2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsانوار البیان

Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ (خدا کی) کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن کلام نہ کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

(2:174) یکتمون۔ مضارع جمع مذکر غائب کتم (باب نصر) مصدر وہ چھپاتے ہیں یا چھپالیتے ہیں۔ ما انزل اللہ میں ما موصولہ ہے من الکتب۔ ای فی الکتب فی صفۃ محمد ﷺ ۔ یعنی ان کی الہامی کتاب توراۃ یا انجیل میں رسول کریم ﷺ کی بعثت کے متعلق جو نازل ہوا تھا اس کو چھپالیتے ہیں یا من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی یہود توراۃ میں بعض تعلیمات و حقائق کو چھپالیتے تھے اور اس سے مقصود ان کا دنیاوی نفع کمانا ہوتا تھا۔ یشترون بہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اشتراء (افتعال) مصدر وہ بدلہ میں لیتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں ۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتمان حقیقت ہے یا یہ ضمیر ما انزل اللہ من الکتب کی طرف عائد ہے۔ ثمنا قلیلا۔ موصوف، صفت، تھوڑی قیمت ، حقیر معاوضہ۔ ولا یزکیہم۔ واؤ عاطفہ، لایز کی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ، وہ پاک نہیں کرے گا۔ تزکیۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور نہ ہی وہ ان کو پاک کرے گا۔ یعنی نہ ہی اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت سے ان کے گناہ معاف کرے گا۔ عذاب الیم۔ موصوف صفت۔ دردناک، دکھ دینے والا۔ فعیل بمعنی فاعل ہے۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا، یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے ولے ہیں

(2:175) اولئک یہی ہیں وہ لوگ۔ اسم اشارہ بعید، جمع مذکر۔ فما اصبرہم علی النار۔ ما استفہامیہ ہے اور بمعنی توبیخ آیا ہے۔ ای مالذی صبرھم وای شیء جسرھم علی النار حتی ترکوا الحق واتبعوا الباطل۔ دوزخ کا عذاب جھیلنے پر انہیں کسی نے صبر دیا اور کس شے نے انہیں اس کی جسارت دلائی کہ حق کو ترک کرکے باطل کے تابع ہوگئے۔ یا ما بمعنی تعجب ہے۔ تعجب ہے ان کے حال پر کہ حق کو ترک کرکے اس جرأت صبر اور بیباکی سے عذاب جہنم کے لئے تیار ہیں۔ کیا ہی ان کا صبر ہے جہنم کے عذاب کو جھیلنے کا۔ اس صورت میں یہ افعال تعجب میں سے ہے (ما افعلہ وافعل بہ۔ افعال تعجب کے دو صیغے ہیں) ۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

ذلک۔ ای محبوع ما ذکر من اکل النار وعدم التکلیم والتزکیۃ والعذاب المرتب علی الکتمان ما انزل اللہ من الکتاب۔ یعنی ان کا اپنے پیٹوں کو دوزخ کی آگ سے بھرنا۔ خداوند کریم کا ناراضگی سے ان سے کلام تک نہ کرنا۔ اور نہ ہی ان کے گناہوں کی مغفرت کرکے ان کو پاک کرنا ۔ اور دردناک عذاب میں مبتلا کرنا سب ہی اس میں شامل ہیں۔ ذلک بان اللہ نزل الکتاب بالحق میں ب سببیہ ہے۔ ای ذلک العذاب ان بسبب ان اللہ نزل الکتب بالحق فرفضوہ بالتکذیب۔ یہ عذاب ان پر بدیں سبب نازل ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا مگر انہوں نے اس کی تکذیب کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔ الکتب سے مراد تو راۃ بھی ہوسکتی ہے اور القرآن بھی ۔ یا مطلق کتاب مراد ہے کہ جو توراۃ و قرآن و دیگر کتب سماویہ کو شامل ہے۔ فی الکتب میں الکتب میں الف لام یا تو جنس کا ہے اور اختلاف کے معنی یہ ہیں کہ کتاب کے بعض حصے پر تو ایمان لائے اور بعض کے ساتھ کفر کیا۔ یا الف لام عہد کا ہے۔ اور اس صورت میں اشارہ یا تو توراۃ کی جانب ہے اور یا القرآن کی طرف۔ لفی میں لام تاکید کا ہے۔ شقاق بعید موصوف، صفت، الشق شگاف کو کہتے ہیں۔ پھاڑ کر برابر دو ٹکڑوں میں کرنا۔ شققتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا۔ چیرنا، پھاڑنا۔ جیسے ثم شققنا الارض شقا (80: 26) پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ (باب انفعال) انشقاق لازم آتا ہے۔ اذالسماء الشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ باب فعال سے الشقاق اور باب مفاعلۃ سے مشاقۃ بمعنی مخالفت کرنا دشمنی کرنا ہے اس صورت میں شقاق بمعنی مخالفت ، باہم دشمنی، مقابلہ، باہم ضد بازی ہے۔ جملہ کا مطلب ہوگا کہ : وہ ضد میں آکر (نیکی سے) دور ہوگئے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے مخالفت میں دور نکل گئے ہیں ان کی باہمی مخالفت و عناد کا پاٹ طویل ہوگیا ہے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

