Ayah 2:255(2:255) اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ اللہ مبتدا لا الہ الا ھو خبر اول۔ الحی القیوم خبر ثانی۔ الہ معبود۔ بروزن فعال معنی مفعول مالوہ ہے۔ ہر قوم کے نزدیک جس کی بندگی کی جائے الہ ہے خواہ وہ معبود برحق ہو یا معبود باطل۔ منصوب بوجہ عمل لا۔ الحی۔ زندہ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جب اس کا تعلق خداوند تعالیٰ کی ذات سے ہو تو معنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوگا جس کی نہ ابتدا معلوم نہ انتہا۔ القیوم۔ صیغہ مبالغہ۔ بروزن فیعول۔ وہ ذات جو خود قائم رہنے والی ہو اور دوسروں کو قائم رکھنے والی ہو ۔ خواہ موجود و باقی ہے۔ اور دوسروں کو ضروریات ہستی و درستی عطا کرنے والی ہے جس کو ہر چیز اپنے وجود وبقاء و نشو و نما کے لئے محتاج ہے۔
لا تاخذوہ۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ اخذ (باب نصر) مصدر۔ وہ اس کو نہیں پکڑتی ہے وہ نہیں آلیتی۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس کا مرجع اللہ ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ (نیا جملہ)
سنۃ۔ اونگھ۔ غنود گی۔ غفلت۔ وسن یوسن (باب سمع) کا مصدر ہے۔ اس کی ھا واؤ محذوف کے بدلہ میں ہے جیسے وعد سے عدۃ ہے۔ نوم۔ اسم ۔ نیند۔
ما فی السموت وما فی الارض۔ ما بمعنی الذی اسم موصولہ ہے۔
من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ من استفہامیہ انکاریہ ہے ای لا یشفع عندہ احد الا بامرہ۔ ذا اسم اشارہ واحد مذکر۔ بعض کے نزدیک من ذا مرکب ہے ماذا کی طرح لیکن ثعلب نے امالی میں اور ابو البقاء نے اعراب میں انکار کیا ہے۔
ترجمہ ہوگا : کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے۔
ما بین ایدیھم وما خلفھم۔ ما ہر دو جگہ موصولہ ہے۔ بین ایدیہم۔ ایدیہم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ بین مضاف بمعنی ان کے سامنے یہ مضاف اور مضاف الیہ مل کر ما موصولہ کا صلہ ہوئے ہم ضمیر جمع مزکر غائب۔ اس کا مرجع ما فی السموت وما فی الارض عاقل اور بےعقل دونوں کو شامل ہے۔ یا یہ ضمیر ذا کی طرف راجع ہے (جو من ذالذی میں مذکور ہے) اور ذا سے مراد انبیاء اور ملائکہ ہیں۔
ولا یحیطون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ احاطۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ نہیں گھیر سکتے۔ یا نہیں گھیرتے۔ (علمی) احاطہ نہیں کرسکتے۔ ضمیر فاعل ما فی السموت وما فی الارض کی طرف راجع ہے یعنی وہ اس کے علم میں سے کسی شیٔ کا (کامل) علمی احاطہ نہیں کرسکتے۔
الا بما شائ۔ ای الا ب ماشاء ان یطلعھم علیہ۔ ہاں جس چیز کا علم وہ دینا چاہے۔
واؤ حالیہ ہے اور یعلم کی ضمیر فاعلی ذوالحال ہے یا واؤ عاطفہ ہے۔ دونوں جملوں کا مجموعہ بتارہا ہے کہ محیط کل اور ہمہ گیر علم ذاتی اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ثبوت ہے اس لئے دونوں جملوں کے درمیان حرف عطف کو ذکر کردیا۔ (تفسیر مظہری)
وسع۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ سعۃ (باب سمع) سے مصدر۔ جیسے وعد یعد سے عدۃ ہے اس نے سما لیا۔ یعنی اس کا علم یا اقتدار (کرسی) ہر چیز کو محیط ہے۔
کرسیہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کی کرسی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اللہ کی طرف راجع ہے اصحاب الظواہر (علامہ ابن تیمیہ : ۔ ابن قیم۔ ابن حزم وغیرہ) کے نزدیک کرسی سے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی بیٹھنے کی کرسی لیکن کیفیت مجہول ہے معلوم نہیں۔ کیسی کرسی ہے کس چیز کی ہے۔ غرض ایسی ہے جیسی کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان ہے۔ بعض علماء کے نزدیک کرسی سے مراد وہ جسم محیط ہے جس کے اندر سارا جہان محہ ہوا ہے۔ بعض نے انصاف اور حکومت مراد لیا ہے۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک کرسی سے علم مراد ہے۔ ممکن ہے کہ سبھی معنوں کو متضمن ہو۔
السموت والارض۔ ہر دو اسم مفعول ہیں۔ وسع کرسیہ السموت والارض۔ اس کی کرسی آسمان اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے (کوئی چیز اس سے باہر نہیں) ۔
ولا یؤدہ حفظھما۔ واؤ عاطفہ ہے۔ حفظھما مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل لا یؤد فعل ہ ضمیر مفعول۔ فعل ۔ فاعل اور مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ لا یؤد۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ادبؤد۔ (بروزن قال یقول) اودو اء ود (باب نصر) مصدر گراں بار کرنا۔ بھاری لگنا۔ تھکا دینا۔ الاودۃ بوجھ۔ ہ ضمیر مفعول۔ واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ حفظھما میں ھما ضمیر تثنیہ مؤنث سماوات اور ارض کے لئے ہے۔ ترجمہ : اور ان کی (یعنی آسمانوں کی اور زمین کی) حفاظت اس کو نہیں تھکاتی۔
العلی۔ بلند مرتبہ۔ عالی شان ۔ یہ علاء سے ہے جس کے معنی بزرگ ہونے کے ہیں بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں علی کے معنی ہیں رفیع القدر۔ یعنی بلند مرتبت کے۔ یہ علی سے ہے اور جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت واقع ہو تو اس کے معنی ہوں گے۔ وہ ذات جو اس سے کہیں برتر ہے کہ وصف بیان کرنے والوں کا وصف بلکہ ظالموں کا علم بھی اس کا احاطہ کرسکے۔
العظیم۔ بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی بزرگ۔ بڑا۔ بڑی عظمت والا۔ بڑی شان والا۔ عظم یعظم عظم وعظامۃ مصدر (باب کرم) سے ہے۔ بمعنی بڑا ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Ayah 2:256(2:256) لا اکراہ۔ منصوب بوجہ عمل لا۔ اکراہ (افعال) مصدر ہے۔ کسی کو زبردستی کسی کام کے کرنے پر مجبور کرنا۔ الکرہ والکرہ۔ سخت ناپسندیدگی۔ الکرہ اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے۔ اور اس پر زبردستی ڈالی جائے۔ جیسا کہ آیت ہزا میں مراد ہے اور الکرہ بضم الکاف ملاحظہ ہو (المفردات) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے ناخواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچے۔ مثلاً ایک چیز طبعاً ناگوار ہے لیکن شریعت اسے پسند کرتی ہے اور اسے کرنا ہی پڑتا ہے جیسے جہاد۔ دوم ایسی چیز کہ طبعاً تو پسندیدہ ہو لیکن شرعاً مکروہ ہو۔ مثلاً راگ و رنگ۔
قدتبین۔ فعل ماضی کے ساتھ قد تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ بیشک ۔ تحقیق۔ تبین ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تبین (تفعل) مصدر سے جس کے معنی ظاہر ہونے اور واضح ہوجانے کے ہیں ۔
