2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی) عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا

(2:60) واذ یاد کرو ، جب ، (نیز ملاحظہ ہو 2:49) استسقی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ استسقاء (استفعال) مصدر اس نے پانی مانگا۔ اس نے پانی طلب کیا۔ سقی مادہ۔ السقی والسقیا کے معنی پانی پینے کی چیز دینے کے ہیں ۔ (مثلاً پانی ۔ شربت۔ شراب وغیرہ) ۔ سقی یسقی (باب ضرب) واسقی یسقی (باب افعال) پانی پینے کے لئے دینا۔ قرآن مجید میں اس کی مثالیں (1) باب ضرب سے وسقاھم ربھم شرابا طھورا (76 : 21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (2) باب افعال سے واسقیناکم ماء فراتا (77:27) اور تم کو میٹھا پانی پلایا السقایۃ پینے کا برتن ۔ جعل السقایۃ فی رحل اخیہ (12:70) اس نے اپنے بھائی کے شلیتے یا پالان میں پینے کا برتن رکھ دیا الحجر ۔ پتھر۔ اس میں الف لام عہد کا ہے (یعنی خاص پتھر مراد ہے) بعض کے نزدیک الف لام جنس کا ہے کوئی خاص پتھر نہ تھا۔ بلکہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ جس پتھر پر عصا مارتے اس میں سے چشمے ابل پڑتے فانفجرت۔ فا سببیہ ہے۔ فانفجرت سے قبل عبارت محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے فقلنا اضرب بعصاک الحجر فضرب فانفجرت۔ انفجرت ماضی واحد مؤنث غائب انفجار (انفعال) مصدر ۔ خوب پھوٹ نکلنا ۔ انفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر بھاڑنے اور شق کردینے کے ہیں۔ مثلاً بولتے ہیں فجرتہ فانفجر میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا تو وہ بہہ گیا۔ صبح کو فجر اس لئے بولتے ہیں کہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔۔ ان اضرب بعصاک الحجر فانبجست منہ اثنتا عشرۃ عینا (7:16) تو تم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ انفجار اور انبج اس میں فرق یہ ہے کہ انبج اس صرف کسی تنگ چیز سے بہہ نکلنے کا نام ہے اور انفجار کا استعمال تنگ مقام ہو یا فراخ دونوں کے متعلق ہوتا ہے۔ کل اناس ۔ اناس جمع جس کی لفظی طور پر واحد نہیں ہے بعض کے نزدیک غیر لفظی طور پر انسان کی جمع ہے یا انس کی۔ اس کے معنی ہیں لوگ۔ یہاں کل اناس کے معنی کل سبط ہر قبیلہ نے ہر گروہ نے۔ مشربھم مضاف مضاف الیہ ۔ مشرب اسم ظرف مکان ہے ھم ضمیر جمع مذکر غائب ہے بنی اسرائیل قوم موسیٰ کے لئے ہے۔ لا تعثوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، عثی اور عثی (باب سمع) مصدر سے۔ جس کے معنی فساد کرنے کے ہیں ۔ مفسدین۔ اسم فاعل جمع مذکر ، فساد ڈالنے والے، فساد کرنے والے ۔ یہ لا تعثرا کا حال مؤکد ہے۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہوسکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین میں سے اگتی ہیں ہمارے لئے پیدا کر دے، انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو ؟ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو وہاں جو مانگتے ہو مل جائے گا اور (آخر کار) ذلت (و رسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگئے یہ اس لئے کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اسکے) نبیوں کو ناحق قتل کردیتے تھے (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

