Ayah 2:113(2:113) الیہود اور النصری میں۔ ال عہد کا ہے۔ مراد الیہود سے مدینہ منورہ کے یہودی اور باسی ہیں اور النصری سے مراد عیسائیوں کا ایک وفد جو نجران سے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ دوران گفتگو دونوں فریق آپس میں جھگڑنے لگے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور انجیل سے انکار کیا۔ اور عیسائی حضرت موسیٰ کی نبوت اور توراۃ سے منکر ہوئے۔
اور بعض کے نزدیک عامۃ الیہود اور عامۃ النصاری مراد ہیں۔
وہم یتلون الکتب جملہ حالیہ ہے حالانکہ وہ سب الکتاب پڑھتے ہیں۔ یعنی یہودی توراۃ پڑھتے ہیں جو حضرت عیسیٰ اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے۔ اور عیسائی انجیل پڑھتے ہیں تو حضرت موسیٰ کی بنوت اور توراۃ کی تصدیق کرتی ہے۔
یتلون۔ مضارع جمع مذکر غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر سے وہ تلاوت کرتے ہیں۔ وہ پڑھتے ہیں
کذلک۔ کاف تشبیہ کا ہے۔ ذلک اسم اشارہ بعید بمعنی یہود اور نصاری کا قول ۔ اسی قسم کی بات۔
الذین لایعلمون۔ وہ لوگ جو نہیں جانتے یا جن کے پاس علم نہیں۔ مراد مشرکین عرب اور دیگر بت پرست اور مجوس ہیں اور ان کے علاوہ جو فرقے کفار کے گزرے ہیں۔ کیونکہ ہر فرقہ دوسرے کی تکذیب کرتا رہا ہے۔
مثل قولہم۔ بیان ہے ذلک کا بمعنی مثل قول الیہود للنصاری وقول النصاری للیہود مطلب یہ ہوا کہ ایسی قسم کی باتیں وہ لوگ کہتے ہیں جو کچھ نہیں جانتے۔ خواہ مشرکین عرب ہوں کہ مسلمانوں کے متعلق کہتے تھے کہ مسلمان راہ حق پر نہیں۔ خواہ مشرکین قریش ہوں کہ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کے اصحاب راہ حق پر نہیں۔ یا اس سے مراد پچھلی قوموں کے لوگ ہیں جو اپنے نبیوں کے متعلق کہتے تھے کہ یہ راہ حق پر نہیں اور اپنے آباء و اجداد کے نقش قدم پر چلنے پر مصر تھے۔
یحکم۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ حکم (باب نصر) مصدر۔ وہ فیصلہ کر دے گا۔ وہ حکم دیگا یا حکم دیتا ہے۔
یوم القیمہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فیہ ہے فعل یحکم کا۔
فیما۔ میں ما موصولہ ہے کانوا فیہ یختلفون۔ صلہ ہے۔
سو اللہ فیصلہ کردے گا ان میں قیامت کے روز (اس بات کا) جس میں یہ جھگڑتے رہتے ہیں۔
Ayahs 2:114–115(2:114) من استفہامیہ ہے۔ کون ہے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی کوئی نہیں ہے۔
اظلم۔ افعل تفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ ظالم۔
ممن۔ مرکب ہے من حرف جار اور من موصولہ سے۔ اس شخص سے جو۔
منع۔ فعل یا فاعل۔
مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول منع کا۔
ان یذکر فیہا اسمہ۔ کرلیا جائے ان میں خدا کا نام۔
یہ منع کا مفعول ثانی ہے۔ صاحب تفسیر مظہری نے اس کی مثال وما منعنا ان نرسل (17:59) دی ہے جس میں ان نرسل دوسرا مفعول ہے منع کا۔
وسعی فی خرابھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مسجد کے لئے ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے خرابی معنوی بھی ہوسکتی ہے جس کسی کو مسجد میں اللہ کے ذکر سے منع کیا جائے یا حسی جب اس کوفی الواقع مسمار کیا جائے۔ مثلاً بصورت اول مشرکین مکہ کا مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکے رکھنا۔ اور بصورت دوم بخت نصر کا بیت المقدس کو اجاڑ دینا۔
مطلب یہ ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ کی مسجدوں کو اس کے ذکر سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو۔
اولئک۔ اسم اشارہ بعید بصیغہ جمع مذکر۔ وہ لوگ۔ مراد وہ لوگ جو اللہ کی مساجد میں اس کا نام لینے سے روکتے ہیں اور ان کی خرابی کے درپے ہیں۔ ان مصدریہ ہے۔
ما کان لہم۔ ان کو لائق نہ تھا۔
خائفین۔ اسم فاعل جمع مذکر خائف واحد۔ خوف سے ڈرنے والے۔ یہ حال ہے ضمیر یدخلوھا سے۔ صاحب تفسیر ماجدی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں :۔
الاخائفین۔ یعنی (مسلمانوں کے رعب و دبدبہ سے ڈرتے ہوئے) یعنی داخلہ کی اجازت غیر مسلم کو صرف اس حال میں دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا محکوم ہو۔ اور اس کا داخلہ سرکشانہ نہیں محکومانہ ہو۔ قرآن مجید میں لفظ مساجد بصیغہ جمع ہے۔ لیکن ایک قول ہے کہ مساجد سے یہاں مراد مسجد حرام یا حرم کعبہ ہی ہے۔ المراد بالمساجد۔ المسجد الحرام (معالم عن ابن زید) اور اس شبہ کا کہ لفظ جمع سے مراد واحد کیونکر ہوگی ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ محاورۂ زبان میں یہ جائز ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک ہی نیک مرد کو ایذا پہنچائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ نیکوں کو ستانے والا بڑا ظالم ہے۔ کما نقول لمن اذی صالحا واحدا ! ومن اظلم من اذی الصالحین (کشاف) ۔
ایک کا قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت سارے کافروں کے حق میں ہے کہ عبادت سے روکنے والے تو سارے ہی کافر ہیں اور مساجد سے مراد کل روئے زمین ہے۔ چناچہ کافروں کو دار الاسلام میں داخلہ کا کوئی حق نہیں بجز اس کے کہ مسلمانوں کی ہی شرائط پر ہو۔ اور یہ قول امام تریدی کی طرف منسوب ہے (احمدی)
اور اگر مراد مسجد حرام لی جائے تو قانونی اور تشریعی حیثیت سے قطع نظر۔ واقعاتی رنگ میں بات بالکل صحیح نظر آئے گی۔ چناچہ مسجد حرام اس وقت سے آج تک بحمداللہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہی چلی آرہی ہے۔
Ayah 2:116(2:116) اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے اختیار کیا۔ اس نے پسند کیا۔
ولدا۔ اسم جنس۔ کوئی بچہ۔ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد۔
سبحنہ۔ سبحن پاک ہے۔ نصب ۔ نیز مفرد کی طرف اضافت اس کی لازم ہے ۔ خواہ مفرد اسم ظاہر ہو۔ جیسے سبحان اللہ۔ (اللہ پاک ہے) یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنہ وہ پاک ہے۔ سبحنک تو پاک ہے۔ سبحن مصدر ہے جس کے فعل کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ بل۔ حرف اضراب ہے یہ نہیں جو پہلے جملہ میں کہا گیا (کہ اس کی اولاد ہے) بلکہ سچ بات یہ ہے کہ اگلے جملہ میں بیان ہو رہی ہے۔ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے (نیز ملاحظہ ہو 2:135)
قانتون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قانت واحد۔ اطاعت کرنے والے۔ فرمانبردار۔ حکم بجالانے والے۔ التنوت (باب نصر) جس کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنا ہے۔ اسی سے دعائے قنوت ہے۔ اللہ کے حضور اپنی فرمانبرادی کا اظہار۔
