2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو وہ تو نجاست ہے سو ایام حیض میں عورتوں سے کنا رہ کش رہو اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے تمہیں ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(2:222) المحیض۔ مصدر میمی ہے۔ بمعنی حیض آنا۔ جیسے مبیت۔ رات گزارنا ۔ مجیئی (ج ی ئ) آنا۔ جاء یحیئی۔ کا مصدر۔ محیض کے معنی (1) حیض ۔ یعنی وہ خن جو مخصوص دنوں میں صفت خاص کے ساتھ عورت کے رحم سے جاری ہوتا ہے (2) ظرف زمان۔ وقت حیض یا زمانہ حیض (3) ظرف مکان۔ مقام حیض۔ اذی۔ ہر وہ ضرر جو ذی روح یا جسم کو پہنچے خواہ وہ ضرر دنیوی ہو یا اخروی۔ گندگی ، بیماری المنجد میں اس کے معنی تھوڑا ضرر۔ خفیف نقصان کے لکھے ہیں۔ اذی یاذی (سمع) تکلیف پانا اور اذی یوذی ایذا (افعال) تکلیف دینا۔ اذی۔ مادہ۔ اعتزلوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم الگ رہو۔ تم چھوڑ دو ۔ (یعنی عورتوں کے پاس زمانہ حیض میں نہ جاؤ) اعتزال (افتعال) بمعنی چھوڑنا ۔ کنارہ کش ہونا۔ ایک طرف ہوجانا۔ الگ ہوجانا۔ اسی سے لفظ معتزلہ نکلا ہے۔ الگ ہو کر بنا ہوا فرقہ (واصل بن عطاء اور اس کے پیروکار) ۔ فی المحیض۔ ای فی زمان الحیض۔ حیض کے ایام ہیں۔ یطھرن۔ مضارع جمع مؤنث غائب۔ طھارۃ وطھر (باب نصر و کرم) یہاں تک کہ وہ عورتیں پاک ہوجائیں۔ تطھرن۔ ماضی جمع مؤنث غائب۔ تطھر (تفعل) مصدر۔ پاک ہوں۔ وہ پاک ہوتی ہیں۔ پاک ہوجائیں۔ فاتوھن۔ اتی یاتی اتیان (باب ضرب) مصدر سے۔ اتوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ پس تم ان عورتوں کے پاس آؤ۔ تم ان سے مجامعت کرو۔ حیث۔ جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے مبنی برضمہ من حیث امرکم اللہ تو جہاں سے خدا نے تمہیں حکم دیا ہے یا ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ التوابین۔ تواب کی جمع تواب (فعال) کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ تاب یترب توبۃ (باب نصر) مصدر سے ۔ بہت پھر آنیوالے۔ بہت توبہ کرنے والے۔ تواب۔ ہر دو بہت توبہ کرنے والا (بندہ) بہت توبہ قبول کرنے والا (خدا) کے معنی میں آتا ہے۔ المتطھرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ المتطھر واحد مذکر۔ تطھر (تفعل) مصدر۔ پاک و صاف رہنے والے۔ پاک ہونے والے۔ یحب کا مفعول ہے۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ اور اپنے لیے (نیک عمل) آگے بھیجو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے رو برو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ ایمان والوں کو بشارت سنادو

(2:223) حرث۔ کھیتی۔ زراعت۔ حرث (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے۔ بمعنی بیج ڈالنا۔ کھیتی کرنا۔ کھیت کو حرث کہتے ہیں۔ انی ۔ مندرجہ ذیل معنوں میں مستعمل ہے۔ (1) اسم ظرف زمان جیسے فاتوا حرثکم انی شئتم۔ پس کھیتی میں جاؤ جب چاہو۔ جہاں سے چاہو۔ (2) اسم ظرف مکان۔ (3) (ا) بمعنی کیف۔ یعنی جیسے جس ہیئت سے چاہو۔ (ب) بمعنی کیف۔ کیونکر ۔ کیسے۔ انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا (2:259) خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ (4) بمعنی من این۔ جیسے یریم انی لک ھذا (3:37) اے مریم یہ (کھانا) تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے۔ شئتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے چاہا۔ شاء یشاء مشیئۃ (باب سمع) مصدر (نیز ملاحظہ ہو 2:220) قدموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تعدیم (تفعیل) مصدر۔ تم پہلے بھیج دو ۔ آگے بھیجو۔ قسموا لانفسکم۔ اور اپنے لئے (اعمال صالحہ) آگے (آخرت میں جو کو م آئیں) بھیجو۔ مطلب یہ ہے کہ عورتوں سے صحبت کرنے کو فقط اس وقت کی لذت ہی مقصود نہ رکھو، بلکہ ان فائدوں کا قصد کرو جو دین کی طرف راجع ہوتے ہیں۔ مثلاً حرام کاری سے بچنا۔ نیک اولاد کا ہونا۔ کہ تمہارے لئے دعا اور استغفار کرے۔ اور اگر مرجائے تو قیامت میں پیش خیمہ ہو۔ کیونکہ مباح امور اگر خالص اور صحیح نیت کے زیر اثر ہوں تو عبادت بن جاتے ہیں۔ ملاقوہ۔ ملاقوا۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مضاف۔ ملاقوا اصل میں ملاقون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ۔ اس سے ملنے والے۔ اس کے پاس پہنچنے والے۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر لقی مادہ۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور خدا (کے نام) کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اور پرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

(2:224) عرضۃ۔ آڑ۔ نشانہ۔ بہانہ۔ ہتھکنڈا۔ ایمانکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری قسمیں ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم اور اللہ کو اپنی قسموں کے لئے آڑیا بہانہ نہ بناؤ یعنی کسی اچھے کام کے نہ کرنے پر خدا کی قسم نہ کھا بیٹھو۔ کہ جب اس کے کرنے کو کہا جائے تو اپنی قسم کو آڑ بنا کر نیک کام کرنے سے محروم نہ رہو۔ یا مطلب نکالنے کے لئے بات بات پر قسم نہ کھایا کرو۔ اور اس طرح اللہ تعالٰ کی باعزت نام کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔ ان۔ کہ ۔ یہ کہ۔ اس کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ مصدر۔ ماضی و مضارع پر داخل ہوکر مضارع کو نصب دیتا ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہوتا ہے جیسے وان تصوموا خیرلکم (2:184) اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ (2) ان۔ مخففہ۔ جو کہ شروع میں ثقیلہ تھا۔ پھر خفیفہ کرلیا گیا۔ یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ جیسے علم ان سیکون منکم مرضی (73:20) معلوم ہوا کہ بیشک تم میں سے کتنے ہی بیمار ہوجائیں گے۔ (3) ان۔ زائدہ۔ جو لما کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ جیسے فلما ان جاء البشیر (12:92) پھر جب پہنچا خوشخبری دینے والا۔ (4) ان۔ مفسرہ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنی پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو جیسے فاوحینا ان اصنع الفلک (23:27) پھر ہم نے اس کو حکم بھیجا کہ کشتی بنا۔ یا دلالت معنوی ہو۔ جیسے وانطلق الملأ منھم ان امشوا (38:6) تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب گویا یہ کہنا تھا کہ تم بھی چلو ۔ آیت ہذا میں ان مصدریہ ہے۔ تبروا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بر (باب سمع) مصدر۔ تبروا۔ اصل میں تبرون تھا۔ ان کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم نیکی کرتے ہو۔ یا کرو گے۔ تتقوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ بمعنی پرہیز کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔ کہ تم بچتے رہو گے۔ ڈرتے رہو گے۔ یا پرہیز کرو گے یا کرتے ہو۔ تتقوا اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عمل ان گرگیا۔ تصلحوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصلاح (افعال) مصدر تم صلح کراتے ہو، تم اصلاح کرتے ہو۔ اصل میں تصلحون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عمل ان ساقط ہوگیا۔ ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس۔ (کہ اللہ کے نام کی قسم کا بہانہ کرکے (تم) نیکی اور پرہیزگاری اور لوگوں میں اصلاح نہ کرو۔ یا یہ کہ نیکی کو اور پرہیزگاری کو صلح بین الناس کو خدا کی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔ سمیع۔ سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سننے والا۔ جب اللہ تعالٰٰ کی صفت ہو تو اس کے معنی ” جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہے “ ۔ علیم علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ ہر دو اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہیں۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

