2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو ! ) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

(2:272) لیس علیک ھدہم۔ ھدہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی ہدایت۔ ان کی ہدایت یابی۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار کے لئے ہے۔ ان کو سیدھے راہ پر چلانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ فائدہ : رسول اللہ ﷺ صرف اہل اسلام کو خیرات دینے کا حکم دیتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ اس کے بعد ہر مذہب کے آدمی کو خیرات دینے کا حضور ﷺ نے حکم دے دیا۔ ھدی۔ الھدایۃ۔ کے معنی لطف و کرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کفار کو دوزخ کی طرف دھکیلنے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ بطور مذاق و تہکم آیا ہے مثلاً فاھدددددوھم الی صراط الجحیم (37:23) پھر ان کو جہنم کے راستہ پر چلا دو ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کفار کے لئے عذاب کی بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً فبشرھم بعذاب الیم (84:24) تو (اے پیغمبر) انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ امام راغب (رح) رقمطراز ہیں : ” انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کی ہے : (1) وہ ہدایت جو عقل و فطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے سے کی ہے ۔ اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمیع مکلفین کو شامل ہے بلکہ ہر جاندار چیز کو حسب ضرورت اس سے حصہ ملا ہے چناچہ ارشاد ہے ربنا الذی اعطی کل شیء کلقہ ثم ھدی (20:50) ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کو اس کی (خاص طرح کی) بناوٹ عطا فرمائی پھر (ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی) راہ دکھائی۔ (2) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ نجات کی طرف دعوت دی ہے ۔ چناچہ وجعلناہم ائمۃ یھدون بامرنا ۔۔ (21:73) اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے (ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں۔ (3) سوم ہدایت بمعنی توفیق خاص آیا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے۔ چناچہ فرمایا : والذین اھتدوا زادہم ھدی (47:17) اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں (قرآن سننے سے) خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔۔ (4) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے۔ چناچہ فرمایا : ونزعنا ما فی صدروھم من غل تجری من تحتھا الانھر وقالوا الحمدللہ الذی ھدنا لھذا (7:43) اور جو کینے ان کے (اصحاب الجنہ کے) سینوں میں ہوں گے ہم سب نکال دیں گے۔ ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا ۔۔ جن آیات میں ہدایت کی نسبت پیغمبر یا کتاب یا دوسرے انسانوں کی طرف کی گئی ہے وہاں صرف راہ حق کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہے “۔ وما تنفقوا۔ واؤ عاطفہ ہے ما شرطیہ جازمہ ہے۔ تنفقوا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ما) جمع مذکر حاضر۔ من تبعیضیہ ہے۔ خیر ای مال جملہ شرطیہ ہے اور جو مال بھی تم خیرات کرو گے ! فلا نفسکم۔ جواب شرطجواب شرط کے لئے ہے۔ تو وہ خود اپنے ہی لئے کرو گے۔ یعنی اس کا نفع لوٹ کر تم کو ہی ملے گا۔ وما تنفقون الا ابتغاء وجہ اللہ۔ واؤ حالیہ ہے اور تنفقوا کی ضمیر فاعلی ذوالحال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم خیرات کرو جس کی غرض سوائے حصول خوشنودی رب کے اور کچھ نہ ہو تو وہ تمہارے ہی لئے مفید ہے۔ علامہ پانی پتی اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ : اے مسلمانو ! تمہاری خیر خیرات تو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ پھر کیا وجہ کہ اپنی خیرات کا احسان فقیر پر رکھتے ہو یا ناپاک مال دیتے ہو۔ تو یا یہ جملہ خبر یہ ہے جس میں مسلمانوں کے حال کے تقاضے کو بیان کیا ہے یا ما تنفقون لفظا جملہ منفی ہے اور معنی کے لحاظ سے نہی ہے۔ مراد یہ کہ تمہاری خیرات کا مقصود خوشنودی رب کی طلب ہونا چاہیے۔ سوائے خدا کی رضا کی طلب کے اور کسی غرض کے لئے خیرات نہ دو ۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ سوائے رضائے خداوندی کی طلب کے اور کسی غرض کے لئے خیرات کرنی ممنوع ہے۔ ورنہ مفت میں مال کی بربادی ہوگی (تفسیر مظہری) ما موصولہ ہے تنفقون جمع مذکر حاضر۔ تم خیرات کرو گے۔ ابتغاء چاہنا۔ تلاش کرنا۔ بروزن افتعال مصدر ہے۔ ابتغاء سخت کوشی کے لئے مخصوص ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود ہے ورنہ مذموم مذموم کی مثال ہے۔ فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ۔ و ابتغاء تاویلہ (3:7) تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ سب متشابہات کا اتباع کرتے ہیں (ان کا مقصد) فتنہ انگیزی اور (غلط) معنی کی تلاش ہے۔ وجہ اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی خوشنودی۔ اللہ کی رضا۔ ثواب۔ وما تنفقوا من خیر یوف الیکم۔ واؤ عاطفہ ہے پہلا شرطیہ دوسرا جواب شرط ہے۔ یوف مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ توفیہ (تفعیل) مصدر۔ اس کو پورا پورا دیا جائے گا۔ فائدہ : صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں : مذکورہ بالا تینوں جملوں کے درمیان حرف عطف ذکر کیا گیا ہے حالانکہ بظاہر یہ جملہ سابق جملہ شرطیہ کی تاکید ہے اس لئے حرف عطف نہ ہونا چاہیے۔ حرف عطف کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ آخری جملہ سے پہلے جملہ کی صرف تاکید ہی مقصود نہیں بلکہ منت الٰہی اور ایداء رسانی کی برائی کو الگ الگ دلائل سے مدلل کرنا مقصود ہے۔ پہلے جملہ کا مفادیہ ہے کہ جس چیز کے دینے میں خود تمہارا فائدہ ہے اس کے دینے کا فقیر پر احسان رکھنا درست نہیں۔ دوسرے جملہ کا مفادیہ ہے کہ جس چیز کو دینے سے تمہارے پیش نظر صرف اللہ کی خوشنودی کا حصول ہے اس کا فقیر پر احسان رکھنا تو گویا ایسے شخص سے عوض کا طلب کرنا ہے جس سے عوض طلب کرنے کے لئے عطا نہیں کی گئی۔ تیسرے جملہ اس مضمون پر دلالت کر رہا ہے کہ جس چیز کا ایک بار بھی بدل لے لیا جائے اس کا احسان نہیں ہوتا ۔ جیسے بالغ جب اپنی چیز کی قیمت لے لیتا ہے تو خریدار پر اس کا احسان نہیں ہوتا اور تم کو تو کئی گناہ معاوضہ ملے گا۔ پھر فقیر پر تمہارا کیا احسان ؟ وانتم لا تظلمون۔ جملہ حالیہ ہے ضمیر الیکم سے۔ اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

