Ayah 2:85(2:85) ثم۔ یہاں ثم تراخی زمانی کے لئے نہیں بلکہ بعد عہد کے لئے ہے۔ عہد کے توڑ دینے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ ثم انتم ھولائ۔ پھر یہ تمہی ہو کہ (اس میثاق کو توڑ کر) آپس میں خون ریزی کرتے ہو انتم ھولاء تقتلون انفسکم ۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں انتم مبتدا ہے اور ھولاء خبر ہے اور معنی یہ ہیں کہ : پھر تم وہی بد عہد ہو جیسے کہا کرتے ہیں کیا تم وہی شخص ہو جس نے ایسا کیا۔ صفت بدلنے کو بمنزلہ ذات کے بدلنے کے ٹھہرا کر ایسے کلام کا استعمال کیا کا تے ہیں اور جملہ تقتلون انفسکم یا تو حال ہے اور عامل اس میں معنی اشارہ کے ہیں اور یا انتم ھولاء کا بیان ہے اور یا یہ کہا جائے ھولاء بمعنی الذی ہے اور جملہ تقتلون ۔۔ الخ۔ صلہ ہے اور صلہ و موصول مل کر انتم کی خبر ہے۔
تظاھرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر تظاھر (تفاعل) مصدر سے ، تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے ہو۔ اصل میں تتظھرون تھا۔ ایک تاء گرگئی۔ علیہم میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ ان لوگوں کے لئے ہے جن کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے وہ کشت و خون کرتے ہیں اور جن کو وہ ان کے گھروں سے باہر نکالتے ہیں۔
انعدوان۔ ظلم و زیادتی۔ یہ عدا یعدو (باب نصر) کا مصدر ہے۔ عدوان کے معنی تعدی اور ظلم کے ہیں (امام ابوبکر سبستانی) بعض علماء سے نقل ہے کہ عدوان کے معنی بری طرح حد سے بڑھ جانے کے ہیں خواہ یہ بات قوت میں ہو یا فصل میں ہو یا حال میں ہو۔ عدوان اس زیادتی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ظلم کے بدلہ کے طور پر ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے فلا عدوان الا علی الظالمین (2:193) ظلم کا بدلہ صرف ظالموں ہی سے لیا جائیگا۔ یا زیادتی نہیں صرف ظالم لوگوں پر۔ یا جرم کی سزا صرف ظالموں ہی کو ملے گی۔
تظھرون علیہم بالاثم والعدوان۔ یہ جملہ فاعل تخرجون سے حال ہے۔
یاتوکم۔ یاتوا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیۃ) کم، ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر (وہی لوگ غیر قوموں کے) قیدی ہوکر تمہارے پاس آئیں۔ اسری۔ اسیر کی جمع ۔ قیدی۔
تفادوھم : تفادوا۔ مضارع مجزوم (جواب شرط) صیغہ جمع مذکر ھاضر۔ مفاداۃ (مفاعلۃ) مصدر ، جس کا مطلب ہے فدیہ دے کر چھڑانا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کا مرجع فعل یاتوا کی ضمیر فاعل ہے، یعنی وہ لوگ جو قیدی بن کر آئے ہیں تم فدیہ دے کر ان کو چھڑالیتے ہو۔
وھو محرم علیکم اخراجھم۔ واؤ حالیہ ہے ھو ضمیر شان جو اخراج کی طرف عائد ہے۔ حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم پر حرام تھا۔ جملہ حالیہ ہے اور ہم ضمیر فاعل یاتوا سے حال ہے یا یہ جملہ معترضہ بھی ہوسکتا ہے۔
افتؤمنون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اور فاء عاطفہ تو کیا تم ایمان لاتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:44)
فما۔ فائ۔ عاطفہ۔ ما۔ نافیہ۔
خزی۔ ذلت و خواری۔ رسوائی۔ خزی یخزی (باب سمع) کا مصدر ہے یوم القیامۃ۔ مجاف، مضاف الیہ ۔ یوم بوجہ مفعول فیہ کے منصوب سے۔
یردون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب، رد (باب نصر) مصدر۔ وہ لوٹائے جائیں گے۔
اشد۔ نہایت سخت، بہت شدید۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
العذاب : مضاف الیہ۔ الی اشد العذاب ای الی عذاب اشد من عذاب الدنیا (اور قیامت کے روز) ایسے عذاب کی طرف (لوٹائے جاؤگے) جو اس دنیاوی عذاب سے شدید تر ہوگا۔
وما اللہ بغافل عما تعملون ۔ جملہ معترضہ ہے ما نافیہ ہے ۔ عما۔ عن حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔
فائدہ : مدینہ میں مشرکوں کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج۔ یہ دونوں قبیلے آپس میں برسرپیکار رہتے تھے۔ یہودیوں کے بھی اس وقت مدینہ میں یا کہ جوار مدینہ میں دو بڑے قبیلے تھے، بنی نضیر اور بنی قریضہ، یہ دونوں قبیلے ۔ اور بنی قریظ قبیلہ اوس کے ساتھی تھے اوس اور خزرج کی باہمی خانہ جنگیوں میں یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کے ہمراہ اپنے ہی ہم مذہب قبیلوں کے مقابل لڑتے تھے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے بےگھر کرتے تھے۔ لیکن (عجیب بات ہے کہ) ان یہودی قبیلوں میں سے کوئی لڑائی کے دوران اگر دوسری قوم کے ہاتھ میں اسیر ہوجاتا تو اسرائیلی کا آزاد کرانا کار ثواب سمجھ کر فدیہ دے کر اسے رہا کرا لیتے تھے حالانکہ اس کا جلاوطن کرنا ہی حرام تھا جس کے سبب وہ اسیر ہوا تھا۔
Ayah 2:86(2:86) اولئک۔ اسم اشارہ بعید مذکر، اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جن کی کرتوتیں اوپر مذکور ہوئیں۔
اشتروا۔ ماضی جمع مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر جس کے معنی بیچنا اور خریدنا دونوں ہیں۔ ش ر ی۔ مادہ۔ آیت ہذا میں یہ بمعنی خریدنے کے ہے۔ یعنی جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ اردو میں اکثر اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور مشتری خریدار کو کہتے ہیں۔ چناچہ مثل ہے، مشتری ہوشیار باش۔ خریدار کو چوکس رہنا چاہیے۔ انہی معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ان اللہ اشتری من المؤمنین (9:111) خدا نے مومنوں سے ۔۔ خرید لئے ہیں۔
اور بیچنے کے معنی میں ہے وشروہ بثمن بخس (12:20) اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا۔ لا یخفف۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب۔ تخفیف (تفعیل) ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ کمی نہیں کی جائے گی۔ تخفیف نہیں کی جائے گی۔
ولاہم ینصرون۔ واؤ عاطفہ ہے لا نافیہ ہم مبتداء ینصرون۔ فعل مضارع مجہول ہے جو جملہ فعلیہ ہوکر مبتداء کی خبر ہے۔ اور جملہ لاھم ینصرون ۔ جملہ اسمیہ ہوکر معطوف ہے جملہ سابقہ کا ینصرون۔ ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
Ayah 2:87(2:87) الکتب : ای التوراۃ۔
قفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تقضیۃ (تفعیل) مصدر سے ۔ پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کردینا ۔ اس کے مادہ قفا ہے۔ قفا کا معنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ (گدی) قفو اور قفو پیچھے چلنا، پیروی کرنا (اس معنی میں مجرد باب نصر سے مستعمل ہے) تقضیۃ (باب تفعیل) دو مفعول چاہتا ہے اور اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوتی ہیں۔
