Ayah 2:240(2:240) والذین یترفون منکم ویدرون ازواجا۔ ملاحظہ ہو 2:234 ۔ متذکرہ بالا وصیۃ ای فلیوصوا وصیۃ۔ انہیں چاہیے کہ وہ وصیت کر جائیں (اس صورت میں وصیۃ مفعول ہوگا فلیوصوا کا) ۔
متاعا۔ کے منصوب ہونے کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں۔
(1) یہ مفعول مطلق ہے۔ ای متعوھن متاعا۔
(2) یہ فعل محذوف کا مفعول ہے یعنی لیوصوا متاعا۔
(3) یہ وصیۃ کا مفعول ہے ای لیوصوا وصیۃ متاعا۔
متاعا سے مراد وہ چیزیں جن سے عورتیں نفع اٹھائیں۔ یعنی نان و نفقہ۔ کپڑا وغیرہ۔
الی الحول۔ ایک سال تک کے لئے۔
غیر اخراج۔ حال ہے ازواجہم سے۔ گھروں سے نکالے بغیر۔
فان خرجن۔ جملہ شرطیہ۔ اگلا سارا جملہ من معروف تک جواب شرط ہے۔
واللہ عزیز حکیم۔ اللہ زبردست ہے جو اس کے حکم کے خلاف کرے اس سے بدلہ لے سکتا ہے حکمت والا ہے۔ جو اس کے احکام کی تعمیل کرے گا تو دیکھے گا کہ وہ احکام حکمت سے پر ہیں اور ان کی اطاعت میں بندہ کی اپنی ہی بھلائی ہے۔
Ayah 2:241(2:241) وللمطلقت۔ لام استحقاق کا ہے المطلقت جمع ہے المطلقۃ کی جو اسم مفعول واحد مؤنث بمعنی طلاق دی گئی عورت ہے۔ یہاں المطلقت سے مراد جمیع مطلقات ہیں یعنی معروف قاعدہ کے مطابق جملہ مطلقہ عورتوں کو متعہ کا حق حاصل ہے۔
حقا علی المتقین۔ حقا۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق کے ہے ملاحظہ ہو ،:238 متذکرہ بالا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ متعہ کا دینا متقین پر واجب ہے۔
Ayah 2:242(2:242) کذلک۔ ک تشبیہ کا ہے۔ ذلک کا اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو طلاق، عدت اور متعہ کے متعلق اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ اسی طرح۔
یبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر۔ کھول کر بیان کرنا۔
لعلکم تعقلون۔ عقل الشی ادر کہ علی حقیقتہ کسی شی کی حقیقت کو سمجھ لینا (معجم الوسیط) تدبر کرنا (المنجد) مطلب یہ کہ کسی شے پر غور و فکر اور تدبر کرکے اس کی حقیقت سمجھ لینا۔ آیت کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ جس طرح اللہ نے متذکرہ بالا احکام کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں اسی طرح وہ اپنے تمام احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ان پر غور وفکر کرو۔ اور ان کی حقیقت کو سمجھ پاؤ۔
ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی آیات۔ اپنی نشانیاں۔ اپنے احکام۔
Ayah 2:243(2:243) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : یہ لفظ ما بعد کا حال سنانے کے لئے شوق اور تعجب دلاتا ہے۔ پس الم تر کہنا تعجب دلانے میں ایک مثل ہوگیا۔ اور اسے سے ایک ایسے شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ جس نے اس سے پہلے یہ واقعہ نہ سنا ہو اور نہ دیکھا ہو یا یہ تقریر اور تاکید ہے ایسے شخص کے لئے جس نے ان کا قصہ اہل کتاب اور اہل تاریخ سے سن لیا ہو۔
یا اس کے معنی یہ ہیں کہ (اے مخاطب) کیا تم میرے بتانے سے بھی نہیں سمجھتا اور اس میں ایک قسم کا تعجب دلانا ہے۔ اور قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی الم تر کا لفظ آیا ہے اور اس کو نبی کریم ﷺ نے نہیں دیکھا۔ وہاں سب جگہ اسی قسم کے معنی مراد ہیں۔
الوف۔ الف کی جمع ہزاروں۔ وھم الوف۔ ضمیر خرجوا سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔
حذر الموت۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لہ خرجوا سے۔
مولوا۔ امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر موت (باب نصر) مصدر۔ تم مرجاؤ۔
ثم احیاہم۔ ثم حرف عطف ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فقال لہم اللہ موتوا فماتوا ثم احیاھم۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ پس وہ مرگئے۔ پھر اس نے ان کو زندہ کیا۔
فائدہ : یہ کون لوگ تھے جن کو مرنے کا حکم دیا گیا اور پھر مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ کس زمانے کے تھے کہاں بستے تھے۔ کہاں سے نکلے کدھر کو گئے۔ کیوں گئے۔ ان سب میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ لیکن یہ امر واضح نظر آتا ہے کہ یہ قصہ اس آیت کے نزول کے وقت لوگوں کے علم میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نے رسول کریم ﷺ سے اس بابت دریافت نہ کیا۔ ویسے بھی یہاں آیت کا مقصد کسی تاریخی واقعہ کا بیان کرنا نہیں بلکہ یہ امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے انسان اس سے بھاگ کر اپنی کوششوں سے بچ نہیں سکتا اس لئے اس قصہ کے تاریخی پس منظر کو کریدنے کی ضرورت نہیں۔
لذوفضل۔ لام تحقیق و تاکید کے لئے ہیں ذوفضل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فضل کرنے والا۔
Ayah 2:244(2:244) وقاتلوا فی سبیل اللہ۔ اور اللہ کی راہ میں لڑائی لڑو (جہاد کرو) یہ بات ذہن نشین کرا دینے کے بعد کہ موت و حیات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے کوئی اپنے حیلہ سے موت کو ٹال نہیں سکتا۔ اور زندگی کو بڑھا سکتا ہے اب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لئے جہاد کی ترغیب دی جا رہی ہے جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فاطیعوا وقاتلوا۔
سمیع علیم۔ سننے والا (سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور جب یہ حق تعالیٰ کی شان میں ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی سماعت ہر شی پر حاوی ہو) ۔ علیم۔ خوب جاننے والا۔ علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے بروزن فعیل یہ بھی اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 2:245(2:245) من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا۔ من استفہامیہ ہے مبتدا۔ ذا خبر ہے الذی یا ذا کی صفت ہے یا اس سے بدل ہے قرضا حسنا منصوب بوجہ بمعنی اقراضا ہے یا بوجہ مفعول۔ حسنا صفت ہے قرضا کی۔ ترجمہ : ہے کوئی ایسا جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔
فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃجواب استفہام کے لئے یضاعفہ میں یضعف مضارع منصوب کا صیغہ مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر، باب مفاعلہ مشارکت کی وجہ سے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ مضارع منصوب بوجہ ان مقدر ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب قرضا کے لئے۔ اور لہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب قرض دینے والے کے لئے ہے۔ اضعافا۔ ضعف کی جمع ہے ضعف اسم مصدر اور بطور مفعول مطلق مستعمل ہے اس کو اضعافا (بطور جمع) تنویع کے لئے بیان کیا ہے۔ کثیرۃ۔ بہت ، واحد مؤنث لیکن اطلاق جمع کے موقعہ پر بھی ہوتا ہے۔