(2:225) لایؤاخذکم اللہ۔ اللہ۔ فاعل ۔ لایؤاخذ فعل کم ضمیر مفعول۔ لایؤاخذ فعل مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ مؤاخذۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی مؤاخذہ کرنا۔ گرفت کرنا۔ پکڑ کرنا ۔ اللہ فردت نہیں کرے گا تمہاری۔ باللغو۔ ب سببیہ۔ اللغو (باب نصر) بےمعنی بات۔ جو کسی گنتی شمار میں نہ ہو۔ جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے ۔ بےہودہ بات۔ یا بےہودی چیز۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے والذین ھم عن اللغو مغرضون (23:3) اور جو بےہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ پہلو تہی کرتے ہیں۔ لغو اسم قسم کو کہتے ہیں جو بغیر نیت قسم کے بطور تکیہ کلام کے منہ سے نکل جاتی ہے۔ بقول حضرت عائشہ ؓ آدمی کی لغو قسم اس طرح کہنا ہے کہ لاو اللہ۔ بلی واللہ۔ لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔ اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے بےہودہ قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں کریگا۔ اخذ ۔۔ ب۔ کسی چیز کو پکڑنا۔ کسی کو گناہ پر سزا دینا۔ مؤاخذہ کرنا۔ بما کسبت قلوبکم۔ ما موصولہ۔ کسبت۔ فعل ماضی ۔ واحد مؤنث غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ یہاں اس کا استعمال قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی سے کام کرنے کے لئے ہوا ہے۔ یعنی وہ قسمیں جو تمہارے دلوں نے ارادۃ اور نیۃ کھائی ہوں۔ لیکم تم سے اس (قسم) پر مؤاخذہ کرے گا جو تم نے دلی ارادہ سے کھائی ہو جس پر تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو۔ غفور۔ مغفرۃ۔ مصدر (باب ضرب) سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت بخشنے والا۔ حلیم حلم سے بروزن فعیل۔ صفت مشیہ کا صیغہ ہے۔ بردبار۔ تحمل والا۔ حلم۔ جوش غضب سے اپنے نفس اور طبیرت کر روکنا۔ برباری۔ تحمل کرنا۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہئے اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

(2:226) یؤلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایلاء (افعال) وہ عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتے ہیں۔ ایلاء والیہ۔ اصل میں اس قسم کو کہتے ہیں کہ جس پر قسم کھانے والے کو تکلیف اور کوتاہی کا سامنا کرنا پڑے۔ اور اصطلاح شریعت میں ایلاء اس قسم کو کہتے ہیں جو عورت کے ساتھ جماع نہ کرنے پر اٹھائی جائے۔ الوت فی الامر۔ کے معنی ہیں کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ قسم کھانے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولا یاتل اولو الفضل منکم (24:22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل (اور صاحب وسعت) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔۔ تربص۔ بروزن تفعل مصدر ہے۔ انتظار کرنا۔ خواہ کسی معاملہ کے ختم ہونے یا پورا ہونے کا انتظار ہو۔ یا کسی سامان کی گرانی یا ارزالی کا۔ آیت میں تربص اربعۃ اشھر۔ مبتدا ہے اور للذین یؤلون من نسائھم خیر ہے۔ فان فاء وا۔ ان۔ شرطیہ۔ فاء وا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ فیئی (باب ضرب) مصدری ء مادہ۔ (سایہ کا) ہٹ جانا۔ فاء الی (کسی چیز کی طرف) لوٹنا۔ اگر (اس عرصہ میں قسم سے) رجوع کرلیں۔ جملہ شرطیہ ہے۔ فان اللہ غفور رحیم۔ ضواب شرط۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے حتی تفیی الی امر اللہ (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع کر لائے۔ اور سایہ کے لوٹنے کے معنی میں ہے یتفیئو ظللہ (16:48) جن کے سائے ۔۔ لوٹتے ہیں۔ فیئی۔ مال غنیمت۔ فئۃ گروہ۔ جماعت۔ بھی اسی مادہ سے ہے جس کا مطلب وہ جماعت جس کے افراد تعاون و تقاصد کے لئے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آئیں۔
Ayah 2:227

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

(2:227) وان عزموا الطلاق۔ جملہ شعرطیہ ہے ضمیر فاعل۔ عزموا کا مرجع وہ لوگ ہیں جنہوں نے عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا رکھی تھی۔ عزموا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ عزم (باب ضرب) مصدر پختہ ارادہ کرلینا۔ اور اگر انہوں نے طلاق کا ہی پختہ ارادہ کرلیا ہے فان اللہ سمیع علیم جواب شرط (تو یاد رکھو) اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (یعنی ان کے قول و فعل اور نیت سے بخوبی واقف ہے) ۔
Ayah 2:228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے رہیں اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں اور عورتوں کو حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر البتہ مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

(2:228) المطلقت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ تطلیق (تفعیل) مصدر ۔ طلق مادہ۔ طلاق دی ہوئی عورتیں۔ یتربصن۔ مضارع جمع مؤنث غائب بمعنی امر غائب۔ تربص (تفعل) مصدر سے (نکاح سے) روکے رہیں۔ منتظر رہیں۔ انتظار کریں ۔ بانفسھن۔ اپنے آپ کو۔ قروئ۔ جمع۔ قرء واحد۔ القرئ۔ کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے اس لئے دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسے کہ مائدۃ۔ دستر خوان اور کھانا دونوں کے مجموعے کے لئے وضع کیا گیا ہے مگر ہر ایک پر انفراداً بھی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا قرء نہ صرف حیض کا نام ہے اور نہ صرف طہر کا۔ بلکہ دونوں کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک اس سے مراد یہاں حیض ہے اور شوافع کے نزدیک طہر مطلب یہ ہے کہ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک رو کے رکھیں۔ یا انتظار کریں لایحل۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ حلوال (باب ضرب) مصدر سے بمعنی نازل ہونا۔ اور حل (باب ضرب) مصدر سے بمعنی حلال ہونا۔ جائز ہونا۔ یہاں پر مؤخر الذکر معنی مراد ہیں۔ یعنی حلال نہیں ہے۔ جائز نہیں ہے۔ ان یکتمن۔ ان مصدریہ ۔ یکتمن۔ مضارع منصوب جمع مؤنث غائب۔ کتم (باب نصر) مصدر۔ کہ وہ عورتیں چھپائے رکھیں۔ ارحامھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ارحام۔ جمع ہے رحم کی۔ عورت کے پیٹ کا وہ حصہ جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب۔ بعولتھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ بعولۃ۔ جمع ہے بعل کی۔ جیسے فحولۃ جمع ہے فحل کی۔ ان عورتوں کے خاوند۔ قرآن مجید میں ہے وھذا بعلی شیخا (11:72) اور یہ میرے خاوند بھی بوڑھے ہیں۔ ردھن مضاف مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا لوٹانا۔ ان کا پھیرلینا یعنی ان عورتوں کو واپس اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں فی ذلک۔ ای فی مدۃ ذلک التربص۔ اس عدت کے دوران ۔ اس انتظار کے اندر اندر۔ اصلاحا۔ سنوارنا۔ صلح کرنا۔ درست کرنا۔ یعنی اگر وہ (مطلقہ عورتوں کے خاوند) تعلقات درست کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ولہن مثل الذی علیہن۔ ای وللنساء علی الازواج حق مثل حق الذی علیہم للازواج۔ اور عورتوں کے حقوق مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں۔ بالمعروف۔ عام دستور کے مطابق۔ معروف طریقے کے مطابق۔ درجۃ۔ مرتبہ۔ (مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کی فضیلت ہے) ۔ عزیز۔ غالب۔ زبردست۔ قوی۔ مشکل۔ دشوار۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ زجاج نے اس کے معنی کئے ہیں۔ ایسا زبردست جس پر کوئی غالب نہ ہوسکے۔ حکیم۔ حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کے صیغہ میں سے ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق (صرف) دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا اور جو لوگ خدا کی حدو سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