(1) کبھی دونوں مفعول پر حرف جر نہیں ہوتا۔ مثلاً تفیت زیداً عمرواً میں نے زید کو عمرو کے پیچھے بھیجا۔
(2) کبھی مفعول دوم پر ب آتا ہے۔ قرآن مجید میں اسی طرح مستعمل ہے مثلاً آیت ہذا۔ اور ہم نے اس کے پیچھے رسول بھیجے اور ثم قفینا علی اثارہم برسلنا (57:27) پھر ہم نے ان کے قدموں کے نشان پر یعنی بالکل ان کے پیچھے پیچھے اپنے رسول بھیجے۔
(3) کبھی مفعول اول حذف کردیا جاتا ہے مثلاً وقفینا بعیسی ابن مریم (57:27) اور ّپھر ان رسولوں کے) پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔
البینات۔ بینۃ کی جمع ہے بوجھ جمع مؤنث سالم کے منصوب ہے۔ روشن دلیلیں۔ کھلی ہوئی دلیلیں ۔
ایدناہ ۔ ایدنا ماضی جمع متکلم۔ تائید (تفعیل) مصدر بمعنی مدد کرنا۔ قوت دینا۔ تائید کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ ہم نے اس کو قوت دی۔ ہم نے اس کی تائید کی۔
روح القدس۔ مضاف مجاف الیہ۔ یہ موصوف کی اضافت صفت کی طرف ہے جیسے کہتے ہیں حاتم الجور اور رجل صدق اور یہ مبالغہ کے اختصاص کے لئے ہے۔ یہاں بھی القدس (پاکی) روح کی صفت ہے۔ پاک و مقدس روح۔ روح القدس سے مراد یا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں یا القدس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور روح سے مراد وہ روح ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اندر پھونکی تھی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے فنفخنا فیہ من روحنا (26:12) ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونکا۔ اس میں متعدد اقوال ہیں جو کسی تفسیر میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔
افکلما۔ ہمزہ استفہامیہ فاء عاطفہ ہے۔ کلما مرکب ہے کل اور ما سے۔ ما مصدریہ ہے اور کلما کے معنی کل وقت۔ یعنی جب ، جبکہ، جس جس وقت، جب بھی۔ اسی وقت کے معنی کی وجہ سے اس ما کو مصدریہ ظرفیہ یعنی ظرف کا نائب کہتے ہیں نہ کہ خود ظرف۔ کلما میں لفظ کل ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اس لئے کہ وہ ایسی شے کی طرف مضاف ہے جو ظرف کی قائم مقام ہے۔ کلما تکرار کے واسطے آتا ہے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے مثلاً کلما نضحت جلودھم (4:56) کلما دعوتہم (71:2) افکلما تو کیا جب کبھی۔
مالا تھوی ۔ ما موصولہ ہے۔ لاتھوی انفسکم اس کا صلہ، لا تھوی مضارع منفی اور واحد مؤنث غائب ھوی (باب سمع) مصدر بمعنی خواہش کی طرف نفس کا مائل ہونا ۔ جیسے تمہارے جی ناپسند کرتے ہیں۔
استکبرتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ استکبار (استفعال) مصدر تم نے تکبر کیا۔ تم نے غرور کیا۔ یعنی ایمان لانے اور پیغمبروں کے اتباع سے تکبر کرنے لگے۔
ففریقا کذبتم وفریقا تقتلون ۔ پس کسی گروہ کو تم نے جھٹلایا اور کسی گروہ کو قتل کرنے لگے، یہاں صیغہ مضارع اس لئے استعمال ہوا کہ یہ ایک امر عظیم ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جو امر عظیم ہوتا ہے اس کو اس طرح بیان کیا کرتے ہیں کہ وہ بالکل پیش نظر ہوجاوے گویا اب ہو رہا ہے۔ (مظہری)
Ayah 2:88غلف جمع اغلف واحد۔ اغلف اس چیز کو کہتے ہیں جو غلاف میں بند ہو۔ چناچہ غلفت السیف کے معنی ہیں، میں نے تلوار کو نیام میں بند کردیا۔ مطلب یہ کہ ہمارے دل غلافوں میں بند ہیں اس لئے قرآن مجید کی باتیں ہمارے تک نہیں پہنچ سکتیں۔
بعض کے نزدیک غلف اصل میں غلف تھا۔ لام کے صیغہ کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا اور یہ غلاف کی جمع ہے جیسے کتاب کی جمع کتب ہے۔ غلاف کے معنی مخزن ہیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے دل خود ہی علوم و معارف کے گنجینے اور مخزن ہیں لہٰذا ہمیں دوسروں کے علوم سے استفادہ کی ضرورت نہیں۔
بل حرف اضراب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ ان کے دل غلافوں کے اندر بند ہیں ۔ یا وہ علوم و معارف کے خزانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ بل کے متعلق ملاحظہ ہو (2:135)
فقلیلا۔ میں فاء سببیہ ہے۔ قلیلا منصوب ہے اس لئے کہ یہ صفت ہے مفعول مطلق محذوف ایمانا کی اور ما زائدہ ہے ۔ ای فایمانا قلیلا یؤمنون ۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 2:89(2:89) لما۔ جب (شرطیہ ہے ، نیز ملاحظہ ہو : 2:214)
کتب یعنی قرآن ۔ نکرہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے۔
مصدق۔ اسم فاعل واحد مذکر، تصدیق مصدر (باب تفعیل) تصدیق کرنے والا۔ سچا ماننے والا۔ سچا کہنے والا۔
ما معہم۔ ما موصولہ معہم۔ صلہ (کتاب) جو ان کے پاس تھی۔ یعنی توراۃ۔
ولما جاء ہم کتب من عند اللہ مصدق لما معہم۔ جملہ شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے۔ ای انکروہ انہوں نے اس سے انکار کردیا۔
وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا۔ یہ جملہ یا ضمیر فاعل کانوا سے حال ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ حالانکہ وہ کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے (اس بنی کے وسیلہ سے)
من قبل۔ قبل اسم ظرف ہے۔ ظرف زمانی اور مکانی دونوں کے لئے آتا ہے یہ ظروف منبیہ میں سے ہے بعض ان میں سے ضمیہ پر بعض فتحہ پر اور بعض سکون پر مبنی ہیں۔
اسماء جہات ستہ یعنی قبل۔ بعد۔ تحت۔ فوق۔ قدام۔ خلف۔ مبنی برضمہ ہیں۔ ان برضمہ آنا ہے جب ان کا مضاف الیہ محذوف ہو اور دل میں مقصود ہو۔ جیسا کہ آیت ہذا میں کی اصل میں مقصود یہ تھا من قبل ذلک ۔ لیکن اگر مضاف الیہ محذوف نہ ہو تو حرف جار کا اثر قبول کریں گے۔ جیسے من قبل ذلک من بعدہ۔ قبل کا استعمال چار طور پر ہوتا ہے
(1) تقدیم زبانی جیسے قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا (20:130)
(2) تقدم مکانی کسی مقام کا دوران رفتار میں پہلے مواقع ہونا۔ اور دوسرے مقام کا بعد میں واقع ہونا ۔ مثلا لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ساہیوال قبل آئے گا اور ملتان بعد میں اور کراچی سے لاہور آتے ہوئے ملتان قبل آئیگا اور ساہیوال بعد میں ۔
(3) تقدم بلحاظ مرتبہ جیسے عبد الملک قبل الحجاج۔ عبد المالک مرتبہ میں حجاج سے پہلے ہے یعنی بڑا ہے۔
(4) ترتیب فنی و تعلیمی میں تقدم ۔ جیسے تعلم الھجاء قبل تعلیم الخط۔ ہجا کی تعلیم کتابت سیکھنے سے پہلے دی جاتی ہے ۔ (راغب)
قرآن مجید میں لفظ قبل عموما تقدم زمانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔
کانوا یستفتحون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب، استفتاح (استفعال) مصدر وہ فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ وہ فتح مانگا کرتے تھے۔ یعنی جب کبھی یہود کی کفار و مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ اس نبی کی وساطت سے اللہ سے مخالفین پر فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ جس کا ذکر اور بعثت کا وعدہ تورات میں دیا گیا تھا۔ اور ان الفاظ سے دعا کیا کرتے تھے۔ اللہم انا نسئلک بحق نبیک الذی وعدتنا ان تبعثہ فی اخرا لزمان ان تنصرنا الیوم علی عدونا۔ اے اللہ ہم تجھ سے تیرے اس نبی آخر الزمان کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں جس کی بعثت کا تو نے وعدہ فرمایا ہے کہ تو آج ہمیں ہمارے دشمنون پر فتح دے (روح المعانی)
فلما۔ پس جب (شرطیہ ہے)
ما عرفوا۔ ما موصلہ ہے اور ضمیر جو اس کی طرف عائد ہے محذوف ہے۔ عرفوا ماضٰ کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ معرفۃ وعرفان سے۔ انہوں نے پہنچانا۔ انہوں نے جانا۔ جس کو وہ جان اور پہچان چکے تھے۔ فلما جاء ہم ما عرفوا جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ کفروابہ جواب شرط ہے۔ تو انہوں نے اس سے انکار کردیا۔
الکفرین۔ میں ال عہد کا ہے۔ یعنی یہ لوگ (جن میں کفر موجود ہے) لعنت کے مستحق ہیں۔ یا ال جنس کا ہے یعنی تمام کافروں پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے (اس میں یہ منکرین بھی آگئے)
Ayah 2:90بئسما مرکب ہے بئس اور ما سے۔ بئس فعل ذم ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بمعنی برا ہے اصل میں بئس تھا۔ باب سمع سے ۔ عین کلمہ کے اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کرلیا گیا بئس ہوگیا۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی اور بئس کا فاعل ہے۔ پس بری ہے وہ چیز جس کے لئے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔
ان یکفروا بما انزل اللہ : ان مصدریہ ہے۔
بغیا۔ مفعول لہ ہے یکفروا کا۔ معنی بوجہ سرکشی ، زیادتی ، ضد، حسد
ان ینزل اللہ۔۔ من عبادہ ان مصدریہ ہے یہ جملہ بغیا کا مفعول لہ ہے۔ مطلب یہ کہ جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنی جانو ؓ کا سودا چکایا وہ بہت بری ہے۔ اور سودا کیا تھا ؟ یہ کہ انہوں نے انکار کردیا اس کلام سے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (اور ان کے انکار کی وجہ کیا تھی ؟ ) بغیا۔ یعنی ان کی سرکشی ضدوحس (جو ان کے انکار کے محرکات تھے) (اور ان محرکات کی کیا وجہ تھی ؟ ) یہ کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے ازراہ فضل اپنا کلام کیوں نازل فرماتا ہے۔ ان کی توقعات و خواہشات کی تکمیل کیوں نہیں ہوتی ؟ (کہ یہ نبی جس پر قرآن نازل ہو رہا ہے بنی اسرائیل میں سے ہونا چاہیے تھا نہ کہ اولاد اسماعیل (علیہ السلام) سے)
فباء وا۔عاطفہ ہے۔ باء وا ماضی جمع مذکر غائب بوء مصدر سے (باب نصر) انہوں نے کمایا وہ لوٹے۔ سو انہوں نے کمایا (غضب بالائے غضب) یعنی اپنے پر غضب بالائے غضب لے آئے۔
غضب علی غضب۔ غضب کے بعد غضب، یہاں اس سے مراد محض وہ غضب نہیں بلکہ پے درپے متعدد غضب۔ مثلاً ایک تو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کا انکار کیا۔ اور اللہ کا ان پر اس سبب سے غضب ہوا۔ اور اس سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کرنے اور توراۃ پر عمل نہ کرنے۔ گئوسالہ کی عبادت کرنے وغیرہ سے بھی غضب الٰہی میں مبتلا تھے اب غضب پر غضب ہوگیا۔
مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر اھاتۃ مصدر (افعال) ھون۔ مادہ ۔ ذلیل کرنے والا۔ اہانت آمیز
Ayah 2:91(2:91) اذا قیل لہم ۔۔ انزل اللہ جملہ شرطیہ ہے قالوا ۔۔ علینا جواب شرط ہے۔ اور ویکفرون بما ورآءہ جملہ حالیہ ہے قالوا کی ضمیر مستتر سے وھو الحق مصدقا لما معہم : حال مؤکدہ ہے ما انزل اللہ سے مراد قرآن اور تمام کتب سماویہ ہیں ما انزل علینا سے مراد توراۃ ہے۔
ما وراء ہ۔ میں ما موصولہ ہے اور وراءہ مضاف، مضاف الیہ مل کر صلہ۔ مراد اس سے توارۃ کے علاوہ جو کتب سماویہ ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب توراۃ کے لئے ہے (جو ان ّیہود) پر نازل ہوئی۔
ورآئ۔ ورآئ۔ مصدر ہے لیکن اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا یا پیچھے ہونا۔ علاوہ ۔ سوا۔
وھو۔ میں ھو ضمیر قرآن پاک کی طرف راجع ہے۔ یا قرآن اور انجیل کی طرف ۔ ما معہم، جو ان کے پاس ہے ۔ قل۔ ای قل یا محمد ﷺ ۔ ازاں بعد آیت کے آخر تک مقولہ ہے۔
فلم تقتلون ۔۔ من قبل جزا ہے جو شرط سے مقدم آئی ہے بعد کا جملہ ان کنتم مؤمنین۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اگر تم ایماندار تھے تو خدا کے رسولوں کو پہلے کیوں قتل کیا کرتے تھے۔
فلم۔ میں فاء جواب شرط پر دلالت کرتا ہے (جزایہ ہے) لم میں لام تعلیل کا ہے۔
م۔ اصل میں ما تھا ۔ جو استفہامیہ ہے (کس لئے۔ کیوں) ما استفہامیہ کو ما خبر یہ سے جدا کرنے کے لئے الف کو حذف کردیا گیا۔ اسی طرح قرآن مجید میں فیم اور بم اور عم آیا ہے مثلا فمن تبشرون (15:54) تو کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو ۔ اور عم یتساء لون (78:1) (یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں۔ اور قالوا فیم کنتم (4:97) (فرشتوں نے) پوچھا تم کس حال میں تھے
تقتلون بمعنی قتلتم ہے۔ مضارع کا صیغہ۔ از منہ گزشتہ میں ان کے قتل انبیاء کے فعل کے استمرار کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ انبیاء کا قتل کرنا اگرچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کے آباء و اجداد سے ظہور میں آیا تھا۔ لیکن چونکہ یہ خلف اپنے سلف کے افعال سے راضی اور ان کے متبع ہیں اس لئے ان کے قتل کو ان کی طرف بھی منسوب کردیا گیا ہے۔
Ayah 2:92(2:92) ولقد جاء کم موسی۔ واؤ عاطفہ لام تاکید کا ۔ اور قد تحقیق کا ہے۔ اور بیشک تمہارے پاس (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) آئے۔
بینت۔ روشن دلائل ۔ یہاں مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے۔ مثلاً عصا۔ یدبیضاء انفلاق البحر (سمندر کو پھاڑ کر قوم کو پار کرنا) وغیرہ یہ تو معجزات تھے۔ بالبینت۔ میں باء تعدیہ کے لئے ہے یعنی حضرت موسیٰ لائے۔
اتخزتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) تم نے اختیار کیا (بطور معبود کے)
العجل۔ بچھڑا۔ گئو سالہ۔ گائے کا بچہ۔
من بعدہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد۔۔ یا آپ کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔
وانتم ظلمون ۔ جملہ حالیہ ہے۔
Ayah 2:93(2:93) واذا اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور خذوا ما اتینکم بقوۃ ملاحظہ ہو (2:63)
واسمعوا۔ واؤ عاطفہ ہے ۔ اسمعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ سماع (باب سمع) سے۔ تم سنو، یعنی قبول کرو اور اطعت کرو، اطاعت کو سننے سے اس لئے تعبیر کیا کہ سننا اطاعت کا سبب ہے۔
عصینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے انکار کیا۔ ہم نے ہمیں مانا۔ معصیۃ وعصیان (باب ضرب) مصدر سے واشربوا فی قلوبہم العجل بکفرہم۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا یا العجل۔ مضاف الیہ ہے اس کا مضاف حذف کیا گیا ہے اصل میں حب العجل تھا۔ معنی ہونگے اور ہلادی گئی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت بہ سبب ان کے کفر کے۔ عربی محاورہ میں جب کسی کی محبت یا بغض دل کے اندر سرایت کر جائے تو اس کے لئے لفظ شراب کو بطور استعارہ بیان کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ بدن میں نہایت تیزی سے سرایت کرتی ہے۔
بئسما ۔۔ ان کنتم مؤمنین۔ تقدیر کلام یوں ہے ان کنتم مؤمنین فیئسما یامرکم بہ ایمانکم۔ پہلا جملہ شرط اور دوسرا جواب شرط۔ اگر تم (بقول تمہارے) ایمان دار ہو تو تمہارا ایمان بہت بری بات بتاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ تم ایماندارہی نہیں ورنہ ایسے قبیح افعال کے تم مرتکب نہ ہوتے۔
Ayah 2:94(2:94) خالصۃ۔ خاص کرکے۔ خاصۃ۔ مخصوص، خصوصی طور پر۔ خالص۔ خلوص سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ الدار سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
من دون الناس۔ سب لوگوں کو چھوڑ کر۔ یعنی دوسروں کے لئے نہیں۔ الناس ۔ میں ال یا تو استغراق کا ہے یا جنس کا ۔ یا مسلمانوں کے لئے یا یہ آل عہد کا ہے۔
ان کانت ۔۔ من دون الناس۔ جملہ شرطیہ ہے۔ شرط اول۔ فتمنوا الموت ان کنتم مؤمنین میں جملہ دوم شرطیہ ہے (شرط دوم) اور جملہ اول جواب شرط۔ لہٰذا فتمنوا الموت شرط اول و دوم دونوں کا جواب ہے۔
تمنوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم آرزو کرو، تم تمنا کرو، تمنی (تفعل) مصدر۔
Ayah 2:95ولن یتمنوہ۔ مضارع نفی تاکید بلن۔ یتمنوا اصل میں یتمنون تھا۔ نون اعرابی لن کی وجہ سے ساقط ہوگیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد ذکر غائب ۔ جس کا مرجع الموت ہے۔
ابدا۔ ہمیشہ ، زمانہ مستقبل غیر محدود۔ کسی بھی۔
بما۔ میں ب سببیہ ہے اور فاء موصولہ۔
قدمت۔ ماضی واحد مؤنث غائب ۔ تقدیم (تفعیل) مصدر ۔ پہلے بھیج چکے۔ پہلے کرچکے (جو ان کے ہاتھوں نے کرکے بھیجے)
Ayah 2:96(2:96) لتجدنھم۔ لام تاکید کا ۔ لتجدن مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔
وجود (باب ضرب) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کا مرجع اہل یہود ہیں جن سے اوپر خطاب ہے تو ان کو ضرور پائے گا۔ تو ان کو ضرور پاتا ہے۔
احرص۔ ا فعل التفضیل کا صیغہ ۔ زیادہ لالچی، بڑا لالچی حرص سے۔
ومن الذین اشرکوا ۔ ای ولتجدنھم احرص من الناس ومن الذین اشرکوا۔ اور تو بیشک ان کو ضرور پائے گا زندگی کے لئے زیادہ حریص بہ نسبت دوسرے لوگوں کے اور بہ نسبت مشرکین کے اسی طرح ومن الذین اشرکوا کا عطف الناس پر ہے اگرچہ مشرکین الناس میں داخل تھے لیکن کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ان کو علیحدہ ذکر کیا۔
یہاں کلام میں معانقہ ہے۔ مندرجہ بالا صورت اشرکوا پر وقف کرنے پر ہوگی۔ لیکن اگر حیوۃ پر وقف کیا جائے تو جملہ ومن الذین اشرکوا اگلے جملہ کے ساتھ مل کر معنی دے گا۔ اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی۔ ومن الذین اشرکو وا (ناس) یود احدھم لو یعمر الف سنۃ۔ یہاں من الذین اشرکوا سے مراد یہود ہیں ۔ جو قائل تھے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے وقالت الیہود عزیز ابن اللہ (9:30) اور یہود کہوتے ہیں کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں۔ مطلب اس صورت میں یہ ہوگا۔ اور یہود میں ایسے لوگ بھی ہیں جن میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کاش جیتا رہے ہزار برس۔
یود۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ مودۃ (باب سمع) پسند کرتا ہے۔ خواہش کرتا ہے۔ آرزو کرتا ہے۔
لو۔ یہاں لو تمنائی ہے اور لیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ کاش۔ لو یعمر الف سنۃ کاش دو ہزار برس جیتا رہے۔
وما ھم بمزحزحہ من العذاب ان یعمر۔ میں واؤ عاطفہ ہے ما نافیہ ۔ مزحزح اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ الزحزحۃ مصدر بمعنی دور ہٹانا۔ برطرف کرنا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فمن زحزح عن النار (3:184) پس جو شخص آگ سے دور رکھا گیا۔
ھو ضمیر واحد مذکر غائب احدہم کی طرف راجع ہے۔ اور ان یعمر فاعل ہے مزحزحہ کا اور معنی یہ ہیں کہ کوئی ان میں سے ایسا نہیں کہ اس کو عمر دیا جانا عذاب سے بچا سکے۔
ان مصدریہ ہے۔ اور یعمر مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ تعمیر مصدر (باب تفعیل) کہ اس کی عمر (زیادہ) کی جائے۔ اس کو عمر دی جائے۔
Ayah 2:97(2:97) من کان عدوا لجبریل جملہ شرطیہ ہے۔ اس کا جواب فھو عدو اللہ (وہ اللہ کا دشمن ہے) محذوف ہے۔
فانہ نزلہ۔ فاء تعلیلیہان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ جبریل۔ کی طرف راجع ہے اور نزلہ میں ۃ ضمیر مفعول اور مذکر گا ئب کا مرجع قرآن مجید ہے۔ ترجمہ : کس لئے کہ اس نے تو اس (قرآن مجید) کو اتارا۔
علی قلبک۔ تیرے دل پر۔ حق عبارت یہ تھا کہ علی قلبی (میرے دل پر) ہوتا ۔ کیونکہ قل کے بعد مقولہ حکم کے مخاطب کی زبان سے ہے۔ لیکن بطور حکایت کلام باری تعالیٰ کے علی قلبک فرمایا۔
باذن اللہ۔ ب حرف جار اذن اللہ مضاف۔ مجاف الیہ مل کر مجرور۔ یہ نزل کے فاعل سے حال ہے ۔ مصدرقا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب بوجہ نزلہ کی ضمیر ہ سے حال ہونے کے ہے۔
لما بین یدیہ (تصدیق اس کی جو) جو اس سے پہلے (یعنی پہلے اتر چکا ہے یدید میں ہ ضمیر کا مرجع قرآن مجید ہے لام حرف جر ہے بین مضاف، مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ اور مضاف مضاف الیہ مل کر ما موصولہ کا صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر مجرور۔