(2:177) البر یہ بحر کی ضد ہے۔ اور اس کے معنی خشکی کے ہیں پھر معنی وسعت کے لحاظ سے اس سے البر مشتق کیا گیا جس کے معنی وسیع پیمانہ پر نیکی کرنے کے ہیں۔ اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ، بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی بر وبار اسم صفت۔ ابرار وبررجمع، نیک ، نیکوکار۔ اطاعت شعار، اچھا سلوک کرنے والا۔ ھو بروبار بوالدیہ۔ وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا ہے ان تولوا میں ان مصدریہ ہے۔ تولوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی ان کے عمل سے گرگیا ہے۔ تولیۃ (تفعیل) مصدریہ لغات اضداد میں سے ہے۔ منہ کرنے اور منہ پھیرنے دونوں معنی کے لئے آتا ہے۔ جیسے ان تولوا وجوہکم (آیت ہذا) کہ تم اپنے منہ کرو، پہلے معنی میں آیا ہے اور بعد ان تولوا مدبرین (21:57) جب تم جاچکو گے پیٹھ پھیر کر۔ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے قبل۔ بمعنی طاقت و قدرت بھی آیا ہے ۔ مثلاً قرآن مجید میں آیا ہے ۔ فلناتینھم بجنود لاقبل لہم بھا (27:37) ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجیں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہ ہوگی۔ قبل تقدم کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ بعد کی ضد ہے۔ باب تفعل سے بمعنی قبول کرنا قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا ہے۔ ولکن البر من امن باللہ ۔۔ الخ البر۔ منصوب بوجہ عمل لکن ہے البر کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) البر نیکی ، بھلائی، نیکی کرنا (باب سمع) مصدر بمعنی فاعل بطور مبالغہ آیا ہے۔ اور تقدیر عبارت یوں ہے ولکن البار من امن ۔۔ الخ و لیکن نیکی کرنے والا وہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا ۔۔ الخ ۔ (2) من امن باللہ (مضاف الیہ) کا مضاف مقدر ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے ولکن البر من امن باللہ ۔۔ الخ بلکہ اصل نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر ایمان لایا ۔۔ الخ اتی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ علی حبہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) اس کا مرجع المال ہے یعنی مال کی محبت ہوتے ہوئے بھی اس نے اس کو دیا۔ یا خرچ کیا۔ (2) اس کا مرجع اللہ ہے یعنی اللہ کی محبت میں اس نے مال خرچ کیا۔ (3) یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ضمیر مصدر ایتاء (دینا۔ خرچ کرنا) کی طرف راجع ہو۔ مال کو دیا دینے کی محبت سے۔ یعنی اس کا دل خرچ کرنے سے ناخوش نہیں ہوا بلکہ خوب جی کھول کردیا۔ ذعی القربی۔ مضاف مضاف الیہ، قرابت والا۔ قرابت دار۔ نزدیکی رشتہ دار۔ ذوا۔ اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ ابن السبیل۔ راستہ کا بیٹا یعنی مسافر، راہ گیر، چونکہ مسافر راہ نور دی کرتا ہے اس لئے اسے ابن السبیل کہتے ہیں۔ فی الرقاب۔ رقاب۔ گردنیں رقبۃ کی جمع ہے۔ ای اتی المال فی تخلیص الرقاب ادنی فک الرقاب جو خرچ کرتا ہے مال کو غلام آزاد کرانے میں۔ اسی مضمون کو دوسری جگہ قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے : وما ادرک ما لعقبۃ فک رقبۃ (90:12-13) اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے ؟ کسی کی گردن چھڑانا۔ رقبہ اصل میں گردن کا نام ہے۔ پھر جملہ بدن انسانی کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اور عرف عام میں یہ غلام کو نام پڑگیا۔ الموفون۔ اسم فاعل جمع مذکر ایفاء (افعال) مصدر۔ پورا کرنے والے۔ پورا دینے والے۔ وفی مصدر ۔ اپنا عہد پورا کرنے والے۔ اس جملہ کا عطف جملہ من امن پر ہے۔ عاھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب معاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر انہوں نے معاہدہ کیا۔ انہوں نے عہد باندھا ۔ الباسائ۔ سختی، فقر، تنگ، پستی، اسم مؤنث ہے۔ بؤس سے مشتق ہے۔ صفت نہیں ہے بعض کے نزدیک صفت ہے ۔ جو موصوف کے قائم مقام ہے۔ الصبرین۔ الصبرین کو یہاں الموفون کی طرح معطوف نہیں لایا گیا بلکہ فقرہ ومرض اور جہاد فی سبیل اللہ کے مواقع پر صبر و استقلال کو دیگر نیک اعمال متذکرہ بالا پر فضیلت کے اظہار کے لئے اسے منصوب علی الاختصاص والمدح لایا گیا ہے (نصب علی الاختصاص کے لئے ملاحظہ ہو عربی زبان کی گرامر مصنفہ ڈبلیو رائٹ آرٹیکل 35 جلد دوم) الضرائ۔ تکلیف، سختی، تنگی، مرض، مصیبت۔ اسم ہے۔ سرا اور نعماء کی ضد ہے۔ الباساء والضراء دونوں مؤنث ہیں ان کا مذکر نہیں آتا۔ وحین الباس۔ مضاف مضاف الیہ۔ حین۔ بمعنی وقت۔ الباس۔ لڑائی۔ دبدبہ، سختی۔ آفت جنگ کی شدت۔ اصل میں تو اس کے معنی سختی اور آفت کے ہیں مگر لڑائی اور غلبہ کے معنی میں کثرت سے مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں ہے واللہ اشد باسا واشد تنکیلا (4:84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے۔ اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔ الباساء اور الباس۔ مادہ ب ء س سے مشتق ہیں۔ اولئک مندرجہ بالا اوصاف کے حامل۔ صدقوا۔ انہوں نے سچ کر دکھایا۔ صدق سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ ای صدقوا فی الدین و اتباع الحق وطلب البر۔ جو دین کے بارے میں سچے اترے اور حق کے اتباع اور نیکی کی طلب میں کما حقہ فعال رہے۔ المتقون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اتقاء (افتعال) مصدر پرہیزگار۔ تقوی رکھنے والے۔ گویا ایک نیک اور استباز متقی میں مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔ (1) جو ایمان رکھنا ہو ! اللہ پر۔ یوم آخرت پر۔ ملائکہ پر۔ کتاب (قرآن مجید پر) ۔ نبیوں پر۔ (2) جو مال خرچ کرتا ہو اللہ کی محبت کی خاطر، قرابت داروں پر ۔ یتیموں پر۔ مسکینوں پر۔ مسافروں پر۔ سوال کرنے والوں پر۔ غلاموں کے آزاد کرانے پر۔ (3) جو نماز پڑھتا ہو۔ (4) جو زکوۃ دیتا ہو۔ (5) جو ایفائے عہد کرتا ہو۔ (6) جو تنگ دستی، تکلیف اور جنگ کی سختی میں صابر اور ثابت قدم رہتا ہو۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مومنو ! تم کو مقتولوں کے بارے میں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ اور اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول کو) پسندیدہ طریق سے (قرارداد کی) پیروی (یعنی مطالبہ خون بہا کرنا) اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے یہ پروردگار کی طرف سے (تمہارے لئے) آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔

(2:178) کتب علیکم۔ کتب۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ کتب وکتاب (باب نصر) لکھنا ۔ علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنا واجب کرنا۔ کہا جاتا ہے۔ کتب اللہ علی عبادہ الطاعۃ وعلی نفسہ الرحمۃ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اطاعت کا حکم دیا ہے اور اپنی ذات پر رحمت کو ضروری قرار دیا ہے۔ کتب علیکم تم کو حکم دیا ہے۔ تم پر لازم قرار دیا ہے۔ تم پر فرض کیا گیا ہے۔ القصاص۔ خون کا بدلہ۔ خون بہا۔ مفعول مالم یسم فاعلہ القص کے معنی نشان قدم پر چلنے کے ہیں۔ محاورہ ہے قصصت اثرہ میں اس کے نقش قدم پر چلا۔ قرآن مجید میں ہے فارتد اعلیٰ اثارھما قصصا (18:64) تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے۔ اور جگہ آیا ہے وقالت الاختہ قصبہ (28:11) اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ قصہ کو قصہ اسی لئے کہتے ہیں کہ قصہ بیان کرنے والا اصل واقعہ کی پیروی اپنے بیان میں کرتا ہے۔ فی القتلی۔ القتلی جمع ہے القتیل کی (بمعنی مقتول) فی القتلی۔ یعنی مقتولوں کے بارے میں۔ الحر بالحر۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد۔ حر۔ اس آزاد مرد کو کہتے ہیں جو کسی کا غلام شرعی نہ ہو۔ یہ عبد کی ضد ہے۔ تحریر رقبۃ۔ ایک غلام کا آزاد کرنا۔ حریت آزادی۔ عفی لہ۔ عفی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ عفا یعفوا (باب نصر) عفو۔ جس کے معنی آسان حاجت سے زیادہ۔ معاف کرنا ہیں۔ من عفی لہ۔ جس شخص (قاتل) کو معاف کیا ہو۔ شیئ۔ کچھ۔ کچھ چیز۔ من اخیہ۔ اس کے بھائی کی طرف سے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع مقتول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مقتول کے بھائی (یعنی وارث) کی طرف سے قاتل کو قصاص کے سلسلہ میں کچھ معافی دی جائے تو مقتول کے بھائی (یا وارث) کو معروف طریقہ سے (باقی قصاص) کا مطالبہ کرنا چاہیے اور قاتل کو چاہیے کہ خوش خوئی سے وہ اسے ادا کرے اتباع (افتعال) بمعنی پیروی کرنا۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ معافی کے بعد باقی ماندہ قصاص کا مطالبہ رائج الوقت طریقہ سے کرے اور احسان یعنی احسان مانتے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ یعنی قاتل کو مقتول کے بھائی (یا وارث) کی طرف سے دی گئی معافی کا احسان مانتے ہوئے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے باقی ماندہ خون بہا ادا کرنا چاہیے۔ تخفیف بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی ہلکا کرنا۔ آسانی کرنا۔ تخفیف کرنا۔ اعتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ اس نے زیادتی کی۔ اس نے حق سے تجاوز کیا۔ عدد۔ مادہ۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے اہل عقل ! (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔

(2:179) اولی الالباب۔ اولی۔ والے ۔ جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ بحالت رفع اولوا اور بحالت نصب و جر اولی۔ الباب لب کی جمع بمعنی عقل۔ اولی الالباب عقل والے۔ صاحب عقل۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

خیرا۔ بہتری۔ بھلائی۔ نیک کام، نیکی، یہاں اس سے مراد مال ہے یہ لفظ اسی معنی میں اور جگہ بھی قرآن مجید میں آیا ہے۔ جیسے وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال و دولت کی شدید محبت رکھتا ہے ۔ یہاں خیرا بمعنی مالا کثیرا آیا ہے۔ الوصیۃ۔ مصدر ہے (باب سمع) مردے کا وہ حکم جو کہ مرنے سے پہلے بعض لوگوں کے متعلق وہ دے کر مرتا ہے۔ الوصیۃ للوالدین والاقربین جملہ مفعول مالم یسم فاعلہ ہے اذا حضر احدکم الموت متعلق الوصیۃ سے ان ترک خیر جملہ شرطیہ ہے جواب شرط جملہ اولی سے سمجھا جاتا ہے۔ حقا۔ مصدر مؤکدہ ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای حق ذلک علی المتقین حقا متقیوں یعنی خدا ترسوں پر یہ لازم کردیا گیا۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں (اور) بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

(2:181) فمن بدلہ۔ میں ضمیر ہ۔ ایصاء (نصیحت کرنا) کی طرف راجع ہے ۔ اور ایصاء الوصیۃ میں ضمنا مذکور ہے من شرطیہ ہے اور فمن بدلہ بعد ما سمعہ جملہ شرطیہ ہے فانما اثمہ علی الدین یبدلونہ جواب شرط ہے پس جو کوئی وصیت کو بدل دے بعد اس کے کہ وہ اسے سن چکا ہو تو اس کا گناہ انہی لوگوں پر ہے جو اس کو بدل دیں گے۔ اثمہ میں ہ کی ضمیر یا تو تبدیل شدہ ابصاء کی طرف راجع ہے یا خود تبدیل کی طرف۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(2:182) موص اسم فاعل واحد مذکر ایصاء مصدر باب (افعال) اصل میں موصی تھا وصیت کرنے والا ۔ جنفا۔ میلا عن الحق خطأ وجھلا۔ غلطی سے یا نادانستگی سے حق سے دوسری طرف جھک جانا۔ طرفداری کجی۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ مصدر ہے۔ اثما۔ مصدر ۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ عمداً ارتکاب ظلم کرنا۔ خاف فعل بافاعل ہے۔ من موص متعلق ہے خاف سے یہ جملہ شرطیہ ہے فلا اثم علیہ۔ جواب شرط ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

(2:183) کتب علیکم۔ ای فرض علیکم۔ جیسا کہ اوپر آیت 180-178 میں آیا ہے۔ الصیام۔ مفعول مالم یسم فاعلہ۔ صام یعزم۔ صام وصیام۔ مصدر (باب نصر) الصوم کے اصل معنی کسی کام سے رک جانے یا باز رہنے کے ہیں۔ خواہ اس کا تعلق کھانے پینے۔ چلنے پھرنے یا گفتگو کرنے سے ہو۔ گفتگو سے رکنے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے۔ انی نذرت للرحمن صوما (19:25) کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت معنی ہے۔ یعنی کلام سے خاموش رہنے کی جیسا کہ بعد میں اسی آیت میں اس کی تفسیر یوں کی گئی ہے فلن اکلم الیوم انسیا۔ تو آج میں ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کروں گی۔ چلنے پھرنے سے رک جانے کے معنی میں شاعر کا قول ہے خیل صیام واخری غیر صائمۃ کچھ گھوڑے اپنے تھان پر کھڑے ہیں اور دوسرے میدان جنگ میں ہیں۔ آیت ہذا میں اصطلاح شریعت میں کسی مکلف کا روزہ رکھنے کی نیت سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے عمداً قے کرنے اور جماع سے رکے رہنے کو صیام کہتے ہیں اور یہاں صیام کے معنی رمضان کے روزے ہیں۔ کما۔ میں کاف تشبیہ کا ہے اور ما موصولہ۔ اگلہ جملہ اس کا صلہ ہے۔ یہاں تشبیہ روزوں کے فرض ہونے میں ہے۔ روزوں کے دنوں کی تعداد یا ان کی کیفیت میں نہیں ہے۔ لعلکم۔ لعل حرف مشبہ بفعل ہے اور کم ضمیر جمع مذکر حاضر، اس کا اسم ۔ شاید تم۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر تم بچتے رہو۔ تم ڈرتے رہو (ارتکاب گناہ سے) تم پرہیزگار ہوجاؤ۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں۔ (یہ آیت اگلی آیت سے ملصوق ہے) اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

(2:184) ایاما معدودات موصوف و صفت، منصوب بوجہ فعل مقدر صوموا (جس کا یہ مفعول فیہ ہے) چند گنتی کے دن۔ معدودات۔ اسم مفعول جمو مؤنث۔ معدودۃ۔ واحد ۔ گنے ہوئے۔ فمن۔ شرطیہ۔ کان کا اسم ضمیر ہے جو من کی طرف راجع ہے اور مریضا اس کی خبر۔ معطوف علیہ او حرف عطف علی سفر معطوف موضع نصب میں ہے۔ ای او کان مسافرا۔ فعدۃ مبتداء اس کی خبر محذوف ہے۔ ای فعلیہ عدۃ من ایام اخر۔ من ایام اخر۔ صفت ہے عدۃ کی۔ پس فمن کان ۔۔ علی سفر شرط ہے اور فعدۃ من ایام اخر جواب شرط ہے۔ عدۃ یہ عد سے بروزن فعلۃ بمعنی معدود ہے (جیسے کہ طحن بمعنی مطحون ہے (پسا ہوا آٹا) گنے ہوئے۔ یطیقونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اطاقۃ (افعال) مصدر سے۔ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع صیام ہے۔ یطیقون کے متعلق مفسرین کے متعدد اقوال ہیں مثلاً (1) یطیقون، بمعنی یطوقون، یکلفون (روزہ رکھنے میں) تکلیف محسوس کریں۔ جو بہ تکلف و بمشقت روزہ رکھ سکتے ہوں۔ (2) یطیقون سے پہلے لا مقدر ہے اور تقدیر یوں ہے لا یطیقون (روزہ رکھنے کی) طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ (3) اس کا مفہوم وہی ہے جو اطاق فلان کا ہے۔ اطاق میں باب افعال کا ہمزہ سلب ماخذ کے لئے ہے اس لئے اطاق فلان کا مطلب ہوا فلاں شخص میں طاقت نہیں ہے اس صورت میں یطیقونہ کا مطلب ہوگا کہ وہ اس کی (روزہ رکھنے کی) طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ فدیۃ طعام مسکین۔ فدیۃ مبدل منہ۔ طعام مسکین مضاف مضاف الیہ ہو کر بدل ہے ندیۃ سے مطلب یہ کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کے ذمہ فدیہ ہے۔ جو ایک مسکین کا کھانا ہے۔ فدیۃ مصدر۔ بمعنی بدلہ دینا۔ مال خرچ کرکے مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ فمن تطوع خیرا فھو خیرلہ۔ تطوع کے اصل معنی تو نیکی میں تکلف کے ہیں۔ مگر عرف میں جو چیزیں کہ لازم و فرض نہ ہوں جیسے نوافل وغیرہ ان کے بجالانے اور انجام دینے کو کہتے ہیں۔ خیرا۔ بمعنی نیکی۔ بھلائی اور خیر بمعنی بہتر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے پس جو شخص اپنی خوشی سے نیکی کرے وہ اس کیلئے بہتر ہے وان تصومو خیرلکم میں ان مصدریہ ہے۔ ان تصوموا مبتدا خیر لکم اس کی ضمیر اور روزہ رکھنا ہی بہتر ہے تمہارے لئے
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