واذا قلتم : ای واذکر الوقت اذ قلتم اور وہ وقت بھی یاد کرو جب تم نے کہا۔ طعامد احد مراد اس سے وہ خوارک تھی جو صحرائے تیہ میں ان کو بصورت من وسلوی ملتی تھی۔ طعام واحد اس لئے کہا کہ روز یہی دو چیزیں ایک ہی قسم کی بلا تنوع ملتی تھیں اور بس ۔ فادع لنا۔ فاء عاطفہ سببیہ ہے۔ ہمارے عدم صبر کے سبب سے ہمارے لئے مانگو۔ ادع فعل امر واحد مذکر حاضر دعوۃ باب نصر۔ مصدر سے ۔ تو مانگ۔ تو دعا کر۔ یخرج لنا۔ یخرج مضارع مجزوم بوجہ جواب امر، صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ضمیر کا مرجع ربک (تیرا رب ) ہے کہ ہمارے لئے پیدا کرے۔ یخرج لنا کے بعد شیئا محذوف ہے کہ کوئی ایسی شے پیدا کرے۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ تنبت الارض۔ تنبت مضارع واحد مؤنث غائب۔ انبات (افعال) مصدر ۔ جو زمین اگاتی ہے۔ مطلب یہ کہ اپنے رب سے دعا کرو کی ایسی چیز کے پیدا کرنے کی جو زمین سے اگتی ہو (از قسم ساگ ۔۔ الخ) من بقلھا۔ من بیانیہ ہے بقل ساگ، ترکاری۔ مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (الارض کے لئے) مضاف الیہ۔ قثائھا مضاف مضاف الیہ ۔ قثاء اسم جنس ہے، اس کی جمع نہیں آتی۔ ککڑی یا ککڑیاں۔ فومھا مضاف مضاف الیہ۔ فوم گیہوں (راغب ، ابن عباس) بنو ہاشم کی زبان میں بھی فوم گیہوں کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ بعض کے نزدیک جس اناج کی روٹی پکتی ہو اسے فوم کہتے ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ اصل میں فوم تھا۔ جس کے منعی لہسن کے ہیں۔ ثاء کو فاء سے بدل دیا ہے اور یہ جائز ہے جیسا کہ مغاثیر (مغثر کی جمع ایک قسم کی گوند ہے) مغافیر (مغفر کی جمع ایک درخت کی گوند) کہا جاتا ہے۔ عدسھا مضاف مضاف الیہ عدس بمعنی مسور۔ بصلہا مضاف مضف الیہ۔ بصل بمعنی پیاز۔ ان سب میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ قال ای قال موسیٰ اوقال اللہ۔ اس سے اگلی عبارت ماسئلتم تک اس قول کا مقولہ ہے۔ اتستبدلون ۔ الف استفہامیہ ہے۔ تستبدلون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ استبدال (استفعال) مصدر سے ۔ تم بدلتے ہو۔ الذی ھو ادنی اپنی جملہ تراکیب کے ساتھ یہ جملہ مفعول بہ ہے فعل تستبدلون کا ۔ اور بالذی ھو خیر متعلق فعل تستبدلون کا۔ ادنی مادہ دلو سے مشتق ہے اور دان ودنی کا اسم تفضیل ہے اس کے استعمال کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اگر اقصی کے بالمقابل آئے تو اقرب کے معنی دیتا ہے مثلاً اذا انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوی (8:42) جب تم (مدینے میں) قریب کے ناکے پر تھے۔ اور وہ (کافر) بعید کے ناکے پر (دنیا مؤنث ہے۔ ادنی کی اور قصوی مؤنث ہے اقصی کی۔ (2) اگر اکبر کے مقابلہ میں آئے تو بمعنی اصغر آتا ہے مثلاً ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر (32:21) اور ہم ان کو (قیامت کے دن) بڑے عذاب کے سوا عذاب اصغر، (دنیا کے عذاب) کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ (3) کبھی بمعنی اول (نشاۃ اولیٰ ) استعمال ہوتا ہے اور الاخر (نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً خسرالدنیا والاخرۃ (22:11) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ (4) کبھی ادنی بمعنی ارذل بھی آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر (2:61) بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ جب ادنی بمعنی ارذل ہو تو دنی کا اسم تفضیل ہوگا۔ دوسری صورتوں میں سے۔ اھبطوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ھبوط (باب ضرب) تم سب اترو، (نیز ملاحظہ ہو 2:36) متذکرۃ الصدر مصرا۔ اسم نکرہ باتنوین بمعنی کوئی شہر۔ مصر (باب نصر) شہر بنانا۔ شہر کو آباد کرنا۔ اھبطوا مصرا۔ جاؤ کسی شہر میں جارہو۔ فان لکم ماسئالتم یہ جملہ امر بالہبوط کی علت ہے یا جواب امر ہے۔ پس بیشک جو تم مانگتے ہو تم کو مل جائیگا۔ ضربت علیہم الذلۃ والمئکۃ۔ الصوب کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنے یعنی مارنے کے ہیں۔ اور مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً (1) ہاتھ ، لاٹھی ، تلوار وغیرہ سے مارنا۔ جیسے نضرب الرقاب (47:4) تو ان کی گردنیں اڑا دو ، یا اضرب بعصاک الحجر (2:60) اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ وغیرہ (2) ضرب الارض بالمطر۔ بارش کا برسنا (3) ضرب الدراھم ، دراہم کو ڈھالنا۔ (4) ضرب فی الارض سفر کرنا (5) ضرب الخیمۃ خیمہ لگانا وغیرہ۔ ضربت علیہم الذلۃ۔ یا ضرب الخیمۃ سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ کہ ذلت اور ناداری نے انہیں اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کسی شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے یا یہ محاورہ ضربت الطین علی الحائط (مٹی دیوار پر لیس دی گئی) سے مشتق ہے یعنی ذلت اور ناداری کو ان پر لیس دیا گیا یا چپکا دیا گیا۔ المسکنۃ کو فقر یا ناداری اس لئے کہتے ہیں کہ فقرا آدمی کو نچلا بٹھا دیتا ہے اور چلبلا پن اور اکڑ سب جاتی رہتی ہے۔ ترجمہ ہے ۔ اور ان پر ذلت و غربت مسلط کردی گئی۔ باوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے کمایا۔ وہ لوٹے، وہ پھرے۔ بواء (باب نصر) مصدر سے جس کے اصل معنی ٹھکانہ درست کرنے اور جگہ ہموار کرنے کے ہیں۔ مکان بواء اس مقام کو کہتے ہیں جو اس جگہ پر اترنے کے لئے ساز گار اور موافق ہو۔ باء وا بغضب من اللہ وہ ایسی جگہ اترے کہ ان کے ساتھ اللہ کا غضب ہے۔ یہاں بغضب موضع حال میں ہے جیسے خرج بسیفہ میں ہے اور مربزید کی طرح مفعول نہیں ہے اور بغضب پر باء لاکر تنبیہ کی ہے کہ موافق جگہ میں ہونے کے باوجود وہ غضب الٰہی میں گرفتار ہیں تو ناموافق جگہ میں تو بالاولیٰ ان پر غضب ہوگا۔ اس کا مادہ باء و ہے۔ ذلک کا مشار الیہ غضب ہے۔ یا ذلت و فقر و غضب ہر سہ کی طرف اشارہ ہے۔ بانہم میں باء سببیہ ہے۔ انھم کانوا یکفرون بایات اللہ (سبب اول) ویقتلون النبیین بغیر الحق (سبب ددوم) یعنی اس ذلت و فقرہ و غضب کا سبب ان کا آیات اللہ سے انکار اور نبیوں کا ناحق قتل تھا ۔ فائدہ : نبیوں کا قتل تو ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے۔ بغیر الحق کا لفظ زور دینے کیلئے بڑھایا گیا ہے گویا ان کے فعل کے ناحق ہونے کو تکرارا بیان کیا ہے، جن نبیوں کو قتل کیا گیا ان میں حضرت شعیائ، حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا (علیہم السلام) بھی ہیں۔ ذلک بما عصواو کالوا یعتدون اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اگر ذلک کا اشارہ آیات اللہ سے انکار اور قتل انبیاء کی طرف ہے تو بما میں باء سببیہ ہے اور ما موصولہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ان کا آیات اللہ سے انکار اور انبیاء کا ناحق قتل کا سبب ان کی نافرمانی اور حدود اللہ سے تجاوز تھا۔ یعنی ان کا مسلسل کفر اور تجاوز حدود اللہ ان کو آہستہ آہستہ قتل انبیاء جیسے گھناؤنے جرم کے ارتکاب تک لے گیا۔ (2) بعض کے نزدیک اسم اشارہ ذلک تکرار مضمون کو پر زور بنانے کے لئے آیا ہے اور باء بمعنی مع ہے اور مطلب یہ کہ خداوند تعالیٰ نے ان پر ذلت و فقر چسپاں کردیا۔ اور وہ مورد غضب الٰہی اس لئے ہوئے کہ وہ آیات الٰہی سے منکر ہوئے۔ انبیاء کو ناحق قتل کیا۔ مسلسل نافرمانی کے مرتکب ہوئے اور تجاوز حدود اللہ پر مصر رہے۔ عصوا۔ ماضی جمع مذکر غائب عصیان معصیۃ (باب ضرب) انہوں نے نافرمانی کی۔ عصوا۔ اصل میں عصیوا تھا۔ یا متحرک ما قبل اس کا مفتوح اس لئے یاء کو الف سے بدلا واو اور یاء ہر دو ساکن ہوئے الف اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ عصوا رہ گیا۔ کانوا یعتدون۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب اعتداء (افتعال) مصدر وہ زیادتی کیا کرتے تھے۔ وہ حدود شرعیہ سے تجاوز کیا کرتے تھے۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