ترجمہ : تاکہ وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) قرضہ حسنہ دینے والے کے لئے اس قرض (کی جزائ) کو کئی گنا بڑھا دے۔
یقبض۔ مضارع واحد مذکر غائب قبض (باب ضرب) مصدر۔ وہ تنگ کرتا ہے وہ روکتا ہے ۔ القبض کے معنی کسی چیز کو پورے نیچے کے ساتھ پکڑنا۔ کے ہیں۔ جیسے قبض السیف تلوار کو پکڑنا۔
یبصط۔ مضارع واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر کشادہ کرتا ہے فراخ کرتا ہے۔ بسط مادہ۔ قرات میں بعض نے ص سے اور بعض نے س سے پڑھا ہے۔
بسط الشیء کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے۔ چناچہ محاورہ ہے بسط الثوب اس نے کپڑا پھیلایا اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے اور بسط کبھی بمقابلہ قبض بھی آتا ہے جیسے آیت ہذا میں (خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور وہی اسے کشادہ کرتا ہے) اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے : ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ (42:27) اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا۔ اور وزادہ بسطۃ فی العلم الجسم (2:247) اسی نے اسے علم بھی بہت بخشا اور تن وتوش بھی بڑا عطا کیا۔
والیہ ترجعون ۔ الیہ ای الی اللہ۔ ترجعون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر ۔ رجع (باب ضرب) تم لوٹائے جاؤ گے۔ تم پھیرے جاؤ گے۔
Ayah 2:246(2:246) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ۔ لم تر۔ مضارع نفی جحد بلم۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ تر اصل میں تری تھا۔ یاء کو حذف کیا گیا ہے۔
الملا۔ سرداروں اور بڑے لوگوں کی جماعت۔ اسم جمع معرف با للام۔ مجرور۔ م ل ء مادہ۔ الملا۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے ۔ اس کا مفرد کوئی نہیں ہے۔ اس کی جمع املا ہے ملا یملا (باب فتح) ملا وملاۃ مصدر بہ کے ساتھ بمعنی کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ بھر دینا ۔ مل۔ پیمانہ یا برتن بھرنے کی مقدار (نیز ملاحظہ ہو 11:97)
الم ترالی الملائ۔ ای الم ترالی قصۃ الملا (من بنی اسرائیل) کیا تمہیں علم نہیں بنی اسرائیل میں سے بعض گروہ سرداران کے قصہ کا۔ (روح البیان) ای الم ترقصہ الملا اوحدثیہم (روح المعانی) الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تو نے غور نہیں کیا ۔ کیا تجھے خبر نہیں۔
فائدہ : الم تر۔ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے کہ جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رویت سے ہمیشہ چشم بصارت سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور و فکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ و مشاہدہ مراد ہوتا ہے اور جب اس فعل کا صلہ الی کے ساتھ آتا ہے تو کوئی مقصود کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ (تفسیر ماجدی)
من بنی اسرائیل۔ میں من تبعیضیہ ہے۔
من بعد موسی۔ ای من بعد موتہ او من بعد زمانہ
اذقالوا لبنی لہم۔ اذ بدل ہے من بعد سے کیونکہ دونوں زمانہ کے لئے ہیں۔
ترجمہ ہوگا۔ کیا تو نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت دیکھا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا۔ یا۔ کیا تجھے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے قصہ کی خبر نہیں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا۔
ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ۔ یہ مقولہ ہے قالوا کا۔ ابعث تو بھیج۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بعث (باب فتح) مصدر جس کے معنی ہیں کسی چیز کا اٹھانا۔ کھڑا کرنا۔ اور سامنے کرنا۔
بعث کی دو قسمیں ہیں۔ ایک بشری دوسری الٰہی ۔ اگر اس کی نسبت فاعلی انسان کی طرف ہو تو اس کو بشری کہیں گے جیسے کسی ایک شخص کا دوسرے شخص کو روانہ کرنا اور بھیجنا۔ اگر یہ نسبت خدا کی طرف ہو تو اس کو الٰہی کہا جائے گا۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں پہلی قسم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے جیسے اشیاء کو عدم سے وجود میں لانا۔ دوسری مثال مردوں کو جلانا ہے۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو بھی سرفراز فرماتا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔
دیارنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ دیار جمع دار کی نا ضمیر جمع متکلم ۔ ہمارے گھر، ہمارے شہر، ہمارے وطن۔ وابناء نا۔ واؤ عاطفہ ابناء نا مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ دیارنا معطوف علیہ۔ تقدیر کلا یوں ہے ۔ من بین ابناء نا۔ ابناء جمع ہے ابن کی۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ اپنے بیٹوں یا اپنی اولاد سے دور کئے گئے۔ ( ابن کے معنی بیٹا کے ہیں لیکن جب بیٹے بیٹیاں دونوں مقصود ہوں تو اس کی تغلیب کی وجہ سے مذکر کا صیغہ بولتے ہیں) ۔
فلما۔عاطفہ ہے لما بمعنی جب۔ حرف شرط ہے ماضی کے دو جملوں پر آتا ہے شرط و جزائ۔ بعض کے نزدیک حرف شرط نہیں بلکہ اسم ظرف ہے حین کا ہم معنی۔
فلما کتب علیہم القتال تولو الا قلیلا منھم اس کی جزائ۔ پھر جب قتال ان پر فرض کردیا گیا تو وہ (سب) پھرگئے ماسوائے ان میں سے قلیل تعداد کے۔
توتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ تولی (تفعل) مصدر۔ انہوں نے پشت پھیر دی۔ انہوں نے منہ موڑا ۔
الظلمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ ظلم کرنے والے۔ یہاں مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یعنی اللہ کے نافرمان بندے۔ یعنی وہ نافرمان بندے جنہوں نے جہاد سے منہ پھیرلیا۔