Ayah 2:117(2:117) بدیع السموت والارض۔ بدع بروزن (فعیل) بمعنی مبدع۔ موجد۔ نیا نکالنے والا۔ نئی طرح بنانے والا۔ پیدا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ الا بداع۔ ایسی چیز کا ایجاد کرنا جس کی سابق میں مثال نہ ہو۔ بغیر کسی کی اقتداء اور پیروی کرنے کے کسی صنعت کو نکالنا۔
جب اللہ تعالیٰ کے متعلق ہو تو اس کے معنی ہوں گے۔ بغیر آلہ۔ بغیر مادہ اور بغیر زبان و مکان کے کسی شے کو ایجاد کرنا۔ بدیع السموت والارض۔ مضاف، مضاف الیہ۔ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا۔
اذا۔ ظرف زمان ہے۔ جب۔ اس وقت۔ بطور حرف فجائیہ بھی آتا ہے۔ بمعنی ناگہاں۔ مثلاً فاذا ہی حیۃ تسعی (20:20) پس یکایک وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔ یہاں بمعنی جب آیا ہے ۔ شرطیہ ہے۔
قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب بمعنی مضارع۔ ارادہ کرتا ہے۔ واذا قضی امرا۔ وہ جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے یہ جملہ شرط ہے اور فانما یقول لہ کن فیکون جزأ ہے شرط کی۔ شرط اپنی جزاء سے مل کر جملہ فعلیہ شرطیہ ہوا۔ فانما۔جزائیہ ہے۔ انما میں ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ ہے۔ جو حصر کے معنی دیتا ہے۔ اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ سوائے اس کے نہیں ۔ بیشک ۔ تحقیق۔
کن۔ فعل امر واحد مذکر حاضر، ہوجا۔ کون (باب نصر) مصدر سے۔
فیکون۔ پس وہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:118(2:118) لولا۔ لو حرف شرط۔ اور لا نافیہ مرکب ہے۔ کیوں نہیں۔ کیوں نہ۔
یہ حروف التخصیص (کسی کو کسی کام کرنے پر ابھارنا۔ یا آمادہ کرنا) العرض (نرمی سے کسی کام کی طلب کرنا) میں سے ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 6:43، یا لغات القرآن جلد پنجم۔
دیگر حروف التخصیص والعرض یہ ہیں۔ الا ۔ ہلا۔ لوما۔
یکلمنا۔ یکلم مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ کلام کرتا ہے تکلیم (تفعیل) مصدر۔ فا ضمیر مفعول جمع متکلم وہ کیوں ہم سے کلام نہیں کرتا۔
تاتینا۔ مضارع واحد مؤنث غائب فا ضمیر جمع متکلم ایتان مصدر (باب ضرب) وہ ہمارے پاس آئے۔ وہ ہمارے پاس آتی ہے۔ او تاتینا ایۃ ای ولولا تاتینا ایۃ۔ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی۔
تشابھت قلوبہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ایک جیسی ہوگئی۔ یہاں فعل قلوبہم کے لئے آیا ہے بمعنی ان کے دل ایک جیسے ہوگئے۔ یعنی عناد اور بینائی میں پہلے اور پچھلے لوگوں کے دل برابر ہیں۔ تشابہت کا فاعل قلوبھم ہے۔
قدبینا۔ قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے بینا۔ ماضی جمع متکلم۔ تبیین (تفعیل) مصدر سے واضح طور پر بیان کرنا۔ بیشک ہم واضح طور پر بیان کرچکے ہیں۔
یؤقنون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایقان (افعال) مصدر، وہ یقین کرتے ہیں۔
Ayah 2:119بشیراو نزیرا (بشارت دینے والا۔ اور ڈرانے والا) دونوں حال ہیں ارسلنک کے کاف سے۔
اصحب الجحیم مضاف مضاف الیہ۔ دوزخی۔ جحیم دہکتی ہوئی آگ۔ جحم آگ کے سخت بھڑکنے کو کہتے ہیں (باب سمع) سے آتا ہے۔ جحیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سخت بھڑکنے والی آگ، دوزخ ۔
Ayah 2:120(2:120) لن یرضی۔ مضارع منفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب۔ یہاں الھیود (اسم جمع) ” یہودیوں کی جماعت “ کے لئے آیا ہے۔ یہود ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔
ولا النصاری۔ اور نہ ہی نصاری راضی ہوں گے۔
ملتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا دین۔ ان کا مذہب۔
ھدی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اللہ کی ہدایت۔ یعنی اللہ کی دی ہوئی ہدایت۔
الھدی۔ اسم معرف باللام۔ اصل ہدایت ۔ یعنی اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایت ہی اسلام ہے۔ تو گویا اسلام ہی حق ہے (جس طرف یہ کفار بلاتے ہیں وہ حق نہیں ہے)
لئن۔ لام اور ان سے مرکب ہے لام تاکید کا ہے اور ع ان شرطیہ۔
اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر۔ تو نے پیروی کی۔ تو نے اتباع کیا۔
اھواء ھم۔ اھواء جمع ہے ھوی کی۔ خواہشیں۔ ھوی خواہش نفسانی کو کہتے ہیں۔ امنواء مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کی خواہشات۔
لئن اتبعت اھواء ھم بعد الذی جاء ک من العلم سارا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ ما لک من اللہ من ولی ولا نصیر۔ جواب شرط ہے۔
العلم۔ سے مراد یا تو وحی ہے یا دین ہے جس کا صحیح ہونا معلوم ہوچکا ۔
ترجمہ ہوگا۔ اگر آپ چلے ان کی خواہشوں پر بعد اس کے کہ آچکا آپ کے پاس علم تو آپ کے لئے نہ کوئی حمایتی ہے کہ اللہ سے بچالے اور نہ کوئی مددگار۔
Ayahs 2:121–122(2:121) الذین اتینھم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ فارلئک ھم الخسرون۔
اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یتلونہ۔ تلاوتہ۔ بہ۔ بہ میں علماء نے ہ کے مرجع کے متعلق اختلاف کیا ہے۔ اگرچہ آیت کے اصل مطلب میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے یہاں الکتب سے مراد توراۃ و انجیل لیا ہے اور اس کوہ کا مرجع اختیار کیا ہے (صاحب تفہیم القرآن کی مطابقت میں) اور بعض نے الکتاب سے مراد القرآن لیا ہے۔
الذین موصول اتینھم الکتاب صلہ۔ حق۔ مصدر کی طرف اضافت کی وجہ سے منصوب ہے۔
اولئک سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کتاب دی گئی اور جسے وہ پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے اور دوسرے اولئک کا مشار الیہ من یکفربہ ہے جو اس کتاب سے کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ تفہیم القرآن میں اس کا ترجمہ یوں ہے۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویۂ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو سچے دل سے توراۃ و انجیل کو پڑھتے ہیں ان کو اسلام اور پیغمبر اسلام پر ایمان لانے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا۔
الخسرون ۔ ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ نقصان اٹھانے والے۔ خسارہ پانے والے۔
Ayah 2:123(2:133) اتقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر سے وقی مادہ۔ تم ڈرو، پرہیزگاری اختیار کرو۔ یوما۔ موصوف ہے اور باقی سارا جملہ ینصرون تک اس کی صفت۔ موصوف صفت مل کر مفعول ہے اپنے فعل اتقوا کا اسی لئے منصوب ہے۔
لاتجزی۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وہ بدلہ نہیں ہوگی۔ وہ کام نہ آئے گی۔ شیئاً کچھ بھی۔ کوئی جان دوسری جان کے کسی کام نہ آسکے گی۔