الذین امنوا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان لاچکے ہیں ۔ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں۔ جو آخری رسول اور آخری کتاب پر (ایمان لاچکے ہیں) یعنی مسلمان ہوچکے ہیں۔ ایمان لانے کے معنی۔ کل عقائد ضروریہ کے تسلیم کرلینے کے ہیں ۔ توحید پر ایمان۔ رسالت پر ایمان۔ فرشتوں پر ایمان۔ آسمانی کتابوں پر ایمان، سب کچھ اس میں شامل ہے اور الذین امنوا مطلق صورت میں قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے مراد اس سے مسلمان ہی ہیں۔ الذین ھادوا۔ جو یہودی ہوئے۔ ھادوا ماضٰ کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ھود (باب نصر) مصدر سے النصرے جمع معرفہ۔ عیسائی لوگ ، یہ نصران کی جمع ہے جیسے ندامی جمع ہے ندمان کی۔ الصبئین ایک مذہبی فرقہ کا نام۔ جس کے عقائد کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ عراق۔ روم ، شام ، الجزیرہ میں آباد تھے۔ لیکن ان ممالک میں جب دوسرے مذاہب کا غلبہ ہوا یہ نصاری سے جا ملے لیکن خفیہ طور پر بت پرستی کرتے رہے۔ اب بھی اس لادینی بت پرستی کے پیروکار کہیں کہیں موجود ہیں لیکن اپنے اعتقادات کو نہایت سختی سے چھپاکر رکھتے ہیں ۔ لفظ صابی کے عربی ہونے میں علماء میں اختلاف ہے۔ من امن باللہ۔ میں من موصولہ ہے اور امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا۔ اپنی جملہ تراکیب نحوی کے ساتھ اس کا صلہ ہے۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں میں سے (جو بیشتر ایمان لاچکے ای الذین امنوا) یہودیوں میں سے نصاری میں سے۔ اور صابین میں سے جو مسلمان آئندہ زمانہ میں بھی اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے گا اور جو یہودی، نصاری یا صابئین اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے۔ ان کو ان کے رب کے ہاں اجر ملے گا۔ اور ان کے لئے نہ کوئی نادیشہ ہوگا اور نہ وہ کوئی غم کریں گے۔ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے صاحب تفسیر لکھتے ہیں کہ : یعنی اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لائے جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ اور وہ ایمان پر قسم کی شرکت آمیزی سے پاک ہو۔ اس ایمان باللہ کے تحت میں اس کے سارے لوازم و تضمنات بھی داخل ہیں ورنہ خدا پر مطلق ایمان تو کسی نہ کسی صورت میں تقریباً ہر انسان کا ہے۔ اور ان لوازم توحید میں سب سے اونچے نمبر پر ایمان بالرسل ہے کہ بندوں کا صحیح تعلق اللہ کے ساتھ قائم کرنے والی اور اس کا سیدھا راستہ بتانے والی ذات رسول ہی کی ہوتی ہے۔ یوم آخرت پر ایمان لانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ سارے احکامات آخرت پر ایمان لایا جائے۔ فائدہ : جلالین میں ہے : الذین امنوا۔ ای امنوا بالانبیاء من قبل ۔ بیضاوی اس کے معنی لکھتے ہیں ۔ الذین امنوا بالسنتھم جو محض زبانی ایمان لائے۔ اس کے علاوہ مفسرین کے اور اقوال بھی ہیں (ملاحظہ ہو روح المعانی) فلھم میں فاء جزائیہ ہے۔ اس سے قبل جملہ من امن ۔۔ عمل صالحا جملہ شرطیہ ہے اور بعد کی عبارت ۔۔ یحزنون تک جزائیہ ہے۔ فائدہ : صائبین۔ صابی فرقہ کے لوگ، یہ ایک ستارہ پرست قوم تھی جو بابل اور بلاد عراق میں آباد تھی۔ اس لفظ کے عربی ہونے میں اختلاف ہے عراق پر مختلف ادوار میں بیرونی اقوام کی فتح یابی کی صورت میں ان میں سے بعض فاتح قوم کا مذہب اختیار کرلیتے رہے۔ جب عراق، شام اور مصر میں اسلام کا غلبہ ہوا تو ان میں سے اکثر نے اسلام قبول کرلیا۔ کچھ کھلم کھلا اپنے مذاہب پر قائم رہے۔ اور کچھ اپنے قدیم دستور پر تقیہ کا پردہ ڈال کر کافرانہ اعمال میں مصروف ہوگئے۔ فرقہ اسماعیلیہ کی حیلہ گری اسی فرقہ کے تقیہ کی ایک نمود ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو احکام القرآن للجصاص)
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا ہے) اسے یاد رکھو تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

واذ اخذنا۔ ای واذکروا اذا اخذنا اور یاد کرو وہ وقت (جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا) میثاقکم مضاف، مضاف الیہ۔ میثاق پختہ عہد، قول و قرار ، جس پر قسم کھائی گئی ہو، یا پختگی اور مضبوطی پیدا کرنے کا ذریعہ (وثاقہ سے اسم آلہ) یا پختگی اور مضبوطی بمعنی مصدر جیسے الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (2:27) وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد (نیز ملاحظہ ہو 2:27) یہ عہد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع اور تورات پر عمل کرنے کا تھا۔ ورفعنا فوقکم الطورواؤ عاطفہ ہے فوق اسم ظرف اوپر تحت کی ضد ہے الطور عربی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں طور کا استعمال ایک مخصوص اور متعین پہاڑ کے لئے ہوا ہے۔ چناچہ الطور میں الف لام عہد کا ہے جو اس پر دلالت کر رہا ہے جملہ کا ترجمہ ہے اور ہم نے طور کو تم پر بلند کیا اور کھڑا کیا اس کی فی الواقع کیا صورت تھی اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ کے حکم پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے پہاڑ اپنی جگہ سے الگ کرکے بنی اسرائیل کے سروں پر سائبان کی طرح لاکھڑا کیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اگر تم تورات کو نہ مانو گے تو یہ پہاڑ تم چھوڑ دیا جائے گا۔ بعض نے تورات کے اس بیان سے ملتی جلتی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ پہاڑ کے نیچے آکھڑے ہوئے اور کوہ سینا پر زیر و بالا دھواں تھا۔ کیونکہ خداوند شعلہ میں ہوکر اس پر اترا اور سارا پہاڑ متزلزل ہوگیا۔ (باب خروج 19 آیت 1-18) اور ان کو حکم ہوا کہ توریت کو قبول کرو ورنہ پہاڑ کو تم پر گرا دیا جائے گا۔ اور تم اس کے نیچے دفن ہو کر رہ جاؤ گے۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ خذوا ما اتینکم ۔ خذوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم لو، تم پکڑو، ما موصولہ اور اتینکم جملہ فعلیہ ہوکر اس کا صلہ۔ موصول وصلہ مل کر خذوا کا مفعول ہوا۔ مراد توریت۔ بقوۃ۔ جار مجرور۔ مضبوطی سے۔ لعلکم۔ لعل حرف مشبہ بالفعل کم اس کا اسم۔ شاید تم۔ تاکہ تم (یہاں مؤخرالذ کر معنی مراد ہیں) تتقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر ۔ تم پرہیزگار بنتے ہو۔ لعلکم تتقون ۔ شاہد تم پرہیزگار بن جاؤ۔ تاکہ تم بچ جاؤ۔
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھرگئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑگئے ہوتے

ثم۔ پھر، ازاں بعد۔ حرف عطف ہے، ترخی فی الوقت کے لئے آیا ہے۔ تولیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر، تولی (تفعل) تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑا۔ لولا۔ امتناعیہ ہے۔ اور لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فضل ۔ فضل اپنے متعلق اور مضاف الیہ (اللہ) سے مل کر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف ورحمتہ کا۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا جس کی خبر حاضر محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ : اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی۔ لکنتم من الخسرین ۔ لام تاکید کا ہے جواب شرط میں آیا ہے۔ یہ جملہ، جملہ فعلیہ ہوکر جواب شرط ہے۔ تو تم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوتے۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ

(2:65) ولقد۔ واؤ۔ عاطفہ ہے لام تاکید کا قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ سو لام تاکید اور قد فعل علمتم پر داخل ہونے پر معنی ہوں گے۔ تحقیق تم خوب جانتے ہو۔ تاکید بالائے تاکید۔ اتعدوا۔ انہوں نے زیادتی کی۔ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے گزرگئے۔ اعتداء (افتعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ حق سے تجاوز کرنے کو اعتداء کہتے ہیں۔ فی السبت۔ ہفتہ کے دن کے دوران سبت کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی۔ پھر اس کے معنی ہفتہ کا دن ہے۔ کیونکہ اہل یہود اس روز کاروبار چھوڑ دیتے تھے اس لئے اس روز کا دوسرے کاروباری ایام سے رشتہ کٹ گیا۔ اس طرح آیت وجعلنا نومکم سباتا (78:9) اور ہم نے تمہاری نیند کو موجب راحت بنایا ۔ اس میں سبات کے معنی حرکت و عمل سے کٹ کر آرام کرنا کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ہفتہ کو سبت اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو قطع کیا یعنی پیدا کیا۔ یا اس لئے کہ یہود کو اس دن عبادت کے سوا اور کل کاموں سے قطع تعلق کرنے کا حکم ہوا تھا۔ قدرۃ۔ بندر۔ جمع کا صیغہ۔ قرد واحد ہے یہ منصوب بوجہ کونوا کی خبر کے ہے۔ خسئین۔ خسئا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ ذلیل و خوار۔ خسئا کسی کو دھتکارنے کے لئے آیا ہے۔ مثلاً خسئات الکلب میں نے کتے کو دھتکارا۔ خسئین ۔ کنتم کی ضمیر سے حال ہے یا قردۃ کی صفت فجعلنا ھا۔ میں ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ یا القریۃ کے لئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ یا خسیان کے لئے ہے یا واقعہ کے لئے ہے یا اس قصہ کے لئے۔
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لئے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت بنادیا