فائدہ : (1) آیت ہذا میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تقریباً تین سو سال کے بعد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے ہزار گیارہ سو سال پہلے کا ایک واقعہ بیان ہو رہا ہے جس کا مختصر حال یہ ہے کہ عمالقہ فلسطین کے اکثر حصوں پر قابض ہوگئے تھے۔ اور بنی اسرائیل رامہ کے علاقہ میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اس وقت جو ان کے نبی اور حکمران تھے ان کا نام سموئل تھا اور وہ کافی بوڑھے ہوچکے تھے۔ عمالقہ کی ایذا سانیاں اور زیادتیاں دن بدن بڑھ رہی تھیں۔ نبی اسرائیل چاہتے تھے کہ عمالقہ کی سرکوبی کریں۔ اور اپنا کھویا ہوا اقتدار اور حکومت واپس لیں۔ اس لئے انہوں نے بار بار اپنے نبی حضرت سموئل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے ایک ملک (سردار) کا سوال کریں۔ حضرت سموئل (علیہ السلام) ان کی عادات سے خوب واقف تھے کہ یہ دعوے تو بڑے لمبے چوڑے کرتے ہیں لیکن عمل کے وقت ان کا سارا جوش سرد پڑجاتا ہے اس لئے آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر جہاد فرض کر دے اور تم جہاد سے منہ موڑ جاؤ۔
کہنے لگے حضرت جی ! کہیں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جہاد نہ کریں حالانکہ ہمیں گھروں سے نکالا گیا اور اپنے بچوں سے جدا کردیا گیا
ان کی خواہش اور اصرار کے باعث اللہ تعالیٰ نے طالوت کو جب ان کا سردار اور سپہ سالار مقرر فرما دیا تو لگے اعتراض کرنے کہ یہ شخص نہ لادی بن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے جس میں نبوت نسلاً بعد نسل چلتی آتی ہے اور نہ یہود ابن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے جس میں حکومت و سلطنت پشت در پشت چلی آرہی ہے تو یہ نادار اور قلاش کب سردار قوم اور سالار لشکربن سکتا ہے ؟ امامت کے حقدار تو ہم ہیں جن کے پاس دولت کی فراوانی ہے۔
حضرت سموئل (علیہ السلام) نے انہیں بتایا کہ حکومت کے لئے تمہارا قائم کر وہ معیار درست نہیں بلکہ اس کا صحیح معیار تو علم و شجاعت ہے اور ان دونوں باتوں میں وہ تم سب سے ممتاز ہے۔ بائبل میں ہے کہ یہ تیس سالہ نوجوان اپنے حسن و جمال میں بےنظیر تھا۔ ان کی قامت کی بلندی کی یہ حالت تھی کہ دوسرے لوگ مشکل سے اس کے کندھوں تک پہنچ سکتے تھے۔ اور یہ بنیامین کی نسل سے تھا۔
حضرت سموئیل نے انہیں بتایا کہ طالوت کا انتخاب کوئی انسانی انتخاب نہیں بلکہ اللہ رب العزت نے خود تمہاری قیادت کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ تمہیں اس کی عطا اور بخشش پر معترض نہیں ہونا چاہیے۔
بنی اسرائیل بھلا کب آسانی سے اپنی ضد سے باز آنے والے تھے فوراً مطالبہ کیا کہ آپ دلیل پیش کیجئے کہ طالوت کا انتخاب واقعی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ اس وقت ان کے نبی نے فرمایا کہ اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق تسکین و طمانیت کا سامان ہے اور جس میں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے تبرکات تھے اور جو عمالقہ تم سے چھین کرلے گئے تھے۔ وہ تمہیں فرشتے واپس کردیں گے اور اگر تم میں ایمان ہے تو اس سے بڑھ کر تمہیں مزید کسی نشانی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
جب فرشتے اس صندوق کو اٹھائے ہوئے یا اس بیل گاڑی کو ہانکتے ہوئے پر تابوت رکھا تھا بنی اسرائیل کے پاس لے آئے تو اب انہیں طالوت کے ملک (سردار) بننے کے متعلق اطمینان ہوگیا نیز انہیں ڈھارس بندھ گئی کہ اب وہ یقینا فتح یاب ہوں گے۔ کیونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے تبرکات والا صندوق جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور پارچات اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ تھا۔ انہیں واپس مل گیا ہے۔
جب طالوت عمالقہ کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے تو ان کے ہمرہ بنی اسرائیل کا ایک ابنوہ کثیر تھا۔ راستے میں ایک نہر (ممکن ہے کہ دریائے اردن ہی ہو) پر سے گزر ہوا تو انہیں حکم ملا کہ اب تمہارا امتحان لیا جائے گا۔ اور وہ امتحان یہ ہے کہ اس نہر سے پانی پینے کی اجازت نہیں جس نے پانی پیا وہ میرا سپاہی نہیں ہے۔ ہاں اگر پیاس کی شدت ہو تو ایک چلو پھر کو پی لو اس سے زیادہ نہیں۔ اب کیا تھا سب ٹوٹ پڑے اور خوب سیر ہوکر پانی پیا۔ سوائے چند مخلصین کے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور جن کی تعداد صحیح روایت کے مطابق 313 تھی ۔ باقی جتنے لوگ جو ہزاروں کی تعداد میں تھے انہوں نے لشکر سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اب طالوت اپنے مٹھی بھر جانباز سپاہیوں کو لے کر آگے بڑھے لیکن جب انہوں نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھاتو سہم سے گئے اور کہنے لگے کہ جالوت کے اتنے بڑے لشکر کے ساتھ جنگ کرنے کی ہم میں طاقت کہاں ؟ لیکن انہیں کے چند مخلص ترین ساتھیوں نے ہمت بندھائی اور انہیں بتایا کہ فتح و نصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے اس سے پہلے بھی بارہا ایسے واقعات ہو گزرے ہیں جب کہ اس کی نصرت و تائید سے چھوٹی سی جماعت نے بڑی بڑی فوجیوں کو شکست فاش دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ان لوگوں کے ضرور شریک حال ہوتی ہے جو حق و صداقت کے لئے صبر و اثبات سے کام لیتے ہیں
جب وہ جانباز سرہتھیلیوں پر رکھے میدان میں نکلے تو بارگاہ رب العزت میں دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اور اپنے لئے صبر و استقامت کی دعا کی اور پھر دشمن کی شکست کا سوال کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فتح و تکالیف کے سامنے صبر اور استقامت سے کام لیتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مومن کے پاس سب سے زیادہ مؤثر ہتھیاردعا ہے ۔ جس کا اس کے دشمن کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ظاہرہ بھی یہی تھی۔
ان مٹھی بھر مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے دشمن کے لشکر جرار کو شکست فاش دی عمالقہ کے سپہ سالار جالود کو جو بڑا بہادر اور کہنہ مشق جرنیل تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے پتھر مار کر ہلاک کردیا حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اس وقت بالکل کم سن تھے۔ زرد رو اور لا غروبیمار تھے۔
فائدہ : (2) عسی۔ عنقریب ہے۔ شتاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے علامہ جلال الدین سیوطی (رح) الاتقان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں :۔
