2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ؟ تم کہہ دو کہ مشرق و مغرب سب خدا ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے

(2:142) سیقول۔ مضارع پر داخل ہوکر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے۔ یقول واحد مذکر غائب قول مصدر باب نصر سے وہ کہتا ہے۔ وہ کرے گا۔ یہاں بمعنی جمع مذکر غائب آیا ہے یعنی السفہاء (سفیہ لوگ) کہیں گے۔ السفھائ۔ سفیہ کی جمع۔ بےوقوف۔ کم عقل لوگ۔ احمق۔ یہاں مراد یہود اور مشرکین ہیں۔ ماولہم۔ ما استفہامیہ ہے۔ ولہم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تولیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی موڑنا پھیرنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ کس نے موڑا ان کو، کس نے پھیردیا ان کو (ہ سوالیہ انداز بطور تحقیق نہیں بلکہ بطور تعریض و طنز ہے) ۔ قبلہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کا قبلہ۔ قبلہ اصل میں کسی شے کے سامنے ہونے کی حالت اور ہیئت کو کہتے ہیں۔ جیسے جلۃ بیٹھنے کی حالت کو بدلتے ہیں پھر بطور نقل کے اس مکان کو کہنے لگے جس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخر الزماں ﷺ تم پر گواہ بنیں اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی ہے (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحب رحمت ہے

(2:143) کذلک۔ اسی طرح۔ ایسے ہی ۔ کاف اول حرف تشبیہ ہے ذا۔ اسم اشارہ واحد مذکر ۔ ل علامت اشاعر بعید۔ کاف آخر، حرف خطاب واحد مذکر حاضر کے لئے۔ اور واحد مؤنث حاضر کے لئے کذلک۔ اور جمع مذکر حاضر کے لئے کذلکم۔ اور جمع مذکر حاضر کے لئے کذلکن۔ اس کا مشبہ بہ۔ (1) یا ارشاد باری تعالیٰ ولقد اصطفینہ فی الدنیا (2:13) ہے یا قولہ تعالیٰ بھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ آیت ماقبل (2:142) ہے۔ اور یہ معطوف ہے ہر دو کا۔ (2) یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تمہارے لئے ایسا قبلہ مقرر کر رکھا ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان وسط میں ہے۔ اسی طرح تم کو امۃ وسطا بنایا۔ جو افراط و تفریط سے مبرا ہے نہ نصاری جیسی افراط۔ کہ عیسیٰ کو خدا بنادیا نہ یہودیوں جیسی تفریط کہ دین میں تحریف اور تبدیلی کر ڈالی۔ (خازن) وسطا صیغہ صفت وسط مصدر (باب ضرب) ٹھیک درمیانی ۔ برگزیدہ۔ عادل۔ (مدارک و بیضاوی) وسیط۔ وہ آدمی جو نسبی اعتبار سے درمیانہ اور مرتبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہو۔ (اوسطھم نسبا وارفعہم مجدا) صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں کہ : وسط۔ کا لفظ قابل غور ہے اس کا معنی ہے درمیان ہر چیز کا درمیانی حصہ ہی اس کا عمدہ ترین حصہ ہوا کرتا ہے انسان کی زندگی کا درمیانی عرصہ (عہد شباب) اس کی زندگی کا بہترین وقت ہے۔ دن کے درمیانی حصہ دوپہر میں روشنی اپنے نقطۂ عروج پر ہوتی ہے۔ اسی طرح اخلاق میں میانہ روی قابل تعریف ہوتی ہے افراط و تفریط دونوں پہلو مذموم، بخل اور فضول خرجی کی درمیانی حالت کو سخاوت، بزدلی اور طیش کی درمیانی حالت کو شجاعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اس عظیم المرتبت خطاب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے عقائد۔ ان کی شریعت، ان کے نظام اخلاق۔ سیاست اور اقتصاد میں افراط و تفریط کا گزر نہیں ۔ یہاں اعتدال ہے تو ازن ہے۔ موزونیت ہے۔ یتکونوا۔ لام تعلیل ہے۔ تکونوا۔ فعل مضارع منصوب (بواجہ ان مقدرہ بعض کے نزدیک لام تعلیل بذات خود ہی ناصب ہے) جمع مذکر حاضر، نون اعرابی عامل کے سبب سے حذف ہوگیا ہے۔ تاکہ تم بنو بن جاؤ۔ لتکونوا ۔۔ الایۃ۔ امت محمدیہ کے وسط بنانے کی علت ہے۔ شھدائ۔ شھید کی جمع ہے جو مبالغہ کے لئے ہے۔ جیسے علیم کی جمع علماء ہے۔ شھداء بوجہ الف التانیط غیر منصرف ہے۔ یکون مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ اس جملہ کا عطف جملہ ما قبل پر ہے۔ اور تاکہ رسول تم پر گواہ ہو۔ ماجعلنا۔ ماضی جمع متکلم بمعنی صیرنا۔ ہم نے بنایا۔ ما نافیہ ہے۔ اب معنی ہوں گے ہم نے نہیں بنایا ۔ القبلۃ۔ مفعول ہے جعلنا کا۔ اور التی کنت علیہا موصول وصلہ مل کر صفت ہے القبلۃ کی۔ لتعلم۔ لام تعلیل کا ۔ نعلم۔ مضارع منصوب جمع متکلم ۔ کہ ہم کو معلوم ہوجائے۔ من یتیبع الرسول من موصولہ بمعنی الذی ہے۔ من یتبع الرسول جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ۔ موصول اپنے ص کہ کے ساتھ مل کر مفعول اول ہے لعلم کا۔ ممن ینقلب علی عقبیہ۔ ممن۔ من حرف جار اور من موصولہ ہے مرکب ہے۔ ینقلب علی عقبیہ صلہ اپنے موصول کا۔ موصول اور صلہ مل کر مفعول ثانی نعلم کا۔ معنی یہ ہوں گے تاکہ ہم اس شخص کو جو رسول کی پیروی کرتا ہے جدا جان لیں اس شخص سے جو الٹے پاؤں پھرے۔ ینقلب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ انقلاب (انفعال) مصدر سے وہ لوٹتا ہے وہ لوٹے گا۔ وہ پھرتا ہے وہ پھرے گا۔ عقبیہ۔ مضاف مضاف الیہ عقبیہ اصل میں عقبین تھا۔ تثنیہ کانون بوجہ اضافت گرگیا۔ عصب بمعنی ایڑی۔ انقلب علی عقبیہ وہ اپنے پاؤں پر (یا ایڑیوں پر) الٹا پھر گیا۔ مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو اس تبدیلی کعبہ پر شک و تردد کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے۔ وان کانت لکبیرۃ۔ واؤ عاطفہ۔ ان مخففہ ہے ان سے اس کا اسم محذوف ہے ای انھا ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب راجع ہے۔ لام فاصلہ یا فارقہ ہے اور ان مخففہ اور ان نافیہ میں فرق کرنے کے لئے آیا ہے ان یہاں حرف تحقیق و تاکید ہے ان کانت ، قد کانت۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے ان کانت اصحب الایکم لظالمون ۔ (15:78) تحقیق اصحاب الایکہ ظالم تھے۔ کبیرۃ۔ صفت مشبہ واحد مؤنث منصوب، تانیث کانت کے مؤنث ہونے کی وجہ اسم محذوف (ای تولیۃ الکعبۃ۔ تحویلۃ الکعبۃ) کے مؤنث ہونے کی وجہ سے ہے اور نصب بوجہ کانت کی خبر ہونے کے کبیرۃ بمعنی شاقۃ۔ شاق گراں۔ سخت۔ ناگوار۔ مقدار میں بڑا ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ (9:121) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت (وہ ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا جاتا ہے) ۔ وما کان اللہ لیضیع ایمانکم۔ ای وما کان اللہ مریداً لان یضیع ایمانکم۔ مریدا خبر کان محذوف ہے لام کے بعد ان مقدرہ ہے لان یضیع ایمانکم جملہ متعلق خبر ہے یضیع فعل بوجہ عمل ان مقدرہ منصوب ہے۔ ترجمہ ہوگا : اور اللہ تمہیں چاہتا کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے۔ یہاں ایمان سے مراد الصلوۃ (نماز) ہے۔ اور مراد اہل ایمان کی وہ نمازیں ہیں جو وہ تحویل قبلہ سے قبل بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے تھے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ صحیحین میں حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ تحویل قبلہ سے پہلے بہت سے آدمی مرگئے اور شہید ہوگئے تھے ہم کو کچھ علم نہ تھا کہ ان کے بارے میں کیا کہیں (آیا ان کی نمازیں پڑھی ہوئی اکارت گئیں یا انہیں ثواب ملے گا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لرء وف رحیم لام برائے تحقیق و تاکید ہے رء وف رانۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ امام خطابی نے رأفت ورحمت کا فرق بیان کیا ہے کہ رحمت تو کسی مصلحت کی بناء پر کبھی ناپسندیدگی میں بھی ہوتی ہے لیکن رأفت ناپسندیدگی میں تقریباً نہیں ہوتی۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں

(2:144) قد نری۔ ہم دیکھ رہے ہیں۔۔ قد جب مضارع پر داخل ہو تو علاوہ دیگر معانی کے تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ آیہ ہذا میں صاحب کشاف نے قد نری کے معانی ربما نری ہم اکثر دیکھتے ہیں لکھا ہے۔ نری۔ رؤیۃ (باب فتح) سے۔ مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں۔ تقلب۔ تفعل کے وزن پر مصدر ہے۔ پھر پھرجانا۔ پھرنا۔ مضاف ہے۔ وجھک مضاف ، مضاف الیہ مل کر تقلب کے جملہ تقلب رجھک فی السمائ۔ مفعول ہے قد نری کا۔ فلنو لینک۔ فاء سببیہ ہے۔ ماقبل مابعد کا سبب ہے یعنی بہ سبب آپ کے بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھانے کے (برائے تحویل قبلہ) ہم ضرور پھیر دیں گے۔ لام تاکید کا ہے اور نولین مضارع تاکید بانون ثقیلہ بصیغہ جمع متکلم ہے۔ تولیۃ (تفعل) سے مصدر۔ ک ضمیر مفعول اول ہم آپ کو ضرور پھیر دیں گے۔ قبلۃ ترضھا۔ قبلۃ موصوف۔ ترضھا جملہ فعلیہ ہوکر صفت۔ موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قبلۃ کے لئے ہے۔ فلنولینک قبلۃ ترضھا۔ تو ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں ۔ فول۔ فاء تفریع الامر (معاملہ کی پیش رفت) کے لئے ہے ول فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ تولیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ تو (اب) تو پھیرلے۔ شطر المسجد الحرام ط المسجد الحرام موصوف صفت مل کر مضاف الیہ۔ شطر۔ طرف ۔ سمت۔ جہت۔ مسجد حرام کی طرف۔ مسجد حرام اس واسطے کہ اس میں قتال و شکار کرنا حرام ہے۔ شطر کے منصوب ہونے کی دو وجوہات ہیں :۔ (1) یہ منصوب بنزع خافض ہے ۔ یعنی اصل میں الی شطر المسجد الحرام تھا۔ الی حرف جر کو حذف کرکے شطر کو منصوب کردیا (ایسے منصوب کو منصوب بنزع خافض کہتے ہیں) نزع الشیء من مکانہ کسی شے کو اپنی جگہ سے اکھیڑ دینا۔ اور خفض الکلمۃ۔ کلمہ کو زیر دینا الخافض زیر دینے والا حرف۔ نزع الخافض زیر دینے والے حروف کو حذف کرنا۔ نیز ملاحظہ ہو (36:68) (2) شطر بوجہ ظرف ہونے کے منصوب ہے۔ حیث۔ جہاں ۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے۔ حیثما۔ جہاں کہیں۔ شطرہ۔ مضاف مضاف الیہ ، اس کی طرف ۔ یعنی مسجد حرام کی طرف۔ قائدہ : بظاہر مناسب یہ تھا کہ بجائے مسجد حرام کے کعبہ فرماتے۔ کیونکہ قبلہ تو کعبہ ہی ہے لیکن مسجد حرام اس لئے فرمایا کہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ جو کعبہ سے دور ہو اس جہت کعبہ کا استقبال واجب ہے عین کعبہ کا نہیں۔ الذین اوتوا الکتب (وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی) سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ انہ تحقیق وہ۔ بیشک وہ ۔ ہ سے مراد تحویل قبلہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ تحویل قبل حق ہے کیونکہ تورات میں موجود ہے کہ نبی آخر الزمان دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے اب بوجہ عناد و حسد کے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

(2:145) ولئن۔ واؤ حرف عطف، جملہ کا عطف وان الذین پر ہے لام تمہید قسم کا ہے الموطئۃ للقسم اور ما تبعوا قبلتک جو اب قسم قائم مقام جواب شرط ہے۔ ان حرف شرط ہے (اور اگر آپ لے ہی آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب مل ہے تو وہ پیروی نہیں کریں گے آپ کے قبلہ کی۔ وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ ان میں سے بعض دوسروں کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اس وقت یہود و نصاری میں خود قبلہ کے متعلق اختلاف تھا۔ اگرچہ بیت المقدس کو دونوں قبلہ مانتے تھے لیکن عیسائی عبادت کے وقت اپنا رخ مشرق کی طرف کرتے تھے (بیت المقدس مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے) ۔ علاوہ ازیں خود یہودیوں میں اہل سمریہ (Samarilians) میں اختلاف تھا۔ اگرچہ دونوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو تھے۔ (سمریہ اردون اور بحرہ روم کے درمیان فلسطین کا ایک ضلع تھا) ۔ اتبعت، ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر، اتباع (افتعال) مصدر، تو نے پیروی کی۔ اھواء ھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خواہش۔ ھوی کی جمع۔ ماجاءک میں ما موصولہ ہے۔ من العلم (من بیانیہ ہے۔ ای ما اوحی الیک) ٍ ولئن اتبعت ۔۔ من العلم۔ شرط۔ انک اذا لمن الظالمین۔ جواب شرط ہے۔ اس جملہ کی ترکیب بھی اسی طرح ہے۔ جو جملہ سابقہ ولئن اتبت الذین ۔۔ قبلتک کی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ اذا حرف جزاء ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

الذین اتیناھم الکتب۔ اہل کتاب یہود و نصاری۔ یعرفونہ۔ وہ اس کو پہچانتے ہیں۔ اس کو جانتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع یا (1) علم ، قرآن یا تحویل قبلہ سے یا (2) یہ ضمیر رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے گو ما سبق ان کا ذکر نہیں ہے۔ یہی زیادہ راجح ہے۔ یعرفون کی ضمیر علماء اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ فریقا منھم۔ میں من تبعیضیہ ہے اور ہم سے مراد الذین لم یسلموا جو جانتے ہوئے بھی آپ کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ یکتمون۔ لام یاکید کا ہے۔ یکتمون۔ فعل مضارع جمع مذکر غائب کنتم باب نصر مصدر سے وہ چھپاتے ہیں۔ وہ چھپا رہے ہیں۔ الحق۔ مفعول ۔ حق بات۔ حقیقت ۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی صفت اور آپ کا نبی قبلتین ہونا جو تورات میں مذکور ہے۔ وھم یعلمون جملہ حالیہ ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