وھدی وبشری۔ ھدی وبشری۔ بھی مصدقا کی طرح نزلہ کے ھا ضمیر سے حال ہیں ھدی راہنمائی ہدایت۔ راہ دکھانا (باب ضرب) مصدر واسم مصدر۔
بشری۔ خوشخبری ۔ ایسی خبر کو سن کر بشرہ پر مسرت و خوشی کے آثار نمایاں ہوجائیں۔
Ayah 2:98(2:98) من شرطیہ ہے جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ۔ من کان عدو وا ۔۔ ومیکل فھو کانو مجزی باشد العذاب۔ جو کوئی مخالف (یا دشمن) ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرائیل یا میکائیل کا تو وہ کافر ہے اور مستوجب عذاب شدید ہے۔
عربی میں واؤ صرف عطف ہی کے لئے نہیں آتا۔ بلکہ بمعنی او (یا) بھی مستعمل ہے، یہاں اسی معنی میں آیا ہے ۔ یعنی ان میں سے جو سکی ایک کا دشمن ہے وہ سب کا دشمن ہے۔
عدوا۔ عدو۔ مصدر بھی ہے اور اس صورت میں یہ خد ہے دوستی اور محبت کا ۔ عدو اسم بھی ہے اس صورت میں یہ مقابل ہے دوست کا۔ یہاں مؤخر الذکر صورت میں استعمال ہے عدوا بوجہ خبر کان کے منصوب ہے۔
فان اللہ۔ میں گاء جزائیہ ہے۔ اس صورت میں جملہ سابقہ شرطیہ اور فان اللہ عدو للکفرین۔ جواب شرط ہوگا ۔ ترجمہ آیت یوں ہوگا : جو کوئی مخالف ہوا اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبریل کا۔ یا میکائیل کا تو اللہ (بھی) بالیقین مخالف ہے (ایسے) کافروں کا ۔ (تفسیر الماجدی)
Ayah 2:99(2:99) ولقد۔ واؤ عاطفہ ۔ لام تاکید کا۔ اور قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کا معنی دیتا ہے۔
ما یکفربھا۔ میں ما نافیہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایات کی طرف راجع ہے۔
الفاسقون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فسق و فسوق مصدر۔ فسق فلان کے معنی ہیں کسی شخص کا دائرہ شریعت سے نکل جانا ۔ اور یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے جھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں۔ عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔
Ayah 2:100(2:100) اوکلام۔ ہمزہ استفہامہ (استفہام انکاری کے لئے) واؤ عاطفہ کلما۔ کل اور ما سے مرکب ہے بمعنی کل وقت جب ۔ جب کبھی۔ جس جس وقت (نیز ملاحظہ ہو 2:87)
عھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ معاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر سے ۔ انہوں نے عہد باندھا۔ انہوں نے عہد کیا۔ اوکلما عھدوا۔ کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا۔ (تفہیم القرآن) کیا یوں نہیں کہ جب کبھی انہوں نے وعدہ کیا۔ (ضیاء القرآن) ۔
بنذہ۔ نبذ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ نبذ (باب ضرب) مصدر بمعنی پھینکنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کا پھینک دیا۔ یا توڑ دیا۔ ضمیر کا مرجع عھد ہے (باب نصر) سے بمعنی نچوڑنا بھی آتا ہے اسی سے نبیذ نچوڑا ہوا عرق۔
بل۔ حرف اضراب ہے پہلے قول سے اعراض اور دوسرے کی توثیق۔ یعنی ایک فریق کی تو بات ہی کیا بلکہ ان میں سے اکثر کا تو اس عہد پر ایمان ہی نہ تھا۔ (نیز ملاحظہ ہو۔ 2:145)
Ayah 2:101(2:101) لما جب۔ لما کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔
(1) بطور حرف شرط۔ اس صورت میں ماضی کے دو و جملوں پر آتا ہے مثلاً آیت ہذا کہ ماضی کے دو جملوں جاء ہم رسول ۔۔ نبذ فریق جو بالترتیب جملہ شرطیہ، جملہ جزائیہ ہیں۔ یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما نجکم الی البر اعرضتم (17:67) پھر جب وہ (ڈوبنے سے) بچا کر تم کو خشکی کی طرف لے آیا تم نے منہ پھیرلیا۔ جب کے معنی میں اسم ظرف بھی ہے۔ ای۔ اذ
(2) بطور حرف استثناء بمعنی الا مگر۔ مثلاً ان کل نفس لما علیہا حافظ (86:4) کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے
(3) حرف جازم فعل، مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی مؤکد کردیتا ہے۔
(ا) ماضی فعل کی نفی زمانہ حال تک باستمرار چلی آتی ہے۔
(ب) جس فعل کی نفی ہوتی ہے اس کے ثبوت (یعنی ہوجانے) کی توقع رہتی ہے۔
مثلاً (1) بل لما یذوفوا عذاب (38:8) بلکہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ ابھی تک چکھا ہی نہیں (گو ان کو یہ مزہ چکھنا متوقع ہے)
(2) ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا و (گو اس کا تمہارے دلوں میں داخل ہونا متوقع ہے)
(3) لما یہ لم یلم (باب نصر) کا مصدر بھی ہے۔ اپنا اور دوسروں کا حصہ کھا لینا لممت اجمع۔ میں نے سب سمیٹ لیا۔ قرآن مجید میں ہے وتاکلون التراث اکلالما (90:19) اور تم میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:214)
لما جاء ۔۔ ما معہم۔ جملہ شرطیہ اور بنذ فریق ۔۔ ظھورہم جواب شرط اور کا لہم لا یعلمون موضع حال میں ہے
مصدق۔ صفت ہے رسول کی۔
ما معھم۔ موصول وصلہ مل کر مجرور ہے لام حرف جار کا ۔ اور مجرور مل کر متعلق مصدق کا۔
کانھم لا یعلمون ۔ کان حرف مشبہ بالفعل ۔ ھم اس کا اسم لا یعلمون فعل بافعل ہے ۔ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر کان کی خبر۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر فریق سے حال ہے۔ گویا وہ جانتے ہی نہیں۔
ورائ۔ اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی اضافت فاعل کی طرف بھی ہوتی ہے اور مفعول کی طرف بھی۔ اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے یا پیچھے ہونا۔ علاوہ اور سوا ہونا۔ کتب اللہ وراء ظھورھم۔ انہوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔ یعنی قابل اعتنا نہ سمجھتے ہوئے اس پر عمل نہ کیا۔
Ayah 2:102اتبعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اتباع (افتعال) مصدر سے ۔ انہوں نے پیروی کی۔ انہوں نے اتباع کیا۔ ما تتلوا الشیطن۔ ما موصولہ۔ تتلوا مضارع واحد مؤنث غائب۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑ تھی ہے۔ وہ (جماعت شیاطین) پڑھتی ہے۔ وہ تلاوت کرتی ہے۔ مضارع بطور حکایت حال ماضی آیا ہے اس لئے ماضی کے معنی دیتا ہے۔ تلاوت کا لفظ آسمانی کتابوں کی اتباع اور پیروی کے لئے مخصوص ہے جو کبھی ان کے پڑھنے اور کبھی ان کے مضامین امر و نہی اور ترغیب و ترہیب کے ذہن نشین کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ تتلو الشیطین صلہ ہے ما موصولہ کا۔ اتبعوا الشیطن اور وہ ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو (حضرت سلیمان کے عہد سلطنت میں) پڑھا کرتے تھے۔ علی ملک سلیمن۔ علی بمعنی فی ہے۔ سلیمان بوجہ عجمہ و معرفہ۔ غیر منصرف منصوب ہے علی ملک سلیمن۔ سلیمان کے زمانہ حکومت میں۔