عسی۔ فعل مجاہد ہے۔ غیر متصرف۔ اور اسی بنا پر ایک جماعت کا دعوی ہے کہ یہ حرف ہے۔ اس کے معنی پسندیدہ بات میں امید کے اور ناپسندیدہ میں اندیشہ اور کھٹکے کے ہیں اور یہ دونوں معنی اس آیت کریمہ میں جمع ہوگئے ہیں۔ عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا فی ھو شرلکم (2:216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور خدشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔
Ayah 2:247(2:247) وقال لہم نبی ہم۔ یعنی جب بنی اسرائیل کی اس استدعا ” ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ “ (آپ ہمارے لئے ایک سردار مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جماد کریں) پر حضرت سموئیل نے اللہ سے دعا کی اور دعا کی قبولیت پر اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کا سردار مقرر فرمایا تو حضرت سموئیل نے ان سے کہا وقال لہم ۔۔
قد بعث لکم۔ قد ماضی پر داخل ہوکر ماضی قریب کے معنی دیتا ہے (اللہ تعالیٰ نے) مقرر کیا ہے۔
طالوت۔ بوجہ معرفہ و عجمیت کے غیر منصرف ہے اور مثل داؤد۔ و۔ جالوت کے ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ الطول سے عربی لفظ ہے اور اس کی اصل طولوت مثل رھبوت ورحموت ہے۔ واؤ کو الف سے بدلا۔ اس کا غیر منصرف ہونا بوجہ علمیت و شبہ العجمہ کے ہے۔
ملکا۔ حال ہے طالوت سے۔
انی۔ بمعنی من ابن۔ کیف۔ اسے ہم پر سرداری کہاں سے آگئی۔ یا کیونکر آگئی۔ یا حاصل ہوگئی ۔ نیز ملاحظہ ہو (2:223)
الملک۔ اسم مصدر۔ سرداری ۔ امارت۔ بادشاہت۔ سلطنت
ونحن احق بالملک منہ۔ واؤ حالیہ ہے۔ جملہ حالیہ ہے۔ احق اسم تفضیل اور فاعل دونوں کے لئے آتا ہے۔ بڑا حق دار۔ زیادہ حق دار۔ حالانکہ سلطنت یا سرداری کے تو ہم اس سے زیادہ مستحق ہیں ۔
فائدہ : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کی نسل سے یہودیوں کے جو بارہ خاندان ہوئے وہ بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ان میں سے لاوہ بن یعقوب (علیہ السلام) کا قبیلہ وہ تھا جس میں بنی اسرائیل کے تمام پیغمبر ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اسی قبیلہ سے تھے۔ یہود ابن یعقوب (علیہ السلام) کا قبیلہ حکومت و سلطنت کے لئے مخصوص تھا۔ اور حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) اسی قبیلہ میں سے تھے۔ سب سے چھوٹا قبیلہ بنی یامین کا تھا جس میں سے طالوت تھے۔ یہ قبیلہ مالی طور پر بھی چنداں حیثیت نہ رکھتا تھا۔ خود طالوت سقایت (پانی بھرنا) یا دباغت (چمڑہ رنگنا) کا کام کیا کرتے تھے ان مابہ الامتیاز اسباب کی وجہ سے لادی بن یعقوب اور یہود ابن یعقوب کے قبیلے کے لوگ مستعجب ہوئے کہ ان کو چھوڑ کر یہ سرداری قبیلہ یامین کے پاس کیسے چلی گئی۔
ولم یؤت سعۃ من المال۔ واؤ عاطفہ ہے جو دونوں جملوں کو ملاتی ہے۔ اور یہ کیونکہ ہم پر سرداری کا مستحق ہوا۔ حالانکہ اس کے پاس دولت کی فروانی بھی تو نہیں ہے۔
لم یؤت۔ مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر، وہ نہیں دیا گیا۔ سعد اسم ومصدر بمعنی کشائش ، فراخی، وسعت، طاقت، پہنچ۔ یہ وسع یسع (سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی فراخ ہونے کے ہیں۔ اس کی ۃ واؤ کے بدلہ میں ہے جیسے وعد یعد عدۃ (باب ضرب) اور وزن۔ یزن۔ زنۃ (باب ضرب) واؤ کو حذف کرکے اس کے عوض ۃ لے آئے ۔
اصطفہ۔ اصطفی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اصطفاء (افتعال) مصدر۔ اس نے پسند فرمایا اس نے چن لیا۔ صی مادہ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب اس نے اس کو پسند فرمایا۔ یا چن لیا اصطفی میں ط۔ ت کی جگہ لایا گیا۔ علیکم تمہارے مقابلہ میں۔
وزادہ بسطۃ فی العلم والجسم واؤ عاطفہ ہے زاد ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب زیادۃ (باب ضرب) مصدر۔ زیادہ دینا۔ بڑھانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ بسطۃ۔ کشادگی۔ کشائش ۔ وسعت۔ فضیلت۔ اور زیادہ بخشی اس نے (اللہ نے) اس کو (طالوت کو) علم و جسم میں کشادگی۔ اور وسعت و فضیلت۔ (کہتے تھے کہ حضرت طالوت اپنے وقت میں فنون حرب اور دیانات (یعنی علم دین میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے) ۔ اور جہاں تک تندرستی و توانائی کا تعلق ہے بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص خوبصورتی ۔ وجاہت۔ قدوقامت میں ان کی برابری نہیں کرسکتا تھا۔ یہ ساری قوم میں کاندھے سے لے کر اوپر تک ہر ایک سے اونچے نظر آتے تھے۔
واللہ یؤتی ملکہ من یشائ۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف محذوف پر ہے گویا عبارت یوں ہے : الملک للہ واللہ یؤتی ملکہ من یشائ۔ ملکہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا ملک۔ اس کی بادشاہی۔
واسع۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ سعد مصدر (باب سمع) وسیع فضل والا۔ کشادہ بخشش والا۔ وسعت دینے والا۔ یعنی فقیر کو وسعت دے کر امیر کرنے والا۔
علیہم۔ علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ (کہ کون کس کام کے لائق ہے) ۔
Ayah 2:248(2:248) ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت۔ ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل ایۃ مضاف۔ ملکہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ان۔ تحقیق اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت (از خود) تمہارے پاس آجائے گا۔
تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لئے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی (تفسیر مظہری) اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔
فیہ سکینۃ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو تابوت ہے یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہوجائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر ای فی اتیانہ سکون لکم وطمانیۃ۔ سکینۃ۔ تسکین۔ تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزن فعیلۃ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے۔
علامہ بغوی سید محمد مرتضے زبیدی (رح) لکھتے ہیں :۔
سکینہ وہ اطمینان۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی ۔ یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ” یوم الغار “ اور ” یوم حنین “ جیسے قلق و اضطراب کے مواقع پر اپنے رسول اور مؤمنین پر اس کے نازل کرنے کی خبر دی ہے۔