(2:273) للفقرائ۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای صدقاتکم للفقرائ۔ تمہارے صدقات فقیروں کے لئے ہیں۔ یعنی ان صدقات کے مستحق فقیر لوگ ہیں ۔ (جن کا ذکر آگے آرہا ہے) ۔ احصروا فی سبیل اللہ یہ صفت ہے الفقراء کی۔ احصروا ماضی کا صیغہ جمع مذکرغائب ہے۔ احصار (افعال) مصدر وہ بند کئے گئے۔ وہ روکے گئے۔ الحصر کے معنی تضییق یعنی تنگ کرنے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے واحصروھم (9:5) اور ان کو گھیر لو۔ یا جیسے وجعلنا جنھم للکفرین حصیرا ۔ (17:7) اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ فی سبیل اللہ۔ اللہ کے راستہ میں۔ خواہ وہ جہاد ہو یا ظاہری و باطنی علوم کی تحصیل ہو۔ مثلاً اصحاب صفہ وغیرہ۔ یہ جملہ الفقراء کی صفت ہے۔ لا یستطیعون ضربا فی الارض۔ لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب استطاعۃ (استفعال) سے مصدر بمعنی طاقت اصل میں استطاعت کا مطلب ہے ان تمام چیزوں کا بتمام و کمال پایا جانا جن کی وجہ سے فعل سرزد ہو سکے (طوع مادہ) ۔ ضربا۔ مارنا۔ باین کرنا۔ ظاہر کرنا۔ ضرب کے اصل معنی کسی چیز کے دوسری چیز پر واقع کرنے کے ہیں۔ چونکہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس لئے مختلف محل پر اس کے مختلف معانی ہوں گے۔ مثلاً ضربہ علی الراس۔ اس نے اس کو سر پر ضرب لگائی یعنی سر پر مارا۔ ضرب اللہ مثلا۔ اللہ نے مثال بیان کی : ضرب فی الارض۔ زمین پر چلنا۔ (کیونکہ چلنے میں زمین پر پاؤں پڑتے ہیں) جملہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مشغولیت کی وجہ سے زمین پر کہیں آجا نہیں سکتے (کہ روزی کما سکیں) ۔ یحسبھم۔ یحسب مضارع واحد مزکر غائب حسبان (باب سمع) سے مصدر ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ وہ ان کو خیال کرتا ہے ۔ اغنیائ۔ غنی کی جمع۔ مالدار۔ دولت مند لوگ یہ فعل یحسب کا مفعول ثانی ہے۔ وہ ان کو دولت مند خیال کرتا ہے۔ تعفف۔ مصدر ہے (باب تفعل) عفت سے جس سے مراد ہے قناعت کی وجہ سے سوال کو ترک کردینا۔ العفۃ کے اصل معنی ہیں تھوڑی سی چیز پر قناعت کرنا جو بمنزل عفافۃ یا عفۃ یعنی بچی کھچی چیز کے ہو۔ الجاہل۔ نادان ۔ بیخبر ۔ ان سمجھ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر جھالۃ (باب سمع) مصدر۔ تعرفھم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ معرفۃ وعرفان (باب ضرب) سے مصدر تو ان کو پہچان لیتا ہے۔ سیمہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ سیما۔ نشانی۔ چہرہ۔ علامت یہ اصل میں وسمی تھا۔ واؤ کو فاء کلمہ کی بجائے عین کلمہ کی جگہ پر رکھا گیا۔ تو سومی ہوا۔ پھر واؤ کے ساکن اور ماقبل کے مکسور ہونے کی وجہ سے واؤ کو یاء کرلیا گیا۔ سیمی ہوگیا۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف الیہ ان کی نشانی۔ ان کا چہرہ۔ الحافا۔ مصدر (افعال) کے وزن پر۔ لپٹنا۔ اصرار کرنا۔ یہ لحاف سے ماخوذ ہے لحاف اس کپڑے کو کہتے ہیں جس سے ڈھانپا جائے۔ الحافا۔ مصدر ہے بمعنی اسم فاعل ہوکر لا یسئلون کی ضمیر سے حال ہے۔ یعنی لیٹتے ہوئے لوگوں سے نہیں مانگتے۔ احصروا فی سبیل اللہ ۔۔ الحافا۔ یہ پانچ وصف فقراء کے بیان ہوئے ہیں اس میں : (1) احصروا فی سبیل اللہ۔ بطور صفت ہے۔ (2) لا یستطیعون ضربا فی الارض۔ (3) یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف۔ (4) تعرفھم بسیمہم۔ (5) لا یسئلون الحافا۔ بطور حال ہیں۔ وما تنفقوا میں ما موصولہ ہے اور تنفقوا من خیر اس کا صلہ اور جو مال تم (راہ خدا میں) خرچ کرو گے۔ فان اللہ بہ علیم۔ میںبوجہ بمعنی شرط جو جملہ سابقہ میں پائی جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ہے وہ مال جو (راہ خدا میں) خرچ ہوا۔ فائدہ : اس آیت میں جس گروہ کا ذکر ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے یوں فرمایا ہے :۔ اس گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کے دین کی خدمت میں اپنے آپ کو ہمہ تن وقف کردیتے ہیں۔ اور سارا وقت دینی خدمات میں صرف کردینے کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتے کہ اپنی معاش پیدا کرنے کے لئے کوئی جدوجہد کرسکیں۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس قسم کے رضا کاروں کا ایک مستقل گروہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ تین چار سو آدمی تھے۔ جو اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے آگئے تھے۔ ہمہ وقت حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے۔ ہر خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ حضور جس مہم پر چاہتے انہیں بھیج دیتے تھے۔ اور جب مدینہ سے باہر کوئی کام نہ ہوتا تو اس وقت یہ مدینہ ہی میں رہ کر دین کا علم حاصل کرتے اور دوسرے بندگان خدا کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔ چونکہ یہ لوگ پورا وقت دینے والے کارکن تھے اور اپنی ضروریات فراہم کرنے کے لئے اپنے ذاتی وسائل نہ رکھتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ خاص طور پر ان کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ہے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کی دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

(2:274) الذین ینفقون۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ ینفقون اموالہم باللیل والنھار سرا وعلانیۃ۔ صلہ۔ موصول وصلہ مل کر مبتداء فلہم اجدھم ۔۔ ولاھم یحزنون۔ خبر ۔اس لئے کہ مبتدا میں بوئے شرط تھی۔ اللیل والنھار اسم ظرف زمان بمعنی لیلا ونھارا رات ہو یا دن ۔ سرا وعلانیۃ۔ خفیہ طور پر یا علانیہ طور پر چاروں حال میں۔ ولاہم یحزنون۔ واؤ عاطفہ ھم ضمیر جمع مذکر غائب ای الذین ینفقون۔ لا یحزنون مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر۔ نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سود بیچنا بھی (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام تو جس کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگے گا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں جلتے رہیں گے