نکالا۔ نکل جانور کی بیڑی اور لوہے کی لگام کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع انکال ہے۔ قرآن مجید میں ہے ان لدینا انکالا وجحیما (73:12) بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ۔ نکالا مفعول ثانی ہے جعلنا کا مابین یدیھا جو اس کے سامنے ہے وما خلفھا اور جو اس کے بعد میں ہے۔ ہر دو جملہ میں ما بمعنی من ہے اور مراد اس وقت کے موجود لوگ اور اس زمانہ کے بعد میں آنے والے لوگ ہیں ھا ضمیر کا مرجع وہی ہے جو جعلناھا میں اوپر بیان ہوا۔ وموعظۃ۔ ای وجعلناھا موعظۃ۔ اور ہم نے بنادیا یا اس واقعہ کو متقیوں پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔ موعظۃ اسم مصدر بمعنی نصیحت ہے۔ قاموس القرآن میں ہے موعظۃ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں مخاطب کو ڈرایا جائے۔ خلیل نحوی کا قول یہ ہے کہ کسی شخص کو بھلائی کی یاد دہانی کرانا اس طرح پر کہ اس کے دل پر اثر ہو موعظۃ اور وعظ کہلاتا ہے اور بقول بعضے موعظۃ وہ کلام ہے جس میں ترغیب و ترہیب کے ذریعہ خیر و صلاح کی دعوت دی گئی ہو۔ (تفسیر خازن) علامہ عبد اللہ بن احمد نسفی (رح) لکھتے ہیں : موعظۃ وہ نصیحت ہے جس میں محبوب و مرغوب چیز کی طرف دعوت دی جائے اور ہر مکروہ و ناپسند چیز سے روکا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صفت موعظۃ فرمائی ہے یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم (10:57) اے لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت آچکی ہے۔ المتقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ پرہیزگار۔ تقوی والے۔ اتقاء مصدر۔
Ayahs 2:67–68

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو وہ بولے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو ؟ (موسیٰ نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو، (موسیٰ نے) کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو

(2:67) ان تذبحوا۔ ان مصدر یہ ہے۔ تذبحوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ذبح (باب فتح) مصدر سے کہ تم ذبح کرو۔ اتتخذنا ھزوا ہمزہ استفہامہ تتخذ مضارع واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افعال) مصدر سے تو بناتا ہے۔ تو پکڑتا ہے نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ھزوا مفعول ثانی۔ مصدر باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ مسخرا۔ کیا تو ہمارا مذاق اڑاتا ہے۔ اعوذ۔ مضارع واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی دوسرے سے التجاء کرنا اور پناہ مانگنا ہے میں پناہ چاہتا ہوں باللہ اللہ کی۔ ان اکون ۔ ان مصدریہ اکون مضارع منصوب واحد متکلم ۔ کون (باب نصر) مصدر سے، کہ میں ہوجاؤں۔ الجاہلین۔ جاہل کی جمع بحالت جر اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر حاضر، جہالت تین قسم پر ہے (1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں (2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتماد کرلینا (3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہیے اس کے خلاف سر انجام دینا۔ عام اس سے کہ اس کے متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط۔ اسی لحاظ سے آیت ہذا میں ھزوا کو جہالت قرار دیا ہے۔ جہالت کے معنی ناواقفیت کے بھی ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف (2:273) نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔
Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کردیتا ہو،

بقوۃ صفرائ۔ موصوف صفت ، زردرنگ کی گائے۔ صفراء صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے اس کی جمع بروزن فعلائ۔ فعل، صفر ہے۔ صفراء صفت اول ہے بقرۃ کی۔ فاقع لونھا۔ فاقع اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ لونھا مضاف مضاف الیہ مل کر فاقع کا فاعل ۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر بقرہ کی صفت ثانی ہے۔ فاقع شوخ زرد رنگ۔ تسر۔ مضارع واحد مذکر غائب، سرور (باب نصر) وہ بھاتی ہے۔ خوش آتی ہے۔ تسر الناظرین دیکھنے والوں کو بھاتی ہے، بھلی لگتی ہے۔ یہ صفت سوم ہے بقرۃ کی۔
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہوجائے گی

تشبہ۔ مضاعر واحد مذکر غائب۔ تشابہ (تفاعل) مصدر بمعنی باہم مشابہ و مماثل ہونا۔ تشبۃ وہ مشابہ ہوا۔ وہ مشبہ ہوا ان البقر تشبۃ علینا بیشک ہمیں گایوں میں شبہ پڑگیا۔ یہ مکرر سوال کرنے کا عذر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن صفات کی گائے ارشاد ہوئی اس جیسی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اس لئے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی گائے سے ہمارا مقصود حاصل ہوگا۔ یہاں تشابہت مؤنش کا صیغہ اس لئے استعمال نہیں کیا کہ لفظ البقر مذکر ہے (اگرچہ مراد مؤنث ہے) لمھتدون ۔ ای لمھتدون الی البقرۃ المراد بذبحھا۔ ہم ضرور راہ پالیں گے (یعنی تلاش کرلیں گے) وہ گائے جس کا ذبح کرنا مقصود ہے۔ لام تاکید کا ہے۔ مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر ، ہدایت پانے والے، راہ راست پانے والے ۔
Ayah 2:71

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو ، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتادیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