واضع رہے کہ سکینۃ کا لفظ قرآن مجید میں چھ جگہ استعمال ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ بجز سورة بقرہ کے قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی سکینۃ آیا ہے اس کے معنی اطمینان کے ہیں۔ سورة بقرہ کی جس آیت کا حضرت ابن عباس ؓ نے استثناء فرمایا ہے وہ آیۃ کریمہ یہ ہے ان ایۃ ملکہ ۔۔ فیہ سکینۃ من ربکم۔ یہاں سکینۃ سے کیا مراد ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے تو یہاں بھی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اطمینان ہی کے معنی روایت کے ہیں اور یہی صحیح ہیں۔ اس کے علاوہ اس بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو بہت سی بےسروپا روایتیں منقول ہیں وہ نہ عقلاً صحیح ہیں نہ نقلاً ۔ اور پھر سخت متعارض کہ ان کا باہم جمع کرنا غیر ممکن ہے (لغات القرآن) ۔
فیہ سکینۃ من ربکم۔ یہ جملہ تابوت سے موضع حال میں ہے۔
وبقیۃ مما ترک ال موسیٰ وال ھرون۔ واؤ ہر دو جگہ عاطفہ ہیں۔ بقیۃ۔ بچی ہوئی چیز، باقی رکھا ہوا۔ بروزن فعیلۃ۔ بقاء سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ بچی ہوئی چیزیں کیا تھیں ۔ تورات کی دو لوحیں۔ کچھ ٹوٹی ہوئی لوحوں کا ریزہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا۔ ان کی نعلین ۔ حضرت ہارون کا عمامہ اور عصاء اور ایک قفیز (ایک پیمانہ) من جو بنی اسرائیل پر نزال ہوتا تھا۔
بقیۃ اس کا عطف سکینۃ پر ہے۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ سے اور ما موصولہ سے۔ ال موسیٰ وال ھرون میں ال سے مراد یا تو حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بنفسہما ہیں اور ال کا لفظ ہر دو کی شان عظمت کے لئے مستعمل ہے۔ یا ال سے مراد ان کے متبعین ہیں یا بنی اسرائیل کے انبیائ۔ مما ترک ال موسیٰ وال ھرون یہ بقیۃ کی صفت ہے۔
تحملہ الملئکۃ یہ جملہ تابوت سے حال ہے۔ تحمل مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع تابوت ہے۔ جس کو فرشتے اٹھائے ہوتے ہوں گے۔
فی ذلک۔ ای فی رجوع التابوت الیکم۔ تابوت کی تمہاری طرف واپسی۔
لایۃ میں لام تاکید کے لئے ہے اور ایۃ منصوب بوجہ عامل ان ہے۔
ان کنتم۔ میں ان شرطیہ ہے۔ جواب شرط محذوف ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین۔ یہ (1) یا تو حضرت شموئیل نبی کے کلام کا بقیہ ہے۔ (2) یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک علیحدہ خطاب ہے۔
فائدہ : روح البیان میں ہے وقال بعضہم التابوت ھو القلب والسکینۃ ما فیہ من العلم والاخلاص واتیانہ تصییر قلبہ مقر العلم والوقار۔ یعنی بعض مفسرین نے تابوت سے مراد دل۔ سکنیۃ سے مراد علم و اخلاص اور تابوت کے آنے سے دل کا علم و ایمان سے بھر جانا مراد لیا ہے۔
بقیۃ کے معنی بہترین کے بھی ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے فلولا کان من القرون من قبلکم اولوا بقیۃ تنھون عن الفساد فی الارض (11:116) یہاں اولوا بقیۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی رائے اور عقل باقی رہے۔ یا ارباب فضل مراد ہیں۔ اسی سے عرب والے بولتے ہیں فلان من بقیۃ القوم یعنی فلاں آدمی قوم میں عمدہ ہے۔
اس اعتبار سے آیت کے معنی ہوئے : اس کی حکومت کی علامت یہ ہے کہ فرشتوں کے سہارے تمہاری کھوئی ہوئی ہمت واپس آجائے گی اور تمہیں اطمینان قلب ضرور نصیب ہوگا۔ اور تم آل موسیٰ و آل ہارون کے بہترین ترکہ یعنی اخلاق فاضلہ کے وارث بنو گے۔
Ayah 2:249(2:249) فلما فصل طالوت بالجنود قال ان اللہ مبتلیکم بنھر۔
آیت سے قبل اور درمیان آیت بعض جگہ عبارت مقدرہ ہے۔ تقدیر کلام (بحوالہ تفسیر خازن) یوں ہے : فلما جاء ھم التابوت واقروا بالملک لطالوت تاھب للخروج الی الجھاد فاسرعوا لطاعتہ وخرجوا معہ وذلک قولہ تعالیٰ (فلما فصل طالوت بالجنود) ای خرج من بیت المقدس بالجنودوھم سبعون الفا و ذلک انھم لما رأو التابوت لم یشکروا فی النصر فسادعوا الی الخروج فی الجھاد وکان مسیرھم فی شدید فشکوا الی طالوت قلۃ الماء بینھم وبین عدوھم و قالوا ان المیاء لا تحملنا فادع اللہ ان یجری لنا نھراً و (قال) طالوت (ان اللہ مبتلیکم بنھر) یعنی جب تابوت ان کے پاس آپہنچا اور انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور انہیں حضرت طالوت کی سرداری کا یقین ہوگیا۔ تو حضرت طالوت نے (ان کو مطمئن پاکر) جہاد کی تیاری کرکے (بیت المقدس سے) خروج کیا۔ بنی اسرائیل فوراً ان کے زیر کمان اکٹھے ہوگئے اس وقت ان کی تعداد ستر ہزار (یا بعض رواۃ کے مطابق اسی ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار) تھی۔ ان کی یہ اطاعت اس لئے تھی کہ جب انہوں نے تابوت کو دیکھا تو ان کو اپنی مدد ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور سب کے سب فوراً جہاد کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت بہت سخت گرمی پڑ رہی تھی اس لئے انہوں نے حضرت طالوت سے قلت آب کی شکایت کی اور کہا کہ وہ اللہ سے ان کے لئے ایک نہر جاری کرا دے) ۔
حضرت طالوت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نہر کی بابت بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان اللہ مبتلیکم بنھر اللہ تعالیٰ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کریگا۔ یعنی تمہاری استدعا کے بموجب ایک جاری نہر آئے گی لیکن اس سے تمہارا امتحان بھی مطلوب ہوگا۔
فلما۔عاطفہ ہے۔ لما حرف ظرف بمعنی جب فصل۔ فصول سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے بمعنی جدا ہونا۔ نکلنا۔ باب ضرب۔ اس صورت میں یہ فعل لازم ہے۔ اور آیت میں یہی مراد ہے لیکن اگر اس کا مصدر فصل ہے تو یہ فعل متعدی ہوگا۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوتے ہیں کاٹنا۔ جدا کرنا۔ ٹکڑے کردینا۔ بچے کا دودھ چھڑانا۔ اول الذکر کی صورت میں معنی ہوں گے : پھر جب طالوت فوجیں لے کر (بیت المقدس سے) نکلا۔
مبتلیکم۔ مبتلی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ ابتلاء (افتعال) مصدر۔ تمہاری آزمائش کرنے والا۔ تم کو جانچنے والا۔
اس کا مادہ بلی ہے (باب ضرب) سے بمعنی فرسودہ ہوجانا۔ پرانا ہوجانا۔ بوسیدہ ہوجانا ۔ جیسے بلی الثوب۔ بلی وبلائ۔ کپڑا فرسودہ اور کہنہ ہوگیا۔ لیکنباب نصر سے یہ مادہ آزمائش کرنے اور جانچنے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ جیسے انما یبلوکم اللہ بہ (16:92) بیشک خدا تمہیں آزماتا ہے اس سے۔