عدل۔ عوض، معاوضہ، فدیہ، عدل ، انصاف، برابر (اور نہ اس کی طرف سے کوئی معاوضہ یا فدیہ قبول ہوگا)
Ayah 2:124(2:124) اذ۔ ظرف زمان ہے اس سے قبل فعل اذکروا یا اذکر محذوف ہے۔ تم یاد کرو جب ۔ یا تو یاد کر جب۔
ابتلی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے آزمایا۔ اس نے امتحان لیا۔ ابتلاء (افتعال) مصدر سے ابتداء کے دو مقصد ہوتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ امتحان لینے والا اس شخص کی لیاقت اور صلاحیت سے پوری طرح باخبر ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ اس کی لیاقت و صلاحیت کا تو ممتحن کو پوری طرح علم ہو مگر اوروں کی نظر میں اس کی حالت کا پیش کرنا منظور ہو کہ وہ کس قابلیت و صلاحیت کا مالک ہے۔ قرآن مجید میں ابتلاء کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں۔
ابتلاء کے اصل معنی کسی امر شاق کی تکلیف ودینے کے ہیں۔ یہ بلاء (ب ل د، ب ل ی حروف مادہ) سے مشتق ہے۔ تکلیف دینا آزمائش کی مستلزم ہے۔
ابراہیم۔ مفعول ۔ ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل۔
بکلمات۔ باء حرف جار۔ کلمات مجرور۔ کلمۃ واحد۔ کلمۃ کا صحیح ترجمہ بات ہے۔ بات قول کو بھی کہتے ہیں۔ جیسے میری بات سنو ۔ اور فعل کو بھی۔ قرآن مجید میں متعدد معنی میں استعمال ہوا ہے مثلاً دعائیہ کلمات جیسے فتلقی ادم من ربہ کلمات (2:37) پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے۔ اور وہ کلمات وہ دعائیہ کلمات ہیں جو ربنا ظلمنا وغیرہ ہیں۔ باتیں جیسے آیت ہذا۔ جب پروردگار نے چند باتوں میں حضرت ابراہیم کی آزمائش کی۔ حضرت عیسیٰ کا مراد ہونا۔ جیسے ان اللہ یبشرک بیحیی مصدقا بکلمۃ من اللہ (31:39) بیشک خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی عیسیٰ کی تصدیق کریں گے۔ بعض نے کلمہ سے مراد کلمہ توحید۔ قرآن مجید لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
فاتمھن۔ فاء عاطفہ ہے الم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اتمام (افعال) مصدر اس نے پورا کردیا ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کلمات کے لئے ہے۔ ان کو۔
فائدہ : وہ کلمات (باتیں) کیا تھے ؟ جن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا گیا۔ اس میں مختلف اقوال ہیں ۔ چند ایک باتیں یہ ہیں۔ ستارے، چاند، سورج کو بغور دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچا کہ پروردگار ہمیشہ رہنے والا ہے ان چیزوں کی طرح زوال پذیر نہیں۔ آتش نمرود میں صبر کرنا۔ عرب کے بےآب وگیاہ ریگستان میں اپنی زوجہ اور ننھے سے بچے کو حکم الٰہی کی بجاآوری میں۔ چھوڑآنا۔ خداوند تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے میں تامل نہ کرنا۔ وغیرہ وغیرہ۔ صاحب تفسیر مظہری ہیں کہ کلمات سے مراد تمام اوامرو نواہی ہیں۔
قال۔ ای قال اللہ۔
جاعلک۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تجھ کو بنانے والا۔ تجھ کو کرنے والا۔
اماما۔ پیشوا ۔ مقتدا ۔ رہنما ۔ بروزن فعال اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ کے۔ جس کی پیروی کی جائے۔ ائتمام۔ افتعال مصدر سے ۔ ام یئم (باب نصر) اتم۔ مصدر۔ بمعنی قصد کرنا۔
الامام۔ وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو۔ یا اس کے قول و فعل کی اقتداء کی جائے۔ یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے۔ حق پر ہو یا باطل پر۔ مذکر و مؤنث دونوں پر آتا ہے۔ امام کی جمع ائمۃ ہے جیسے کنان کی جمع اکنۃ (پردے۔ غلاف) ہے۔
قرآن مجید میں اور جگہ ہے۔ وکل شیء احصینہ فی امام مبین (36:12) ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب میں لکھ رکھا ہے۔ اس کی تفسیر میں بعض نے لکھا ہے کہ لوح محفوظ کی طرف اشارہ ہے۔
قال۔ ای قال ابراہیم۔
ومن ذریتی۔ اوؤ عاطفہ من تبعیضیہ ذریتی۔ مضاف مضاف الیہ۔ جملہ کا عطف جاعلک کے کاف پر ہے۔ ای وجاعل بعض ذریتی اور کیا میری اولاد میں سے بھی بعض کو امام بنانے والا ہے۔
ذریۃ۔ ذر سے ہے جس کے معنی بکھیر نے کے ہیں۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریۃ ہے۔ مگر عرف عام میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔
قال۔ ای قال اللہ۔
لاینال۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب نیل باب سمع۔ مصدر نہیں پائے گا۔ نہیں پہنچے گا۔
عھدی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ میرا عہد۔ میرا وعدہ۔
Ayah 2:125(2:125) واذ۔ ای واذکراذ۔ یاد کرو جب (ملاحظہ ہو 2:124)
البیت۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے اگرچہ بیت عام ہے۔ جیسے النجم کا اطلاق ثریا پر اکثر آتا ہے۔
مثابۃ یہ جعلنا کا مفعول ثانی ہے مثابۃ۔ ظرف مکان ہے لوگوں کے لوٹنے کی جگہ۔ اس کا مادہ ثوب ہے جس کا معنی اصلی حالت کی طرف لوٹنا۔ یا کسی کام کی اصلی غرض کی طرف لوٹنا ہے جو غرض پہلے سوچ لی گئی ہو۔ آغاز عمل انجام فکر ہوتا ہے اور آخر عمل اول فکر ۔ یعنی آدمی پہلے سوچتا ہے۔ جب سوچ چکتا ہے تو کام شروع کرتا ہے۔ کام ختم ہوجاتا ہے تو سوچی ہوئی غرض کا حصول سامنے آجاتا ہے اور عمل نتیجہ سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ بس اسی سوچی ہوئی غرض کے ظہور فعلی کی طرف لوٹنے کو ثوب کہتے ہیں اور نتیجہ کو ثواب یا مثوبۃ کہا جاتا ہے۔ کعنہ کی تعمیر اور حکم تعمیر سے پہلے مقرر کرلیا گیا تھا کہ لوگ اس کو مرکز عبادت بنائیں اس کی طرف رخ کریں وہاں جمع ہوں اس لئے کعبہ مثابۃ اور جائے رجوع ہوگیا۔ اسی طرح سوت کاتنے کی اصل غرض کپڑا بنانا اور کپڑا حاصل کرنا ہوتی ہے اس لئے کپڑے کو ثوب کہتے ہیں اسی طرح نتیجہ عمل کو ثواب (جزا و سزا) کہتے ہیں۔
امنا۔ بمعنی باعث یا جائے امن۔ بےخوفی، دلجمی۔ اس کا عطف مثابۃ پر ہے مصدر ہے۔ مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔
اتخذوا۔ امر کا صیغہ، جمع مذکر حاضر، اتخاذ۔ افتعال۔ مصدر، تم اختیار کرو، بنالو۔ اس سے پہلے قلنا مقدر ہے۔ ہم نے کہا۔ ہم نے حکم دیا (یہاں مخاطبین الناس ہیں)
مصلی۔ ظرف مکان۔ تصلیۃ، (تفعیل) مصدر۔ صلوۃ کی جگہ۔ نماز پڑھنے کی جگہ۔ ترجمہ ہوگا اور ہم نے کہا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز بنالو۔ (یعنی طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھنا) ۔ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ تعمیر کرتے رہے۔ مقام ابراہیم اگرچہ حدود کعبہ میں ایک مختص مقام کا نام ہے لیکن یہاں مراد کعبہ کی ساری حدود ہیں۔