(2:71) ذلول۔ نرم ، مطیع۔ ہموار، پست، ذل اور ذل۔ سے، (باب ضرب) منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا ۔ اس قسم کی مطیع اور منقاد سواری کو ذلول کہا جاتا ہے۔ تثیر : مضارع واحد مؤنث غائب اثارۃ (باب افعال) مصدر بمعنی برانگیختہ کرنا۔ ابھارنا۔ زمین میں جوتنے اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے میں چونکہ یہ معنی موجود ہیں اس لئے ان دونوں کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جوتنے کے لئے آیت ہذا اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے کے لئے اللہ الذی یرسل الریاح فتثر سحابا (30:48) خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں (اوپر اٹھاتی ہیں) ولا تسقی الحرث۔ لاتسقی، مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ سقی (باب ضرب) مصدر ۔ نہ وہ پانی پلاتی ہے۔ نہ وہ سیراب کرتی ہے۔ الحرث کھیتی، زراعت حرث یحرث (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی بیج ڈالنا۔ کھیتی کرنا۔ کھیت کو بھی حرث کہتے ہیں۔ لاذلول تثیر الارض نہ (ایسی) مطیع و منقاد کہ زمین جوتے۔ یہ صفت ہے بقرۃ کی ۔ ولا تسقی الحرث۔ اور نہ کھیت سیراب کرتی ہے یہ صفت دوم ہے بقرۃ کی۔ مسلمۃ اسم مفعول واحد مؤنث تسلیم (تفعیل) مصدر سے ۔ سالم ، بےداغ۔ یہ صفت سوم ہے بقرۃ کی ۔ شیۃ۔ داغ۔ نشان ، علامت۔ شیات جمع شیۃ اصل میں وشیۃ تھا۔ اور وشی یشی (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ اس کی ھا واؤ محذوف کے عوض میں ہے وشی کے اصل معنی کسی چیز میں اس کی تمام رنگوں کے خلاف اور رنگ لگانے کے ہیں ۔ یعنی ایسا رنگ جو سارے بدن کے رنگ کے خلاف ہو، وشی مادہ۔ لاشیۃ فیہا اس میں اپنے رنگوں کے علاوہ کوئی خلاف رنگ نہ ہو۔ یعنی بےداغ ہو، یہ صفت چہارم ہوئی بقرۃ کی۔ الئن اب ۔ ظرف زمان ہے۔ مبنی برفتح ہے، الف لام بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے، راغب اصفہانی المفردات میں لکھتے ہیں الئن ۔ ہر وہ لمحہ جو ماضی اور مستقبل کے درمیان فرض کیا جاوے۔ اسے الئن کہتے ہیں ۔ جیسے الئن افعل کذا میں اب کرتا ہوں۔ اور الئن کا لفظ ہمیشہ الف لام تعریف کے ساتھ آتا ہے۔ اون مادہ ہے۔ الئن جئت بالھق۔ اب تو لایا ہے صحیح پتہ۔ یعنی اب پوری حقیقت اس گائے کی بیان کی ہے۔ وکا کادوا یفعلون ۔ کاد یکاد۔ کود (باب سمع) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے کاد افعال مقاربہ میں سے ہے اور فعل مضارع پر داخل ہو یا ہے۔ کاد اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ مثلاً یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی ہی اچک لے جائے (گو ابھی اس نے ان کی بینائی اچکی نہیں ہے لیکن قریب ہے کہ ایسا ہوجائے (ب) ، اگر بصورت نفی مذکور ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن قریب تھا کہ واقع نہ ہی ہوتا۔ جیسے آیت ہذا میں ہے فذبحوھا وما کادوا یفعلون ۔ پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا اور قریب تھا کہ وہ ذبح نہ ہی کرتے۔ یعنی ذبح کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے (نیز ملاحظہ ہو 2:20) کود بمعنی ارادہ اور خواہش بھی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے ان الشاعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا۔ لتجزی کل نفس بما تسعی (20:15) بیشک قیامت آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے۔
Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا اور پھر اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

(2:72) فادرء تم فیہا ۔ فاء عاطفہ ہے۔ ادارأتم اصل میں تدارء تم تھا تدارء (تفاعل) مصدر جس کے معنی لڑائی میں ایک دوسرے پر سے ہٹانا۔ متفق نہ ہونا۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ای تدافع۔ تدارء تم کی تاء کو دال میں بدل کر دال مابعد میں مدغم کردیا۔ پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادارؤتم ہوگیا۔ معنی یہ ہے کہ : تم ایک دوسرے پر (اس قتل کا) الزام لگانے لگے۔ فیہا ای فی قتل نفس ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع نفسا ہے۔ مخرج۔ اسم فاعل واحد مذکر اخراج (افعال) مصدر سے۔ نکالنے والا۔ باہر نکالنے والا۔ ظاہر کرنے والا۔ ما کنتم تکتمون۔ ما موصولہ ، کنتم تکتمون اس کا صلہ ۔ جو تم چھپا رہے تھے اور موصول وصلہ مل کر مخرج کا مفعول بہ ہے۔ یعنی جو تم چھپا رہے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔ کنتم تکتمون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ کتمان یا کتم مصدر۔
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

(2:73) فقلنا اضربوہ ببعضھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع نفس ہے، چونکہ مقتول ، شخص آدمی تھا اس لئے ضمیر مذکر لائی گئی ہے۔ ببعضھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب بقرۃ کے لئے ہے۔ پس ہم نے کہا کہ مقتول کی میت کو گائے کے کسی ٹکڑے سے مارو، یا اس کا کوئی پارچہ مقتول کی لاش پر رکھ دو ۔ فائدہ : ببعضھا۔ کے بعد عیارت مقدر ہے۔ ای فضربوہ فحیی۔ پس انہوں نے مقتول کو (گائے کے جسم کا ایک ٹکڑا لگایا ۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ۔ اس طرح یعنی مقتول کے زندہ ہونے کی طرح۔ جس طرح یہ مقتول زندہ ہوگیا اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ یریکم ایتہ۔ یری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اراء ۃ (افعال) مصدر سے۔ وہ دکھاتا ہے۔ فعل بافاعل ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مفعول اول ایتہ مضاف مضاف الیہ ۔ مقعول ثانی۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ یہاں خطاب ان لوگوں سے ہے جو یا تو اس قتل کے وقت کے تھے۔ یا نزول آیت کے وقت رسول کریم ﷺ کے زمانے میں۔ لعلکم تعقلون ۔ لعلکم شاید تم سمجھ جاؤ۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔ (نیز ملاحظہ ہو 9:52) تعقلون مضارع جمع مذکر حاضر۔ عقل (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی سمجھنے اور عقل رکھنے کے ہیں۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور خدا تمہارے عملوں سے بیخبر نہیں