(2:185) شھر رمضان مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء ۔ الذی انزل فیہ القرآن میں الذی موصول اور انزل فیہ القرآن صلہ اپنے موصول کا۔ صلہ و موصول مل کر مبتداء کی خبر۔ ھدی للناس حال ہے قرآن سے یعنی نازل کیا گیا اس ماہ میں قرآن درآنحالیکہ وہ سراپا ہدایت ہے لوگوں کے لئے اور (اس میں) روشن دلیلیں ہیں ہدایت کی (وبینت من الھدی) اور یہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے (والفرقان) تینوں قرآن سے حال ہیں اور 2 و 3 کا عطف ھدی 1 پر ہے۔ ھدی۔ اسم ومصدر (باب ضرب) ہدایت، ہدایت کرنا۔ بینت جمع بینۃ واحد۔ کھلی دلیل۔ واضح دلالت۔ الفرقان۔ مصدر بھی ہے یعنی الگ الگ کرنا ۔ حق کو باطل سے جدا کرنا۔ اور صیغہ صفت بھی ہے یعنی حق کو باطل سے جدا کردینے والی شے۔ آیت ہذا میں وہ دلائل مراد ہیں جو حق کو باطل سے جدا کردینے والی ہیں اس کے علاوہ یہ لفظ قرآن مجید میں قرآن ، توراۃ، دلیل و حجت کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فمن شھد منکم الشھر۔ جملہ شرطیہ ہے اور فلیصمہ جواب شرط شھد ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے شھود مصدر سے بمعنی پانا۔ شھادۃ مصدر سے شھد بمعنی شہادت دینا ہے۔ الشھر میں الف لام عہد کا ہے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔ فلیصمہ میںجواب شرط کے لئے ہے۔ لیصم امر کا صیغہ واحد مذکر غائب صوم مصدر (باب نصر) ہ ضمیر واحد مذکر غائب مفعول فیہ۔ اور اس کا مرجع الشھر ہے پس وہ اس کے (رمضان کے مہینے کے) روزے رکھے۔ من ایام اخر۔ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنا۔ الیسر۔ الیسر کے معنی آسانی اور سہولت کے ہیں اور یہ العسر کی ضد ہے قرآن مجید میں ہے سیجعل اللہ بعد عسر یسرا (165:7) خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔ العسر۔ تنگی، سختی۔ الیسر کی ضد ہے۔ ولتکملوا العدۃ۔ صاحب تفسیر مظہری اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں (اور تاکہ تم گنتی پوری کرو) العدۃ میں الف لام مضاف الیہ کے عوض ہے تقدیر عبارت کی یوں ہے عدۃ شھر رمضان بقضاء ما افطر منہ (یعنی تاکہ ماہ رمضان کی شمار افطار کئے ہوئے روزوں کو قضاء کرکے پوری کرلو ۔۔ ولتکملوا العدۃ کا مع اپنے معطوف ولتکبروا ۔۔ الخ کے الیسر پر عطف ہے (یا تو) اس وجہ سے کہ الیسر باعتبار معنی کے ماقبل کی علت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے یہ احکام یعنی مریض اور مسافر کے لئے افطار کو مباح کرنا اور مرض کے ایام کی قدرو قضا واجب کرنا اس لئے مشروع کردیئے تاکہ تم پر سہولت ہو اور تاکہ تم ماہ رمضان کے دنوں کی گنتی افطار کئے ہوئے روزوں کی قضاء کرکے پوری کرلو ۔۔ الخ یا لتکملوا ۔۔ (اس کے بعد اس آیت کی دیگر صورتیں بیان کی گئی ہیں) ۔ اس صورت میں آیت یرید اللہ ۔۔ لعلکم تشکرون کا ترجمہ ہوگا اور اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی کرنی اور نہیں چاہتا تمہارے لئے دشواری اور (چاہتا ہے کہ) تم گنتی پوری کرلیا کرو (افطار روزوں کی قضا پوری کرکے) اور اللہ کی بڑائی بیان کیا کرو۔ اس بات پر کہ اس نے تم کو سیدھی راہ دکھائی اور تاکہ تم احسان مانو (یعنی تاکہ تم روزہ کے واجب ہونے پر شکر کرو اس لئے کہ وہ درجات کے ملنے کا ذریعہ ہے اور مریض اور مسافر کے لئے افطار کے مباح ہونے پر شکر کرو کہ اس میں تمہارے لئے تخفیف اور رخصت ہے۔ تکملوا تم پورا کرو، تم مکمل کرو۔ اکمال (افعال) مصدر۔ سے مضارع جمع مذکر حاضر نون اعرابی لام کے آنے سے حذف ہوگیا۔ لعلکم تشکرون کا عطف لتکبرو اللہ پر ہے۔ رمضان۔ رمض کا مصدر ہے جو جلنے اور سوختہ ہونے کے لئے آتا ہے پھر اس کی طرف شھر کی اضافت کی گئی۔ اور اسے علم قرار دیا گیا۔ اس ماہ کو رمضان سے یا تو اس لئے موسوم کیا گیا کہ اس ماہ میں بھوک پیاس کی سوزش سے روزہ دار سوختہ ہوجاتا ہے یا اس لئے کہ گناہ اس میں جل جاتے ہیں اور یا اس لئے کہ جب لوگوں نے قدیم زبان سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو یہ مہینہ سخت تمازت کے زمانہ میں واقع ہوا۔ (بیضاوی) لیکن صحیح یہ ہے کہ علم تقویم میں یہ قمری سال کے ایک مہینہ کا نام ہے۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