عھدنا الی۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ عھد (باب سمع) الیٰ کے صلہ کے ساتھ بمعنی کسی کے ساتھ معاہدہ کرنا۔ کوئی شرط عائد کرنا۔ کسی چیز کا کرنا۔ لازم قرار دینا۔ کسی کام کو کسی کے ذمہ لگانا ہے۔ یہاں ترجمہ ہوگا۔ ہم نے ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کے ذمہ لگایا۔
ان طھرا بیتی۔ ان مصدریہ طھرا امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر۔ تطھیر تفعیل مصدر سے ۔ تم دونوں پاک رکھو یعنی معاصی اور ناجائز افعال کے ارتکاب سے میرے گھر کو پاک رکھو۔ بیتی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول طھرا کا اور مراد اس سے خانہ کعبہ ہے۔
للطائفین۔ لام حرف جار۔ الطائفین اسم فاعل جمع مذکر۔ الطائف واحد طوف مصدر (باب نصر) کسی چیز کے گرد چکر کاٹنا۔ چکر کاٹنے والے۔ پھیرے لینے والے۔ طواف کرنے والے۔ مجازاً و سوسہ اور خطرہ کو بھی طائف کہتے ہیں یہ مجرور ہے اپنے جار کا۔ طواف کرنے والوں کے لئے۔
والعاکفین واؤ عاطفہ۔ العاکفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عاکف واحد۔ عکوف مصدر (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی تعظیما کسی چیز پر متوجہ ہونا۔ اور اس سے وابستہ رہنا۔ عاکف مجاور۔ الگ بیٹھنے والا۔ جم کر بیٹھنے والا۔ اعتکاف کرنے والا۔ اعتکاف شرع میں عبادت کی نیت سے اپنے آپ کو مسجد میں روکے رکھنے کو کہتے ہیں۔ اور معنکف وہ شخص ہے جو عبادت کی نیت سے مسجد ہی میں رہے اور باہر نہ نکلے۔ سوائے ضرورت شرعی کے قرآن مجید میں ہے وانتم عکفون فی المساجد (2:81) جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو یا اور جگہ آیا ہے یعکفون علی اصنام لہم (7:138) یہ اپنے بتوں کی عبادت کے لئے بیٹھے رہتے ہیں یا محض روکے رکھنے کے لئے ہے والھدی معکوفا (48:28) اور قربانی کے جانور کہ روک دیئے گئے ہیں۔ اس کا عطف الطائفین پر ہے۔
والرکع السجود۔ واؤ عاطفہ۔ الرکع اسم فاعل جمع مذکر راکع واحد رکوع (باب فتح) مصدر جھکنے والے۔ رکوع کرنے والے۔ رکوع کے اصل معنی انحناء یعنی جھک جانے کے ہیں۔ اور نماز میں خاص شکل میں جھکنے پر بولا جاتا ہے۔ السجود۔ جمع ہے ساجد کی۔ سجدہ کرنے والے یہ سجد یسجد (باب نصر) کا مصدر بھی ہے جس کا مطلب۔ سجدہ کرنا۔ سرزمین پر رکھنا ۔ فروتنی کرنا ہے۔ کبھی سجود کی تعمیر نماز سے بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وادبار السجود (50:40) اور نماز کے پیچھے۔
والرکع السجود۔ اور نماز پڑھنے والوں کے لئے۔ ان کا عطف بھی الطائفین پر ہے۔
ان طھرا ۔۔ الخ میں ان مفسرہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عہد بمعنی قول ہے اور یہ عھدنا کی تفسیر ہے۔
Ayah 2:126(2:126) واؤ ملاحظہ ہو 2:124 ۔ اور یاد کرو جب۔
رب۔ اصل میں یا ربی تھا۔ یا حرف نداء محذوف ہے ۔ اور ی ضمیر متکلم کو تخفیفاً گرا دیا گیا۔ اے میرے رب اجعل۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر ۔ تو کردے۔ تو بنا دے۔ ای صیر تو بنا دے ھذا۔ یعنی کعبہ اور اس کے اردگرد کی وادی۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے :۔
ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم (14:37)
اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد وادی (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ یہ مفعول اول ہے اجعل کا۔
بلدا امنا۔ بلدا (شہر) مفعول ثانی۔ موصوف ۔ امنا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ امن سے امن والا ۔ پر امن۔ صفت۔ یہ سارا جملہ رب اجعل ۔۔ الخ معطوف علیہ۔ وارزق اہلہ من الثمرات من امن منھم باللہ والیوم الاخرہ یہ جملہ معطوف ہے۔ اس کا عطف سابقہ پر ہے۔
اہلہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل ارزق کا۔ ہ ضمیر کا مرجع بلدا ہے۔ من الثمرات متعلق فعل ہے اور من امن ۔۔ الیوم الاخر بدل بعض ہے اہلہ
من امن منھم باللہ والیوم الاخر میں من موصولہ ہے اور باقی جملہ اس کا صلہ
ترجمہ : اور اس شہر کے باشندوں میں سے جو ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اس کو میووں کی روزی عطا کر۔
قال ۔ ای قال اللہ۔
من کفر۔ من موصولہ اور کفر فعل اور فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ہے اپنے موصول کا۔ اور یہ موصول اپنے صلہ سے مل کر مبتدا متضمن بمعنی شرط ہے۔ اور جو کفر کرے گا۔
فامتعہ قلیلا۔جواب شرط کے لئے ہے۔ امتع مضارع واحد متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جو من کفر کی طرف راجع ہے۔ میں اس کو بھی کچھ نفع پہنچاؤں گا۔ کچھ متاع زندگی دوں گا۔
یہ تمتیع (تفعیل) مصدر سے ہے بمعنی تھوڑا بہت مال و اسباب زندگی کے لئے دینا۔
جملہ جواب شرط ہے قلیلا صفت ہے جس کا موصوف زمانا محذوف ہے۔ ای زمانا قلیلا۔ تھوڑے عرصہ کے لئے ۔ چند دنوں کے لئے۔
اضطرہ۔ اضطر مضارع واحد متکلم ۔ اضطرار (فتعال) مصدر سے۔ جس کے معنی کسی کو ضرر رساں چیز پر مجبور کرنے کے ہیں۔ اس مجبوری کی دو صورتیں ہیں۔ (1) ایک یہ کہ وہ مجبوری کسی خارجی سبب کی بناء پر ہو جیسے آیت ہذا میں (پھر میں اس کو عذاب دوزخ کے بھگتنے کے لئے مجبور کردوں گا۔ یعنی مجبوراً دھکیل دونگا) ۔ (2) دوسرے یہ کہ وہ مجبوری کسی داخلی سبب کی بناء پر ہو۔ اس کی پھر دو قسمیں ہیں (1) کسی ایسے جذبہ کے تحت وہ کام کرے جسے نہ کرنے سے اسے ہلاک ہونے کا خوف نہ ہو۔ مثلاً شراب نوشی یا قمار بازی کی خواہش سے مغلوب ہوکر ان کے ارتکاب کرے۔
(ب) کسی ایسی مجبوری کے تحت ارتکاب کرے جس کے نہ کرنے سے جان کا خطرہ ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے۔ انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل بہ لغیر اللہ فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ (2:173) تحقیق اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے۔ ہاں جو نا چار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے۔ اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔
لفظ ضرورت بھی اسی مادہ ض ر ر سے مشتق ہے۔
بئس۔ برا ہے فعل ذم ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا بروزن فعل (باب سمع) عین کلمہ کی اتباع میں اس کے فاء کلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا بئس ہوگیا ۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ، قرار گاہ۔ وبئس المصیر۔ ای و بئس المکان الذی یصیر الیہ الکافر برا ہے وہ مکان (ٹھکانا) جس کی طرف کافر لوٹے گا۔ مراد عذاب دوزخ ہے۔