الرشد۔ ہدایت، راہ یابی، راستی۔ رشد یرشد (باب نصر) کا مصدر ہے۔ ہدایت کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ صلاحیت کے معنی میں قرآن مجید میں ہے فان انستم منہم رشد فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی یا صلاحیت دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو ۔
الغی۔ گمراہی۔ بدراہی۔ ضلالۃ۔ کفر ۔ غ و ی۔ حروف مادہ ہیں۔
الغی۔ اس جہالت کو کہتے ہیں جو غلط اعتقاد پر مبنی ہو۔ جہالت کبھی تو کسی عقیدہ پر مبنی ہوتی ہے۔ مثلاً ما ضل صاحبکم وما غوی (53:12) تمہارے رفیق (حضرت محمد ﷺ ) نہ راستہ بھولے ہیں اور نہ راہ بھٹکے ہیں۔ اور کبھی عقیدہ کو اس میں دخل نہیں ہوتا۔ مثلاً واخوانھم یمدونھم فی الغی (7:202) اور ان (یعنی کفار کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں۔
فمن یکفر بالظاغوت ویؤمن باللہ۔ من شرطیہ ہے اور یکفرو۔ یؤمن فعل مضارع بوجہ شرط مجزوم ہیں۔ پس جس نے طاغوت سے انکار کیا اور اللہ پر ایمان لے آیا۔
الطاغوت۔ شیطان۔ حق سے روکنے والے بت۔ معبود باطل۔ سرکش۔ سخت طاغی۔ مفد۔ واحد ۔ جمع ۔ مذکر۔ مؤنث سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
علامہ محب الدین ابو البقاء عبد اللہ البکری لکھتے ہیں کہ اس کی اصل طغیوت ہے کیونکہ یہ طغیت تطغی سے ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ واؤ سے ہو کیونکہ اس میں یطغوا بھی بولا جاتا ہے پر ی کا استعمال اکثر ہے اور اسی پر مصدر طغیان آیا ہے پھر لام کلمہ کو مقدم کرکے غ سے پہلے کردیا گیا تو طیغون ہوگیا۔ یا طوغوت بن گیا۔ پھر حرف علت متحرک اور اس کا ماقبل مفتوح ہوا۔ تو اس کو الف سے بدل دیا گیا۔ طاغوت بن گیا۔
فقد استمسک بالعروۃ الوثقی۔ جواب شرط۔ اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا۔ استمسک۔ ماضی واحد غائب۔ استمساک (استفعال) مصدر۔ مسک مادہ اس نے پکڑ لیا۔ استمساک۔ پکڑ لینا۔ روکے رکھنا۔ العروۃ۔ کڑا۔ حلقہ۔ کسی چیز کا دستہ یا قبضہ۔ عری وعری۔ جمع۔
الوثقی۔ اسم تفضیل مؤنث۔ الاوثق۔ مذکر ۔ وثیق اسم فاعل۔ وثاقۃ (باب کرم) بہت مضبوط ناقابل شکست۔ موثق ومیثاق۔ پختہ عہد۔ پکا وعدہ۔
لا انفصام لہا۔ انفصام۔ مصدر ہے (باب انفعال) ٹوٹنا۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب العروۃ کے لئے ہے اور جملہ حال ہے ضمیر العروۃ سے۔
سمیع۔ سننے والا۔ سمع سے بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جب یہ اللہ کی صفت واقع ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی ہر شے پر حاوی ہو۔
علیم۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 2:257(2:257) یخرجھم۔ یخرج مضارع واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الذین امنوا کے لئے ہے۔
من الظلمت الی النور۔ صاحب تفسیر مظہری اس آیت کی شرح میں رقمطراز ہیں۔ ” جن لوگوں کا مومن ہونا خدا چاہتا ہے تو ان کو اپنی توفیق اور ہدایت کی مدد سے جہالت ۔ نفس پرستی ۔ وسوسوں اور کفر تک پہنچانے والے شبہات سے نکال کر اسے صراط مستقیم پر لا ڈالتا ہے جو ایمان تک ان کو پہنچا دیتی ہے۔
واقدی نے لکھا ہے کہ ” قرآن مجید میں جس جگہ الفاظ ظلمات والنور آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہے ہاں سورة انعام کی آیت جعل الظلمت والنور (6:1) میں شب و روز مراد ہیں۔ آیر مذکور بتارہی ہے کہ ایمان (اختیاری نہیں) صرف عطیہ خداوندی ہے۔ جملہ یخرجہم من الظلمت الی النور۔ یا تو اللہ کی دوسری خبر ہے۔ یا امنوا کی ضمیر کا حال ہے یا الذین کا حال ہے یا دونوں سے حال ہے۔ یا مستقل علیحدہ کلام ہے جس سے مفہوم دلایت کی توضیع یا تاکید ہو رہی ہے۔
یخرنھم۔ میں ضمیر فاعل الطاغوت کی طرف راجع ہے جبکہ ضمیر مفعول (ہم) الذین کفروا کے لئے ہے۔
اولئک۔ اسم اشارہ جمع مذکر۔ مشار الیہ الذین کفروا۔
فیہا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار کے لئے ہے۔
خلدون۔ خلود (باب نصر) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت رفع۔ ہمیشہ رہنے والے۔
Ayah 2:258(2:258) الم تر الی الذی۔ کیا تو نے نہیں دیکھا ۔ کیا تجھے خبر ہے اس شخص کی۔
حاج۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اس نے جھگڑا کیا۔ اس نے بحث کی حجت کی۔ حجت کرنا۔ یعنی ہر ایک کا دوسرے کو اس کی دلیل اور راہ سے ہٹانے کی خواہش کرنا۔
ان اتہ اللہ الملک۔ ان سے پہلے لام تعلیل محذوف ہے گویا عبارت ہے لان اتہ اللہ الملک۔ جھگڑا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت عطا کی تھی۔ اس لئے اس نے سرکشی کی۔ حکومت کا غرور اس کے جھگڑا کرنے کی علت تھا ۔ یعنی اس نے عطاء خداوندی کے تقاضے کے خلاف کیا۔ عطا کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ وہ شکر کرتا مگر کیا اس نے اس کے برعکس۔ عرب کہتے ہیں کہ عادیتنی لانی احسنت الیک تو میرا دشمن اس لئے ہوگیا کہ میں نے تجھ سے بھلائی کی۔ (یہ طنزیہ کلام ہے) ۔
فات بھا۔ ات امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتیان (باب ضرب) مصدر بمعنی آنا۔ لیکن جب اس کا تعدیہ یا کے ساتھ ہو تو بمعنی لانے کے ہوں گے۔ ات ب۔ تو لا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کے لئے ہے تو اسے (نکال) لے آ۔
بھت۔ ماضی مجہول۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ بھت (باب سمع و کرم) مصدر۔ بمعنی حیران و ششدر رہ جانا۔ وہ حیران رہ گیا۔ وہ مبہوت ہوگیا۔ یہاں فعل مجہول فعل معروف کے معنی میں ہی آیا ہے۔
واللہ لایھدی القوم الظلمین۔ اللہ فاعل۔ لا یھدی مضارع منفی واحد مذکر غائب فعل۔ القوم الظلمین۔ موصوف و صفت مل کر مفعول۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
Ayah 2:259(2:259) او کالذی۔ او حرف عطف اس کا عطف الم تر پر ہے ک بمعنی مثل کے آیا ہے اس صورت میں أرایت مذوف ہے۔ گویا آیت کی تقدیر یوں ہے۔ او أرایت الذی۔ یعنی الذی حاج ابراہیم۔ کے علاوہ یہ دوسرے شخص کی مثال ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ اس کے مدمقابل بھی بیان نہیں ہوا۔ کہ آیا اس شخص نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے گفتگو کی تھی۔ یا یہ کسی اور زمانہ کا قصہ ہے اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ نے اس کی تعیین نہیں فرمائی۔ ترجمہ یوں ہوگا : اور کیا تم نے مثال نہیں دیکھی اس شخص کی جو ایک بستی کے پاس سے گزرا ۔۔ اخفش نے کاف کو زائد قرار دیا ہے۔