(2:147) الحق من ربک۔ کلام مستانفہ ہے۔ الحق مبتدا۔ من ربک خبر۔ حق تو آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے۔ الممترین، اسم فاعل جمع مذکر الممتری۔ واحد۔ امتراء (افتعال) مصدر شک میں پڑنے والے تردد کرنے والے۔ مری۔ مادہ۔ امتری یمتری امترائ۔ شک میں پڑنا۔ مریۃ۔ شک۔ جھگڑا۔ مراء جھگڑا۔ بحث مباحثہ۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کیلئے ایک سمت (مقرر) ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو تم جہاں ہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

(2:148) ولکل وجھۃ۔ واؤ عاطفہ۔ اور کل میں تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے تقدیر کلام یوں ہے ولکل امۃ وجھۃ۔ وجھۃ۔ مصدر بمعنی قبلہ۔ یا اسم مکان۔ یعنی وہ سمت جس کی طرف رخ کیا جائے۔ اول صورت میں واؤ کا موجود ہونا غیر قیاسی ہے ۔ قیاس کا تقاضا ہے کہ اس کو حذف کردیا جائے (جیسا کہ عدۃ وزنۃ میں واؤ محذوف ہے) صرف اصل پر تنبیہ کرنے کے لئے باقی رکھا گیا ہے۔ دوسری صورت میں واؤ کا موجود ہونا قیاسی ہے۔ مراد دونوں صورتوں میں وہ سمت ہے جس کی طرف رخ کیا جاتا ہے۔ ھو ضمیر واحد مذکر غائب یہ کل کی طرف راجع ہے۔ مولیہا۔ ولی یولی تولیۃ (تفعیل) سے۔ مولی اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ مضاف ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مضاف الیہ، اس کی طرف رخ پھیرنے والا۔ منہ کرنے والا۔ ولی الی کسی کی طرف توجہ کرنا اور ولی عنہ رخ پھیرنا اعراض کرنا۔ اول الذکر کی مثال۔ لویجدون ملجا او مغرت او مدخلا تولوا الیہ (9:57) یہ اگر کوئی سی بھی پناہ کی جگہ پاتے یا کوئی غار یا کوئی (اور) جگہ گھس بیٹھنے کی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر چل پڑتے۔ مؤخرالذکر کی مثال ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون (44:57) پھر انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھا یا ہوا (اور) دیوانہ ہے۔ جملہ کا ترجمہ :۔ اور ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرتا ہے (ہر ایک امت کا اپنا اپنا قبلہ ہے جس کی طرف وہ منہ کرتی ہے) ۔ فاستبوا الخیرات۔ استبقوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استباق (افتعال) مصدر تم سبقت کرو۔ تم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ الخیرات۔ خیرۃ کی جمع ہے ۔ نیکیاں، بھلائیاں۔ خوبیاں۔ شریف عورتیں۔ نیک عورتیں۔ مراد نیکیاں ہیں ۔ ال استفراق کا ہے یعنی ہر قسم کی نیکیاں۔ الخیرات مجرور ہے۔ اس سے قبل الیٰ مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتحاد قبلہ ہی نیکی نہیں ہے اس کے علاوہ اور بھی نیکیاں ہیں۔ جن پر سب دین متفق ہیں تم ان سب نیکیوں (بشمول تحویل قبلہ) کو اپنانے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرو۔ یہود اور منافقین نے تو محض کج حجتی کے طور پر تحویل قبلہ کو موضوع سخن بنا رکھا ہے۔ اینما۔ جہاں کہیں، این شرطیہ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ یہاں بطور ظرف مکان متضمن بمعنی شرط ہے۔ اور ما مزیدہ ہے ای فی ای موضع تکونوا۔ تم جہاں کہیں بھی ہو۔ یات بکم اللہ جمیعا ط یات مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط کے) ب تعدیہ کے لئے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ جمیعا صفت ہے کم کی۔ تم سب کو، یعنی تم جہاں کہیں بھی ہوگے تم سب کو اللہ تعالیٰ اکٹھا کرلے گا۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کرلیا کرو بےشبہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں

(2:149) حیث۔ جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے۔ مبنی برضمہ ہے۔ من حیط خرجت۔ جس جگہ سے آپ نکلیں۔ بطور مجاز کے اس کے معنی یہ ہوں گے۔ آپ جہاں کہیں ہوں یہ معنی شرط کو شامل و متضمن ہے اسی لئے اگلے جملہ میں فول پر فاء (بطور جواب شرط) لائے ہیں۔ فول وجھک ۔ ای فول وجھک اذا نملیت۔ جب نماز پڑھو تو اپنا منہ پھیرلیا کرو۔ ول فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولیہ (تفعیل) مصدر۔ تو پھیر لے۔ انہ۔ ای التولیۃ الی القبلۃ۔ قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ للحق۔ میں لام زائدہ ہے۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا کرو) اور (مسلمانو ! ) تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو

(2:150) تولیۃ کے تکرار (آیات 144 ۔ 149 ۔ 150) کے متعلق مفسرین نے مختلف حکمتیں لکھی ہیں جو کہ کتب تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں لئلا۔ میں لام علت کی ہے۔ یعنی آیات سابقہ میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کی بار بار تاکید کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ الا۔ ان مصدریہ اور لا منفی سے مرکب ہے لئلا یکون تاکہ نہ ہو، یا نہ رہے۔ حجۃ۔ اعتراض۔ دلیل۔ جحج۔ جمع۔ منھم۔ میں من تبعیضیہ ہے ھم ضمیر جمع مذکر غائب الناس کے لئے ہے۔ فلا تخشوھم۔ لا تخشوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، خشیۃ مصدر باب سمع ۔ تم مت ڈرو۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ الذین ظلموا کی طرف راجع ہے۔ اختونی۔ اخشوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ، تم مجھ سے ڈرو۔ ولاتم۔ واؤ عاطفہ ہے اگلے جملہ کا عطف جملہ سابقہ لئلا یکون للناس ۔۔ پر ہے، اور (اس سے کہ) میں تم پر اپنا انعام پورا کر دوں) ۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (من جملہ نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

(2:151) کما۔ میں ک حرف تشبیہ ہے اور ما مصدریہ ۔ کما ارسلنا کا تعلق یا تو لاتم سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ ۔ تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں۔ جیسے کہ رسول بھیجنے کی نعمت پوری کی۔ یا اس کا تعلق لعلکم تھتدون سے ہے اور معنی ہوں گے تاکہ تم فلاح پاؤ جیسا کہ تم کو میرے تمہیں میں سے تمہارے پاس رسول بھیجنے سے ہدایت و فلاح نصیب ہوئی۔ (مظہری۔ تفہیم القرآن) ۔ یزکیکم۔ یزکی۔ مضارع واحد مذکر غائب تزکیہ (تفعیل) مصدر کم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو پاکیزہ کرتا ہے۔ وہ تم کو پاک بناتا ہے۔ مالم تکونوا تعلمون۔ ما موصولہ ہے لم تکونوا تعلمون مضارع نفی حجد بلم۔ تم نہیں جانتے تھے۔
Ayahs 2:152–153

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرونگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

(2:152) اذکرکم۔ اذکر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) کا صیغہ متکلم ذکر مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو یاد رکھوں گا۔ لاتکفرون۔ فعل نفی جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم مذوف ہے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

(2:154) بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لیے آیا ہے۔ یعنی تمہارا ان کو (شہداء کو) اموات کہنا بالکل باطل بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ احیاء (زندہ) ہیں احیاء زندہ لوگ حی کی جمع ہے۔ لا تشعرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ شعور (باب نصر) مصدر۔ جس کے معنی بذریعہ حس جاننے کے ہیں۔ تم نہیں جانتے ہو۔ تم نہیں سمجھتے ہو۔
Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