ان اللہ مبتلیکم بنھر۔ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کریگا۔ یعنی تم سے ممتحن جیسا سلوک کرے گا۔ تاکہ مطیع اور عاصی میں فرق ظاہر ہوجائے۔
من شرب منہ۔ من شرطیہ ہے اور جملہ شرطیہ ہے۔ فلیس منی۔جواب شرط میں ہے اور جملہ جواب شرط ہے۔ لیس منی نہیں ہے میرے میں سے۔ میرے حامیوں میں سے۔ میرے طرف داروں میں سے۔ میرے حمائیتیوں میں سے ای لیس من اشیاعی (جمع شیعۃ واحد)
ومن لم یطعمۃ فانہ منی۔ پہلا جملہ شرطیہ۔ دوسرا جواب شرط ہے۔ واؤ عاطفہ لم یطعمہ میں لم یطعم مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب (جس نے) نہ چکھا۔ طعم الشیء اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کسی چیز کو (کھانے کی ہو یا پینے کی) چکھے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع نہر کا پانی ہے۔ منی۔ من حرف جاری ساکن ضمیر واحد متکلم ۔ مجرور۔ مجھ سے ۔ میری طرف سے۔
الا من اغترف غرفۃ ابیدہ۔ الا حرف استثناء من موصولہ۔ اغتراف (افتعال) مصدر۔ غرفۃ ایک چلو پانی۔ چلو بھر پانی۔ اغترف غرفۃ بیدہ (جس نے) اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی پی لیا۔ غرفۃ (بمعنی معروف) بوجہ مفعول بہ ہونے کے منصوب ہے۔ الا من اغترف غرفۃ بیدہ۔ معناہ الرخصۃ فی اغتراف الغرفۃ بالید دون الکرع۔ یعنی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت ہے۔ بدون برتن یا منہ لگا کر پانی پینے کے۔
فشربوا منہ۔ ای من النھر۔ پس ان (سب نے) نہر سے پانی پی لیا۔
الا قلیلا۔ الا حرف استثناء قلیلا مستثنیٰ ۔ الا کے بعد کلام موجب میں واقع ہے لہٰذا منصوب ہے (جس کلام میں استثناء ہو اور اس میں نفی ۔ نہی و استفہام نہ ہو وہ موجب کہلاتا ہے۔ فلما۔ پھر جب۔
جاوزہ ھو والذین امنوا معہ۔ جاوز۔ ماضی واحد مذکر غائب مجاوزۃ (مفاعلۃ) بمعنی پارہونا۔ پار اترنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب نہر کے لئے ہے۔ ھو ای طالوت واؤ عاطفہ۔ الذین موصول امنوا صلہ۔ دونوں مل کر معطوف۔ عطف بر ضمیر ھو۔ معہ۔ مع اسم ظرف مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب، مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر متعلق جاوز۔ یعنی جب حضرت طالوت دریا کے پار اتر گئے۔ اور ان کے ساتھ صاحب ایمان لوگ بھی دریا پار کرگئے۔
قالوا۔ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں : (بہ نظر احوال ظاہر) یہ گفتگو ان میں آپس میں ہونے لگی دشمن کی کثرت تعداد اور اس کی عظمت و سامان پر نظر کرکے اس کی ہیبت کا دل پر بیٹھ جانا اور اپنی طرف سے مایوس ہوجانا ایک امر طبعی تھا۔ اچھے اچھے اہل ایمان کی بھی ایسے موقع پر طبعی طور پر ہمت جھوٹ جاتی ہے۔
بجالوت و جنودہ۔ ب۔ حرف جار۔ جالوت غیر متصرف کطالوت۔ واؤ عاطفہ جنودہ مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ جس کا عطف جالوت پر ہے۔ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلہ میں۔
قال الذین یظنون انھم ملقوا اللہ۔ وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ بیشک وہ اللہ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں۔ وہ بولے۔ یظنون مضارع جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) وہ یقین کرتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں۔ آیت ہذا میں اول الذکر معانی مراد ہیں۔ ملاقوا اصل میں ملاقون تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا ہے۔ یہ اسم فاعل جمع مذکر۔ مضاف ہے اللہ مضاف الیہ۔ یہاں مذکورہ بالا مومنین میں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا ایمان خدا اور آخرت پر بالکل پختہ اور غیر متزلزل تھا۔ اور وہ ہنگامی طور پر مرعوب اور دہشت زدہ نہ ہوئے تھے بلکہ بڑے استقلال کے ساتھ بولے ۔۔
کم من فئۃ ۔۔ مع الصبرین یہ مقولہ ہے قال کا۔ کم اسم مبنی ہے اور صدر کلام میں آتا ہے۔ اور مبہم ہونے کی وجہ سے تمیز کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ دو طرح مستعمل ہے :
(1) استفہامیہ ۔ مثلاً کتنی مقدار۔ کتنی تعداد۔ کتنی دیر۔ قرآن مجید میں کم استفہامیہ نہیں آیا ہے۔ (الاتقان)
(2) کم خبر یہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ جیسے کم قریۃ اہلکناھا۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو برباد کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے۔ جیسے وکم من قریۃ اہلکناھا (7:4) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر دالیں۔ اور وکم من ملک فی السموت لا تغنی شفاعتھم شیئا۔ اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی۔
کم من فئۃ قلیلۃ۔ فئۃ قلیلۃ۔ موصوف و صفت۔ فئۃ واحد۔ گروہ۔ جماعت۔ ٹولی۔ وہ گروہ جس کے افراد باہم مددگار ہوں اور ایک دوسرے کی طرف مدد کرنے کے لئے دوڑیں۔ فاء یفییٔ فییٔ (باب ضرب) فئی مادہ۔ اچھی حالت کی طرف لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ جیسے حتی تفییٔ الی امر اللہ فان فاءت (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے ترجمہ ہوگا : (بسا اوقات) چھوٹی چھوٹی کتنی ہی جماعتوں نے بڑی بڑی جماعتوں پر غلبہ پالیا اللہ کے حکم سے) یعنی اس کی توفیق و مدد سے۔
Ayah 2:250(2:250) برزوا۔ وہ لڑائی کے لئے نکلے۔ ماضی جمع مذکر غائب بروز (باب نصر) مصدر بمعنی کھلم کھلا ظاہر ہونا میدان جنگ میں صف سے مدمقابل سے لڑنے کے لئے نکلنے کو مبارزت کہتے ہیں۔ بروز۔ کی مختلف اقسام ہیں :۔
(1) بذاتہ کسی چیز کا خود ظاہر کرنا۔ جیسے وتری الارض باردۃ (18:47) اور تم دیکھے کہ زمین کھل گئی ۔ کیونکہ اس روز مکان اور مکین اور مکین سب مٹ جائینگے۔ اور زمین ازخود کھل جائے گی۔ اسی لئے میدان جنگ میں صف سے نکلنے کو مبارزت کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے لبرز الذین کرب علیہم القتل الی مضاجعم (3:154) تو جن کی تقدیر میں قتل لکھ دیا گیا ہے وہ تو اپنے مقتلوں کی کی طرف نکل کر ہی رہیں گے۔
(2) چھپی ہوئی چیز کا کھل جانا۔ جیسے وبرزت الجحیم للغوین (26:91) اور گمراہوں کے لئے دوزخ ظاہر کردی جائے گی۔
افرغ علینا صبرا وافرغ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ افراغ (افعال) مصدر بمعنی بہانا۔ دہانہ کھولنا۔ تو ہم پر دہانہ کھول دے۔ ای اصبب علینا صبرا۔ ہم پر صبر انڈیل دے۔ ہم کو (بہت) صبر عطا کر۔ صبرا۔ بوجہ مفعول بہ منصوب ہے۔