(2:186) واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب۔ اذا ظرف زمان ہے۔ سئل فعل ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ عبادی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل ، منی جار مجرور مل کر متعلق فعل۔ اذا سئلک عبادی عنی جملہ شرطیہ۔ فانی قریب ای قل لہم (ای عبادی) انی قریب۔ جواب شرط۔ اجیب۔ مضارع واحد متکلم ۔ اجابۃ (باب افعال) مصدر بمعنی قبول کرنا۔ میں قبول کرتا ہوں۔ الداع۔ بلانے والا۔ پکارنے والا۔ دعاء (د ع و مادہ) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر بحالت رفع وجر۔ دعوۃ الداع۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اجیب کا مفعول۔ دعان۔ اصل میں دعانی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم حذف ہوگئی اور ن وقایہ ہے دعا ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اس نے مجھے پکارا۔ اس نے مجھ سے دعا کی۔ فلیستجیبو الی۔سببیہ ہے لیستجیبوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ استجابۃ (باب استفعال) ان کو چاہیے کہ میرا حکم مانیں ان کو چاہیے کہ میرا امر قبول کریں۔ ای اذا دعوتھم الیٰ الایمان والطاعۃ کما انی اجبتھم اذا دعونی لحوائجہم۔ یعنی جب میں ان کو ایمان اور اطاعت کی طرف بلاؤں تو ان کو میرا حکم ماننا چاہیے جیسا کہ میں ان کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے اپنی حاجات کے لئے پکارتے ہیں ۔ استجابۃ بمعنی اجابۃ (افعال) ہے۔ والاجابۃ فی اللغۃ الطاعۃ فالاجابۃ من العبد الطاعۃ و من اللہ الا ثابۃ والعطائ۔ لغت میں اجابت بمعنی اطاعت ہے۔ بندہ کی طرف سے اجابت بمعنی اطاعت اور اللہ کی طرف سے جزا عطا کرنا ۔ قرآن مجید میں آیا ہے فاستجاب لہم ربھم (3:195) تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی۔ اور والذین استجابوا لربھم (82:38) اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں۔ ولیؤمنوابی اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے واؤ عاطفہ لیؤمنوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب اور چاہیے کہ وہ مجھ پر ایمان لائیں یرشدون۔ مضارع جمع مذکر غائب رشد (باب نصر) مصدر وہ سیدھے راہ پر آجائیں۔ وہ ہدایت پاجائیں۔ الرشدغی کی ضد ہے۔ اور ہدایت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ قد تبین الرشد من الغی (2:256) گمراہی سے ہدایت الگ ہوچکی۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

(2:187) احل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب احلال (افعال) مصدر حلال کیا گیا۔ مباح کیا گیا ۔ الرفث مفعول مالم یسم فاعلہ، لیلۃ الصیام۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ظرف ہے الرفث کا۔ رفث ایک لفظ جامع ہے۔ جس قسم کا مرد عورتوں سے فائدہ اٹھائیں سب کو یہ شامل ہے۔ اور رفث کو الی سے اس لئے متعدی کیا ہے کہ اس لفظ کے اندر افضاء (جماع) کا مضمون ہے اور افضاء کا صلہ الیٰ آتا ہے۔ ترجمہ : جائز کردیا گیا تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں پاس جانا اپنی بیبیوں کے۔ کنتم تختانون انفسکم۔ کنتم تختانون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تختانون اختیان (افتعال) خین مادہ۔ خیانت کرنا ۔ اختیان میں خیانۃ سے زیادہ مبالغہ ہے۔ تم اپنے آپ سے خیانت کیا کرتے تھے۔ فتاب علیکم۔ یعنی جب تم نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ تاب علی۔ اللہ کا بندے کی توبہ قبول کرلینا۔ اسے معاف کردینا۔ عفا عنکم۔ اس نے تم کو معاف کردیا۔ اس نے تمہارے گناہ مٹا دیئے۔ عفو (باب نصر) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے عفو کا استعمال جب کسی کے جرم کے معاف کرنے کیلئے ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ بذریعہ عن ہوتا ہے فالئن میںترتیب کا ہے الئن (اب) ظرف زمان ہے۔ الف لام بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے۔ باشروھن امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تم اپنی عورتوں سے یعنی اپنی بیویوں سے مباشرت کرو۔ (مطلب یہ کہ اب روزوں میں رات کے وقت اپنی عورتوں سے تم کو مباشرت کی اجازت ہے۔ باشر یباشر مباشرۃ (مفاعلہ) مصدر بشر مادہ ۔ البشرۃ کے معنی انسان کی جلد کی اوپر کی سطح ہے انسان کو بشر اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی جلد بالوں سے صاف ہوتی ہے اس کے برعکس حیوان کی کھال پر اون ، بال یا پشم ہوتی ہے۔ المباشرۃ کے اصل معنی تو ایک کی جلد کو دوسرے کی جلد کے ساتھ ملانا کے ہیں مگر کنایۃ عورت سے مجامعت کرنا کے معنی میں آتا ہے۔ ابتغوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ابتغاء (افتعال) مصدر تم تلاش کرو۔ تم چاہو، ابتغوا فعل بافاعل ماکتب اللہ لکم۔ مفعول ۔ جملہ ہذا۔ اور جملہ وکلوا۔ اور واشربوا تینوں کا عطف باشروھن پر ہے۔ یتبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبین (تفعل) مصدر (حتی کہ) ظاہر ہوجائے ۔ ممیز ہوجائے۔ الخیط الابیض موصوف و صفت سفید دھاگہ الخیط الاسود موصوف و صفت مجرور۔ سیاہ دھاگہ۔ من الفجر۔ بیان ہے الخیط کا۔ وانتم عکفون فی المساجد میں واؤ حالیہ ہے۔ درآں حال یہ کہ تم مسجدوں میں اعتکاف کے لئے بیٹھے ہوئے ہو عکفون جمع عاکف کی اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ شرع میں عبادت کی نیت سے مسجد میں اپنے آپ کو روکے رکھنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔ اور اس کے لغوی معنی ہیں مقیم ہونے والے اور ایسے جمنے والے کہ ٹلے ہی نہیں۔ آیت ہذا میں اپنے شرعی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور ما ھذہ التماثیل التی انتم لہا عکفون ۔ (21:52) اپنے لغوی معنی میں آیا ہے۔ تقربوھا میں ھا ضمیر کا مرجع حدود ہے۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

(2:188) لا تاکلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت کھاؤ اموالکم ایک دوسرے کا مال بینکم آپس میں ۔ اور باہم ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ وتدلوا بھا الی الحکام۔ واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اسی لئے تدلوا تاکلوا کے لا کے تحت میں ہے ای ولا تدلوا۔ اور مت کھینچ لیجاؤ۔ یہ یدلوا۔ ادلاء (افعال) مصدر سے ہے۔ جس کے معنی ڈول نکالنا یا ڈول ڈالنا کے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے فادلی دلوہ (12:19) اس نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا۔ پھر استعارہ کے طور پر اس کے معنی کسی چیز تک پہنچنے کے لئے ذریعہ بنانا بھی آجاتے ہیں ۔ یعنی نہ ہی رسائی حاصل کرو اس مال سے (رشوت دے کر) حاکموں تک (تاکہ وہاں جھوٹ سچ بول کر ناجائز طور پر فیصلہ اپنے حق میں کروالو۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ قاضی کا فیصلہ بھی حرام کو حلال نہیں کرسکتا) ۔ لتاکلوا فریقا من اموال الناس۔ تاکہ یوں کھاؤ کچھ حصہ لوگوں کے مال کا۔ یہاں لام تعلیل کی ہے کہ تم اس واسطے مقدمہ حکام کے ہاں لیجاؤ کہ جائز یا ناجائز طور سے فیصلہ اپنے حق میں کروا کر دوسروں کا مال کھا جاؤ۔ فریق کا مطلب گروہ بھی ہے اور کسی چیز کے حصہ اور جزء کو بھی فریق کہتے ہیں۔ یہاں یہی معنی مراد ہیں۔ فریقا۔ ای قطعۃ وجزأ۔ فریقا مفعول ہے لتاکلوا کا۔ وانتم تعلمون ۔ یہ جملہ حال ہے ۔ تاکلوا کے فاعل سے۔ درآں حال یہ کہ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کیا ہے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