ثم۔ پھر، تب ۔ (ملاحظہ ہو 2:28) یہاں ثم استبعاد قسوۃ کے لئے ہے۔ یعنی اتنی رقت اور نرمی کے اسباب دیکھنے پر یہ قساوت ہے جو نہایت بعید ہے۔ بہت بڑی قساوت ہے۔ قساوۃ اصل میں اس موٹائی کو کہتے ہیں جو سختی اور کرختگی لئے ہوئے ہو۔ اور یہاں رحمت اور نرمی اور خیر کا دلوں سے نکل جانا مراد ہے۔ بعض کے نزدیک یہ تراخی زمان کے لئے ہے روح المعانی میں ہے وقیل انھا للتراخی فی الزمان لانھم قست قلوبھم بعد مدۃ حین قالوا ان المیت کذب علیہم۔ یہ تراخی زمان کے لئے ہے کیونکہ ان کے دل کچھ مدت کے بعد سخت ہوگئے، جب وہ یہ کہنے لگے کہ میت نے ان کے خلاف جھوٹ کہا ہے۔ قست۔ ماضی ۔ واحد مؤنث غائب قسوۃ وقساوۃ (باب نصر) بمعنی دل کا سخت ہونا۔ بےرحم ہونا ۔ سنگ دل ہونا ۔ حجر قاس۔ سخت پتھر ۔ قسی القلب، سخت دل، پتھر دل ۔ فہی۔ فاء عاطفہ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب اس کا مرجع قلوب ہے۔ کالحجارۃ؛ کاف تشبیہ کے لئے ہے۔ پتھر کی طرح (سخت) اواشد قسوۃ۔ او بمعنی یا، اور بمعنی بل ۔ اشدا فعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ شیادہ شدید قسوۃ (تمیز) سختی اور غلظت کے لحاظ سے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔ او کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) بمعنی یا۔ تشبیہ میں اختیار دینے کے لئے۔ یعنی مخاطب کو اختیار ہے کہ ان کے دلوں کو خواہ پتھر سے تشبیہ دے یا پتھر سے بھی زیادہ سخت سے۔ دونوں صورتیں صحیح ہیں۔ (2) بمعنی بل۔ بلکہ۔ ان کے دل سختی میں گویا پتھر ہیں۔ بلکہ سختی میں پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ وان من الحجارۃ ۔ لما یتفجر منہ الانھر۔ واؤ۔ عاطفہ، ان حرف مشبہ بالفعل من الحجارۃ جار مجرور۔ مل کر ان کی خبر مقدم لما میں لام تاکید کی ہے۔ اور ما اسم موصول (بمعنی الذی) یتفجر۔ فعل منہ جار مجرور مل کر متعلق فعل ۔ الانھر فاعل۔ فعل، متعلق فعل اور فاعل مل کر صلہ اپنے موصول کا ہے موصول اور صلہ مل کر ان کا اسم مؤخر ہے ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبر یہ ہوا۔ ترجمہ ہوگا۔ بیشک جن میں سے دریا یا نہریں پھوٹتی ہیں وہ پتھروں میں سے ہی تو ہیں یا ہتھروں سے ایسے پتھر بھی تو ہیں جن میں سے دریا پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ یتفجر، مضارع واحد مذکر غائب۔ تفجر (تفعل) مصدر، پھوٹ کر نکلتی ہے الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنے اور شق کردینے کے ہیں۔ صنح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ فجور کے معنی دین کی پردہ دری یعنی نافرمانی کرنے کے ہیں۔ بدکردار اور کاذب کو فاجر کہا جاتا ہے۔ کیونکہ بدکرداری اور کذب بیانی بھی فجور کی ایک قسم ہے۔ اور فجر کے معنی پانی یا چشمہ جاری کرنے کے ہیں ۔ جیسے قرآن مجید میں ہے وفجرنا الارض عیونا (54:12) اور ہم نے زمین میں چشمے جاری کر دئیے۔ یشقق۔ مضاعر واحد مذکر غائب۔ تشقق (تفعل) مصدر۔ یشقق اصل میں یتشقق تھا ۔ ت کو ش میں بدل کر ش کو ش میں مدغم کردیا۔ وہ پھٹ جاتا ہے وہ شق ہوجاتا ہے۔ الشقۃ پھاڑا ہوا ٹکٹ۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا اور بعض ایسے پتھر ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے۔ یھبط مضارع واحد مذکر حاضر ھبوط، مصدر (باب ضرب) وہ اوپر سے نیچے کو گرپڑتا ہے ۔ وہ اترتا ہے ، یعنی ان میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے (اوپر سے ) نیچے گرپڑتے ہیں۔ منھا میں من تبعیضیہ ہے۔ اور ھا ضمیر کا مرجع الحجارۃ ہے۔ عما ۔ عن اور ما سے مرکب ہے عن حرف جار اور ما موصولہ، عم اور عما میں فرق صرف یہ ہے کہ اول الذکر میں ما کے الف کو اوغام کے وقت حذف کردیا گیا ہے اور مؤخر الذکر میں اسے بحال رکھا گیا ہے۔ تاکہ ما استفہامیہ (اول الذکر) اور ما موصولہ خبر پر (مؤخر الذکر) میں تمیز ہوسکے۔ قرآن مجید میں ہے عم یتساء لون (78:1) یہ لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(مومنو ! ) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہوجائیں گے (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خدا (یعنی تورات) کو سنتے پھر اس کے بعد سمجھ لینے کے اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں ؟

(2:75) افتطمعون ، ہمزہ استفہامیہ ۔ فاء عاطفہ (ملاحظہ ہو۔ 2:44) تطمعون مضارع جمع مذکر حاضر طمع مصدر (باب فتح) تم توقع رکھتے ہو۔ تم طمع رکھتے ہو۔ ان یؤمنوا۔ اس سے قبل حرف جر محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فی ان یؤمنوا ۔ ان مصدر یہ ہے ۔ یؤمنوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر حاضر، تقدیر کلام افتطمعون فی ایمانھم ۔ جملہ ان یؤمنوا ۔۔ وھم یعلمون ۔ اپنی تمام تراکیب نحوی کے ساتھ مفعول ہے تطمعون کا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اگلا صفحہ) آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور بیان یہودیوں کا ہے۔ کلام اللہ ای التوراۃ۔ یحرفونہ ۔ یحرفون مضارع جمع مذکر غائب۔ تحریف (تفعیل) مصدر سے۔ بگاڑ دیتے ہیں، بدل دیتے ہیں۔ یہ تحریف معنوی بھی ہوسکتی ہے اور لفظی بھی۔ یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ ۔ ای یسمعون التوراۃ ویؤلونھا تاویلا فاسدا حسب اغراضھم توراۃ کو سنتے پھر اپنی اغراض کے مطابق اس کی مختلف فاسد تاویلیں کرتے ہیں۔
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(2:76) لقوا۔ ماضی جمع مذکر غایب۔ لقی ولقاء (باب سمع) مصدر، وہ ملے۔ مطلب یہ کہ جب وہ ملتے ہیں ۔ جب وہ سامنے آتے ہیں ۔ لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا ماقبل کو دیا۔ ی بسبب اجتماع ساکین گرگئی۔ لقی مادہ۔ خلا ماضی واحد مذکر غائب خلاء (باب نصر) مصدر، بمعنی خلوت میں ہونا ۔ اکیلے ہونا ۔ خلا۔ وہ تنہا ہوا ۔ وہ اکیلا ہوا۔ وہ خلوت میں ہوا۔ مطلب۔ جب ان میں سے بعض دوسرے کے پاس خلوت میں ہوتے ہیں۔ (3:75) افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وھم یعلمون ۔ ۔ أ ہمزہ استفہامیہ۔ ف۔ حرف عطف۔ تطمعون فعل بافاعل۔ ان مصدریہ۔ یؤمنوا فعل اس میں ھم ضمیر مستتر اس کا فاعل ۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر ذوالحال لکم جار مجرور متعلق ہوا یؤمنوا فعل کے۔ واؤ حالیہ قد تحقیق کا۔ کان فعل ناقص۔ فریق موصوف منھم جار مجرور متعلق کائن محذوف کے کائن اپنے متعلق سے مل کر صفت ہوئی فریق موصوف کی۔ صفت موصوف سے مل کر اسم ہوا کان کا۔ یسمعون فعل اس میں ھم ضمیر اس کا فاعل کلام مضاف اللہ مضاف الیہ۔ مجاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول ہوا فعل یسمعون کا فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر معطوف علیہ۔ ثم حرف عطف یحرفون۔ فعل مضارع ھم ضمیر اس کا فاعل ہ ضمیر مفعول۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر ذوالحلال من حرف جار بعد مضاف ما مصدریہ عقلوا فعل ھم ضمیر فاعل ہ ضمیر مفعول ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خیر یہ ہوکر ب تاویل مصدر مضاف الیہ ہوا بعد مضاف کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا جار کا ۔ جار مجرور سے مل کر متعلق ہوا یحرفون کا۔ و۔ حالیہ ھم ضمیر مبتداء یعلمون فعل با فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر خبر ہوئی مبتدا کی مبتدا خبر سے مل کر حال ہوا ذوالحال یحرفون کا ۔ یحرفون فعل اپنے فاعل (ھم) اور مفعول (ہ) اور متعلق (من بعد) سے مل کر معطوف ہوا۔ معطوف علیہ یسمعون کا۔ معطوف معطوف علیہ سے مل کر خبر ہوئی کان کی۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر حال ہوا ذوالحلال (ان یؤمنوا) کا ۔ ان یؤمنوا فعل اپنے فاعل (ہم) اور متعلق (لکم) سے مل کر ب تاویل مصدر مفعول ہوا تطمعون کا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ اتحدثونھم : الف استفہامیہ ، تحدثون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر، تحدیث (تفعیل) مصدر بمعنی باتیں کرنا۔ بیان کرنا۔ کہنا۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب (ضمیر کا مرجع مسلمان ہیں) کیا تم ان کو (مسلمانوں کو) بتا دیتے ہو۔ بما ۔ ب حرف جار ہے ما موصولہ فتح اللہ علیکم صلہ ہے اپنے موصول کا۔ موصول وصلہ مل کر مجرور ب کا۔ جار مجرور مل کر فعل تحدثون کے متعلق۔ لیحاجوکم میں لام کی کا ہء بمعنی تاکہ۔ یحاجوا فعل مجارع منصوب جمر مذکر غائب ، مھاجۃ (مفاعلۃ) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تاکہ وہ (یعنی مسلمان) جھگڑا کریں تم سے (یعنی اہل یہود سے) افلا تعقلون الف استفہامیہ ہےعاطفہ ۔ حرف استفہامیہ کے حرف عطف سے متقدم ہونے کے متعلق ملاحظہ ہو۔ (2:44) کیا تم نہیں سمجھتے۔ قالوا تحدثونھم ۔۔ تعقلون ۔ وہ (یعنی اہل یہود) کہتے ہیں (اپنے ساتھیوں سے خلوت میں) کیا تم ان کو (یعنی مسلمانوں کو) وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں (یعنی توراۃ میں جو باتیں دین اسلام کے برحق ہونے کے متعلق آئی ہیں) تاکہ وہ (یعنی مسلمان) تمہارے مقابلہ میں تمہارے رب کے حضور قیامت کے روز بطور حجت پیش کرسکیں۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے۔
Ayahs 2:77–78