الذین یاکلون الربوا۔ مبتدا لایقومون الا کما یقوم ۔۔ من المس۔ خبر کما۔ کاف موضع نصب میں ہے اور مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی ! لا یقومون الا قیاما مثل قیام الذی یتخبطہ الشیطن الربو۔ سود۔ بیاج۔ یہ لفظ قرآن مجید میں با کے بعد واؤ اور واؤ کے بعد الف سے مرقوم ہے ماسوائے سورة الروم آیۃ (30:39) کے جہاں باء کے بعد الف سے مرقوم ہے۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں : ” راس المال پر جو زیادتی ہو وہ ربا ہے لیکن شرع میں وہ اس زیادتی کے ساتھ مخصوص ہے جو ایک خاص ہی طریقہ پر ہو اور دوسری طرح نہ ہو “۔ تفسیر ماجدی میں ہے : ” اہل عرب اس لفظ کو اس زائد رقم کے لئے استعمال کرتے تھے جو قرض خواہ اپنے قرض دار سے مہلت کے معاوضہ میں وصول کرتا تھا۔ اردو میں اس کا ترجمہ سود ہے اور سود کا مفہوم پر شخص جانتا ہے “۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی رقمطراز ہیں : میرے نزدیک ربا کی تعریف میں ہر قسم کی (ناجائز) منافع خوری شامل ہے لیکن وہ مال منافع جو موجودہ دور میں اقتصادیات اور بنکاری سے حاصل ہوتا ہے “۔ علامہ موصوف نے اس اختلاف رائے کے متعلق کسی اور موقعہ پر تفصیلاً بیان کرنے کے لئے لکھا تھا لیکن مجھے اس موضوع پر ان کی کوئی تحریر نہیں ملی۔ لغات القرآن جلد سوم میں مولانا عبد الرشید نعمانی (رح) لکھتے ہیں : ” حضرت الاستاد ظلہم (یعنی حضرت مولانا العلامہ محمود حسن صاحب ٹون کی نے ربو کے متعلق ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس میں ربا کی حقیقت شرعیہ کے سمجھنے میں عوام تو عوام خواص کو بھی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس رسالہ کا بگور مطالعہ ان تمام غلط فہمیوں کے ازالہ کا ضامن ہے۔ سود : علامہ ابو الاعلی مودودی صاحب نے اس موضوع پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔ لا یقومون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب قیام (باب نصر) مصدر۔ وہ نہیں اٹھیں گے۔ وہ نہیں کھڑے ہوں گے ای لا یقومون یوم القیامۃ یعنی قیامت کے دن وہ قبروں سے نہیں اٹھیں گے (مگر اس شخص کی طرح جسے شیطان نے پاگل بنادیا ہو) ۔ کما۔ کاف۔ حرف تشبیہ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ جملہ یقوم الذی یتخبطہ الشیطن صلہ ہے۔ یتخبطہ۔ یتخبط مضارع واحد مذکر غائب۔ تخبط (تفعل) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب وہ اس کو پاگل بنا دیتا ہے۔ مجنوط الحواس بنا دیتا ہے کہ اٹھنے کا ارادہ کرے گرپڑے پھر اٹھے گرپڑے۔ المس مصدر ۔ جن کی جھپٹ ۔ ذرا چھو جانا۔ جنون۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں۔ شیطان سے مراد جن ہے خبط کا معنی ہے سخت ضرب جس کے ساتھ بگاڑ بھی ہو۔ قاموس میں ہے : خبط الشیطان فلانا یا تخبط الشیطان فلانا۔ فلاں شخص کو جن نے چھو کر دکھ پہنچا دیا۔ المس سے مراد ہے جنوں یا چھوجانا من المس کا تعلق ہے یقوم سے یا یتخبط سے۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ سود خور قبروں سے اس طرح ہی اٹھیں گے جیسے جن کے جھپٹے میں آیا ہوا آدمی جنون زدہ ہوکر اٹھتا ہے اور شیطان اس کی عقل خراب کردیتا ہے۔ ذلک۔ کا اشارہ یا اکل الربو کی طرف ہے یا اس کے نتیجے میں جو عذاب نازل ہوتا ہے اس کی طرف ہے۔ روح المعانی میں ہے اشارۃ الی الاکل او الیٰ نزل بھم من العذاب بانھم۔ میں باء سببیہ ہے۔ بایں سبب۔ اس لئے۔ ذلک مبتدا ہے اور بانہم ۔۔ مثل الربوا۔ اس کی خبر۔ ترجمہ : یہ (عذاب) اس لئے ہے کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) ۔ واحل اللہ البیع وحرم الربوا۔ جملہ حالیہ ہے ترجمہ : حالانکہ اللہ نے سود کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ احل ماضی واحد مذکر غائب۔ احلال (افعال) مصدر۔ اس نے حلال کیا۔ حرم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تحریم (تفعیل) مصدر جس کے معنی حرام کردینے اور سختی سے روک دینے کے ہیں۔ (اس نے حرام کردیا۔ اس نے منع کردیا) ۔ یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ روح المعانی میں آیا ہے (جملۃ مستانفۃ من اللہ تعالیٰ ردا علیہم ۔۔ ) اور منکرین کے قول انما البیع مثل الربوا کی تردید میں آیا ہے کہ تمہارا یہ کہنا باطل ہے۔ بیع کو (بوجوہ) اللہ نے حلال کیا ہے اور ربا کو حرام کردیا ہے۔ فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ فانتھی۔ من شرطیہ ہے جاء ہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہے۔ مؤعظۃ اسم مصدر فاعل فعل ۔ جاء کا ۔ وعظ۔ نصیحت۔ من ربہ متعلق جاء کے۔ فانتہی انتہی واحد مذکر غائب۔ انتھاء (افتعال) مصدر۔ وہ رک گیا۔ وہ بار آگیا۔ اس نے چھوڑ دیاعاطفہ انتہی کا عطف جاء ہ پر ہے۔ ہر دو جملہ شرط ہیں۔ اور فلہ ما سلف (ف جواب شرط کے لئے اور ما موصولہ) جواب شرط۔ ما سلف جو گذر چکا۔ سلف ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ سلف (باب نصر) مصدر جس کے معنی گزرنے اور ہو چکنے کے ہیں۔ وامرہ الی اللہ یہ جملہ بھی معطوفہ ہے۔ اور اس کا عطف جملہ فلہ ما سلف پر ہے۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ ومن عاد۔ میں من شرطیہ ہے عاد ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے عاد ماضی واحد مذکر غائب جس کے معنی کسی چیز سے ہٹ جا نے کے بعد پھر اس کی طرف لوٹنے کے ہیں عاد اصل عود تھا اور متحرک ماقبل مفتوح۔ فتح واؤ پر ثقیل تھا۔ اس لئے واؤ کو الف سے بدلا عاد ہوگیا ۔ مطلب اور جو کوئی پھر کرے۔ یہاں عود سے مراد سود کو پھر حلال سمجھنا ہے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اور فاولئک اصحب النار ہم فیہا خلدون جواب شرط ہے۔جواب شرط کے لئے ہے اولئک کا اشارہ من عاد کی طرف ہے جمع کا صیغہ باعتبار معنی کے ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ اور فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کی طرف راجع ہے۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

(2:276) یمحق مضارع واحد مذکر غائب محق (باب فتح) وہ گھٹاتا ہے۔ محق مٹانا۔ گھٹانا۔ کسی چیز کی طرکت زائل کردینا۔ بےبرکت بنانا۔ یربی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ارباء (افتعال) مصدر۔ ربو۔ ربوۃ۔ رباط۔ ٹیلہ۔ بلندی۔ وہ بڑھاتا ہے۔ الصدقت۔ زکوتیں۔ خیراتیں۔ کفار اثیم۔ موصوف وصفت۔ کفار۔ کافر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت ناشکرا۔ اثم۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل (اثم) گنہگار۔ اثم یاثم (باب ضرب) اثم واثام و اثم۔ مصدر ۔ بمعنی گناہ کا ارتکاب کرنا۔ کل کفار اثیم۔ ہر گنہگار۔ ناشکرا۔
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(2:277) الذین امنوا ۔ اسم وعملوا الصلحت۔ اس کا عطف سابقہ پر ہے۔ اسی طرح واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ معطوف ہیں اور ان کا عطف بھی جملہ الذین امنوا پر ہے۔ لہم اجرھم ۔۔ یحزنون۔ اپنے اسم کی خبر ہے۔ لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ حزن (باب سمع) مصدر نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