افرغ مادہ فرغ سے مشتق ہے الفراغ شغل کی ضد ہے اور فرغ یفرغ فروغ بمعنی خالی ہونا ہے ۔ فارغ خالی قرآن مجید میں ہے واصبح فؤاد ام موسیٰ فارغا (28:10) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اماں کا دل بےصبر ہوگیا۔ یعنی خوف کی وجہ سے گویا عقل سے خالی ہوگیا۔ بعض نے کہا کہ فارغا کے معنی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال سے خالی ہونا ہے۔ یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال ان کے دل سے بھلا دیا۔ حتیٰ کہ وہ مطمئن ہوگئی۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دینا انہوں نے گوارا کرلیا۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے فاذا فرغت فانصب (94:7) تو جب فارغ ہوا کرو عبادت میں محنت کیا کرو۔ اور فرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں۔ چناچہ افرغ علینا صبرا (آیت ہذا میں) ہم پر صبر کے دہانے کھول دے۔ اسی سے مستعار ہے۔
ثبت۔ امر کا صیغہ واحد حاضر۔ تثبیت (تفعیل) مصدر۔ تو ثابت رکھ۔ تو قائم رکھ۔ اقدامنا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثبت کا۔ انصرنا۔ انصر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ تو ہماری مدد فرما۔
Ayahs 2:251–252(2:251) فھزموھم باذن اللہ۔ ای ان اللہ تعالیٰ استجاب الدعاء المؤمنین فافرغ علیہم الصبر وثبت اقدامھم ونصرھم علی القوم الکافرین حین التقوا فھزموھم باذن اللہ یعنی بقضائہ وارادتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دعا قبول فرمالی ان پر صبر کے دہانے کھول دیئے۔ ان کو ثابت قدمی عطا کی۔ اور قوم کفار کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے پر اپنے ارادہ و حکم سے فتح نصیب فرمائی۔ ھذموھم۔ فعل ماضی جمع مذکر غائب ضمیر فاعل مؤمنون کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کافروں کے لئے ہے۔ ھزم (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے ان کو شکست دی۔
اتہ اللہ۔ انی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع داؤد ہے۔
الملک۔ بادشاہت۔ منصوب بوجہ مفعول الحکمۃ۔ ای النبوۃ۔ منصوب بوجہ مفعول حضرت داؤد (علیہ السلام) (حضرت علیمان (علیہ السلام) کے والد) حضرت طالوت کی فوج میں بطور سپاہی شامل تھے۔ حضرت طالوت نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت داؤد (علیہ السلام) سے کردی اور سلطنت بھی ان کے حوالہ کردی۔ بعد میں جب بنوت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تو سلطنت اور نبوت دونوں ایک خاندان میں جمع ہوگئیں۔
وعلمہ مما یشائ۔ اور اس کو سکھایا جو کچھ چاہا۔ یعنی منطق الطیر۔ خوش الحانی۔ علم زبور۔ علم سیاست و علم سلطنت۔ صنعت الدروع (زرہ کا بنانا) اور جو کچھ کہ خداوند تعالیٰ نے چاہا ۔
مما۔ من اور ما سے مرکب ہے۔ من یہاں تبعیضیہ نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے۔ ما موصولہ ہے۔
یشائ۔ مضارع واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ وہ چاہتا ہے۔ اس نے چاہا۔ (بمعنی ماضی)
ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض۔ لو حرف شرط ہے ۔ لا نافیہ ۔ دفع مصدر مبنی للفاعل مضاف۔ اللہ مضاف الیہ۔ الناس مفعول۔ اور بعضھم ہے بدل ہے الناس سے۔ ببعض مفعول ثانی۔ یہ سارا جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ لفسدت الارض جواب شرط۔ لام جواب شرط کے لئے ہے۔ فسدت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ترجمہ : اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا تو (روئے) زمین پر فساد برپا ہوجائے۔
دفع۔ اگر الیٰ کے صلہ کے ساتھ آئے۔ تو حوالہ کردینے کے معنی ہوتے ہیں۔ مثلاً فاذا دفعتم الیہم اموالہم (4:6) اور جب تم ان کا مال ان کے حوالہ کرنے لگو۔ اور جب اس کا استعمال عن کے صلہ کے ساتھ ہو تو دفع کے معنی دفع کرنے ۔۔ دور کرنے یا ہٹانے کے آتے ہیں۔ مثلاً ان اللہ یدافع عن الذین امنوا (22:38) بیشک خدا مؤمنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔
ذوفضل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فضل والا۔ صاحب فضل۔ ذو۔ اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے یعنی ان چھ حروف میں سے ہے جن کی تصغیر نہیں آتی۔
Ayah 2:253(2:253) تلک۔ اسم اشارہ واحد مؤنث الرسل مشار الیہ۔ جمع مذکر۔ دونوں مل کر مبتدا فضلنا بعضھم علی بعض۔ خبر۔
ال۔ استغراق کا ہے یعنی تمام پیغمبر۔ یا ال عہد کا ہے اور اس سے وہ جماعت معلومہ ہے جس کا علم آیت سابقہ وانک لمن المرسلین سے ہوچکا ہے۔
فضلنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تفضیل (تفعیل) مصدر ہم نے فضیلت بخشی۔ ہم نے بزرگی عطا کی۔
بعضھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر مفعول فضلنا کا۔ علی بعض بعض پر ہم نے ان پیغمبروں میں سے بعض کو بعض پر برتری عطا کی۔
منھم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع تلک الرسل ہے من موصولہ کلم اللہ صلہ۔ یعنی ان میں سے کوئی تو وہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ من کلم اللہ بدل ہے محل فضلنا سے۔
ورفع بعضھم درجت۔ واؤ عاطفہ ہے درجت حال ہے بعضھم سے یا اس سے قبل فی مقدر ہے۔ اور بعض کو مرتبوں کی صورت میں بلندی عطا کی۔ بعضھم۔ مضاف مجاف الیہ مل کر رفع کا مفعول ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب رسل کی طرف راجع ہے۔ اتینا۔ ماضی جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہم نے دیا۔ ہم نے بخشا۔ البینت۔ کھلی دلیلیں۔ روشن دلائل ۔ معجزات، بینۃ کی جمع۔ تبیین (تفعیل) مصدر سے مشتق ہے۔ تبیین کے معنی بیان کرنے اور واضح اور ظاہر کرنے کے ہیں۔ یہاں البینت سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا برص کے مریضوں کو تندرست کردینا۔ پیدائشی نابیناؤں کو صحت یاب کردینا مردوں کو زندہ کرنا (باذن اللہ) وغیرہ ہیں۔
ایدنہ۔ ماضی جمع متکلم تابید (تفعیل) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ہم نے اس کو قوت دی۔ ہم نے اس کی مدد کی۔ بروح القدس حضرت جبریل کے ذریعہ سے۔ روح القدس۔ روح پاک۔ جان پاک۔ پاک فرشتہ۔ روح موصوف اور القدس صفت ہے۔ یہاں موصوف کی صفت کی طرف اضافت ہے۔ جیسے رجل صدق میں رجل موصوف اور صدق اس کی صفت ہے لیکن یہاں ترکیب اضافی میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف ہے۔ روح القدس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو لغات القرآن جلد 3 یا کوئی اور مستند کتاب) ۔ ما اقتتل۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اقتتال (افتعال) مصدر بمعنی آپس میں جنگ و قتال کرنا۔ باہم لڑنا۔