Ayah 2:127(2:127) یرفع۔ مضارع (بمعنی حکایت حال ماضی یعنی وہ فعل مضارع جو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کی بجائے استعمال کیا جائے) صیغہ واحد مذکر۔ غائب۔ دفع۔ باب فتح۔ مصدر سے وہ اٹھا رہا تھا۔ وہ بلند کر رہا تھا۔
القواعد۔ جمع اس کی واحد دو طرح سے ہے۔
(1) القاعدۃ۔ جس کے معنی بنیاد ہے۔ دیوار کا وہ حصہ جس پر پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ القواعد بنیادیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں مستعمل ہے۔
القاعد۔ وہ عمر رسیدہ عورت جو حمل اور حیض کے قابل نہ رہی ہو۔ یہاں تاء تانیث لانے کی ضرورت نہیں جو صفات عورتوں کے لئے مخصوص ہیں ان میں تاء تانیث ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مرو سے اشتباہ ہی نہیں ہوتا جو تاء تانیث ذکر کرکے رفع اشبتاہ کیا جائے۔ اس معنی میں قرآن مجید میں ہے۔ والقواعد من النساء التی لا یرجون نکاحا (24:60) اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی۔
واسمعیل۔ واؤ عاطفہ ہے اور اسمعیل معطوف ہے۔ اس کا عطف ابراہیم پر ہے۔
البیت۔ سے مراد کعبہ ہے۔ اور جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) بیت اللہ کی بنادیں اونچی کر رہے تھے۔
ربنا ۔۔ الخ سے قبل عبارت مقدر ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ قائلین (یہ کہتے ہوئے) ربنا ۔۔ الخ یہ جملہ ابراہیم و اسماعیل سے حال ہے۔
ترجمہ : جب (حضرت) ابراہیم و اسمعیل (علیہما السلام) بیت اللہ کی بنادیں اونچی کر رہے تھے ۔ دونوں دعا کئے جاتے تھے (یا کہہ رہے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما۔ تقبل منا کے بعد طاعتنا ایاک محذوف ہے۔
تقبل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو قبول کر۔ تقبل (تفعل) مصدر سے۔
انک انت السمیع العلیم پر علت ہے قبول کرلینے کی۔ استدعا کے لئے (کیونکہ) بیشک تو ہی سمیع علیم ہے۔
Ayah 2:128(2:128) ربنا ۔۔ انت العزیز الحیم یہ دعا ہے جو کہ ربنا تقبل منا سے شروع ہوئی تھی۔
مسلمین۔ اسم فاعل تثنیہ مذکر مسلم واحد۔ دو فرمانبردار مسلمان۔
مسلمۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث مسلمات جمع ۔ فرمانبردار مسلمان۔
اور ہماری اولاد (یا نسل) میں سے بھی ایک گروہ اپنا فرمانبردار بناتے رہو۔
ارنا۔ ار۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اراء ۃ (افعال) مصدر سے رء ی مادہ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم تو ہمیں دکھا۔
مناسکنا۔ اسم ظرف منسک کی جمع مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی اد کا۔ ہمارے حج اور عبادت کے طریقے۔
نسک عبادت ۔ پرستش۔ نسک قربانی ناسک عابد۔ دین کے راہ پر چلنے والا۔ منسک قربانی کی جگہ۔ دین کا راستہ۔ عبادت کا طریقہ۔ حج کا طریقہ۔
تب۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ توبۃ (باب نصر) مصدر۔ تو معاف کر۔ تو توبہ قبول کر۔
تاب یتوب۔ اگر الیٰ کے صلہ کے ساتھ آئے تو بمعنی بندے کا توبہ کرنا۔ معافی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا ہے اور جب علی کے ساتھ آئے۔ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنے اور رحم کے ساتھ متوجہ ہونے کے معنی ہوتے ہیں۔ تب علینا۔ ہمارے حال پر رحم کے ساتھ توجہ فرما۔
التواب۔ بروزن فعال مبالغہ ہے۔ لغت میں توبہ کرنے والے اور توبہ قبول کرنے والے دونوں کو تواب کہا جاتا ہے۔ جب بندہ کی صفت میں آئے تو اس کے معنی کثرت سے توبہ کرنے والے بندہ کے ہوں گے۔ اور جب اللہ کی صفت میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی کثرت سے۔ مسلسل ۔ بار بار بندوں کی توبہ قبول کرنے کے ہیں۔
Ayah 2:129(2:129) ابعث امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بعث (باب فتح) مصدر بمعنی بھیجنا۔ تو بھیج۔ اسی باب سے بمعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا۔ یا کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا بھی آتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے ثم بعثنکم من بعد موتکم (2:56) پھر موت آجانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرنو زندہ کیا۔ یہاں اس آیت میں بمعنی بھیج آیا ہے۔
فیہم اور منھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع یا امۃ مسلمۃ ہے یا الذریۃ ہے۔ الذریۃ زیادہ مناسب ہے۔
رسولا۔ مفعول ہے فعل ابعث کا۔ اور یتلوا۔ یعلمھم۔ یزکیہم یہ سب رسولا کی صفت واقع ہوتے ہیں۔
یتلوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنایا کرے۔
ویعلمہم اور ان کو (کتاب اور دانائی) سکھایا کرے۔ ویزکیہم۔ یزکی مضارع واحد مذکر غائب۔ تزکیۃ (تفعیل)
اور (ان کے دلوں کو) پاک صاف کیا کرے۔
Ayah 2:130(2:130) من استفہامیہ انکاریہ ہے۔
یرغب۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ عن کے صلہ کے ساتھ بمعنی روگردانی کرنا۔ منہ پھیرنا۔ اور الیٰ کے صلہ کے ساتھ بمعنی عاجزی و انکساری سے مانگنا۔ التجا کرنا۔
رغب (باب سمع) مصدر۔ اول الذکر کی مثال ۔ آیۃ ہذا۔ کون روگردانی کرسکتا ہے۔ یعنی کوئی روگردانی نہیں کرسکتا۔ مؤخر الذکر کی مثال۔ والی ربک فارغب (94:8) اور اپنے رب کی طرف عاجزی سے متوجہ ہوجایا کرو۔
الا۔ حرد استثناء مگر۔
من سفہ نفسہ۔ من موصولہ۔ سفہ۔ فعل ماضی۔ واحد مذکر غائب سفہ (باب سمع) اس نے بیوقوفی پر آمادہ کیا۔ نفسہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول سفہ کا ۔ من سفہ نفسہ جس نے اپنے نفس کو نادانی یا بےوقوفی پر آمادہ کیا۔ یا اپنے آپ کو ذلیل کیا۔ اپنے آپ کو احمق بنایا۔
لقد۔ لام تاکید اور قد تحقیق کے لئے ہے جب ماضٰ پر داخل ہو۔
اصطفیناہ۔ اصطفینا۔ ماضی جمع متکلم ۔ اصطفاء (افتعال) مصدر بمعنی صاف اور خالص چیز لے لینا۔ جیسے اخینار۔ کے معنی بہتر چیز لے لینا۔ اور اجتباء کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینا ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ابراہیم ہے۔ ہم نے اس کو منتخب کرلیا۔
Ayah 2:131(2:131) اسلم۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر، اسلام (افعال) مصدر سے۔ تو حکم برداری کر۔ شریعت میں اسلام کی دو قسمیں ہیں۔
(1) ایک وہ جس سے انسان کی جان و مال محفوظ ہوجائے۔ یعنی اسلام کا صرف زبان سے اقرار خواہ دل سے اعتقاد ہو یا نہ ہو۔ اس کا درجہ ایمان سے نیچے ہے۔ اس معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے ۔ قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلما (49:14) کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے ۔ تو کہہ کہ تم ایمان نہیں لائے، پر کہو کہ ہم مسلمان ہوئے۔