(2: 278) اس آیت میں جملہ ان کنتم مؤمنین ۔ شرطیہ ہے اور جملہ جزائیہ مقدم لایا گیا ہے۔ اتقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ تم بچو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ اتقائ۔ مصدر اللہ مفعول۔ اللہ سے ڈرو۔ ذروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع و فتح) مصدر تم چھوڑ دو ۔ اس مادہ سے اس معنی میں صرف مضارع اور اس کے مشتقات ہی مستعمل ہیں۔ مابقی۔ موصول و صلہ مل کر ذروا کا مفعول ۔ من ربو متعلق ما بقی۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود لینا باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ اگر تم (سچے) مومن ہو۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود کو چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کو نقصان اور نہ تمہارا نقصان

(2:279) فان لم تفعلوا جملہ شرطیہ فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ جواب شرط۔ فاذنوا۔جواب شرط کے لئے ہے ائذنوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اذن و اذن (باب سمع) مصدر۔ بالشیئ۔ جاننا۔ خبردار ہونا۔ ترجمہ : تو خبردار ہوجاؤ خدا اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے فایقنوا۔ یقین کرلو۔ وان تبتم۔ جملہ شرطیہ۔ اور اگر تم توبہ کر لوگے یعنی قابل اعتراض باتوں سے باز ہو گے ملکم رؤس اموالکم جواب شرط۔ تو اصل زر کے تم حق دار ہو۔ تو تم کو تمہاری اصل زر ہی مل سکتی ہے لا غیر۔ اس سے زیادہ نہیں۔ لا تظلمون ولا تظلمون (اصل سے زیادہ لے کر) تم کسی (قرض دار) پر ظلم کرو گے۔ اور نہ (اصل کی ادائیگی میں کمی کرکے یا ٹال مٹول سے کام لے کر) تم پر ظلم کیا جائیگا۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر قرض لینے والا تنگدست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو ) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

(2:280) وان کان ذو عشرۃ۔ ان شرطیہ کان فعل ناقص۔ الذی علیہ الحق من دینہ (جس کے ذمہ قرض ہو) کان کا اسم (محذوف) ذوعمرۃ (تنگ دست، مفلس) مضاف مضاف الیہ ۔ کان کی خبر۔ اور اگر قرض دار تنگ دست ہو۔ یہ تمام جملہ شرط ہے۔ فنظرۃ۔شرط کے جواب کے لئے ہے نظرۃ مصدر۔ مہلت دینا۔ انتظار۔ مبتداء جس کی خبر محذوف ہے ای فعلیکم نظرۃ۔ تو تم پر اس کی فراخی تک مہلت دینا واجب ہے۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔ الی میسرۃ۔ فراخی تک۔ میسرۃ ضد ہے عسرۃ کی۔ آسانی ۔ فراخ حالی۔ دولت مندی۔ وان تصدقوا۔ واؤ عاطفہ ان مصدریہ تصدقوا مضارع جمع مذکر حاضر، تم خیرات کرو۔ تم صدقہ دو ۔ تم بخش دو ۔ یعنی اگر تم زر قرضہ بخش ہی دو ۔ تصدق (تفعل) مصدر۔ تصدقوا اصل میں تصدقون تھا ۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ ان کنتم تعلمون جملہ شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے۔ جملہ محذوف ہوگا۔ ان کنتم تعلمون انہ خیرلکم عملتموہ۔ اگر تم جانتے ہوتے کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے تو تم ایسا ہی کرتے۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

(2:281) یوما۔ مفعول فیہ۔ توفی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ پورا دیا جائیگا۔ توفیۃ (تفعیل) مصدر، جس کے معنی پورا پورا دینے کے ہیں۔ ماکسبت۔ ما موصولہ، کسبت واحد مؤنث غائب کسب (باب ضرب) سے مصدر۔ جو اس نے کمایا۔ اس کا پورا پورا بدلہ اسے دیا جائے گا۔ وھم لا یظلمون۔ جملہ حالیہ ہے کل نفس سے اور صیغہ جمع باعتبار معنی آیا ہے۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتاہو تو جو اس کو ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہہ بھی نہیں پڑے گا ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جب خریدوفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں) کسی طرح کا نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(2:282) تد اینتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے ایک دوسرے کو قرض دیا۔ تم نے ایک دوسرے کو ادھار دیا۔ رداین (تفاعل) مصدر۔ جس کے معنی ایک دوسرے سے قرض کا لین دین کرنے کے ہیں ۔ دین بمعنی قرض۔ دین مفعول بہ (مجرور بوجہ جرب کے) تداینتم۔ بدین۔ تم آپس میں دین یا ادھار کا معاملہ کرو۔ الی اجل مسمی۔ اجل کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ایما الاجلین قضیت (28:28) ان دو متعینہ مدتوں میں سے جونسی مدت میں پوری کردوں۔ موت کو بھی اجل کہا گیا ہے کہ اس کا وقت بھی معین اور مقرر ہے۔ اجل کے معنی وجہ کے بھی ہیں مثلاً قرآن مجید میں ہے : من اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل (5:32) اس (قتل) کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا۔ مسمی۔ اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ جس کا نام لیا گیا ہو۔ جس کا نام رکھا گیا ہو۔ الی اجل مسمی۔ مقررہ یا متعین مدت کے لئے جس کی مدت نامزد کی گئی ہو۔ مطلب یہ کہ اس معاملہ یا سودے کی مدت بالکل صاف اور متعین ہونا چاہیے۔ گول اور مجمل نہ رہے۔ جاڑوں کے زمانہ میں ” برسات کے موسم میں دور بیع کی فصل میں “ ان مبہم مدتوں کی بجائے تعین و صراحت ہونا چاہیے کہ فلاں سنہ کے فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ ۔۔ یایھا الذین امنوا۔ یا حرف نداء الذین امنوا موصول وصلہ مل کر منادی۔ اذا تداینتم بدن الی اجل مسمی جملہ شرطیہ ہے ماکتبوہ جواب شرط۔ فاکتبوہ۔جواب شرط کے لئے ہے اکتبوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم لکھ لو۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع دین ہے۔ جس کا آپس میں لین دین زیر بحث ہے۔ ای الدین الذی تداینتم بہ۔ ولیکتب واؤ عاطفہ لیکتب فعل امر واحد مذکر غائب۔ کتابۃ (باب نصر) چاہیے کہ لکھے بینکم۔ ای بین الدائن والمدیون۔ بین الطالب والمطلوب۔ کاتب۔ لیکتب کا فاعل۔ بالعدل۔ ای بالحق۔ اور کاتب کو چاہیے کہ دائن اور مدیون کے درمیان (دین کے متعلق) ٹھیک ٹھاک انصاف سے لکھے۔ فعل یکتبکا مفعول محذوف ہے ای الدین اوامرالمتدائنین (طرفین کا لین دین) ۔ ولایاب واؤ عاطفہ۔ لایاب فعل نہی واحد مذکر غائب ۔ اباء (باب فتح) مصدر اصل میں یابی تھا۔ نہی میں یاء کو ساقط کردیا ۔ نہ انکار کرے۔ ا ب ی مادہ۔ ان یکتب میں ان مصدریہ ہے۔ کما۔ ک اور ما سے مرکب ہے۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ یعنی جیسا ۔ جیسے ۔ جس طرح۔ اور ما موصولہ ہے۔ فلیکتبعطف کا ہے لیکتب امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا مفعول محذوف ہے۔ ای امر المتداینین او امر الدین بین الطرفین۔ باہمی لین دین کرنے والوں کا معاہدہ بابت دین۔ ترجمہ : اور لکھنے والا جیسا کہ خدا نے اسے سکھایا ہے۔ لکھنے سے انکار نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ لیملل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب چاہیے کہ وہ لکھوائے۔ املال (افعال) مصدر۔ امل یمل املال۔ مضمون کو بول کر لکھوانا۔ بعض صورتوں میں دوسرے لام اور یاء سے بدل دیتے ہیں۔ (اس کو علم صرف میں ابدال سماعی کہتے ہیں) مثلاً امللت سے املیت میں نے بول کر لکھوایا۔ اور املال سے املاء (یہاں ہمزہ قائم مقامی کے ہے) بول کر لکھوانا۔ الذی علیہ الحق۔ ای المدیون۔ مقروض۔ جو زیربار ہے۔ جس کے ذمہ حق (قرض) ہے۔ ولیتق اللہ ربہ۔ واؤ عاطفہ۔ لیتق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اتقاء (افتعال) مصدر یلق اصل میں یتقی تھا۔ لام کے عمل سے ی ساقط ہوگئی۔ چاہیے کہ وہ ڈرے۔ اللہ مفعول ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر اللہ کی صفت۔ ترجمہ : اور مضمون وہ لکھوائے کہ جس پر مطالبہ ہو اور وہ (لکھوانے والا یا کاتب) اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ ولا یبخس۔ واؤ عاطفہ۔ لا یبخس۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ بخس (باب فتح) مصدر۔ اور وہ کم نہ کرے۔ (اور وہ اس میں کوئی کسر نہ رکھے) یعنی لکھوانے والا۔ یا کتب کم نہ لکھے۔ یا لکھوائے۔ ان کان الذی علیکم الحق سفیہا۔ ان شرطیہ۔ کان فعل ناقص الذی اسم موصول علیہ الحق سلہ۔ صلہ موصول مل کر اسم کان ۔ (جس پر حق واجب ہے یعنی مدیون) سفیہا خبر کان او ضعیفا خبر ثانی۔ اور اولا یستطیع ان یمل ھو۔ خبر سوم۔ لایستطیع مضارع منفی واحد مذکر غائب ان مصدریہ۔ یمل مضارع واحد مذکر غائب۔ املال (افعال) مصدر کہ وہ لکھوائے ۔ یعنی اگر مدیون اس قابل نہ ہو کہ وہ خود مضمون دستاویز لکھوا سکے۔ یہ سارا جملہ شرط ہے۔ فلیملل ولیتہ بالعدل جواب شرط۔ تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ (یعنی بےکم وکاست) لکھوائے۔ سفیھا۔ بےوقوف، بےعقل۔ سفہ وسفاہۃ (باب کرم) بیوقوف ہونا۔ جاہل ہونا۔ بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ عاجز۔ احمق (ابن زید) جاہل (مجاہد) مبذر المال ، فضول خرچ (الشافعی) ضعیفا۔ ضعیف۔ سست۔ کمزور۔ ضعف (باب سمع) مصدر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ضعیف العقل ۔ ضعیف الرائے۔ ضعیف یہاں ایک جامع لفظ ہے۔ نابالغ اور پیر فرتوت سب اس میں آجاتے ہیں۔ استشھدوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم گواہ لاؤ۔ تم گواہ بناؤ۔ تم گواہ کرو۔ استشھاد (استفعال) مصدر۔ جس کے معنی گواہ بنانے کے ہیں اور گواہی طلب کرنے کے ہیں شھد علی (باب سمع) کسی چیز کی گواہی دینا۔ کسی کے خلاف شہادت دینا۔ شاھد۔ آنکھ سے مشاہدہ کرنے والا۔ سچا گواہ۔ من رجالکم۔ اپنے لوگوں میں سے ۔ صفت ہے شھدین کی۔ ممن ترضون۔ صفت ہے رجل وامراتن کی اور من الشھداء بدل ہے من سے جو ممن میں ہے۔ (ان) میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو گواہوں میں سے۔ ترضون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم پسند کرتے ہو، تم راضی ہو، رضی (باب سمع) سے مصدر۔ ان تضل۔ ان مصدریہ ناصب فعل ہے۔ اور یہ مفعول لہ ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ لان تضل فتذکر۔ کیوں اگر (ان دونوں میں سے ایک) بھول جائے گی تو (دونوں میں سے دوسری اس کو) یاد دلادیگی۔ یعنی دو عورتوں کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بات بھول جائے تو دوسری اس کو یاد کرا دے۔ تضل۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ (عورت) بہک جائے ۔ بھول جائے۔ بھٹک جائے ۔ تذکر۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ تذکیر (تفعیل) سے مصدر۔ وہ (عورت) یاد دلائے۔ تذکر۔ منصوب ہے اس کا عطف تضل پر ہے۔ احدھما۔ ان دونوں میں سے ایک ۔ اجدی مضاف۔ ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب۔ مضاف الیہ۔ فاعل ہے اور الاخری۔ دوسری۔ پچھلی۔ مفعول ہے تذکر کا۔ لایاب۔ نفی واحد مذکر غائب۔ اباء (باب فتح) مصدر۔ اصل میں یابی تھا۔ نہی میں ی کو ساقط کردیا۔ نہ انکار کرے۔ اذاما۔ جب کبھی۔ جب۔ جونہی کہ۔ دعوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ بلائے گئے۔ وہ بلائے جائیں ۔ وہ پکارے گئے۔ وہ پکارے جائیں۔ لاتسموا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم کاہلی نہ کرو۔ تم مت اکتاؤ۔ سامۃ (باب فتح) ملول ہونا اکتانا ۔ السامۃ (س ء م) کے معنی کسی چیز کے زیادہ عرصہ تک رہنے کی وجہ سے اس سے کبیدہ خاظر یا دل برداشتہ ہوجانے کے ہیں۔ اور یہ فعلاً (کسی کام کو زیادہ عرصہ تک کرنے) اور انفعالا (کسی چیز سے زیادہ متاثر ہونے) دونوں طرح ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ وھم لا یسئمون (41:38) اور وہ کبھی تھکتے ہی نہیں ۔ نیز اور جگہ فرمایا : لا یسئم الانسان من دعاء الخیر (41:49) انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تھکتا ہی نہیں۔ ایک شاعر نے کہا ہے ؎ سمئت تکالیف الحیوۃ ومن یعش ثمانین حولا لاابالک یسئم میں زندگی کی خوشگواریوں سے اکتا چکا ہوں۔ ہاں جو شخص اسی کو پہنچ جائے وہ لامحالہ اکتا ہی جاتا ہے۔ ان تکتبوہ۔ ان مصدریہ۔ تکتبوا مضارع جمع مذکر حاضر کتابۃ (باب نصر) سے مصدر بمعنی لکھنا ۔ ہ ضمیر مفعول بہٖ واحد مذکر غائب جس کا مرجع الدین یا الحق یا الکتاب ہے۔ تکتبوا اصل میں تکتبون تھا۔ نون اعرابی ان ناصبہ کے آنے سے حذف ہوگیا ہے ان تکتبوہ ب تاویل مصدر لا تسموا کا مفعول ہے۔ صغیرا او کبیرا (خواہ وہ معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا۔ دونوں تکتبوہ کی ضمیر ہ سے حال ہیں۔ الی اجلہ۔ لکھو وقت ادا کے تعین کے ساتھ (جو فریقین کے مابین طے پایا ہو) یہ بھی تکتبوہ کی ہ سے حال ہے۔ ذلکم۔ ذلک۔ اسم اشارہ کم ضمیر جمع خطاب کے لئے ہے۔ یہ ۔ یہی۔ اس سے معاہدہ کی کتابت۔ گواہان کا تقرر۔ یا سب کچھ جو اوپر مذکور ہوا۔ مراد ہے۔ اقسط۔ قسط۔ یقسط (باب ضرب) قسط مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ انصاف کرنے والا۔ قسط۔ اضداد میں سے ہے۔ اس کے معنی ظلم کرنے کے بھی آتے ہیں اور انصاف کرنے کے بھی۔ یہاں اقسط عند اللہ کے معنی اللہ کے حکم میں زیادہ انصاف والے ہوں گے قسط یقسط فھو قاسط بمعنی ظلم کرنا ۔ اسی معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے : واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا (72:15) اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ لیکن جب اقسط یقسط فھو مقسط (افعال) سے آئے۔ تو اس کے معنی ہوں گے اس نے انصاف کیا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (49:9) اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اقوم۔ بہت درست رکھنے والا۔ زیادہ درست، زیادہ سیدھا۔ قیام مصدر باب نصر ۔ بمعنی راست ہونا۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے ادنی۔ نزدیک تر۔ کم تر۔ رذیل تر۔ اقصی (زیادہ دور) کے مقابل آئے تو ادنی کے معنی نزدیک تر ہوں گے۔ اکثر (زیادہ) کے مقابل آئے تو بمعنی کمتر ۔ جیسے ولا ادنی من ذلک ولا اکثر (58:7) اور نہ اس سے کم نہ زیادہ۔ اکبر (زیادہ بڑا کے مقابل آئے تو بمعنی اصغر (بہت چھوٹا) جیسے ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (32:21) اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا چھوٹے (کمتر) عذاب کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ اور خیر کے مقابل رذیل تر کے معنی میں جیسے اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر (2:61) تو اس (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا کہ بھلا بہتر چیز چھوڑ کر ان کے بدلے ناقص (رذیل تر) چیزیں کیوں لیتے ہو۔ یہ دان اور دنی کا اسم تفضیل ہے۔ الا ترتابوا۔ الا اصل میں ان لا تھا (ان مصدریہ لا نافیہ) نون کا لام میں ادغام کردیا گیا۔ لاترتابوا۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ تم شک میں نہ پڑو۔ ارتیاب (افتعال) مصدر جس کے معنی شک کرنا اور دوسرے کو متہم سمجھنا ہے۔ کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ ادنی الا ترتابوا۔ یہ دفع شبہ کے لئے سہل ترین یا قریب ترین (طریقہ) ہے ای اترب الی انتفا۔ ریبکم وشککم۔ یعنی اس طرح تم قرض کی رقم اس کی شہادت اس کی میعاد کے متعلق کسی قسم کے شک و شبہ سے بچے رہو گے۔ الا۔ استثناء منقطع۔ یایھا الذین امنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی فاکتبوہ مستثنیٰ منہ اور الا حرف استثناء اور ان تکون تجارۃ حاضرۃ تدیرونھا بینکم مستثنیٰ ان کے درمیان کا کلام جملہ معترضہ ہے۔ ان تکون۔ ان مصدریہ تکون مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ ان تکون میں ضمیر اسم ہے ۔ ای المعاملۃ (ای الا ان تکون المعاملۃ تجارۃ حاضرۃ۔ مگر جبکہ معاملہ دست بدست تجارت کا ہو) تجارۃ حاضرۃ۔ موصوف وصفت مل کر خبر تکون کی۔ (اور بدیں وجہ منصوب ہے) تدیرونھا بینکم صفت ثانی ہے تجارۃ کی۔ اور صفت اول حاضرۃ ہے۔ تدیرونھا۔ تدیرون۔ جمع مذکر حاضر۔ تم پھراتے ہو۔ ادارۃ (باب افعال) مصدر بمعنی گھمانا ۔ چکر دینا۔ پھرانا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (جس کو تم آپس میں پھیرتے پھراتے ہو۔ مراد یہاں ہاتھوں ہاتھ لین دین ہے۔ جناح۔ گناہ۔ مضائقہ۔ حرج۔ جناح جنوح سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس لئے وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کر دے اور دوسری طرف جھکادے جناح سے موسوم ہوا۔ اور پھر ہر گناہ کے لئے اس کا استعمال ہونے لگا۔ الا تکتبوھا۔ الا مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نافیہ سے۔ لاتکتبوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان) مطلب یہ کہ اگر تجارت حاضرہ ہے۔ دست بدست لین دین اور نقد بہ نقد ہے تو اس صورت میں معاہدہ تجارت نہ لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ واشھدو اذا تبایعتم۔ اور جب آپس میں خریدو فروخت کرتے ہو تو گواہ بنا لیا کرو۔ جمہور کے نزدیک یہ امر استجابی ہے یعنی بہتر ہے کہ گواہ بنا لیا کرو۔ گواہ بنانے اور اس میں رعائیت کا ذکر اوپر بیان ہوچکا ۔ یہ عام خریدوفروخت کے متعلق ارشاد ہوا ہے۔ فروخت نقد قیمت پر ہو یا ادھار۔ اشھدوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اشھاد (افعال) مصدر۔ گواہ کرلیا کرو، گواہ کرلو۔ بتایعتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ بتابع (تفاعل) مصدر جس کے معنی باہمی خریدوفروخت کرنے کے ہیں۔ بتایعتم۔ باہمی خریدو فروخت کرو۔ لایضار۔ فعل نہی مجہول واحد مذکر غائب۔ ضرا رومضارۃ (مفاعلۃ) تکلیف نہ دی جائے دکھ نہ پہنچایا جائے۔ ضرر مادہ۔ شھید۔ شاہد۔ گواہ۔ کسی چیز کے مشاہدہ کرنے والے کو بھی شہید کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے شہید وہ ذات ہے جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔ اور شرع میں شہید وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو۔ وان تفعلوا جملہ شرطیہ ہے۔ ای وان تفعلوا الضرار وما نھیتم عنہ اگر تم کاتب یا گواہ کو تکلیف پہنچاؤ گے یا جس بات سے تمہیں منع کیا گیا ہے اسے کروگے۔ فانہ فسوق بکم۔جواب شرط کے لئے ہ ای ذلک الفعل۔ فسوق (باب نصر) مصدر نافرمانی کرنا۔ گناہ کرنا۔ جواب شرط۔ تو یہ فعل تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ واتقوا اللہ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بابت ان امور کے جن کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے اور جن سے اس نے منع کیا ہے ۔ ای فیما امرکم بہ ونھاکم عنہ۔ ویعلمکم اللہ۔ اور اللہ تمہیں وہ احکام بتاتا ہے جن میں تمہاری بھلائی ہے۔ واللہ بکل شیء علیم۔ اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں : ” لفظ اللہ کو تین بار تین جملوں میں ذکر کیا۔ کیونکہ ہر جملہ اپنا خاص مقصد رکھتا ہے۔ پہلے جملہ میں ترغیب تقویٰ ہے۔ دوسرے جملہ میں وعدہ انعام ہے اور تیسرے جملہ میں اللہ کی عظمت شان کا اظہار ہے “۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر پر ہو اور (دستاویز لکھنے والا مل نہ سکے) تو (کوئی چیز) رہن باقبضہ رکھ کر) قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کرے اور خدا سے جو اس کو پروردگار ہے ڈرے اور دیکھنا شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