الشیطین جمع شیطن کی ہے۔ شطن مادہ سے فیعال کے وزن پر ۔ ہر سرکش اور شیری شخص کو شیطان کہتے ہیں خواہ وہ جن ہو یا انسان ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن (6:113) اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں کو اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا تھا۔
الشیطین۔ بوجہ عمل لکن منصوب ہے۔
وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مطلق کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا تھا۔ یہاں جادو کرنے کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ اگلے جملے میں ارشاد ہوتا ہے۔ یعلمون الناس السحر۔ کہ وہ لوگوں کو سحر (جادو) سکھاتے تھے ، یعنی لوگوں کو جادو سکھانا یا اس پر خود عمل کرنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فعل نہ تھا بلکہ اس وقت کے سرکش اور شریر افراد کا یہ کام تھا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ یعلمون الناس السحر۔ حال ہے کفروا کی ضمیر فاعل مستتر ہم سے۔
وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت۔ واؤ عاطفہ ہے اور جملہ عطف جملہ سابقہ ما تتلوا ۔۔ علی ملک سلیمن پر ہے۔ یعنی وہ ان (یزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور ان (علوم و فنون کے پیچھے) جو بابل میں ہاروت و ماروت کو حاصل تھے۔
چونکہ عطف تفایر کو چاہتا ہے اس لئے ما انزل سے سحر کی نوع دیگر مراد ہے یا سحر کے سوا دیگر علوم و فنون (عبد اللہ یوسف علی) انزل سے نازل میں اللہ مراد نہیں بلکہ ان دونوں کی علمی استعداد جو ان کو اللہ کی طرف سے حاصل تھی (بابل میں ہاروت و ماروت پر کوئی جادو ووادو نازل نہیں ہوا تھا) ۔ (حقانی)
ببابل ھاروت و ماروت بوجہ عجمہ و معرفہ غیر منصرف ہیں اور بدیں وجہ منصوب۔
صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں۔ ہاروت و ماروت شہر بابل میں دو شخص تھے کہ جن کو ان کے عجائب افعال اور نیک چلن کی وجہ سے ان کو لوگ فرشتہ کہتے تھے اور ان کا یہ لقب مشہور ہوگیا تھا۔ یہ شخص اس فن سے واقف تھے مگر اس کو برا سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جو شخص ان کے پاس سیکھنے آتا اس سے یہ کہہ دیتے تھے کہ بھائی خدا نے یہ علم ہم کو تمہاری آزمائش کے لئے دیا ہے اس کو نہ سیکھو ورنہ ایمان جاتا رہے گا۔
(ان کے متعلق یہ کہانی کہ وہ دو فرشتے تھے جو حضرت ادریس (علیہ السلام) کے عہد میں زمین بابل میں آئے تھے ایک حسین عورت زہرہ پر عاشق ہوگئے اور اس کے بہکانے پر غیر شرعی کام کئے اور سزا میں ایک کنویں میں الٹے لٹکائے گئے وغیرہ۔ سب بےحقیقت اور بےتکی باتیں ہیں)
وما یعلمن من احد۔ ما نافیہ۔ یعلمن مضارع تثنیہ مذکر غائب وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے۔
تعلیم (تفعیل) مصدر من احد میں من زائدہ ہے۔
حتی ۔ الی۔ ان۔ جب تک۔
یقولا۔ مضارع تثنیہ مذکر غائب ۔ حتی کے بعد ان مقدرہ کی وجہ سے مضارع منصوب آیا ہے۔ قول مصدر (باب نصر) وہ دونوں کہہ دیتے تھے۔
فتنۃ۔ ّزمائش۔ فتنۃ۔ فتن۔ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھڑا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ قرآن مجید میں لفظ فتنۃ اور اس کے مشتقات کو مختلف معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً آزمائش، (آیہ ہذا) آفت، مصیبت، فساد، کفر ، بدنظمی، عبرت، ایذا وغیرہ۔
انما نحن فتنۃ میں انما کلمہ حصر ہے۔ ہم تو صرف آزمائش ہیں۔
لا تکفر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو کافر مت بن ۔
فیتعلمون۔ فاء عاطفہ ہے۔ یتعلمون کا عطف یعلمن پر ہے اور نفی میں شامل نہیں۔ تقریر کلام کچھ ایسے ہے وما یعلمن من احد حتی یقولا انما تحن فتنۃ فلا تکفر (یعلمنھم بعد ذلک القول) فیتعلمون منھما ۔۔ الخ وہ دونوں کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں ” تو کافر نہ بن “ (لیکن جب وہ اس پر بھی سیکھنے پر اصرار کرتے تو) وہ ان کو اس قول کے بعد سکھانے پر آمادہ ہوجاتے اور وہ لوگ ان دونوں سے سیکھتے ایسی بات کہ ۔۔ الخ۔
یتعلمون۔ مضارع جمع مذکر غائب تعلم (تفعل) مصدر سے ۔ وہ سیکھتے تھے۔
ما یفرقون۔ ما موصولہ ہے یقولون مضارع جمع مذکر غائب تفریق (تفعیل) مصدر ۔ وہ جدائی پیدا کرتے تھے بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وہ جادو جو وہ ہاروت و ماروت سے سیکھتے تھے جدائی ڈالنے کے لئے۔
وما ھم بضارین بہ من احد۔ واؤ حالیہ ہے۔ ما نافیہ مشابہ بلیس ۔ بضارین میں باء زائدی ہے اور من احد میں من زائدہ ہے بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع وہی ہے جو ہ متذکرۃ الصدر میں ہے۔ مطلب ای ما یضرون بہ احدا ۔ اس سے وہ کسی کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے تھے جملہ حالیہ ہے سابقہ سے۔
ویتعلمون مایضرھم ولا ینفعھم اس جملہ کا عطف جملہ فیعلمون منھا ۔۔ الخ پر ہے ما یضرھم میں ما موصولہ ہے یضروھم جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ ہے اور ولا ینفعھم جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر معطوف۔ معطوف مل کر صلہ ہوا ما موصولہ کا ۔ وہ لوگ وہ بات سیکھتے تھے جو ان کو ضرر دیتی تھی اور ان کو نفع نہیں دیتی تھی۔
ولقد علموا۔ واؤ عاطفہ لام تاکید کا ۔ قد ماضی پر داخل ہوکر، تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ علموا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب الیھود کے لئے ہے۔
لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق۔ لام ابتداء (جو مبتداء پر داخل ہوتا ہے) من موصولہ اشترہ (اشتری فعل بافاعل ہ مفعول جملہ فعلیہ خبر یہ ہوکر) صلہ اپنے موصول کا اور موصول صلہ مل کر مبتداء ہے (جس پر کہ لام ابتداء داخل ہوا ہے) ۔
ترجمہ : اور بیشک وہ (یہود) جان چکے تھے کہ جس نے اس (سحر) کو (کتاب اللہ کے عوض) خریدا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ جملہ لمن اشترہ ۔۔ من خلاق مفعول ہے علموا کا اشتری ماضی واحد مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے خریدا۔ اس نے مول لیا۔ (یا اس نے بیچا) ہ ضمیر مفعول سحر کے لئے ہے۔
خلاق۔ حصہ ۔ اپنی داعت اور خلق سے جو فضیلت انسان حاصل کرے اس کا نام خلاق ہے۔
ولبئس ما شروا بہ انفسھم۔ واؤ عاطفہ ما موصوفہ ہے۔ شروا بہ انفسھم جملہ فعلیہ ہوکر صفت (ہ کا مرجع ما بمعنی شیئا ہے) بئس فعل ذم ہے۔ برا ہے۔ لام تاکید کا ہے۔ اور جس شئے کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا وہ بری تھی۔ شروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب شرا (باب ضرب) سے معنی خریدوفروخت کرنا۔ ہر وہ معنی یعنی خریدنا اور فروخت کرنا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