(2:229) الطلاق مرتن۔ اس میں ال عہد کا ہے۔ ای التطلیق الرجعی اثنان۔ طلاق رجعی دو ہیں۔ یعنی وہ طلاقیں جن کے بعد طلاق دینے والا رجوع کرسکتا ہے صرف دو ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد وہ رجوع نہیں کرسکتا تاآنکہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ پھر وہ شخص اپنی رضا مندی سے اسے خود طلاق نہ دے دے۔ فامساک بمعروف۔ ای اذار اجعھا بعد التطلیقۃ الثانیۃ فعلیہ ان یمسکہا بمعروف یعنی جب دوسری طلاق کے بعد اس نے عورت سے رجوع کیا تو ازاں بعد یا تو قاعدہ اور دستور کے مطابق عورت کو اپنے پاس روکے رکھے یا ۔۔ امساک بروزن افعال مصدر بمعنی روکے رکھنا۔ او تسریح باحسان۔ او بمعنی یا۔ تسریح۔ نکال دینا۔ رخصت کردینا۔ چھوڑ دینا۔ روانہ کرنا بروزن فعیل۔ مصدر ہے۔ سرح یسرح (باب فتح) سرح مصدر۔ بمعنی بھیج دینا۔ سرح (باب تفعیل) سے تسرح بعنی بیوی کو طلاق دینا۔ رخصت کرنا۔ سرح ایک پھل دار درخت۔ سرحت الابل۔ میں نے اونٹ کو سرح درخت چرایا۔ پھر چراگاہ میں کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے۔ ولکم فیہا جمال حین تریحون وحین تسرحون (16:6) اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل میں) چرانے لے جاتے ہو۔ تو ان سے تمہاری عزت و شان ہے۔ اور چروا ہے کو سارح کہا جاتا ہے۔ احسان۔ نیکی ۔ بھلائی۔ حسن سلوک۔ یا حسن سلوک سے اسے چھوڑ دے۔ لایحل۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ حلال نہیں۔ جائز نہیں۔ دیکھو (2:228 متذکرۃ الصدر) مما۔ من حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ اتیتموھن۔ اتیتم۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ جو تم نے ان عورتوں کو دیا۔ الا۔ حرف استثناء سوائے (اس صورت میں) ۔ ان یخافا ان لا یقیما حدود اللہ۔ ان مصدریہ ہے۔ یخافا۔ مضارع منصوب ۔ تثنیہ مذکر غائب۔ خوف (باب فتح) مصدر۔ ان دونوں کو خوف ہو یا اندیشہ ہو۔ الا۔ مرکب ہے ان مصدریہ اور لا نافیہ سے۔ یقیما۔ مضارع منصوب تثنیہ مذکر غائب۔ اقامۃ (افعال) سے مصدر۔ کہ وہ دونوں ٹھیک ٹھیک (حدود اللہ کو) قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اگرچہ الا تخضیض (برانگیختہ کرنا) کا حرف ہے لیکن قرآن مجید میں یہ اس معنی میں کہیں بھی بھی استعمال نہیں ہوا۔ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ۔ جملہ شرطیہ ہے فلا جناح علیہما فیما افتدت بہ۔ جواب شرط ہے۔ لا جناح۔ کوئی گناہ نہیں۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ فیما افتدت بہ۔ ما موصولہ ۔ اتفدت بہ صلہ۔ ہ ضمیر واحد غائب کا مرجع اسم موصولہ ہے ۔ فلا جناح ۔۔ بہ۔ کوئی گناہ نہیں ان دونوں کے لئے اس مال کے دینے میں جو عورت فدیہ کے طور پردے کر (خاوند سے رہائی حاصل کرے) ۔ لا تعتدوھا۔ لا تعتدوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ جس کا مرجع حدود اللہ ہے تم ان حدود سے تجاوز مت کرو۔ من یتعد۔ من شرطیہ ہے۔ یتعد مضارع واحد مذکر غائب ۔ اصل میں یتعدی تھا ۔ جو حدود الٰہیہ سے تجاوز کرے گا۔ فاولئک ھم الظلمون۔ جواب شرط ہے۔ پس وہی بےانصاف ہیں۔ فائدہ : ولا یحل ۔۔ فلا تعتدوھا۔ اس آیت میں یکے بعد دیگرے صیغوں کے بدلنے سے اشکال پیدا ہوگیا۔ ولا یحل ۔۔ شیئا میں تاخذوا اور اتیتموھن میں صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استعمال ہوا ہے۔ اور آگے الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ میں تثنیہ مذکر غائب استعمال ہوا ہے۔ پھر ان خفتم میں صیغہ جمع مذکر حاضر آگیا ہے اور اس کے فوراً بعد الا یقیما اور علیہما میں پھر تثنیہ مذکر غائب کا صیغہ ہے اور افتدت بہ میں واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ ازاں بعد فلا تعتدوھا میں پھر صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس کا حل کچھ یوں ہے :۔ شروع کلام میں تمام مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ لہٰذا جمع مذکر حاضر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ پھر کوئی خاوند بیوی کے جوڑے کا ذکر ہے ۔ جن کو ڈر ہو کہ وہ (اکٹھا رہ کر) حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ لہٰذا ان کے لئے تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا۔ خفتم میں پھر عوام المسلمین سے خطاب ہے اس لئے صیغہ جمع مذکر حاضر استعمال ہوا۔ آگے یقیما اور علیہما میں پھر اسی قبل الذکر خاوند اور بیوی کے عمل کا ذکر ہے کہ وہ اس مشکل کے حل میں کیا کرے۔ لہٰذا واحد مؤنث غائب کا صیغہ استعمال ہوا۔ اس طرح اس جوڑے کی مشکل کا حل بتا کر تمام مسلمانوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوا کہ یہ ہیں اللہ کی حدود ان سے آگے مت بڑھو۔ اب اس آیت کا ترجمہ یوں ہوگا۔ اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم نے جو مال اپنی بیویوں کو دیا ہے (ان کو چھوڑتے وقت) اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ ماسوائے اس صورت کے کہ کوئی دو خاوند بیوی کو ڈر ہو کہ اکٹھا رہنے میں وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو اے مسلمانو ! اگر تم کو اندیشہ ہو کہ واقعی وہ دونوں خاوند بیوی حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو جائز ہے دونوں کے لئے کہ عورت اپنی خلاصی کے لئے فدیہ ادا کرے (دونوں کے لئے جائز اس واسطے کہا کہ اس صورت میں عورت کے لئے جائز ہے کہ چھٹکارے کے لئے فدیہ میں کچھ دے اور مرد کے لئے جائز ہے کہ فدیہ لے لے اور عورت کی خلاصی کر دے) ۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی ہاں اگر دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے اور عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