قریۃ۔ بشتی۔ اور بستی کے رہنے والے اس کی جمع قری۔ قری جمع قیاسی نہیں صرف سماعی ہے۔ کیونکہ فعلۃ کی جمع قیاسی فعال کے وزن پر آتی ہے۔ جیسے ظبیۃ کی جمع ظبائ۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ اہل یمن قریۃ بولتے ہیں اور اس کی جمع قری قیاسی ہے جیسے ذروۃ کی جمع ذری۔ بہرکیف قرآن مجیس میں قریۃ (واحد) اور قری (جمع) آیا ہے اور یہی فصیح ہے اس کے مقابلے میں یمنی استعمال فصیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے ولتنذر ام القری ومن حولہا (6:93) کہ تم بستیوں کی ماں۔ (یعنی مکہ) کے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو ڈراؤ۔
وہی خاویۃ علی عروشھا۔ ہی ای قریۃ۔ خاویۃ اسم فاعل واحد مؤنث افتادہ۔ گری ہوئی۔ خوی یخوی خوی (باب ضرب) (گھر کا) بڑجانا۔ گرجانا۔ اور خوی یخوی خوایۃ خواء (باب سمع) (جگہ یا مکان کا) خالی ہونا۔ گرپڑنا۔ ڈھ جانا۔ اندر سے کھوکھلا ہوجانا۔ جملہ وہی خاویۃ۔ موضع جر میں ہے اور اس صورت میں قریۃ کی صفت ہے۔ علی عروشھا متعلق ہے۔ خاویۃ سے عروشھا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قریۃ کے لئے ہے۔ عروش جمع ہے عرش کی بمعنی چھت۔ عرش البیت گھر کی چھت۔ بیل کو چڑھانے کے لئے جو چھت یا ٹٹی کرتے ہیں اس کو بھی عرش کہتے ہیں۔
قریۃ خاویۃ علی عروشھا۔ شہر جو چھتوں سمیت ڈھا پڑا تھا۔
انی۔ ای کیف۔ کیونکر۔ کیسے ۔ نیز ملاحظہ ہو 2:223 ۔ ھذہ۔ یہ بستی۔ یا اس بستی کے لوگ۔
بعد موتھا۔ اس کی موت کے بعد۔ اس کی ویرانی کے بعد (بستی یا بستی کے رہنے والوں کی بربادی کے بعد) ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اس کا مرجع قریۃ ہے۔
اماتہ اللہ۔ اللہ فاعل۔ امات فعل ماضی واحد مذکر غائب۔ اماتہ (افعال) مصدر ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اس نے (یعنی خدا تعالیٰ نے) اس کو (یعنی اس شخص کو جو اس قریہ کے پاس سے گزرا۔ اور اس کو برباد دیکھ کر کہا کہ اس بربادی کے بعد اللہ اسے کیسے زندہ کر دے گا۔ موت دی ۔ مار ڈالا۔
ثم بعثہ۔ ثم۔ حرف عطف ہے یہاں تراخی فی الوقت کے لئے آیا ہے بمعنی پھر۔ بعثہ۔ بعث۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اس نے اسے زندہ اٹھا کھڑا کیا۔ ہ ضمیر مفعول مذکورہ بالا شخص کی طرف راجع ہے۔ اگر رسولوں کے متعلق اس کا استعمال ہو تو بعث کے معنی اللہ کی طرف سے مبعوث کرنے اور بھیجنے کے ہوں گے۔ مثلاً ابعث اللہ بشراً رسولاً (17:94) کیا خدا نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔
قال کم لبثت۔ ای قال اللہ۔ کم لبثت۔ ای کم زمانا لبثت۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔ نیز ملاحظہ ہو 2:211 اور 2:249 ۔ لبث (باب سمع) لبث۔ مصدر۔ بمعنی ٹھہرنا۔ رہنا۔
بعض یوم۔ مضاف مضاف الیہ۔ بعض۔ کچھ ۔ ٹکڑا۔ کل کے اعتبار سے شے کے کسی جزء کو بعض کہتے ہیں۔ اس لئے کل کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے بعض یوم دن کا کچھ حصہ۔
قال۔ ای قال اللہ۔
بل۔ حرف اضراب ہے۔ بلکہ ۔ نیز ملاحظہ ہو 2:135 ۔
لم یتسنہ۔ نفی حجد ہلم۔ واحد مذکر غائب۔ (باوجود سالہا گزر جانے کے) تمہارا مشروب یا طعام خراب نہیں ہوا۔ تسنن (باب تفعل) مصدر سے۔ عمر رسیدہ ہونا۔ پرانا ہونا۔ خوراک کا بس ہوجانا ۔ خوارک کو پھپھوندی لگ جانا۔ س ن ن حروف مادہ ہیں۔ یتسن اصل میں یتسنن تھا۔ چونکہ تین نون جمع ہوگئے تھے اخیر کو ی سے بدلا۔ پھر ی کو الف سے بدلا الف جزم کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ ہ استراحت یعنی سکتہ کی ہے۔ مادہ س ن ہ سے سنہ یسنہ سنہ (باب سمع) سے بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بمعنی بہت سالوں والا ہونا۔ طعام یا شراب کا متغیر ہوجانا۔ بگڑ جانا۔
ولنجعلک۔ محذوف پر عطف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اریناک ذلک لتعلم قدر قدرتنا۔ ہم نے تجھے یہ کچھ اس لئے دکھلایا تاکہ تو جان لے ہماری قدرت کو (بعض کے نزدیک واؤ زائد ہے) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھ کو لوگوں کے لئے اپنی قدرت کی نشانی (یا دلیل) بنائیں۔
وانظر الی العظام۔ اور ہڈیوں کو دیکھ۔ مراد گدھے کی ہڈیاں (جو اس شخص کے پاس تھا) یا اہل قریہ کی ہڈیاں (جو اس وقت مر کھپ چکے تھے) یا اس کی اپنی ہڈیاں یا اس کے گدھے کی ہڈیاں (روح المعانی) عظام ہڈیاں۔ عظم کی جمع جیسے سھام سھم کی جمع ہے
ننشزھا۔ مضارع جمع متکلم۔ انساز (افعال) مصدر۔ ہم جوڑ دیتے ہیں۔ حرکت دیتے ہیں اٹھا دیتے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب العظام کے لئے ہے۔ النشز۔ بلند زمین کو کہتے ہیں اور نشزفلان کے معنی بلند زمین کے قصد کرنے کے ہیں۔ اسی سے نشز فلان من مقرہ کا محاورہ ہے۔ جس کے معنی کسی کا اپنی قرار گاہ سے اوپر ابھر آنے کے ہیں۔ اور ہر اوپر اٹھنے والی چیز کو ناشز کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں قرآن مجید میں آتا ہے واذا قیل انشزو افا نشزوا (58:11) اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ اور نشزوانشاز کے معنی زندہ کرنا بھی آتے ہیں کیونکہ زندگی میں ایک طرح کا ابھار پایا جاتا ہے۔ اور اسی معنی میں آیۃ ہذا میں اس کا استعمال ہوا ہے۔
نکسوھا۔ مضارع جمع متکلم۔ کسوۃ (باب نصر) مصدر بمعنی پہنانا (کسی کے اوپر لباس کی طرح) چڑھانا۔ یا جس طرح لباس سے جسم کو چھپایا جاتا ہے اسی طرح چھپا دینا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع العظام ہے۔ لحما مفعول ثانی ۔ ہم ان (ہڈیوں) پر گوشت چڑھا دیتے ہیں یا ان کو گوشت سے چھپا دیتے ہیں۔ جس طرح جسم کو لباس سے چھپا دیتے ہیں۔ کسوۃ لباس کا جوڑا۔
تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تبین (تفعل) مصدر بمعنی ظاہر ہونا۔ واضح ہونا۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اس شخص کے لئے ہے۔ جب یہ امر اس پر واضح ہوگیا۔ یعنی اللہ کی قدرت کی ہمہ گیری اس پر واضح ہوگئی۔
اعلم۔ میں جانتا ہوں بمعنی یقین کرتا ہوں۔
Ayah 2:260(2:260) واذ قال ابراہیم میں اذ سے قبل عبارت مقدر ہے ای اذکر الوقت اذ یا واذکر الواقعۃ اذ۔ اور وہ وقت یاد کرو جب۔ یا وہ واقعہ یاد کرو جب۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی واؤ آیا ہے وہاں لفظ اذکر محذوف ہے۔ یعنی آپ ان سے ذکر کیجئے یا آپ ازخود یاد کیجئے اذ اسم ظرف ہے۔ قال فعل ابراہیم فاعل۔
رب ارنی کیف تحی الموتی۔ یہ جملہ مقولہ ہے اور کیف تحی الموتی جملہ مفعول ہے ارنی کا۔ ترجمہ ہوگا : اور (اے نبی) اس واقعہ کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا ؟ ارنی میں ار امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی۔