(2:189) الاہلۃ مہینے کی پہلی اور دوسری تاریخ کے چاند کو الاہلۃ کہتے ہیں پھر اس کے بعد اسے قمر کہا جاتا ہے یسئلونک عن الاہلۃ۔ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ( کہ یہ گھٹنا بڑھتا کیوں ہے) اہلۃ ھلال کی جمع ہے اھالیل بھی اس کی جمع ہے۔ قل ہی مواقیت للناس والحج کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی) میعادیں اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔ ہی ای اہلال۔ مواقیت جمع ہے میقات کی۔ اسم آلہ، وقت کی شناخت کے ذرائع۔ یہ وقت مادہ سے مشتق ہے۔ وقت یوقت توقیت (تفعیل) وقت ظاہر کرنا ۔ میقات اور مؤنث کسی کام کو شروع کرنے کی جگہ ۔ جیسے میقات حج، میقات احرام۔ ظھورھا۔ مضاف مضاف الیہ ان کی پشتوں ( کی جانب) سے ظھر واحد۔ ولکن البر من اتقی۔ البر ای ذوالبترا والبار بمعنی نیکوکار۔ نیکی کرنے والا۔ ابرار جمع۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیزگار ہو۔ (نیز ملاحظہ 2:177) ۔ اتقی۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ ڈرا۔ اس نے پرہیزگاری اختیار کی۔ فائدہ : عرب کے لوگوں کا دستور تھا کہ جب احرام باندھ لیا کرتے اور انہیں گھر میں داخل ہونے کی ضرورت پڑتی تو دروازہ سے داخل نہ ہوتے بلکہ پیچھے سے دیوار میں سوراخ کرکے داخ (رح) ہوتے اور اس کو بڑی نیکی سمجھتے۔ تفلحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ افلاح (افعال) مصدر تم فلاح پاؤ۔ فلاح پانا بمعنی بھلائی۔ کامیابی کا حاصل کرنا اور مقصد روری ہے۔ لا تعتدوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر ۔ اعتداء (افتعال) مصدر بمعنی حد سے گزرنا۔ تم حد سے مت گزرو، تم زیادتی مت کرو۔ المعتد۔ اسم فاعل واحد مذکر، زیادتی کرنے والا۔ حد سے گزرنے والا۔
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

الذین یقاتلونکم۔ جملہ مفعول ہے فعل قاتلوا کا۔؎ المعتدین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب۔ حد سے بڑھ جانیوالا۔ الذین یقاتلونکم۔ جملہ مفعول ہے فعل قاتلوا کا۔ المعتدین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر منصوب۔ حد سے بڑھ جانیوالا۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

(2:191) واقتلوھم۔ واؤ عاطفہ۔ اقتلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ھم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر غائب۔ اس کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ ای الذین یقاتلونکم وہ لوگ جو تم سے لڑائی لڑیں۔ حیث۔ ظرف مکان ہے مبتی برضمہ۔ مکان مہم کے لئے آتا ہے جس کی جملہ مابعد سے تشریح ہوتی ہے۔ جہاں ۔ جس جگہ۔ ثقفتموھم۔ ثقفتموا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اصل میں ثقفتم تھا ۔ واؤ اشباع کا ہے ثقف (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی پالینے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الفتنۃ۔ کے لغوی معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ اسی لئے نعمت اور مصیبت کو بھی فتنہ کہتے ہیں۔ فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے۔ قرآن مجید میں فتنہ اور اس کے مشتقات کو مختلف معنی کے لئے استعمال کیا گیا ہے مثلاً بمعنی آزمائش ۔ انما نحن فتنۃ فلا تکفر (2:102) ہم تو ذریعہ آزمائش ہیں ۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ بمعنی آفت۔ مصیبت۔ وحسبوا ان لا تکون فتنۃ (5:71) اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی۔ بمعنی عذاب ۔ انا جعلنا فتنۃ للظالمین ۔ (37:62) اور ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے۔ اور آیت ہذا میں فتنہ سے مراد کفار کا خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا ہے (مظہری) ۔ وقیل معناہ شرکہم باللہ فی الحرم وصدھم ایاکم عنہ (بیضاوی) ان شرکہم باللہ اشدوا عظم من قتلکم ایاھم فی الحرم (خازن) اور ان کا اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا تمہارے ان کو مسجد حرام میں قتل کرنے سے بہت برا ہے۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ سخت تر۔ بدتر۔ نہایت سخت۔ شدۃ سے۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

(2:192) انْتَهَوْا۔ ماضی جمع مذکر غائب انتھائ ۔ (افتعال) مصدر سے ۔ نہی مادہ ۔ وہ رک گئے، انہوں نے چھوڑ دیا ۔ فَاِنِ انْتَهَوْا جملہ شرطیہ ہے ، اور فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ جملہ جزائیہ۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

(2:193) فلا عدوان۔جواب شرط کے لئے ہے۔ جملہ جزائیہ ہے ۔ (فان انتھوا اس سے قبل کا جملہ شرطیہ ہے) عدوان یہ عدا یعدوا (باب نصر) کا مصدر ہے۔ زیادتی ، ظلم، ستم، تعدی، بہت بری طرح حد سے بڑھ جانا۔ ترجمہ : تو کسی پر زیادتی نہیں سوائے ۔۔ الخ الظلمین۔ ظلم کرنے والے۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مجرور ۔ یہاں ظالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور حرب میں باقی ہیں۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

(2:194) الشھر الحرام۔ موصوف صفت۔ حرمت والا مہنیہ الحرمت۔ حرمتیں۔ بزرگیاں۔ حرمۃ کی جمع۔ حرمت اس چیز کو کہتے ہیں جس کا ادب ضروری ہو۔ قصاص۔ بدلہ۔ قتل کا بدلہ قتل قاتل۔ ہر عضو کا بدلہ عضو، ہر چوٹ کا بدلہ ویسی ہی چوٹ۔ ادب کی چیزوں میں مساوات۔ یعنی ماہ حرام میں اگر دشمن قتال کرے اور اس کی حرمت کا لحاظ نہ کرے تو تم بھی دفاعی جنگ کرو (آیت ہذا) خون کا بدلہ خون۔ خون بہا۔ الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص۔ ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری سے ہوگا۔ یعنی حرمتوں کے بارے میں دشمن جتنی زیادتی کا مرتکب ہوگا۔ دوسرا فریق اس دشمن کے خلاف اس زیادتی کے برابر اس کا توڑ کرنے میں حق بجانب ہوگا۔ فائدہ : اہل عرب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہ قاعدہ چلا آتا تھا کہ ذی القعدہ۔ ذی الحجہ اور محرم کے تین مہینے حج کے لئے مختص تھے اور رجب کا مہینہ عمرہ کے لئے خاص کیا گیا تھا ۔ ان چار مہینوں میں جنگ وجدل۔ قتل و غاری گری ممنوع تھی تاکہ زائرین کعبہ امن و امان کے ساتھ خدا کے گھر تک جائیں۔ اور اپنے گھروں کو واپس ہو سکیں۔ اسی بناء پر ان مہینوں کو حرام مہینے کہا جاتا تھا۔ یعنی حرمت والے مہینے۔ آیت کا منشاء یہ ہے کہ ماہ حرام کی حرمت کا لحاظ کفار کریں تو مسلمان بھی کریں اور اگر وہ اس حرمت کو نظر انداز کرکے کسی حرام مہینہ میں مسلمانوں پر دست اندازی کریں تو پھر مسلمان بھی ماہ حرام میں بدلہ لینے کے مجاز ہیں۔ (اقتباس از تفہیم القرآن) فمن اعتدی علیکم۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اعتدی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ اس نے زیادتی کی (تم پر) ۔ فاعتدوا علیکم۔ جواب شرط۔جواب شرط کا ہے۔ اعتدوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تم زیادہ کرو۔ اعتدائ۔ (زیادتی) کی جزاء کو اعتداء کہنا صرف لفظی مشابہت ہے۔ مطلب یہ کہ زیادہ کرنے والے کی زیادتی کی حد تک اس زیادتی کا توڑ کرنا جائز ہے۔ ما اعتدی میں ما موصولہ ہے۔ المتقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ تقویٰ کرنے والے۔ ڈرنے والے۔ پرہیز کرنے والے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(2:195) انفقوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر تم خرچ کرو۔ لا تلقوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، القاء (افعال) جمع مذکر حاضر، تم مت ڈالو۔ لقی مادہ ۔ قرآن مجید میں ہے۔ کلما القی فیہا فوج (67:8) جب بھی اس میں کوئی جماعت ڈالی جائے گی۔ بایدیکم۔ باء حرف جار۔ ایدیکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے ہاتھ ۔ بمعنی اپنے ہاتھوں ۔ اس سے قبل انفسکم محذوف ہے تقدیر عبارت یوں ہے ولا تلقوا انفسکم بایدیکم الی النھلۃ۔ اور نہ پھینکو (یا نہ ڈالو) اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں۔ التہلکۃ۔ ھلک (باب ضرب و سمع) سے مصدر ہے ہلاک ہونا۔ تباہ ہونا۔ ہلاکت۔ تباہی۔ احسنوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر، احسان (افعال) مصدر ۔ تم نیکی کرو۔ المحسنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ احسان سے ۔ نیکی کرنے والے۔ اچھے کام کرنے والے۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور خدا (کی خوشنودی) کیلیے حج اور عمرے کو پور کرو اور اگر (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈا لے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو (کرے) اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مکہ میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