(2:230) فان طلقھا۔ جملہ شرطیہ ہے پھر اگر وہ اس عورت کو (دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد تیسری) طلاق دیدے فلا تحل لم من بعد حتی تنکح زوھا غیرہ۔ جواب شرط۔ لا یحل۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب ۔ حل (باب ضرب) مصدر۔ وہ عورت حلال نہیں ۔ تنکح واحد مؤنث غائب نکاح (باب ضرب) زوجا غیرہ۔ زوجا (اسم مفعول) جوڑا (حیوانات سے) نر اور مادہ کا علیحدہ علیحدہ بھی زوج کہتے ہیں۔ اسی طرح غیر حیوانات میں بھی ہر اس شے کو جو دوسری شے کے قرین ہو خواہ مماثل ہو یا متضاد ۔ زوج کہتے ہیں۔ جیسے آسمان و زمین سفیدی، سیاہی وغیرہ۔ زوجہ اس مرد کی بیوی۔ اور زوجھا اس عورت کا خاوند۔ یہاں زوجا بمعنی دوسرا خاوند۔ غیرہ پہلے خاوند کے سوا۔ حتی تنکح زوجا غیرہ۔ جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ تنکح۔ وہ (عورت) نکاح نہ کرلے۔ یہاں اس آیت میں نکاح سے مراد وطی کرنا ہے۔ تفسیر ماجدی میں ہیـ: نکاح یہاں اپنے اصطلاحی شرعی معنی میں یعنی عقد نکاح کے مرادف نہیں۔ بلکہ اپنے اصلی اور لغوی معنی میں یعنی ہمبستری کے مرادف ہے۔ فان طلقھا۔ جملہ شرطیہ یعنی اگر وہ دوسرا خاوند اس عورت کو طلاق دیدے۔ فلا جناح علیہما ان یتراجعا۔ علیہما اور یتراجعا میں تثنیہ کا صیغہ اس عورت اور اس کے پہلے خاوند کے لئے آیا ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔ ان مصدریہ ہے۔ یتراجعا۔ مضارع منصوب کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے تراجع (تفاعل) مصدر۔ کہ دونوں نکاح کی طرف لوٹیں یعنی (دوبارہ) آپس میں نکاح کرلیں۔ ان ظنا۔ ان شرطیہ۔ ظنا ماضی تثنیہ مذکر غائب ۔ ظن (باب نصر) مصدر۔ بمعنی اٹکل کرنا ۔ گمان کرنا۔ ظن۔ بمعنی یقین بھی آیا ہے۔ جیسے وظن انہ الفراق (75:28) اور اس نے یقین کیا کہ آیا اب وقت جدائی کا۔ یہاں آیت ہزا میں ان ظنا بمعنی دونوں کو یقین ہو یا گمان غالب ہو۔ ان ظنا ان یقیما حدود اللہ۔ اگر وہ دونوں یقین رکھتے ہوں کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ جملہ شرطیہ ہے۔ جواب شرط وہی جملہ مذکورہ بالا۔ فلاجناح علیہما ان یتراجعا ہے جملہ ہذا میں ان مصدریہ ہے۔ بینھما۔ یبین۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ تبیین (تفعیل) مصدر۔ وہ کھول کر بیان کرتا ہے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ قوم یعلمون۔ قوم جو علم رکھتی ہے۔ یعنی اہل عقل و دانش۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(2:231) بلغن۔ ماضی جمع مؤنث غائب۔ بلوغ (باب نصر) وہ پہنچیں۔ وہ پہنچ جائیں۔ اجلہن۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔ ان کی مدت مقررہ۔ اجل۔ مدت مقررہ۔ اسی وجہ سے موت کو بھی اجل کہتے ہیں۔ اجال جمع۔ امسکوھن۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھن۔ ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ان عورتوں کو روک رکھو۔ ان کو رکھ لو۔ سرحوھن۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب تسریح (تفعیل) مصدر۔ تم ان عورتوں کو رخصت کردو۔ تم ان عورتوں کو چھوڑ دو ۔ بمعروف۔ معروف طریقہ پر۔ شرافت اور عزت کے ساتھ۔ لا تمسکوھن۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ان کو مت روک رکھو۔ ضراراً ۔ مفعول لہ۔ ضار یضار۔ ضرارا ومضارۃ مصدر (باب مفاعلہ) ایذا دینا۔ تکلیف پہنچانا۔ ضرور پہنچانا۔ ایک دوسرے کو گزند پہنچانا۔ لتعتدوا۔ یہ لام لا تمسکوھن کے متعلق ہے اور یہ بھی مفعول لہ ہوکر ضرارا کا بیان ہے۔ ولا تمسکوا ۔۔ لتعتدوا۔ اور تکلیف دینے کے لئے انہیں نہ روکو۔ کہ پھر (ان پر) زیادتی کرنے لگے۔ یعنی زیادہ دنوں تک رکھنے اور کچھ دینے پر مجبور کرنے کے ساتھ ان پر ظلم کرو۔ تعدوا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم حد سے گذر جاؤ۔ لا تتخذوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ نون اعرابی حذف ہوگیا ہے ۔ تم مت بناؤ ۔ تم مت پکڑو۔ ھزوا۔ ھزا۔ یھزأ (باب فتح) وھزی۔ یھزا (باب سمع) کا ھزو مصدر ہے۔ مذاق اڑانا۔ ٹھٹھا کرنا۔ یہاں بطور اسم مفعول ہے۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ اور اللہ کی آیات کو ہدف مذاق مت بناؤ۔ وما انزل میں ما کا عطف نعمت اللہ پر ہے۔ ای واذکروا ما انزل ۔۔ یعنی اللہ نے جو نعمتیں تم پر نازل کیں۔ ان کو یاد کرو اور (اس) کتاب اور حکمت کو بھی یاد کرو جو اس نے (اپنے رسولوں کی معرفت) تم پر نازل کیں۔ یعظکم بہ۔ جس کے ذریعہ وہ تم کو نصیحت کرتا رہتا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما انزل کی طرف راجع ہے۔ اتقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ تم ڈرو۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو اتقوا اللہ۔ تم اللہ سے ڈرتے رہو۔ تم اللہ سے ڈرو۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو، اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(2:232) واذا طلقتم ۔۔ بالمعروف میں واذا ۔۔ اجلھن۔ جملہ شرطیہ ہے اور فلا تعضلوھن ۔۔ ازواجھن۔ جواب شرط ۔ اذا تراضوا میں اذا ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب کہ۔ لا یعضلوھن۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ عضل (باب نصر) مصدر سے۔ جس کے معنی عضلہ (پٹھا) پکڑ کر باندھ دینا۔ یا دوسرے الفاظ میں سختی سے روک دینا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر حاضر یا تو پہلے خاوندوں کے لئے ہے یا عورتوں کے سرپرستوں کے لئے۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ جس کا مرجع وہ عورتیں جن کو دوبارہ طالق دی جا چکی ہو۔ یعنی وہ عورتیں جن کو دوبارہ طلاق دی جاچکی ہو ان کو اپنے خاوندوں سے (اس سے مراد ان کے پہلے خاوند ہیں یا نئے خاوند ہیں جن سے وہ نکاح کرنا چاہیں) نکاح کرنے سے مت روکو۔ ان ینکحن۔ میں ان مصدریہ ہے ینکحن مضارع جمع مؤنث غائب نکاح مصدر کہ وہ عورتیں نکاح کریں یا نکاح کرلیں۔ تراضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تراضی (تفاعل) مصدر۔ وہ آپس میں راضی ہوئے یعنی وہ مطلقہ عورتیں اور ان کے خاوند پہلے یا نئے جن سے وہ نکاح کرنے پر باہمی رضا مند ہوں۔ بالمعروف۔ معروف کے معانی ہیں۔ جانی پہچانی چیز۔ قانون۔ قاعدہ ، دستور ، حسن معاملہ، حسن معاشرت اچھا طریق۔ ذلک۔ یہ ۔ اشارہ اس طرف ہے جو عورتوں کو روکنے سے پرہیز کرنا۔ اور باہم رضا مندی کا خیال رکھنا۔ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ یوعظ بہ۔ یؤعظ۔ مجارع مجہول واحد مذکر غائب۔ وعظ (باب ضرب) مصدر سے وہ نصیحت کیا جاتا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ذلک کی طرف راجع ہے۔ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاخر۔ یہ جملہ اپنی تمام تاویلات صرفی و نحوی کے یوعظ کا مفعول مالم یسم فاعلہ ہے۔ تم میں سے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ذلکم۔ یہ۔ یہی۔ ذا۔ اسم اشارہ بعید کے لئے آتا ہے۔ کم حرف خطان ہے اور اسی لئے مخاطب کے حالات کے اعتبار سے تذکیر۔ تانیث۔ تثنیہ۔ جمع میں بدلتا رہتا ہے۔ ازکی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ پاک و پاکیزہ۔ اعظم برکۃ ونفعا۔ برکت اور نفع میں بڑھ کر۔ اطھر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ پاک۔ زیادہ پاکیزہ۔ بھارۃ (باب نصر) مصدر۔ پاک ہونا۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