قال اولم نؤمن۔ قال۔ ای قال اللہ۔ ہمزہ استفہامیہ و حرف عطف۔ حرف عطف سے پہلے کلام مقدر ہے ای الم تعلم ولم تؤمن کیا تو نہیں جانتا۔ اور تجھے یقین نہیں آیا۔
قال بلی۔ ای قال ابراہیم بلی۔ ہاں کیوں نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو (3:76) ۔
ولکن لیطمئن قلبی۔ لیطمئن کالام محذوف سے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہے ! سئلتک لیطمئن قلبی۔ میں نے اطمینان دل کے لئے تجھ سے سوال کیا ہے۔ اطمینان (افعیعال) مصدر ہے۔
خذ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر اخذ (باب نصر) مصدر تولے۔ تو پکڑ۔
من الطیر صفت ہے اربعۃ کی جو مفعول ہے فعل خذ کا۔
صرھن الیک۔ صاریصور (باب نصر) وصار یصیر (باب ضرب) صیر و صور۔ مصدر سے۔ مائل کرنا۔ ہلانا۔ سدھانا (باب ضرب) سے بمعنی ٹکڑے کرنا بھی ہے۔ صار الی کذا۔ کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانے کے ہیں۔ صیر الباب۔ دروازہ کا شگاف یا جھروکا۔ اسے صیر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نقل و حرکت کا منتہیٰ ہوتا ہے اس لئے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل و حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے : والیہ المصیر (5:18) یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے یا وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم وبئس المصیر (27:6) اور جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور بری جگہ ہے وہ پہنچنے کی۔
صرھن۔ صر۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ بمعنی پھر ان کو اپنی طرف مانوس کرلے (ضیاء القرآن) پھر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو۔ (تفسیر کبیر) پھر ان کو اپنی طرف آنے کے لئے سدھاؤ۔ (عبد اللہ یوسف علی)
منھن۔ میں ھن ضمیر جمع مؤنث اربعۃ من الطیر کی طرف راجع ہے۔
جزئ۔ ایک حصہ۔ کچھ حصہ۔ اجزاء جمع ۔ اجعل کا مفعول اجعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر جعل (باب فتح) سے مصدر۔ تو رکھ۔ تو بنا دے۔
ادعھن۔ ادع فعل امر ، واحد مذکر حاضر۔ دعوۃ (باب نصر) سے مصدر۔ بمعنی بلانا۔ پکارنا۔ دعا کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو ان کو پکار۔ تو ان کو بلا۔
یاتینک سعیا۔ یاتین مضارع جمع مؤنث غائب اتیان (باب ضرب) مصدر ۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ آئیں تیری طرف یا تیرے پاس۔ سعیا مصدر ۔ موضع حال میں ہے۔ دوڑتے ہوئے۔
Ayah 2:261(2:261) مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ۔
مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ۔ یہ جملہ مبتدا ہے۔ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل۔ خبر۔ انبتت سبع سنابل صفت ہے حبۃ کی۔
مائۃ حبۃ …… مبتدائ صفت ہے سنابل کی۔
فی کل سنبلۃ … خبر
اس عبارت میں مضاف محذوف ہے خواہ مبتداء کی طرف حذف مانا جائے یا خبر کی جانب۔
پہلی صورت میں عبارت ہوگی مثل (انفاق) الذین ۔۔ کمثل حبۃ۔ ترجمہ ہوگا : جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بونے والا جس دانے سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔
دوسری صورت میں عبارت ہوگی مثل الذین ینفقون ۔۔ کمثل باذر حبۃ انبتت۔ اور ترجمہ ہوگا : راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بونے والا جس دانے سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔
فی سبیل اللہ۔ سے مراد خدا کی راہ میں کسی مد میں خرچ کرنا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد جہاد ہے۔
ینفقون۔ مضارع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔
سنابل۔ جمع سنبلۃ واحد۔ بال۔ خوشہ۔
حبۃ۔ حب واحد۔ حبوب۔ دانے اناج کے۔ غلہ۔ اناج۔ گندم ۔ جو وغیرہ۔ دوائی وغیرہ کی گولی کو بھی حبۃ یا حب کہتے ہیں
یضعف مضارع واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) وہ بڑھاتا ہے۔ وہ بڑھائے گا۔
واسع۔ وسیع فضل والا۔ کشادہ بخشش والا۔ سعۃ (باب سمع) مصدر۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 2:262(2:262) الذین۔ اسم موصول بمعنہ اپنے صلہ کے مبتداء اور لہم اجرھم ۔۔ الخ اس کی خبر۔
ثم۔ یہاں تراخی فی المرتبہ (تفاوت مرتبہ) کے لئے ہے۔ یعنی انفاق اور ترک المن والاذی کے درمیان تفاوت کے اظہار کے لئے۔ دوسرے لفظوں میں نفس الانفاق اپنی جگہ پر ٹھیک ہے لیکن بعد میں احسان نہ جتانا اور اپنی فوقیت کا اظہار نہ کرنا اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (46:13) جن لوگوں نے کہا کہ خدا ہمارا پروردگار ہے۔ پھر وہ اس پر قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہوں گے۔ مطلب یہ کہ ایمان لانے سے ایمان پر استقامت بڑھ کر نیکی۔ نیز ملاحظہ ہو 2:28 ۔
لا یتبعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب اتباع (افعال) مصدر۔ وہ (اس کے) پیچھے نہیں کرتے۔
ما انفقوا۔ ما موصولہ۔ انفقوا۔ (ماضی کا صیغہ جمع مزکر غائب) صلہ اپنے موصول کا ۔ موصول و صلہ مل کر مفعول اپنے فعل لا یتبعون کا ۔ ما انفقوا ای انفاقہم۔
منا۔ من یمن (باب نصر) من ومنہ مصدر المنۃ کے معنی بھاری احسان کے ہیں۔ اور یہ دو طرح پر ہوتا ہے :
(1) ایک منت بالفعل جیسے لقد من اللہ علی المؤمنین (3:164) خدا نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا ہے اور یہ منت بالفعل درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
(2) منت بالقول۔ یعنی احسان جتانا۔ گو انسانی معاشرہ میں احسان جتلانا معیوب سمجھا جاتا ہے مگر جب کفران نعمت ہو رہا ہو تو اس کے اظہار میں کچھ قباحت نہیں ہے کسی نے کہا ہے اذا کفرت النعسۃ حسنت المنۃ۔ جب نعمت کی ناشکری ہو رہی ہو تو احسان جتلانا ہی مستحسن ہے ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنوا علی اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھدکم ۔۔ للایمان (49:17) یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو۔ بلکہ خدا نے تم پر بڑابڑا احسان کیا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا۔
اس میں ان کی طرف سے منت بالقول یعنی احسان جتلانا مراد ہے اور اللہ کی طرف سے منت بالفعل یعنی انہیں ایمان کی نعمت سے نوازنا مراد ہے۔ یہاں منا احسان جتلانا مراد ہے منصوب بوجہ مفعول کے ہے۔
اذی (باب سمع) تکلیف پانا۔ اور اذی یؤذی ایذاء (باب افعال) بمعنی کسی کو تکلیف دینا۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔
ترجمہ : جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جو کچھ خرچ کرچکے ہیں اس کے عقب میں نہ تو احسان جتلاتے ہیں اور نہ اذیت پہنچاتے ہیں۔