(2:196) اتموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتمام (افعال) مصدر تم پورا کرو۔ الحج۔ حج یحج (باب نصر) مصدر، اصل لعنت میں حج قصد زیارت کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شرح میں حج کی نیت سے اول احرام باندھ کر طواف اور وقوف کو اوقات مخصوصہ میں ادا کرنا حج کہلاتا ہے۔ العمرۃ۔ عمرہ زیادت بیت اللہ کے سلسلہ میں ایک مخصوص عبادت کا نام ہے ۔ جو حج کی طرح خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ عمر بھر میں ایک دفعہ اس کا بجا لانا بشرط استطاعت سنت مؤکدہ ہے۔ شاہ عبد القادری دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ : عمرے کا طریق یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے۔ اور صفا مروہ کے بیچ دوڑے پھر حجامت کراکر احرام اتارے۔ فان احصرتم فما استیسر من الھدی۔ پہلا جملہ شرطیہ ہے اور دوسرا جملہ جواب شرط ہے۔ احصرتم۔ ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ احصار (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی روکنے کے ہیں خواہ روکاوٹ کسی ظاہری سبب کی بناء پر ہو۔ جیسے دشمن کا آڑے آکر روکنا۔ یا کسی باطنی سبب سے جیسے مرض کی وجہ سے رکنے پر مجبور ہوجانا۔ پہلے جملے کا ترجمہ یہ ہے : پھر اگر تم روک لئے جاؤ۔ یعنی اگر تم حج سے یا اس عمرہ سے جس کی تکمیل کا تم کو حکم دیا گیا ہے روکے جاؤ۔ دوسرے جملہ میںجواب شرط کے لئے ہے۔ ما موصولہ ہے۔ استیسر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے استیسار (استفعال) مصدر بمعنی میسر آنا۔ آسان ہونا وہ میسر آیا۔ وہ آسان ہوا۔ الھدی۔ اسم معرف باللام قربانی کا جانور جو مادہ حرم میں حرم کے اندر ذبح ہونے کے لئے بھیجا جاتا ہے ترجمہ : توجہ قربانی کا جانور میسر آجائے (ذبح کردیا ۔ ذبح کرنے کے لئے بھیجو) ولا تحلقوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر حلق (باب ضرب) مصدر بمعنی بالوں کو منڈانا۔ تم بال یا سرمت منڈاؤ۔ تم حجامت نہ کراؤ۔ محلہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ محل اسم ظرف مکان ، قربانی کے حلال ہونے کی جگہ۔ جہاں قربانی کے جانور کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ہ ضمیر واحد ذکر غائب کا مرجع الھدی ہے۔ اذی۔ ہر وہ ضرر جو کسی جاندار کی روح کو یا جسم کا پہنچے۔ فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اور ففدیۃ ۔۔ اونسک جواب شرط۔ پس جو کوئی تم میں سے بیمار ہوجائے یا اس کے سر میں کوئی بیماری یا تکلیف ہو تو اس کے بدلہ میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی دے۔ فدیۃ۔ العدی۔ الفاء کے معنی کسی جی جانب سے کچھ دے کر اسے مصیبت سے بچا لینا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے۔ فاما منا بعد واما فداء (47 : 4) پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر ۔ فدیۃ واحد فدی جمع وہ مال جو کسی کو آزاد کرانے کے لئے دیا جائے۔ یا وہ مال جو کسی عبادت میں کوتاہی کرنے کی وجہ خرچ کرکے انسان خود اپنے کو گناہ سے بچاتا ہے آیت ہذا میں اسی معنی میں مستعمل ہے۔ نسک۔ انسک کے معنی عبادت کے ہیں۔ اور ناسک عابد کو کہا جاتا ہے۔ مگر یہ لفظ ارکان حج کے ادا کرنے کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے۔ مناسک حج اور عبادت کے ارکان ۔ قربانی بھی ارکان حج میں سے ہے یہاں قربانی ہی مراد ہے۔ نسک کا واحد نسیکۃ بمعنی ذبیحہ ہے۔ تمتع بالعمرۃ۔ تمتع۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ تمتع (تفعل) مصدر جس کے معنی برتنے۔ فائدہ اٹھانے اور مفت منفعت میں استداد ہونے کے ہیں۔ اس نے فائدہ اٹھایا۔ یعنی جس شخص نے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر فائدہ اٹھایا۔ یعنی (1) اگر پہلے احصار میں تھا اب امن میں آگیا ۔ یا پہلے بیمار تھا اب تندرست ہوگیا۔ لیکن اس دوران وہ اپنے احرام سے حلال نہیں ہوا۔ یا (2) پہلے سے ہی امن میں تھا (نہ احصار میں تھا نہ بیمار تھا) اور ایک ساتھ ہی حج اور عمرہ کا احرام باندھا۔ پہلے عمرہ کے ارکان ادا کئے لیکن احرام بدستور رہا۔ احرام سے حلال نہیں ہوا یہاں تک کہ ایام حج میں حج کے ارکان ادا کرکے حلق کرایا۔ اور احرام سے فارغ ہوا۔ اسی طرح ایک سفر میں دو عبادتیں جمع کرلیں۔ اس صورت میں آیت ہذا میں تمتع عرفی مراد ہے نہ کہ شرعی۔ اس لئے وہ تمتع اور قرآن دونوں کو شامل ہے۔ ان دونوں صورتوں میں قربانی لازمی قرار دیدی گئی کیونکہ دونوں صورتوں میں اس نے فائدہ اٹھایا۔ فما استیسر من الھدی۔ ای فعلیہ ما استیسر من الھدی۔ تو جو قربانی میسر آسکے اس پر لازم ہے۔ فمن لم یجد۔ ای فمن لم یجد الھدی جس کو قربانی میسر نہ آسکے یعنی قربانی نہ دے سکے۔ فصیام ثلثۃ ایام۔ ای فعلیہ صیام ثلثۃ ایام تو وہ تین دن کے روزے لازمی رکھے۔ رجعتم۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یہاں التفات ضمائر ہے۔ اوپر خطاب واحد غائب کے صیغہ میں ہو رہا تھا۔ اب ان احکام کو جو اوپر بیان ہوئے پوری طرح ذہن نشین کرانے کے لئے صیغہ حاضر اختیار کیا گیا۔ تلک۔ اسم اشارہ بعید جمع مؤنث عشرۃ مشار الیہ ہے۔ کاملۃ۔ پوری (دہائی) یعنی پورے دس۔ کمال مصدر (باب نصر۔ کرم ۔ سمع) اسم فاعل واحد مؤنث۔ یعنی قربانی کی جگہ پورے دس روزے ہوتے ہیں۔ اس سے کم نہیں ۔ بعض کے نزدیک لفظ کاملۃ تاکید و رد تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ذلک۔ اسم اشارہ بعید ۔ جمع مذکر ۔ یہ اشارہ یا تو (1) تمتع کی طرف ہے جس کا ذکر آچکا ہے اور یا (2) اس کا اشارہ اصل حکم یعنی وجہ ب قربانی کی طرف ہے۔ حاضری المسجد الحرام ۔ حاضری۔ باشندے۔ رہنے والے۔ حضارۃ مصدر سے جس کے معنی حذف ہوگیا۔ حاضر۔ مضاف۔ المسجد الحرام موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ یہ تمتع یا قربانی کا وجوباً دینا اس کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جو میقات سے پرے رہتے ہیں۔ واتقوا اللہ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو (ان تمام احکام کی بجا آوری میں جو اوپر مذکور ہوئے) واعلموا ان اللہ شدید العقاب ۔ اور یاد رکھو یا جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے لمن لم یتقہ اس کو جو اس سے نہیں ڈرتا۔ عقاب۔ عاقب یعاقب معاقبۃ و عقاب (باب مفاعلہ سے) مصدر ہے گناہ پر سزا دینا۔ پاداش جرم کئے کہ سزا۔ عذاب اور عقاب میں فرق یہ ہے کہ عقاب سزا کے استحقاق کو بتاتا ہے۔ عقاب کو عقاب اسی لئے ہی کہا جاتا ہے کہ مرتکب جرم۔ جرم کے عقب میں ہی اس کا مستحق ہوجاتا ہے اور عذاب استحقاق اور بغیر استحقاق دونوں طرح ہوسکتا ہے۔ عقاب کے معنی اصل میں پیچھے ہو لینے کے ہیں۔ چناچہ بولتے ہیں عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہولیا۔ اور عقب اللیل والنھار۔ رات دن کے پیچھے ہولی۔ اس اعتبار سے عتاب وہ سزا ہوئی جو جرم کے پیچھے دی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا ترجمہ یا داش جرم کرنا چاہیے۔ شدید العقاب ۔ ترکیب اضافی ہے اور شدید کی اضافت صفت مشبہ کی اپنے مرفوع کی طرف اضافت سے ہے۔ اضافۃ شدید من اضافۃ الصفۃ المشبھۃ الی مرفومھا۔ (روح المعانی)
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ تو عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے اور نیک کام جو تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی راستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زادِراہ (کا) پرہیزگاری ہے اور (اے) اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

