربوں روپے حج پر جانے میں ضائع ہوتے ہیں ان سے ہر سال کئی یونیورسٹیاں قائم ہوسکتی تھیں۔ یہ وہی اسرائیلی ذہن ہے ورنہ مقصد اتباع نبوی ﷺ ہے اور ایک معمولی گائے یا دنبہ ذبح کرکے ان برکات میں اپنی حیثیت کے مطابق حصہ دار بن جانا جو حضرت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ کی گردن پر چھری رکھ کر حاصل ہوتی تھیں کس قدر عظیم بات ہے اور اللہ کا کتنا احسان ہے۔ اپنے اندر اخلاق ابراہیمی کی جھلک پیدا کرنا ہی کتنا کمال ہے یا ارکان حج اداکرکے ان مخصوص تجلیات باری کو اخذ کرنا جو اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ، کس قدر عظمت کا حامل ہے جس ہستی نے یہ ارکان بجا لانے کا حکم نوع انسانی تک پہنچایا ہے کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی تعمیر سیرت کرسکتا ہے تاریخ انسانی میں کوئی ایسا ہے ہرگز نہیں اور یہ اپنے آپ کو مہذب لکھنے والے جانور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انسانی بچوں کو جانوروں جیسی عادات سکھا کر ارکان دین پر طنز کرتے ہیں۔ ذرا اس معاشرے کو اپنے معاشرے کے مقابل رکھ کر دیکھو ، انسانیت کس طرف ہے اور نوع انسانی کی فلاح کس بات میں ہے ، یقینا تم پر اتباع نبوت کی عظمت عیاں ہوجائے گی اور تم سمجھ سکو گے کہ کالج اور یونیورسٹی بھی وہی مفید ہے جو اتباع نبوت سکھائے ورنہ سب بوچڑ خانے ہیں جہاں انسانیت کی کھال اتاری جاتی ہے پھر اتباع نبوت نبی پر مکمل اعتماد کا نام ہے ، یہ لگے ہیں بیخ نکالنے ، جی بھلا وہ کیسے گائے ہے ؟ فرمایا نہ بچھڑی ہے نہ بوڑھی ، ان باتوں میں نہ پڑو ، میاں اللہ نے حکم دیا ہے کہ گزرو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔ مگر جناب پھر بولے جی۔ یہ تو فرما دیجیے اپنے رب سے سوال کیجیے کہ اس کا رنگ کیسا ہے ؟ فرمایا اللہ فرماتا ہے زرد رنگ کی مزیدار اور چمک رکھنے والی ہے دیکھ کے جی خوش ہوتا ہے۔ اب پھر بولے ایسی بھی کئی گائیں ہیں ذرا اپنے رب سے عرض کریں مجال ہے جو ہمارا رب کہیں موسیٰ تیرا رب ہر بار یہی کہتے تھے۔ سو عرض کریں کچھ اور نشاندہی بھی ہوجائے۔ ہم اللہ نے چاہا تو اب کے ضرور پالیں گے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس بار انشاء اللہ نہ کہتے تو بات تک نہ پہنچ پاتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا حکم ہوا ہے وہ گائے نہ ہل میں جوتی گئی نہ اس نے کھیتی سیراب کی نہ اس کے جسم پر کوئی داغ ہے کسی طرح کی محنت و مشقت کایا مار پیٹ کا ، کہنے لگے اب بات بنی اب آپ ٹھیک سمجھا سکے ہیں اور پھر ایک گائے خرید کر خواہی نخواہی ذبح کر ہی دی۔ یہاں اللہ کریم اپنا احسان ارشاد فرما رہے ہیں کہ تمہارے اجداد کیسے تھے اور کس قدر کم ہمت تھے اطاعت کے ساتھ میں مگر ہمارا کلام دیکھو کہ پھر بھی ان کی قربانی قبول فرمائی اور اس پر جو نتیجہ مرتب ہونا چاہیے تھا وہ مرتب فرمایا ورنہ ان کی طرف سے اس قدر کوتاہیاں ہوئی تھیں کہ اس پر کچھ بھی مرتب نہ ہوتا اور وہ ضائع ہوجاتی۔ مگر انہیں صرف سنادی سختی دیکھنا پڑی کہ جس قدر سوال کرتے گئے وہ بڑھتی چلی گئیں اگر شروع میں کوئی گائے ذبح کردیتے تو وہی کام دے جاتی۔ شیخ کے ساتھ جرح نہ کرے : مگرجوں جوں سوال کرتے گئے حلیہ مقرر ہوتا گیا لہٰذا اگر شیخ حکم دے تو اس میں مزید سوال کرکے اپنے لئے مشقت پیدا نہ کرے جیسے کسی کو وظیفہ بتایا جائے کہ درود شریف کی اتنی تسبیحات پڑھ لیا کرو تو جو نسا درود شریف بھی پڑھ لے گا ٹھیک ہے لیکن اگر پوچھ بیٹھا کہ جی کونسا ؟ تو وہی پڑھنا ضروری ہوگا جو شیخ مقرر کردے یہی حال تعین وقت کا ہے ورنہ مقصدپورا نہ ہوگا۔ یہاں مفسرین نے ایک اور عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے کہ کوئی نیک شخص فوت ہوا تو اس کے پاس ایک بچھڑی تھی جو اس نے جنگل میں ہانک دی اور دعا کی اللہ ! یہ تیرے سپرد ہے میرے بیٹے کی گزر اوقات کا سبب اسے بنادے۔ تو وہ خوب پلی بڑھی جوں جوں یہ سوال کرتے گئے اللہ کریم اس کا حلیہ بیان فرماتے رہے اب اس جیسی کوئی دوسری مل نہ سکتی تھی۔ ادھر اس کے دل میں ڈال دیا کہ ان سے خوب قیمت وصول کرو ، چناچہ بعض کے نزدیک اس کی کھال میں اشرفیاں بھر کر انہیں دینا پڑیں یہ اپنی طرف سے بہت عقلمند بن رہے تھے اور میں میخ نکال رہے تھے مگر ان کی عقلمندی کا فائدہ اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتا تھا جو محض اس کے بھروسے پر بیٹھے تھے۔ لہٰذا نہ احکام شریعت پہ اعتراض درست نہ اتباع شیخ میں حیل وحجت کی ضرورت۔ اس سے دنیاوی مصائب تو ضروری وارد ہوتے ہیں اور ایمان کا خطرہ مزید ہے۔ یہاں دیوانگی کی قیمت ہے اور فریفتہ ہونے کا نام عقل ہے۔ سوچ بچار کو یہاں مصیبت کہتے ہیں۔