Ayah 2:263(2:263) قول معروف۔ اچھی بات، مناسب بات یعنی معذرت کی نرم بات کہنا۔ قول معروف موصوف و صفت۔ مبتدائ۔ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی خبر۔
مغفرۃ۔ معاف کرنا۔ درگزر کرنا۔ غفر یغفر کا مصدر باب ضرب ہے۔ مغفرۃ کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :
(1) خدا سے مغفرت مانگنا (ا) اپنے لئے سائل کو کچھ نہ دے سکا۔ (ب) سائل کے لئے کہ سوال کرنا معیوب ہے۔
(2) سائل کے الحاح اور تلخ کلامی پر چشم پوشی کرنا۔ (بیضاوی)
(3) سائل سے معافی مانگنا اور معذرت کرنا۔ (بیضاوی۔ کشاف)
(4) سائل کی پردہ پوشی کرنا۔ (الخازن)
بعض نے اس آیت کی تقدیر یوں کی ہے : قول معروف اولی والمغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھما اذی۔ یعنی نرم بات کہنا بہت اچھا ہے لیکن مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد دکھ دیا جائے۔ اس میں قول معروف کی خبر محذوف لی گئی ہے۔ اور مغفرۃ مبتداء اور خیر من صدقۃ اس کی خبر لی گئی ہے۔
غنی۔ کلی طور پر بےنیاز ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
حلیم۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بردبار۔ تحمل کرنے والا۔ حلم۔ جس کے معنی نفس و طبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ و غضب کے موقعہ پر بھڑک نہ اٹھے۔ قرآن مجید میں حلم بمعنی عقل بھی آیا ہے۔ مثلاً ام تامرھم احلامھم بھذا (52:32) کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔
Ayah 2:264(2:264) لاتبطلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ ابطال (افعال) مصدر۔ تم باطل مت کرو۔ تم ضائع مت کرو۔ تم رائیگاں مت کرو۔
کالذی۔ میں ک حرف تشبیہ ہے۔ محل نصب میں ہے۔ نصب یا تو مفعول مطلق ہونے کی صورت میں ہے ای ابطالا کا بطال الذی ینفق۔ ترجمہ ہوگا : اس شخص کے ثواب کو رائیگاں کرنے کی طرح اپنے ثواب کو اکارت نہ کرو جو ۔۔ الخ۔ یا حال ہونے کی بناء پر۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : کہ ثواب کو برباد کرنے میں اس شخص کی مانند نہ ہوجاؤ۔
ینفق مالہ رئاء الناس۔ رئاء کے منصوب ہونے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :
(1) منصوب مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ یعنی لوگوں کو دکھانے کی غرض سے وہ خرچ کرتا ہے۔
(2) حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ یعنی لوگوں کو دکھاتے ہوئے خرچ کرتا ہے۔
(3) مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی لوگوں کی دکھاوٹ کا خرچ کرنا۔
رئائ۔ راءی یرائی (باب مفاعلۃ) مراءۃ ورئاء مصدر (ر ء ی مادہ) خلاف اصل و خلاف حقیقت دکھانا۔ دکھاوا۔ خود نمائی۔ کسی کو دکھانے کے لئے کسی کام کا کرنا۔ رئاء الناس۔ مضاف مضاف الیہ۔ لوگوں کے دکھاوے کے لئے۔
ولا یؤمن باللہ والیوم الاخر۔ جملہ حالیہ ہے بمعنی : حالانکہ اس کا ایمان نہ اللہ پر ہوتا ہے اور نہ یوم آخرت پر۔
فائدہ : ولا یؤمن باللہ ولا بالیوم الاخر۔ انفاق صدقہ کی قید نہیں ہے کیونکہ ریاکاری خیرات کا ثواب بہرحال برباد ہوجاتا ہے خواہ ریاکاری کرنے والا مومن ہو بلکہ اس جملہ کا ذکر حقیقت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ دکھاوٹ کے لئے خیرات کرنا مومن کی شان نہیں ہے بلکہ یہ منافق کی خصوصیت ہے۔ (مظہری)
صفوان۔ صاف اور چکنا پتھر۔ اس کا واحد صفوانۃ ہے (صو مادہ) ۔
اصابہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اصابۃ (افعال) وہ پہنچا۔ وہ آپڑا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ وہ اس پر آپڑا۔
وابل۔ اسم ۔ سخت بارش۔ موسلا دھار بارش۔ بڑے بڑے قطروں کی بارش ۔ وبل (آسمان کا) بہت بارش برسانا۔ (گھوڑے کا) بےتحاشا دوڑنا۔ فاصابہ و ابل۔ پھر اس پر زور کا مینہ برس گیا۔ اس پر زور کی بارش برسی۔
صلدا۔ سپاٹ اور سخت پتھر جس پر کچھ نہ اگے۔ صلد کی جمع اصلاد ہے۔
لا یقدرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ نہیں قدرت رکھتے وہ۔ علی شیئ۔ کسی چیز پر۔ مما۔ مرکب ہے من اور ما موصولہ سے۔ کسبوا۔ انہوں نے کمایا۔ یعنی اس اسپاٹ پتھر پر جو بھی انہوں نے محنت کی تھی جو کہ سخت بارش کے آنے سے دھل بہ کر صاف ہوگئی۔ اور ان کی قسمت میں ان کی کمائی میں سے کچھ بھی نہ آیا۔
ای طرح ریاکار پر مرور دہرا اور موت کا مینہ برسے گا تو ان کے اعمال سخت پتھر کی طرح دھل جائیں گے اور آخرت میں ان کی کمائی میں سے ان کو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔
چونکہ الذی سے جنس یا جمع مراد ہے گو لفظ مفرد ہے اس لئے معنوی لحاظ سے لا یقدرون کی ضمیر جمع الذی کی طرف راجع ہے۔
القوم الکافرین۔ موصوف و صفت مل کر لا یھدی کا مفعول ہے۔ اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
Ayah 2:265(2:265) ابتغاء مرضات اللہ۔ مرضات اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ ابتغائ۔ مضاف۔ ابتغاء منصوب بوجہ مفعول لہ ینفقون کا۔ جو اپنا مال خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ ابتغاء بروزن (افتعال) مصدر ہے بمعنی چاہنا ۔ تلاش کرنا۔ مرضات مصدر میمی واسم مصدر۔ پسند کرنا۔ رضا مند ہونا۔ پسندیدگی۔ خوشنودی۔ رضا مندی۔ اسی سے ہے راضی اسم فاعل رضوان خوب رضا مندی۔
وتثبیتا من انفسھم۔ واؤ عاطفہ ہے تثبیتا بھی منصوب بوجہ مفعول لہ ہے ای ولتثبت (ایمان و اعتقاد کے استحکام کے واسطے ) تثبیت (باب تفعیل) مصدر ہے بمعنی ثابت قدم کرنا۔ ثابت رکھنا۔ مستحکم کرنا۔ مضبوطی ۔ تاکید۔ اپنے نفسوں کے (ایمان و اعتقاد میں ) استحکام کے لئے۔
” اور اسلام کو مضبوط بنانے۔ اور اللہ کے وعدہ جزاء کی تصدیق کرنے اور ثواب کی امید رکھنے کی غرض اے اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں “ (تفسیر مظہری)
” اپنے دلی اعتقاد سے خرچ کرتے ہیں “۔ (تفسیر حقانی)
” اور اپنے نفس میں پختگی (پیدا کرنے کی غرض سے) “۔ (تفسیر ماجدی)
” اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں “۔ ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری۔
کمثل جنۃ۔ ک تشبیہ کا ہے۔ مثل جنۃ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ (ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی خوشنودی اور اپنے نفس کی پختگی کے لئے خرچ کرتے ہیں) ایک (ایسے) باغ کی سی ہے۔
بربوۃ۔ ب حرف جار بمعنی علی۔ ربوۃ۔ مجرور۔ اسم ہے اس کی جمع ربی وربی بمعنی ٹیلہ ، بلندی، بلند جگہ۔ ربا یربو۔ رباء (باب نصر) ٹیلہ پر چڑھنا۔ ربا فلان۔ فلاں اونچی جگہ پر چلا گیا۔ یا چڑھ گیا۔ آیت ہذا میں اونچی جگہ کے معنوں میں مستعمل ہے۔