(2) دوسرے وہ کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ دل سے بھی اعتقاد ہو۔ عمل سے پورا کرے۔ اور قضا، وقدر الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ آیت ہذا (2:131) میں یہی اسلام مراد ہے۔
Ayah 2:132(2:132) ووصی بھا۔ وصی ماضٰ کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ توصیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ باء تعدیہ کے لئے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع یا ملۃ (2:130) ہے یا حضرت ابراہیم کا وہ فعل ہے جو انہوں نے خدا کے حکم اسلم کے جواب میں اسلمت لرب العالمین کہہ کر تعمیل حکم ربانی کی۔ اور اسی دین (ملت) کی اس نے وصیت کی۔ کسی واقعہ کے پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ انداز میں ہدایت کرنے کو وصیت کہتے ہیں۔
بنیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول وصی بھا کا۔ بنی اصل میں بنین تھا۔ (بحالت نصب) (بنون جمع ابن کی) تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون جمع ساقط ہوگیا۔ اپنے بیٹوں کو۔
ویعقوب۔ واؤ عاطفہ۔ یعقوب معطوف ہے ابراہیم پر اور یعقوب نے بھی۔
یعنی جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنے بیٹوں کو یہی نصیحت کی تھی۔
یبنی۔ یا حرف نداء بنی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ بنی اصل میں بنین تھا۔
(بنون کی حالت نصب۔ کیونکہ یہ مضاف ہے اور اگر منادی مضاف ہو تو منصوب ہوتا ہے) یا متکلم کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے نون جمع ساقط ہوگیا۔ اور اب دو یاء جمع ہوئیں ۔ یاء کو یاء میں مدغم کیا۔ بنی ہوگیا۔ اے میرے بیٹو۔
اصطفی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اصطفاء (افعال) مصدر۔ اس نے چن لیا۔ نیز ملاحظہ ہو (2:130) اصطفینہ کے محاذ۔
الدین سے مراد دین اسلام ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ان الدین عند اللہ الاسلام بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔
لاتموتن۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تاکید بانون ثقیلہ۔ تم نہ مرد موت سے۔
وانتم مسلمون۔ جملہ حالیہ ہے فلا تموتن سے۔ سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
Ayah 2:133(2:133) ام۔ منقطعہ ہے۔ یہاں اضراب کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس معنی کے ساتھ ساتھ استفہام انکاری کے معنی کو بھی شامل ہے۔ مطلب یہ کہ حقیقت یہ نہیں ہے جو تم کہتے ہو :۔ مامات بنی الا علی الیہودیۃ وغیرہ۔ بلکہ حقیقت تو وہ ہے جو آگے بیان ہو رہی ہے اور تم تو اس وقت موجود ہی نہ تھے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو موت آپہنچی۔ نیز ملاحظہ ہو (18:9)
شھدائ۔ شھید کی جمع ہے۔ شہید شرع میں وہ شخص ہے۔ جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو شھید بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ یعنی شاھد۔ مشاہدہ کرنے والا۔ گواہ۔ وہ شخص جو جائے وقوعہ پر موجود ہو اور مشاہدہ کرنے والا ہو۔ شھدائ۔ اس کی جمع ۔ موقعہ پر موجود لوگ۔ موقعہ مشاہدہ کرنے والے لوگ۔ گواہ (جمع) ام کنتم شھدائ۔ کیا تم موجود تھے۔ (استفہام انکاری ہے) یعنی تم اس وقت موجود نہ تھے۔
اذحضر۔ میں اذ ظرف زمان ہے۔ جب حاضر آہوئی۔ جب قریب آگئی۔
اذقال۔ اذحضر سے بدل ہے۔ جس وقت (اس نے) کہا ۔ یا جس وقت اس نے پوچھا۔
ما تعبدون۔ ما بمعنی من استفہامیہ ہے۔ تم کس کی عبادت کروگے ؟
ابراہیم واسماعیل واسحق۔ بدل ہے اباء سے یعنی آپ کے بزرگ اجداد ابراہیم واسماعیل و اسحاق (علیہم السلام) ۔
الھا واحدا۔ موصوف و صفت مل کر بدل ہے۔ الہک اور الہ ابائک میں الہ کا۔
ونحن لہ مسلمون اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ یہ جملہ حال ہے فاعل نعبد سے یا یہ جمل معطوف ہے جس کا عطف جملہ سابقہ نعبد الہک ۔۔ الخ پر ہے۔
Ayah 2:134(2:134) تلک امۃ۔ اسم اشارہ بعید واحد مؤنث۔ اس کا اشارہ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کی طرف ہے۔ امۃ۔ جماعت۔ امت۔ ہر وہ جماعت جس میں کوئی رابطہ اشتراک موجود ہو اسے امت کہا جاتا ہے۔ خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت پر ہو یا جغرافیائی یا عصری وحدت کی وجہ سے ہو۔
ام یئم سے مشتق ہے جس کا معنی ہے قصد کرنا۔ امہ بمعنی مقصود ہوا۔ جماعت کو امت اس لئے کہنے لگے ۔ کہ جس طرح جماعت ہوتی ہے لوگ اسی کا قصد کرتے ہیں (مظہری) نیز ملاحظہ ہو 2:124 ۔ لفظ اماما کے محاذ۔
کسبت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس نے کمایا۔ اچھا یا برا کوئی کام کیا۔
لہا۔ لکم۔ میں لام منفعت کے لئے ہے یعنی اس اچھے یا برے کام کی جزاوسزا اس کے کرنے والے کے لئے ہے۔
لاتسلون۔ مضارع منفی مجہول ۔ جمع مذکر حاضر، تم سوال نہیں کئے جاؤ گے۔ تم سے سوال نہیں ہوگا۔ تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ عما۔ مرکب ہے عن حرف جار اور ما موصولہ سے۔
کانوا یعلمون۔ جملہ فعلیہ ہوکر صلہ ہے ما موصولہ کا۔
Ayah 2:135(2:135) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب۔ اہل کتاب کے لئے ہے۔ یہودی۔ نصاری۔
کونوا۔ امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر، کون مصدر۔ باب نصر۔ مصدر تم ہوجاؤ۔
تھتدوا۔ مضارع مجزوم جمع مذکر حاضر۔ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے تو ہدایت پاؤ گے۔ راہ راست پر آجاؤ گے۔
قل۔ ای قل یا محمد ﷺ اے محمد ﷺ آپ ان کو کہہ دیجئے۔
بل ملۃ ابراہیم حنیفا۔ بل۔ بلکہ۔ ملۃ۔ دین ۔ مذہب۔ مضاف۔ ابراہیم مضاف الیہ ۔ حنیفا۔ حال۔ مضاف الیہ۔ ابراہیم۔ کا ۔ حنیف بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور باقی سب باطل راہیں چھوڑ دے۔ حنیف کہلاتا ہے۔ المفردات میں ہے۔ الحنف کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس کے مقابل جنف ہے جس کے معنی استقامت سے گمراہی کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ جملہ کی تقدیر یوں ہے بل نتبع ملۃ ابراہیم حنیفا یہ نہیں جیسا تم کہتے ہو) بلکہ ہم اختیار کئے ہوئے ہیں دین ابراہیم جو تمام باطل راہیں چھوڑ کر ایک راہ حق پر جمے ہوئے تھے۔
بل۔ بل کی دو صورتیں ہیں۔
(1) اگر اس کے بعد کوئی مفرد کلمہ آئے تو اس واسطے یہ بطور حرف عطف استعمال ہوگا۔ قرآن مجید میں یہ اس طرح استعمال نہیں ہوا۔