(2:283) وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتبا۔ ان شرطیہ ہے ان کنتم علی سفر۔ جملہ شرط ہے۔ واؤ عاطفہ اور جملہ لم تجدوا کاتبا معطوف ہے جس کا عطف فعل شرط پر ہے (اور اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے) فرھن مقبوضۃ۔ موصوف و صفت مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ، فعل محذوف کا ای فلیوخذ دھن مقبوضۃ (تو گروی کے طور پر کوئی چیز قبضہ میں لی جائے یعنی قرض لینے والا قرض دینے والے کو کوئی بطور رہن دیوے) یہ جملہ جواب شرط ہے۔ فان امن بعضکم بعضا۔ جملہ شرط ہے امن ماضی ۔ واحد مذکر غائب امن امانۃ۔ امان مصدر ہیں اور ان سب کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے۔ قرآن مجید میں ہے وتخونوا اماناتکم (8:27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو۔ امن یامن (باب سمع) امن وامانۃ کسی کو امین بنانا (امانت دار بنانا) کسی پر اعتبار کرنا ۔ ترجمہ : اگر تم میں سے کوئی کسی دوسرے کو امانت دار بنائے یعنی اس کے پاس کوئی چیز بطور امانت رکھے۔ فلیئود الذی۔جواب شرط کے لئے۔ لیؤد فعل امر واحد مذکر غائب تادیۃ (تفعیل) مصدر۔ پس چاہیے کہ وہ ادا کرے۔ ادی یادی (باب ضرب) ادی اور اسی یؤدی تادیۃ (تفعیل) ادا کرنا۔ ادی مادہ۔ اؤتمن۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب استمان (افتعال) مصدر جس پر اعتبار کیا گیا ہو۔ جس کو امانت دار بنایا گیا ہو۔ جس کو امین بنایا گیا ہو۔ امانتہ جو چیز اس کی امانت میں رکھی گئی ہو ۔ فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ۔ جواب شرط۔ ولیتق اللہ ربہ۔ واؤ عاطفہ لیتق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ لام لام امر۔ یتق اصل میں یتقی تھا۔ بوجہ لام امر ی کو ساقط کردیا گیا ۔ اتقاء (افتعال) و ق ی مادہ۔ اور چاہیے کہ وہ ڈرتا رہے اللہ سے جو اس کا رب ہے۔ لاتکتموا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ کتم وکتمان۔ مصدر (باب نصر) بمعنی چھپایا۔ پوشیدہ رکھنا۔ تم مت چھپاؤ۔ ومن یکتمھا۔ من شرطیہ۔ یکتم مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ کتم (باب نصر) مصدر ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع الشھادۃ ہے اور جو شخص اسے چھپائے گا جملہ شرط ہے۔ فانہ اثم قلبہ۔ فانہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے اثم اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اثم (باب سمع) مصدر سے۔ گناہ کرنے والا۔ گنہگار۔ قلبہ مضاف مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب من کے لئے ہے۔ اثم خبر مقدم اور قلبہ مبتدا مؤخر ہے اور پورا جملہ ان کی خبر ہے۔ فانہ اثم قلبہ۔ جملہ جواب شرط ہے ۔ ترجمہ : اور جو شخص اس کو (یعنی شہادت کو) چھپاتا ہے تو اس کا دل یقینا گنہگار ہے۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(2:284) للہ ما فی السموت وما فی الارض۔ ما فی السموت وما فی الارض مبتدا مؤخر۔ للہ خبر مقدم ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین مین ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ۔ ان شرطیہ ۔ تبدوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر اصل میں تبدون تھا۔ نون عامل (حرف شرط) کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ ابداء (افعال) مصدر تم ظاہر کرو۔ ما فی انفسکم۔ اسم موصول وصلہ مل کر تبدوا کا مفعول ۔ مراد اس سے انسان کی قلبی بیماریاں مثلاً نفاق۔ دکھاوٹ۔ بیجا تعصب۔ دنیا کی محبت ۔ غصہ۔ غرور۔ آرزو۔ حرص۔ ترک توکل۔ ترک صبر ۔ حسد۔ کینہ وغیرہ ہیں (تفسیر مظہری) او تخفوہ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد ما فی انفسکم ہے سارا جملہ شرط ہے۔ یحاسبکم بہ اللہ جواب شرط۔ یحاسبکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ محاسبۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہارا حساب لے گا۔ تم سے تمہارے اعمال کا حسب لیگا۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما فی انفسکم ہے۔ فیغفر لمن یشائ۔ یغفر۔ مضارع واحد مذکر غائب مغفرۃ (باب ضرب) مصدر ۔ وہ بخش دے گا۔ یا بخش دیتا ہے۔ لمن یشائ۔ یشاء مضارع واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ جسے وہ چاہتا ہے۔ قدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدیر اس کو کہتے ہیں جو حکمت کے مطابق جو خچھ چاہے کرے۔ اسی لئے اللہ کے سوا کسی مخلوق کو قدیر نہیں کہہ سکتے۔ البتہ قادر عام ہے (راغب)
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

(2:285) امن۔ ماضی واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر۔ وہ ایمان لایا۔ ا م ن مادہ۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ ۔۔ ورسلہ رسول کریم ﷺ ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نزال ہوا۔ یونی (قرآن مجید) اور مؤمنین (بھی ایمان لائے) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر ۔۔ اور اس کے پیغمبروں پر کل اس میں مضاف الیہ محذوف ہے۔ تنوین اس کے عوض ہے۔ کل ای کل واحد منہم ان میں سے ہر ایک (یعنی المؤمنین میں سے ہر ایک۔ کل واحد من المؤمنین) ۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی ترکیب کے متعلق رقمطراز ہیں : ” کل ان میں سے ہر ایک ۔ مضاف الیہ محذوف ہے تنوین اس کے عوض ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ المؤمنون کا عطف یا الرسول پر ہے اس صورت میں وہ ضمیر مضاف الیہ جس کی جگہ تنوین لائی گئی ہے الرسول اور المؤمنون دونوں کے مجموعہ کی طرف راجع ہوگی یا المؤمنون مبتداء ہے اس وقت ضمیر مضاف الیہ صرف المؤمنون کی طرف راجع ہوگی اور کل اپنی خبر کے ساتھ مل کر المؤمنون کی خبر ہوگی اس صورت میں امن کا فاعل تنہا الرسول ہوگا “۔ عظمت شان رسول ﷺ کی وجہ سے امن کی نسبت صرف الرسول کی طرف کی گئی ہے۔ یا اس وجہ سے تنہا ایمان رسول کا ذکر کیا گیا ہے کہ رسول کا ایمان مشاہدہ اور معائنہ کے ساتھ تھا۔ اور دوسرے لوگوں کا ایمان نظری اور استدلال تھا۔ بظاہر ط کا وقف المؤمنون کے فوراً بعد یہ بتارہا ہے کہ المؤمنون کا عطف الرسول پر ہی ہے اور یہ اگلے جملہ کا مبتدا نہیں ہے کتبہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی طرف سے (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اتاری ہوئی کتابیں ، صحیفے، ہدایتیں۔ نوشتے وغیرہ لانفرق۔ ای ویقولون لا نفرق ۔۔ الخ ۔ لانفرق مضارع منفی کا صیغہ جمع متکلم۔ تفریق (تفعیل) مصدر ۔ فرق مادہ ہم تفریق نہیں کرتے ہیں (کہ کسی پیغمبر کو سچا اور کسی کو جھوٹا کہیں بلکہ سب کو سچا کہتے ہیں) ۔ بین احد من رسلہ۔ احد یہاں جمع کے معنی میں آیا ہے اسی لئے اس پر بین داخل ہوا ہے کیونکہ بین ایسے اسم پر داخل ہوتا ہے جو کثرت پر دلالت کرتا ہو۔ ہم بین قوم کہیں گے بین زید نہیں کہیں گے۔ وقالوا۔ اس کا عطف امن پر ہے یعنی سب ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔ سمعنا۔ ماضی جمع متکلم سمع (باب سمع) مصدر سے۔ ہم نے سنا۔ ہم نے سمجھا۔ واطعنا۔ واؤ عاطفہ۔ اطعنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم، ہم نے حکم مانا۔ ہم نے اطاعت کی۔ اطاعۃ (باب افعال) مصدر۔ غفرانک ربنا۔ اس سے قبل لسئلک محذوف ہے ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں۔ ہم تجھ سے مانگتے ہیں۔ غفرانک مضاف مضاف الیہ۔ غفران (باب ضرب) مصدر۔ تیری بخشش ۔ اے ہمارے رب ہم تجھ سے تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ غفران بوجہ فعل محذوف کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان ومصدر۔ صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ۔ قرار گاہ۔ لوٹ کر آنا۔ حاضر ہونا۔ مائل ہونا۔ آیۃ ہذا میں بطور مصدر استعمال ہوا ہے اور بطور مصدر ہی قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر (50:43) تحقیق ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ بطور اسم ظرف مکان قرآن مجید میں ہے حسبھم جھنم یصلونھا وبئس المصیر (58:8) اے پیغمبر ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اس میں داخل ہوں گے۔ سو وہ برا ٹھکانا ہے۔ اور وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم وبئس المصیر (67:6) اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے نقصان پہنچے گا اسے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجیو اے پروردگا ہم ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

(2:286) لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ جملہ مستانفہ ہے لا یکلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب تکلیف (تفعیل) مصدر۔ اللہ تکلیف نہیں دیتا۔ نفسا اسم مفعول واحد مؤنث منصوب کسی جان کو۔ کسی شخص کو ۔ الا حرف استثناء وسعھا۔ مضاف مضاف الیہ ۔ وسع۔ طاقت سمائی ۔ قدرت ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا (ذمہ وار نہیں بناتا) مگر اس کی بساط کے مطابق۔ لہا ما کسبت وعلیہا ما اکتسبت۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے جو (اچھی) کمائی اس نے کی (اس کا فائدہ) اسی کو ملیگا اور جو (برائی) اس نے نے (اس کا بوجھ) اسی پر ہوگا۔ فائدہ : یہاں خیر کے لئے کسب کا لفظ اور شر کے لئے اکتساب کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ سو جاننا چاہیے کہ اکتساب افتعال کے وذن پر ہے اور اس میں کوشش اور طلب کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا نیکی کا بدلہ تو بہرحال ملے گا خواہ اس کی تحصیل میں کوشش صرف کی گئی ہو یا نہیں۔ لیکن بدی کی پاداش صرف اس صورت میں ملے گی جب اس کی تحصیل میں طلب اور کوشش شامل ہو۔ ربنا لا تؤاخذنا ۔۔ الخ اس عبارت کا عطف قالوا سمعنا واطعنا الخ (آیۃ 285) پر ہے یا اس سے قبل فعل قولوا مقدر ہے اور تقدیر کلام یوں ہے۔ قولوا ربنا لا تؤاخذنا ۔۔ الخ اللہ تعالیٰ نہایت کرم نوازی سے اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ مجھ سے یوں دعا کیا کرو۔ مجھ سے یوں مانگا کرو تاکہ میں تمہیں لغزشوں اور خامیوں سے درگزر کرتے ہوئے تمہاری توقعات سے بڑھ کر عطا کروں ۔ لا تؤاخذنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر مؤاخذۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جس کے معنی گناہ پر پکڑنے اور گرفت کرنے کے ہیں نا ضمیر مفعول جمع متکلم تو ہمارا مؤاخذہ نہ فرما۔ تو ہمیں نہ پکڑ۔ انا نسینا۔ ان شرطیہ ہے نسینا فعل ماضی جمع متکلم (باب سمع) مصدر۔ اگر ہم بھول جائیں ۔ او اخطانا۔ او حرف عطف ہے یا کے معنی دیتا ہے۔ اخطانا ماضی جمع متکلم اخطاء (افعال) مصدر یا ہم بھول جائیں یا چوک جائیں۔ لا تحل علینا۔ لا تحمل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ حمل (باب ضرب) مصدر۔ تو ہم پر بوجھ نہ ڈال۔ اصرا۔ بھاری بوجھ۔ اصل میں اصر کے معنی اس بوجھ کے ہیں جو اپنے اٹھانے والے کو چلنے سے روک دے۔ یہاں مراد تکلیف شاقہ اور سخت اور دشوار امور سے ہے۔ اصر اس عہد مؤکد کو بھی کہتے ہیں جو خلاف ورزی کرنے والے کو ثواب اور خیرات سے روک دے جیسے قرآن مجید میں ہے : ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری (3:81) بھلا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا پختہ عہد لیا۔ لا تحملنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تحمیل (تفعیل) نا ضمیر متکلم مفعول۔ تو ہم پر بھار نہ ڈال۔ تو ہم پر بوجھ نہ ڈال۔ تو ہم سے نہ اٹھوا۔ مالا طاقۃ لنا بہ۔ ما۔ موصولہ ہے اور اگلا جملہ اس کا صلہ۔ لا نفی جنس کا ہے اور اس کے عمل سے طاقۃ مبنی برفتحہ۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب حمل کی طرف راجع ہے لا تحملنا ای لا تحملنا بحمل۔ واعف عنا۔ واؤ عاطفہ۔ اعف امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر عفو (باب نصر) مصدر سے عفا یعفوا عفوا اس کا استعمال جب کسی کے جرم کو معاف کرنے کے لئے ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ بذریعہ عن ہوتا ہے (اے پروردگار ہمارے) تو ہمارے گناہ بخش دے۔ ہمارے جرم معاف کر دے۔ ہمارے گناہ مٹا دے۔ ہمیں معاف کر دے۔ عفو کے معنی بچے ہوئے مال کے بھی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (2:219) اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دیجئے جو بچے اپنے خرچ سے یعنی وہ خرچ کرو جو اپنے عیال کے نفقہ سے بچ رہے۔ عفو مصدر (باب نصر) بمعنی زیادہ ہونے کے بھی ہیں مثلاً جو چیز زیادہ اور گھنی ہوجاتی ہے تو بولتے ہیں عفا الشی۔ قرآن مجید میں ہے ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ حتی عفوا (7:95) پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ (مال و اولاد میں) زیادہ ہوگئے۔ یہاں عفوا بمعنی کثروا آیا ہے۔ واغفرلنا۔ واؤ عاطفہ اغفر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) سے مصدر تو بخش دے۔ تو معاف کر دے۔ اصل میں غفر ایسے لباس پہنا دینے کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی گندگی اور میل سے محفوظ رکھ سکے۔ مغفرت الٰہی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو عذاب سے محفوظ رکھے۔ اسی اعتبار سے غفر کا استعمال معاف کرنے اور بخش دینے کے معنی میں ہوتا ہے۔ مغفر ڈھال کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی دشمن کے وار سے بچاتی ہے۔ وارحمنا۔ واؤ عاطفہ۔ ارحم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ رحمۃ (باب سمع) مصدر۔ فا ضمیر مفعول جمع متکلم اور (اے ہمارے پروردگار) تو ہم پر رحم کر۔ مولنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا مولیٰ ۔ کار ساز۔ مددگار۔