لو کانوا یعلمون ۔ کاش وہ جانتے۔
فائدہ : اگر کوئی بطور شبہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو بطور تاکید یہ فرمایا ولقد علموا (بیشک جان چکے) تو پھر لو کانوا یعلمون (کاش وہ جانتے) کے کیا معنی ہوں گے ؟
جواب یہ ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک علم سطحی ہے جو محض زبان پر ہے اس کا دل سے یا عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسرا علم جو قلب کی گہرائیوں تک جا گھسے اور اس کو منور کر دے۔ اور یہی علم نافع ہے۔ یہود کا رسول کریم ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچاننا بھی اسی قبیل سے تھا کہ وہ سطحا جانتے تھے اور مانتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن یہ اقرار ان کی زبانوں تک ہی محدود تھا ان کے دل اس کے نور سے عاری تھے اس لئے ان کی یہ پہچان ان کو کچھ نافع نہ تھی (تلخیص از تفسیر مظہری)
قرآن حکیم کی مندرجہ ذیل آیات متعلقہ ہیں :۔ 2:126 اور 6:20 ۔
Ayah 2:103(2:103) ولو انھم امنوا۔ (ای امنوا بالرسول اوبما انزل الیہ او بالتورۃ)
واؤ عاطفہ ہے لو انھم امنوا۔ جملہ شرطیہ اور واتقوا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور یہ بھی جملہ شرطیہ دوم ہے۔ اور وجملہ لمثوبۃ من عند اللہ خیر۔ جواب شرط ہے اصل اس کی یوں ہوگی۔ ولو انھم امنوا واتقوا لا ثیبوا مثوبۃ من عند اللہ خیرا مما شروا بہ انفسھم اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو وہ ضرور صلہ پاتے خدا کے ہاں سے جو اس چیز سے بہتر ہوتا جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔
لمثوبۃ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ مثوبۃ۔ ثوب سے ہے جس کے معنی کسی چیز کے اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ یا غور و فکر سے جو حالت مقدر اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانے کے ہیں۔ اول الذکر کی مثال ثانی فلان الی دارہ۔ فلاں اپنے گھر لوٹ آیا۔ یا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف لوٹ آئی۔ مؤخر الذکر کی مثال ثوب ہے۔ کیونکہ صو وت کاتنے سے مقصود کپڑا بننا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود کی طرف لوٹ آتا ہے۔
یہاں مثوبۃ بمعنی اچھا بدلہ۔ ثواب، جزاء ہے۔ خیر یہاں بطور صیغہ افعل التفضیل ہے۔ مفضل علیہ (سحر) کو یا تو اس لئے حذف کیا گیا کہ مفضل کو مفضل علیہ سے اس قدر عالی سمجھا کہ مفضل علیہ سے اس کو کسی قسم کی مناسبت ہو۔ یا اس واسطے کہ تخصیص کسی شے کی نہ رہے۔ تفضیل کل ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ مفضل جملہ اشیاء سے بہتر ہے ۔ لو کانوا یعلمون۔ آیت سابقہ ملاحظہ ہو۔
Ayah 2:104(2:104) راعنا۔ رع ی۔ مادہ سے مشتق ہے مراعاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے مراعاۃ بمعنی حفاظت کرنا۔ کسی کی طرف کان لگانا۔ مثلاً راعیتہ سمعی۔ میں نے اس کی طرف کان لگایا۔ یا کسی کی بات کی طرف دھیان دیا۔ مثلاً ھو لا یراعی الی قول احد وہ کسی کی بات پر دھیان نہیں دیتا۔ راعنا۔ ہماری طرف کان لگا۔ ہماری طرف متوجہ ہو۔
الرعی۔ اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں۔ خواہ غذا کے ذریعہ سے ہو جو اس کی زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعے سے ہو۔ مثلاً ارعیتہ میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعیتہ میں نے اس کی نگرانی کی۔ اسی سے رعی چارہ یا گھاس کو کہتے ہیں اور مرعی چراگاہ کو۔ اسی سے راعی چرواہا کو کہتے ہیں ۔ نیز راعن یہود کی زبان میں ایک نہایت فحش گالی تھی۔ راعنا (ہماری طرف کان لگا یا متوجہ ہو) کو ذرا زبان دبا کر راعینا بولتے اور اپنے دل میں اس کے معنی لیتے۔ اے ہمارے چرواہے یا بطور گالی راعنا۔ راعین سے بمعنی احمق استعمال کرے۔ ان کو دیکھا دیکھی اور ان کی نیت کو جانے بغیر مسلمان بھی کبھی یہ لفظ (بمعنی ہماری طرف متوجہ ہو) استعمال کرلیتے تھے۔ آیت ہذا میں خداوند تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے تاکہ یہ دو معونی لفظ کسی گستاخی کا باعث نہ بن سکے۔ اور ہدایت فرمائی کہ وہ (یعنی مسلمان) راعنا کے بجائے انظرنا کہا کریں۔
واسمعوا۔ واؤ عاطفہ اسمعوا سماع (باب سمع) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ۔ تم سنو۔ تم سنتے رہو۔ یعنی انظرنا (آپ ہماری طرف نظر فرمائیں۔ کہو اور پھر دھیان سے سنو۔
Ayah 2:105(2:105) ما یود۔ ما نافیہ ہے۔ یود۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مودۃ مصدر باب سمع۔ نہیں پسند کرتے۔ نہیں چاہتے ہیں۔
من بیانیہ ہے۔ اور ولا المشرکین میں واؤ عاطفہ اور لا زائدہ ہے ان ینزل میں ان مصدر ہے۔ ینزل۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر سے بمعنی نازل کیا جانا۔ ان ینزل علیکم من خیر من ربکم یہ جملہ مفعول ہے یود کا۔ ترجمہ یہ ہوگا۔ وہ لوگ جو کافر ہیں کتاب والے ہوں یا مشرک تمہارے رب کی طرف سے تم پر کسی بھلائی کے نازل کئے جانے پر خوش نہیں ہیں۔
واللہ میں واؤ حالیہ ہے۔
یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اختصاص (افتعال) مصدر سے۔ وہ خاص کرتا ہے۔ وہ مخصوص کرتا ہے۔ ترجمہ : حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہے مخصوص کرلے۔
ذوالفضل العظیم۔ ذوا مضاف۔ الفضل موصوف العظیم۔ صفت۔ موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ عظیم فضل والا۔ بڑے ہی فضل کا مالک۔
Ayah 2:106(2:106) ما شرطیہ ہے اور جازم فعل ہے ۔ ما من ایۃ جو آیت بھی جس آیت کو بھی۔
ننسخ۔ مضارع جمع متکلم مجزوم بوجہ عمل ما شرطیہ نسخ (باب فتح) مصدر بمعنی زائل کرنا۔ بدل دینا۔ بیکار کردینا۔ ایک چیز کو دوسری جگہ قائم کرنا۔ صورت بدل دینا ۔ لکھنا۔ الا ستنساخ (باب اسفعال) کے معنی کسی چیز کے لکھنے کو طلب کرنے یا لکھنے کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن بمعنی نسخ (لکھنا) بھی قرآن مجید میں آیا ہے ۔ مثلاً انا کنا نستنسخ ماکنتم تعلمون (45:29) جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے تھے۔ تنا سخ ایک کے بعد دوسری چیز کا اس کے قائم مقام ہونا۔ جیسا کہ اہل ہنود میں مسئلہ تنا سخ ہے کہ آتما بمعنی روح ہر موت پر دوسرا روپ دھار لیتی ہے اور عمل جاری رہتا ہے تاآنکہ آتما کو نروان (نجات) حاصل ہو۔