والوالدات۔ اسم فاعل جمع مؤنث۔ الوالدۃ۔ واحد۔ ولادۃ (باب ضرب) بمعنی عورت کا بچہ جننا۔ والدات۔ مائیں۔ آیت ہذا سے پہلے اور پیچھے چونکہ دونوں جگہ مطلقہ عورتوں کا ہی بیان ہے اسی لئے سیاق وسباق کا لحاظ کرتے ہوئے والدات سے مراد یہاں مطلقہ عورتیں ہی ہیں اور ان ہی کے لئے رضاعت کی یہ مدت بیان کی گئی ہے۔ عمومی رضاعت کا اس میں ذکر نہیں۔ اس کے متعلق قرآن مجید کی آیت یہ آئی ہے۔ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31:14) اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے اسے جننے کے بعد) اور آخر کار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ یا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا (46:15) اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے اس کو جنا۔ اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینوں میں ہوتا ہے۔ بعض کے نزدیک الوالدات سے مراد جمیع والدات ہیں خواہ وہ مطلقات ہوں یا متزوجات۔ یرضعن۔ مضارع جمع مؤنث غائب مضارع بمعنی امر استجابی (مستحب) ہے۔ ارضاع (باب افعال) وہ دودھ پلائیں۔ جیسے اوپر آیت 2:228 میں یتربصن مضارع بمعنی امر آیا ہے ۔ الرضاعۃ۔ دودھ پلانا۔ (باب ضرب۔ سمع۔ فتح۔ تینوں سے آتا ہے) حولین کاملین۔ موصوف وصفت۔ پورے دو سال۔ لمن اراد ان یتم الرضاعۃ۔ ای ھذا الحکم لمن اراد ۔۔ الرضاعۃ۔ یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ علی۔ (اس کے) ذمہ۔ المولود لہ۔ ای الذی یولدلہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب اس الذی (مقدرہ) کی طرف راجع ہے المولود۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر۔ جنا ہوا۔ جس کے لئے وہ جنا گیا ہے۔ لہ۔ میں لام اختصاص کا ہے۔ بجائے الوالد۔ کے المولود لہ آیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ مائیں بچوں کو ان کے باپوں کے لئے جنتی ہیں کیونکہ مولود باپ دادا کی اولاد ہوتی ہے اور انہیں کی طرف منسوب کی جاتی ہے نہ کہ ماؤں کی طرف۔ وعلی المولود لہ۔ اور باپ کے ذمہ (ہے) ۔ رزقھن وکسوتھن۔ خوارک ان کی اور لباس ان کا ۔ کسوۃ واحد کساء جمع کسی یکسی (باب سمع) متعدی بیک مفعول۔ لباس پہننا۔ اور کسی یکسوا (باب نصر) متعدی بد و مفعول لباس پہنانا۔ یا پہننے کو دینا۔ باب نصر کی مثال ثم نکسوھا لحما (2:259) پھر ہم ان (ہڈیوں) پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ باب سمع سے قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا بالمعروف۔ دستور کے مطابق۔ عادت رائج الوقت کے مطابق۔ اعتدال کے ساتھ کہ کسی فریق پر ناجائز بوجھ نہ ہو۔ لا تکلف۔ مضارع منفی مجہول واحد مؤنث غائب۔ تکلیف (تفعیل) مصدر سے اسے تکلیف نہیں دی جائے گی۔ الا رسعھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی طاقت۔ اس کی وسعت۔ اس کی سمائی سعۃ (باب سمع) سے مصدر۔ لاتضار۔ فعل نہی معروف (مجہول بھی ہوسکتا ہے) صیغہ واحد مؤنث غائب۔ مضارۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ بمعنی ربنج پہنچانا۔ تنگ کرنا۔ ضرر پہنچانا۔ دکھ دینا نہی معروف کی صورت میں لاتضار اصل میں لا تضارر تھا۔ دو را اکٹھی ہوگئیں۔ پہلی راہ کو دوسری راہ میں مدغم کیا اور دوسری راہ اجتماع ساکنین کے سبب متحرک ہوگئی اور چونکہ اس سے ماقبل فتح اور الف تھا۔ اس لئے تجانس کے سبب فتح کے ساتھ متحرک ہوگئی جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے : من یرتد منکم عن دینہ (5:54) کہ یرتد (باب افتعال) اصل میں (بطور مضارع مجزوم) یریدد تھا۔ دکود میں مدغم کیا۔ اجتماع ساکنین سے دوسری د متحرک ہوگئی۔ بوجہ ماقبل پر فتح پر فتح کے فتح کے ساتھ متحرک ہوگئی۔ اور یرتد ہوگیا ۔ بولدھا۔ ب سبب یہ ہے والدھا۔ مضاف مضاف الیہ ۔ بسبب اس کے بچے کے۔ بسبب اپنے بچے کے۔ ولا مولود لہ بولدہ۔ ای ولا یضار مولود لہ بسبب ولدہ۔ اس جملہ کا عطف ماقبل کے جملہ پر ہے۔ مطلب یہ کہ : نہ ماں اپنے بچے کے ذریعے (یعنی اس کو دکھ پہنچا کر) باپ کو دکھ پہنچائے اور نہ باپ اپنے بچے کو ذریعے (یعنی اس کو دکھ پہنچا کر) ماں کو دکھ پہنچائے۔ لہا اور لہ (اپنے) میں اضافت کی تکرار اس لئے لائی گئی تاکہ وہ سمجھیں کہ اس طرح اول دکھ تو وہ اپنے بچے کو پہنچا رہے ہیں۔ اگر لاتضار کو نفی مجہول لیا جائے تو اس کی صورت یہ ہوگی۔ تضاد اصل میں لاتضارر تھا۔ دور اکٹھے ہوئے ایک کو دوسری میں مدغم کیا۔ دوسری ر کو پہلی ر کی فتح کے ساتھ متحرک کیا۔ لاتضار ہوگیا۔ مجہول ہونے کی صورت میں بھی وہی معنی ہیں جو معروف ہونے کی صورت میں ہیں لیکن عکس ترتیب کے ساتھ۔ وعلی الوارث مثل ذلک۔ اس جملہ کا عطف جملہ وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف پر ہے۔ اور درمیانی کلام بطور جملہ معترضہ المعروف کی تفسیر ہے۔ الوارث سے مراد باپ کے وارث اور لڑکے کے وارث دونوں ہی ہوسکتے ہیں۔ اور ذلک سے مراد وہ ذمہ داریاں جو باپ کے ذمہ تھیں۔ یعنی رزقھن وکسوتھن وغیرہ وغیرہ۔ فان ارادا فصالا عن تراض منھما وتشاور۔ جملہ شرطیہ ۔ فلا جناح علیہما جواب شرط۔ ان ارادا ماضی تثنیہ مذکر غائب ان شرطیہ ۔ اگر وہ دونوں چاہیں۔ فصالا۔ اسم فعل۔ بچہ کا دودھ چھڑانا۔ باب مفاعلہ سے مصدر بھی ہے۔ یعنی باہم جدا ہونا۔ یہاں اول الذکر معنی مراد ہیں۔ تراض۔ باہمی رضا مندی۔ آپس کی خوشی۔ ایک دوسرے سے راضی ہونا۔ تراضی (تفاعل) مصدر ہے ی حرف علت بوجہ ثقالت کے ساقط ہوگئی۔ تشاور۔ آپس میں مشورہ کرنا۔ بروزن تفاعل مصدر ہے۔ وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم۔ جملہ شرطیہ اور اگلا جملہ جواب شرط ہے۔ ان شرطیہ اردتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ارادۃ (باب افعال) مصدر۔ تم نے چاہا۔ مصدریہ۔ تسترضعوا۔ مضارع منصوب جمو مذکر حاضر۔ استرضاع (استفعال) مصدر۔ ان تسترضحوا اولادکم میں اولادکم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر تسترضعوا کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول محذوف ہے والمراد ان تسترضعوا المراضع لاولادکم او المراضع والمرضعات جمع لمرضعۃ ومرضع۔ دودھ پلانے والی عورت) ۔ مطلب یہ کہ اگر تم چاہو کہ تم اپنی اولاد کو کسی دوسری دودھ پلانے والی عورت سے دودھ پلواؤ۔ فلا جناح علیکم تو کوئی حرج نہیں جملہ جواب شرط میں ہے۔ اذا اسلتمتم ما اتیتم بالمعروف۔ جملہ شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے اس پر اس کا ما قبل دلالت کرتا ہے (الاتقان) تم نے دودھ پلانے والیوں کو ادا کردیا۔ سلمتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تسلیم (تفعیل) مصدر ۔ سپرد کرنا۔ سلمتم۔ ای سلمتم الی المراضع۔ تم نے دودھ پلانے والیوں کو ادا کردیا۔ ما موصولہ ہے۔ اتیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ تم نے دیا۔ صلہ ہے اپنے موصول کا۔ صلہ اور موصول مل کر مفعول ثانی ہے سلمتم کا ۔ جو کچھ تم نے دینا تھا۔ المراضع کا مفعول اول ہے۔ مطلب یہ ہے : بشرطیکہ تم نے دودھ پلانے والی عورتوں کو دستور کے مطابق جو دینا تھا ادا کردیا ہو۔ المعروف۔ یہ سلمتم کے متعلق ہے۔ یعنی ایسا طریقہ جو شریعت میں مستحسن اور متعادف ہو۔ واتقوا اللہ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اعلموا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ علم (باب سمع) مصدر۔ تم جان لو۔ بصیر بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ واتقوا اللہ ۔۔ بصیر۔ یہ بچوں اور اناؤں کے متعلق جو پہلے بیان کیا گیا ہے اس کی حفاظت اور اس پر کار بند ہونے کی تاکید ہے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا تمہارے سارے کاموں سے واقف ہے