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں خدا کو سب معلوم ہے ؟

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

(2:77) اولا یعلمون ۔ الف استفہامیہ واؤ عاطفہ (ملاحظہ ہو 2:44) یعلمون میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب اہل یہود کے لئے ہے۔ ما یسرون وما یعلنون۔ ما موصولہ۔ یسترون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اسرار (افعال) مصدر (صلہ اپنے موصول کا) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔ یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اعلان (افعال) جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں، ان پر افسوس ہے اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں

(2:79) ویل۔ اسم مرفوع۔ ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی کا نام ، عذاب کی شدت، رسوائی ، کلمہ حسرت و ندامت، اگر ویل : ویلہ کی اضافت ضمیر کی جانب ہو تو غیبت، خطاب اور تکلم کی علامات بدلتی رہتی ہیں۔ مثلاً ویلتنا مضاف مضاف الیہ (ہائے ہماری ہلاکت) (18:49) ویلک۔ مضاف مجاف الیہ ، تو مرے ویلنا (21:14) ہائے ہماری موت (کلمہ حسرت) ۔ تفسیر حقانی میں ہے ویل زبان عرب میں ناراضگی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ہماری زبان میں تف اور پھٹے منہ بولتے ہیں پس وہ جو امام احمد اور ترمذی اور ابو یعلیٰ وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایک کنواں ہے اور ابن جریر (رح) نے روایت کیا ہے کہ وہ جہنم میں پہاڑ ہے ۔ سو اس سے مراد یہ ہے کہ یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے کلمہ ویل کا مظہر ہیں یعنی ان کی ناراضگی ان صورتوں میں ظہور کرے گی۔ سو یہ سب سچ ہے۔ مما۔ مرکب ہے من تعلیلیہ (متعلق بہ ویل) اور ما موصولہ ہے۔ یعنی تُف ہے ان کے لئے بوجہ اس کے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا۔ کتبت ایدیہم ۔ ایدی جمع ید کی۔ مضاف، ھم مضاف الیہ مضاف الیہ مل کر فاعل کتبت کا ان کے ہاتھوں نے لکھا۔ یہ جملہ صلہ ہے اپنے موصول کا۔ باوجود یہ کہ لکھتے ہاتھوں ہی سے ہیں نہ کہ پاؤں سے۔ پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لئے ہے۔ مایکسبون۔ بوجہ اس کے جو انہوں نے کمایا۔ مما کے لئے اوپر تحریر ہوچکا۔ ییسبون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے کسب (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ کماتے ہیں۔ وہ کمائی کرتے ہیں۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی، ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا ؟ (نہیں) بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

لن تمسنا النار۔ لن تمس۔ فعل مضارع نفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب کا صیغہ۔ مس (باب نصر ضرب) سے ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ وہ ہم کو ہرگز نہ چھوئے گی۔ ایاما معدودۃ۔ موصوف وصفت ایام ۔ یوم کی جمع ہے۔ اصل میں ایوام تھا۔ واؤ کو یا بنایا اور یا کو یاء میں مدغم کیا۔ ایام ہوگیا۔ ایاما بوجہ ظرف منصوب ہے اور معدودۃ اپنے موصوف کی نسبت سے منصوب ہے۔ معدودۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث ہے۔ اور اس کی جمع معدودات ہے۔ ایاما معدودۃ گنتی کے چند دن۔ عد (باب نصر) مصدر بمعنی شمار کرنا ۔ عدد۔ گنتی ۔ شمار۔ اتخذتم۔ اصل میں اَ اِتخذتم تھا۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور ہمزہ وصل محذوف ہے۔ اتخذتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اتخاذ مصدر (افتعال) سے ۔ کیا تم نے اختیار کیا ہے یا لے رکھا ہے عھدا مفعول عند اللہ اللہ کے حضور، اللہ کے پاس ۔ یعنی اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے۔ فلن یخلف اللہ عھدہ۔ یہ جملہ جواب شرط میں ہے اس سے قبل شرط مقدر ہے ای ان اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ۔ اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد لے رکھا ہے تو وہ اپنے وعدہ کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ فاء جواب شرط مقدرہ کے لئے ہے۔ لن یخلف۔ مضارع نفی تاکید بلن منصوب بوجہ عمل بلن۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ اخلان (افعال) مصدر۔ ام تقولون۔ میں ام متصلہ اور منقطہ دونوں ہوسکتے ہیں۔ پہلی صورت میں اسے ام معادلۃ کہیں گے اور یہ ہمزہ استفہامیہ کے معنی دے گا۔ تقدیر کلام یوں ہوگی اتقولون علی اللہ مالا تعلمون ۔ ام تقولون علیہ مالا تعلمون۔ دوسری صورت میں (یعنی بصورت منقطہ) بمعنی بل ہوگا۔ ای بل اتقولون علی اللہ مالا تعلمون۔ یا کیا تم اللہ پر وہ باتیں بناتے ہو جن کو تم خود بھی نہیں جانتے۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں ام متصلہ یا اس کو منقطہ کہا جاوے بمعنی بل ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالا تعلمون ۔ اس میں ما موصولہ ہے اور لاتعلمون جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر صلہ ہے۔ جسے تم خود نہیں جانتے ۔
Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