(2) جب اس کے بعد کوئی جملہ آئے تو یہ حرف اضراب ہے (لفظی معنی روگردانی کرنا، اس صورت میں یہ ماقبل سے اعراض کے لئے آتا ہے اور تدارک یعنی اصلاح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تدارک کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ایک تو یہ کہ مابعد ما قبل کا مناقض (متضاد) ہو ۔ لیکن اس صورت میں کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ مابعد کے حکم کی تصحیح سے ماقبل کا ابطال مقصود ہوتا ہے۔ جیسے اذا تتلی علیہ ایتنا قال اساطیر الاولین کل بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون (83:13-14) جب ہماری آیات اس کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ایسا) ہرگز نہیں بلکہ انہوں نے جو برائیاں کمائی ہیں اس سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔ مطلب یہ کہ قرآن مجید اگلوں کی کہانیاں نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کے دل زنگ آلود ہیں۔ یہاں ان کے دلوں کی زنگ آلودگی کی تصحیح سے ان کے اس قول کا ابطال ہوا کہ قرآن مجید اگلوں کی کہانیاں ہے۔
(2) اور کبھی مابعد کا ابطال اور ماقبل کی تصحیح مقصود ہوتی ہے۔ جیسے کہ فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ فاکرمہ 5 فیقول ربی اکرمن ط واما اذا ما ابتلہ فقدر علیہ رزقہ 5 فیقول ربی اھانن ۔ کلا بل لا تکرمون الیتیم ۔ (89:15-17) پس آدمی (کا حال یہ ہے) کہ جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی۔ اور جب اس کو وہ (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر رزق تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا۔ (ایسا) ہرگز نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے ۔۔ تا آیت 20 ۔ مطلب یہ کہ رزق کی فراخی یا تنگی دربار الٰہی میں اکرام یا اہنت کی دلیل نہیں بلکہ یہ پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے مگر یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں۔ اور مال کو بیجا خرچ کر رہے ہیں۔ پس یہ مال کا بےجا صرف۔ یتیم و مسکین کی حق تلفی اور مال و جاہ کے بےجا حرص۔ یہ اسباب ذلت و اہانت ہیں۔ روزی کی تنگی یا کشائش بذاہۃ اہانت و ذلت و عزت نہیں۔
یہاں دوسرے امر کا ابطال منظور ہے ۔ اور اول کی تصحیح یعنی آزمائش کا اثبات کیا جا رہا ہے۔ اور روزی کی تنگی یا کشائش کی بناء پر عزت و اہانت کا ابطال ہو رہا ہے۔
(ب) دوسرے یہ کہ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا جائے مثلاً اولئک کالانعام بل ہم اضل (7: 179) وہ حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یا ۔ بل قالوا اضغاث احلام بل افترہ بل ہو شاعر (21:5) بلکہ انہوں نے کہا کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ شاعر ہے۔ (اور یہ قرآن اس کے شاعرانہ خیالات کا نتیجہ ہے)
مطلب یہ کہ ایک تو قرآن کو پریشان خیالات کہتے ہیں۔ پھر مزید اسے افتراء بتلاتے ہیں۔ اور اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ نعوذ باللہ آپ کو شاعر سمجھتے ہیں۔
قرآن حکیم میں بل جہاں بھی آیا ہے انہی دونوں (ا۔ ب) معنی میں سے کسی ایک معنی میں استعمال ہوا ہے۔
Ayah 2:136(2:136) اس آیت میں جہاں بھی ما آیا ہے وہ ماصولہ ہے۔
قولوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم کہو۔ ای قالوا ایھا المؤمنون لہولاء الیھود والنصاری۔ ای مؤمنو۔ ان یہود و نصاری سے کہہ دو ۔
وما انزل الینا۔ اور جو نازل کیا گیا ہماری طرف یعنی قرآن۔
الاسباط۔ قبیلے۔ ایک دادا کی اولاد۔ سبط کی جمع ہے جس کے معنی پوتے، نواسے دونوں کے آتے ہیں۔ مگر نواسے کے معنی میں اس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ جب اسباط بہود یا اسباط بنی اسرائیل کہا جائے ۔ تو اس سے مراد قبیلہ ہوتا ہے جو ایک دادا کی اولاد ہو۔
اوتی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیا گیا۔ اسے دیا گیا۔
بین درمیان ۔ بیچ۔ جدائی۔ ملاپ۔ دو چیزوں کے درمیان اور بیچ کو بتانے کے لئے اس کی وضع عمل میں آئی ہے۔ جیسے وجعلنا بینھم زرعا (18:32) اور ہم نے رکھی دونوں کے بیچ میں کھیتی۔
بین کا استعمال یا تو وہاں ہوتا ہے جہاں مسافت پائی جائے ۔ جیسے بین البلدین دو شہروں کے درمیان ۔ یا جہاں دو یا دو سے زیادہ کا عدد موجود ہو۔ جیسے بین الرجلین دو آدمیوں کے درمیان اور جس جگہ وحدت کے معنی ہوں اور وہاں بین کی اضافت ہو تو تکرار ضروری ہے۔ مثلاً فاجعل بیننا وبینک موعدا (20:58) پس ہمارے اور تیرے درمیان وعدہ ٹھہرالے۔ اور جب بین کی اضافت ایدی (ہاتھوں) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ مثلاً لایتینھم من بین ایدیہم (7:17) پھر میں آؤں گا ان کے سامنے سے۔
بین احد۔ اگرچہ بین ہمیشہ غیر واحد کی طرف مضاف ہوتا ہے لیکن چونکہ یہاں احد بمعنی فریق آیا ہے اس لئے بین کی اضافت احد کی طرف درست ہے۔
نحن لہ مسلمون ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 2:137(2:137) فان امنوا بمثل ما امنتم بہ۔ میں فان شرطیہ ہے۔ امنوا فعل بافاعل بمثل میں ب زائدہ اور تاکید کے لئے ہے۔ مثل صفت ہے مصدر محذوف کی۔ اور ما مصدریہ ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ان امنوا ایمانا مثل ایمانکم اگر وہ تمہارے ایمان کی طرح ایمان لے آویں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء (42:11) اس جیسی کوئی شے نہیں۔ آیت میں ک زائد ہے۔ جس سے مراد قرآن اور نبی ہے۔ اور بہ کی ضمیر اس کی طرف راجع ہے۔ تقدیرہ۔ ان امنوا بما امنتم بہ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائیں تو راہ پالیں گے۔
یہ جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ فقد اھتدوا جواب شرط۔ ترجمہ ہوگا : تو یہ بھی ہدایت یاب ہوجائیں۔ وان تولوا۔ واؤ عاطفہ ان شرطیہ۔ تولوا ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر ۔ انہوں نے پشت پھیری۔ انہوں نے منہ موڑا۔ فعل بافاعل جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ جزائیہ ہے۔
فانما۔ میںجزائیہ ہے۔ انما کلمہ حصر ہے ہم فی شقاق جملہ اسمیہ ہوکر جزاء اپنی شرط کی۔
شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ مقابلہ
الشق شگاف کو کہتے ہیں۔ شققت بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ قرآن مجید میں ہے ثم شققتنا الارض شقا (80:26) پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ یا اذ السماء الشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشقاق والمشاقۃ (باب مفاعلۃ) مخالفت کرنا عداوت رکھنا۔ فانما ہم فی شقاق تو (سمجھ لو کہ) وہ تمہارے مخالف ہیں۔