(2:234) یترفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ توفی (تفعل) مصدر۔ وی۔ مادہ الوافی۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب کوئی چیز ماپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو۔ اور کہتے ہیں توفیت الشی اذا اخذتہ وافیا وتاما۔ کسی چیز کو پوری طرح اور مکمل طور پر لینا۔ یتوفون (جب) ان کی روحیں مکمل طور پر قبضہ میں لی جاتی ہیں۔ یعنی مرجاتے ہیں ان کی روحیں قبض کی جاتی ہیں۔ اسی سے فوت ہوجانا بمعنی مرجانا ہے۔ والذین یتوفون منکم۔ تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں یا مرجائیں۔ یذرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ چھوڑیں یا چھوڑ جائیں۔ یا چھوڑ دیتے ہیں۔ وذر (باب ضرب) مصدر یذرون اصل میں یوذرون تھا۔ لیکن عمومی تلفظ مضارع کا باب سمع سے کیا جاتا ہے وہ چھوڑ دیتا ہے۔ یذرون وہ چھوڑیں یا چھوڑ جائیں اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع (62:9) تو خدا کی یاد کی طرف (یعنی نماز کی طرف) جلدی کرو۔ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ۔ ویذرون ازواجا۔ اور وہ پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں۔ یتربصن بانفسھن۔ مضارع بمعنی امر۔ یعنی وہ اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ یا انتظار کریں نیز ملاحظہ ہو (2:228) اربعۃ اشھر وعشرا۔ چار ماہ اور دس دن۔ فائدہ : تین سے دس تک اگر معدود مذکر ہو تو عدد مؤنث آتا ہے اور اگر معدود مؤنث ہو تو عدد مذکر آتا ہے۔ عشرا مذکر ہے پس اس کا معدود مؤنث ہونا چاہیے وہ لیال (محذوف) ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ عشرۃ دس دن کی بجائے عشرا (دس رات) کیوں استعمال ہوا ہے۔ اس کے متعلق مختلف جوابات مفسرین نے دیئے ہیں۔ منجملہ یہ کہ عرب ایسے موقعہ پر جب معدود ملفوظ نہ ہو۔ عدد مؤنث استعمال نہیں کرتے چناچہ صمت عشرۃ نہیں کہیں گے۔ بلکہ صمت عشرا کہیں گے۔ حالانکہ روزہ دن کو رکھا جاتا ہے اسی طرح قرآن مجید میں ہے۔ ان لبثتم الاعشرا (20:103) تم (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے ہو۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ لفظ عشرا کو مؤنث ذکر کرنا لیالی کے اعتبار سے ہے کیونکہ لیالی کے اعتبار سے ہی مہینوں اور دنوں کی ابتداء ہوتی ہے۔ عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی عدد کو لیالی اور ایام میں مبہم کرنا منظور ہوتا ہے تو لیالی کو ایام پر غلبہ دے کر لیالی کا استعمال کرتے ہیں اور ایسے موقعہ پر مذکر کا استعمال نہیں کرتے۔ فلا جناح علیکم۔ میں خطاب عام اہل امت کو ہے ۔ ای ایھا الائمۃ والمسلون جمیعا۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں، خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے (مگر ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول وقرار نہ کرنا اور جب تک عدت پوری نہ ہو لے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