(2:155) لنبونکم۔ ل تاکید کا ہے نبلون۔ مضارع تاکید بانون ثقلیہ ۔ صیغہ جمع متکلم ۔ بلاء مصدر (باب نصر) بمعنی آزمائش، آزمائش میں ڈالنا۔ آزمانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تم کو ضرور ضرور آزمائیں گے۔ الخوف۔ خوف سے مراد خوف اللہ تعالیٰ ۔ الجوع سے مراد صوم رمضان۔ ونقص من الاموال سے مراد زکوۃ و صدقات من الانفس سے مراد امراض اور من الثمرات سے مراد موت الاولاد ہے۔ یا بالترتیب خوف سے مراد خوف دشمن ۔ جوع سے مراد بھوک، قحط، نقص من الاموال سے مراد مالوں میں خسارہ یا بالکل بلاک ہونا اور نقص من الانفس سے مراد جانوں کی کمی یعنی قتل ہونا یا مرجانا یا امراض کا لاحق ہونا۔ یا بڑھاپا ہے اور پھلوں کی کمی یہ ہے کہ کوئی آفت آجائے جس سے پھل جاتے رہیں یا کم ہوجائیں۔ وغیرہ
Ayah 2:156

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

(2:156) الذین اذا اصابتھم ۔۔ الخ صابرین کی صفت ہے۔ اذا حرف شرط ہے اور جملہ شرطیہ ہے قالوا انا للہ ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔ مصیبۃ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث اصاب یصلب اصابۃ (افعال) مصدر ہے۔ غم۔ تکلیف۔ سختی۔ دکھ پہنچانے والی ہر چیز۔ اس کی جمع مصائب ومصیبات ہے۔ اس کا مادہ صوب ہے۔ المفردات میں ہے اصاب السھم۔ تیر ٹھیک نشانہ پر جالگا اور مصیبۃ اصل میں اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ اس کے بعد (عرف میں) ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا۔ قرآن مجید میں ہے وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم (42:30) اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ہے۔ راجعون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ رجوع (ضرب) سے مصدر۔ لوٹ جانے والے۔ پھرجانے والے۔
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

(2:157) اولئک۔ یعنی وہ لوگ جن میں مندرجہ بالا صفات ہوں یعنی صابرین۔ اولئک مبتدا اول۔ صلوت مبتدا ثانی۔ علیہم متعلق بمبتدا ثانی۔ پھر یہ مجموعہ مبتدا اول کی خبر۔ واولئک ھم المھتدون۔ واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اولئک مبتداء ہم المھتدون اس کی خبر۔ صلوٰت رحمتیں۔ برکتیں ۔ صلوٰۃ کی جمع۔ ص ل و مادہ۔ مھتدون۔ اسم فاعل مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت یافتہ۔ ہدایت پانے والے۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

(2:158) شعائر۔ شعیرۃ۔ کی جمع ہے شعیرۃ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعلۃ ہے مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ شعائر اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی نشانیاں۔ شعائر اللہ۔ عرف شریعت میں عبادات کے مکانات اور زمانوں اور علامات کو کہتے ہیں ۔ مکانات عبادت جیسے کعبہ۔ عرفہ، مزدلفہ، جمرات ثلاث صفا مروہ۔ منی و جمیع مساجد وغیرہ۔ زمانے (اوقات) جیسے رمضان اور اشہر حج۔ عیدین ۔ جمعہ اور علامات جیسے اذان، اقامت، نماز باجماعت وغیرہ۔ اعتمر۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعتمار (افتعال) مصدر اس نے عمرہ کیا۔ عمرہ زیارت بیت اللہ کے سلسلہ میں ایک مخصوص عبادت کا نام ہے۔ اس کا طریق یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے۔ اور صفا ومروہ کے بیچ دوڑے۔ پھر حجامت کراکر احرام اتار دے۔ حج۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ حج و حج مصدر ( باب نصر) قصد کرنا۔ زیارت کے لئے جانا ۔ حج کرنا ۔ فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔ جناح۔ جنوح (باب فتح۔ نصر۔ ضرب) سے ماخوذ ہے۔ جنح اذا مال عن القصد المستقیم یعنی مقصد مستقیم سے دوسری جانب مائل ہونا۔ پس وہ گناہ جو حق سے دوسری طرف مائل کر دے۔ جناح ہے۔ فلاجناح علیہ۔ پس نہیں ہے گناہ اس پر۔ ان مصدریہ ہے۔ یطوف۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) صیغہ واحد مذکر غائب کہ وہ طواف کرے۔ یعنی سعی کرے یطوف اصل میں یتطوف (باب تفعل) تطوف سے تھا۔ تاء کو طاء میں مدغم کیا گیا۔ ترجمہ ہوگا۔ نہیں ہے اس پر گناہ کہ وہ ان دونوں (صفا ومروہ) کے درمیان سعی کرے۔ شان نزول اس آیت کا اس طرح ہے کہ صفا ومروہ پر آساف و نائلہ دو بت تھے۔ آساف صفا پر تھا اور نائلہ مروہ پر، اہل جاہلیت ان بتوں کی تعظیم کے لئے صفا مروہ کے درمیان طواف کیا کرتے تھے۔ جب اسلام کا ستارہ چمکا تو مسلمان صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے سے ان بتوں کی وجہ سے اعتراز کرتے تھے اور نفرت کرتے تھے۔ ادھر انصار قبل از اسلام منات بت کی عبادت کیا کرتے تھے۔ اور اس کے سامنے پکار کر دعا کیا کرتے تھے۔ اس لئے انصار بھی صفا ومروہ کے درمیان دوڑنے سے کراہت کرتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریق کے باب میں یہ آیت نازل فرمائی۔ (مظہری) مسلمانوں کو حکم ہوا کہ صفا مروہ کے درمیان جو تم سعی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھو۔ یہ ایک نیک کام ہے اس کے جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ احناف کے نزدیک صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے۔ تطوع۔ اس نے خوشی سے نیکی کی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تطوع (تفعل) مصدر سے۔ جس کے معنی اصل میں تو نیکی میں تکلف کرنے کے ہیں۔ مگر عرف میں جو چیزیں کہ لازم اور فرض نہ ہوں جیسے نوافل وغیرہ ان کے بجالانے اور انجام دینے کو کہتے ہیں۔ شاکر۔ شاکر۔ شکر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جب لشکر سے متصف کیا جائے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام فرمانا اور جو کچھ عبادت انہوں نے ادا کی ہے اس کی جزا دینا مراد ہے۔ یہاں شاکر بمعنی قدر دان ۔ حق ماننے والا۔ فمن حج البیت الخ جملہ شرطیہ ہے اور فان اللہ ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔ اسی طرح من تطوع ۔۔ الخ جملہ شرطیہ ہے اور فان اللہ ۔۔ الخ جواب شرط۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

(2:159) یکتمون۔ فعل مضارع جمع مذکر غائب کتم مصدر۔ باب نصر۔ وہ چھپاتے ہیں۔ فعل بافاعل ما انزلنا اس کا مفعول من البینت والھدی بیان ما ۔ من بعد ما متعلق ہے یکتمون سے فی الکتب متعلق ہے بینا سے یہ سب مجموعہ صلہ ہوا اپنے موصول الذین کا۔ پھر موصول وصلہ مل کر ان کا اسم ہوا۔ بینہ۔ بینا۔ ماضی ۔ جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع ما انزلنا من البینت والھدی ہے۔ فی الکتب۔ ای فی التوراۃ من صفۃ محمد ﷺ ۔ کتاب سے یہاں مراد توراۃ ہے۔ جس میں نبی کریم محمد ﷺ کی بعثت کے متعلق واضح بیان موجود ہیں۔ اور الناس سے مراد علماء بنی اسرائیل ہیں۔ بعض کے نزدیک کتاب سے امراد تمام کتب آسمانی ہیں جو مختلف انبیاء (علیہم السلام) پر نازل کی گئیں اور الناس سے مراد جمیع علماء ہیں۔ اولئک سے مراد وہ لوگ ہیں جو الکتاب میں مبینہ حقائق و ہدایت کو چھپاتے ہیں۔ یلعنہم۔ یلعن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ لعن (باب فتح) وہ لعنت کرتا ہے یا کرے گا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الاعنون۔ اسم فاعل جمع مذکر لعن مصدر سے۔ اگر لاعن کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو لعنت کے معنی ہوں گے قرب یا رحمت سے دور کرنا۔ عذاب دینا۔ اور اگر اس کی نسبت انسان کی طرف ہو تو معنی ہوں گے بددعا دینا۔ گالیاں دینا۔ سخت سست کہنا۔ دھتکار کر نکال دینا۔ پھٹکارنا۔ لعین بمعنی ملعون (مفعول) یہاں لاعنون سے مراد ملائکہ و مؤمنین ہیں۔
Ayahs 2:160–161