فسیکفیکہم اللہ۔عاطفہ ہے س مضارع پر داخل ہو کر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے۔ سو یہ استقبال کے لئے ہے۔ یکفی مضارع واحد مذکر غائب کفایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ کافی ہے۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول اول یکفی کا ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول ثانی ۔ اللہ فاعل فعل یکفی کا۔ تمہارے لئے ان سے اللہ کافی ہے یعنی تمہاری طرف سے اللہ ان سے نمٹ لیگا۔ ان کے مقابلہ میں تمہاری پشت پناہی کرے گا۔
السمیع۔ سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اسماء حسنی میں سے ہے جب یہ حق تعالیٰ کی صفت میں واقع ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہو۔
العلیم (فعیل) کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے اسماء حسنی میں سے ہے۔ خوب جاننے والا۔ قرآن مجید میں اس کا بیشتر استعمال خدا تعالیٰ کی صفت میں ہی ہوا ہے۔ کیونکہ اصل علم اسی ہی کا ہے۔
Ayah 2:138صبغۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا رنگ۔ صبغۃ اسم مصدر ہے۔ رنگ کی ہیئت اور کیفیت کو صبغۃ کہتے ہیں۔ صبغۃ اللہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) یہ امنا (آیت 136 متذکرہ بالا) کا مفعول مطلق من غیر لفظ ہے اور مدیں وجہ منصوب ہے اور صبغۃ اللہ سے اللہ کا دین مراد لیا ہے۔ اور ہم ایمان لائے اللہ کے دین پر۔
(2) یہ ملۃ ابراہیم سے بدل ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے ملت ابراہیم سے مراد اللہ کا دین لیا ہے۔
(3) اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے۔ مثلاً تقدیر کلام ہے (1) علیکم صبغۃ اللہ اللہ کے رنگ کو اپنے اوپر لازم پکڑو۔ (2) صبغنا اللہ صبغتہ۔ اللہ نے ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ مصدر کو تاکید کے لیے بطور مفعول مطلق لایا گیا ہے۔
(4) بعض نے کہا ہے کہ صبغۃ اللہ سے ختنہ مراد ہے ۔ کیونکہ اس سے مختون خون آلود ہوجاتا ہے۔
(5) تفہیم القرآن میں ہے کہ مسیحیت کے ظہور سے پہلے یہودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا تو اسے غسل دیتے تھے اور اس غسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گنا دھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کرلیا، یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کرلی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اصطباغ (بپتسمہ) ہے ۔۔ اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے۔ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا بلکہ اس کی بندگی کا طریقہ اختیار کرنے سے چڑھتا ہے۔ ومن احسن افعل التفضیل صیغہ ہے۔ ضمیر اس میں ھو راجع طرف من کے ہے جو ممیز ہے اور صبغۃ تمیز (اور بدیں وجہ یہ منصوب ہے) ۔
ونحن لہ عبدون ۔ جملہ حالیہ ہے۔ لہ میں ضمیر ہ اللہ کی طرف راجع ہے عبدون اسم فاعل جمع مذکر۔ عبادت کرنے والے۔ بندگی کرنے والے۔
Ayah 2:139(2:139) اتحاجوننا۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ تحاجون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ جس کے معنی دوسرے سے حجت کرنے کے۔ یا جھگڑنے کے ہیں۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ کیا تم ہم سے (اللہ) کے دین کی بابت جھگڑتے ہو۔
فی اللہ۔ ای فی دین اللہ۔ اللہ کے دین کی بابت۔ اس کے متعلق یا اس کے بارے میں ۔
مخلصون۔ اخلاص (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اخلاص کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر ممکن ملاوٹ سے پاک کردینا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے پاک و صاف اور خالی ہونا ہے۔ یعنی ہم خدا کی اطاعت یا بندگی خالص کرنے والے ہیں۔ ہماری عبادت محض خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ اس میں کسی اور جذبہ کی آمیزش نہیں ہے۔
قل۔ جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قول ہے۔ اور باقی آیت لغایت ونحن لہ مخلصون اس کا مقولہ ہے ۔ اللہ۔ ذوالحال ہے۔ وھو ربنا وربکم۔ حال اول ۔ اور ولنا اعمالنا ولکم اعمالکم حال ثانی اور نحن لہ مخلصون۔ حال ثالث ہے ذوالحال کا۔ یا یہ تینوں جملے تحاجوننا کے نا سے حال ہیں یعنی تمہارا اللہ (یا اللہ کے دین کی بابت) محاجہ (بحث جھگڑا) بےبنیاد ہے اور ناقابل قبول۔ دین کی بابت ہم تم سے زیادہ مخلص اور فرمانبردار ہیں۔
Ayahs 2:140–141(2:140) ام۔ معادلۃ للھمزۃ ہے (یعنی ہمزہ استفہام انکاری جو اوپر اتحاجوننا میں آیا ہے اسی معنی میں یہ آتا ہے) (ای وقل یا محمد) ام تقولون ۔۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور اسباط یہودی یا نصرانی تھے ؟
تمہارا کہنا بھی بےبنیاد اور ناقابل تسلیم اور افتراء ہے کیونکہ یہودیت اور نصرانیت تو ان حضرات (علیہم السلام) کے بعد کی بات ہے انما حدثت الیہودیۃ والنصرانیۃ بعدھم وثبت کذبکم یا معشر الیہود والنصری علی ابراہیم وبنیہ۔
مقصود یہ ہے کہ تمہاری یہ دونوں باتیں محاجۃ فی دین اللہ وقولکم کانوا ابراہیم ۔۔ الخ۔ ھودا اور نصاری بالکل غلط ہیں۔
قل (ای قل یا محمد) تو کہہ (زجروتوبیخ کے پیرایہ میں آیا ہے۔
ام۔ یہاں متصلہ ہے ای ایکماعلم (تم میں سے کون بہتر جانتا ہے) استفہام انکاری ہے۔ ای لستم اعلم بحال ابراہیم (علیہ السلام) فی باب الدین بل اللہ تعالیٰ اعلم بذلک دین کی بابت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال کو تم بہتر نہیں جانتے بلکہ خداوند تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ماکان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما (3:67) ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بےتعلق ہوکر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے۔
ومن اظلم۔ واؤ عاطفہ۔ من استفہامیہ اظلم اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور کون زیادہ ظالم ہے ۔ ممن۔ من۔ حرف جار اور من اسم موصول سے مرکب ہے کتم شھادۃ۔ کتم فعل بافاعل۔ شھادۃ مفعول ۔ عندہ۔ من اللہ۔ دونوں شھادۃ کی صفت ہیں۔ جو چھپاتا ہی اس شہادت کو جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے۔ کنتم شھادۃ عندہ من اللہ۔ صلہ ہے اپنے موصول کا موصول اپنے صلہ سے مل کر مجرور ہے اپنے جار من کا۔
یہ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ۔ اور اللہ کی جانب سے شہادت کیا تھی ؟ ابین کثیر فرماتے ہیں کہ خدا کی کتاب جو ان کے پاس آئی تھی۔ اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے اور محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم۔ اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یہودیت و نصرانیت سے الگ تھے۔ لیکن پھر بھی نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو چھپا بھی رکھا۔