(2:235) لا جناح علیکم۔ یہاں خطاب مطلقہ عورتوں کو جو عدت کی مدت پوری کر رہی ہوں ان کے ساتھ نکاح کا ارادہ رکھنے والے مردوں سے ہے۔ فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسائ۔ فی بمعنی اس بارے میں ۔ یا اس بابت ما موصولہ۔ عرضتم ب ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تعریض (تفعیل) مصدر ۔ اشارۃ یا کفایۃ کہنا۔ تم نے اشارۃ یا کنایۃ کہا۔ جو تم نے مبہم طور پر بغیر کھولے بات کی۔ لغات القرآن میں تفسیر کبیر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے۔ امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں رقم طراز ہیں تعریض لغت میں تصریح کی ضد ہے۔ اور اس کے معنی ہیں اپنی کلام میں ایسی چیز کو لے آنا کہ جو اپنے مقصود پر بھی دلالت کی صلاحیت رکھتی ہو اور غیر مقصود پر بھی مگر جانب مقصود کی طرف اس کی رہنمائی زیادہ مکمل اور زیادہ راجح ہو۔ یہ اصل میں عرض الشیٔ سے ماخوذ ہے جس کے معنی جانب اور کنارے کے ہیں۔ گویا تعریض کرنے والا شخص اپنے مقصد کے گرد کھومتا ہے مگر اسے طاہر نہیں کرتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک حاجت مند شخص ایک شخص سے کہ جو اس کی حاجت برآری کرسکتا ہو کہنے لگے میں تو حضور کے سلام کو حاضر ہوا ہوں اور محض آپ کی زیارت کو آیا ہوں۔ اسی معنی میں یہ مصرعہ ہے۔ وحسبک بالتسلیم منی تقاضا (تجھ سے تقاضے کو میرا سلام ہی کافی ہے) ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما موصولہ کی طرف راجع ہے۔ من خطبۃ النساء متعلق عرضتم بہ ہے۔ خطبہ پیغام نکاح۔ نکاح کی بات چیت۔ خطب یخطب (باب نصر) کا مصدر ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ : اے مردو جو متذکرہ بالا عدت پوری کرنے والی عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہو نکاح کے سلسلہ میں جو بات تم تعریضاً کہو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ او اکننتم فی انفسکم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اکننتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے دل میں چھپا دیا۔ تم نے دل میں محفوظ رکھا۔ اکنان (افعال) مصدر۔ دل میں چھپانا۔ محفوظ رکھنا۔ در مکنون چھپا ہوا موتی۔ یا تم (ارادہ نکاح کو) اپنے دلوں میں ہی چھپائے رکھو (تب بھی تم کو) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ستذکرونھن۔ س مضارع پر داخل ہوکر معنی میں کردیتا ہے۔ تذکرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث۔ غائب۔ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ لاتواعدوھن سرا۔ التواعدوھن۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب تواعدوا مصدر مواعدۃ (مفاعلۃ) سے ہے۔ جس کے معنی کسی سے وعدہ کرنے کے ہیں تم ان سے وعدہ نہ کرو۔ سرا۔ سر۔ چھپی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ بھید۔ راز۔ دل میں جو بات چھپی ہو اس کو سر کہتے ہیں۔ اس کی جمع اسرار ہے بطور کنایہ اور مجاز کے سر بمعنی جماع ۔ نکاح، نکاح کرنے کا اظہار کرنا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے یہاں یہ بطور نکاح مستعمل ہے۔ سرا مفعول بہ ہے۔ ای لا تواعدوھن نکاحا (لیکن) ان عورتوں سے (ایام عدت) میں باہم نکاح کا وعدہ نہ کرو۔ الا حرف استثناء ان تقولوا قولا معروفا۔ مستثنی۔ یہ مستثنی مفرغ ہے یعنی وہ مستثنی جس کا مستثنی منہ مذکور نہ ہو ای لا تواعدوھن مواعدۃ لا مواعدۃ معروفۃ یعنی ان سے باہمی کوئی مواعدہ نہ کرو سوائے معروف طریقہ کے مواعدہ کے جس کا ذکر فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء میں اوپر ہوچکا ہے۔ ان مصدریہ ہے۔ ولا تعزموا عقدۃ النکاح۔ لاتعزموا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ عزم (باب ضرب) عزم کرنا۔ قصد کرنا۔ عقدۃ النکاح مضاف مضاف الیہ مل کر لا تعزموا کا مفعول ۔ عقد نکاح۔ نکاح کی بندش۔ نکاح کی گرہ۔ ترجمہ : اور نہ ارادہ کرو عقد نکاح کا عقدۃ کے معنی گرہ۔ بندش۔ روکاوٹ۔ لکنت۔ مثلاً کہتے ہیں عقد لسانہ۔ اس کی زبان پر گرہ لگا دی گئی۔ اور فی لسانہ عقدۃ۔ اس کی زبان میں لکنت ہے قرآن مجید میں ہے واحلل عقدۃ من لسانی (20:27) اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ الکتب۔ ای ماکتب من العدۃ۔ عدت کی مقرر کردہ مدت۔ اجلہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی مدت مقررہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے۔ حتی۔ حرف جر ہے۔ انتہاء غایت کے لئے ہے۔ تاآنکہ عدت کی مقررہ مدت اختتام کو پہنچ جائے۔ فاحذروہ۔ احذروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرو۔ حذر (باب سمع) مصدر۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے پس تم اس سے (یعنی خدا سے) ڈرو۔ یا ڈرتے رہو۔ غفور۔ صیغہ مبالغہ۔ بڑا بخشنے والا۔ بڑا معاف کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ حلیم۔ حلم سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت برباد۔ تحمل والا۔ جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے والا۔ باوقار۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

(2:236) مالم تمسوھن۔ ما۔ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) ما۔ شرطیہ ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اگر تم نے ان سے مجامعت نہیں کی۔ (2) ما۔ مصدریہ ہے ۔ ترجمہ ہوگا ۔ کہ ابھی تک تم نے ان سے مجامعت نہیں کی۔ (3) ما۔ موصولہ ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا ۔ جن سے تم نے (ابھی تک) مجامعت نہیں کی۔ لم تمسوا۔ مضارع نفی جحدبلم۔ جمع مذکر حاضر۔ مس۔ مساس ومماسۃ (باب نصر و سمع) چھونا۔ لگ جانا۔ رگڑ لگ جانا۔ لاحق ہونا۔ قرب صنفی یعنی جماع کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب مالم تمسوھن۔ جن کو تم نے (ابھی تک) چھوا نہیں۔ جن سے تم نے (ابھی تک) مجامعت نہیں کی۔ اوتفرضوا لہم فریضۃ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای اولم تفرضوا لہم ۔۔ یا نہیں مقرر کیا تم نے۔ نہیں متعین کیا تم نے۔ نہیں فرض کیا تم نے ۔ فرض (باب ضرب) مصدر۔ فرض اگر علی کے ساتھ آئے تو اس کے معنی کسی چیز کے واجب اور ضروری قرار دینے کے ہیں۔ جیسے ان الذی فرض علیک القران (28:85) بیشک جس نے (یعنی خدا نے) تم پر قرآن (کے احکام کو) فرض کیا ہے اور جب فرض لام کے ساتھ آئے تو متعین کرنے اور مقرر کرنے کے معنی دیتا ہے۔ جیسے قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (66:2) خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفاریہ مقرر کردیا ہے۔ آیت ہذا میں بمعنی مقرر کرنا۔ متعین کرنا مستعمل ہے۔ فریضۃ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مؤنث۔ اس کی جمع فرائض ہے۔ مقرر کیا ہوا مہر۔ لازم کیا ہوا حکم ۔ یہاں مقرر کیا ہوا مہر مراد ہے۔ فریضۃ (فعلیۃ) کے وزن پر بمعنی مفعول ہے۔ اس میں ت اس لئے لائی گئی ہے کہ لفظ و صفت سے اسمیت کی طرف منتقل ہوجائے۔ اس کا منصوب ہونا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔ ومتعوھن۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر تمتیع (تفعیل) مصدر۔ متاع وہ سامان ہے جو کام میں آتا ہے۔ جس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ وہ مال جو کسی عورت کو قربت سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں جب کہ مہر کی کوئی مقدار مقرر نہ کی گئی ہو دیا جاتا ہے ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ متعوھن تم ان (عورتوں) کو کچھ متاع دیدو ومتعوھن کا عطف مقدر پر ہے ای فطلقوھن ومتعوھن۔ یعنی طلاق دیدو اور ان کو اس قدر متاع دو کہ وہ اس سے کچھ فائدہ حاصل کریں۔ علی الموسع قدرہ وعلی المقترقدرہ یہ متعوھن کی صراحت ہے۔ متعوھن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس قدر متاع مطلقہ کو دیا جائے۔ یہاں اس کی وضاحت کی ہے کہ مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ صاحب ثروت اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق دیوے۔ الموسع۔ اسم فاعل واحد مذکر ایساع (افعال) مصدر۔ مالدار۔ وسعت والا۔ المقتر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ المقر۔ اسم فاعل جس کے معنی اس دھواں کے ہے جو کسی چیز کے بھوننے یا لکڑی کے جلنے سے اٹھتا ہے۔ گویا مقتر اور مقتر بھی ہر چیز سے دھوئیں کی طرح لیتا ہے۔ یعنی لکڑی جو جل رہی ہوتی یا ترکاری جو پک رہی ہوتی ہے وہ تو ملتی نہیں صرف بھاپ سونگھنے کو مل جاتی ہے۔ قترو قترۃ وقترۃ۔ بمعنی گردوغبار۔ قتر (باب ضرب و نصر) قتر۔ مصدر بمعنی تنگی سے گذارہ کرنا۔ قدرہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی وسعت۔ اس کی گنجائش۔ علی الموسع قدرہ۔ مالدار کے لئے اس کی وسعت کے مطابق (متاع دیتا ہے) اور تنگ حال کے لئے اس کی طاقت کے مطابق۔ متاعا۔ اسم مصدر ہے لیکن بطور مصدر بمعنی تمتیعاً استعمال ہوا ہے ای متعوھن تمتیعا۔ بدیں وجہ منصوب ہے۔ (متاعا فائدہ پہنچانا معروف طریقہ سے) ۔ حقا علی المحسنین۔ اسکی دو صورتیں ہیں : (1) یہ متاعا کی صفت ہے ای متاعا واجبا علیہم۔ یعنی متاع جو کہ (محسنین) پر واجب ہے۔ (2) بطور مفعول مطلق استعمال ہوا ہے ای حق ذلک حقا۔ یہ متعہ کا دینا محسنین پر واجب ہے۔ محسنین۔ احسان کرنے والے ۔ بھلائی کرنے والے۔ نیک کار۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(2:237) وقد فرضتم لہم فریحۃ۔ درآنحالیکہ تم نے ان کا مہر مقرر کیا ہوا ہے وضع حال میں ہے فنصف ما فرضتم ۔ ای فلھن نصف الفریضۃ۔ تو اسی مقرر کردہ مہر کا نصف ان عورتوں کو ادا کرو۔ ما۔ موصولہ ہے۔ الا ان یعفون۔ الا حرف استثناء ان مصدریہ یعفون۔ مضارع جمع مؤنث غائب عفو (باب نصر) وہ عورتیں معاف کردیں۔ مگر یہ کہ وہ عورتیں (اپنا حق) معاف کردیں۔ او۔ حرف عطف ہے۔ یا۔ یعفو۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ یا یہ کہ وہ معاف کردے۔ الذی بیدہ عقدۃ النکاح جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے بعض نے اس سے مراد عورت کا ولی لیا ہے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس سے مراد عورت کا شوہر ہے کیونکہ یہ شوہر ہی ہے جو نکاح کے باندھنے اور کھولنے کا مالک ہے اس سورت میں شوہر کے معاف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا نصف حصہ بھی عورت کو دیدے اس طرح پورا مہر عورت کی طرف آجائے گا۔ وان تعفوا اقرب للتقوی واؤ عاطفہ ہے ان مصدریہ ہے تعفوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وان تعفوا مبتدا۔ اقرب للتقوی۔ خبر۔ تمہارا معاف کردینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے۔ لعفوا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اس میں خطاب (1) خاوند سے ہے۔ ای ھو خطاب للزوج والمعنی ولیعف الزوج فیترک حقہ الذی ساق من المھر الیہا قبل الطلاق فھو اقرب للتقوی۔ یہ خطاب خاوند سے ہے اور معنی اس کے یہ ہیں کہ خاوند معاف کر دے اور مہر جو اس نے طلاق سے قبل بیوی کو ادا کیا ہوا ہے اس میں سے اپنے حصہ پر اپنے حق کو ترک کر دے یعنی وہ بھی معاف کر دے۔ یہ پرہیزگاری سے زایدہ قریب ہے۔ یہ صورت تب پیدا ہوگی کہ جب خاوند نے مجامعت سے قبل ہی پورا مہر عورت کو ادا کردیا ہو اور اب قربت سے قبل ہی طلاق کی صورت میں آدھا تو عورت کو بمصداق فنصف ما فرضتم اسے معاف کرنا ہی پڑے گا۔ تو باقی نصف جس کا وہ مستحق ہے اسے واپس لینے کی بجائے وہ بھی عورت کو معاف کر دے۔ (2) یہاں خطاب مردوں اور عورتوں دونوں کو ہے۔ والمعنی وعفو بعضکم عن بعض ایھا الرجال والنساء اقرب الی حصول التقوی۔ اے مردو اور اے عورتو ! تمہارا ایک دوسرے کو معاف کردینا (یعنی عورت سارا مہر معاف کردے یا مرد سارا مہر ادا کردے) حصول تقوی کی بہتر صورت ہے۔ ولا تنسوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نسیان (باب سمع) مصدر۔ تم مت بھولو۔ تم فراموش مت کرو۔ الفضل۔ اسم فعل۔ آپس کے تعلقات کی بھلائی۔ میاں بیوی کے سلوک میں خوشگواری۔ پاسداری، لحاظ، مروت اور اگر اللہ کی طرف سے ہو تو بمعنی خیر و برکت۔ ہدایت و کرم۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