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

(2:160) الا الذین ۔۔ الخ استثناء متصل ہے اور ضمیر ہم (جو یلعنم میں ہے) مستثنی، منہ ہے۔ تابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ توبۃ (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے توبہ کی۔ وہ باز آگئے۔ جب توبۃ کا تعدیہ الیٰ کے ذریعہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ اور جب تعدیہ علی سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی آتے ہیں۔ بندہ کا توبہ کرنا۔ معصیت کے بعد اسے چھوڑ کر نیکی اور اطاعت کی طرف واپس آنا ہے۔ اصلحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر انہوں نے اپنی اصلاح کی۔ وہ سنور گئے انہوں نے اپنے کام کو درست کیا۔ انہوں نے نیک کام کئے۔ بینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بتیین (تفعیل) مصدر انہوں نے بیان کیا۔ مطلب یہ ہے کہ علماء اہل کتاب جو رسول مقبول ﷺ کے متعلق کتب سماویہ میں مندرج صفات کو خلائق سے وابستہ چھپا رکھتے تھے۔ اور بدیں وجہ مستوجب لعن ٹھہرے۔ ان میں سے جو توبہ کرکے اپنے اس گناہ سے باز آگئے۔ اپنے آپ کی اصلاح کرلی۔ اور حقائق کو کما حقہ۔ لوگوں سے بیان کردیا (تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلے گا) ۔ اولئک۔ سے مراد الذین تابوا واصلحوا وبینوا ہیں۔ اتوب علیہم۔ اتوب۔ مضارع واحد متکلم۔ چونکہ تعدیہ علی کے ساتھ ہیں اور فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہے اس لئے مطلب ہوا کہ : میں (یعنی اللہ) ان کی توبہ قبول کرلوں گا۔ ان کو معاف کر دوں گا ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ التواب۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔ توبۃ سے مشتق ہے اگر اس کی نسبت بندہ سے ہو۔ تو معنی ہوں گے بہت توبہ کرنے والا۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

(2:162) خالدین فیہا۔ خالدین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔ فیہا۔ اس میں ھا ضمیز واحد مؤنث غائب لعنۃ کے لئے ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یا یہ النار۔ (دوزخ) کے لئے ہے اور النار کو اس کی شان کی عظمت کی وجہ سے مضمر رکھا گیا ہے اور اسم کی جگہ ضمیر کو لایا گیا ہے۔ خالدین۔ علیہم کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لا یخفف۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب ۔ وہ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ یعنی عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ لا یخفف عنھم العذاب۔ یہ جملہ حال ہے ضمیر خالدین سے۔ ولا ہم ینظرون۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ لا ینظرون۔ مضارع منفی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ اس کا مادہ ن ظ ر ہے۔ لا ینظرون کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) مصدر انظار۔ مہلت دینا سے مشتق ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی (اور یہی راجح ہے) ۔ (2) یہ مصدر انتظار سے مشتق ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اور نہ ان کا انتظار کیا جائے گا کہ کسی قسم کی معذرت کریں ۔ (3) یہ مصدر نطر سے مشتق ہے بمعنی دیکھنا۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کی جائے گی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(2:163) الہکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا معبود۔ الۃ واحد۔ واحد۔ صفت مؤکدہ ہے الہ کی کیونکہ الہ کی تنوین سے خود وحدت مترشح ہے۔ اور الہ موصوف کو وحدانیت کی تاکید اور تائید کے لئے فرمایا ۔ موصوف و صفت مل کر الہکم کی خبر ہوئے۔ لا الہ الاھو۔ زیادتی تاکید و تقریر کے لئے ہے اور یہ الہکم کی دوسری خبر ہے۔ الرحمن الرحیم۔ بھی الہکم کی تیسری اور چوتھی خبر ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