(2:81) بلی۔ ہاں حرف ایجاب ہے اور کلام مخاطف کی نفی اور اس کے ابطال کے واسطے استعمال ہوتا ہے (تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو 3:76) من کسب سیئۃ ۔۔ خلدون۔ من موصولہ ہے۔ کسب سیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ واحاطت بہ خطیئتہ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف اور معطوف علیہ ومعطوف مل کر صلہ (من موصولہ کا) صلہ اور موصول مل کر مبتدا ۔ متضمن بمعنی شرط۔ فؔ جزائیہ۔ اولئک ، مبتداء اصحب النار مضاف مضاف الیہ مل کر خبر اول۔ ھم فیہا خالدون۔ ہم مبتدا فیہا متعلق خالدون۔ جو خبر ہے مبتداء کی ۔ جملہ اسمیہ خبر یہ ہو کر خبر ثانی ہے مبتداء اولئک کی۔ یہ مبتداء اپنی دونوں خبروں کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہوکر خبر ہے مبتداء متذکرہ بالا کی۔ اب مبتداء اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف (آیۃ 82) کا نقشہ یوں ہوگا۔ من موصولہ کسب سیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ دونوں مل کر صلہ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر واحاطت بہ خطیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف اپنے موصول کا مبتداء (2) ف۔ حرف جزاء اولئک مبتداء اصحب النار خبر اول مبتداء خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر معطوف علیہ اپنے معطوف (آیۃ 82) کا ھم مبتداء فیہا متعلق خلدون جملہ اسمیہ ہوکر خبر ثانی مبتداء اپنی دونوں خبروں کے ساتھ مل کر خالدون خبر مبتداء اولئک کی جملہ اسمیہ ہوکر خبر مبتدا کی کسب کے معنی لغت میں نفع حاصل کرنے کے ہیں۔ سیئۃ (گناہ) کے ساتھ اس کا تعلق بطور استہزاء کے ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد بار ایسا استعمال آیا ہے مثلاً بشر المنافقین بان لہم عذابا الیما۔ (4:138) اے پیغمر ! بشارت سنا دو منافقوں کو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ واحاطت بہ خطیئتہ۔ اور اس کے گناہ نے اس کا احاطہ کرلیا ہو۔ یعنی وہ اپنے گناہوں میں گھر گیا ہو اور اسے توبہ نصیب نہ ہوئی ہو۔ فاولئک ۔ پس وہی لوگ۔ خلدون۔ اسم فاعل جمع مذکر خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔
Ayah 2:82

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

(2:82) اس آیت کا عطف سابقہ آیت پر ہے۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

(2:83) اذ فعل محذوف۔ اذکر کے متعلق ہے اس ظرف زمان ہے۔ بطور اسم ظرف مکان یا حرف مفاجاۃ بھی آتا ہے۔ میثاق بروزن مفعال اسم آلہ ہے۔ پختگی اور مضبوطی پیدا کرنے کا ذریعہ ۔ وثاقۃ سے ۔ یا پختگی اور مضبوطی۔ (بمعنی مصدر) جیسے الذین منقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (2:27) وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں۔ میثاق اس عہد کو بھی کہتے ہیں جو قسموں کے ساتھ مؤکد کیا گیا ہو (نیز ملاحظہ ہو 2:27) میثاق بنی اسرائیل مضاف، مضاف الیہ۔ بنی اسرائیل سے لیا گیا عہد۔ اخذنا کا مفعول ہے۔ لا تعبدون سے لے کر واتو الزکوۃ تک میثاق کا مضمون ہے۔ لا تعبدون (مضارع منفی جمع مذکر حاضر) خبر بمعنی نہی ہے (تم پرستش نہیں کرو گے ، بمعنی تم پرستش مت کرو) یہ صریح امر یا نہی ہے۔ ابلغ ہے۔ ایسے ہی اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولا یضار کاتب ولا شھید (2:282) اور نہ نقصان پہنچایا جاوے لکھنے والا اور نہ گواہ ۔ لا یضار بمعنی نہی ہے یعنی کاتب اور گواہ کو نقصان مت پہنچاؤ۔ اسی بناء پر یہ احسنوا (جو بالوالدین احسانا سے قبل محذوف) اور قولوا (جو آگے آرہا ہے) کا عطف لا تعبدون پر مستحسن ہوگیا۔ وبالوالدین احسانا۔ ای واحسنوا بالوالدین احسانا (اور ماں باپ سے بھلائی کرتے رہنا) وذی القربی۔ اس کا عطف جملہ ماقبل میں الوالدین پر ہے۔ یعنی اور قرابت داروں کے ساتھ (بھی) حسن سلوک کرنا۔ القربی مثل الحسنی یا الرجعی مصدر ہے۔ والیتمی۔ یتیم کی جمع ہے۔ اس کا عطف بھی مثل ذی القربی۔ الوالدین (جملہ سابقہ) پر ہے۔ والمساکین۔ مسکین کی جمع۔ اس کا عطف بھی مثل ذی القربی والیتمی ہے۔ مسکین بروزن مفعیل سکون سے مشتق ہے۔ مسکین کو مسکین اس لئے کہتے ہیں کہ اسے فقر اور تنگدستی نے ایک جگہ ساکن کردیا ہے۔ وقولوا۔ اس کا عطف احسنوا پر ہے (احسنوا بالوالدین احسانا) ۔ حسنا۔ نیک بات۔ مصدر ہے۔ مبالغہ کے طور پر قول کو حسن (نیکی) کہہ دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی بات کہو جو سرتا پا نیکی ہو واقیموا الصلوۃ واتو الزکوۃ۔ ہر دو چیزوں کا عطف احسنوا پر ہے۔ ثم۔ پھر تراخی زمان کے لئے ہے اس میں تو بیخ ہے مخاطبین کے لئے کہ مدت مدینہ تک اس میثاق کے زیر اثر رہنے کے بعد تم پھرگئے۔ تولیتم ۔ ماضی جمع مذکر حاضر، تولی مصدر سے ، تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑ لیا۔ وانتم معرضون ۔ جملہ ھالیہ مؤکدہ ہے فاعل تولیتم سے یا یہ جملہ معترضہ ہے اور تم تو ہو ہی ایسی قوم جو عادۃ مواثیق سے پھرجانے والی ہے۔ معرضون اسم فاعل جمع مذکر حاضر اعراض (افعال) مصدر، منہ موڑنے والے۔ رخ گردانی کرنے والے۔ شروع رکوع سے بنی اسرائیل کو بطور غیبت ارشاد فرمایا اور ثم تولیتم صیغہ خطاب سے کلام کا رخ موڑ دیا۔ جو بنی اسرائیل نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں اور جو آپ سے پہلے تھے سب کو بطور تغیب خطاب ہے۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کرلیا اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

(2:84) لا تسفکون (مضاعر منفی صیغہ جمع مذکر حاضر) خبر بمعنی نہی۔ تشریح کے لئے ملاحظہ ہو آیۂ سابقہ (2:83) لاتعبدون کے محاذ، تسفکون ۔ سفک مصدر (باب ضرب) سے مشتق ہے۔ جس کے معنی خون بہانا اور آنسو بہانے کے ہیں۔ لاتسفکون دماء کم آپس میں کشت و خون نہیں کروگے۔ دماء کم۔ مضاف، مضاف الیہ ۔ تمہارا خون فائدہ : لاتسفکون سے لے کر من دیارکم تک میثاق کا مضمون ہے اور یہ بدل ہے میثاق کا ثم اقررتم۔ ثم تراخی فی الرتبۃ۔ اقررتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے اترار (افعال) مصدر سے پھر تم نے اس پر پابند رہنے کا اعتراف بھی کرلیا۔ وانتم تشھدون۔ حال مؤکدہ ہے۔ یعنی اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ یہ عہد ہوا تھا ۔ تشھدون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر شھود (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی حاضر ہونے اور موجود ہونے کے ہیں یا اس کا مصدر شھادۃ ہے جس کے معنی گواہی دینے کے ہیں۔