(2:238) حفظوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ محافظۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ تم محافظت کرو۔ تم نگرانی کرو۔ تم حفاظت کرو۔ الصلوت۔ نمازیں۔ جمع الصلوۃ۔ واحد۔ والصلوۃ الوسطی۔ موصوف و صفت۔ درمیانہ نماز۔ الوسطیاسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ الاوسطمذکر۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای حفظوا علی الصلوت وحفظوا علی الصلوۃ الاوسط۔ یہ خاص کا عطف عام پر مزید اہتمام کے لئے ہے۔ یعنی تمام نمازوں کی حفاظت کرو خاص کر صلوٰۃ وسطی کی۔ الصلوٰۃ الوسطی سے کونسی نماز مراد ہے اس پر متعدد اقوال ہیں (1) نماز فجر۔ حضرت عمر۔ حضرت عبد اللہ بن عمر۔ حضرت ابن عباس ؓ و امام مالک، امام شافعی، عکرمہ۔ معاذ بن جبل۔ امام ابوحنیفہ (رح) علیہم۔ (2) نماز ظہر۔ زید بن ثابت ۔ ابو سعید خدری۔ اسامہ بن زید ؓ (3) نماز عصر۔ حضرت ابن مسعود۔ ابو ایوب انصاری۔ ابوہریرہ۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ قتادہ ؓ ۔ حسن بصری (رح) ۔ (4) نماز مغرب۔ قبیصہ بن ذویب ؓ ۔ لیکن سلف میں سے کسی نے اس کو نقل نہیں کیا۔ بعض متاخرین کے نزدیک بغیر کسی روایتی ثبوت کے عشا بھی لکھا ہے۔ بعض علماء نے پانچوں نمازوں میں سے کوئی نماز مراد لی ہے۔ الہ تعالیٰ نے اس کو مبہم رکھا ہے تاکہ سب نمازوں کی پابندی کی جائے ۔ قوموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قیام (باب نصر) مصدر۔ تم کھڑے ہو۔ قنتین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت جرونصب۔ فرماں بردار اطاعت گزار قنوت (باب نصر) مصدر بمعنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنا۔ عبادت میں ہمہ تن مصروف ہونا۔ اور اس کے ماسوائے توجہ پھیرلینا۔ قرآن مجید میں ہے ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ (16:120) بیشک حضرت ابراہیم لوگوں کے امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (و اطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھا دیا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

فان خفتم فرجالا اور کبانا۔ ای فان خفتم من عدو وغیرہ فصلوا راجلین اور اکبین۔ ان شرطیہ خفتم من عدو وغیرہ جملہ شرطیہ۔ فصلوا راجلین اور اکبین جو اب شرط رجالا اور کبانا ضمیر فصلوا سے حال ہیں۔ اگر تم کو دشمن وغیرہ کا ڈر ہو تو پیادہ چلنے کی حالت میں یا سواری کی حالت میں نماز پڑھ لو۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں دشمن کی وجہ ست یا کسی اور وجہ سے ڈر ہو کہ نماز میں خشوع و خضوع۔ رکوع و سجود کی خاطر خواہ ادائیگی اور جملہ حقوق نماز کی ادائیگی بہ اہتمام تمام ملحوظ نہیں رکھی جاسکے گی تو تم پیادہ چلنے کی حالت میں یا کسی سواری پر سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لو خواہ دوران نماز قبلہ رخ رہنا بھی ممکن نہ ہو۔ یہ صلوۃ خوف ب دوران قتال و حرب ہے اور بدون حرب و قتال کے متعلق سورة النساء میں مفصل ارشادات ہیں۔ واذا کنت فیہم فاقمت لہم ۔۔ (4:102) فاذا امنتم۔عاطفہ ہے اذا ظرف زمان امنتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ پھر جب تم امن سے ہوجاؤ۔ اور خوف جاتا رہے فاذکروا اللہ۔ ای فصلوا للہ۔ کما۔ ک تشبیہ کے لئے ہے ما موصولہ یا مصدریہ ہے اور مالم تکونوا تعلمون ۔ علم کا مفعول ثانی ہے۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر ، مفعول اول۔ ترجمہ ہوگا : پھر جب تم امن سے ہوجاؤ۔ تو اللہ کو یاد کرو۔ یعنی نماز پڑھو جس طریق سے خدا نے تم کو (بتوسط نبی کریم ﷺ ) سکھایا ہے۔ جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