ربا۔ یربو۔ ربی (باب نصر) بمعنی (گھوڑے کا) پھولنا ۔ چونکہ پھولنے میں بلندی اور ابھرنے کے معنی متضمن ہیں اس لئے ایسی زمین جو اپنی زرخیزی کی وجہ سے یا کھاد وغیرہ سے پھولے اور ابھرے اسے بھی ربوہ کہتے ہیں۔ ان معنی میں قرآن مجید میں ہے فاذا انزلنا علیہا الماء اھتزت وربت (22:5) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے۔
بربوۃ صفت ہے جنۃ کی جملہ اصابھا وابل بھی جنۃ کی صفت ہے۔
فاتت۔سببیہ ہے اتت ماضی واحد مؤنث غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ لائی ۔
اکلہا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنۃ ہے۔ اس باغ کا میوہ اس کا پھل۔ الا کل پھل۔ خوراک
ضعفین۔ دو چند، دو گنا، تو وہ دو گنا پھل لاتا ہے۔
فان لم یصبھا۔عاطفہ ان شرطیہ لم یصب مضارع نفی حجد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ پھر اگر وہ نہ برسے اس پر۔ جملہ شرطیہ ہے۔
فطل۔جواب شرط کے لئے ہے۔ طل ہلکی بارش۔ پھوار۔ اوس۔ شبنم۔ اس کی جمع طلال وطلل ہے یہ مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے۔ ای فطل یکفیہا۔ تو اس کے لئے پھوار ہی کافی ہے۔
بصیر۔ فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل ہے دیکھنے والا۔ جاننے والا۔
فائدہ : مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کا عمل اس باغ کی طرح ہے جو ایک اونچے ٹیلہ پر زرخیز زمین پر واقع ہوکر اگر ذرا سی بارش اس پر پڑے تو اس کو پھل دوگنا آئے اور اگر زور کی بارش نہ ہو اور صرف پھوار ہی پڑجائے تو بھی کافی ہے باغ پھر بھی پھل لے آئے گا۔ گو وہ چند ہی سہی۔ یعنی ایسے لوگوں نے اگر اپنی خیرات کے ساتھ ثواب کو دوگنا کردینے والے اعمال بھی کئے ہیں تو ثواب چند درچند حسب مشیت خداوندی ہوجاتا ہے۔ اور اگر بالفرض ایسے اعمال انہوں نے نہ بھی کئے ہوں تو بہرحال پھر بھی ان کو اپنے اصل عمل کا ثواب لازمی ملے گا وہ ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔
Ayah 2:266(2:266) ایود۔ ا ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ یود مضارع واحد مذکر غائب مودۃ (باب سمع) سے مصدر وہ پسند کرتا ہے وہ پسند کرے گا۔ وہ خواہش کرتا ہے۔ آرزو کرتا ہے۔
ان یکون لہ۔ میں ان مصدریہ ہے۔ کہ ہو اس کے لئے ایک باغ۔
من نخیل واعناب۔ کھجوروں اور انگوروں کا۔ صفت ہے جنۃ کی۔ تجری من تحتھا الانھر۔ دوسری صفت جنۃ کی اور لہ فیہا من کل الثمرات۔ تیسری صفت ہے جنۃ کی۔ نخیل کھوریں۔ کھجور کے درخت۔ اعناب۔ عنب کی جمع بمعنی انگور۔ تجری۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر وہ بہتی ہے وہ چلتی ہے۔ وہ جاری ہے من تحتہا۔ اس کے نیچے سے۔ تحت ضد ہے فوق کی۔ اسم ظرف ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جس کا مرجع جنۃ ہے۔ تجری من تحتھا الانھر۔ اس (باغ) کے نیچے یا اس باغ میں نہریں چلتی ہوں۔ چونکہ باغ میں چلنے والی نہریں باغ کے درختوں وغیرہ کے نیچے زمین پر ہوتی ہیں اس لئے درختوں کی مناسبت سے لفظ تحت استعمال ہوا ہے اس مقصد کے لئے لفظ خلل بمعنی وسط۔ درمیان ، بیچ بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً وفجرنا خللہما نھرا (18:33) اور دونوں کے بیچ میں ہم نے ایک نہر جاری کر رکھی ہے۔ یا او تکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللہا تفجیرا 17:91) یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔
لہ فیہا۔ میں ل بمعنی ملک (مالک ہونے کے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع احدکم ہے۔ واصابۃ الکبر۔ حال ہے احد سے اور ولہ ذریۃ ضعفاء حال ہے اصابہ کی ضمیر سے۔ الکبر۔ مصدر و اسم مصدر (باب کرم) سے۔ برا ہونا۔ بوڑھا ہونا، بڑھاپا۔ ذریۃ ضعفائ۔ موصوف صفت۔ ننھے ننھے۔ ضعیف و ناتواں بچے۔
فاصابھا۔ میںعاطفہ ہے اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اصابۃ (باب افعال) مصدر۔ اس نے آلیا۔ اس نے پالیا۔ وہ آپہنچا۔ وہ آپڑا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع جنۃ ہے ۔ اور اس (باغ) کو آلیا۔
اعصار۔ تیز اور طوفانی ہوا۔ جو زمین سے بشکل عمودی اوپر کو جاتی۔ بگولہ۔ اس کی جمع اعاصر واعاصیر ہے۔ عصر مادہ ہے اس سے العصر (مصدر) کا معنی نچوڑنا ہے۔ اور المعصور۔ وہ چیز جسے نچوڑا گیا ہو۔ اور العصارۃ شیر ہ جو نچوڑ کر نکال لیا جاتا ہے۔
نچوڑنے کے معنی میں قرآن مجید میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً وفیہ یعصرون (12:49) اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔ اور انی ارنی اعصر خمرا (12: 36) میں اپنے آپ کو (خواب) میں دیکھتا ہوں کہ شراب (کے لئے) انگور نچوڑ رہا ہوں۔
اسی مادہ سے العصر بمعنی زمانہ اور بمعنی العشی بھی ہے یعنی زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک کا زمانہ اسی سے صلاۃ العصر (نماز عصر) ہے۔ فیہ۔ ای فی اعصار۔ بگولہ میں۔
فاحترقت۔عاطفہ سببیہ ہے۔ احترقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ احتراق افتعال سے مصدر ۔ جس کے معنی جلنے کے ہیں۔ فعل لازم ہے۔ پس وہ جل گئی۔ ضمیر فاعل مؤنث جنۃ کے لئے ہے۔ یعنی اس آگ بگولے کے سبب باغ جل گیا۔
فائدہ : تفسیر حقانی میں اس تمثیل کی شرح یوں بیان کی گئی ہے :۔
یہ ایک اور مثال اس شخص کے لئے بیان کی گئی ہے جو خیرات و صدقہ خلوص نیت سے نہیں دیتا یا دے کر احسان جتلاتا اور سائل کو طعن اور عار کی باتوں سے ایذاء دیتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی کے پاس ایک ایسا عمدہ باغ ہو کہ جس میں اکثر کھجور اور انگور ہوں اور اس میں نہریں بھی ہوں یعنی آب رواں اور علاوہ اس کے اس میں ہر قسم کا میوہ ہو اور مالک باغ کا بڈھا ہوا اور اس باغ کی آمدنی کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہ رکھتا ہو۔ نہ دوسرے فنون معاش پر قادر ہو اور اس پر طرہ یہ ہو کہ اس بیکسی کی حالت میں اس کے ضعیف ننھے ننھے بثے بھی ہوں کہ جن کا خرچ اور پرورش سب اسی کے ذمہ ہو۔ پھر اس حالت میں اس باغ پر کوئی آفت آسمانی ایسی پڑجائے جو اس کو جلا کر نیست و نابود کر دے۔
پھر دیکھئے کہ اس شخص پر کس قدر صدمہ اور کیا بیکسی اور حیرت و حسرت طاری ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کا صدقہ و خیرات عالم غیب میں نہایت عمدہ باغ کی صورت میں کہ جس کے صفات مذکور ہوئے ظہور کرتا ہے اور عالم آخرت میں انسان بڈھے کی طرح حسنات اور اعمال صالحہ کے کرنے سے مجبور و معذور ہوتا ہے اور اس کو اپنی اس کمائی اور انہیں اعمال صالحہ کی طرف توقع کی نظر ہوتی ہے۔