آیت ہذا میں جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں۔
او۔ یا۔ حرف عطف ہے۔
ننسھا۔ مضارع جمع متکلم۔ اصل میں ننسیھا تھا۔ یا کو ساقط کیا گیا ہے۔ یہ انساء (فعال) مصدر سے ہے۔ انسی ینسی۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ہے جس کا مرجع آیت ہے ہم اسے فراموش کرا دیتے ہیں۔ نسی مادہ۔
نات۔ مضارع جمع متکلم۔ اتیان (باب ضرب) مصدر سے۔ یہ فعل لازم ہے۔ لیکن ھاء کے صلہ کے ساتھ آئے تو متعدی کے معنی دیتا ہے۔ ہم لاتے ہیں۔ ہم دیتے ہیں۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایۃ کے لئے ہے۔ نات بخیر منھا او مثلہا۔ جملہ جواب شرط ہے۔
الم تعلم۔ ہمزہ استفہامہ ہے۔ لم تعلم نفی جحد بلم کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ کیا تو نہیں جانتا۔
Ayah 2:107(2:107) مالکم میں ما نافیہ ہے۔
من دون اللہ۔ اللہ کے سوا۔
ولی۔ ولایۃ سے بروزن فعیل صیغہ صفت ہے۔ مددگار۔
نصیر۔ نصر سے بروزن فعیل صیغہ ہے۔ بچانے والا۔
Ayah 2:108(2:108) ام۔ یا ۔ کیا۔ خواہ۔ حرف عطف ہے استفہام کے معنی دیتا ہے کبھی بمعنی بل (حرف اضراب بلکہ) اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہامیہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کبھی زائدہ ہوتا ہے۔ مثلاً افلا تبصسرون۔ ام انا خیر (43:51-52) عبارت کی تقدیر یوں ہے افلا تبصرون انا خیر (کیا تم نہیں دیکھتے میں بہتر ہوں ۔۔ )
تریدون۔ مضارع جمع مذکر حاضر ارادۃ مصدر (باب افعال) کیا تم چاہتے ہو، کیا تم ارادہ کرتے ہو۔
ان مصدریہ ہے۔
کما۔ کاف حرف تشبیہ ہے۔ ما موصولہ (بعد کو آنے والا جملہ اس کا صلہ) جیسا کہ۔
من یتبدل الکفر۔ مضارع مجزوم بوجہ شرط وصل کی وجہ سے مجزوم کو مکسور کردیا گیا۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ تبدل (تفعل) مصدر، بدلہ میں لینا من شرطیہ۔ جو ایمان کے بدلہ میں کفر کو لے گا۔ یا ایمان چھوڑ کر کفر لے گا۔
فقد۔ میں فاء جواب شرط کے لئے ہے۔ سارا جملہ جواب شرط ہے۔
قدضل۔ ماضی پر آنے کی وجہ سے قد تحقیق کے معنی میں ہے۔ ضل ماضی واحد مذکر غائب۔ کھوگیا ۔ راہ سے دور جا پڑا۔
سواء السبیل۔ مضاف ، مضاف الیہ مل کر ضل کا مفعول۔ بمعنی راہ راستگی۔ سو بیشک وہ راہ راستگی کھو بیٹھا۔ راہ سے دور جا پڑا۔
Ayah 2:109(2:109) ود۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ۔ ود۔ مودۃ مصدر (باب سمع) اس نے دل سے چاہا۔ دل سے خواہش کی۔
لو۔ یہاں بطور حرف تمنی استعمال ہوا ہے۔ کاش۔
یریدونکم۔ یریدون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ رد مصدر (باب نصر) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ۔ کہ تم کو لوٹا دیویں۔ مرتد بنادیں۔ کفارا۔ مفعول ثانی ہے (کم مفعول اول) فعل یریدون کا۔
حسدا۔ بوجہ حسد۔ مفعول لہ۔
من عند انفسھم۔ انفسھم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عند کا جو مضاف ہے۔ یہ مضاف اور مضاف الیہ مل کر مجرور اپنے جار من کا۔ جار مجرور مل کر صفت حصدا کی ۔ یعنی بوجہ حسد کے جو ان کے دلوں میں ہے۔
من بعد ما تبین لہم الحق۔ بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق۔ یعنی یہ سب ان کی گزشتہ کاروائی اس پر ہے کہ ان معجزات اور حضور ﷺ کی ان صفات سے جو تورات میں مذکور ہیں حق ان پر ظاہر ہوچکا تھا۔
فاعفوا۔ فاء عاطفہ۔ اعفوا۔ عفو (باب نصر) مصدر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم معاف کر دو ۔ اصفحوا۔ صفح (باب فتح) مصدر سے ۔ فعل امر کا صیغہ ، جمع مذکر حاضر ہے۔ تم درگزر کرو۔
Ayah 2:110(2:110) واقیموا الصلوۃ واتو الزکوۃ۔ جملہ انشائیہ ہے اور معطوف ہے جس کا عطف فاعفوا پر ہے۔
وما تقدموا لانفسکم من خیر۔ واؤ عاطفہ، ما شرطیہ۔ من خیر بیان ہے ما کا۔ لانفسکم۔ متعلق فعل تقدموا ہے۔ اور جو بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیج رکھو گے۔ یہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ تجدوہ عند اللہ۔ جواب شرط ہے۔ تدموا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ تم آگے بھیجوگے۔
Ayah 2:111(2:111) لن یدخل الجنۃ۔ لن یدخل۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع منصوب بوجہ عمل لن ہے۔ الجنۃ۔ مفعول ہے فعل لن یدخل کا۔
امانیہم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی (جھوٹی) تمنائیں ۔ امنیۃ کی جمع۔
ھاتوا۔ اسم فعل ۔ یعنی اسم بمعنی فعل امر جمع مذکر حاضر ہے۔ لاؤ۔
یہ اصل میں ایتاء (افعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتوا تھا۔ ہمزہ کو ھاء سے بدل کر ھاتوا کرلیا۔ مھاتاۃ۔ کوئی چیز کسی کو دینا۔ ا ت ی اور ھ ت ی حرف مادہ ہیں ہر دو صورت میں فعل امر کی گردان یوں آئے گی۔ ھات ماتیا ھانوا ۔۔ الخ۔
برھانکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہاری دلیل۔ برھان واحد براھین جمع ۔
Ayah 2:112(2:112) بلی۔ حرف ایجاب ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 3:76 ۔
من شرطیہ ہے۔ جس کسی نے۔
اسلم۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ اسلام لایا۔ وہ تابعدار ہوا۔ وہ مسلمان ہوا۔
اسلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس سے انسان کی جان و مال محفوظ ہوجائے۔ یعنی اسلام کا صرف زبان سے اقرار ہو۔ خواہ اعتقاد ہو یا نہ ہو۔ اس کا درجہ ایمان سے نیچے ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے قالت الاعراب امنا ط قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اعراب (گنوار) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ تو۔ کہہ کہ تم ایمان نہیں لائے۔ پر کہو ہم مسلمان ہوئے۔ اس آیت میں یہی اسلام مراد ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ زبان سے اعتراف کے ساتھ ساتھ دل سے بھی اعتقاد ہو۔ عمل سے پورا کرے اور قضاء وقد الٰہی کے آگے سر جھکادے۔ اسلام کے اس معنی میں ارشاد باری باری تعالیٰ ہے من یؤمن بایتنا۔ فھم مسلمون ۔ (27:81) جو یقین رکھتا ہے ہماری آیات پر سو وہ حکم بردار ہیں۔
من اسلم وجھہ للہ۔ جس کسی نے اللہ کے سامنے اپنا چہرہ (یعنی اپنی گردن) کو جھکادیا۔ وھو محسن۔ حال ہے (درآنحال یہ کہ وہ نیکی کرنے والا بھی ہو) یہ سارا جملہ شرط ہے۔
فلہ اجرہ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔
فاء جواب شرط کے لئے ۔ لہ اور اجرہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب من کی طرف راجع ہے۔
ولا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب نصر) مصدر سے نہ وہ غمگین ہوں گے۔