(2:197) الحج اشھر معلومت۔ ای وقت الحج اشھر معلومت وہی شوال و ذوالقعدۃ وعشرلیال من ذوی الحجۃ۔ حج کا وقت چند مہینے ہیں اور وہ ہیں۔ شوال۔ ذوالقعدہ اور ذوالحج کی دس راتیں۔ اشھر معلومت۔ موصوف و صفت۔ جانے بوجھے مہینے۔ فرض۔ ماضی معروف۔ واحد مذکر غائب فرض (باب ضرب) مصدر۔ فرض کے اصل معنی ہیں کسی حجم والی چیز کو جس میں صلابت ہوکاٹ دینا۔ لیکن قرآن مجید میں یہ ان معنی میں آیا ہے۔ اس نے واجب کرلیا۔ اس نے مقرر کردیا۔ اس نے عزم کرلیا۔ اس نے اجازت دیدی۔ یہاں عزم کرلینے یا نیت کرلینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فیھن۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع اشھر ہے۔ رفث۔ ملاحظہ ہو (2:187) ۔ فسوق۔ اسم فعل ۔۔ گناہ۔ نیز مصدر (باب ضرب۔ نصر) گناہ کرنا۔ نافرمان ہونا۔ فسق فلان کے معنی کسی شخص کا دائرہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں۔ یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہی نکل آنے کے ہیں۔ فاسق کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام و اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔ جدال۔ باب مفاعلۃ سے مصدر ہے باہم جھگڑا کرنا۔ فائدہ : رفث۔ فسوق اور جدال میں لا کا تکرار تاکید ممانعت کے لئے ہے۔ تزودوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تزود (تفعل) مصدر۔ تم زادراہ لے لیا کرو۔ تم سفر خرچ ہمراہ لو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اہل یمن کی عادت تھی کہ جب وہ حج کو آتے تو رازہ راہ ساتھ نہ لاتے اور اس کا توکل کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور کہتے کہ ہم لوگ متوکل ہیں۔ اور جب وہ مکہ آتے تو لوگوں سے بھیک مانگتے۔ اور بقول علامہ بغوی (رح) بعض اوقات لوٹ اور غضب تک نوبت پہنچتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : وتزودوا۔ یعنی زادراہ اس قدر لے جایا کرو کہ جس سے وہاں تک پہنچ سکو۔ اور آبرو بچا سکو۔ فان خیرا الزاد والتقوی۔ بیشک بہترین زادراہ تو تقوی ہے اس سے پہلے نہی عن المنکر کا حکم تھا۔ رفث۔ فسوق۔ جدال سے پرہیز۔ اب خبر پر برانگیختہ فرمایا ہے۔ اس کی شرح میں علامہ ابن کثیر (رح) رقمطراز ہیں : چونکہ دنیوی توشہ کا حکم دیا تو ساتھ ہی فرمایا ہے کہ آخرت کے توشے کی بھی فکر کرلو۔ یعنی قبر میں اپنے ساتھ خوف خدا لے جاؤ۔ جیسے اور جگہ لباس کا ذکر کرکے ارشاد فرمایا۔ یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یوای سواتکم وریشا ط لباس التقوی ط ذلک خیر ط (7:26) اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے بہتر ہے۔ یعنی خشوع و خضوع اطاعت وتقوی کے باطنی لباس سے خالی نہ رہو بلکہ یہ لباس ظاہری لباس سے کہیں زیادہ بہتر اور نفع دینے والا ہے۔ تقوی مادہ و قی سے مشتق ہے۔ اتقون۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی متکلم کی محذوف ہے۔ مجھ سے ڈرو۔ (اور وہ ڈر کیا ہے اس کے احکام کی تعمیل کرنا۔ اور اس کی گرفت سے بچنا۔ پرہیزگاری اختیار کرنا) ۔ یا ولی الالباب۔ یا حرف ندائ۔ اولی الالباب۔ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے عقل والو۔ الباب جمع ہے لب کی بمعنی مغز بادام۔ بمعنی عقل مستعمل ہے۔ کیونکہ وہ بھی انسان کے مغز میں ہوتی ہے۔