اور اس کا احسان جتلانا اور ایذاء دینا اور خلوص نیت نہ ہونا بگولے کے ہے کہ جس میں لو اور آگ ہو کہ جو اس کے اس تروتازہ باغ کو خاک سیاہ کردیتی ہے۔ فرماتا ہے کہ آیا کوئی تم میں سے ایسا چاہتا ہے کہ ایسا باغ ایسی حالت میں تباہ ہوجائے۔ یعنی کوئی نہیں چاہتا۔ پھر تم کیوں اپنے اس تروتازہ باغ کو تباہ کرتے ہو “۔
کذلک۔ ک تشبیہ کا ہے۔ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ تمثیل بالا مشار الیہ ہے۔
یبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر ۔
Ayah 2:267انفقوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر تم خرچ کرو۔
طیبت۔ طیبۃ۔ کی جمع ہے مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا مذکر طیب ہے جو طاب بطیب (باب ضرب) طیب مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ اس کے معنی ہیں پاک ۔ پاکیزہ۔ ستھرا۔ حلال ۔ طیبت ستھری چیزیں۔ نفیس اشیائ۔ پاکیزہ چیزیں ۔ عمدہ چیزیں۔ من طیبت ما کسبتم۔ من حرف جار طیبت مضاف ما موصولہ کسبتم اس کا صلہ موصول و صلہ مل کر مضاف الیہ۔ مضاف و مضاف الیہ مل کر مجرور۔
وہ جو تم نے کمایا اس میں سے پاکیزہ عمدہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔ من تبعیضیہ ہے۔
ومما ۔۔ الخ واؤ عاطفہ۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔ اور نیز وہ چیزیں خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے اگائی ہیں۔
ولا تیموا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تیمم (تفعل) مصدر جس کے معنی لغت میں مطلق قصد کرنے کے ہیں۔ اور شریعت کی اصطلاح میں پاک مٹی یا اس چیز کا جو پاک مٹی کے قائم مقام ہو (جیسے پتھر چونہ وغیرہ) قصہ کرنا۔ اور طہارت کی نیت سے دونوں ہاتھ مٹی پر مار کر چہرہ اور دونوں ہاتھوں پر مسح کرنا مراد ہے۔ آیر ہذا میں اول الذکر معنی مراد ہیں۔
دوسرے معانی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اولستم النساء فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیداً طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم (4:43) ۔۔ یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے۔ تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں کا مسح کرلو ۔۔
الخبیث۔ خبت اور خباثۃ سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
منہ تنفقون۔ اصل میں تنفقون منہ ہے۔ تقدیم تخصیص کے لئے ہے یہ جملہ تنفقون منہ حال ہے الخبیث سے منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ما کسبتم کی طرف راجع ہے ۔ اور اپنی کمائی سے خرچ کرتے ہوئے خبیث چیز کا ارادہ مت کرو۔ الخبیث۔ بمعنی خبیث۔ گندی چیز۔ ناپاک۔ پلید۔ ہر وہ شے جو ردی اور خسیس ہونے کے سبب بری معلوم ہو خبیث کہلاتی ہے۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔
ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ۔ جملہ حال ہے فاعل تنفقون سے۔ لستم لیس سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ تم نہیں ہو۔ لیس فعل ناقص ہے ماضی کے معنی رکھتا ہے۔ ماضی کی پوری گردان بھی آتی ہے۔ لیکن مضارع ۔ امر، اسم فاعل ، اسم مفعول اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اصل میں لیس تھا تخفیفاً لیس کردیا گیا۔
اخذیہ۔ اسکے لینے والے۔ اس میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الخبیث کی طرف راجع ہے ۔ اخذی اصل میں اخذین تھا ۔ نون بوجہ اضافت گرگیا۔ اخذی مضاف اور ہ مضاف الیہ۔ اخذ بمعنی لینے والا۔ پکڑنے والا۔ یہاں اول الذکر معنی مراد ہیں۔ ان مصدریہ ہے تغمضوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اغماض (افعال) مصدر جس کے معنی ایک پلک کے دوسری پلک پر رکھنے کے ہیں اور بطور استعارہ تغافل، تساہل اور چشم پوشی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تغمضوا۔ تم چشم پوشی کرو۔ تم آنکھیں بند کرو۔ تم غفلت کرو۔
ترجمہ ہوگا : حالانکہ (اگر تم کو کوئی ایسی ردی چیز دے تو) تم اسے نہ لو بجز اس کے کہ اس میں تم چشم پوشی کرلو۔ (یعنی دینے والے کا دل رکھنے کے لئے ناگواری کی صورت میں بھی اسے لے لو) ۔
غنی حمید۔ غنی۔ غناء سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بےنیاز ، بےپرواہ، غیر محتاج۔ حمید ۔ حمد سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ حمد کیا ہوا۔ تعریف کیا ہوا۔ ستودہ صفت کیا ہوا۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہیں۔
Ayah 2:268(2:268) یعدکم الفقر۔ یعد فعل کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر الفقر مفعول ثانی۔ یعد مضارع واحد مذکر غائب وعد (باب ضرب) مصدر بمعنی ڈرانا۔ وہ تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے وہ تم کو تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے۔
الفقر۔ اسم فعل اور مصدر۔ تنگ دستی۔ ناداری۔ مفلسی۔ محتاجی۔ امام راغب نے لکھا ہے کہ فقہ کا استعمال چار طور پر ہوا ہے :۔
(1) زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا۔ اسی اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر (محتاج) ہے۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا ہے : یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ (35:15) لوگو تم سب خدا کے محتاج ہو۔
(2) ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا۔ مثلاً للفقراء الذین احصروا ۔۔ من التفعع (2:273) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں۔
(3) فقر نفس۔ یعنی مال کی ہوس ۔ کتنا ہی مال ہو مگر نفس حریص رہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ : کاد الفقران یکون کفرا (کچھ تعجب نہیں کہ فقر کفر تک پہنچا دے) ۔
(4) اللہ کی طرف احتیاج۔ ایسا فقر ہر آدمی ہر جانور بلکہ کائنات کی ہر چیز میں ہے سب اللہ کے محتاج ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے : رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (28:24) اے میرے پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے۔
الفخشائ۔ اسم تفضیل واحد مؤنث اس سے واحد مذکر افحش آئے گا اور جمع فحش۔ فحش مادہ بھی ہے۔ بمعنی برا کام ۔ وہ قول و عمل جس کی برائی کھلی ہو۔ اور اس کا سننا یا کرنا برا لگے۔ بےحیائی امر قبیح، بمعنی زنا بھی آیا ہے۔
واللہ یعدکم۔ اوپر آیا ہے۔ الشیطن یعدکم الفقر۔ شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے یہاں ارشاد ہے واللہ یعدکم مغفرۃ۔ اور اللہ تم سے مغفرت کا وعدہ کرتا ہے۔ وعد یعد بمعنی ڈرانا اور وعدہ کرنا ہر دو معنی میں مستعمل ہے۔