(2:164) ان حرف مشبہ بالفعل۔ (1) فی خلق المسوت والارض (2) واختلاف اللیل والنھار (3) والفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس (4) وما انزل اللہ من السماء من مائ یہ سب جملے یکے بعد دیگرے ان کی خبر ہیں۔ (ا) ماحیا بہ الارض بعد موتھا (ب) وبث فیہما من کل دابۃ (5) ونتصریف الریاح (6) والسماب المسخر بین السماء والارض لایت تقوم تعقلون ۔۔ اسم ان۔ (لام کو ان کے اسم کی خبر کے بعد میں آنے کی وجہ سے لایا گیا ہے) ۔ اختلاف اللیل والنھار سے مراد دن رات کا آگے پیچھے آنا۔ ان کا چھوٹا بڑا ہونا۔ کرہ ارضی پر مختلف مقامات پر ان کا طوالت میں کم و بیش ہونا ہے۔ الفلک۔ یہ لفظ مذکر مؤنث، واحد، جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کشتی۔ جہاز۔ تجری بما۔ تجری۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ چلتی ہے۔ وہ جاری ہے ۔ بما میں ب تعدیہ کا ہے تجری ب۔ وہ لے جاتی ہے۔ وہ لے کر چلتی ہے۔ اور ما موصولہ ہے۔ ینفع الناس (جو) نفع پہنچاتی ہے لوگوں کو ، یعنی اور جہازوں میں، کشتیوں میں جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں لے کر جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں۔ سامان تجارت وغیرہ۔ احیا بہ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (بمعنی مضارع) وہ زندہ کرتا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء سے۔ بث۔ ماضی واحد مذکر غائب (بمعنی مضارع) وہ پھیلاتا ہے وہ بکھیرتا ہے (باب نصر، ضرب) اصل میں بث کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں اس لئے ہوا سے خاک اڑنے۔ غم سے بےقرار ہونے۔ اور راز کے افشاء کرنے کے لئے بث کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً فکانت ھباء منبثا (56:6) پھر وہ منتشر ذرات کی طرح اذنے لگیں۔ اور یوم یکون الناس کالفراز المبثوث (101:4) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔ فیہا۔ اور اس سے قبل بعد موتھا میں ہا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ الارض کے لئے ہے۔ دابۃ۔ الدب اور الدبیب (باب ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ اس میں ۃ وحدت کی ہے دواب جمع ہے اگرچہ عرف میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں اس کا استعمال ہر ذی حیات چیز کے لئے ہوا ہے۔ دابۃ الارض۔ جس کا ذکر آیت شریفہ (27:82) میں آیا ہے اس سے ایک خاص جانور مراد ہے جو قیامت سے پہلے زمین سے نکلے گا۔ (بعض کے نزدیک مکہ معظمہ میں کوہ صفا کے پھٹنے سے زمین سے نمودار ہوگا ) جو کہ لوگوں سے باتیں کرے گا اور نشان لگا کر سچے ایمانداروں اور چھپے ہوئے منکروں کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دیگا۔ تصریف الریاح۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہواؤں کا بدلنا تصریف (تفعیل) مصدر۔ صرف یصرف کا۔ بمعنی پھیرنا۔ بالنا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے صرفنا الایات (46:27) اور ہم نے (اپنی) نشانیاں پھیر پھیر کر (بیان کردی ہیں) الریاح۔ ریح کی جمع ہے۔ فائدہ : قرآن مجید میں جہاں ارسال ریح کا ذکر ہے اگر بہ لفظ جمع ہے یعنی ریاح کا لفظ استعمال ہوا ہے تو وہاں عام طور پر رحمت کی ہوائیں مراد ہیں۔ اور اگر ریح یعنی واحد کا لفظ استعمال ہوا ہے تو عذاب کے معنی مراد ہیں۔ چناچہ ریاح (جمع) کے متعلق ارشاد ہے وارسلنا الریاح لواقح (15:22) اور ہم ہی ہوا کو چلاتے ہیں جو بادلوں کو پانی بردار کرتی ہے اور ان یرسل الریاح مبشرات (30:6) کہ ہواؤں کو اس غرض سے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بارش کی خوشخبری پہنچائیں۔ اور ریح (واحد) کے متعلق فرمایا انا ارسلنا علیہم ریحا صرصرا (54:19) ہم نے ان پر ایک زناٹے کی آندھی چلائی۔ اور اشتدت بہ الریح (14:18) اس کو سخت ہوا لے اڑی۔ السحاب المسخر۔ موصوف و صفت۔ تابع فرمان بادل (جو آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہے) یعنی وہ بادل جو اس کے یعنی اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں جدھر اس کا حکم ہوتا ہے ادھر کو وہ چلتے ہیں۔ اور جہاں وہ چاہتا ہے برستے ہیں۔ بعض نے السحاب کو موصوف اور المسخر بین السماء والارض کو اس کی صفت لکھا ہے۔ اور ترجمہ یوں کیا ہے۔ اور بادلوں میں جو زمین اور آسمان کے درمیان مقید ہیں نہ اوپر جاتے ہیں نہ نیچے گرتے ہیں۔ سحاب اسم جنس جمعی ہے۔ اس کا واحد سحایۃ ہے یہ مذکر بھی آتا ہے اور مؤنث بھی۔ مفرد بھی آتا ہے اور جمع بھی۔ لفظ کی رعایت سے اس کی صفت مفرد آتی ہے جیسے آیت مندرجہ بالا والسحاب والمسخر بین السماء والارض اور معنی کی رعایت سے جمع بھی لائی جاتی ہے جیسے وینشئی السحاب الثقال (13:12) اور اٹھاتا ہے۔ بھاری بادل۔ مذکر کی مثال جیسے آیت مذکورہ (والسحاب المسخر ۔۔ ) یعقلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عقل (ضرب) مصدر، وہ سمجھتے ہیں۔ وہ غور کرتے ہیں۔
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(2:165) ومن الناس۔ میں واؤ حالیہ ہے یعنی حال یہ ہے کہ ۔۔ ان براہین منیرہ کے ۔ من تبعیضیہ ہے یعنی لوگوں میں بعض ایسے ہیں ۔۔ من بمعنی الذی ہے۔ یتخذ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ قرار دیتا ہے۔ بناتا ہے۔ اندادا۔ ند کی جمع ہے۔ نظیر، مثل، ند اور مثل میں فرق یہ ہے کہ مثل عام ہے اور ند خاص۔ مثل کا استعمال ہر قسم کی شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام نے اندادا کی تفسیر یہ فرمائی ہے کل ما کان مشغلا من اللہ ما نعامن استثال امرہ : ہر وہ چیز جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کردے اور اس کے احکام کی تعمیل سے روک دے وہ انداد ہے خواہ وہ بت ہوں گمراہ رئیس ہوں مال و دولت ہو، اولاد ہو۔ فلم وفن ۔ لیکن ند کا استعمال صرف کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہونے کے لئے ہے۔ یحبونھم۔ مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ باب افعال سے۔ احباب مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع انداد ہے۔ کحب اللہ۔ میں کاف تشبیہ کا ہے۔ اشد حبا للہ۔ اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے اشد کا متعلق محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اشد حبا للہ من ھولاء للانداد یعنی مؤمنین کی اللہ سے جو محبت (میلان قلب) ہے وہ مشرکین کی غیر اللہ سے محبت سے کہیں زیادہ ہے۔ لو حرف شرط ہے جس کا جواب محذوف ہے۔ یری۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ اس کی درج ذیل صورتیں ممکن ہیں۔ (1) اس فعل کا فاعل احد محذوف ہے ترجمہ ہوگا۔ اگر کوئی دیکھے ان لوگوں کو جو ظالم ہیں اس صورت میں الذین ظلموا فعل یری مفعول ہوگا۔ (2) یری کا فاعل الذین ظلموا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اگر ظالم لوگ دیکھ پاتے یا جان جاتے۔ اذ یرون العذاب ظرف زمان ہے فعل یری کا۔ جب دیکھیں گے وہ عذاب (جو ان کو ملے گا) ان القوۃ ۔۔ شدید العذاب مفعول یری کا (2) کی صورت میں۔ لو کا جواب محذوف ہے۔ محذوف جواب عبارت کے سیاق وسباق کے مطابق ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ حذف میں تعیین تو ہوتی نہیں۔ مثلاً یہاں جواب محذوف ہے۔ لما اتخذوا من دونہ اندادا (تو ہرگز اس کے یعنی اللہ کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے) بھی ہوسکتا ہے اور لوقعوا من الحسرۃ والندامۃ فیما لایکاد یوصف تو ناقابل بیان حسرت و ندامت کا شکار ہو جاتے مندرجہ بالا تقریر پر آیت کے معنی ہوں گے۔ (1) اگر ظالم لوگ عذاب اور مصائب دینوی دیکھتے وقت یہ جانتے کہ تمام قوت اللہ ہی کو ہے اور یہ کہ اللہ شدید العذاب ہے تو ہرگز من دون اللہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے اور نہ اور کسی سے محبت کا دم بھرتے۔ (2) اگر یہ ظلم کرنے والے قیامت کے دن عذاب دیکھتے وقت یہ بات جانیں گے کہ تمام قوت اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اشد العذاب ہے تو سخت نادم ہوں گے۔ فائدہ : لو یری اور اذ یرون میں لو اور اذ یہاں مستقبل کے لئے آئے ہیں ۔ حالانکہ یہ ماضی پر استعمال ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے کلام میں تو مستقبل بھی مثل ماضی کے ہے جیسے ماضی کا وقوع یقینی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک مستقبل کا وقوع بھی یقینی ہے یہاں لو بمعنی کاش (حرف تمنی) بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرؤوں سے بیزاری کریں گے اور (دونوں عذاب الٰہی) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

(2:166) اذ تبرا۔ ای اذکر الوقت اذ تبرا۔ یاد کرو اس وقت کو کہ جب بیزاری ظاہر کریں گے۔ تبرا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تبرء (تفعل) مصدر۔ وہ بیزار ہوا۔ اس نے بیزاری ظاہر کی ۔ (یہاں جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے) اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان اللہ یری من المشرکین ورسولہ (9:3) کہ خدا ان مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دست بردار ہے) ۔ البرئ۔ البراء کے اصل معنی کسی مکروہ امر سے نجات حاصل کرنے کے ہیں۔ جیسے برات من المرض میں تندرست ہوا۔ برء تد و ابرء تہ۔ میں نے اس کو تہمت سے بری کردیا۔ رجل بریء پاک اور بیگناہ آدمی ۔ برئ۔ مادہ۔ اتبعوا۔ ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب اتباع۔ مصدر (افتعال) جن کی پیروی کی گئی۔ پیشوا لوگ اتبعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جنہوں نے پیروی کی۔ جنہوں نے اتباع کی۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے معبودان باطل خود اپنے پیروکاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ وراوا العذاب۔ واؤ حالیہ ہے ای تبرء وا فی حال رؤیتھم العذاب وہ بیزاری کا اظہار کریں گے۔ درآنحالیہ کہ وہ عذاب دیکھ رہے ہوں گے۔ وتقطعت بھم الاسباب۔ واؤ عاطفہ ہے۔ تقطعت۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب تقطع (تفعل) مصدر۔ کٹ گئی۔ ٹوٹ گئی۔ الاسباب۔ جمع سبب کی۔ رسیاں ۔ ذرائع۔ سبب اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ درخت پر چڑھا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ہر اس شے کا نام سبب ہوا جو کسی دوسری شے کے توصل کا ذریعہ ہو۔ یہاں آیت شریف میں اسباب سے مراد نفع کی توقع۔ دفع ضرر کی تمنا۔ قرابت، دوستی وغیرہ۔ قیامت کے روز یہ سب اسباب منقطع ہوجائیں گے ۔ جاتے رہیں گے۔ بھم میں ب عن کے معنی میں بھی ہوسکتی ہے بھم ای عنھم اور ب سببیہ بھی ہوسکتی ہے۔ ای تقطعت بسبب کفرھم یعنی یہ قطع تعلق بسبب ان کے کفر کے ہوگا۔
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں اس طرح خدا ان کے اعمال حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