من بعدھم۔ ای من بعد الرسل۔ الذین (اسم موصول جمع مزکر) من بعدھم صلہ یعنی رسولوں کے بعد میں آنے والے لوگ
من بعد ما جاء تھم البینت۔ ای من جھۃ اولئک الرسل۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب بمعنی الذین من بعد الرسل۔ یعنی رسولوں کے پیروکار۔ ان کے متبعین البیت۔ المعجزات الباھرۃ والایات والظاھرۃ۔ پرشکوہ۔ دل نشین اور روز روشن کی طرح ظاہر معجزے اور کھلے کھلے صاف اور ظاہر دلائل۔ یعنی رسولوں کی طرف سے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ آجانے کے بعد اور اپنے سامنے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد۔
ولو شاء اللہ ۔۔ ماجاء تھم البینت۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ رسولوں کے متبعین آپس میں جنگ و قتال نہ کریں تو وہ ان کو ہدایت نصیب فرما دیتا۔ حق پر سب کو متفق کردیتا۔ اور مکمل اتباع رسل ان کو نصیب فرما دیتا۔ کوئی امت اپنے رسول کے بعد اپنے اپنے رسولوں کے ہاتھوں معجزات و آیات دیکھ لینے کے بعد آپس میں اختلافات نہ رکھتی اور باہمی جنگ و جدال کے متعلق سوچتی بھی نہ۔ ولکن اختلفوا لیکن انہوں نے (باہم) اختلاف کیا اور آپس میں قتل و غارت کا اترکاب کیا۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جلالی و جمالی صفات اور اپنے مختلف اسماء (مثلا) ہادی۔ مضل۔ غفار ۔ قہار۔ منتقم اور عفو کا ظہور چاہا۔ اس لئے وہ لوگ کفر و اسلام اور ہدایت و گمراہی میں بٹ گئے) ۔
فمنھم من امن۔ پس کچ تو ایمان لے آئے (یعنی اللہ نے اپنی مہربانی سے دین انبیاء کا پابند رہنے کی ان کو ہدایت و توفیق عطا فرما دی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت ہدایت کا مظہر قرار پایا ۔
ومنھم من کفر۔ اور کچھ لوگ ہوئے جنہوں نے کفر کیا۔ یعنی اللہ نے تقاضائے عدل کے تحت ان کی مدد نہیں کی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت اضلال کا مظہر قرار پایا۔
ولوشاء اللہ ما اقتتلوا۔ اس جملہ کا دوبارہ ذکر اول جملہ کی تاکید کے لئے ہے۔
فائدہ : اگر اللہ چاہتا کہ سب ہدایت پر آجائیں اور باہمی جنگ و جدال سے باز رہیں تو اس مشیت ایزدی کی تکمیل میں کوئی شے مانع نہیں ہوسکتی تھی۔ ان میں سے بعض کا ایمان اور بعض کا کفر نعوذ باللہ خدا کی بےبسی کی دلیل نہیں بلکہ وہ جو کچھ چاہتا ہے وہی کرتا ہے اور وہی ہوتا ہے۔ ہماری عقل اس کی حکمت اور تقدیر کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔
لکن (نون کی تشدید کے ساتھ) حرف استدراک ہے۔ یعنی پہلی بات کا وہم دور کرنے والا حرف جیسے بل غیر ان۔ الا الا ان وغیرہ۔ یہ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا (2:102) حضرت سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کہ بلکہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے۔
لکن (تخفیف کے ساتھ یعنی بغیر تشدید کے) حرف عاطفہ ہوتا ہے جبکہ اس کے بعد کوئی مفرد آئے۔ اور یہ لکن استدراک کے لئے بھی آتا ہے اور کچھ عمل نہیں کرتا۔ مثلاً واذا انزلت سورة ان امنوا باللہ وجاھدوا مع رسولہ استاذنک اولوا الطول منھم وقالوا ذرنا لکن مع القعدین ۔ رضوا بان یکونوا مع الخوالف وطمع علی قلوبہم فہم لا یفقھون ۔ لکن الرسول والذین امنوا معہ جھدوا باموالہم وانفسھم ط واولئک لہم الخیرات واولئک ہم المفلحون ۔ (9: 86 تا 88) اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہوکر لڑائی کرو۔ تو ان میں جو دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے۔ کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں۔ یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔ لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔
Ayah 2:254(2:254) انفقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر ۔ تم (راہ خدا میں ) خرچ کرو۔ اس کا مفعول شیئا محذوف ہے۔ ای انفقوا شیئا مما رزقناکم۔ مما مرکب ہے من اور ما سے ما یعنی الذی اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یعنی ہم نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو۔
خلۃ۔ دوستی۔ آشنائی۔ خلل مادہ ۔ خلیل۔ درست۔
بیع۔ خریدوفروخت۔ لین دین۔ بیچنا۔ خریدنا۔ مصدر ہے۔ سودا لے کر قیمت لینے کا نام ” بیع “ ہے اور قیمت دے کر سودا لینے کا نام ” شرائ “ ہے کبھی شراء کے معنی میں بیع اور بیع کے معنی میں شراء کا استعمال ہوتا ہے۔
والکفرون ھم الظلمون۔ یہ جملہ محذوف کا معطوف ہے۔ ای فالمؤمنون ھم المتقون والکفرون ھم الظلمون۔ پس متقی مومن تو پورا پورا کما حقہ ادا کرتے ہیں اور کافر ہی ظالم ہیں (کہ مال کو بےمحل صرف کرتے ہیں اور احکام کی تعمیل نہیں کرتے) الظلمۃ کے معنی روشنی کا معدوم ہونا ہے اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا ۔ خواہ کمی یا زیادتی کرکے یا اسے اس کے صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹا کر۔ اور الظلم کا لفظ حق سے تجاوز پر بھی بولا جاتا ہے۔ جس کی مثال دائرہ میں نکتہ کی ہوتی ہے۔ اور ظلم کا اطلاق چونکہ ہر قسم کے تجاویز پر ہوتا ہے خواہ وہ تجاوز قلیل ہو یا کثیر۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ابلیس کو ظالم کہا ہے اور دوسری طرف حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان کی غلطی کی بناء پر ظالم کہہ دیا گیا ہے۔ گو دونوں کے ظالم ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔
فائدہ : بیضاوی نے لکھا ہے کہ الکفرون سے مراد زکوۃ نہ دینے والے ہیں ۔ ترک زکوۃ کی برائی کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے زکوۃ نہ دینے کو کفر سے تعبیر کیا ہے جیسے حج نہ کرنے کو کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اور من لم یحج کی جگہ من کفر فرمایا ۔ آیت : وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ط ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین ۔ (3:97) اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ بیت اللہ کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہیں کرے گا (یعنی حج نہ کرے گا مقدور رکھتے ہوئے) تو خدا بھی اہل عالم سے بےنیاز ہے۔