فضلا۔ اسم فعل (حالت بوجہ مفعول) فضل کے معنی ہیں مہربانی۔ برتری، بڑھوتری، مال ، قوت، حسن، رتبہ، عزت، حکومت، عقل، علم، حلم وغیرہ میں زیادتی۔
واسع۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ سعۃ مصدر باب سمع۔ وسیع فضل والا۔ کشادہ بخشش والا ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
علیم۔ فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 2:269(2:269) یؤتی الحکمۃ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیتا ہے۔ الحکمۃ۔ عقل مندی، علم، تدبیر، عقل، دانش، سمجھ، علم و عقل کے ذریعے حق بات دریافت کرلینے کا نام حکمت ہے۔ جب حکمت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے اشیاء کی معرفت اور ان کا بہترین طریقہ پر ایجاد کرنا مراد ہے۔ اور جب بندہ کی طرف نسبت کی جائے تو اس سے موجودات کی معرفت اور نیک کاموں کا انجام دینا مقصود ہوتا ہے۔ قرآن مجید کو حکیم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ اس میں حکمت کی باتیں ہیں۔
الحکمۃ۔ مفعول ہے یؤتی کا اور من یشاء جملہ مفعول ثانی ہے۔ سارا جملہ یؤتی الحکمۃ من یشاء صفت ہے علیم کی۔
یؤت۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب جو دیا جاتا ہے یعنی جس کو دیا جاتا ہے۔ اور اوتی ماضی مجہول واحد مذکر غائب اسے دیا گیا۔ اسے ملا۔
خیرا کثیرا موصوف و صفت۔ خیر کثیر۔ بہت بڑی بھلائی۔ تنوین عظمت خیر کو ظاہر کر رہی ہے۔ یعنی بہت ہی بڑی نعمت۔ جو چیز سب کو پسند ہو وہ خیر ہے اس کی ضد شر ہے۔
وما یذکر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر یذکر۔ اصل میں یتذکر تھا ت کود میں مدغم کیا گیا ہے۔ وہ نصیحت حاصل نہیں کرتا ہے۔
اولوا الاباب۔ اولوا۔ والے۔ (ال و حروف مادہ) جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ بعض ذو کو اس کا واحد بتاتے ہیں۔ بحالت رفع اولوا ہے اور بحالت نصب و جر اولی ہوگا۔ اولوا العزم ۔ صاحب عزم، اولی القوۃ اصحاب قوت۔ الباب۔ لب کی جمع ہے جس کے معنی اس عقل کے ہیں جو ہر آمیزش سے خالص ہو۔ اور عقل کو لب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انسان کے معنوی قوی کا خلاصہ ہوتی ہے جیسا کہ کسی چیز کے خالص حصے کو اس کا لب اور لباب کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک لب کے معنی پاکیزہ اور ستھری عقل کے ہیں۔ چناچہ ہر لب کو عقل کہہ سکتے ہیں لیکن ہر عقل لب نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام احکام کو جن کا ادراک عقول زکیہ ہی کرسکتے ہیں اولو الالباب کے ساتھ مختص کیا ہے۔ مثلاً آیت ہذا من یأت الحکمۃ ۔۔ اولوا الالباب۔ جس کو دانائی دی گئی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل پاکیزہ رکھتے ہیں۔
Ayah 2:270(2:270) وما انفقتم ۔۔ من نذر جملہ شرطیہ ہے فان اللہ یعلم جواب شرط۔ ما انفقتم میں ما موصولہ ہے انفقتم۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر۔ جو کچھ تم نے خرچ کیا۔ نفقۃ اسم مجرور۔ خرچ۔ یعنی صدقہ، خیرات، زکوۃ۔
نذرتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ نذر (باب ضرب) تم نے منت مانی۔ النذر کے معنی کسی حادثہ کی وجہ سے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں (راغب) ۔ نذر کسی ایسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینے کو کہتے ہیں کہ اگر وہ عبادت یہ خود اپنے اوپر واجب نہ کرے تو وہ عبادت اس پر لازم نہیں ہوتی۔ (قرطبی)
مطلب یہ کہ تم خدا کی راہ میں جس طرح کا خرچ کرو یا نذر مانو۔ اللہ تعالیٰ یقینا اسے جانتا ہے۔ انذار و نذر و نذر۔ بمعنی چوکنا کرنا۔ خبردار کرنا ۔ ڈرانا۔ نذر جمع نذر ڈرانے والا۔ خبردار کرنے والا۔ قرآن مجید میں ہر جگہ نذر (ڈرانے والا) سے مراد نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہے۔
انصار جمع ناصر و نصیر کی۔ مددگار۔ قرآن مجید میں جہاں مہاجرین و انصار کا ذکر آیا ہے وہاں انصار سے مراد انصار مدینہ ہیں جو نبی کریم ﷺ کی نصرت کے بدولت اس لقب سے سرفراز کئے گئے۔
Ayah 2:271(2:271) ان تبدوا الصدقت۔ جملہ شرطیہ ہے۔ فنعما ہی جواب شرط۔ ان شرطیہ تبدوا مضارع مجزوم جمع مذکر حاضر۔ ابداء (افعال) مصدر (اگر) تم ظاہر کرو۔ الصدقت صدقۃ کی جمع۔ خیراتیں۔ زکوتیں۔ فنعما میںجواب شرط کے لئے ہے نعما ہی وہ کیا ہی اچھا ہے۔ اصل میں نعم ما ہی تھا۔ دونوں میموں میں ادغام ہوگیا اور عین پر جوان نون کی وجہ سے کسرہ آگیا۔ ہی ضمیر واحد مؤنث مراد اظہار الصدقہ ہے۔
وان تخفوھا۔ جملہ شرطیہ۔ ان شرطیہ۔ تخفوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اخفاء (افعال) مصدر۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی مضارع سے ساقط ہوگیا ۔ ھا ای الصدقۃ ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔
وتؤتوھا الفقرا۔ واؤ عاطفہ جملہ کا عطف جملہ ماقبل پر ہے ای وان تؤتوھا الفقراء الفقراء مفعول ثانی ہے فعل تؤتوا کا (اگر تم صدقات کو پوشیدہ رکھو اور دو ان کو حاجتمندوں کو) یہ جملہ بھی شرطیہ ہے۔ دونوں شرطیہ جملوں کا جواب اگلا جملہ فھو خیرلکم ہے۔ ھا ضمیر مفعول اول واحد مؤنث غائب ۔ فھو میںجواب شرط کے لئے ہے۔ ھو ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد اخفاء الصدقۃ ہے
ویکفر۔ جملہ فعلیہ ہے ای واللہ یکفر عنکم من سیئاتکم اور ما قبل پر معطوف نہیں ہے ۔ یکفر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر وہ دور کر دے گا وہ ساقط کر دے گا۔ من سیئاتکم میں من زائدہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔
سیئاتکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے گناہ۔ سیئۃ کی جمع۔ من کے زائدہ ہونے کی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ وہ تمہارے گناہ ساقط کر دے گا۔ اور اس کے تبعیضیہ ہونے کی صورت میں ترجمہ ہوگا : وہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔ یعنی صغیرہ گناہ معاف کر دے گا
واللہ بما تعلمون خبیر۔ اللہ مبتدا خبیر۔ خبر۔ بما یعلمون متعلق خبر۔ ما موصولہ بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ تمہارے اعمال کی نیت اور غرض سے واقف ہے۔
خبیر۔ خبر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ قرآن مجید میں یہ ذات باری تعالیٰ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ خبر وخبر وخبرۃ بمعنی حقیقت حال سے پوری طرح باخبر ہونا۔ خبیر۔ جو پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہو۔