(2:167) لو۔ یہاں بمعنی لیت (حرف تمنی) ہے ای کاش۔ کرۃ۔ کر۔ کسی طرف مڑجانا۔ جھک جانا۔ لوٹ جانا۔ کر کے بعد ۃ وحدت کی ہے جس کے معنی ایک بار۔ کرۃ۔ ایک بار لوٹنا۔ ایک پھیرا۔ ایک واپسی۔ دشمن پر یکبار گی حملہ کرنے کو بھی اسی مناسب سے کرۃ کہتے ہیں کرار لوٹ لوٹ کر دشمن پر حملہ کرنے والا۔ سورة الملک میں ہے ثم ارجع البصر کر تین (67:4) پھر نگای کو دوسری بار ڈال ۔ پھر دوبارہ (غور سے) نگاہ ڈال۔ فنتبرا۔تمنی کے جواب میں ہے ۔ نتبراء مضارع منصوب کا صیغہ جمع متکلم ۔ منصوب بوجہ جواب تمنی کیونکہ لو۔ بمعنی لیت آیا ہے۔ نصب علی جواب التمنی لان لو فی معنی المتمنی والمعنی لیت لنا کرۃ فنتبرا۔ (مدارک التنزیل) مطلب آیت کا ہے اے کاش ہمیں ایک بار پھر دینا میں جانا نصیب ہو کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی (دنیا میں) ان سے بیزار ہوں۔ کما میں کاف حرف تشبیہ کا ہے اور ما موصولہ ہے۔ اسی طرح جیسے یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں۔ کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ذلک اسم اشارہ بعید۔ اس میں ذ۔ اسم اشارہ ہے ۔ اور ک حرف خطاب ہے اسی طرح یریہم اللہ اعمالہم حسرات علیہم۔ یری مضارع جمع مذکر غائب اراء ۃ (افعال) مصدر وہ دکھائے گا۔ ہم۔ یری کا مفعول اول۔ (ھم کا مرجع مشرکین معبود ان باطل کے پیروکار ہیں) اعمالہم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی۔ اور اگر یری افعال قلوب سے ہو تو حسرات اس کا تیسرا مفعول ہوجائے گا۔ ورنہ حال ہوگا (تفسیر مظہری) ۔ وما ھم بخرجین من النار۔ خرجین۔ اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں۔ اور وہ کبھی دوزخ سے نہ نکلیں گے۔ وما ہم بخرجین اصل میں ما یخرجون تھا۔ جملہ فعلیہ سے جملہ اسمیہ اس لئے بنا لیا گیا کہ بطور مبالغہ یہ سمجھا جائے کہ جہنم میں ہمیشہ ہی کے لئے رہیں گے۔ اور اس لئے کہ نجات اور خلاصی پانے سے بالکل مایوس ہوجائیں ۔ جملہ فعلیہ میں اتنا مبالغہ نہیں۔
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

(2:168) حلالا طیبا۔ حلالا۔ مفعول ہے کلوا کا طیبا صفت ہے۔ حلالا کی۔ پاک ، ستھرا حلال۔ لاتبتعوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تم پیروی مت کرو۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ خطوت جمع ہے خطوۃ کی۔ وہ فاصلہ جو دو قدموں کے درمیان ہو۔ خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا۔ خطو مادہ۔ خطوت الشیطن سے مراد شیطانی راستے ہیں مطلب یہ ہے کہ شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ عدو مبین۔ موصوف و صفت۔ کھلا دشمن۔ مبین۔ ابان یبین۔ ابانۃ (باب افعال) اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ ابانۃ۔ ظاہر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ بین مادہ۔ اس سے باب افعال تفعیل، استفعال، لازم بھی آتے ہیں اور متعدی بھی اسی لئے مبین کے معنی ظاہر کرنے والا بھی۔
Ayah 2:169

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

السوئ۔ سوء دراصل اس شے کو کہتے ہیں جو انسان کو غمگین کرنے والی ہو۔ برائی، آفت، گناہ، برا کام۔ عیب۔ یہ سب سوء میں شامل ہیں۔ الفحشائ۔ بأساء کے وزن پر مصدر ہے۔ فحش۔ مادہ۔ الفحشاء وہ قول یا فعل جس کی برائی کھلی ہوئی ہو ۔ اور اس کا سننا یا کرنا برا لگے۔ برا کام ، بےحیائی کا کام ، زنا، قرآن مجید میں مختلف معانی میں مستعمل ہے مثلاً وہ کام جو شرعاً برا ہو۔ نجل، بیحیائی، زنا، امر قبیح۔ وان تقولوا۔ میں ان مصدریہ ہے۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اور جملہ کا عطف السوء پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور تمہیں السوئ۔ الفحشاء اور خدا پر ایسی باتیں بنانے کا حکم دیتا ہے۔ جن کا تم کو کوئی علم نہیں۔ یعنی جو تمہاری من گھڑت ہیں اور لا علمی اور جہالت کی وجہ سے ان کو احکام خداوندی سمجھنے لگتے ہو۔ تقولوا۔ قول۔ کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کسی کے خلاف گھڑ لینا۔ کسی پر بہتان لگانا مالا تعلمون۔ علم سے یہاں مراد علم یقینی یا علم ثابت یا لوحی ہے ۔ پس اس وعید کے تحت میں صرف کفر کے ہی نہیں بلکہ بدعت کے اقوال بھی داخل ہوجاتے ہیں (الماجدی) الا تخاذ الانداد۔ تحلیل المحرمات تحریم الطیبات (بیضاوی) ۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

(2:170) قیل لہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الناس ہے جو یایھا الناس کلوا ۔۔ میں اوپر آیا ہے۔ مالا تعلمون تک الناس سے خطاب بصیغہ حاضر تھا۔ اب ان کی طرف ناگواری کے اظہار کے لئے حاضر سے بصیغہ غائب ان کا ذکر ہورہا ہے۔ اور عقلاء سے مخاطب ہوکر کہا جا رہا ہے۔ ان احمقوں کی طرف دیکھو ہماری پندونصائح کیا جواب دے رہے ہیں۔ اتبعوا۔ اتباع (افتعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مزکر حاضر ہے۔ تم پیروی کرو۔ ما انزل اللہ۔ ای القران۔ بل حرف اضراب ہے۔ یہاں ما قبل کا ابطال اور مابعد کا اثبات مقصود ہے۔ یعنی ہم ما انزل اللہ کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ ما الفینا علیہ اباء نا کی پیروی کریں گے۔ ما الفینا۔ ما موصولہ ہے۔ الفینا۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ الفاء (افعال) مصدر۔ الفینا بمعنی وجدنا ہم نے پایا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے والفیا سیدھا لدی الباب (12:25) اور دونوں نے دروازے کے پاس اس کے شوہر کو پایا۔ لفی مادہ۔ اولو کان اباء ھم لا یعقلون شیئا۔ الف استفہامیہ ہے واؤ عاطفہ ہے لو حرف شرط ہے جس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر یوں ہے ۔ ایتبعونھم ولو کان اباء ھم لا یعقلون شیئا۔ کیا وہ (پھر بھی) اپنے آباء و اجداد کا اتباع کریں گے۔ اگرچہ ان کے آباء و اجداد کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں (یعنی دین کے متعلق) لا یھتدون ۔ واؤ عاطفہ ہے لا یھتدون مضارعمنفی جمع مذکر غائب ۔ اور نہ ہی وہ ہدایت پاتے ہیں ۔ یعنی نہ ہی وہ ہدایت یافتہ ہیں
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے

(2:171) ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لا یسمع الا دعاء وندائ۔ اس میں الذین کفروا کا مضاف محذوف ہے اور تقدیر کلام یہ ہے داعی الذین کفروا ۔۔ الخ ینعق مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ نعق۔ نعین۔ نعاق (باب فتح۔ ضرب) مصادر۔ فعل لازم و متعدی ہر دو میں مستعمل ہے۔ چناچہ بولتے ہیں۔ نعق الغراب کوے کا کائیں کائیں کرنا۔ اور متعدی بالباء نعق بغنمہ اس نے چیخ کر اپنی بکریوں کو ڈانٹا۔ بما میں ب تعدیہ کے لئے ہے اور ما موصولہ ہے یعنی الذی جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ اور کافر لوگوں کو دعوت حق دینے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چلا چلا کر ایسی شے کو پکار رہا ہے جو کچھ بھی سوائے پکارنے کے اور چلانے کے نہیں سنتی۔ یعنی وہ صرف آواز کو سنتے ہیں معنی اور مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ دعائ۔ دعا یدعوا کا مصدر بمونی پکار، بلانا ، دعا کرنا۔ مانگنا ، د ع و۔ مادہ ۔ نداء ۔ نادی ینادی کا مصدر بمعنی پکارنا ۔ آواز دینا۔ ندی۔ مادہ۔ دعا اور نداء قریباً ہم معنی ہیں۔ صم خبر ہے جس کا مبتدا مضمر ہے۔ ای ھم صم۔ وہ بہرے ہیں (آیات کو غور سے نہیں سنتے) بکم۔ خبرثانی ۔ وہ گونگے ہیں ۔ (کہ کلمات خیر ان کی زبان سے نہیں نکلتے) عمی۔ خبر ثالث۔ وہ اندھے ہیں (کہ ہدایت کو نہیں دیکھتے) لا یعقلون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ یعنی چونکہ ان کی فکر و نظر میں خلل واقع ہوگہا ہے اس لئے دین کی بات سمجھتے ہی نہیں۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

(2:172) اشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ جملہ شرطیہ کو شرط کے بعد لایا گیا ہے۔ ترجمہ اگر تم صرف اسی کی ہے (یعنی اللہ ہی کی) عبادت کرتے ہو تو شکر بھی ادا کرو۔ یہاں صیغہ امر و جواب کے لئے آیا ہے نہ کہ صرف اجازت کے لئے۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے، ہاں جو ناچار ہوئے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

(2:173) انما۔ بعض کے نزدیک یہ کلمہ حصر ہے بمعنی بس ” سوائے اس کے نہیں کہ “ لیکن حنفیوں کے نزدیک یہاں انما حصر کے لئے نہیں آیا بلکہ یہ لفظ ان حرف تحقیق اور ما کا فہ سے مرکب ہے ، کیونکہ اول الذکر کی صورت میں سوائے مرد ار اور خون کے اور کوئی شے حرام نہیں کی گئی۔ حالانکہ ان دو کے علاوہ اور بہت سی چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں۔ حرم۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تحریم (تفعیل) مصدر۔ اس نے منع کیا۔ حرام ، ممنوع۔ حرمت والا۔ ایک ہی مادہ حرم سے مشتق ہیں۔ ماہ ہائے حرام (حرمت والے مہینے) کو حرام اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان میں بعض چیزوں کو حرام ّممنوع) قرار دیا گیا ہے ۔ جب کہ دیگر مہینوں میں حلال ہیں۔ المیتۃ۔ مردار جس کو شریعت نے کھانے کے قابل نہیں قرار دیا۔ تفسیر حقانی میں ہے المیتۃ بروزن فیعلۃ اور اسی کا اصل میتونۃ ہے پس جب کہ واؤ اور ی جمع ہوئے اور اول ساکن تھا تو واؤ کو ی میں بدل دیا۔ پھر ی کو ی میں مدغم کردیا۔ لیکن کثرت استعمال سے اس کو بالتخفیف پڑھنے لگے۔ ورنہ دراصل مشدد ہے۔ لعنت میں میتہ اس جانور کو کہتے ہیں جو بطور معمول ذبح کئے بغیر مرجائے یا مارا جائے۔ وما اہل بہ لغیر اللہ۔ واؤ عاطفہ ما موصولہ۔ اہل ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب اہلال (افعال) مصدر۔ جس کے معنی ہلال دیکھتے وقت آواز لگانے اور پا کرنے کے ہیں۔ پھر ہر آواز کے متعلق اس کا استعمال ہونے لگا۔ چناچہ ولادت کے وقت بچے کے رونے اور حاجیوں کے لبیک لبیک کہنے کو بھی اہلال کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی اہلال کے وہی لغوی اور عرفی معنی نامزد کرنا۔ آواز لگانا اور ذکر کرنا مراد ہیں ۔ ترجمہ : اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے۔ فمن میں فاء عاطفہ اور من شرطیہ ہے۔ اضطر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ وہ بےاختیار کیا گیا۔ وہ لاچار کیا گیا۔ وہ بےبس کیا گیا۔ اضطرار (افتعال) مصدر۔ جس کے اصل معنی انسان کو کسی ضرر رساں چیز پر مجبور کرنے کے ہیں۔ ضرر مادہ اضطرار اصل میں اضترار تھا۔ ت کو ط سے بدل دیا گیا ہے اضطرار ہوگیا۔ غیر باغ حال ہے اور ولاعاد اس پر معطوف ہے۔ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد جملہ شرطیہ ہے اور فلا اثم علیہ جواب شرط ہے۔ باغ بغی سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ باغ اصل میں باغی (ناقص یائی) تھا ضمہ ی پر دشوار تھا۔ ی کو ساکن کیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن اکھٹے ہوئے ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ باغ ہوگیا۔ بمعنی حد سے نکل جانے والا ۔ حکم عدولی کرنے والا۔ عاد رہ گیا (قاعدہ ہے کہ جو واؤ اسم فاعل میں کلمہ کے آخر میں ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو وہ یا ، ہوکر گر پڑتی ہے) فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ میں بغاوت وعدوان کا تعلق کھانے سے ہے باغی کا یہ مطلب ہے کہ بےحکمی نہ کرے یعنی نوبت اضطرار کی نہ پہنچے اور کھانے لگے اور عادی کے یہ معنی ہیں کہ زیادتی نہ کرے۔ یعنی بقدر ضرورت کھائے۔ تقدیر آیت یہ ہے۔ فمن اظھر فاکل غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ۔ پس جو عاجز ہوا یا لا چار ہوگیا۔ درآنحال یہ کہ وہ نہ باغی حکم عدولی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (بقدر ضرورت کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں۔ غفور۔ غفران سے مبالغہ کا صیغہ ہے (باب ضرب) بہت بخشنے والا۔ (کہ بعض حالات میں جرائم پر بھی مؤاخذہ نہیں کرتا) رحیم۔ (ایسا شفقت والا کہ تنگی کے موقع پر آسانی بہم پہنچا دیتا ہے) ۔